Showing posts with label مسائل و فضائل. Show all posts
Showing posts with label مسائل و فضائل. Show all posts
تدبروایا اولی الالباب

تدبروایا اولی الالباب




تدبروایا اولی الالباب


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )


عقل سلیم اور ذہن مستقیم رکھنے والے حضرات ذیل کے مضامین پر غور و غوض فرمائیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم چند وقت کی نمازیں چند اماموں کی اقتدا میں ادا فرمائی ہیں ، چنانچہ کتب اصول و فروع کے واقفوں پر پوشیدہ نہیں ، اگر کوئی جاہل مرفوع القلم اس کو انکار کرے گا وہ قابل گرفت نہ کریگا ، بحالت اقتدا سینے پر ہاتھ باندھنا اور آمین پکارنا ، رکوع جاتے وقت رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا کہیں ثابت نہیں ، نہ ان اماموں سے بحالتِ امامت افعالِ مذکور کا کرنا ثابت ہے ، اگر افعال مذکور جزو ایمان ہوتے جیسے یہ فرقے سمجھ رہے ہیں ،
حضور ان اپنے اماموں سے افعال مذکور کرنے کے لئے نہ اللہ عزوجل کا حکم ہے نہ اللہ کے رسول کاحکم ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے حالت اقتدا میں ان افعال کو کیا ہے ، نہ کسی صحابہ نے مقتدی ہو کر افعال مذکور کیا ہو ، اور حضور نے دیکھ کر خاموشی فرمائی ہو ، نی رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے ان افعال مذکور سنت کرکے نام رکھا ہے اگر آپ لوگ افعال مذکور کو سنت کہتے ہو نام رکھنے میں سنیوں کی تقلید کرتے ہو ،
یہ تمہارے ہاں کفر و شرک ہے ، پس تم لوگ افعالِ مذکور کسی کے حکم سے کرتے ہو ؟ پتہ چلتا ہے کہ شاید محمد بن عبد الوہاب صاحب نجدی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب شیخ محی الدین لاہوری سابق نام ہری چند بن دویوان چند کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب ابو سعید بنارسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ؟
اغلب یہ ہے کہ مدیر معزز محمد صاحب جوناگڈھی کی اتباع و تقلید واقتدار کرتے ہو ، اس لئے تم لوگ محمدی بھی کہلاتے ہو ، جس میں نسبت محمد صاحب جو نا گذگی کی طرف ہے ، اس نے بھی تم کو محمدی بھائیو یعنی میرے بھائیو کر کے خطاب کیاہے ، یا محمد بن عبدالوہاب کی طرف نسبت ہوگی ، بنگلور اور لشکر میں ایک انجمن احمدی غلام احمد قادیانی کے پیروؤں کی تھی ، دوسری انجمن محمدی محمد صاحب جو ناگڈھی کے پیروؤں کی تھی ، ا ب معلوم نہیں ہے یا نہیں ، اللہ عزوجل نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے علماء مجتہدین و محققین کی اتباع اور تقلیدہ اقتدا کا حکم دیا ہے ، سب وہ صحابہ رضی اللہ عنہ ، سب وہ تابعین اور سب وہ تبع تابعین اور بے شمار فقہاء اور

محدثین جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچے تھے اور کروڑوں عوام اس حکم کی تعمیل کرچکے ہیں ، اللہ عزوجل نے تقلید کا اطلاق اپنے نبی علیہ السلام کے اوپر کہیں نہیں فرمایا ، نہ علماء کی اصطلاع میں مجتہدین کے واسطے اس لفظ کا اطلاق کہیں آیا ہو ،
ہم اس لفظ کا اطلاق پر نہیں کرتے ، اور ہم ہر ایک کے مرتبے کا لحاظ کرتے ہیں ، گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی ست اور ہزاروں علماء و فقہا ومحدثین و بے حساب عوام الناس اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں ، اور کرتے رہیں گے ، تم تو اس کو کفر و شرک کہتے ہو ، جو لوگ کم درجہ کے طالب علموں کی صف میں ہیں ،
جیسے ہم نے تمہارے چند بزرگوں کے نام اوپر گنوائے ہیں ، ان کی اتباع تقلید واقتدا تمہارے نزدیک بطریق اولیٰ کفر و شرک ہوگی خیر تم تو آزاد ، خود مختار و خود روہو ، جدھر جانا چاہتے ہو چلے جا سکتے ہو ، جس کوئیں میں کودنا چاہتے ہو کود سکتے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم سے ان چند نمازوں میںجو بحالتِ اقتدا ادا فرمائی ہیں ، سورئہ فاتحہ کا پڑھنا خلف امام ہرگز کہیں ثابت نہیں ، تم تو کہتے ہو جس نے امام کے پیچھے سورئہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز صحیح نہیں ، یہ بتلاؤ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی یہ نمازیں تمہارے نزدیک صحیح ہوگئے یانہیں ؟ ذرا غور کرو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی نمازیں میں، تم تو دلبر و جرأت والے ہو، کوئی جرأت نہ کر بیٹھو ۔






سوال وجواب

سوال وجواب


سوال :۔  حضرت امام اعظم رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا ، اُتر کو اقولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو آپ مانتے ہیں یا نہیں ؟

جواب :۔  یہ قول امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے کس کتاب میں ہے ؟ اس قول کے مخاطب کون تھے ؟ آیا کہ وہ اس زمانے کے بے علم اہلِ حدیث یعنی وہابیہ کی طرح تھے یامجتہد فی المذہب تھے ، آپ جیسے بے علم اس قول کے مخاطب نہیں اس مقولے سے ثابت ہوتا ہے کہ امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے سب مسائل کے ماخذ حدیث صحیح تھے ، اسی واسطے آپ نے اپنے شاگردوں کو فرمایا ،اگر صرف میرا ہی قول رہے اس کو حدیث رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مقابلہ میں چھوڑ دو میرے اقوال کی اصل حدیث صحیح ہیں پھر اس کو چھوڑنے کا کیا معنیٰ؟

آپ قرآن و حدیث سے ثابت کر دیجئے ، غیر مجتہد کو مجتہد کے فتویٰ کو رد کرنا جائز ہے ۔

سوال :۔  مذہب اہل حدیث ( وہابیہ ) غیر ناجی ہونے پر حضرت امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کا حکم یا مستند فتویٰ پیش کریں ۔

جواب :۔  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا بڑی جماعت کی اتباع و تقلید کرو ، جس نے بڑی جماعت کو چھوڑ دیا وہ جہنم میں گر گیا ، بڑی جماعت سے مراد جس میں بڑے بڑے علماء ، بڑے بڑے فقہاء اور بڑے بڑے محدثین گذرے ہیں وہ سب انہی چار یعنی حنفی یا مالکی یا شافعی یا حنبلی مذہب کے مقلد اور پیروتھے ، اس بڑی جماعت کو اللہ پاک نے سبیل المومنین نام رکھا ہے ، نواب حسن بھوپالی کا جب مولیٰنا عبد الحی صاحب لکھنوی نے ناطقہ بند کردیا تو مجبور ہوکر ان کو

اقرار کرنا پڑا کہ اصحاب صحاح


ستہ انہی چار مذہب میںسے کسی نہ کسی مذہب کے مقلد و پیرو ضرور تھے ، اب اس زمانے کے اہل حدیث یعنی وہابیہ بڑی جماعت یعنی سنت جماعت سے خارج جہنمی ہیں ، ہم باربار سمجھا چکے ، غور سے پڑھو ، ضد کرنا چھوڑ دو کیونکہ یہ خصلت یہودیوں کی ہے ، ہم نے وہابیہ کو جہنمی نہیں بنایا بلکہ اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو جہنمی بنایا ہے ۔




ترمذی شریف :۔


  فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کہ سچا اور امانت دار سوداگر انبیا اور صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوں گے ۔

احیاء العلوم :۔  فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تجارت ضرور کرو کیونکہ اس میں رزق کا 9/10حصہ ہے ۔


مزاروں پر میلے عرس رچانے اور گانے بجانے ، نذریں چڑھانے اور نیازیں کرنے
کے متعلق

مزاروں پر میلے عرس رچانے اور گانے بجانے ، نذریں چڑھانے اور نیازیں کرنے کے متعلق



سوال :۔  مزاروں پر میلے عرس رچانے اور گانے بجانے ، نذریں چڑھانے اور نیازیں کرنے کے متعلق ائمہ اربعہ میں سے کم از کم کسی ایک امام کا بھی مستند قول ہے تو تحریر فرمایئے ؟


جواب :۔  تفسیر در منشور ، تفسیر کبیر میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہر سال کے بعد شہداء احد کے قبروں کی زیارت کے لئے جاتے تھے اور آپ کے بعد خلفاء اربعہ بھی جاتے تھے ، اسی کا نام ہے عرس ، عرس بھی ہر سال کے بعد کسی بزرگ یا ولی کے قبر کی زیارت کے لئے ہوتاہے ، یا صرف ایصال ثواب کے لئے ہوتا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے : قبروں کی زیارت کرو تاکہ تم کو موت یاد آجائے ، تم عمل صالحہ کرو عرس میں بھی قبروں کی زیارت ہوتی ہے اور ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تعمیل بھی قبروں کی زیارت کرنا سنت ہے ۔

نذر بفتح نؔ اس کے چار معنیٰ ہے ، نیاز بروزن حجاز ، بکسرنؔ اس کے تین معنیٰ ہے ، لغت میں دیکھو ، ان دونوں کا ایک معنیٰ تحفہ اور ہدیہ ہے ، یہ سلف سے خلف تک قبول کرتے آئے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ

واٰلہ وسلم خود اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بھی قبول کرتے آئے ، بزرگان دین اور حاکم وقت بھی اس کو قبول کرتے آئے گذرے ہوئے بزرگوں کے ایصال ثواب اور فاتحہ اس کو بھی نذر و نیاز کہتے ہیں ایصال ثواب سنت جماعت کے نزدیک ثابت ہے ، چنانچہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم میری ماں کا انتقال ہواہے ، ان کے لئے کیا صدقہ نیک کروں ؟ فرمایا: الماء ، یعنی پانی پھر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ایک کنواں کھدوایا ، فرمایا : ھذا بیوالام ، یہ سعد رضی اللہ عنہ کے ماں کے لئے ، مدینہ میں یہ کنواں زمانے تک مشہور تھا دیکھو اس پانی پر نام ہوا غیر اللہ کا ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں جن لوگوں نے اس کنویں کا پانی پیا کیا تمہارے نزدیک مسلمان ہیں یا نہیں ؟ تمہارے نزدیک جو غیراللہ کھائے وہ حرام کھانے والا کافر ہے ، العیاذ باللہ تمہارے نزدیک یہ سب صحابی کافر ٹھہرے ۔

جب یہاں نص موجود ہے تو دوسروں کے قول کی کیا ضرورت ہے ؟ چنانچہ ہم نے اوپر لکھا ہے کہ آپ پر لازم اور واجب ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت کریں ، عرس کرنا جائز ہے ، اپنی طرف سے کسی چیز کو ناجائز کہنا ہرگز جائز نہیں اور ناجائز کرنا کسی چیز کو یہ کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ہے ، جس نے اپنی طرف سے کسی چیز کو ناجائز کیا اس نے الوہیت اور نبوت میں اپنے آپ کو شریک کیا ، گویا وہ العیاذ باللہ خداجیسا یا نبی جیسا ہوا ، لہٰذا ہر مسلمان کو لازم اور واجب ہے کہ اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام ناجائز نہ کہے ، حرام کرنے کے لئے دلیل قطعی کی ضرورت ہے ، مباح اور جائز کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ اصل شئے میں اباحت جواز ہے ۔

فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آخری زمانے میں دجال و کذاب تمہارے پاس ایسی حدیثیں لے کر آئیں گے جونہ تم نے سنی ہوگی نہ تمہارے باپ دادا نے سنی ہوگی ، بچاؤ تم اپنے آپ کو ان سے اور ان کو بچاؤ اپنے آپ سے تاکہ تم کو گمراہ نہ کریں گے اور فتنہ و فساد میں نہ ڈالیںگے یعنی ان کو تم اپنے پاس آنے نہ دو نہ تم ان کے پاس جاؤ اسی واسطے وہابیہ کو مسجد سے نکالا جاتا ہے ، اجماع ہوا امت کا انہی چار مذہبوں پر ، اس کے واسطے جتنے فرقے ہیں خراہ و اہلِ قرآن یعنی چکڑالوی یا اہل حدیث یعنی

وہابیہ یہ سب فرقے جہنمی اور ناری ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ترہتّر (73) فرقے ہوجائیں گے اس میں سے ایک ہی فرقہ جنتی ہوگا ، باقی تمام جہنمی ، یہ جنتی فرقہ ہے جس کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں جو ان چار مذہبوں پر منحصر ہیں باقی سب کے سب ناری ہیں ، جس کے اندر وہابیہ تمام بھی آگئے اگر وہابیہ بہتر سمجھیں تو اپنے عقائد فاسدہ سے تائب ہوکر ناریوں سے نکل کر جنتیوں کے ساتھ مدغم ہوجائیں وہابیہ کے لئے بہتر ہوگا ، آئندہ وہابیہ کو اختیار ہے

سوال جواب

سوال جواب


( نوٹ ، دس سوال سرسی کے وہابیہ کی طرف سے کئے گئے تھے ، 3کے جوابات شمارہ نمبر 1، 3کے شمارہ نمبر 5 باقی شمارہ نمبر 6 کے ذریعہ سنی حنفیوں کے طرف سے دئے گئے )




تہمید جواب

ائمہ اربعہ کے نزدیک چار اصول ہیں ، جو مسئلہ صریح نص سے ثابت ہو اس میں نہ اجتہاد کی ضرورت ہے نہ فتویٰ کی حاجت اس کو آپ اچھی طرح ذہن میں رکھیں جو حکم نص صریح سے ثابت ہیں اس میں یہ نہ دریافت کریں کہ اس میں ائمہ اربعہ کا کیا فتویٰ ہے ۔

سوال :۔  چار مذہب میں سے کسی ایک کی تقلید کرنے اور تین کو چھوڑنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا حکم یا کسی امام کا قول پیش کریں ؟

جواب :۔  اس کاجواب شمارہ رنمبر 5 صفحہ 7، سوال ، چار مذہب قائم ۔۔۔۔ تحریر فرمایئے ؟ کے جواب میں بھی درج ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے ، میں جانتا نہیں میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، تم میرے بعد ان دونوں یعنی ابوبکر صدیق ، اور عمر فارو ق رضی اللہ عنہما کی اتباع اور تقلید کرو یعنی جب تک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کرے اور ان کے ہرامر میں ان کی اتباع اور تقلید کرو، یہی تقلید شخصی ہے ، حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ موجود تھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید کرنا ضروری تھا،یہ تعین خود حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے، یہی تقلید شخصی بھی ہے ، ان کا مذہب مدون نہ تھا ، اس لئے ان کی طرف کسی آدمی کی نسبت نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکا ارشاد ہے کہ اگر کوئی مجتہد اپنے اجتہاد سے حکم دے پھر اس میں ثواب کو پہنچے تو اس کو دو ثواب ملتے ہیں ، اگر اس میں خطا کرے پھر بھی اس میں ایک ثواب ملتاہے ، اگر آپ جیسے بت علم اجتہاد کریں پھر اس میں کو پہنچیں تو اللہ پاک آپ جیسے لوگوں کو ثواب نہیں لکھتا ، اگر اس میں غلطی کریں ، تو آپ جیسے لوگوں کے لئے ٹھکانہ جہنم ہے ، یہ حدیث شریف مستدرک حاکم اور مسند ابن حبان میں موجود ہے ۔

جولوگ ان طار مذہب کی تقلید کرتے ہیں یہ سب کے سب حق پر ہیں ، ثواب ہی پاتے ہیں ،


جب کہ ایک حق پر چلنے سے تمام دین و دنیا ان کو اسی میں حاصل ہیں تو دوسرے حق کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر اس حق کو چھوڑ کر اُدھر گیا یہ تحصیل حاصل جو محال ہے پھر بھی ہم پوچھتے ہیں اس پہلے حق کو کیا سمجھا ؟ اگر اس پہلے حق کو العیاذ باللہ باطل سمجھا تو اسلام سے خارج ہوا ، اگر اس کو بھی حق سمجھتا ہے تو ادھر جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ کبھی یہ کرتا ، کبھی وہ کرتا ، یہ مذہب میں کھیل اور مذہب کی توہین اور ازتہزا ہے جو حرام اور کفر ہے ، تلفیق فی المذہب بھی حرام ہے ، لہٰذا جو کوئی ان چار مذہب میں سے کسی ایک پر چلتا ہو اس کو اس میں نجات ہے ، ورنہ گمراہ ہوجائے ، جیسے آج کل کے جاہل اہل حدیثوں یعنی وہابیہ نے تلقید ائمہ اربعہ کو کفر شرک کہکر چھوڑ دیا ، یہ تقلید چھوڑنے سے ان کو آزادی ملی کوئی ان میں سے چکڑالوی اہل قرآن ہوا ، اس نے جب حدیثوں میں اختلاف دیکھا تو سب حدیثوں کا منکر ہوا ، وہ بھی اجتہاد کرنے لگا ، پانچ وقت کی نمازوں کو تین ہی وقت قرار دیا مہینے بھر روزوں کو تین روزہ یا دس روزہ قرار دیا ، جنازہ کی نماز کو انکار کر دیا ، اس نے اہل حدیث یعنی وہابیہ کو کافر مشرک فی لالوھیت کہا ، انہی اہل حدیثوں میں سے اور ایک جماعت بنی جن کو نیچری کہتے ہیں ، انہوں نے فرشتوں اور جنوں کو انکار کیا ، یہاں تک کہ جنت دوزخ کو بھی انکار کیا ، کیونکہ ان کے نزدیک یہ قاعدہ ہے کہ جو چیز نظر آئے اس کا وجود نہیں ، انہی اہل حدیثوں میں اور ایک جماعت پیدا ہوگئی جس کا پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ، جب اس نے دیکھا اس زمانے کے اہل حدیث ، اہل قرآن اور نیچری ایک دوسرے پر کفر شرک کا فتویٰ دے رہے ہیں تو وہ نبی بن کر بیٹھا ، اس نے ان تینوں کو اپنی امت قرار دیا اس پر ٹیجا پنجا فرشتہ وحی نازل کرتا رہا ۔

اس زمانے کے اہل حدیثوں نے ائمہ اربعہ کے اوپر افترا باندھا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی ، ہم ان سے اچھا اجتہاد کرتے ہیں ، چنانچہ ان کے مجتہد اجتہاد کرنے لگے ، اللہ پاک لحم خنزیر یعنی سور کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے اس زمانے کے مجتہد اہل حدیثوں نے سور کی چربی ، سور کی اوجڑی ، سور کے گردے اور سور کے گوشت کے سوا باقی سب اہل حدیثوں کے لئے حلال و پاک قرار دیا ، اللہ پاک ماں اور بیٹی کی حرمت بیان فرمائی یعنی ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ، اس زمانے کے اہل حدیثوں



نے اجتہاد کیا ، نانی ، دادی ، نواسی ، پوتی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے ، کیونکہ ان کی حرمت قرآن مجید میں مذکور نہیں ، دیکھو تصنیفاب نواب حسین بھوپالی ، تفسیر ثنائی اور ان کے مجتہدوں نے سب جانوروں کا براز ، کتے، بلی ، گدھے ، گھوڑے کا گوہ اپنے اہل حدیثوں کے لئے پاک کر دیا،کیونکہ ان کی نجاست قرآن میں ثابت نہیں ۔

قرآن و حدیث سے ثابت کر کے بتاؤ، سور کی چربی وغیرہ نانی، دادی کا نکاح ، سب جانوروں کا گوہ وغیرہ پاک ہے، آپ لوگوں نے اور اپنے مجتہدوں نے دنیامیں فساد قائم کرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں کیا، اللہ پاک فرماتا ہے ، اصلاہونے کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اور اللہ پاک فرماتاہے زمین میں فساد پھیلانے والے کے لئے لعنت جہنم اور برا ٹھکانا ہے ، تم لوگ دھوکے دے کر بے علموں کو بہکا کر ان سے کہتے ہو ہم تمہاری اصلاح کرتے ہیں ، در حقیقت تم ان کو گمراہ کرتے ہو ۔

صلاح کار کجا ایں مضد دین کجا

ببیں تفاوت راہ زکجاست تا بکجا


(بقیہ آئندہ(


عقائد

عقائد



عقائد



ازاعلیٰ حضرت شمس العلما سید مقبول احمدشاہ قادری کشمیری رضی اللہ عنہ




سب
اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے خصوصاً نماز،روزہ وغیر کااگر ایمان نہیں تو
نمازرزہ بیکارہے۔  اسے کہتے ہیں کہ اگرسچے دل سے ان باتوں کی تصدیق کرے
جوضروریات دین میں سے ہیں۔اوراگرکسی ایک ضروریات دین کے انکار کرنے
کوکفرکہتے ہیں۔


اگرچہ
باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتاہو ضروریات دین ومسائل ہیں جن کو ہرخاص
وعام جانتاہو۔جیساکہ اللہ عزوجل کی وحدانیت ،انبیاکی نبوت، جنت
ونار،حشرونشروغیرہ مثلاًیہ اعتقاد کہ حضورﷺخاتم النبین ہیں۔ عوام سے مراد
وہ مسلمان ہیں۔جوطبقہ علمامیں نہ شریک کئے جاتے ہوں۔مگرعلماکی صحبت سے
شرفیاب ہوں۔مسائل علمی سے ذوق رکھتے ہوں۔نہ وہ جنگل اورپہاڑوں کے رہنے والے
ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے ایسے  مسلمانوں کے لئے یہ بات ضروری
ہے کہ ضروریات دین کے منکرنہ ہوں اوریہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں
جوکچھ ہے حق ہے۔ان پراعمالِ بدن اصلاً جزوایمان نہیں ہے۔مسلمان ہونے کے لئے
یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیزکاانکارنہ کرے جوضروریات دین ہے



اگرچہ باقی باتوں کواقرارکرتاہو۔اگرچہ وہ یہ کہے کہ یہ صرف زبان سے انکارہے
دل سے نہیں۔کہ بلااکراح شرعی مسلمان کلمۂ کفرصادرنہیں کرسکتا۔وہی شخص
ایسی بات منہ پرلائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وقعت ہے کہ جب چاہاانکارکردیا
۔ ایمان توایسی تصدیق ہے جس کے خلاف اصلاً گنجائش نہیں۔
اعتقاد
کے متعلق چندمسائل مختصراً لکھ دینا مناسب معلوم ہوتاہے۔وہ مندرجہ ذیل
ہیں۔ہرسنی مسلمان کولام ہے ان کوحفظ کرے خواہ مردہو یاعورت۔

عقیدہ1۔اللہ
ایک ہے کوئی اس کاشریک نہیں۔ نہ ذات میں نہ صفات میں،۔نہ افعال میں نہ
احکا م میں نہ اسماع میں۔عدم محال، قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے ازلی کےبھی
یہی معنی ہیں۔ہمیشہ رہے گا ابدی بھی کہتے ہیں۔وہی اس کامستحق ہے کہ اس کی
عبادت اورپرستش کی جائے۔عقیدہ۔ وہ بے پردہ ہے کسی کامحتاج نہیں۔تمام عالم
اس کامحتاج ہے۔عقیدہ۔اس کی صفتیں نہ عین ہیں نہ غیر۔یعنی صفات اسی ذات
کانام ہو۔ایسانہیں اورنہ اس سے کسی طرح وجود میں جدا ہوسکیں۔کہ نفس ذات
کامقتضیٰ ہواورعین ذات کولازم ہے۔عقیدہ۔جس طرح سے اس کی ذت قدیم  ازلی،ابدی
ہے۔صفات بھی قدیم ،ازلی ابدی ہیں۔عقیدہ۔اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا
ساراجہاں حادث ہے یعنی پلے نہ تھا پھرموجودہوا۔عقیدہ۔صفاتِ الٰہی کوجومخلوق
کہے یاحادث بتائے وہ گمراہ اوربددین ہے۔عقیدہ جوعالم میں کسی شئے کوقدیم
مانے یااس کی حدوث میں شک کرے کافرہے۔عقیدہ۔وہ ہرکمال وخوبی کاجامع ہے
اورہراس چیزسے جس میں عیب ونقصان ہے پاک ہے۔عقیدہ۔جس بات میں کمال نہ ہووہ
بھی اس کے لئے محال ہے۔مثلاًجھوٹ،دغا،خیانت،ظلم،جہل وغیرہ عیوب سے منزہ
ہے۔مثلاً یہ کہناکہ جھوٹ پرقدرت ہے بایں معنیٰ کہ وہ جھوٹ بول سکتاہے محال
کوممکن ٹھہرانا اورخداکوعیبی بنانابلکہ خداسےانکارکرناہے اور سمجھنا ہ محال
پرقادر نہ ہوگاتوقدرت ناقص ہوجائے گی۔باطل محض کہ اس میںقدرت کاکیا
نقصان؟  نقصان تو  اس محال کاہے کہ تعلق قدرت کی اس میں صلاحیت نہیں۔عقیدہ۔
حیات،قدرت،سننا،دیکھنا،کلام،علم،ارادہ اس کے صفات ذاتیہ ہیں۔مگرکان
،آنکھ، زبان سے اس کاسننا دیکھنا کلام کرنانہیں کہ یہ اجسام ہیں۔اجسام سے
وہ پاک ہے۔عقیدہ ۔مثل صفات کے کلام بھی قدیم ہے۔حادث مخلوق نہیں۔جوقرآن
عظیم کومخلوق بتائے۔ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ اوردیگرائمہ رضی اللہ
عنہم نے انہیں کافرکہابلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی اس کی تکفیرثابت
ہے۔عقیدہ۔ اس کاکلام آوازسے پاک ہے۔یہ قرآن عظیم جس کی 





تلاوت
کرتے ہیں،جومصاحف میں لکھتے ہیں۔اس کاکلام قدیم بلاصوت ہے۔یہ ہمارا
پڑھنالکھنا اوریہ آوازحادث یعنی ہماراپڑھناحادث اورجوہم نےپڑھا قدیم،
اورہمارالکھنا حادث اورجو لکھاقدیم اورہماراسننا حدث اورسنا قدیم،
عقیدہ۔غیب الشہادت سب کوجانتاہے علم ذاتی اس کاخاصہ ہے۔جوشخص علم ذاتی ،غیب
خواہ شہادت کاغیرخدا کے لئے ثابت کرے کافرہے ۔علم ذاتی یہ ہے کہ بے دیئے
خودحاصل ہو۔

عقیدہ۔ہربھلائی
اوربرئی اس نے اپنے علم ازلی کے موافق مقدرفرمادی ہے ۔جیساہونے والاتھا
اورجیسا کرنے والے تھے اپنے علم سے جانا اوروہی لکھ لیاتویہ نہیں کہ جیسااس
نے لکھ دیا


ویساہم کوکرناپڑتابلکہ جیساہم کرنے والے تھے۔ویسااس نے لکھ دیا۔زیدکے ذمہ
برائی لکھی۔اس لئے زیدبرائی کرنے والاتھا۔گرزیدبھلائی کرنے والا ہوتاتووہ
اس کے لئے بھلائی لکھتا۔اس کے علم یااس کے لکھ دینے سے کسی کومجبور نہیں
کردیا۔تقدیرکاانکارکرنے والوں کونبی کریمﷺ نے اس امت کامجوس
بتلایا۔عقیدہ۔قضاتین قسم پرہے۔مبرم حقیقی، علم الہٰی میں کسی شئے پر معلق
نہیں۔اورمعلق محض صحف ملائکہ میں کسی شئے پراس کا معلق ہونا
ظاہرفرمادیاگیااورمعلق شبیہ بمبرم صحف ملائکہ میں اس کی تعلیق مذکور نہیں
وہ علم الہٰی میں تعلیق ہے۔وہ جو مبرم حقیقی ہے اس کی تبدیلی ناممکن
ہے۔باقی دوقسموں کی تبدیلی ممکن ہے۔اس مبرم حقیقی کے متعلق نبی کریم ﷺ نے
ارشادفرمایا’’ان الدعا یردالقضا وباہ ماابرم ۔بیشک دعاقضامبرم کوٹال دیتی
ہے۔‘‘
 اسی
قضامبرم غیرحقیقی کے متعلق حضرت سیدناغوث الاعظم فرماتے ہیں۔’’میں قضائے
مبرم کورد کردیتاہوں‘‘اورجوقضامعلق ہے اس تک اکثراولیا کرام کی رسائی ہوتی
ہے۔ان کی دعا سے ان کی ہمت سے ٹل جاتی ہے۔






اجمالی بیان ،دوزخ حصہ دوم

اجمالی بیان ،دوزخ حصہ دوم


اجمالی بیان ،دوزخ


 حصہ دوم





یہ خود اس مکان کی حالت ہے اگر اس میں اور کوئی عذاب نہ ہوتا تو یہی کیا کم تھا؟ مگر کفار کی سرزنش اور ملامت کیلئے طرح طرح کے عذاب مہیا کئے ہیں،لوہے کے بھاری گرزوں سے فرشتے ماریں گے اگر کوئی گرز زمین پر رکھ دیا جائے ،تمام جن وانس جمع ہوکر اٹھا نہیں سکتے ،بختی اونٹ کی گردن کے برابر بچھو اور اللہ جانے کس قدر بڑے بڑے سانپ کہ اگر ایک مرتبہ کاڑ لیں تو اس کی سوزش درد اور بے چینی ہزاز برس تک رہے،تیل کی جلی ہوئی تلچھٹ کی مثل سخت کھولتا پانی پینے کو دیا جائے گا ،منہ کے قریب ہوتے ہی اس کی تیزی سے چہرے کی کھال گرجائے گی،سر پر گرم پانی بہایا جائے گا،جہنمیوں کے بدن سے جو پیپ بہے گی وہ انہیں پلائی جائے گی،خاردار تو ہڑا نہیں کھلایاجائے گا وہ ایسا ہوگا کہ اس کا ایک قطرہ دنیا میں آئے تو اس کی سوزش اور بدبو تمام اہل دنیا کی زندگی برباد کردے گا اور وہ حلق میں جا کر پھنداڈالے گا،اس کے اتارنے کیلئے پانی مانگیںگے ان کو وہ کھولتاپانی دیاجائے گا کہ منہ کے قریب آتے ہی منہ کی ساری کھال گل کر اس میں گر پڑے گی اور پیٹ میں جاتے ہی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ،وہ شوربے کی طرح بہہ کر قدموں کی طرف نکلے گی ،پیاس اس بلا کی ہوگی کہ اس پانی پر ایسے گریں گے جیسے سوس کے مارے ہوئے اونٹ ،پھر کفار جان سے عاجز آکر باہم مشورہ کریں گے ،مالک علیہ السلام داروغہ جہنم کو پکاریں گے مالک علیہ السلام ہزار برس تک جوب نہ دیں گے ،ہزار برس کے بعد جواب دیں گے ،مجھ سے کیا کہتے ہو؟ اس سے کہوجس کی نافرمانی ہے ہزار برس تک رب العزت کو اس کی رحمت کے ناموں سے پکاریں گے ،ہزار برس تک جواب نہ دے گا،اس کے بعد فرمائے گا دور ہوجاؤ جہنم میں پڑے رہو مجھ سے بات نہ کرو! اس وقت کفار ہر قسم کی خیر سے ناامید ہوجائیں گے اور گدھے کی آوازکی طرح چلا کر رودیں گے ،ابتدا آنسو نکلیں گے جب آنسو ختم ہوجائیں گے تو خون رودیں گے روتے روتے گالوں میں خندقوں کی مثل گڑھے پڑجائیں گے ،اس قدر خون روئیں گے اور پیپ نکلے گا کہ اگر کشتیاں اس میں ڈال دیا جائے تو چلنے لگیں گے جہنمیوں کی شکلیں ایسے کریہہ ،بدصورت ہوں گی کہ اگردنیا میں کوئی جہنمی اس صورت پر لایا جائے تو اس کی بدصورتی اور بدبو کی وجہ لوگ مرجائیں گے اور ان کا جسم ایسا کردیاجائے گا کہ ایک شانہ سے دوسرے شانہ تک تیز سوار کیلئے




تین دن کی راہ ہے ،ایک ایک داڑھ اُحد کے پہاڑ کے برابر ہوگی، کھال کی موٹائی بیالیس (42)) گز ہوگی ،زبان ایک کوس دوکوس تک باہر گھسیٹی ہوگی۔


جہنمیوں کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہوگی جتنی مکہ سے مدینہ تک کی راہ جہنم میں منہ سکڑے ہونگے کہ اوپر کا ہونٹ سمیٹ کر بیچ سر کو پہنچ جائے گا اور نیچے کا لٹک کرناف کو آلگے گا،ان مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی شکل جہنم میں انسانی شکل نہ ہوگی کہ یہ شکل احسن تقویم ہے اور یہ اللہ عزوجل کو محبوب ہے کہ اس کے محبوب کی شکل سے مشابہ ہے ؛بلکہ جہنمیوں کی وہی شکل ہے جو اوپر مذکور ہوئی ،پھر آ خر میں کفار کے لئے یہ ہوگا کہ اس کے قد کے برابر آگ کے صندوق میں اسے بند کر دیں گے ،پھر اس میں آگ بھڑکائیں گے اور آگ کا قفل لگایا جائے گا ،پھر یہ صندوق آگ کے دوسرے صندوق میں رکھا جائے گا، اور ان دونوں کے درمیان آگ جلائی جائے گی اور اس کو بھی ایک صندوق میں رکھ کر اور آگ کا قفل لگا کر آگ میں ڈال دیا جائے گا ،کافر یہ سمجھے گا کہ اس کے سوا اب کوئی آگ نہ رہا ہواوریہ عذاب بالائے عذاب ہے ،ہمیشہ اس کے لئے عذاب ہے۔

جب سب جنتی جنت میں داخل ہوں گے اور جہنم میں صرف وہی رہ جائیں گے جن کو ہمیشہ کے لئے اس میں رہنا ہے اس وقت جنت اور دوزخ کے درمیان موت کو مینڈھے کی طرح لاکر کھڑا کریں گے ،پھر منادی ( پکارنے والا) جنت والوں کو پکارے گا وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے کہ کہیں ایسا نہ ہو، یہاں سے نکلنے کا حکم ہو،پھر جہنمیوں کو پکارے گا وہ خوش ہوتے ہوئے جھانکیں گے کہ شائد اس مصیبت سے رہائی ہوجائے ،ان سب سے پوچھے گاکہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے ہاں یہ موت ہے ، ذبح کر دی جائے گی منادی کہے گا : اے اہل جنت ہمیشگی ہے تمہارے لئے ،اب جنت سے نکلنا نہیں اور اب مرنا بھی نہیں اور اے اہل نار جہنمیو! تمہارے لئے ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے ، اب موت نہیں ہے اس وقت جنتیوں پر خوشی پر خوشی ہوگی اور دوزخیوں کے لئے غم پر غم۔

نسأ ل اللہ العفو والعافتی الدین والدنیا والاٰخرۃ


اجمالی بیان ،دوزخ

اجمالی بیان ،دوزخ



اجمالی بیان ،دوزخ


حصہ اول





ایک مکان ہے اس قہار وجبار کے جلال وقہر کا مظہر ہے جس طرح اس کی رحمت ونعمت کی انتہا نہیں کہ انسانی خیالات و تصورات جہاں تک پہنچے وہ ایک تھوڑا ساحصہ ہے اس کی بے شمار نعمتوں سے اسی طرح اس کے غضب وقہر کی کوئی حد نہیں کہ ہر وہ ہر تکلیف وہ اذیت اور ایک کی جائے ایک ادنیٰ حصہ ہے
،اس کے بے انتہا عذاب کا قرآن مجید اور احادیث میں جو سختیاں مذکور ہیں ان میں سے کچھ اجمالاً بیان کرتا ہوں کہ مسلمان دیکھیں اور اس سے پناہ مانگیں اور ان اعمال سے بچیں جن کی جزا جہنم ہے۔

حدیث میں ہے جو بندہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے ،
جہنم کہتا ہے : اے رب !یہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو اس کو پناہ دے ،
قرآن مجید میں بکثرت ارشاد ہواکہ جہنم سے بچو ! دوزخ سے ڈرو،ہمارے آقا ومولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو سکھانے کے لئے کثرت کے ساتھ اس سے پناہ مانگتے ،جہنم کے شرارے یعنی


چنگاریں اورنچے اونچے محلوں کے برابر اڑیں گے ،گویا کہ زرد اونٹوں کے قطارے پے درپے آتے رہیں گے آدمی اور پتھر اس کے ایندھن ہیں،یہ جو دنیا کی آگ ہے اس آگ سے ستر (70) جز میں سے ایک جز ہے ،جس کو سب سے کم درجہ کا عذاب ہوگا اس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائینگی ، جس سے اس کا دماغ کھولے گا ،جیسے تانبے کی پتیلی کھولتی ہے وہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ عذاب مجھ پر ہو رہا ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا ہے ،
سب سے ہلکے درجہ کا جس پر عذاب ہوگا ،اس سے اللہ عزوجل پوچھے گا: کہ اگر ساری زمین تیری ہوجائے تو کیا اس عذاب سے بچنے کے لئے تو فدیہ میں دے گا؟عرض کرے گا: ہاں ، فرمائے گا جب تو پشت آدم میں تھا تو ہم نے اس سے بہت آسان چیز کا حکم دیا تھا کہ کفر نہ کر ،مگر تونے نہ مانا،جہنم کی آگ ہزار برس تک دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی ،
پھر ہزار برس یہاں تک کہ سفید ہوگئی، پھر ہزار برس یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی، تو اب وہ نری سیاہ ہے جس میں روشنی کا نام نہیں۔

جبرئیل علیہ السلام نے قسم کھا کر عرض کی کہ اگر جہنم سوئی کے ناکے کے برابر کھول دی جائے تو تمام زمین والے اس کی گرمی سے مرجائیں گے اور قسم کھاکر کہا کہ اگر جہنم کا کوئی داروغہ اہل دنیا پر ظاہر ہوتو زمین کے رہنے والے کل کے کل اس کی ہیبت سے مرجائیں گے اور قسم کھاکرفرمایا:اگر جہنمیوں کی زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دی جائے تو کانپنے لگیں گے اور انہیں قرار نہ ہوگا ،یہاں تک کہ نیچے کی زمین میں دھنس جائیں گے یہ دنیا کی آگ جس کی گرمی اور تیزی سے کون واقف نہیں ؟کہ بعض موسم میں اس کے قریب جانا تو شاق گذرتا ہے ،پھر بھی یہ آگ خدا سے دعا کرتی ہے کہ اسے جہنم میں پھر نہ لے جا ؛مگر تعجب ہے انسان سے کہ جہنم میں جانے کا کام کرتا ہے اور اس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی ڈرتی ہے اور پناہ مانگتی ہے ،دوزخ کی گہرائی کو خدا ہی جانے کہ کتنی گہری ہے ،حدیث میں آیا ہے کہ اگر پتھروں کی چٹان جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکی جائے تو ستر (70) برس میں بھی اس کی تہ تک نہ پہنچیں گی اور اگر انسان کے سر برابر سیسے کا گولہ آسمان سے زمین کو پھینکا جائے تو رات آنے سے پہلے زمین تک پہنچے گا ؛حالانکہ یہ پانچ سو (500 ) برس کی راہ ہے ،پھر اس جہنم میں مختلف طبقات ،وادی اور کوئیں ہیں،بعض وادی ایسے ہیں کہ جہنم بھی ہر روز ستر مرتبہ یا زیادہ ان سے پناہ مانگتا ہے۔



اجمالی بیان ،جنت

اجمالی بیان ،جنت



اجمالی بیان ،جنت


حصہ دوم





از: حضرت مولانا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی










جنتی کے بدن پر سر کے بال ،پلکوں اور بھوؤں کے سوا کہیں بال نہ ہوں گے ،سب بے ریش ہوں گے ،سرمہ گیں آنکھیں ،تیس ( 30) برس کے معلوم ہوں گے ،اس سے زیادہ نہ معلوم ہوں گے ، جنت میں نیند نہیں ،نیند ایک قسم کی موت ہے اور جنت میں موت نہیں،جنتی جب جنت میں جائینگے ،ہر ایک اپنے اعمال کے مقدار سے مرتبہ پائے گا ،اس کے فضل کی حد نہیں ،پھر انہیں دنیا کے ایک ہفتہ کی مقدار کے بعد اجازت دی جائے گی کہ اپنے پروردگا رکی زیارت کریںاور عرش الٰہی ظاہر ہوگا ،رب عزوجل جنت کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں تجلی فرمائے گا اور ان جنتیوں کے لئے منبر بچھائے جائیں گے ،نور کے منبر ،موتی کے منبر،یواقوت وزبرجد کے منبر ،سونے چاندی کے منبر اور ان میں کا ادنیٰ مشک وکافورکے ٹیلے پر بیٹھے گا اور ان کا ادنیٰ کوئی اپنے گمان میں کرسی والوں کو کچھ بھی اپنے سے بڑھ کر نہ سمجھے گا،خدا کا دیدار ایسا صاف ہوگا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو اپنے اپنے جگہ سے دیکھتا ہے .
ایک دیکھنا ددوسرے کے مانند نہیں اور اللہ عزوجل ہر ایک پرتجلی فرمائے گا،ان میں سے کسی کو فرمائے گا : ات فلاں بن فلاں تجھے یاد ہے جس دن تو نے ایسا ایسا کیا تھا؟
دنیا کے معاصی یاد دلائے گا ، بندہ عرض کرے گا اے رب کیا تو نے مجھے بخش نہ دیا ،فرمائے گا: ہاں میری مغفرت کی وسعت ہی کی وجہ سے تو اس مرتبہ کو پہنچا وہ سب اسی حالت میں ہوں گے ،ابر چھاجائے گا اور خوشبو ان پر برسائے گا اس جیسی خوشبو ان لوگوں نے کبھی نہ پائی تھی اور اللہ عزوجل فرمائے گا کہ جاؤ اس طرف جو میں نے تمہارے لئے عزت تیار کر رکھی ہے جو چاہو لے لو!پھر لوگ ایک بازار میں جائیں گے
جسے ملائکہ گھیرے ہوئے ہیں ،اس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ انکی مثل نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی نہ دل پر انکا خطرا گذرا ، اس میں سے جو چاہیں گے ان کے ساتھ کردی جائے گی اور خرید وفروخت نہ ہوگی ،جنتی اس بازار میں باہم چلیں گے چھوٹے مرتبہ والا بڑے مرتبہ والے کو دیکھے گا اس کا لباس پسند کرے گاابھی تک گفتگو ختم ہوگی کہ خیال کرے گا کہ میرا لباس اس سے اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ جنت میں کسی کے لئے غم نہیں ،پھر وہاں سے اپنے اپنے مکانوں کو واپس آئیں گے ۔



ان کے بیبیاں استقبال کریں گے اور مبارکباد دیکر کہیں گے : کہ آپ واپس ہوئے آپکا جمال اور حُسن اس سے زیادہ ہے کہ ہمارے پاس سے آپ گئے تھے ؟جواب دیں گے کہ پروردگار جبار کے حضور بیٹھنا ہمیں نصیب ہوا، ہمیں ایسا ہی ہونا سزاوار تھا ،جنتی باہم ملنا چاہیں گے تو ایک کا تخت دوسرے کے پاس چلاجائے گا اور ایک روایت میں ہے ان کے پاس نہایت اعلیٰ درجہ کے سواریاں اور گھوڑے لائے جائیں گے اور ان پر سوار ہوکر جہاں جائیں گے سب سے کم درجہ کا جو جنتی ہے اس کے باغات اور بیبیاں اور نعمتیں اور خدام اور تخت ہزار برس کی مسافت تک ہوں گے اور ان میں اللہ عزوجل کے نزدیک سب میں معزز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی وجہہ کریم کی دیدار سے ہر صبح وشام مشرف ہوگا،جب کنتی جنت میں جائیں گے اللہ عزوجل ا ن سے فرمائے گا کچھ اور چاہتے ہو ؟ جو تم کو دوں ،عرض کریں گے: تو نے ہمارے منہ روشن کئے جنت میں داخل کیا جہنم سے نجات دی ،اس وقت پردہ کہ مخلوق پر تھا ،اُٹھ جائے گا تب دیدار الٰہی جو سب سے بڑھ کر انہیں نہ ملی ہوگی ملے گی۔


اللہم الرزقنا زیارت وجھک الکریم بجاہ حبیبک الرؤف الرحیم علیہ الصلوۃ والتسلیم ،آمین۔

اجمالی بیان ،جنت

اجمالی بیان ،جنت




اجمالی بیان ،جنت


)حصہ اول(
از: حضرت مولانا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی






جنت ایک مکان ہے ،جس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کیلئے بنایا ہے اس میں وہ نعمتیں مہیا کی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے


دیکھا نہ کانوں نے سنانہ کسی آدمی کے دل پر خطرا گذرا ،جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جاتی ہے وہ سمجھانے کے لئے ہے ،ورنہ دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شیٔ کی کسی چیز کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں،وہاںکی کوئی عورت زمین کی طرف جھانکی تو زمین سے آسمان تک روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے ،چاند سورج کی روشنی جاتی رہے اور اس کا دوپٹا دنیا ومافیھا سے بہتر ہے اور ایک روایت میں یوں ہے اگر حور اپنی ہتھیلی زمین وآسمان کے درمیان رکھے تو اس کے حسن کی وجہ سے خلائق فتنہ میں پڑجائیں
اور اگر اپنا دوپٹا ظاہر کرے تو اس کی خوبصورتی کے آگے آفتاب ایسا ہوجائے جیسا آفتاب کے سامنے چراغ ،اگر جنت کی کوئی ناخن بھر چیز دنیا میں ظاہر ہوجائے تو تمام آسمان وزمین اس سے آراستہ ہوجائیں ،اگر جنتی کا کنگن ظاہر ہوتو آفتاب کی روشنی مٹادے ،جیسا آفتاب ستاروں کی روشنی مٹا دیتا ہے جنت کی اتنی جس میں کوڑا رکھ سکے دنیا ومافیھا سے بہتر ہے ،جنت کتنی وسیع ہے اس کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جانے۔

اجمالی بیان یہ ہے کہ اس میں سو(100)درجہ ہیں ہردرجوں میں وہ مسافت ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ،رہایہ کہ خود اس درجہ کی کیا مسافت ہے ؟ اس کے متعلق اس وقت کوئی روایت خیال میں نہیں، البتہ ایک روایت ترمذی شریف کی ہے کہ اگر تمام عالم ایک درجہ میں جمع ہوں تو سب کے لئے وسیع ہے ،جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں تیز گھوڑے کا سوار سو(100) برس

تک دوڑتا رہے مگر ختم نہ ہو، جنت کے دروازے اتنے وسیع ہیں کہ ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک تیز گھوڑے کے سوار کے لئے ستر (70) برس کی راہ ہوگی ،پھر بھی چلنے والوں کی وہ کثرت ہوگی منڈھے سے منڈھا چھلتا رہے گا

،بھیڑ کی وجہ سے دروازے چر چراتے رہیں گے ،جنت میں قسم قسم کے جواہروں کے محل ہونگے جو ایسے صاف اور شفاف کو اندر کے حصے باہر سے اور باہر کے حصے اندر سے دکھائی دیں گے ،جنت کی دیواریں سونے اور چاندی کے اینٹوں کی ہوں گے اور گارہ مشک کا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ ،چاندی کی زمین زعفران کی ،
اور ایک روایت میں ہے،ایک اینٹ سونے کی ،ایک اینٹ چاندی کی ایک اینٹ یاقوت سرخ کی اور زمین زمرد سبزکی گھاس کی جگہ زعفران ہے ،جنت میں ایک ایک موتی کاخیمہ ہوگا،
جس کی بلندی ساٹھ (60) میل ،جنت میں چار دریاہیں،ایک پانی کا، دوسرا دودھ کا ،تیسرا شہد کا اور چوتھا شراب کا،پھر ان سے نہریں نکل کر ہر ایک کے مکان میں جاری رہیں گے، وہاں کے نہریں زمین کھود کر نہیں بہتے ،بلکہ زمین کے اوپر رواں ہیں، نہر کا ایک کنارہ موتی کا ،دوسرا یاقوت کا
اور نہروں کی زمین خالص مشک کی ،وہاں کی شراب دنیاکی شراب کی طرح نہیں،جس میں بدبو کراہٹ اور نشہ ہوتا ہے ،پینے والے بے عقل ہوجاتے ہیںاور آپ سے باہر ہوکر بیہودہ بکتے ہیں،وہ پاک شراب اب سب باتوں سے پاک اورمنزہ ہے۔


جنت میں جنتیوں کو ہر قسم کے لذیذ کھانے ملیں گے جو چاہیں گے فوراً ان کے سامنے موجود ہوگا
،اگر کسی پرندہ کو دیکھ کر اس کے گوشت کھانے کو جی چاہے تو اسی وقت بھنا ہوا سامنے آجائے گا ،حرؔ پانی وغیرہ کی خواہش ہوتو کوزہ ہاتھ میں آجائیں گے،ان میں ٹھیک اندازے کے موافق پانی ،دودھ ، شراب اور شہد ہوگا کہ ان کے خواہش سے ایک قطرہ کم نہ زیادہ ،بعد پینے کے خود بخود جہا ں سے آئے تھے وہاںچلے جائیں گے ،
وہاں نجاست ،گندگی ،پائخانہ ،پیشاب ،تھوک ،رینٹ ،کان کا میل ،بدن کا میل ،اصلا نہ ہوں گے ،ایک خوشبودار فرحت بخش ڈکار آئیگی اور ڈکار اور پسینے سے خوشبو نکلے گی ،جو مشک کی سی ہوگی،ہر آدمی کو سو ( 100) اشخاص کے کھانے پینے وغیرہ کی طاقت دی جائیگی ،ہر وقت زبان سے تسبیح تکبیر بقصد اور بلا قصد مثل سانس کے جاری ہوں گے ہر شخص کے سرہانے کم از کم دس ہزار



خادم کھڑے ہوں گے ،خادموں کے ایک ہاتھ میں چاندی اور دوسرے ہاتھ میں سونے کا پیالہ ہوگا،ہر پیالہ میں نئی نئی رنگ کی نعمتیں ہونگی ،جنتی کھاتا جائے گا لذت میں کمی نہ ہوگی بلکہ زیادتی ہوگی ،ہر نوالہ میں ستر ( 70)مزے ہوں گے ،ہر مزہ دوسرے سے ممتاز ،وہ معاً محسوس ہوں گے،ایک کا احساس دوسرے سے مانع نہ ہوگا۔


جنتیوں کے نہ لباس پرانے پڑیں گے نہ ان کی جوانی فنا ہوگی؛بلکہ پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے ایسے روشن ہونگے جیسے چودھویں رات کا چاند،دوسرا گروہ جیسا کوئی نہایت روشن ستارہ ، جنتی سب ایک دل ہونگے ،ان کے آپس میں کوئی اختلاف اور بغض نہ ہوگا،ان میں ہر ایک حورعین میں سے کم  سے کم دوبیبیاں ایسے ملیں گے کہ ستر ستر (70-70) جوڑے پہنے ہوں گے ،پھر بھی ان لباسوں اور گوشت کے باہر سے انکی پنڈلیوں کا مغض دکھائی دے گا
،جیسا سفید شیشے میں شراب سرخ دکھائی دیتی ہے اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ عزوجل نے انہیں یاقوت سے تشبیہ دی ،اگر یاقوت میں سوراخ کرکے ڈوراڈالا جائے تو ضرور باہر سے دکھائی دے گا، آدمی اپنے چہرہ کو اس کے رخساروں میں آئینہ سے بھی زیادہ صاف دیکھے گااوران پر ادنیٰ درجہ کا جو موتی ہوگا وہ ایسا ہوگا جو مشرق سے مغرب تک روشن کردے ۔ایک روایت میں ہے کہ مرد اپنا ہاتھ اس کے شانے کے درمیان رکھے گا تو سینے کی طرف سے کپڑے جلد اور گوشت کے باہر سے دکھائی دے گا، اگر جنت کا کپڑا دنیا میں پہنا جائے تو جو دیکھے بیہوش ہوجائے اور لوگوں کی نگاہیں اس کا تحمل نہ کر سکیں ،اگر کوئی حور سمندر میں آب دہن ڈالے تو اس کے آب دہن سے سارا سمندرمیٹھا ہوجائے گا۔اور ایک روایت میں ہے کہ اگر جنت کی عورت سات سمندروں میں آب دہن ڈالے تو شہد سے زیادہ شیریں ہوجائیںگے ،جب کوئی بندہ جنت میں جائے گا تو اس کے سرہانے اور پینتے دوحوریں نہایت اچھی آواز سے گائیں گی ،مگر گانا یہ شیطانی مزامیر نہیں؛بلکہ اللہ عزوجل کی حمد ،ثنا اور پاکی ہوگی،وہ ایسے خوش گلو ہوں گے کے مخلوق نے کبھی ایسی خوش آواز نہ سنی ہوگی اور یہ بھی گائیں گے ’’ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں،کبھی نہ مریں گے ہم چین والیاں ہیں کبھی تکلیف میں نہ پڑیں گے ،ہم راضی ہیں ناراض نہ ہوں گے ،مبارکباد اس کے لئے جو ہمارا اورہم

اس کے ہوں‘‘۔

بقیہ آئندہ ان شاء اللہ


احکام اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

احکام اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


احکام اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


1)کنیز بن قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا،

ایک شخص ان کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں مدینہ منورہ سے صرف ایک حدیث کی وجہ سے آیا ہوں میں نے سنا ہے کہ وہ آپ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے ، حضرت ابولدردا رضی اللہ عنہ نے پوچھا کوئی اور تجارتی کام نہیں تھا؟انہوں نے کہا: نہیں،ابوالدردا رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھاکہ کوئی دوسری غرض تو نہ تھی؟ کہا: نہیں،صرف حدیث ہی معلوم کرنے کے لئے آیا ہوں ،



ابوالدردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص کوئی راستہ علم کرنے کے لئے چلتا ہے حق تعالیٰ شانہٗ اس کے لئے جنت کا راستہ سہل (آسان) فرمادیتا ہے اور فرشتے اپنے پر طالب العلم کی خوشنودی کے واسطے بچھا دیتے ہیں اور طالب العلم کے لئے آسمان و زمین کے رہنے والے (فرشتے) اسغفار کرتے ہیں،اور عالم کی فضلیت عابد پر ایسی ہے جیساکہ چاند کی فضیلت سارے تاروں پرہے اور علماء انبیا کے وارث ہیں، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے بلکہ علم کا وارث بناتے ہیں جو شخص علم کو حاصل کرتا ہے وہ ایک بڑی دولت کو حاصل کرتا ہے ۔ (ابن ماجہ)۔

2) جو تمہارے دل میں ہے اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ خدااس کا حساب لے گا،پھر جس کو چاہے گا بخش دے گا ،اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔( بقرۃ،4)



قضا نماز کے احکام

قضا نماز کے احکام


سوال :۔





کیا فرماتے ہیں علماء دین متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عبدالحق نامی ساکھ ستی منگل کہتا ہے کہ نماز قضا پڑھنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ، اور قضا نماز پڑھنے سے انکار کرتا ہے ۔

محمد غوث ، کولیگل







جواب :۔  الحمد للہ والمنہ وصلوٰۃ ولاسلام علیٰ رسولہ محمد و اٰلہ واصحابہ اجمعین۔


اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : نماز قائم کرو یعنی نمازوں کو ادا کرو یہ حکم عام ہے، خواہ وقتی ہو یا قضا، اس میں یہ تشریح نہیں کہ وقتی نماز پڑھو اور قضا نماز نہ پڑھو ، بلکہ یہ حکم وقتی اور قضا دونوں نمازوں کے لئے ہے، اس کے بیان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول و فعل دونوں موجود ہے ، چنانچہ غزوئہ احزاب جس کو غزوئہ خندق بھی کہتے ہیں ، جب کفار قریش وغیرہ جن کی تعداد 24ہزار تھی، مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوئے اور صحابہ کرام کی تعداد صرف تین ہزار تھی ، اس واقعہ کے اندر بہت دیر ہوگئی ، یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گذر گیا ، صحابہ وغیرہ بہت پریشان تھے ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا : اے بلال اذان دے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا فرمائی ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دوسرے مرتبہ حکم ہوا کہ اقامت کہو تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ اقامت فرمائی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عصر کی نماز ادا فرمائی ، تیسری مرتبہ حکم ہوا کہ اقامت کہو پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی اور پھر حکم ہوا اقامت کہنے کا، پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا فرمائی۔


مسند امام احمد بن حنبل میں ہے ، جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ میں نے عصر کی نماز ادا کی ہے یا نہیں ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ نہیں ، تب حضرت بلال کو حکم ہوا ، اقامت کہو ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پہلے عصر کی نماز ادا فرمائی پھرا س کے بعد مغرب کی نماز دوبارہ ادا فرمائی، طبرانی اور بیہقی شریف میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہو اس کو یہ یاد آجائے کہ میں نے پہلے کی نماز نہیں پرھی تو اس کو لازم ہے کہ اس نماز کو جو امام کے ساتھ پڑھتا ہو ادا کرے ، پھر اس نماز کو پڑھے جو یاد آئی اور اس نماز کو دوبارہ پڑھے جو امام کے ساتھ ، بخاری شریف اور مسلم شریف میں ہے، فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے :




من نام عن الصلوٰۃ اومنسیھا فلیدء ھا اذا ذکرھا فان ذالک وقتھا۔

فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو سو گیا نماز سے یا بھول گیا پس ادا کرے اس نماز کو جب وہ یاد آجائے ، یہ یاد آنا اس نماز کے لئے ادا کرنے کا وقت ہے ، مگر تین وقتوں کے سوا ، یعنی طلوع ، غروب ، اور زوال ، مذکور عبد الحق اگر حواس خمسہ درست رہ کر نماز قضا سے انکار کیا جس کا ادا کرنا قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے ، اس نے قرآن م حدیث اور اجماع امت کو انکار کیا ، قضا نمازکو ادا کرنا فرض ہے ، اس نے اس فرض کو بھی انکار کیا، یہ اسلام سے خارج کافر ہوا، اور یہ اس نے لوگوں کے سامنے کہا ہے ، لہٰذا اس کو توبہ اجلاسی کرنا فرض ہے اور اگر اس کو نکاح ہے تو اس کی عورت اس پر حرام ہوگئی ، جب تک وہ اجلاسی توبہ نہ کرے اور دوبارہ نکاح نہ کرے تب تک اس کو اپنی عورت کے ساتھ صحبت کرنا حرام ہے ، اگر اس نے توبہ اجلاسی کرنے سے انکار کیا تو مسلمانوں کو لازم ہے کہ اس کے ساتھ قطع تعلق یعنی اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا، وغیرہ ترک کردیں ، اگر اس نے بطور مذاق ہی کہا ہو ، جیسا کوئی کہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے وہابی یا قادیانی ہوتاہے تو ایسا شخص کافر ہوجاتا ہے ، کیونکہ یہ فرقے تمام کے تمام مرتد اسلام سے خارج ہیں ، کفر پر راضی رہنا بھی کفر ہے، اللہ عزوجل نے حکم دیا :

فلا تقعد بعد الذکر مع القوم الظالمین ۔


اے نبی( صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم )قرآن نازل ہونے کے بعد ظالموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑدے ، اب جو یماندار ہیں ، اس پر عمل کریں ۔




تلک عشرۃ کاملۃ لطائفۃٍ حادثۃٍ کاذبۃٍ خادعۃ

تلک عشرۃ کاملۃ لطائفۃٍ حادثۃٍ کاذبۃٍ خادعۃ



اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری


ہمارا سابق اشتہار معززین کی نظروں سے گذرا ہوگا ، جس میں تین سوال فرقہ حادثہ پر کئے تھے ، ان کا جواب ہندوستان و پنجاب کے لکھے پڑھے آدمیوں سے نہ بنا اور نہ بنے گا، ادھر کے بے علموں سے کیا بنتا ، پھر ناظرین کی دلچسپی کے لئے اس فرقہ کے دعویٰ کے مطابق دس سوال کرتا ہوں ، تاکہ سمجھدار آدمی ان سے طلب حدیث کر کے ناطقہ بند کرے ، اس فرقہ کا دعویٰ ہے جو چیز حدیث صحیحہ سے جائز نہیں وہ سب ناجائز ہے، حرام ، بدعت ہیں ۔

(1) س :۔  آپ لوگ قیام میں دونوں قدموں کے درمیان کتنا فاصلہ رکھتے ہو، اس فاصلہ رکھنے پر رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟

(3) س :۔  اگر دونوں قدموں کو ملا کر رکھتے ہو۔ پھر بھی ملا کر رکھنے کے لئے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

(3) س :۔  جب تم قیام میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے کے اوپر بھی رسول  صلی اللہ علیہ

واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

(4) س:۔  اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو بند کرنے میں بھی رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

(5) س :۔  پھر جب رکوع کرتے ہو رکوع میں کدھر دیکھتے ہو ، اس دیکھنے پر بھی رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

(6) س :۔  اگر آنکھوں کو کھلے رکھتے ہو تو پھر بھی کھلے رکھنے پر رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قول یا فعل پیش کرو ؟

( 7) س :۔  جب رکوع سے اٹھتے ہو اور قومہ میں رہتے ہو ، کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟

(8) س:۔  اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو پھر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟




(9) س:۔  جب سجدہ میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول و فعل پیش کرو ؟

( 10) س :۔  اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو اس بند کرنے کے واسطے بھی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟

یہ دس سوال ہیں ، اس پر اگر حدیث صحیح پیش کرو تمہارے واسطے بہتر ہوگا ورنہ یاد رکھو حدیث صحیح سے ثابت ہے تمہاری نہ نماز مقبول نہ روزہ وغیرہ ، اور حدیث دار قطنی کے مصداق بلاریب بن جاؤ گے اور سینے کے اور ہاتھ باندھنا آمین پکار کر کہنا اور رفع یدین کرنا ان کو سنت کہتے ہیں یہ بتاؤ کس حدیث سے ان کی سنت ثابت ہے ؟ ورنہ افعال مذکور کو سنت کہنا تمہارے دعویٰ کے مطابق بدعت ہے ، اور افعال مذکور کو سنت کہنے والا بدعتی ہے ۔

اللہ عزوجل نے جھوٹوں پر لعنت بھیجا ہے ، مگر میسوری مشتہر نے لعنت کی کچھ پروانہ کی ، چامراج


نگر کے قصہ کے متعلق سب جھوٹ لکھ مارا ، قصہ یوں ہے ، چند سال پیشتر میں چامراج نگر میں تھا ، ایک روز مشتہر مغرب کی نماز میں شریک نماز ہوا، اور آمین بلند آواز سے پکاری اور میں نے بعد فراغ نماز کے پوچھا کہ یہ کس نے اس زور سے آمین کہی ، مشتہر نے کہا میں نے کہی ، میں نے ان کو کیا ادھر آیئے ، پھر وہ آکر میرے پاس بیٹھ گئے ،

میں نے مشتہر کو پوچھا کہ آمین کون صیغہ ہے ؟ اور آمین کس وزن پر ہے ؟ آمین میں کونسی مدہے ؟ اور آمین میں اجتماع ساکنیں کیوں جائز ہوا ، مشتہر نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں بے علم ہوں ، مجھے علم نہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ آمین کہنا جائز ہے یا ناجائز ؟ میں نے کہا کہ آپ کے سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بت علم ہیں اس لئے آمین کو کوئی مسلمان ناجائز نہیں کہہ سکتا ہر ایک مسلمان کے نزدیک جائز ہے ، صرف اختلاف ہے اس کے آہستہ کرنے میں اور بلند آواز سے کرنے میں ، آپ نے جو مقتدی ہو کر بلند آواز سے آمین کہی وہ کونسی حدیث سے ثابت ہے ، مشتہر نے اس کے متعلق کوئی جواب نہ دیا ، مشتہر کے یوں لکھدیا کہ میں نے مشکوٰۃؔ اور کنزؔ پیش کرکے قائل کروایا ہوں، کیا ! مشکوٰۃ میں مقتدی ہو کر آمین پکارنے کی حدیث ہے ؟ کیا کنزؔ میں آمین پکارنا سنت لکھا ہے ؟ کیا تمہارے فرقہ کے درمیان


کوئی سمجھدار آدمی نہیں ؟ وہ مشتہر سے نہ پوچھے کہ تم نے یہ کیا لکھ دیا؟ اس اشتہار کا اثر تمہارے فرقہ پر اُلٹا پڑے گیا، کیونکہ آپ کے پاس کوئی حدیث قولی یا فعلی افعال مذکور کے ثبوت کے لئے نہیں ، علاوہ اس کے مشتہر مشکوٰۃ کی ایک حدیث اور کنز کی ایک عبارت نہیں پڑھ سکتا ، اس لئے وہ عربی ہیں ، عربی پڑھنے کے لئے قانون کی ضرورت ہے مشتہر کو مشکوٰۃ کے ساتھ اور کنزؔ کے ساتھ کیا نسبت ہے۔

چہ نسبت خال را باعالم پاک

کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک

بھلاجو آدمی اپنی زبان سے اقرار کرے اپنی بے علمی کا وہ بے علم آدمی اپنے جاننے والے آدمی کو قائل کروانا جھوٹے آدمی سچے آدمی کو جھوٹ بات پر قائل کروانا ایسا ہے کہ ’’ تف بسوئے آسماں بروئے خود است ‘‘ مشتہر کی بے علمی اس کے اشتہار سے ہی ظاہر ہے، خصوصاً اس کی سرخیٔ عنوان جو محض غلط ہے، مشتہر کی بے عنوانی سوال از آسماں جواب از کیسمان ، پنجاب اور ہندوستان کے پڑے لکھے جواب دینے سے حیران و پریشان ادھر کے بے علم نالاں و گریاں ہیں ، مگر آفریں ہے اس ٹکڑی پر جو جوانمرد اور بڑی ہمت والی ہے، جو حیا و شرم کی کچھ پروا نہیں کرتی ، گو حیا ایک جز ہے ایمان کا ، یہ جزوجائے تو جائے مگر اپنی ضد اور ہت نہ چھوڑے بے چارے غریب کو یہ معلوم نہیں ، اذافات الجزفات الکل ، اس ٹکڑی کا کوئی آدمی اگر سُنّیوں کی مسجد میں آجائے آمین پکار کر کہے اس پوچھتے ہیں اجی حدیث کے ٹھیکیدارو رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے حکم دیا ہے آمین پکار نے کی ، یا رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے




مقتدی ہو کر آمین پکار کہی ہے ؟ جواب دیتا ہے ، حدیث نہیں مگر سنت ہے ، پھر اس پوچھتے ہیں کہ اس کا سنت ہونا کس حدیث سے ثابت ہے ؟ پھر مسجد سے ایسا بھاگتا ہے جیسے شیطان اذان کے وقت میں انگلی کان میں رکھ کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے، اس کا بھاگنا مناسب ہے کیونکہ دعویٰ ہے حدیث کی ۔۔۔

تسبیح پر یا دانوں سے ذکر کرناجائز ہے یا نہیں ؟

تسبیح پر یا دانوں سے ذکر کرناجائز ہے یا نہیں ؟


سوال :۔  تسبیح پر یا دانوں سے ذکرکر ناجائز ہے یا نہیں ؟


جواب از:اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری




جواب :۔  احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ایک صحابیہ کے پاس تشریف لے گئے ، ان کے پاس کچھ کھجور کے گھٹلیاں سامنے تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ کیا کرتے ہو؟ صحابیہ نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان پر تسبیح تحلیل پڑھتی ہوں ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان دانوں پر تسبیح پڑھنے سے منع نہیں فرمایا ، ہمارے تسبیحوں میں بھی دانے ہوتے ہیں

جو دھاگے میں پرو دیتے ہیں ، یہ تسبیح رکھنا اس پر تسبیح تحلیل پڑھنا حدیث تقریری سے ثابت ہوا ، سلف سے لیکر خلف تک تسبیح پڑھتے آئے ، سوائے اس بد مذہب عبد الحق کے اور کوئی کسی نے تسبیح پر ذکر نا ناجائز نہیں کہا، اس نے جو کہا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تسبیح پر ذکر کرنے والے کو کوڑے مارے ہیں اور عیسائی مذہب کا طریقہ ہے ۔ یہ سب کاسب جھوٹ ہے ، اللہ جھوٹوں پر لعنت بھیجا ہے ، مسلمانوں کو لازم ہے کہ بے علم جاہلوں کی تقریر ہر گز نا سنیں ، البتہ اگر کوئی نیک کام کرے وہ اللہ ہی کے واسطے ہو ، لوگوں کو دکھانے کی غرض سے یا شہرت حاصل کرنے کی غرض سے نہ ہو۔

سوال :۔  ایک شخص بے ہوش ہوکر نماز جمعہ میں گر گیا ، اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اور باقی نمازیوں وپیش امام کو کیا کرنا چاہئے ؟


پیش امام محمد غوث ، کولیگل




جواب :۔  بے ہوشی زیادہ ہو یا کم اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ، ( عالمگیری ) لہٰذا اس آدمی کو جو بے ہوش ہوکر گرا اس پر لازم ہے وضو کر کے آجائے اگر امام نماز میں ہے تو دوبارہ نماز میں شریک ہوجائے ، اگر امام نماز سے فارغ ہونے کے بعد واپس آئے تو قضا نماز ظہر چار رکعت پڑھے ، باقی سب نمازیوں کی نمازصحیح اور درست ہوگئی خواہ امام کی ہو یا مقتدی کی کیونکہ ان کے سے ایسا کوئی فعل صادر نہیں ہوا ، جس سے نماز فاسد ہوجاتی ، جاہلوں کاکہنا ہر گز نہ مانو۔

سوال:۔  یہاں پر میت دفن کرنے کے بعد قبر پر ہاتھ رکھ کر میت کا نام لے کر میت سے گویا مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اے فلاں اگر منکر نکیر تجھ سے سوال کریں کہ تیرا رب کون ہے ؟ تو کہہ اللہ، تیرا رسول کون ہے ؟ تو کہہ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہیں ، تیرا مذہب کیا ہے ؟ تو کہہ اسلام ، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟


سید محمد حسین قادری ، بلگام

جواب :۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :

لقنوا مواتکم ، یعنی اپنے مردوں کو تلقین کرو ، مردے دو قسم پر ہیں ، ایک مردہ حقیقی ہے ، دوسرا مردہ مجازی، مردہ مجازی اس کو کہتے ہیں جو قریب المرگ ہے ، انسان کے جانکنی کے وقت اس کے پاس بیٹھ کر کلمہ طیب شریف پڑھنا ذرا آواز سے تاکہ وہ سنے اور اس کو بھی یاد آجائے ، اور پڑھے ۔


میت حقیقی وہ ہے جس کو دفن کرتے ہیں ، اس مذکورہ بالا حدیث شریف سے ظاہر ہوا کہ مردہ حقیقی کو تلقین کرنا کیونکہ حقیقت میں وہی مردہ ہے جس کو دفن کرتے ہیں ،
دفن کرنے کے بعد جو تلقین قبر پر ہاتھ رکھ کر کرتے ہیں یہی اصل سنت ہے
( جیسا کہ سوال میں درج ہے ) کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اس تلقین کے بعد جب دو فرشتے سوا ل کے لئے آتے ہیں
تو وہ ان کو جواب دیتا ہے ،
تب فرشتے آپس میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتے ہوئے جاتے ہیں کہ ہم کو معلوم تھا کہ تجھے لوگوں نے سکھایا ہے۔

شاید کسی بد مذہب وہابی آپ کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا ہوگا کہ یہ کرنا ناجائز ہے ،
کیونکہ تبرائی اور گلابی دونوں کے دونوں وہابیہ کے نزدیک تلقین ناجائز حرام اور بدعت شنیع ہے ،
اللہ پاک ان دونوں






فرقوں کو غارت کرے ، یہ بد مذہب فرقے لوگوں کو نیک کاموں سے روکتے ہیں ، گلابی وہابی زیادہ مفسد ہے ، یہ اپنے آپ کو سنی ، حنفی ، چشتی کہتے ہیں ، مگر ان کااعتقاد وہی وہابیہ تبرائی کا ہے۔

سوال :۔  زید نے ایک عورت سے زنا کیا ، ایک اولاد بھی ہوئی اب زید اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے ، تو کیا یہ نکاح ہوسکتا ہے ، یا نہیں ؟

سید محمد حسین قادری ، بلگام

جواب :۔  زید کو اس عورت کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے ، اگر یہ عورت حاملہ بھی ہو اور حمل اسی زانی کا ہے پھر اس کے ساتھ نکاح کے بعد صحبت کرنا بھی جائز ہے ،
اگر حمل کسی غیرکا ہے تو نکاح اس زانیہ کے ساتھ ہوسکتا ہے ، یعنی جائز ہے ، مگر اس کے ساتھ صحبت کرنا جائز نہیں ، تاوقت یہ کہ وضع حمل نہ ہوجائے ، ایسا کتب فتویٰ میں ہے ۔


سوال و جواب

سوال و جواب


سوال و جواب


جوابات از اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادریہ رضی اللہ عنہ




سوال :۔  کیا فرماتے ہیں علماء دین متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عبدالحق نامی ساکھ ستی منگل کہتا ہے کہ نماز قضا پڑھنا قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ، اور قضا نماز پڑھنے سے انکار کرتا ہے ۔

محمد غوث ، کولیگل


جواب :۔  الحمد للہ والمنہ وصلوٰۃ ولاسلام علیٰ رسولہ محمد و اٰلہ واصحابہ اجمعین۔

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : نماز قائم کرو یعنی نمازوں کو ادا کرو یہ حکم عام ہے، خواہ وقتی ہو یا قضا، اس میں یہ تشریح نہیں کہ وقتی نماز پڑھو اور قضا نماز نہ پڑھو ، بلکہ یہ حکم وقتی اور قضا دونوں نمازوں کے لئے ہے، اس کے بیان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول و فعل دونوں موجود ہے ، چنانچہ غزوئہ احزاب جس کو غزوئہ خندق بھی کہتے ہیں ، جب کفار قریش وغیرہ جن کی تعداد 24ہزار تھی، مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوئے اور صحابہ کرام کی تعداد صرف تین ہزار تھی ، اس واقعہ کے اندر بہت دیر ہوگئی ، یہاں تک کہ رات کا بڑا حصہ گذر گیا ، صحابہ وغیرہ بہت پریشان تھے ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو


ارشاد فرمایا : اے بلال اذان دے ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا فرمائی ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دوسرے مرتبہ حکم ہوا کہ اقامت کہو تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ اقامت فرمائی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عصر کی نماز ادا فرمائی ، تیسری مرتبہ حکم ہوا کہ اقامت کہو پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی اور پھر حکم ہوا اقامت کہنے کا، پھر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا فرمائی۔



مسند امام احمد بن حنبل میں ہے ، جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا فرمائی تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ میں نے عصر کی نماز ادا کی ہے یا نہیں ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ نہیں ، تب حضرت بلال کو حکم ہوا ، اقامت کہو ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پہلے عصر کی نماز ادا فرمائی پھرا س کے بعد مغرب کی نماز دوبارہ ادا فرمائی، طبرانی اور بیہقی شریف میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہو اس کو یہ یاد آجائے کہ میں نے پہلے کی نماز نہیں پرھی تو اس کو لازم ہے کہ اس نماز کو جو امام کے ساتھ پڑھتا ہو ادا کرے ، پھر اس نماز کو پڑھے جو یاد آئی اور اس نماز کو دوبارہ پڑھے جو امام کے ساتھ ، بخاری شریف اور مسلم شریف میں ہے، فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے :


من نام عن الصلوٰۃ اومنسیھا فلیدء ھا اذا ذکرھا فان ذالک وقتھا۔

فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جو سو گیا نماز سے یا بھول گیا پس ادا کرے اس نماز کو جب وہ یاد آجائے ، یہ یاد آنا اس نماز کے لئے ادا کرنے کا وقت ہے ، مگر تین وقتوں کے سوا ، یعنی طلوع ، غروب ، اور زوال ، مذکور عبد الحق اگر حواس خمسہ درست رہ کر نماز قضا سے انکار کیا جس کا ادا کرنا قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے ، اس نے قرآن م حدیث اور اجماع امت کو انکار کیا ، قضا نمازکو ادا کرنا فرض ہے ، اس نے اس فرض کو بھی انکار کیا، یہ اسلام سے خارج کافر ہوا، اور یہ اس نے لوگوں کے سامنے کہا ہے ، لہٰذا اس کو توبہ اجلاسی کرنا فرض ہے اور اگر اس کو نکاح ہے تو اس کی عورت اس پر حرام ہوگئی ، جب تک وہ اجلاسی توبہ نہ کرے اور دوبارہ نکاح نہ کرے تب تک اس کو اپنی عورت کے ساتھ



صحبت کرنا حرام ہے ، اگر اس نے توبہ اجلاسی کرنے سے انکار کیا تو مسلمانوں کو لازم ہے کہ اس کے ساتھ قطع تعلق یعنی اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا، وغیرہ ترک کردیں ، اگر اس نے بطور مذاق ہی کہا ہو ، جیسا کوئی کہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے وہابی یا قادیانی ہوتاہے تو ایسا شخص کافر ہوجاتا ہے ، کیونکہ یہ فرقے تمام کے تمام مرتد اسلام سے خارج ہیں ، کفر پر راضی رہنا بھی کفر ہے، اللہ عزوجل نے حکم دیا :

فلا تقعد بعد الذکر مع القوم الظالمین ۔

اے نبی( صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم )قرآن نازل ہونے کے بعد ظالموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑدے ، اب جو یماندار ہیں ، اس پر عمل کریں ۔



علم فقہ کے مدوین

علم فقہ کے مدوین




اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری علیہ الرحمہ کے مضمون کاایک حصہ


مذکورہ بالا احادیث کے جانچ پڑتال کرنے کے لئے ایک دوسرے سے تمیز کرنے کے لئے صحیح کو ، سقیم کو ، جداکرنے

؂ے لئے اللہ پاک نے مجتہد عظام پیدا کردیا ، ہر ایک مجتہد نے اس کی صحت اور جانچنے کے لئے شرائط مقرر کر دیا ہے ، جب کوئی حدیث مجتہد کے پاس اس کے شرائط کے مطابق ثابت ہوجائے تو وہ اس حدیث کو اپنے مدعیٰ ثابت کرے کے لئے دلیل بنا دیتے ہیں ، ورنہ اس کو کوئی دوسری تادیل کرتے ہیں تاکہ احادیث پر عمل کرنا ممکن ہوجائے ،

ورنہ احادیث پر عمل کرنا محال ہوجاتا ہے ، مثلاً سینہ پر ہاتھ باندھنا نماز میں ، ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ، ناف کے اوپر ہاتھ باندھنا یہ سب احادیث سے ثابت ہے ،

ان سب احادیث پر ایک وقت عمل کرنا محال ہے ، جس نے سینہ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی ، اس نے سینے کے نیچے اور ناف کے اوپر ، ناف کے نیچے کے احادیث پر عمل کرنا مشکل ہوجاتا ہے ، اس لئے شرط مقرر ہوئے ، ہر مجتہد نے اپنے شرائط کے ساتھ ان تمام احادیث میں سے ایک حدیث کو دلیل بنایا۔

مثلاً حنفی مذہب میں نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا سنت ہے ( ابو داؤد اور ترمذی شریف )سے ثابت ہے ، فرمایا راوی مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ نے:

السنت فی الصلوٰۃ وضع الیمنیٰ علی الشمال تحت السرۃ۔

یعنی سنت ہے نماز میں رکھنا دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے جب راوی صحابہ سنت کہے اس سے مراد ، نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی سنت ہے،



 دیکھو اس حدیث شریف میں لفظ سنت موجود ہے سنت اس فعل کو کہتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو یا اپنی عمر شریف میں ایک دو مرتبہ چھوڑ دیا ہو ، باقی احادیث کو حنفیوں نے تاویل کیا ہے ، نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا یا سینے کے نیچے


یا ناف کے یہ جواز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ایک دو مرتبہ کیا ہے، مگر سنت موکدہ نماز میں ہاتھوں کو باندھنا ناف کے نیچے ہے ، ہر مجتہد کے پاس قرآن و حدیث بطور اصول کے ہے اسی لئے چاروں مذہب حنفی ، شافعی ، مالکی ، اور حنبلی حق ہیں ۔تاویل مذکور بالا صرف عمل کے لئے ہے بخلاف تبرائی وہابی کے جن کا دعویٰ ہے خدا ورسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے سوا کسی تیسرے کی بات ماننا کفر اور شرک ہے، یہ فرقہ کسی ایک حدیث پر عمل نہیں کرسکتا ، ایک حدیث پر عمل کرنے سے دوسرے حدیث کا خلاف لازم آتا ہے، کیونکہ وہ بھی تو حدیث ہی ہے اس پر عمل کیوں نہیں کیا ؟ اور وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے یہ حدیث صحیح ہے یا وہ حدیث ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے کسی حدیث کے متعلق یہ نہیں فرمایا ، یہ اصطلاح علماء جرح و تعدیل کا ہے اگر یہ فرقہ اس کو مانے گا یہ تو ان کی تقلید ٹھہری ، تقلید کرنا اس گمراہ فرقہ کے نزدیک کفر و شرک ہے یہ اپنے زعم باطل سے اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں، لہٰذا یہ فرقہ کسی حدیث پر عمل نہیں کرسکتا اگر چہ زبان سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم عمل بالحدیث ہیں ۔

سنی مسلمانوں کو لازم ہے کہ معلوم کریں فقہ کیا چیز ہے ، اس کا بانی کون ہے؟ لہٰذا مختصر چند باتیں اس کے متعلق نقل کرتا ہوں ، تاکہ سنی بھائی بد مذہب وہابیہ وغیرہ کے دھوکوں سے محفوظ رہیں ، فقہ لغت میں کسی چیز کے جاننے کو کہتے ہیں ، حرف میں مخصوص ہوا علم شریعت کو فقہ کہتے ہیں ، تعریف فقہ یہ ہے :

العلم بالاحکام الشرعیۃ الفرعیۃ المکتسب من ادا التھا التفصیلیہ ۔ (درالمختار)

 یعنی فقہ عبارت ہے احکام شرعی فرعی کے اس علم سے جو حاصل ہوا احکام کے دلائلی مفصلہ سے ، احکام فرعی وہ ہے کو عمل کے متعلق ہو اور اعتقاد کے متعلق ہو ، ان کو احکام فرعی وہ ہے جو عمل کے متعلق ہو اور اعتقاد کے متعلق ہو ، ان کو احکام اصول کہتے ہیں ، دلائل تفصیلیہ سے مراد چار اصول ہیں ، یعنی قرآن ، سنت اجماع اور قیاس مجتہد اور فقہ کے سب سائل انہیں چار اصولوں سے ثابت ہیں ،

 جس نے فقہ کا انکار کیا اس نے قرآن حدیث کو انکار کیا وہ اسلام سے خارج ہوا ، جیسے بد مذہب تبرائی وہابی جواپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں ، یہ فرقہ العیاذ باللہ فقہ شریف کی بہت توہین اور برا بھلا کہتا ہے۔

فقہ بحث کرتا ہے عاقل بالغ کے فعل سے ، ثبوت کی راہ سے یا سب کی راہ سے ، ثبوت کی راہ سے

یعنی اس عاقل بالغ کو خواہ مرد ہو یا عورت یہ کرنا واجب ہے ، یہ کرنا سنت ہے ، یہ کرنا مستحب ہے اور مباح ہے ، یاسب کی راہ سے یعنی اس عاقل بالغ کو یہ کرنا حرام ہے ، یہ کرنا مکروہ تحریمی ہے ، یہ کرنا مکروہ تنزیہی ہے

، امام عبدالوہاب شیرانی شافعی نے میزان شیرانی میں مجتہد فقہ کی سند متصل یوں لکھی ہے : امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی فقہ کی ، حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے ،

حضرت عطاء رضی اللہ عنہ کی روایت کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے روایت کی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، حضرت نبی کریم ی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روایت کی حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے روایت کی حضرت اللہ عزوجل سے ۔




حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ نے فقہ کی روایت کی حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت نبی کریم ی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ، حضرت نبی کریم ی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ، حضرت جبرئیل  علیہ اسلام نے حضرت اللہ عزوجل سے۔


حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ نے روایت کی حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے،حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ نے آخری سند تک اور حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے فقہ کی روایت کی حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ سے، حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ نے روایت کی   حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے آخری سند تک ۔

حضرات علماء کرام نے حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دوسری سند متصل یوں بیان فرمائی ، حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ نے علم فقہ حاصل کیا ، حضرت حماد رضی اللہ عنہ سے ، حضرت حماد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔

حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ سے پہلے لوگ اپنے حفظ پر اعتبار کرتے تھے ،

جب امام نے علم کو

منتشر دیکھا متاخرین کے سوء حفظ سے ڈرے، مبادا علم ضائع نہ ہوجائے ، پھر امام نے علم فقہ کی تدوین کے بانی ہوئے، حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ، آپ کے شاگرد حضرت امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ اور حضرت امام محمدر ضی اللہ عنہ لکھتے تھے، اس طرح تدوین رہی عبادات کو مقام کیا ، کتاب طہارت سے ابتداء ہوئی ، اس کے بعد صلوات پھر صوم پھر باقی عبادات اور معاملات سے مواریث پر خاتمہ کیا۔ ( مجموعہ مسانید خوارزمی )۔

حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ نے کیا عمدہ نیک طریقہ نکالا ،

 آپ سے پہلے یہ طریقہ کسی نے نہیں نکالا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کوئی نیک طریقہ نکالے اس کو اس کا ثواب ملے گااور اس کو اس شخص کے برابر ثواب ملے گا جو اس نیک طریقہ پر چلے گا، اوراس کے بعد حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ نے موطا میں وہی طریقہ اختیار کیا اوسان کے بعد علماء محدثین نے کتابیں لکھنی شروع کیں ، حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کو ان سب کے برابر قیامت تک ثواب ملتا رہے گا اور فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے:

فضائل طلب علم

فضائل طلب علم


فضائل طلب علم





(از حضرت  سید مقبول احمد شاہ قادری مدظلہٗ تعالیٰ )




اللہ عزوجل نے ہر مسلمان عاقل و بالغ پر خواہ مرد ہو یا عورت عبادت فرض کی ہے ، مگر یہ عبادت موقوف ہے علم دین سیکھنے پر بندوں علم دین عبادت کیونکر ہوسکتی ہے ؟ لہٰذا علم دین سیکھنا فرض ہوا، اللہ عزوجل کا ارشاد ہے،



ماکان المومنین لینفروا کافۃ فلولا نفرمن کل فرفۃ طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا لعلھم یحدزون۔



ترجمہ:  یعنی مسلمانوں کو زیبا نہیں کہ سب کے سب باہر جاویں ، پس کیوں نہیں ہر فرقہ میں سے ایک ٹکڑا جاتا اور فقہ دین حاصل کرتا تاکہ عذاب الٰہی کا ڈر سنائیں اپنی قوم کو جب وہ لوٹ کر اپنے پاس آئے ،
اس امید سے کہ سب اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے پرہیز کریں ، اس آیۂ کریم کے درمیان اللہ پاک نے بعضے مسلمانوں کو باہر جانا فرض کردیا خواہ جہاد کے لئے ہو یا علم دین سیکھنے کے لئے ، اور جہاد میں بھی علم دین سیکھتے تھے ، کیونکہ قرآن مجید کے نزول کا زمانہ تھا،اس آیۂ کریم سے ظاہر ہے کہ طلب علم میں دین ہی کے لئے باہر جانا ہوا ، اللہ پاک نے بعضے مسلمانوں پر باہر جاکر علم دین حاصل کرنا فرض کردیا، جب یہ علماء اپنی قوم کی طرف لوٹ آئیں تو ان لوگوں پرجو وطن اور گھروں میں مقیم ہیں ان علماء کی اتباع ، اوقتداء اور تقلید فرض کردیا، یعنی یہ علماء جو مسائل شرعی ان لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں ان پر ان کو عمل کرنا فرض ہوا اور اس سیکھنے اور سکھانے سے اللہ پاک کی وہ عبادت جو سب پر فرض ہے کمال خوبی کے ساتھ ادا ہوجائے گی
، مذکورئہ بالاآیۂ کریم میں علم دین سیکھنا اور مجتہیدیں کی تقلید کرنا فرض کردیا ، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ جل شانہ فرماتے ہیں:  فاسئلوا ھل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۔




یعنی پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں ، یاد رکھنے والوں سے مراد مجتہدین عظام ہیں، جو قرآن و حدیث کے ماہراور جاننے وا لے ہیں ، نہ یہ مذہب جو مشکوٰۃ شریف کے ایک جزوی ترجمہ سے





بھی پوری طرح واقف نہیں ۔




حدیث نبوی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم طلب علم کے فضائل کے متعلق


فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :


من سلک طریقاً یطلب فیہ علماً سلک اللہ بہ طریقاً الی الجنۃ ۔ (مسلم )



یعنی جو شخص چلے ایک راستہ کہ طلب کرے اس میں علم ، اللہ پاک چلادے اس کو جنت کی راہ ، اور فرمایا فرشتے طلب علم کے کام سے خوش ہوکر اپنے بازوؤں کو اس کے لئے بچھاتے ہیں ۔ ( مسند امام احمد و حاکم )۔



اور فرمایا اگر تو کوئی علم کا باب سیکھے تو اس سے بہتر ہے کہ (100)سو رکعت نفل پڑھے ، ( ابن عبدالبر )، اور فرمایا آدمی کو علم کا کوئی باب سیکھنا اس کے حق میں دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے ، ( ابن حبان ) ، فرمایا:



طلب العلم فریضۃٌ علی کل مسلمٍ ۔ ( ابن ماجہ )



علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ، اور فرمایا علم طلب کرو اگر چین میں ہو یعنی بہت دور ، اور فرمایا کہ علم وہ خزانہ ہے کہ جس کی کنجیاں سوال ہیں ، پس علم کا سوال کرو ، کہ اس میں چار اشخاص کو ثواب ملتا ہے ، اول سوال کرنے والے کو ، دوسرے عالم کو ، تیسرے سننے والے کو ، چوتھے اس کو جو ان سے محبت رکھتا ہو ، (ابونعیم ) ، فرمایا جاہل کو نا چاہئے کہ اپنے جہل پر خوموش بیٹھے رہے اور نہ عالم کو اپنے علم پر خاموش رہنا چاہئے ، یعنی جاہل کو رفع جہالت کے لئے سوال کرنا چاہئے اور عالم کو اس کا جواب دینا چاہئے ، ( طبرانی و ابو نعیم ) حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کی حدیث میں ارشاد ہے کہ مجلس علم میں حاضر رہنا ہزار رکعتیں پڑھنے سے اور ہزار بیماروں کی عیادت اور ہزار جنازوں میں شرکت کرنے سے بہترہے، پس کسی نے عرض کیا کہ قرآن تلاوت کرنے سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا قرآں بدوں علم کے کب مفید؟ ( ابن جوزی ) اور فرمایا جس شخص کو موت آئے کہ وہ اسلام کو زندہ کرنے کے لئے علم سیکھتا ہے تو اس کا اور انبیاء کا درجہ جنت میں ہوگا ، ( دارمی )




آثار طلب علم کے فضائل کے متعلق





حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، میں طالب علم تھا ذلیل تھا ، اب جو میرے پاس لوگ سیکھنے لگے تو عزت والا ہوگیا ، اور اسی طرح ابن ملیکہ نے کہا ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مثل کسی کو نہیں دیکھا ، صورت کو دیکھو تو سب سے اچھی ، اگر گفتگو کریں تو سب سے فصیح اور فتویٰ دیں تو سب سے زیادہ علم والا معلوم ہوتا ہے، ابن مبارک فرماتے ہیں مجھ کو تعجب ہوتا ہے اس شخص پر جو علم کا طالب نہ ہو کہ اس کا نفس اس کو کسی بزرگی کی طرف کیسے بلاتا ہے ؟ بعض حکما کا قول ہے کہ ہم جتنا دو شخصوں پر ترس آتا ہے اور کسی پر نہیں آتا ایک تو اس پر کے علم کا طلب کرتا ہے اور سمجھتا نہیں ، اور ایک اس پر کہ علم سمجھتا ہے مگر اس کی طلب نہیں کرتا، حضرت ابو دردا ء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں ایک مسئلہ سیکھوں تو میرے نزدیک تمام رات کی شب بیداری سے اچھا ہے ، اور یہ بھی انہی کا قول ہے کہ عالم اور طالب علم خیر میں شریک ہیں اور دوسرے لوگ بے سود ہیں ، ان میں کسی کی بہتری نہیں ، اور یہ بھی انہی کا ارشاد ہے ، عالم ہو یا طالب علم یا سننے والا ان تین کے سوا چوتھا مت ہو، ورنہ ہلاک ہوجائے گا ، اور حضرت عطاء کا قول ہے ایک علم کی مجلس ستر مجلس لہو کا کفارہ ہوتی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہزار شب بیدار و ہزار روزہ وار عابدوں کا مرجانا ایسے عالم کے مرنے سے کم ہے جو خدائے تعالیٰ کے حلال و حرام کا ماہر ہو۔





حضرت امام شافعی فرماتے ہیں : علم کا طلب کرنا نفل پڑھنے سے افضل ہے ، اور ابن عبد الحکم نے کہا ہے کہ میں حضرت امام مالک رضی اللہ کے پاس سبق پڑھتا تھا کہ ظہر کا وقت آیا ، میں نے اپنی کتاب نماز پڑھنے کے لئے تہ کی ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے فلاں جس کے لئے تو اٹھا ہے وہ اس سے بہتر نہیں ہے ، جس میں تو تھا ، بشرطیکہ نیت درست ہو، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس کی یہ تجویز ہو کہ طلب علم جہاد نہیں ہے ، وہ اپنی عقل اور تجویز میں ناقص ہے۔





لوگوں کو علم دین سیکھانے کے متعلق





اللہ عزوجل کا ارشاد :



ولینذر واقوقھم اذا رجعو الیھم لعلھم یحذرون ،



یعنی ڈرائیں اپنی قوم کو جب وہ ان کی طرف لوٹ آئیں تاکہ وہ بچتے رہیں ، وہ علماء جب علم حاصل کر کے اپنی قول اور وطن کو لوٹ آئیں گے تو لوگوں کو علم دین کے تعلیم دیں گے ، اللہ پاک کی عبادت کی ترغیب دیں گے، اللہ پاک کے قہر و عذاب سے ڈرائیں گے ، علماء پر لوگوں کو علم دین سکھانا اور تبلیغ فرض ہوا ، ارشاد ہے :



واذا اخذ اللہ میثاق الذین اوقو الکتب لیتبیۃ للناس ولا تکتموانہ،



یعنی اللہ پاک نے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی وعدہ لیا کہ لوگوں میں اس کو بیان کریں اور نہ چھپائیں اسکو لوگوں سے ، اس آیۂ کریم میں علم دین لوگوں کو سکھا اور اس کا فرض ہونا مذکور ہے پھر ارشاد ہوتا ہے:



وان فریقاً منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون۔



البتہ ان میں ایک فرقہ جان بوجھ کر حق کو چھپاتا تھا، اس آیۂ کریم میں اللہ عزوجل نے علم دین چھپانے کی حرمت بیان فرمائی ، پھر ارشاد ہوتا ہے:



ومن یکتمھا فانہ اثم قبلہ۔



یعنی جو کوئی اس شہادت کو چھپائے بے شک اس کا دل گناہ گار ہے، اور فرمایا :



ومن احسن قولاً ممن ۔۔۔۔۔الی اللہ وعمل صالحاً۔



یعنی اس سے بہتر قول کس کا ہوسکتا ہے جس نے بلایا اللہ کی طرف اور کیا نیک کام ، پھر فرماتے ہیں۔



ادع الی الاسبیل ربک بالحکمت والمواعظۃ الحسنہ۔



یعنی بلاؤ لوگو ں کو اپنے رب کی طرف حکمت اور نصیحت کے ساتھ ، اور فرمایا:



ویعلمھم الکتٰب والحکمت۔





یعنی سکھانا ان کو کتاب اور عقلمندی ۔




احادیث نبوی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم تعلیم علم کے متعلق فضائل







فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے : اللہ تعالیٰ نے جب کسی عالم کو تو اس سے وعدہ بھی لے لیا ہے جو نبیوں سے لیاہے، کہ اس لوگوں میں بیان کرو اور نہ چھپاؤ اس کو لوگوں سے ، ( ابو نعیم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا:




لان یھدی اللہ بک رجالاً واحداً خیراً لک من الدنیا وما فیھا۔



( مسند امام احمد اور بخاری مسلم نے بھی یہی مضمون حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق روایت کیا ہے) یعنی اگر تیرے سبب سے خدا تعالیٰ ایک آدمی کو ہدایت کرے تو یہ تیرے حق میں دنیا اور اس کے درمیان کے چیزوں سے بہترہے ، اور فرمایا جو شخص علم کا ایک باب اس لئے سیکھے کہ لوگوں کو سکھاوے تو اس کو ستر نبیوں ، صدیقوں کا ثواب دیا جائے گا۔ ( ابو منصور دیلمی )



اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ السلام نے ارشاد فرمایا : جو شخص عالم ہو علم کے بموجب عمل کرتا ہو اور لوگوں کو علم سکھائے وہ آسمان اور زمین کے ملکوت میں عظیم کہلاتا ہے ۔ ( ابوالعباس )



نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے ، جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ عبادت کرنے والوں اور جہاد کرنے والوں سے ارشاد فرمائے گا کہ جنت میں جاؤ ، عالم عرض کریں گے کہ الٰہی انہوں نے ہمارے علم کے طفیل سے عبادت اور جہاد کیا یعنی شایان اکرام ہم ( علماء ) ہیں اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا تم میرے نزدیک میرے بعض فرشتوں کے مثل ہو ، تم شفاعت کرو ، تمہاری شفاعت منظور ہوگی ، پس وہ سفارش کریں گے پھر جنت میں داخل ہوں گے ، اور یہ رتبہ اس علم کا ہے جو تعلیم سے دوسروں کو پہنچے ، اور اس علم کا نہیں جو فقط اس شخص کے ساتھ رہے دوسروں کو نہ پہنچے، اور ایک حدیث شریف میں ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :



ان اللہ عزوجل لاینزع العلم انزاعاً من الناس بعد ان یوتھم ایاہ ولکن یذھب بذھاب العلماء ذھب عالم ذھب بما معہ من العلم حتیٰ اذالم یبق الارؤساء جھالا ان سئلوا افتوا





بغیر علم فیضلون ویضلون ، ( بخاری ، مسلم )



یعنی اللہ اللہ پاک لوگوں سے علم چھین نہیں لیتا ، مگر علماء کو لے جانے سے علم بھی چلاجاتا ہے ، پس جب کوئی عالم چلا جاتا ہے تو اس کے ساتھ علم بھی چلا جاتا ہے ، یہاں تک بجز جاہل سرداروں کے اور کوئی نہیں رہتا ، اور ان سے لوگ پوچھتے ہیں تو بے علمی ہے فتویٰ دیتے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔



فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :



من علم علماً فکتمہ الجمہ اللہ یوم القیامت بلجام من نار۔



یعنی جو شخص کوئی علم سیکھے اس کو چھپائے اللہ تعالیٰ اس کو آگ کی لگام قیامت کے دن دیگا ، اور فرمایا خوب عطا عمدہ ہدیہ کلمہ حکمت ہے ، کس کو تو سنے اور یاد رکھے تو ایک سال کی عبادت کے برابر ہے، ( طبرانی ) اور فرمایا:



الدنیا ملعونۃ ملعون مافیھا لاذکر اللہ سبحانہ وما والاہ او معلماً او متعلماً۔



یعنی دنیا ملعون ہے اور جو چیز اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے ، مگر ذکر اللہ پاک کا اور کو اس کے قریب ہو ، علم دین کی تعلیم دینے والا اور علم دین سیکھنے والا ، اور فرمایا:



ان اللہ سبحانہ ملائکتہ واھل السمواتہ وارضہ حتٰی النملہ فی حجرھا و حتٰی الحوت فی البحر یصلون علیٰ معلم الناس الخیر ۔



یعنی اللہ سبحان تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور اس کے آسمان زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی دریا میں رحمت بھیجتے ہیں ، اس پو جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دے ۔ ( ترمذی )



اور فرمایا مسلمان اپنے بھائی کو اس سے بڑھ کر کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا ہے جو عمدہ بات اس نے سنی ہو وہ دوسرے کو بھی سنادے ۔ ( ابن عبد البر )



اور فرمایا ایماندار اگر ایک کلمہ خیر سنے اور اس کے موجب عمل کرے تو اس کے حق میں ایک برس کی عبادت سے بہتر ہے ۔ ( ابن مبارک )







ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم باہر تشریف لائے ، دومجلسوں کو دیکھا ایک اللہ تعالیٰ سے دعا چاہتی تھی اور اس کی طرف راغب تھی دوسری لوگوں کو کچھ تعلیم دیتی تھی ، آپ نے ارشاد فرمایا : مجلس اول کے لوگ اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں اگر وہ چاہے تو ان کو دے اور چاہے نہ دے، مگر دوسری مجلس والے لوگوں لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں اور مجھ کو بھی اللہ پاک نے تعلیم دینے والا ہی بناکر بھیجا ہے ، پھر آپ تعلیم دینے والی مجلس میں بیٹھ گئے ، ( ابن ماجہ ) فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے :




مثل ما بعثنی اللہ عزوجل بہ من الھدی والتعلیم کمثل الغیث اصاب ارضاً وکانت منھا بقعتہ قبلت المائء فانبتت الکلاء والعتب الکثیر وکانت منھا بقعتہ امسکت الماء فینفع اللہ عزوجل بھا الناس فشربوا منھا و ستعوا وزرعوا وکانت منھا بقعۃ قیعان لا تمسک الماء ولا تنیت کلاء۔



یعنی مثال اس چیز کی کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے دیکر بھیجا ہے ، یعنی ہدایت اور تعلیم کی ایسی مثال ہے کہ بہت سی بارش کسی زمین پر برسی اور اور اس میں ایسا ایک ٹکڑا ہے کہ پانی کو جذب کرتا ہے اورگھاس اور لکڑی بہت اگاتا ہے ، اور ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ پانی کو روکے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس پانی سے نفع پہنچاتا ہے کہ خود پئے اور زراعت کرے اور ایک ٹکڑا ایسا ہے نہ پانی کو روکتا ہے نہ اس میں گھاس یا اور کوئی چیز پیدا ہوتی ہے ، ( بخاری ، مسلم )اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علماء کو تین قسم پر تقسیم فرمائی ہے ،ایک جماعت وہ ہے جو اپنے علم کے مطابق خود عمل کریمگر دوسروں کو تعلیم نہ دے ، دوسری جماعت وہ ہے جو خود اپنے علم کے مطابق عمل بھی کرے اور دوسروں کو تعلیم بھی دے ، یہ جماعت سب سے بہتر ہے ، تیسری جماعت وہ ہے جو نہ خود اپنے علم کے مطابق عمل کرے نہ دوسروں کو تعلیم حق دے ، یہ سب سے بدتر ہے ، اور فرمایا:



اذا مات ابن آدم انقطع عملہ الامن ثلٰث علم ینتفع بہ اوصدقہ جاریہ اودلد صالح یدعو لہ بالخیر۔



یعنی جب مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ، مگر تین چیزیں باقی رہتی ہیں ، ایک علم کہ اس





سے فائدہ اٹھایاجاتا ہے یاصدقہ جاریہ یا اولاد صالحہ جو ماں باپ کے لئے دعائے خیر کرے ۔ ( مسلم ) اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ زندوں کی طرف سے مردوں کو ایصال ثواب پہنچتا اور نفع کرتا ہے، ورنہ ترغیب دلانے سے کیا فائدہ؟ بلکہ اس بارے میں نض صریح ہے ، ابوداؤد ، ترمذی شریف کی حدیث ، چنانچہ حضرت سعید بن عبادہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ میری ماں کا انتقال ہوا ہے ، اس نے کچھ وصیت نہیں کی ان کے لئے کیا صدقہ بہتر ہے ؟ ارشاد ہوا : الماء ، یعنی پانی تب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کنواں کھدوایا اور فرمایا ھذا البیرلام سعد



یعنی یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے، یہ کنواں مدینہ طیبہ کے اندر بہت زمانے تک موجود تھا ، اس کنوئیں کا پانی صحابہ اور تابعین  پئے ، یہ کنواں غیر اللہ کے نام سے پکارا گیا ، العیاذ باللہ صحابہ اور تابعین بد مذہب مرتد وہابیہ کے نزدیک حرام و ناپاک اور نجس پانی پیا ، خدا اس مرتد فرقہ کو غارت کرے ، یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ہوا اگر اس کنوئیں کا پانی حرام ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کا پانی پینے سے منع فرماتے ، منع فرمانا تو درکنار بلکہ ایسے کا رخیر کے لئے بہت ترغیب دلائے ، یہاں پر اس کا ذکر اتفاقاً آیا ہے ، یہ وقت اس کی ذکر کا نہیں ہے حلال خدا کو حرام کرنا اپنے طرف سے ، بدمذہب وہابیہ کا کام ہے ، اس لئے ان کو مسجدوں سے کتّوں کی طرح نکال دیتے ہیں ، یہ ذلت اور رسوائی ان کے لئے دنیا میں ہے ، آخرت میں وہابیہ جہنمیوں کے کتّے بن کر رہیں گے ۔



فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے :



ادال الخیر کفا علہٖ



نیک کام بتانے والا ، نیک کام کرنے کے برابر ہے ۔



 لا یحسدا لافی اثنین رجل آتاہ اللہ عزوجل حکمتا نھو یقضی بھا ویعلمھم الناس ورجل آتاہ اللہ مالا فسلطہ علٰی تھلکۃ فی الخیر ۔ ( ترمذی ، مسلم )



یعنی دوشخصوں پر حسد کیا جاتا ہے ،ایک وہ جو اللہ پاک نے علم وحکمت عطا کیا ہے اور وہ اس کے




مطابق عمل کرتا اور لوگوں کو سکھاتا ہے دوسراوہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے اور وہ اس کو نیک کاموں میں خرچ کرتا ہو اور فرمایا میرے نائبوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت ہو،لوگوں نے ریض کیا کہ آپ کے نائب کون ہیں ؟ وہ لوگ جو میرے طریقہ کو پسند کرتے ہیں ، اور خدا کے بندوں کو سکھاتے ہیں ۔


احکام اللہ و سول ﷺ

احکام اللہ و سول ﷺ



احکام اللہ و سول ﷺ





تم کہدو مجھے تو اس بات کا حکم ہوا ہے کہ خالص اللہ ہی کی عباد ت کروں اور اس بات کا بھی میں تابعداروں میں اول رہوں ۔ ، قرآن:پ23۔


رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ انسان کا پرکلام اس کے لئے وبال ہے ( اور) اس کے نفع کی چیز نہیں ہے مگر (نفع کی یہ چیزیں ہیں ) کسی بھلائی کا حکم کرنا ، یابرائی سے روکنا یا اللہ کو یاد کرنا۔ ( ترمذی )


رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ذکر اللہ کے سوا  زیادہ نہ بولا کرو ، کیونکہ ذکر اللہ کے سوا زیادہ کلام کرنے سے دل میں قساوت ( سختی ) پیدا ہوجاتی ہے اور بے شک سب لوگوں میں خدا سے زیادہ دور سخت دل ہی والا ہے ۔ ( مشکوۃ )


رسول خدا صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت کی کنجیاں لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے۔( ترغیب )




تم کہدو کہ عالم اور غیر عالم برابر نہیں ہوسکتے اور نصیحت بھی وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے اور دانا ہیں ۔قرآن پ23)


( ابو سعید و ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما) فرمایا حضور انور صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے مرنے والوں کو کلمہ تلقین کرو، ( ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا ) ، فرمایا رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے اگر تم مریض یا قریب مرگ کے پاس جاؤ تو دعا کرو کیونکہ فرشتے تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں ۔ ( مسلم )


( معاذ بن ابن جبل ) آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کسی کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ( محمد رسول اللہ ) ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ( ابوداؤد )



مسلمان اور عربی زبان

مسلمان اور عربی زبان


مسلمان اور عربی زبان


( از : حافظ عبد الطیف ، پیش امام ، چکمگلور )



( ایڈیٹر کو نامہ نگاروں کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ، تحصیل علم ضروری ہے ، کسی زبان میں کیوں نہ ہو۔ ’ ادارہ ‘ )

انا انزلناہ قراٰناً عربیاً لعلکم تعقلون ۔ ( سورئہ یوسف)

( تحقیق ہم نے اتارا اس کو قرآن عربی زبان میں تاکہ تم سمجھو)

دنیا میں تقریباً چار ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں ، بعضوں نے زبانوں کو بھی مراتب دیئے اور ان کی اہمیت کو حسب مراتب تسلیم کیا اور بعض زبانو ں کو بعض پر فوقیت دی اور بعض کا سیکھنا لازمی قرار دیا گیا ،
چنانچہ آج کل کے سیاسی زمروں میں ’ زبان ‘ بھی ایک اہم زیر بحث مسئلہ رہا اور بلحاظ اہمیت ملکی زبان ، دفتری زبان ، صابائی زبان ، تجارتی زبان ، مقامی زبان ، تانوی زبان ، لازمی زبان ، مرکزی زبان، وغیرہ مختلف پہلو اختیار کئے ،
اور زمانہ دراز سے چند کے متعلق بحثیں اور حجتیں ہورہی ہیں ، لیکن آج تک کسی ملک میں کوئی واحد زبان عام زبان قرار نہ پاسکی ۔

ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی کافی تعداد بستی ہے اور انہوں نے بھی مندرجہ بالا زیر بحث مسائل پر غور و خوض کیا اور اپنی اپنی دنیوی ضرورتوں کے مطابق بعض بعض زبانوں کو بعض پر اہمیت



دیتے ہوئے نہایت شوق و ذوق مختلف زبانوں پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کی مثل مشہور ہے ، ’’ الناس علی دین ملوکھم ‘‘ یعنی لوگ اہنے حاکم کے دین پر ہوتے ہیں ، چنانچہ جب ملک پر جب افغانوں اور مغلوں کا تسلط رہا تو لوگ اپنے حاکموں کی زبان یعنی فارسی سے محبت کرنے لگے اور اس زبان کو تمام زبانوں سے اہم سمجھا، چونکہ ان حاکموں کا دور حکومت ہندوستان پر صدیوں رہا ان کی زبان کا اثر بھی دیر پا رہا ، مذکورہ دور اور موجودہ دور کے درمیان تقریباً دو صدی کا وقفہ ہونے کے باوجود کسی فارسی الفاظ سرکاری دفاتر اور عوام کی زبان ابھی تک رائج ہیں ، اور ان کا استعمال باعث فخر سمجھا جاتا ہے ، مسلمانوں میں نماز کے بعد کی چند دعائیں آج بھی فارسی میں کہی جاتی ہیں اور بعض ادیب و مقررین دوران گفتگو و تقریر میں گلستاں ، بوستاں وغیرہ کے اشعار و محاورات استعمال کر کے اپنے آپ کو نہایت لائق و فائق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔


مغلوں کے دور حکومت کے بعد ہندوستان پر جب یوروپیو ں کا اقتدار بڑھا تو عوام کو انگریزی زبان اور انگریزی تہذیب سے وابستگی ہوگئی ، اور انگریزی دفتری زبان تسلیم کیا ، اور انگریزی تعلیم یافتہ کو اعلیٰ درجہ کا مذہب سمجھنے لگے ، اور اکثر مسلمان جنٹل مین بھی یوں فخریہ کہنے لگے کہ مجھے اردو ی اعربی بہت کم آتی ہے ، جب انگریزوں کا اقتدار بھی ہندوستان سے اٹھ گیا تو پھر تہذیب و تمدن نے پلٹا کھایا اور زبان بھی ایک اہم زیر بحث موضوع ہے ، بعضوں نے ہندی کو اہمیت دی کیونکہ یہ مرکزی زبان ہے ، بعضوں نے اردو کی تبلیغ پر کمر باندھا کیوں کہ یہ تمام زبانوں کا معجون ہے ، بعضوں نے اپنی اپنی صوبائی زبان کو اور بعضوں نے اپنی مادری زبان کو دوسری زبانوں پر ترجیح دی اور سب اپنی اپنی زبان کو مرکزی زبان بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔

لیکن افسوس کہ ان مرکزی زبان ، صوبائی زبان ، قومی زبان ، مداری زبان وغیرہ کے پرستاروں کو آج تک یہ خیال تک نہ پیدا ہوا کہ ایک ایسی زبان بھی ہے جس کو ہمارے پیارے دین اور پیارے مذہب سے گہرا تعلق ہے ، یعنی یہ وہ زبان ہے جس پر ہماری آخرت منحصر ہے ، اور جس پر ہمارے تمدن تہذیب اور سیاست کی بنیاد قائم ہے ۔



فتوی براشخاص اربعہ خبیثہ

فتوی براشخاص اربعہ خبیثہ


بشکریہ ’’ الوارث‘‘ بمبئی


ذیل کا مضمون ادارئہ ’’ الرشاد ‘‘ ماہنامہ ہانگل ، ہفتہ وار ، ’’ الوارث‘‘ بمبئی سے نقل کرتے ہیں ، تاکہ بے خبر مسلمانان اہل سنت والجماعت باطل فرقہ دیوبندی سے  پورے طور پر آگاہ ہی پائیں اور ان مکاروں سے ہر وقت دور رہنے کی کوشش کریں جو اپنے آپ کو سنی، حنفی، چشتی وغیرہ کہہ کر (باطل ) دیوبندی عقاید مسلمانوں میں پیدا کرنے کی از حد کوشش کرتے ہیں ، آج کل ان کی نقل وحرکت شہر ہبلی مین بہت زیادہ نظر آتی ہے
، لہٰذا اہل سنت والجماعت کو چاہئے کہ ذیل کا مضمون کافی غور و خوض سے ملاحظہ فرمائیں اور علماء اہل سنت والجماعت کی پیروی کریں ، تاکہ مسلمان اپنے مقصدِ زندگی میں کامیاب ہوجائیں ‘‘۔ ( ادارہ الرشاد )


از دارالافتا حضرت مولانا مولوی مفتی حکیم شائق احمد صاحب نعیمی قادری امام جامع مسجد کو وہ ضلع 24پر گنہ ۔


استفتاء :- کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدؔ کہتاہے کہ کتاب حفظ الایمان مصنفہ مولوی اثر مغلی تھانوی اور تقویۃالایمان مصنفہ مولوی محمد اسمعیل دہلوی اور رجوم

المذنبین تذکرۃ الرشید مصنفہ مولوی عبد الرشید گنگوہی ، یہ کتابیں بہت  معتبر ہیں ، اور یہ تمام علمائے دیوبند بہت بڑے متبع صفت متقی اور پرہیزگارہیں ،
شرک اور بدعت سے سخت نفرت کرتے ہیں دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیاز زیدؔ کا قول صحیح ہے یا غلط ؟ اور یہ کتابیں مسلمانوں کے لئے قابل عمل ہیں یا نہیں ؟ نیز یہ کہ ان کتابوں کے اندر جو مسائل ہیں ان پر اعتقاد رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟

المستفتی :- نور محمد میاں سبحانی رامپوری ٹیٹا گھڑھ ضلع 24پر گنہ ،


الجواب :- اللھم حدایۃ الحق والصواب






زید کاقول کہ کتاب حفظ الایمان مصنفہ مولوی اشرف علی تھانوی اور تقویت الایمان مصنفہ مولوی اسمٰعیل دہلوی اور رجوم المذنبین تذکرۃ الرشید وغیرہ بہت معتبر کتابیں ہیں بالکل غلط اور سراسر باطل ہے ، یاتو زیدؔ خود بہت جاہل ہے یا سخت بد عقیدہ ہے
اور مندرجہ بالا کتابیں بالکل ہی بد مذہبی اور بد عقیدگی سے بھری ہوئی ہیں بطور نمونہ چند عقائد کفریہ جن پر ساری دنیا کے علماء عرب و عجم سے کفر کے فتوے لکھے ہیں
کوئی ایمانداران مضامین کو پڑھنے کے بعد ہرگز ان ناپاک عقائد پر مطلع ہو کر ہرگز ہرگز ماننے کا روادار نہ ہوگا م ایمان سے بڑھ کر دنیا میں زیادہ عزیز مسلمان کے نزدیک کچھ نہیں ، اور ایمان نام ہے اللہ جل جلالہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت اور تعظیم کا،
ایمان کے ساتھ جس میں جتنے فضائل پائیں اسی قدر اس میں فضیلت ہے اور ایمان ہی نہیں مسلمان کے نزدیک وہ کچھ وقعت نہیں رکھتا ،
اگر چہ وہ کتنا ہی بڑا عالم و زائد و تارک الدنیا وغیرہ بنتا ہو ، مقصود یہ کہ ان کے مولوی عالم و فاضل ہونے کی وجہ سے انہیں اپنا پیشوا یا عالم و فاضل ہرگز نہ سمجھنا چاہئے ، جبکہ وہ اپنی صریح کفری عبادتوں میں خدا اور رسول جل جلالہ وصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کھلم کھلا توہین و تنقیص کرتے ہیں ، مثلاً ثبوت کے ملاحظہ ہو ۔


حفظ الایمان ص 7 میں کفری عبارت موجود ہے ، وہ آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کہا جانا اگر بقول زید صحیح ہو تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ، اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہے تو اس میں حضور کی کیا تخصیص ہے ، ایسا علم غیب تو زیدؔ ، عمرو بلکہ ہرصبی و مجنوں بلکہ ہر جمیع بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ‘‘ ۔


اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی شان میں کیسی صریح گستاخی کی ہے کہ حضور الصلوٰۃ والسلام کے علم غیب کو عمر بلکہ ہر بچے اور پاگل اور تمام جانوروں اور چوپائیوں کے لئے ہونا کہا، کیا ایمانی قلب و دماغ والے ایسے شخص کے کافر ہونے میں شک کر سکتے ہیں ؟ہرگز نہیں اس طرح اسمٰعیل دہلوی نے صراط مستقیم مطبوعہ صنیائی پریس ص 95پر لکھا ہے کہ

 ’’ وصرف ہمت بسوئے شیخ و اشال آل راز معظمین گو کہ جناب رسالت مآب باشند بچند ایں مرتبہ بدتراز استغراق در صورت گاؤ خرامت کہ چناں آں باتعظیم و اجلال بسویدائے دل انسان می چسپند بخلاف گاؤخر ‘‘

’’ یعنی حضور صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کاخیال نماز میں آجانا گدھے اور بیل کے خیال میں ڈوب جانے سے بدتر ہے ‘‘ معاذ اللہ اس گستاخ نے حضور صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی شان میں کسی قدر گستاخانہ انداز میں اپنے خبیث باطنی کا اظہار کیا ہے ، اسی طرح رشید احمد گنگوہی نے اپنے فتوے میں لکھا ہے ۔

’’ وقوع کذب کے معنی راست ہوگئے ، جو یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بول چکا ، ایسے کو تغلیل اور تضیق سے مامون کرنا چاہئے ‘‘۔





مطلب یہ کہ اگر کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بول چکا تو اس کو گمراہ اور فاسق نہیں کہنا چاہئے ، معاذ اللہ جو اللہ کو جھوٹا بنائے ، پھر بھی ایماندار ہی رہا ، لعنت ہو ایسے مذہب پر جس میں خدا کی توہین کا سبق ہو تقویت الایمان ص 33 پر ہے ، ’’ جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں ‘‘ یہ ہے عداوت رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ، کہ حضور مختار کل ہوکر کسی چیز کے مالک و مختار نہ ہوں مگر تمام دیوبندی وہابی اپنی چیز و مکان اور گھر کے سارے سامان کا اختیار رکھیں ‘‘، قاسم نانوتوی نے اپنی کتاب تخدیر الناس ص33 پر ختم بنوت کا انکار کیا ہے ، اور یہ کفر ہے ۔ عبارت یہ ہے :


’’ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا، چہ جائے گا آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے ، اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیاجائے ‘‘۔ ( نعوذ باللہ )

یہاں صرف لفظوں میں نبی ہونا بعد زمانہ نبوت کے ممکن مالیا اور اس عقیدہ فاسد پر علماء حرمین نے کفر کا فتویٰ شائع کیاہے ، اسی طرح سے تقویت الایمان ص 60پر ایک حدیث کا بالکل غلط مطلب لکھ دیا ، ص 3 پر دیکھئے ، ‘‘ یعنی میں بھی مرکہ ایک دن مرکر مٹی میں ملنے والا ہوں ، تقویت الایمان ص 60 ‘‘ نعوذ باللہ ، یہ حدیث کسی جگہ ثابت نہیں ہے بلکہ افترا اور بہتان باندھ کر بحکم اس حدیث کے مستحق جہنم ہوا ، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں ،

من کذب علیٰ مر۔۔د افلیبوأ مقعدہٗ فی النارہ

ترجمہ: جس نے مجھ پر بہتان باندھ کر اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جنہم میں بنالے ، اس حدیث کے حکم سے کبھی کا جہنم رسید ہوچکا ، حضور صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے کہیں نہیں فرمایا کہ ’’ میں گھر کر مٹی میں ملنے والا ہوں ‘‘ بلکہ یہ فرمایا ہے ،

ان اللہ حرم علیٰ الارض ان تاکل اجساد الانبیاء ۔

ترجمہ: یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ اجسام انبیاء کو کھائے ۔

ذان نبی اللہ حیٌ یرزق ۔



تو اللہ کے نبی زندہ ہیں ، روزی دئے جاتے ہیں ۔ رواہ ابوواؤ ونسائی وابن ماجہ وان امام احمد وابن خزیمہ ، وابن حبان و الدارلقطنی والحاکم وابو نعیم وغیر ہم عن سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( علیٰ شرائط صحیح البخاری )


یہ تمام اس حدیث کے راوی ہیں جو صحاح ستہ کی حدیث کے راوی ہیں اور امام بخاری نے اس کو نقل کیا ہے ،
الحمد للہ علیٰ ذالک ، ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ انبیاء اللہ زندہ ہیں ، جومر کر مٹی میں مل گئے کہتا ہو وہ کافر ہوگا ، ان تمام حوالہ کتب پر جن کا تذکرہ اور اوپر آچکا ہے تمام علماء کرام عرب و عجم نے متفقہ فیصلہ کفر کا صادر فرمایا ہے ، یہ وہابی دیوبندی اپنے ان عقائد باطلہ وفاسدہ کی بنا پر کافر بدوین مرتد ہیں ہرگز ہرگز ان تمام کتابوں کا پڑھنا ، رکھنا ان پر اعتقاد رکھنا جائز نہیں ، اور اس پر علماء دیوبند قابل اتباع ہیں ، علامہ قاضی عیاض شفا شریف فرماتے ہیں ۔

اجمع المسلمون ان شاتمہ صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کافوٌ من شک فی الکفرہٖ وعذابہٖ فقد کفرہٗ۔

یعنی تمام مسلمانوں کا اجتماع ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلمکی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے ، اور جو شخص اس پر مطلع ہونے کے بعد اور خبردار ہو کر اس کا کافر اور اور مستحق عذاب ہونے میں شک کرے ، وہ بھی کافر ہے ۔‘‘
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیشن گوئی کی ہے کہ :

یکون فی آخر مان دجالون کذابون یاتونکم من الاحادیث بمالم تسمعوا انتم ولا اٰباوکم ۔

یعنی ہونگے آخر زمانہ مین بڑے چھوٹے فریب دینے والے لوگ ایسی حدیث پڑھیں گے کہ نہ سنی ہوگی تم نے اور تمہارے باپ و ا دانے اور فرمایا :  ایاکم وایاھم

یعنی تم بچو ان سے اور ان کو اپنے سے دور رکھو ، بحمدتعالیٰ آج بد مذہبوں کی حقیقت طشت ازبام ہوگی ، خدا وند تعالیٰ بھی فرماتا ہے :

ان الذین یوذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاٰخرۃ وعدالھم عذاباً مھیناً ۔

یعنی نے شک جو لوگ اللہ اور رسول کو ایذا دیتے ہیں
( توہین اور گستاخی اور بے ادبی سے ) تکلیف دیتے ہیں ، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے ، اور اللہ نے ان کے رسوائی کا عذاب تیار کر رکھا ہے ، اس آیت میں ہر مسلمان کا ایمان ہے ، کوئی بھی مسلمان ان تمام کفریات مندرجہٗ بالاپر واقف ہو کر ذرہ بھی شک و تر دو میں نہیں پڑے گا۔

یہ تمام وہابیہ ، دیوبندیہ ہر گز اس قابل نہیں کہ ان کو مولیٰنا مولوی کہا جائے ، اور یہ ساری کتابیں گمراہ اور بد دین بنانے والی ہیں۔ کسی مسلمان کو ان کتب باطلہ کا پڑھنا جائز و درست نہیں ، بد مذہبوں سے دور رہنا واجب ہے ۔

ھذٰا عند واللہ اعلم بالصواب 12

نقل دستخط ) کتبہٗ فقیر شأمق احمد نعیمی قادری غفرلہٗ ، مفتی و خطیب جامع مسجد ، کھروہ ، ضلع 24،


پرگنہ ،


عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular