Showing posts with label Hamd-Naat-Manaqib. Show all posts
Showing posts with label Hamd-Naat-Manaqib. Show all posts
امید سحر

امید سحر

ڈاکٹر غلام ربانی فدا
شام کا وقت تھا. ندی کا کنارہ تھا. ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہواؤں کی سنسناہٹ خاموشیوں کو توڑ رہی تھی. نیلگوں فلک پر ستارے جھلملا رہے تھے. اوزیب ان ستاروں کے درمیاں اپنا ستارہ تلاش کر رہا تھا وہ ستارہ جو اس نے عرصہ پہلے کھو دیا تھا جس کے کھونے کے بعد زندگی کا پہیہ تھم سا گیا تھا. وقت کی سانسیں رک سی گئی تھیں. کتنا حسین تھا وہ لمحہ جب اوزیب زیبا کے سنگ جینا چاہتا تھا. اوزیب کی زندگی کی صبح اور شام زیبا سے بات کرتے ہوتی تھی. مگر کتنا کٹھن تھا وہ لمحہ اور کتنی منحوس تھی وہ ساعت جو تیز و تند طوفان کی طرح آیا اور سب کچھ بکھیر کر گیا چلا.
اوزیب زیبا کے یوں مکر جانے کی وجہ سے سخت اذیت میں تھا اور اوزیب ندی میں کنکر پھینکتے ہوئے سوچنے لگا. 
شاید سب جانے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کہ ساری زندگی ہم ان کے وجود سے بےخبر رہتے ہیں۔۔۔ لیکن جیسے ہی کوچ کی گھنٹیاں سنائی دیتی ہیں۔۔۔ ہماری سوئی ہوئی محبتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ انسان ساری زندگی توجہ کے لمس کا طلبگار رہتا ہے اور جب ہرضرورت سے بےنیاز ہونے لگتا ہے تو بےموسم کی بارش کی طرح سب اپنا اپنا حصہ ڈالنے آ جاتے ہیں۔
انہیں لمحے اسے ایک ہمدرد و مؤنس کی جھلملاتی سرگوشی سنائی دی وہ ہمدرد جس کی معیت کے پانچ سال  اوزیب کو زندگی کے معنی و مفہوم سکھا دئیے تھے. جو اوزیب کو کامیابیوں کے آسمان پر کھڑا کر کے خود ابدی سفر پر  رخصت ہو گئی تھی. جس شخصیت میں بلا کی دور اندیشی. حکمت و دانائی تھی. مدھم مدھم سا رس گھولتا لہجہ اوزیب کو سنائی دینے لگا. 
"تمہیں لگتا ہے ! کہ صرف تمہاری زندگی میں مسئلے ہیں؟ باقی سب خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں؟ نہیں میری جان! یہاں تو ہر شخص دکھی ہے۔ ہر ایک کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔ سب کو کسی "ایک" چیز کی طلب ہے۔ کسی کو مال چاہیے‘ کسی کو اولاد‘ کسی کو صحت تو کسی کو رتبہ۔ کوئی ایک محبوب شخص یا کوئی ایک محبوب چیز‘ بس یہی ایک مسئلہ ہے ہماری زندگی میں‘ ہم سب کو ایک شئے کی تمنا ہے۔ وہی ہماری دعاؤں کا موضوع ہوتی ہے‘ اور وہ ہمیں نہیں مل رہی ہوتی۔ وہی چیز ہمارے آس پاس کے لوگوں کو بےحد آسانی سے مل جاتی ہے اور ہم ان پہ رشک کرتے رہ جاتے ہیں‘ یہ جانے بغیر کہ ان لوگوں کی خاص تمنا وہ چیز ہے ہی نہیں۔ وہ تو کسی اور چیز کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ یوں ہم اس ایک شے کے لیے اتنا روتے ہیں کہ وہ ہماری زندگی پہ حاوی ہو جاتی ہے۔۔"
اوزیب آنسو پونچھتے ہوئے دنیا و آخرت کی نعمتیں سمیٹنے کے ایک نیے عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا . بادلوں میں چھپا چاند اپنی تابانیاں بکھیرنے لگا. اوزیب کو لگا جیسے چاند بھی اس سے کہہ رہا ہو
‏ دیکھو میں  تنہا آسمان پر براجمان ہوں مگر میں نے اپنی تنہائ کو اپنےمقصد پر حاوی نہیں ہونے دیا،خود تنہا ہوں مگر اندھیرے میں کل کائنات کو روشنی سےمنور کرتاہوں.
امید سحر

امید سحر

ڈاکٹر غلام ربانی فدا

شام کا وقت تھا. ندی کا کنارہ تھا. ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہواؤں کی سنسناہٹ خاموشیوں کو توڑ رہی تھی. نیلگوں فلک پر ستارے جھلملا رہے تھے. اوزیب ان ستاروں کے درمیاں اپنا ستارہ تلاش کر رہا تھا وہ ستارہ جو اس نے عرصہ پہلے کھو دیا تھا جس کے کھونے کے بعد زندگی کا پہیہ تھم سا گیا تھا. وقت کی سانسیں رک سی گئی تھیں. کتنا حسین تھا وہ لمحہ جب اوزیب زیبا کے سنگ جینا چاہتا تھا. اوزیب کی زندگی کی صبح اور شام زیبا سے بات کرتے ہوتی تھی. مگر کتنا کٹھن تھا وہ لمحہ اور کتنی منحوس تھی وہ ساعت جو تیز و تند طوفان کی طرح آیا اور سب کچھ بکھیر کر گیا چلا.
اوزیب زیبا کے یوں مکر جانے کی وجہ سے سخت اذیت میں تھا اور اوزیب ندی میں کنکر پھینکتے ہوئے سوچنے لگا. 
شاید سب جانے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کہ ساری زندگی ہم ان کے وجود سے بےخبر رہتے ہیں۔۔۔ لیکن جیسے ہی کوچ کی گھنٹیاں سنائی دیتی ہیں۔۔۔ ہماری سوئی ہوئی محبتیں بیدار ہوجاتی ہیں۔ انسان ساری زندگی توجہ کے لمس کا طلبگار رہتا ہے اور جب ہرضرورت سے بےنیاز ہونے لگتا ہے تو بےموسم کی بارش کی طرح سب اپنا اپنا حصہ ڈالنے آ جاتے ہیں۔
انہیں لمحے اسے ایک ہمدرد و مؤنس کی جھلملاتی سرگوشی سنائی دی وہ ہمدرد جس کی معیت کے پانچ سال  اوزیب کو زندگی کے معنی و مفہوم سکھا دئیے تھے. جو اوزیب کو کامیابیوں کے آسمان پر کھڑا کر کے خود ابدی سفر پر  رخصت ہو گئی تھی. جس شخصیت میں بلا کی دور اندیشی. حکمت و دانائی تھی. مدھم مدھم سا رس گھولتا لہجہ اوزیب کو سنائی دینے لگا. 
"

تمہیں لگتا ہے ! کہ صرف تمہاری زندگی میں مسئلے ہیں؟ باقی سب خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں؟ نہیں میری جان! یہاں تو ہر شخص دکھی ہے۔ ہر ایک کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔ سب کو کسی "ایک" چیز کی طلب ہے۔ کسی کو مال چاہیے‘ کسی کو اولاد‘ کسی کو صحت تو کسی کو رتبہ۔ کوئی ایک محبوب شخص یا کوئی ایک محبوب چیز‘ بس یہی ایک مسئلہ ہے ہماری زندگی میں‘ ہم سب کو ایک شئے کی تمنا ہے۔ وہی ہماری دعاؤں کا موضوع ہوتی ہے‘ اور وہ ہمیں نہیں مل رہی ہوتی۔ وہی چیز ہمارے آس پاس کے لوگوں کو بےحد آسانی سے مل جاتی ہے اور ہم ان پہ رشک کرتے رہ جاتے ہیں‘ یہ جانے بغیر کہ ان لوگوں کی خاص تمنا وہ چیز ہے ہی نہیں۔ وہ تو کسی اور چیز کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ یوں ہم اس ایک شے کے لیے اتنا روتے ہیں کہ وہ ہماری زندگی پہ حاوی ہو جاتی ہے۔۔"
اوزیب آنسو پونچھتے ہوئے دنیا و آخرت کی نعمتیں سمیٹنے کے ایک نیے عزم و حوصلہ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا . بادلوں میں چھپا چاند اپنی تابانیاں بکھیرنے لگا. اوزیب کو لگا جیسے چاند بھی اس سے کہہ رہا ہو
‏ دیکھو میں  تنہا آسمان پر براجمان ہوں مگر میں نے اپنی تنہائ کو اپنےمقصد پر حاوی نہیں ہونے دیا،خود تنہا ہوں مگر اندھیرے میں کل کائنات کو روشنی سےمنور کرتاہوں.


ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں
خوشبو ہے بسی جیسے کہ ہر گل میں کلی میں

انگلی کے اشارے سے قمر ہوتا ہے ٹکڑے
سورج بھی تو ذرّہ ہے مدینے کی گلی میں

اے شاعرو !جو اس کو سنے کیف ہو طاری
اتناتو اثر پیداکرونعتِ نبی میں

نکہت ہے پسینے میںمحمد کے جو یارو
لاریب نہیںایسی کسی گل میں کلی میں

گر خوبیٔ قسمت سے  فداؔ طیبہ کوجائیں
کھل جائیں کئی پھول تمنائے دلی میں

ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں نعت

ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں نعت






ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں

خوشبو ہے بسی جیسے کہ ہر گل میں کلی میں


انگلی کے اشارے سے قمر ہوتا ہے ٹکڑے

سورج بھی تو ذرّہ ہے مدینے کی گلی میں


اے شاعرو !جو اس کو سنے کیف ہو طاری

اتناتو اثر پیداکرونعتِ نبی میں


نکہت ہے پسینے میںمحمد کے جو یارو

لاریب نہیںایسی کسی گل میں کلی میں


گر خوبیٔ قسمت سے  فداؔ طیبہ کوجائیں

کھل جائیں کئی پھول تمنائے دلی میں


ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں نعت

ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں نعت






ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں
خوشبو ہے بسی جیسے کہ ہر گل میں کلی میں

انگلی کے اشارے سے قمر ہوتا ہے ٹکڑے
سورج بھی تو ذرّہ ہے مدینے کی گلی میں

اے شاعرو !جو اس کو سنے کیف ہو طاری
اتناتو اثر پیداکرونعتِ نبی میں

نکہت ہے پسینے میںمحمد کے جو یارو
لاریب نہیںایسی کسی گل میں کلی میں

گر خوبیٔ قسمت سے  فداؔ طیبہ کوجائیں
کھل جائیں کئی پھول تمنائے دلی میں

naat

naat






ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں
خوشبو ہے بسی جیسے کہ ہر گل میں کلی میں

انگلی کے اشارے سے قمر ہوتا ہے ٹکڑے
سورج بھی تو ذرّہ ہے مدینے کی گلی میں

اے شاعرو !جو اس کو سنے کیف ہو طاری
اتناتو اثر پیداکرونعتِ نبی میں

نکہت ہے پسینے میںمحمد کے جو یارو
لاریب نہیںایسی کسی گل میں کلی میں

گر خوبیٔ قسمت سے  فداؔ طیبہ کوجائیں


کھل جائیں کئی پھول تمنائے دلی میں
ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے نعت

ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے نعت



ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے

جس میں حبیبِ پاک کا چہرہ دکھائی دے


ہر شئے میںمصطفی کا ہی جلوہ دکھائی دے

انوارِایزدی کا سراپا دکھائی دے


آنکھوںکو میری وصف وہ کردے عطاخدا

کعبہ دکھائی دے کبھی طیبہ دکھائی دے


طیبہ میں دفن ہوںتو مجھے خلد میں فداؔ

ان کے قریب اپنا ٹھکانہ دکھائی دے


روروکے کر رہا ہے فداؔبس یہی دعا

یارب سفر مدینے کاہوتادکھائی دے

غلام ربانی فدا

مدیرجہان نعت ہیرور


ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے نعت

ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے نعت


ایسا بھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے
جس میں حبیبِ پاک کا چہرہ دکھائی دے

ہر شئے میںمصطفی کا ہی جلوہ دکھائی دے
انوارِایزدی کا سراپا دکھائی دے

آنکھوںکو میری وصف وہ کردے عطاخدا
کعبہ دکھائی دے کبھی طیبہ دکھائی دے

طیبہ میں دفن ہوںتو مجھے خلد میں فداؔ
ان کے قریب اپنا ٹھکانہ دکھائی دے

روروکے کر رہا ہے فداؔبس یہی دعا
یارب سفر مدینے کاہوتادکھائی دے

غلام ربانی فدا
مدیرجہان نعت ہیرور


ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں

ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں




غلام ربانی فدا

مدیرجہان نعت ہیرور





ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں

خوشبو ہے بسی جیسے کہ ہر گل میں کلی میں


انگلی کے اشارے سے قمر ہوتا ہے ٹکڑے

سورج بھی تو ذرّہ ہے مدینے کی گلی میں


اے شاعرو !جو اس کو سنے کیف ہو طاری

اتناتو اثر پیداکرونعتِ نبی میں


نکہت ہے پسینے میںمحمد کے جو یارو

لاریب نہیںایسی کسی گل میں کلی میں


گر خوبیٔ قسمت سے  فداؔ طیبہ کوجائیں

کھل جائیں کئی پھول تمنائے دلی میں


ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں

ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں



غلام ربانی فدا
مدیرجہان نعت ہیرور




ایسے ہے رواں میراقلم نعتِ نبی میں
خوشبو ہے بسی جیسے کہ ہر گل میں کلی میں

انگلی کے اشارے سے قمر ہوتا ہے ٹکڑے
سورج بھی تو ذرّہ ہے مدینے کی گلی میں

اے شاعرو !جو اس کو سنے کیف ہو طاری
اتناتو اثر پیداکرونعتِ نبی میں

نکہت ہے پسینے میںمحمد کے جو یارو
لاریب نہیںایسی کسی گل میں کلی میں

گر خوبیٔ قسمت سے  فداؔ طیبہ کوجائیں
کھل جائیں کئی پھول تمنائے دلی میں

منقبت در شانِ حضور غریب نوازخواجہ اجمیری

منقبت در شانِ حضور غریب نوازخواجہ اجمیری





غلام ربانی فدا

مدیرجہان نعت ہیرور


بھردو داماں ہمارے آپ کی چوکھٹ پہ آئے ہیں

کہ ہاتھوںکو پسارے آپ کی چوکھٹ پہ لائے ہیں


سفینہ ہے بھنور میںناخدا بھی پست ہمت ہے

دکھابھی دو کنارے غم بادل گھرکے آئے ہیں


اسی در سے ملا ہے اور اسی درسے ملے گا بھی

سخاوت کے کرشمے  ہم کو خواجہ نے دکھائے ہیں


مقدس آستانہ ہے  عطائے مصطفی  کا  یہ

مرادوں کے دیئے ہم نے یہاں آکر جلائے ہیں


فداؔفرمائیں گے خواجہ کرم تجھ پر یقیںکرلے

ستارے اشکِ غم کے تو نے پلکوں پر سجائے ہیں

منقبت در شانِ حضور غریب نوازخواجہ اجمیری

منقبت در شانِ حضور غریب نوازخواجہ اجمیری


غلام ربانی فدا
مدیرجہان نعت ہیرور


بھردو داماں ہمارے آپ کی چوکھٹ پہ آئے ہیں
کہ ہاتھوںکو پسارے آپ کی چوکھٹ پہ لائے ہیں

سفینہ ہے بھنور میںناخدا بھی پست ہمت ہے
دکھابھی دو کنارے غم بادل گھرکے آئے ہیں

اسی در سے ملا ہے اور اسی درسے ملے گا بھی
سخاوت کے کرشمے  ہم کو خواجہ نے دکھائے ہیں

مقدس آستانہ ہے  عطائے مصطفی  کا  یہ
مرادوں کے دیئے ہم نے یہاں آکر جلائے ہیں

فداؔفرمائیں گے خواجہ کرم تجھ پر یقیںکرلے
ستارے اشکِ غم کے تو نے پلکوں پر سجائے ہیں
منقبت درشانِ سرکار شفانواز سلیمان شاہ قادری لکشمیشور

منقبت درشانِ سرکار شفانواز سلیمان شاہ قادری لکشمیشور



منقبت درشانِ سرکار شفانواز سلیمان شاہ قادری لکشمیشور


غلام ربانی فدا

مدیرجہان نعت ہیرور



ہرشخص کوملی ہے شفا اے شفانواز

مایوس درسے کون گیااے شفانواز


اپنے کرم کا دریا بہااے شفانواز

جلوہ ہمیں بھی اپنا دکھااے شفانواز


ہیں آپ ہی سہارے مرے اور ناخدا

ڈوبے نہیں سفینہ میرااے شفانواز


تیری کرم نوازی کے صدقے جہاںمیں

میں مشکلوںسے بچتارہااے شفانواز


دارالشفاہے آپ کادر مجھ  مریض کو

ہے آپ کا سہارابڑااے شفانواز






آقامیرے ہیں آپ تو خورشیدِ معرفت



دل میں ہیں جواندھیرے مٹااے شفانواز








اجدا دکوبھی تیری  غلامی پہ ناز تھا



حاضرہے تیرے درپہ فداؔ اے شفانواز



منقبت درشانِ سرکار شفانواز سلیمان شاہ قادری لکشمیشور

منقبت درشانِ سرکار شفانواز سلیمان شاہ قادری لکشمیشور

منقبت درشانِ سرکار شفانواز سلیمان شاہ قادری لکشمیشور

غلام ربانی فدا
مدیرجہان نعت ہیرور


ہرشخص کوملی ہے شفا اے شفانواز
مایوس درسے کون گیااے شفانواز

اپنے کرم کا دریا بہااے شفانواز
جلوہ ہمیں بھی اپنا دکھااے شفانواز

ہیں آپ ہی سہارے مرے اور ناخدا
ڈوبے نہیں سفینہ میرااے شفانواز

تیری کرم نوازی کے صدقے جہاںمیں
میں مشکلوںسے بچتارہااے شفانواز

دارالشفاہے آپ کادر مجھ  مریض کو
ہے آپ کا سہارابڑااے شفانواز

آقامیرے ہیں آپ تو خورشیدِ معرفت
دل میں ہیں جواندھیرے مٹااے شفانواز

اجدا دکوبھی تیری  غلامی پہ ناز تھا
حاضرہے تیرے درپہ فداؔ اے شفانواز
منقبت در شانِ حضورامامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ

منقبت در شانِ حضورامامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ




غلام ربانی فدا

مدیرجہان نعت ہیرور






سجدہ  حسین  نے جو سرِ کربلا  کیا

ایساکسی بشر نے نہ جگ میں اداکیا


دیں کی بقا کے واسطے خود کو فدا کیا

ناناسے جوکیاتھاوہ  وعدہ وفا کیا


تاحشر یاد رکھیں گے قربانیٔ حسین

حق تھا امام کا  جوانہوں نے اداکیا


یہ کارنامہ حضرتِ شبیر ہی کاہے

سرسبز خوںسے گلشنِ مہرووفاکیا


آقانے اپنے خوں کی دے کر انہیںچمک

ذرّاتِ کربلا کو فداؔ بے بہاکیا




منقبت در شانِ حضورامامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ

منقبت در شانِ حضورامامِ عالی مقام رضی اللہ عنہ

غلام ربانی فدا
مدیرجہان نعت ہیرور





سجدہ  حسین  نے جو سرِ کربلا  کیا
ایساکسی بشر نے نہ جگ میں اداکیا

دیں کی بقا کے واسطے خود کو فدا کیا
ناناسے جوکیاتھاوہ  وعدہ وفا کیا

تاحشر یاد رکھیں گے قربانیٔ حسین
حق تھا امام کا  جوانہوں نے اداکیا

یہ کارنامہ حضرتِ شبیر ہی کاہے
سرسبز خوںسے گلشنِ مہرووفاکیا

آقانے اپنے خوں کی دے کر انہیںچمک
ذرّاتِ کربلا کو فداؔ بے بہاکیا

وہ زمیں اچھی لگی وہ آسماں اچھا لگا

وہ زمیں اچھی لگی وہ آسماں اچھا لگا



وہ زمیں اچھی لگی وہ آسماں اچھا لگا

ہر مدینے جانے والا کارواں اچھا لگا


مکہ سے ہوکر مدینے کی طرف جانے لگا

اونٹ پر بیٹھا ہوا ہر ساباں اچھا لگا


مسجدنبوی پہ جا کر ٹک گئی  میری نظر

گنبد خضریٰ کا حسنِ جاوداں اچھا لگا


سبز گنبد کے مکیں پر جان و دل قربان ہیں

آپ کا فرمان عالی بے گماں اچھا لگا


فداؔ اس دنیا میں کتنے ہی نشاںاچھے لگے

ہم کو آقا کے کفِ پا کا نشاں اچھا لگا


وہ زمیں اچھی لگی وہ آسماں اچھا لگا

وہ زمیں اچھی لگی وہ آسماں اچھا لگا


وہ زمیں اچھی لگی وہ آسماں اچھا لگا
ہر مدینے جانے والا کارواں اچھا لگا

مکہ سے ہوکر مدینے کی طرف جانے لگا
اونٹ پر بیٹھا ہوا ہر ساباں اچھا لگا

مسجدنبوی پہ جا کر ٹک گئی  میری نظر
گنبد خضریٰ کا حسنِ جاوداں اچھا لگا

سبز گنبد کے مکیں پر جان و دل قربان ہیں
آپ کا فرمان عالی بے گماں اچھا لگا

فداؔ اس دنیا میں کتنے ہی نشاںاچھے لگے
ہم کو آقا کے کفِ پا کا نشاں اچھا لگا

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular