Showing posts with label Tabsare. Show all posts
Showing posts with label Tabsare. Show all posts
رومانی امانتوں کے امین۔۔۔۔۔۔۔۔سورج کرناٹکی

رومانی امانتوں کے امین۔۔۔۔۔۔۔۔سورج کرناٹکی

رومانی امانتوں کے امین۔۔۔۔۔۔۔۔سورج کرناٹکی

ہری ہر  ضلع  داونگیرہ  کا ایک چھوٹا سا  سر سبز و شاداب مقام ہے اور آج اس مقام کی انفرا دیت یہ بھی ہے کہ یہ شعر و ادب کا ایک اچھا مرکز بن گیا ہے یہاں نہ صر ف اچھے لکھنے والے موجود ہیں بلکہ یہاں کے عوام میں ایک صحت مند ادبی ذوق  بیدار ہو چکا ہے ۔ 
ادب کی اس سر زمین سے ایک جو اں سال شاعر سورجؔ کر نا ٹکی اپنے پہلے شعر ی مجموعہ ’’ صبح اُمید‘‘کے ساتھ ادبی اُفق پر نمو دار ہو ا تھا ۔اب یہ نہایت ہی حوصلہ افزاء بات ہے کہ وہ پھر سے اپنے دوسرے مجموعہ کلا م ’’ ـــ کرشئمہ حیا ت ‘‘کو لیکر ایوان ادب میں داخل ہورہا ہے 
  نقاش نقش اول بہتر کشد زِ اوّل کے مصداق یہ مجموعہ اپنی معنوی اور صوری خوبیوں کے ساتھ منصہ شہود پر جلوہ گر ہونے والا ہے۔
 سورجؔ کے پہلے مجموعہ صبح اُمید کے مطالعہ سے میں نے یہ بخوبی اند ازہ لگا لیاہے کہ یہ چشمہ ایک دن ضرور ایک دریامیںتبدیل ہوجائے گا ۔دوسرے مجموعہ کا پورا کلام تو میرے پیشِ نظر نہیں ہے صرف چند غزلیں میرے مطالعہ میں ہیں اور گا ہے ماہے ریاستی اخبارات میں ان کی تخلیقات نظر سے گذرتی ہیں اور توجہ طلب ہوتی ہیں ۔  
 اُردو کے بیشتر شعر اء کی طرح سورج ؔنے اپنی شاعر ی کا آغاز غزل ہی سے کیا ہے ۔ جیسا کہ انہوں نے اپنے مجموعہ میں اس بات کا اظہا ر کیا ہے کہ غزل ان کی محبوب صنف ِ سخن ہے۔
سورج ؔکی شاعری کو پڑ ھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے ان کی شاعری میں ایک سچا اور حقیقی شاعر نشو نما پارہا ہے ۔ سورجؔ کر ناٹکی کو اُردو زبان پر اہلِ زبان کی سی قدرت ضرور حاصل ہے 
ہلکی پھلکی بحروں میں ان کا نرم لب و لہجہ بڑا ہی دلکش معلوم ہوتا ہے ۔ ان کی عمر اورمشق کے لحاظ سے ان کے کلام کو عروضی اور لسانی اعتبار سے جانچنامیرے خیال میں قبل از  بات ہوگی ۔
 جبکہ ہمارے یہاں دھڑا دھڑ جو مجموعے منظر عام پر آرہے ہیں اُن کے آئینے میں مشاق شعر اء 
کا کلا م بھی عیوب و اسقام سے ہر گزر پاک نہیں ہے ۔ 
سورجؔ کے چند اشعار نے تو بیک نظر میری توجہ کو جذب کر لیاہے اور ان کے کلام میں وہ خوبیا ں ضرور موجود ہیں جو اُردو غزل کی بہترین روایات 
کی مظہر ہیں اور سنجیدہ ترین اوصاف کی حامل ہیں ۔ اُن کے تازہ غزلیہ کلام میں چند ایسے اشعار قابلِ توجہ ہیںجن کو مُشتے از خر وارے کے طور پر پیش کر رہا ہوں ۔ جن سے اُن کے مزاج و آہنگ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
حوصلہ دِل کا ہر ایک گام بڑ ھانا ہو گا 
اِک  نیا  شہر  محبت  کا بسا نا ہو گا 
چاہتے  ہو یہا ں  پیغام ِمسّرت گونجے 
نفرت و یا س کی دیوار کو ڈھانا ہو گا
فلسفہ زندگی کا  اتنا  ہے
کام اوروں کے آنا مر جانا
کر کے وعدہ وفا ئوں کا سورجؔ
ہم کو آتا نہیں مکر جانا
زندگی کو سمجھ  لیا  ہم  نے 
شام کے ساتھ سائے ڈھلتے ہیں
یہ شعر واقعی بڑے خوبصورت ہیں ملاحظہ فرمایئے
حاد ثے ہر حسین چہروں کو 
اک پل میں بگاڑ دیتے ہیں
شر پرستی کے تیز تر  طوفاں 
بستیاں سب اُجاڑدیتے ہیں
میرے سینے میں بھی دل ہے مجھے احساس ہے اسکا 
محبت میں  مجھے  اوروں کو تڑپا نانہیںآتا
میں صابر ہوں ہمیشہ صبر سے ہی کام لیتا ہوں 
مجھے جذبا ت میں آکر بہک جانا نہیں آتا
 انتظار کی کیفیت کو بڑ ے سلیقہ سے پیش کیا ہے ۔ 
 ایک قیامت سی دل پے ڈھاتا ہے
وہ تیرے انتظار کا عالم 
خط کو ئی اُن کا آ گیا ہوتا      سانس راحت کی پاگئے ہوتے 
آپسی نفرتو ں سے شعلوں سے 
جل نہ جائے کہیں یہ گھر اپنا
  شعور کی نا پختگی کو صَرف ِ نظر کر کے دیکھا جا ئے تو سورجؔ کے یہ اشعار اُن کے خوش آئیند مستقبل کے ضامن ہیں ۔ زندگی کے حقائق کو ہلکے پھلکے انداز میں چھو ٹی چھوٹی بحروں میں سمونا سورجؔ کا کمال ہے ۔
ہر غزل میں زندگی کے اقدارکی عکاسی اور تجر بوں کا نچوڑ ملتا ہے ۔ ایک اچھے شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ روایت کا پاسدار بھی ہو اور جدید تقاضوں کا شعور بھی رکھتا ہو۔سورجؔ کے کلام میں ایسے بے شمار اشعار ملتے ہیں ۔
رہو ںگا کامیا ب اک دن وفاکی راہ میں سورجؔ       
مجھے ناکامیوں پر اشک بر سانا نہیںآتا
 ہم  سخن  کے  نا خدا  کہلا ئیں  گے
دیکھنا ، ایک  ایسا  دن  بھی  آئے گا
  یہ جُرّ اتِ گفتا ر کا اقرار اور عزم شاعرکی ذہنی سطح کی بلندی کا پتہ دیتی ہے  ۔
’’کرشئمہ حیا ت ‘‘میں شامل بیشتر کلا م سورج ؔ کرناٹکی کے تازہ رنگ ِ سخن کا آئینہ دار ہے۔میری رائے میں سورج ؔ کی شاعری میںایک نئے ارتقائی قدم کی چاپ سنائی دیتی ہے ۔یہ تازہ رنگ و نکھار آگے چل کر کس حد تک بار آور اور خود سورج ؔ کیلئے کتنا مبارک و مسعود ثابت ہوگا ۔ اسکے بارے میں کہنا مستقبل کے ادبی مورخ یا نقادکے ہاتھ سے قلم چھین لینے کے مترادف ہوگا ۔ میں سورجؔ کے روشن مستقبل کے لئے بدرگاہِ رب العزّت دُعا گوہوں اور اُمید کرتا ہوں کے قارئین ان گُہر ہا ئے بیش بہا سے ضرورفیضیاب ہوسکیں گے ۔   
دردمندراست گوشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظہیر رانی بنوری

دردمندراست گوشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظہیر رانی بنوری

دردمندراست گوشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظہیر رانی بنوری



جوبدزباں ہے کبھی خوش بیاں نہیں ہوتا
کہ اہل ظرف کبھی بدزباں نہیں ہوتا
                                                             (ظہیررانی بنوری)                                                  
شعرگوئی جزوقت مشغلہ نہیں اور جس نے اسے جزوقتی سمجھ کراپنایاہو۔اسے ترقی کے مدارج طئے کرنے میں بے حدوقت لگتاہے۔شعرگوئی قدرت کی جانب سے ایک تحفہ اور عطیہ ہے جوہرکس ناکس کومیسر نہیں آتا۔اس عطی? قدرت کومزید سیقل کرنے کے لئے کوشش پیہم اورمشق کی ضرورت ہوتی۔دراصل مشق و مسلسل مشق ایک ایسی ریاضت ہے جودنیاکے دوسرے مسائل سے بے نیاز رہنے پرمجبورکرتی ہے۔شعرگوئی بڑے حوصلہ اور عزم و ہمت کی خواہاں ہے۔اپنے ضروری مشاغل سے پہلوتہی کرکے لیلائے غزل کے گیسوئے خمدار سنوارنا قیس ہی کا مشغلہ ہے۔جذبات اوراحساسات کوخوبصرت اورموزوں ومناسب الفاظ کے لڑیوں میں پروناجوئے شیر کے مماثل ہے۔شاعرحقیقی معنوں میں اپنے قاری اورسامع سے یہ توقع کرتاہے کہ وہ تخلیق کی گہرا محسوس کیااسے بجاطور پر پیش کر کے اپنے قاری وسامع کوبھی اپنا شریکِ خیال بنانا چاہتاہے۔ 
ظہیررانی بنوری دوستوں کے دوست اوریاروں کے یارقسم کے انسان ہیں۔دوستوں پرجان چھڑکتے ہیں۔اوردامے درمے ان کی مدد کرنے کو ہمہ وقت تیاررہتے ہیں۔دنیامیں ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جودوسروں کی خاطر اپنانقصان تک کرلیتے ہیں۔دراصل یہ ان کی طبیعت کاخاصہ ہے۔پھرگھریلوترتیب کابھی اثرہے کہ جس سے ایک بار مل لئے پھر اس سے اسی خلوص سے ن کا وطیرہ ہے۔ان کی اس عادت وخصلت کااظہار ان کی شاعری میں بھی پایاجاتاہے۔مزاج کی سنجیدگی ،متانت اور بربادی ان کی رگ وپے میں رچی بسی ہوئی ہے۔خلوص ان کااوڑھنابچھونا ہے۔اس عہدمیں ایسے لوگ کم بلکہ عنقاہوتے جارہے ہیں۔بغیر کسی منفعت اور فائدہ کی امید کے وہ اپنے ہرملنے والے سے بڑی محبت سے ملتے ہیں۔اور ان کی عزت وتکریم کاخیال رکھتے ہیں۔
وطن کی محبت ان کے جسم میں خون کی مانند دوڑتی پھرتی ہیں۔یہ سرزمینِ 

ہند کوجنت ارضی دیکھناچاہتے ہیں۔اوریہی سبب ہے کہ مجموعہ قطعات میں ہندوستان کے حوالے سے اور موجودہ دورِ ظلم و فرقہ پرستی پر پیشتر قطعات قلمبند فرمائے ہیں۔جس کاایک قطعہ ان کے شاعر ہونے کی سند فراہم کرتاہے۔
بگڑاہوامالی کا چلن دیکھ رہاہوں
ہونے کوہے برباد چمن دیکھ رہاہوں
ہرسمت تشدد ہے فسادات مچے ہیں
خطروں سے گھرامیراوطن دیکھ رہاہوں
ظہیررانی بنوری بڑے حوصلے اور عزم وہمت کے انساں ہیں۔اپنی گوناگوں مشغلیات اور موجودہ خرابء صحت کے باوجود شعروغزل سے رشتہ استوارکئے ہوئے ہیں۔حمد،نعت قطعہ۔نظم ،ہائیکوماہیے،آزاد نظم،قومی وملی نظمیں سبھی اصناف سخن میں طبع آزمائی کرتے اور اپنے ادبی وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ 
اور ظہیررانی بنوری بڑے زودگوشاعرہیں۔کبھی شعرکہنے سے ہمت نہیں ہاری اوریہ ہوبھی نہیں سکتا۔عجزوانکساری سے مزین یہ شخص محفلوں میں اپنے آپ کو نمایاں کرنے کاہنرجانتاہے۔ان کے اشعاروافکار اورخیالات ونغمات ان کی شناخت کے ضامن ہیں۔قطعات ظہیر? میں شامل ماہئے تجربے کی حدتک تو ٹھیک ہیں مگرقبولیتِ حلقۂ احباب ادب میں گنجائش نظرنہیں آتی۔
ظہیرؔ رانی بنوری جزمیں کل دیکھتے ہیں۔اور اپنے قاری کوخیالات وافکارسے مالامال کرجاتے ہیں۔ایمائیت واشارت میں وہ بہت کچھ کہہ جانے کے ہنرسے بخوبی واقف ہیں۔ 
اپنی صحبت میں دل نہ بہلے گا
صاف کہتے ہیں روٹھ جاؤگے
ہم ہیں کڑوی حقیقتیں یارو
ہم جوبولے توسہہ نہ پاؤگے
ظہیرصاحب کی ایک غزل توایسی ہے کہ جب بھی مشاعرے میں شریک توسامعین اس غزل کی فرمائش کرتے ہیں اس کے چند اشعاریہاں پیش کررہاہوں۔جوداد لئے بغیرآپ کی سماعت سے محونہیں ہوں گے۔ 
ظلم جبر و جفا تمہارے پاس
ضبط صبر و رضا ہمارے پاس
منزلوں کا پتہ تمہارے پاس
گمشدہ راستہ ہمارے پاس
سیم وزر اور طلا تمہارے پاس
صرف ماں کی دعاہمارے پاس
اورقارئین کے ذوق کے لئے چندمنتخب قطعات پیش کرتاہوں۔اورفیصلہ آپ چھوڑتاہوں۔مجھے یقینِ کامل ہے کہ ظہیرؔ رانی بنوری کے افکاروخیالات آپ کے دل کی۹ ترجمانی کر رہے ہوں گے۔
کیوں کہ؟
جب فکر کی آتش میں پہروں کوئی جلتاہے
تب ذہن کے پردے سے ایک 
شعرنکلتاہے
(غلام ربانی فداؔ)
قطعات ملاحظہ ہوں۔
اتحاد ہے اگرتو سب کچھ ہے
سربلندی ہے اورشہرت ہے
اور اسی میں ہے عظمت ملت
اتحاد ایک عظیم طاقت ہے
*
دوستو پھوٹ اور نفرت سے
ہاتھ ہمارے نہ کچھ بھی آئے گا
پھوٹ اور اختلاف آپس کا
ہم کو اک دن تباہ کردے گا

جاؤ یادیں حسیں چھوڑ کر
ہے یہی مقصد زندگی
زیست فانی کا کیا اعتبار
آج ہے کل رہی نہ رہی

*
زندگانی کا یہ تقاضہ ہے
چھوڑجاؤ حسین یادوں کو
آنے والا زمانہ دہرائے
اپنی عظمت کو اپنی باتوں کو
*
ایک ہم ہیں غم کے ماروں میں 
غم الفت کے بے شماروں میں
اب تو یادیں ہیں اور تنہائی
ہم ہیں تنہا بھری بہاروں میں
*
چراغِ فن کو لہوسے کروں گا میں روشن
جہانِ فن رہے روشن انہیں اجالوں سے
ہرایک دورمیں قربانیاں دیاہوں ظہیرؔ
میںیادآؤں گا ہردورمیں حوالوں سے
* 
مجھے امید ہے فن کولہو لہوسے روشن کرنے والے ظہیرؔ جہانِ فن میں اسی روشن اجالوں اور بے لوث قربانیوں سے ہمیشہ یادرہیں گے۔ 




جدتِ اظہار کا شاعر ولی کرناٹکی

جدتِ اظہار کا شاعر ولی کرناٹکی

جدتِ اظہارکاشاعر ولی کرناٹکی

جب بھی میرے سامنے ولیوںکاتذکرہ ہوتاہے تو دو ولیوںکے تصاویرمیرے حاشیۂ خیال میں ابھرتے ہیں۔ ایک وہ جس سے میراتعلق ادبی اورتصوراتی ہے جسے اردو دنیاولی دکنی کہتی ہے۔دوسراوہ  ہے جب ملتاہے قلندرانہ شان وشوکت سے ملتاہے جس کی ادبی خدمات کادور نصف صدی سے بھی زیادہ پر محیط ہے جسے ارباب ذوق ولی کرناٹکی کہتے ہیں
یہ نصف صدی کاقصہ ہے یہ دو چار برس کی بات نہیں
شاعری سچائی ،کشف،جستجواورخوشبوبھراجادہ ہے جس پرصدق،خلوص اور محبت یہ ایسے جذبے ہیں جن کے بغیرشعرکاجادونہیں چلتا۔شعر سے عطرآویزخوشبوپھوٹتی ہے رنک جھلملاتے ہیں۔یہ جادویہ رنگ یہ خوشبو تخلیق کا کرشمہ ہوتے ہیں۔ولی کرناٹکی کی شاعری میں یہ سب کچھ شامل ہے اس کی وجہ شاید ان کا اندازتفکر اورفنی جہات سے  عبارت ہے جو ان کی شعری حیات میں ساتھ ساتھ رہتاہے اورانہیں کہیں ڈگمگانے نہیں دیتانہ ہی ان کے فن پر تشکیک کاسایہ پڑنے دیتاہے۔
ولی کرناٹکی ایک حساس دل ،فطرت سناش اور خوبصورت یادوںکاشاعرہے۔یہ محبوب کی یادوں سے میکدہ بناتاہے۔اس کی شاعری میں یادوں کی شبستاںمیں سحرکاپیام ہے۔ولی ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہاہے۔جس کی شاہراہیں طویل اور استحصال کے سنگ میل چارسوپھیلے ہوئے ہیں۔مصلحت ،جبر اورہوس کے اس دورمیں انسان اپنی انااورتشخص کے لئے کٹھن مراحل سے گزرناپڑتاہے۔
جب اٹھانا قلم کسی پہ ولیؔ
اپنے آگے اک آئینہ رکھنا
آپ تزئین گلشن سے پہلے ولیؔ
دل کو آمادۂ رنگ وبو کیجئے
ولی کرناٹکی کی شاعری میں حزن وملال کی دھیمی دھیمی آنچ بھی محسوس ہوتی ہے۔یہی اس کی  صداقت ہے ۔ولی نے نظروں سے اوجھل چیزوں کوبھی شاعری میں شامل کر کے اپنی شاعری کومزیدنکھاردیاہے۔
شام کو صبح بنانا ہمیں آتاہے ولیؔ
ہم کو قطرہ بھی جو ملتا اسے دریا کرتے
ہم نے سورج کی طرف داری نہ کی
ہم مجسم ہو کے بے سایہ ہوئے
ولی کی شاعری میرے لئے ہمیشہ ایک سوال ابھارتی ہے اور وہ کہ گہری سیاہی استعمال کرنے کے باوجودبھی اتناروشن کیسے لکھ پاتا ہے۔وہ دیکھتابھی سیاہ ہے سوچتابھی سیاہ ہے لیکن اس کالکھاحرف حرف سوچالفظ لفظ آفتاب کی طرح روشن ہے۔وہ اوروں کی طرح نہیں لکھتا ۔وہ شاعروں کی طرح بھی نہیں لکھتاہے وہ تو اپنافرض ادا کررہاہے پوریسچائی اورایمانداری کے ساتھ۔محبت ،وقت،تنہائی،آئینہ،اور سورج اس کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔بقول شخصے محبت جدائی کے بغیرمکمل ہے۔ محبت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے وہ 
ہرفلسفہ کا رد کردیتاہے۔
محبتوں کا وہ موسم ابھی کہاں آیا
الجھ رہی ہے ابھی دھوپ سائبانوں سے
محبت ہی تو بصارت کو بصیرت میں وحشت کو عبادت میںعداوت کوریاضت میں ایسے تبدیل کرتی ہے کہ عمر کے شبستاں میں نئے رنگ ونکہت کے  گلاب لہلہانے لگتے ہیں۔جسم کی مٹی میں محبت کی شاخ گل جب جڑپکڑتی ہے تودرویش کا جبہ کتناہی میلاکیوں نہ ہو اس کا وجدان خوشبو کے معجزے تخلیق کرتاہے ۔اجالوںکی آیات تحریرکرتاہے ۔کبھی سیاہ رات کی پیشانی پر کبھی بادصبح کی حیرانی پر۔۔۔اک کیفیت حال ہے جواندرکاآتشکدہ سرد ہونے نہیں دیتی۔آہوں بھری  سسکیوںسے سانسوں کی تسبیح  ٹوٹنے لگتی ہے۔ہڈیاں پگھلنے لگتی ہیںمگرہستی میں مستی ،فقیری میں بادشاہی نیازمندی میں بے نیازی کا راز نہاں ہوجاتاہے۔صدیوں سے محبت پر بہت کہاگیاہے اورکہاجارہاہے۔مگرولی کایہ شعردیکھیں۔
محبتوں کے وہ پیکر  نظر نہیں آتے
یہ کیا ہوا کہ فرشتے ادھر نہیں آتے
ولی بے تحاشہ لکھتاہے ۔پرانے الفاظ کو نئے معنی میں باندھ کر قاری کے دماغ میںپکنے کے لئے چھوڑدیتاہے ،استعارات دماغ کے کاغذ سے بہتے ہوئے اوراق پراترتے ہیںاورتب ایک روشنی انگڑائی لیتی ہے اورپھروہی روشنی ولی کے دماغ کی تاریکیوں پردلیل ٹھہرتی ہے۔۔وہ سیاسی شاعر نہیں ہے اس کے کلام میں ایک بھی ایسا شعر نہیں ہے جو نعرہ بن سکے۔
لیکن اس نے  انسان کے اندر ونی حالات اس خوبی سے برتے ہیں کہ باہرکاآدمی صرف باہر ہی سے اندازہ نہیں لگاسکتا۔وہ لاشعور کے نہاں خانے میں بیٹھ گیاہے۔گویایہ جہنم اس کا اپنادہکایاہواہے۔
نہ رکھنا کوئی رشتہ پتھروں سے
ولی رہتے ہو تم شیشہ کے گھرمیں
رنج و غم ہم کو وراثت میں ملے
اس اثاثے کو سنبھالا جائے گا
محبت شاعری کاعمومی اور غزل کا خصوصی موضوع ہے  ولی کی شاعری میں بھی محبت اہم موضوع ہے۔یہ اور بات ہے کہ ان کا محبوب ہرجائی ہے، ستمگرہے،بیوفاہے۔
تم آج جس کی رفاقت پہ ناز کرتے ہو
ہمارے ساتھ بھی یارو یہی زمانہ تھا
اس کے احسانات کی فہرست لمبی ہے مگر
اب کے وہ کیا گل  کھلاتا ہے ستمگر! دیکھنا
صدمے تری فرقت کے اٹھائے نہیں جاتے
زخم اور دل زار پہ کھائے نہیں جاتے
سانحہ ہے زندگی کا یہ ولیؔ
چھٹ گیا ہے ان کا دامن ہاتھ سے
سر ہتھیلی پر لیے ہم آگ پر چلتے رہے!
یوں پڑی مہنگی ہمیں تیری سناشائی بہت
مؤخرالذکر شعر میں دومحاروں کابرملا استعمال قابل غور ہے ۔وہ بات سے بات پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔شاعر خواب دیکھتے ہیں دراصل خواب ہی اس  کی زندگی  کا سرمایہ ہے۔کیونکہ یہ خواب مثالی زندگی سے تعلق رکھتے ہیںاس لئے تو وہ زمین بانجھ ہوتی ہے جہاں خوابوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ولی نے جوزندگی گزاری ہے ۔اس زندگی نے کچھ حقائق بھی ان پرمنکشف کئے ہیںاس نے اپنے مشاہدے سے کچھ نتائج بھی اخذکئے ہیںاوران کوخوبصورت شعری پیکرمیںپیش کیا ہے۔
تشنگی لے آئی صحراؤں سے دریا کی طرف
موج کی صورت لب ساحل سے ٹکراتا ہوں میں
جوبھی مجھے ملا وہ فرشتہ صفت ملا
میں ڈھونڈتا ہوں اپنے برابر کا آدمی
سوچوں تو کئی تیر ہیں پیوست بدن میں
دیکھوں تو کہیں زخم دکھائی نہیں دیتا
ولی کرناٹکی چوں کہ ایک سچااورکھرا انسان ہے ۔اس نے شاعری بھی انہیں خالص پیمانوں پرکی ہے اس کاایک چہرہ ہے لہذاوہ سب دیکھنے والوں کوہمیشہ ایک جیسا ہی نظرآتا ہے ۔اس کے ہاں تصنع یابناوٹ نام کی کوئی منافقت اس سارے وجود میں کہیں نہیںہے ہاں البتہ چہرے کی رنگوںمیں تبدیلی ضرورہوتی رہتی ہے اگرکبھی محبوب سے دوری اور ملک کے نامساعد حالات کے اذیت ناک احساس سے اس کے چہرے کے رنگ مدھم ہوجاتے ہیں،جس سے ولی کی شخصیت میں بلا نکھارہے اور فن میںبرسوں پختگی کہیں بھی قاری کے ذہن کوایک پل کے لئے بھی ادھرادھرہونے نہیںدیتی۔
فرصت ملی تو ڈھونڈ ہی لیں گے خدا کو ہم
اب تو تلاش ہے کہ کوئی آدمی ملے
ہر اک دہلیز پر آہ و بکا ہر آنکھ میں آنسو
دلیل بربریت ہے درو دیوار کی سرخی
اس طرح اب فسون غم زیست کو توڑدو
غم تم کو چھوڑتا نہیں  تم غم کو چھوڑدو

ولی کرناٹکی کو مختصر بحریں مرغوب ہیں۔مختصربحرمیںسہولت اورابلاغ کے ساتھ شعر کہنابہت مشکل ہے مختصربحروںمیںشاعری بھی ریاضت کی متقاضی ہے۔
ولی بات جلدی سے۔اورکم لفظوںمیں کہناجانتاہے اورعام زندگی میں بھی اسکی گفتگوکایہی اندازہے۔اورشاعری میں بھی وہ کم سے کم الفاظ استعمال کرتاہے۔شاعری ایمائیت اورکفایت لفظی کاتقاضہ کرتی ہے اوریہی اظہار کی خوبی ہے اوریہ خوبی اس کے یہاںموجودہے
پیڑ سے  خالی جو بستی ہو گی
سایے سے سایے کو ترستی ہو گی
سال بھر موسموں کی چوکھٹ پر
پھرتی  رہتی ہے  دربدر دنیا
اشکوں سے ہیں سیراب بہت دل کی زمینیں
یہ سارا علاقہ تمہیں بنجر نہ ملے گا
یہاں سب یوسفِ ثانی بنے ہیں
کسی کے پاس آئینہ نہیں ہے
غم کی شمشیر کو میان میں رکھ
اپنے سورج کو سائبان میں رکھ
ہم کو انجام وفا معلوم ہے
ہم کہاں  ڈرتے ہیں نقصانات سے
پلٹ جاتے ہیں رحمت کے فرشتے
کوئی دیوار جب اٹھتی ہے گھر میں
اس میں آتی ہے وفا کی خوشبو
یہ مرے دیس کی مٹی ہوگی
میں کہاں آیا ستاروں کو لیے پلکوں پر
سب ہیں سورج کے پرستار خدا خیر کرے
آندھیاں کر رہی ہیں گھر کا طواف
کیا غضب ہوگیا دیا رکھنا
مطربۂ نغمۂ حیات نہ چھیڑ
زندگانی سسک رہی ہے ابھی
حرف آئے نہ کہیں آپ کی فیاضی پر
بھیک دیتے ہیں تو چہرے نہیں دیکھا کرتے
یہ کیسی مصلحت ہے کہاں کا جواز ہے
شیشے کی بستیوں میں ہے پتھر کا آدمی
اس کے یہاں اظہار کی جدت ہے لیکن روایت کے ساتھ مربوط۔یہی خوبی قارئین کو متاثر کرتی ہے۔ولی کرناٹکی نے شعبدہ بازی نہیں کی شاعری کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے اس نے بڑی محنت  وریاضت کی ہے اس نے روایت سے رشتہ جوڑکر اپنااسلوب نیا بنانے کی کامیاب سعی کی ہے۔اور 
ہر کسی سے یہ دادِ سخن کی طلب
خود کو اتنا نہ بے آبرو کیجئے
خودارولی کسی سے صلے خواہش رکھتا ہے نہ داد کی امید ۔ولی کے یہاں داد کی طلب فن کو بے آبرو کرنے کے مانند ہے۔

سراپازخم زخمـــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبین احمدزخم

سراپازخم زخمـــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبین احمدزخم

سراپازخم زخمـــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبین احمدزخم



ریاست کرناٹک میں اردوادب وصحافت کے میدان میں حیدرآباد کرناٹک کاعلاقہ ہمیشہ ہی سے سرسبزوشاداب رہاہے۔بیدر،گلبرگہ،بیجاپور۔رائچور اوریادگیرتک اردو زبان وادب کادربارعام ہے۔جہاںکنڑا زبان کی حکومت ہوتے ہوئے بھی اردوکی بادشاہی مسلم ہے۔اس علاقے کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اردوزبان کی ابتدائی نش ونما یہیں ہوئی۔یہ علاقہ اس لئے بھی سبزوشاداب ہے کہ اس  علاقے نے اردو کے لئے جیالے سپاہی اورنامورہستیوںکو جنم دیاہے جوتاریخ اردو کے زریں باب ہیں جن کے بغیرتاریخ اردووادب مکمل ہوہی نہیں سکتی۔انہیں چاندتاروںمیں سے ایک کانام مبین احمدزخم بھی ہے ۔مبین احمدزخم ایک سچے اردوکے خادم،مخلص،بے غرض انسان ہیں۔ جن کو کسی اخبار ورسالے میں شائع ہونے کی خواہش نہ مشاعروں میں شرکت کی تمنارکھتے ہیں۔
۱۹۹۵ میں الصمد ایجوکیشنل چارٹیبل اینڈویلفرٹرسٹ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیاجس کے زیراہتمام مدرسہ وحیدہ نسوان کا آغاز کیاگیا۔اگرزخم کے خدمات کاجائزہ لیاجائے تومعلوم ہوگاکہ قوم مسلم واردوکایہ جیالہ سپاہی زخموں سے چورچورسے ہے۔جسے آرام کی ضرورت ہے مگر سپاہی کی قسمت میں آرام کہاں؟ زخموںکی پرواہ کئے بغیرزخمؔ اپنی نادیدہ منزل کی جانب رواںدواں ہے۔
شعبۂ صحافت میں ٹاپ نیوز(ہفت روزہ) اورسہ ماہی چراغ نور کے روح رواںبھی ہیں۔کئی اصلاحی ،سیاسی۔ورفاہی وعوام بہبودی تحریکوں سے وابستہ ہیں کسی  کے رکن توکسی کے صدرکے حیثیت سے۔
زخم سیاست دان ہوتے ہوئے اپنی شاعری میں نظرنہیں آتے زخم کی شاعری ایک زخم خوردۂ وفاکی شاعر ی ہے ۔وہ اپنی شاعری میں اتنی کثرت سے محبت کی باتیں کرتاہے جس سے وہ مبلغ محبت نظرآتاہے۔میرے سامنے زخم کے کئی بکھرے ہوئے اشعارہیں۔میںحیرت ومسرت کے ملے جلے جذبات سے سرشار زخم کے فن اورشخصیت کے مطالعے میں مصروف زندگی کی تمام پرتوں کومحسوس کرتاہواکبھی غم ذات کی محرومیوںمیں ڈوب کر ہجروفراق کے تلخ لمحات میں محبوب کی بے رخی سے محظوظ ہوتاہوں اورکبھی غم دوراں کی اذیت میں گم ہوکر 
ایک عجیب راحت محسوس کرتاہوں۔اُردو کے بیشتر شعر اء کی طرح زخم ؔنے اپنی شاعر ی کا آغاز غزل ہی سے کیا ہے ۔ غزل ان کی محبوب صنف ِ سخن ہے۔
زخم کی شاعری کو پڑ ھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے ان کی شاعری میں ایک سچا اور حقیقی شاعر نشو نما پارہا ہے ۔ زخمؔکو اُردو زبان پر اہلِ زبان کی سی قدرت ضرور حاصل ہے ۔ہلکی پھلکی بحروں میں ان کا نرم لب و لہجہ بڑا ہی دلکش معلوم ہوتا ہے ۔ ان کی عمر اورمشق کے لحاظ سے ان کے کلام کو عروضی اور لسانی اعتبار سے جانچنامیرے خیال میں قبل از  بات ہوگی ۔جبکہ ہمارے یہاں دھڑا دھڑ جو مجموعے منظر عام پر آرہے ہیں اُن کے آئینے میں مشاق شعر اء کا کلا م بھی عیوب و اسقام سے ہر گزر پاک نہیں ہے ۔ 
وہ میرا ہو کے جب مرانہ رہا
اورجینے کاحوصلہ نہ رہا
تم سے ہوئے جدا تو محبت بری لگی
کیاپوچھتے ہو کیوں یہ عبادت بری لگے
جب زخم ہرا ہوتا ہے
اک شعر نیا ہوتا ہیٖ
کالی رات اور اجلا چاند
تنہا میں اور تنہا چاند
زخم کے چند اشعار نے تو بیک نظر میری توجہ کو جذب کر لیاہے اور ان کے کلام میں وہ خوبیا ں ضرور موجود ہیں جو اُردو غزل کی بہترین روایات کی مظہر ہیں اور سنجیدہ ترین اوصاف کی حامل ہیں ۔ اُن کے تازہ غزلیہ کلام میں چند ایسے اشعار قابلِ توجہ ہیںجن کو مُشتے از خر وارے کے طور پر پیش کر رہا ہوں ۔ جن سے اُن کے مزاج و آہنگ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
بس مجھے ایک کام کرنا ہے
زندگی تیرے نام کرناہے
چاہتوں میں کمی نہیں ہوتی
خود سے یوں دشمنی نہیں ہوتی
لباس گل جو وہ تارتار کرتا ہے
عجیب شخص ہے کیا کاروبار کرتا ہے
عشق کو ہم خطا نہیں کہتے
آپ کو بیوفا نہیں کہتے
زمیں تم ہو آسماں تم ہو
غرض کہ سارا جہاں تم ہو
انتظار کی کیفیت کو بڑ ے سلیقہ سے پیش کیا ہے ۔ 
رسم الفت ذرا یوں نبھایا کرو
بھول سے ہی سہی آیا جایا کرو
شعور کی نا پختگی کو صَرف ِ نظر کر کے دیکھا جا ئے تو زخم کے یہ اشعار اُن کے خوش آئیند مستقبل کے ضامن ہیں ۔ زندگی کے حقائق کو ہلکے پھلکے انداز میں چھو ٹی چھوٹی بحروں میں سمونا زخمؔ کا کمال  ہے۔
ہر غزل میں زندگی کے اقدارکی عکاسی اور تجر بوں کا نچوڑ ملتا ہے ۔ ایک اچھے شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ روایت کا پاسدار بھی ہو اور جدید تقاضوں کا شعور بھی رکھتا ہو۔زخمؔ کے کلام میں ایسے بے شمار اشعار ملتے ہیں ۔
شعر وہ بے مثال ہوتا ہے
جس میں تیرا خیال ہوتا ہے
زخم ایک خوددار انسان ہیں غریبی ومفلسی میں بھی ان سے ہاتھ پھیلایانہیں جاتااورمحنت کوعبادت سمجھتے ہیں
اپنی تقدیر کو بنانے دو
مجھ کومحنت سے زر کمانے دو
 یہ جُرّ اتِ گفتا ر کا اقرار اور عزم شاعرکی ذہنی سطح کی بلندی کا پتہ دیتی ہے  ۔
آج اردو جن نا مساعد حالات سے گزررہی ہے وہاں ایک ایسے نوجوان کی اُردو دوستی اور حالات کے پیش نظر اردوزبان وادب کی خدمات قابل تحسین عمل ہے۔ زخم ؔ صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اپنی مادری زبان نہ ہوتے ہوئے بھی اردو زبان سے بے پناہ محبت کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے پیشتر جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے۔  زخم اپنی ادارت میں ایک سہ ماہی مجلہ’’چراغ نور‘‘شائع کرتے ہیں۔ زخم اپنے اشعار میں اچھے مضامین لاتے ہیں۔ بیشتر کلا م زخم کے تازہ رنگ ِ سخن کا آئینہ دار ہے۔میری رائے میں زخم ؔ کی شاعری میںایک نئے ارتقائی قدم کی چاپ سنائی دیتی ہے ۔یہ تازہ رنگ و نکھار آگے چل کر کس حد تک بار آور اور خودزخم ؔ کیلئے کتنا مبارک و مسعود ثابت ہوگا ۔ اسکے بارے میں کہنا مستقبل کے ادبی مورخ یا نقادکے ہاتھ سے قلم چھین لینے کے مترادف ہوگا ۔ میں زخمؔ کے روشن مستقبل کے لئے بدرگاہِ رب العزّت دُعا گوہوں ۔

حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

ارض دکن کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ اردو کاابتدائی مولدومسکن ہے اور اردو کی جنم بھومی میں شعراء وادبا کاایک لشکرِ جرار ہے جو شعری وادبی کاوشوں میں مصروف ومنہمک ہے۔کچھ لوگ نامور ہیں اور کچھ جادۂ ناموری پر مصروف سفر ہیں۔ایسے اصحاب تگ وتازمیں حیدرمظہری کا اسم گرامی ہے  ۔حیدرمظہری  ایکایسا شخص ہے جو کہنہ مشق اور پختہ کارشاعر ہونے کے علاوہ ایک دردمند اوس احساس مزاج کاحامل ہے۔اسے شعر کہنے کاسلیقہ ودیعت کیاگیاہے۔اس لیے شعر میں کہیں تکلف وسجاوٹ نہیں بلکہ ایک بے ساختہ پن ہے۔ان کی نگارشات کا مطالعہ کرنے والوں کومحسوس ہوگا کہ ان کا سخن سادگی کے رنگ کا حامل ہے مگر اس میں جذبے کی تاثیر کی فراوانی ہے۔جگہ جگہ شاعر کا شعری شعور رنگ جماتا ہوا نظرآتاہے وہ قدم بہ قدم اپنے تجربات کی عکاسی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںایک حدتک وضع دار بھی ہیں مگربے تکلفی انہیں بہت پسند ہے۔ان کی لفظیات میں ایک ارتقا کا عمل صاف دکھائی دیتاہے۔ان کی ترکیبات اپنے اندر ایک شان دلآویزی لیے ہوئے ہیں ان کی مستقل اور شعروادب کی عرق ریزی انہیں اپنے ہم عصروں سے کافی آگے لے گئی ہے۔ 
جوچیز اس کے کلام کو پڑھتے وقت قاری کو متوجہ کرتی ہے وہ اس کا فطری حسنِ ادا ہے۔وہ شعر کچھ اس انداز سے کہہ جاتاہے کہ داد دیے ہی بنتی ہے۔
کوئی بتلائے چراغوں کو ہوا کی نیت
جل اٹھے ہیں یہ سرِ شام خیر خدا کرے
٭
اسے ہی ان دنوں ویرانیاں  بھی راس نہیں
جو شخص شہر میں بھی خال خال رہتاہے
٭
راس آئے نہ راس آئے گلشن کی فضا دائم
بے وجہ سہی لیکن  زنداں پہ نظر رکھنا
٭
بال آئے تو آئینہ دل کا
پھر کسی کام کا نہیں ہے کیا

یہی حسن ادا بعض اوقات اس سے ایسے چونکادینے والا شعرکہلواتی ہے ہے جنہیں پڑھ کر آپ خود وجد کی کیفیت میں آجاتے ہیں اور خوشگوار حیرت ذہن ودماغ پر طاری ہوجاتی ہے۔یہ اشعار دیکھئے
پتھروں کا ہے شہر چپ ہو جا
زندگی کو پکارنے والے

پاسداری مل نہ پائے گی ترے فن کو یونہی
غم کی اس تصویر میں رنگِ حنا رہنے بھی دے

زمیں پر ہے متاعِ زندگانی
ستاروں میں جہاں کوئی نہیں ہے
جبرزیست شائد مڈل کلاس کا مقدر ہے۔حیدرمظہری اسی جبرِ زیست کا شاعر ہے
زندگی ہے تو حادثے کتنے
ناگہاں ناگہاں نہیں ہوں گے 

کرایہ دار نہیں تھا کسی محل میں کبھی
غریب تھا بھی تو اپنے مکان میں میں تھا

مگرزندگی کے اس جبر نے اسے جین اسکھایا ہے وہ خود بیں اورخود آگاہ ہے اور یہی احساس ذات زندگی کے اس خرابے میں اسے قوت حیات عطاکرتا ہے
ابھی ڈھلتے نہیں آنکھوں سے آنسو
ابھی سینے میں پتھر جاگتا ہے
حقیقت جھیلتے آگے بڑھے ہیں
فقط خوابوں کے بہلائے نہیں تھے 

حیدرمظہری کی شاعری غیرروایتی شاعری ہے مگراس نے اپنا رشتہ روایت سے توڑانہیںاور سچی بات یہ ہے کہ احساس روایت کے بغیر اچھی شاعری جنم ہی نہیں لیتی۔ان کے جواشعارمیںنقل کرتاآیا ہوںوہ روایتی ہرگزنہیںمگرروایت سے وابستگی کی دین ہیں۔یہ بات تجربے کی نہیں احساس کی ہے۔
 حیدر مظہری ایک سوچتے ذہن کا ذہن کا شاعر ہے اسے اپنے معاشرے کے تضادات ،سیاہ دھبے،بونے قد،بلندبانگ نعرے سبھی کچھ سنائی دیتے ہیں اور دکھائی بھی۔وہ ان پہ کڑھتابھی ہے اور ہمیں آئینہ بھی دکھاتا ہے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پرجوناانصافیاں،حق تلفیاں بلکہ انسانیت کی جو تذلیل ہو رہی ہے اسے اس نے محسوس بھی کیاہے اور اس طرف متوجہ بھی کیاہے اور اس پر طنز بھی کیا ہے۔
کبھی تو قوت کی بے پنا ہی اتارتی ہے زمیں پہ دوزخ
فرشتگی کے لباس ہی میں یہ آدمی بدخصال بھی ہے
ہر ستم گر کا نام لیتا ہے
پر زمانے کو بھول جاتا ہے
اور روتا ہے اپنی حالت پر
مسکرانے کو بھول جاتا ہے
لیکن اس صورت حال نے اسے انسان سے مایوس نہیں کیا۔وہ احترام ِ 
آدمیت کا شاعر ہے۔انسانی عظمتوںکا معترف اور اس کے ا مکانات کامبلغَ
پیغامِ محبت ہی ہر دل کا اثاثہ ہے
ہر لمحہ محبت کے ساماں پہ نظر رکھنا

تمام عمر مسلسل اڑان میں میں تھا
بہت تھکا تھا مگر آسمان میں میں تھا

اڑانوں میں وہ شہپر لے گیا تھا
فرشتوں کا مقدر لے گیا تھا

زمیں پر کھینچ لے آئے مسائل
وہ خود کو آسماں پر لے گیا تھا
 آدمیت کایہی احترام ہے جس نے اسے محبت کامغنی بنادیاہے۔وہ محبت مانگتا اور محبت بانٹتا ہے۔محبت کی تکرار اس کے کلام میں اس قدر ہے کہ بعض اوقات وہ مبلغ محبت نظرآنے لگتا ہے۔
ساری دنیا قحط زدہ سی لگے
کون خوشیوں کی بھیک ڈالے گا

مخالفت تھی تصادم تھا شور تھا حیدرؔ
کہاں سکون تھا اک امتحان میں میں تھا

لیکن بات صرف موضوعات کی نہیں ہے بلکہ طرزادا کی ہے شعر میںجان حسن  ادا سے پڑتی ہے وہ حیدر مظہری کوخوب عطاہواہے۔جوایسے شعرکہہ جاتے ہیں
کبھی نہ ترک محبت کی سوچئے حیدرؔ
کہ زندگی ہے تو جی کا وبال رہتاہے
اوروں کی طرح تیری قسم جی نہیں پائے
شامل نہ رہا درد تو ہم جی نہیں  پائے
اک جہنم میں بھی تروتازہ
دل ہے ایسا کہ پھول لگتا ہے
دفترِ اعمال میں لفظِ خطا رہنے بھی دے
آدمی ہوں تو مجھے  تھوڑا بُرا رہنے بھی دے

تعلق اجنبیت کا تماشہ
محبت۔۔۔۔۔شاعری کی آبرو تھی
اس کی فنکارانہ بصیرت اور شعری قامت سے انکار ممکن نہیں۔حیدر مظہری کو شعر کہناآتاہے۔اور وہ اس آسانی سے شعر کہتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے


اسلامی اقدار کا شاعر        عزیزبلگامی

اسلامی اقدار کا شاعر عزیزبلگامی


اسلامی اقدار کا شاعر 
     عزیزبلگامی

غلام ربانی فدا
جن کو تم شعر و سخن کی کہکشاں کہتے رہے
اصل میں قرطاس پر تھے، خامہ فرسائی کے داغ
مذکورہ بالا شعرعزیز بلگامی کاہے مگرعزیز بلگامی کے خیال سے میں متفق نہیںہوں، کیونکہ داغ تو ان کے لیے ہوسکتے ہیں مگر ان کا لکھاہواہرہرلفظ مجھ کوروشن اجالوںسے عبارت نظرآتاہے۔عزیزبلگامی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔مشاعرے،اخبارات ورسائل سے لے کر انٹرنیٹ تک ان کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔عزیزبلگامی کے یہاں اسلامی اقدار کی پاسداری مقصداولیں ہے۔گو کہ عزیزبلگامی نے خال خال عاشقانہ شاعری بھی کی ہے۔ اس کی خصوصیت اول تو یہ ہے کہ شاعر کااحساس جمال نہایت تیزاورشدیدہے۔ انگریزی رومانی شاعرکیٹس(KEATS) نے اپنے ایک خط میں لکھاہے کہ’’ایک ادنیٰ مخفی اورہلکاسا بھی احساس جمال میرے جسم کی رگ رگ میں ہیجان پیداکردیتاہے‘‘۔عزیزبلگامی کا معاملہ بھی کچھ ایساہی ہے مگر اس ہیجان میں سنبھلی ہوئی کیفیت نظر آتی ہے اوراس کے اظہارمیں رکھ رکھاؤ موجود ہے۔قدوگیسوکی قیامت خیزیوں، لب ورخسارکی حلاوت اور چشم وابرو کی فتنہ انگیزیوںکا ذکر اوّل توہے نہیں اور اگر ہے بھی تو اِس میں عامیانہ پن نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ ان کے عشقیہ  اشعارمیں مریضانہ کیفیت بھی نہیں ہے۔ ہمارے اکثرشعرا غزلوںمیں اس امر کااعادہ کرتے رہتے ہیں کہ عاشق مجبور محض، ناکام اور غم آلام میں محصورہوتا ہے۔ محبوب کو ستم پیشہ،کج رو،بددماغ اورتغافل شعارکہا جاتا ہے۔لیکن عزیز کے کلام میں عاشق کی دوری ومہجوری اس کی حیات کا تقاضہ ہے، محبوب کی ستم نوازشوں کا نتیجہ نہیں۔ اس عالم جدائی میں عزیزؔمحبوب کی تغافل شعارطبیعت کارونانہیں روتے ،بلکہ جذب وکیف، سروروانبساط میںڈوب 
جاتے ہیں۔اس طرح قاری کی طبیعت پربجائے افسردگی کے شگفتگی طاری ہوجاتی ہے۔تیسرے یہ کہ ان شعروں میںعاشق کارول ایک غیرت مند اورخوددارانسان کاکردارہے۔ وہ درمحبوب پرناصیہ فرسائی نہیں کرتا اور محبوب ستم شعار ہوتے ہوئے بھی باوقارہے، بے وفا اور ہرجائی نہیں۔ اِن کی تمام تر عشقیہ شاعری میں ضمناًبھی کہیں کسی ’’رقیب‘‘ کاذکر نہیں ملتا اور ہوبھی نہیں سکتا ،ظاہر ہے یہ ایک اسلامی اقدار کے پاسدار شاعرکی عشقیہ شاعری ہے۔ اس سلسلہ میںآخری نکتہ یہ ہے کہ اِن کے اس نوع کے شعروں پر مشتمل غزلوں کامحبوب ایک تصوراتی یامثالی محبوب ہے جس کے حسن وجمال کوآب ورنگ، عشق نے بخشاہے،اس کی تائید عزیز کے اس شعرسے ہوتی ہے:
مرے اشعار میں کچھ زخم مہکتے ہیں عزیزؔ
یہ سبب ہے کہ مرے فن پہ بہار آئی ہے
معدودے چندعشقیہ اشعارکے اِس تذکرے کے بعد عزیزکی اُن غزلیات کی طرف توجہ کرتے ہیں جواصلاً اُن کی فکر و نظر کا محور رہی ہیں، جن کوخالص سماجی وسیاسی صورت حال سے سروکار ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عزیز جیسے طبعاًحساس شاعراپنے اردگردکے ماحول سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہتے۔عزیزؔکے ان اشعار میںجن کاتعلق اخلاقی وسماجی اقدار کی پامالی سے یاسیاسی زبوںحالی سے ہے،لہجے کی تندی،احتجاج،چیخ وپکار،گھن گرج،یانعرہ بازی یا سوقیانہ بلندآہنگی نہیںہے،بلکہ ان میں جرأتِ اظہار کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ سلگنے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان اشعارمیںاپنے موقف یاردعمل کااظہا رشاعرنے سلیقہ مندی سے کیاہے، جس طرح ایک نہایت ہلکاسارنگ کسی تصویرمیںچمک پیداکردیتا ہے، اسی طرح چند علامات کے استعمال سے شاعرنے معنی آفرینی کاکام کیاہے اورچند اشارے صورت حال کی افراتفری،زمانے کے پیچ وخم اوروقت کے نشیب وفرازکی تصویرواضح طورپرنمایاںکردیتے ہیں۔ یہ علامات ہیں: باغباں،گلشن،آشیاں،صیاد،گل تر،شمع ،محفل ،قفس وغیرہ۔مادروطن کی ترقی اور اس کی مادی،تہذیبی اورمعاشی خوشحالی کے فروغ میںہندوستان کی مختلف قوموںاورنسلوں کی جو قربانیاں شامل ہیں ان میںمسلمانوںکی قربانیوں کو جس طرح یکسرنظراندازکیاجاتارہاہے،اس حقیقت کے اظہار میں شاعر کالہجہ کرب انگیز بن جاتا ہے اور اُن کاتیورطنزیہ چاشنی سے بھرپورنظر آتا ہے:
کیوں کر مزاج صبح کو سب کے بدل گیے
اطوار محسنوں کے تو کل رات ٹھیک تھے
معاشرے میں موجودنفاق وافتراق کے درمیان فرد کی بے بسی،انحطاط پذیر سوسائیٹی کی ابتری وبدحالی اورآئے دن برپا ہونے والے فرقہ وارنہ فسادات کی ہلاکت خیزی کاعکس اس شعرمیں دیکھئے:
ایک حسینہ ہے ، تشدّد جسے کہتے ہیں عزیزؔ
گرم رکھتی ہے بہت اہلِ وطن کا پہلو
جہاںطاقتور کی برتری وبالادستی کی اساس محض کسی دوسرے کی کمزوری اورخستہ حالی پر استوار ہوتی ہو،اخلاقی اقدار کے زوال کے ایسے ایک نمونے کا 
عکس اس شعرمیںملاحظہ ہو:
’’قوم زندہ ہے‘‘ یہ کہتے نہیں تھکتے تم لوگ
کیوں یہ تصویر بنی پھرتی ہے مجبوری کی!
 اسی زوال پذیر معاشرے کی پیداوار ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ذمہ دارانہ مناصب پر فائز رہتے ہوئے بھی ریاکاری اورمنافقت کا پیکر بن جاتے ہیں:
متولیوں کو کس کی نظر لگ گئی عزیزؔ
اب تک تومسجدوں کے حسابات ٹھیک تھے
اشتراکیت کی یلغار نے دنیاکے سیاسی استحکام اورمعاشی نظام کو تہہ وبالاکر کے رکھ دیا ہے۔آج یہی اشتراکیت پارہ پارہ ہے۔اس کے برعکس المیہ یہ ہے کہ خالص روحانی نظام بھی ملک ،معاشرے اورافرادکی ترقی کاضامن نہیں بن سکا ہے۔ایک اِلٰہی نظام کویکسر نظرانداز کرکے شخصیت کی نشونماہوسکتی ہے نہ معاشرے کی۔انسان کے متنوع مسائل کا واحدحل صرف اسلامی نظام میں ہے جو…مادہ اور روح…دونوں کے امتزاج میںتوازن واعتدال کو ترجیح دیتاہے۔ اور نمونہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے۔ اس خیال کے اظہار کے لئے درج ذیل شعر غیرمعمولی بصیرت اوردروں بینی کا ذریعہ بن گیا ہے:  
اپنے خاموش سمندر میں بھنور پیدا کر
سیپیاں خالی نہ رہ جائیں گُہر پیدا کر
کائنات کے ذرّے ذرّے میں چونکہ عشق سرایت کئے ہوئے ہے چنانچہ انسانی نفوس کی اکملیت کا انحصار اِسی فطری عشق میں مضمر ہے،یہ عشق روحانی کی صورت میں متجلی رہتاہے۔لیکن درمیان میں جب ہوس کی منزل آجاتی ہے ، جو حسن کا ایک تجسیمی تصور ہے تو یہی مقام ہوتا ہے جہاں عاشق کی نظر صرف قدوگیسو اورلب ورخسار تک محدود ہوکررہ جاتی ہے۔ پھر یہی ہوس جل کرعشقِ روحانی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور اس کاپہلا زینہ ہوتا ہے:
تلاش کُو چۂ جاناں کی چھوڑ دی میں نے
دماغ و دِل میں چمکنے لگی ہے حق کی کِرن
ذہن تھا سوچ میں جذبات ہوں پیدا کیسے
دفعتاً آئی صدا ، دِل میں اُتر ، پیدا کر
ابھی چشمِ کرم کی آرزو ہے سیر چشموں کو
ہو ممکن تو ہوس کے داغ دھولو ، کیا تماشہ ہے
 تمام اشعار میں مذہبی عقیدے کی سختی ہے، نہ بوجھل صوفیانہ مصطلحات کی فراوانی۔یہ اشعارایک اسلامی مبلغ کی سادگی ،انسان دوستی اور حقیقت سناشی کے پرتوہیں۔غزلوںمیںبدیع وبیان کاتصنع ہے، نہ ملمع کاری۔نمودونمائش اورالفاظ وتراکیب کے طمطراق سے دوردرورکاواسطہ نہیں۔ایک قلب بے ریا کی طرح یہ اشعار بھی سادہ وسلیس الفاظ مگرلطیف احساسات سے مملوہیں۔تلمیحات کااستعمال کم سے کم ہے۔مفرس معرب الفاظ کے استعمال سے حتی الامکان گریزکیاگیاہے۔ مشکل اورپیچیدہ تراکیب کی ترکیب سازی سے شاعر کی قوت ایجاد اورذہنی اختراع کاپتہ چلتاہے۔مگران کے استعمال کی 
کثرت سے شعر کی لطافت مجروح ہوتی ہے۔اس حقیقت سے عزیز صاحب خوب واقف ہیں۔ ترکیب سازی کلام عزیزؔمیں ایک وسیلہ ہے ترسیل وابلاغ کا،کلام میں گل بوٹے بنانے کا نہیں ۔اسی لئے کلام میں سہل ممتنع کے اشعار بیش ازبیش ہیں اوریہ شاعر کی فنکارانہ ہنرمندیوں پردال ہیں۔اسی طرح تشبیہات واستعارات سے بھی کلام کونہیں سجایاگیاہے۔زیادہ سے زیادہ صنعت تضاد سے کام لیاگیاہے۔تمام اشعارمیں آرائش اظہار کے لئے کوئی شعوری کوشش نظرنہیں آتی۔
ان تمام غزلوںکے مطالعہ کے بعد یہ بات پورے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ شاعری خشک ہے نہ محض قافیہ پیمائی۔اس کی وجہ صاف ہے ۔عزیزپروجد اورسرخوشی کاعالم طاری ہوتارہتا ہے ۔پایان کارکسی اسلامی شاعرکاکلام سپاٹ اور بے رنگ نہیں ہوسکتا۔ان غزلوںمیں جمالیاتی احساس کی شدت کے ساتھ عصری حسیت بھی بدرجہ اتم موجودہے۔یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ غزلیہ شاعری ہے یالطافت احساس، غنائیت اورموسیقیت کاایک سیل رواں۔!!شعری اظہارمیں غیرمعمولی سرمستی اوروالہانہ پن ہے۔بعض غزلوںمیں قافیے کی تکرار اوراس کے پھیلاؤ نے غزل کے حسن کودوبالاکردیاہے۔مجموعی طور پرکلام کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ اپنے احساسات ومشاہدات وتجربات کی ادائیگی میںعزیزؔتغزل کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔بعض اشعار ملاحظہ ہو ں جہاں جذبہ وفکر کی آمیزش کوتغزل کے رنگ وآہنگ نے چمکادیاہے۔یہ اشعار نہایت مترنم بحرمیں ہیں:
زمیں بنجر ہے پھر بھی بیج بولو ، کیا تماشہ ہے
ترازو پر خرد کی دِل کو تولو ، کیا تماشہ ہے 
ابھی تک گیسوئوں کے پیچ و خم کی بات ہوتی ہے
بھگولو ، اب تو پلکوں کو بھگولو ، کیاتماشہ ہے
ہم نے ہر شرط دُعائوں کی کہاں پوری کی!
پھر بھی اُمید دُعائوں کی ہے منظوری کی
معاملے میں تُو کردار کے نکھر تو سہی
تُو کارزار کے میدان میں اُتر تو سہی




لپٹ کے چومے گی تجھ سے،ترے قدم جنّت
اے نوجوان! کبھی راہِ حق میں مر تو سہی
فکر کی آنکھ سے اوجھل تھا سُخن کا پہلو
بس اِسی واسطے تشنہ رہا فن کا پہلو
نظروں سے ہے اوجھل تو، تعجب ہے تجھے کیوں
اِنصاف کا خوگر ہے تو محشر کو پرکھ مت
میں تو بس، دولتِ اخلاص کا شیدائی ہوں
اس لئے پیشِ نظر ہی نہیں دھن کا پہلو
غزلوں کے مطالعہ سے عزیزؔکی شاعرانہ مہارت وعظمت میں کسی کمی کا احساس پیدانہیں ہوتا۔مگر سچی بات یہ ہے کہ شاعر کے محسوسات،مشاہدات وتجربات کی اصل جولاںگاہ غزل ہے۔ یہ غزلیں چاہے عشقیہ ہوں یاصوفیانہ یا چاہے ان کاسروکارعصری حسیت سے ہو،ان کی سادگی میں گل پیرہنی، حزنیہ لہجے 
میں سر خوشی ،نشاطیہ آہنگ میں رومانی غم انگیزی اورلفظوںکے پیچ وخم میں طنزیہ کاٹ کی آمیزش موجود ہے۔عزیزؔکے صاف وشفاف اور بے داغ کتاب  ’’ دل کے دامن پر ‘‘کی طرح کلام میں بھی ابہام ہے نہ پیچیدگی نہ ژولیدہ خیالی۔
یہ اشعارملاحظہ کیجئے اورانصاف کے ساتھ کہئے کہ عزیز کی شاعری آپ کے ’’دل کے دامن پر‘‘کیا کھلبلی مچائی ہے:
کون کہتا ہے کہ مُردوں کو کفن دیتی ہے
اِن کی تہذیب مجھے ننگے بدن دیتی ہے
آزمائش کے لیے شرط  ہے عالی ظرفی
زندگی سب کو کہاں دارو رسن دیتی ہے
ایسانہیں کہ آپ کے جذبات ٹھیک تھے
سب کچھ تھا ٹھیک ،جب مرے حالات ٹھیک تھے
زمانے سے چھپا رکھا ہے ہم نے سارے زخموں کو
ستم کے داغِ داماں تم بھی دھولو ، کیا تماشہ ہے
کچھ نظر آتا نہیں ، کچھ بھی نظر آتا نہیں
ان کے چہروں پر اُبھر آئے ہیں بینائی کے داغ
اگرکوئی شخص یہ سوچتاہے کہ عزیزبلگامی ہندوستان کے ہزاروں شعرا میں سے ایک اورشاعر کی اضافت ہے تو میرے خیال میں وہ سخت اندھیرے میں ہے۔دراصل عزیزبلگامی ایک تحریک کا نام ہے، جس کامقصدادب میں اسلامی اقداروروایات کی امانتداری وپاسداری ہے۔ جس میںوہ یقینااطمینان بخش حدتک کامیاب ہے۔عزیزبلگامی اپنے شاعرانہ جنون میں حرف کولفظ،لفظ کومعنی،معنی کوکہانی بنانے کاہنر خوب جانتے ہیں۔ان کے ہی شعرمیں کچھ  تصرف کے ساتھ قلم روکتاہوں:
تم نے بخشاہے تغزل کو تقدس کا جمال
ہر غزل تیری، ضمیروں کو چبھن دیتی ہے

٭٭٭

علامہ اخترؔکچھوچھوی بحیثیت شاعر

علامہ اخترؔکچھوچھوی بحیثیت شاعر

علامہ اخترؔکچھوچھوی بحیثیت شاعر

مولاناڈاکٹرغلام ربانی فداؔ
مدیرجہان نعت ہیرور

عہد حاضر میں دیگر علوم کے ساتھ ساتھ تنقید نعتیہ ادب میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔تنقیدات نعت کےلئے کئی رسائل وکتابی سلسلے نمایاں خدمت انجام دے رہے ہیں۔ان میں نعت رنگ،ماہنامہ نعت، مدحت،اور ہندوستان کا واحدحمدونعت کاادبی رسالہ جہان نعت یہ وہ رسالہ ہیں جونعت کے عمرانیاتی،لسانی پہلوؤں کواجاگرکیا۔
حضورشیخ الاسلام والمسلمین رئیس المفسرین سندالمحققین،سیدالمتکلمین غوثِ زماں علامہ سیدمحمدمدنی میاں اختر ؔ کچھوچھوی کی شخصیت میں بڑی دلکشی، وسعت اور مقناطیسی قوت پائی جاتی ہے۔ آپ مذہبی اور ادبی دونوں دنیا میں عزت و احترام اور اعتبار کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ ختر ؔ کچھوچھوی مذہب اور ادب دونوں کی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف کی زرخیز زمین پر اعلیٰ منصب پرفائزہو کردیگرصوفیانِ کرام کی طرح شعری و نثری تخلیقات سے ہمارے ذخیرۂ ادب ومذہب میں اضافہ کر رہے ہیں۔حضرت اخترؔ کچھوچھوی کی شخصیت کے کئے گوشے ہیں ،جیسے مفسرقرآن، محدث، مفتی،سنجیدہ مقرر،کامیاب مدرس،قابل فخرمرید،لائق مرشد،باصلاحیت منتظم، باکمال صوفی ،اور ایک خوبصورت شاعراس کے علاوہ اوربھی جنہیں میری بصارت نہیں دیکھ سکتی اور قوت احساس اتنی پختہ بھی نہیں کہ اسے محسو س کرسکے۔یہ سوتے ہیں جہاں پیاسے لوگ آکرسیراب ہوتے ہیں۔ان تمام لبادوں میں ملبوس ہونے کے باوجود اُن کا مذہبی و لسانی واخلاقی قدروں سے رشتہ کسی طرح کمزور نہیں ہوا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے۔میں حضرت اختر کے شاعری کے حوالے سے چندلکیریں 
کھینچتے ہوئے فخرمحسوس کرتاہوں۔
اختر ؔ کچھوچھوی کی شاعری کی کئی پرتیں ہیں۔ ان کی شاعری کے کئی دھنک رنگ ہیں اور اُن کے طرز اظہار میں کئی تیور ہیں جو معاصرشعرا سے مختلف ہی نہیں منفرد ہیں۔ اُن کی شاعری کے تمام رنگوں سے اخذ کر کے صرف تین اہم اور خاص  خوبصور ترنگ میں آپ کو دکھا رہا ہوں جو ان کی تمام صفحاتِ شاعری پر بکھرے ہوئے ہیں۔
پہلا رنگ : علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  بنیادی طور پر نعت کے شاعر ہیں۔اخترؔکچھوچھوی کی  جوجذبہ نعت میں صداقت، آہنگ اور تاثیر کی قوت پیدا کرتا ہے، وہ ہے عشقِ رسول جس سے جناب علامہ اخترکا سینہ منور ہے۔ عشق رسول کے نشہ نے اُن کی شاعری کوگلستانِ عقیدت سے مالا مال کر دیا ہے۔ ان کے والہانہ عشق رسول کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کے ان کی زندگی کاایک بھی لمحہ طریقۂ رسول ﷺ سے جدانہیں ملتا ہے۔ اُن کے مجموعہائےکلام میں  باران رحمت(نعتیہ)پارۂ دل(غزل ونظم)ہیں  جو کئی بار طبع ہوکرصاحبانِ ذوق اوراربابِ نقدونظر سے خراج تحسین حاصل کرچکی ہیں  بلکہ علامہ اخترکے جذبات عشق، وارفتگیِ شوق، فکری بصیرت اور فنی مہارت کا اثبات بھی کرا چکی ہیں۔
باران رحمت کو ایک خوب صورت گلدستہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ جن میں مختلف اصناف کے گل بوٹےہیں، نعتیہ غزلیں، نعتیہ قطعات، نعتیہ نظمیں، منقبتیں وغیرہ۔تعجب کی بات یہ  ہے کہ اتنی زبردست وحدت معنوی و ذوقی کے باوجود، طبیعت میں کہیں تکدّر پیدا نہیں ہوتا اور نہ لطافت میں ذراسی کمی آتی ہے۔ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ حضرت علامہ اخترکا خصوصی موضوع نعت ہے۔ اور یہ حضرت علامہ اخترکا کمال نہیں بلکہ نعت رسول کا معجزہ ہے۔
نعت موضوعی صنف سخن ہے جس کے عنوان شہنشاہ کو نین صل اﷲ علیہ و سلم ہیں۔ یہی اس کی اصل شناخت ہے۔ اسی لئے نعت کے لئے کوئی خاص فارم متعین نہیں۔ مسدس، مثنوی، غزل، رباعی،  جس شکل میں چاہے نیاز مند اپنے دل کا نذرانہ بارگاہ مصطفےٰ میں پیش کر سکتا ہے شرط یہ ہے کہ اس کی اصل پہچان قائم رہے۔ یوں توعلامہ اخترکی ساری شاعری کی اس معاشرتی منشور کی ترسیل و تفہیم کا ذریعہ ہے جو ہادئ برحق، محسنِ انسانیت حضرت محمد خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بنی نوع انسان کے لئے لے کر آئے تھے، لیکن علامہ اخترنے حضرت رسالت مآب سے اپنی محبت اور عقیدت کے واضح اظہار کے لئے اپنی عمرِ مختصر میںبے شمارعقییدتوں سے مالامال نعتیں بھی کہیں ۔ یہ نعتیں علامہ اختر کے نظریۂ حیات کی ترجمان ہیں ۔ ان کی والہانہ وابستگی ہر اس شخصیت سے تھی، جو بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کا علم بردار ہو۔ ایسا وسیع القلب فنکار دنیا کی اس عظیم ترین ہستی، اس محسنِ اعظم کے محبت کیونکر نہ کرتا ہو جو کسی خاص گروہ، قوم، یا ملک کے لئے نہیں بلکہ پوری کائنات کے لئے باعثِ راحت و رحمت بن کر آئی ۔
وَ مَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَۃَ لِّلعٰلَمِینَ
(اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے : القرآن)
علامہ اختراپنی امیدوں کا دامن اسی رحمۃللعالمین سے وابستہ کرتے ہیں ، جو سب جہانوں کے لئے وجہِ تسکین و راحت ہے۔ اور جس کے در سے تشنہ لبوں کے لئے فیضِ عام کے چشمے جاری ہیں۔علامہ اختر کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ اسلامی تعلیمات سے بیگانہ ہو کر مسائل کو جتنا سلجھانے کی کوشش کی جائے وہ مزید الجھ جاتے ہیں ۔
دنیا ترے گلشن  میںان کے قدم آتے ہیں
رشک چمن و گل جو خاروں کو بناتے ہیں
جب حسن حقیقی کے جلوے نظرآتے ہیں
پھر نقش خیالی کے نقشے کہیں بھاتے ہیں 
دنیا کی غیر مسلم ترقی یافتہ قوموں نے اسلامی اصولوں دیانت داری، سچائی، ایفائے عہد اور رواداری کو اپنا کر ہی منزلِ مقصود پائی ہے۔ لیکن اگر کسی خطے کے باشندے مسلمان ہونے کے باوجود اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا نہیں ہو سکے تو سوائے ذلت کے انہیں کچھ حاصل نہ ہوا۔ لہٰذا علامہ اخترمسائل 
کے حل کے لئے حضور کی ذاتِ گرامی کی طرف رجوع کا درس دیتے ہیں :
آنسؤں کو مرے دامن کا کنارہ دے دو
اس مضمر مری پردرد کہانی ہے حضور
آپ سے شرح تمنا کی ضرورت کیا ہے؟
سامنے آہ کے ہر سرِّ نہانی ہے حضور
اس شعر کے بارے میں علی مطہر اشعر کہتے ہیں : ’’یہ اس عظیم شاعر کا نعتیہ شعر ہے جس کی تمام زندگی نو بہ نو مسائل کا شکار رہی ہے۔ اور وہ ان مسائل کے سد باب کے لئے طویل عرصے تک کوشاں رہا ہے۔ پہلے مصرعے کی ساخت اس امر کی غماز ہے کہ اس نے مشکلات اور درپیش مصائب کے حل کے لئے دنیائے بے ثبات کے دانش وروں کے استفادہ کیا، مگر بالآخر اس پر یہ راز منکشف ہوا کہ ان کے مشورے اور زندگی گزارنے کے تمام فارمولے نہ صرف غلط ہیں بلکہ اغراض و مفادات پر مبنی ہیں ۔ زندگی کے کسی بھی شعبے میں اگر رہنمائی درکار ہے تو انسان کو حضور سرورِ کائنات کی سیرتِ طیبہ سے کسبِ فیض کرنا چاہئے۔ یہ سیرتِ طیبہ سے کنارہ کشی کا ہی نتیجو ہے کہ آج ہماری قوم ذلت و رسوائی کے گہرے کنوئیں میں گر چکی ہے۔‘‘علامہ اختر علم و حکمت کے گہر ہائے گراں مایہ کے حصول کے لئے بھی درِ رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ 
سلام سے پہلے پوری دینا جہالت اور گمرہی کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ خاص طور پر عربوں کے سیاسی و سماجی حالات ایسے تھے کہ کسی بھی شخص کو جانی، مالی یا معاشی تحفظ حاصل نہ تھا۔ کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی۔ نہ ہی کوئی قانون تھا۔ جو جب چاہتا دوسرے کی املاک پر قبضہ کر لیتا۔ طاقت ور کا راج تھا اور کمزور کی زندگی اجیرن تھی۔ سرداروں کا انتخاب دولت کے بل بوتے پر ہوتا تھا۔ عوامی حقوق کی کوئی وضاحت نہ تھی، جس کی وجہ سے آئے دن خون کی ندیاں بہتی تھیں ۔ بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا۔ غلاموں کے ساتھ ظلم روا رکھا جاتا۔ غرضیکہ پورا سماجی نظام بغیر کسی قاعدہ کے چل رہا تھا۔ جہالت اور گمراہی کی دبیز چادر اوڑھے سوئی ہوئی انسانیت کے لئے خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے حضور کی ذاتِ گرامی کا ظہور اس روشنی کی طرح تھا جس کے دم سے یک دم تمام خوابیدہ مناظر جگمگا اٹھے:
سنتے ہیں کہ وہ جان چمن آئے ہوئے ہیں
پھر غنچے بتا کس لئے کملائے ہوئے ہیں
روشن نظر آتے ہیں درو بام تمنا
تھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں
پرواہ نہیں اپنا بنائیں نہ بنائیں
ہم تو انھیں اپنائے تھے اپنائے ہوئے ہیں
حضور کا فرمان ہے: مَنصَلَّی عَلَیَّ مَرَّۃ فَتَحَ اللّٰہُ لَہ بَابًاِمّنَ العَافِیۃ (جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے، اللہ تعالیٰ اس پر عافیت کا ایک دروازہ کھول دیتا ہے)۔ علامہ اختر کی عقیدت بھری آواز مذکورہ بالا شعر کے علاوہ ذیل کے شعر میں بھی بابِ عافیت پر دستک دے رہی ہے:
السلام اے رحمت العالمیں
السلام اے مظہر دین مبیں
السلام اے رونق کون ومکاں
السلام اے راز حق کے راز داں
السلام اے صاحب کوثر سلام
السلام اے حق کے پیغمبر سلام
علامہ اختر حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے معتقد اور مداح تھے۔ اسلامی کی تاریخی شخصیات میں سے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا آئیڈیل منتخب کرنا، علامہ اختر کی قلندرانہ اور ترقی پسندانہ سوچ کی غمازی کرتا ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جہاں تقسیم دولت کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف جد و جہد کے لئے اپنی عمر کا لمحہ لمحہ وقف کر رکھا تھا، وہاں ان کی ذاتی زندگی فقر و غنا سے عبارت تھی۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ حضور کے خاص صحابی اور سچے محب تھے، اور حضور کی حدیث ہے: ’’مجھ سے محبت 
کرنے والوں کی طرف فقر ایسے دوڑتا ہے، جیسے پانی نچان کی طرف دوڑتا ہے۔‘‘[4] 
اپنے حقوق کے شعور اور ان کے حصول کے لئے جد و جہد کے ساتھ قناعت اور تقویٰ کے زریں اصول اور دیگر آدابِ زندگی انسانیت نے حضور کی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ سے حاصل کئے ہیں ۔ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی زندگی حضور کے ان اصولوں اور تعلیمات کا عملی نمونہ تھی۔ حقوق کے لئے جد و جہد اور اس کے ساتھ ساتھ فقر و غنا علامہ اختر کی شخصیت کی بھی نمائندہ خصوصیات تھیں ۔ جو انہوں نے حضور کی سیرتِ طیبہ سے بالواسطہ اور بلاواسطہ حاصل کی تھیں ۔ الغرض  علامہ اختر کا فکری نظام مصطفوی منشور سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ ان کی فکر کسی بھی پہلو سے دیکھیں ، اسلام سے متصادم نظر نہیں آئے گی۔ طبقاتی معاشرے کی ستم ظریفیوں کے شکار اس بلند کردار اور سچے مسلمان فنکار کی یہ عظمت ہے کہ وہ اپنی متاعِ فکر کو منبعِ فکر و عرفاں حضرتِ محمد کا فیض سمجھتا ہے اور اس کا عقیدت مندانہ اور قطعی اعتراف بھی کرتا ہے:
اللہ اللہ رفعت اشک غم ہجر نبی
جونہی ٹپکا آنکھ سے تسبیح کا دانہ بنا
آج بھی سورج پلٹ سکتا ہے تیرے واسطے
اپنے دل کو الفت احمد کا کاشانہ بنا
چاند کی رفعت  کو چھو لینا کہاں کی عقل ہے
عقل یہ ہے چاند کو خود اپنا دیوانہ بنا
جانے کتنی ٹھوکریں کھاتا ہوا آیاہوں میں
مجھ کو محروم تمنا میرے مولیٰ نہ بنا
دھو کے اپنے نطق  کو مدح نبی کے آب سے
اپنی ہر ہر بات اے اخترؔ حکیمانہ بنا
یہ شاعری نہیں بلکہ حقیقت حال کا بیان ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ جان جہاں صل اﷲ علیہ و سلم کی ملکیت میں ہے اور قیامت کے دن اُن کی شفاعت ہی ہماری نجات کا سبب بنے گی کہ یہ جان جہاں عین حق ہیں، سارے نبیوں سے اعلیٰ، افضل اور ایک بے مثال شخص جن پر اپنے تو اپنے دشمنوں کو بھی اعتماد ہے۔ ایسے سرکار دو جہاں کی تعریف کرنا نعت کی شناخت کا جزو اعظم ہے۔
  اس دیار قدس میں لازم ہے اے دل احتیاط
بے ادب ہیں کر نہیں پاتے جو غافل احتیاط
جی میں آتا ہے لپٹ جاؤں مزار پاک سے
کیا کروں ہے میرے ارمانوں کی قاتل احتیاط
اضطران عشق کا اظہارر ہو بے حرف و صوت
اے غم دل احتیاط اے وحشت دل احتیاط
عشق کی خود ورفگی بھی حسن سے کچھ کم نہیں
ہے مگر اس حسن کے رخسار کا تل احتیاط
ان کے دامن تک پہونچ جائیں نہ چھینٹیں خون  کے
ہے تڑپنے میں بھی  لازم مرغ بسمل احتیاط
آ بتاؤں تجھ کو میں ارشاد او ادنیٰ کا راز
ان کے ذکر قرب میں لازم ہے کا مل احتیاط
صرف سدرہ تک رفاقت اور پھر عذر لطیف
عقل والو ہے ادائے عقل کامل احتیاط
بس اسی کو ہے ثنائے مصطفی لکھنے کا حق
جس قلم کی روشنائی میں ہو شامل احتیاط
نام پر توحید کے انکارتعظیم رسول
کیا غضب ہے کفر کو کہتے ہیں جاہل احتیاط
اس ادب نا آشنا ماحول میں اخترؔ کہیں
رہ نہ جائے ہو کے مثل حرف باطل احتیاط
یہ وہ محبوب نورانی ہے جو کائنات کی زندگی ہے، یہی اصل ایمان ہے اور یہی روحِ قرآن ہے۔ مراد یہ ہے کہ نعت گوئی میں محض عقیدت سے کام نہیں چلے گا۔ یہاں عقیدہ چاہئے وہ بھی جتنا شدید تر ہوتا جائے 
گا نعت کی قدر بڑھتی جائے گی علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے یہاں محض عقیدت نہیں وہ ’’عقیدہ‘‘ بھی ہے جو ایمان کی دولت بخشتا ہے۔ ایسا ایمان جس کی روح محبت رسول ہے۔ سچے ناعتِ رسول کا دل کوچۂ محبوب صل اﷲ علیہ و سلم کا طواف کرتا ہے، زبان ذکر محبوب سے ہر لمحہ تر رہتی ہے اور آنکھ ہجر محبوب میں اشکوں سے وضو کرتی ہے۔علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی ایسے ہی عاشق رسول ہیں۔
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی حیات کا ہر ورق ہمارے سامنے ہے ہم نے ان کی صبح دیکھی ہے اور شام بھی۔ ہم نے ان کی خلوت دیکھی ہے اور جلوت بھی۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں ذاکر رسول صل اﷲ علیہ و سلم ہی نظر آئے ہیں۔ یاد محبوب میں اُن کی محویت قابل دید اور لائق تقلید ہے۔ ہجر رسول میں ہر وقت بے قرار رہتے ہیں۔ اُن کے جذبات عشق میں بڑی متانت اور سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ ‘‘ 
عشقِ رسول میں ڈوبے چند اشعار ملاحظہ کیجئے اور دیکھیئے کہ سچا عشق جذبات خیالات اور الفاظ میں کیسی صداقت، شدت اور تاثیر بخش دیتا ہے۔
بجھ گئی عشق کی آگ اندھیر ہے وہ حرارت گئی وہ شرارہ گیا
دعوت حسن کردار بے سود ہے تھا جو حسن عمل کا سہارا گیا
جس میں پاس شریعت نہ خوف خدا وہ رہا کیا رہا وہ گیا کیا گیا
ایک تصویر تھی جو مٹادی گئی یہ غلط ہے مسلمان مارا گیا
مر کے طیبہ میں اخترؔ یہ ظاہر ہوا کچھ نہیں فرش سے عرش کا فاصلہ
گود میں لے لیا رفعت عرش نے قبر میں جس گھڑی میں اتار گیا
بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں 
میرے حضور میری چشم تر میں رہتے ہیں 
یہ واقعہ ہے لباس بشر بھی دھوکا ہے
یہ معجزہ ہے لباس بشر میں رہتے ہیں
خداکے نور کو اپنی طرح سمجھتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں کس کے اثرمیں رہتے ہیں

 علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی نعتیہ فکر ستھرا اسلوب بیان رکھتی ہے۔ اُن کے ذخیرۂ علم میں دین اور ادب، اردو اور فارسی و عربی دونوں کی رونقیں یکجا ہیں اس لئے اُن کے اسلوب و اظہار میں دونوں کے انعکاسات ملتے ہیں۔ وہ جہاں عربی و فارسی کے الفاظ اور ترکیبیں استعمال کرتے ہیں وہیں اودھ اور دہلی کی شستگی سے بھی اُن کا لسانی انسلاک نظر آتا ہے۔ ثقیل اور بھاری بھرکم الفاظ کے ساتھ عام فہم، رواں اور بول چال کے آسان الفاظ بھی اُن سے مانوس نظر آتے ہیں۔ اُن کے اظہار و اسلوب میں جہاں تنوع اور رنگارنگی ہے وہین فنی اظہار میں شفافیت اور جذبے کی تپش بھی ہے۔ انہوں نے اپنی نعتوں کا خمیر عشق رسول صل اﷲ علیہ و سلم کی آنچ میں تیار کیا ہے۔ اس لئے اُن کا ہر شعر عشق رسول کے تاروں سے لپٹا نظر آتا ہے۔ اُن کے یہاں محض الفاظ کی بازی گری نہیں بلکہ جذبۂ عقیدت کا پر خلوص اظہار ہوتا ہے۔ ذیل کے اشعار پڑھئے اور علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی نعت گوئی کے محاسن پر سر دھنئے ؂
حسن خورشید نہ مہتاب کا جلوہ دیکھو
آؤ احمد کے کفِ پا کا تماشہ دیکھو
دیکھنے والو دیارِ شہِ بطحا دیکھو
فرش کی گود میں ہے عرش معلی دیکھو
ٔٔ٭٭٭
سوچتاہوں کیا کہوں میں، کیا نظر آنے لگا
وہ ریاض برزخ کبریٰ نظر آنے لگا
آنکھ جب تک بند تھی اک آدمی سمجھا تجھے
اور جب وا ہو گئی کیا کیا نظر آنے لگا
ان کی یادوں میں جو ٹپکا اشک اخترؔ آنکھ سے
منزلت میں عرش کا تارہ نظر آنے لگا
٭٭٭٭
اے حسین بن علی تیری شہادت کو سلام
دین حق اب نہ کسی دور میں تنہا ہوگا
رب نے چاہا تو قیامت میں سبھی دیکھیں گے
ان کے قدموں میں پڑا اخترؔ خستہ ہوگا
وہ  مری  جان بھی جان کی جان بھی میرا ایمان بھی روح ایمان بھی
مہبط آیات قرآن بھی اور قرآن بھی روح قرآن بھی
نوروبشریٰ کا یہ امتزاج حسیں جیسے انگشتری میں چمکتا نگیں
عالم نور میں نور رحمٰن بھی عالم انس میں پیک انسان بھی
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی نعتیہ شاعری جہاں عشق رسول کی روح سے مملو ہے وہیں قرآن و حدیث سے ماخوذ مضامین، معجزات نبوی، تاریخی واقعات اور اصلاحی و تبلیغی خیالات بھی اسے تنوع اور رنگارنگی کی کیفیت عطا کرتے ہیں۔ اس پر مستزادیہ کہ فنی طور پر اُن کی نعتیہ شاعری ایسی بے شمار خوبیوں کی حامل ہے جن کی تلاش ایک کہنہ مشق اور بڑے شاعر سے کی جا سکتی ہے۔ تشبیہ، استعارہ تمثیل اور پیکر تراشی کی مثالیں تو بڑی آسانی سے مل سکتی ہیں، اُن کی شاعری میں وہ تکنیکیں بھی ملتی ہیں جو شعری مہارت کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ چھوٹی بحروں کی کاٹ، طویل بحروں کا ترنم، مشکل ردیفوں کا استعمال،  نادر مگر خوش رنگ ترکیبیں گڑھنا اور محاوروں سے برجستگی اور روانی پیدا کرنا وغیرہ، ایسے حربے ہیں جن سے اشعار میں ادب کا بانکپن اور فکر و فن کی بہار اپنے جلوے بکھیرتی ہے اس قسم کے بیشتر اشعار قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں کیونکہ نعتیہ شاعری میں یہ نیا لب و لہجہ اُنہیں متحیر کرتا ہے اور علامہ اخترکو معاصر نعتیہ ادب کے سب سے منفرد ممتاز اور نمایاں شاعر کی حیثیت سے متعارف کراتا ہے۔
دوسرا رنگ : علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی بنیادی طور پر نعت کے شاعر ہیں مگر اُنہوں نے غزلوں نظموں اور رباعیات وغیرہ میں بھی اپنے پاکیزہ اور اعلیٰ افکار کی روشنی بکھیری ہے۔ اُن کی غزلوں میں ایک خاص رکھ رکھاؤ کی کیفیت موجود ہے۔بقول ڈاکٹرامین اشرف :یہ سوال اہم نہیں ہے کہ حضرت اخترؔ نے شاعری کی شروعات غزل سے کی ہے ،نظم سے یانعت سے’’باران رحمت‘‘(نعتیہ شاعری)اور پارۂ دل (غزلیہ شاعری)کامطالعہ کیاجائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اول الذکرکلام میں رچاؤ،پختگی اورالفاظ ومحاورات پرحاکمانہ قدرت زیادہ بھرپور ہے  اوراس کے مقابلہ میں فنی ہنرمندی سے بھرپور غزلوں کے علاوہ ایسی غزلیں بھی ہیںجن کا مطالعہ اس امر کاغماز ہے کہ یہی ابتدائی نقوش ہیں۔:
 انہوں نے اُن سوقیانہ جذبات، مریضانہ موضوعات اور غیر مہذب افکار سے غزل کو یکسر پاک رکھا ہے جو غزل کے لئے معیوب اور باعثِ عار ہیں۔ اُن کی غزلوں میں پاکیزگی بھی ہے اور فکر کی گہرائی بھی اورذوق ونظر کی طہارت بھی۔ اُن کی غزلیں پڑھتے ہوئے جہاں ذوق جمال کی تسکین ہوتی ہے وہاں فکر کی نئی پہنائیوں سے آشنائی بھی۔ یہ خصوصیت نہ صرف انہیں دوسرے ہم عصر شعر اسے ممتاز کرتی ہے بلکہ ۱۹۸۰ کے بعد آسمانِ ادب پر روشن ہونے والے شعرا میں ایک اہم مقام بھی عطا کرتی ہے۔
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی غزل میں ان کی سنجیدہ روی اور مزاج کی روحانی تاب قاری کو فی الفور اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ تقریباً تین دہائیوں پر پھیلا ہوا ان کا کلام انہیں اِس عہد کا ایک معتبر ذہین اور اچھا شاعرثابت کرتا ہے۔ اب وہ شاعری کی اُس منزل پر پہنچ چکے ہیں جہاں شاعری خود شاعر کی ذات میں گم ہو جاتی ہے اور شاعر کی ذات مکمل شاعری ہو جاتی ہے۔ تبھی تو ایسے اشعار وجود میں آتے ہیں :
عشق کی اصطلاح میں ہمدم
موت کہتے ہیں مسکرنے کو
پھر اس میں آیا کہاں سے کمال رعنائی
اگر یہ کہکشاں ان کی راہ گزار نہیں
عظمت انسانیت سمجھے کوئی ممکن نہیں
خاک کا ذرہ سہی لیکن فلک آغوش ہے
علامہ اختر جذبات کی پیکر تراشی کرنے والے شاعر ہیں ۔ ان کے اسلوب میں روایتی شاعری کی مٹھاس اور لہجے میں تر و تازگی اور فکر و خیال کی بے شمار نیرنگیاں موجود ہیں ۔ چاہے وہ حمد ہو ، نعت ہو ، غزل ہو یا نظم۔ 
علامہ اخترؔ نے ہر صنف میں ندرت بیاں کے جوہر دکھائے ہیں ۔ بنیادی طور پر وہ نعت کےشاعر ہیں ۔ معزز علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہونے کی بنا پر فن شعر و ادب انھیں وراثت میں مل گیا لیکن ان کا طبعی میلان خود آفریدہ ہے۔ کسی شاعر کے گھر جنم لینے والا بچہ خود بھی شاعر ہو قطعی ضروری نہیں ۔ یہ تو بس خدا کی شان کریمی ہے کہ جسے چاہتا ہے اور جو چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔ علامہ اختر نے جو شاعری کی ہے وہ وِجدان کے بل بوتے پر کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں اثر آفرینی موجود ہے۔ انداز بیاں یکسر سادہ و سلیس ہے۔ مگر فکر کی اڑان اپنی آغوش میں آفاقیت کو سمیٹے ہوئے ہے۔ انھوں نے خوب سے خوب تر کی تلاش کی ہے۔ **
علامہ اختر کے اشعار کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر علامہ اختر کی شاعری میں فنی رچاؤ کے بالمقابل جذباتیت کا عنصر بدرجۂ اتم موجود ہے۔ لفظیات کے برتاؤ میں بھی وہ طاق نہیں ۔ ان کی شاعری شعوری و ارادی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک طرح کا بے ساختہ پن لیے ہوئے ہے جس میں احساسات کی اتھاہ گہرائیاں نظر آتی ہیں ۔ موضوعاتی نظموں میں بھی انھوں نے تغزل کی چاشنی برقرار رکھی ہے۔ بہت سلیقے اور خوبصورتی کے ساتھ دلنشیں انداز میں پابند اور نظمیں کہی ہیں ۔ یہ ان کی فنکاریت کی نظیر ہے۔ 
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی غزلیہ شاعری میں مجھے سب سے زیادہ وہ فضا پسند آئی جو اُن کی زندگی کے واقعات، ان کے ذاتی محسوسات اور ان کی شخصیت کے طبعی افتاد سے ابھرتی ہے۔ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، جذبے کی صداقت کے ساتھ لکھا ہے۔ ان کے احساسات کسی عالمِ بالا کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ ان کی اپنی زندگی کی سطح پر کھیلنے والی لہریں ہیں۔ انہیں نازک چنچل، بے تاب، دھڑکتی ہوئی لہروں کو انہوں نے شعر وں کی سطروں میں ڈھال دیا ہے، اور اس کوشش میں انہوں نے انسانی جذبے کے ایسے گریز پا پہلوؤں کو بھی اپنے شعر کے جادو سے اجاگر کر دیا ہے جو اس سے پہلے اس طرح ادا نہیں ہوئے تھے :
یہ بھی ہیں چہرۂ پرنور کے پروانے دو
دوش پر کاکل خمدار کو بل کھانے دو
کہہ رہی ہے  رخ پہ بکھری ہوئی زلف حسیں
ابر کے پیچھے کوئی برق تپاں روپوش ہے
بدمست گھٹاؤ یہ تو کہو اس وقت ہمیں کیا لازم ہے
جب ساغر عارض موج میں ہو جب زلف پریشاں ہوجائے
 ا ان کی شاعری سوچ، طرز احساس اور فنی برتاؤ ہر لحاظ سے اردو شاعری کے روایتی مزاج سے یکسر مختلف ہے۔ اور اپنے اندر انفرادی رنگ و روپ رکھتی ہے۔علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے اسلوب، لہجے اور موضوعات کی انفرادیت کا یہ عالم ہے کہ اُن کی شاعری سب سے الگ پہچانی جاتی ہے۔ نعتوں کے مجموعوں سے قطع نظرصرف ’’پارۂ دل‘‘ پڑھ جائیے، یہ حقیقت پہلی نظر میں سامنے آئے گی ۔
یہ بھی ہیں چہرۂ پرنور کے پروانے دو
دوش پر کاکل خمدار کو بل کھانے دو
کہہ رہی ہے  رخ پہ بکھری ہوئی زلف حسیں
ابر کے پیچھے کوئی برق تپاں روپوش ہے
بدمست گھٹاؤ یہ تو کہو اس وقت ہمیں کیا لازم ہے
جب ساغر عارض موج میں ہو جب زلف پریشاں ہوجائے
اپنی شاعری کو زندگی کی معنویت سے آشنا کرنے میں علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے براہ راست حسی تجربوں کا بڑا دخل رہا ہے۔ یہ حسی تجربے بھی محض سرسری نہیں ہیں بلکہ ماضی کے خوابوں کی صورت میں شاعر کے لاشعور کا جزو بن گئے ہیں کہ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی ان کے بغیر اپنے حال اور مستقبل کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔ زندگی کی بدلی ہوئی قدروں کے بارے میں ہر شاعر اظہار خیال کر تا ہے اور رنج و غم کا اظہار بھی کرتا ہے مگر علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  ماضی کو حال سے اور حال کو مستقبل سے ہم آہنگ کر کے زندگی کے اس جشن بے چارگی کو متحرک تجسیم میں بدل دیتے ہیں :
مجھے معلوم ہے اے اشتراکیت کے فرزندو
حصار عافیت کے دعویٰ ہائے بے نشاں کب تک
ہے میری زندگی ویرانیوں کا منظر خستہ
مرے دم سے قفس صیاد کا آباد ہوتا ہے
گلہ کوئی بھی چیرہ دستیٔ صیاد سے کیا ہو
جہاں پر خود گل تر تیشۂ صیاد ہوتاہے
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی ایسی سوچ کا مابعد الطبیعاتی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کی سوچ براہ راست جیسا کہ میں نے اوپر کہا اُن کے حسی اور ذہنی تجربوں کی دین ہے۔ اپنے گرد و پیش کے عمل اور رد عمل کے نتیجے میں انہوں نے اس طرح سوچا اور اس طرح محسوس کیا ہے۔ تنہائی، عدم تحفظ زندگی کی بے معنویت، اخلاقی خلا، ذات کا کرائسس، فرد کی گمشدگی، فنا کا خوف، حالات کی یکسانیت، مشینی زندگی کی جبریت، اقدار کی شکست و ریخت، آج کی زندگی کے ایسے محرکات و مسائل ہیں جو ہر با شعور آدمی کے دل و دماغ کو ایک طرح کی الجھن میں ڈالے ہوئے ہیں۔ شاعروں اور ادیبوں کی حساس طبیعتوں نے اِن باتوں کا کچھ زیادہ ہی اثر قبول کیا ہے۔ چنانچہ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے یہاں بھی اس قسم کے محسوسات کا اظہار ملتا ہے اور بعض جگہ بڑی شدومد کے ساتھ ملتا ہے۔ مگر خوبی یہ ہے کہ اُن کے یہاں یہ احساسات منفی نقطۂ نظر یا نا اُمیدی کے تصورات پیدا نہیں کرتے۔ جدید شعرا کے یہاں یہ محسوسات نا اُمیدی اور مایوسی کا پیش خیمہ ثابت ہوتے تھے اور زندگی اُن کے یہاں اپنی معنویت ہمیشہ کے لئے کھو چکی تھی۔ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی شاعری جدیدیت سے اسی لئے برسر پیکار نظر آتی ہے کہ ان کی شاعری زندگی کے منفی رویوں کی شاعری نہیں ہے۔ کہیں کہیں اس طرح کا لمحاتی احساس ان کے یہاں ضرور ابھرتا ہے۔ لیکن یہ احساس جب فکر و تامل کی منزلوں سے گزرتا ہوا کیف جذبی اور عاطفہ بن کر شعر میں نمودار ہوتا ہے تو مثبت رویے میں بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ اُن کے پاس ایسی قوت کا عقیدہ ہے جو مصائب کے بعد انسان کو بشارت کی ضمانت دیتا ہے۔ یاس کے اندھیرے میں امید کی چاندنی چٹکاتا ہے اور زندگی کی بے معنویت کو تازہ معنویت عطا کرتا ہے ؂
آدمی کیا ہے آدمیت کیا
حسن سیرت نہیں تو صورت کیا
فرشتہ ہو  گیا اخترؔ تو کیا ہے
کہو فرزند آدم بن کے آئے
مثبت افکار اور امید کی کرنوں سے معمور یہ وہ ذہن اور عقیدہ ہے جس نے بھیانک سے بھیانک حالات میں بھی زندگی کو علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی نظر میں مہمل، لغو اور عذاب نہیں بننے دیا۔ اس عقیدے اور یقین نے ان کی شاعری میں جس طرح جگہ بنائی ہے اور اپنے فکر و فن میں انہوں
نے اسے جس طرح برتا ہے وہ ثبوت ہے کہ شاعر ایک صالح اور نورانی طرز زندگی کا حامل ہے۔ اور ثبوت اس کا بھی ہے کہ علم و فضل، قرآن و سنت اور الہیات کی قوت نے اُن کی عام فکر کے ساتھ زندگی کے متعلق محسوسات کو بھی مثبت، روشن اور صحیح راہ دکھانے میں پورا تعاون پہنچایا ہے۔علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی شاعری وجدانی اور فکری گہرائیوں کی شاعری ہے۔
 ایسا لگتا ہے علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی نے دنیاوی بدیوں اور شیطنتوں کو صوفیا کی داخلی آنکھوں سے دیکھنے کا جتن کیا ہے۔ وہ تخلیق ادب کے عصری تقاضوں سے باخبر ہیں۔ اس لئے ان کی شاعری نئے اخلاقی اور انسانی اسباق کا خزینہ سمیٹے ہوئے ہے ؂
رنگینیٔ مجاز حقیقت نما ہوئی
منزل پہ پہونچے سلسلہ عاشقی سے ہم
عشق کی اصطلاح میں ہمدم
موت کہتے ہیں مسکرنے کو
آنکھ ہے اشک باریوں کے لئے
دل ہے چوٹوں پہ چوٹ کھانے کے لئے

تیسرا رنگ : اردو نظم کی ابتدائی اشکال وہ مثنویاں ہیں جو عادل شاہی اور قطب شاہی ادوار حکومت میں کہی جاتی رہیں ۔ بعد ازاں جب مغل فرماں روائی کا آغاز ہوا تو ہند میں ایرانی اثرات کے تحت غزل کو پھولنے پھلنے کا موقع ملا، لہٰذا نظم نہ پنپ سکی۔ انگریزوں کے ہاتھوں مغلیہ سلطنت کے زوال نے ہند کے معاشرے میں کچھ داخلی انقلاب پیدا کئے۔ صدیوں پرانی اخلاقی، سماجی اور مذہبی اقدار کی شکست و ریخت کا عمل شروع ہوا۔ نئے معاشی اور نفسیاتی مسائل نے سر اٹھایا۔ فرقہ واریت اور طبقاتی نظامِ معیشت نے ’’گھر‘‘ کی اکائی کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ شکست اور محکومی کی ذلت کا احساس عام ہوا۔ اور ان سب مسائل کی عکاسی کے لئے نظیر اکبر آبادی نے نظم کی ضرورت کو سب سے پہلے محسوس کیا۔ بعد ازاں جدید عہد کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اور مغربی ادب کے زیرِ اثر آزاد اور حالی نے بھی جدید شاعری کا علم بلند کیا۔ لہٰذا انجمنِ پنجاب کا قیام عمل میں آیا اور وطن اور فطرت کے مناظر کے علاوہ دوسرے عوامی موضوعات پر بھی نظمیں لکھی جانے لگیں ۔ حالی نے محسوس کیا کہ قافیہ اور ردیف کا التزام جدید مسائل کے اظہار و ابلاغ میں مانع ہو رہا ہے۔ لہٰذا انہوں نے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ میں قافیہ، ردیف کے خلاف آواز اٹھائی: ’’اگرچہ وزن بھی قافیہ کی طرح شعر کا حسن بڑھا دیتا ہے، جس سے اس کا سننا کانوں کو نہایت خوشگوار معلوم ہوا ہے، اور اس کے پڑھنے سے زبان زیادہ لذت پاتی ہے۔ مگر قافیہ، خاص کر ایسا، جیسا کہ شعرائے عجم نے اس کو نہایت سخت قیدوں سے جکڑ بند کر دیا ہے اور پھر اس پر ردیف اضافہ فرمائی ہے، شاعروں کو بلا شبہ ان کے فرائض ادا کرنے سے باز رکھتا ہے۔‘‘
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی ؔ کی شعری کائنات کا تیسرا آسمان ان کی نظموں سے منور ہے۔ اور اپنی متنوع خوبیوں سے مجھے حیرت زدہ کر رہا ہے۔ عہد حاضر میں ’’نظم گوئی‘‘ کس قدر اہمیت کی حامل ہے اسے بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ حالیؔ نے مقدمہ شعر و شاعری میں شاعری کے جس رنگ روپ کی وکالت کی تھی آج اس کی اہمیت نسبتاً زیادہ محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ بگڑتے معاشرے اور دم توڑتی ہوئی قدروں کی اصلاح اور زندگی کا ذریعہ موضوعی نظمیں ہی ہو سکتی ہیں۔ جس تسلسل اور تاثراتی وحدت کے ساتھ نظم میں کسی موضوع کو پیش کیا جا سکتا ہے غزلوں میں نہیں۔ اس لئے علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی نے جب نظموں کی طرف توجہ کیا اُنہیں اپنے افکار اور پیغامات کی ترسیل کا زیادہ بہتر موقع میسر آیا۔ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  خطیب ہیں اور اسلامی و تاریخی شعور سے پوری طرح بہرہ ور، اسلئے اُن کی نظموں میں ’’بیانیہ‘‘ اسلوب حاوی ہے۔ یہ نظمیں اُن کی غزلوں کی طرح علامتی استعاراتی یا تمثالی نہیں ہیں، ان میں تفصیل، سنجیدگی اور درد مندی کے ساتھ ترسیلی اسلوب میں بات کرنے کا انداز 
پایا جاتا ہے۔ الفاظ، تراکیب، تشبیہات اور استعارے بھی غزلوں کے مقابلے میں زیادہ سلیس وسادہ اور رواں دواں استعمال کئے گئے ہیں۔ یعنی نظموں میں عصری حوالہ زیادہ واضح، روشن اور صاف ہے اور زبان بول چال کی زبان سے زیادہ قریب ہے۔
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کے یہاں عام طور سے دو قسم کی نظمیں ملتی ہیں۔ ایک وہ جو موضوع یا معنی کو سامنے رکھ کر وضاحتی انداز میں لکھی گئی ہیں یعنی جو ایک مخصوص معنی تک ذہن کی فوری رسائی کروا دیتی ہیں۔ اور دوسری وہ جن سے معانی برآمد ہوتے ہیں یعنی اُس کی تہہ داری قارئین کے فرق کے ساتھ معانی میں فرق بھی پیدا کر سکتی ہے۔  صرف ایک نظم ’’تجزیہ’’ ملاحظہ کیجئے۔
لوگ کہتے ہیں بصد فخر و مباہات اخترؔ
اک حسینہ سربازار بنی ہے رانی
دودھ سے چہرہ دھوتی ہے بجائے پانی
اس کی دنیا میں اندھیرے کا کوئی نام نہیں
اس کے ہاتھوں میں مصیبت کا کوئی جام نہیں
اس کی تقدیر کا تابندہ ہوا سیارہ
اژدھے رنج و الم کے ہوئے نو دو گیارہ
اس کے حق میں شب تیرہ بھی ہے صبح رخشاں
مہر درد بام پہ ہیں مہر و قمر آویزاں
اس کی دنیا میں ترنم کے سوا کچھ بھی نہیں
اس کے ہونٹوںپہ تبسم کے سواکچھ بھی نہیں
میں یہ کہتا ہوں شرافت کا جنازہ نکلا
نظم گوئی کا یہ انداز ایک طرف ذاتی تجربے اور مشاہدے کا عکس ہے تو دوسری طرف مختلف زبانوں کے اعلیٰ ادب سے مکالمے کا نتیجہ ہے۔ جذبے کی سادگی سیدھے سادے مگر لطیف الفاظ کی مدد سے برجستہ ادا ہوئے ہیں۔ قاری ایسے لفظوں سے مسحور ہو کر معنی کو گرفت میں لیتے ہوئے ایک انبساط والی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی ایسی نظم غزل کے ایک شعر کی طرح ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کو نظموں کے مقابلے میں غزلوں سے زیادہ لگاؤ ہے۔ اور غزلوں میں ان کی شناخت کے امکانات قدرے روشن نظر آتے ہیں۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ اُن کی نظموں کو نظرانداز کر دیا جائے۔ اُن کی نظموں سے رغبت کو سراہا جا سکتا ہے۔
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی نظمیں یوں تو اُن کی زندگی سے وابستہ مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں لیکن بالواسطہ طور پر انسانی رشتوں کی شکست و ریخت،سماجی زندگی کی ناقابل برداشت باتیں، روایت اور تہذیب کی شکستگی، مادیت اور مغربیت سے پیدا ہونے والے فکری فساد، فرقہ وارانہ منافرت اور روزمرہ کے تجربات کو فن کی شکل دیتی ہیں۔ اور بڑی فنکاری سے ہر تجربے کے پس پُشت ایک فکر، ایک درس اور ایک سبق پیش کر دیتی ہیں۔ گویا علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی معنی کی ترسیل کے بجائے پیغام  کی ترسیل پر یقین رکھتے ہیں۔ اور نظموں کے تعلق سے اُن کا یہی نظریۂ فن ہے۔ انہوں نے فکری و عملی پیغام ہو یا واردات و کیفیات قلبی اور درون انسانی میں چھپے ہنگامے، سب کو کنایاتی اور علامتی الفاظ کے بجائے واضح طور پر سلیس زبان میں پیش کرنا مقدم جانا ہے اور زندگی کے معاشرتی، اخلاقی اور اصلاحی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر میں یہاں ان کی ایک مشہور نظم ’’ہندوستان کے مسلمانوں سے خطاب‘‘ پیش کرنا چا ہوں گا۔
اے مسلماں صید دام خواب غفلت ہوشیار
وقت کہتا ہے کہ لے ہاتھوں میں اپنے ذوالفقار
اٹھ کہ تجھ کو ہے بدلنا گردش لیل و نہار
اے محمد کے سپاہی دین حق کے جاں نثار
تھا کبھی تو باعث نقش و نگار گلستاں
آج کیوں ہے تنگ گلشن اور عار گلستاں
تیری غفلت نے کیا ہے باطلوں کا سربلند
تیری گردن میں حمائل ہے غلامی کی کمند
تیری ہستی بن گئی ہے تختۂ مشق گزند
پھر رہا ہے آج تو بن کر سراپا درد مند
لرزہ بر اندام جو رہتے تھے تیرے نام سے
تھر تھراتا ہے آج تو ہے ان کے چاپ گام سے
ہاں تری یہ خانہ جنگی طاقت باطل ہے آج
اللہ اللہ بھائی کا خود بھائی ہی قاتل ہے آج
سنگ دل اپنوں کے حق میں کیوں مثال سل ہے آج
دشنوں کے درمیاں لیکن بہت بزدل ہے آج
الاماں صد الاماں تم اور خون اتحاد
پیکر رحم و کرم اور مائل بغض و عناد
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  نے اپنے وطن کے آشوب اور اپنی قوم کے مصائب کو سیاسی یا سائنسی فارمولوں کی روشنی میں دیکھتے ہوئے اپنے دکھی دل کی بے چینی کو آشکارا کیا ہے۔ اسی کرب کو ’’صبح آزادی‘‘ میں یوں دیکھا جا سکتا ہے

غم کے مارو مسرت کا پیام آ ہی گیا
آفتاب حریت بالام بام آ ہی گیا
ہو مبارک یہ سرور و انبساط زندگی
میکشو! ہونٹوں تک آزادی کا جام آ ہی گیا
برق نے تو لاکھ چاہا تھا کہ رستہ روک دیں
آسمان حریت پر میرا گام آ ہی گیا
اب شبستان وطن کی ظلمتیں کافور ہیں
آسماں پر نیر گردوں خرام آ ہی گیا
آج اپنے ہاتھ میں اپنے وطن کی ہے زمام 
نالۂ مظلوم آخر کار کام آ ہی گیا
ذلت محکومیت سے ہم کو چھٹکارا ملا
اپنے ہاتھ اپنے گلستاں کا نظام آ ہی گیا
لو نسیم صبح گاہی لائی پیغام نشید
مرحبا وقت وداع وقت شام آ ہی گیا
منھ کی کھانا پڑ گیا افرنگیوں کی چال کو
خود شکاری آج اخترؔ زیردام آ ہی گیا
قدرت کے خارجی مناظر پر ار دو میں بے شمار نظمیں لکھی گئی ہیں علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  نے بھی ایسی نظمیں لکھی ہیں۔ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی شاعری محض مشاہدے کی شاعری نہیں ہے۔ مشاہدات اُن کے محسوسات کا صرف پس منظر فراہم کرتے ہیں۔ احساس کا یہ منقش اظہار علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کا منفرد اسلوب ہے۔ یہ محض شاعری نہیں صداقت بیانی ہے جو آخری سچائی کی سمت جانے والوں کے سفر کو آسان اور آسودہ بنا دیتی ہے۔
ساحل کا تصور آتے ہی دوڑا ہوا ساحل آ جائے
لب آشنا حرکت سے بھی نہ ہوں اور زیست کا حاصل آ جائے
خاموش زباں بھی خشک رہے اور ساقی محفل آ جائے
اتنی تو کشش دل میں میرے اے جذبہ کامل آ جائے
جب خواہش منزل پیدا ہو خود سامنے منزل آ جائے
تسلیم کہ شیوہ حسن کا ہے خوشیوں میں بھی رنگ غم بھرنا
مانا کی حسینوں کی عادت ہے زخم پہ بھی نشتر دھرنا
دربار حسیناں میں پھر بھی کہتا ہے یہ آنکھوں کا جھرنا
اے شمع قسم پروانوں کی اتنا تو مری خاطر کرنا
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے دل و دماغ میں بیشتر ماضی کی یاد یں تحریک پیدا کرتی ہیں۔ مگر یہ یادیں اتنی تابندہ اور پاکیزہ ہیں کہ ان کی بازیافت میں نہ حال کو کسی گزند کا احتمال ہے اور نہ مستقبل کو کسی نقصان کا خطرہ ہے۔ جو چیز خیالات و احساسات کو روشن کرتی ہو اور انسان کے دوامی جذبوں پر آفتاب طلوع کرتی ہو اس کی ضرورت حال اور مستقبل دونوں کو ہے۔ علامہ اخترانہیں مثبت، روشن اور منور باز یافتوں کے شاعر ہیں۔ ثبوت کے لئے آپ ان کی ڈھیر ساری نظمیں  مطالعہ کر سکتے ہیں۔ یہاں صرف چند اشعار دیکھئے :
کرم ہے میرے کریم تیرا اسیر مختار ہو گیا ہوں
ہزاروں آزاد رشک میں ہیں میں وہ گرفتار ہو گیا ہوں
تیری انا میں فنا سے پہلے میری انا کی بساط کیا تھی
مگر اب اپنے کو دیکھتاہوں تو ایک سنسارہوگیاہوں
حضور ایسی فنا عطا ہو ملے بقائے دوام جس سے
زمانہ دیکھے تو بول اٹھے تمہارا اظہارہوگیاہوں
جہاں میں جاؤں گا تیری نسبت کی روشنی میرے ساتھ ہوگی
ملی ہے جب سے تیری غلامی امینِ انوارہوگیاہوں
رہین احسان جام و ساغر یہ میری سرمستیاں نہیں ہیں
شہید کیفِ شراب ناب نگاہ سرکارہوگیاہوں
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کا تاریخی شعور بہت پختہ ہے۔ اسلامی تاریخ اور انسانی اقدار کی خوشبو اُن کی نظموں کو نئی روشنی اور نئے رنگ آہنگ سے معطر کرتی ہے۔ اُنہوں نے تلمیحاتی انداز میں تاریخی واقعات کی طرف اشارہ ہی نہیں کیا، بلکہ تاریخ کے کسی واقعے یا واردات کو قصے کے پیرائے میں نقل کر دیا ہے تاکہ وہ واقعہ نہ صرف قاری کو مطلع کرے بلکہ اُس کے ذہن و دل پر اپنے اثرات بھی قائم کرے۔ مورخ اور شاعر کے طریق بازیافت میں یہی تو فرق ہے کہ مورخ کی بازیافت محض بازیافت ہے۔ شاعر کی بازیافت فن میں ڈھل کر پیش رفت کا کردار ادا کرتی ہے۔ جذبے، خیال اور فکر کے لئے آخری حقیقت کی سمت نمائی صرف اسی طرح ممکن ہے اور علامہ اختراس طریقہ کار سے مکمل طور پر واقف نظر آتے ہیں۔ بہار اسلام، حُسن خلق، پرکشش شخص، قدیم رشتہ، نرالی آرزو، اور پہلا مسلماں، وغیرہ نظمیں اس کی عمدہ مثال ہیں۔ نظم ’’مجاہددوراں سید مظفر‘‘ کے محض چند ابتدائی مصرعوں پر ایک نظر ڈالئے، تاریخ کو کس خوب صورتی اور شاعرانہ رنگ وآہنگ کے ساتھ فن کے قالب میں ڈھالا گیا ہے اس کا اندازہ ہو جائے گا۔
ہمارا نالۂ شب گیر مستجاب آیا
بڑا حسین زمانے میں انقلاب آیا
مری امید کی موجیں یم تمنا سے
نہ کیوں تڑپ کے انھیں وقت اضطراب آیا
تھی جس کے فکر وتدبر سے بے خبر دنیا
عروج چرخ سیاست سے کامیاب آیا
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  شاعر کے ساتھ عالمِ دین، صوفی اور متشرع شخصیت کے حامل ہیں اس لئے اصلاحی مذہبی اور اخلاقی ذہن و فکر رکھتے ہیں۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ وہ صرف عالمِ دین 
نہیں بلکہ عاشق رسول ہیں ۔
اس لئے بنیادی طور پر وہ نعت گوئی کو سب سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں اور نعت گو کہلانا ہی پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف نعتوں میں بلکہ غزلوں، نظموں  وغیرہ، میں بھی اُنہوں نے مدحت رسول کے گل بوٹے بکھیرے ہیں۔ اِس لحاظ سے علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کا ایک اور امتیاز سامنے آتا ہے کہ انہوں نے نعت کے لئے فارم کی قید نہیں رکھی ہے، جس صنف میں بھی قلم اُٹھایا اُس میں نعت گوئی سے وسعت پیدا کر دی ہے۔ اُن کی نظموں پر بھی اِس کا گہرا اثر ہے۔
آخر میں علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی ایک خوب صورت نظم کا ذکر کر کے اپنی گفتگو ختم کروں گا جو مجھے بہت پسند آئی اور وہ ہے اُن کا ’’سلام‘‘۔ سلام برحضور خیرالانام صلی اﷲ علیہ و سلم لکھنے والے شعرا کی تعداد کثیر ہے، مگر اردو میں چند ہی سلام ایسے ہیں جنہیں مقبولیت دوام حاصل ہوئی۔ اُن میں امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کا سلام ’’مصطفے ٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘ اور حفیظ جالندھری کا سلام ’’سلام اُئے آمنہ کے لال ائے محبوب سبحانی‘‘ معرکۃ الآرا ہیں۔علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کا سلام ایسی زمین میں ہے ایسی ہی روانی لطافت اور کشش رکھتا ہے کہ بس!!!!۔ چند اشعار ملاحظہ فرما لیں : 
السلام اے رحمت العالمیں
السلام اے مظہر دین مبیں
السلام اے رونق کون ومکاں
السلام اے راز حق کے راز داں
السلام اے صاحب کوثر سلام
السلام اے حق کے پیغمبر سلام
السلام اے خاتم پیغمبراں
السلام اے رہنمائے رہبراں
السلام اے راحت و آرام جاں
السلام اے دستگیر بیکساں
السلام اے پیکرحسن و جمال
السلام اے صاحب فضل و کمال
السلام اے رہبر دین خدا
حامی و ناصر مددگار ومعیں
مدعائے مژدہ عیسیٰ سلام
منتہائے مقصد موسیٰ سلام 
کیجئے مقبول اخترؔ کا سلام
شاہ ولیں کے نبیوں کے امام
’’پارۂ دل‘‘ کا مطالعہ آپ کو بتائے گا کہ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی نظم کہنے کا ہنر تو جانتے ہی ہیں مستزادیہ کہ ان کے یہاں اپنی روایت، اردگرد، پس منظر، پیش منظر اور اپنے اسلاف سے جڑے رہنے کا جو تسلسل ہے وہ ان کی ارفع فنکاری کا سبب ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ جزئیات پر جتنی گہری نظر ڈالتے ہیں اور خارجی کائنات کو داخلی کائنات سے جس طرح ہم آہنگ کرتے ہیں یہ اُن کے معاصر نظم نگاروں کے یہاں مفقود ہے، یعنی ’پارۂ دل‘‘ ہر اعتبار سے علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی نظم گوئی کی صلاحیت اجاگر کرتا ہے۔ سہل اور سادہ اسلوبِ بیان کا یہ نظم نگار اپنے فکر و نظر کے اعتبار سے توجہ طلب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر تخلیقی عمل اسی طرح صیقل ہوتا رہا اور توضیحی انداز بیان پر تھوڑا سا قابو پا لیا گیا تو بحیثیت نظم گو بھی اردو ادب میں علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے امتیازات کی شناخت قائم ہو جائے گی۔
٭٭٭

 س گھر کو آگ لگی اس گھر کے چراغ سے

س گھر کو آگ لگی اس گھر کے چراغ سے


 س گھر کو آگ لگی اس گھر کے چراغ سے




غلام ربانی فداؔ
مدیرجہان نعت ہیرور



قارئین وعدے کے مطابق جہانِ نعت کا ششماہی پہلا رسالہ حاضرِخدمت ہے ۔یہ ایک زندہ حقیقت ہے اس سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ اردو کی جنم بھومی جنوب کی سرزمین ہے ۔یہ اوربات ہے کہ مشرق میںجاکر اردو نکھری سجی سنوری ۔اردو کے اولین صاحب دیون شاعر جنوب ہی کے تھے اور تازہ تحقیقات کے مطابق اردو کے اولین نعت گوشاعر جنوب کی سرزمین کے باسی تھے جنوب کی سرزمین دنیائے اسلام اور عالم علم و ادب کو ایک سے ایک اولیاء ،صوفیاء علماء فضلاء،ادبا ء شعراء اور سائنسدانوں اورمحققین سے نوازاہے مگرافسوس ہے کہ ہمیشہ جنوب کونظرانداز کیاگیا اس کے ذمہ داراہل شمال نہیں بلکہ خود اہل جنوب ہیں اس لئے کہ ہم نے انہیں دنیائے علم وادب میں متعارف کرانے میں تساہلی کاشکار رہے۔اہل جنوب کا طفل مکتب بھی اپنے آپ کو غالب اور اقبال کم نہیں سمجھتارہی بات اساتذہ کرام کی یہ لوگ تو اپنی دیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں مگن ہیں۔مجھے حیرت ہوتی جنوب کے اساتذہ اپنے شاگردوں کی تعداد بڑھانے کے لئے بنابنایا ہوا کلام دے دیتے ہیں۔ 
خیرآج دکن کی پیداشدہ زبان اپنی ہی سرزمین پر موت کی آخری ہچکیاں لے رہی ہے مگر ہم ہیں کہ بے خبر شاید اہل علم بھولے نہ ہوتو عرض ہے کہ جنوب کی کئی علاقائی زبانیں تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو کر رہ گئی ہیں ۔اردو کے زبوں حالی کے ذمہ دار معاشرے کا ہرطبقہ ہے میرے احباب میں ایک اردواسکول استاذ ہیں اور ماشاء اللہ شاعر بھی ہیں دودوکتابوں کے مصنف ہیں ان کی پہچان اردو کے شاعر حیثیت سے ہے۔اور ان کا پیٹھ اردو کے نام پر بھرتاہے مگر ان کے بچے اردواسکول کے بجائے دوسرے اسکولوںمیں پڑھتے ہیں۔اوربھی ایسے جانے پہچانے بہت سے لوگ ہیں جواردو کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر اپنے گھروںکواردوکاقبرستان بناچکے ہیں۔کیا اردو کے نام پر چند باتیں کرلینا اسی سے اردو کی ترقی ہوجائے گی؟ میرایہ سوال ہر پڑھے لکھے شخص کے لئے ہے۔ اب وقت ہے اردو کے حوالے سے ہمیں سنجیدہ ہونے کااورا س کے فروغ کے لیے بساط بھرکوشش کرنے کے لئے ۔ورنہ وہ دن دور نہیں جب غیرپکاراٹھیں۔
؎اس گھر کوآگ لگی گھر کے چراغ سے
غیر شادی شدہ ہر وقت شیطان کے نرغے میں

غیر شادی شدہ ہر وقت شیطان کے نرغے میں

غیر شادی شدہ ہر وقت شیطان کے نرغے میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
غیر شادی شدہ آدمی ہر وقت شیطان کے نرغے میں رہتا ہے۔جوانی کا فطری تقاضا، خیالات اور جذبات کو غلط راہوں پر ڈال سکتا ہے۔ خصوصاً بے حیائی کے اِس دور میں، جب کہ جذبات کو بہکانے اور بھڑکانے کا سامان ہر طرف موجود ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو زیادہ عرصے تک ازدواجی زندگی سے محروم رکھنے سے معاشرے میں بڑی گھناؤنی اخلاقی بیماریاں نشوونما پاتی ہیں۔

فرمانِ الٰہی ہے :
ولاتقربوا الزنیٰ انہ کان فاحشۃ (الاسراء 32)
اور زنا کے پاس بھی مت جائو بلاشبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے۔
بڑا ہی بُرا راستہ ہے۔ اس بُرائی اور بے حیائی کے راستے سے بچنے کے لیے جہاں یہ تدبیر بتائی گئی ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں اپنی نگاہوں کو بچا کر رکھیں وہی نکاح کو عملی ذریعہ بتایا گیا۔ سورۂ المؤمنون میں کامیاب اہل ایمان جو آخرت میں جنت کے وارث بنیں گے، ان کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حَافِظُوْنَ عملی ذریعہ کیا ہے۔ اس بُرائی اور بے حیائی کے راستے سے بچنے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا اَلَاعْلٰی اَزْوَاجِھِمْ سوائے اپنی بیویوں/شوہروں کے۔ زوج سے تعلق ہی شرم گاہوں کی حفاظت کا عملی ذریعہ ہے۔ اس لیے نبی کریمﷺ نے امت کو یہ ہدایت دی کہ نکاح کو آسان بناؤ تاکہ زنا مشکل ہوجائے۔ یہ بھی فرمایا کہ برکت کے لحاظ سے بہترین نکاح وہ ہے، جس میں کم سے کم خرچ ہو۔

آج امت نے نبی کریمﷺ کی ان ہدایات کو نظر انداز  کر کے اپنی بد اعمالیوں کے ذریعے نکاح کو مشکل بنادیا ہے۔ حال یہ ہے کہ چاہے بال بال قرض میں ڈوب جائے ، مکان جائیداد بک جائے یا گروی رکھنے کی نوبت آئے، اولاد کے لیے ترکہ میں چھوڑنے کے لیے کچھ نہ بچے، مگر رسموں، بدعتوں، نمود ونمائش کے ہنگاموں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں، جس کی وجہ سے آج نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے حیائی کے اس بُرے راستے کی طرف جارہے ہیں۔ یہ راستہ ان کے لیے آسان ہو گیا ہے، بالخصوص بڑے شہروں میں۔ اللہ تعالیٰ ملّت کے نوجوانوں کی حفاظت فرمائے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طرح کے لوگوں کی مدد اللہ نے اپنے ذمّے لے لی ہے۔ اس میں سے ایک وہ آدمی ہے جو عفت اور پاک دامنی کی زندگی بسر کرنے کے لیے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ ﴿مگر غریبی رکاوٹ ہے﴾۔‘‘

سورۂ البقرہ، آیت: ۱۸۶ روزوں سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے۔ ھُنّ لِباسٌ لَکُمْ وَ اَنْتُم لِباسٌ لَہُنَّ) وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس۔ جس طرح لباس اور جسم کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا، اسی طرح تمہارا اور تمہاری بیویوں کا باہمی تعلق ہے۔ لباس کا نمایاں پہلو آدمی کے جسم کے لیے ساتر ہونا ہے جس سے عیوب کی پردہ پوشی ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے جنسی جذبات کے لیے پردہ فراہم کرتے ہیں۔

بہرحال نکاح کا پہلا اور اہم مقصد ہر مومن مرد اور عورت کے اخلاق کی حفاظت اور اس کے ذریعے سے پورے معاشرے کو فتنہ و فساد اور اخلاقی بگاڑ سے محفوظ رکھنا ہے۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular