Showing posts with label islami Shadi. Show all posts
Showing posts with label islami Shadi. Show all posts
طَلَاق دینے کا سب سے بہتر طریقہ

طَلَاق دینے کا سب سے بہتر طریقہ

طَلَاق دینے کا سب سے بہتر طریقہ 

طَلَاق دینے کاسب سے بہترطریقہ یہ ہے کہ عورت کی پاکی کے وہ ایام جن میں شوہر نے اس سے صحبت نہ کی ہو ، ان ایّام میں صرف ایک بار اس سے کہے : ’’میں نے تجھے طَلَاق دی‘‘اس کے بعد بیوی کوچھوڑ ے رکھے اور اس سے بالکل علیحدہ رہے یہاں تک کہ اس کی عِدّت گزرجائے۔ اختتامِ عِدّت پر وہ نکاح سے خارج ہوجائے گی۔ اس طرح طَلَاق دینے سے فائدہ یہ ہوگا کہ کل کو اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ زندگی بسر کرنا چاہیں تو دورانِ عِدّت بغیر نکاح کے اور عِدّت کے بعد بغیر حلالہ صرف نکاح کے ذریعہ رجوع ہو جائے گا۔ ٭طَلَاق کا کوئی بھی مسئلہ اپنی اَٹکل(یعنی سمجھ)سے حل کرنے کے بجائے دارُ الْاِفتا ء اہلسنت سے رجوع کیجئے۔ 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ہمیں دین و دُنیا کی خُوشیاں عطا فرمائے اور تمام معاملات میں شرعی احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ

طَلَاق سے متعلِّق مفید مدنی پھول

طَلَاق سے متعلِّق مفید مدنی پھول

طَلَاق سے متعلِّق مفید مدنی پھول

٭سرکارِ عالی وَقَار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا : حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ چیز طَلَاق ہے۔ (2)کسی معقولِ شَرْعی سبب کے بغیر طَلَاق دینا اِسلام میں سخت ناپسندیدہ اور ناجائز و گُناہ ہے جبکہ طَلَاق کے کثیر مُعاشَرَتی نقصانات اِس کے علاوہ ہیں لہٰذاحتی الامکان طَلَاق دینے سے بچنا چاہئے۔ ٭میاں بیوی کے درمیان اگر ناچاقی ہوجائے تو تعلُّقات دوبارہ بہتر بنانے کیلئے قرآنِ کریم کے پارہ نمبر 5سورۃ النساء کی آیت 33 اور 34 میں بیان کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آپس میں صلح کی کوشش کرنی چاہئے جس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً اگر بیوی کی طرف سے کوئی نا روا رَوَیّہ ہے تو شوہر بیوی کو اچھے انداز میں سمجھائے اور اگر اس سے بھی معاملہ حل نہ ہو تو شوہر چند دنوں کے لئے بیوی کو گھر میں رکھتے ہوئے  اس سے اپنا بستر جدا کرلے اور مقصد یہ ہو کہ طَلَاق کے نتیجے میں گُزاری جانے والی تنہا زندگی کا ایک نمونہ سامنے آجائے ، قَوِی اِمکان ہے کہ اس تصوُّر ہی سے دونوں سبق حاصل کرکے آپس میں صلح کرلیں ٭پھر اگر یوں بھی صلح نہ ہوسکے توشوہر کو بیوی کی مناسب سختی کے ذریعے تادیب کی بھی اجازت ہے اور یہ طریقہ اختیار کرنا بھی بہت مفید ہے کہ دونوں جانب سے معاملہ فہم اور سمجھدار افراد کو حَکَم و مُنْصِف (یعنی فیصلہ کرنے والا)بنا لیا جائے تاکہ وہ ان میں صلح کروادیں یہ صلح کروانے والے افراد اگر اچھی نیّت اورجذبہ کے ساتھ حکمت بھرے انداز میں صلح کی کوشش کریں گے تو اللہ تبارک وتعالیٰ زوجین کے مابین اتفاق پیدا فرمادے گا۔ ٭میاں بیوی کے باہمی جھگڑے کا حل یہ نہیں کہ فوراً طَلَاق دیکرمعاملے کو ختم کردیں اوربعدمیں افسوس کے سواکچھ ہاتھ نہ آئے۔ البتہ اگر باہمی تعلُّقات کی خرابی اِس حد تک پہنچ گئی ہو کہ میاں بیوی سمجھتے ہوں کہ اب وہ ایک دوسرے کے شَرْعی حُقوق ادا نہیں کر پائیں گے اورطَلَاق ہی آخری حل ہے  تو پھر شوہر اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق طَلَاق دے۔ 


٭وہ طریقہ یہ ہے کہ شوہر بیوی کواُس کی پاکی کے اُن دنوں میں کہ جن میں اس نے بیوی سے اِزدِواجی تعلُّقات قائم نہ کئے ہوں ایک طَلَاقِ رجعی اِن الفاظ سے دیدے “ میں نے تجھے طَلَاق دی “ پھر شوہر اسے چھوڑ دے حتی کہ عِدّت مکمل ہوجائے اور عورت نکاح سے باہر ہوجائے۔ ٭یاد  رکھیں ایک طَلَاقِ رجعی دینے سے بھی عِدّت گزرنے پر مرد و عورت میں جدائی ہوجاتی ہے اور یہ سمجھنا کہ تین طَلَاق کے بغیر ایک دوسرے سے خلاصی نہیں ہوتی سَراسر غَلَط ہے٭خود زبانی طَلَاق دینی ہو یا خود لکھنی ہو یا اسٹام پیپر والوں سے لکھوانی ہو ، بہر حال ایک ہی لکھیں اور لکھوائیں ، اسٹام پیپر والے ہزار کہیں کہ تین لکھنے سے کچھ نہیں ہوتا ، ان کی بات کا ہرگز اعتبار نہ کریں اور انہیں ایک ہی لکھنے پر مجبور کریں ٭ایک طَلَاقِ رجعی کا بطورِ خاص اِس لئے کہا گیا ہے کہ تین طَلَاقیں اکٹھی دینا گُناہ اور خِلافِ شریعت ہے نیزاس صورت میں  رُجوع کی مہلت بھی ختم ہوجاتی ہے جبکہ ایک طَلَاقِ رجعی دینے کی صورت میں دورانِ عِدّت بغیر نکاح کے اور بعد ِ عِدّت نکاح کے ساتھ رجوع کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ اگرچہ رجوع کی یہ گنجائش دو(2)رجعی طَلَاقیں دینے میں بھی ہے لیکن دو طَلَاقیں اکٹھی دینا بھی گُناہ ہے۔ ٭آج کل طَلَاق دینے والے اکثر لوگ دین سے دوری ، شَرْعی اَحکام سے لاعلمی ، 



غصے کی عادت اور جذباتی پن میں مبُتلا ہوکرمعمولی سی بات پر ایک ساتھ تین طَلَاقیں دے بیٹھتے ہیں اور پھر ہوش آنے پر انتہائی نادم وپشیمان ہوتے ہیں ، پھر کبھی اپنے ماضی کو یاد کرتے ہیں اور کبھی بچّوں کے مستقبل کو روتے ہیں اور بسااوقات شیطان کے بہکاوے میں آکر گھر بچانے کیلئے مختلف حیلے بہانے تراشتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ تین طَلَاقیں اکٹھی دینا گُناہ ہے لیکن اگر کوئی تین طَلَاقیں دے تو تینوں ہی واقع ہوجاتی ہیں خواہ ایک مجلس میں دے یا زیادہ مجلسوں میں اور ایک لفظ سے تین طَلَاق دے یا تین لفظوں سے ، بہر صورت تینوں طَلَاقیں ہوجاتی ہیں لہٰذا مسلمانوں  کی خیرخواہی کے پیش ِ نظر یہ مشورہ پیش ِ خدمت ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان باہمی اتفاق کی کوئی صورت نہ بن سکے اور طَلَاق دینے کی کوئی نوبت آجائے تو اسلامی ہدایت کے مطابق طَلَاق دی جائے جس کا طریقہ اوپر بیان ہوگیاہے اور مزید آسانی کیلئے جُداگانہ وضاحت سے دوبارہ بیان کیاجارہا ہے۔ 







رجوع کا حق کب تک حاصل ہے؟

رجوع کا حق کب تک حاصل ہے؟

رجوع کا حق کب تک حاصل ہے؟

اسی طرح ایک عورت جس نے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت  میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کے شوہر نے کہا ہے کہ وہ اس کو طَلَاق دیتا رہے گا اور رجوع کرتا رہے گا اور ہر مرتبہ جب طَلَاق کی عِدّت گزرنے کے قریب ہوگی تو رجوع کرلے گا اور پھر طَلَاق دیدے گا ، اسی طرح عمر بھر اس  کو قید رکھے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (1)
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ- (پ۲ ، البقرة : ۲۲۹)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان : طَلَاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے چھوڑ دینا ہے۔

تفسیر صراطُ الجنان میں اس آیت کا خلاصہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ مرد کو طَلَاق دینے کا اختیار دو بار تک ہے۔ اگر تیسری طَلَاق دی تو عورت شوہر پر حرام ہو جائے گی اور جب تک پہلے شوہر کی عِدّت گُزار کر کسی دوسرے شوہر سے نکاح اور ہم بستری کر کے عِدّت نہ گُزار لے تب تک پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی۔ لہٰذا ایک طَلَاق یا دو طَلَاق کے بعد رجوع کر کے اچھے طریقے سے اسے رکھ لو یا طَلَاق دے کر اسے چھوڑ دو تاکہ عورت اپنا کوئی دوسرا انتظام کرسکے۔ اچھے طریقےسے روکنے سے مراد رجوع کرکے روک لینا ہے اور اچھے طریقے سے چھوڑدینے سے مراد ہے کہ طَلَاق دے کر عِدّت ختم ہونے دے کہ اس طرح ایک طَلَاق بھی بائنہ ہوجاتی ہے۔ شریعت نے طَلَاق دینے اور نہ دینے کی دونوں صورتوں میں بھلائی اور خیر خواہی کا فرمایا ہے۔ ہمارے زمانے میں لوگوں کی  ایک بڑی تعداد دونوں صورتوں میں الٹا چلتی ہے ، طَلَاق دینے میں بھی غلط طریقہ اور بیوی کو رکھنے میں غلط طریقہ۔ (1)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بہرحال اگر طَلَاق دینے کی نوبت آہی جائے تو اس صورت میں بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی سے بچتے ہوئے یَکْمُشْت تین طَلَاقیں دینے کے بجائے شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق ہی طَلَاق دینی چاہئے۔ آیئے طَلَاق سے متعلِّق دارُ الْاِفتاء اہلسنّت کی طرف سے بیان کردہ کچھ اہم باتیں اور شَرْعی مسائل مُلاحَظہ کیجئے : 



________________________________
1 -   تفسیر البحر المحیط ، پ۲ ، البقرة ،  تحت الآیة :  ۲۲۹ ،  ۲ / ۲۰۲ مفهوما

1 -   صراط الجنان ، پ۲ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۲۲۹ ، ۱ / ۳۵۰


تنگ کرنے کیلئے طَلَاق نہ دینا کیسا؟

تنگ کرنے کیلئے طَلَاق نہ دینا کیسا؟

تنگ کرنے کیلئے طَلَاق نہ دینا کیسا؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر میاں بیوی کے درمیان علیحدگی انتہائی نا گُزیر ہوجائے اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو طَلَاق دینے میں کوئی حرج نہیں  بلکہ اگر شوہر کا پختہ اور حتمی ارادہ ہو کہ اب وہ اپنی بیوی کے ساتھ بالکل نِباہ نہیں کرے گااور اُس کے حقوق ادا نہیں کر سکے گا تو ایسی صورت میں اسے شَرْعاً کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ محض عورت کو تنگ کرنے کیلئے طَلَاق میں بلاوجہ تاخیر کرے یا طَلَاقِ رجعی دینے کے بعد عِدّت ختم ہونے کے قریب ظُلماً رجوع کرے کہ یہ زمانہ جاہلیت کی بُرائیوں میں سے ایک بَدترین بُرائی ہے البتہ اگر طَلَاقِ رجعی کے بعد اپنے کئے پر پشیمانی  کی وجہ سے رجوع کرتا ہے  اور آئندہ اچھے برتاؤ کا ارادہ بھی ہے تو رجوع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، مگر عورت کو اپنی قید سے آزاد نہ کرنے ، اسے اپنے ساتھ رکھتے ہوئے اس کے ساتھ بدسُلوکی کرنے ، یا اسے میکے بھیج کر نان نفقہ اور اس کے دیگر حُقوق سے دَسْت بردار ہوجانے اور اسے لٹکائے رکھنے کی غرض سے طَلَاق نہ دینا یا طَلَاق دے کر عِدّت ختم ہونے کے قریب قریب محض اس لئے رجوع کر لینا کہ میں رجوع کے بعد دوبارہ اسے طَلَاق دوں گا تاکہ یہ عِدّت کی صُعُوبت میں مبُتلا رہے ، شوہر کا یہ رَوَیّہ ظُلم پر مبنی ہے اور اس سے شریعت مطہرہ نے باز رہنے کا حکم دیا ہے ، جیساکہ فرمانِ خُداوندی عَزَّ  وَجَلَّ ہے : 

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ 
تَرْجَمَۂ کنز العرفان : اور جب تم عورتوں کو طَلَاق دو اور وہ اپنی (عِدّت کی اختتامی)مُدّت (کے قریب) تک پہنچ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۪-وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْاۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ-وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا٘- (پ۲ ، البقرة : ۲۳۱)
جائیں تو اس وقت انہیں اچھے طریقے سے روک لو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو اور انہیں نقصان پہنچانے کیلئے نہ روک رکھو تاکہ تم (ان پر) زِیادَتی کرو اور جو ایسا کرے تو اس نے اپنی جان پر ظُلم کیا اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا مذاق نہ بنالو ۔ 
تفسیر صراطُ الجنان میں ہے کہ یہ آیت ایک انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ، انہوں نے اپنی عورت کو طَلَاق دی تھی اور جب عِدّت ختم ہونے کے قریب ہوتی تھی تو رجوع کر لیا کرتے تھے تاکہ عورت قید میں پڑی رہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ ہے کہ جب تم عورتوں کو طَلَاق دو اور وہ اپنی عِدّت کی اختتامی مُدّت کے قریب پہنچ جائیں تو اس وقت انہیں اچھے طریقے سے روک لو یا اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔ تمہیں رجوع کا اختیار تو دیا گیا ہے لیکن اس اختیار کو ظُلم و زِیادَتی کا حیلہ نہ بناؤ کہ انہیں نقصان پہنچانے اور ایذاء دینے کی نیّت سے رجوع کرتے رہو۔ یہ فعل سراسر اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھٹھا مذاق بنانے کے مُتَرادِف ہے کہ جیسے مذاق میں کسی چیز کی پروا نہیں کی جاتی اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی پروا نہیں کرتے اور یہ بھی یاد رکھو کہ جو اس طرح کرتا ہے وہ اپنی جان پر ہی ظُلم کرتا ہے کہ حکمِ الٰہی کی مخالفت کرکے گنہگار ہوتا ہے۔ (1)


________________________________
1 -   تفسیرصراط الجنان ، پ۲ ، البقرة ، تحت الآیۃ : ۲۳۱ ، ۱ / ۳۵۴




شیطان کے نزدیک قابلِ فخر کارنامہ

شیطان کے نزدیک قابلِ فخر کارنامہ

شیطان کے نزدیک قابلِ فخر کارنامہ

حضرت سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : شیطان پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے ، پھر اپنے لشکر بھیجتا ہے۔ ان لشکروں میں شیطان کے زیادہ قریب اس کا دَرَجہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ باز ہوتاہے ۔ اس کا ایک لشکر واپس آکر بتاتا ہے کہ میں نے فلاں فتنہ بَرپا کیا تو شیطان کہتا ہے : تونے کچھ نہیں کیا۔ پھر ایک اور لشکر آتا ہے اور کہتا ہے : میں نے ایک آدمی کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اُس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈلوا دی۔ یہ سُن کر شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے : تُوکتنا اچھا ہے ، اور اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے۔ (1)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بہرحال غصے کے وقت جلدبازی میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے انجام کے بارے میں اچھی طرح غور کرلینا چاہئے اور یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہئے کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : جب کسی کام کا ارادہ ہو تو اس کے انجام کے بارے میں غور کرلیا کرو ،  اگر انجام اچھا ہو تو وہ کام کر گزرو اور اگر بُرا ہو تو باز رہو۔ (1)اور ارشاد فرمایا : بُردباری اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ (2)اور ارشاد فرمایا : جس نے تَوَقُّف کیا تو اس نے اپنا مقصد پا لیا یا قریب ہے کہ وه اپنا مقصد پالے اور جس نے جلدی کی تو اس نے خطا کی یا قریب ہے کہ وہ خطا کھا جائے۔ (3) 

ان احادیثِ طیبہ کی روشنی میں میاں بیوی میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ طَلَاق دینے یا طَلَاق کا مُطالَبہ کرنے سے پہلے انجام کو لازمی پیشِ نظر رکھے اور کم سے کم یہ غور کرلے کہ کہیں میرا فیصلہ بعد میں میرے لئے پچھتاوے کا سبب تو نہیں بنے گا۔ بہرحال جب تک حالات انتہائی ناگُزیر نہ ہوجائیں ، نہ مرد کو  طَلَاق دینی چاہئے اور نہ عورت کو طَلَاق کا مُطالَبہ کرنا چاہئے کہ سخت مجبوری کے بغیر طَلَاق دینا یا طَلَاق کا مُطالَبہ کرنا نہایت مذموم ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے : شادی کرو اور (عذرِ شَرْعی کے بغیر)طَلَاق نہ دیا کرو کہ طَلَاق سے عرشِ الٰہی ہلنے لگتا ہے۔ (4)ایک اور حدیثِ پاک میں ہے : جو عورت کسی حرج کے بغیر اپنے شوہر سے طَلَاق کا مُطالَبہ کرے اس پر جنّت کی خُوشبو حرام ہے۔ (5)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   الزھد لابن المبارک ، باب التحضیض علی طاعۃ اللہ عزوجل ، ص۱۴ ، حدیث : ۴۱
2 -   مجمع الزوائد ، کتاب الادب ، باب ماجاء فی الرفق ، ۸ / ۴۳ ، حدیث : ۱۲۶۵۲
3 -   معجم کبیر ، ۱۷ / ۳۱۰ ، حدیث : ۸۵۸
4 -   مسند الفردوس ، ۲ / ۵۱ ، حدیث : ۲۲۹۲
5 -   ابوداؤد  ،  کتاب الطلاق  ،  باب فی الخلع  ، ۲ / ۳۹۰  ، حدیث : ۲۲۲۶




طَلَاق دینے میں ضبط سے کام لیجئے

طَلَاق دینے میں ضبط سے کام لیجئے

طَلَاق دینے میں ضبط سے کام لیجئے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقیناً ہر شخص کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے گھر میں ہمیشہ خُوشیوں کی فراوانی رہےاور کبھی اس کی زندگی میں غم کے سائے نہ منڈلائیں لیکن بسا اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی میاں بیوی میں سے کسی ایک یا دونوں کی اَنا کے سبب معمولی باتیں بھی جھگڑوں اور فسادات کا روپ دھارلیتی ہیں حتی کہ نوبت طَلَاق تک جا پہنچتی ہے۔ اگر خُدا نخواستہ کبھی میاں بیوی کے درمیان اس طرح کا اختلاف یا کشیدگی پیدا ہو بھی جائے تو دونوں کو نہایت سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کئے گئے طریقۂ کار کے مطابق اپنی اپنی آتشِ غضب کو بجھانے اور اپنے درمیان صلح کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس مصالحت کیلئے رشتے داروں میں سے کسی مُنْصِف کو بھی مُقرَّر کرنا چاہئے ، اس کے علاوہ بالخصوص شوہر کو چاہئے کہ طَلَاق دینے میں ہر گز ہر گز عجلت پسندی اور جلد بازی سے کام نہ لے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بے سوچے سمجھے طَلَاق دے بیٹھے اور جب دماغ سے غصے کا خُمار اترے تو دامن میں حسرت و پچھتاوے کے سِواکچھ باقی نہ رہے ۔ یاد رکھئے!شیطان انسان کو  غصے اور طیش میں  لاکر جلد بازی میں اس کے مُنہ سے طَلَاق کے الفاظ نکلواکر اس کا گھر برباد کروا دیتا ہے اور اس پر خُوشی مناتا ہے ، شیطان لعین کو میاں بیوی کی جدائی  کس قدر عزیز ہے اس کا اندازہ اس حدیثِ پاک سے بَخُوبی لگایا جاسکتا ہے : 

موبائل استعمال کرنے کی احتیاط

موبائل استعمال کرنے کی احتیاط

موبائل استعمال کرنے کی احتیاط 

شوہر کو چاہئے کہ وہ دفتر کی پریشانیاں موبائل فون کے ساتھ گھر لے کر نہ آیا کرے نیز گھر پر موبائل فون کے ذریعے لوگوں سے باتوں میں یا سوشل مِیڈیا کے استعمال میں اس قدر مصروف نہ ہوجائے کہ بیوی بچّوں کو وقت ہی نہ دے پائےاور اسلامی بہنوں کو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ شوہر کی موجودَگی میں اگر ان کے موبائل فون پر جانے پہچانے نمبر سے  کسی سہیلی یا محرم رشتے دار کی کال آئے تو شوہر کے سامنے ہی بات کرلیا کریں ، شوہر کے پاس سے اٹھ کر چلے جانےاور بات کرنے کیلئے تنہائی اختیار  کرنے کا معمول نہ بنائیں کیونکہ اگر شوہر شکی مِزاج ہوا تو اس کے دل میں طرح طرح کے وَسَاوِس و خیالات آسکتے ہیں کہ نجانے کس سے بات کر رہی ہے یا کونسی بات ہے جو میرے سامنے نہیں کی جاسکتی وغیرہ وغیرہ۔ یوں بیوی کی شخصیت اس کی نظروں میں مشکوک ہوسکتی ہے ، یونہی اگر کسی نامعلوم نمبر سے فون آیا کرے تو خود بات کرنے کے بجائے شوہر یا گھر کے کسی مرد سے بات کروا دیا کریں اور گھر میں کوئی مرد موجود نہ ہو تو مجبوراً اگرچہ کال ریسیو(Receiv) کرلیں کہ کیا خبر کوئی ہنگامی (Emergency) کال ہومگر انجان یا غیر مَحْرَم شخص سے ضروری بات کرتے ہوئے لہجہ کَرَخْت اور اندازِ گفتگو روکھا ہی ہونا چاہئے نیز جیسے ہی یہ محسوس ہو کہ کال کرنے والے نے بے مقصد کال کی ہے تو فضول  سوال و جواب کا تبادلہ جاری رکھنے کے بجائے رابطہ منقطع کر دیجئے ، اسی طرح میسج (Message)یا مِس کال (Missed Call)آئے تو جب تک سامنے والا اپنی شناخت نہ کروادے جوابی میسج (Reply SMS)یا کال (Call Back) نہ کریں بلکہ بذریعہ میسج یہ پوچھنے کی زحمت بھی نہ کریں کہ کون ہے؟کیونکہ بعض آوارہ اور اوباش قسم کے لوگ اس کھوج میں ہوتے ہیں کہ یہ موبائل نمبر صِنْفِ نازک کا ہے یا نہیں ، اگر پتا چل جائے کہ صِنْفِ نازک ہی کا ہے تو فون اور میسیجز(Messages) کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ایسی صورت میں بیوی کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کو بھی اُس نامعلوم نمبر سے کال ، مس کال یا میسج آنے کے بارے میں آگاہ کردے تاکہ نہ بتانے اور شوہر کو خود ہی معلوم ہو جانے کی صورت میں شکوک و شبہات کی  گنجائش نہ رہے اور کوئی ناخُوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ، بہرحال ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کوچاہئے کہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی عزّت کی فکر کرے اور اپنے گھر کو برباد ہونے سے بچانے کیلئے ان تمام مدنی پھولوں پر عمل کرے۔ 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد




میاں بیوی کے اختلافات کے اسباب

میاں بیوی کے اختلافات کے اسباب

میاں بیوی کے اختلافات کے اسباب


گھر ٹوٹنے کے اسباب و حل مع
طلاق سے مُتَعَلّق  مفید مدنی پھول

میاں بیوی کو چاہئے کہ اپنے رشتے کو مضبوط بنانے اور اسے کسی بھی ممکنہ ٹھیس سے بچانے کے لئے ان اسباب کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں جن کی وجہ سے عام طور پر میاں بیوی  میں لڑائی جھگڑے ، اختلافات اور علیحدگیاں ہوتی ہیں آئیے بعض اسباب مُلاحَظہ کیجئے : 
بیوی کی طرف سے ناشکری
بعض اوقات شوہر کے حق میں بیوی کا ناشکرا ہونا باہمی اختلاف کا سبب بنتا ہے کہ سُسرال کی اپنائیت اور شوہر کے اچھے سُلوک کے باوُجُود بیوی ہٹ دھرمی کا مُظاہَرہ کرتی ہے ، شوہر سے نِت نئے مطالبےکرتی ، شوہر کی آمدنی میں گُزارہ نہ ہونے کا رونا روتی ، چادر سے زیادہ پاؤں پھیلاتی ، اونچے اونچے خواب دیکھتی اور میکے جاکر سُسرال کی شکایات کرنا اپنی عادت بنا لیتی ہے یہ وہ عوامل ہیں جو محبت کی مضبوط دیوار میں دراڑ پیدا کردیتے ہیں ۔ 

شوہر کی طرف سے بداَخلاقی کا سُلوک
بعض اوقات بیوی کے حق میں شوہر کا بد اَخلاق ہونا اختلافات کا سبب بنتا ہے ، شوہر اگر بیوی کے سامنے سُسرال کی بُرائی کرتا رہے ، اس کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو بُرا کہے ، بات بات پر بیوی کو جِھڑکے اور گالیاں دے ، طعن وتَشْنِیع کرے ، بلاوجہ اُس پر سختی کرے ، صرف اپنی پسند کو ترجیح دے اور بیوی کی پسند کو کوئی اہمیَّت نہ دےتو اس کی یہ مسلسل بداَخلاقی بیوی کے دل میں نفرت کا زہر گھول دیتی اور ان کے درمیان اختلافات کا سنگِ بُنیاد رکھ دیتی ہے۔ 
بیوی کی خود فراموشی
گھر ٹوٹنے کا ایک سبب بیوی کا اپنے آپ سے بے پروائی برتنا بھی ہے۔ بعض خواتین اپنے شوہر کی خدمت ، گھر کی نظافت اور بچّوں کی نگہداشت میں تو کسر نہیں چھوڑتیں مگر  خود سے اس قدر بیگانگی کا مُظاہَرہ کرتی ہیں کہ انہیں نہ اپنے کپڑوں کی نظافت کا خیال رہتا ہے اور نہ شوہر کی خاطر زینت اختیار کرنے کا ہوش ، اُجڑا چہرہ ، بکھرے بال اور بے سلیقہ کپڑے دیکھ دیکھ کر بالآخر شوہر کا  دل اس سے بیزاری اور نفرت محسوس کرنے لگتا ہے ایسی صورت میں ان کے درمیان اختلافات اور لڑائی جھگڑے نہیں ہونگے تو اور کیا ہوگا۔ 

شوہر کے معاملات میں بے جا مُداخلت
اختلاف کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بیوی  اپنے شوہر کے کہیں آنے جانے پر  روک ٹوک کرتی ، بلا وجہ اُس سے اس کی کمائی کا حساب مانگتی اور اَخْراجات کے بارے میں غیر ضروری پوچھ گچھ کرتی ہے اس سے عموماً شوہر کو چِڑ پیدا ہو جاتی ہے اور اُس پر غیرت سوار ہو جاتی ہے کہ میری بیوی مجھ پر حکومت جتاتی ، میری آمدنی اور  خرچ کا مجھ سے حساب طلب کرتی ہے! اس چڑچڑے پن کا نتیجہ بھی لڑائی جھگڑے کے سوا کچھ نہیں ۔ 
حاسدین سے غفلت
گھر ٹوٹنے کا ایک سبب یہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی اپنے اردگرد کے ماحول کو نظر انداز کردیتے اور اپنے حاسدین سے غافل ہوتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہےکہ جب حاسدین میاں بیوی کو ایک دوسرے کے خِلاف بھڑکاتے ہیں تو وہ کسی تحقیق کے بغیر اپنے رفیقِ سفر کے مُخالف ہوجاتے اور ایک دوسرے پر برس پڑتے ہیں یوں ان کی محبت اور اتفاق ،  حسد کی نذر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا میاں بیوی کو چاہئے کہ اپنے خیر خواہوں اور بد خواہوں کی پہچان رکھیں اور بدخواہوں کی طرف سے ہروقت خبردار رہا کریں نیز اگر اپنے رفیقِ حیات  کے بارے میں کسی سے کوئی منفی بات سنیں تو اچھی طرح تحقیق کرلیں ۔ 

جو لوگ حسد یا کسی بھی وجہ سے میاں بیوی کے اختلاف کا سبب بنتے ہیں انہیں اس سے باز آنا چاہئے کیونکہ دومسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا انتہائی بُری خصلت ہے اور بالخصوص میاں بیوی کو ایک دوسرے کے خِلاف بھڑکانے والوں کو تو ڈر جانا چاہئے کہ ایسوں کے بارے میں ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جس نے کسی عورت کو اس کے شوہر یا غلام کو اس کے آقا کی سرکشی پر اُبھارا وہ ہم میں سے نہیں ۔ (1)
غیر میں دلچسپی
بعض اوقات میاں بیوی میں سے کسی ایک کا غیر میں دلچسپی رکھنا فساد کی جڑ ثابت ہوتا ہے یعنی شوہر کی کسی غیر عورت میں یا بیوی کی کسی غیر مرد میں دلچسپی اُس کے رفیقِ سفر کی غیرت کو للکارتی ہے ، اگر شوہر اپنی بیوی کے سامنے کسی عورت کے خدّ و خال ، چال ڈھال ، قد کاٹھ ، خُوبصورتی یا عادات و اطوار کی عُمدگی کا تذکرہ کرے تو بیوی کو یہ بات انتہائی ناگوار محسوس ہوتی ہے اسی طرح اگر  بیوی اپنے شوہر کے سامنے کسی مرد کی اس انداز میں خُوبیاں بیان کرے تو یقیناً شوہر غیرت کھائے گا اور غیرت کھانی بھی چاہئے۔ ایسی صورت میں اگر بروقت میاں بیوی کے درمیان نوک جھونک نہ بھی ہوتو آئندہ نوک جھونک ہونے کے قوی اِمکانات ہوتے ہیں  لہذا میاں بیوی کو چاہئے کہ ہمیشہ اپنے  رفیقِ حیات ہی کی طرف متوجّہ رہیں اور غیر میں دلچسپی لینے سے لازمی گُریز کریں کیونکہ یہ شرعی اور اَخلاقی دونوں اعتبار سے بُرا ہے۔ 

شکوک و شبہات اور توہّمات
فی زمانہ میاں بیوی کے اختلافات کی ایک بہت بڑی وجہ شک و وہم بھی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات اور تَوَہُّمات میں مبُتلا ہوجاتے ہیں اور پھر یہ شکوک و شبہات ان کیلئے ایک دوسرے پر عدم اعتمادی میں اضافہ کردیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان  کھرے معاملات میں بھی شک کیا جاتا ہے جن میں شک و وہم کی بالکل گنجائش نہیں ہوتی ، بالآخر میاں بیوی کا رشتہ کچے دھاگے کی طرح اس قدر کمزور ہوجاتا ہے کہ ٹوٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ اگرچہ میاں بیوی کا ایک دوسرے پر غیرضروری شک کرنا انتہائی نامناسب ہونے کے علاوہ بدگمانی جیسے حرام اور جہنّم میں لیجانے والے کام کا سبب بھی ہے مگر بعض اوقات جانے انجانے میں واقعی کوئی ایسا معاملہ سرزد ہوجاتا ہے کہ فریقِ ثانی شک کرنے میں حق بجانب ہوتا ہے۔ لہٰذا میاں بیوی کو اختلاف کا سبب بننے والی چیزوں سے بچنے کے ساتھ ایسی چیزوں سے بھی گُریز کرنا چاہئے جو ان کے مابین شکوک و شبہات کیلئے سنگِ بُنیاد ثابت ہوں ۔

شک پیدا کرنے  میں سوشل میڈیا اور موبائل کا کردار
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!میاں بیوی کے درمیان شک پیدا کرنے کے یوں تو بہت سے اسباب ہیں مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کِیا جاسکتا کہ موجودہ دَور میں سوشل مِیڈیا اور موبائل کا غیر معمولی استعمال میاں بیوی میں شک کا بیج بونے میں بہت زیادہ کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ سوشل مِیڈیا اور موبائل فون کے ذریعے عشقِ مجازی کی وباء پھیلنے کے واقعات بہت عام ہیں ، عُمُوماً آوارہ لڑکے نَفْسانی خواہشات کی تکمیل کیلئے “ ٹائم پاس “ کرنے کی آڑ میں کسی نہ کسی طرح صِنْفِ نازُک کا فون نمبر حاصل کرنے کے بعد یا فیس بُک وغیرہ کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرلیتے ہیں اور بعض اَوقات پہلا قدم صِنْفِ نازُک ہی کی طرف سے اُٹھایا جاتا ہے ، یُوں کچھ ہی عرصے میں اَجْنَبِیّت ختم ہوجاتی اور بے حیائی اور عشقِ مجازی  کا نہ ختم ہونے والا سِلْسِلہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مناسب حد تک موبائل اور سوشل مِیڈیا کا استعمال میاں بیوی کو ایک دوسرے کیلئے بالخصوص بیوی کو شوہر کی نظرمیں مشکوک بنادیتا ہے لہٰذا ان چیزوں کا استعمال صرف اور صرف ضرورت کی حد تک ہونا چاہئے۔ 






________________________________
1 -   ابو داؤد ، کتاب الطلاق  ، باب فیمن خبب امراة علی زوجها   الخ ، ۲ / ۳۶۹ ، حدیث : ۲۱۷۵







صُلح کیلئے ضرورتاً مُنْصِف مقرّر کیجئے

صُلح کیلئے ضرورتاً مُنْصِف مقرّر کیجئے

صُلح کیلئے ضرورتاً مُنْصِف مقرّر کیجئے

لہٰذا میاں بیوی کو ایک دوسرے سے صلح کرنے اور باہمی رشتے کو بہتر طور پر برقرار رکھنے کی ہر ممکن حد تک کوشش کرنی چاہئے بلکہ اگر خُدانخواستہ ان میں اختلافات اس حد تک پہنچ جائیں کہ ان میں سے کوئی بھی معذرت کرنے کیلئے تیار نہ اور دونوں میں علیحدگی ہونے کے اِمکانات ظاہر ہوں تو دونوں کے خاندان میں سے ایک ایک سنجیدہ اور معاملہ فہم قریبی رشتہ دار کو مُنْصِف (یعنی انصاف کرنے والے )کے طور پر مُقرَّر کرلینا چاہئے تاکہ وہ دونوں مل کر میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوئی صورت نکالیں ، اگر  وہ سچے جذبے اور نیک نیتی کے ساتھ میاں بیوی میں صلح کی کوشش کریں گے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی مدد ضرور شاملِ حال ہوگی۔ جیساکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے : 
وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ-اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ-
تَرْجَمَۂ کنز العرفان : اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک مُنْصِف مرد کے گھر والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک مُنْصِف عورت کے گھر والوں کی طرف سے (بھیجو) یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو  (پ۵ ، النساء : ۳۵)

اللہ ان کے درمیان اتفاق پیدا کردے گا۔ 
تفسیر صراطُ الجنان میں اس آیتِ مُبارَکہ کے تحت ہے کہ (جب اصلاح کی صورت نہ بن رہی ہو تو )نہ مرد طَلَاق دینے میں جلدی کرے ، نہ عورت خُلع کے مطالبے پر اِصرار کرے بلکہ دونوں کے خاندان کے خاص قریبی رشتہ داروں میں سے ایک ایک شخص کو مُنْصِف مُقرَّر کرلیا جائے ، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ چونکہ رشتے دار ایک دوسرے کے خانگی معاملات سے واقف ہوتے ہیں ، فریقَین کو ان پر اطمینان ہوتا ہے اور ان سے اپنے دل کی بات کہنے میں کوئی جھجک بھی نہیں ہوتی ، یہ مُنْصِف مناسب طریقے سے ان کے مسئلے کا حل نکال لیں گے اور اگر مُنْصِف ، میاں بیوی میں صلح کروانے کا ارادہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ  ان کے مابین اتفاق پیدا کر دے گا اس لئے حتّی المقدور صلح کے ذریعے اس معاملے کو حل کیا جائے لیکن یہ یاد رکھیں کہ انہیں میاں بیوی میں جدائی کروادینے کا اختیار نہیں یعنی یہ جدائی کا فیصلہ کریں تو شَرْعاً ان میں جدائی ہوجائے ، ایسا نہیں ہوسکتا۔ (1)

________________________________
1 -   تفسیرصراط الجنان ، پ۵ ، النساء : تحت الآیۃ : ۳۵ ، ۲ / ۱۹۹


صلح میں تاخیر مت کیجئے

صلح میں تاخیر مت کیجئے

صلح میں تاخیر مت کیجئے

الغرض لڑائی جھگڑے اور ناچاقیوں کی صورت میں میاں بیوی کو خانہ بربادی اور ایک دوسرے سے علیحدگی کی روک تھام کیلئے صلح میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ قرآنِ  کریم میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے : 
وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًاؕ-وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ- (پ۵ ، النساء : ۱۲۸)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان : اور اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زِیادَتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہوتو ان پر کوئی حرج نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح بہترہے۔ 
تفسیر صراطُ الجنان میں اس آیتِ مُبارَکہ  کے تحت لکھا ہےکہ قرآن نے گھریلو زندگی اور مُعاشَرَتی بُرائیوں کی اصلاح پر بہت زور دیا ہے اسی لئے جو گُناہ مُعاشَرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اور جو چیزیں خاندانی نظام میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں اور خرابیوں کو جنم دیتی ہیں ان کی قرآن میں بار بار اصلاح فرمائی گئی ہے جیسا کہ یہاں فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی عورت کواپنے شوہر کی زِیادَتی یا بے رغبتی کا اندیشہ ہو ، زِیادَتی تو اس طرح کہ شوہر اس سے علیحدہ رہے ، کھانے پہننے کو نہ دے یا اس میں کمی کرے یا مارے یا بدزبانی کرے اور اِعراض یعنی مُنہ پھیرنا یہ کہ بیوی سے محبت نہ رکھے ، بول چال ترک کردے یا کم کردے۔ تو ان پر کوئی حرج نہیں کہ آپس میں اِفہام و تفہیم سے صلح کرلیں جس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ عورت شوہر سے اپنے مُطالبات کچھ کم کردے اور اپنے کچھ حُقوق کا بوجھ کم کر دے اور شوہر یُوں کرے کہ باوُجُود رغبت کم ہونے کے اس بیوی سے اچھا برتاؤ بہ تکلّف کرے۔ یہ نہیں کہ عورت ہی کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ مردو عورت کا یوں آپس میں صلح کرلینا زِیادَتی کرنے اور جدائی ہوجانے دونوں سے بہتر ہے کیونکہ طَلَاق اگرچہ بعض  صورتوں میں جائز ہے مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی بارگاہ میں نہایت ناپسندیدہ چیز ہے۔ حضرت عبدُ اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسند چیز طَلَاق دینا ہے۔ (1)

________________________________
1 -   تفسیرصراط الجنان ، پ۵ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۱۲۸ ، ۲ / ۳۲۱ ، ابو داؤد ، کتاب الطلاق ، باب کراھیة الطلاق ،  ۲ / ۳۷۰ ، حدیث : ۲۱۷۸





شوہر پر بیوی کے احسانات

شوہر پر بیوی کے احسانات

شوہر پر بیوی کے احسانات

ایک شخص امیرُ المومنین حضرت سَیِّدُنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر حاضرہوا۔ جب دروازے پر پہنچا تو ان کی زَوجہ حضرت اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی(غصے کی حالت میں ) بلند آواز سے گفتگو کرنے کی آواز سنائی دی۔ جب اس شخص نے یہ ماجرا دیکھا  تویہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گیا کہ میں اپنی بیوی کی شکایت کرنے آیا تھا لیکن یہاں تو خود امیرُالمومنین بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں ۔ بعد میں حضرت سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس شخص کو بُلواکر آنے کی وجہ پوچھی ۔ اس نے عرض کی : حضور!میں تو آپ کی بارگاہ میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر  آیا تھا مگر جب دروازے پر آپ کی زَوجہ محترمہ کی گفتگو سنی تو میں واپس لوٹ گیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ میری بیوی کے  مجھ پر چند حُقوق ہیں جن کی بناء پر میں اس سے درگزر کرتا ہوں : ٭ وہ  مجھے جہنّم کی آگ سے بچانے کا ذریعہ ہے ، اس کی وجہ سے  میرا دل حرام کی خواہش سے بچا رہتا ہے ۔ ٭ جب میں گھر سے باہر ہوتا ہوں تو وہ میرے مال کی حفاظت کرتی ہے۔ ٭میرے کپڑے دھوتی ہے۔ ٭میرے بچّے کی پَروَرِش کرتی ہے۔ ٭ میرے لئے کھانا پکاتی ہے۔ 

یہ سُن کر وہ شخص بے ساختہ بول اُٹھا کہ یہ تمام فوائد تو  مجھے بھی اپنی بیوی سے حاصل ہوتےہیں ، مگر افسوس! میں نے اُس کی اِن خدمات اور احسانات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے کبھی اُس کی کوتاہیوں سے درگزر نہیں کیا ، آج کے بعد میں بھی درگزر سے کام لوں گا۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس واقعہ میں حضرت سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُنے اپنی گفتار اور اپنے عملی کردار کے ذریعے بیوی کی شکایت لے کر آنے والے شخص کو جو مدنی پھول عطا فرمائے ان سے یہی درس ملتا ہے کہ صرف بیوی کو ہی نہیں بلکہ شوہر کو بھی بُرد باری ، تحمل مِزاجی اور وسیع ظرفی کا مُظاہَرہ کرنا چاہئے۔ 


________________________________
1 -   تنبیه الغافلین ، باب حق المراة علی الزوج ، ص۲۸۰


عَفْو و دَرگزر کی فضیلت

عَفْو و دَرگزر کی فضیلت

عَفْو و دَرگزر کی فضیلت

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جب لوگ حساب کیلئے ٹھہرے ہوں گے تو اس وقت ایک مُنادی یہ اعلان کرے گا : جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذِمّۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ پھر دوسری بار اعلان کرے گا کہ جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذِمّۂ کرم پر ہے وہ اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ پوچھا جائے گا کہ وہ کون ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذِمّۂ کرم پر ہے۔ منادی کہے گا : ان کا جو لوگوں (کی خطاؤں ) کو معاف کرنے والے ہیں ۔ پھر تیسری بار منادی اعلان کرے گا : جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذِمّۂ کرم پر ہے وہ  اٹھے اور جنّت میں داخل ہو جائے۔ تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلاحساب جنّت میں داخل ہو جائیں گے۔ (1) 


صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ لوگوں کے ساتھ نرم رَوَیّہ رکھنے ، غصے کے وقت ضَبْط و تحمل رکھنے اور لوگوں کی غلطیوں کو نظر انداز کردینے کے کیسے فضائل ہیں لہٰذا میاں بیوی کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی بُرائیوں اور خامیوں پر ہی نظر نہ رکھیں بلکہ اچھائیوں اور خُوبیوں کو بھی پیشِ نظر رکھیں ۔ مثلاً : جب بیوی سے کوئی ایسی بات سرزد ہوجائے جو شوہر کے غصے کا سبب بنے تو شوہر اسے مارنے پیٹنے کے بجائے سوچے کہ وہ اپنے ماں باپ ، بھائی بہن ، رشتے دار ، سہیلیوں اور اپنے گھر کو چھوڑ کر صرف میرے لئے یہاں آئی ہے ، وہ میری دن رات خدمت کرتی ہے ، میرے بچّوں کی دیکھ بھال کرتی ہے ،

 میرے مال کی حفاظت کرتی ہے ، میرے گھر کی صفائی ستھرائی کرتی ہے ، میرے لئے کھانا پکاتی ہے ، میرے کپڑے دھوتی اور استری  کرتی ہے ، بیمار ہونے پر تیمار داری کرتی ہے ، دیگر گھر کے اَفْراد کی بھی کام میں مدد و خیر خواہی کرتی ہے ، لہٰذا مجھے اس سے انتقام نہیں لینا چاہئے بلکہ اسے معاف کردینا چاہئے اور غُصّہ ختم ہونے کے بعد اسے اچھے طریقے سے سمجھانا چاہئے۔ اسی طرح اگر شوہر سے کبھی کوئی ایسی بات سرزد ہوجائے جو بیوی کو غصے میں مبُتلا کرنے کا سبب بنے تو بیوی کو چاہئے کہ وہ شوہر کے ساتھ بدزبانی  اور لڑائی جھگڑا کرنے کے بجائے خاموش رہے اور سوچے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ پر حاکم بنایا ہے ، یہ میرا محافظ ہے ، اس کے ہوتے کوئی میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا ، یہ غموں کی دھوپ میں میرے لئے سائبان ہے ، یہ میرے لئے کھانے پینےاور لباس کا انتظام کرتا ہے ، میرے اور میرے بچّوں کے لئے خون پسینہ ایک کرکے حلال روزی کماتا ہے ، میرے اور میرے بچّوں کے بیمار پڑجانے پر دوا کا انتظام کرتا ہے ، میرے بچّوں کے تعلیمی اَخْراجات اٹھاتا ہے لہٰذا مجھے مثبت انداز سے اس کے ساتھ پیش آنا چاہئے ، اس کی باتوں کو برداشت کرنا چاہئے ، اس کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھنا چاہئے اور ناراضی کے وقت اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دینا چاہئے بلکہ اسے مَنا کر اس کا غُصّہ ٹھنڈا کرنا چاہئے۔ 



________________________________
1 -   معجم اوسط ،  ۱ / ۵۴۲ ، حدیث : ۱۹۹۸




غُصّہ برداشت کرنے کے فضائل

غُصّہ برداشت کرنے کے فضائل

غُصّہ برداشت کرنے کے فضائل

ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی وقتاً فوقتاً غُصّے کو قابو میں رکھنے کی ترغیب و فضیلت بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ ٭رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : بہادر وہ نہیں جو پہلوان ہو اور دوسرے کو پچھاڑ  دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غُصّے کے وقت خود کو قابو میں رکھے۔ (1)٭اور ارشاد فرمایا : جو اپنے غُصّے کو روکے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنا عذاب اس سے روک دے گا۔ (2) ٭اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو اپنے غُصّے میں مجھے یاد رکھے گا میں اسے اپنے جلال کے وقت یاد کروں گا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ اسے ہلاک نہ کروں گا۔ (3) ٭اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی خُوشنودی کیلئے بندے نے غُصّے کا جو گھونٹ پیا ، اس سے بڑھ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک کوئی گھونٹ نہیں ۔ (4)


________________________________
1 -   بـخاری ،  کتاب الادب ،  باب الحذر من الغضب ،  ۴ / ۱۳۰ ، حدیث : ۶۱۱۴
2 -   شعب الایـمان ،   باب فی حسن الخلق ،  ۶ / ۳۱۵ ، حدیث : ۸۳۱۱
3 -   مسند الفردوس ، ۳ / ۱۶۹ ، حدیث : ۴۴۴۸
4 -   شعب الایـمان ، باب فی حسن الخلق ،  ۶ /  ۳۱۴ ، حدیث : ۸۳۰۷



غصے پر قابو رکھئے

غصے پر قابو رکھئے

غصے پر قابو رکھئے

غصے پر قابو رکھنا اور عفو و درگزر سے کام لینا بھی شریعت میں نہایت پسندیدہ ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   ارشاد فرماتا ہے : 
وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴)
 (پ۴ ، ال عمران : ۱۳۴)
تَرْجَمَۂ کنز الایمان : اور غُصّہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں ۔ 
نرمی کے فضائل

نرمی کے فضائل

نرمی کے فضائل

٭جو شخص نرمی سے محروم رہاوہ بھلائی سے محروم رہا۔ (2)٭جس شخص کو نرمی  سے حصہ دیا گیا اسے بھلائی سے حصہ دیا گیا اور جسے نرمی کے حصے سے محروم رکھا گیا اسے بھلائی کے حصے سے محروم رکھا گیا۔ (1)٭اللّٰہ تعالیٰ رفیق ہے اور رِفْقْ (یعنی نرمی)کو پسند فرماتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نرمی کرنے پر وہ چیزیں عطا کرتا ہے جو سختی یا کسی اور وجہ سے عطا نہیں فرماتا۔ (2)٭نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اسے خُوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بد صورت کر دیتی ہے۔(3)



2 -   مسلم ، کتاب البر والصلة والآداب ،  باب فضل الرفق ، ص۱۰۷۲ ، حدیث : ۶۵۹۸

________________________________
1 -   ترمذی ، کتاب البر والصلة ،  باب ما جاء فی الرفق ، ۳ / ۴۰۷ ، حدیث :  ۲۰۲۰
2 -   مسلم ، کتاب البر والصلة والآداب ،  باب فضل الرفق ، ص ۱۰۷۲ ، حدیث : ۶۶۰۱
3 -   مسلم ، کتاب البر والصلة والآداب ،  باب فضل الرفق ، ص ۱۰۷۳ ، حدیث : ۶۶۰۲


ایک دوسرے کو نبھائیے آشیانہ بچائیے

ایک دوسرے کو نبھائیے آشیانہ بچائیے

ایک دوسرے کو نبھائیے آشیانہ بچائیے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بدقسمتی سے فی زمانہ ہم یہ اَخلاق بُھلا چکے ہیں شاید اسی وجہ سے اِزْدِواجی زندگی کا سُکون بے چینی کی نذر ہوگیا ہے۔ میاں بیوی میں فاصلے بڑھتے جارہے ہیں ، گھریلو بدامنی عام ہوتی جارہی ہے اور گھر میدانِ جنگ کا نقشہ پیش  کر رہا ہوتا ہے۔ اگر آج بھی ہم حسنِ سُلوک ، برداشت اور نرمی سے متعلِّق اسلامی تعلیمات پر عمل کریں اور حسنِ اَخلاق کے پیکر ، خَلْق کے رہبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے اَخلاقِ کریمہ کو اختیار کریں تو گھریلو امن و امان بحال اور اُجڑا چمن پھر سے آباد ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اگر خُدانخواستہ کسی کے گھر میں باہمی اختلافات نے ڈیرا جمالیا ہو ، میاں بیوی کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ جاری رہتا ہویا دل سے ایک دوسرے کی محبت ماند پڑ گئی یا اہمیَّت کم ہوگئی ہو تو میاں بیوی کو چاہئے کہ گرمی کے بجائے نرمی ، غصے کی جگہ برداشت اور بدلہ  لینے کے بجائے در گزر سے کام لیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّ آشیانہ بھی بکھرنے اور اُجڑنے سے بچ جائے گا اور ڈھیروں فضائل بھی حاصل ہونگے۔ آئیے نرمی ، صبر و برداشت اور درگزر کی اہمیَّت کے بارے میں  سنتے ہیں : 


نرمی کی اہمیَّت کا اندازہ تو اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے اپنے دو انبیاء ، حضرت موسی عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ السَّلَام  کو فرعون کے پاس  بھیجا تو فرعون کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : 
اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ(۴۳) فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى(۴۴)
 (پ۱۶ ، طٰه : ۴۳ ، ۴۴)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان : دونوں فرعون کی طرف جاؤ بیشک اس نے سرکشی کی ہے تو تم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈر جائے۔ 
تفسیر صراطُ الجنان میں اس آیتِ مُبارَکہ کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ دین کی تبلیغ کے علاوہ دیگر دینی اور دُنیوی معاملات میں بھی جہاں تک ممکن ہو نرمی سے ہی کام لینا چاہئے کہ جو فائدہ نرمی کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے وہ سختی کرنے کی صورت میں حاصل ہو جائے یہ ضروری نہیں ۔ (1)
________________________________
1 -   تفسیرصراط الجنان ، پ۱۶ ، طہ ، تحت الآیۃ : ۴۴ ، ۶ / ۲۰۱

دوڑنے کا مقابلہ

دوڑنے کا مقابلہ

دوڑنے کا مقابلہ

حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ میں ایک سفر میں رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ تھی ، میری لڑکپن کی عمر تھی ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے فرمایا : آگے چلے جاؤ ، وہ حضرات آگے روانہ ہوگئے تو فرمایا : آؤ میں تمہارے ساتھ دوڑنے کا مقابلہ کروں ، میں نے اُن کے ساتھ مقابلہ کیا اور آگے نکل گئی۔ کچھ عرصے بعد کسی اور سفر میں بھی میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ تھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا : آگے روانہ ہوجاؤ۔ پھر مجھ سے فرمایا : آؤ دوڑنے کا مقابلہ کرتے ہیں ، میں پہلے والا مقابلہ بھول چکی تھی اور (پہلے کے مقابلے میں )فربہ بھی تھی ، میں نے عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں اِس حالت میں کیسے مقابلہ کرسکتی ہوں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : تم ضرور کرسکتی ہو۔ میں نے مقابلہ کیا تو حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ  وَسَلَّمَ جیت گئے اور ارشاد فرمایا : یہ اُس (دن کی)جیت کا بدلہ ہوگیا۔ (1)

مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یہ ہے اپنی ازواجِ پاک سے اَخلاق کا برتاؤ۔ ایسے اَخلاق سے گھر جنّت بن جاتا ہے ، مسلمان یہ اَخلاق بھول گئے۔ خیال رہے کہ اُمُّ المومنین عائشہ صِدّیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا)لَڑکْپَن میں حضور (سَرْوَرِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم) کے نکاح میں آئیں جب کہ حضور (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )کی عمر شریف پچاس سال کے قریب تھی ، اِسقدر تَفاوُتِ عُمر (یعنی عُمر میں فرق )کے باوُجُود آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا )کبھی نہ گھبرائیں ۔ کیوں ؟ اِن اَخلاقِ کریمانہ کی وجہ سے۔ (2)معلوم ہوا کہ شوہر کو اپنی زَوجہ کے ساتھ موقع کی مناسبت سے خُوش طبعی بھی کرنی چاہئے ، اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ اچھی اچھی نیّتوں کے ساتھ یہی چیز باعثِ ثواب بھی بن سکتی ہے ۔ مگر بعض لوگ بے رُخی ، روکھے پن یا خشک مِزاجی پر اپنی سنجیدگی کی بُنیاد رکھتے ہیں اور شاید یہ سوچتے ہیں کہ ہماری اک ذرا سی مسکراہٹ یا معمولی سی خُوش طبعی ہماری سنجیدگی کی عمارت کو زمین بوس کردے گی حالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ کبھی کبھار مِزاح (خُوش طبعی )کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سے ثابت بھی ہے۔ جیساکہ مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی  عَلَیْہ  فرماتے ہیں : حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کبھی کبھی خُوش طبعی کرنا ثابت ہے ، اسی لیے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ کبھی کبھی خُوش طبعی کرنا سنّتِ مُسْتَحَبّہ ہے۔ (1)

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ہمیں تمام معاملات میں حضور اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی صحیح معنوں میں پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  



________________________________
1 -   سنن الکبریٰ للنسائی ، کتاب عشرة النساء ، مسابقة الرجل زوجته ، ۵ / ۳۰۴ ، حدیث : ۸۹۴۵۔ یاد رہے !یہ دوڑ تنہائی میں تھی لہٰذا فی زمانہ ہونے والی مرد و عورت کی دوڑ (Race) کیلئے اس حدیث کو دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ 
2 -   مرآة المناجیح ، ۵ / ۹۶


________________________________
1 -   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۴۹۳ ملتقطا



خُوش طبعی کیلئے گُناہوں کا اِرتکاب نہ کیجئے

خُوش طبعی کیلئے گُناہوں کا اِرتکاب نہ کیجئے

خُوش طبعی کیلئے گُناہوں کا اِرتکاب نہ کیجئے

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ بہت زیادہ نہ ہنسا کریں ، نیز دوست اَحباب یا بیوی بچّوں کے ساتھ موقع کی مناسبت سے تھوڑی بہت خُوش طبعی کرنے میں بھی ایسا طریقہ ہرگز ہرگز اختیار نہ کریں جو جُھوٹ ، غیبت ، چُغلی یا کسی کی دل آزاری پر مشتمل ہوکیونکہ خُوش طبعی کے طور پر بھی جُھوٹ بولنا یا  غیبت ، چُغلی اور مسلمانوں کی دل آزاری کرنا جائز نہیں ۔ مفسر شہیر ، حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  مِزاح (خُوش طبعی) کے حوالے سے فرماتے ہیں : دل خُوش بات کرنا ، ایسی بات جس سے اپنا اور سننے والے کا دل خُوش ہوجاوے مِزاح ہے اور جس سے دوسرے کو  تکلیف پہنچے جیسے کسی کا مذاق اڑانا سُخْرِیہ ہے۔ مِزاح اچھی چیز ہے سُخْرِیہ بُری بات ہے۔ (1) ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی خُوش طبعی فرمایا کرتے تھے مگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظَرافت و خُوش طبعی بیان کردہ بُرائیوں سے پاک ہوا کرتی تھی جیساکہ   

حضرت سیّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا یَارسُولَاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ آپ ہم سے خُوش طبعی فرماتے ہیں ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ہم سچی بات کے علاوہ کچھ نہیں کہتے۔ (2) لہٰذا ہمیں چاہئے کہ  خُوش طبعی کے معاملے میں بھی ہم اپنے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے طرزِ عمل ہی کو اپنے لئے نمونہ بنائیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ   واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کے بارے میں ہمیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے رہنمائی نہ ملی ہو حتی کہ ایک مرد کو مثالی شوہر بننے کے لئے جن خُصُوصِیَّات کی ضرورت ہے وہ تمام باتیں بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ مُبارَکہ سے سیکھی جاسکتی ہیں ۔ رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ صرف صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ بھی مِزاح فرمایا کرتے تھے۔




________________________________
1 -   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۴۹۳
2 -   ترمذی ، کتاب  البر و الصلة  ، باب ما جاء فی الـمزاح ، ۳ / ۳۹۹ ، حدیث : ۱۹۹۷



ہنسی مذاق کی کثرت کا نقصان

ہنسی مذاق کی کثرت کا نقصان

ہنسی مذاق کی کثرت کا نقصان

یاد رکھئے!مسکراہٹ اور خُوش طبعی اختیار کرنے کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سنجیدہ باتوں کو بھی ہنسی مذاق کی نذر کر دیا جائے ، اس طرح بے موقع ہنسی مذاق کرنے اور بات بات پر ہنستے رہنے والے کا لوگوں کی نظر میں وَقَار مجروح  ہوجاتا ہے ، اس کی بات کا وزن کم ہوجاتا ہے ، اس کی سنجیدہ بات کو بھی ہنسی مذاق سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے ، اہم معاملات میں اُس سے مشورہ لینا گوارا نہیں کیا جاتا اور اگر وہ خود ہی کسی معاملے میں کوئی مفید مشورہ دے تو اُس کے مشورے کو اہمیَّت نہیں دی جاتی ۔ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جو شخص زیادہ ہنستا ہے ، اس کا دبدبہ اور رُعب چلا جاتا ہے اور جو آدمی مِزاح (کی کثرت)کرتا ہے وہ دوسروں کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ (1) بلکہ زیادہ ہنسنے سے تو ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے منع فرمایا ہے چنانچہ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے : وَلَا تُكْثِرِ الضَّحْكَ فَاِنَّ كَثْرَةَ الضَّحْكِ تُمِيْتُ الْقَلْبَ یعنی بکثرت نہ ہنسو کہ ہنسنے کی کثرت دل کو مردہ کر دیتی ہے۔ (2)



________________________________
1 -   احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان ، بیان عظیم خطر اللسان    الخ ،  ۳ / ۱۵۸
2 -   ترمذی ، کتاب الزھد ، باب من اتقی المحارم   الخ ،  ۴ / ۱۳۷ ، حدیث : ۲۳۱۲



خوش مزاجی،عفو و درگزر اور باہمی   صلح جوئی سے مُتَعَلّق  مدنی پھول

خوش مزاجی،عفو و درگزر اور باہمی صلح جوئی سے مُتَعَلّق مدنی پھول

خوش مزاجی،عفو و درگزر اور باہمی   صلح جوئی سے مُتَعَلّق  مدنی پھول

اِزْدِواجی زندگی کیلئے بد مِزاجی کا نقصان 
میاں بیوی کو چاہئے کہ بدمِزاجی کو اپنے قریب بھی نہ آنے دیں ، بات بات پر چیخ پکار سے کام لینا ، چھوٹی سی غلطی پر بلاوجہ غصے اور جذباتی پن کا مُظاہَرہ کرنا ، ایک دوسرے کے ساتھ روکھے پن سے پیش آنا ، ہر وقت چہرہ سپَاٹ و سنجیدہ رکھنا ، سیدھے مُنہ بات نہ کرنا ، خُوشی و مَسَرَّت یا رَنْج و غم کے موقع پر بھی چہرہ بے تأثّر رکھنا کہ خُوشی یا غم کا اظہار ہی نہ ہو یونہی گھر کے دیگر معاملات سے لاتعلّقی  برتنا یا بچّوں سے بے رُخی سے پیش آنا  دُرُست نہیں کہ یہ عادتیں انسان کی بدمِزاجی اور بد اَخلاقی کا پتا دیتی ہیں ، اس سے  گھر کے ماحول پر انتہائی منفی اثرات مُرتّب ہوتے ہیں ، میاں بیوی کے درمیان تناؤ پیدا ہوتا اور بچّوں سے ہم آہنگی ختم ہوجاتی ہے۔ لہٰذا میاں بیوی کو چاہئے کہ آپس میں ایک دوسرے سے بھی اور اپنے بچّوں کے ساتھ بھی مناسب خُوش طبعی کا اظہار کریں بلکہ ہوسکے تو موقع کے مطابق چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھیں کہ یہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنّت ہے۔ 
حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سَیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے متعلِّق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مسکرا کر کیا کرتے تھے ، میں نے ان سے اِس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا : میں نے رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ دورانِ گفتگو مسکرا تے رہتے تھے۔ (1)

پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اِس طرزِ عمل سے اُن لوگوں کو درس حاصل کرنا چاہئے جو ضرورت سے زیادہ سنجیدگی اختیار کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے بسا اوقات گھر کے افراد بھی ان کی مسکراہٹ دیکھنے کو تَرس جاتے ہیں ۔ یاد رکھئے! روکھے پن اور غیر ضروری سنجیدگی صرف گھر کے افراد کو ہی اُکتاہٹ میں مبُتلا نہیں کرتی بلکہ دیگر لوگ بھی اس طرح کا رَوَیّہ رکھنے والے شخص کے قریب بیٹھنا پسند نہیں کرتے ، لہٰذا خُشک مِزاجی سے حتی الامکان بچتے ہوئے مُسکراہٹ ، مِلنساری اور خندہ  پیشانی کی عادات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کیجئےبلکہ کبھی کبھار موقع کی مناسبت سے خُوش  طبعی کرنے میں بھی ہرگز تاَمّل سے کام نہ لیجئے۔ 




________________________________
1 -   مکارم الاخلاق للطبرانی ،  باب فضل تبسم    الخ ،  ص۳۱۹ ، حدیث : ۲۱




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular