Showing posts with label عقائد. Show all posts
Showing posts with label عقائد. Show all posts
قیامت اور اس کی نشانیاں

قیامت اور اس کی نشانیاں

سوال:قیامت کسے کہتے ہیں ؟
جواب:جیسے ہر چیز کی ایک عُمر مُقَرَّرہے اس کے پورے ہونے کے بعد وہ چیز فنا ہو جاتی ہے۔ایسے ہی دنیا کی بھی ایک عُمر اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے عِلم میں مُقَرَّرہے۔ اس کے پورا ہونے کے بعددنیا فنا ہو جائے گی۔ زمین و آسمان، آدمی، جانور کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔ اس کو ’’قیامت‘‘کہتے ہیں جیسے آدمی کے مرنے سے پہلے بیماری کی شدّت، جان نکلنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسے ہی قیامت سے پہلے اس کی نشانیاں ہیں۔
سوال:قیامت آنے سے پہلے اس کی کیاکیا علامات ظاہر ہوں گی؟
جواب:قیامت کے آنے سے پہلے دنیا سے عِلم اُٹھ جائے گا،عالِم باقی نہ رہیں گے، جہالت پھیل جائے گی، بدکاری اور بے حیائی زیادہ ہوگی، عورتوں کی تعداد  مَردوں سے بڑھ جائے گی۔ بڑے دَجّال کے سوا تیس دَجّال اور ہوں گے،ہر ایک ان میں سے نبوّت کا دعویٰ کرے گا باوجودیہ کہ حضور پُرنور سیِّدُ الانبیاء صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمپر نبوّت ختم ہو چکی۔ ان میں سے بعض دجّال تو گزر چکے جیسے مسیلمہ کذّاب، اسود عنسی، مرزا علی محمد باب، مرزا علی حسین بہاء اللّٰہ، مرزا غلام احمد قادیانی، بعض اور باقی ہیں وہ بھی ضرور ہوں گے، مال کی کثرت ہوگی، عرب میں کھیتی، باغ ،نہریں ہو جائیں گی، دین پر قائم رہنا مشکل ہوگا۔ وقت بہت جلد گزرے گا، زکوٰۃ دینا لوگوں کو دشوارہوگا، عِلم کو لوگ دنیا کیلئے پڑھیں گے ، مَرد عورتوں کی اطاعت کریں گے۔ ماں باپ کی نافرمانی زیادہ ہوگی، شراب نوشی عام ہو جائے گی، نااہل سردار بنائے جائیں گے، نہرِ فرات سے سونے کا خزانہ کھلے گا۔ زمین اپنے اندر دفن شدہ خزانے اُگل دے گی،امانت غنیمت یعنی مفت کامال سمجھی جائے گی، مسجدوں میں شور مچیں گے، فاسق سرداری کریں گے، فتنہ انگیزوں کی عزّت کی جائے گی، گانے باجے کی کثرت ہوگی۔ پہلے بزرگوں کو لوگ بُرا بھلا کہیں گے،کوڑے کی نوک اور جوتے کے تسمے باتیں کریں گے، دَجّال اور دَابَّۃُ الارض اور یاجُوج ماجُوج نکلیں گے۔ حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ظاہر ہوں گے، حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام آسمان سے اُتریں گے، سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
سوال:دَجّال کس کو کہتے ہیں، اس کے نکلنے کا حال بیان فرمائیے؟
جواب:دَجّال مسیح کذّاب کا نام ہے۔ اس کی ایک آنکھ ہوگی اور ایک سے کانا ہو گا اور اس کی پیشانی پر ’’ک  ا  ف  ر‘‘(یعنی کافر) لکھا ہوگا۔ہر مسلمان اس کو پڑھے گا ، کافر کو نظر نہ آئے گا۔ وہ چالیس دن میں تمام زمین میں پھرے گا مگر مکّہ شریف اور مدینہ شریف میں داخل نہ ہو سکے گا۔ ان چالیس دن میں پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا، دوسرا ایک مہینہ کے برابر، تیسرا ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن عام دنوں کے برابر ہوں گے۔ دَجّال خُدائی کا دعویٰ کرے گا اور اسکے ساتھ ایک باغ اور ایک آگ ہوگی، جس کا نام وہ جنّت و دوزخ رکھے گا۔ جو اس پر ایمان لائے گا اس کو وہ اپنی جنت میں ڈالے گا، جو حقیقت میں آگ ہوگی اور جو اس کا انکار کرے گا اس کو اپنی جہنم میں داخل کرے گا جو واقع میں آسائش کی جگہ ہوگی۔ بہت سے عجائب یعنی حیرت انگیز چیزیں دکھائے گا، زمین سے سبزہ اُگائے گا ، آسمان سے بارش برسائے گا،مُردے زندہ کرے گا، ایک مومن صالح اس طرف متوجہ ہوں گے اور ان سے دَجّال کے سپاہی کہیں گے کیا تم ہمارے ربّ پر ایمان نہیں لاتے؟ وہ کہیں گے۔ میرے ربّ کے دلائل چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر وہ ان کو پکڑ کر دَجّال کے پاس لے جائیں گے۔ یہ دَجّال کو دیکھ کر فرمائیں گے اے لوگو! یہ وہی دَجّال ہے جس کا رسولِ کریمصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمنے ذکر فرمایا ہے۔ دَجّال کے حکم سے ان کو زدوکوب کیا یعنی مارا جائے گا۔ پھر دَجّال کہے گا:کیا تم میرے اوپر ایمان نہیں لاتے ؟وہ فرمائیں گے تو مسیح کَذَّا ب ہے ، دَجّال کے حکم سے ان کا جسم مبارک سَر سے پاؤں تک چیر کے دوحصّے کر دیا جائے گا اور ان دونوں حصّوں کے درمیان دَجّال چلے گا۔ پھر کہے گا اُٹھ!تو وہ تندرست ہو کر اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ تب دَجّال اُن سے کہے گا تم مجھ پر ایمان لاتے ہو ؟وہ فرمائیں گے میری بصیرت اور زیادہ ہو گئی۔ اے لوگو!یہ دَجّال اب میرے بعد کسی کے ساتھ پھر ایسا نہیں کر سکتا۔ پھر دَجّال انہیں پکڑ کر ذبح کرنا چاہے گا اور اس پر قادر نہ ہو سکے گا، پھر ان کے دَسْت وپاسے پکڑ کر اپنی جہنم میں ڈالے گا، لوگ گمان کریں گے کہ ان کو آگ میں ڈالا۔ مگر درحقیقت وہ آسائش کی جگہ ہوں گے۔
سوال:دَا  بَّۃُ الارض کیا چیز ہے؟
جواب: دَا  بَّۃُ الارض ایک عجیب شکل کا جانور ہے جو کوہِ صفا سے ظاہر ہو کر تمام شہروں میں نہایت جلد پھرے گا، فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا۔ ہر شخص پر ایک نشانی لگائے گا، ایمانداروں کی پیشانی پر عصائے موسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام سے ایک نورانی خَط کھینچے گا ۔ کافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی اَنگُشتَری یعنی انگوٹھی سے کالی مُہر کرے گا۔
سوال:یاجوج ماجوج کون ہیں؟
جواب:یہ یافِث بن نوح عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی اولادمیں سے فسادی گروہ ہیں، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ وہ زمین میں فساد کرتے تھے، ایّامِ رَبیع یعنی فصل پکنے کے ز مانے میں نکلتے ، سبزہ ذرا نہ چھوڑتے ،آدمیوں کو کھالیتے اور جنگل کے درندوں، وَحشی جانوروں، سانپوں، بچھوؤں کو کھا جاتے تھے، حضرت سکندر ذوالقرنین نے لوہے کی دیوار کھینچ کر ان کی آمد بند کردی۔ حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کے نُزول کے بعد جب آپ دَجّال کو قتل کر کے بحکمِ الٰہی مسلمانوں کو کوہِ طور لے جائیں گے اس وقت وہ دیوار توڑ کرنکلیں گے اور زمین میں فسادکریں گے،قتل و غارت کریں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی دُعا سے ہلاک کرے گا۔
سوال:حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ حال بیان فرمائیے؟
جواب:حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ خلیفۃُ اللّٰہہیں۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی آل میں سے حَسَنی سیّد ہوں گے، جب دنیا میں کُفر پھیل جائے گا اور اسلام حَرَمین شریفین یعنی مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ کی طرف سمٹ جائے گا، اولیاء و ابدال وہاں کو ہجرت کر جائیں گے۔ ماہِ رمضان میں اَبدال کعبہ شریف کے طواف میں مشغول ہوں گے وہاں اولیاء حضرت مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہچان کر ان سے بیعت کی درخواست کریں گے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ انکار فرمائیں گے، غیب سے ندا آئے گی ھٰذَاخَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَھْدِیُّ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْہٗ’’یہ اللّٰہ تعالیٰ کے خلیفہ مہدی ہیں ان کا حکم سنو اور اطاعت کرو‘‘۔ لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دستِ مبارک پر بیعت کریں گے وہاں سے مسلمانوں کو ساتھ لے کر شام تشریف لے جائیں گے ۔آپ کا زمانہ بڑی خیرو برکت کا ہوگا، زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔
سوال:حضرت مسیح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نُزول کا مختصر حال بیان کیجئے؟
جواب:جب دَجّال کا فتنہ انتہا کو پہنچ چکے گا اور وہ ملعون تمام دنیا میں پھرکر ملکِ شام میں جائے گا اس وقت حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام دِمَشْق کی جامع مسجد کے شَرقی مَنارہ پر نزول فرمائیں گے۔آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی نظر جہاں تک جائے گی وہاں تک خوشبو پہنچے گی اور آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی خوشبو سے دَجّال پگھلنے لگے گا اور بھاگے گا۔ آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام دَجّال کو بیتُ المقدس کے قریب مقامِ لُد میں قتل کریں گے۔ ان کا زمانہ بڑی خیر و برکت کا ہوگا،مال کی کثرت ہوگی۔ زمین اپنے خزانے نکال کر باہر کرے گی۔ لوگوں کو مال سے رَغبت نہ رہے گی،یہودیت ، نصرانیت اور تمام باطل دینوں کو آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام مٹا ڈالیں گے۔ آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کے عہد مبارک میں ایک دین ہوگا، اسلام۔ تمام کافر ایمان لے آئیں گے اور ساری دنیا اہلِ سنّت ہوگی۔ امن وامان کا یہ عالَم ہو گا کہ شیر بکری ایک ساتھ چریں گے۔ بچے سانپوں سے کھیلیں گے ۔ بغض وحسدکا نام و نشان نہ رہے گا۔ جس وقت آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کا نُزول ہوگا فجر کی جماعت کھڑی ہوتی ہوگی۔ حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کو دیکھ کر آپ سے امامت کی درخواست کریں گے۔ آپ انہیں کو آگے بڑھائیں گے اور حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضور سیّدُ الانبیاء عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان و صفت اور آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی اُمّت کی عزّت و کرامت دیکھ کر اُمتِ محمد ی عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَامُ میں داخل ہونے کی دعا کی ۔ اللّٰہتعالیٰ نے آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی دعا قبول فرمائی اور آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کو وہ بَقا عطا فرمائی کہ آخر زمانہ میں اُمتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَامُ کے امام ہو کر نُزول فرمائیں  گےآپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام نُزول کے بعد برسوں دنیا میں رہیں گے، نکاح کریں گے پھر وفات پاکر حضور سیّدِ انبیاء عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پَہلو میں مدفون ہوں گے۔
سوال:آفتاب کے مغرب سے طلوع کرنے اور دروازۂ توبہ کے بند ہونے کی کیفیت بیان فرمائیے؟
جواب:روزانہ آفتاب بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کر کے اِذن چاہتا ہے، اِذن ہوتا ہے تَب طلوع کرتا ہے۔قریبِ قیامت جب دَابَّۃُ الارض نکلے گا، حسبِ معمول آفتاب سجدہ کر کے طلوع ہونے کی اجازت چاہے گا۔ اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ واپس جا۔ تب آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا اور نصف آسمان تک آکر لوٹ جائے گا اور جانبِ مغرب غروب کرے گا۔ اس کے بعد پھر پہلے کی طرح مشرق سے طلوع کیا کرے گا ، آفتاب کے مغرب سے طلوع کرتے ہی توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر کسی کا ایمان لانا مقبول نہ ہوگا۔
سوال:قیامت کب قائم ہو گی؟
جواب:اس کا عِلم تو خدا کو ہے اور اس کے بتانے سے حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو ہے ۔ ہمیں اس قدر معلوم ہے کہ جب یہ سب علامتیں ظاہر ہو چکیں گی اور روئے زمین پر کوئی خدا کا نام لینے والا باقی نہ رہے گا تب حضرت اسرافیل عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام بحکمِ الٰہی صور پھونکیں  گے۔ اس کی آوازشروع شروع میں تو بہت نرم ہوگی اور آہستہ آہستہ بلند ہوتی چلی جائے گی۔ لوگ اس کو سُنیں گے اور بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے اور مَرجائیں گے،زمین و آسمان اور تما م جہان فنا ہو جائے گا۔پھر جب اللّٰہ تعالیٰ چاہے گا حضرت اسرافیل کو زندہ کرے گا اور دوبارہ صور پھونکنے کا حکم دے گا ۔ صور پھونکتے ہی پھر سب کچھ موجود ہو جائے گا۔ مُردے قبروں سے اُٹھیں گے ۔ نامۂ اعمال ان کے ہاتھوں میں دے کر محشر میں لائے جائیں گے۔ وہاں جزا اور حساب کیلئے منتظر کھڑے ہوں گے۔ آفتاب نہایت تیزی پر اور سروں سے بہت قریب بقدر ایک میل ہوگا۔ شدّتِ گرمی سے دماغ کھولتے ہوں گے، اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستّر گز زمین میں جَذب ہوجائے گا   پھر جو پسینہ زمین نہ پی سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کے ٹخنوں تک ہو گا، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے کمر، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثلِ لگام کے جکڑ جائے گا۔ ہر شخص حسبِ حال و اعمال ہوگا، پھر پسینہ بھی نہایت بدبو دار ہوگا۔
سوال:اس مصیبت سے لوگوں کو کیسے نجات ملے گی؟
جواب:اس حالت میں طویل عرصہ گزرے گا ۔ پچاس ہزار سال کا تو وہ دن ہوگا اور اس حالت میں آدھا گزر جائے گا۔لوگ سفارشی تلاش کریں گے جو اس مصیبت سے نجات دلائے اور جلد حساب شروع ہو۔ انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی بارگاہ میں حاضری ہوگی لیکن مقصد پورا نہ ہوگا۔آخر میں حضور پُر نور، سیّدِانبیاء، رحمتِ عالَم ،محمدِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے حضور میں فریاد لائیں گے اور شفاعت یعنی سفارش کی درخواست کریں گے۔ حضور پُر نورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمفرمائیں گے:’’ اَنَا لَھَا‘‘میں اس کیلئے موجود ہوں۔ یہ فرما کر حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمبارگاہِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّمیں سجدہ کریں گے۔ اللّٰہتعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوگا  یَا مُحَمَّدُ اِرْفَعْ رَأسَکَ قُلْ تُسْمَعْ وَ سَلْ تُعْطَہْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ’’اے محمد صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمسجدے سے سر اٹھائیے بات کہئے سنی جائے گی، شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی‘‘۔ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی یہ شفاعت تو تمام اہلِ محشر کیلئے ہے جو شدید ڈر اور خوف کی وجہ سے فریاد کر رہے ہوں گے اور یہ چاہتے ہوں گے کہ حساب فرما کر ان کے لئے حکم دے دیا جائے۔ اَب حساب شروع ہوگا۔ میزانِ عمل میں اعمال تولے جائیں گے،اعمال نامے ہاتھوں میں ہوں گے۔ اپنے ہی ہاتھ، پاؤں، بدن کے اعضاء اپنے خلاف گواہیاں دیں گے ۔ زمین کے جس حصّہ پر کوئی عمل کیا تھا وہ بھی گواہی دینے کو تیار ہوگا۔ عجیب پریشانی کا وقت ہو گا کوئی یار نہ غمگسار ۔ نہ بیٹا باپ کے کام آسکے گا نہ باپ بیٹے کے۔ اعمال کی پُرسش یعنی پوچھ گچھ ہے۔ زندگی بھر کا کیا ہوا سب سامنے ہے۔ نہ گناہ سے مُکَرْ سکتا ہے، نہ کہیں سے نیکیاں مل سکتی ہیں۔
سوال:اس مشکل گھڑی میں حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّماپنے چاہنے والوں کی کیسے مدد فرمائیں گے؟
جواب:اس بے کسی کے وقت میں بے کسوں کے مددگار، حضور پُر نور، محبوبِ خدا، محمدِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکام آئیں گے اور اپنے نیاز مندوں اور امیدواروں کی شفاعت فرمائیں گے۔ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعتیں کئی طرح کی ہوں گی بہت لوگ تو آپ کی شفاعت سے بے حساب داخلِ جنت ہوں گے اور بہت لوگ جو دوزخ کے مستحق ہوں گے حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے دخولِ دوزخ سے بچیں گے اور جو گناہگار مومن دوزخ میں پہنچ چکے ہوں گے وہ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ اہلِ جنّت بھی آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے فیض پائیں گے ان کے درجات بلند کئے جائیں گے۔ باقی اور انبیاء ومرسلین عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام و صحابۂ کرام و شہداء و علماء واولیا ء رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَاپنے مُتَوَسِّلین یعنی وسیلہ ڈھونڈنے والوں کی شفاعت کریں گے۔ لوگ علماء کو اپنے تعلقات یاد دلائیں گے، اگر کسی نے عالِم کو دنیا میں وضو کے لئے پانی لا کر دیا ہوگا تو وہ بھی یاد دلا کر شفاعت کی درخواست کرے گا اور وہ اس کی شفاعت کریں گے۔
سوال:محشر کی ہولناکیوں،آفتاب کی نزدیکی سے بھیجے کھولنے، بدبودار پسینوں کی تکالیف اور ان مصیبتوں میں ہزارہا برس کی مدّت تک مبتلا اور پریشان رہنے کا جو بیان فرمایا یہ سب کیلئے ہے یااللّٰہ تعالیٰ کے کچھ بندے اس سے مستثنیٰ بھی ہیں یعنی جو اس میں شامل نہیں؟
جواب:ان اَہوال میں سے کچھ بھی انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام و اولیاء و اتقیاء(پرہیزگار)و صلحاء (نیک) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو نہ پہنچے گا وہ اللّٰہتعالیٰ کے کرم سے ان سب آفتوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہوں گے۔ قیامت کا پچاس ہزار برس کا دن جس میں نہ ایک لقمہ کھانے کو میسّر ہوگا، نہ ایک قطرہ پینے کو، نہ ایک جھونکا ہوا کا۔ اوپر سے آفتاب کی گرمی بھون رہی ہوگی، نیچے زمین کی تَپش،اندر سے بھوک کی آگ لگی ہوگی۔ پیاس سے گردنیں ٹوٹی جاتی ہوں گی، سالہاسال کی مُدّت کھڑے کھڑے بدن کیسا دُکھا ہوا ہوگا، شدّتِ خوف سے دل پھٹے جاتے ہوں گے۔ انتظار میں آنکھیں اُٹھی ہوں گی، بدن کا پُرزہ پُرزہ لرزتا کانپتا ہوگا ،وہ طویل دن اللّٰہتعالیٰ کے فضل سے اس کے خاص بندوں کیلئے ایک فرض نماز کے وقت سے زیادہ ہلکا اور آسان ہوگا۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭

موت اور قبر کا بیان

موت اور قبر کا بیان

سوال:کیا کسی شخص کی عُمر بڑھ یا کم ہوسکتی ہے؟
جواب:ہرشخص کی جوعُمر مقرر ہے نہ اس سے کم ہو سکتی ہے اور نہ بڑھ سکتی ہے۔
سوال:جب وہ عُمر پوری ہو جاتی ہے پھر کیا معاملہ ہوتاہے ؟
جواب: مَلکُ الموت یعنی حضرت عِزرائیل عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام اس کی جان نکال لیتے ہیں، موت کے وقت مرنے والے کے داہنے ،بائیں جہاں تک نظر جاتی ہے فرشتے  ہی فرشتے دکھائی دیتے ہیں۔ مسلمان کے پاس رحمت کے فرشتے، کافر کے پاس عذاب کے۔مسلمانوں کی روح کو فرشتے عزّت کے ساتھ لے جاتے ہیں اور کافروں کی روح کو فرشتے حقارت کے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
سوال:کیا مرنے کے بعد روح فنا ہوجاتی ہے؟
جواب:روح کے جسم سے جدا ہونے کانام موت ہے، روح جسم سے جدا ہوکر فنا نہیں ہو جاتی بلکہ روحوں کے رہنے کے لئے مقامات مقرر ہیں، نیکوں کیلئے علیحدہ اور بُروں کے لئے علیحدہ جہاں وہ اپنے مرتبہ کے مطا بق چلی جاتی ہیں مگر وہ کہیں ہوں، جسم سے ان کا تعلق باقی رہتا ہے۔جسم کی ایذا سے روح کو تکلیف ہوتی ہے۔ قبر پر آنے والے کو دیکھتے ہیں، اس کی آواز سنتے ہیں۔
سوال:آواگون کسے کہتے ہیں؟
جواب:یہ خیال کہ موت کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ بدن آدمی کا ہو یا کسی جانور کا،اسے تَناسُخ یا آواگون کہتے ہیں، یہ محض باطل ہے اور اس کا ماننا کفرہے۔
سوال:آوا گون کو کون لوگ مانتے ہیں؟
جواب:ہندو۔
سوال:مُنْکَرْ  نَـکِیْر کسے کہتے ہیں؟
جواب:جب دفن کرنے والے دفن کر کے واپس ہو جاتے ہیں تو دو فرشتے زمین چیرتے آتے ہیں ان کی صورتیں ڈراؤنی، آنکھیں نیلی کالی ہوتی ہیں۔ایک کا نام مُنْکَرْ، دوسرے کا نام نَـکِیْرہے۔ وہ مُردے کو اٹھا کر بٹھاتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں۔
سوال:قبر میں مُردے سے کتنے اور کون کون سے سوالات کئے جاتے ہیں؟
جواب: قبر میں مُردے سے تین سوالات ہوتے ہیں:
(۱)…تیرا رب کون ہے؟
(۲)…تیرا دین کیا ہے؟
(۳)…حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم  کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں،تو ان کے حق میں کیا کہتا تھا ؟
سوال:مسلمان ان سوالوں کے کیا جواب دیتا ہے ؟
جواب:  مسلمان جواب دیتا ہے، میرا رب اللّٰہہے ۔میرا دین اسلام ہے۔ یہ اللّٰہ کے رسول ہیں۔اَشْھَدُ  اَنْ لَّااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔فرشتے کہتے ہیں ہم جانتے تھے کہ تو یہی جواب دے گا۔(1)
سوال:قبر کے سوال وجواب میں کامیاب ہونے والے مسلمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟
جواب:   اس کی قبرکُشادہ اور روشن کر دی جاتی ہے۔ آسمان سے منادِی پکارتا ہے میرے بندے نے سچ کہا، اس کیلئے جنّتی فرش بچھاؤ ،جنّتی لباس پہناؤ، جنّت کی طرف دروازے کھولو۔ چنانچہ دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جس سے جنّت کی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہے اور فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اب تو آرام کر۔
سوال:کافر سے قبر میں کیا سلوک کیا جائے گا؟
جواب:کافر ان سوالوں کاجواب نہیں دے سکتا ،ہرسوال کے جواب میں کہتا ہے: میں نہیں جانتا۔ آسمان سے ندا کرنے والا ندا کرتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے، اس کیلئے آگ کا بچھونا  بچھاؤ، آگ کا لباس پہناؤ اور دوزخ کی طرف کا دروازہ کھول دو۔چنانچہ  دروازہ کھول دیا جاتا ہے تو اس سے دوزخ کی گرمی اور لپٹ آتی ہے پھر اس پر فرشتے مقرر کر دیئے جاتے ہیں جو لوہے کے بڑے بڑے گُرزوں یعنی ہتھوڑوں  سے مارتے ہیں اور عذاب کرتے ہیں۔
سوال:کیا قبر ہر مُردے کو دباتی ہے؟
جواب:انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے سوا قبر سب مسلمانوں کو بھی دباتی ہے اور کافروں کو بھی لیکن مسلمانوں کو دبانا شفقت کے ساتھ ہوتا ہے جیسے ماں بچّہ کو سینہ سے لگا کر چپٹائے اور کافر کو سختی سے یہاں تک کہ پسلیاں اِدھر سے اُدھر ہو جاتی ہیں ۔
سوال:کیا کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن سے قبرمیں سوال نہیں ہوتا؟
جواب:ہاں۔ جن کو حدیث شریف میں مستثنیٰ کیا گیا ہے جیسے انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام اور جمعۃُ المبارک اور رمضانُ المبارک میں مرنے والے مسلمان۔
سوال:قبر میں عذاب فقط کافر پر ہوتا ہے یا مسلمان پر بھی؟
جواب:کافر تو عذاب ہی میں رہیں گے اور بعض گنہگار مسلمانوں پر بھی عذاب ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے صدقات ،دعا ، تلاوتِ قرآن اور دوسرے ثواب پہنچانے کے طریقوں سے اس میں تخفیف یعنی کمی ہو جاتی ہے اوراللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے کرم سے اس عذاب کو اٹھا دیتا ہے ۔ بعض کے نزدیک مسلمان پر سے قبر کا عذاب جمعہ کی رات آتے ہی اٹھا دیا جاتا ہے۔
سوال:جو مُردے دفن نہیں کئے جاتے ان سے بھی سوال ہوتا ہے؟
جواب:جی ہاں۔  خواہ دفن کیا جائے یا نہ کیا جائے یا اسے کوئی جانور کھاجائے ،ہر حال میں اس سے سوال ہوتا ہے اور اگر قابلِ عذاب ہے تو عذاب بھی  ہوتا ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … کتاب العقائد،ص۱۹
تقدیرکابیان

تقدیرکابیان

سوال: تقدیر کسے کہتے ہیں ؟
جواب:دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی ،بدی وہ سب اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کے علمِ اَزَلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے، اسی کو تقدیر کہتے ہیں۔
ہر بھلائی برائی اس نے اپنے علمِ اَزَلی کے مُوافق مُقدّر فرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا زید کے ذمّہ برائی لکھی اس لئے کہ زید برائی  کرنے والا تھا اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ اس کے لئے  بھلائی لکھتا تو اس کے علم یا اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کردیا تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبی صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے اس امت کا مجوس بتایا ہے۔(1)
سوال:تقدیر کی کتنی قسمیں ہیں کیا تقدیر بدل بھی جاتی ہے ؟
جواب:تین قسمیں ہیں (۱) مُبْرَمِ حقیقی (۲) مُعلّقِ محض (۳) معلقِ شبیہ بہ مُبْرَم 
پہلی قسم یعنی مُبْرَمِ حقیقی وہ ہوتی ہے جو علمِ الٰہی میں کسی شے پر مُعلّق نہیں۔ 
دوسری قسم یعنی مُعلّقِ محض وہ ہوتی ہے جس کا ملائکہ کے صحیفوں میں کسی شے پر مُعلّق ہونا ظاہر فرمادیا گیا ہو۔
تیسری قسم یعنی مُعلّقِ شبیہ بہ مُبْرَم وہ ہوتی ہے جس کا ملائکہ کے صحیفوں میں مُعلّق ہونا ظاہر نہ فرمایا گیا ہو مگر علمِ الٰہی میں  کسی شے پرمُعلّق ہو۔
ان میں سے پہلی قسم مُبْرَمِ حقیقی کا بدلنا ناممکن ہے اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندے اکابرین بھی اتفاقاً اس میں کچھ عرض کرتے ہیں تو انھیں اس خیال سے روک دیا جاتا ہے
جب قومِ لوط پر فرشتے عذاب لے کر آئے تھے تو سیّدُنا ابراہیم خلیلُ اللّٰہ  عَـلَـيْهِ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام نے  ان کافروں کے بارے میں اتنی کوشش کی کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے اللّٰہ  تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ (یُجَادِلُنَا فِیۡ قَوْمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۴﴾)(1)’’ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں۔‘‘
    یہ قرآنِ عظیم نے اُن بے دینوں کا رَد فرمایا جو محبوبانِ خدا کی بارگاہِ عزّت میں کوئی عزّت و وجاہت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اس کے حضور کوئی دَم نہیں مار سکتا، حالانکہ اُن کا رب عَزَّ  وَجَلَّ اُن کی وجاہت اپنی بارگاہ میں ظاہر فرمانے کو خود ان لفظوں سے ذکر فرماتا ہے کہ : ’’ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں‘‘، حدیث میں ہے: شب ِمعراج حضورِ اقدس صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے ایک آواز سُنی کہ کوئی شخص اﷲ  عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ بہت تیزی اور بلند آواز سے گفتگو کر رہا ہے،حضورِ اقدس صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ عرض کی: موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، فرمایا: کیا اپنے رب پر تیز ہو کر گفتگو کرتے ہیں؟ عرض کی: اُن کا رب جانتا ہے کہ اُن کے مزاج میں تیزی ہے۔ جب آیۂ کریمہ(وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾)(2) نازل ہوئی کہ ’’بیشک عنقریب تمھیں تمھارا رب اتنا عطا فرمائے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔‘‘تو    حضور سیّدُالمحبوبین صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اِذاً لاَّ اَرْضٰی وَوَاحِدٌ مِّنْ اُمَّتِیْ فِی النَّارِ‘‘(3)
’’ایسا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا، اگر میرا ایک اُمتی بھی آگ میں ہو۔‘‘
یہ تو شانیں بہت رفیع (بلند)ہیں، جن پر رفعت عزّت وجاہت ختم ہے۔ صَلَوَاتُ اﷲِ تَعَالیٰ وَ سَلاَمُہٗ عَلَیْہِم مسلمان ماں باپ کا کچّا بچّہ جو حمل سے گر جاتا ہے اُس کے لیے حدیث میں فرمایا: کہ ’’روزِ قیامت اﷲ عَزَّ  وَجَلَّ سے اپنے ماں باپ کی بخشش کے لیے ایسا جھگڑے گا جیسا قرض خواہ کسی قرض دار سے، یہاں تک کہ فرمایا جائے گا:
’’اَيُّها السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّہٗ ‘‘(1)
’’اے کچے بچے! اپنے رب سے جھگڑنے والے! اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑ لے اور جنت میں چلا جا۔‘‘
    خیر یہ تو جملہ مُعْتَرِضَہ تھا، مگر ایمان والوں کے لیے بہت نافع اور شیاطینُ الاِنْس کی خباثت کا دافع تھا، کہنا یہ ہے کہ قومِ لوط پر عذاب قضائے مُبرَمِ حقیقی تھا، خلیلُ اﷲ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس میں جھگڑے تو اُنہیں ارشاد ہوا:
’’اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑو ... بیشک اُن پر وہ عذاب آنے والاہے جو پھرنے کا نہیں۔‘‘
    اور وہ جو(دوسری قسم یعنی) ظاہر قضائے مُعلّق ہے، اس تک اکثر اولیا کی رسائی ہوتی ہے، اُن کی دُعا سے، اُن کی ہمّت سے ٹل جاتی ہے اور وہ جو (تیسری قسم یعنی مُعلّق شبیہ بہ مُبْرَم) متوسّط حالت میں ہے، جسے صُحُفِ ملائکہ کے اعتبا ر سے مُبرَم بھی کہہ سکتے ہیں، اُس تک خواص اکابر کی رسائی ہوتی ہے۔ حضور سیّدُنا غوثِ اعظم رَضِیَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْہُ اسی کو فرماتے ہیں: ’’میں  قضائے مُبرَم کو رد کر دیتا ہوں‘‘ (1)اور اسی کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا:’’اِنَّ الدُّعَاءَ يَرُدُّ القَضَاءَ بَعْدَ مَا اُبْرِمَ‘‘(2) ’’بیشک دُعا قضائے مُبرَم کو ٹال دیتی ہے۔‘‘(3)
سوال:کیا تقدیر کے موافق کام کرنے پر آدمی مجبور ہوتا ہے اس بارے میں عقیدہ کیا رکھنا چاہئے؟
جواب:نہیں۔ بندہ کو اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ نے نیکی ،بدی کے کرنے پر اختیار دیا ہے۔ وہ اپنے اختیار سے جو کچھ کرتا ہے وہ سب اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے یہاں لکھا ہوا ہےجیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ   قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے، ان میں زیادہ غور و فکر کرنا سببِ ہلاکت ہے، صدیقِ اکبر وفاروقِ اعظمرَضِیَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْھُمَاکواس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ تو ہم اور آپ کس گنتی میں ہیں ...! اتنا سمجھ لیا جائے کہ اﷲ تعالیٰ نے آدمی کو  پتھر  اور دیگر جمادات کی طرح بے حس و حرکت نہیں پیدا کیا، بلکہ اس کو ایک نوعِ اختیار (یعنی ایک طرح کا  محدوداختیار ) دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے، چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ بھلے، بُرے، نفع، نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیّا کر دیے ہیں، کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اُسی قسم کے سامان مہیّا ہو جاتے ہیں اور اسی بنا پر اُس پر مؤاخذہ ہوتا ہے۔اس سچے عقیدہ کو یاد رکھا جائے اور دل میں بسا لیا جائے اسی پر قائم رہا جائے غیر ضروری غور و خوض سے باز رہا جائے تو وسوسوں سے چھٹکارا مل جاتا ہے،یہ  عقیدہ بھی یاد رہے کہ اپنے آپ کو بالکل مجبور سمجھنا یا بالکل  مختار سمجھنا دونوں گمراہی کی بات ہیں۔(1)
سوال:بعض لوگ بُرا کام کرکے کہتے ہیں کہ تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:بُراکام کرکے تقدیر کی طرف نسبت کرنااور مشیّتِ الٰہی کے حوالے کرنا بہت بُری بات ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے اسے مِنْ جَانِبِ اللّٰہِ (اللّٰہ کی طرف سے) کہے اور جو بُرائی سَرزَدْ ہواسے شامت ِ نفس (اپنا قصور) تصوّر کرے۔(2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۔۔۔ بہار شریعت،حصہ۱،۱/۱۱
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… پ١٢،ھود:٧٤
2… پ٣٠،الضحٰى:٥
3 … تفسیر کبیر، پ۳۰، الضحی: تحت الآیة: ۵، ۱۱/۱۹۴
… ابن ماجہ،کتاب الجنائز، باب ما جاء فیمن أصیب بسقط، ۲/۲۷۳، حدیث: ۱۶۰۸
… مکتوبات امام ربانی، مکتوب نمبر۲۱۷،۱/۱۲۳۔۱۲۴
2 …الفردوس بمأثور الخطاب،۵/۳۶۴،حدیث:۸۴۴۸، بتغیرٍ 
3… بہار شریعت ،حصہ۱،۱/۱۲۔ ۱۶، بتغیرٍ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … بہار شریعت ،حصہ۱،۱/۱۸ ، بتغیرٍ
2 … بہار شریعت ،حصہ۱،۱/۱۹

ملائکہ کا بیان

ملائکہ کا بیان

سوال:فرشتے کسے کہتے ہیں؟
جواب:فرشتے اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے ایمانداراورعزت والے بندے ہیں جواس کی نافرمانی کبھی نہیں کرتے ہیں، ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہیں۔ ان کے جسم نورانی ہیں ، وہ نہ کچھ کھاتے ہیں ،نہ پیتے ہیں، ہر وقت اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں یہ قدرت یعنی طاقت دی ہے کہ وہ جو شکل چاہیں اختیار کریں۔ 
سوال:فرشتوں کے ذمّہ کیا کیاکام ہیں؟
جواب:وہ جُدا گانہ کاموں پر مقررہیں۔ بعض جنّت پر، بعض دوزخ پر، بعض آدمیوں کے عمل لکھنے پر، بعض روزی پہنچانے پر، بعض پانی برسانے پر، بعض ماں کے پیٹ میں بچہ کی صورت بنانے پر، بعض آدمیوں کی حفاظت پر ،بعض روح قبض کرنے پر، بعض قبر میں سوال کرنے پر، بعض عذاب پر، بعض رسول  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دربار میں مسلمانوں کے درود و سلام پہنچانے پر، بعض انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے پاس وحی لانے پر ۔
سوال:ملائکہ کے پاس کس قدر طاقت ہوتی ہے؟
جواب:ملائکہ کو اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے بڑی قوت عطا فرمائی ہے، وہ ایسے کام کر سکتے ہیں جسے لاکھوں آدمی مل کر بھی نہیں کر سکتے۔
سوال:مشہور فرشتے کون کون سے ہیں؟
جواب: تمام فرشتوں میں سے یہ چارفرشتے بہت مشہور اور بڑی عظمت رکھتے ہیں: حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اِسرافیل، حضرت عِزرائیل عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام۔
سوال:کیا فرشتے دیکھنے میں آتے ہیں؟
جواب:ہمیں تو نظر نہیں آتے مگر جنہیں اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ چاہتا ہے وہ فرشتوں کو دیکھتے ہیں۔ انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام انہیں ملاحظہ فرماتے ہیں ،ان سے کلام ہوتا ہے۔ قبروں میں مُردے بھی فرشتوں کو دیکھتے ہیں اور بھی جسے اللّٰہ  عَزَّ    وَجَلَّ چاہے، دیکھ سکتا ہے۔
سوال:ہر آدمی کے ساتھ ایک ہی فرشتہ عُمر بھر اس کے عمل لکھا کرتا ہے یا کئی فرشتے لکھتے ہیں؟
جواب:نیکی اور بدی کے لکھنے والے علیحدہ علیحدہ ہیں اور رات کے علیحدہ اور دن کے علیحدہ ہیں۔
سوال:نامۂ اعمال لکھنے والے ان فرشتوں کوکیا کہتے ہیں؟
جواب:کراماً  کاتبین۔
سوال:کُل کتنے فرشتے ہیں؟
جواب:بہت ہیں ہمیں ان کی تعداد معلوم نہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
قرآن شریف کا بیان

قرآن شریف کا بیان

سوال:دنیا میں کوئی آسمانی کتاب بھی ہے؟
جواب:جی ہاں۔
سوال:آسمانی کتاب سے کیا مطلب ہے؟
جواب:خداکی کتاب۔
سوال:کون سی؟
جواب:قرآن شریف۔
سوال:اس میں کیا بیان ہے؟
جواب:اس میں سارے علم ہیں۔
سوال:وہ کتاب کس لئے آئی ہے؟
جواب:بندوں کی رہنمائی کیلئے تاکہ بندے اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو جانیں اور ان کی مرضی کے کام کریں۔
سوال:قرآن شریف کس پر اترا؟
جواب:حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم پر۔
سوال:کب اُترا؟
جواب:آپ کی ظاہری حیاتِ طیبہ کے زمانے میں اب سےتقریباً چودہ سو برس پہلے۔
سوال:کیا قرآن شریف کے سوا اللّٰہ تعالیٰ نے کوئی اور کتاب بھی اُتاری تھی؟
جواب:جی ہاں۔
سوال:کون کون سی؟
جواب :سب کتابوں کے نام تو معلوم نہیں،البتہ مشہور کتابیں یہ  ہیں۔ توریت شریف  ، انجیل شریف، زَبور شریف۔
سوال:یہ کتابیں کن کن انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام پر نازل ہوئیں؟
جواب: توریت حضرت موسیٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام پر ، زَبور حضرت داؤد عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام پر، انجیل حضرت عیسٰی عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام پر نازل ہوئی۔
سوال:کیا صحیح توریت ، صحیح انجیل اور صحیح زَبور آج کل کہیں ملتی ہے؟
جواب:جی نہیں۔
سوال:کیوں؟
جواب:عیسائیوں اور یہودیوں نے ان کتابوں میں اپنی مرضی سے گھٹا بڑھا کر کچھ کا کچھ کر دیا، بہت سا مضمون بدل دیا ہے یہ اپنی اصل شکل میں باقی نہیں ہیں۔
سوال:کیا صحیح قرآن شریف ملتا ہے؟
جواب:جی ہاں قرآن شریف ہر جگہ صحیح ملتا ہے۔
سوال:کیا وہ نہیں بدلا؟
جواب: وہ نہیں بدل سکتا ۔ اس میں ایک حرف کا بھی فرق نہیں ہو سکتا۔
سوال: کیوں؟
جواب:اس لئے کہ اس کا نگہبان اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ ہے اور قرآنِ پاک میں اس کی حفاظت کا ذِمَّہ اللّٰہ تعالیٰ نےخود اپنے ذمۂ کرم پر لیا ہے۔
سوال:قرآن شریف کہاں ملتا ہے؟
جواب:ہر شہر اور ہر گاؤں میں ، ہر مسلمان کے گھر میں ہوتا ہے اور مسلمانوں کے بچوں کو بھی یاد ہوتا ہے۔
سوال:تم نے کیسے جانا کہ وہ خد اکی کتاب ہے؟
جواب:جیسے خدا کی بنائی ہوئی چیزوں کی طرح کوئی چیز کسی سے نہیں بن سکتی ایسے ہی قرآن شریف کی طرح کوئی کتاب کسی سے نہیں بن سکی اس سے ہم نے جانا کہ وہ خدا کی کتاب ہے۔ آدمی کی ہوتی تو کوئی اور بھی ویسی ہی بنا سکتا۔
سوال:کیا ہندوؤں کے پاس کوئی خد اکی کتاب ہے؟
جواب:نہیں ۔
سوال:وید کیا ہے؟
جواب:پرانے زمانے کے شاعروں کی نظمیں۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
معجزات کابیان

معجزات کابیان

سوال:معجزہ کسے کہتے ہیں؟
جواب: وہ عجیب و غریب کام جو عام طورپریعنی عادۃً ناممکن ہوں اورایسی باتیں اگر نبوّت کا دعویٰ کرنے والے سے اس کی تائید میں ظاہر ہوں تو ان کو ’’معجزہ‘‘ کہتے ہیں(1)  جیسے حضرت موسیٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے عصا کا اژدھابن جانا، حضرت سلیمان عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کا میلوں دورسے چیونٹی کی آواز سن لینا،حضرت داؤد عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے ہاتھ میں لوہے کا موم کی طرح نرم ہوجانا،حضرت عیسیٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کامُردوں کو زندہ کرنا ،ہمارے پیارے آقا صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکا ڈوبے ہوئے سورج کو واپس لوٹانا،چاند کے دو ٹکڑے کرناوغیرہ۔
سوال: انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ   الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کو معجزات کیوں عطا کئے جاتے ہیں ؟
جواب: معجزات انبیاء عَـلَـيْهِمُ   الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کی نبوّت کی دلیل ہیں۔ معجزات دیکھ کر آدمی کا دل نبی کی سچائی کا یقین کر لیتا ہے جس کے ہاتھ سے قُدرت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں  جن کے آگے سب لوگ عاجز و حیران ہیں ضرور وہ خُدا کا بھیجا ہوا ہے چاہے ضِدّی دُشمن نہ مانے مگر دل یقین کر ہی لیتا ہے اورعقل والے ایمان لے آتے ہیں۔
سوال: کیاکوئی نبوّت کاجھوٹا دعویٰ کر کے معجزہ نہیں دکھا سکتا؟
جواب:نبوّت کاجھوٹادعویٰ کر نے والا معجزہ ہرگز نہیں دکھا سکتا اور قُدرت اس کی تائید نہیں فرماتی۔
سوال:ہمارے حضور سیّدُ الانبیاء صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے کتنے معجزات ہیں؟
جواب:ہمارے حضور سیّدُ الانبیاء صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کے معجزات بہت زیادہ ہیں ان میں سے معراج شریف بہت مشہور معجزہ ہے۔
سوال:معراج کے معجزے کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمرات کے تھوڑے سے حصّہ میں مکّۂ معظّمہ سے بیتُ المقدس تشریف لے گئے، وہاں انبیا ء عَـلَـيْهِمُ   الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کی امامت فرمائی۔بیتُ المقدس سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ۔ اللّٰہ تعالیٰ کے قُرب کا وہ مرتبہ پایا کہ کبھی کسی انسان یا فرشتے ، نبی یا رسول نے نہ پایا تھا ۔ خداوندِ عالَم کا جمالِ پاک اپنی مبارک آنکھوں سے دیکھا، کلامِ الٰہی سنا ، آسمان وزمین کے تمام مُلک ملاحظہ فرمائے یعنی دیکھے، جنّتوں کی سیر کی، دوزخ کا معائنہ فرمایا یعنی اپنی آنکھوں سے دیکھا، مکّۂ معظّمہ سے بیتُ المقدس تک راستے میں جو قافلے ملے تھے صبح کو ان کے حالات بیان فرمائے۔(1)
سوال:کیامعراج کا سفرنیندکی حالت میں ہواتھا؟
جواب:جی نہیں ،بلکہ عین بیداری کی حالت میں ہواتھا۔ 
سوال:یہ معراج جسمِ اطہر کے ساتھ تھی یا فقط روح کی تھی؟ 
جواب:یہ معراج جسمِ اطہر اور روح دونو ں کے ساتھ ہوئی تھی۔
سوال:کیا نبی کے علاوہ بھی کسی سے معجزہ ظاہر ہوسکتا ہے؟
جواب:جی نہیں،معجزہ صرف نبی کے ساتھ خاص ہے ۔
سوال:معجزہ اور کرامت میں کیا فرق ہے؟
جواب:وہ عجیب و غریب کام جوعادۃً ناممکن ہو جسے نبی اپنی نبوّت کے ثبوت میں پیش کرے اور اس سے منکرین عاجز ہوجائیں وہ معجزہ ہے اورولی سے ظاہر ہوتو کرامت ہے۔(1)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ۔۔۔کتاب العقائد،ص۱۹
۔۔۔سرکار صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی سیرت اور معجزات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کتاب ’’سیرتِ مصطفےٰ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
۔۔۔قانونِ شریعت،ص۲۵


نبوّت کا بیان

نبوّت کا بیان

سوال:نبی کسے کہتے ہیں؟
جواب: اللّٰہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے جن پاک بندوں کو اپنے احکام پہنچانے کے  لئے بھیجا ان کو ’’نبی ‘‘کہتے ہیں اور انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام ہی وہ بشر (انسان )ہیں جن کے پاس اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے ۔
سوال:وحی کیا ہوتی ہے؟
جواب:وحی کا لغوی معنی پیغام بھیجنا، دل میں بات ڈالنا، خفیہ بات کرنا۔ شریعت کی اصطلاح میں وحی اس کلام کو کہتے ہیں جو کسی نبی پر اللّٰہ کی طرف سے نازل ہوا ہو۔
سوال:پیغمبروں اور دوسرے انسانوں میں کیا فرق ہے؟
جواب:زمین و آسمان کا فرق  ہوتاہے۔ نبی و رسول خدا کے خاص اور معصوم بندے ہوتے ہیں ، ان کی نگرانی اور تربیت خود  اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بالکل پاک ہوتے ہیں۔ عالی نسب، عالی حسب(یعنی بلند سلسلہ ٔ خاندان)انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر پہنچے ہوئے، خوبصورت ، نیک سیرت، عبادت گزار، پرہیز گار، تمام اخلاقِ حسنہ سے آراستہ اور ہر قسم کی برائی سے دور رہنے والے ہوتے ہیں، انہیں عقلِ کامل عطا کی جاتی ہے جو اوروں کی عقل سے درجوں بلند و بالا ہوتی ہے۔ کسی حکیم اور کسی فلسفی کی عقل کسی سائنسدان کی فَہْم و فِراست اس کے لاکھویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتی اور عقل کی ایسی بلندی کیوں نہ ہوکہ یہ اللّٰہ کے لاڈلے بندے اور اس کے محبوب ہوتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں ہر ایسی بات سے دور رکھتا ہے جو باعثِ نفرت ہو، اسی لیے انبیاءِ کرام کے جسموں کا بَرَص (سفید داغ) جُذام ( کوڑھ)وغیرہ ایسی بیماریوں سے پاک ہونا ضروری ہے  جس سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ پھرتمام مخلوق میں سارے نبیوں میں سب سے بڑھ کر عقلِ کامل واکمل ہمارے نبی مکرم حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو عطا فرمائی گئی ہے چنانچہ  حضرت وَہْب بن مُنَبِّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں میں نے اکہتر ۷۱ آسمانی کتابوں میں لکھا دیکھا ہے کہ روزِ اول سے قیامت قائم ہونے تک تمام جہان کے لوگوں کو جتنی عقل عطا کی گئی ہے وہ سب ملکر حضرت محمد صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی عقل کے آگے ایسی ہے جیسے  دنیا کے تمام ریگستان  کے سامنے ریت کا ایک دانہ (ذرہ )۔(1) 
سوال:جو حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو اپنے جیسا بشر یا بھائی برابر کہے وہ کون ہے؟
جواب:حضور سرورِ عالَم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو اپنے جیسا بشر یا بھائی برابر کہنے والے یا کسی اور طرح حضور کا مرتبہ گھٹانے والے مسلمان نہیں، گمراہ ، بددین ہیں۔قرآنِ کریم میں جگہ جگہ کافروں کا یہ طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبیوں کو اپنے جیسا بشر کہتے تھے اسی لیے گمراہی اور کفر میں پڑے۔(2) 
سوال:نبیوں کو غیب کا علم ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب: انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام غیب کی خبر دینے کے لیے ہی آتے ہیں۔ حساب کتاب ، جنت و دوزخ ، ثواب عذاب، حشر نشر، فرشتے وغیرہ غیب نہیں تو اور کیا ہیں؟ یہ وہی بتاتے ہیں جن تک عقل نہیں پہنچتی مگر یہ علمِ غیب کہ ان کو ہے اللّٰہ تعالیٰ کے دئیے سے ہے لہٰذا ان کا علم عطائی(اللّٰہ تعالیٰ کا دیا ہوا)ہےاور اللّٰہ تعالیٰ کا علم ذاتی ہے جس کی کوئی حد نہیں اور اس کی صفت ہے ہمیشہ سے ہے ۔اس طرح علمِ غیب نبیوں اور رسولوں کے لئے ماننے والے کو شِرک کا الزام دینا بھی حماقت اور خود کفر و شِرک کے معنی سے ہی جہالت ہے  اور سخت گمراہی کی بات ہے بلکہ مطلقًا انبیائے  کرام کے لئے علمِ غیب کا انکار کرنا تو  قرآنِ کریم کی نصِّ قطعی کے انکار کی وجہ سے کفر ہے ۔
سوال:کیا کوئی عبادت و ریاضت سے نبوّت حاصل کرسکتا ہے ؟
جواب:ہرگز نہیں،نبوّت بہت بلند اور بڑا مرتبہ ہے۔ کوئی شخص عبادت وغیرہ سے حاصل نہیں کرسکتا، چاہے عمر بھر روزہ دار رہے ،رات بھر سجدوں میں رویا کرے ،تمام مال و دولت خدا کی راہ میں صدقہ کردے، اپنے آپ بھی اس کے دین پر فدا ہو جائے یعنی جان قربان کردے مگر اِس سے نبوّت نہیں پا سکتا۔ نبوّت اللّٰہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے ہمارے پیارے آقا و مولیٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّماللّٰہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ اب کوئی نبی ہر گز نہ آئے گا جو حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو آخری نبی نہ مانے مسلمان نہیں کافر و مرتد ہےبلکہ آخری نبی ہونے میں شک ہی کرے یا کسی نئے نبی کے آنے کو ممکن ہی کہے کھلا کافر ہے کہ اس کا حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کے آخری نبی ہونے پر ایمان ہی نہیں اور مسلمان ہونے کے لئے آپ کو اللّٰہ کا آخری نبی صدقِ دل سے قطعیت کے ساتھ تسلیم کرنا ضروری ہے  ۔
سوال:کسی نبی کی تعظیم و توقیر نہ کرناکیسا؟
جواب:انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام تمام مخلوق سے افضل ہیں، ان کی تعظیم و توقیر یعنی عزت و احترام فرض اور ان کی ادنیٰ توہین یعنی گستاخی یا تکذیب یعنی جھٹلانا کفر ہے۔ آدمی جب تک ان سب انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کو نہ مانے مومن نہیں ہوسکتا۔شیطان اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے نبی آدم عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی بے ادبی اور گستاخی کرنے ہی کی وجہ سے ملعون قرار دیا گیا ۔پتا چلا کہ انبیاءِ کرام عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ   وَ الـسَّـلَام کی بے ادبی شیطانی کام ہے اب آخری نبی ہمارے نبی مکرم محمد مصطفےٰصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی لائی ہوئی شریعت کو ماننا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے اب کوئی نیا نبی اور نئی شریعت نہیں آئے گی ۔
سوال: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں انبیاءِ کرام عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کا کیا مقام ہے؟
جواب: اللّٰہ تعالیٰ کے دربار میں انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی بہت عزّت اور بڑامقام ہے۔ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے اس کے محبوب ہوتے ہیں ان پر وحی نازل ہوتی ہے انہیں طرح طرح کے کمالات و معجزات عطا کئے جاتے ہیں ساری مخلوق میں سب سے افضل رُتبہ انبیائے کرام ہی کا ہوتا ہے حتی کہ فرشتوں سے بھی افضل ہوتے ہیں۔
سوال:رسول کسے کہتے ہیں؟
جواب: انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام میں سے جو نئی شریعت لائے ان کو رسول کہتے ہیں۔ 
سوال:جو نبی وفات پا چکے انہیں مردہ کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:تمام انبیاء عَـلَيْـهِمُ  الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام اپنی قبروں میں ایسے زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے، ایک آن (گھڑی بھر )کے لئے ان پر موت آئی پھر زندہ ہو گئے ۔ جو انہیں مردہ کہے گمراہ بد دین ،شیطان کے راستہ پر چلنے والا ہے اس کے تو سائے سے بھی دور رہنا چاہئے ۔ 
سوال:کیا سارے انبیاءِ کرام برابر ہیں ؟
جواب:انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام نبی ہونے میں برابر ہیں البتہ ان کے مَراتِب میں فرق ہے۔ بعض کامرتبہ بعض سے اعلیٰ ہے۔ سب سے بڑا رُتبہ ہمارے آقا ومولیٰ سیّدُ الانبیاء محمد مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکا ہے۔
سوال:حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکا مقام سب سے بلند اوراعلیٰ کیوں ہے؟
جواب:تمام انبیا ء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کو جو کمالات جدا جدا عنایت ہوئے وہ سب اللّٰہ تعالیٰ نے حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی ذاتِ عالی میں جمع فرمادئیے اور حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے خاص کمالات جو دوسرے انبیاء میں نہیں تھے وہ بھی بہت زائد ہیں۔ حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمتمام انبیاءِ کرام کے بھی سردار ہیں، فرشتوں کے بھی سردار ہیں اور ساری مخلوق میں سب سے افضل ہیں ۔
سوال:سب سے آخری نبی کون ہیں؟
جواب:حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمخاتَمُ النبیّین ہیں یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے نبوّت کا سلسلہ حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم پر ختم فرمادیا۔
سوال:جوکہے کہ حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے بعد بھی کو ئی نبی آسکتا ہے،اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
 جواب:حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی ۔ جو شخص حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے بعد کسی کو نبوّت ملنا جائز سمجھے یا آپ کے آخری نبی ہونے میں شک ہی کرے وہ کافر ہوجاتا ہے ۔سچے دل سے قطعیّت کے ساتھ حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے آخری نبی ہونے کا عقیدہ رکھنا بھی مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے۔
سوال: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّتک پہنچنے کا کیا راستہ ہے ؟
جواب:خدا کی راہ انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام ہی کے ذریعے ملتی ہے اور انسان کی نجات کا دارو مدار (انحصار)انہیں کی فرمانبرداری پر ہے۔
سوال:کیا جِنّ اور فرشتے بھی نبی ہوتے ہیں؟
جواب:نہیں، نبی صرف انسانوں میں سے ہوتے ہیں اور ان میں سے بھی فقط مرد، کوئی عورت نبی نہیں ہوسکتی البتہ رسول انسانوں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ فرشتوں میں بھی رسول ہیں۔
سوال:قرآنِ مجید میں کن انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کا ذکر ہے ؟
جواب: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّنے حضرت آدم عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام سے ہمارے آقا حضورسیِّد عالَم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمتک بہت نبی بھیجے، قرآنِ پاک میں جن کا ذکر ہے، ان کے اسماءِ مبارکہ یہ ہیں:حضرت آدم عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت نوح  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ابراہیم  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت یوسف  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت اسمٰعیل عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت اِسحٰق  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت یعقوب  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت موسٰی  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ہارون  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت شعیب  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت لوط عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ہود  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،حضرت داؤد  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت سلیمان  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ایوب عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت زَکَرِیّا  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت یحییٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت عیسیٰ  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،  حضرت اِلیاس عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،  حضرت اَلْیَسَع   عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،  حضرت یونُس  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ادریس  عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت ذُو الکِفْلْ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضرت عُزَیْر عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام،  حضرت صالِح عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام، حضور سیّدُ المرسلین مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم۔
سوال:کیا غیرِنبی(جو نبی نہیں)کے پاس بھی وحی آتی ہے؟
جواب:وحیِ نبوّت غیرِ نبی کے پاس نہیں آتی ، جو اس کا قائل یعنی ماننے والاہو وہ کافر ہے۔
سوال:کیا انبیا ء کے سوا اور کوئی بھی معصوم ہوتا ہے؟
جواب:ہاں ،فرشتے بھی معصوم ہوتے ہیں۔
سوال:معصوم کس کو کہتے ہیں؟
جواب:جو اللّٰہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہو اور اس وجہ سے اس کا گناہ کرنا ناممکن ہو۔
سوال:کیا امام اور ولی بھی معصوم ہوتے ہیں؟
جواب: انبیا ء عَـلَـيْهِمُ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام اور فرشتوں کے سوا معصوم کوئی بھی نہیں ہوتا ، اولیاء کو اللّٰہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہوں سے بچاتا ہے مگر معصوم صرف انبیاء اور فرشتے ہی ہیں۔
سوال:دنیا میں سب سے پہلے آنے والے نبی کون ہیں؟
جواب:  دنیا میں سب سے پہلے آنے والے نبی آدم عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام ہیں ان سے پہلے آدمیوں کا سلسلہ نہ تھا۔ سب سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ نے اُنہیں اپنی قدرتِ کاملہ سے بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اور اپنا خلیفہ یعنی نائب بنایا اور علمِ اسماء عنایت کیا۔ فرشتوں کو ان کے سجدے کا حکم کیا، انہیں سے انسانی نسل چلی، تمام آدمی انہیں کی اولاد ہیں۔
سوال:علمِ اسماء کس کو کہتے ہیں؟
جواب: اللّٰہ تعالیٰ نے جو حضرت آدم عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَامکو ہر چیز اور اُس کے ناموں کا علم عطا فرمایا تھا اس کو علمِ اسماء کہتے ہیں ۔
سوال:فرشتوں نے حضرت آدم عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کو کیسا سجدہ کیا تھا؟
جواب:یہ سجدہ تعظیمی تھا جو خدا کے حکم سے ملائکہ نے کیا اور سجدۂ تعظیمی پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں جائز نہیں اور سجدۂ عبادت پہلی شریعتوں میں بھی خدا کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہوا۔ جو مخلوق میں سے کسی کو سجدۂ عبادت کرے گا کافر ہوجائے گا اور تعظیماً سجدہ کرے گا توسخت گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہوگا کہ ہماری شریعت میں سجدۂ تعظیمی بھی حرام ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ۔۔۔فتاوی رضویہ، ۳۰/ ۱۴۹،ملخصاً
2 ۔۔۔ ہمارا اسلام، حصہ اول،ص۲۰
ذات و صفاتِ باری تعالی

ذات و صفاتِ باری تعالی

ذات و صفاتِ باری تعالی
سوال:کیا دنیا ہمیشہ سے ہے؟
جواب:جی نہیں۔
سوال:کیا دنیا ہمیشہ رہے گی؟
جواب:نہیں، کیونکہ یہاں کی ہر چیز کیلئے ایک عمر ہے۔ پہلے وہ پیدا ہوتی ہے اور جب تک اس کی عمر ہے باقی رہتی ہے ، پھر فنا ہو جاتی ہے۔
سوال:دنیا کی چیزیں پیدا اور فنا کرنے والا کون ہے؟
جواب: اللّٰہ تعالیٰ۔
سوال:وہ کب پیدا ہوا اور کب تک رہے گا؟
جواب:وہ پیدا نہیں ہوااور نہ ہی فنا ہوگا ۔پیدا وہ چیز ہوتی ہے جو پہلے نہ ہو خود سے ہمیشہ سے نہ ہوجبکہاللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، سب کو وہی پیدا کرتاہے  اسے  کسی نے پیدا نہیں کیا، وہی سب کو فنا کرتا ہے اور اسے کوئی فنا نہیں کرسکتا اس کا ہونا ضروری ہے اور عدم یعنی نہ ہونا محال (ناممکن )ہے۔
سوال:کیا اکیلے اُسی نے ساری دنیا بنا ڈالی یا  کوئی اوربھی اس کے ساتھ شریک ہے؟
جواب:کوئی اس کا شریک نہیں، سب اس کے بندے اور ا س کے پیدا کئے ہوئے ہیں، وہ اکیلا تمام جہان کا پیدا کرنے والا ہے، وہ بڑی قدرت  والاہے، کوئی ذرّہ اس کے حکم کے بغیر ہِل نہیں سکتا۔
سوال:کیا ماں باپ سے بڑھ کربھی کوئی مہربان ہے؟

جواب: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ ماں باپ سے بڑھ کربلکہ سب سے زیادہ مہربان اور رحم فرمانے والاہے۔
سوال: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بارے میں یہودی ،عیسائی اور مشرکین کیا کہتے ہیں ؟
جواب:  یہودی حضرت عُزَیْر عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ   وَ الـسَّـلَام کو اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کا بیٹا کہتے ہیں، اسی طرح مشرکین فرشتوں کو اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور اس کے ساتھ مخلوق میں سے کسی نہ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ یہ سب کفر ہے اور مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف ہے کفار و مشرکین جیسا اسے ماننے کا حق ہے سچے دل سے  اس طرح نہیں مانتےکفریّہ و شِرکیہ اقوال و افعال میں مبتلا رہتے ہیں بُرے عقیدے رکھتے ہیں اور ہاں نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی نبوّت کا بھی انکار کرتے ہیں ان پر ایمان لاکر اور ان کی لائی ہوئی شریعت کی ہر ہر بات کو سچے دل سے قطعی تصدیق کرنا  اسلام میں داخل ہونے اور نجات کے لئے ضروری ہے اس سے انکار کرتے ہیں۔
سوال:مسلمان اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
جواب:مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ یکتا ہے ،وہ نہ کسی کا باپ، نہ بیٹا ،نہ اس کی کوئی بیوی، نہ رشتہ دار، وہ سب سے بے نیاز ہے  اور ساری مخلوق اس کی پیدا کَرْدَہ اور اسی کی محتاج ہے وہ سارے عالَم کا پاک پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔
سوال:ہم اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟
جواب: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سواکوئی عبادت کے لائق ہی نہیں۔ اس کی نعمتیں اور اس کے احسان بے انتہا ہیں ، وہی اِس کا مستحق یعنی حقدارہے کہ اس کی عبادت کی جائےوہ عالمین کا   رب ہے سارے عالَم کا خالق و مالک ہے وہی عبادت کے لائق ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔
سوال: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بارے میں کچھ اور عقائد بھی بتائیں جن کا جاننا ضروری ہے؟
جواب:  وہ ہر کمال و خوبی کا جامع اور ہر عیب و نقصان اور برائی سے پاک ہے ۔وہ ظاہر اور چھپی ہرچیز کو جانتا ہے کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ جیسے اس کی ذات یعنی وہ خود ہمیشہ سے ہے اس کی تمام صفات (خوبیاں)بھی ہمیشہ سے ہیں۔ اللّٰہعَزَّ  وَجَلَّ ہمیشہ  سے زندہ، قدرت والا ،سننے والا ،دیکھنے والا، کلام کرنے والا، ارادہ فرمانے والا ہے، وہی تمام جہان کا بنانے والاہے۔ آسمان، زمین، چاند ، تارے، آدمی، جانور اور جتنی چیزیں ہیں سب کو اُسی نے پیدا کیا۔ وہی پالتا ہے سب اُسی کے  محتاج ہیں۔
سوال: اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ قدرت والا ہے اس بارے میں کچھ بتائیں ؟
جواب:سارے اختیارات کامالک اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی ہے۔ روزی دینا ، زندگی دینا، موت دینا اس کے اختیار میں ہے۔ وہ سب کا مالک ہے، جو چاہے کرے اس کے حکم میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتا، گناہ معاف فرمانے والا، توبہ قبول فرمانے والاہے۔اس کی پکڑ نہایت سخت ہے جس سے بغیراُس کے چھوڑے  کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ عزّت، ذِلّت اس کے اختیار میں ہے، جسے چاہے عزّت دے، جسے چاہے ذلیل کرے، جسے چاہے امیر کرے، جسے چاہے فقیر کرے۔ جو کچھ کرتا ہے حکمت ہے، انصاف ہے، اس کا ہرکام حکمت ہے ،بندوں کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ مسلمانوں کو جنّت عطا فرمائے گا، کافروں پر دوزخ میں عذاب کرے گا۔ الغرض وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اسے کوئی روکنے والا نہیں بلکہ مخلوق میں سے کسی کو بھی جو اختیار حاصل ہے اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے ہے، بغیر اس کے دیئے کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور قیامت قائم فرمائے گامسلمانوں کو جنت میں بھیجے گا اور کفار کو دوزخ کی بھڑکتی آگ میں داخل کرے گا بعض گنہگار مسلمانوں کو بھی جب تک چاہے گا گناہوں کی سزا کے طور پر دوزخ کی آگ میں داخل کرے گا اور آخر کار انہیں محض اپنے فضل و کرم سے اور اپنے حبیب کی شفاعت سے جنت میں داخل فرمادے گا۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular