Showing posts with label نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی. Show all posts
Showing posts with label نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی. Show all posts
اجتماع ھمزتین (دوہمزوں کا اکٹھا ہونا)

اجتماع ھمزتین (دوہمزوں کا اکٹھا ہونا)

    اگر دو ہمزہ اکٹھے ہوں تومندرجہ ذیل چار قاعدے بنتے ہیں۔
(۱)تحقیق      (۲)تسہیل (۳)ابدال (۴)حذف
(۱)تحقیق:ہمزہ کو اس کے مخرج اصلی سے تمام صفات کیساتھ ادا کرنا تحقیق کہلاتا ہے۔     مثلاً ءَ اَنْتُمْ 
(۲)تسہیل:ہمزہ کو تحقیق اورابدال کے درمیان پڑھنا تسہیل کہلاتاہے     ۔
     مثلاً ءَ اَللہُ ، ءَ اَعْجَمِیٌّ
(۳)ابدال: دوسرے ہمزہ کو ماقبل کی حرکت کے مطابق حرف مدہ سے بدلنا ابدال کہلاتا ہے ۔ مثلاً اَءْ مِنُوْا سے اٰمِنُوْا ، اُؤْ تُمِنَ سے اُوْتُمِنَ، اِیئْتُوْنِیْ سے اِیْتُوْنِیْ
(۴)حذف: دوسرے ہمزہ کو گرا کرپڑھنا حذف کہلاتاہے ۔ 
    اِتَّخَذْتُمْ اصل میں ءَ اِتَّخَذْتُمْ تھا 
    جیسے ءَ اِفْتَرٰی عَلَی اللہ ءَ اِصْطَفیٰ البناتِ ءَ اِسْتَکْبَرْتَ کو اَفْتَرٰی عَلَی اللہِ اور اَصْطَفیٰ البناتِ اور اَسْتَکْبَرْتَ

قواعد: (۱) اگردوقطعی متحرک ہمزہ ایک کلمے میں جمع ہوں تو تحقیق وجوبی ہوگی ۔
نوٹ : مندرجہ بالا قاعدے سے ایک کلمہ مستثنیٰ ہے ۔ ءَ اَعْجَمِیٌّ
    اگرچہ اس میں دونوں ہمزہ قطعی متحرک ہیں مگر روایت حفص کے مطابق اس میں تسہیل وجوبی ہوگی ۔
(۲) اگردو ہمزہ ایک کلمہ میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلا ہمزہ قطعی مفتوح ہوتو دوسرے ہمزہ میں تسہیل اورابدال دونوں جائز ہیں اس کوتسہیل جوازی کہتے ہیں مذکورہ قاعدے کی رُو سے پورے قرآن مجید میں تین کلمات چھ جگہ ہیں۔
    اٰۤللہ         دو جگہ     سورۃ یونس ونمل
    ئٰۤ الذَّکَرِیْنِ    دوجگہ     سور ۃ انعام     
    اٰۤلْئٰنَ        دوجگہ     سورۃ یونس
(۳) اگردوہمزہ ایک کلمہ میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلاقطعی مفتوح اوردوسرا وصلی مکسور ہو تو دوسرے ہمزہ کو حذف کردینگے یہ مذکورہ بالا قاعدے پورے قرآن پاک میں سات جگہوں پر جاری ہوئے ہیں۔
(۱)    اَتَّخَذْتُمْ     اصل میں         ئَاِتَّخَذْتُمْ تھا        
(۲)    اَسْتَغْفَرْتَ     اصل میں     اَ اِسْتَغْفَرْتَ تھا
(۳)    اَطَّلَعَ         اصل میں         ء َاِطَّلَعَ تھا
(۴)    اَتَّخَذْنٰھُمْ     اصل میں         ئَاِتَّخَذْنٰھُمْ تھا     
(۵)    اَسْتَکْبَرْتَ     اصل میں         ئَاِسْتَکْبَرْتَ تھا
(۶)    اَفْتَرٰی         اصل میں         ء َاِفْتَرٰی تھا
(۷)    اَصْطَفٰی     اصل میں         ئَاِصْطَفٰی تھا

ہمزہ کا بیان

ہمزہ کا بیان

    بنیادی طور پر ہمزہ کی مندرجہ ذیل دو اقسام ہیں ۔
    ۱۔ ہمزہ اصلی     ۲۔ ہمزہ زائدہ 
(۱) ہمزہ اصلی :اس ہمزہ کو کہتے ہیں جو حروف اصلیہ کے مقابلے میں آئے ۔
    مثلاً اَمَرَ بروزن فَعَلَ
(۲) ہمزہ زائدہ :ہمزہ زائدہ اس کو کہتے ہیں جو حروف اصلیہ کے مقابلے میں نہ آئے ۔     مثلاً اَکْرَمَ بروزن اَفْعَلَ
ہمزہ زائدہ کی اقسام 
    ۱۔ہمزہ وصلی     ۲۔ہمزہ قطعی
(۱)ہمزہ وصلی :وہ ہمزہ ہے جو ابتدائے کلام میں پڑھا جائے لیکن وصل کلام میں حذ ف ہوجائے ۔ جیسے اَلْعٰلَمِیْن میں ہمزہ وصلی ابتدائے کلام کی صورت میں پڑھا گیااور رَبِّ الْعٰلَمِیْن یہاں ہمزہ وصلی کلام میں حذف ہوگیا۔
ہمزہ قطعی کی اقسام 
    ہمزہ قطعی کی تقریباً ۹ اقسام ہیں ۔ہمزہ قطعی اسماء ، افعال اورحروف تینوں میں پایا جاتاہے اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے ۔
اسماء میں ہمزہ قطعی 
    (i)ہمزۃ الاعلام (ii)اسم تفضیل کا ہمزہ (iii)جمع مکسر کا ہمزہ
(i)ہمزۃ الاعلام:قرآن مجید میں عجمی (غیر عربی )اسماء ذکر کئے گئے ہیں ان کے شروع میں آنے والاہمزہ ،ہمزۃ الاعلام کہلاتاہے ۔یہ ہمزہ مکسور ہوتاہے وہ اسماء درج ذیل ہیں۔ (۱)ابراہیم(۲)اسماعیل(۳)اِسحاق(۴)اِدرِیس(۵)اِلیاس(۶)انجیل
(۷)اِسرآئِیل (۸)ابلیس وغیرہ
(ii)اسم تفضیل کا ہمزہ: جیسے اَضْرَبُ ۔ اَکْرَمُ وغیرہ یہ ہمزہ بھی ہمزہ قطعی ہوتاہے۔
(iii)جمع مکسر کا ہمزہ:جمع مکسر کا ہمزہ بھی قطعی ہوتاہے ۔جیسے اَشْرَافٌ۔ اَخْبَارٌ وغیرہ 
افعال میں ہمزہ قطعی 
(iv)باب اِفعال کی ماضی کا ہمزہ : جیسے اَکْرَمَ ، اَحْسَنَ وغیرہ کا ہمزہ 
(v) فعل مضارع کے صیغہ واحد متکلم کا ہمزہ: 
    مثلاً اَضْرِبُ ، اَفْتَحُ
(vi)فعل تعَجُّب کا ہمزہ: مثلا مَا اَضْرَبَہ،
حروف کا ہمزہ قطعی 
    لام تعریف کے سوا تمام حروف کا ہمزہ قطعی ہوتاہے ۔جیسے 
(vii) ہمزہ استفہام : مثلا اَکَفَرْتَ 
(viii) حروف ندا کا ہمزہ: مثلاً أَ عَبْدَ اللہِ
(ix) حروف مشبہ بالفعل کا ہمزہ: مثلاً اِنَّ ،اَنَّ وغیرہ 
ہمزہ وصلی کی اقسام 
    ہمزہ وصلی کی مندرجہ ذیل تقریباً پانچ اقسام ہیں ۔
(۱)اسمائے مصادر کا ہمزہ (۲)اسمائے غیر مصاد رکاہمزہ(۳)فعل امر حاضر کا ہمزہ (۴)فعل ماضی کا ہمزہ (باب اِفعَال کی ماضی کے علاوہ)(۵)لام تعریف کا ہمزہ
(۱)اسمائے مصادر کا ہمزہ:ایسے اسماء جن سے افعال مشتق ہوتے ہیں۔ کل سات ابواب ہیں جن کے مصادر کا ہمزہ وصلی ہوتاہے۔یہ مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔    افتعال         امتحان     (آزمانا)
۲۔    استفعال         استنصار     (مدد طلب کرنا)
۳۔    انفعال         انفطار     (پھٹنا)
۴۔    افعلال         احمرار     (سرخ ہونا)
۵۔    افعیلال         ادھیمام     (سیاہ ہونا)
۶۔    افعیعال        اخشیشان    (کھردرا ہونا)
۷۔    اِفعِوَّال         اِجْلِوَّاذ    (دوڑنا)
(۲)اسمائے غیر مصاد رہمزہ:ایسے اسماء جن سے افعال مشتق نہ ہوں۔ ایسے اسماء سات ہیں جن کا ہمزہ مکسورہتاہے جو مندرجہ ذیل ہیں ۔
(۱)اِبْنٌ (۲)اِسْمٌ (۳)اِبْنَۃٌ (۴)اِمْرَءٌ (۵)اِمْرَأَۃٌ (۶)اثنان(اثنین)
(۷)اثنتان(اثنتین)
(۳)فعل امر حاضر کا ہمزہ:فعل امر حاضر کا ہمزہ وصلی مکسور یا مضموم
ہوتاہے سوائے باب افعال کے مثلاً اِضْرِبْ ، اُنْصُرْ
فعل امر کے ہمزہ کو حرکت دینے کا طریقہ 
الف ) اگرفعل کے عین کلمے پر کسرہ یا فتحہ ہوتو فعل امر کا ابتدائی ہمزہ ہمیشہ وصلی مکسورہوگا۔    مثلاً اِقْرَأْ ، اِضْرِبْ
ب) اگرفعل کے عین کلمہ پر ضمّہ ہوتو فعل کا ابتدائی ہمزہ ہمیشہ وصلی مضموم ہوگا ۔
    جیسے اُدْخُلْ ، اُکْتُبْ
حروف میں ہمزہ وصلی : حرف لام تعریف کا ہمزہ ہمیشہ وصلی مفتوح ہوتاہے ۔ مثلاً اَلْکِتَابُ، اَلْقُرْاٰنُ

ھا کا بیان

ھا کا بیان

 قرآن مجید میں بعض کلمات کے آخر میں گول ھا ( ہ) کا استعمال ہوا ہے بنیادی طور پر ہاء کی مندرجہ ذیل دو اقسام ہیں ۔
    (۱)ھائے اصلیہ     (۲)ھائے زائدہ 
(۱)ھائے اصلیہ : کسی کلمے کی وہ ''ھا ''جو خود اس کلمے کی ہو اُسے ھائے اصلیہ کہتے ہیں     مثلاً اللہ ، غَیْرِ مُتَشَابِہٍ وغیرہ کی ھا
(۲)ھائے زائدہ: کسی کلمے کی وہ ھا جو خود اس کلمے کی نہ ہو اسے ھائے زائدہ کہتے ہیں اسکی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں۔
    (i) ھائے ضمیر (ii) ھائے سکتہ (iii) ھائے مُدَوَّرہ
(i)ھائے ضمیر : وہ ھا جو اسم ظاہر کی جگہ استعمال ہوتی ہے وہ ہائے ضمیر کہلاتی ہے ۔ مثلاً عَلَیْہ 
ھائے ضمیر کا اعراب : ھائے ضمیر مضموم یا مکسور ہوتی ہے مفتوح نہیں ہوتی۔
مکسور ہونے کی صورت: ھا سے پہلے اگر کسرہ یایائے ساکنہ ہوتو ھائے ضمیر مکسور ہوگی مثلاً بِہٖ ، عَلَیہٖ
نوٹ : اس قاعدے سے چار کلمات مستثنیٰ ہیں ۔(دو جگہ مضموم ہوگی اوردوجگہ ساکن ہوگی) (۱) وَمَآاَنْسانِیہُ (۲) عَلَیْہُ اللہَ (۳) اَرْجِہْ (۴) فَاَلْقِہْ 
مضموم ہونے کی صورت : ھائے ضمیر سے پہلے اگر ضمّہ یا فتحہ یا یائے
ساکنہ کے علاوہ اورکوئی ساکن حرف ہوتو ھائے ضمیر مضموم ہوگی۔
    مثلاً اِسْمُہ، ، لَہٗ ، مِنْہ،
نوٹ : مگر اس قاعدے سے ایک کلمہ مستثنیٰ ہے ۔ وَیَتَّقْہٖ
مدّہ کرنا : بعض اوقات ھائے ضمیری کے ضمّہ کو ضَمّہ اشباعی سے اورکسرہ کو کسرہ اشباعی سے بدل دیتے ہیں ۔
قاعدہ : اگرھائے ضمیر کا مابعد اورماقبل دونوں متحرک ہوں تو ھائے ضمیر کی حرکت کو کھینچ کر پڑھیں گے یعنی مدّکرینگے مثلاً وَمَا لَہٗ فِی الآخِرَۃِ ، وَرَسُوْلُہٗ اَحَقُّ
نوٹ: اس قاعدے سے ایک کلمہ مستثنیٰ ہے ۔ یَرْضَہُ لَکُمْ
مدّہ نہ کرنا : قاعدہ : ھائے ضمیر کے ما قبل یا مابعد میں سے کوئی حرف ساکن ہو تو ھائے ضمیر میں مدّہ نہ ہوگا۔ مثلاً مِنْہُ ، لَہُ الْمَلْک 
مگر اس قاعدے سے ایک کلمہ مستثنٰی ہے ۔ فِیْہٖ مُھَا نًا 
(ii)ھائے سکتہ: کلمے کے آخر میں وہ ''ھا ئ'' جو کلمے کی آخری حرکت کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اس کا کوئی معنٰی نہیں ہوتا اسے ھائے سکتہ کہتے ہیں۔ یہ وقفاً و وصلاً ساکن پڑھی جاتی ہے ۔ پورے قرآن مجید میں نوکلمات کے آخر میں ہائے سکتہ کا اضافہ کیا گیا ہے وہ کلمات یہ ہیں ۔
(i)لَمْ یَتَسَنَّہْ(ii)مَالِیَہْ(iii)سُلْطَانِیَہْ(iv)مَاھِیَہْ(v)فَبِھُدٰھُمُ اقْتدِہْ
(vi)حِسَابِیَہْ (دومرتبہ) (vii)کِتَابِیَہْ(دومرتبہ آیاہے)
نوٹ : سورہ بقرہ میں لَمْ یَتَسَنَّہْ ۔ سورہ انعام میں فَبِھُدٰھُمُ اقْتدِہْ۔ سورۃ الحاقہ میں دو جگہ کِتٰبِیَہْ دو جگہ حِسَابِیَہْ اورمَالِیَہْ اورسُلْطٰنِیَہْ اورسورۃ القارعہ میں مَاھِیَہْ
(iii) ھائے تانیث: جو اسم واحد مونث کے آخر میں لاحق ہوتی ہے اورعلامت تانیث ہوتی ہے یہ وصل میں تاپرھی جاتی ہے اوروقف میں ہائے ساکنہ سے بدل جاتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسے ہائے تانیث کہتے ہیں۔
مثلا جَنَّۃٌ سے حالت وقف میں جَنَّہْ اور اَلْحُطَمَۃِ سے حالت وقف میں اَلْحُطَمَہْ

اجتماع ساکنین  (دوساکنوں کاجمع ہونا)

اجتماع ساکنین (دوساکنوں کاجمع ہونا)

قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر دو ساکن جمع ہوجاتے ہیں جسکی وجہ سے ان کو پڑھنے میں ثقل پیداہوتاہے لہذا قراء حضرات نے اس ثقل کو دور کرنے کے لئے کچھ قوانین وضع کئے ہیں۔
اجتما ع ساکنین کی دو اقسام ہیں 
    ۱۔اجتماع ساکنین علی حدّہٖ    ۲۔اجتماع ساکنین علی غیر حدّہٖ
(۱)اجتماع ساکنین علی حدّہٖ: یعنی دو ساکنوں کا ایک ہی کلمہ میں جمع ہونا اس کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں۔
(i)دوساکن ایک کلمہ میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلا ساکن ''حرف مدہ ''اوردوسرا ساکن ''سکون اصلی ''ہوتو اسے دراز کر کے پڑھیں گے ۔ مثلاً دَآبَّہ
(ii) دو ساکنوں کا ایک کلمہ میں اس طرح جمع ہونا کہ پہلا ساکن ''حرف مدّہ'' اوردوسرا ساکن ''سکون عارضی''ہوتو پہلے ساکن کو دراز کر کے پڑھیں گے۔ مثلاً یَعْلَمُوْن
(iii)دو ساکنوں کا ایک کلمہ میں اس طرح جمع ہونا کہ پہلا ساکن غیر مدہ اوردوسرا سکون عارضی ہوتو دونوں ساکنوں کو بغیر کھینچے باقی رکھ کر پڑھیں گے۔
    مثلاً اَلْقَدْر o وَالْعَصْرo
 (۲)اجتماع ساکنین علی غیر حدّہٖ: یعنی دوساکنوں کا الگ الگ کلموں میں جمع ہونا ۔اس کے مندرجہ ذیل چار قاعدے ہیں ۔
    (i) حذف کرنا (ii) ضمّہ دینا (iii) فتحہ دینا (iv)کسرہ دینا
(i)حذف کرنا :جب دو ساکن دوکلموں میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلا ساکن حرف مدہ ہواوردوسرے ساکن پر سکون اصلی ہوتو پہلے ساکن (حرف مدّہ) کو گرا کر اس کی حرکت کے موافق اگلے حرف سے ملا کر پڑھیں گے ۔
    مثلاً وَ اَقِیمُوْا لْوَزْنَ، اصل میں وَاَقِیْمُوْا اَلْوَزْن تھا 
    فِی الْاَرْضِاصل میں فِیْ الْاَرْضِ تھا ۔
(ii)ضمّہ دینا: جب دوساکن دوکلموں میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلا ساکن جمع کی میم (ھُمْ ، کُمْ ، تُمْ، ھِمْ )ہو یا واؤ لین جمع ہو اوردوسرا سکون اصلی ہوتو پہلے ساکن کو ضمہ دے کر اگلے ساکن حرف سے ملا کر پڑھیں گے ۔
    مثلاً عَلَیْکُمُ الْقِتَال، اصل میں عَلَیْکُمْ اَلْقِتِالُ تھا وَرَاَوُ الْعَذَابَ ، اصل میں وَرَاَوْ اَلْعَذَاب تھا ۔
(iii)فتحہ دینا:جب دو ساکن کلمے میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلاساکن ''ن'' حرف جار ''من''کا ہو یا حروف مقطعات میں سے میم ہو اوردوسرے ساکن پر سکون اصلی ہوتو پہلے ساکن کو فتحہ دے کر اگلے حرف سے ملا کر پڑھیں گے ۔
    مثلاً اَلمَّاللہ (الف لامّ مِّیْمَ اللہ) ، مِنَ اللہِ 
(iv)کسرہ دینا: جب دوساکن دوکلموں میں اس طرح جمع ہوں کہ پہلاساکن نہ حرف مدہ نہ جمع کی میم نہ واؤ لین جمع اورنہ ''ن''مِنْ حرف جار کا ہو اورنہ ہی حروف
مقطعات کی میم ہو، یعنی ان سب کے علاوہ کوئی دوسراساکن ہوتو اسے کسرہ دے کر اگلے حرف سے ملا کرپڑھیں گے۔ مثلاً اَمِ اللہ اصل میں اَمْ اَللہُ تھا لِمَنِ ارْتَضٰی 
٭نونِ قُطنی 
    جب تنوین کے بعد کوئی حرفِ ساکن آجائے تو دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے تنوین کے پوشیدہ نون کو اگلے کلمے کے ساتھ( کسرہ کے قانون کے مطابق) ہمیشہ زیردیں گے ۔
نوٹ : قرآن مجید میں علامت کے طور پر عموماً چھوٹاسانون دیا ہوتاہے ۔
    مثلا قَدِیْرٌoاَلَّذِیْ ملا کر پڑھنے کی صورت میں قَدِیْرُنِالّذِی ہوگا 
    مُبِیْنٍ oاُقْتُلُوْا ملا کر پڑھنے کی صورت میں مُبِیْنِنِ اقْتُلُوْا ہوگا۔ 
لام تعریف (اَلْ) کا بیان

لام تعریف (اَلْ) کا بیان


   کسی اسم نکرہ کو معرفہ کرنے کے لئے اس سے پہلے (اَلْ) لگادیتے ہیں اسے لام تعریف کہتے ہیں ۔
    بعض جگہ (اَلْ)کا اظہار ہوتاہے یعنی پڑھاجاتاہے اوربعض جگہ ادغام کی وجہ سے نہیں پڑھاجاتا۔
    مثلاً اَلْقَمَرُ اور اَلشَّمْسُ
    لام تعریف کا اظہار : اگر (اَلْ) کے بعد حروف قمریہ میں سے کوئی حرف ہوتو لام تعریف کو ظاہر کر کے پڑھیں گے ۔حروف قمریہ چودہ ہیں جن کا مجموعہ:     اَبْغِ حجّکَ وَخَفْ عَقِیمَہ مثلاً اَلْإنْسَان ۔ اَلْحَدِیثُ

لام تعریف کا ادغام : اگر(اَلْ )کے بعد حروف شمسیہ میں سے کوئی حرف آجائے تو لام تعریف کا ادغام ہوگایعنی رسم الخط کے طور پر لکھا جائے گامگر تلفظ سے لام ساقط ہوجائے گا حروف قمریہ کے علاوہ باقی حروف شمسیہ ہیں۔ 
    مثلاً اَلرَّحْمٰنَ ، اَلدِّیْن 

لحن کا بیان

لحن کا بیان

لغوی معنیٰ : غلطی ، لب ولہجہ
اصطلاحی معنیٰ : اصطلاح قراء میں لحن سے مراد تجوید کے خلاف پڑھنا، قراء ت سبعہ وعشرہ سے الگ ہوجانا، عربوں کے لہجے سے ہٹ جانا۔
لحن کی اقسام 
    لحن کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں ۔
    ۱۔لحنِ جلی             ۲۔ لحنِ خفی 
(۱)لحنِ جلی:(کھلی غلطی ) بڑی اورظاہر غلطی کو کہتے ہیں ۔
حکم : اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی بزازیہ کے حوالے سے فرماتے ہیں '' ان اللّحن حرام بلاخلاف'' یعنی بے شک لحنِ جلی حرام ہے اِس میں کسی کواختلاف نہیں۔ (فتاوٰی رضویہ ص۲۶۲ ج۶ مطبوعہ رضا فاؤنڈیش مرکز الاولیاء لاہور)
لحن جلی کی صورتیں :
۱۔ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدل دینا مثلاً اَلْحَمْدُ کو اَلْھَمْدُ پڑھنا 
۲۔ساکن کو متحرک یا متحرک کو ساکن پڑھنا خَلَقْنَاکو خَلَقَنَا پڑھنا(ساکن کو متحرک ) خَتَمَ اللہُ کو خَتْمَ اللہُ پڑھنا (متحرک کو ساکن )
۳۔حرکت کو حرکت سے بدل دینا اَنْعَمْتَ کو اَ نْعَمْتُ پڑھنا
۴۔کسی حرف کو بڑھا دینا یا گھٹا دینا فَعَلَ کو فَعَلاَ پڑھنا (بڑھانا)لَمْ یُوْلَدْکو لَمْ یُلَدْ پڑھنا (گھٹانا)
۵۔مُخَفَّفْ کو مشدّد اورمشدّد کو مخفف پڑھنا جیسے کَذَبَ کو کَذَّبَ پڑھنا (مخفف کو مشدّد)اور صَدَّقَ کو صَدَقَ پڑھنا (مشدّد کو مخفف)نیز جیسےوَتَبَّکو وقف میں خیال نہ کرنے سے وَتَبْ ہوجاتاہے ۔
۶۔ مدّ لازم اورمدِّ متّصل میں قصر کرنا جیسے ضَآلاًّ کو ضَالاًّ (قصرسے پڑھنا) وَالسَّمَآءِ کو وَالسَّمَاءِ پڑھنا
(۲) لحنِ خفی: (پوشیدہ غلطی)چھوٹی اورپوشیدہ غلطی کو کہتے ہیں یعنی ان چیزوں کو ترک کردینا جو حروف کی خوبصورتی اورتحسین میں اضافہ کرتی ہیں اس سے معنٰی فاسد نہیں ہوتے مگر یہ مکروہ وناپسندغلطی ہے شرعاً اس غلطی سے بچنا مستحب ہے ۔
لحن خفی کی صورتیں: لحن خفی صفاتِ عارضہ کے صحیح طورپر ادا نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ مثلاً اِدغام، اِقلاب ،اِخفاء اورغُنّہ کا صحیح طورپر ادا نہ ہونااورمّدات کا چھوٹا بڑا کرنا وغیرہ وغیرہ ۔ 
سوالات سبق نمبر ۲۰
۱۔    لحن کی بنیادی طور پر کتنی اقسام ہیں ؟ لحن کے لغوی اوراصطلاحی معنٰی بیان فرمائیں۔
۲۔    لحن خفی کے لغوی اوراصطلاحی معنٰی تحریرفرمائیں۔
۳۔    لحن خفی کا حکم کیا ہے ؟اور لحن خفی کن کن صورتوں میں ہوتی ہے ؟مثالیں دے کر 
    وضاحت کریں۔
۴۔    لحن جلی کا لغوی اوراصطلاحی معنٰی بیان کریں نیز اس کی کتنی صورتیں ہیں مثال 
    سے وضاحت فرمائیں ۔
۵۔    لحن جلی کا حکم بیان کریں۔

اِمالہ کا بیان

اِمالہ کا بیان

لغوی معنیٰ : مائل کرنا۔
اصطلاحی معنٰی: زبر کو زیر کی طرف اورالف کو یا کی طرف مائل کرکے پڑھنا۔
    روایتِ حفص میں سارے قرآن مجید میں صرف ایک جگہ لفظ مَجْرِیْھَا میں امالہ ہوا ہے یہ اصل میں مَجْرٰھَا تھا ۔الف کو یا کی طرف مائل کیاتو مَجْرَیْھَا بن گیا پھر زبر کو زیر کی طرف مائل کیا تو مَجْرِیْھَا (مَجْرٖھا ) بن گیا ۔
    مَجْرَیْھَا امالہ صغرٰی اورمَجْرِیْھَا امالہ کبرٰی ہے ۔
    روایتِ حفص میں اِمالہ کبرٰی ہی ہوتاہے ۔
نوٹ : اِمالہ کی را کو قطرے کی را کی طر ح پڑھتے ہیں ۔اِمالہ صغرٰی میں آواز کا جھکاؤ زبر اورالف کے قریب ہوتاہے اوراِمالہ کبرٰی میں آواز کا جھکاؤ زیر اوریا کے قریب ہوتاہے جو کہ ماہر اُستاد پڑھ کر فرق بتاسکتاہے۔
سوالات سبق نمبر ۱۹
۱۔    روایت حفص کے مطابق قرآن پاک میں اِمالہ کتنے مقامات پر ہے اوروہ 
    کون کون سے مقامات ہیں نشاندہی فرمائیں۔
۲۔    اِمالہ کے لغوی معنٰی اوراصطلاحی معنٰی کی مثال دے کر وضاحت فرمائیں۔
۳۔    اِمالہ صغرٰی اوراِمالہ کبرٰی سے کیا مراد ہے ؟

رموز اوقاف

رموز اوقاف

    عربی گرائمر جانے بغیر وقف کی صحیح پہچان نہیں ہوسکتی لہذا قراء حضرات نے ہماری آسانی کے لئے کچھ رموز (علامات) مقررکئے ہیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ کس جگہ وقف کرنا ہے اورکس جگہ نہیں کرنا۔
کچھ ضروری رموز اوقاف 
(۱) گول دائرہ(o) : یہ وقف آیت کی علامت ہے یہ اس بات کو ظاہرکرتاہے کہ یہاں آیت مکمل ہوگئی ہے یہاں رکنا چاہیئے ۔ 
(۲) م :یہ وقف لازم کی علامت ہے یہاں ٹھہرنا لازم ہے اگرنہ ٹھہرے تو مطلب کچھ کا کچھ ہوجانے کا خوف ہے ۔
(۳) ط :یہ وقف مطلق کی علامت ہے مگر یہ علامت وہاں ہوتی ہے جہاں مطلب پور ا ہوتاہے ۔یہاں پرٹھہرنا چاہیے کہ کلام تام ہوجاتاہے ۔ 
(۴) ج : یہ وقف جائز کی علامت ہے یہاں پرٹھہرنا بھی جائز ہے اورنہ ٹھہرنا بھی جائز ہے ۔معنٰی سمجھانے اورقرأت کو خوبصورت کرنے کے لیے ٹھہرنا مستحسن (اچھا)ہے۔
(۵) ز : یہ وقف مُجَوَّز (جائز وقف)کی علامت ہے۔یہاں پر ٹھہرنا ضعیف ہے ۔
(۶) ص : یہ وقف مرخص کی علامت ہے۔ یہاں پر نہ ٹھہرنا بہتر ہے لیکن اگرکوئی تھک کر ٹھہر جائے تو رخصت ہے لیکن ''ز'' کے مقابل یہاں نہ ٹھہرنا بہترہے ۔
(۷) صلے: اس علامت سے مراد یہ ہے کہ یہاں ملا کر پڑھنا اولیٰ (بہتر)ہے۔ لہذا یہاں ملاکر پڑھنا چاہیے ۔
(۸) ق : اس علامت سے مراد ہے کہ یہاں پر ملا کر پڑھنااولیٰ (بہتر)ہے۔ 
(۹) قِف: یہ علامت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہاں پرٹھہرجاؤ۔لہذا ٹھہر جاناچاہیے۔
(۱۰) سکتہ : یہ سکتہ کی علامت ہے یعنی یہاں پر لمحہ بھر ٹھہرنا چاہیے اس طرح کہ سانس جاری رہے اورآواز رک جائے ۔
(۱۱) وقفہ : اس سے مراد بھی کچھ لمحہ کیلئے ٹھہرنالیاجاتاہے لیکن سکتہ کی نسبت کچھ زیادہ لیکن سانس کاجاری رکھنا ضروری ہے اورآواز کا رک جانا۔ 
(۱۲)لا : کے معنٰی ہیں نہیں ۔ یہ علامت کہیں آیت کے اوپر آتی ہے اورکہیں آیت کے دوران ۔اگر آیت کے درمیان میں یہ علامت آجائے توہر گز نہیں ٹھہریں گے اگرآیت (o)کے اوپر ہوتو یہاں علماء کا اختلاف ہے یعنی بعض کے نزدیک ٹھہرنا چاہیے اوربعض کے نزدیک نہیں ٹھہرنا چاہیے لیکن ٹھہرنے یا نہ ٹھہرنے سے معنٰی میں خلل واقع نہیں ہوتا ۔
الحاصل :'' گول دائرہ (o)م، ط، ج ''ان علامتوں پرٹھہر جانا چاہیے اور''ز،ص،صلے، ق اوروقفہ'' ان جگہوں پر نہ ٹھہرنا ہی بہتر ہے ۔لہذا آیت ''o،م، ط ، ج'' پر رکنے کی عادت بنانی چاہیے دیگر علامات پر بوقت ضرورت قوی کو ضعیف پر ترجیح کی صورت میں اختیار دیا گیا ہے ۔

وقف کا بیان

وقف کا بیان

وقف کا لغوی معنیٰ : ٹھہرنا، رکنا
وقف کا اصطلاحی معنیٰ : اصطلاح تجوید میں کلمہ کے آخر پر سانس اورآواز توڑ دینا اور موقوف علیہ (جس پر وقف کیاجائے)اگرمتحرک ہوتو ساکن کردینا وقف کہلاتاہے۔ 
وجوہات وقف 
    وجوہات وقف چار ہیں ۔
(i)وقف اضطراری : وہ وقف ہے جو اپنی مرضی سے نہ کیاجائے بلکہ تنگی سانس یا کھانسی وغیرہ کی وجہ سے مجبوراً وقف کیا جائے ۔
(ii)وقف اختباری : یہ سمجھنے اورسمجھانے کے لیے وقف کیا جائے کہ موقوف علیہ کو کیسے پڑھنا ہے ۔
(iii) وقف انتظاری : روایتوں کے اختلاف کو پورا کرنے کیلئے ایک روایت کے بعد دوسری روایت کے انتظار میں جو وقف کیا جائے ۔
(iv)وقف اختیاری : سانس ہونے کے باوجود اپنے ارادے او راختیار سے وقف کرنا۔
وقف اختیاری کی اقسام 
(i)وقف تام : جہاں معنٰی اورجملہ پورا ہوجائے یعنی جس کلمہ پر وقف کیا جائے اس
کا بعد والے جملے اوراس کے معنٰی سے تعلق نہ ہو۔مثلاً مٰلِکِ یَوْمِ الدِّ یْن پر وقف کر کے اِیَّاکَ نَعْبُدُ سے ابتداء کرنا ۔
(ii)وقف کافی : جس کلمہ پروقف کیا وہاں معنٰی کے اعتبار سے بعدوالے کلمہ سے تعلق ہواور لفظی تعلق نہ ہو۔ مثلاً وَبِالاْٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ پر وقف کر کے اُولٰئِکَ عَلٰی ھُدًی سے پڑھنا۔
(iii)وقف حسن : جس کلمہ پر وقف کیاجائے اس کا بعد والے کلمہ سے معنٰی کے اعتبار سے اورلفظی تعلق دونوں ہوں لیکن وقف کرنے سے معنٰی فاسد نہ ہوتے ہوں اورنہ ہی معنٰی میں ابہام پیدا ہوتاہو۔مثلاً اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ پر وقف کرنا۔
وقف قبیح :جس کلمہ پر وقف کیا جائے اس کا بعد والے کلمہ سے معنٰی کے اعتبار سے اورلفظی تعلق دونوں ہوں لیکن وقف کرنے سے معنٰی فاسدہوجائے یا معنٰی میں ابہام پیداہوجائے ۔
مثلاً الحمدللہ کے الحمد پر وقف کرنا، بسم اللہ کے بسم پر وقف کرنا۔
احکام : وقف تام اوروقف کافی میں ابتداء ہوگی ا وروقف حسن اوروقف قبیح میں اعادہ ہوگا۔ 
ابتداء : جس کلمہ پر وقف کیا جائے اس سے آگے پڑھنا۔
    مثلاً قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پر وقف کر کے اَللہُ الصَّمَد سے پڑھنا۔
اعادہ : موقوف علیہ یا اس سے پہلے والے کلمے کو لوٹا کر پڑھنا جیسے الحمدللہ پر وقف کیا تو دوبارہ الحمدہی سے شروع کرے (یعنی الحمدللہ ربّ العٰلمین پڑھنا)
    طریقہ وقف (یعنی کس طرح وقف کیا جائے )
(i)اگر موقوف علیہ پر زبر ، زیر ،پیش ، دو زیر اوردوپیش ہوں تو ان کو ساکن کردیں گے ۔
    جیسے کَسَبَ سے کَسَبْoاَلْحَطَبِ سے اَلْحَطَبْo 
    اَعْبُدُسے اَعْبُدُo    مَسَدٍ سے مَسَدْo اَحَدٌسے اَحَدo
(ii)موقوف علیہ پر دوزبر ہوں تو وقوف میں الف سے بدل دیں گے۔    
    جیسے اَلْفَافاً سے اَلْفَافَا
(iii)موقوف علیہ پر گول تا''ۃ ''ہوتو وقف میں اس کو ھا '' ہ '' سے بدل دیں گے ۔
    مثلاً قُوَّۃٌ سےقُوَّہْ
نوٹ : اگر لمبی'' تا '' ہے تو وقف میں ''ۃ ''ہی رہے گی۔ مثلاً بَیِّنٰتٍ سے بَیِّنٰتْ
(iv) موقوف علیہ ساکن ہو تو صرف آواز اورسانس توڑ کر وقف کرینگے مثلاً (وَالنْحَرْ)
موقوف علیہ کے لحاظ سے وقف کی اقسام 
(i) وقف بالاسکان: جس پر وقف کیا اس کو ساکن کردیا جائے یہ تینوں حرکتوں میں ہوتاہے ۔ مثلاجیسے کَسَبَoاَلحَطَب ِ oاُعْبُدُ0
(ii) وقف با لروم : موقوف علیہ کی حرکت کے تہائی حصہ پڑھنے کو روم کہتے ہیں یہ وقف زیر، پیش میں ہوتاہے ۔دوزیر ، دوپیش بھی اسی میں شامل ہیں ۔مثلاً اَلْقَوْمِ ، قَوْمٍ اور اَلرَّسُوْلُ رَسُوْلٌ 
(iii )وقف بالاشمام : موقف علیہ کو ساکن کرکے ہونٹوں سے ضمّہ کی طرف اشارہ کرنا یہ وقف ضمہ ہی میں ہوتاہے ۔ مثلاً اَلرَّسُوْلُ ، رَسُوْلٌ

 مدّات کا بیان

مدّات کا بیان

مدّ کا لغوی معنیٰ : لمباکرنا، کھینچنا
مد کا اصطلاحی معنیٰ : حروف مدہ اورحروف لین پر آواز کے دراز کرنے کو کہتے ہیں ۔
مد ّ کی اقسام 
مدکی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں ۔
    ۱۔مد اصلی         ۲۔مد فرعی 
(۱)مدّ اصلی :اگر حروف مدہ کے بعد مد کا سبب نہ ہوتو اسے مد اصلی کہتے ہیں۔
     جیسے نُوْ حِیْھَا (اس کی مقدار ایک الف ہے )
(۲)مد فرعی: اگر حروف مدہ اور لین کے بعد مد کا کوئی سبب پایا جائے تو اسے مدّ فرعی کہتے ہیں ۔ جیسے جَآءَ 
اسبا ب مدّ 
    ۱۔ ہمزہ         ۲۔سکون 
۱۔         ہمزہ والی مدّات :
    اگر سببِ مد ہمزہ ہوتو اس کی ۲ اقسام ہونگی ۔
    ۱۔مد متصل     ۲۔مد منفصل
(۱)مد مُتّصِل : اگر حروف مدہ کے بعد ہمزہ اسی کلمے میں ہوتو اسے مد متصل یا
مد واجب کہتے ہیں اس لئے کہ تمام قراء سے مد ہی ثابت ہے قصر ثابت نہیں ہے۔ 
    مثلاً سَآءَ ، مَآءٌ
(۲)مد منفصل:اگر حروف مدہ کے بعد ہمزہ دوسرے کلمے میں ہوتواسے مد منفصل یا مد جائز کہتے ہیں اس لئے کہ اس میں قصر بھی ثابت ہے ۔
مثلاً وَمَآ اُنْزِلَ ، فِیۤ اَنْفُسِکُمْ
مقدار : مد متصل ومنفصل کی مقدار دو ، اڑھائی اور چار الف تک ہے اس کے علاوہ مد منفصل میں قصر (ایک الف کی مقدارکھینچنا) بھی جائز ہے ۔
سکون والی مدّات 
سکون ۲ قسم کا ہوتاہے ۔
    ۱۔سکون عارضی     ۲۔سکون اصلی 
(۱)سکون عارضی والی مدّات : جو سکون وقف کی وجہ سے ہو اسے سکون عارضی کہتے ہیں۔ اسکی مندرجہ ذیل ۲اقسام ہیں۔ 
    ۱۔ مدّ عارض     ۲۔ مدّ لین عارض
(۱)مدّ عارض: اگر حروف مدہ کے بعد سکون عارضی ہوتو اسے مد عارض کہتے ہیں ۔
مثلاً مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم 
(۲)مدّ لین عارض: اگر حروف لین کے بعد سکون عارضی ہوتو اسے مدلین عارض کہتے ہیں۔ مثلاً وَ الصَّیْف
مقدار : مد عارض ولین عارض میں طول(لمباکرنا) ، توسط(درمیانی حالت میں پڑھنا) ، قصر (چھوٹا کرنا)، تینوں جائز ہیں ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ مد عارض میں
طول افضل ہے اوراس کے بعد توسط اورپھر قصر ہے جبکہ مدلین عارض میں قصر افضل ہے اس کے بعد توسط اورپھر طول ہے ۔
    ۲۔    سکون اصلی والی مدّات 
    جوسکون وقف و وصل میں سکون میں رہے اسے سکون اصلی کہتے ہیں اسکی مندرجہ ذیل دو اقسام ہیں ۔
    ۱۔ مدّلازم     ۲۔ مدّلین لازم
(۱) مدّلازم: اگر حروف مدہ کے بعد سکون اصلی ہوتو اسے مد لازم کہتے ہیں ۔ 
    مثلاً جَآنٌّ
(۲) مدّلین لازم:اگر حروف لین کے بعد سکون اصلی ہوتو اسے مدلین لازم کہتے ہیں ۔    مثلاً غَیْن
مقدار : مد لین لازم میں طول ، توسط اور قصر تینوں جائزہیں اس میں طول بہترہے ۔

مدّ لازم کی اقسام 
     مدّ لازم کی مندرجہ ذیل ۲ا قسام ہیں ۔
    ۱۔ مد لازم کلمی (جو کلمے میں ہو)    
    ۲۔ مدلازم حرفی (جو حرف میں ہو)
(۱)مد لازم کلمی: اس کی ۲اقسام ہیں۔
    ۱۔ مدلازم کلمی مثقل         ۲۔مد لازم کلمی مخَفَّف
۱۔مد لازم کلمی مثقل: اگر حروف مدہ کے بعد کلمہ میں سکون اصلی با لتشدید ہوتو
اسے مدلازم کلمی مثقل کہتے ہیں۔      
    مثلاً ضَآلاًّ
۲۔ مد لازم کلمی مخَفَّف:اگر حروف مدہ کے بعد کلمہ میں سکون اصلی بلا تشدید ہو تو اسے مد لازم کلمی مخفف کہتے ہیں ۔    
     مثلاً آلْئٰنَ
(۲) مدلازم حرفی : اس کی بھی ۲اقسام ہیں ۔
    (i)مد لازم حرفی مثقل         (ii)مد لازم حرفی مخفف
(i)مد لازم حرفی مثقل : اگر حروف مدہ کے بعد حرف میں سکون اصلی بالتشدید ہوتو اسے مد لازم حرفی مثقل کہتے ہیں ۔     مثلاً الٓـمّٓ
(ii)مد لازم حرفی مخفف:اگر حروف مدہ کے بعد حرف میں سکون اصلی باالجزم ہوتو اسے مد لازم حرفی مخفف کہتے ہیں ۔ مثلاً قۤ (قآفْ )
نوٹ : مد لازم کی تمام اقسام میں طول ہی ہوگا۔
مراتب المدّات
(۱)مدلازم سب سے قوی ہے (۲)مدمتصل (۳)مد عارض (۴)مد منفصل
(۵)مدلین لازم (۶) مدلین عارض جو سب سے ضعیف مد ہے ۔
    طول ، توسط ، اورقصر کی مقدا ریں
(۱) طول : پانچ الف (ایک قول کے مطابق ۳ الف )
(۲)توسط : تین الف (ایک قول کے مطابق ۲ الف )
(۳)قصر : ایک الف ہے ۔

اِستعاذہ اوربسملہ کا بیان

اِستعاذہ اوربسملہ کا بیان

(اعوذباللہ اوربسم اللہ پڑھنے کا بیان)
اسکی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں ۔
(i)    تلاوت کی ابتداء اورسورت کی ابتداء : یہاں استعاذہ اوربسملہ پڑھنا دونوں سنّت مبارکہ ہیں ۔ 
(ii)    تلاوت کے درمیان اگر سورت آجائے : تو بسم اللہ پڑھنا سنت مبارکہ ہے ۔
(iii)    اگر سورت کے درمیان سے تلاوت شروع کی تواستعاذہ سنت مبارکہ ہے اوربسملہ مستحب ہے ۔
الحاصل : شروعِ تلاوت میں اعوذ باللہ پڑھنا سنت مبارکہ ہے اورابتدائے سورت میں بسملہ (بسم اللہ )پڑھنا سنت ورنہ مستحب ہے۔
نوٹ : سورۃ برآءَ ت سے اگرتلاوت شروع کی تو اعوذباللہ اوربسم اللہ پڑھ لیں اوراگرسورت برآء ت تلاوت کے درمیان میں آجائے تو بسم اللہ کی حاجت نہیں ۔ 
            (بہار شریعت حصّہ سوم ص۲۰۶ مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)
وصل (ملانا)فصل (جُداکرنا)
1۔    اگر ابتدائے سورت اورابتدائے تلاوت ہوتو اسکی
چارصورتیں ہیں۔     ۱۔وصل کل : (سب کو ملانا) استعاذہ ، بسملہ اورسورۃ کو ملا کر ایک ہی سانس میں پڑھنا۔ جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ۔

۲۔فصلِ کل: استعاذہ، بسملہ اورسورۃ کو علیحدہ علیحدہ پڑھنا یعنی ہرایک پر وقف کرنا جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ o بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾

۳۔وصلِ اوّل فصلِ ثانی: (پہلے کوملانا اوردوسرے کو جدا کرنا)استعاذہ اوربسملہ کو ایک ہی سانس میں پڑھنا اورسورۃ کو دوسرے سانس سے پڑھنا جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾

۴۔فصل اوّل وصلِ ثانی: (پہلے کو جدا کرنا اوردوسرے کو ملانا)استعاذہ کو جدا کرنا اوربسملہ اورسورت کو ایک ہی سانس میں ملا کر پڑھنا ۔جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ ؕ﴿۱﴾

نوٹ : ابتدائے سورت اورابتدائے تلاوت میں مندرجہ بالا چاروں صورتیں جائز ہیں لیکن فصل اوّل وصل ثانی بالثالث بہتر ہے ۔
2۔اگردرمیان تلاوت اورابتدائے سورت ہو تو اسکی بھی چارصورتیں ہیں ان میں سے تین جائز اورایک ناجائز ہے ۔
جائز صورتیں : 
۱۔وصلِ کل: پہلی سورت کے آخر ، بسملہ اوردوسری سورت کی پہلی آیت ان تینوں کو ملا کر ایک سانس میں پڑھنا جیسے وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾

۲۔فصلِ کل : پہلی سورت کے آخر ، بسملہ اوردوسری سورت کی پہلی آیت ان تینوں کو علیحدہ علیحدہ سانس سے پڑھناجیسے وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَoبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾

۳۔فصلِ اوّل وصلِ ثانی : پہلی سورت کے آخر کو جدا کرناا وربسملہ اوردوسری سورت کی پہلی آیت کو ملا کر ایک سانس میں پڑھنا جیسے وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَoبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo یہی بہتر ہے ۔

ناجا ئز صورت : 
۴۔وصلِ اوّل فصلِ ثانی: پہلی سورت کا آخر اوربسملہ کو ملا کر ایک ہی سانس میں پڑھنا اوردوسری سورت کی پہلی آیت کو جُدا کرنا یعنی الگ سانس سے پڑھنا جیسے وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِo قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo     یہ صورت ناجائز ہے کیونکہ بسملہ کا تعلق دوسری سورت کے آغاز سے ہے پہلی سورت کے اختتام سے ملا کر پڑھا تو بظاہر معلوم ہوگا کہ بسملہ کا تعلق پچھلی سورت سے ہے حالانکہ بسملہ کا تعلق ابتدائے سورت سے ہوتاہے ۔ ناجائز ہونے کا معنٰی یہ کہ اہلِ فن کے نزدیک ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔
3۔اگردرمیان سورت اورابتدائے تلاوت ہو: 
    اگردرمیان سورت اورابتدائے تلاوت ہو تو استعاذہ یعنی تعوذ پڑھناسنت مبارکہ ہے بسملہ پڑھنا مستحب ہے لازمی نہیں اگربسملہ پڑھا جائے تو اس کی چارصورتیں ہیں جن میں سے دو جائز اوردوناجائز ہیں ۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
جائز صورتیں : 
۱۔ فصل کل : استعاذہ ، بسملہ اورآیت کو جداجدا کر لے تین سانسوں میں پڑھنا جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمoاِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ یہی بہترہے ۔
(۲)وصل اول فصل ثانی : استعاذہ اوربسملہ کو ملا دینا جبکہ آیت کو جُدا کر دینا 
جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمoاِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔

ناجائز صورتیں: 
(۳) وصلِ کل : استعاذہ ،بسملہ اورآیت کو ملادینا۔
جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔

۴۔ فصلِ اوّل و وصلِ ثانی : استعاذہ کو علیٰحدہ کرنا اوربسملہ اورآیت کو ملا کر ایک ہی سانس میں پڑھنا جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الشَّیْطٰنُ یَعِدُ کُمُ الْفَقْرَo
نوٹ: ناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملانے سے کہیں معنوی خرابی لازم نہ آئے جیسے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الشَّیْطٰنُ یَعِدُ کُمُ الْفَقْرَo اور اگر معنوی خرابی لازم نہ آئے تو یہ صورتیں بھی جائز ہیں۔
اگربسملہ تلاوت کے دوران پڑھی نہ جائے تواسکی دوصورتیں بنیں گی۔
(i)وصل : استعاذہ اورآیت ملا کر ایک ہی سانس میں پڑھنا 
    جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔

(ii)فصل : یعنی استعاذہ اورآیت کو جدا کر کے پڑھنا 
جیسے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِoاِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا۔ یہی بہتر ہے ۔
نوٹ : فصل بہتر ہے کیونکہ استعاذہ قرآء ت کا حصہ ہے ۔جہاں استعاذہ کو آیت سے ملانے میں معنٰی کے اعتبارسے خرابی لازم نہ آتی ہو وہاں وصل جائز ہے اورفصل بہتر ہے اورجہاں خرابی لازم آتی ہو وہاں فصل ضروری ہے ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب 
ضروری وضاحت : معنٰی کے اعتبار سے خرابی کا مطلب یہ ہے کہ استعاذہ کے ساتھ وصل کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس آیت کے شروع میں اللہ عزوجل کے ذاتی وصفاتی ناموں میں سے کوئی نہ ہو مثلاً

    (1) اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی
(2) اَللہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی

را کا بیان

را کا بیان

را کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
(۱)رامتحرکہ     (۲)راساکنہ     (۳) راموقوفہ     (۴) را مشدّدہ
(۵)رامرا مہ     (۶)راممالہ
(۱)رامتحرکہ:متحرک ہونے کی صورت میں را پر زبر یا پیش ہوتو را پُر اورزیر ہوتو راباریک پڑھی جائے گی ۔مثلا ً قَدَرَ ، یَنْصُرُ میں پُر اورشَرِبَ میں باریک 
(۲)راساکنہ: ساکن ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
۱۔ راساکنہ کا ماقبل اگرمفتوح یا مضموم ہو توپُر پڑھی جائے گی مثلا ً فَذَرْ ھُمْ ، اُنْظُرْ
۲۔ راساکنہ سے پہلے کسرہ عارضی ہوتوباوجود کسرہ کے ''را '' پُر پڑھی جائے گی ۔
    مثلاً اِرْجِعِیْ
۳۔ راساکنہ سے پہلے کسرہ دوسرے کلمے میں ہوتو باوجود کسرہ کے را پُر پڑھی جائے گی۔
    مثلاً رَبِّ ارْحَمْھُمَا
۴۔ راساکنہ کے بعد حروف مستعلیہ اسی کلمہ میں ہوتو ''را '' پُر پڑھی جائے گی ۔ مثلاً قِرْطَاسٍ
(۳)راموقوفہ:جب ''را '' پر وقف کیا جائے اس کی تین صورتیں ہیں ۔
۱۔ ''را '' موقوفہ کا ماقبل حرف مفتوح یا مضموم ہو تو پُر اوراگرماقبل مکسور ہوتو ''را '' باریک پڑھی جائے گی۔ مثلاً لَمْ یَنْصُرْ ، وَالقَمَرْ یہاں پُر پڑھی جائے گی ۔
۲۔ ''را '' موقوفہ کا ماقبل بھی ساکن ہو اوراس کا ماقبل مفتوح یا مضموم ہو تو پُر اورمکسورہو تو''را '' باریک پڑھی جائے گی ۔مثلاً وَالطُّورِ ، حِجْرٍ ، وَالْفَجْرِ
۳۔ ''را '' موقوفہ کا ماقبل یائے ساکنہ ہو تو ہر حال میں ''را '' باریک پڑھی جائے گی۔
     مثلاً خَیْرٌ ، قَدِیْرٌ
(۴)را مشدّدہ:جس ''را '' پر تشدید ہو اگر اس پر زبر یا پیش ہوتو پُر اوراگر زیر ہوتو باریک پڑھی جائے گی ۔ مثلا ً مُسْتَمِرًّا ، شَرٌّ ، ذُرِّیَّۃٌ 
(۵)رامرَامَہ : جس را پر وقف بالروم کیا گیا ہو وہ ''را '' اپنی حرکت کے موافق پڑھی جائے گی ۔پیش کی صورت میں پُر ۔جیسے شَکُوْرٌ ا ور زیر کی صورت میں باریک جیسے قَدْ رِ
(۶)راممالہ: ''را '' ممالہ وہ راہے جس میں امالہ کیا گیا ہو اوریہ ''را '' باریک پڑھی جاتی ہے۔ جیسے مَجْرٖھا
                                 ٭الحاصل ٭
پُر ہونے کی صورتیں
(۱) را مفتوح یا مضموم ہو۔
(۲) راساکن ہو اورماقبل مفتوح یا مضموم ہو۔
(۳) راساکن ہو اوراس کے بعد حروف مستعلیہ میں سے کوئی حرف اسی کلمہ میں ہو۔
(۴) راساکن سے پہلے زیر عارضی ہو یا زیر دوسرے کلمے میں ہو۔
باریک ہونے کی صورتیں 
(۱)مکسور ہو۔
(۲)راساکن سے پہلے زیر اصلی اسی کلمے میں ہو اورفوراً بعد حروف مستعلیہ میں سے کوئی حرف اسی کلمہ میں نہ ہو۔

الف، لام ،راء کی تفخیم وترقیق کا بیان

الف، لام ،راء کی تفخیم وترقیق کا بیان

    تفخیم : پُر پڑھنا 
    ترقیق: باریک پڑھنا
     کل حروف تہجی میں صرف الف ، لام اور را تین ایسے حروف ہیں جو کبھی پُر اورکبھی باریک پڑھے جاتے ہیں اورباقی۲۶ حروف ہمیشہ پُر یا باریک پڑھے جاتے ہیں ۔
الف کی تفخیم وترقیق 
    الف کے پُر اورباریک ہونے کا انحصار ماقبل پر ہے ۔اگر ماقبل پُر ہوتو الف بھی پُر اور اگرماقبل باریک ہوتو الف بھی باریک پڑھاجاتا ہے۔
مثلاً ''قَالُوْا'' میں پُر اور ''مَالٌ '' میں باریک پڑھاجائیگا۔ 
لام کی تفخیم وترقیق
    لام ہمیشہ باریک پڑھا جاتاہے لیکن اسم جلالت ''اللہ'' کا لام اس سے جُدا ہے کیونکہ یہ بعض صورتوں میں پُر بھی پڑھا جاتاہے ۔ اگر اسم جلالت ''اللہ''عزوجل کے لام سے پہلے زبر یا پیش آجائے توپُر پڑھا جائے گا اوراگر اس سے پہلے زیر آجائے تو یہ باریک پڑھا جائے گا۔
    مثلاً اَللہُ، فَاللہُ ، اِنَّ اللہَ میں لام پُر اور بِاللہ اورلِلّٰہ میں لام باریک پڑھا جائے گا۔

غنہ زمانی کی اقسام

غنہ زمانی کی اقسام

اس کی مندرجہ ذیل دو اقسام ہیں ۔    (۱) غُنّہ مُظْھَرَہ      (۲) غُنّہ مُخَفّفٰی

(۱)غُنّہ مُظْھَرَہ: اس غنہ کی آواز ظاہر ہوتی ہے یہ غنہ ''ن''اور''میم'' مشدد میں استعمال ہوتاہے یہ غنہ اپنے مخرج سے جم کرادا ہوتاہے یعنی زبان نون یا میم کے مخرج سے جم کر لگتی ہے ۔(مطلب یہ ہے کہ اس غنہ میں نون اورمیم کی ذات کا اظہار ہوتاہے کہ مخرج سے قوی تعلق رہتاہے )     مثلاً اَنَّ = عَمَّ
(۲)غُنّہ مُخَفّفٰی :اس غنہ کی آواز پوشیدہ ہوتی ہے یہ غنہ ادا کرتے وقت زبان
مخرج سے تھوڑا سا ہٹ کر لگتی ہے ۔(یعنی اس غنہ میں نون اورمیم کی ذات چھپ جاتی ہے کہ مخرج سے ان کاتعلق کمزور ہوتاہے ) مثلاً اَنْتَ 

غُنّہ کا بیان

غُنّہ کا بیان

غنہ : ناک میں آواز لے جانا۔
غُنّہ کی اقسام : اس کی مندرجہ ذیل دو قسمیں ہیں۔
    (۱) غُنّہ آنی     (۲) غُنّہ زمانی 
(۱)غُنّہا ۤنی: یہ غُنّہ ''م'' اور''نون '' کی ذات میں پایا جاتاہے یعنی اس کے بغیر ''م''اور''نون'' ادا ہوہی نہیں سکتے ۔یہ غنہ ''میم''اور''نون'' کو ادا کرتے وقت آن واحد میں ادا ہوتاہے ۔
(۲)غُنّہ زمانی: وہ غنّہ جس کی آواز تھوڑی دیر ناک میں جاری رہتی ہے یعنی ایک الف کی مقدار ۔
ادغام کا بیان

ادغام کا بیان

    ادغام کی بنیادی طور پرتین قسمیں ہیں :جوکہ مندرجہ ذیل ہیں۔

(۱)ادغام مِثْلَیْن (۲)ادغام مُتَجَانِسَیْن        (۳)ادغام مُتَقَارِبَیْن

(۱)ادغام مِثْلَیْن : (دو ہم مثل حروف کا جمع ہونا )
    اگر کسی ساکن حرف کے بعد وہی حرف متحرک حالت میں دوبارہ آجائے تو وہاں ادغام مثلین ہوگا۔    
    مثلاً مِنْ نُطْفَۃٍ ، عَنْ نَفْسٍ ،قُلْ لَّکُمْ

موانع ادغام : مثلین میں موانع ادغام حروف مدہ ہیں وآو مدّہ کے بعد(واؤ) متحرک آجائے اوریا مدّہ کے بعد ''یا'' آجائے تو وہاں ادغام نہ ہوگا۔     مثلاً قَالُوْ ا وَھُمْ فِیْ یَوْمٍ

(۲)ادغام مُتَجَانِسَیْن: (دو ہم مخرج حروف کا جمع ہونا ) 
    اگرکسی ساکن حرف کے بعد اس کا ہم مخرج حرف متحرک حالت میں آجائے تو وہاں ادغام متجانسین ہوگا۔     
    مثلاً عَبَدْتُّمْ ،    اَحَطْتُّ

موانع ادغام : متجانسین میں موانع ادغام حروف حلقی ہیں ۔ پہلے حرف حلقی کا دوسرے متحرک حرف حلقی میں ادغام نہ ہوگا۔
    مثلاً فَا فْصَحْ عَنْھُمْ

(۳)ادغام مُتَقَارِبَیْن : (دو قربت والے حروف کا جمع ہونا)
    اگر کسی ساکن حرف کے بعد کوئی متحرک حرف آجائے جو مخرج اورصفات کے اعتبار سے پہلے کے قریب ہوتو وہاں ادغام متقاربین ہوگا۔ 
    مثلاً مَنْ رَبُّکَ     قُلْ رَّبِّیْ
موانع ادغام : متقاربین میں مانع ادغام ثقل کا نہ پایا جانا ہے اگر دوقربت والے حروف کے پڑھنے میں ثقل نہ پایاجائے تو وہاں ادغام نہیں ہوگا۔     
    مثلاً قُلْنَا
قراء کے اختلاف واتفاق کی بنیاد پر ادغام کی دو قسمیں ہیں
    (۱)ادغام واجب         (۲)ادغام جائز 
(۱)ادغام واجب : ادغام کے دوران اگر پہلا حرف خود ہی ساکن ہوتو تمام قراء کے نزدیک ادغام کرناواجب ہے اس کو'' ادغام واجب'' کہتے ہیں اور ادغام صغیر بھی کہتے ہیں۔ مثلاً یُدْ رِکْکُمْ
(۲)ادغام جائز : ادغام کے دوران اگردونوں حرف متحرک ہوں تو پہلے حرف کو ساکن کر کے جو ادغام کیا جائے اسے قراء کے اختلاف کی وجہ سے ادغام جائز کہتے ہیں اوراس کو ادغام کبیر بھی کہتے ہیں ۔یہ ادغام پورے قرآن مجید میں پانچ جگہوں پر ہوا ہے۔

اَتَأْ مُرُوْنِّیْ ، اَتُحَآجُّوْنِیْ ، مَکَّنِّیْ ، لَا تَاْ مَنَّا ، نِعِمَّا
مدغم اورمدغم فیہ کے اعتبار سے ادغام کی اقسام 
    (۱)ادغام ناقص     (۲)ادغام تام             
(۱)ادغام نا قص : ادغام کے دوران مدغم کی کوئی صفت مدغم فیہ میں باقی رہے تو اسے ادغام ناقص کہتے ہیں ۔ 
    مثلاً مَنْ یَّقُوْلُ     بَسَطْتَّ
(۲)ادغام تام : ادغام کے دوران مدغم کی کوئی صفت مدغم فیہ میں باقی نہ رہے تو اسے ادغام تام کہتے ہیں ۔
     مثلاً مِنْ لَّدُ نْہُ
میم ساکن کے قواعد

میم ساکن کے قواعد

میم ساکن کے تین قاعدے ہیں 
    (۱)ادغا مِ شفوی     (۲)اخفائے شفوی     (۳)اظہارِ شفوی 
(۱)ادغا م شفوی:
میم ساکن کے بعد میم آجائے تو وہاں ادغامِ شفوی مع الغنہ ہوگا۔ مثلاً وَکَمْ مِّنْ
(۲)اخفائے شفوی:
    میم ساکن کے بعد حرف ''با''آجائے تو وہاں اخفائے شفوی مع الغُنہ ہوگا۔ 
مثلاً وَمَاھُمْ بِمُؤْ مِنِیْنَ فَقَدْ جَآءَ کُمْ بَشِیْرٌ

(۳)اظہار شفوی :
    میم ساکن کے بعد حرف ''با'' اور''میم '' کے علاوہ اگرکوئی حرف آجائے تو وہاں اظہارِ شفوی ہوگا۔
مثلاً لَم یَلِدْ ،     وَلَمْ یُوْ لَدْ ،    اَلَمْ تَرَ ، اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ

نون ساکن اورتنوین کے قواعد

نون ساکن اورتنوین کے قواعد

نون ساکن '' نْ'' اورتنوین (  ً        ٍ             ٌ ) کے چار قاعدے ہیں ۔ 
(۱)اظہار     (۲)ادغام     (۳)اقلاب     (۴)اخفاء
(۱) اظہار 
لغوی معنٰی :ظاہر کرنا
اصطلاحی معنٰی : حرف کو بغیر کسی تبدیلی اوربغیر غُنّہ کے ظاہر کر کے پڑھنا۔
قاعدہ :جب نون ساکن اورتنوین کے بعد حروفِ حلقی میں سے کوئی حرف آجائے تو وہاں اظہار ہوگا یعنی نون ساکن اورتنوین کو بغیر غُنّہ کے پڑھیں گے ۔
حروف حلقی چھ ہیں ( ء ، ھا، ع، ح، غ ،خ)
                                        مثالیں
                            نون ساکن                         نون تنوین 
                           مَنْ اَذِنَ اجرًا عَظِیما
                                        مِنْ خَیْرٍ مُلٰقٍ حِسَابِیَہ
                                       مِنْ ھَادٍ عَفُوٌّ غَفُوْ رٌ
     (۲) ادغام 
لغوی معنٰی :ملانا
اصطلاحی معنٰی : ایک ساکن حرف کو دوسرے متحرک حرف میں ملا کر مشدَّد پڑھنا۔
قاعدہ :نون ساکن اورتنوین کے بعد اگرحروف یَرْمَلُوْنَ میں سے کوئی حرف آجائے تو وہاں ادغام ہوگا۔
( ل ،ر)میں بغیر غُنّہ کے اورباقی (یُوْمِنُ)میں غُنّہ کے ساتھ ادغام ہوگا۔
مثالیں

  نون ساکن نون تنوین 
  مَنْ یَّقُوْلُ مُصَدِّ قًا لِّمَا
  مِنْ رَّبِّکَ ھُدًی وَّذِکْرٰی
  مِنْ مَّآء حِطَّۃٌ نَّغْفِرْ لَکُمْ

(۳) اقلاب 
لغوی معنٰی :تبدیل کرنا
اصطلاحی معنٰی :ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدل دینا۔
قاعدہ :نون ساکن اور تنوین کے بعد ''با'' آجائے تو نون ساکن اورتنوین کو میم سے بدل کر غُنّہ کے ساتھ پڑھیں گے ۔
نوٹ: اقلاب کا قاعدہ جہاں جاری ہوتا ہے وہاں نون ساکن اورتنوین کے اوپر ایک چھوٹی سی میم لکھ دی جاتی ہے ۔
  مثالیں
  نون ساکن نون تنوین 
  اَنْبِئْھُمْ م حِلٌّم بِھٰذَا
  (۴) اخفا ء 
لغوی معنٰی :چھپانا
اصطلاحی معنٰی :حروف کو اس کے مخرج میں اس طرح چھُپانا کہ اظہار ہو نہ ادغام بلکہ دونوں کی درمیانی حالت ہو۔
قاعدہ :نون ساکن اور تنوین کے بعد اگر حروف اخفاء میں سے کوئی حرف آجائے تو وہاں اخفاء ہوگا یعنی غُنّہ کر کے پڑھیں گے۔
حروف اخفاء پندرہ (۱۵)ہیں ۔جوالف، باء ، حروف حلقی اور حروف یرملون کے علاوہ ہیں۔
  مثالیں
  نون ساکن نون تنوین 
  مِنْ شَاھِدٍ خَالِدًا فِیْھَا
  اَنْتَ رِزْقًاقَالُوْا
  مَنْ جَآءَ        کِتَابٌ کَرِیْمٌ

صفات عارضہ

صفات عارضہ

(۱)    اظہار    =    ظاہر کرنا (اظہارِ حلقی، اظہار شفوی وغیرہ)
(۲)    ادغام     =    ملادینا
(۳)    اخفاء     =    چھپانا
(۴)    اقلاب    =    بدلنا
(۵)    غنّہ فرعی     =    ناک میں آواز لے جانا
(۶)    تفخیم     =    پُرپڑھنا
(۷)    ترقیق    =    باریک پڑھنا
(۸)    مَدِّفرعی     =    کھینچنا
(۹)    تحقیق    =    خوب احتیاط کرنا (پورا حق ادا کرنا)
(۱۰)    تسہیل     =    نرمی کرنا
(۱۱)    ابدال     =    بدلنا
(۱۲)    حذف    =    حرف کو ختم کرنا 
(۱۳)    امالہ     =    مائل کرنا
سوالات سبق نمبر ۹
۱۔    صفات عارضہ کتنی ہیں تعداد بتائیں؟ اوران میں سے کوئی سات بمعہ معنٰی 
    بیان فرمائیں۔

کیفیت کے اعتبار سے مدارجِ قلقلہ

کیفیت کے اعتبار سے مدارجِ قلقلہ

پہلا درجہ : جب حروفِ قلقلہ مشدّد اور موقوف ہوں تو سب سے قوی قلقلہ ہوگا۔
مثلا ً : اَلْحَقّ ْ
دوسرا درجہ : جب حروفِ قلقلہ ساکن وموقوف ہوں تو سب سے قوی قلقلہ ہوگا۔     مثلاً : فَلَقْ
تیسرادرجہ : جب حروفِ قلقلہ مشدّد اورغیر موقوف ہوں۔
مثلاً : اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ
چوتھا درجہ : جب حروف قلقلہ ساکن اورغیر موقوف ہوں۔مثلاً : خَلَقْنَا 
(۲) صفیر 
لغوی معنٰی :سیٹی
اصطلاحی معنٰی :سیٹی کی طرح تیز آواز کو کہتے ہیں۔
ادائیگی : جن حروف میں یہ صفت پائی جاتی ہے ان حروف کو ادا کرتے وقت آواز سیٹی کی طرح نکلتی ہے ۔
کل حروف :یہ ۳حروف ہیں جن کو حروفِ صفیریہ کہتے ہیں۔
مراتبِ صفیریہ : سب سے زیادہ ''س'' میں اس کے بعد ''ز'' اورسب سے کم''ص''میں سیٹی کی آواز نکلے گی ۔جیسے اَسَّ     اَزَّ    اِصَّ
(۳) انحراف 
لغوی معنٰی :مائل ہونا
اصطلاحی معنٰی : زبان کا ایک مخرج سے دوسرے مخرج کی طرف مائل ہونا۔
ادائیگی : جن حروف میں یہ صفت پائی جاتی ہے ان کو ادا کرتے وقت زبان ایک مخرج سے دوسرے مخرج کی طرف مائل ہوتی ہے۔
کل حروف : یہ ۲حروف ہیں ۔''ل، ر'' 
(۴)لین 
لغوی معنٰی : نرمی
اصطلاحی معنٰی : حروف کونرمی سے اد اکرنا
ادائیگی : جن حروف میں یہ صفت پائی جاتی ہے ان کو نرمی اورآسانی کے ساتھ بغیر جھٹکے کے اس طرح ادا کرنا کہ اگر دراز کرنا چاہیں کر سکیں ۔
کل حروف : یہ۲ حروف ہیں''و'' ''ی ''ساکن ماقبل مفتوح ۔ ان حروف کو لین کہتے ہیں۔
(۵) تکریر
لغوی معنٰی :تکرار (بار بار ہونا)
اصطلاحی معنٰی : کسی حرف کو ادا کرتے وقت آواز میں تکرار کا پیدا ہونا۔
ادائیگی :جس حرف میں یہ صفت پائی جاتی ہے اسکو اداکرتے وقت زبان میں ہلکی سے کپکپاہٹ پیداہوتی ہے ۔
کل حروف :یہ صفت صرف ''را''میں پائی جاتی ہے اوراسکی ادائیگی میں اصل تکرار سے پرہیز کرنا چاہیے ۔مثلاً اَرَّ 
(۶) تَفَشِّیْ
لغوی معنٰی : پھیلنا
اصطلاحی معنٰی : آواز کا منہ کے اندر پھیلنا
ادائیگی : جس حرف میں یہ صفت پائی جاتی ہے اسکو ادا کرتے وقت آواز منہ میں پھیل جاتی ہے ۔
کل حروف :یہ صفت صرف ''ش''میں پائی جاتی ہے ۔
(۷) استطالت
لغوی معنٰی : لمبائی چاہنا
اصطلاحی معنٰی : آواز کا دیر تک مخرج میں جاری رہنا۔
ادائیگی : جس حرف میں یہ صفت پائی جاتی ہے اس کو ادا کرتے وقت آواز دیر تک اپنے مخرج میں جاری رہتی ہے ۔
کل حروف : یہ صفت صرف ''ض'' میں پائی جاتی ہے ۔
                

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular