Showing posts with label اپنے لختِ جگر کے لیے. Show all posts
Showing posts with label اپنے لختِ جگر کے لیے. Show all posts
خاطرمدارات اور واعظ نافع کی صفات

خاطرمدارات اور واعظ نافع کی صفات


خاطرمدارات اور واعظ نافع کی صفات


پسرعزیز!  لوگوں کی بہترین خاطر و مدارات کرنا،مگر ان سے دور رہنے کی پوری پوری کوشش کرنا،کیوں کہ عزلت نشینی برے دوستوں کی صحبت کے مقابلے میں راحت رساں ہوتی ہے اور اس سے تمہارا وقار لوگوں کی نگاہوں میں بحال رہتا ہے۔
ایک واعظ کے لیے بطورِ خاص یہ ضروری ہے کہ وہ فضول گو نہ ہو،لوگوں کے سامنے نازیبا حرکت نہ کرے، بازاروں کے چکر نہ لگائے،اور زیادہ نہ ہنسا کرے۔ تاکہ اس کے ساتھ حسن ظن قائم رہے اور لوگ اس کی بابت اچھا گمان رکھیں،  اس طرح اس کا وعظ و بیان اُن کے قلب و باطن کی گہرائی میں اُترسکے گا۔
ہاں اگر کسی خاص ضرورت کے پیش نظر لوگوں میں جانا پڑ جائے تو حلم کو اپنا امام بناؤ اور بردباری کے ساتھ ان سے پیش آؤ،کیوں کہ اگر تمہیں ان کا اخلاق و کردار معلوم ہو جائے تو تم ان کی خاطرخواہ آؤ بھگت نہ کرسکوگے۔
حقوق کی اَدائیگی اور معاملات کی رعایت
عزیز از جان!  بیوی و بچے اور اہل قرابت میں جس کے جو حقوق بنتے ہوں ان کی اَدائیگی میں کسی تساہلی سے کام نہ لینا۔اور اپنے لمحات اور گھڑیوں کامحاسبہ کرتے رہنا کہ وہ کس کام میں صرف ہو رہی ہیں۔بھرپور کوشش کرنا کہ وہ اچھے اور قابل تعریف کاموں میں گزریں۔ اپنے نفس کو آزاد نہ چھوڑ دو،بلکہ اسے کارِ خیر اور نیکیوں پراُکساتے رہو،اور اپنی قبر کی کوٹھری میں آسودہ حال رہنے کے لیے جوبن پڑے آگے بھیج دو،تاکہ وہاں پہنچ کر آرام وسکون پاؤ۔بزبانِ شاعر  :
                        يا من بدنياه  انشَغَل
                        يا من غَرَّه طُول الامَل
                                                                                                المَوتُ يَاتي بَغتَةً
                                                                                                وَالقبرُ صُندوقُ العمَل
            یعنی اے وہ شخص! جو دنیا میں پورے طور پر مشغول و منہمک ہے اور لمبی لمبی اُمیدوں نے دھوکے کے جال میں پھنسارکھاہے۔
یاد رہے کہ موت ہمیشہ اچانک آتی ہے، اور قبر عمل کا صندوق ہے،(لہٰذا دیکھ لو کہ اپنے صندوق میں کیا کچھ بھیج رہے ہو)۔
ہمیشہ معاملات کے انجام کو دیکھو، ایسی صورت میں پسند وناپسند چیز پر صبر کرنا تمہیں آسان ہو گا۔جب نفس غفلت کیشی شروع کر دے اور نیکیوں میں دلچسپی لینا چھوڑ دے تو گورِ گریباں کی سیرکوچلے جایا کرو، اور اسے اپنے سانحہ موت کی یاد دہانی کراتے رہو۔
اصل مدبر حقیقی تو پروردگار ہے تاہم جب کوئی معاملہ درپیش ہو تو تدبیر کر کیا کرو کہ کہیں تمہارے اِنفاق میں اِسراف کی آمیزش تو نہیں ہے، تاکہ لوگوں کا محتاج نہ بننا پڑے،کیوں کہ ہمارا دین‘ مال کی حفاظت کاسبق بھی دیتا ہے۔ اپنے وارثوں کو محتاج بنانے سے بہتر ہے کہ اپنے بعد ان کے لیے کچھ چھوڑ جاؤ۔


(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
حفظ و صدق کی اہمیت

حفظ و صدق کی اہمیت


حفظ و صدق کی اہمیت


راحت دل و جاں ! تجھے پتا ہو گا کہ میں نے کوئی سوکتابیں تصنیف کی ہیں،  ان میں سے کچھ تو بہت ضخیم ہیں جیسے بیس جلدوں پر مشتمل ’’تفسیرکبیر‘‘۔بیس جلدوں میں ’’تاریخ‘‘ یوں ہی بیس جلدوں میں پھیلی ’’تہذیب المسند‘‘ اور کچھ کتابیں پانچ جلدوں کی ہیں،  کچھ چار کی،  کچھ تین کی اور کچھ دو کی یوں ہی کم و بیش۔
تمہارے باپ کا یہ ورثۂ  تصنیف تمہیں از خود کتابیں لکھنے یا کتابیں خریدنے اور  دوسروں سے عاریۃً لینے سے بے نیاز کر دے گا،لہٰذا اِن کتابوں کی حفاظت کے ساتھ انھیں اپنے قلب و باطن میں جگہ دو،کیوں کہ جو بچ جاتا ہے وہی اصل مال ہوتا ہے، اور خرچ کرنے سے نفع ہوتا ہے۔اور اللہ کے کرم پر اعتماد کر کے ان دونوں حالتوں میں صدق کا دامن ہاتھ میں تھامے رہنااوراس کے حدود و حقوق کا خیال رکھنا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :
إنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ(سورۂ  محمد: ۴۷؍۷)
اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا۔
فَاذْکُرُونِي أذْکُرْکُمْ (سورۂ  بقرہ:۲؍ ۱۵۲)
سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔
وَ أوفُوا بِعَہْدِيْ أُوفِ بِعَہْدِکُمْ (سورۂ  بقرہ: ۲؍۱۴۰)
اور تم میرے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کرو میں تمہارے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کروں گا۔



(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
علم و عمل کا باہمی رشتہ

علم و عمل کا باہمی رشتہ


علم و عمل کا باہمی رشتہ


بیٹے!  اپنے حوصلہ و ہمت کو بال و پر دے کر فضل و کمال کی فضاؤں میں مائل پرواز ہو جا۔دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جو زہد کے دروازے سے آگے نہیں بڑھنا چاہتے،اور کچھ لوگ تو( عمل سے بے پروا ہو کر)محض علم کے پیچھے پڑ گئے،مگر اس سے آگے کچھ عالی بخت وہ ہیں جنھوں نے علم کامل کے ساتھ عمل صالح کو بھی پروان چڑھایا۔
تیری معلومات کے لیے بتائے دیتا ہوں کہ مجھے تابعین اور اُن کے بعد کے لوگوں کی سیرت وسوانح پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے،لیکن چارنفوسِ قدسیہ سے بڑھ کر فضل و کمال کا حامل میں نے کسی کو نہ دیکھا : سعید بن مسیب (م۹۴ھ)، سفیان ثوری(م۲۶۱ھ)، حسن بصری(م۱۱۰ھ) اور احمد بن حنبل(م۲۴۱ھ)-علیہم الرحمۃ والرضوان- اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے عزم و اِرادے فولاد کی مانند تھے اور وہ صحیح معنوں میں مردِ میداں تھے،مگر وہ حوصلے اور ہمتیں اب ہم میں جواب دے گئیں۔
اسلافِ کرام میں ایسے بہت ہوئے ہیں جو عزم و ایقان کے دھنی تھے۔اگر تمہیں ان کے احوال و کوائف کی سچی جستجو ہو تو میری کتاب ’’صفۃ الصفوۃ‘‘ میں تلاش کر کو،ورنہ میں نے ’’اخبارِ سعید‘‘،اخبارِ سفیان‘‘ اور ’’اخبارِ احمد بن حنبل‘‘ کے نام سے الگ الگ کتابیں بھی مرتب کی ہیں وہاں سے شہدِ معلومات کشید کر کو۔




(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
خلوت نشینی اور علم

خلوت نشینی اور علم


خلوت نشینی اور علم


تنہائی و عزلت نشینی کو اپنے اوپر لازم کر کو،کیوں کہ اس سے خیر کے چشمے پھوٹتے  ہیں۔ برے اور بے فیض دوستوں کی صحبت سے کلیۃً اجتناب کرو،بہتر تو یہی ہے کہ کتابوں کواپنادوست،  اور اَسلافِ کرام کی سیرتوں کو اپنا آئیڈیل بناؤ۔ ایسے علم و فن کو اپنے گرد نہ بھٹکنے دو جس سے پہلوں کی عظمتوں پر آنچ آتی ہو، اور علم و عمل کو کارآمد بنانے میں اَرباب فضل و کمال کی سیرت و سوانح سے روشنی حاصل کرو،اس سے کم پر کبھی راضی نہ ہونا۔دیکھو کسی شاعر نے کیسے پتے کی بات کہی ہے  :
وَ لم ارَ في عُيوب الناس شيئًا
كنقص القادرين علَی التَّمَام
یعنی کام کو بحسن و خوبی انجام دینے پر قدرت رکھنے والوں کی کوتاہی کے مثل میں نے لوگوں میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔
پسر ارجمند!  اس بات کو دِل کی تختی پر  بٹھا لے کہ نورِ علم نے نہ معلوم کتنے بے نشانوں کے گھر روشن کر دیے ہیں۔ دنیائے تاریخ میں ایسے اَرباب علم کی ایک لمبی فہرست ہے جن کے حسب و نسب کا کوئی اَتاپتا نہیں اور حسن و جمال کی انھیں ہوا تک نہیں لگی،لیکن وہ قوم کے اِمام ہوئے۔ شاید تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عطا بن ابی رباح (م۱۱۴ھ) کتنے سیاہ فام اور مکروہ خلقت تھے!۔
ایک مرتبہ خلیفہ وقت سلیمان بن عبد الملک (م۹۹ھ) اپنے دو صاحبزادوں کے ساتھ ان کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو وہ ان سے دین کے مسائل پوچھنے لگے تو انھوں نے ان سے بات چیت توکی مگر اخیر وقت تک اپنا چہرہ اُن سے چھپائے رکھا۔ چنانچہ خلیفہ سلیمان کو اپنے بچوں سے کہنا پڑا: چلوا َب چلتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے طلب علم کا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ جائے۔ میں اس سیاہ فام غلام کے سامنے اپنی ذلت بھول نہیں سکتا۔
اور وقت کی عظیم و جلیل ہستی حضرت حسن بصری  ۱۱۰ھ)کون تھے؟ ایک غلام ہی تو۔ یوں ہی ابن سیرین (م۱۱۰ھ)،شیخ مکحول (م۱۱۲ھ) اور بہت سے دیگر اکابر،مگر انھیں جو عزت و وقار ملا اور لوگوں کے دل میں اُن کی عظمت  و محبت کی جو شمع فروزاں ہوئی تواس میں بس اُن کے علم و عمل اور تقویٰ و طہارت کا دخل تھا۔




(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
شب و روز کا تربیتی انداز

شب و روز کا تربیتی انداز

شب و روز کا تربیتی انداز


پیارے بیٹے ! طلوعِ فجر کے وقت جاگ جانے کی عادت ڈالو،وہ وقت بڑا گراں مایہ ہوتا ہے، لہٰذا اس وقت بطورِ خاص دنیا کی کوئی بات نہ کرنا،کیوں کہ سلف صالحین -رحمہم اللہ- کا یہ معمول تھا کہ وہ اُس وقت (اُمورِ دینیہ کے علاوہ) دنیا کے کسی معاملے کو زیر بحث نہیں لاتے تھے۔جب نیند سے بیدار ہو تو یہ دعا پڑھنا نہ بھولو :
الحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أحْیَانَا بَعْدَ مَا أمَاتَنَا وَ إلَیْہِ النُّشُورُ(۱)،  الحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ یُمْسِکُ السَّمَا   َٔ أنْ تَقَعَ عَلَی الأرْضِ إلاَّ بِإذْنِہٖ إنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَؤوفٌ رَّحِیْمٌ  (۲)
یعنی تمام تعریفیں اللہ جل مجدہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں وادیِ موت میں اُتر جانے کے بعد دوبارہ زندگی بخشی اور انجام کاراسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ ہرقسم کی حمدوثنااس مالک الملک کے لیے زیبا ہے جو آسمان (یعنی خلائی و فضائی کروں ) کو زمین پر گرنے سے (ایک آفاقی نظام کے ذریعہ) تھامے ہوئے ہے مگراسی کے حکم سے (جب وہ چاہے گا آپس میں ٹکرا جائیں گے) بے شک اللہ تمام انسانوں کے ساتھ نہایت شفقت فرمانے والا بڑا مہربان ہے۔
پھر فطری ضرورتوں کی تکمیل کے بعد با طہارت ہو کر قلب و باطن کے پورے جھکاؤ کے ساتھ سنت فجر اَدا کرو پھر ادائے فرض کے لیے سراپااَدب بن کرمسجدپہنچو۔ ہوسکے توسرراہ یہ دعا پڑھ لو  :
اللهُمَّ إنِّي أسْئَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِيْنَ عَلَيْکَ وَبِحَقِّ مَمْشَايَ هٰذَا إنِّي لَمْ أَخْرُجْ أشَراً وَلاَ بَطَراً ولاَرِياءً وَلاَ سُمْعَةً خَرَجْتُ اِتِّقَاءَ سَخَطِکَ وَابْتِغَاءَ مَرَضَاتِکَ أسْئَلُکَ أنْ تُجِيْرَنِي مِنَ النَّارِ وَاَنْ تَغْفِرَلِي ذُنُوبِي إنَّه لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ اَنتَ. (۳)
_________________
(۱)       صحیح بخاری:۲۱؍۹۴حدیث:۶۳۱۲…صحیح مسلم:۱۷؍۳۵۰حدیث:۷۰۶۲…سنن ابوداؤد: ۱۴؍ ۴۰۳ حدیث:۵۰۵۱…سنن ترمذی:۱۲؍۳۳۵حدیث:۳۷۴۵…سنن ابن ماجہ:۱۱؍ ۴۹۳ حدیث:۴۰۱۳ …صحیح ابن حبان:۲۳؍ ۸۸حدیث:۵۶۲۳… سنن کبریٰ نسائی: ۶؍۱۹۲حدیث:۱۰۶۰۸…شعب الایمان بیہقی:۹؍۴۱۳ حدیث: ۴۲۱۳۔
(۲)      صحیح ابن حبان:۱۲؍۳۴۳ حدیث: ۵۵۳۳…مستدرک حاکم:۵؍۶۷حدیث:۱۹۶۹… جمع الجوامع سیوطی:۱؍۱۸۹۰حدیث:۱۵۵۳… سنن کبریٰ نسائی:۶؍۲۱۳ حدیث:۱۰۶۹۰۔
(۳)     سنن ابن ماجہ:۳؍۵۱حدیث: ۸۲۷… مسند احمدبن حنبل:۲۳؍۴۸۷حدیث: ۱۱۴۵۵۔
_________________
یعنی اے اللہ! تیری بارگاہ میں اُٹھے ہوئے منگتوں کے ہاتھوں اور تیرے گھر کی طرف اُٹھتے ہوئے قدموں کے تصدق میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرا یہ نکلنا تساہلی،  برائی اور دکھاوے کا نکلنا ثابت نہ ہو۔تیرے غضب سے ڈرتے ہوئے تیری رضا کی تلاش میں نکل آیا ہوں۔تجھ سے بس یہی التجا ہے کہ مجھے آتش جہنم سے آزاد فرما،میرے گناہوں کو غلط کر دے،کیوں کہ بلا شبہ وہ تو ہی ہے جو گناہوں کو معاف کر دیا کرتا ہے۔
مقدور بھر کوشش کیا کرو کہ امام کے دائیں طرف نماز پڑھنے کی سعادت نصیب ہو۔ نماز سے فارغ ہو کردس مرتبہ ’لاَ إلٰهَ إلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَشَرِيکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ هُوَ عَلٰی کُلِّ شَيئٍ قَدِيرٌ(۱)‘پڑھا کرو۔پھر دس مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘دس مرتبہ ’’الحمد للہ‘‘ اور دس مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، اور پھر اللہ تعالیٰ سے قبولیت نماز کی دعا مانگو۔ اگر دل جمے تو وہیں بیٹھ کر طلوعِ آفتاب بلکہ اس کے بلند ہونے تک ذِکر الٰہی میں مشغول رہو پھر(نمازِ اشراق کی) جتنی رکعتیں ہوسکیں اَدا کرو، آٹھ ہوں تو بہتر ہے۔
____________________
(۱)       صحیح بخاری:۲۱؍۲۴۵حدیث:۶۴۰۴… معجم کبیر طبرانی:۴؍۲۲۳حدیث:۳۹۱۶…جمع الجوامع سیوطی:۱؍۲۳۸۱۶حدیث: ۵۹۱۴۔
____________________
توبہ میں جلدی اور وقت کی قدرو قیمت

توبہ میں جلدی اور وقت کی قدرو قیمت

توبہ میں جلدی اور وقت کی قدرو قیمت



نورِ نظر!  اپنے نفس کے تئیں ہمیشہ چاق چوبند رہنا، کبھی اس سے مطمئن نہ ہونا۔ جو کچھ گناہ پہلے ہو چکے ان پر اشک ندامت بہاتے رہنا، اہل کمال سے اکتساب فیض  اور ان کی صحبتوں میں اُٹھنے بیٹھنے کا موقع میسرآئے تو اسے غنیمت جاننا،جب تک دم میں دم ہے اَپنی شاخِ عمل کوسرسبزوشاداب رکھنے کی کوشش کرتے رہنا۔
 تمہاری زندگی کے جو لمحے بیکار بیت گئے ان کا سوچواُن میں خود تمہارے لیے درسِ عبرت موجود ہے۔تو نے لذتوں کے دام میں آ کر عمر عزیز کی کتنی گھڑیاں گنوا دیں اور فضل و کمال کے کتنے زینے طے کرنے سے محروم رہ گئے،حالاں کہ سلف صالحین -رحمہم اللہ- ہر قسم کے فضائل و کمالات کی تحصیل میں خود کو ہمہ تن مشغول رکھتے تھے، اگر ان میں سے کوئی ایک فضیلت بھی جاتی رہتی تواس کے غم میں ان کی پلکوں سے اشکوں کے آبشار جاری ہو جاتے تھے۔
حضرت ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ(م۱۶۲ھ) فرماتے ہیں کہ ہم کسی بیمار عبادت گزار کی عیادت کے لیے گئے، کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے دونوں قدموں پر نگاہیں جمائے ہوئے آہ و فغاں کر رہا ہے، ہم نے پوچھا: یہ بتائیں کہ اتنی گریہ و زاری کیوں کر رہے ہیں ؟ فرمایا: ان قدموں کو اللہ کی راہ میں جادہ پیمائی نصیب نہ ہوئی، پھر دوبارہ رونے لگے تو پوچھا گیا: اب کیوں رو رہے ہیں ؟فرمایا: دراصل ایک دن میں روزہ نہ رکھ سکا تھا اور ایک مرتبہ رات کے قیام کی توفیق نہ ملی تھی۔
کاشانۂ  دل کے مکیں !  تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنوں کی حقیقتیں گھنٹوں میں چھپی ہوئی ہیں اور لمحے کے تار سانسوں سے بندھے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ ہر سانس ایک خزانہ ہے۔دیکھنا کہیں ایسانہ ہو کہ تمہاری حیاتِ مستعار کی کوئی سانس بے کار چلی جائے اور وہ ناآشنائے لذتِ عمل رہ جائے، کیوں کہ اِس  خزانے کو عرصۂ  محشر میں پھر کھلنا ہے، لہٰذا آگاہ رہنا کہ اسے خالی دیکھ کر کہیں تمہیں کف ندامت ملنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
کسی شخص نے عامر بن عبدقیس سے عرض کیا کہ ذرا رُکیے مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔فرمایا: پہلے سورج کو روکو۔
کچھ لوگ حضرت معروف کرخی رحمہ اللہ (م۲۰۰ھ)کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: آپ لوگوں کو اُٹھنے کی طبیعت نہیں چاہتی؟ذرا سوچیں کہ آفتاب کا مالک اسے مستقل کھینچے جا رہا ہے، اور اسے ایک ذرا تکان نہیں آتی۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ’سُبحَانَ اللہِ وَ بِحَمْدِہٖ‘ پڑھنے والے کے لیے جنت میں ایک باغ لگا دیا جاتا ہے۔اب ذرا فکر کو آنچ دے کرسوچوکہ اپنے قیمتی وقتوں کا ضیاع کرنے والا کتنے بہشتی باغات کھو بیٹھتا ہے۔
سلف صالحین کا معمول یہ تھا کہ وہ ہر ہر لمحہ کو غنیمت جانتے تھے۔ اندازہ لگاؤ کہ حضرت کہمس بن حسن تمیمی علیہ الرحمہ (م ۱۴۹ھ) شب و روز میں تین قرآن ختم فرمایا کرتے تھے۔ اور ہمارے اسلاف میں چالیس نفوسِ قدسیہ ایسی گزری ہیں جو عشا کے وضو سے نمازِ فجر ادا کیا کرتی تھیں۔ اور حضرت رابعہ بصریہ علیہا الرحمہ (م۱۸۰ھ)کا حال یہ تھا کہ وہ پوری رات یادِ مولا میں اپنے پہلو کو بستر سے جدا رکھتیں،  پھر جب سپیدۂ  سحرپھوٹنے کا وقت آتا ذرا دیر کے لیے لیٹتیں، پھر گھبرائی ہوئی اُٹھتیں اور اپنے نفس سے کہتیں : اتنا نہ سویا کر قبر کے اندر بہت لمبی نیندسوناہے۔

(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی

مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
علم کو رنگ عمل دینے ہی سے کچھ ملتا ہے

علم کو رنگ عمل دینے ہی سے کچھ ملتا ہے


علم کو رنگ عمل دینے ہی سے کچھ ملتا ہے



باعث تسکین جانِ حزیں !  خدارا ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ تم علم کی ظاہری شکل  و صورت پر فریفتہ ہو کر عمل سے یکسرغافل ہو جاؤ،بلکہ وہ علم بے سود ہے جو رنگ عمل سے آشنا نہ ہوا۔
دیکھو اُمراوسلاطین کے محلوں کے چکر لگانے والے اور دنیا داروں پر اوندھے گرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے علم کا عمل سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا،یہی وجہ ہوتی ہے کہ پھر علم سے جو نفع و برکات اسے ملنی چاہئیں وہ اُن سے محروم رہ جاتا ہے۔



(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
تقویٰ بہترین توشۂ راہ

تقویٰ بہترین توشۂ راہ

تقویٰ بہترین توشۂ راہ



نورِ دیدہ !  جب تقویٰ و طہارت کی چول صحت ودرستی پر قائم ہو گی تو روئے خیرو صلاح کو تم بے نقاب دیکھ لو گے۔ صاحب تقویٰ کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ خلق خدا کے دکھاوے کے لیے کچھ نہیں کرتا(جو کرتا ہے محض رضائے مولا کے لیے کرتا ہے) اور ایسی چیزوں کو ہاتھ بھی نہیں لگاتا جو اس کے دین و ایمان کے لیے مضرت رساں ہوں۔ سیدھی سی بات ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حدود و حقوق کی رعایت کرتا ہے پروردگار عالم خود اُس کی حفاظت فرماتا ہے۔
جیساکہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے فرمایا  :
اِحْفَظِ اللهَ يحْفَظْکَ، اِحْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ أمَامَکَ....   (۱)
یعنی اللہ (کے فرامین )کی حفاظت کرو، اللہ خود تمہارا محافظ بن جائے گا، اور جب تم اللہ کے حقوق کی رعایت کرو گے تو ہر کام میں تم اسے پیش پیش پاؤ گے، (یعنی مددگار)۔
جگر پارے!  حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ پر غور کرو تو تم پر خود بخود عیاں ہو جائے گا کہ اُن کے پاس اعمالِ خیر کا جو ذخیرہ موجود تھا محض اس نے انھیں مشکل کی گھڑی سے نجات دلوائی۔ اللہ جل مجدہ فرماتا ہے :
فَلَو لاَ أنَّہُ کَانَ مِنَ المُسَبِّحِیْنَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِہٖ إلٰی یَومِ یُبْعَثُونَ(۲)
پھر اگر وہ (اللہ کی )تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں اُس دن تک رہتے جب لوگ (قبروں سے) اُٹھائے جائیں گے۔
________________
(۱)       مسندعبدبن حمید:۲؍۲۵۴حدیث: ۶۳۸… شعب الایمان بیہقی:۳؍۱۳۵حدیث: ۱۰۸۹… مستدرک حاکم:۱۴؍۴۰۷حدیث: ۶۳۶۴… مسند شہاب قضاعی:۳؍۱۵۵حدیث:۶۹۵… مسند احمد بن حنبل:۶؍۳۸۳ حدیث: ۲۸۵۷… مجمع الزوائد و منبع الفوائد:۷؍۱۰۸ حدیث: ۱۱۷۸۵۔
(۲)      سورۂ  صافات: ۱۴۳تا۱۴۴۔
________________
اب قصہ فرعون کا جائزہ لو کہ اس کا دامن حیات‘ عمل خیر اور اچھائیوں سے یکسر خالی تھا پھر کیا ہوا کہ وہ بے موت مارا گیااوراس کی مشکل میں کچھ کام نہ آیا۔ ارشادِ خداوندی ہوا  :
آلئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ(۱)
اب(ایمان لاتا ہے!) حالاں کہ تو پہلے (مسلسل) نافرمانی کرتا رہا ہے۔
لہٰذا زندگی کی بچی کھچی سانسوں کو تم نیکیوں اور تقویٰ و طہارت کے پھول سے آراستہ کر کو اُس کی تاثیر و برکت (دارین میں )کھلے آسمان کی طرح دیکھو گے۔
حدیث رسالت مآب میں آتا ہے  :
مَا منْ شَاب اتقَی اللهَ تعالٰی في شبَابه إلا رفعَه اللهُ تعالیٰ في کِبَره(۲)
یعنی جو شخص بھی اپنے عہد شباب کو  تقویِ الٰہی اور خشیت مولاسے آباد رکھتا ہے پروردگار عالم (عالم جوانی میں عزت دینے کے ساتھ ساتھ ) اس کے بڑھاپے کو بھی قابل قدر اور باعث عزت بنا دیتا ہے۔
اِرشادِ باری تعالیٰ ہے  :
وَ لَمَّا بَلَغَ أشُدَّہُ اٰتَیْنَا حُکْماً وَّ عِلْماً وَّ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ  (۳)
________________
(۱)       سورۂ  یونس: ۱۰؍۹۱۔
(۲)      یہ روایت مجھے کہیں نہیں ملی۔ہاں اس مضمون کی ایک روایت یوں ملتی ہے  :
٭        ما من شاب يدع لذة الدنياولهوها ويستقبل بشبابه طاعة الله الا اعطاه الله اجر اثنين وسبعين صديقا۔  (جمع الجوامع:۲۱۳۱۴حدیث:۱۱۵۶… حلیۃ الاولیا۴؍ ۱۳۹… جامع الاحادیث: ۱۹؍ ۱۷۹حدیث:۲۰۵۱۲… جامع الاحادیث القدسیہ:۱؍۶۳ حدیث:۱۰۸۸۶)                                                                                    (۳)    سورۂ  یوسف: ۱۲؍۲۲۔
________________
یعنی اور جب وہ اپنے کمالِ شباب کو پہنچ گیا(تو) ہم نے اسے حکمِ(نبوت) اور علمِ(تعبیر) عطا فرمایا، اور اسی طرح ہم نیکوکاروں کو صلہ بخشا کرتے ہیں۔
فرزند ارجمند! تجھے ایک تجربے کی بات بتائے دیتا ہوں کہ ذخائر اعمال میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ نامحرم سے نگاہوں کی حفاظت کی جائے،اور فضول و عبث باتوں سے زبان کو روکا جائے،حدودِ الٰہیہ کی رعایت کے ساتھ نفسانی خواہشات پر اَوامر الٰہی کو مقدم رکھا جائے۔ تمہیں زمانۂ  ماضی کے اُن تین بندوں والی حدیث معلوم ہو گی جو کسی غار کے اندرگھسے تو اوپرسے ایک چٹان نے ان کا راستہ بند کر دیا۔ انھوں نے چٹان ہٹانے کے ہزار جتن کیے،مگر کامیاب نہ ہوئے۔
تینوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اب اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ ہم باری تعالیٰ سے دعا کریں اور اپنے نیک عمل کے وسیلے سے نجات کے طلب گار ہوں۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے جنابِ باری میں عرض کیا: بارِ الٰہا! تجھے معلوم ہے کہ میرے والدین بھی تھے اور بچے بھی،مگر میں ہمیشہ پہلے اپنے والدین کو سیراب کر کے پھر بچوں کو دودھ پلایا کرتا تھا، میرا وہ کام اگر خالص تیری رضا کے لیے ہوا ہو تو اس کی برکت سے اس مشکل میں آسانی پیدا فرما،چنانچہ غار کے دہانے سے ایک تہائی چٹان کھسک گئی۔
دوسرے نے کہا: مولا! میں نے چند مزدور کرائے پر حاصل کیے تھے، اور ان سب کو اُجرت دے دی تھی، صرف ایک شخص ایسا باقی رہ گیا تھا جو اپنی اُجرت لیے بغیر چلا گیا تھا۔پھر میں نے اس کی اُجرت کی رقم تجارت میں لگا دی،اس کا مال بے حساب بڑھتا چلا گیا۔
ایک دن وہ شخص آیا اور کہنے لگا: اے بندۂ  خدا! میری اُجرت دے۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ سب اونٹ، گائیں، بکریاں اور غلام تیری اُجرت ہیں۔ اس نے کہا: کیا تو مذاق کر رہا ہے؟۔
میں نے کہا: یہ مذاق نہیں ہے تو اپنا مال اُٹھا اور جہاں چاہے لے جا،چنانچہ وہ اپنے تمام جانور اور غلام ہنکا کر لے گیا۔اے پروردگار! اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لیے کیا ہو توہم پر مہربانی فرما،چنانچہ چٹان دو تہائی کھسک گئی،مگر اتنی نہیں کہ اس سے وہ باہر نکل سکیں۔
تیسرے نے کہا: اے اللہ!  ایک بار اپنی چچازاد بیٹی پر میرا دل آ گیا تو جیسے ہی میں اس کے قریب گیا وہ بول اُٹھی:کچھ تو اللہ کا خوف کر، یہ سن کر میں خوف زدہ ہو گیا اور اپنے ناپاک اِرادے سے باز آ گیا۔ اب اگر ایسا میں نے تیری رضا کے لیے کیا ہو توہم پرراستہ کشادہ فرما دے،چنانچہ وہ چٹان ہٹ گئی اور وہ تینوں باسلامت باہر نکل آئے۔
 حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ(م۲۶۱ھ) کو خواب میں دیکھ کر پوچھا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟، فرمایا: جیسے ہی مجھے زیر لحد رکھا گیا، میری مولا جل و علا کی بارگاہ میں پیشی ہوئی،اور پھر لگے ہاتھوں مجھے جنت میں داخل ہونے کا پروانہ جاری ہو گیا۔
اب جب میں اس کے اندر داخل ہوا تو کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا: کیا تم سفیان ہو!۔ میں نے کہا:ہاں سفیان ہی ہوں۔ فرمایا: اُن دِنوں کو یاد کرو جن میں تم نے اپنی خواہشوں پر ذاتِ باری تعالیٰ کو ترجیح دیا تھا۔ میں نے کہا: ہاں یاد ہیں۔پھر اتنے میں بہشت کے دسترخوان قطار در قطار میرے لیے بچھا دیے گئے اور جنتی حوروں نے مجھے اپنے گھیرے میں لے لیا۔

(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
پابندیِ شرع کا اہتمام - نیز کچھ میری باتیں -

پابندیِ شرع کا اہتمام - نیز کچھ میری باتیں -


پابندیِ شرع کا اہتمام - نیز کچھ میری باتیں -



پسر عزیز!  جب بات حدودِ شریعت کی آ جائے تو ایسے وقت اپنے نفس کا بطورِ خاص جائزہ لیا کرو۔ پھر تمہیں پتا چل جائے گا کہ اس کا بچاؤ کیسے کیا جاتا ہے؟کیوں کہ جو اپنے نفس کی حفاظت و رعایت میں کامیاب ہو گیا وہ صحیح معنوں میں کامیاب ہو گیا، اور جو اس محاذ پر ناکام ہو گیاسمجھو وہ مارا گیا۔لگے ہاتھوں میں تمہیں اپنے کچھ احوال بھی بتا دیتا ہوں تاکہ تمہیں میری بے تکان محنتوں کا کچھ اندازہ ہوسکے اور مجھے اپنی دعائے خیر میں یاد کرسکو۔
مجھ پر جو کچھ بھی افضال و انعام ہوا اور جو بھی عزتیں نصیب ہوئیں اس میں میرے اپنے کسب سے زیادہ میرے مولا کی نوازش و عنایت شامل ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں زندگی کی چھٹی بہار میں داخل ہوا تو مجھے مکتب کی نذر کر دیا گیا،میں فطرتاً قوتِ ارادی کا بڑا دھنی واقع ہوا تھا۔میں نے ہمیشہ اپنے سے بڑے بچوں سے دوستی کی، اللہ جل مجدہ نے عالم طفولیت ہی میں مجھے عقل و شعور کی وہ پختگی عطا فرما دی تھی جو شیوخ کی عقل و خرد پر بھی بھاری تھی۔
مجھے یاد نہیں آتا کہ میں نے کبھی سرراہ کسی بچے کے ساتھ کھیل کود کیا ہو،اور نہ ہی میں کبھی کھلکھلا کرہنسا۔ اندازہ لگاؤ کہ جس وقت میں کوئی سات سال کا تھا جامع مسجدکے حلقاتِ درس میں حاضری دیا کرتا تھا۔ میں نے اتنی سی معمولی عمر میں بھی کبھی خود کوکسی شعبدہ باز یا لفظ کے بازی گروں کے پاس جانے کی اجازت نہ دی،بلکہ ایسے عالم میں میں محدثین کی تلاش میں سرگرداں پھرتا رہتا تھا، ان کی بارگاہ میں جا  کر اپنی بساطِ شوق بچھا دیتا تھا، جب میں ان سے کوئی حدیث سنتاتونہ صرف وہ حدیث بلکہ اس کی طویل ترین سند بھی حفظ کر لیتا تھا، پھر جب گھر لوٹتا تو وہ ساری یادداشتیں قید تحریر میں لا کر محفوظ کر دیتا تھا۔
شیخ ابوالفضل ابن ناصر رحمہ اللہ (م۵۵۰ھ) اپنی خاص توجہ و عنایت مجھ پر مرکوز رکھتے، مجھے لے کر شیوخِ حدیث کے پاس جاتے، انھیں کی صحبتوں میں رہ کر مجھے مُسند اور دیگر بڑی کتابوں کوسماع کرنے کا زرّیں موقع میسر آیا۔نیز میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ ان کی طرف سے مجھ پر یہ بے پایاں کرم کیوں ہو رہا ہے۔
ساتھ ہی انھوں نے میرے ملفوظات بھی جمع کیے،پھر جب میں سن بلوغ کو پہنچا تو انھوں نے وہ تحریر مجھے دکھایا،پھر میں نے ان کے فیضانِ صحبت کو اپنے اوپر لازم کر لیا تا آں کہ وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے-اللہ انھیں جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے-تو معرفت و نقلِ حدیث کا یہ شعور میرے اندر ان کی کرم نوازیوں سے بیدار ہوا۔
یہ وہی دور تھا جب کہ میرے ہم عمر بچے دریائے دجلہ پرجا کر موج مستی کرتے، اور پُلوں پر چڑھ کر کھیل کود کیا کرتے تھے،اور میرا اپنا حال یہ تھا کہ (نفس کے ہزار لبھانے کے با وصف) چھوٹی سی عمر میں دنیا سے بے تعلق ہو کر حدیث کا کوئی صفحہ لیے گھرکے خلوت کدے میں پڑا ہوتا اور اپنے قصر علم کی تعمیر و ترقی میں مشغول رہتا۔
پھر زہد و ورع کی دولت نصیب ہوئی اور دنیا سے دل بیزار ہو گیا تو دن روزوں میں گزرنے لگااورسفرزندگی کے لیے تھوڑے سے زادِ  راہ پر میں نے قناعت کر کیا اور نفس کے گلے میں صبر و شکیب کا تعویذ ڈال دیا۔ یوں ہی کاروانِ حیات چلتا رہا، نیز یہ کہ نیم شبی کی خلوتوں میں اُٹھ کر مولا کو  منانا اور دم سحرکی دعاؤں سے خود کو محظوظ کرنا میرا معمول تھا۔
پھر میں نے اپنے آپ کو علم کے کسی ایک فن کی تحصیل ہی پر قانع نہ ہونے دیا بلکہ بیک وقت سماعِ فقہ و حدیث اور وعظ و بیان سے گہرا شغف رہا،نیز زاہدانِ شب زندہ داروں کی صحبتوں سے بھی اکتساب فیض و نور کرتا رہا۔ساتھ ہی علم لغت سے بھی آشنائی کی اور ایسا کوئی فن نہ چھوڑا جس سے کہ عموماً گوشہ نشینی اختیار کر کی جاتی ہے یاجس کے بارے میں بار بار  تاکید کرنی پڑتی ہے۔
یوں ہی جب کوئی مہمان یا اجنبی آ جاتا تو میں اس کی ضیافت کے لیے بچھ بچھ جاتا اور جو کچھ موجود ہوتا پوری فراخ دلی سے اس کے روبرو پیش کر دیتا۔اس طرح فضائل و کمالات کی ہر شاخ پر میں نے اپنا آشیانہ بنانے کی حتی المقدور کوشش کی۔
یوں ہی جب کبھی بیک وقت دو کام نکل آتے تو ان میں اس کام کو زیادہ ترجیح دیتا جو حق الحق کا آئینہ دار ہوتا،لہٰذا پروردگار نے میرے لیے ان حکمت و تدبیر کے عقدے حل فرما دیے اور مجھے ہمیشہ خیر و صلاح کی توفیق سے نوازا،ساتھ ہی حاسدین و اَعدائے دین کے مکر و فریب سے مجھے امان بخشا۔اس نے میرے لیے اَسبابِ علم بہم پہنچائے،اور میرے رزق کا اہتمام اس انوکھے انداز سے فرمایاجس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔مجھے فہم وفراست، حفظ کی سرعت اور تصنیف و تالیف کی جدت و ندرت سے بہرہ مند فرمایا۔ دنیا کی کسی چیز کا مجھے حاجت مند نہ کیا بلکہ جہاں جس چیز کی ضرورت ہوئی فوراً مہیا ہوئی اور امید سے زیادہ ملی۔
ان سب پرمستزادیہ کہ مخلوق کے دلوں میں میری بے پایاں عقیدت و قبولیت کے چراغ روشن کر دیے،اور انھیں میری باتوں کا ایساگرویدہ بنا دیا کہ ان کی صحت ودرستی کے سلسلہ میں ان پر کبھی کوئی شک نہیں گزرتا۔میرے ہاتھوں قریباً دوسوذمی دامن اسلام میں آباد ہوئے، میری مجلسوں میں لاکھوں سے زیادہ خوش بختوں کو توبہ و رجوع نصیب ہوا اور کوئی بیس ہزار سے زیادہ ایسی کتابوں کا مطالعہ کیا جو جاہلوں کے بس کی بات نہیں۔
سماعِ حدیث کے سلسلے میں میں مشائخ کے گھروں کے طواف کرتا رہتا تھا، کبھی کبھی دوری کا اِحساس نفس کے لیے باعث مشقت بن جاتا،تاہم میں نے شوق کو امام بنا کر اپنے اس سفر کو جاری رکھا۔اندازہ لگاؤ کہ جب صبح ہوتی تو میز پر کھانے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا،یوں ہی شام کے وقت بھی بھوکا رہنا پڑتا،تاہم مولا نے کبھی کسی انسان کے سامنے جھکنے کی ذلت سے بچائے رکھا،اور اس نے خود ہی کہیں سے میری عزت پر پردہ رکھنے کے لیے رزق کا انتظام فرما دیا۔
اس طرح اگر میں اپنے احوال بسط و تفصیل کے ساتھ بیان کرنے پر آ جاؤں تودفتراس کے متحمل نہ ہوسکیں گے۔ تو مختصراً عرض یہ ہے کہ اب تم اپنے سر کی آنکھوں سے خود ہی دیکھو کہ میری حالت و نوبت کہاں پہنچ آئی ہے۔لو اُن ساری کیفیات کو میں اللہ کی اس آیت کی روشنی میں بیان کیے دیتا ہوں  :
وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہ  ُ o     (سورۂ  بقرہ:۲؍ ۲۸۲)
اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ تمہیں (سب کچھ )سکھادے گا۔




(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 

فائدہ بخش کتابیں

فائدہ بخش کتابیں


فائدہ بخش کتابیں


ضیائے دیدہ و دل!  ’منہاج المریدین     ‘ کو اپنے مطالعہ میں رکھو۔ یہ کتاب سلوک کے اَسراررموز تم پر بے نقاب کر دے گی،لہٰذا جلوت و خلوت ہر جگہ اسے دوست اور اُستاد کے طور پر اپنے ساتھ رکھو۔
’’صید الخاطر         ‘‘کا دقت نظر سے مطالعہ کرو،یہ تمہیں ایسے حقائق و وقائع سے آشنا کرے گی جو تمہیں دارین کی سعادتوں سے بہرہ ورکر دیں گے۔
’’جنۃ النظر   ‘‘کو زبانی یاد کر کو،یہ کتاب فقہ کے نکات و دقائق سمجھنے میں معاون و مددگار ہو گی۔
’’کتاب الحدائق‘‘ کے مطالعہ سے یہ فائدہ ہو گا کہ حدیث کی کنہ اور اس کا صحیح فہم تمہیں نصیب ہو جائے گا۔
’’الکشف‘‘ کے ساتھ اگر تم نے دلچسپی لی تو یہ کتاب صحیحین کے اندر مخفی احادیث کا راز تم پر وا کر کے رکھ دے گی۔
اہل عجم کی مرتب کردہ کتب تفاسیرسے کوئی سروکارنہ رکھنا،کیوں کہ ’’المغنی‘‘ اور ’’زادالمسیر‘‘ پڑھ لینے کے بعد ان تفسیروں کو دیکھنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔
اور وعظ و خطابت کے لیے جو کچھ مواد میں نے تمہارے لیے جمع کر دیا ہے وہ بہت ہے اس کے علاوہ کی تلاش عبث ہے۔



(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
علم و عمل اور اِخلاصِ نیت

علم و عمل اور اِخلاصِ نیت


علم و عمل اور اِخلاصِ نیت


یوں ہی اِس بات کی بھی کوشش کرنا کہ کسی قسم کی عبادت و ریاضت میں اسی وقت مشغول ہونا جب تمہیں اس کا وافر اور قطعی علم ہو جائے،کیوں کہ تمہارے سامنے ایسے اہل زہد و تصوف کی ڈھیروں مثالیں موجود ہیں جنھوں نے علم کے بغیر عبادت شروع کر دی اور انجام کار راہِ راست سے بھٹک گئے۔
خوبصورت کپڑوں میں خود کو مزین رکھا کرو،وہ تمہیں دنیا داروں کے آگے جھکنے سے روکے رکھیں گے، یوں ہی زاہدوں کے درمیان مشہور نہ ہونے دیں گے۔
یوں ہی ہمہ وقت اپنی نگاہوں، اپنی باتوں اور اپنے قدموں کا محاسبہ کرتے رہنا،کیوں کہ ان کی بابت تم سے مواخذہ ہونا ہے،اور تم جتنا اپنے علم سے فائدہ اُٹھاؤ گے وہ اتنا ہی تمہارے سامعین کے لیے نفع رساں ہو گا،ورنہ جب واعظ و خطیب اپنے علم پر خود عمل پیرا نہیں ہوتاتواس کی پند و نصیحت لوگوں کے دلوں سے ایسے ہی پھسل جاتی ہے جس طرح پانی چٹان سے بہ آسانیپھسل جاتا ہے۔
لہٰذا جب بھی وعظ کہنا ہو اِخلاصِ نیت کے ساتھ کہنا۔حتی کہ چلنا پھرنا کھانا پینا بھی خلوصِ نیت کے ساتھ کرنا،(کیوں کہ نیت کا اَجر بے پایاں ہے)۔پھر جب تم سلف صالحین کے اخلاق و کردار کا مطالعہ شروع کر دو گے تو معاملات کی گرہیں اَز خود تم پر منکشف ہونا شروع ہو جائیں گی۔

(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
تقویٰ و طہارت کی فضیلت

تقویٰ و طہارت کی فضیلت


تقویٰ و طہارت کی فضیلت



عزیز بیٹے!  اپنی عزت و حرمت کا خاص خیال رکھو اور دنیا کے دام ہمرنگ زمین سے بچو، یوں ہی دنیا داروں کاا ِحترام اپنے دل کے آبگینے میں کبھی نہ اُترنے دینا۔ قناعت پسندی اِختیار کرو، عزت دینے والا لوگوں کے دل تمہاری محبت سے آباد کر دے گا۔عربی کا کتنا پیارا محاورہ ہے  :
من قنع بالخبز والبقل لم يستعبده أحدo
یعنی جس نے نان وسبزی پر قناعت کر کی وہ کبھی کسی کا غلام نہیں بنا۔
ایک دیہاتی شہر بصرہ کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اس شہر کا سردار کون ہے؟ جواب ملا: حسن بصری۔ پوچھا: یہ ان کے سردار کیسے اور کب سے بن گئے؟۔
فرمایا: اِنھیں اُن کی دنیا سے کوئی سروکار نہیں لیکن وہ ہر قدم پر ان کے علم و ہدایت کے محتاج ہیں۔
بیٹے تمہاری معلومات کے لیے عرض کیے دوں کہ میرے والد (اور تمہارے دادا) بڑے مالدار تھے، اور اپنے پیچھے مال و دولت کا ایک انبار چھوڑ کر گئے۔
اس وقت تمہارا باپ ننھی عمر کا ایک بچہ تھا،سن بلوغ تک پہنچنے تک اس موروثی مال سے اس کی بہترین تربیت ہوتی رہی، لیکن جب وہ عاقل و بالغ ہوا تو دو گھر کے سوااورکچھ اس کے ہاتھ نہ آیا، ایک میں تو وہ خود سکونت پذیر تھا اور دوسرا کرایہ داروں سے آباد تھا۔
ایک دن اسے کوئی بیس دینار دے کر کہہ گیا: یہ تمہاراسارا ترکہ ہے اور باپ کی وراثت سے یہ تمہارا حصہ ہے،چنانچہ میں نے وہ دینار لیے اور جا کرسارے پیسوں کی علمی کتابیں خرید لیں۔
پھر دونوں گھر بھی فروخت کر دیے اور ان کے پیسے طلب علم میں لگا دیے، پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ میرے پاس کچھ مال بھی نہ بچا،لیکن تمہارا باپ غیور تھا اس نے کبھی بھی اوروں کی طرح دنیا طلبی میں کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے، دیگر خطبا و مقررین کی طرح شہر در شہر دورے کر کے پیسے نہیں جٹائے، اور نہ کبھی کسی کے پاس کچھ مانگنے کے لیے کوئی رقعہ بھیجا،پھر بھی اس کے سارے کام بہت خوب چل رہے ہیں۔ فرمانِ رب العزت ہے  :
وَ مَنْ  یَّتَّقِ اللّٰہَ  یَجْعَلْ  لَہُ  مَخْرَجاً  وَّ یَرْزُقْہُ  مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبْ    (سورۂ  طلاق: ۶۵؍۳)
اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لیے (دنیا و آخرت کے رنج و غم سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔



(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular