
خوش خبری
الحمد للہ عرسِ حافظ ملت پر ایک عظیم خوش خبری:
٦٠٥ سال بعد اس رسالے کا ترجمہ منظر عام پر۔
یہ کتاب تصوف کے دقیق مسائل پر مشتمل ہے۔
جس میں حضرت مخدوم علی مہائمی علیہ الرحمہ نے دائروں کی شکل بنا کر ان مسائل کو سمجھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
اس کتاب پر کام کرتے لگ بھگ دو سال ہوگئے۔
بہت پھوک پھوک کر ترجمہ ، کپموزنگ اور تصحیح کی گئی ہے تاکہ کتاب غلطیوں سے پاک رہے۔
جتنے مبارک موقع پر اس کتاب کی اشاعت کا اعلان ہوا ہے اتنے ہی مبارک موقع ( ۷ جمادی الآخرہ ۱٤٤٠ - ۱۳ فروی ۲۰۱۹ عرس مخدوم فقیہ علی مہائمی ) پر حضرت مولانا سعد پٹھان مہائمی ازہری خطیب و امام ماہم جامع مسجد کے دست مبارک سے اس کی رسم اجرا ہوگی۔
اس کی پی ڈی ایف فائل دستیاب نہ ہو سکے گی ، اس کے لیے پیشگی معذرت۔
ہاں اگر #بشارت #صدیقی صاحب چاہیں تو ممکن ہے۔
#فاروق خاں #مہائمی مصباحی۔

سچے_جھوٹے_کا_فرق
#سچے_جھوٹے_کا_فرق
سچا آدمی جہاں کہیں ہوتا ہے جس محفل میں ہوتا ہے بے خوف و بے خطر ہوتا اسے کوئی بات کہتے ہوئے نہ ڈر لگتا ہے اور نہ کوئی عار محسوس ہوتا ہے اسے اپنے آپ پر اعتماد ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس ایک جھوٹا انسان جس جگہ بھی ہوتا ہے ڈرا سہما دبا دبا اور خوف زدہ، اسے ہر وقت یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ کہیں اس کی پکڑ نہ کر لی جائے، کوئی بات کہتے ہوئے ڈرتا ہے، پچھلی باتوں کو یاد رکھنا پڑتا ہے کہ کہیں باتوں میں تضاد نہ پیدا ہو اور مبادا اس کا پول کھل جائے
سچے کی مثال اس پاکیزہ اور حلال گوریے کی ہے جو زمین پر بلاخوف و خطر اترتی ہے اور اپنے اور دوسروں کے رزق کا ذریعہ بنتی ہے جبکہ جھوٹا کوے کی مثل ہوتا ہے زمین پر اترتے ہوئے ڈرتا ہے ادھر ادھر دیکھتا ہے ذرا سی آہٹ پر خوفزدہ ہوکر اڑ جاتا جبکہ اسے نہ کوئی پکڑتا ہے نہ شکار کرکے کھاتا ہے پھر بھی اسے ہر آن ڈر لگا رہتا ہے
تو چڑیا بنیے کوا مت بنیے
#اختر_نور

اے نئے سال
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟
وقت گزرتا جا رہا ہے، زندگی کی برق رفتاری آنے والے پلوں کو ماضی میں تبدیل کرتی جا رہی ہے، ہر آنے والا کل، گزشتہ کل کا حصہ بنتا جا رہا، حیات مستعار کی قیمتی ساعتیں گھٹتی جا رہی ہیں، کتاب زیست کے اوراق پلٹتے جا رہے ہیں اور ہر ورق انسان کو اسکی موت کے قریب کرتا جا رہا ہے؛ لیکن ہمیں اپنے وقت کی قدر ہے نہ اسکو ضائع کر دینے کا ملال، حد تو یہ ہیکہ ہم اس نا قدری و بے حسی کی وجہ سے ہر نئے سالِ عیسوی کی آمد پر طوفانِ بد تمیزی کے ساتھ اسکا استقبال تو کر لیتے ہیں؛ لیکن گزرے دنوں میں اپنے کیے ہوئے اعمال کا محاسبہ کرنا بھول جاتے ہیں؛ تا آں کہ یہ نئے سال بھی انہیں تغافل و تکاسل اوربے خبری و بے توجہی کی نذر ہوجاتے ہیں؛ لیکن ہمیں اسکا ذرہ برابر بھی خیال نہیں آتا کہ: "غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردُوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی" ـ
اور جب بھی نئے سال کی آمد ہوتی ہے، تو ہم اس بھول بھلیوں میں سفر کرنے لگتے ہیں کہ ہمارا ایک سال بڑھ گیا ہے، جبکہ اگر عقل و فراست کو زحمتِ فکر دی جائے اور خرد مندی و ہوشمندی کے ساتھ سوچا جائے تو ہماری عمر کا ایک سال گھٹ چکا ہوتا ہے اور ہم اسی طرح موت کے قریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں:
ایک اور اینٹ گر گئی دیوار حیات سے
نادان کہہ رہے ہیں نیا سال مبارک
چناں چہ سال 2018 رخصت ہونے والا اور 2019 کی آمد ہونے والی ہے، یہ اور بات ہیکہ دن بھی وہی رہینگے اور مہینے بھی وہی؛ بدلنا ہے تو صرف ایک ہندسے کو ہے. لیکن آپ اس موقع پر مسلمانوں کی بھی اک بڑی تعداد کو سڑکوں پر کھڑے ہوکر، باہوں میں باہیں ڈالے، بارہ بجنے کا انتظار کرتے پائینگے اور نیو ایئر کی شام کو رنگین بنانے کیلیے آتش بازیاں کرتے، عیاشی و اوباشی کی حدوں کو پار کرتے،گانے بجانے کے ساتھ محفل رقص و سرود کا خاص اہتمام کرتے اور ہوٹلوں و پارکوں کو اپنی بے حیائی سے زینت بخشتے دیکھیں گے. نیز شراب و شباب کے نشے میں دھت ہو کر زنا کاری و بد کاری جیسے گناہ عظیم اور جرمِ سنگین میں ملوث بھی پائینگے ـ
مسلمانوں کے ان مایوس کن احوال و اطوار کو دیکھ کر افسردہ و پژمردہ خاطر و شکستہ دل میں اک معصومانہ سوال آتا ہے کہ:
پهیلی هوئی هے شہر میں عریانیت کی آنچ
تہذیب کے بدن سے قبا کون لے گیا؟
ساتھ ہی ذہن کے دریچے پر یہ سوال بھی بار بار دستک دیتا ہے کہ یہ سالوں کی تعیین و مہینوں کی تحدید تو صرف اپنی تاریخ کو یاد رکھنے کا ذریعہ ہے اور جب دن بھی وہی آنے ہیں، مہینوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہونی ہے اور انہی حالات سے دوچار ہونا ہے تو پھر یہ اسراف و تبذیر اور بے شرمی و بے غیرتی کی انتہا تو در کنار یہ نئے سال کی مبارکبادیاں اور اس میں سبقت لے جانے کی امنگ و ترنگ بھی آخر کیوں؟ اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے یہ سوچتے ہوئے بھی بہت شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ آخر مسلمانوں نے کیوں اپنے گلے میں مغربی تہذیب کا قلادہ ڈال کر، انکے اشاروں پر ناچنے اور انکے فسق آموز و فجور آمیز راستے پر چلنے کو اختیار کر لیا اور کیوں انہیں اسلامی تعلیمات برے معلوم ہونے لگے؟ اور اسی طرح "سیکڑوں باتوں کا رہ رہ کے خیال آتا ہے" جو ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے؛ کیوں کہ میری کوتاہ بیں نگاہوں نے تو کبھی کسی یہودی و عیسائی کو مسلمانوں کے تیوہار و پرب اور کسی مذہبی تقریب و جشن میں شریک ہوتے نہیں دیکھا؛ لیکن افسوس ہے ان کم فہم و نا اندیش مسلمانوں کی مغربی تقلید پر، کہ وہ عیسائیوں کے ہر خرافاتی تیوہار و یہودیوں کے بیہودہ جشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر نہ صرف اپنے وقار کو مجروح کرتے ہیں، بلکہ اپنے دین و مذہب کا مذاق بناکر اسکی شان و شوکت اور جاہ و حشم کو مغرب کے نام پر بھینٹ بھی چڑھاتےہیں اور ساتھ ہی اپنے مسلمان ہونے پر گویا نا شکری کا کھلا ثبوت بھی پیش کرتے ہیں ـ ہمیں شکایت مغرب سے نہیں، ان اسلام کے نام پر دم بھرنے والوں سے ہے؛ جو اپنے اسلامی ثقافت و کلچر کو چھوڑ کر، ان اسلام و مسلمان دشمنوں کی پیروکاری کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے اور انکی اندھی تقلید میں ہی اپنے لیے ترقی کی سیڑھیاں تلاش کرتے ہیں؛ جنکا ہدف ہماری بربادی ہے: ڈوبنا تیری فطرت نہیں، مغرب پہ نہ جا بن کے سورج تجھے مشرق سے ابھرنا ہوگا
لقمان عثمانی

یٰسین راہیؔ۔۔۔۔ اردوادب کا درخشاں ستارہ
غلام ربانی فدا
غلام ربانی فدا
میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد
نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے پلکوں پر ٹشو رکھ لیا، ہم سب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔ اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اس کی یہی صورتحال ہوتی،آپ ایک لمحے کے لیے خود سوچئے اگر آپ نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہو‘ اگر آپ ایک صحت مند اور خوبصورت جوان ہو لیکن آپ نوکری کے لیے جہاں بھی درخواست دیتے ہوں، آپ کو صاف جواب مل جاتا ہوتو آپ پرکیا گزرتی، آپ کارد عمل کیا ہوتالہٰذا نوجوان بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔میں نے اس سے کہا’’ میں تمہیں
ایک کہانی سنانا چاہتاہوں ‘‘اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں تحیر اور بے بسی تھی، میں نے عرض کیا۔’’کیپ ٹاؤن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ’’ماسٹر آف میڈیسن‘‘ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ء4 کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا،ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاداور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا‘‘۔نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ’’ہیملٹن کیپ ٹاؤن کے ایک دور دراز گاؤں سنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاؤں پھرتاتھا،بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذاوہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاؤن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاؤن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا اور خود چنے چبا کر کھلے گراؤنڈ میں سو جاتاتھا۔وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاںآج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی‘‘۔نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میں نے عرض کیا ’’پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا،انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بے ہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑکر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اور کافی کے وقفے کرتے رہے لیکن ہیملٹن زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا،اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہراکام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کاکسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیااور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ’’لیب اسسٹنٹ‘‘ بنا دیا۔ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔ 1958ء میں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹربرنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے،وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔ 1970ء میں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا،آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے اور مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے تو اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ہیملٹن کو چلا جاتا ہے،اس کا محسن ہیملٹن ہوتا ہے‘‘ میں خاموش ہو گیا۔نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا ’’ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاؤن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا،14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا، اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی، وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیاگیا اور اس کے بعدیونیورسٹی سے پاس آؤٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں‘‘ میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا’’تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا‘‘ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا ’’صرف ایک ہاں سے‘ جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں تو وہ مرتے دم تک مالی رہتایہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا‘‘۔نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا ’’ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے‘‘ نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا’’ دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ہیملٹن اس راز کو پا گیا تھالہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا‘‘ میں رکا اور ہنس کر بولا ’’تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جا گے۔۔۔۔
بشکریہ جناب جاوید چوصاحب صاحب
میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد
نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے پلکوں پر ٹشو رکھ لیا، ہم سب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔ اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اس کی یہی صورتحال ہوتی،آپ ایک لمحے کے لیے خود سوچئے اگر آپ نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہو‘ اگر آپ ایک صحت مند اور خوبصورت جوان ہو لیکن آپ نوکری کے لیے جہاں بھی درخواست دیتے ہوں، آپ کو صاف جواب مل جاتا ہوتو آپ پرکیا گزرتی، آپ کارد عمل کیا ہوتالہٰذا نوجوان بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔میں نے اس سے کہا’’ میں تمہیں
ایک کہانی سنانا چاہتاہوں ‘‘اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں تحیر اور بے بسی تھی، میں نے عرض کیا۔’’کیپ ٹاؤن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ’’ماسٹر آف میڈیسن‘‘ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ء4 کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا،ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاداور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا‘‘۔نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ’’ہیملٹن کیپ ٹاؤن کے ایک دور دراز گاؤں سنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاؤں پھرتاتھا،بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذاوہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاؤن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاؤن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا اور خود چنے چبا کر کھلے گراؤنڈ میں سو جاتاتھا۔وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاںآج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی‘‘۔نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میں نے عرض کیا ’’پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا،انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بے ہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑکر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اور کافی کے وقفے کرتے رہے لیکن ہیملٹن زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا،اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہراکام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کاکسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیااور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ’’لیب اسسٹنٹ‘‘ بنا دیا۔ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔ 1958ء میں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹربرنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے،وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔ 1970ء میں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا،آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے اور مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے تو اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ہیملٹن کو چلا جاتا ہے،اس کا محسن ہیملٹن ہوتا ہے‘‘ میں خاموش ہو گیا۔نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا ’’ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاؤن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا،14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا، اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی، وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیاگیا اور اس کے بعدیونیورسٹی سے پاس آؤٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں‘‘ میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا’’تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا‘‘ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا ’’صرف ایک ہاں سے‘ جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں تو وہ مرتے دم تک مالی رہتایہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا‘‘۔نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا ’’ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے‘‘ نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا’’ دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ہیملٹن اس راز کو پا گیا تھالہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا‘‘ میں رکا اور ہنس کر بولا ’’تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جا گے۔۔۔۔
بشکریہ جناب جاوید چوصاحب صاحب
Wafat Sultan Ahmed sanjar 7 may
سلطان احمد سنجر سلجوقی سلطنت کی آن بان شان تھا
ملک شاہ سلجوقی کا تیسرا بیٹا تھا اس کی حکومت خراسان، غزنہ،خوارزم اور ماوراءالنہر تک پھیلی ہوئی تھی اس کا نام کظبہ مین ایران آرمینیا،آذر بائیجان، موصل، دیار ربیعہ، دیار بکر اور حرمین تک پڑھا جاتا تھا،1092ء میں خراسان پر قابض ہوا اس کے بعد فارس کا بادشاہ بھی تسلیم کیا گیا،سلطان سنجر نے غزنوی خاندان کے بادشاہ بہرام شاہ کو خراج گزار بنا لیا علاؤ الدین بادشاہ غور نے بہرام شاہ کو شکست دی اور غزنی لے لیا۔ اور یہی علاؤ الدین بھی سلطان سنجر کا مطیع ہوا
علامہ اقبال نے سلطان سنجر کی عظمت و شان کو سراہا ہے ۔
شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!
فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!
جب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں
شکوہ سنجر و فقر جنید و بسطامی
1157ء میں سلطان سنجر کا انتقال ہوا جس کے ساتھ ہی سلجوقی خاندان کا خاتمہ ہو گیا سلطان سنجر مرو میں مدفون ہے
بشکریہ اردو وکیپیڈیا
Wafat Sultan Ahmed sanjar 7 may
سلطان احمد سنجر سلجوقی سلطنت کی آن بان شان تھا
ملک شاہ سلجوقی کا تیسرا بیٹا تھا اس کی حکومت خراسان، غزنہ،خوارزم اور ماوراءالنہر تک پھیلی ہوئی تھی اس کا نام کظبہ مین ایران آرمینیا،آذر بائیجان، موصل، دیار ربیعہ، دیار بکر اور حرمین تک پڑھا جاتا تھا،1092ء میں خراسان پر قابض ہوا اس کے بعد فارس کا بادشاہ بھی تسلیم کیا گیا،سلطان سنجر نے غزنوی خاندان کے بادشاہ بہرام شاہ کو خراج گزار بنا لیا علاؤ الدین بادشاہ غور نے بہرام شاہ کو شکست دی اور غزنی لے لیا۔ اور یہی علاؤ الدین بھی سلطان سنجر کا مطیع ہوا
علامہ اقبال نے سلطان سنجر کی عظمت و شان کو سراہا ہے ۔
شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!
فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!
جب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر دیں
شکوہ سنجر و فقر جنید و بسطامی
1157ء میں سلطان سنجر کا انتقال ہوا جس کے ساتھ ہی سلجوقی خاندان کا خاتمہ ہو گیا سلطان سنجر مرو میں مدفون ہے
بشکریہ اردو وکیپیڈیا
Kaifi Azmi ki wafat 10 may
مدت کے بعد اس نے جو الفت سے کی نظر
جی خوش تو ہوگیامگر آنسو نکل پڑے
اک تم، کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہے
اک ہم کہ چل پڑے تو بہر حال چل پڑےکیفی اعظمی کے اندر کا شاعر بچپن سے زندہ تھا۔ محض گیارہ سال کی عمر سے ہی کیفی اعظمی نے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا جہاں انہیں بہت داد بھی ملا کرتی تھی۔. کیفی کی ابتدائی تعلیم روایتی اردو، عربی اور فارسی پر محیط تھی۔
کیفی اعظمی صاحب کا اترپردیش کے ضلع اور شہربہرائچ سے گہرا تعلق تھا۔ شمیم اقبال خاں اور کاوش شوکتی کے ذریعہ مرتب کردہ دیوان شوق طوفان اور شاعر اور ادیب شارق ربانی کے حوالے سے کئی روزناموں میں اس کا ذکر آتا ہے کہ کیفی کے والد سید فتح حسین رضوی نانپارہ کے قریب نواب قزلباش کے تعلقہ نواب گنج میں تحصیل دار تھے اور شہر بہرائچکے محلہ قاضی پورہ میں رہتے تھے،اور اس طرح کیفی کے بچپن کے کئی سال بہرائچ کی سرزمین پر گزرے ہیں۔ اور بعد میں بھی کیفی کا بہرائچ آناجانا بنا رہا جس میں وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے ملاقات کرتے تھے،اور شفیع بہرائچی کی دکان پر ادبی محفل کا حصہ بنتے تھے۔ جہاں بہرائچ کے مشہور شاعر وصفی بہرائچی ،جمال بابا،شوق بہرائچی ،ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالی،عبرت بہرائچی ،اظہار وارثی وغیرہ شرکت کرتے تھے۔1943ء میں کیفی بمبئی اپنے ایک دوست کی دعوت پر آئے تھے۔ یہاں انہیں قریب دس سال کی جدوجہد کے بعد انہیں بالی وڈ میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔1950ء کے دہے میں ڈاکٹر منشاء الرحمٰن خان منشاء کی دعوت پر کیفی ایوت محل کے مشاعرے کے لیے بلائے گئے تھے۔ شرکت کے لیے 80 روپیے طے ہوئے۔ تاہم اسی زمانے میں کیفی کی بیٹی شبانہ اعظمی پیدا ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ مشاعرے میں شرکت سے قاصر تھے مگر پیشگی رقم 40 روپیے ان کی وقتیہ ضروریات کے کام آئی۔ کیفی نے منشا سے خط لکھ کر معذرت خواہی کی اور ساتھ ہی پیشگی رقم کی واپسی کا وعدہ کیا۔
کیفی بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔ ان کی قابل ذکر نظموں میں عورت، اندیشہ، ٹرنک کال، حوصلہ، تبسم، مکان، بہروپی اور دوسرا بن باس شامل ہیں۔ ان کے مجموعات کلام اس طرح ہیں:آخر شب
آوارہ سجدے
سرمایہرام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئے
یاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئے
رقصِ دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہو گا
چھ دسمبر کو شری رام نے سوچا ہو گا
اتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئےدھرم کیا ان کا ہے کیا ذات ہے یہ جانتا کون
گھر نہ جلتا تو انہیں رات میں پہچانتا کون
گھر جلانے کو مرا لوگ جو گھرمیں آئے
شاکاہاری ہیں مرے دوست تمہارے خنجرتم نے بابر کی طرف پھینکے تھے سارے پتھر
ہے مرے سر کی خطا زخم جو سر میں آئے
پاؤں سریو میں ابھی رام نے دھوئے بھی نہ تھے
کہ نظر آئے وہاں خون کے سارے دھبے
پاؤں دھوئے بنا سریو کے کنارے سے اٹھے
رام یہ کہتے ہوئے اپنے دوارے سے اٹھےراجدھانی کی فضا آئی نہیں راس مجھے
چھ دسمبر کو ملا دوسرا بن باس مجھے
کیفی اعظمی - فکروفن، ڈاکٹر شکیلہ رفعت علی، نگران ڈاکٹر افغان اللہ خاں، گورکھپور یونیورسٹی ۔گورکھپور
1990ء، کیفی اعظمی: شخصیت شاعری اور عہد، ڈاکٹر وسیم انور نگران ڈاکٹر فدا المصطفٰی، ڈاکٹر ہری سنگھ گور یونیورسٹی۔ ساگر،
ایم فلکیفی اعظمی کی نظموں کا سماجیاتی مطالعہ، محمد اشہر انصاری، نگراں ڈاکٹرآصف ،ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی 2002ء
کیفی اعظمی کے اعتراف خدمات میں حکومت ہند نے کیفیات ایکسپریس نامی ٹرین کا آغاز کیا ہے تاحال جس کی سفری سہولیات جاری ہیں
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
Popular Tags
اِسلامی زندگی
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
Khawab ki Tabeer
Most Popular
-
بسم الرحمن الرحیم السلام علیکم الحمد للہ !ناظرین محترم تمام تعریفیں رب کائنات کے لئے جس نے لفظ کن سے کائنات عالم کی تخلیق کی۔ اور ...
-
(۱)۔۔۔۔۔۔ اِفْتِعَالٌ: باب اِفْتِعَالٌ میں فاء کلمہ کے بعد تاء زائدہ ہوتی ہے۔جیسےاِجْتَنَبَ۔ بنانے کا طریقہ: ثلاثی مجرد کے ف...
-
بسم الرحمن الرحیم آپ کے ہر ممکن تعاون کی ہمیں ضرورت ہے۔ Tanzeem-ur-Rashad C/o Karnatak Hardware Usmaniya Complex, (hollati Buildi...
-
تمام ابواب کو چھ حصوں پر تقسیم کیا جاسکتاہے: (۱)ثلاثی مجرد کے ابواب (۲)ثلاثی مزید فیہ کے ابواب (۳)رباعی مجرد کے ابواب (۴)رباعی مزید...
-
سبق نمبر: (10) (۔۔۔۔۔۔باب تَفَعُّل کی خاصیات۔۔۔۔۔۔) اس باب کی خاصیات درج ذیل ہیں: (۱)تعمل(۲)موافقت(۳)ابتداء(۴)اتخا ذ(۵)سلب مأخذ (۶) تدریج ...
-
حروف اصلیہ اور حروف زائدہ کے ا عتبار سے کلمہ کی چھ اقسا م ہیں: (۱)ثلاثی مجرد (۲)ثلاثی مزیدفیہ (۳) ربا عی مجرد (۴)رباعی مزیدفیہ ...
-
سورہ یوسف کا خلاصہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو ''احسن القصص'' یعنی تمام قصوں میں سب سے اچھا قصہ ف...
-
نقشہ برائے ثلاثی مجرد ابواب ۱۔ضَرَبَ یَضْرِبُ تعمل۔۔۔۔۔۔۔۔موافقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتخاذ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تدریج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کثرت مأخذ اطعام مأخذ۔۔۔۔۔۔ البا ...
-
مشق برائے ثلاثی مجرد ابواب سوال نمبر1: درج ذیل خاصیات کی تعریف کریں اور مثال سے واضح کریں۔ تعمل،موافقت ،اتخاذ،تدریج،کثرت مأخذ،اطعام مأخذ،ا...
-
(۱)۔۔۔۔۔۔اتخاذ : جیسے: اِجْتَحَرَ۔ ( اس نے سوراخ بنایا ) اِجْتَنَبَ۔ (اس نے کونہ پکڑا) اِغْتَذٰی الشَّاۃَ۔ (اس نے بکری کو غذا بنایا)...