Showing posts with label about. Show all posts
Showing posts with label about. Show all posts
اہل رائے

اہل رائے

راج پیپلا
۔۔۔۔
بخدمت شریف جنان مینجر صاحب ’’ الرشاد ‘‘ ، اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ٗ
آپ رسالہ ’’ الرشاد‘‘ ماہ ذی الحجہ 1372؁ ھ کا منیجر الوارث صاحب بمبئی میں جناب مولیٰنا وارث علی صاحب کے پاس میں اور حضرت شیر بیشۂ سنت مولانا مولوی حشمت علی خاں صاحب قبلہ دیکھے ، حضرت مولیٰنا مولوی حاجی حشمت علی خاں صاحب قبلہ اس رسالہ کی تعریف فرمائی ، ماشاء اللہ رسالہ دیکھ کر بہت خوشی حاصل ہوئی اس وقت ایسے رسالوں کی بہت اشد ضرورت ہے ، پروردگار دو عالم اپنے محبوب سرکار دو عالم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صدقہ میں اس رسالہ کو تاقیامت قائم رکھے اور آپ کو 
اس کی بہترین جزا عطا فرمائے کہ اس نازک وقت میں آپ نے اہل سنت والجماعت کی سچی خدمت کرنے کے لئے تیار ہوئے ، ان شاء اللہ میری ہمدردی آپ کے ساتھ ہے ۔
(خادم علماء مولوی حاجی علی محمد ، سنی ، حنفی ، رضوی ، راج پیپلا)

انی گیرہ 
27-8-53
محترم جناب منیجر صاحب ’’ الرشاد ‘‘ ، ہانگل 
اسلام علیکم 
خیریت مزاج شریف  ۔۔۔ آپ لوگوں کی ہمت اور اسلامی ہمدردی پر نہایت ہی آفیرں ہے سارے کرناٹک میں اب تک کوئی اردو اخبار یا رسالہ نہیں نکالا گیا ، مگر آپ صاحبوں نے نہایت ہی عمدہ اور نیک کام کیاہے ہم تمام لوگ آپ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ، اس تبلیغ کے کام میں جو کچھ بھی ہم سے خدمت ہوسکتی ہے کرنے کو تیار ہیں ۔
(1) امیر الدین صاحب ، ریٹائزڈ ہیڈ ماسٹر ، انی گیرہ ، (2) عبدالرزاق صاحب دوڈمنی ، انی گیرہ ، (3) یٰسین خاں صاحب جمعدار ، انی گیرہ ۔

ہزاری باغ 
27-7-53
مکرمی منتظمی !  السلام علیکم رحمۃاللہ 
......دلی مسرت حاصل ہوئی کہ دنیائے سنیت کی بیداری و خدمت کا جذبہ لے کر آپ کا جریرہ میدان عمل میں خدمت کے لئے نکلا ہے ، مولیٰ تعالیٰ قبولیت عامہ بخشے اور آپ کے عزائم کو تقویت اور ادارئہ الرشاد کو فائز المرام فرمائے ، آمین ۔
(مولیٰنا منظور حسین القادری مہتمم مدرسہ فرقانیہ ، ہزاری باغ )

ہاسن 
11-6-53
محترمی سلامت  السلام علیکم و رحمتہ اللہ برکاتہ 
........ رسالہ دیکھ کر تو دل بہت خوش ہو اکیونکہ فی زمانہ ایسے ہی رسالوں کی سخت ضرورت ہے ، اور میں اسے وقت کی بہت بڑی اور اہم ضرورت سمجھتا ہوں .......
خیر طلب ، قاضی ، فیاض ، ہاسن 
سنت جماعت کا بول بالا

سنت جماعت کا بول بالا


ضروری اعلان

سنت جماعت کا بول بالا


وہابیہ کا ہو منہ کالا

’’ الرشاد ‘‘ ماہنامہ ’’ اردو ‘‘ ہانگل ، سنت والجماعت ہانگل کی طرف سے زیر اہتمام عالم دین اسلام اعلیٰ حضرت شمس العلماء مولٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی کے شائع ہورہاہے اور اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے اس رسالہ کے طفیل سنیت کا بول بالا اطراف وجوانت خصوصاً کرناٹک میں دن دونی رات چوگنی ہو

 رہاہے ۔




لہذا ہم مسلمانوں سے گذرش کرتے ہیں کہ اس نازک دور میں جبکہ اسلام میں کافی باطل فرقے پیدا ہوچکے ہیں اور عام مسلمانوں کو اپنے مذہب اصلی سے بالکل ہی وقفیت نہیں ہے

، ایسے وقت ان باطل فرقوں سے بچنا بھی کہیں مشکل ہے ، لہٰذا تمام مسلمانوں سے گذارش کرتے ہیں کہ رسالہ ’’ الرشاد ‘‘

آج ہی خریدیں اور عین اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہوجائیں ، خاص کر مسلمانان کرناٹک جو مذہب سے بہت دور ہیں اس نادر موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں ، یہ اللہ ہی کا احسان عظیم ہے کہ کرناٹک میں ایک اردو ماہنامہ شائع ہورہایے جواردو میں شائع ہونے والا پہلا اخبار ہے ، اور بہترین ترجمان اسلام ہے ،

الرشاد ہر انگریزی پہلی تاریخ کو پوسٹ کیا جاتا ہے اگر کوئی خریدار بھائی کو وقت مقررہ پر ڈاک والوں کی مہربانی سے دستیاب نہ ہوسکا تو کارڈ کے ذریعہ مطلع فرمائیں تاکہ دبارہ رسالہ بھیجا جائے ، ہر وقت پتہ صاف لکھاکریں ورنہ تعمیل حکم نہ ہوگا ۔





جو حضرات اپنے مضامین بغرض اشاعت روانہ کرتے ہیںان سے درخواست ہے کہ مضامین بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھیں جن کو قابل اشاعت سمجھاجائے گا وہ ضرور شائع ہوتے رہیں گے ، باربار شکایت نہ کریں ۔


مندرجہ ذیل پتہ پر 2-4-0روپیہ منی آرڈر فرما کر خریدار رسالہ ’’ الرشاد ‘‘ بن جائیں ، وی، پی ، کے ذریعہ طلب نہ کیجئے ،

’’ الرشاد ‘‘ مسلمانوں کی دینی خدمت کے علاوہ دینوی خدمت بھی انجام دینے ہر وقت تیار ہے ، لہٰذا اپنے اشتہار ’’ الرشاد ‘‘ کے ذریعہ دیجئے ۔

پتہ :۔  مینجر ’’ الرشاد ‘‘ ہانگل ( ضلع دھارواڈ ، صوبۂ بمبئی )


سنت جماعت کا بول بالا

سنت جماعت کا بول بالا

ضروری اعلان
سنت جماعت کا بول بالا
وہابیہ کا ہو منہ کالا
’’ الرشاد ‘‘ ماہنامہ ’’ اردو ‘‘ ہانگل ، سنت والجماعت ہانگل کی طرف سے زیر اہتمام عالم دین اسلام اعلیٰ حضرت شمس العلماء مولٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی کے شائع ہورہاہے اور اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے اس رسالہ کے طفیل سنیت کا بول بالا اطراف وجوانت خصوصاً کرناٹک میں دن دونی رات چوگنی ہو 
 رہاہے ۔


لہذا ہم مسلمانوں سے گذرش کرتے ہیں کہ اس نازک دور میں جبکہ اسلام میں کافی باطل فرقے پیدا ہوچکے ہیں اور عام مسلمانوں کو اپنے مذہب اصلی سے بالکل ہی وقفیت نہیں ہے
، ایسے وقت ان باطل فرقوں سے بچنا بھی کہیں مشکل ہے ، لہٰذا تمام مسلمانوں سے گذارش کرتے ہیں کہ رسالہ ’’ الرشاد ‘‘
آج ہی خریدیں اور عین اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہوجائیں ، خاص کر مسلمانان کرناٹک جو مذہب سے بہت دور ہیں اس نادر موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں ، یہ اللہ ہی کا احسان عظیم ہے کہ کرناٹک میں ایک اردو ماہنامہ شائع ہورہایے جواردو میں شائع ہونے والا پہلا اخبار ہے ، اور بہترین ترجمان اسلام ہے ،
الرشاد ہر انگریزی پہلی تاریخ کو پوسٹ کیا جاتا ہے اگر کوئی خریدار بھائی کو وقت مقررہ پر ڈاک والوں کی مہربانی سے دستیاب نہ ہوسکا تو کارڈ کے ذریعہ مطلع فرمائیں تاکہ دبارہ رسالہ بھیجا جائے ، ہر وقت پتہ صاف لکھاکریں ورنہ تعمیل حکم نہ ہوگا ۔
جو حضرات اپنے مضامین بغرض اشاعت روانہ کرتے ہیںان سے درخواست ہے کہ مضامین بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھیں جن کو قابل اشاعت سمجھاجائے گا وہ ضرور شائع ہوتے رہیں گے ، باربار شکایت نہ کریں ۔
مندرجہ ذیل پتہ پر 2-4-0روپیہ منی آرڈر فرما کر خریدار رسالہ ’’ الرشاد ‘‘ بن جائیں ، وی، پی ، کے ذریعہ طلب نہ کیجئے ،
’’ الرشاد ‘‘ مسلمانوں کی دینی خدمت کے علاوہ دینوی خدمت بھی انجام دینے ہر وقت تیار ہے ، لہٰذا اپنے اشتہار ’’ الرشاد ‘‘ کے ذریعہ دیجئے ۔
پتہ :۔  مینجر ’’ الرشاد ‘‘ ہانگل ( ضلع دھارواڈ ، صوبۂ بمبئی )
آثار فضائل تعلیم

آثار فضائل تعلیم


آثار فضائل تعلیم


اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری




حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص حدیث بیان کرے اور اس پر عمل کرے تو اس کو ثواب ان لوگوں کے برابر ملے گا جو اس پر عمل کریں گے ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کو بہتر بات سکھاتا ہے اس کے لئے تمام چیزیں سمندر کی مچھلیاں تک استغفار کرتے ہیں ، بعض علماء کا قول ہے کہ عالم خدا تعالیٰ اور اس کے مخلوق کے درمیان واسطہ پڑتا ہے پس دیکھو کہ کس طرح واسطہ پڑتا ہے ، وہ تعلیم کے ذریعہ ہے ،۔

روایت ہے کہ حضرت سفیان ثوری عسقلان تشریف لائے اور کچھ دن وہاں رہے ، ان سے کسی نے کچھ پوچھا نہیں آپ نے فرمایا : کہ میرے لئے سواری کرایہ پر لاؤ کہ میں اس شہر سے نکل جاؤں ،
یہ ایسا شہر ہے کہ اس میں علم مرجائے گا ، یہ اس واسطے کہا کہ تعلیم کی بزرگی اور اس کے جہد سے علم باقی رکھنے کو آپ کو حرص تھی۔

حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں سعد بن مسیب کے پاس گیا وہ روتے تھے ، میں نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی ، انہوں کہا کہ مجھے کوئی پوچھتا نہیں ، بعضوں کا قول ہے کہ علماء زمانے کا چراغ ہیں ہر ایک اپنے وقت کا چراغ ہوتا ہے
کہ اس سے ان کے زمانے کے لوگ روشنی حاصل کرلیں ۔

حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، اگر علماء نہ ہوتے تو آدمی مثل چوپائے کے ہوجاتے ، علماء لوگوں کو تعلیم کی جہد سے حالت بہیمی سے نکال کر سرحد انسانیت پر پہنچا دیتے ہیں ۔

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
اس علم کا کچھ مول ہے ، کسی نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا: وہ یہ ہے کہ ایسے علم کو سکھائے جو اچھی طرح یاد کرے اور ضائع نہ کرے ۔

یحییٰ ابن معاذ فرماتے ہیں کہ علماء امت پر ماں باپ سے زیادہ رحیم ہیں ، لوگوں نے پوچھا کہ




کس طرح ؟ آپ نے فرمایا کہ ماں باپ بچوں کو آگ دنیاوی سے بچاتے ہیں ، اور علماء آخرت کی آگ سے جوزیادہ سخت اور ہمیشہ رہنے والی ہے ،
بعض اک قو ل ہے ، ابتدائی علم سکوت سے ہے ، پھر سننا اور یاد کرنا ، پھر عمل کرنا، اور اس کو لوگوں میں پھیلانا ، بعض یوں فرماتے ہیں کہ اپنا علم ایسے کو سکھاؤ جو اس سے جاہل ہو، اور ایسے شخص سے سیکھو جو چیز تم کو نہ آتی ہو اور اس کو وہ جانتا ہو، جب ایسا کروگے تو جو چیز تمہیں معلوم نہیں وہ جان لوگے
اور جو تمہیں آتا ہوگا وہ زیادہ یاد رہے گا۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور ایک حدیث مرفوع سے بھی پایا گیاہے کہ  علم سیکھو کہ اس لئے کہ اس کاسیکھنا خوف الٰہی ہے، اس کی جستجو عبادت ہے اوراس کا درس دینا تسبیح ہے
، اس کی بحث جہاد ہے ، اور جو شخص نہ جانتا ہو اس کو تعلیم دینا خیرات ہے ، جو اس کا اہل ہو اس پر خرچ کرنا قرب منزلت ہے ،
یہی علم تنہائی میں انیس ہے، سفر میں جلیس ہے ، خلوت میں گفتگو کرنے والا دین کا راہ نما ، حالت تونگری اور افلاس میں چراغ ، دوستوں کے سانے نائب اجنبی اشخاص کو قریب کرنے والا،
دشمنوں کے حق میں ہتھیار ، راہ جنت کا منار ، اور اسی علم کی بدولت اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو بلند مراتب عنایت فرماتا ہے کہ
ان کو امور خیرمیں سردار پیشوا ، ہادی بناتا ہے ،
ان کی دیکھا دیکھی اوروں کو خیر نصیب ہوتی ہے
، ان کے قدموں پر لوگ چلتے ہیں ، ان کے افعال کو لوگ تاکتے ہیں ، فرشتے ان کی دوستی میں رہتے ہیں ، اپنے بازوؤں سے ان کو پوچھتے ہیں ، تمام خشکی اور تری کے لوگ ان کے لئے بخشش مانگتے ہیں ، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں اور کیڑے خشکی کے درندے اور چوپائے ،
آسمان اور ستارے سب کے سب ان کے لئے دعاء مغفرت مانگتے ہیں ۔

علم دل کی زندگی ہے ، اس کے باعث جہالت نہیں رہتی ، اور علم نور ہے
کہ جس کے سامنے تاریکی جاتی رہتی ہے ، اس سے بدن کو قوت آتی ہے
اور ضعف دور ہوجاتا ہے ، اور اس کے باعث بندہ نیک مراتب اور بلند درجہ حاصل کرتا ہے ، علم میں فکر کرنا روزہ رکھنے کے برابر ہے ،
اس کے درس میں مشغول رہنا شب بیداری کے برابر ہے ، اور اسی کے باعث خدائے تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی توحید و تمجید ہوتی ہے ،اس سے ورع اور تقویٰ ، صلہ ارمام اور معرفت حلال و حرام حاصل ہوتی ہے ، علم امام اور عمل اس کا



تابع ہے ، نیک بختوں ہی کے دل میں اس کی جگہ ہوتی ہے اور بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں ،اللہ تعالیٰ سے ہم لوگ نیک توفیق کی خواہش رکھتے ہیں ۔

اب سنو ! ہر مسلمان پر علم سیکھنا فرض عین کتنا ہے ،
فرض عین اس کو کہتے ہیں جس پر وہ فرض ہے خود ادا کرے تو ادا ہوگا اگر کوئی دوسرا ادا کرے تو ادا نہ ہوگا، مثلاً پانچ وقت کی نماز یہ فرضِ عین ہے ، ہرمسلمان عاقل بالغ پر خواہ مرد ہو یا عورت ۔

فرض کفایہ وہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان عاقل بالغ ادا کرے تو سب کی طرف سے ادا ہوگا اگر کسی نے ادا نہیں کیا تو سب کے سب گناہ گار ہوجائیں گے۔

علم سیکھنا فرض عین ہے ، قرآن کریم سے ایک آیۂ کریم پڑھی یا چھوٹے چھٹوٹے تین آیتیں ، سیکھنا اور یاد کرنا پر عاقل ، بالغ مسلمان پر خواہ مرد ہو یا عورت فرض عین ہے۔

سورئہ فاتحہ شریف سیکھنا اوراس کو یاد کرنا واجب ہے، اور اس کے ساتھ ضم سورہ کرنا تین چھوٹے چھوٹے آیتوں کے برابر سیکھنا اور یاد کرنا واجب ہے۔

باقی قرأت مسنونہ اور مستحبہ سیکھنا اور یاد کرنا سنت اور مستحب ہے سارا قرآن مجید سیکھنا سنت عین ہے۔

جب مسلمان عاقل بالغ ہوجائے تو اس کو کلمۂ طیبہ شریف پڑھنا اوراس کے معنیٰ سیکھنا ، اس کی تصدیق کرنا فرض عین ہے۔

اگر چہ مسلمانوں کے گھروں میں جو بچہ تین سال کا ہوتا ہے تو کلمہ شریف اس کو یاد کراتے ہیں ، مگر اس کے معنی اور تصدیق کرانے کی تعلیم سے نا آشناہوتے ہیں یہاں تک کہ اکثر بوڑھے بھی اس کے معنیٰ سے واقف نہیں ، عورتوں میں شاید ہی کوئی اس کے معنیٰ سے واقف ہوگی ، اب اس کلمہ طیبہ کا معنی سنو۔

لَا ِالٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمّدُرَّسُوْلُ اللّٰہِ

لا الہ الا اللہ : کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں ، مگر اللہ پاک عبادت کے لائق ہے، اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول اس کے بھیجے ہوئے ہیں ، رسول کا معنی بھیجا ہوا ہے ، یہ دو جملے ہیں ،



پہلے جملے میں وحدانیت الٰہی کی تصدیق ہے ، دوسرے جملہ میں رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق ہے ، جب تک ان دونوں جملوں پر ایمان و تصدیق نہ ہوگا ہرگز ہر گز ایماندار نہیں ہو سکتا، یعنی دل سے سچ سے جاننا اور زبان سے اقرار کرنا ضروری ہے،اگر کسی ایک ضرورت کو انکار کرے گا تو اسلام سے خارج کافر ہوجائے گا ، ضروریات دین کا بیان عقائد میں درج ہوچکا ہے ، ہمارے ذمہ جو کام تھ اس کو لکھ دیئے ، مگر لوگوں میں اس قدر سستی پیدا ہوگئی ہے کہ ان کو ان باتوں کی فکر ہی نہیں
، سنیما کے اشتہاروں کو اچھی طرح یاد رکھتے ہیں ، سنیماکے کہانیاں زبانی تو نقل کرتے ہیں ، مگر مذہبی امور کا تذکرہ کہیں ہوتا ہی نہیں ، اگر سنی مسلمان اس کو یاد رکھتے تو بہتر تھا، اس میں ان کی دینی و دنیوی بہتری تھی خصوصاً ضلع دھارواڑ
کے مسلمان بالکل مذہب سے نابلد ہیں ، کچھ مذہبی معلومات ہے ہی نہیں خیر آئندہ اس کا نفع نقصان خود معلوم ہوجائے گا، مرنے کے بعد پچتانا ہوگا ، مگر کچھ نتیجہ نہیں ۔



یہ کلمہ شریف اصل اور جڑ ہے سب عبادات اس کے سوا بیکار ہے ،

تعلیم متعلم میں لکھا ہے علم حال کی طلب فرض عین ہے یعنی مسلمان جس حال پر ہو اس علم سیکھنا فرض عین ہے ،مثلاً جب مسلمان عاقل اور بالغ ہوجائے اس پر نمازروزوں کے فرائض سیکھنا فرض عین ہے اور نمازموقوف ہے وضو پر اس لئے وضو کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے ،
بالجملہ جس چیز کا شغل رکھتاہے اس پر اس کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے تاکہ اس میں ارتکاب حرام سے محفوظ رہے ، علم کا سیکھنا واجب ہے جس سے امر واجب ادا ہوجائے ۔ ( طحطاوی ) اور درالمختار میں ہے:


اعلم ان تعلم العلم یکون فرض عین وھو بقدر مایحتاج لدینہ ۔

یعنی معلوم کر اے مخاطب سیکھنا علم کا فرض عین ہوتا ہے۔

اس قدر جس کے طرف آدمی محتاج اپنے دین کے واسطے ہو ، یہ سب اوپر مذکور ہوا ۔

وفرض کفایت وھو مازاد علیہ لنفع الغیر ۔

اور علم سیکھنا فرض کفایہ ہے وہ جو اپنے حاجت سے زیادہ ہو ،
غیروں کے نفع کے واسطے ، یعنی ناواقف لوگوں کو بتائے کہ وہ لوگ مہالک اور محرمات سے بچیں ، ایک عالم ہر طرف ہونا ضروری ہے



تاکہ عوام مسلمین کو ضرورت دین سکھائے ورنہ عوام ضائع ہوجائیں گے ۔

مندربٌ وھو التبحرنی الفقہ وعلم القلب ۔

یعنی اور علم سیکھنا مستحب ہوتا ہے زیادتی ہے ، ( علم حاصل کرنا ) فقہ میں اور دل کے علم میں علم قلب سے مراد ہے ، اخلاق ہے۔


آثار فضائل تعلیم

آثار فضائل تعلیم

آثار فضائل تعلیم
اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص حدیث بیان کرے اور اس پر عمل کرے تو اس کو ثواب ان لوگوں کے برابر ملے گا جو اس پر عمل کریں گے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کو بہتر بات سکھاتا ہے اس کے لئے تمام چیزیں سمندر کی مچھلیاں تک استغفار کرتے ہیں ، بعض علماء کا قول ہے کہ عالم خدا تعالیٰ اور اس کے مخلوق کے درمیان واسطہ پڑتا ہے پس دیکھو کہ کس طرح واسطہ پڑتا ہے ، وہ تعلیم کے ذریعہ ہے ،۔
روایت ہے کہ حضرت سفیان ثوری عسقلان تشریف لائے اور کچھ دن وہاں رہے ، ان سے کسی نے کچھ پوچھا نہیں آپ نے فرمایا : کہ میرے لئے سواری کرایہ پر لاؤ کہ میں اس شہر سے نکل جاؤں ،
\یہ ایسا شہر ہے کہ اس میں علم مرجائے گا ، یہ اس واسطے کہا کہ تعلیم کی بزرگی اور اس کے جہد سے علم باقی رکھنے کو آپ کو حرص تھی۔ 
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں سعد بن مسیب کے پاس گیا وہ روتے تھے ، میں نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی ، انہوں کہا کہ مجھے کوئی پوچھتا نہیں ، بعضوں کا قول ہے کہ علماء زمانے کا چراغ ہیں ہر ایک اپنے وقت کا چراغ ہوتا ہے
کہ اس سے ان کے زمانے کے لوگ روشنی حاصل کرلیں ۔ 


حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، اگر علماء نہ ہوتے تو آدمی مثل چوپائے کے ہوجاتے ، علماء لوگوں کو تعلیم کی جہد سے حالت بہیمی سے نکال کر سرحد انسانیت پر پہنچا دیتے ہیں ۔
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
 اس علم کا کچھ مول ہے ، کسی نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا: وہ یہ ہے کہ ایسے علم کو سکھائے جو اچھی طرح یاد کرے اور ضائع نہ کرے ۔
یحییٰ ابن معاذ فرماتے ہیں کہ علماء امت پر ماں باپ سے زیادہ رحیم ہیں ، لوگوں نے پوچھا کہ 

کس طرح ؟ آپ نے فرمایا کہ ماں باپ بچوں کو آگ دنیاوی سے بچاتے ہیں ، اور علماء آخرت کی آگ سے جوزیادہ سخت اور ہمیشہ رہنے والی ہے ،
 بعض اک قو ل ہے ، ابتدائی علم سکوت سے ہے ، پھر سننا اور یاد کرنا ، پھر عمل کرنا، اور اس کو لوگوں میں پھیلانا ، بعض یوں فرماتے ہیں کہ اپنا علم ایسے کو سکھاؤ جو اس سے جاہل ہو، اور ایسے شخص سے سیکھو جو چیز تم کو نہ آتی ہو اور اس کو وہ جانتا ہو، جب ایسا کروگے تو جو چیز تمہیں معلوم نہیں وہ جان لوگے
 اور جو تمہیں آتا ہوگا وہ زیادہ یاد رہے گا۔ 
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور ایک حدیث مرفوع سے بھی پایا گیاہے کہ  علم سیکھو کہ اس لئے کہ اس کاسیکھنا خوف الٰہی ہے، اس کی جستجو عبادت ہے اوراس کا درس دینا تسبیح ہے
، اس کی بحث جہاد ہے ، اور جو شخص نہ جانتا ہو اس کو تعلیم دینا خیرات ہے ، جو اس کا اہل ہو اس پر خرچ کرنا قرب منزلت ہے ،
یہی علم تنہائی میں انیس ہے، سفر میں جلیس ہے ، خلوت میں گفتگو کرنے والا دین کا راہ نما ، حالت تونگری اور افلاس میں چراغ ، دوستوں کے سانے نائب اجنبی اشخاص کو قریب کرنے والا،
دشمنوں کے حق میں ہتھیار ، راہ جنت کا منار ، اور اسی علم کی بدولت اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو بلند مراتب عنایت فرماتا ہے کہ
ان کو امور خیرمیں سردار پیشوا ، ہادی بناتا ہے ،
ان کی دیکھا دیکھی اوروں کو خیر نصیب ہوتی ہے
، ان کے قدموں پر لوگ چلتے ہیں ، ان کے افعال کو لوگ تاکتے ہیں ، فرشتے ان کی دوستی میں رہتے ہیں ، اپنے بازوؤں سے ان کو پوچھتے ہیں ، تمام خشکی اور تری کے لوگ ان کے لئے بخشش مانگتے ہیں ، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں اور کیڑے خشکی کے درندے اور چوپائے ،
آسمان اور ستارے سب کے سب ان کے لئے دعاء مغفرت مانگتے ہیں ۔
علم دل کی زندگی ہے ، اس کے باعث جہالت نہیں رہتی ، اور علم نور ہے
کہ جس کے سامنے تاریکی جاتی رہتی ہے ، اس سے بدن کو قوت آتی ہے
اور ضعف دور ہوجاتا ہے ، اور اس کے باعث بندہ نیک مراتب اور بلند درجہ حاصل کرتا ہے ، علم میں فکر کرنا روزہ رکھنے کے برابر ہے ،
اس کے درس میں مشغول رہنا شب بیداری کے برابر ہے ، اور اسی کے باعث خدائے تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی توحید و تمجید ہوتی ہے ،اس سے ورع اور تقویٰ ، صلہ ارمام اور معرفت حلال و حرام حاصل ہوتی ہے ، علم امام اور عمل اس کا 


تابع ہے ، نیک بختوں ہی کے دل میں اس کی جگہ ہوتی ہے اور بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں ،اللہ تعالیٰ سے ہم لوگ نیک توفیق کی خواہش رکھتے ہیں ۔
اب سنو ! ہر مسلمان پر علم سیکھنا فرض عین کتنا ہے ،
 فرض عین اس کو کہتے ہیں جس پر وہ فرض ہے خود ادا کرے تو ادا ہوگا اگر کوئی دوسرا ادا کرے تو ادا نہ ہوگا، مثلاً پانچ وقت کی نماز یہ فرضِ عین ہے ، ہرمسلمان عاقل بالغ پر خواہ مرد ہو یا عورت ۔
فرض کفایہ وہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان عاقل بالغ ادا کرے تو سب کی طرف سے ادا ہوگا اگر کسی نے ادا نہیں کیا تو سب کے سب گناہ گار ہوجائیں گے۔
علم سیکھنا فرض عین ہے ، قرآن کریم سے ایک آیۂ کریم پڑھی یا چھوٹے چھٹوٹے تین آیتیں ، سیکھنا اور یاد کرنا پر عاقل ، بالغ مسلمان پر خواہ مرد ہو یا عورت فرض عین ہے۔
سورئہ فاتحہ شریف سیکھنا اوراس کو یاد کرنا واجب ہے، اور اس کے ساتھ ضم سورہ کرنا تین چھوٹے چھوٹے آیتوں کے برابر سیکھنا اور یاد کرنا واجب ہے۔
باقی قرأت مسنونہ اور مستحبہ سیکھنا اور یاد کرنا سنت اور مستحب ہے سارا قرآن مجید سیکھنا سنت عین ہے۔
جب مسلمان عاقل بالغ ہوجائے تو اس کو کلمۂ طیبہ شریف پڑھنا اوراس کے معنیٰ سیکھنا ، اس کی تصدیق کرنا فرض عین ہے۔
اگر چہ مسلمانوں کے گھروں میں جو بچہ تین سال کا ہوتا ہے تو کلمہ شریف اس کو یاد کراتے ہیں ، مگر اس کے معنی اور تصدیق کرانے کی تعلیم سے نا آشناہوتے ہیں یہاں تک کہ اکثر بوڑھے بھی اس کے معنیٰ سے واقف نہیں ، عورتوں میں شاید ہی کوئی اس کے معنیٰ سے واقف ہوگی ، اب اس کلمہ طیبہ کا معنی سنو۔
لَا ِالٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمّدُرَّسُوْلُ اللّٰہِ
لا الہ الا اللہ : کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں ، مگر اللہ پاک عبادت کے لائق ہے، اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول اس کے بھیجے ہوئے ہیں ، رسول کا معنی بھیجا ہوا ہے ، یہ دو جملے ہیں ، 

پہلے جملے میں وحدانیت الٰہی کی تصدیق ہے ، دوسرے جملہ میں رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق ہے ، جب تک ان دونوں جملوں پر ایمان و تصدیق نہ ہوگا ہرگز ہر گز ایماندار نہیں ہو سکتا، یعنی دل سے سچ سے جاننا اور زبان سے اقرار کرنا ضروری ہے،اگر کسی ایک ضرورت کو انکار کرے گا تو اسلام سے خارج کافر ہوجائے گا ، ضروریات دین کا بیان عقائد میں درج ہوچکا ہے ، ہمارے ذمہ جو کام تھ اس کو لکھ دیئے ، مگر لوگوں میں اس قدر سستی پیدا ہوگئی ہے کہ ان کو ان باتوں کی فکر ہی نہیں
، سنیما کے اشتہاروں کو اچھی طرح یاد رکھتے ہیں ، سنیماکے کہانیاں زبانی تو نقل کرتے ہیں ، مگر مذہبی امور کا تذکرہ کہیں ہوتا ہی نہیں ، اگر سنی مسلمان اس کو یاد رکھتے تو بہتر تھا، اس میں ان کی دینی و دنیوی بہتری تھی خصوصاً ضلع دھارواڑ
کے مسلمان بالکل مذہب سے نابلد ہیں ، کچھ مذہبی معلومات ہے ہی نہیں خیر آئندہ اس کا نفع نقصان خود معلوم ہوجائے گا، مرنے کے بعد پچتانا ہوگا ، مگر کچھ نتیجہ نہیں ۔

یہ کلمہ شریف اصل اور جڑ ہے سب عبادات اس کے سوا بیکار ہے ،
تعلیم متعلم میں لکھا ہے علم حال کی طلب فرض عین ہے یعنی مسلمان جس حال پر ہو اس علم سیکھنا فرض عین ہے ،مثلاً جب مسلمان عاقل اور بالغ ہوجائے اس پر نمازروزوں کے فرائض سیکھنا فرض عین ہے اور نمازموقوف ہے وضو پر اس لئے وضو کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے ،
بالجملہ جس چیز کا شغل رکھتاہے اس پر اس کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے تاکہ اس میں ارتکاب حرام سے محفوظ رہے ، علم کا سیکھنا واجب ہے جس سے امر واجب ادا ہوجائے ۔ ( طحطاوی ) اور درالمختار میں ہے:
اعلم ان تعلم العلم یکون فرض عین وھو بقدر مایحتاج لدینہ ۔
یعنی معلوم کر اے مخاطب سیکھنا علم کا فرض عین ہوتا ہے۔
اس قدر جس کے طرف آدمی محتاج اپنے دین کے واسطے ہو ، یہ سب اوپر مذکور ہوا ۔

وفرض کفایت وھو مازاد علیہ لنفع الغیر ۔
اور علم سیکھنا فرض کفایہ ہے وہ جو اپنے حاجت سے زیادہ ہو ،
غیروں کے نفع کے واسطے ، یعنی ناواقف لوگوں کو بتائے کہ وہ لوگ مہالک اور محرمات سے بچیں ، ایک عالم ہر طرف ہونا ضروری ہے 
تاکہ عوام مسلمین کو ضرورت دین سکھائے ورنہ عوام ضائع ہوجائیں گے ۔
مندربٌ وھو التبحرنی الفقہ وعلم القلب ۔
یعنی اور علم سیکھنا مستحب ہوتا ہے زیادتی ہے ، ( علم حاصل کرنا ) فقہ میں اور دل کے علم میں علم قلب سے مراد ہے ، اخلاق ہے۔
فضائل طلب علم

فضائل طلب علم


فضائل طلب علم





(از حضرت  سید مقبول احمد شاہ قادری مدظلہٗ تعالیٰ )




اللہ عزوجل نے ہر مسلمان عاقل و بالغ پر خواہ مرد ہو یا عورت عبادت فرض کی ہے ، مگر یہ عبادت موقوف ہے علم دین سیکھنے پر بندوں علم دین عبادت کیونکر ہوسکتی ہے ؟ لہٰذا علم دین سیکھنا فرض ہوا، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے،



ماکان المومنین لینفروا کافۃ فلولا نفرمن کل فرفۃ طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا لعلھم یحدزون۔



ترجمہ:  یعنی مسلمانوں کو زیبا نہیں کہ سب کے سب باہر جاویں ، پس کیوں نہیں ہر فرقہ میں سے ایک ٹکڑا جاتا اور فقہ دین حاصل کرتا تاکہ عذاب الٰہی کا ڈر سنائیں اپنی قوم کو جب وہ لوٹ کر اپنے پاس آئے ،
اس امید سے کہ سب اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے پرہیز کریں ، اس آیۂ کریم کے درمیان اللہ پاک نے بعضے مسلمانوں کو باہر جانا فرض کردیا خواہ جہاد کے لئے ہو یا علم دین سیکھنے کے لئے ، اور جہاد میں بھی علم دین سیکھتے تھے ، کیونکہ قرآن مجید کے نزول کا زمانہ تھا،اس آیۂ کریم سے ظاہر ہے کہ طلب علم میں دین ہی کے لئے باہر جانا ہوا ، اللہ پاک نے بعضے مسلمانوں پر باہر جاکر علم دین حاصل کرنا فرض کردیا، جب یہ علماء اپنی قوم کی طرف لوٹ آئیں تو ان لوگوں پرجو وطن اور گھروں میں مقیم ہیں ان علماء کی اتباع ، اوقتداء اور تقلید فرض کردیا، یعنی یہ علماء جو مسائل شرعی ان لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں ان پر ان کو عمل کرنا فرض ہوا اور اس سیکھنے اور سکھانے سے اللہ پاک کی وہ عبادت جو سب پر فرض ہے کمال خوبی کے ساتھ ادا ہوجائے گی
، مذکورئہ بالاآیۂ کریم میں علم دین سیکھنا اور مجتہیدیں کی تقلید کرنا فرض کردیا ، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں:  فاسئلوا ھل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۔




یعنی پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں ، یاد رکھنے والوں سے مراد مجتہدین عظام ہیں، جو قرآن و حدیث کے ماہراور جاننے وا لے ہیں ، نہ یہ مذہب جو مشکوٰۃ شریف کے ایک جزوی ترجمہ سے





بھی پوری طرح واقف نہیں ۔




حدیث نبوی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم طلب علم کے فضائل کے متعلق


فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :


من سلک طریقاً یطلب فیہ علماً سلک اللہ بہ طریقاً الی الجنۃ ۔ (مسلم )



یعنی جو شخص چلے ایک راستہ کہ طلب کرے اس میں علم ، اللہ پاک چلادے اس کو جنت کی راہ ، اور فرمایا فرشتے طلب علم کے کام سے خوش ہوکر اپنے بازوؤں کو اس کے لئے بچھاتے ہیں ۔ ( مسند امام احمد و حاکم )۔



اور فرمایا اگر تو کوئی علم کا باب سیکھے تو اس سے بہتر ہے کہ (100)سو رکعت نفل پڑھے ، ( ابن عبدالبر )، اور فرمایا آدمی کو علم کا کوئی باب سیکھنا اس کے حق میں دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے ، ( ابن حبان ) ، فرمایا:



طلب العلم فریضۃٌ علی کل مسلمٍ ۔ ( ابن ماجہ )



علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ، اور فرمایا علم طلب کرو اگر چین میں ہو یعنی بہت دور ، اور فرمایا کہ علم وہ خزانہ ہے کہ جس کی کنجیاں سوال ہیں ، پس علم کا سوال کرو ، کہ اس میں چار اشخاص کو ثواب ملتا ہے ، اول سوال کرنے والے کو ، دوسرے عالم کو ، تیسرے سننے والے کو ، چوتھے اس کو جو ان سے محبت رکھتا ہو ، (ابونعیم ) ، فرمایا جاہل کو نا چاہئے کہ اپنے جہل پر خوموش بیٹھے رہے اور نہ عالم کو اپنے علم پر خاموش رہنا چاہئے ، یعنی جاہل کو رفع جہالت کے لئے سوال کرنا چاہئے اور عالم کو اس کا جواب دینا چاہئے ، ( طبرانی و ابو نعیم ) حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کی حدیث میں ارشاد ہے کہ مجلس علم میں حاضر رہنا ہزار رکعتیں پڑھنے سے اور ہزار بیماروں کی عیادت اور ہزار جنازوں میں شرکت کرنے سے بہترہے، پس کسی نے عرض کیا کہ قرآن تلاوت کرنے سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا قرآں بدوں علم کے کب مفید؟ ( ابن جوزی ) اور فرمایا جس شخص کو موت آئے کہ وہ اسلام کو زندہ کرنے کے لئے علم سیکھتا ہے تو اس کا اور انبیاء کا درجہ جنت میں ہوگا ، ( دارمی )




آثار طلب علم کے فضائل کے متعلق





حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، میں طالب علم تھا ذلیل تھا ، اب جو میرے پاس لوگ سیکھنے لگے تو عزت والا ہوگیا ، اور اسی طرح ابن ملیکہ نے کہا ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مثل کسی کو نہیں دیکھا ، صورت کو دیکھو تو سب سے اچھی ، اگر گفتگو کریں تو سب سے فصیح اور فتویٰ دیں تو سب سے زیادہ علم والا معلوم ہوتا ہے، ابن مبارک فرماتے ہیں مجھ کو تعجب ہوتا ہے اس شخص پر جو علم کا طالب نہ ہو کہ اس کا نفس اس کو کسی بزرگی کی طرف کیسے بلاتا ہے ؟ بعض حکما کا قول ہے کہ ہم جتنا دو شخصوں پر ترس آتا ہے اور کسی پر نہیں آتا ایک تو اس پر کے علم کا طلب کرتا ہے اور سمجھتا نہیں ، اور ایک اس پر کہ علم سمجھتا ہے مگر اس کی طلب نہیں کرتا، حضرت ابو دردا ء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں ایک مسئلہ سیکھوں تو میرے نزدیک تمام رات کی شب بیداری سے اچھا ہے ، اور یہ بھی انہی کا قول ہے کہ عالم اور طالب علم خیر میں شریک ہیں اور دوسرے لوگ بے سود ہیں ، ان میں کسی کی بہتری نہیں ، اور یہ بھی انہی کا ارشاد ہے ، عالم ہو یا طالب علم یا سننے والا ان تین کے سوا چوتھا مت ہو، ورنہ ہلاک ہوجائے گا ، اور حضرت عطاء کا قول ہے ایک علم کی مجلس ستر مجلس لہو کا کفارہ ہوتی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہزار شب بیدار و ہزار روزہ وار عابدوں کا مرجانا ایسے عالم کے مرنے سے کم ہے جو خدائے تعالیٰ کے حلال و حرام کا ماہر ہو۔





حضرت امام شافعی فرماتے ہیں : علم کا طلب کرنا نفل پڑھنے سے افضل ہے ، اور ابن عبد الحکم نے کہا ہے کہ میں حضرت امام مالک رضی اللہ کے پاس سبق پڑھتا تھا کہ ظہر کا وقت آیا ، میں نے اپنی کتاب نماز پڑھنے کے لئے تہ کی ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے فلاں جس کے لئے تو اٹھا ہے وہ اس سے بہتر نہیں ہے ، جس میں تو تھا ، بشرطیکہ نیت درست ہو، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس کی یہ تجویز ہو کہ طلب علم جہاد نہیں ہے ، وہ اپنی عقل اور تجویز میں ناقص ہے۔





لوگوں کو علم دین سیکھانے کے متعلق





اللہ عزوجل کا ارشاد :



ولینذر واقوقھم اذا رجعو الیھم لعلھم یحذرون ،



یعنی ڈرائیں اپنی قوم کو جب وہ ان کی طرف لوٹ آئیں تاکہ وہ بچتے رہیں ، وہ علماء جب علم حاصل کر کے اپنی قول اور وطن کو لوٹ آئیں گے تو لوگوں کو علم دین کے تعلیم دیں گے ، اللہ پاک کی عبادت کی ترغیب دیں گے، اللہ پاک کے قہر و عذاب سے ڈرائیں گے ، علماء پر لوگوں کو علم دین سکھانا اور تبلیغ فرض ہوا ، ارشاد ہے :



واذا اخذ اللہ میثاق الذین اوقو الکتب لیتبیۃ للناس ولا تکتموانہ،



یعنی اللہ پاک نے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی وعدہ لیا کہ لوگوں میں اس کو بیان کریں اور نہ چھپائیں اسکو لوگوں سے ، اس آیۂ کریم میں علم دین لوگوں کو سکھا اور اس کا فرض ہونا مذکور ہے پھر ارشاد ہوتا ہے:



وان فریقاً منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون۔



البتہ ان میں ایک فرقہ جان بوجھ کر حق کو چھپاتا تھا، اس آیۂ کریم میں اللہ عزوجل نے علم دین چھپانے کی حرمت بیان فرمائی ، پھر ارشاد ہوتا ہے:



ومن یکتمھا فانہ اثم قبلہ۔



یعنی جو کوئی اس شہادت کو چھپائے بے شک اس کا دل گناہ گار ہے، اور فرمایا :



ومن احسن قولاً ممن ۔۔۔۔۔الی اللہ وعمل صالحاً۔



یعنی اس سے بہتر قول کس کا ہوسکتا ہے جس نے بلایا اللہ کی طرف اور کیا نیک کام ، پھر فرماتے ہیں۔



ادع الی الاسبیل ربک بالحکمت والمواعظۃ الحسنہ۔



یعنی بلاؤ لوگو ں کو اپنے رب کی طرف حکمت اور نصیحت کے ساتھ ، اور فرمایا:



ویعلمھم الکتٰب والحکمت۔





یعنی سکھانا ان کو کتاب اور عقلمندی ۔




احادیث نبوی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم تعلیم علم کے متعلق فضائل







فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے : اللہ تعالیٰ نے جب کسی عالم کو تو اس سے وعدہ بھی لے لیا ہے جو نبیوں سے لیاہے، کہ اس لوگوں میں بیان کرو اور نہ چھپاؤ اس کو لوگوں سے ، ( ابو نعیم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا:




لان یھدی اللہ بک رجالاً واحداً خیراً لک من الدنیا وما فیھا۔



( مسند امام احمد اور بخاری مسلم نے بھی یہی مضمون حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کیا ہے) یعنی اگر تیرے سبب سے خدا تعالیٰ ایک آدمی کو ہدایت کرے تو یہ تیرے حق میں دنیا اور اس کے درمیان کے چیزوں سے بہترہے ، اور فرمایا جو شخص علم کا ایک باب اس لئے سیکھے کہ لوگوں کو سکھاوے تو اس کو ستر نبیوں ، صدیقوں کا ثواب دیا جائے گا۔ ( ابو منصور دیلمی )



اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ السلام نے ارشاد فرمایا : جو شخص عالم ہو علم کے بموجب عمل کرتا ہو اور لوگوں کو علم سکھائے وہ آسمان اور زمین کے ملکوت میں عظیم کہلاتا ہے ۔ ( ابوالعباس )



نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے ، جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ عبادت کرنے والوں اور جہاد کرنے والوں سے ارشاد فرمائے گا کہ جنت میں جاؤ ، عالم عرض کریں گے کہ الٰہی انہوں نے ہمارے علم کے طفیل سے عبادت اور جہاد کیا یعنی شایان اکرام ہم ( علماء ) ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا تم میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں کے مثل ہو ، تم شفاعت کرو ، تمہاری شفاعت منظور ہوگی ، پس وہ سفارش کریں گے پھر جنت میں داخل ہوں گے ، اور یہ رتبہ اس علم کا ہے جو تعلیم سے دوسروں کو پہنچے ، اور اس علم کا نہیں جو فقط اس شخص کے ساتھ رہے دوسروں کو نہ پہنچے، اور ایک حدیث شریف میں ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :



ان اللہ عزوجل لاینزع العلم انزاعاً من الناس بعد ان یوتھم ایاہ ولکن یذھب بذھاب العلماء ذھب عالم ذھب بما معہ من العلم حتیٰ اذالم یبق الارؤساء جھالا ان سئلوا افتوا





بغیر علم فیضلون ویضلون ، ( بخاری ، مسلم )



یعنی اللہ اللہ پاک لوگوں سے علم چھین نہیں لیتا ، مگر علماء کو لے جانے سے علم بھی چلاجاتا ہے ، پس جب کوئی عالم چلا جاتا ہے تو اس کے ساتھ علم بھی چلا جاتا ہے ، یہاں تک بجز جاہل سرداروں کے اور کوئی نہیں رہتا ، اور ان سے لوگ پوچھتے ہیں تو بے علمی ہے فتویٰ دیتے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔



فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :



من علم علماً فکتمہ الجمہ اللہ یوم القیامت بلجام من نار۔



یعنی جو شخص کوئی علم سیکھے اس کو چھپائے اللہ تعالیٰ اس کو آگ کی لگام قیامت کے دن دیگا ، اور فرمایا خوب عطا عمدہ ہدیہ کلمہ حکمت ہے ، کس کو تو سنے اور یاد رکھے تو ایک سال کی عبادت کے برابر ہے، ( طبرانی ) اور فرمایا:



الدنیا ملعونۃ ملعون مافیھا لاذکر اللہ سبحانہ وما والاہ او معلماً او متعلماً۔



یعنی دنیا ملعون ہے اور جو چیز اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے ، مگر ذکر اللہ پاک کا اور کو اس کے قریب ہو ، علم دین کی تعلیم دینے والا اور علم دین سیکھنے والا ، اور فرمایا:



ان اللہ سبحانہ ملائکتہ واھل السمواتہ وارضہ حتٰی النملہ فی حجرھا و حتٰی الحوت فی البحر یصلون علیٰ معلم الناس الخیر ۔



یعنی اللہ سبحان تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور اس کے آسمان زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی دریا میں رحمت بھیجتے ہیں ، اس پو جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دے ۔ ( ترمذی )



اور فرمایا مسلمان اپنے بھائی کو اس سے بڑھ کر کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا ہے جو عمدہ بات اس نے سنی ہو وہ دوسرے کو بھی سنادے ۔ ( ابن عبد البر )



اور فرمایا ایماندار اگر ایک کلمہ خیر سنے اور اس کے موجب عمل کرے تو اس کے حق میں ایک برس کی عبادت سے بہتر ہے ۔ ( ابن مبارک )







ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم باہر تشریف لائے ، دومجلسوں کو دیکھا ایک اللہ تعالیٰ سے دعا چاہتی تھی اور اس کی طرف راغب تھی دوسری لوگوں کو کچھ تعلیم دیتی تھی ، آپ نے ارشاد فرمایا : مجلس اول کے لوگ اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں اگر وہ چاہے تو ان کو دے اور چاہے نہ دے، مگر دوسری مجلس والے لوگوں لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں اور مجھ کو بھی اللہ پاک نے تعلیم دینے والا ہی بناکر بھیجا ہے ، پھر آپ تعلیم دینے والی مجلس میں بیٹھ گئے ، ( ابن ماجہ ) فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :




مثل ما بعثنی اللہ عزوجل بہ من الھدی والتعلیم کمثل الغیث اصاب ارضاً وکانت منھا بقعتہ قبلت المائء فانبتت الکلاء والعتب الکثیر وکانت منھا بقعتہ امسکت الماء فینفع اللہ عزوجل بھا الناس فشربوا منھا و ستعوا وزرعوا وکانت منھا بقعۃ قیعان لا تمسک الماء ولا تنیت کلاء۔



یعنی مثال اس چیز کی کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے دیکر بھیجا ہے ، یعنی ہدایت اور تعلیم کی ایسی مثال ہے کہ بہت سی بارش کسی زمین پر برسی اور اور اس میں ایسا ایک ٹکڑا ہے کہ پانی کو جذب کرتا ہے اورگھاس اور لکڑی بہت اگاتا ہے ، اور ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ پانی کو روکے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس پانی سے نفع پہنچاتا ہے کہ خود پئے اور زراعت کرے اور ایک ٹکڑا ایسا ہے نہ پانی کو روکتا ہے نہ اس میں گھاس یا اور کوئی چیز پیدا ہوتی ہے ، ( بخاری ، مسلم )اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علماء کو تین قسم پر تقسیم فرمائی ہے ،ایک جماعت وہ ہے جو اپنے علم کے مطابق خود عمل کریمگر دوسروں کو تعلیم نہ دے ، دوسری جماعت وہ ہے جو خود اپنے علم کے مطابق عمل بھی کرے اور دوسروں کو تعلیم بھی دے ، یہ جماعت سب سے بہتر ہے ، تیسری جماعت وہ ہے جو نہ خود اپنے علم کے مطابق عمل کرے نہ دوسروں کو تعلیم حق دے ، یہ سب سے بدتر ہے ، اور فرمایا:



اذا مات ابن آدم انقطع عملہ الامن ثلٰث علم ینتفع بہ اوصدقہ جاریہ اودلد صالح یدعو لہ بالخیر۔



یعنی جب مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ، مگر تین چیزیں باقی رہتی ہیں ، ایک علم کہ اس





سے فائدہ اٹھایاجاتا ہے یاصدقہ جاریہ یا اولاد صالحہ جو ماں باپ کے لئے دعائے خیر کرے ۔ ( مسلم ) اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ زندوں کی طرف سے مردوں کو ایصال ثواب پہنچتا اور نفع کرتا ہے، ورنہ ترغیب دلانے سے کیا فائدہ؟ بلکہ اس بارے میں نض صریح ہے ، ابوداؤد ، ترمذی شریف کی حدیث ، چنانچہ حضرت سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ میری ماں کا انتقال ہوا ہے ، اس نے کچھ وصیت نہیں کی ان کے لئے کیا صدقہ بہتر ہے ؟ ارشاد ہوا : الماء ، یعنی پانی تب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کنواں کھدوایا اور فرمایا ھذا البیرلام سعد



یعنی یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے، یہ کنواں مدینہ طیبہ کے اندر بہت زمانے تک موجود تھا ، اس کنوئیں کا پانی صحابہ اور تابعین  پئے ، یہ کنواں غیر اللہ کے نام سے پکارا گیا ، العیاذ باللہ صحابہ اور تابعین بد مذہب مرتد وہابیہ کے نزدیک حرام و ناپاک اور نجس پانی پیا ، خدا اس مرتد فرقہ کو غارت کرے ، یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ہوا اگر اس کنوئیں کا پانی حرام ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کا پانی پینے سے منع فرماتے ، منع فرمانا تو درکنار بلکہ ایسے کا رخیر کے لئے بہت ترغیب دلائے ، یہاں پر اس کا ذکر اتفاقاً آیا ہے ، یہ وقت اس کی ذکر کا نہیں ہے حلال خدا کو حرام کرنا اپنے طرف سے ، بدمذہب وہابیہ کا کام ہے ، اس لئے ان کو مسجدوں سے کتّوں کی طرح نکال دیتے ہیں ، یہ ذلت اور رسوائی ان کے لئے دنیا میں ہے ، آخرت میں وہابیہ جہنمیوں کے کتّے بن کر رہیں گے ۔



فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے :



ادال الخیر کفا علہٖ



نیک کام بتانے والا ، نیک کام کرنے کے برابر ہے ۔



 لا یحسدا لافی اثنین رجل آتاہ اللہ عزوجل حکمتا نھو یقضی بھا ویعلمھم الناس ورجل آتاہ اللہ مالا فسلطہ علٰی تھلکۃ فی الخیر ۔ ( ترمذی ، مسلم )



یعنی دوشخصوں پر حسد کیا جاتا ہے ،ایک وہ جو اللہ پاک نے علم وحکمت عطا کیا ہے اور وہ اس کے




مطابق عمل کرتا اور لوگوں کو سکھاتا ہے دوسراوہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے اور وہ اس کو نیک کاموں میں خرچ کرتا ہو اور فرمایا میرے نائبوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت ہو،لوگوں نے ریض کیا کہ آپ کے نائب کون ہیں ؟ وہ لوگ جو میرے طریقہ کو پسند کرتے ہیں ، اور خدا کے بندوں کو سکھاتے ہیں ۔


فضائل طلب علم

فضائل طلب علم

فضائل طلب علم
(از حضرت  سید مقبول احمد شاہ قادری مدظلہٗ تعالیٰ )
اللہ عزوجل نے ہر مسلمان عاقل و بالغ پر خواہ مرد ہو یا عورت عبادت فرض کی ہے ، مگر یہ عبادت موقوف ہے علم دین سیکھنے پر بندوں علم دین عبادت کیونکر ہوسکتی ہے ؟ لہٰذا علم دین سیکھنا فرض ہوا، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے،
ماکان المومنین لینفروا کافۃ فلولا نفرمن کل فرفۃ طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا لعلھم یحدزون۔
ترجمہ:  یعنی مسلمانوں کو زیبا نہیں کہ سب کے سب باہر جاویں ، پس کیوں نہیں ہر فرقہ میں سے ایک ٹکڑا جاتا اور فقہ دین حاصل کرتا تاکہ عذاب الٰہی کا ڈر سنائیں اپنی قوم کو جب وہ لوٹ کر اپنے پاس آئے ،
اس امید سے کہ سب اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے پرہیز کریں ، اس آیۂ کریم کے درمیان اللہ پاک نے بعضے مسلمانوں کو باہر جانا فرض کردیا خواہ جہاد کے لئے ہو یا علم دین سیکھنے کے لئے ، اور جہاد میں بھی علم دین سیکھتے تھے ، کیونکہ قرآن مجید کے نزول کا زمانہ تھا،
اس آیۂ کریم سے ظاہر ہے کہ طلب علم میں دین ہی کے لئے باہر جانا ہوا ، اللہ پاک نے بعضے مسلمانوں پر باہر جاکر علم دین حاصل کرنا فرض کردیا، جب یہ علماء اپنی قوم کی طرف لوٹ آئیں تو ان لوگوں پرجو وطن اور گھروں میں مقیم ہیں ان علماء کی اتباع ، اوقتداء اور تقلید فرض کردیا، یعنی یہ علماء جو مسائل شرعی ان لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں ان پر ان کو عمل کرنا فرض ہوا اور اس سیکھنے اور سکھانے سے اللہ پاک کی وہ عبادت جو سب پر فرض ہے کمال خوبی کے ساتھ ادا ہوجائے گی
، مذکورئہ بالاآیۂ کریم میں علم دین سیکھنا اور مجتہیدیں کی تقلید کرنا فرض کردیا ، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں:  فاسئلوا ھل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۔
یعنی پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں ، یاد رکھنے والوں سے مراد مجتہدین عظام ہیں، جو قرآن و حدیث کے ماہراور جاننے وا لے ہیں ، نہ یہ مذہب جو مشکوٰۃ شریف کے ایک جزوی ترجمہ سے 
بھی پوری طرح واقف نہیں ۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم طلب علم کے فضائل کے متعلق

فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے : 
من سلک طریقاً یطلب فیہ علماً سلک اللہ بہ طریقاً الی الجنۃ ۔ (مسلم )
یعنی جو شخص چلے ایک راستہ کہ طلب کرے اس میں علم ، اللہ پاک چلادے اس کو جنت کی راہ ، اور فرمایا فرشتے طلب علم کے کام سے خوش ہوکر اپنے بازوؤں کو اس کے لئے بچھاتے ہیں ۔ ( مسند امام احمد و حاکم )۔
اور فرمایا اگر تو کوئی علم کا باب سیکھے تو اس سے بہتر ہے کہ (100)سو رکعت نفل پڑھے ، ( ابن عبدالبر )، اور فرمایا آدمی کو علم کا کوئی باب سیکھنا اس کے حق میں دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے ، ( ابن حبان ) ، فرمایا:
طلب العلم فریضۃٌ علی کل مسلمٍ ۔ ( ابن ماجہ )
علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ، اور فرمایا علم طلب کرو اگر چین میں ہو یعنی بہت دور ، اور فرمایا کہ علم وہ خزانہ ہے کہ جس کی کنجیاں سوال ہیں ، پس علم کا سوال کرو ، کہ اس میں چار اشخاص کو ثواب ملتا ہے ، اول سوال کرنے والے کو ، دوسرے عالم کو ، تیسرے سننے والے کو ، چوتھے اس کو جو ان سے محبت رکھتا ہو ، (ابونعیم ) ، فرمایا جاہل کو نا چاہئے کہ اپنے جہل پر خوموش بیٹھے رہے اور نہ عالم کو اپنے علم پر خاموش رہنا چاہئے ، یعنی جاہل کو رفع جہالت کے لئے سوال کرنا چاہئے اور عالم کو اس کا جواب دینا چاہئے ، ( طبرانی و ابو نعیم ) حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کی حدیث میں ارشاد ہے کہ مجلس علم میں حاضر رہنا ہزار رکعتیں پڑھنے سے اور ہزار بیماروں کی عیادت اور ہزار جنازوں میں شرکت کرنے سے بہترہے، پس کسی نے عرض کیا کہ قرآن تلاوت کرنے سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا قرآں بدوں علم کے کب مفید؟ ( ابن جوزی ) اور فرمایا جس شخص کو موت آئے کہ وہ اسلام کو زندہ کرنے کے لئے علم سیکھتا ہے تو اس کا اور انبیاء کا درجہ جنت میں ہوگا ، ( دارمی )

آثار طلب علم کے فضائل کے متعلق 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، میں طالب علم تھا ذلیل تھا ، اب جو میرے پاس لوگ سیکھنے لگے تو عزت والا ہوگیا ، اور اسی طرح ابن ملیکہ نے کہا ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مثل کسی کو نہیں دیکھا ، صورت کو دیکھو تو سب سے اچھی ، اگر گفتگو کریں تو سب سے فصیح اور فتویٰ دیں تو سب سے زیادہ علم والا معلوم ہوتا ہے، ابن مبارک فرماتے ہیں مجھ کو تعجب ہوتا ہے اس شخص پر جو علم کا طالب نہ ہو کہ اس کا نفس اس کو کسی بزرگی کی طرف کیسے بلاتا ہے ؟ بعض حکما کا قول ہے کہ ہم جتنا دو شخصوں پر ترس آتا ہے اور کسی پر نہیں آتا ایک تو اس پر کے علم کا طلب کرتا ہے اور سمجھتا نہیں ، اور ایک اس پر کہ علم سمجھتا ہے مگر اس کی طلب نہیں کرتا، حضرت ابو دردا ء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں ایک مسئلہ سیکھوں تو میرے نزدیک تمام رات کی شب بیداری سے اچھا ہے ، اور یہ بھی انہی کا قول ہے کہ عالم اور طالب علم خیر میں شریک ہیں اور دوسرے لوگ بے سود ہیں ، ان میں کسی کی بہتری نہیں ، اور یہ بھی انہی کا ارشاد ہے ، عالم ہو یا طالب علم یا سننے والا ان تین کے سوا چوتھا مت ہو، ورنہ ہلاک ہوجائے گا ، اور حضرت عطاء کا قول ہے ایک علم کی مجلس ستر مجلس لہو کا کفارہ ہوتی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہزار شب بیدار و ہزار روزہ وار عابدوں کا مرجانا ایسے عالم کے مرنے سے کم ہے جو خدائے تعالیٰ کے حلال و حرام کا ماہر ہو۔
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں : علم کا طلب کرنا نفل پڑھنے سے افضل ہے ، اور ابن عبد الحکم نے کہا ہے کہ میں حضرت امام مالک رضی اللہ کے پاس سبق پڑھتا تھا کہ ظہر کا وقت آیا ، میں نے اپنی کتاب نماز پڑھنے کے لئے تہ کی ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے فلاں جس کے لئے تو اٹھا ہے وہ اس سے بہتر نہیں ہے ، جس میں تو تھا ، بشرطیکہ نیت درست ہو، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس کی یہ تجویز ہو کہ طلب علم جہاد نہیں ہے ، وہ اپنی عقل اور تجویز میں ناقص ہے۔

لوگوں کو علم دین سیکھانے کے متعلق

اللہ عزوجل کا ارشاد :
ولینذر واقوقھم اذا رجعو الیھم لعلھم یحذرون ، 
یعنی ڈرائیں اپنی قوم کو جب وہ ان کی طرف لوٹ آئیں تاکہ وہ بچتے رہیں ، وہ علماء جب علم حاصل کر کے اپنی قول اور وطن کو لوٹ آئیں گے تو لوگوں کو علم دین کے تعلیم دیں گے ، اللہ پاک کی عبادت کی ترغیب دیں گے، اللہ پاک کے قہر و عذاب سے ڈرائیں گے ، علماء پر لوگوں کو علم دین سکھانا اور تبلیغ فرض ہوا ، ارشاد ہے :
واذا اخذ اللہ میثاق الذین اوقو الکتب لیتبیۃ للناس ولا تکتموانہ،
یعنی اللہ پاک نے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی وعدہ لیا کہ لوگوں میں اس کو بیان کریں اور نہ چھپائیں اسکو لوگوں سے ، اس آیۂ کریم میں علم دین لوگوں کو سکھا اور اس کا فرض ہونا مذکور ہے پھر ارشاد ہوتا ہے:
وان فریقاً منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون۔
البتہ ان میں ایک فرقہ جان بوجھ کر حق کو چھپاتا تھا، اس آیۂ کریم میں اللہ عزوجل نے علم دین چھپانے کی حرمت بیان فرمائی ، پھر ارشاد ہوتا ہے:
ومن یکتمھا فانہ اثم قبلہ۔
یعنی جو کوئی اس شہادت کو چھپائے بے شک اس کا دل گناہ گار ہے، اور فرمایا :
ومن احسن قولاً ممن ۔۔۔۔۔الی اللہ وعمل صالحاً۔
یعنی اس سے بہتر قول کس کا ہوسکتا ہے جس نے بلایا اللہ کی طرف اور کیا نیک کام ، پھر فرماتے ہیں۔
ادع الی الاسبیل ربک بالحکمت والمواعظۃ الحسنہ۔
یعنی بلاؤ لوگو ں کو اپنے رب کی طرف حکمت اور نصیحت کے ساتھ ، اور فرمایا:
ویعلمھم الکتٰب والحکمت۔
یعنی سکھانا ان کو کتاب اور عقلمندی ۔

احادیث نبوی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم تعلیم علم کے متعلق فضائل 

فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے : اللہ تعالیٰ نے جب کسی عالم کو تو اس سے وعدہ بھی لے لیا ہے جو نبیوں سے لیاہے، کہ اس لوگوں میں بیان کرو اور نہ چھپاؤ اس کو لوگوں سے ، ( ابو نعیم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا:
لان یھدی اللہ بک رجالاً واحداً خیراً لک من الدنیا وما فیھا۔
( مسند امام احمد اور بخاری مسلم نے بھی یہی مضمون حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کیا ہے) یعنی اگر تیرے سبب سے خدا تعالیٰ ایک آدمی کو ہدایت کرے تو یہ تیرے حق میں دنیا اور اس کے درمیان کے چیزوں سے بہترہے ، اور فرمایا جو شخص علم کا ایک باب اس لئے سیکھے کہ لوگوں کو سکھاوے تو اس کو ستر نبیوں ، صدیقوں کا ثواب دیا جائے گا۔ ( ابو منصور دیلمی )
اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ السلام نے ارشاد فرمایا : جو شخص عالم ہو علم کے بموجب عمل کرتا ہو اور لوگوں کو علم سکھائے وہ آسمان اور زمین کے ملکوت میں عظیم کہلاتا ہے ۔ ( ابوالعباس )
نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے ، جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ عبادت کرنے والوں اور جہاد کرنے والوں سے ارشاد فرمائے گا کہ جنت میں جاؤ ، عالم عرض کریں گے کہ الٰہی انہوں نے ہمارے علم کے طفیل سے عبادت اور جہاد کیا یعنی شایان اکرام ہم ( علماء ) ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا تم میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں کے مثل ہو ، تم شفاعت کرو ، تمہاری شفاعت منظور ہوگی ، پس وہ سفارش کریں گے پھر جنت میں داخل ہوں گے ، اور یہ رتبہ اس علم کا ہے جو تعلیم سے دوسروں کو پہنچے ، اور اس علم کا نہیں جو فقط اس شخص کے ساتھ رہے دوسروں کو نہ پہنچے، اور ایک حدیث شریف میں ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :
ان اللہ عزوجل لاینزع العلم انزاعاً من الناس بعد ان یوتھم ایاہ ولکن یذھب بذھاب العلماء ذھب عالم ذھب بما معہ من العلم حتیٰ اذالم یبق الارؤساء جھالا ان سئلوا افتوا 
بغیر علم فیضلون ویضلون ، ( بخاری ، مسلم )
یعنی اللہ اللہ پاک لوگوں سے علم چھین نہیں لیتا ، مگر علماء کو لے جانے سے علم بھی چلاجاتا ہے ، پس جب کوئی عالم چلا جاتا ہے تو اس کے ساتھ علم بھی چلا جاتا ہے ، یہاں تک بجز جاہل سرداروں کے اور کوئی نہیں رہتا ، اور ان سے لوگ پوچھتے ہیں تو بے علمی ہے فتویٰ دیتے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔
فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :
من علم علماً فکتمہ الجمہ اللہ یوم القیامت بلجام من نار۔
یعنی جو شخص کوئی علم سیکھے اس کو چھپائے اللہ تعالیٰ اس کو آگ کی لگام قیامت کے دن دیگا ، اور فرمایا خوب عطا عمدہ ہدیہ کلمہ حکمت ہے ، کس کو تو سنے اور یاد رکھے تو ایک سال کی عبادت کے برابر ہے، ( طبرانی ) اور فرمایا:
الدنیا ملعونۃ ملعون مافیھا لاذکر اللہ سبحانہ وما والاہ او معلماً او متعلماً۔
یعنی دنیا ملعون ہے اور جو چیز اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے ، مگر ذکر اللہ پاک کا اور کو اس کے قریب ہو ، علم دین کی تعلیم دینے والا اور علم دین سیکھنے والا ، اور فرمایا:
ان اللہ سبحانہ ملائکتہ واھل السمواتہ وارضہ حتٰی النملہ فی حجرھا و حتٰی الحوت فی البحر یصلون علیٰ معلم الناس الخیر ۔ 
یعنی اللہ سبحان تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور اس کے آسمان زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی دریا میں رحمت بھیجتے ہیں ، اس پو جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دے ۔ ( ترمذی )
اور فرمایا مسلمان اپنے بھائی کو اس سے بڑھ کر کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا ہے جو عمدہ بات اس نے سنی ہو وہ دوسرے کو بھی سنادے ۔ ( ابن عبد البر )
اور فرمایا ایماندار اگر ایک کلمہ خیر سنے اور اس کے موجب عمل کرے تو اس کے حق میں ایک برس کی عبادت سے بہتر ہے ۔ ( ابن مبارک )
ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم باہر تشریف لائے ، دومجلسوں کو دیکھا ایک اللہ تعالیٰ سے دعا چاہتی تھی اور اس کی طرف راغب تھی دوسری لوگوں کو کچھ تعلیم دیتی تھی ، آپ نے ارشاد فرمایا : مجلس اول کے لوگ اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں اگر وہ چاہے تو ان کو دے اور چاہے نہ دے، مگر دوسری مجلس والے لوگوں لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں اور مجھ کو بھی اللہ پاک نے تعلیم دینے والا ہی بناکر بھیجا ہے ، پھر آپ تعلیم دینے والی مجلس میں بیٹھ گئے ، ( ابن ماجہ ) فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :
مثل ما بعثنی اللہ عزوجل بہ من الھدی والتعلیم کمثل الغیث اصاب ارضاً وکانت منھا بقعتہ قبلت المائء فانبتت الکلاء والعتب الکثیر وکانت منھا بقعتہ امسکت الماء فینفع اللہ عزوجل بھا الناس فشربوا منھا و ستعوا وزرعوا وکانت منھا بقعۃ قیعان لا تمسک الماء ولا تنیت کلاء۔
یعنی مثال اس چیز کی کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے دیکر بھیجا ہے ، یعنی ہدایت اور تعلیم کی ایسی مثال ہے کہ بہت سی بارش کسی زمین پر برسی اور اور اس میں ایسا ایک ٹکڑا ہے کہ پانی کو جذب کرتا ہے اورگھاس اور لکڑی بہت اگاتا ہے ، اور ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ پانی کو روکے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس پانی سے نفع پہنچاتا ہے کہ خود پئے اور زراعت کرے اور ایک ٹکڑا ایسا ہے نہ پانی کو روکتا ہے نہ اس میں گھاس یا اور کوئی چیز پیدا ہوتی ہے ، ( بخاری ، مسلم )اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علماء کو تین قسم پر تقسیم فرمائی ہے ،ایک جماعت وہ ہے جو اپنے علم کے مطابق خود عمل کریمگر دوسروں کو تعلیم نہ دے ، دوسری جماعت وہ ہے جو خود اپنے علم کے مطابق عمل بھی کرے اور دوسروں کو تعلیم بھی دے ، یہ جماعت سب سے بہتر ہے ، تیسری جماعت وہ ہے جو نہ خود اپنے علم کے مطابق عمل کرے نہ دوسروں کو تعلیم حق دے ، یہ سب سے بدتر ہے ، اور فرمایا:
اذا مات ابن آدم انقطع عملہ الامن ثلٰث علم ینتفع بہ اوصدقہ جاریہ اودلد صالح یدعو لہ بالخیر۔
یعنی جب مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ، مگر تین چیزیں باقی رہتی ہیں ، ایک علم کہ اس 
سے فائدہ اٹھایاجاتا ہے یاصدقہ جاریہ یا اولاد صالحہ جو ماں باپ کے لئے دعائے خیر کرے ۔ ( مسلم ) اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ زندوں کی طرف سے مردوں کو ایصال ثواب پہنچتا اور نفع کرتا ہے، ورنہ ترغیب دلانے سے کیا فائدہ؟ بلکہ اس بارے میں نض صریح ہے ، ابوداؤد ، ترمذی شریف کی حدیث ، چنانچہ حضرت سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ میری ماں کا انتقال ہوا ہے ، اس نے کچھ وصیت نہیں کی ان کے لئے کیا صدقہ بہتر ہے ؟ ارشاد ہوا : الماء ، یعنی پانی تب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کنواں کھدوایا اور فرمایا ھذا البیرلام سعد
یعنی یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے، یہ کنواں مدینہ طیبہ کے اندر بہت زمانے تک موجود تھا ، اس کنوئیں کا پانی صحابہ اور تابعین  پئے ، یہ کنواں غیر اللہ کے نام سے پکارا گیا ، العیاذ باللہ صحابہ اور تابعین بد مذہب مرتد وہابیہ کے نزدیک حرام و ناپاک اور نجس پانی پیا ، خدا اس مرتد فرقہ کو غارت کرے ، یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ہوا اگر اس کنوئیں کا پانی حرام ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کا پانی پینے سے منع فرماتے ، منع فرمانا تو درکنار بلکہ ایسے کا رخیر کے لئے بہت ترغیب دلائے ، یہاں پر اس کا ذکر اتفاقاً آیا ہے ، یہ وقت اس کی ذکر کا نہیں ہے حلال خدا کو حرام کرنا اپنے طرف سے ، بدمذہب وہابیہ کا کام ہے ، اس لئے ان کو مسجدوں سے کتّوں کی طرح نکال دیتے ہیں ، یہ ذلت اور رسوائی ان کے لئے دنیا میں ہے ، آخرت میں وہابیہ جہنمیوں کے کتّے بن کر رہیں گے ۔
فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے :
ادال الخیر کفا علہٖ
نیک کام بتانے والا ، نیک کام کرنے کے برابر ہے ۔
 لا یحسدا لافی اثنین رجل آتاہ اللہ عزوجل حکمتا نھو یقضی بھا ویعلمھم الناس ورجل آتاہ اللہ مالا فسلطہ علٰی تھلکۃ فی الخیر ۔ ( ترمذی ، مسلم )
یعنی دوشخصوں پر حسد کیا جاتا ہے ،ایک وہ جو اللہ پاک نے علم وحکمت عطا کیا ہے اور وہ اس کے 
مطابق عمل کرتا اور لوگوں کو سکھاتا ہے دوسراوہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے اور وہ اس کو نیک کاموں میں خرچ کرتا ہو اور فرمایا میرے نائبوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت ہو،لوگوں نے ریض کیا کہ آپ کے نائب کون ہیں ؟ وہ لوگ جو میرے طریقہ کو پسند کرتے ہیں ، اور خدا کے بندوں کو سکھاتے ہیں ۔
احکام اللہ و سول ﷺ

احکام اللہ و سول ﷺ



احکام اللہ و سول ﷺ





تم کہدو مجھے تو اس بات کا حکم ہوا ہے کہ خالص اللہ ہی کی عباد ت کروں اور اس بات کا بھی میں تابعداروں میں اول رہوں ۔ ، قرآن:پ23۔


رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ انسان کا پرکلام اس کے لئے وبال ہے ( اور) اس کے نفع کی چیز نہیں ہے مگر (نفع کی یہ چیزیں ہیں ) کسی بھلائی کا حکم کرنا ، یابرائی سے روکنا یا اللہ کو یاد کرنا۔ ( ترمذی )


رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ذکر اللہ کے سوا  زیادہ نہ بولا کرو ، کیونکہ ذکر اللہ کے سوا زیادہ کلام کرنے سے دل میں قساوت ( سختی ) پیدا ہوجاتی ہے اور بے شک سب لوگوں میں خدا سے زیادہ دور سخت دل ہی والا ہے ۔ ( مشکوۃ )


رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت کی کنجیاں لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے۔( ترغیب )




تم کہدو کہ عالم اور غیر عالم برابر نہیں ہوسکتے اور نصیحت بھی وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے اور دانا ہیں ۔قرآن پ23)


( ابو سعید و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما) فرمایا حضور انور صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے مرنے والوں کو کلمہ تلقین کرو، ( ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا ) ، فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے اگر تم مریض یا قریب مرگ کے پاس جاؤ تو دعا کرو کیونکہ فرشتے تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں ۔ ( مسلم )


( معاذ بن ابن جبل ) آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کسی کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ( محمد رسول اللہ ) ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ( ابوداؤد )



احکام اللہ و سول ﷺ

احکام اللہ و سول ﷺ

احکام اللہ و سول ﷺ
تم کہدو مجھے تو اس بات کا حکم ہوا ہے کہ خالص اللہ ہی کی عباد ت کروں اور اس بات کا بھی میں تابعداروں میں اول رہوں ۔ ، قرآن:پ23۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ انسان کا پرکلام اس کے لئے وبال ہے ( اور) اس کے نفع کی چیز نہیں ہے مگر (نفع کی یہ چیزیں ہیں ) کسی بھلائی کا حکم کرنا ، یابرائی سے روکنا یا اللہ کو یاد کرنا۔ ( ترمذی )
رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ذکر اللہ کے سوا  زیادہ نہ بولا کرو ، کیونکہ ذکر اللہ کے سوا زیادہ کلام کرنے سے دل میں قساوت ( سختی ) پیدا ہوجاتی ہے اور بے شک سب لوگوں میں خدا سے زیادہ دور سخت دل ہی والا ہے ۔ ( مشکوۃ )
رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت کی کنجیاں لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے۔( ترغیب )
تم کہدو کہ عالم اور غیر عالم برابر نہیں ہوسکتے اور نصیحت بھی وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے اور دانا ہیں ۔قرآن پ23)
( ابو سعید و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما) فرمایا حضور انور صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے مرنے والوں کو کلمہ تلقین کرو، ( ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا ) ، فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے اگر تم مریض یا قریب مرگ کے پاس جاؤ تو دعا کرو کیونکہ فرشتے تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں ۔ ( مسلم )
( معاذ بن ابن جبل ) آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کسی کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ( محمد رسول اللہ ) ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ( ابوداؤد )

السلام علیکم

السلام علیکم




بسم الرحمن الرحیم





السلام علیکم

الحمد للہ !ناظرین محترم
تمام تعریفیں رب کائنات کے لئے جس نے لفظ کن سے کائنات عالم کی تخلیق کی۔ اور بنی نوع انساں کو "لقدکرمنا بنی ادم "کے تاج کرامت سے سرفرازفرمایا۔اوردرودوسلام کے تحفے پیش ہیں حضورسرورکائنات سے کی مقدس بارگاہ میں۔ جن پہ خداکی ساری خدائی فدا ہے۔ ہمیشہ سے رب کائنات کی مشیت رہی ہے کہ جب بھی معاشرہ میں بگاڑپیداہوتارہا تب ایک مردصالح کو لوگوں کو راہ راست پرلانے کے لئے بھیجا۔ ایسا ہی بگاڑوفساد شہرہانگل میں بھی ہوا تھا جس کے تدارک کے لئے ایک مردصالح حضرت پیرسید مقبول احمدشاہ قادری نے شہرہانگل کو اپنا مسکن بنایااورمعاشرہ سے فسادوفتنہ کا سدباب کیا۔بے شمار قربانیاں دیں اور بے انتہاہ صعوبتوں اورپریشانیوں سے دوچار ہوئے۔مگر استقامت کے ساتھ جوڑے رہے۔آپ نے اصلاح مسلم کے لئے ایک رسالہ الرشاد کے نام سے جاری فرمایا۔ جس کے 34شمارے شائع ہوئے۔ حضرت کے ظاہری حیات سے پردہ فرمانے کے بعد الرشاد کاسلسلہ منقطع ہوگیا۔ ہم اہل ہانگل کی بدقسمتی کہ ہم لوگ آپسی نزاع میں الجھے رہے۔اورتقریباً چالیس گزرجانے کے باوجود بھی ہم نے الرشاد جاری نہیں کرسکے ۔خداکاشکرہے کہ اس جانب کچھ نوجوانوں نے توجہ کی اور الرشاد احیاء کے لئے راضی ہوئے۔ان میں خصوصاًتحریک الرشاد کے صدرواراکین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے اس کام کے لئے کمربستہ ہوئے۔۔

محترم دوستو

ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے

والسلام

دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔

جزاک اللہ خیر

صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف

السلام علیکمالحمد للہ !ناظرین محترم

السلام علیکمالحمد للہ !ناظرین محترم

بسم الرحمن الرحیم

السلام علیکم
الحمد للہ !ناظرین محترم
تمام تعریفیں رب کائنات کے لئے جس نے لفظ کن سے کائنات عالم کی تخلیق کی۔ اور بنی نوع انساں کو "لقدکرمنا بنی ادم "کے تاج کرامت سے سرفرازفرمایا۔اوردرودوسلام کے تحفے پیش ہیں حضورسرورکائنات سے کی مقدس بارگاہ میں۔ جن پہ خداکی ساری خدائی فدا ہے۔ ہمیشہ سے رب کائنات کی مشیت رہی ہے کہ جب بھی معاشرہ میں بگاڑپیداہوتارہا تب ایک مردصالح کو لوگوں کو راہ راست پرلانے کے لئے بھیجا۔ ایسا ہی بگاڑوفساد شہرہانگل میں بھی ہوا تھا جس کے تدارک کے لئے ایک مردصالح حضرت پیرسید مقبول احمدشاہ قادری نے شہرہانگل کو اپنا مسکن بنایااورمعاشرہ سے فسادوفتنہ کا سدباب کیا۔بے شمار قربانیاں دیں اور بے انتہاہ صعوبتوں اورپریشانیوں سے دوچار ہوئے۔مگر استقامت کے ساتھ جوڑے رہے۔آپ نے اصلاح مسلم کے لئے ایک رسالہ الرشاد کے نام سے جاری فرمایا۔ جس کے 34شمارے شائع ہوئے۔ حضرت کے ظاہری حیات سے پردہ فرمانے کے بعد الرشاد کاسلسلہ منقطع ہوگیا۔ ہم اہل ہانگل کی بدقسمتی کہ ہم لوگ آپسی نزاع میں الجھے رہے۔اورتقریباً چالیس گزرجانے کے باوجود بھی ہم نے الرشاد جاری نہیں کرسکے ۔خداکاشکرہے کہ اس جانب کچھ نوجوانوں نے توجہ کی اور الرشاد احیاء کے لئے راضی ہوئے۔ان میں خصوصاًتحریک الرشاد کے صدرواراکین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے اس کام کے لئے کمربستہ ہوئے۔۔
محترم دوستو
ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
والسلام
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
جزاک اللہ خیر
صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف
رابطہ

رابطہ

بسم الرحمن الرحیم

آپ کے ہر ممکن تعاون کی ہمیں ضرورت ہے۔
Tanzeem-ur-Rashad
C/o Karnatak Hardware
Usmaniya Complex, (hollati Building)
Near State bank of India) Azad Nagar HANGAL-581104
Dist: Haveri, Karnatak State, Inda
Mobile:+918867928867, Email: gulamrabbbanifida@gmail.com ۔۔
محترم دوستو
ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
والسلام
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
جزاک اللہ خیر
صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف
ہمارے مقاصد

ہمارے مقاصد




بسم الرحمن الرحیم


ہمارے مقاصد ومنصوبے




الحمد للہ !ناظرین محترم

اعلیٰ حضرت شاہ کشمیری کے فکرومشن کی ترجمان تحریک

تنظیمِ الرشادہانگل شریف

شہرہانگل شریف کاحال ہرشہری پہ واضح ہے ۔چوالیس سال میں شاہِ کشمیری پہ کتناکام ہوا بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔جولو
گ شاہ کشمیری پہ کام کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس وسائل کی کمی ہے اور جن کی پاس وسائل ہیں وہ اس طرف توجہ نہیں دینا چاہتے۔اعلیٰ حضرت کی حیات وخدمات پر چوالیس سال میں جو کچھ کام ہوا وہ نہ کے برابر ہواہے۔ کچھ نوجوان طبقہ نے اس کام کے لئے کمرباندھ لی ہے۔واضح ہوکہ ہمارا مقصد اہل سنت میں انتشار برپاکرنا نہیں بلکہ ٹھوس وتحقیقی کام کرناہے۔نئی نسل اسلاف سناشی سے دور ہوتی جارہی ہے ان تک پیغام اعلیٰ حضرت ،فکر اعلیٰ حضرت پہونچاناہے۔ الحمدللہ الرشادکاآغازکیا جاچکاہے۔تمام علما وقلمکاروں سے قلمی تعاون کی درخواست کی جاتی ہے۔آئندہ شمارہ شاہ کشمیری نمبرہوگا ۔نیز ہمارے مقاصد مندجہ ذیل ہیں۔
ہمارے مقاصدومنصوبے
{1}اعلیٰ حضرت شاہ کشمیری کے فکرومشن کوفروغ دینا
{2}اعلیٰ حضرت کی خدمات وحیات کو عالم اسلام میں تعارف کروانا۔
{3}اعلیٰ حضرت کی حیات وخدمات پر یونیورسٹیوں میں ایم فل، پی ایچ ڈی کروانا۔
{4}اعلیٰ حضرت سے متعلقہ کام کرنے والوں کی ہمت افزائی وحسب استطاعت تعاون کرنا۔
{5}اعلیٰ حضرت کی حیات وخدمات پر کانفرنسیس، سیمنارس منقعد کرنا۔
{6}ہرماہ عرس مقبولی منانا



{7}الرشاد کے مکمل شمارے شائع کرنا
{8}الرشاد کا پھر سے احیا وآغاز کرنا۔
{9}اعلیٰ حضرت کی تحریروں وکتب ورسائل کو لائبریری وتحقیقی اداروں تک پہنچانا۔
{10}مقبولیہ ڈیجٹیل لائبریری (عصری تقاضوں پرمشتمل) قائم کرنا۔
{11}ادارہ تحقیقا تِ مقبول (مقبولیہ ریسرچ سنٹر)کاقیام
{12}اعلیٰ حضرت وخانوادۂ اعلیٰ حضرت کی علمی وفکری کاوشوں، سوانح حیات شائع کرنا۔
{13}اعلیٰ حضرت کی یادگار چیزوں کی تحفظ وبقا
ہمارا مقصد ہے فکرمقبولی گھرگھر پھیلے
صدرواراکین تنظیمِ الرشادہانگل شریف
www.maqbooliya.tk
FaceBook Like Page
محترم دوستو


ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے

والسلام

دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔

جزاک اللہ خیر

صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف

ہمارے مقاصد

ہمارے مقاصد

بسم الرحمن الرحیم

ہمارے مقاصد ومنصوبے
الحمد للہ !ناظرین محترم
اعلیٰ حضرت شاہ کشمیری کے فکرومشن کی ترجمان تحریک
تنظیمِ الرشادہانگل شریف
شہرہانگل شریف کاحال ہرشہری پہ واضح ہے ۔چوالیس سال میں شاہِ کشمیری پہ کتناکام ہوا بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔جولو
گ شاہ کشمیری پہ کام کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس وسائل کی کمی ہے اور جن کی پاس وسائل ہیں وہ اس طرف توجہ نہیں دینا چاہتے۔اعلیٰ حضرت کی حیات وخدمات پر چوالیس سال میں جو کچھ کام ہوا وہ نہ کے برابر ہواہے۔ کچھ نوجوان طبقہ نے اس کام کے لئے کمرباندھ لی ہے۔واضح ہوکہ ہمارا مقصد اہل سنت میں انتشار برپاکرنا نہیں بلکہ ٹھوس وتحقیقی کام کرناہے۔نئی نسل اسلاف سناشی سے دور ہوتی جارہی ہے ان تک پیغام اعلیٰ حضرت ،فکر اعلیٰ حضرت پہونچاناہے۔ الحمدللہ الرشادکاآغازکیا جاچکاہے۔تمام علما وقلمکاروں سے قلمی تعاون کی درخواست کی جاتی ہے۔آئندہ شمارہ شاہ کشمیری نمبرہوگا ۔نیز ہمارے مقاصد مندجہ ذیل ہیں۔
ہمارے مقاصدومنصوبے
{1}اعلیٰ حضرت شاہ کشمیری کے فکرومشن کوفروغ دینا
{2}اعلیٰ حضرت کی خدمات وحیات کو عالم اسلام میں تعارف کروانا۔
{3}اعلیٰ حضرت کی حیات وخدمات پر یونیورسٹیوں میں ایم فل، پی ایچ ڈی کروانا۔
{4}اعلیٰ حضرت سے متعلقہ کام کرنے والوں کی ہمت افزائی وحسب استطاعت تعاون کرنا۔
{5}اعلیٰ حضرت کی حیات وخدمات پر کانفرنسیس، سیمنارس منقعد کرنا۔
{6}ہرماہ عرس مقبولی منانا
{7}الرشاد کے مکمل شمارے شائع کرنا
{8}الرشاد کا پھر سے احیا وآغاز کرنا۔
{9}اعلیٰ حضرت کی تحریروں وکتب ورسائل کو لائبریری وتحقیقی اداروں تک پہنچانا۔
{10}مقبولیہ ڈیجٹیل لائبریری (عصری تقاضوں پرمشتمل) قائم کرنا۔
{11}ادارہ تحقیقا تِ مقبول (مقبولیہ ریسرچ سنٹر)کاقیام
{12}اعلیٰ حضرت وخانوادۂ اعلیٰ حضرت کی علمی وفکری کاوشوں، سوانح حیات شائع کرنا۔
{13}اعلیٰ حضرت کی یادگار چیزوں کی تحفظ وبقا
ہمارا مقصد ہے فکرمقبولی گھرگھر پھیلے
صدرواراکین تنظیمِ الرشادہانگل شریف
www.maqbooliya.tk
FaceBook Like Page
محترم دوستو
ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
والسلام
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
جزاک اللہ خیر
صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف
خیر مقدم

خیر مقدم


تنظیم الرشاد ہانگل شریف
صفحۂ اول رسالہ الرشاد تعارف اعلیٰ حضرت ہمارے مقاصد میڈیا کتب خانہ
رابطہ ریڈیو ڈاونلوڈ اردوفونٹ
بسم الرحمن الرحیم
image

السلام علیکم
الحمد للہ !ناظرین محترم
تمام تعریفیں رب کائنات کے لئے جس نے لفظ کن سے کائنات عالم کی تخلیق کی۔ اور بنی نوع انساں کو "لقدکرمنا بنی ادم "کے تاج کرامت سے سرفرازفرمایا۔اوردرودوسلام کے تحفے پیش ہیں حضورسرورکائنات سے کی مقدس بارگاہ میں۔ جن پہ خداکی ساری خدائی فدا ہے۔ ہمیشہ سے رب کائنات کی مشیت رہی ہے کہ جب بھی معاشرہ میں بگاڑپیداہوتارہا تب ایک مردصالح کو لوگوں کو راہ راست پرلانے کے لئے بھیجا۔ ایسا ہی بگاڑوفساد شہرہانگل میں بھی ہوا تھا جس کے تدارک کے لئے ایک مردصالح حضرت پیرسید مقبول احمدشاہ قادری نے شہرہانگل کو اپنا مسکن بنایااورمعاشرہ سے فسادوفتنہ کا سدباب کیا۔بے شمار قربانیاں دیں اور بے انتہاہ صعوبتوں اورپریشانیوں سے دوچار ہوئے۔مگر استقامت کے ساتھ جوڑے رہے۔آپ نے اصلاح مسلم کے لئے ایک رسالہ الرشاد کے نام سے جاری فرمایا۔ جس کے 34شمارے شائع ہوئے۔ حضرت کے ظاہری حیات سے پردہ فرمانے کے بعد الرشاد کاسلسلہ منقطع ہوگیا۔ ہم اہل ہانگل کی بدقسمتی کہ ہم لوگ آپسی نزاع میں الجھے رہے۔اورتقریباً چالیس گزرجانے کے باوجود بھی ہم نے الرشاد جاری نہیں کرسکے ۔خداکاشکرہے کہ اس جانب کچھ نوجوانوں نے توجہ کی اور الرشاد احیاء کے لئے راضی ہوئے۔ان میں خصوصاًتحریک الرشاد کے صدرواراکین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے اس کام کے لئے کمربستہ ہوئے۔۔
محترم دوستو
ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
والسلام
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
جزاک اللہ خیر
صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف
گلزارِ نعت کاایک تنقیدی جائزہ

گلزارِ نعت کاایک تنقیدی جائزہ



گلزارِ نعت کاایک تنقیدی جائزہ



مبصر؛ڈاکٹرمحمد حسین مُشاہدؔ رضوی، مالیگاؤں09021761740






جنوبی ہند کے نو عمر و تازہ کار نعت گو شاعر و ادیب ، عالم و صحافی مولانا غلام ربانی فداؔ صاحب نے دنیاے ادب کے لیے اپنی تقدیسی شاعری کا اولین دل کش ودل نشین تحفہ ’’گلزارِ نعت‘‘ کے نام سے پیش کیا ہے ۔ جو اپنے دامن میں الفت و عقیدتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تعظیم و توقیرِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے خوش نما گوہرہاے آب دار لیے ہوئے ہے۔فدا ؔ صاحب نے ’’گلزارِ نعت‘‘ کا انتساب جہانِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوب کر طلوع ہونے والے درخشاں ستاروں کے نام کرتے ہوئے اپنے اولین و حسین گلدستۂ عقیدت و محبت کو ان مقدس ہستیوں کے نام نذرانۂ عقیدت کیا ہے جن کی آنکھیں حسرتِ دیدارِ گنبدِ خضرا میں خاموش و پُرسکوں راتوں میں اشکوں کے گوہرِ نایاب لُٹا تی ہیں۔ فداؔ صاحب کا یہ والہانہ اظہاریہ عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دربارِ مدینہ کی حاضری کے لیے بے قرار دلوں کے تئیں ان کے مخلصانہ سوزِ دروں کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے ۔ فدا ؔ صاحب کا یہ خوب صورت اور پاکیزہ تصور و تخیل آپ کے سچے عاشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اورمخلص خادمِ نعت ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ 

نعت گوئی ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں؛ بل کہ یہ شرف اسی سعادت مند کو حاصل ہوتا ہے جس پر فضلِ خداوندی اور فیضِ جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی پُر نور چادر سایا کناں ہوتی ہے۔ سچ کہا ہے کہنے والوں نے کہ نعت گوئی کسبی نہیں بل کہ وہبی چیز ہے ۔ اچھے اچھے نام ور شعرا بھی اس میدان میں اپنا فکری و فنی اظہاریہ پیش کرنے سے گریز کرتے نظر آتے ہیں ۔ فداؔ صاحب لائقِ تحسین و آفرین ہیں کہ انھوں نے انتہائی قلیل عمری میںمیدانِ نعت گوئی میں قدم رکھا اور کامیابی کی منزلیں پار کررہے ہیں؛ جس کا ثبوت پیشِ نظر مجموعۂ کلام ’’گلزارِ نعت ‘‘ ہے ۔ ۱۹۸۸ء میں آنکھ کھولنے والا یہ نوعمر شاعر بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میںجن شاعرانہ نزاکتوں اورفنی لطافتوں کے ساتھ نغمہ سرا و نوا سنج ہے ۔ ان کو دیکھتے ہوئے عقل متحیر ہوئے بغیر نہیں رہتی ۔کہیں کہیں زبان و بیان کی خامیاں راہ پاگئی  ہیں لیکن کہیں کہیں یہ احساس ابھرتا ہے کہ یہ اتنی کچی عمر کے شاعر کا کلام ہے یا بڑی عمر کے کسی کہنہ مشق شاعرکا …     

’’گلزارِ نعت ‘‘ میں شامل نعتیہ کلام شاعرِ محترم کی ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے الفت و عقیدت کے اظہار میں محتاط رویوں کا حامل نظر آتا ہے۔ آپ نے نعتیہ شاعری کے اصول و ضابطہ کو فنی و شعری مہارت کے ساتھ برتنے میں کامیابی کا مظاہرہ کیا ہے۔ چوں کہ آپ نے نعتیہ ادب کا وسیع مطالعہ و مشاہدہ کیا ہے۔نعتیہ ادب پر جاری کتابی سلسلوں کو گہرائی سے پڑھا اور پرکھا ہے۔ساتھ ہی ساتھ آپ خود بھی ہندوستان سے حمد و نعت کے حوالے سے پہلے معیاری ادبی رسالہششماہی ’’جہانِ نعت‘‘ کے مدیرِ اعلیٰ ہیں ۔ مذکورہ رسالہ میں نعت، آدابِ نعت، تنقیدِ نعت ، نعتیہ کلام میں موضوع روایتیں اور نعتیہ ادب میں احتیاط کے تقاضے وغیرہ جیسے روشِ عام سے منفرد اور جداگانہ موضوعات پر مضامین و مقالات کی کہکشاں سجی رہتی ہے۔ جس شاعر و مدیر کی ادارت میں شائع ہونے والےششماہی رسالہ میں اس قسم کے مضامین کی اشاعت عمل میں آتی ہو اس کے کلام میں حزم و احتیاط کا پایا جانا ضروری ہوجاتا ہے کہ دوسروں کو نصیحت کرتے ہوئے خود عمل کرنا بہتر ہوتا ہے ۔ بہ ایں سبب جب ہم ’’گلزارِ نعت ‘‘ کا انتقادی جائزہ لیتے ہیں تو یہ امر مترشح ہوتا ہے کہ شاعر نے اپنے عقائد و نظریات اور جذباتِ محبت و الفت کے بیان میں موضوع و من گھڑت واقعات و قصص سے اجتناب برتا ہے ۔ ’’گلزارِ نعت‘‘کووارداتِ قلبی اور اظہارِ عشق میں نعتیہ ادب کی قابلِ احترام اور پاکیزہ روایتوں کی علم برداری کا اشاریہ بنانے میں فداؔ صاحب کامیاب و کامران دکھائی دیتے ہیں۔

غلام ربانی فداؔ نے اپنی نعتوں کے حوالے سے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزگی و نفاست ، حسن اخلاق،اسوۂ حسنہ، جلال و جمال، معجزات و کمالات، اختیارات و تصرفات، جود و سخا، عفو ودرگزر، لطف و عطاکے علاوہ فراقِ حبیب (ﷺ)، ہجرِ دربارِ رسول(ﷺ) ، آپ سے استغاثہ و فریاد ، احساسِ گناہ، شفاعت طلبی،  اصلاحِ معاشرہ، انقلابِ امت وغیرہ جیسے موضوعات کو پیش کیا ہے۔ ’’گلزارِنعت‘‘ میں نعتیہ کلام کے علاوہ مناقب وقصائد کی فصلِ بہاری بھی مشامِ جاں کو معطر کرتی ہے ، فداؔ نے اپنے بزرگوں کے ساتھ جس ارادت و عقیدت کا شاعرانہ اظہار کیا ہے اس کے پُرخلوص ہونے سے انکار ممکن نہیں ہے۔ 

بہ اعتبارِ مجموعی فداؔ صاحب کی نعت گوئی تصنع و بناوٹ ، افراط و تفریط اور مبالغہ آرائی سے پاک و صاٖف ہے ۔ آپ کے اشعار عقیدت و محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینہ دار ہیں ۔بعض بحریں دل آویز و مترنم ہیں ۔الفاظ و تراکیب کا رکھ رکھاو بھی دل کش و دل نشین ہے۔ آپ کی یہ شعری کاوش قابلِ ستایش ہے ۔ اتنی کم عمری میں ایسا عمدہ ذخیرۂ نعت و منقبت اہلِ علم و دانش کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں یقیناکامیابی حاصل کرے گا۔ کتاب معنوی لحاظ سے خوب صورت تو ہے ہی ، صوری لحاظ سے اسے دیدہ زیب بنانے میں مزید کوشش کی جاسکتی تھی ۔کمپوزنگ اور سیٹنگ کی طرف سے بے اعتنائی نہ برتیں تو بہتر ہوگا ۔ قاری کو کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے جمالیاتی پہلو بھی متاثر کرتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ آیندہ اس سمت بھی توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔ بہ ہر کیف! میں فداؔ صاحب کو ’’گلزارِ نعت‘‘ کی اشاعت پر ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں ۔ شاعرانہ نزاکتوں اور لطافتوں کومشق و ریاضت سے مزیدنکھارتے ہوئے اظہارِ عقیدت و محبت میں فدا ؔ صاحب مستقبل کے بہترین نعت گو شاعر کی حیثیت سے دنیاے ادب میںمقامِ اعتبار حاصل کرتے ہوئے سرخ رُو ہوسکیں؛ یہی میری دلی تمنا اور دعاے قلبی ہے۔اخیر میں ’’گلزارِ نعت‘‘ سے چند اشعار نشانِ خاطر کرتے ہوئے لطف و سرور حاصل کریں      ؎

ہم نے بزمِ خیال سے اپنی

لذتِ یادِ مصطفیٰ مانگی

دل میں یہ آرزو لئے زندہ ہوںآج تک

سرکارمیرے گھرمیںہوں،ایسی بھی شام ہوں

جوشمع یادِنبی کی جلائی جاتی ہے

توروشنی کی کرن دل پہ چھائی جاتی ہے

صرف ہو شوقِ عبادت نہ رہے زر کی ہوس

اور دل سے نہ کبھی الفتِ سرورجائے

نیچی نظریںکئے دربارمیںہم آتے ہیں

غم کے مارے ہیںلیے سیکڑوںغم آتے ہیں

ہم کو سرکاربچالیجے کہ ظالم انساں

ہم پہ کرنے کے لئے مشقِ ستم آتے ہیں

تاریک جو راہیں ہیں ہوجائیںگی وہ روشن

سرکار کی یادوں کو ہم راہِ سفر  رکھئیے

نظر کے سامنے جب گنبدِخضریٰ رہے گاتو

زباں خاموش ہوگی اور یہ دل بولتا ہوگا

عشقِ احمد میں ہوئے گم توحقیقت یہ ہے

نعت گوئی میں عجب ہم کو مزہ  ملتا ہے

پڑھتے رہتے ہیں عقیدت سے درود اورسلام

غنچۂ حسرت و ارمان کھلا ملتا ہے

دونوں جہاں کے وہ قاسم ہیں پھربھی چٹائی کا بستر 

فاقوںمیں مسکانے والے میرے آقا میرے حضور

میں جب بیٹھتا ہوںفداؔنعت لکھنے

تو موتی سے جھڑتے ہیں نوکِ قلم سے

ان کا غلام ہوں میںیہ اعزازکم نہیں ہے

آقاکامیرے مجھ پر کس دم کرم نہیں ہے

کیا ان کی بڑائی کا ہوذکر فداؔہم سے

بس بعدِ خدا ان کا رتبہ ہی بڑا دیکھا




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular