Showing posts with label مقبولیات. Show all posts
Showing posts with label مقبولیات. Show all posts
محبت رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم

محبت رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم





محبت رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم

احد کی لڑائی میں جو کافر مارے گئے تھے ان کے عزیزوں میں انتقام کا جوش زوروں پر تھا ، صلافہ نے جس کے دو بیٹے لڑائی میں مارے گئے تھے منت مانی تھی کہ اگر عاصم کا ( جنہوں نے اس کے بیٹوں کو قتل کیا تھا) سر ہاتھ آجائے تو اس کی کھوپڑی میں شراب پیوں گی ، اس لئے اس نے اعلان کیا تھا کہ جو عاصم کا سر لائے گا اس کو سو اونٹ انعام دوں گی ، سفیان بن خالدکو اس لالچ نے آمادہ کیا کہ وہ ان کا سرلانے کی کوشش کرے ،

 چنانچہ اس نے عضل و قارہ کے چند آدمیوں کے مدینہ منّورہ بھیجا ، ان لوگوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم سے تعلیم و تبلیغٖ کے لئے اپنے ساتھ چند حضرات کو بھیجنے کی درخواست کی اور حضرت عاصم کے بھی بھیجنے کی درخواست کی کہ ان کا وعظ پسندیدہ بتلایا ، چنانچہ حضور نے دس آدمیوں کے بعض روایات میں چھ آدمیوں کو ان کے ساتھ کر دیا جن میں حضرت عاصم بھی تھے ، راستہ میں جاکر ان لے جانے والے آدمیوں نے بد عہدی کی اور دشمنوں کو مقابلہ کے لئے بلایا ،

 جو دوسو آدمی تھے ان میں سے سو آدمی بہت مشہور تیر انداز تھے اور بعض روایات میں ہے کہ حضور نے ان حضرات کو مکہ کی خبر لانے کے لئے بھیجا تھا راستہ میں بنو لحیان کے دوسو آدمیوں سے مقابلہ ہوا ، یہ مختصر جماعت دس آدمیوں کی یا چھ آدمیوں کی یہ حالت دیکھ کر ایک پہاڑ جس کا نام فدفذ تھا





چڑھ گئی ، کفار نے کہا کہ ہم تمہارے خون سے اپنی زمین رنگنا نہیں چاہتے ، صرف اہل مکہ سے تمہارے بدلہ میں کچھ مال لینا چاہتے ہیں ، تم ہمارے ساتھ آجاؤ ہم تم کو قتل نہ کریں گے ،
مگر انہوں نے کہا کہ ہم کافر کے عہد میں آنا نہیں چاہتے اور ترکش سے تیر نکال کر مقابلہ کیا جب تیر ختم ہوگئے تو نیزوں سے مقابلہ کیا ، حضرت عاصم نے ساتھیوں سے جو ش میں آکر کہا کہ تم سے دھوکہ کیا گیا ہے مگر گھبرانے کی بات نہیں شہادت کو غنیمت سمجھو تمہارا محبوب تمہارے ساتھ ہے اور جنت کی حوریں تمہاری منتظر ہیں ، یہ کہہ کر جوش سے مقابلہ کیا اور جب نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار سے مقابلہ کیا ، مقابلوں کا مجموعہ کثیر تھا ، آخر شہید ہوگئے اور دعا کی کہ یا اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کو ہمارے قصہ کی خبر کر دے ،
چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور اسی وقت اس واقعہ کا علم حضور کو ہوگیا اور چونکہ عاصم یہ بھی سن چکے تھے کہ سلافہ نے میرے سر کی کھوپڑی میں شراب پینے کی منت مانگی ہے ، اس لئے مرتے وقت دعا کی کہ یا اللہ میرا سر تیرے راستے میں کاٹا جارہا ہے تو ہی اس کا محافظ ہے وہ بھی دعا قبول ہوئی ، اور شہادت کے بعد جب کافروں نے سرکاٹنے کا ارادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا اور بعض روایات بھڑوں کا ایک غول بھیج دیا جنہوں نے ان کے بدن کو چاروں طرف سے گھیر لیا ،
کافروں کو خیال تھا کہ رات وقت جب یہ اڑجائیں گے تو سر کاٹ لیں گے ، مگر رات کو بارش کی ایک رو آئی اور ان کی
نعش کو بہا لے گئی ، اس طرح سات آدمی یا تین آدمی شہید ہوگئے، غرض تین آدمی باقی رہ گئے ۔



حضرت خبیب اور زید بن ۔۔۔ اور عبداللہ بن طارق ان تینوں حضرات سے بھر انہوں نے عہد و پیمان کیا کہ تم نیچے اتر آجاؤ ہم تم سے بد عہدی نہ کریں گے ، یہ تینوں حضرات نیچے اتر آئے ، اور نیچے اترنے پر کفار نے ان کی کمانوں کی تانت مار کر ان کی مشکیں باندھ دیں ، حضرت عبداللہ بن طارق نے فرمایا یہ پہلی بد عہدی ہے ، میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گا ، ان شہید ہونے والوں کا اقتدا ہی مجھے پسند ہے ، انہوں نے زبردستی ان کو کھینچنا چاہا مگر یہ نہ ٹلے تو ان لوگوں نے ان کو شہید کردیا ، صرف دو حضرات ان کے ساتھ رہے ، جن کو لے جا کر لوگوں نے مکہ والوں کے ہاتھ فروخت کر دیا ، ایک حضرت زید بن دثنہ جن کو صفوان بن امیہ نے پچاس اونٹ کے بدلہ میں خریدا تاکہ اپنے باپ امیہ کے بدلہ میں

قتل کرے دوسرے حضرت خبیب رضی اللہ عنہما جن کو حجیر بن ابی اہاب نے سو اونٹ کے بدلہ میں خریدا تاکہ اپنے باپ کے بدلہ میں ان کو قتل کرے ، بخاری شریف کی روایت ہے کہ حارث بن عامر کی اولاد نے خریدا کہ انہوں نے بدر میں حارث کو قتل کیا تھا ، صفوان نے تو اپنے قیدی حضرت زید رضی اللہ علیہ کو فوراً ہی حرام سے اپنے غلام کے ہاتھ بھیجدیا کہ قتل کر دئے جائیں ، اس کا تماشہ دیکھنے کے واسطے اور بھی بہت سے لوگ جمع ہوئے ،جس میں ابو سفیان بھی تھا ، اس نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے زید تجھ کو خدا کی قسم سچ کہنا کہ تجھ کو یہ پسند ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ) کی گردن تیرے بدلہ میں ماردی جائے اور تجھ کو چھوڑ دیا جائے کہ اپنے اہل و عیال میں خوش و خرم رہے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کی قسم مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم جہاں ہیں وہیں ان کے ایک کانٹا بھی چبھے ، اور ہم اپنے گھر آرام سے رہیں ، یہ جواب سن کر قریش حیران رہ گئے ، ابو سفیان نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ) کے ساتھیوں کی جتنی اس سے محبت ہے اس کی نظیر کہیں نہیں دیکھی ، اس کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے ۔
حضرت خبیث رضی اللہ عنہ ایک عرصہ تک قید رہے ،جحیر کی باندی جو بعد میں مسلمان ہوگئیں کہتی ہیں کہ جب خبیب رضی اللہ عنہ ہم لوگوں کی قید میں تھے تو ہم نے دیکھا کہ خبیب رضی اللہ عنہ ایک دن انگور کا بہت بڑا خوشہ آدمی کے سر کے برابر لئے ہوئے کھا رہے تھے اور مکہ میں اس وقت انگور بالکل نہیں تھا ، وہی کہتی ہیں کہ جب ان کے قتل کا وقت قریب آیا تو انہوں نے صفائی کے لئے استرہ مانگا ، وہ دیدیا گیا اتفاق سے ایک کمسن بچہ اس وقت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا ، ان لوگوں نے دیکھا کہ استرہ ان کے ہاتھ میں ہے اور بچہ ان کے پاس ، یہ دیکھ گھبرائے ، خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ میں بچے کو قتل کروں گا ، نہیں کرسکتا اس کے بعد ان کو حرم سے باہر لاگیا ، اور سولی پر لٹکانے کے وقت آخری خواہش کے طور پر پوچھا گیا کہ کوئی تمنا ہوتو بتاؤ، انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنی مہلت دی جائے کہ دو رکعت نماز پڑھ لوں کہ دنیا سے جانے کا وقت ہے ، اور اللہ جل شانہٗ کی ملاقات قریب ہے چنانچہ مہلت دی گئی ، انہوں نے دو رکعت نہایت اطمینان سے پڑھے اور فرمایا کہ مجھے خیال نہ ہوتا کہ تم
لوگ یہ سمجھو گے کہ میں موت کے ڈر کی وجہ سے دیر کررہا تو دورکعت اور پڑھتا ، اس کے بعد سولی پر لٹکائے گئے ، تو انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو تیرے رسول پاک صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم تک میرا آخری سلام پہنچادے چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کو بذریعہ وحی اسی وقت سلام پہنچایا ، حضور نے فرمایا و علیکم السلام یا خبیب رضی اللہ عنہ ، اور ساتھیوں کو اطلاع دی کہ خبیب کو قریش نے قتل کردیا ، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو جب سولی پر چڑھا یا گیا تو چالیس کافروں نے نیزے لے کر چاروں طرف سے ان پر حملہ کیا ، اور بدن کی چھلنی کردیا ، اس وقت کسی نے قسم دے کریہ بھی پوچھا کہ تم یہ پسند کرتے ہوکہ تمہاری جگہ محمد ( صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ) کو قتل کردیں اور تم کو چھوڑیں ، انہوں نے فرمایا واللہ تعظیم مجھے یہ بھی پسند نہیں نہیں کہ میری جان کے فدیہ میں ایک کانٹا بھی حضور کو چھبے ۔





تدبروایا اولی الالباب

تدبروایا اولی الالباب




تدبروایا اولی الالباب



حصہ دوم


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )




ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون ،

کا مصداق بن جاؤگے ، اگر تمام کے مسلمانوں کی نمازیں اکھٹے کئے جائیں کے اور ان تمام نمازوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی نمازیں صحیح تر کل تر اور مکمل تر ہیں ، جولوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان نمازوں طرح نمازیں پڑھنے ہیں یعنی سینے پر ہاتھ ہو نہ آمین پکار نی ہو نہ خلف امام سورئہ فاتحہ کا پڑھنا ہو نہ رکوع جاتے نہ رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین ہو ، ان لوگوں کی نمازیں صحیح ہیں یا ان لوگوں کی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان نمازوں کے خلاف نمازیں پڑھتے ہیں ، یعنی سر پر ہاتھ باندھ کر آمین پکارتے خلف امام سورئہ فاتحہ پڑھتے اور رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے رفیع الیدین کرتے یہ صاف اور ظاہر ہے ، ہر ذی عقل یہی کہے گا جو مقتدی ہوکر نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی ان نمازوں کی طرح نمازیں پڑھتے میں اور جو امام نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان اماموں کے


نمازوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں ، انہیں لوگوں کی نمازیں صحیح ہیں ، کامل ہیں مکمل ہیں ، یہ نمازیں سنّی حنفیوں کے ہیں ، فللہ الحمد ، اور ان سنیوں کے بھی نمازیں صحیح کامل ہیں جو اپنے اماموں کے فتواؤں پر عمل کرتے ہیں ۔

جن مقتدیوں کی نمازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان نمازوں کے خلاف ہو اور جن اماموں کی نمازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان اماموں کے خلاف ہو وہ بھی ناقص ، ناصحیح ، نامکمل اور ناکامل ہیں ، یہ نمازیں تمہارے لوگوں کے ہیں ۔






فلیزم ویتب المشتاھر ونادیہ واذنابہ ومقلدہٗ بفتح لام ۔
سردار دوجہاں کا ارشاد ہے ، جب امام ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہے تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب امام قرآن پڑھنا شروع کر دے تم خاموش رہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم پانچ وقت کے فرضوں میں بحالتِ امامت کم سے کم فی رکعت چار پانچ مرتبہ آواز سے اللہ اکبر فرماتے تھے ، آمین بحالت امامت ایک دو مرتبہ بلند آواز سے کرنے میں بھی اختلاف ہے ، اور تم آمین بلند آواز سے کہنے میں مقتدی ہوکر ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہو ، مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ تشبیہ کرتے ہو، بعض جگہ لڑکوں کو دو پیسے تین پیسے دے کر آمین بلند آواز سے کراتے ہو، جس کی کوئی اصل شرع میں نہیں ہے ، اللہ اکبر نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے بحالتِ امامت ہمیشہ بلند آواز سے فرماتے رہے ہیں ، اس میں کسی بھی(طرح کا) اختلاف نہیں ، یہی سنت اب تک پیش اماموں میں جاری ہے ۔ تم ایک وقت بھی مقتدی ہو کر بلند آواز سے اللہ اکبر نہیں پکارتے اور تقسیم تمہاری خیزی ہے ، (تیڑھی ) کیا تمہارے نزدیک آمین کی آواز اللہ اکبر سے بھی افضل ہے ؟ امید ہے کہ آپ لوگ پانچ وقت کی نمازوں میں ہر ایک رکعت میں چار پانچ مرتبہ مقتدی ہوکر اللہ اکبر کی آوازیں کستے رہوگے ، تمہاری مسجدیں گونجتے رہیں گے ، مردہ سنت کو زندگی بھی عطا ہوجائے اور تم کو سو شہیدوں کا درجہ بھی مل جائے گا ، ورنہ یہ دعوی تمہارا اور تمہارے مدیر کا ہم مردہ سنتوں کے زندہ کرنے کے در پے ہیں چھوٹ سمجھا جائے گا مجھے صرف تمہاری اصلاح مدنظر ہے کیونکہ تم بھی انسان اور مسلمان کہلواتے ہو ، تم تو مجبور ہو تمہارا کوئی قصور نہیں ، اس لئے کہ تم کو علم نہیں ، قصور تو اس کا
ہے جس نے تم کو گمراہ بنا دیا ہو ، اس وقت تمہاری ٹکڑی قلق اور اضطراب میں ہے ، نہ اس تمہارے طریقہ کو چھوڑ سکی ، اگر اس کو چھوڑ دیتے تو لو گ ان پر ہنستے ہیں ، اگر اس طریقہ پر رہیں گے تو بے اصل اور بے سند ہیں ، کوئی ایک بات اپنے دعویٰ کے مطابق ثابت نہیں کرسکتی چنانچہ ناظرین ہمارے اشتہاروں کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہوں گے کہ تین ہی سوالوں سے حدیث کی منڈی کا دیوالہ نکل گیا ، باقی دس ان پر قرض رہ گئے ، سنیوں کو لازم ہے اس قرض کا تقاضا ان سے ہمیشہ کرتے رہیں غرض
:
دوگونہ آفت ست جان مجنوں را
بلائے صحبت لیلیٰ و فرقت لیلیٰ



ایک شیعہ کو نماز پڑھتے دیکھا رکوع کے رفع الیدین کے علاوہ سجدے کو جاتے وقت اور سجدے سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے یہی ان کا مذہب ہے ، ان سے پوچھا یہ کس کی حکم ہے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھ کو دیکھتے ہو نماز پڑھتے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم رکوع جاتے وقت ، رکوع کرتے وقت ، رکوع سے اٹھتے وقت ، سجدے میں جاتے وقت ، سجدے سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے ، صحابہ رضی اللہ عنہ دیکھتے تھے لہٰذا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ثابت ہوگا ، میں نے کہا اس حدیث میں وہ کونسا لفظ ہے جو رکوع کے رفع الیدین اور سجدے کے رفع الیدین پر دلالت کرتا ہو ، یایہ ثابت کرو جس وقت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم رکوع اور سجدے کی رفع الیدین کی اسی وقت حدیث مذکور فرمائی ہیں ،یا یہ ثابت کرو کہ اس حدیث مذکور کو رفع الیدین کرنے سے پہلے فرمائی تھی ، یہ سن کر وہ حیران و ششد رہ گئے ، میں نے کہا وہابی بھی اس حدیث کو پیش کرتے ہیں جب ان سے سوال کرتے ہیں سینے پر ہاتھ باندھنا ، آمین پکارنا ، رفع الیدین کرنا کس کا حکم ہے ؟ وہابی تو کہتے ہیں سجدے کی رفع الیدین منسوخ ہوگئی ، اب تم شیعہ سچے ہو یا وہابی ؟ حقیقت یہ ہے کہ حدیث مذکور کو ان افعال کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ، نہ اس حدیث میں کوئی لفظ ایسا ہے جو افعال مذکور پر دلالت کرتا ہو بلکہ حدیث مذکور کا مطلب یہ ہے کہ ارکان نماز کو پوری طرح اطمینان سے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا کرو جس طرح مجھے ادا کرتے دیکھتے ہو ، اسی پر دلالت کرتا ہے ۔
ارشاد عزوجل ہے : ھم فی صلواتھم خاشعون ۔ اس لئے ارکان داخل ماہیت نماز ہیں افعال مذکور ، زاتد عن الارکان خارج عن الماھیت ، نماز میں حدیث مذکور ان افعال کے ثبوت میں پیش کرنا پیش کرنے والے کی بے علمی اور جہالت پر دلالت کرتا ہے ، باقی رہا وہابی کا کہنا سجدہ کی رفع الیدین منسوخ ہوگئی ، اصل میں یہ ہے ، رفع الیدین منسوخ ہوگئی ، خواہ وہ رکوع کی ہو یا سجدہ کی یا قعدہ میں بیٹھ کر سلام کرتے وقت ہاتھ اٹھانا ہو ، یہ مختصر ہے ، اس وقت مسئلہ کی تفصیل کی گنجائش نہیں ، ان شاء اللہ اگر موقع مل جائے یہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ ہدیہ ناظرین کردیا جائے گا ۔



تدبروایا اولی الالباب

تدبروایا اولی الالباب




تدبروایا اولی الالباب


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )


عقل سلیم اور ذہن مستقیم رکھنے والے حضرات ذیل کے مضامین پر غور و غوض فرمائیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم چند وقت کی نمازیں چند اماموں کی اقتدا میں ادا فرمائی ہیں ، چنانچہ کتب اصول و فروع کے واقفوں پر پوشیدہ نہیں ، اگر کوئی جاہل مرفوع القلم اس کو انکار کرے گا وہ قابل گرفت نہ کریگا ، بحالت اقتدا سینے پر ہاتھ باندھنا اور آمین پکارنا ، رکوع جاتے وقت رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا کہیں ثابت نہیں ، نہ ان اماموں سے بحالتِ امامت افعالِ مذکور کا کرنا ثابت ہے ، اگر افعال مذکور جزو ایمان ہوتے جیسے یہ فرقے سمجھ رہے ہیں ،
حضور ان اپنے اماموں سے افعال مذکور کرنے کے لئے نہ اللہ عزوجل کا حکم ہے نہ اللہ کے رسول کاحکم ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے حالت اقتدا میں ان افعال کو کیا ہے ، نہ کسی صحابہ نے مقتدی ہو کر افعال مذکور کیا ہو ، اور حضور نے دیکھ کر خاموشی فرمائی ہو ، نی رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے ان افعال مذکور سنت کرکے نام رکھا ہے اگر آپ لوگ افعال مذکور کو سنت کہتے ہو نام رکھنے میں سنیوں کی تقلید کرتے ہو ،
یہ تمہارے ہاں کفر و شرک ہے ، پس تم لوگ افعالِ مذکور کسی کے حکم سے کرتے ہو ؟ پتہ چلتا ہے کہ شاید محمد بن عبد الوہاب صاحب نجدی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب شیخ محی الدین لاہوری سابق نام ہری چند بن دویوان چند کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب ابو سعید بنارسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ؟
اغلب یہ ہے کہ مدیر معزز محمد صاحب جوناگڈھی کی اتباع و تقلید واقتدار کرتے ہو ، اس لئے تم لوگ محمدی بھی کہلاتے ہو ، جس میں نسبت محمد صاحب جو نا گذگی کی طرف ہے ، اس نے بھی تم کو محمدی بھائیو یعنی میرے بھائیو کر کے خطاب کیاہے ، یا محمد بن عبدالوہاب کی طرف نسبت ہوگی ، بنگلور اور لشکر میں ایک انجمن احمدی غلام احمد قادیانی کے پیروؤں کی تھی ، دوسری انجمن محمدی محمد صاحب جو ناگڈھی کے پیروؤں کی تھی ، ا ب معلوم نہیں ہے یا نہیں ، اللہ عزوجل نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے علماء مجتہدین و محققین کی اتباع اور تقلیدہ اقتدا کا حکم دیا ہے ، سب وہ صحابہ رضی اللہ عنہ ، سب وہ تابعین اور سب وہ تبع تابعین اور بے شمار فقہاء اور

محدثین جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچے تھے اور کروڑوں عوام اس حکم کی تعمیل کرچکے ہیں ، اللہ عزوجل نے تقلید کا اطلاق اپنے نبی علیہ السلام کے اوپر کہیں نہیں فرمایا ، نہ علماء کی اصطلاع میں مجتہدین کے واسطے اس لفظ کا اطلاق کہیں آیا ہو ،
ہم اس لفظ کا اطلاق پر نہیں کرتے ، اور ہم ہر ایک کے مرتبے کا لحاظ کرتے ہیں ، گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی ست اور ہزاروں علماء و فقہا ومحدثین و بے حساب عوام الناس اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں ، اور کرتے رہیں گے ، تم تو اس کو کفر و شرک کہتے ہو ، جو لوگ کم درجہ کے طالب علموں کی صف میں ہیں ،
جیسے ہم نے تمہارے چند بزرگوں کے نام اوپر گنوائے ہیں ، ان کی اتباع تقلید واقتدا تمہارے نزدیک بطریق اولیٰ کفر و شرک ہوگی خیر تم تو آزاد ، خود مختار و خود روہو ، جدھر جانا چاہتے ہو چلے جا سکتے ہو ، جس کوئیں میں کودنا چاہتے ہو کود سکتے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم سے ان چند نمازوں میںجو بحالتِ اقتدا ادا فرمائی ہیں ، سورئہ فاتحہ کا پڑھنا خلف امام ہرگز کہیں ثابت نہیں ، تم تو کہتے ہو جس نے امام کے پیچھے سورئہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز صحیح نہیں ، یہ بتلاؤ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی یہ نمازیں تمہارے نزدیک صحیح ہوگئے یانہیں ؟ ذرا غور کرو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی نمازیں میں، تم تو دلبر و جرأت والے ہو، کوئی جرأت نہ کر بیٹھو ۔






تاریخ کا زرّین ورق

تاریخ کا زرّین ورق


تاریخ کا زرّین ورق




 حضرت خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور شاعرہ ہیں ، اپنی قوم کے چند آدمیوں کے ساتھ مدینہ آکر مسلمان ہوئیں ، ابن اثیر کہتے ہیں کہ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی عورت نے ان سے شعر نہیں کہا نہ ان سے پہلے نہ ان کے بعد ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں 16؁ھ میں قادسیہ کی لڑائی ہوئی
جس میں حضرت خنساء اپنے چاروں بیٹوں سمیت شریک ہوئیں ، لڑکوں ایک دن پہلے بہت نصیحت کی اور لڑائی کی شرکت پر بہت ابھارا کہنے لگیں کہ میرے بیٹو ! تم اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے ہو اور اپنی ہی خوشی سے تم نے ہجرت کی ،
اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ جس طرح تم ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہو اسی طرح ایک باپ کی اولاد ہو، میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا نہ میں نے تمہاری شرافت میں دھبہ لگایا
نہ تمہارے نسب کو خراب کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کے لئے کافروں سے لڑائی میں کیا کیا ثواب رکھا ہے ؟ تمہیں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے
کہ آخرت کی باقی رہنے والی زندگی دنیا کی فنا ہونے والی زندگی سے کہیں بہتر ہے ، اللہ جل شانہٗ کا پاک ارشاد ہے :


یا ایھا الذین آمنوا صبروا و رابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون ۔



اے ایمان والو تکالیف پر صبر کرو ( اور کفار کے مقابلہ میں ) صبر کرو اور مقابلہ کے لئے تیار رہو تاکہ تم پورے کامیاب رہو ( بیان القرآن ) لہٰذا کل صبح کو جب تم صحیح و سالم اٹھو تو بہت ہوشیاری سے لڑائی میں شریک ہونا اور اللہ تعالیٰ سے دشمنوں کے مقابلے میں مدد مانگتے ہوئے بڑھو اور جب تم دیکھو کہ لڑائی زور پر آگئی اور اس کے شعلے بھڑکنے لگے تو اس کی گرم آگ میں گھس جانا اور کافروں کے سردار کا مقابلہ کرنا ان شاء اللہ جنت میں اکرام کے ساتھ کامیاب ہوکر رہو گے ، چنانچہ جب صبح کو لڑائی زوروں پر ہوئی لڑکوں میں سے ایک ایک نمبروار آگے بڑھتا تھا ، اور اپنی ماں کی نصحیت کو اشعار میں پڑھ کر اُمنگ پیدا کرتا تھا اور جب شہید ہوجاتا تھا تو دوسرا بڑھتا تھا ، اور شہید ہونے تک لڑتا رہتا تھا بالآخر چاروں شہید ہوئے اور جب ماں کو چاروں کے مرنے کی خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ان کی شہادت سے مجھے شرف بخشا مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کی رحمت کے سایہ میں ان چاروں کے ساتھ میں بھی رہوں گی ۔ ( اسد الغابہ )۔

ایسی بھی اللہ کی بندی مائیں ہوتی ہیں جو چاروں جوان بیٹوں کو لڑائی کی تیزی اور زور میں گھس جانے کی ترغیب دیں اور جب چاروں شہید ہوجائیں اور ایک ہی وقت میں سب کام آجائیں تو اللہ کا شکر ادا کریں ؟ ہمارے ماں بہنوں کی طرف دیکھئے کبھی بھی گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے ، ہر وقت ان کی دعا یہی رہتی ہے کہ یا اللہ میرے بچہ کو زندہ رکھ ، فقیر ہی بنا کر سہی ، ماں کی دعا کبھی خالی جاتی نہیں اسی لئے آج کل کے مسلمان سب فقیر بن کر دربدر پھر رہے ہیں ، ہمارے ماں بہنوں کو چاہئے کہ بھولے ہوئے سبق یاد کریں اور تعلیمات اسلام پر خود بھی باقاعدہ عمل کریں اور اپنے بچوں اور بھائیوں کو بھی عمل کرنے کی ترغیب دلائیں ، حضرت امام بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو درجہ آج حاصل ہے وہ ان کو ان کے مہربان ماں اور بہن کے طفیل ہی سے نصیب ہوا ، کیا آپ بھول گئے کہ صرف بچہ ( چودہ ) سال کی عمر میں حضرت امام بخاری رضی اللہ عنہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے جب گھر چھوڑتے ہیں تو ان کے ساتھ کون تھے ؟ ان کے مفلس الحال ماں اور بہن ، کیونکہ راستے میں سوائے پتوں اور کچھ کھانے کو نہ تھا ، آخر حضرت غوث پاک رضی اللہ عنہ کو جو درجہ آج حاصل ہے کیااس کا سبب ان کے مہربان ماں نہیں ہیں؟ آپ کے بیوہ ماں ہی تو تھے جنہوں نے چالیس دینار بغل کے نیچے سی کر سچ بولنے کی ہدایت کی تھی ۔

کاش ہمارے بھی ماں بہنیں اپنا کام انجام دیتے ۔



حسام اسد اللہ لحسوم من علیٰ قلبہ ختم اللہ

حسام اسد اللہ لحسوم من علیٰ قلبہ ختم اللہ

حسام اسد اللہ لحسوم من علیٰ قلبہ ختم اللہ


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )






قارئین کرام کی توجہ ایک دعویٰ اور چند سوالوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ، اس  زمانے میں جب لوگ مذہب سے دور ہو رہے ہیں اور مذہبی معلومات سے تو کوئی دور کا بھی واسط نہیں رکھتے ، ہر ایک اہل رائے اپنے رائے اور سمجھ پر نازاں ہے خصوصاً فرقہ حدثی ، انکا دعویٰ ہے ، جو چیز حدیث صحیح سے ثابت نہیں ہے وہ سب حرام ناجائز اور بدعت شنیع ہے ، یہ دعویٰ کر کے بہت سے مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹا کر گمراہ بنا رہے ہیں ، ان کے اس دعویٰ پر بہت سے سوال وارد ہوسکتے ہیں ، یہاں گنجائش نہ ہونے کے سبب سے تین سوالوں کے اوپر اکتفا کرتا ہوں ۔


سوال (1) مقتدی ہو کر سینے پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا


( 2)


مقتدی ہو کر نماز میں آمین پکار کر کہنا


(3)


 مقتدی ہو کر رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا نہ حدیث قولی سے ثابت ہے نہ حدیث سے فعلی سے نہ حدیث تقریری سے ثابت ۔




سید عالم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم چند وقت کی نمازیں مقتدی ہوکر پڑھی ہیں حالت اقتدا میں ان
افعال کا کرنا ہرگز کہیں ثابت نہیں ہے ، لہٰذا افعال مذکور اس فرقہ کے نزدیک حرام ناجائز بدعت شنیع ہے ، ان افعال کا کرنے والا بدعتی ہے ، اللہ عزوجل کے نزدیک بدعتی کی نماز مقبول نہ روزہ ، نہ زکوٰۃ ، نہ حج نہ نفل نہ فرض ، حدیث شریف میں آیا ہے ، ’’ بدعتی دوزخیوں کے کتے ہیں ‘‘ مسلمانوں کو لازم ہے کتّوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں ، اور کتوں کو اپنے مسجدوں سے باہر نکال کر پھینکیں ، اس زمانے کے جاہل کہتے ہیں کہ بد مذہبوں کو کتے وغیرہ برے الفاظ سے یاد کرنا نہیں ، جب اللہ پاک نے ان کو جہنمی بنایا اور اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو دوزخیوں کے کتے بنایا اور ہم کو اللہ و رسول کی پیروی کرنا ضروری ہے ، ہم کو بھی وہی کہنا لازم ہے ، جو اللہ اور رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان کے متعلق فرمایا ، لہٰذا کوئی نادان جاہل ہمارے اوپر اعتراض نہ کرے ، ہاں افعال مذکور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے حالت امامت میں ایک دو مرتبہ کرنا ثابت ہیں اس میں بھی اختلاف ہے اس حالت کے متعلق سوال بھی نہیں ، سوال مذکور کسی مقلد پروار نہیں ہوتے ، اس لئے کہ مقلد کو صرف اللہ و رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے اپنے امام اور مجتہد کے فتویٰ کی دلیل اور سند مجتہد کے پاس موجود ہے ، چنانچہ کتب اصول فروع میں شرح موجود ہے اور دلیل طلب کرنا مقلد سے جہالت اور بدعت پر بدعت ہے ، یہ شرذمۂ قلیل پانچ وقت کی نمازوں میں ان افعال کو کرتے ہیں ، اپنی نمازوں کو اکارت اور ضائع کرتے ہیں ، ان افعال کو اپنے دعویٰ میں حرام کہتے ہیں ، کرنے میں افعال کو جزوی نماز سمجھتے ہیں ۔
گر فرق مراتب نکنی زندیقیست 
اللہ اس فرقہ کو سمجھ دے ، ہم ازروئے اسلام ان کو اطلاع دیتے ہیں ، تم لوگ اس اعتقاد فاسد سے توبہ کرو ، باز آجاؤ ، تمہارے واسطے بہتر ہوگا ورنہ ندامت کرنی پڑے گی وہ ندامت تم کو کچھ فائدہ نہ دے گی ۔
وسعلم الذین طلمویٰ منقلب ینقلبون 
( انتباہ )
دعویٰ مذکور کے مطابق اگر کوئی جواب دے تو دوبارہ اس کی طرف توجہ کی جائے گی ، مگر یاد رہے کہ اس فرقہ کے اکابر و اصاغر مجتمع ہوکر ایک دوسرے کی مدد کریں پھر بھی جواب دینے سے عاجز ہیں اور عاجز ہی رہیں گے ۔نہ خنجر اٹھے گی نہ تلوار ان سے 
میرے بازواں آزمائے ہوئے ہیں 
اگر سب شتم کریں اس کا جواب ہماری طرف سے نہ ہوگا اس فرقہ کی عادت ہے جب جواب دینے سے عاجز آتے ہیں تو کچھ بُرا بھلا کہتے ہیں حال ہی میں ایک خبر آئی ، حدثی کمیٹی کے متبعین سب شتم ، دلال ، قوال نقال و بقال بہت کچھ اگل دیئے ہیں ، جس کی تعفن اور بدبو سے کمیٹی کے ممبروں کو ناک میں دم آیا اور شاتم کو اختلاج قلب لاحق ہونے کا اندیشہ تھا ، ہمیں منکر حدثی ذہنیت پر افسوس بھی نہ آیا کیونکہ وہ اس کے خوگر ہیں ، شاتم کو اس کا نفع اور نقصان خود ہی معلوم ہوجائے گا شاتم کے واسطے کافی ہے۔

سوال وجواب

سوال وجواب


سوال :۔  حضرت امام اعظم رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا ، اُتر کو اقولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو آپ مانتے ہیں یا نہیں ؟

جواب :۔  یہ قول امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے کس کتاب میں ہے ؟ اس قول کے مخاطب کون تھے ؟ آیا کہ وہ اس زمانے کے بے علم اہلِ حدیث یعنی وہابیہ کی طرح تھے یامجتہد فی المذہب تھے ، آپ جیسے بے علم اس قول کے مخاطب نہیں اس مقولے سے ثابت ہوتا ہے کہ امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے سب مسائل کے ماخذ حدیث صحیح تھے ، اسی واسطے آپ نے اپنے شاگردوں کو فرمایا ،اگر صرف میرا ہی قول رہے اس کو حدیث رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مقابلہ میں چھوڑ دو میرے اقوال کی اصل حدیث صحیح ہیں پھر اس کو چھوڑنے کا کیا معنیٰ؟

آپ قرآن و حدیث سے ثابت کر دیجئے ، غیر مجتہد کو مجتہد کے فتویٰ کو رد کرنا جائز ہے ۔

سوال :۔  مذہب اہل حدیث ( وہابیہ ) غیر ناجی ہونے پر حضرت امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کا حکم یا مستند فتویٰ پیش کریں ۔

جواب :۔  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا بڑی جماعت کی اتباع و تقلید کرو ، جس نے بڑی جماعت کو چھوڑ دیا وہ جہنم میں گر گیا ، بڑی جماعت سے مراد جس میں بڑے بڑے علماء ، بڑے بڑے فقہاء اور بڑے بڑے محدثین گذرے ہیں وہ سب انہی چار یعنی حنفی یا مالکی یا شافعی یا حنبلی مذہب کے مقلد اور پیروتھے ، اس بڑی جماعت کو اللہ پاک نے سبیل المومنین نام رکھا ہے ، نواب حسن بھوپالی کا جب مولیٰنا عبد الحی صاحب لکھنوی نے ناطقہ بند کردیا تو مجبور ہوکر ان کو

اقرار کرنا پڑا کہ اصحاب صحاح


ستہ انہی چار مذہب میںسے کسی نہ کسی مذہب کے مقلد و پیرو ضرور تھے ، اب اس زمانے کے اہل حدیث یعنی وہابیہ بڑی جماعت یعنی سنت جماعت سے خارج جہنمی ہیں ، ہم باربار سمجھا چکے ، غور سے پڑھو ، ضد کرنا چھوڑ دو کیونکہ یہ خصلت یہودیوں کی ہے ، ہم نے وہابیہ کو جہنمی نہیں بنایا بلکہ اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو جہنمی بنایا ہے ۔




ترمذی شریف :۔


  فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کہ سچا اور امانت دار سوداگر انبیا اور صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوں گے ۔

احیاء العلوم :۔  فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تجارت ضرور کرو کیونکہ اس میں رزق کا 9/10حصہ ہے ۔


مزاروں پر میلے عرس رچانے اور گانے بجانے ، نذریں چڑھانے اور نیازیں کرنے
کے متعلق

مزاروں پر میلے عرس رچانے اور گانے بجانے ، نذریں چڑھانے اور نیازیں کرنے کے متعلق



سوال :۔  مزاروں پر میلے عرس رچانے اور گانے بجانے ، نذریں چڑھانے اور نیازیں کرنے کے متعلق ائمہ اربعہ میں سے کم از کم کسی ایک امام کا بھی مستند قول ہے تو تحریر فرمایئے ؟


جواب :۔  تفسیر در منشور ، تفسیر کبیر میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہر سال کے بعد شہداء احد کے قبروں کی زیارت کے لئے جاتے تھے اور آپ کے بعد خلفاء اربعہ بھی جاتے تھے ، اسی کا نام ہے عرس ، عرس بھی ہر سال کے بعد کسی بزرگ یا ولی کے قبر کی زیارت کے لئے ہوتاہے ، یا صرف ایصال ثواب کے لئے ہوتا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے : قبروں کی زیارت کرو تاکہ تم کو موت یاد آجائے ، تم عمل صالحہ کرو عرس میں بھی قبروں کی زیارت ہوتی ہے اور ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تعمیل بھی قبروں کی زیارت کرنا سنت ہے ۔

نذر بفتح نؔ اس کے چار معنیٰ ہے ، نیاز بروزن حجاز ، بکسرنؔ اس کے تین معنیٰ ہے ، لغت میں دیکھو ، ان دونوں کا ایک معنیٰ تحفہ اور ہدیہ ہے ، یہ سلف سے خلف تک قبول کرتے آئے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ

واٰلہ وسلم خود اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بھی قبول کرتے آئے ، بزرگان دین اور حاکم وقت بھی اس کو قبول کرتے آئے گذرے ہوئے بزرگوں کے ایصال ثواب اور فاتحہ اس کو بھی نذر و نیاز کہتے ہیں ایصال ثواب سنت جماعت کے نزدیک ثابت ہے ، چنانچہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم میری ماں کا انتقال ہواہے ، ان کے لئے کیا صدقہ نیک کروں ؟ فرمایا: الماء ، یعنی پانی پھر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ایک کنواں کھدوایا ، فرمایا : ھذا بیوالام ، یہ سعد رضی اللہ عنہ کے ماں کے لئے ، مدینہ میں یہ کنواں زمانے تک مشہور تھا دیکھو اس پانی پر نام ہوا غیر اللہ کا ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں جن لوگوں نے اس کنویں کا پانی پیا کیا تمہارے نزدیک مسلمان ہیں یا نہیں ؟ تمہارے نزدیک جو غیراللہ کھائے وہ حرام کھانے والا کافر ہے ، العیاذ باللہ تمہارے نزدیک یہ سب صحابی کافر ٹھہرے ۔

جب یہاں نص موجود ہے تو دوسروں کے قول کی کیا ضرورت ہے ؟ چنانچہ ہم نے اوپر لکھا ہے کہ آپ پر لازم اور واجب ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت کریں ، عرس کرنا جائز ہے ، اپنی طرف سے کسی چیز کو ناجائز کہنا ہرگز جائز نہیں اور ناجائز کرنا کسی چیز کو یہ کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ہے ، جس نے اپنی طرف سے کسی چیز کو ناجائز کیا اس نے الوہیت اور نبوت میں اپنے آپ کو شریک کیا ، گویا وہ العیاذ باللہ خداجیسا یا نبی جیسا ہوا ، لہٰذا ہر مسلمان کو لازم اور واجب ہے کہ اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام ناجائز نہ کہے ، حرام کرنے کے لئے دلیل قطعی کی ضرورت ہے ، مباح اور جائز کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ اصل شئے میں اباحت جواز ہے ۔

فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آخری زمانے میں دجال و کذاب تمہارے پاس ایسی حدیثیں لے کر آئیں گے جونہ تم نے سنی ہوگی نہ تمہارے باپ دادا نے سنی ہوگی ، بچاؤ تم اپنے آپ کو ان سے اور ان کو بچاؤ اپنے آپ سے تاکہ تم کو گمراہ نہ کریں گے اور فتنہ و فساد میں نہ ڈالیںگے یعنی ان کو تم اپنے پاس آنے نہ دو نہ تم ان کے پاس جاؤ اسی واسطے وہابیہ کو مسجد سے نکالا جاتا ہے ، اجماع ہوا امت کا انہی چار مذہبوں پر ، اس کے واسطے جتنے فرقے ہیں خراہ و اہلِ قرآن یعنی چکڑالوی یا اہل حدیث یعنی

وہابیہ یہ سب فرقے جہنمی اور ناری ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ترہتّر (73) فرقے ہوجائیں گے اس میں سے ایک ہی فرقہ جنتی ہوگا ، باقی تمام جہنمی ، یہ جنتی فرقہ ہے جس کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں جو ان چار مذہبوں پر منحصر ہیں باقی سب کے سب ناری ہیں ، جس کے اندر وہابیہ تمام بھی آگئے اگر وہابیہ بہتر سمجھیں تو اپنے عقائد فاسدہ سے تائب ہوکر ناریوں سے نکل کر جنتیوں کے ساتھ مدغم ہوجائیں وہابیہ کے لئے بہتر ہوگا ، آئندہ وہابیہ کو اختیار ہے

سوال جواب

سوال جواب


( نوٹ ، دس سوال سرسی کے وہابیہ کی طرف سے کئے گئے تھے ، 3کے جوابات شمارہ نمبر 1، 3کے شمارہ نمبر 5 باقی شمارہ نمبر 6 کے ذریعہ سنی حنفیوں کے طرف سے دئے گئے )




تہمید جواب

ائمہ اربعہ کے نزدیک چار اصول ہیں ، جو مسئلہ صریح نص سے ثابت ہو اس میں نہ اجتہاد کی ضرورت ہے نہ فتویٰ کی حاجت اس کو آپ اچھی طرح ذہن میں رکھیں جو حکم نص صریح سے ثابت ہیں اس میں یہ نہ دریافت کریں کہ اس میں ائمہ اربعہ کا کیا فتویٰ ہے ۔

سوال :۔  چار مذہب میں سے کسی ایک کی تقلید کرنے اور تین کو چھوڑنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا حکم یا کسی امام کا قول پیش کریں ؟

جواب :۔  اس کاجواب شمارہ رنمبر 5 صفحہ 7، سوال ، چار مذہب قائم ۔۔۔۔ تحریر فرمایئے ؟ کے جواب میں بھی درج ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے ، میں جانتا نہیں میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، تم میرے بعد ان دونوں یعنی ابوبکر صدیق ، اور عمر فارو ق رضی اللہ عنہما کی اتباع اور تقلید کرو یعنی جب تک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کرے اور ان کے ہرامر میں ان کی اتباع اور تقلید کرو، یہی تقلید شخصی ہے ، حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ موجود تھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید کرنا ضروری تھا،یہ تعین خود حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے، یہی تقلید شخصی بھی ہے ، ان کا مذہب مدون نہ تھا ، اس لئے ان کی طرف کسی آدمی کی نسبت نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکا ارشاد ہے کہ اگر کوئی مجتہد اپنے اجتہاد سے حکم دے پھر اس میں ثواب کو پہنچے تو اس کو دو ثواب ملتے ہیں ، اگر اس میں خطا کرے پھر بھی اس میں ایک ثواب ملتاہے ، اگر آپ جیسے بت علم اجتہاد کریں پھر اس میں کو پہنچیں تو اللہ پاک آپ جیسے لوگوں کو ثواب نہیں لکھتا ، اگر اس میں غلطی کریں ، تو آپ جیسے لوگوں کے لئے ٹھکانہ جہنم ہے ، یہ حدیث شریف مستدرک حاکم اور مسند ابن حبان میں موجود ہے ۔

جولوگ ان طار مذہب کی تقلید کرتے ہیں یہ سب کے سب حق پر ہیں ، ثواب ہی پاتے ہیں ،


جب کہ ایک حق پر چلنے سے تمام دین و دنیا ان کو اسی میں حاصل ہیں تو دوسرے حق کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر اس حق کو چھوڑ کر اُدھر گیا یہ تحصیل حاصل جو محال ہے پھر بھی ہم پوچھتے ہیں اس پہلے حق کو کیا سمجھا ؟ اگر اس پہلے حق کو العیاذ باللہ باطل سمجھا تو اسلام سے خارج ہوا ، اگر اس کو بھی حق سمجھتا ہے تو ادھر جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ کبھی یہ کرتا ، کبھی وہ کرتا ، یہ مذہب میں کھیل اور مذہب کی توہین اور ازتہزا ہے جو حرام اور کفر ہے ، تلفیق فی المذہب بھی حرام ہے ، لہٰذا جو کوئی ان چار مذہب میں سے کسی ایک پر چلتا ہو اس کو اس میں نجات ہے ، ورنہ گمراہ ہوجائے ، جیسے آج کل کے جاہل اہل حدیثوں یعنی وہابیہ نے تلقید ائمہ اربعہ کو کفر شرک کہکر چھوڑ دیا ، یہ تقلید چھوڑنے سے ان کو آزادی ملی کوئی ان میں سے چکڑالوی اہل قرآن ہوا ، اس نے جب حدیثوں میں اختلاف دیکھا تو سب حدیثوں کا منکر ہوا ، وہ بھی اجتہاد کرنے لگا ، پانچ وقت کی نمازوں کو تین ہی وقت قرار دیا مہینے بھر روزوں کو تین روزہ یا دس روزہ قرار دیا ، جنازہ کی نماز کو انکار کر دیا ، اس نے اہل حدیث یعنی وہابیہ کو کافر مشرک فی لالوھیت کہا ، انہی اہل حدیثوں میں سے اور ایک جماعت بنی جن کو نیچری کہتے ہیں ، انہوں نے فرشتوں اور جنوں کو انکار کیا ، یہاں تک کہ جنت دوزخ کو بھی انکار کیا ، کیونکہ ان کے نزدیک یہ قاعدہ ہے کہ جو چیز نظر آئے اس کا وجود نہیں ، انہی اہل حدیثوں میں اور ایک جماعت پیدا ہوگئی جس کا پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ، جب اس نے دیکھا اس زمانے کے اہل حدیث ، اہل قرآن اور نیچری ایک دوسرے پر کفر شرک کا فتویٰ دے رہے ہیں تو وہ نبی بن کر بیٹھا ، اس نے ان تینوں کو اپنی امت قرار دیا اس پر ٹیجا پنجا فرشتہ وحی نازل کرتا رہا ۔

اس زمانے کے اہل حدیثوں نے ائمہ اربعہ کے اوپر افترا باندھا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی ، ہم ان سے اچھا اجتہاد کرتے ہیں ، چنانچہ ان کے مجتہد اجتہاد کرنے لگے ، اللہ پاک لحم خنزیر یعنی سور کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے اس زمانے کے مجتہد اہل حدیثوں نے سور کی چربی ، سور کی اوجڑی ، سور کے گردے اور سور کے گوشت کے سوا باقی سب اہل حدیثوں کے لئے حلال و پاک قرار دیا ، اللہ پاک ماں اور بیٹی کی حرمت بیان فرمائی یعنی ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ، اس زمانے کے اہل حدیثوں



نے اجتہاد کیا ، نانی ، دادی ، نواسی ، پوتی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے ، کیونکہ ان کی حرمت قرآن مجید میں مذکور نہیں ، دیکھو تصنیفاب نواب حسین بھوپالی ، تفسیر ثنائی اور ان کے مجتہدوں نے سب جانوروں کا براز ، کتے، بلی ، گدھے ، گھوڑے کا گوہ اپنے اہل حدیثوں کے لئے پاک کر دیا،کیونکہ ان کی نجاست قرآن میں ثابت نہیں ۔

قرآن و حدیث سے ثابت کر کے بتاؤ، سور کی چربی وغیرہ نانی، دادی کا نکاح ، سب جانوروں کا گوہ وغیرہ پاک ہے، آپ لوگوں نے اور اپنے مجتہدوں نے دنیامیں فساد قائم کرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں کیا، اللہ پاک فرماتا ہے ، اصلاہونے کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اور اللہ پاک فرماتاہے زمین میں فساد پھیلانے والے کے لئے لعنت جہنم اور برا ٹھکانا ہے ، تم لوگ دھوکے دے کر بے علموں کو بہکا کر ان سے کہتے ہو ہم تمہاری اصلاح کرتے ہیں ، در حقیقت تم ان کو گمراہ کرتے ہو ۔

صلاح کار کجا ایں مضد دین کجا

ببیں تفاوت راہ زکجاست تا بکجا


(بقیہ آئندہ(


مقصد رسالت

مقصد رسالت


مقصد رسالت
از :ڈاکٹر و حکیم اے ،یم ،یس


نوٹ: (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے جتنے نبی آئے وہ سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نائب تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیابت میں کام کرے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت کا عہد ان سے لیا گیا تھا اس واسطے وہ تمام کے تمام امتی نبی آخرالزماں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی الانبیاء ہیں۔( ادارہ)




نسل انسانی کی تاریخ میں عجیب ترین بات یہ ہے کہ علم الٰہی کا دروازہ ایک امی عرب نے کھولا جو سرزمین عرب میں پیدا

ہو تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس احسان عظیم کا صحیح اندازہ اس وقت نہیں ہوسکتا جب تک اس ماحول کا علم نہ ہو جس میں اس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے تھے، عربوں کا قومی انتشار بہت ہی درد ناک تھا ،ظلم و ستم کا بازار گرم تھا ،عورت کے ساتھ حقارت آمیز اور شرمناک سلوک کی انتہا نہیں تھی،اس خطہ زمین پر اور ایسے ماحول میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ پاک کی طرف سے تمام عالم کے لئے اخری پیغبر بن کر آئے۔

عربستان بت پرستی کا بہت بڑا مرکز تھا،مرد وعورت سب سچے خدا سے بے خبر اپنی اپنی بنائے ہوئی مصنوعات کی پرستش ہوتی تھی اور ایسے لوگوں کو صحیح راستہ دکھانا کوئی آسان کام نہ ،کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف اپنی ہی قوم کی اصلاح کے لئے پیغمبر بن کر آئے تھے یا آپ کے پاس تمام دنیا کے لئے کوئی پیغام تھا؟ بے شک آپ کا پیغام کسی خاص ملک سے وابستہ نہ تھا ،بلکہ تمام دنیا کے لئے توحید الٰہی کا پیغام لائے تھے ،آپ کی تعلیمات تمام دنیا کے بیشمارانسانوں کے خیالات وتمدن میں ایک زبردست انقلاب برپا کر دیا اسلام نے اس وقت کے فلاسفر کو غور وفکر کے لئے کافی مواد دیا جنہوں نے مختلف ممالک میں اس کا مطالعہ اور سبھوں نے اسلام کو سراہا،آج بھی ہم ذرا دنیا کے نقشہ پر دیکھیں اور

خاص طور پر ایک طرف چین کا ملک اور دوسری طرف اسپین ،ہمیں پتہ چلے گا کہ اسلام کا پیغام صدیوں پہلے کتنے دور درور کے ملکوں میں پہنچا ہے ،بعض متعصب مؤرخین نے مسلمانوں کی فتوحات اور تلوار کی زور سے اسلام کی اشاعت ہونے کی جھوٹی اور لغو دلیل پیش کی ہے ؛حالانکہ یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے اسلام میں بذات خود ختم کرنے کی طاقت ہے کیونکہ اس اقوام کی آنکھیں کھول دیں جو خود اپنے بنائے ہوئے مخلوقات کی پرستش میں مبتلا تھی، ان کو اس حقیقت کا کوئی علم نہ تھا کہ ان بتوں سے بالا تر بھی کوئی عبادت ہے جو زیادہ طاقور زیاہایم اور بے پایاں اور عالی مرتبہ ہے۔

جب آپ کی عمر 40سال کی ہوئی تو آپ کو وحی نازل ہوئی جس کی بدولت آپ نے دنیا کو جدید اور کامل تصور عطا فرمایا ، لیکن دنیا نے شروع میں آپ کی بات پر کان نہ دھرا حالانکہ عربوں نے آپ کو ایماندار متقی شخص ہونے کے باعث ’’ امین ‘‘ کا لقب دیا تھا، صرف چند لوگ ایمان لائے سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو آپ کی زوجہ صالحہ تھیں ایمان لے آئے ، ان کے بعد حضرت کرم اللہ وجہہ رفیق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور غلام زید رضی اللہ عنہ شروع میں آپ علانیہ طور پر تبلیغ نہیں کرتے تھے ، کچھ عرصہ کے بعد خدا نے آپ کو علانیہ تبلیغ کا حکم دیا ، اس پر نئی دشواریاں پیدا ہوئیں

(بقیہ آئندہ)

عقائد

عقائد



عقائد



ازاعلیٰ حضرت شمس العلما سید مقبول احمدشاہ قادری کشمیری رضی اللہ عنہ




سب
اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے خصوصاً نماز،روزہ وغیر کااگر ایمان نہیں تو
نمازرزہ بیکارہے۔  اسے کہتے ہیں کہ اگرسچے دل سے ان باتوں کی تصدیق کرے
جوضروریات دین میں سے ہیں۔اوراگرکسی ایک ضروریات دین کے انکار کرنے
کوکفرکہتے ہیں۔


اگرچہ
باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتاہو ضروریات دین ومسائل ہیں جن کو ہرخاص
وعام جانتاہو۔جیساکہ اللہ عزوجل کی وحدانیت ،انبیاکی نبوت، جنت
ونار،حشرونشروغیرہ مثلاًیہ اعتقاد کہ حضورﷺخاتم النبین ہیں۔ عوام سے مراد
وہ مسلمان ہیں۔جوطبقہ علمامیں نہ شریک کئے جاتے ہوں۔مگرعلماکی صحبت سے
شرفیاب ہوں۔مسائل علمی سے ذوق رکھتے ہوں۔نہ وہ جنگل اورپہاڑوں کے رہنے والے
ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے ایسے  مسلمانوں کے لئے یہ بات ضروری
ہے کہ ضروریات دین کے منکرنہ ہوں اوریہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں
جوکچھ ہے حق ہے۔ان پراعمالِ بدن اصلاً جزوایمان نہیں ہے۔مسلمان ہونے کے لئے
یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیزکاانکارنہ کرے جوضروریات دین ہے



اگرچہ باقی باتوں کواقرارکرتاہو۔اگرچہ وہ یہ کہے کہ یہ صرف زبان سے انکارہے
دل سے نہیں۔کہ بلااکراح شرعی مسلمان کلمۂ کفرصادرنہیں کرسکتا۔وہی شخص
ایسی بات منہ پرلائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وقعت ہے کہ جب چاہاانکارکردیا
۔ ایمان توایسی تصدیق ہے جس کے خلاف اصلاً گنجائش نہیں۔
اعتقاد
کے متعلق چندمسائل مختصراً لکھ دینا مناسب معلوم ہوتاہے۔وہ مندرجہ ذیل
ہیں۔ہرسنی مسلمان کولام ہے ان کوحفظ کرے خواہ مردہو یاعورت۔

عقیدہ1۔اللہ
ایک ہے کوئی اس کاشریک نہیں۔ نہ ذات میں نہ صفات میں،۔نہ افعال میں نہ
احکا م میں نہ اسماع میں۔عدم محال، قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے ازلی کےبھی
یہی معنی ہیں۔ہمیشہ رہے گا ابدی بھی کہتے ہیں۔وہی اس کامستحق ہے کہ اس کی
عبادت اورپرستش کی جائے۔عقیدہ۔ وہ بے پردہ ہے کسی کامحتاج نہیں۔تمام عالم
اس کامحتاج ہے۔عقیدہ۔اس کی صفتیں نہ عین ہیں نہ غیر۔یعنی صفات اسی ذات
کانام ہو۔ایسانہیں اورنہ اس سے کسی طرح وجود میں جدا ہوسکیں۔کہ نفس ذات
کامقتضیٰ ہواورعین ذات کولازم ہے۔عقیدہ۔جس طرح سے اس کی ذت قدیم  ازلی،ابدی
ہے۔صفات بھی قدیم ،ازلی ابدی ہیں۔عقیدہ۔اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا
ساراجہاں حادث ہے یعنی پلے نہ تھا پھرموجودہوا۔عقیدہ۔صفاتِ الٰہی کوجومخلوق
کہے یاحادث بتائے وہ گمراہ اوربددین ہے۔عقیدہ جوعالم میں کسی شئے کوقدیم
مانے یااس کی حدوث میں شک کرے کافرہے۔عقیدہ۔وہ ہرکمال وخوبی کاجامع ہے
اورہراس چیزسے جس میں عیب ونقصان ہے پاک ہے۔عقیدہ۔جس بات میں کمال نہ ہووہ
بھی اس کے لئے محال ہے۔مثلاًجھوٹ،دغا،خیانت،ظلم،جہل وغیرہ عیوب سے منزہ
ہے۔مثلاً یہ کہناکہ جھوٹ پرقدرت ہے بایں معنیٰ کہ وہ جھوٹ بول سکتاہے محال
کوممکن ٹھہرانا اورخداکوعیبی بنانابلکہ خداسےانکارکرناہے اور سمجھنا ہ محال
پرقادر نہ ہوگاتوقدرت ناقص ہوجائے گی۔باطل محض کہ اس میںقدرت کاکیا
نقصان؟  نقصان تو  اس محال کاہے کہ تعلق قدرت کی اس میں صلاحیت نہیں۔عقیدہ۔
حیات،قدرت،سننا،دیکھنا،کلام،علم،ارادہ اس کے صفات ذاتیہ ہیں۔مگرکان
،آنکھ، زبان سے اس کاسننا دیکھنا کلام کرنانہیں کہ یہ اجسام ہیں۔اجسام سے
وہ پاک ہے۔عقیدہ ۔مثل صفات کے کلام بھی قدیم ہے۔حادث مخلوق نہیں۔جوقرآن
عظیم کومخلوق بتائے۔ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ اوردیگرائمہ رضی اللہ
عنہم نے انہیں کافرکہابلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی اس کی تکفیرثابت
ہے۔عقیدہ۔ اس کاکلام آوازسے پاک ہے۔یہ قرآن عظیم جس کی 





تلاوت
کرتے ہیں،جومصاحف میں لکھتے ہیں۔اس کاکلام قدیم بلاصوت ہے۔یہ ہمارا
پڑھنالکھنا اوریہ آوازحادث یعنی ہماراپڑھناحادث اورجوہم نےپڑھا قدیم،
اورہمارالکھنا حادث اورجو لکھاقدیم اورہماراسننا حدث اورسنا قدیم،
عقیدہ۔غیب الشہادت سب کوجانتاہے علم ذاتی اس کاخاصہ ہے۔جوشخص علم ذاتی ،غیب
خواہ شہادت کاغیرخدا کے لئے ثابت کرے کافرہے ۔علم ذاتی یہ ہے کہ بے دیئے
خودحاصل ہو۔

عقیدہ۔ہربھلائی
اوربرئی اس نے اپنے علم ازلی کے موافق مقدرفرمادی ہے ۔جیساہونے والاتھا
اورجیسا کرنے والے تھے اپنے علم سے جانا اوروہی لکھ لیاتویہ نہیں کہ جیسااس
نے لکھ دیا


ویساہم کوکرناپڑتابلکہ جیساہم کرنے والے تھے۔ویسااس نے لکھ دیا۔زیدکے ذمہ
برائی لکھی۔اس لئے زیدبرائی کرنے والاتھا۔گرزیدبھلائی کرنے والا ہوتاتووہ
اس کے لئے بھلائی لکھتا۔اس کے علم یااس کے لکھ دینے سے کسی کومجبور نہیں
کردیا۔تقدیرکاانکارکرنے والوں کونبی کریمﷺ نے اس امت کامجوس
بتلایا۔عقیدہ۔قضاتین قسم پرہے۔مبرم حقیقی، علم الہٰی میں کسی شئے پر معلق
نہیں۔اورمعلق محض صحف ملائکہ میں کسی شئے پراس کا معلق ہونا
ظاہرفرمادیاگیااورمعلق شبیہ بمبرم صحف ملائکہ میں اس کی تعلیق مذکور نہیں
وہ علم الہٰی میں تعلیق ہے۔وہ جو مبرم حقیقی ہے اس کی تبدیلی ناممکن
ہے۔باقی دوقسموں کی تبدیلی ممکن ہے۔اس مبرم حقیقی کے متعلق نبی کریم ﷺ نے
ارشادفرمایا’’ان الدعا یردالقضا وباہ ماابرم ۔بیشک دعاقضامبرم کوٹال دیتی
ہے۔‘‘
 اسی
قضامبرم غیرحقیقی کے متعلق حضرت سیدناغوث الاعظم فرماتے ہیں۔’’میں قضائے
مبرم کورد کردیتاہوں‘‘اورجوقضامعلق ہے اس تک اکثراولیا کرام کی رسائی ہوتی
ہے۔ان کی دعا سے ان کی ہمت سے ٹل جاتی ہے۔






اجمالی بیان ،دوزخ حصہ دوم

اجمالی بیان ،دوزخ حصہ دوم


اجمالی بیان ،دوزخ


 حصہ دوم





یہ خود اس مکان کی حالت ہے اگر اس میں اور کوئی عذاب نہ ہوتا تو یہی کیا کم تھا؟ مگر کفار کی سرزنش اور ملامت کیلئے طرح طرح کے عذاب مہیا کئے ہیں،لوہے کے بھاری گرزوں سے فرشتے ماریں گے اگر کوئی گرز زمین پر رکھ دیا جائے ،تمام جن وانس جمع ہوکر اٹھا نہیں سکتے ،بختی اونٹ کی گردن کے برابر بچھو اور اللہ جانے کس قدر بڑے بڑے سانپ کہ اگر ایک مرتبہ کاڑ لیں تو اس کی سوزش درد اور بے چینی ہزاز برس تک رہے،تیل کی جلی ہوئی تلچھٹ کی مثل سخت کھولتا پانی پینے کو دیا جائے گا ،منہ کے قریب ہوتے ہی اس کی تیزی سے چہرے کی کھال گرجائے گی،سر پر گرم پانی بہایا جائے گا،جہنمیوں کے بدن سے جو پیپ بہے گی وہ انہیں پلائی جائے گی،خاردار تو ہڑا نہیں کھلایاجائے گا وہ ایسا ہوگا کہ اس کا ایک قطرہ دنیا میں آئے تو اس کی سوزش اور بدبو تمام اہل دنیا کی زندگی برباد کردے گا اور وہ حلق میں جا کر پھنداڈالے گا،اس کے اتارنے کیلئے پانی مانگیںگے ان کو وہ کھولتاپانی دیاجائے گا کہ منہ کے قریب آتے ہی منہ کی ساری کھال گل کر اس میں گر پڑے گی اور پیٹ میں جاتے ہی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ،وہ شوربے کی طرح بہہ کر قدموں کی طرف نکلے گی ،پیاس اس بلا کی ہوگی کہ اس پانی پر ایسے گریں گے جیسے سوس کے مارے ہوئے اونٹ ،پھر کفار جان سے عاجز آکر باہم مشورہ کریں گے ،مالک علیہ السلام داروغہ جہنم کو پکاریں گے مالک علیہ السلام ہزار برس تک جوب نہ دیں گے ،ہزار برس کے بعد جواب دیں گے ،مجھ سے کیا کہتے ہو؟ اس سے کہوجس کی نافرمانی ہے ہزار برس تک رب العزت کو اس کی رحمت کے ناموں سے پکاریں گے ،ہزار برس تک جواب نہ دے گا،اس کے بعد فرمائے گا دور ہوجاؤ جہنم میں پڑے رہو مجھ سے بات نہ کرو! اس وقت کفار ہر قسم کی خیر سے ناامید ہوجائیں گے اور گدھے کی آوازکی طرح چلا کر رودیں گے ،ابتدا آنسو نکلیں گے جب آنسو ختم ہوجائیں گے تو خون رودیں گے روتے روتے گالوں میں خندقوں کی مثل گڑھے پڑجائیں گے ،اس قدر خون روئیں گے اور پیپ نکلے گا کہ اگر کشتیاں اس میں ڈال دیا جائے تو چلنے لگیں گے جہنمیوں کی شکلیں ایسے کریہہ ،بدصورت ہوں گی کہ اگردنیا میں کوئی جہنمی اس صورت پر لایا جائے تو اس کی بدصورتی اور بدبو کی وجہ لوگ مرجائیں گے اور ان کا جسم ایسا کردیاجائے گا کہ ایک شانہ سے دوسرے شانہ تک تیز سوار کیلئے




تین دن کی راہ ہے ،ایک ایک داڑھ اُحد کے پہاڑ کے برابر ہوگی، کھال کی موٹائی بیالیس (42)) گز ہوگی ،زبان ایک کوس دوکوس تک باہر گھسیٹی ہوگی۔


جہنمیوں کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہوگی جتنی مکہ سے مدینہ تک کی راہ جہنم میں منہ سکڑے ہونگے کہ اوپر کا ہونٹ سمیٹ کر بیچ سر کو پہنچ جائے گا اور نیچے کا لٹک کرناف کو آلگے گا،ان مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی شکل جہنم میں انسانی شکل نہ ہوگی کہ یہ شکل احسن تقویم ہے اور یہ اللہ عزوجل کو محبوب ہے کہ اس کے محبوب کی شکل سے مشابہ ہے ؛بلکہ جہنمیوں کی وہی شکل ہے جو اوپر مذکور ہوئی ،پھر آ خر میں کفار کے لئے یہ ہوگا کہ اس کے قد کے برابر آگ کے صندوق میں اسے بند کر دیں گے ،پھر اس میں آگ بھڑکائیں گے اور آگ کا قفل لگایا جائے گا ،پھر یہ صندوق آگ کے دوسرے صندوق میں رکھا جائے گا، اور ان دونوں کے درمیان آگ جلائی جائے گی اور اس کو بھی ایک صندوق میں رکھ کر اور آگ کا قفل لگا کر آگ میں ڈال دیا جائے گا ،کافر یہ سمجھے گا کہ اس کے سوا اب کوئی آگ نہ رہا ہواوریہ عذاب بالائے عذاب ہے ،ہمیشہ اس کے لئے عذاب ہے۔

جب سب جنتی جنت میں داخل ہوں گے اور جہنم میں صرف وہی رہ جائیں گے جن کو ہمیشہ کے لئے اس میں رہنا ہے اس وقت جنت اور دوزخ کے درمیان موت کو مینڈھے کی طرح لاکر کھڑا کریں گے ،پھر منادی ( پکارنے والا) جنت والوں کو پکارے گا وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے کہ کہیں ایسا نہ ہو، یہاں سے نکلنے کا حکم ہو،پھر جہنمیوں کو پکارے گا وہ خوش ہوتے ہوئے جھانکیں گے کہ شائد اس مصیبت سے رہائی ہوجائے ،ان سب سے پوچھے گاکہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے ہاں یہ موت ہے ، ذبح کر دی جائے گی منادی کہے گا : اے اہل جنت ہمیشگی ہے تمہارے لئے ،اب جنت سے نکلنا نہیں اور اب مرنا بھی نہیں اور اے اہل نار جہنمیو! تمہارے لئے ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے ، اب موت نہیں ہے اس وقت جنتیوں پر خوشی پر خوشی ہوگی اور دوزخیوں کے لئے غم پر غم۔

نسأ ل اللہ العفو والعافتی الدین والدنیا والاٰخرۃ


اجمالی بیان ،دوزخ

اجمالی بیان ،دوزخ



اجمالی بیان ،دوزخ


حصہ اول





ایک مکان ہے اس قہار وجبار کے جلال وقہر کا مظہر ہے جس طرح اس کی رحمت ونعمت کی انتہا نہیں کہ انسانی خیالات و تصورات جہاں تک پہنچے وہ ایک تھوڑا ساحصہ ہے اس کی بے شمار نعمتوں سے اسی طرح اس کے غضب وقہر کی کوئی حد نہیں کہ ہر وہ ہر تکلیف وہ اذیت اور ایک کی جائے ایک ادنیٰ حصہ ہے
،اس کے بے انتہا عذاب کا قرآن مجید اور احادیث میں جو سختیاں مذکور ہیں ان میں سے کچھ اجمالاً بیان کرتا ہوں کہ مسلمان دیکھیں اور اس سے پناہ مانگیں اور ان اعمال سے بچیں جن کی جزا جہنم ہے۔

حدیث میں ہے جو بندہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے ،
جہنم کہتا ہے : اے رب !یہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو اس کو پناہ دے ،
قرآن مجید میں بکثرت ارشاد ہواکہ جہنم سے بچو ! دوزخ سے ڈرو،ہمارے آقا ومولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو سکھانے کے لئے کثرت کے ساتھ اس سے پناہ مانگتے ،جہنم کے شرارے یعنی


چنگاریں اورنچے اونچے محلوں کے برابر اڑیں گے ،گویا کہ زرد اونٹوں کے قطارے پے درپے آتے رہیں گے آدمی اور پتھر اس کے ایندھن ہیں،یہ جو دنیا کی آگ ہے اس آگ سے ستر (70) جز میں سے ایک جز ہے ،جس کو سب سے کم درجہ کا عذاب ہوگا اس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائینگی ، جس سے اس کا دماغ کھولے گا ،جیسے تانبے کی پتیلی کھولتی ہے وہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ عذاب مجھ پر ہو رہا ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا ہے ،
سب سے ہلکے درجہ کا جس پر عذاب ہوگا ،اس سے اللہ عزوجل پوچھے گا: کہ اگر ساری زمین تیری ہوجائے تو کیا اس عذاب سے بچنے کے لئے تو فدیہ میں دے گا؟عرض کرے گا: ہاں ، فرمائے گا جب تو پشت آدم میں تھا تو ہم نے اس سے بہت آسان چیز کا حکم دیا تھا کہ کفر نہ کر ،مگر تونے نہ مانا،جہنم کی آگ ہزار برس تک دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی ،
پھر ہزار برس یہاں تک کہ سفید ہوگئی، پھر ہزار برس یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی، تو اب وہ نری سیاہ ہے جس میں روشنی کا نام نہیں۔

جبرئیل علیہ السلام نے قسم کھا کر عرض کی کہ اگر جہنم سوئی کے ناکے کے برابر کھول دی جائے تو تمام زمین والے اس کی گرمی سے مرجائیں گے اور قسم کھاکر کہا کہ اگر جہنم کا کوئی داروغہ اہل دنیا پر ظاہر ہوتو زمین کے رہنے والے کل کے کل اس کی ہیبت سے مرجائیں گے اور قسم کھاکرفرمایا:اگر جہنمیوں کی زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دی جائے تو کانپنے لگیں گے اور انہیں قرار نہ ہوگا ،یہاں تک کہ نیچے کی زمین میں دھنس جائیں گے یہ دنیا کی آگ جس کی گرمی اور تیزی سے کون واقف نہیں ؟کہ بعض موسم میں اس کے قریب جانا تو شاق گذرتا ہے ،پھر بھی یہ آگ خدا سے دعا کرتی ہے کہ اسے جہنم میں پھر نہ لے جا ؛مگر تعجب ہے انسان سے کہ جہنم میں جانے کا کام کرتا ہے اور اس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی ڈرتی ہے اور پناہ مانگتی ہے ،دوزخ کی گہرائی کو خدا ہی جانے کہ کتنی گہری ہے ،حدیث میں آیا ہے کہ اگر پتھروں کی چٹان جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکی جائے تو ستر (70) برس میں بھی اس کی تہ تک نہ پہنچیں گی اور اگر انسان کے سر برابر سیسے کا گولہ آسمان سے زمین کو پھینکا جائے تو رات آنے سے پہلے زمین تک پہنچے گا ؛حالانکہ یہ پانچ سو (500 ) برس کی راہ ہے ،پھر اس جہنم میں مختلف طبقات ،وادی اور کوئیں ہیں،بعض وادی ایسے ہیں کہ جہنم بھی ہر روز ستر مرتبہ یا زیادہ ان سے پناہ مانگتا ہے۔



اجمالی بیان ،جنت

اجمالی بیان ،جنت



اجمالی بیان ،جنت


حصہ دوم





از: حضرت مولانا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی










جنتی کے بدن پر سر کے بال ،پلکوں اور بھوؤں کے سوا کہیں بال نہ ہوں گے ،سب بے ریش ہوں گے ،سرمہ گیں آنکھیں ،تیس ( 30) برس کے معلوم ہوں گے ،اس سے زیادہ نہ معلوم ہوں گے ، جنت میں نیند نہیں ،نیند ایک قسم کی موت ہے اور جنت میں موت نہیں،جنتی جب جنت میں جائینگے ،ہر ایک اپنے اعمال کے مقدار سے مرتبہ پائے گا ،اس کے فضل کی حد نہیں ،پھر انہیں دنیا کے ایک ہفتہ کی مقدار کے بعد اجازت دی جائے گی کہ اپنے پروردگا رکی زیارت کریںاور عرش الٰہی ظاہر ہوگا ،رب عزوجل جنت کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں تجلی فرمائے گا اور ان جنتیوں کے لئے منبر بچھائے جائیں گے ،نور کے منبر ،موتی کے منبر،یواقوت وزبرجد کے منبر ،سونے چاندی کے منبر اور ان میں کا ادنیٰ مشک وکافورکے ٹیلے پر بیٹھے گا اور ان کا ادنیٰ کوئی اپنے گمان میں کرسی والوں کو کچھ بھی اپنے سے بڑھ کر نہ سمجھے گا،خدا کا دیدار ایسا صاف ہوگا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو اپنے اپنے جگہ سے دیکھتا ہے .
ایک دیکھنا ددوسرے کے مانند نہیں اور اللہ عزوجل ہر ایک پرتجلی فرمائے گا،ان میں سے کسی کو فرمائے گا : ات فلاں بن فلاں تجھے یاد ہے جس دن تو نے ایسا ایسا کیا تھا؟
دنیا کے معاصی یاد دلائے گا ، بندہ عرض کرے گا اے رب کیا تو نے مجھے بخش نہ دیا ،فرمائے گا: ہاں میری مغفرت کی وسعت ہی کی وجہ سے تو اس مرتبہ کو پہنچا وہ سب اسی حالت میں ہوں گے ،ابر چھاجائے گا اور خوشبو ان پر برسائے گا اس جیسی خوشبو ان لوگوں نے کبھی نہ پائی تھی اور اللہ عزوجل فرمائے گا کہ جاؤ اس طرف جو میں نے تمہارے لئے عزت تیار کر رکھی ہے جو چاہو لے لو!پھر لوگ ایک بازار میں جائیں گے
جسے ملائکہ گھیرے ہوئے ہیں ،اس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ انکی مثل نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی نہ دل پر انکا خطرا گذرا ، اس میں سے جو چاہیں گے ان کے ساتھ کردی جائے گی اور خرید وفروخت نہ ہوگی ،جنتی اس بازار میں باہم چلیں گے چھوٹے مرتبہ والا بڑے مرتبہ والے کو دیکھے گا اس کا لباس پسند کرے گاابھی تک گفتگو ختم ہوگی کہ خیال کرے گا کہ میرا لباس اس سے اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ جنت میں کسی کے لئے غم نہیں ،پھر وہاں سے اپنے اپنے مکانوں کو واپس آئیں گے ۔



ان کے بیبیاں استقبال کریں گے اور مبارکباد دیکر کہیں گے : کہ آپ واپس ہوئے آپکا جمال اور حُسن اس سے زیادہ ہے کہ ہمارے پاس سے آپ گئے تھے ؟جواب دیں گے کہ پروردگار جبار کے حضور بیٹھنا ہمیں نصیب ہوا، ہمیں ایسا ہی ہونا سزاوار تھا ،جنتی باہم ملنا چاہیں گے تو ایک کا تخت دوسرے کے پاس چلاجائے گا اور ایک روایت میں ہے ان کے پاس نہایت اعلیٰ درجہ کے سواریاں اور گھوڑے لائے جائیں گے اور ان پر سوار ہوکر جہاں جائیں گے سب سے کم درجہ کا جو جنتی ہے اس کے باغات اور بیبیاں اور نعمتیں اور خدام اور تخت ہزار برس کی مسافت تک ہوں گے اور ان میں اللہ عزوجل کے نزدیک سب میں معزز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی وجہہ کریم کی دیدار سے ہر صبح وشام مشرف ہوگا،جب کنتی جنت میں جائیں گے اللہ عزوجل ا ن سے فرمائے گا کچھ اور چاہتے ہو ؟ جو تم کو دوں ،عرض کریں گے: تو نے ہمارے منہ روشن کئے جنت میں داخل کیا جہنم سے نجات دی ،اس وقت پردہ کہ مخلوق پر تھا ،اُٹھ جائے گا تب دیدار الٰہی جو سب سے بڑھ کر انہیں نہ ملی ہوگی ملے گی۔


اللہم الرزقنا زیارت وجھک الکریم بجاہ حبیبک الرؤف الرحیم علیہ الصلوۃ والتسلیم ،آمین۔

اجمالی بیان ،جنت

اجمالی بیان ،جنت




اجمالی بیان ،جنت


)حصہ اول(
از: حضرت مولانا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی






جنت ایک مکان ہے ،جس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کیلئے بنایا ہے اس میں وہ نعمتیں مہیا کی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے


دیکھا نہ کانوں نے سنانہ کسی آدمی کے دل پر خطرا گذرا ،جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جاتی ہے وہ سمجھانے کے لئے ہے ،ورنہ دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شیٔ کی کسی چیز کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں،وہاںکی کوئی عورت زمین کی طرف جھانکی تو زمین سے آسمان تک روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے ،چاند سورج کی روشنی جاتی رہے اور اس کا دوپٹا دنیا ومافیھا سے بہتر ہے اور ایک روایت میں یوں ہے اگر حور اپنی ہتھیلی زمین وآسمان کے درمیان رکھے تو اس کے حسن کی وجہ سے خلائق فتنہ میں پڑجائیں
اور اگر اپنا دوپٹا ظاہر کرے تو اس کی خوبصورتی کے آگے آفتاب ایسا ہوجائے جیسا آفتاب کے سامنے چراغ ،اگر جنت کی کوئی ناخن بھر چیز دنیا میں ظاہر ہوجائے تو تمام آسمان وزمین اس سے آراستہ ہوجائیں ،اگر جنتی کا کنگن ظاہر ہوتو آفتاب کی روشنی مٹادے ،جیسا آفتاب ستاروں کی روشنی مٹا دیتا ہے جنت کی اتنی جس میں کوڑا رکھ سکے دنیا ومافیھا سے بہتر ہے ،جنت کتنی وسیع ہے اس کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جانے۔

اجمالی بیان یہ ہے کہ اس میں سو(100)درجہ ہیں ہردرجوں میں وہ مسافت ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ،رہایہ کہ خود اس درجہ کی کیا مسافت ہے ؟ اس کے متعلق اس وقت کوئی روایت خیال میں نہیں، البتہ ایک روایت ترمذی شریف کی ہے کہ اگر تمام عالم ایک درجہ میں جمع ہوں تو سب کے لئے وسیع ہے ،جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں تیز گھوڑے کا سوار سو(100) برس

تک دوڑتا رہے مگر ختم نہ ہو، جنت کے دروازے اتنے وسیع ہیں کہ ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک تیز گھوڑے کے سوار کے لئے ستر (70) برس کی راہ ہوگی ،پھر بھی چلنے والوں کی وہ کثرت ہوگی منڈھے سے منڈھا چھلتا رہے گا

،بھیڑ کی وجہ سے دروازے چر چراتے رہیں گے ،جنت میں قسم قسم کے جواہروں کے محل ہونگے جو ایسے صاف اور شفاف کو اندر کے حصے باہر سے اور باہر کے حصے اندر سے دکھائی دیں گے ،جنت کی دیواریں سونے اور چاندی کے اینٹوں کی ہوں گے اور گارہ مشک کا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ ،چاندی کی زمین زعفران کی ،
اور ایک روایت میں ہے،ایک اینٹ سونے کی ،ایک اینٹ چاندی کی ایک اینٹ یاقوت سرخ کی اور زمین زمرد سبزکی گھاس کی جگہ زعفران ہے ،جنت میں ایک ایک موتی کاخیمہ ہوگا،
جس کی بلندی ساٹھ (60) میل ،جنت میں چار دریاہیں،ایک پانی کا، دوسرا دودھ کا ،تیسرا شہد کا اور چوتھا شراب کا،پھر ان سے نہریں نکل کر ہر ایک کے مکان میں جاری رہیں گے، وہاں کے نہریں زمین کھود کر نہیں بہتے ،بلکہ زمین کے اوپر رواں ہیں، نہر کا ایک کنارہ موتی کا ،دوسرا یاقوت کا
اور نہروں کی زمین خالص مشک کی ،وہاں کی شراب دنیاکی شراب کی طرح نہیں،جس میں بدبو کراہٹ اور نشہ ہوتا ہے ،پینے والے بے عقل ہوجاتے ہیںاور آپ سے باہر ہوکر بیہودہ بکتے ہیں،وہ پاک شراب اب سب باتوں سے پاک اورمنزہ ہے۔


جنت میں جنتیوں کو ہر قسم کے لذیذ کھانے ملیں گے جو چاہیں گے فوراً ان کے سامنے موجود ہوگا
،اگر کسی پرندہ کو دیکھ کر اس کے گوشت کھانے کو جی چاہے تو اسی وقت بھنا ہوا سامنے آجائے گا ،حرؔ پانی وغیرہ کی خواہش ہوتو کوزہ ہاتھ میں آجائیں گے،ان میں ٹھیک اندازے کے موافق پانی ،دودھ ، شراب اور شہد ہوگا کہ ان کے خواہش سے ایک قطرہ کم نہ زیادہ ،بعد پینے کے خود بخود جہا ں سے آئے تھے وہاںچلے جائیں گے ،
وہاں نجاست ،گندگی ،پائخانہ ،پیشاب ،تھوک ،رینٹ ،کان کا میل ،بدن کا میل ،اصلا نہ ہوں گے ،ایک خوشبودار فرحت بخش ڈکار آئیگی اور ڈکار اور پسینے سے خوشبو نکلے گی ،جو مشک کی سی ہوگی،ہر آدمی کو سو ( 100) اشخاص کے کھانے پینے وغیرہ کی طاقت دی جائیگی ،ہر وقت زبان سے تسبیح تکبیر بقصد اور بلا قصد مثل سانس کے جاری ہوں گے ہر شخص کے سرہانے کم از کم دس ہزار



خادم کھڑے ہوں گے ،خادموں کے ایک ہاتھ میں چاندی اور دوسرے ہاتھ میں سونے کا پیالہ ہوگا،ہر پیالہ میں نئی نئی رنگ کی نعمتیں ہونگی ،جنتی کھاتا جائے گا لذت میں کمی نہ ہوگی بلکہ زیادتی ہوگی ،ہر نوالہ میں ستر ( 70)مزے ہوں گے ،ہر مزہ دوسرے سے ممتاز ،وہ معاً محسوس ہوں گے،ایک کا احساس دوسرے سے مانع نہ ہوگا۔


جنتیوں کے نہ لباس پرانے پڑیں گے نہ ان کی جوانی فنا ہوگی؛بلکہ پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے ایسے روشن ہونگے جیسے چودھویں رات کا چاند،دوسرا گروہ جیسا کوئی نہایت روشن ستارہ ، جنتی سب ایک دل ہونگے ،ان کے آپس میں کوئی اختلاف اور بغض نہ ہوگا،ان میں ہر ایک حورعین میں سے کم  سے کم دوبیبیاں ایسے ملیں گے کہ ستر ستر (70-70) جوڑے پہنے ہوں گے ،پھر بھی ان لباسوں اور گوشت کے باہر سے انکی پنڈلیوں کا مغض دکھائی دے گا
،جیسا سفید شیشے میں شراب سرخ دکھائی دیتی ہے اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ عزوجل نے انہیں یاقوت سے تشبیہ دی ،اگر یاقوت میں سوراخ کرکے ڈوراڈالا جائے تو ضرور باہر سے دکھائی دے گا، آدمی اپنے چہرہ کو اس کے رخساروں میں آئینہ سے بھی زیادہ صاف دیکھے گااوران پر ادنیٰ درجہ کا جو موتی ہوگا وہ ایسا ہوگا جو مشرق سے مغرب تک روشن کردے ۔ایک روایت میں ہے کہ مرد اپنا ہاتھ اس کے شانے کے درمیان رکھے گا تو سینے کی طرف سے کپڑے جلد اور گوشت کے باہر سے دکھائی دے گا، اگر جنت کا کپڑا دنیا میں پہنا جائے تو جو دیکھے بیہوش ہوجائے اور لوگوں کی نگاہیں اس کا تحمل نہ کر سکیں ،اگر کوئی حور سمندر میں آب دہن ڈالے تو اس کے آب دہن سے سارا سمندرمیٹھا ہوجائے گا۔اور ایک روایت میں ہے کہ اگر جنت کی عورت سات سمندروں میں آب دہن ڈالے تو شہد سے زیادہ شیریں ہوجائیںگے ،جب کوئی بندہ جنت میں جائے گا تو اس کے سرہانے اور پینتے دوحوریں نہایت اچھی آواز سے گائیں گی ،مگر گانا یہ شیطانی مزامیر نہیں؛بلکہ اللہ عزوجل کی حمد ،ثنا اور پاکی ہوگی،وہ ایسے خوش گلو ہوں گے کے مخلوق نے کبھی ایسی خوش آواز نہ سنی ہوگی اور یہ بھی گائیں گے ’’ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں،کبھی نہ مریں گے ہم چین والیاں ہیں کبھی تکلیف میں نہ پڑیں گے ،ہم راضی ہیں ناراض نہ ہوں گے ،مبارکباد اس کے لئے جو ہمارا اورہم

اس کے ہوں‘‘۔

بقیہ آئندہ ان شاء اللہ


احکام اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

احکام اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


احکام اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


1)کنیز بن قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا،

ایک شخص ان کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں مدینہ منورہ سے صرف ایک حدیث کی وجہ سے آیا ہوں میں نے سنا ہے کہ وہ آپ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے ، حضرت ابولدردا رضی اللہ عنہ نے پوچھا کوئی اور تجارتی کام نہیں تھا؟انہوں نے کہا: نہیں،ابوالدردا رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھاکہ کوئی دوسری غرض تو نہ تھی؟ کہا: نہیں،صرف حدیث ہی معلوم کرنے کے لئے آیا ہوں ،



ابوالدردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص کوئی راستہ علم کرنے کے لئے چلتا ہے حق تعالیٰ شانہٗ اس کے لئے جنت کا راستہ سہل (آسان) فرمادیتا ہے اور فرشتے اپنے پر طالب العلم کی خوشنودی کے واسطے بچھا دیتے ہیں اور طالب العلم کے لئے آسمان و زمین کے رہنے والے (فرشتے) اسغفار کرتے ہیں،اور عالم کی فضلیت عابد پر ایسی ہے جیساکہ چاند کی فضیلت سارے تاروں پرہے اور علماء انبیا کے وارث ہیں، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے بلکہ علم کا وارث بناتے ہیں جو شخص علم کو حاصل کرتا ہے وہ ایک بڑی دولت کو حاصل کرتا ہے ۔ (ابن ماجہ)۔

2) جو تمہارے دل میں ہے اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ خدااس کا حساب لے گا،پھر جس کو چاہے گا بخش دے گا ،اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔( بقرۃ،4)



قضا نماز کے احکام

قضا نماز کے احکام


سوال :۔





کیا فرماتے ہیں علماء دین متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عبدالحق نامی ساکھ ستی منگل کہتا ہے کہ نماز قضا پڑھنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ، اور قضا نماز پڑھنے سے انکار کرتا ہے ۔

محمد غوث ، کولیگل







جواب :۔  الحمد للہ والمنہ وصلوٰۃ ولاسلام علیٰ رسولہ محمد و اٰلہ واصحابہ اجمعین۔


اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : نماز قائم کرو یعنی نمازوں کو ادا کرو یہ حکم عام ہے، خواہ وقتی ہو یا قضا، اس میں یہ تشریح نہیں کہ وقتی نماز پڑھو اور قضا نماز نہ پڑھو ، بلکہ یہ حکم وقتی اور قضا دونوں نمازوں کے لئے ہے، اس کے بیان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول و فعل دونوں موجود ہے ، چنانچہ غزوئہ احزاب جس کو غزوئہ خندق بھی کہتے ہیں ، جب کفار قریش وغیرہ جن کی تعداد 24ہزار تھی، مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوئے اور صحابہ کرام کی تعداد صرف تین ہزار تھی ، اس واقعہ کے اندر بہت دیر ہوگئی ، یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گذر گیا ، صحابہ وغیرہ بہت پریشان تھے ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا : اے بلال اذان دے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا فرمائی ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دوسرے مرتبہ حکم ہوا کہ اقامت کہو تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ اقامت فرمائی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عصر کی نماز ادا فرمائی ، تیسری مرتبہ حکم ہوا کہ اقامت کہو پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی اور پھر حکم ہوا اقامت کہنے کا، پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا فرمائی۔


مسند امام احمد بن حنبل میں ہے ، جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ میں نے عصر کی نماز ادا کی ہے یا نہیں ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ نہیں ، تب حضرت بلال کو حکم ہوا ، اقامت کہو ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پہلے عصر کی نماز ادا فرمائی پھرا س کے بعد مغرب کی نماز دوبارہ ادا فرمائی، طبرانی اور بیہقی شریف میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہو اس کو یہ یاد آجائے کہ میں نے پہلے کی نماز نہیں پرھی تو اس کو لازم ہے کہ اس نماز کو جو امام کے ساتھ پڑھتا ہو ادا کرے ، پھر اس نماز کو پڑھے جو یاد آئی اور اس نماز کو دوبارہ پڑھے جو امام کے ساتھ ، بخاری شریف اور مسلم شریف میں ہے، فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے :




من نام عن الصلوٰۃ اومنسیھا فلیدء ھا اذا ذکرھا فان ذالک وقتھا۔

فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو سو گیا نماز سے یا بھول گیا پس ادا کرے اس نماز کو جب وہ یاد آجائے ، یہ یاد آنا اس نماز کے لئے ادا کرنے کا وقت ہے ، مگر تین وقتوں کے سوا ، یعنی طلوع ، غروب ، اور زوال ، مذکور عبد الحق اگر حواس خمسہ درست رہ کر نماز قضا سے انکار کیا جس کا ادا کرنا قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے ، اس نے قرآن م حدیث اور اجماع امت کو انکار کیا ، قضا نمازکو ادا کرنا فرض ہے ، اس نے اس فرض کو بھی انکار کیا، یہ اسلام سے خارج کافر ہوا، اور یہ اس نے لوگوں کے سامنے کہا ہے ، لہٰذا اس کو توبہ اجلاسی کرنا فرض ہے اور اگر اس کو نکاح ہے تو اس کی عورت اس پر حرام ہوگئی ، جب تک وہ اجلاسی توبہ نہ کرے اور دوبارہ نکاح نہ کرے تب تک اس کو اپنی عورت کے ساتھ صحبت کرنا حرام ہے ، اگر اس نے توبہ اجلاسی کرنے سے انکار کیا تو مسلمانوں کو لازم ہے کہ اس کے ساتھ قطع تعلق یعنی اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا، وغیرہ ترک کردیں ، اگر اس نے بطور مذاق ہی کہا ہو ، جیسا کوئی کہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے وہابی یا قادیانی ہوتاہے تو ایسا شخص کافر ہوجاتا ہے ، کیونکہ یہ فرقے تمام کے تمام مرتد اسلام سے خارج ہیں ، کفر پر راضی رہنا بھی کفر ہے، اللہ عزوجل نے حکم دیا :

فلا تقعد بعد الذکر مع القوم الظالمین ۔


اے نبی( صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم )قرآن نازل ہونے کے بعد ظالموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑدے ، اب جو یماندار ہیں ، اس پر عمل کریں ۔




اڈیٹر ’’ آستانہ ‘‘ دہلی کی خدمت میں ( از ادارہ)

اڈیٹر ’’ آستانہ ‘‘ دہلی کی خدمت میں ( از ادارہ)


اڈیٹر ’’ آستانہ ‘‘ دہلی کی خدمت میں

( از ادارہ)


آپ کا مضمون اداریہ مطابق نومبر 1953؁ء دیکھا ، یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کا طریقہ مذہب کیا ہے ؟ آپ کا تعلق کس فرقہ کے ساتھ ہے ؟ آپ تو اصول و فروع سے واقف ہی نہیں ،
آپ اصول و فروع کی تعریف جامع کیجئے ،
آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس وقت ان فرقوں کے درمیان اختلاف اصولی ہے یا فروعی ؟ جس کا یہ اعتقاد ہو ، العیاذ باللہ ، جبرئیل امین نے غلطی کیا، نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو وحی دیا ، مستحق وحی حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے ،اور یہ قرآن مجید جو ہے بیاض عثمانی ہے ،
اصل قرآن مجید حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جلادیا، نعوذ باللہ ، حضرت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد سب صحابہ مرتد ہوگئے ،حضرت ابا بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما مرتد تھے ؟ کیا یہ اصولی اختلاف ہے یا فروعی ؟ العیاذ باللہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ ملانا شرک ہے ، العیاذ باللہ ، تقلید کرنا شرک ہے ، چاروں مذہب چاروں مذہب والے شریک ہیں ؟ اب یہ اختلاف اصولی ہے یا فروعی ؟

العیاذ باللہ شیطان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے زیادہ علم ہے ، شیطان کے علم کے واسطے نص ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے واسطے نص نہیں ، العیاذ باللہ سب نبی مر کر مٹی میں مل گئے ، یہ



توہین نبی ہے یا نہیں ؟ توہین نبی کرنا اصولی اختلاف ہے یا فروعی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد العیاذ باللہ دوسرے نبی آنا یہ اصولی اختلاف ہے یا فروعی ؟آپ لکھیں کہ آپ ان فرقوں میں سے کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ؟ سنت جماعت والے تو نہیں اگر آپ سنت جماعت سے ہوتے تو یہ مضمون کھبی نہ لکھتے ، جب اللہ پاک نے حکم دیا کہ ظالموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے ساتھ نہ کھاؤ نہ پیو ، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو نہ ان کے مردوں پر جنازہ پڑھو ( ابن حبان ) آپ ان سب کو اکھٹا کرنا چاہتے ہیں ، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے خلاف یہ تعلیم دیتے ہیں ، آپ کی یہ تعلیم شیطانی تعلیم ہے ، مذہب اور سیاست مسلمانوںکے نزدیک ایک ہی چیز ہے آپ یہ ثابت کیجئے کہ فلاں بات کی تشریح مذہب سے نہیں ہے ، مذہب نے اس کی تشریح نہیں کی ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خود خبر دی ہے کہ میری امت کے اندر 73فرقے ہوجائیں، سب کے سب جہنمی ہیں ، مگر ایک فرقہ جہنم کو نہ جائے ، وہ فرقہ یہ ہے جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ، آپ اس کے خلاف تعلیم دیتے ہیں ، ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ تم بڑی جماعت کی پیروی کرو ، بڑی جماعت سے مراد ، جس میں بڑے بڑے علماء بڑے بڑے فقہاء اور بڑے بڑے محدثین ہوں ۔

جتنے بڑے علماء و فقہاء و محدثین گذرے انہیں چار مذہبوں کے ہیں ، یہ چار مذہب والے مومن کامل ، مسلمان کامل ہیں ، ان کو کافر مشرک کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کافر کہے کفر اس میں ہو تو خیر ورنہ کفر اس کہنے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے ، یعنی کہنے والا خود کافر ہوجاتاہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے رافضی ، وہابی ، قادیانی کو کافر کہا ہے ، کیونکہ کہ یہ لوگ سنی مسلمانوںکو کافر کہتے ہیں ، سنی مسلمان تو اللہ کے فضل سے مومن کامل مسلمان کامل ہیں ، اسی پر اجماع امت ہے ، باقی فرقے بھی اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں ، یہ ان کا مسلمان کہلانا ایسا ہے جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانہ میں منافق بھی مسلمان کہلاتے تھے ، اس پر مذکور بالا عقائد دال ہے ۔

اور آپ کو معلوم ہے ، کہ سب فرقے اکھٹے ہوگئے تھے، اور پاکستان بنا یہ بھی معلوم ہے کہ مشرقی پنجاب میں دس لاکھ مسلمان مارے گئے ، دہلی ، حیدر آباد وغیرہ کے قصے کہانیاں تو آپ کو معلوم ہے ، ساٹھ ہزار مسلمانوں کی عورتیں غیر مسلم لے گئے ، یہی نتیجہ ہوا اکھٹے ہونے کا ، یہ اصل وبال ہے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے تعلیم کی مخالفت کرنے کا ، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ۔۔۔۔۔

دارالعلوم اہل سنت مقبول احمدی

دارالعلوم اہل سنت مقبول احمدی


اعلیٰ حضرت شمس العلماء پیر سید مقبول احمد شاہ قادری علیہ الرحمہ کے فیضان اور اعلی حضرت امام عشق و محبت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کی روحانی سرپرستی کا نام
دارالعلوم اہل سنت مقبول احمدی ہے.
جس کا قیام آج سے تقریباً تیس سال قبل ہوا.
جس میں سینکڑوں طلبا زیر تعلیم ہیں.
دارالعلوم مقبول احمدی نے قوم و ملت کو بے شمار لعل و گوہر عطا کیے.
جو مختلف علاقوں میں دین و سنیت کی خدمات انجام دے رہے ہیں.
اعلیٰ حضرت کے نام منسوب یہ ادارہ ہانگل شریف میں درگاہ اعلی حضرت پیر سید مقبول احمد شاہ قادری علیہ الرحمہ کے روبرو ہے.
اس ادارے میں اولین صدرمدرس کی حیثیت سے حضرت سید محمد ابراہیم حسنی حسینی نظامی نے خدمات انجام دی.
بعدی علامہ و مولانا خلیل العلما محمد خلیل احمد مقبولی رضوی مدظلہ اس مسند پر فائز ہوئے. جن کی انتھک محنتوں اور کاوشوں سے دارالعلوم دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے.
بہترین و باصلاحیت اساتذہ کا عملہ ہمہ وقت خدمت دین متین میں مصروف عمل ہے.

جملہ اساتذہ و طلبا میں عشق مصطفیٰ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے.
معاملات شرعی میں اپنے اور پرایے کے درمیان کو کوئی فرق روا نہیں سمجھتا.
کئی ایسے مواقع در پیش ہوئے جہاں کوئی اور ہوتا تو یقیناً حالات سے سمجھوتا کر لیتا.
مگر قربان جائیے دارالعلوم مقبول احمدی کے اساتذہ کی استقامت پر. جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر فکر رضا کی روشنی تعلیمات اعلیٰ حضرت پیر سید مقبول احمد شاہ قادری علیہ الرحمہ کو پیش کیا.


موجودہ دور میں دارالعلوم مقبول احمدی صرف ایک عربی و دینی  ادارہ کا نام نہیں ہے اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو حقیقتاً سخت اندھیرے میں ہے حقیقت سے کوسوں دور ہے.
دارالعلوم مقبول احمدی پیران مارہرہ کی کرامت. خانوادہ رضا کی دعاؤں. محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفی امجدی مدظلہ کی سرپرستی. اعلی حضرت پیر سید مقبول احمد شاہ قادری علیہ الرحمہ کے فیض کا نام ہے.

طلبا کے علاج و معالجہ. قیام و طعام کا سارا ذمہ دار دارالعلوم ہی ہے. ہم اہل ثروت سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ دارالعلوم مقبول احمدی کو زیادہ سے زیادہ تعاون فرما کر ثواب دارین حاصل کریں.


سنت جماعت کا بول بالا

سنت جماعت کا بول بالا


ضروری اعلان

سنت جماعت کا بول بالا


وہابیہ کا ہو منہ کالا

’’ الرشاد ‘‘ ماہنامہ ’’ اردو ‘‘ ہانگل ، سنت والجماعت ہانگل کی طرف سے زیر اہتمام عالم دین اسلام اعلیٰ حضرت شمس العلماء مولٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی کے شائع ہورہاہے اور اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے اس رسالہ کے طفیل سنیت کا بول بالا اطراف وجوانت خصوصاً کرناٹک میں دن دونی رات چوگنی ہو

 رہاہے ۔




لہذا ہم مسلمانوں سے گذرش کرتے ہیں کہ اس نازک دور میں جبکہ اسلام میں کافی باطل فرقے پیدا ہوچکے ہیں اور عام مسلمانوں کو اپنے مذہب اصلی سے بالکل ہی وقفیت نہیں ہے

، ایسے وقت ان باطل فرقوں سے بچنا بھی کہیں مشکل ہے ، لہٰذا تمام مسلمانوں سے گذارش کرتے ہیں کہ رسالہ ’’ الرشاد ‘‘

آج ہی خریدیں اور عین اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہوجائیں ، خاص کر مسلمانان کرناٹک جو مذہب سے بہت دور ہیں اس نادر موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں ، یہ اللہ ہی کا احسان عظیم ہے کہ کرناٹک میں ایک اردو ماہنامہ شائع ہورہایے جواردو میں شائع ہونے والا پہلا اخبار ہے ، اور بہترین ترجمان اسلام ہے ،

الرشاد ہر انگریزی پہلی تاریخ کو پوسٹ کیا جاتا ہے اگر کوئی خریدار بھائی کو وقت مقررہ پر ڈاک والوں کی مہربانی سے دستیاب نہ ہوسکا تو کارڈ کے ذریعہ مطلع فرمائیں تاکہ دبارہ رسالہ بھیجا جائے ، ہر وقت پتہ صاف لکھاکریں ورنہ تعمیل حکم نہ ہوگا ۔





جو حضرات اپنے مضامین بغرض اشاعت روانہ کرتے ہیںان سے درخواست ہے کہ مضامین بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھیں جن کو قابل اشاعت سمجھاجائے گا وہ ضرور شائع ہوتے رہیں گے ، باربار شکایت نہ کریں ۔


مندرجہ ذیل پتہ پر 2-4-0روپیہ منی آرڈر فرما کر خریدار رسالہ ’’ الرشاد ‘‘ بن جائیں ، وی، پی ، کے ذریعہ طلب نہ کیجئے ،

’’ الرشاد ‘‘ مسلمانوں کی دینی خدمت کے علاوہ دینوی خدمت بھی انجام دینے ہر وقت تیار ہے ، لہٰذا اپنے اشتہار ’’ الرشاد ‘‘ کے ذریعہ دیجئے ۔

پتہ :۔  مینجر ’’ الرشاد ‘‘ ہانگل ( ضلع دھارواڈ ، صوبۂ بمبئی )


تلک عشرۃ کاملۃ لطائفۃٍ حادثۃٍ کاذبۃٍ خادعۃ

تلک عشرۃ کاملۃ لطائفۃٍ حادثۃٍ کاذبۃٍ خادعۃ



اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری


ہمارا سابق اشتہار معززین کی نظروں سے گذرا ہوگا ، جس میں تین سوال فرقہ حادثہ پر کئے تھے ، ان کا جواب ہندوستان و پنجاب کے لکھے پڑھے آدمیوں سے نہ بنا اور نہ بنے گا، ادھر کے بے علموں سے کیا بنتا ، پھر ناظرین کی دلچسپی کے لئے اس فرقہ کے دعویٰ کے مطابق دس سوال کرتا ہوں ، تاکہ سمجھدار آدمی ان سے طلب حدیث کر کے ناطقہ بند کرے ، اس فرقہ کا دعویٰ ہے جو چیز حدیث صحیحہ سے جائز نہیں وہ سب ناجائز ہے، حرام ، بدعت ہیں ۔

(1) س :۔  آپ لوگ قیام میں دونوں قدموں کے درمیان کتنا فاصلہ رکھتے ہو، اس فاصلہ رکھنے پر رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟

(3) س :۔  اگر دونوں قدموں کو ملا کر رکھتے ہو۔ پھر بھی ملا کر رکھنے کے لئے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

(3) س :۔  جب تم قیام میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے کے اوپر بھی رسول  صلی اللہ علیہ

واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

(4) س:۔  اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو بند کرنے میں بھی رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

(5) س :۔  پھر جب رکوع کرتے ہو رکوع میں کدھر دیکھتے ہو ، اس دیکھنے پر بھی رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

(6) س :۔  اگر آنکھوں کو کھلے رکھتے ہو تو پھر بھی کھلے رکھنے پر رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قول یا فعل پیش کرو ؟

( 7) س :۔  جب رکوع سے اٹھتے ہو اور قومہ میں رہتے ہو ، کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟

(8) س:۔  اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو پھر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟




(9) س:۔  جب سجدہ میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول و فعل پیش کرو ؟

( 10) س :۔  اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو اس بند کرنے کے واسطے بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

یہ دس سوال ہیں ، اس پر اگر حدیث صحیح پیش کرو تمہارے واسطے بہتر ہوگا ورنہ یاد رکھو حدیث صحیح سے ثابت ہے تمہاری نہ نماز مقبول نہ روزہ وغیرہ ، اور حدیث دار قطنی کے مصداق بلاریب بن جاؤ گے اور سینے کے اور ہاتھ باندھنا آمین پکار کر کہنا اور رفع یدین کرنا ان کو سنت کہتے ہیں یہ بتاؤ کس حدیث سے ان کی سنت ثابت ہے ؟ ورنہ افعال مذکور کو سنت کہنا تمہارے دعویٰ کے مطابق بدعت ہے ، اور افعال مذکور کو سنت کہنے والا بدعتی ہے ۔

اللہ عزوجل نے جھوٹوں پر لعنت بھیجا ہے ، مگر میسوری مشتہر نے لعنت کی کچھ پروانہ کی ، چامراج


نگر کے قصہ کے متعلق سب جھوٹ لکھ مارا ، قصہ یوں ہے ، چند سال پیشتر میں چامراج نگر میں تھا ، ایک روز مشتہر مغرب کی نماز میں شریک نماز ہوا، اور آمین بلند آواز سے پکاری اور میں نے بعد فراغ نماز کے پوچھا کہ یہ کس نے اس زور سے آمین کہی ، مشتہر نے کہا میں نے کہی ، میں نے ان کو کیا ادھر آیئے ، پھر وہ آکر میرے پاس بیٹھ گئے ،

میں نے مشتہر کو پوچھا کہ آمین کون صیغہ ہے ؟ اور آمین کس وزن پر ہے ؟ آمین میں کونسی مدہے ؟ اور آمین میں اجتماع ساکنیں کیوں جائز ہوا ، مشتہر نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں بے علم ہوں ، مجھے علم نہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ آمین کہنا جائز ہے یا ناجائز ؟ میں نے کہا کہ آپ کے سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بت علم ہیں اس لئے آمین کو کوئی مسلمان ناجائز نہیں کہہ سکتا ہر ایک مسلمان کے نزدیک جائز ہے ، صرف اختلاف ہے اس کے آہستہ کرنے میں اور بلند آواز سے کرنے میں ، آپ نے جو مقتدی ہو کر بلند آواز سے آمین کہی وہ کونسی حدیث سے ثابت ہے ، مشتہر نے اس کے متعلق کوئی جواب نہ دیا ، مشتہر کے یوں لکھدیا کہ میں نے مشکوٰۃؔ اور کنزؔ پیش کرکے قائل کروایا ہوں، کیا ! مشکوٰۃ میں مقتدی ہو کر آمین پکارنے کی حدیث ہے ؟ کیا کنزؔ میں آمین پکارنا سنت لکھا ہے ؟ کیا تمہارے فرقہ کے درمیان


کوئی سمجھدار آدمی نہیں ؟ وہ مشتہر سے نہ پوچھے کہ تم نے یہ کیا لکھ دیا؟ اس اشتہار کا اثر تمہارے فرقہ پر اُلٹا پڑے گیا، کیونکہ آپ کے پاس کوئی حدیث قولی یا فعلی افعال مذکور کے ثبوت کے لئے نہیں ، علاوہ اس کے مشتہر مشکوٰۃ کی ایک حدیث اور کنز کی ایک عبارت نہیں پڑھ سکتا ، اس لئے وہ عربی ہیں ، عربی پڑھنے کے لئے قانون کی ضرورت ہے مشتہر کو مشکوٰۃ کے ساتھ اور کنزؔ کے ساتھ کیا نسبت ہے۔

چہ نسبت خال را باعالم پاک

کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک

بھلاجو آدمی اپنی زبان سے اقرار کرے اپنی بے علمی کا وہ بے علم آدمی اپنے جاننے والے آدمی کو قائل کروانا جھوٹے آدمی سچے آدمی کو جھوٹ بات پر قائل کروانا ایسا ہے کہ ’’ تف بسوئے آسماں بروئے خود است ‘‘ مشتہر کی بے علمی اس کے اشتہار سے ہی ظاہر ہے، خصوصاً اس کی سرخیٔ عنوان جو محض غلط ہے، مشتہر کی بے عنوانی سوال از آسماں جواب از کیسمان ، پنجاب اور ہندوستان کے پڑے لکھے جواب دینے سے حیران و پریشان ادھر کے بے علم نالاں و گریاں ہیں ، مگر آفریں ہے اس ٹکڑی پر جو جوانمرد اور بڑی ہمت والی ہے، جو حیا و شرم کی کچھ پروا نہیں کرتی ، گو حیا ایک جز ہے ایمان کا ، یہ جزوجائے تو جائے مگر اپنی ضد اور ہت نہ چھوڑے بے چارے غریب کو یہ معلوم نہیں ، اذافات الجزفات الکل ، اس ٹکڑی کا کوئی آدمی اگر سُنّیوں کی مسجد میں آجائے آمین پکار کر کہے اس پوچھتے ہیں اجی حدیث کے ٹھیکیدارو رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے حکم دیا ہے آمین پکار نے کی ، یا رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے




مقتدی ہو کر آمین پکار کہی ہے ؟ جواب دیتا ہے ، حدیث نہیں مگر سنت ہے ، پھر اس پوچھتے ہیں کہ اس کا سنت ہونا کس حدیث سے ثابت ہے ؟ پھر مسجد سے ایسا بھاگتا ہے جیسے شیطان اذان کے وقت میں انگلی کان میں رکھ کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے، اس کا بھاگنا مناسب ہے کیونکہ دعویٰ ہے حدیث کی ۔۔۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular