Showing posts with label al rashaad. Show all posts
Showing posts with label al rashaad. Show all posts
غذائیت بخش انجیرکے 30فوائد

غذائیت بخش انجیرکے 30فوائد

انجیرکے فائدے 

عربی میں تین اورانگریزی میں فگ کہتے ہیں یہ ایک درخت کاپھل ہے
 گولزسے مشابہ جب تک کچا رہتاہے۔ اس کا رنگ سبز رہتاہے لیکن پکنے پرسرخ گلابی رنگ کاہوتا ہے
 گولز کی طرح اس کے اندر خشخاش کے برابر باریک باریک بیچ ہوتے ہیں مزاج کے اعتبارسے انجیرگرم ہوتے ہیں۔ ان میں اجزائے لحمیہ (پروٹینز) اجزاء شکریہ اور نشائیہ (کاربوہائیڈرس) اور کلیشیم فولادی وغیرہ نمکیات پائے جاتے ہیں۔ نیز ان میں حیاتین (ب ج) بھی پائے جاتے ہیں 
لہٰذا ان کا شمار ان میوؤں میں کیا جاتاہے جو بدن کوکافی غذائیت دیتے ہیں اور اس میں قوت وحرارت پیدا کرتے ہیں،۔اس کے علاوہ اس میں ایک خاص صفت یہ ہے کہ ملین تاثیر رکھتاہے قبض نہیں ہونے دیتا اوراگر قبض ہوتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے۔اگر اس پھل کو چندروز تک برابر کھاتے رہیں توبدن کو فربہ بنادیتا ہے
 اوراس کو قوت بخشتا ہے اور بدن کی رنگت کو نکھارتا ہے ۔انجیر بڑھی ہوئی نلی کو گلانے کے لیے مفید ہے۔ اس غرض کے لیے انجیر مخلل استعمال کیے جاتے ہیں ۔ انجیروں کو سرکہ میں ڈال کرہفتہ عشرہ رکھ چھوڑتے ہیں۔ ان انجیروں اورسرکہ کو کھانے کے ساتھ کھاتےہیں انجیروں کوخشک کرکے بھی استعمال کرتے ہیں اور دوسرےخشک میوؤں کے مانند کھائے جاتے ہیں۔ یہ دواؤں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
معجون اورشربت بنا کر قبض دور کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں،

پردہ کی ابتدا

پردہ کی ابتدا

پردہ کی ابتدا

مولاناسیدمحموداحمدرضوی نائب ناظم انجمن مرکزی حزب الاحناف لاہور

۱) پردہ کا سب سے پہلا حکم   ۰۵؁ میں نازل ہوا جبکہ حضور اکرم ﷺ نے ام المومنین زینب سے نکاح فرمایا۔ اور جس کی تعمیل میں جناب رسول اللہﷺ نے تمام ازواج مطہرات کے مکانوں پرپردے ڈالوا دیے جو اس سے قبل نہ تھےاور غیر محرموں کو اندرجانے سے منع فرمایا۔ چنانچہ روایت ہے کہ طلحہ جو حضرت صدیقہ ؅کے چچازاد بھائی تھے، ان کو حضور ﷺ نے صدیقہ طاہرہ ؅سے ملنے کوروک دیا جس پروہ ناراض ہو گیے۔
۲) آیات حجاب کے نزول سے قبل عورتیں بے پردہ نکلتی تھیں مگر جب حجاب کی آیتیں نازل ہوئیں تو صحابیات اور مسلم عورتوں نے عہدنبوت ہی میں پردہ کرنا شروع کردیا اور صحابہ کرام پردہ کے احکام کی تفصیل دریافت فرمانے لگے۔
۳) مجلس اقدس میں مستورات کی فلاح وبہبودی کے متعلق تذکرہ ہوا کرتاتھا ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا کہ عورتوں میں آمدورفت نہ رکھاکرو۔ایک صحابی نے عرض کی یارسول اللہ ارایت الحموا قال الحموالموت یارسول اللہ دیور کے متعلق کیا حکم ہے۔ فرمایا دیور تو موت ہے یعنی دیورجیٹھ اور خاوند کے رشتہ داروں سے پردہ کرنا تونہایت ضروری ہے۔

۴) مجالس ابرار میں لکھا ہے۔سدون ال۔۔۔وللوی لئلا تطلع الینا علی الرجال ۔ کہ صحابہ کرام دیواروں کے سوراخ اور جھڑکوں کو اس لیے بند کردیتے تھے کہ عورتیں مردوں کو نہ دیکھ سکیں۔
۵) عورتیں عہد نبوت میں مسجدوں میں پردہ کا اہتمام کے ساتھ آتیں تھیں اور آخرصف میں نماز پڑھتیں مگر حضرت صدیقہ ؅ اس سے بھی روک دیا اورفرمایا۔ لویہ النبی ﷺ کمااحدث النسا من عھد المساجد۔(مسلم شریف) اگر نبی کریم ﷺ یہ صورت ملاحظہ فرماتے جو عورتوں نے اب پیداکردی ہے تو ان کو مسجدوں میں آنے سے روک دیتے۔چنانچہ جوان کوعورتوں کو روک دیا گیا۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ؅ نے اس زمانے میں جوخیروبرکت ،رشد وہدایت کا زمانہ تھا۔مستورات کومساجد میں آنے سے روک دیا اور مستورات کو پردہ کی پوری شرطوں کے ساتھ مسجدوں میں آنا بھی پسند نہ فرمایاْچہ جائے کہ آج مستورات کو سربازار بے حجاب وبے نقاب چہرے کھولے پھرنے کی اجازت دی جائے۔
۶) نیز خدمتِ نبویﷺ میں جو مستورات حاضرہوئی یقیناً وہ بھی حجاب ونقاب کے ساتھ آتی تھیں۔ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہے کہ ایک عورت حضورﷺ کی خدمت میں حاضرہوئی کہا دیکھو اس کا بیٹا مارا گیاہےاوراس کو نقاب کی پڑی ہے،صحابہ نے کہا اگرمجھ پرمصیبت آئی ہےلیکن میری شرم وحیا پرتو مصیبت نہیں آئی۔
حضرت صدیقہ ؅ فرماتی ہیں ایک عورت خدمت نبوی ﷺ میں اومت من ورا حجاب کتاب ابی رسول اللہ ﷺاور انہوں نے پردہ کے پیچھے سے ایک خط خدمتِ اقدس میں پیش کیا۔

ناظرینِ کرام ! یہ چند عبارتیں ہم نے اس لیے نقل کی تاکہ معلوم ہوجائے کہ عہدنبوت ہی میں مستورات نے پردہ کرنا شروع کردیا تھااور خدمت رسالت میں مستورات باپردہ آتی تھیںاور حضور نبی کریمﷺ بھی اجنبیات سے پردہ فرماتے تھے اور  جولوگ یہ کہتے ہیں کہ عہدنبوت میں پردہ نہ تھا یا ایسا پردہ نہ تھا جس کا حکم آج علماے کرام دے رہے ہیں۔وہ سخت غلطی پرہیں نیز جب آیات پردہ کی مویدہیں توپھر ان کا ایسا کہنا کیا حقیقت رکھتا ہےبلکہ ایسا کہنا صحابہ کرام پراحکام قرآنی کی پابندی نہ کرنے کا الزام شدید ہے

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

محمدعبدالہادی مجددی

معززقارئین کرام! ایک رسالہ بعنوان تحققیق حق محترم محمد یحیٰ صاحب شمسی (بن حضرت الحاج مولوی محمدعمرصاحب رحمہ اللہ علیہ ) نےلکھ کرشائع فرمایا ہے۔ جسے ہم نے خلوص کے ساتھ دیکھا اور مطالعہ نے جن تاثرات سے ہمیں محفوظ کیا ہے ۔ وہ آپ کی خدمت میں پیش ہیں
محترم مضمون نگار نے رسالہ کے صفحہ ایک اورآٹھ پر مندرجہ ذیل عبارتیں لکھی ہیں ۔
۱) برادران اسلام! ایک اشتہار بعنوان جواب سوال بصورت سوال وجواب کے ذریعے عوام کو پھرفروع مسائل میں الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔آج مسلمان فرائض وواجبات سے غافل ،کبائر میں مبتلا ہیں لیکن بعض خودغرضوںکو اسکے تدارک کی فکر نہیں مگر فاتحہ کی فکر ہے (صفحہ ۱)(۲) (۸)۔
نوٹ: چونکہ ہم سے بعض حضرات نےاشتہار مذکورکے جواب یاتسلیم کاسخت مطالبہ کیا تھا۔ اس لیے یہ مضمون تحریر کرناپڑا ورنہ ہم ایسے کاموں میں مشغول ہونا پسند نہیں کرتے۔
سبحان اللہ رسالہ لکھنے والے بزرگ سے جب بعض حضرات مسئلہ فاتحہ پرفتویٰ مانگتے ہیں۔ توفاتحہ کوناجائز بتا کر نہ مصنف رسالہ خودغرض بنتے اور نہ یہ فاتحہ کا مسئلہ فروعی ہی رہتاہے بلکہ مصنف رسالہ کے قلم کو حرکت میں لانے والے بعض حضرات جوکچھ کرتے ہیں۔ وہ سب فرائض وواجبات میں داخل ہوکر کبائر کےخلاف جہادِ اکبر ہوجاتا ہےاور جب اس کے سوا دوسرے مسلمان مسئلہ فاتحہ پر قلم اٹھاتے ہیں خود غرض بددیانت اورفریبی بن جاتے ہیں۔
بروز حشر گر۔۔۔۔۔ امت راچراکشتی
چہ خواہی گفت قربانت شوم من نیز متشاقم۔
للہ غور فرمایاجائے کہ آخر اس طرح کی دورنگی عبارتیں شائع فرمانے کے لیے روپیہ وقت اور محنت ضائع کرنے سے دین ودنیا کی کونسی دولت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد صفحہ ۲ پر رسالہ نویس نے اسی فروعی مسئلہ میں فتاوی اورجندی پر لے دے کر کرتے ہوےمذکور کتاب کو تسلیم نہ کرنے کے لیے جودلیل ذیل دی ہے۔ اس کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔آپ کومعلوم ہونا چاہئے کہ ۸۵۷؁ء کے بعد جبکہ انگریز نے وہابی اور سنی کا جھگڑا پیدا کرکے مسلمانوں کی مجموعی قوت کوتوڑنے کی کوشش شروع کی تھی۔ اور فروعی مسائل کو ابھارا گیا تھا، یہ روایت اس وقت گھڑی گی تھی۔
محترم رسالہ نگارنے جودلیل فتاویٰ اوزجندی کے ناقابل استدلال ہونے کی فرمائی ہےوہ نہ قرآن مجید میں ہے نہ حدیث رسولﷺ میں۔
یہ دلیل بےدلیل توایسی ہی مضحکہ خیز ہے۔ جیسے کوئی کوسنے والاعلامہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے کہ یہ مدرسہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اورمسلمانوں کی مجموعی قوت کوتوڑنے کے لیے انگریز نے خفیہ طورپر فنڈ کراکے تیار کرایا تھا۔
مکرم ناظرین!غور فرمایئے کہ ایسی بے سروپا کہانیوں کو دلیل سمجھنا کیسی غلطی اور زبردست مغالطہ ہے۔
مگر ہمارے مصنف رسالہ اسے فاتحہ کو ناجائز کردینے والی عظیم الشان ترجمان قرآن وحدیث دلیل سمجھ رہے ہیں۔
اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
یہ گھر جوجل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
اس کے بعد محترم رسالہ نویس نے صفحہ ۵ سے صفحہ ۶ تک بحث کرکے یہ فتویٰ دیا ہے کہ قرآن شریف میں حرکات زیروزبر لگانا علم تجوید ایجاد کرنا، علم نحووصرف کوایجاد کرنا، مدرسہ قائم کرناوغیرہ کے لیے اصل صحیح یعی وجہ جواز یہ ہے کہ حفاظت قرآن نماز میں تلاوت قرآن فہم قرآن وغیرہ فرض ہے۔
محترم صاحب رسالہ کے اس مبارک فتویٰ سے چشم ما رشن دل ماشاد جب قیام مدارس اور علم صرف و نحو وتجوید وغیرہ مروجہ علوم وفنون کو آپ فہم قرآن حفاظت قرآن کا مدار علیہ فرماتے ہیں۔ اور اسے بدعت حسنہ اور سنت حسنہ نام رکھتے ہیں۔ حالانکہ ان مختلف فیہ علوم پر ان کے ماہرین کاتمام مسائل میں اتفاق بھی نہیں ہےاور نہ یہ مروجہ علوم وفنون براہ راست قرآن کا مقصود ہی ہیں۔ تو پھر بیچارہ ایصال ثواب کی اصل صحیح نے کسی کاکیا بگاڑا ہے کہ اس اصل صحیح کومانتے ہوئے بھی اس کی مختلف شکلوں کے لیے کسی’’خاص مستقل‘‘ حدیث کے انتظار وتلاش میں کسی کا حواس باختہ ہونا منظور رکھا جائے۔
محترم رسالہ نویس نے صفحہ ۷ پرقیاس صحیح کو شرعی حجت فرمایاہے اس کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ کیاایصال ثواب کی مختلف شکلوں والے تعامل کے لیے اس کی صحیح ایصال ثواب کی بنا پر قیاس صحیح عرفاً فاتحہ وغیرہ کہہ لینے کو برداشت نہیں کرسکتا۔؟
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا۔
محترم مصنف نے قیاس صحیح کو شرعی حجت قرار دیتے ہوئے صف ۷ پر بھنگ تاڑی افیون کو ایصال ثواب کا مدارعلیہ قیاس فرمایاہے سوکون صاحب بصیرت مصنف کے اس خیال کو قیاس صحیح کا درجہ دینے کی ہمت کرے گا۔صفحہ ۷ پر مصنف رسالہ کا یہ گہربار فتویٰ موجود ہے۔
ظاہر ہے کہ اس طرح آج تک کوئی ثبوت اس فاتحہ مروجہ کانہیں مل سکا،لہٰذا یقیناً یہ طریقہ فاتحہ مروجہ کابدعت شرعیہ میں داخل ہے اورقطعاً ناجائز ہے۔
اب صفحہ ۸پرفاضل مصنف کایہ مہربان فتویٰ ملاحظہ فرمایئے ایسے فروعی اختلافات اوران سے متعلق اشتہارات من گھڑت بیانات سے دلچسپی لینا چھوڑ دیں۔
ہماری رائے یہ ہے کہ اختلافی مسائل کامعاملہ ان کے اور خدا کے حوالے کردینا چاہئے نہ کسی کو کرنے پرمجبور کیاجائے نہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔
ناظرین کرام !مقام عبرت ہے کہ کل بدعۃ ضلالۃ کے مطابق جن مصنف صاحب نے فاتحہ مروجہ کو قطعاً ناجائز فرمایاتھا ۔اب آپنے آخری فتویٰ میں وہی بزرگ کل بدعۃ ضلالۃ کے مطابق فاتحہ مروجہ کو اختلافی مسئلہ کہنے پر مجبور ہوگیے ہیں۔
ہمیں حیرت ہے کہ جب کل بدعۃ ضلالۃ کومٹانے اور اس سے یکلخت نفرت فرمانے کی بجائے مصنف اسے فروعی اختلاف اور اختلافی مسئلہ فرمارہے ہیں۔ آخربدعت شرعیہ سے اتنی ہمدردی کیوں؟۔
ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ مصنف فاضل سارے چکر کاٹ کر آخر اسی نقطہ پر کس طرح آ پہنچے کہ فاتحہ کامعمول بہا طریقہ بدعت حسنہ ، سنت حسنہ میں امت کا اختلاف ثابت ہے جیسا کہ خود مصنف نے اپنے رسالے کے ص ۶ پر تراویح باجماعت میں امرحضرت عمر بیان کیا ہے۔
آخر میں ہم جمیع مسلمانوں کے لیےجناب باری تعالیٰ میں التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور حسنات میں ترقی کرنے کی ہمیں توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

مولاناشاہ عبدالعزیز دہلوی کو گنگوہی نے تقیہ بازبتادیا

مولاناشاہ عبدالعزیز دہلوی کو گنگوہی نے تقیہ بازبتادیا

مولاناشاہ عبدالعزیز دہلوی کو گنگوہی نے تقیہ بازبتادیا
اور شاہ اسحاق دہلوی وہابی تھے اور گنگوہی صاحب کی گواہی
مفتی محبوب علی خان؄ ممبئی کا فتوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شاہ اسحاق صاحب دہلوی کس عقیدہ اور مذہب کے تھے۔ یعنی سنی تھے یاوہابی اور ان کے سلسلہ میں بیعت ہونااور بیعت کرنا جائز ہے یا نہیں۔؟
صوفی محمد علی قادری رضوی ڈھکنہ پوروہ کانپور)
الجواب:اللھم ھدایۃ الحق والصواب:
شاہ اسحاق دہلوی اور اسماعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان وغیرہ دونوں ایک ہی خاندان اور ایک ہی عقیدے اور مذہب کے وہابی تھے۔ شاہ اسحاق کی وہابیت ان کی اربعین اور مائۃمسائل سے خوب ظاہر و روشن ہے۔ ان کی اربعین کاردبلیغ حضرت مولانا شاہ ابو سعید احمدنقشبندی دہلوی نے فرمایا۔ اس کتاب کا نام حق الیقین ہے اور مائۃ مسائل کاواضح اور صاف رد تصحیح مائۃ مسائل حضرت بابرکت مولاناشاہ فضل رسول صاحب قادری عثمانی بدایونی رحمت اللہ علیہ نے لکھا اور بمبئی سے شائع ہوا۔ توحضرات علمائے اہل سنت کثرہم اللہ تعالیٰ ویداہم نے اب سے بہت پہلے شاہ اسحاق دہلوی کی وہابیت کو ظاہر وآشکار فرمادیا اور ان کی تصانیف مبارکہ آج بھی مسلمانانِ اہل سنت کی رہبری فرمارہی ہیں۔ آج وہابیہ دیوبندیہ کی طاغوت اکبر جناب رشیداحمد گنگوہی کی زبان سے شاہ اسحٰق دہلوی کی وہابیت سنئے۔ یہ لیجئے دیوبندیوں کی کتاب تذکرۃ الرشیدحصہ دوم ص ۲۴۷؁ میں لکھا ہے کہ ایک دن مولانا ولایت حسین صاحب نے دریافت کیا، حضرت اس کی کیا وجہ ہے کہ شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو سب لوگ اچھاکہتے ہیں اور مانتے ہیں مگر اسی خاندان کے دوسرے حضرات کو برا کہتے ہیں، حضرت امام ربانی (رشید احمد گنگوہی) نے ارشاد فرمایا، میاںکہوں گا تمہیں بھی بری لگے گی اورمجھے بھی ۔
بات یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات تھے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب ان کو رفع کرنا چاہتے تھے اس وجہ سے بات لگا کر کہتے تھے ۔ایک مرتبہ شاہ صاحب سے واعظ کے بعد کسی شخص نے پوچھا ۔ حضرت بڑے پیر صاحب کا دوگانہ پڑھنا کیسا ہے۔؟
شاہ صاحب نے فرمایا بھای حدیث میں تو کہیں نہیں آیا ہے ۔ہاں فعل مشائخ ہے۔ میر محبوب علی صاحب وہاں موجود تھے کہنے لگے کہ حضرت! مسائل حدیث اور فعل مشائخ کونہیں پوچھتا وہ تو جواز اور عدم جواز دریافت کرتا ہے شاہ صاحب نے پھر وہی فرمایا ، اس پر میر محبوب علی صاحب وہاں موجود تھے ، کہنے لگے کہ حضرت! مسائل حدیث اور فعل مشائخ کو نہیں پوچھتاوہ توجواز اورعدم جواز دریافت کرتا ہے ، شاہ صاحب نے پھروہی فرمایا۔ اس پر میرمحبوب علی صاحب نے کہا صاف فرمادیجئے کہ جائز ہے یا ناجائز۔ تب تو سائل بھی کہنے لگا جی ہاں میری بھی یہی غرض ہے عبدالعزیز نے میر محبوب کو ڈانٹ کر کہا۔ تومجھے لوگوں سے گالیاں سنوانی چاہتا ہے ۔ ایک مرتبہ مااھل کا مسئلہ لکھا تھا تو اب تک گالیاں سن رہا ہوں۔ اس وقت میر محبوب علی صاحب نے سائل سے کہا ۔ سن لو حضرت اس نماز کو ناجائز فرمارہے ہیں۔ مگرگالیوں 
کے ڈر سے صاف جواب نہیں دے سکتے۔ اس قصہ کے بعد حضرت امام ربانی (رشیداحمدگنگوہی)نے ارشاد فرمایا کہ بات لگاکرکہنے میں کوئی نفع نہیں ہوتا۔ بری چھوٹتی نہیں۔ شاہ اسحاق اور مولانا اسماعیل صاحب ان سب حضرات کا ایک ہی مشرب تھا مگر شاہ اسحاق صاحب نے شقوق نکال کر کہا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ مولوی اسماعیل نے صاف صاف منع کیا، بہیترے مان گیے۔
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
گنگوہی کی یہ گواہی ہے اور گنگوہی کے خلفا خلیل احمد اینبھٹوی ومحمود حسن دیوبندی و عاشق الٰہی میرٹھی وغیرہم کی تصدیق وتصحیح سے شائع ہوئی ہے۔
توثابت ہوا کہ دیوبندی اکابرواصاغر کے نزدیک بھی شاہ اسحاق دہلوی اور اسماعیل دہلوی دونوں ہم عقیدہ و ہم مذہب تھے۔ اور دونوں ہی وہابی تھے۔ لہٰذا جناب شاہ اسحاق کا سلسلہ  ہی منقطع ہوا۔ مسلمانوں کو ان کے سلسلے میں بیعت ہونا اور بیعت کرنا ہرگزہرگز جائز نہیں بلکہ حرام ہے اور جو سنی مسلمان ناواقفیت سے ہوچکے انہیں جلد ازجلد اس سے علاحدہ ہونافرض ہے۔
قرآن عظیم فرماتا ہے ۔وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ۔ اور ارشاد فرماتا ہےوَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اور حدیث شریف میں ہے ۔ ایاکم وایاھم ۔ تم ان سے دور رہو انہیں اپنے سے دور رکھو اور حدیث شریف میں ہے۔
ولاتصلو معھم۔ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو جب بدمذہبوں کے ساتھ پڑھنے سے منع فرمایاتوبدمذہب وبد دین وہابی کے سلسلے میں مرید ہونا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ اور یہ ثبوت توسارے کے سارے دیوبندیوں کو مسلم ومعتبر ہے توشاہ اسحاق دہلوی کی وہابیت اب برادرانِ اہل سنت کے علما اور وہابیوں دیوبندیوں کی وہابیت اب برادران اہل سنت کے علمااور وہابیوں دیوبندیوں کے زعما نے خوب واضح وآشکار کردی ۔ 
خدائے تعالیٰ مسلمانان اہل سنت کو ان بدمذہبوں بددینیوں سے دور رکھے ۔آمین۔
اب ہم سنی بھائیوں کویہ غور کرناہے کہ گنگوہی جی نے شاہ اسحاق کی وہابیت کی نقاب کشائی توکی حضرت شاہ عبد العزیز  صاحب دہلوی کو تقیہ باز ، عیار، مکار سب کچھ کہہ ڈالا اور محض بے ثبوت واقعہ گڑھ کراس سے یہ بھی ثابت ہواکہ دیوبندیوں کے بڑے بوڑھے شروع سے ہی جھوٹے واقعات بے بنیاد گڑھنے کی عادی ہیں۔ اسی طرح فسادی ملا بہرائچی نے ابلیس کی پیروی کرکے گڑھی مگرالحمدللہ کہ فقیرنے اس فسادی ملا کاوہ ردتبلیغ کردیا ہے کہ سارے دیوبندی دم بخود پڑے ہیں۔ جواب ندارد ہے۔ دیوبندیو! مسلمانوں کے جذبات ایمان واسلام سے مت کھیلو ورنہ تمہارے بڑوں پرکھوں پرانوں کے جو حالات وکیفیات وخرق عادات وخلاف فطرت وانسانیت تمہارے کتابوں میں جو بدمذہب دیوبندیوں سے جلد ازجلد دور والگ ہوجاؤ جودن رات برابر تمہارے بزرگوں اورپیشواؤں کی توہین وتنقیص کرتے رہتے ہیں۔
بہرحال شاہ اسحاق دہلوی اور اسماعیل دہلوی دونوں ایک ہی درجہ ایک ہی نمبر کے وہابی تھے ۔لہٰذا مسلمانوں کو ان دونوں اور دیوبندیوں سے دورونفور رہنا چاہئے۔
خدائے تعالیٰ توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
اللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وسلم۔
فقیر ابولظفر محب الرضا محمدمحبوب علی خان سنی قادری 
برکاتی خطیب جامع مسجد مدنپورہ بمئے۔

متفقہ فیصلہ وہابیہ کی تردید

متفقہ فیصلہ وہابیہ کی تردید

متفقہ فیصلہ وہابیہ کی تردید

 اعلیٰ حضرت سیدمقبول احمدشاہ قادری فاضل کشمیری؄  



سنی حضرات جومضمون ’’متفقہ فیصلہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اس میں مفتی پھلواری، مفتی ویلوری، مفتی حیدرآبادی کے سوا باقی سب متفقہ فیصلہ وہابیوں کا ہے۔اکثرگلابی وہابیہ کا اسمیں حصہ ہے ، بھوپالی وغیرہ تبرائی ہیں اور جمیعۃ لعلما ہند یا دہلی کر کے مشہور ہے یہ بھی انہیں کا مجمع ہے اس میں کوئی سنی عالم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی سنی مسلمان ان فتوں کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آجائیں۔ خبردار رہیں۔ میں نے وہابیہ کا متفقہ فیصلہ کا خلاصہ ذیل میں لکھ دیا ۔غور سے پڑھیںاور میں دوفتوؤں کو جو استاد اور شاگرد کے ہیں۔ذراتشریح کے ساتھ لکھ دیا۔ وہ اس کوغور سےپڑھیں اور یاد رکھیںپھر ان وہابیوں کی ناک پکڑ کر خوب رگڑدیں۔ وہابی کی تردید کرنے کے لیے ایک معمولی سنی مسلمان کی گھنٹے بھر کی محنت کافی ہےچونکہ وہابیہ کو ایمان کے ساتھ سروکار نہیں ۔ان کو جھوٹ بولنے اور لکھنے میںکمال ہے ۔اسی لیے انہوں نے تین مہینہ کا عرصہ ان کی تردید کے لیے قرار دیا ہے۔
-وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَجو شخص حکم نہیں کرتا موافق اس حکم کے جواللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ایسے لوگ بالکل ہی کافر ہیں۔
وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۴۵)جو شخص حکم نہیں کرتا موافق اس حکم کے جواللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ایسے لوگ بالکل ہی ظالم ہیں۔
وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷)جو شخص حکم نہیں کرتا موافق اس حکم کے جواللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ایسے لوگ بالکل ہی فاسق ہیں۔
میں پہلے لکھ چکا تھا کہ ان کا مورد خاص اور حکم عام ہے۔ وہابیہ کہتے ہیں یہ آیۂ کریمہ یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں مگروہابیہ کوکیا معلوم مورد خاص حکم عام کس بلا کانام ہے۔ مورد خاص یعنی ہروہ شخص کافر اورظالم اور فاسق ہے۔جو اللہ کے نازل کیے ہوئےحکم کے موافق حکم نہیں کرتا مسلمانوں کے نزدیک یہ حکم ہرمسلمان کے لیے قیامت تک جاری رہے گا۔
وہابیہ کے نزدیک یہ حکم صرف یہود کے لیے مخصوص ہے  ساراقرآن مجیدمخصوص مواقع مخصوص ضروریات اورمخصوص لوگوں کے لیے تھوڑا تھوڑا تینتیس سال تک نازل ہوتارہا ۔مگر حکم عام ہے۔سب لوگوں کو شامل تا قیام قیامت ان وہابیہ نے ثابت کردیا۔ یہ قرآن حکیم کا حکم انہیں ضروریات اور انہیں مخصوص لوگوں کے لیے منحصر ہے۔یہ اپنے زعم باطل سے اہل کتاب بھی نہ رہے۔جب قرآن حکیم ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوا جو چودہ سو برس سے پہلے تھے۔ ان وہابیہ کے نزدیک قرآن مجید کے احکام بھی انہیں لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔ان کو آزادی ملی، نہ ان کے لیے روزہ نہ نماز وغیرہ۔یہود ونصاریٰ اہلِ کتاب ہیں مگر یہ ان سے بھی گیے گزرے ہیں ان کے لیے نہ کوئی کتاب نہ احکام کتب جاری ہیں۔ ان کا پیر نیچر ان سےپہلے کہہ چکا اورلکھ چکا احکام قرآن انہیں لوگوں کے لیے مخصوص ہیں۔ جو لوگ نبی کریمﷺ کے زمانے میں موجودتھے ۔ خصوصاً صحابہ اللہ تعالیٰ نے بصیغۂ جمع حاضرین کو مخاطب کیا۔ وضو اورغسل انہیں لوگوں کے لیے مخصوص ہیں۔ کیونکہ وہ محنت و مشقت کےسبب سے پسینہ و دھول میں آلودہ رہتے تھے۔ان کے بعد والوں کے لیے نہ قرآن نازل ہوانہ قرآن مجید نے ان کو مخاطب کیا۔ وہابی اس کے چیلے ہیں۔انہوں نے بھی مذکورہ آیتیں صرف یہودہی کے لیے مخصوص کیے ہیں۔اگر یہ بھی قرآن مجید کے احکام کوبصحابہ مخصوص 
کریں تو کوئی تعجب نہیں۔
مسلمانو! یاد رکھو اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ قرآن کے احکام انہیں لوگوں کے لیے ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔یا یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ قرآن کے احکام صرف صحابہ کے لیے ہیں، ان کے بعد آنے والوں کے لیے نہیں یا یہ عقیدہ مذکورہ بالاآیتیں صرف یہود کے لیے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف دوسرا حکم دے وہ کافر ظالم فاسق نہیں ۔ یہ مذکورہ بالاسب کفریا ت ہیں۔ اس نے سارے قرآن کے احکام پر عمل کرنے سے انکار کیا۔اس نے اللہ رب العزت کے حکم کے خلاف یہ حکم دیا ایسا عقیدہ رکھنے والا اور حکم دینےوالا اسلام سے خارج ہے۔
مسلمانوں کو لازم ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہرگز تعلق نہ رکھیں اپنے ایمان کو بچائیں۔ میں نے مذکورہ بالاآیتیں ان مفتیوں کے زجروتوبیخ کے لیے پیش کی تھیں۔ جنہوں نے اللہ کے حکم کے خلاف اور غلط فتویٰ دیا۔ فاتحہ مروجہ ثابت کرنے کے لیے نہیں۔یہ وہابیہ سمجھ گے فاتحہ مروجہ کے ثبوت کے لیے ہے۔ جب ان کورمغزوں کو معمولی اردو عبارت سمجھنے کا مادہ نہیں تو عربی جملے کو کیا خاک سمجھیں گے۔
خرچہ میدا ند کہ زعفراں چیست
سنی حضرات اللہ پاک کے نازل کیے ہوے احکام بہت ہیں ۔ان میں سے بعض فرض، مباح ہیں اگرکوئی ان احکاموں میں سے اللہ پاک پرنازل کیے ہوے حکم کے موافق حکم نہیں کرتا۔بلکہ اس کے خلاف حکم دیتا ہے ،اس کے فرض ہونے سے اور مباح ہونے سے انکار کرتا ہے وہ کافر ظالم، فاسق ہے۔ یہودی اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم دینے اور اس کے انکار کرنے سے کافر ہوے جو بیشتر ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انکار اور توہین کرنے سے کافر ہوچکے تھے۔ پھر کافر بنانا اس کو خوب وہابی ہی سمجھیں گے۔ قرآن پڑھنا اللہ تعالٰی کا نازل کیا ہوا حکم ہے، اس کے پڑھنے کے خلاف حکم دینے والا اس کے پڑھنے کوناجائز کہنے والا وہابیہ کے نزدیک کافر نہیں۔یہ تقسیم وہابیہ کی ٹیڑھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ یہودیوں نے میرے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف حکم دیا وہ کافر ہوئے، اگرکوئی دوسرا میرے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف حکم دے وہ کافر نہیں۔
سنی حضرات اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے حکموں میں سے یہ مندرجہ ذیل اللہ تعالیٰ کانازل کیا ہوا حکم غور سے ملاحظہ کریں۔
۱)اس کتاب کو جو آپ کے طرف وحی کی گئی ہے پڑھا کیجیے۔ قرآن ترتیل کے ساتھ پڑھا کیجیے۔
۲) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’ پڑھو جو کچھ تم کو آسان ہو قرآن میں سے۔مورد ان کا خاص ہے، حکم عام ہے‘ اس کی تشریح اوپر ہوچکی ہے اس کو خوب یاد رکھو۔
حالتِ جنابت اور حیض و نفاس کے سوا ہر وقت اللہ تعالیٰ کے طرف سے قرآن پڑھنے کا ہم مسلمانوں کو حکم ملا یہ حکم فاتحہ مروجہ اور غیر مروجہ کو بھی شامل ہے۔ کیوں کہ فاتحہ مروجہ قرآن ہی تو ہے ۔
خواہ دن ہو یارات ، نماز سے پہلے ہو یا نماز کے اندر،بعد التزام کے ساتھ ہو یا غیر التزام کے اجتماع کے ساتھ ہو ، یا غیر اجتماع جنازے کی نماز کے پہلے ہو یا جنازے کی نماز کے بعد، میت کے دفن کرنے سے پہلے ہو یا دفن کرنے کے بعد چالیس قدم ہو یا چالیس قدم سے پہلے، ہاں بعض جگہوں میں قرآن پڑھنا فرض ہے، بعض جگہ واجب بعض جگہ میں سنت اور مستحب ہے۔
اللہ تعالیٰ کاحکم ہے مجھ سے دعامانگو میں سنتا ہوں ، قبول کرتا ہوں یہ حکم بھی عام ہے ۔خواہ نماز سے پہلے ہو یا نماز کے بعد اجتماع کے ساتھ یا انفراد کے ساتھ، التزام کے ساتھ ہو یا غیر التزام ، جنازے کی نماز سے پہلے ہو یا جنازے کی نماز کے بعد دفن کرنے سے پہلے یا دفن کرنے کے بعد ہو، ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم مسلمانوں کو حکم ملا قرآن پڑھو  جب ہم قرآن 
پڑھیں گے اور دعا کریں گے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تعمیل کرنے والے ٹھہریں گے ہم کو اجر عظیم اللہ کی طرف سے ملے گا۔افسوس ان مفتیوں کے اوپر! جو یہ کہتے ہیں کہ اس کا پڑھنا التزاماً اور اجتماعاًنبی کریم ﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے ثابت نہیں۔
میں کہتا ہوں اگر یہ اجتماع اور التزام کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے اور صحابہ سے اور تابعین سے ثابت ہوتاتو اس کا پڑھنا فرض ہوجاتا۔حالانکہ اس کےفرض کے قائل کوئی نہیں نہ واجب کے قائل نہ سنت مؤکدہ کے قائل ہیں۔ بلکہ اس کو ہم سنی سنت اور مستحب سمجھ کر ہمیشہ التزام اجتماع کے ساتھ پڑھتے ہیں۔فاتحہ مروجہ سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل درود شریف کو فرداً فرداً نبی کریم ﷺ بیان فرمائے ہیں ان کے پڑھنے والے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے سنت مستحب کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے۔
مفتی کفایت اللہ صاحب مدرسہ امینیہ دہلی النکات شاگرد ضیاء الحق دہلی مفرور محمد شفیع مفتی سابق دیوبند ، مہدی حسن مفتی دیوبند، سعید احمدمفتی سہارنپور، ڈابھیلی لکھنوی ،وانمباڑی پیرم پٹی، رائے چٹی ، بھوپال، لاہوری، یہ سب دیوبندیوں کے متعقد اور مقلد اور اذناب ہیں۔
مذکوربالا مفتیوں کے فتویٰ کا خلاصہ یہ ہے ۔ ان سبھوں نے لکھا فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنا نعوذ باللہ ان میں سے بعض نے بے اصل بے سند بعض نے مکروہ کہا بعض نے بدعت شنیع واجب الترک کہا ہے۔ ان کا یہ حکم اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص حکم نہیں کرتا۔ موافق اس حکم کے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ایسے لوگ بالکل ہی کافر ہی ہیں بالکل ظالم ہیں۔ بالکل ہی فاسق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے طرف سے یہ حکم کفرانِ مفتیوں کے اوپر جاری ہیں اگر کوئی شخص کسی چیز کو بے اصل ناجائز حرام بدعت شنیع کہے۔اس نے اس کے کرنے سے انکار کیا۔یہ کہنے کے بعد وہ اس کو ہرگز نہ کر سکے گا اگر وہ کہے کہ ہم اس فاتحہ پڑھنے سے انکار نہیں کرتے تو عقلمندوں کے نزدیک اس دعویٰ میں وہ جھوٹاہے۔
اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ مسلمات سے ہیں اگر کوئی ایسے نفل یا ایسے مباح کو جس کا ثبوت دلیل قطعی سے ہوانکار کرنے والا کافرہوجاتاہے۔ دیکھ لو حصول وغیرہ کو جناب مفتی صاحب سے گزارش یہ ہے اس وقت مفتی حقیقی نہیں ہیں بلکہ مجازی ہیں یعنی ناقل ہیں۔
لہٰذا آپ کو منقول منہ پیش کرنا  ضرور ہے یعنی وہ کتاب مفتا بہ جس سے آپ نے استفتا کا جواب نقل کیا ہو مادہ قرآن کی آیت یا وہ حدیث رسولﷺ پیش نہ کی۔آپ کے اوپر کفر کا حکم عائد ہوتا ہے کیوں کہ آپ نے نص قطعی کو انکار کیا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اس کتاب کو جو آپ کی طرف وحی کی گئی پڑھا کیجئے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے۔ قرآن ترتیل کے ساتھ پڑھا کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے پڑھو جو کچھ تم کو آسان ہو قرآن میں سے بحالت جنابت اور حیض ونفاس کے سوا باقی سب حالت میں قرآن پڑھنا جائز ہے۔ اس میں کسی مکان اور زماں کی تخصیص نہیں ہے یہ حکم ہر وقت کو شامل ہے۔خواہ نماز سے پہلے ہو یا نماز کے بعد ہرگز بعض جگہوں میں یانماز کے اندر قرآن پڑھنا فرض ہے۔ بعض جگہوں میں قرآن پڑھنا واجب ہے بعض جگہوں میں سنت اور بعض مستحب ہے۔
انفراداً ہو یا اجتماعاً آہستہ ہویابلند آواز سے فاتحہ غیرمروجہ کو بھی شامل ہے ۔جنازے کی نماز سے پہلے ہو یا جنازے کے بعد کو بھی شامل ہے۔ دفن کرنے کے بعد کو بھی شامل ہے، چالیس قدم کے پہلے ، چالیس قدم کے بعد بھی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔اللہ تعالیٰ خود اوراس کے فرشتے نبی کریمﷺ کے اوپر درود پڑھتے ہیں۔ اے مسلمانو! تم بھی ان پر درود پڑھو ۔
اس میں کسی زماں ومکاں کی تخصیص نہیں اگر آپ نے یہ حکم اپنے اجتہاد سے دیا ہوتو آپ مقلد محض ہیں ۔ آپ اجتہاد کا حق نہیں رکھتے پھر آپ نے اجتہاد کیا۔ اس اجتہاد میں آپ نے غلطی 
کی سید عالم ﷺ نے آپ کے لیے ٹھکانا جہنم قرار دیا ہے۔ مستدرک حاکم اور مسند ابن حبان کی حدیث وغیرہ کو دیکھ لو جس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا جب غیرمجتہد اس اجتہاد سے حکم دے پھر اس اجتہاد میں غلطی کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ آپ نے بڑی غلطی کی نص قطعی کے خلاف کے حکم دیاگیا۔
کیا نبی کریم ﷺ نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل نہیں پڑھا کیا صحابہ نے سورۂ قل نہیں پڑھا اس نہ پڑھنے پر آپ کے پاس کیا ثبوت ہے۔ کیا آپ کے نزدیک عدم ذکر اور عدم نقل کو عدم وجود مستلزم ہے۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہوتے ہوئے ۔زید ۔ عمر کا قول فعل دریافت کرنا۔ کمالِ بے وقوفی ہے اور نشانی گلابی وہابی کی ہے ۔ سنی حضرات مذکور حکم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے۔ اوپر معلوم ہوچکا اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم دینے پر اللہ تعالیٰ نے اس حکم دینے والے کوکافر، ظالمِ فاسق کہا ہے۔ آپ کے فتوی سے یہ ثابت ہوتا ہے ۔ جس چیز کاوجود عہدِ رسالت میں ہووہی جائز ہے۔ جس کا وجود عہدِ رسالت میں نہ ہووہ چیز ناجائز بدعت ہے۔ خواہ عبادت سے ہو یا معاملات سے ۔ لہٰذا دارالافتا مدرسہ امینیہ اسلامیہ دہلی بہت کذابیہ عہدرسالت میں موجود نہ تھا
نہ اس نام کی کوئی جگہ تھی لہٰذا مدرسہ امنیہ بہئیت کذبیہ بدعت کاگھر ہے۔ یہ نام رکھنے والے سب بدعتی ہیں۔اس نام کے پکارنے والے سب کے سب بدعتی ہیں۔ اس میں کام کرنے والے بدعتی ہیں۔ یہ دارالافتا نہ رہا بلکہ دارالبدعت بدعت کا گھر بنا ۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ مسلمات سے ہیں ۔ جو کوئی کسی ایسے نفل کو یا کسی ایسے مباح کو جس کا ثبوت دلیل قطعی سے ہوانکار کرے انکار کرنے والا کافر ہوجاتا ہے، دیکھوحصول وغیرہ۔
نبی کریمﷺ کاارشاد ہے تم میں سے بہتر وہ ہے ۔ جو قرآن پڑھتا اور دوسروں کو پڑھتا ہے۔ نبی کریمﷺ کاارشاد ہے۔سورہ فاتحہ تین بار پڑھنے سے ایک پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ شریف کو مقلب بقلب سبع مثانی فرمایا ہے، یہ ایسے اعلیٰ برتر سات آئتیں ہیں کہ بار بار پڑھی جاتی ہیں، باربار پڑھنا اس سورہ شریف کا اللہ تعالیٰ نے صفت ٹھہرایا باربار پڑھنا نماز سے پہلے ہو یا نماز کے اندر یا نماز کے بعد ہو۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا سورۂ قل ثلث قرآن ہے یعنی تیسرا حصہ قرآن کا ہے۔ تین مرتبہ پڑھنے سے پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے ۔ طبرانی اور طبقات ابن سعد میں ہے۔ تبوک میں جبرئیل امین رسولﷺ پر نازل ہوےاور خبر دیا ۔ معاویۃ ابن معاویۃ المزنی جن کو لیثی بھی کہتے ہیں۔ انتقال کر گیے آپ دوست رکھتے ہیں کہ آپ اس پر نماز پڑھے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہاں۔ جبرئیل امیں نے ان کی لاش مبارک کونبی کریمﷺ کے سامنے حاضر کیا پھر آپ نے ان کے اوپر نماز پڑھی اور ان کے ہمراہ فرشتوں کی صفیں تھی ہر ایک صف میں ستر ستر ہزار فرشتے تھے ۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریمﷺ نے جبرئیل امیں سےپوچھا معاویہ کو اس قدر بڑا درجہ کیوں ملا۔ حضرت جبرئیل نے عرض کی یارسول اللہﷺ یہ سورۂ قل کو بہت دوست رکھتا تھا۔ جاتے وقت آتے وقت کھڑے ہوتے وقت اٹھتے وقت ، بیٹھتے وقت یعنی ہر وقت اس سورۂ شریف کو تلاوت کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا بڑا مرتبہ دیا۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنازے کی نماز میں میت حاضرہونے کے سوا جائز نہیں ۔میت کا حاضر ہونا یاامام کومیت نظرآنا شرط ہے اگر یہ دونوں چیزیں نہ ہوں یا دونوں میں سے ایک نہ ہو نماز جنازہ جائز نہیں بعض جہلا حنفی وہابیوں کے ساتھ مل کر کبھی جنازے کی نماز میت کے غائب ہونے پرپڑھتے ہیں۔ یہ ہرگز جائز نہیں اگر بلا میت یہ نماز جائز ہوجاتی تو حضرت جبرئیل امین کو میت حاضر کرنے کی ضرورت کیا تھی، اس سے ثابت ہوا یہ نماز میت حاضر ہونے کے سوا جائز نہیں۔
نجاشی کا واقعہ اس پر قیاس کروان کی لاش نبی کریم ﷺ کے سامنے حاضر کی گئی تھی یا نبی کریمﷺ اس کی لاش دیکھ رہے 
تھے، امام کادیکھنا مقتدیوں کی نماز کے جواز کے لیے کافی ہے یہاں پرزیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں۔
سبحان اللہ کیا خوش نصیب ہیں وہ مسلمان مرد ومسلمان عورت جو فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل کو ہروقت ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے ہیں۔ مذکوربالاحدیث پر نظر کرنے سے  معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے والوں کو سب سے سے بہتر قرار دیا کیوں کہ فاتحہ مروجہ قرآن ہی تو ہے۔افسوس ہے ان وہابیوں پر جو فاتحہ مروجہ کو بدعت کہتے ہیں۔ فاتحہ مروجہ قرآن یعنی سورۂ فاتحہ اور سورہ قل پڑھنے والے ایسے مقدس جماعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قسم کھاتا ہے قسم ہے مجھے ان لوگوں کی جو قرآن پڑھتے ہیں۔
قرآن مجید کا نام ذکر بھی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے قرآن پڑھنے والے کو ہر حرف کے بدلے میں دس نیکی دس سے ساٹھ تک ساٹھ سے زائد بھی آیا ہے ۔کیا فاسق بدعتی وہ مسلمان ہیں جو فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے کو بدعت شنیع کہتے ہیں، اس کو واجب الترک کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نےاور ان کے رسولﷺ نے حکم کہیں نہیںدیا کہ فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل ہروقت پڑھنا یا سب نمازوں کے بعد پڑھنا یا بعض نمازوں کے بعد پڑھنا بدعت شنیع واجب الترک ہیں۔ نہ کسی مجتہد نے یہ حکم دیانہ کسی مفتابہ کتاب میں یہ حکم موجود ہے۔ ان مفتیوں نے اللہ اور اس کےرسول ﷺ کےخلاف یہ حکم دیا ہے اور انہوں نے نصوص قطعی کے خلاف خانہ ساز فتویٰ دیا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک قاعدہ کلیہ ہے۔ اگر خبرواحد کتاب اللہ کے مقابلہ میں آجائے تو اگر دونوں کے اوپر عمل کرنا ممکن ہوتو دونوں پرعمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ممکن نہ ہوتو اس خبر واحد کو چھوڑ دیتے ہیں۔کتاب اللہ پر عمل کرتے ہیں ۔جب یہ حال خبرواحد کا ہے بغرض محال اگر قول صحابہ قول ائمہ اسلام جس کی کوئی سند نہ ہو کتاب اللہ کے مقابل میں آجائے وہ کب قابلِ عمل ٹھہرے گا۔
ان سب کے اوپر حکم کفرعائدہوتا ہے۔خواہ تبرائی ہو یا گلابی  ان کا فتویٰ ہرگز اہل سنت والجماعت کے نزدیک قابل عمل نہیں۔ان سے دریافت کرو یہ مسئلہ جزئیہ کس مفتابہ کتاب میں موجود ہےیعنی فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل پڑھنا بدعت شنیع واجب الترک ہے۔ ہم سنت جماعت کے مسلمان ان دونوں سورتوں کے پڑھنے کو سنت، مستحب جان کر التزاماً اجتماعاً بہ نیت ثواب پڑھتے ہیں۔ مسلمانو! جو کوئی نیک کام کرو التزاماً ہمیشہ کرو ہمیشہ نیک کام کرنا سنت ہے۔
نبی کریمﷺ کی عادت مبارک بھی یہی تھی جب کوئی نیک  کام کرتے تھے ہمیشہ کرتے تھے۔ دیکھو حدیث مسلم کو۔۔
وہابیہ کا یہ کہنا کہ جب کوئی کام نیک التزاماً ہمیشہ کیا جائے۔ لوگ اس کو فرض جاننے لگیں گے اس لیے واجب الترک ہے صد حیف صدافسوس ہے ان وہابیوں پر جن کو اللہ تعالیٰ نے مسلوب العقل بنا دیا ہم التزاماً رات دن میں بارہ رکعتیں سنت موکدہ پڑھتے ہیں۔ ابتدائے اسلام سے اب تک سب مسلمان التزاماً ان کو پڑھتے آئے اب بھی التزاماً پڑھ رہے ہیں۔ کوئی مسلمان نادان بے علم ان بارہ رکعتوں کو فرض نہیں جانتا۔ جب نبی کریم ﷺ کے ان سنتوں کو فرض نہیں جانتا تو آپ کے یا میرے کسی فعل مستحسن کو کوئی بیوقوف جاہل کیوں فرض سمجھے گا، یہ صرف وہابیوں کو طاعون کی بیماری لگ گئ ہے ۔ یہ ہمیشہ اس میں مبتلا رہیں گے اسی مرض سے اس دنیا فانی سے جائیں گے۔،
جناب مفتی صاحب!ً گزارش یہ ہے آپ ناقل ہیں حقیقی مفتی نہیں۔ لہٰذا آپ نے استفتا کا جواب جو نقل کیا اس مفتا بہ کتاب کا نام فوراً پیش کریں۔
کفایت اللہ صاحب! فاتحہ مروجہ کا یہ طریقہ جو آپ نے سوال میں ذکرکیا ہے ثابت نہیں۔ میں کہتا ہوں مذکورہ طریقہ کا نہ کر ناکہیں ثابت نہیں۔ عدم ثبوت سے اس کا ناجائز ہونا لازم نہیں آتا ۔ناجائز ہونے کے لیے دلیل پیش کیجیے۔
کفایت اللہ صاحب!سورۂ فاتحہ ایک بار سورۂ اخلاص تین 
باراور پھر بلند آوازسے درود شریف پڑھنے اوراس طرح دعا ختم کرنے کاااور اس کو لازم کرلینے کاثبوت حضورﷺ سےہے نہ صحابہ کرام اورنہ ائمہ اسلام سے میں کہتاہوں مذکورہ طریقہ کے لازم نہ کرنے کاثبوت حضور ﷺ سے نہ صحابہ کرام سے نہ ائمہ اسلام سے ثابت نہیں عدمِ ثابت اسلام میں کوئی دلیل نہیں کیوں عدم ثبوت خوونیست ونابود ہے۔ معدوم محض کسی چیز کے وجود کے لیے نفی کاسبب نہیں بن سکتا۔ علاوہ اس کے آپ کے پاس عدم ثبوت پرثبوت شرعی کیاہے۔ مفتی صاحب عدم ثبوت سے طریقہ مذکورکا ناجائز ہونالازم نہیں آتا۔ اس کے ناجائز ہونے کے لیے دلیل شرعی پیش کیجیے۔
کفایت اللہ صاحب! نماز جمعہ میں سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد کوئی اجتماعی دعا کاکرنا جائز ہے یا ناجائز ۔اس کے ناجائز ہونے کے لیے دلیل شرعی پیش کیجیے۔
کفایت اللہ صاحب! نما ز جنازہ خود دعا ہے۔ میں کہتا ہوں نہ غلط ہے ۔ نمازجنازہ من کل وجوہ ۔۔۔نہیں من وجہ دعا ہے۔ من وجہ نماز ہے اور یہ ۔۔۔دعا ہوتی ہے تو بے وضو بھی جائز ہوجاتی ۔۔۔۔ بے وضو جائز نہیں دعا کے لیے وضو شرط نہیں۔ اس نماز جنازہ کے لیے وضو شرط ہے۔
کفایت اللہ صاحب! اس کے بعد اجتماعی دعا ثابت نہیں ، میں کہتا ہوں اس کے بعد کوئی اجتماعی دعا نہ کرنا ثابت نہیں!۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم دعا کرو میں سنتا اور قبول کرتا ہوں۔ یہ حکم عام ہے ۔ ہر ایک وقت کو شامل ہے خواہ حالت اجتماعی ہویا حالت انفرادی ۔ جنازے کی نماز سے پہلے ہو جنازے کی نماز کے بعد ۔
مفتی صاحب! اجتماعی دعا ثابت نہ ہونے سے اس اجتماعی دعا کاکرنا ناجائز ہونا لازم نہیں آتا۔ ناجائز ہونے کے لیے دلیل پیش کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جب فارغ ہوجاؤ یعنی قرب فرائض سے ٹھہر جاؤ اللہ کی طرف راغب ہو جاؤ بذریعہ قرب نوافل کے یعنی تسبیح، تہلیل، تکبیر، دعا، تلاقت، قرآن وغیرہ سے۔ 
اللہ کی طرف متوجہ ہوجاؤ ۔
اس آیۂ کریمہ سے فقہا ومفسرین نے نماز کے بعد دعا کرنے کااستدلال کیا ہے، نماز جنازہ قرب فرائض میں داخل ہے۔اس کے بعد دعا کرنا قرب نوافل سے ہے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی عبادت اور نماز کے بعد دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے ، وہ عبادت ہی کیا ہوئی جس سے اللہ ناراض ہوجائے۔ کفار اپنے زعم باطل سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں مگر اللہ ان سے ناراض ہے ۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ جنازے کی نماز عبادت ہے اس کے بعد بھی دعا کرنا اللہ کی رضامندی طلب کرنے کےلیے ضروری ہے۔ جولوگ جنازے کی نماز کے بعد دعا نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہے ۔ جس سے اللہ ناراض ہوجائے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
وہابی خواہ تبرائی ہو یا گلابی یہ دونوں نماز جنازے کے بعد دعا نہیں کرتے بلکہ حکم دیتے ہیں جنازے کی نماز کے بعد دعاکرنا ناجائز  اور حرام ، بدعت ہے۔ یہ حکم ان کے اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہے۔ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ مگر یہ ہمیشہ جہنم نہیں رہیں گے اگر ان میں ایمان ہے اگر ایمان نہیں ہے تو یہ بھی ہمیشہ کافروں کی طرح جہنم میں رہیں گے ، اگر کوئی کہے یہ نماز بھی پڑھتے ہیں روزہ بھی رکھتے پھر جہنم میں کیوں جائیں گے ، نماز و روزہ تب کام آجائے جب ایمان ہے ، جب ایمان نہیں تو نماز وروزہ کچھ کام نہیں آتا۔
نبی کریمﷺ کے زمانے میں منافق نماز پڑھتے تھے۔ جہادوں میں بھی جاتے تھے۔ یہاں تک انہوں نے ایک مسجد بھی بنوائی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے واسطے جہنم کے طبقوں میں سے نچلا طبقہ مقرر کیا ہے کیوں کہ ان کے پاس ایمان نہیں تھا۔
کفایت اللہ صاحب! نے لکھا میت کی تدفین کے بعد اس کی مغفرت کے لیے ہرشخص دعاکرے اجتماعی دعا کا ثبوت نہیں ہے ، مولوی کفایت اللہ صاحب نے وہابیوں کی ناک کاٹ دی ، 
فرداً فرداً دعا کرنے کا حکم دیا وہابی اس کو بدعت کہتے ہیں، میں کہتاہوں کہ تدفین کے بعد کوئی اجتماعی دعا نہ کرنا ثابت نہیں۔ میں پوچھ رہا ہوں کہ فرداً فرداً دعا کرنا کسی دلیل سے ثابت ہے؟ اور اجتماعی دعا کرنا جائز ہے یاناجائز؟ ناجائز کے لیے دلیل پیش کریں۔
ہر نیک کام کو لازم کرنا ہمیشہ مسنون ہے۔ نبی کریمﷺ جب کوئی نیک کام کرتے تھے ہمیشہ کرتے تھے جوکوئی اس کو نہ کرے اور اس کو جائز کہے اس پر طعن وتشنیع ضرور کرے، واغلظ علیہم کا مصداق ہے کیوں اس نےجائز کو اپنے طرف سے ناجائز کہا ہے۔ یہ وہابی خواہ تبرائی ہو گلابی۔ الفاتحہ کی آواز سنتے ہی ایسے بھاگ جاتے ہیں جیسے شیطان اذان کی آواز سن کر انگلی کانوں میں رکھ کر گوزمارتا ہوا بھاگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مذمت کرتے ہوئے جو قرآن پڑھنے سے قرآن کے اوپر عمل کرنے سے بھاگ جاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کیا ہوگیا ان کو قرآن سے بھاگتے ہیں جیسے وحشی گدھے شکاری سے یا شیر سے بھاگتے ہیں ، وحشی گدھے شکار ی کو یاشیر کو دیکھ کر بھاگتے ہیں جیسا وحشی گدھا شیر یاشکاری دیکھ کر بھاگتا ہے۔اسلام کے اندر سب احکام آٹھ ہیں ۔اس میں تمام احکام آگئے خواہ عبادت ہو یا معاملات یا عادات فرض، واجب ، سنت موکدہ، مستحب ، مباح ، حرام مکرو ہ تحریمی مکروہ تنزیہی ،بدعت اور شبہ بدعت انہیں میں داخل ہے کوئی نواں قسم علیحدہ نہیں حرام بہ مقابلہ فرض کوآتا ہے۔ ۱) مکروہ تحریمی بمقابلہ واجب کو آتا ہے ۔مکروہ تنزیہی بمقابلہ سنت اور مستحب کو آتا ہے ۔ فرض کے واسطےدلیل موجود ہونا ضروری ہے۔ واجب کے واسطے دلیل ہونا ضروری ہے، سنت موکدہ کے واسطے دلیل موجود ہونا ضروری ہے اور مباح کے واسطے دلیل کی ضرورت نہیںکیون کہ اصل شئے میں اباحت جواز ہے۔
اللہ پاک کا ارشاد ہےاللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے تمہارے فائدے کے لیے ہر وہ چیز جو زمین کے اندر ہے پیدا کیا۔جمیعاً کے ساتھ اس کو تاکید کیا ۔جس چیز کو قرآن مجید نے منع کیا وہ منع جس چیز کو حدیث رسولﷺ نے منع کیا منع ہے۔ جس چیز کے منع ثابت نہیں وہ سب مباح اور جائز ہے مگر وہابیوں کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ ہرگز بدعت سے بچ سکتے نہیں۔ علمائے محققین ماتریدین واشاعرہ سب کا اتفاق اس پر ہے ، ۱) اشیا خباثت، ۲) اشیا مضر،۳) دم، ۴) فروج باقی سب چیزوں کے اندر اباحت جواز ہے۔ یہ سب کتب اصول وفروع میں موجود ہیں آپ کے اور دیوبندیوں اور سہارنپور یوں کے مفتیوں کے تحریر سے ثابت ہوا۔ مباح کوئی چیز نہیں آپ اور ان مفتیوں کے فتویٰ سے شریعت کا بہت بڑا حصہ باطل اور فاسد ہونا لازم آتا ہے۔ چند مثالوں کےساتھ میں اس کو واضح کروں گا ۔ ناظرین باقی چیزوں کو انہیں پرقیاس کریں مثلاً لفظ مفتی اور مولوی کسی نام کے ساتھ ہم سنیوں کے نزدیک لکھنا جائز اور مباح ہے  اور ان مفتیوں سے کوئی پوچھے ان کا لکھنا جائز ہے یا ناجائز َ؟ آپ جواب یہ دیں گے اس کا لکھنا حضور ﷺ کے زمانے سے اور صحابہ کے زمانے سے اور ائمہ اسلام کے زمانے سے ثابت نہیں لہٰذا یہ بدعت شنیع واجب الترک ہے۔ آپ اس کو بدعت بھی کہیں اور آپ اپنے نام کے ساتھ لکھتے بھی رہیں۔ ہم سنیوں کے نزدیک یہ جائز ہے ۔ اگرکوئی آدمی دن کے دس بجے قرآن شریف کی تلاوت چند آدمیوں کے ساتھ التزاماً ہمیشہ کرتے رہیں اور قرآن تلاوت کے بعد چند غربا کوکھانا کھلاتے رہیں اور ان کو چند پیسے بھی تقسیم کرتے رہیں اگر آپ سے کوئی سوال کرے یہ جائز ہے یا ناجائز؟ آپ اور مفتی مذکور بالا یہ جواب دیں گے اس کا کرنا نبی کریمﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ ثابت نہیں۔ لہٰذا بدعت شنیع واجب الترک ہے۔
نبی کریمﷺ نے سنت حسنہ کے موجد کے لیے دو اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا۔ آپ کے اور مفتی مذکور کے فتویٰ سے ثابت ہوا یہ حرام ہے۔ ہم سنیوں کے نزدیک ہر ایک میوہ کھانا مباح اور جائز ہے۔
اگرآپ سے کوئی دریافت کرے اخروٹ اور آم کھانا جائز ہےیا ناجائز ؟ آپ اور مفتی مذکور یہ جواب دیں گے ۔ اس کا کھانا نبی کریمﷺ سے اور صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ ثابت نہیں۔لہٰذا حرام واجب الترک ہے آپ اس کو حرام بھی کہیں اور کھاتے بھی رہیں۔ ہم سنیوں کے نزدیک ہر غذا حلال کھانا جائز ہے۔ اگر آپ سے کوئی بنگلوری سوال کرے یہاں ایک غلہ جس کو غیر مسلم راگی کہتے ہیں مسلمان بھی راگی بولتے ہیں اس کا کھانا جائز ہے یا ناجائز؟ آپ اور مفتی مذکور یہ جواب دیں گے نبی کریم ﷺسے، صحابہ، ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ اس کا کھانا ثابت نہیں۔ لہٰذا حرام واجب الترک ہے آپ لوگوں نے مسلمانوں کے اوپر راستہ بہت تنگ کردیا مسلمانوں کو حرج میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میں نے تمہارے دین میں ہرج اور تنگی پیدا نہیں کیااب بتلاؤ مباح تمہارے نزدیک کیا چیز ہے۔ حضور نبی کریمﷺ سے اجتماعی دعا کرناجنازے کی نماز پڑھنے کے بعد ثابت ہے ۔ مغازی واقدی میں ہے ۔ غزوہ موتہ میں جب مسلمانوں کورومیوں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ نبی کریمﷺ مدینہ طیبہ میں منبر شریف پررونق افروز ہوئے نبی کریم ﷺ پر مدینہ سے لے کر سارا ملک شام موتہ جنگ کے جگہ سینکڑوں میل کا فاصلہ منکشف ہوا۔ جیسے ہم کسی چیز کو سامنے دیکھ رہے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے منبر سے خبر دی لیا جھنڈا ہاتھ میں زید بن حارث نے ۔ دشمن کے مقابلے میں نکلا یہاں تک کہ شہیدا ہوا پھر نبی کریمﷺ نے اس پر نماز پڑھی اور دعا کا حکم دیا صحابیوں کو ان کے واسطے دعاکرو۔پھر ارشاد ہوا لیا جھنڈا ہاتھ میں جعفر بن ابی طالب نے دشمنوں کے مقابلے میں نکلا یہاں تک کہ شہیدہوگیے پھر آپﷺ نے اس پر نماز پڑھی اوردعا کی صحابہ کو حکم دیا دعا کرو۔ آپﷺ نے یہ حکم صیغۂ جمع کے ساتھ دیا ہے۔
حضورﷺ نے خود بھی دعا کی آپ ﷺ کے ہمراہ سب صحابہ نے دعا کی یہی اجتماعی دعا ہے۔اصل موجوب کے لیے آتا ہے ۔ اگر قرینہ صاف ہو سنت مستحب مباح کے لیے بھی آتا ہے ۔ افسوس ہے وہابیہ کے اوپر جو یہ کہتے ہیں اجتماعی دعا نماز جنازے کے بعد ثابت نہیں حالاں کہ یہاں پر ابھی وہ شہدا دفن نہیں ہوئے تھے ۔ شہادت ہوتے ہی حضورﷺ نے ان پر نماز پڑھی اور اجتماعی دعا کا حکم دیا کسی مفتابہ کتاب میں نہیں ہے ، جنازے کی نماز پڑھنے کے بعد میت کے لیے دعا کرنا حرام بدعت ہے۔ یہ صرف وہابیوں کی بکواس ہے۔جب نبی کریمﷺ سے قولاً و فعلاً جنازے کی نماز کے بعد دعا کرنا ثابت ہوچکا اب اگر کسی زید عمر کا قول اس کے مقابلے میں آجاے ہرگزقابل اعتبار نہ ہوگا۔
قبر اگر بغلی ہے تو اس کو اینٹوں کے ساتھ بند کرنا اجماع صحابہ کے ساتھ ثابت ہے۔ نبی کریمﷺ کی لحد شریف کو صحابہ نے کچے اینٹوں کو دہن پر کھڑے کیے تھے اس طور سے کہ مٹی اندرنہ جاے اگربغلی ممکن نہ ہو توشق بنانا جائز ہے۔ اس کو بند کرنا کچے اینٹوں کے ساتھ یا بڑے بڑے سلوں کے ساتھ تختہ دینا ضرورتاً جائز ہے۔ اس طور پر کہ مٹی میت کے اوپر نہ گرجائے۔جہاں تبرائی وہابی میت کے اوپر ہی مٹی ڈالتے ہیں میت کے اوپر مٹی ڈالنا میت کے لیے توہین وتحقیر، تذلیل ہے، اس میں ہندوؤں کے ساتھ مشابہت ہوجاتی ہے کیوں کہ وہ بھی میت کے اوپر مٹی ڈالتے ہیں۔اور اس کو اینٹوں سے یا پتھروں سے یا تختوں سے بند نہیں کرتے۔ یہ اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں۔ صحابہ کاکچے اینٹوں سے نبی کریمﷺ کی قبر شریف کابند کرنا ثابت ہے۔ یہ اجماع قطعی ہے جو چیز اجماع قطعی سے ثابت ہوجائے اس کو بدعت اور اس کو انکار کرنے سے مسلمان کافرہوجاتاہے ۔دیکھو کتب اصول کو اس کو بدعت کہنا خلاف اجماع صحابہ کا ہے۔قبر کے اوپر اونٹ کی پیٹھ کی طرح بنانا مستحب ہے، اسی طرح نبی کریمﷺ کے قبر شریف کواسی طرح جمہور صحابہ نے بنایا تھا۔ادھر کے جہاں تبرائی وہابی اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں یہ بھی اجماع قطعی کے خلاف کفر ہے۔ قبر 
کے اوپر پانی چھڑکناامام محمد کے نزدیک کوئی حرج نہیں یعنی جائز ہے۔ جس کو ادھر کے لوگ مہرکرنا کہتے ہیں مہرکرنا بھی جائز ہے۔بیقہی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر میت دفن کرنے کے بعد سورہ بقر کاابتدا کوسورۂ بقر کے اخیر کوقبر پر پڑھنا مستحب جانتے تھے ۔ بیہقی شریف میں ہے اور ابوداؤد شریف میں ہے کہ نبی کریمﷺ جب میت کے دفن کرنے سے فارغ ہوتے تھے قبر پرٹھہرجاتے تھے اور صحابہ کو حکم دیتے تھے اپنے بھائی کے لیے اللہ سے دعا مانگو ۔اللہ تعالیٰ ان کو ثابت قدم رکھے اب ان کو سوال ہوتے ہیں وہابی خواہ بترائی ہو یا گلابی اس کو بدعت شنیع واجب الترک کہتے ہیں ۔ دیکھو یہ اجتماعی دعا مانگتے تھے میت کے دفن کرنے کے بعد میت کے لیے دعا کرنا حضوررسول کریمﷺ کے قول و فعل سے ثابت ہے۔ 
مگریہ وہابی خواہ گلابی ہو یا تبرائی بعد دفن کے دعا نہیں کرتے بلکہ اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں ہاں کسی فعل مستحسن کواجتماع التزام کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے کرنے سے فرض ہونے کااحتمال تھا۔
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے جب رمضان شریف کے اخیر عشرہ میں جب پہلی رات مسجد میں تشریف لائے لوگ بھی آپ کے ساتھ جمع ہوگیے پھر جب دوسری رات تشریف لائے لوگ زیادہ جمع ہو گیے پھر تیسری رات میں لوگوں کا بہت بڑا مجمع جمع ہوا۔ مسجد کے اندر انتظار میں رہے اور کھنکارتے رہے مگر نبی کریمﷺ تشریف نہ لائے ۔صبح کو جب لوگ نماز کے لئے جمع ہوئے تو نبی کریمﷺ نے عذربیان فرمایا۔
ارشاد ہوا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ آپ لوگ مسجد میں رات نماز کے لیے جمع ہوگیے تھے مگر میں عمداًمسجد میں حاضر نہ ہواْ ۔اس احتمال سے شاید یہ نماز یعنی تراویح تمہارے اوپر فرض نہ ہوجائے کیوں کہ زمانہ نبوت اور وحی کا تھا اب یہ احتمال جاتا رہا۔
 اب نہ زمانہ نبوت اور وحی کاہے نہ صحابہ کا نہ تابعین کا نہ تبع تابعین کا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا مسلمانوں کے اوپر فرض کرنا وہ فرض کر چکا اب کوئی چیز ہمارے اوپر فرض نہیں ہو سکتی ۔ اگر تمام وہابی خواہ تبرائی ہو یا گلابی ہندی ہو یا سندھی کوہی ہو یا جنگلی کسی چیز کے اوپر التزاماً اجتماع کے ساتھ ہمیشہ کرتے رہیں وہ چیز ان کے اوپر فرض نہ ہوجائے۔
جناب مفتی صاحب ! شاید آپ کے نزدیک عدم ذکر عدم نقل کوعدم وجود لازم ہوگا۔ اس لیے آپ نے ثبوت سے استدلال کیا مگر سب دنیا کے عاقلوںکے نزدیک عدم ذکر عدم نقل کو عدم وجود ہرگز لازم نہیںاور آپ نے عدم علت سے عدم حکم پر استدلال کیا حنفیہ کے نزدیک یہ باطل ہے۔ جب حکم کے لیے متعدد علتیں ہوں قرون ثلاثہ میں کسی فعل مستحسن کاثبوت نہ ملنے پر کسی فعل مستحسن کاناجائز ہونا ہرگز لازم نہیں آتا اول تو قرون ثلاثہ کو جائز اور ناجائز کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں نہ قرون ثلاثہ کسی حکم شرعی کے علت تامہ ہے۔نہ کسی حکم شرعی کے علت  ناقصہ ہے فرض اور واجب اور سنت موکدہ کے سوا نبی کریمﷺ نے جتنے افعال مستحسن اپنی عمر شریف میں کیے ہیں وہ سب کے سب بتمامہ کیا لکھے گیے۔؟ وہ سب کے سب نقل کیے گئے ہیں ؟۔آپ کے پاس اس کا ثبوت ہے۔؟ صحابہ نے جتنے افعال مستحسن کیے ہیں۔ ائمہ اسلام نے کیے۔اس کاثبوت آپ کے پاس کیاہے؟۔ جب اس کے لیے کوئی ثبوت شرعی نہیں پھر یہ کہنا اس فعل مستحسن کا ثبوت نبی کریمﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے ثابت نہیں محض نادانی اور بیوقوفی ہے۔ خواہ یہ امور مستحسن ۔۔۔ترقی کے لیے ہوں یا دنیوی۔ خیر قرون کے بہتر ہونے میں نوراً اعلیٰ نوراً ہونے میں کسی سنی مسلمان کو انکار نہیں اگر صحابہ سے کسی امرحادث پر اجتماع ہو یابعض صحابہ کا امرحادثہ پر ہوبعض کاسکوت رد سے ہو یا کسی امر حادث پر تابعین کا اجماعی ہو یا تابعین کاکسی قول صحابہ پر اجماع ہو یہ سب دلائل شرعی اور دلائل وجود ہی واجب العمل ہیں۔ عدم ثبوت کوئی دلیل ہی نہیں مگراس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جوکچھ اس خیر قرون میں موجود تھا جولوگوں نے اس میں کیا تھا۔ وہ سب قابل سند واجب التقلید ہے۔ورنہ آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ 
بدعات قدریہ بدعات جبریہ بدعات معتزلہ بدعات رافضیہ بدعات خارجیہ سب خیرقرون میں موجود تھے؟ یہ سب قابل سند واجب التقلید ہے؟ حالانکہ آپ اس کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے ضرور انکار کریں گے پھر خیرالقرون کو چار اصولوں کی طرح پانچواں اصل گردانا صریحاً لغو اور بیہودہ ہےلہٰذا آپ پر واجب لازم ہے کوئی ایسی دلیل شرعی پیش کریں جس سے یہ ثابت ہوجائے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنا التزاماً اجتماعاً نعوذباللہ بدعت شنیع واجب الترک ہے مگر یہ کسی شرعی دلیل سے آپ ہرگزنہ ثابت کرسکیں گے اگر آپ کے نزدیک جائز اورناجائز کادارومدار خیرقرون ہی پر یعنی جس چیز کا وجود ان قرون میں ہو وہ جائز ہے جس کا وجود ان قرون میں نہ ہو وہ ناجائز خواہ از قسم عبادات ہویا معاملات سے دینی ترقی کے لیے ہے یا دنیاوی میں آپ سے دریافت کرتا ہوںآپ آپ کے اساتذہ اور آپ کے پیرومرشد اور سب دیوبندی اورسہارنپوری اور ان کے اذناب یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ نعوذ باللہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے خدا کا جھوٹ بولنا جائز ہے خدا کاجھوٹ بولنا ممکن ہے۔ کیا اس عقیدے والے لوگ قرون ثلاثہ میں تھے ۔کیا نبی کریم ﷺ العیاذ باللہ اس عقیدے کے قائل تھے؟۔ کیا صحابہ ائمہ اسلام اس کے قائل تھے۔ ظاہر ہے ان پیشواے دین میں سے اس عقیدۂ کفریہ کے کوئی قائل نہ تھے۔ پھر آپ اور سب دیوبندی ، سہارنپوری اس کے قائل کیوں ہوئے قائل ہی نہیں بلکہ اس کے ثبوت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔دیوبندیوں نے اور سہارنپوریوں نے اس کے متعلق متعدد رسالے شائع کرائے ہیں اور تبرائی وہابی امرتسری نے چند سال پیشتر اپنے اخبار میں متعدد مرتبہ اس کی اشاعت کرائی ہے۔
افسوس اس کفریات کے عقیدے آپ اور دیوبندیوں کے نزدیک رکھنااور اس کی اشاعت اور تبلیغ کرنا جائز ہے۔ اور فاتحہ مروجہ قرآن سورہ قل پڑھنا ناجائز اور واجب الترک ہے۔ فاالیٰ اللہ المشتکیٰ۔
سنی حضرات !!جو کوئی صفات مذمومہ میں سے کوئی صفت نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرے اس نے االلہ تعالیٰ کی توہین و تحقیر تذلیل کی وہ اسلام سے خارج ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں سے فتویٰ طلب کرنا ہرگز جائز نہیں ان مفتیوں کے اوپر اور ان کے عقیدے کی پیروی کرنے والوں پر بہت سے کفر کے فتوے موجود ہیں۔۱) مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے علما نے ان پر کفر کے فتویٰ دیئے ہیں جس کو جی چاہے ’حسام الحرمین‘ کو دیکھ لے ۔
ان مفتیوں نے اپنے فتوؤں میں گھریلو حکم جاری کیاہے۔ یہ فتویٰ بالکل بے اصل وبے سند ہے، ہرگز قابل عمل کے نہیں۔ (پتہ مولوی محمدابراہیم صاحب کتب فروش اہلِ سنت والجماعت محلہ سودا گران بریلی)۔
امام طحاوی نے حاشیہ درالمختار میں فرمایا جنت میںجانے والی جماعت آج کے دن ان چارمذہبوں میں مجتمع ہوگئی ہیں۔ وہ حنفی مالکی شافعی حنبلی ہیں جوکوئی ان چارمذہبوں سے اس وقت خارج ہے وہ بدعتی جہنمی ہے ۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے بدعتی کی نہ نماز قبول ہے نہ روزہ وغیرہ۔ حدیث دارقطنی میںآیا ہے بدعتی دوزخ کے کتے ہیں کیا دوزخی کتے کے پیچھے نماز جائز ہے۔ ہرگز نہیں۔ لہٰذا ان سنیوں کو لازم ہے کہ وہابی کوامام ہرگز نہ بنائیں  خواہ وہابی عقلی ہو یا اعتقادی، اعتقادی وہابی عملی وہابی سے بدتر ہیں۔ بدعتی فاسق کے پیچھے نماز مکرو تحریمی ہے فاسق اعتقادی بدترہیں ، فاسق عملی سے جتنی نمازیں اس وہابی کے پیچھے پڑھی گئی ہوں ان سب کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے اور اگر اس امام وہابی نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ  سورۂ قل پڑھنے سے انکار کیا العیاذ باللہ یا اس کو ناجائزکہا توجماعت کثیرہ کے سامنے توبہ اور اس کو دوبارہ کلمہ پڑھنا اس کو اگرنکاح ہو دوبارہ پڑھنا فرض ہے انکار کے بعد جتنے نمازیں اس کے پیچھے پڑھی گئی ہوں۔ ان کا دوبارہ پڑھنا فرض ہے کیوں کہ اس نے ایسی نفل اور مبا ح 
کوانکار کیا۔ جس کا ثبوت دلیل قطعی سے ہو، انکار کرے وہ کافر ہوجاتا ہے ۔ پہلی صورت میں اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی تھی۔ انکار کی صورت میں ان نمازوں کو دوبارہ پڑھنا فرض ہے۔امام تمرتاشی ذبح کے بارے میں کس کاذبح جائز اور کس کا ذبح ناجائز ۔ تنویر الابصار میں فرماتے ہیں۔ ولا جبری ابوہ سنی ، نہیں ذبح جائز جبری مذہب والے کا جس کا باپ سنی ہو۔ یعنی باپ ان چارمذہبوں میں سےکسی کا متبع اور مقلد تھا بیٹا یہ مذہب چھوڑ کر جبری ہوا۔اس کا ذبح جائز نہیں یہی حکم وہابیہ کا ہے جس کا باپ ان چار مذہبوں میں سے کسی مذہب کامتبع اور مقلد تھا ، بیٹا وہابی ہوا ۔ اس کا ذبح بھی جائز نہیں بلکہ ہربدعتی فرقے کا یہی حکم ہے۔ جن کا باپ ان چار مذہبوں میں سے کسی مذہب کا متبع اور مقلد تھا ۔ بیٹا یہ مذہب چھوڑااسی بدعتی فرقے میں مل گیا کیوں کہ اس وقت ان کی بدعت کفر تک پہنچ گئی۔ یہ اپنی زبان سے کافر بنتے رہتے ہیں مگر ہم ان کو کافر نہیں کہتے خصوصاً فرقہ تبرائی وہابیہ کا ان کا عقیدہ ہے کہ تقلید ائمہ اربعہ کی کفر اور شرک ہے۔ تقلید کرنے والا کافر اور مشرک ہے العیاذ باللہ تمام مسلمان اس طائفہ کے نزدیک کافراور مشرک ہے ۔کیوں کہ تمام دنیا کے مسلمان ائمہ اربعہ کے مقلد ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہی مقلدین ائمہ اربعہ مومن کامل اور مسلمان کامل ہیں ۔ان کو کافر کہنے والاخود کافرہوجاتاہے۔
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے اگرکوئی مسلمان کسی مسلمان کو کافر کہے اگر کفر اس میں ہے توخیر ، اگر اس میں کفر نہیں ہے تو یہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے یعنی کہنے والا کافر ہوجاتا ہے نبی کریمﷺ نے کفر اس تبرائی وہابیہ کی طرف لوٹا دیا ۔جو تقلید کو کفر شرک کہتا ہے اور اس کو نبی کریم ﷺ نےکافرفرمایا۔
امام محمد بن علاؤالدین حصکفی نے تنویرالابصار کے شرح درالمختار میں جبری کا ذبح ناجائز ہونے کی یوں وجہ بیان فرمائی۔
 یہ جبری سنت جماعت چارمذہبوں کے چھوڑنے سے جبری مذہب اختیار کرنے سے مرتد کی طرح ہوا۔ مرتد کا ذبح جائز نہیں گواہلِ کتاب یہودکا ذبح جائز ہے، کیوں کہ وہ مرتد نہیں یہ حکم وہابیہ کابھی ہے۔ جس کاباپ ان چارمذہبوں میں سے کسی مذہب کامقلد تھا سنت جماعت  (چارمذہب) چھوڑنے سے مرتد کی طرح ہوا۔ مرتد کا ذبح جائز نہیں۔ہاں اگر اس وہابی کا بیٹا ذبح کرے بشرطیکہ وہ تقلید ائمہ اربعہ کو کفر و شرک نہ کہتا ہو اور کسی ضروریات دین کاانکار نہ کرتا ہو وہ جائز ہے کیوں کہ وہ مرتد نہیں ہے ۔اپنے باپ کے مذہب پرہے۔ اہلِ کتاب کی طرح وہابی کے بیٹے کا بھی ذبح جائز ہے بشرطیکہ تقلید ائمہ اربعہ کو کفروشرک نہ کہتاہو اور مقلدین کو کافرمشرک نہ کہتا ہو اور کسی ضروریات دین کا انکار نہ کرتا ہو اگر اس کایہ عقیدہ ہے کہ تقلید کرنا ئمہ اربعہ کی کفر وشرک ہے اور تقلید کرنے والے العیاذ باللہ کافرمشرک ہے تو اس کا ذبح جائز نہیں مذکور بالاحدیث میں اس کو کافر قرار دیا ہے ۔ کافر کا ذبح جائز نہیں مذکورہ بالا جو کچھ لکھا گیا پڑھو سمجھو اور یاد رکھو تمہارے لیے بہتر ہوگا ورنہ یہ سب اندھے اور بہرے کے سامنے رونا اور بھینس کے سامنے بین بجانا ہے ۔ جب اس مضمون میں جنازے کی نماز کے متعلق کچھ باتیں ہوئیں لہٰذا میں تبرائی وہابی حضرات سے مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب کی فوراًطلب کررہا ہوں۔ ان سوالوں کے جوابوں کی اشد ضرورت ہے۔نماز جنازہ میں آپ لوگ تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں کو باندھتے ہو اگرباندھتے ہوتو کہاں پر نبی کریم ﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو اگر ہاتھوں کو چھوڑتے ہوتو یہ نبی کریم کے قول وفعل سے ثابت کرو دوسرے تکبیر میں رفع الیدین کرتے ہو یا نہ کرتے ہوتو نبی کریمﷺ کے قول و فعل سے ثابت کرو ۔ اگر نہیں کرتے ہو نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے نہ کرنا ثابت کرو اس پر قیاس کرکے تیسرے اور چوتھے تکبیر میں یہ سب جو کچھ کرتے ہو نبی کریم ﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو۔
نماز عیدین میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں کو باندھتے ہو یا 
چھوڑتے ہو اگر باندھتے ہوتو کہاں پر باندھتے ہو نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو تکبیرات زوائد میں جب رفع الیدین کرتے ہو پھر ہاتھوں کو باندھتے ہویاچھوڑتے ہو اگر باندھتے ہوتو کہاں پر باندھتے ہو نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو اگر چھوڑتے ہوتو بھی نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو، مذکورہ بالا دونوں نمازوں میں تم یہ سب ضرور کرتے ہو۔ اگر نبی کریم ﷺ کاقول وفعل پیش نہیں کیا۔ توتمہارے نزدیک یہ سب ناجائز حرام بدعت شنیع واجب الترک ہےان چیزوں کو کرنے والا بدعتی ہے بدعتی کی نم نماز مقبول ہے نہ روزہ نہ حج نہ فرض نہ نفل۔ لہٰذا گزارش ہے نبی کریمﷺ کا قول یافعل ضرور پیش کرکے اپنے تبرائی حضرات کوممنون ومشکور فرمائے گا۔ گلابی اورر تبرائی حضرات دونوں مل کر جواب فوراً دیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے کا حکم دیا اور نبی کریمﷺ  نے قرآن پڑھنے کا حکم دیا۔ سورۂ فاتحہ سورۂ قل عین قرآن ہے۔ کوئی مسلمان اس کا انکارنہیں کرسکتا۔اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حکم کی تعمیل کرنا فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل پڑھنا تمہارے نزدیک رسم ورواج ٹھہرا۔ تمہارے نزدیک عبادت کیا چیز ہے؟۔رسم کی تعریف جامع اور مانع کیجیے اور عبادت کی تعریف جامع اور مانع کیجیے۔ گلابی گلابیوں پر اور تبرائی تبرائیوں پراحسان کر کے ان کو شکریہ ادا کرنے کا موقع دیجیے۔
تنبیہ :۔ دلائل شرعی کے ساتھ فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل کو العیاذ باللہ ناجائز ثابت کرنے پر ہرگز قادر نہ ہوگا۔ خواہ گلابی ہو یا تبرائی ، غدودی ہو یا مردودی، بہائی ہو یا مودودی ، نیچری ہو چکڑالوی،خاکساری ہو بروزی۔
ان کی زبانی بکواس کوگوزِ شتر سمجھ کر ردی کے ٹوکرے میںدفن کر دو ۔ وہابیہ کہتے ہیں اس وقت کے مفتیوں کو مفتیٔ مجازی اور ناقل کہنا ان کی توہین ، تحقیروتذلیل ہے۔ اس جہالت کا کیا علاج ان بے بصروں کو معلوم نہیں کہ مفتی حقیقی کس کو کہتے ہیں اور مفتیِ مجازی کس کو کہتے ہیں۔ نہ یہ لوگ ان لفظوں کوکبھی سنا ہے ۔ان بےخبروں کو لازم تھا کہ کسی جاننے والے سے اس کی تحقیق کریں پھر اپنی جہالت کو جاہلوں میں ظاہر کریں ان کی جہالت ان پر ماتم کرتی ہے اور اس پر ہنسی اور مذاق اڑاتی ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیںجوکسی چیز کو سمجھنے جاننے کے بغیر اس کے خرافات بکتے ہیں۔
صدہا سال گزر گیے مفتی حقیقی دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اس کے لیے شرط ہے ۔ شرط نہ ہونے سے مشروط بھی نہیں ہوتا۔ اس وقت مفتیوں کو مجازی ناقل کہنا اظہارِ حق ہے۔ گالی اور توہین تحقیر نہیں ہے مگر یہ نادان حق کو ناحق ، حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھ گیے ،ایسے لوگ خرد کو جنون، جنون کو خرد سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ انہوں نے ناقل کو ناقابل سمجھے اگر کسی نااہل کاتب صاحب نے ایسا لکھ بھی دیا ہو سمجھ دار آدمی یہی کہے گا یہ کاتب صاحب کی غلطی ہے کیو ں کہ لفطا مجازاور لفط مفتی اور طلب کتاب قرینہ موجود ہے۔ ناقابل کو مفتی کون کہے گااورناقابل سے طلب کتاب کون کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا یہ لوگ بے مغزپوست ہیں ۔ بلکہ پوست برپوست ہم چوں ۔۔۔ہیں گلابی کہتے ہیں کہ ہم وہابی نہیں۔ کیا وہابی کو سینگ ہوتے ہیں یا دم ۔ جس سے پہچانا جائے۔ سینگ اور دم کسی میں نہیں یہ صرف اعتقاد سے معلوم ہوتے ہیں ۔ سنیوں کے خلاف تبرائی اور گلابی ہردو نے بہت سارے رسالے لکھے ہیں۔ ان کو دیکھ کر آپ کو یقین آ جائے گا۔ دور مت جایئے مولوی کفایت اللہ کے رسالوں کو دیکھ لیجئے گا۔ آپ کو معلوم ہو جائے کہ کہیں تیتر بنے کہیں بیٹر گلابی۔ وہابی مقلدیت اور حنفیت کے پردے میں وہابیت کی اشاعت کرتے ہیں ۔ یہ گندم نما جوفروش ہیں۔ عوام ان کی چال چلن پر جلدی واقف نہیں ہوتے۔ گلابی قرآن و حدیث سے استدلال کرتے ہیں ۔ آپ نے یہ بڑاغضب کیا ۔ آپ کو یہ معلوم نہیں ہے۔
ہرایک باطل فرقے نے اپنے زعم باطل سے قرآن 
حدیث سے استدلال کرنے کی کوشش کی مثلا مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اپنے زعم باطل سے قرآن وحدیث سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی جاہلوں کی ایک جماعت اس کے تابع ہوگئی۔ تبرائی وہابیوں نے تقلید ائمہ اربعہ کو کفر وشرک کہا ہے ۔ انہوں نے بھی اپنے زعم باطل سے قرآن حدیث سےا س دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ جاہلوں کی ایک جماعت ان کے تابع ہوگئی۔ تبرائی اور گلابی دونوں نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے کواورجنازے کے بعد کی دعا کرنے کو ناجائز ، حرام، بدعت شنیع کہا۔ انہوں نے بھی اپنے زعم باطل سے قرآن حدیث سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جاہلوں کی ایک جماعت ان کے تابع ہو گئی گلابی اور تبرائی دونوں نے فاتحہ مروجہ، سورۂ فاتحہ، سورۂ قل پڑھنے کو اور جنازے کے بعد کی دعا کرنے کو ناجائز حرام بدعت شنیع کہا ۔ انہوں نے بھی اپنے زعم باطل کوقرآن حدیث سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ جاہلوں کی ایک جماعت ان کے تابع ہوگی۔
سنی علما نے الحمداللہ ان کے دعوؤں کو ان کے دلیلوں کے پرخچے اڑادیئے ہیں۔ ہبا منثوراً کردیا سنی علما نے۔ بکثرت ان کی تردید میں رسالے لکھے ہیں۔ ہر سنی مسلمان کو لازم ہے کہ ان رسالوں کو منگائےاورپڑھے اورسمجھے اپنے ایمان کو مضبوط بنائے۔ وہابیہ اپنے اصول کے اعتبار سے جس میں کسی قسم سے تخصیص نہیں۔ہمیشہ بدعت ہی کے اندر رہیں گے اپنے آپ کو بدعتی ہی کہلائیں گے۔ خواہ دنیاکے ترقی کے گدھے کے اوپر سوار ہو یادنیا کے ذلت کے کیچڑ میں مبتلا ہو۔اس سے ان کو ہرگز نجات نہ ہوگی ۔ بعض ۔۔۔جہلا جو استنجا کرنے سے واقف نہیں مروجہ قرآن سوۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے سے انکار کرتے ہیں العیاذ باللہ ان کے پڑھنے کوناجائز کہتے ہیں ۔ یہ سب کفر ہے ۔ اللہ اور رسولﷺ کے حکم کے خلاف ہے۔ نبی کریمﷺ نے فاتحہ بہتر فرمایا۔کیوں کہ فاتحہ مروجہ قرآن ہی تو ہے ’’خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ‘‘ ان بے علم جہلا کو اس کفر سے بچانے کی غرض سے اور حصولِ ثواب کے لیے عبدالرحیم صاحب تاجر ابریشم مقیم ماب ہلی نے اس رسالہ کو طبع کراکر شائع کیا۔ امید ہے یہ بے علم جاہل اس کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد اپنے عقیدہ فاسد کفریہ سے تائب ہو کر یہ کہ سنی مسلمان بن جائیں گے جب مذکورہ بالامفتیوں کے پاس فاتحہ کے ناجائز ہونے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ۔ انہوں نے خانہ سازی فتویٰ جاری کرکے جاہلوں کو گمراہ کیاجاہلوں اور بے علموں کے پاس کیا ثبوت ہوگا۔ اگر یہ ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہیں یہ بھی تبرائی وہابیوں کی طرح مسلمانوں کے درمیان تفریق اور فساد ڈالنے کے سبب مسلمانوں کے نزدیک ہمیشہ ذلیل وخوار رہیں گے۔ہمارے اوپرلازم تھا یہ احکام ان کے پاس پہنچانا وہ ہم پہنچادیئے۔آئندہ ان کو اختیار ہے۔
مالک مطبع اور کاتب صاحب کی غفلت سے اس میں بہت سی عبارتیں چھوٹ گئی بعض جگہ میں غلط عبارت لکھی گئی بلکہ بعض جگہوں میں مستقل مضمون چھوٹ گیا۔ لہٰذا ہم نے اخیر صفحہ پر لکھ دیا ۔قارئین اس کو بھی پڑھیں ہم سنیوں کے نزدیک دعا کرنا ہر وقت مباح اور جائز ہے نمازوں کے بعد دعا کرنا سنت اور مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دعا کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے دعا کرنے کے لیے حکم دیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کے بہت سے فضائل بیان فرمائے ہیں، نبی کریمﷺ نے دعا کو اصلی عبادت قرار دیاہے۔
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے جوکوئی عبادت اور نماز کے بعد دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے ۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ حی و کریم ہے۔ شرم رکھتا ہے اس بندہ سے جو اس کی طرف ہاتھ اٹھاکر آجائے تواس کے ہاتھوں کو خالی کرے ۔آداب دعا یہ ہے دعا کے اندر ہاتھ اٹھانا جتنی ضرورت زیادہ رہی اتنے زیادہ دراز کرنا یہاں تک کہ اگر بیچ میں پردہ نہ ہوتو بغلوں کی سفیدی نظرآ جائے۔ورنہ ہاتھوں کو اونچا کرنا اور سینہ کے مقابلے میں رکھنا ۔ہم سنیوں کے نزدیک دعا کرنا اجتماعاً اور انفراداً دونوں طریقے سے جائز ہے ۔ جماعت کے ساتھ دعا کرنا بہتر ہے سبب یہ کہ بعض لوگ جو نیک اور صالح ہوتے ہیں ان کی 
دعا مقبول ہوتی ہے۔ ان کے وسیلے سے دوسروں کی دعا بھی قبول ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ حضور نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کے لیے اعلان فرمائے اس وقت حضورﷺ نے اپنے اہل وعیال کو ساتھ نکالے ۔حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین رضوان اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ نے ۔ان کو فرمایامیں دعا کروں تو تم سب آمین ، آمین کہنا۔ امام جب قوم کے ساتھ دعا مانگے امام کو لازم ہے۔ ضمیر ماضی جمع متکلم کی صیغے کا استعمال کرے اورقوم کو لازم ہےکہ آمین آمین کرتے رہیں ۔ دعا کے وقت میں اپنے مظالم، مصیبت کو ذکر نہ کریں اللہ تعالیٰ سے اپنے دینی دنیوی ترقی و بہتری کے لیے درخواست کریں۔ یہ کتب سنیہ میں موجود ہے، زیادہ لکھنے کی یہاں حاجت نہیں ، وہابیہ کے نزدیک فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنا ناجائز ہے۔
نبی کریمﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام اور اجتماع کے ساتھ اس کا پڑھنا ثابت نہیں، وہابیہ کے نزدیک امام کا دعا مانگنا مقتدیوں کا آمین کہنا نبی کریم ﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ ثابت نہیں۔
سوال: کیا نبی کریمﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تھے مقتدیوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ دعا مانگتے تھے۔ مقتدی آمین آمین کہتے تھے، اس کو ثابت کرو ور نہ تمہارے نزدیک امام کا دعا مانگنا اور مقتدیوں کا آمین آمین کرنا ناجائز حرام بدعت شنیع واجب الترک ہے۔ ہرہر جگہ وہابی خواہ تبرائی ہو یا گلابی امام کے ساتھ نماز کے بعد دعا کرتے ہیں۔ خصوصاً نماز عصر اور صبح کے بعد امام دعا مانگتے ہیں یہ لوگ آمین آمین کرتے ہیں۔ اپنے اصول کے اعتبار سے اس کو حرام بدعت شنیع بھی کہتے ہیں۔ اور یہ وہابی اس کوالتزم اجتماع کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ گلابی اور تبرائی یہ سب مل کر اپنے عقل پر ماتم کریں جس کو یہ حرام کہتے ہیں اسی کو یہ کرتے بھی ہیں۔
مندرجہ بالا مضمون رسالہ کی صورت میں ۱۳۶۳؁ھ میں شائع ہوا تھا اور جناب کفایت اللہ صاحب کی خدمت میں پہنچا مگر ان سے جواب نہ بن سکا۔
مکروہاتِ وضو

مکروہاتِ وضو

مکروہاتِ وضو

وَمَكْرُوهُهُ: لَطْمُ الْوَجْهِ ،أَوْ غَيْرِهِ (بِالْمَاءِ) تَنْزِيهًا (درمختار)
اور مکروہ تنزیہی ہے، چہرہ وغیرہ پر پانی کوزور سے مارنا والتکیۃ والاسراف اور مکروہ ہے پانی میں کمی کرنا اورزیادتی کرنا ۔کمی کی صورت یہ ہے کہ اعضا کو دھونے میں تیل کی طرح پانی چپڑے بلکہ اچھی طرح اعضا پر تین بار پانی کو جاری کرے۔ ومنہ الزیادۃ علی الثلاثہ اور اسراف سے ہے ۔ تین بار سےزیادہ دھونا لیکن تسکین دل یا وضو پروضو کے قصد سے زیادتی درست ہے۔چنانچہ مذکور ہوچکا۔ اصل میں مذکور ہے۔
ادب یہ ہے کہ پانی میں اسراف نہ کرے اور کمی بھی نہ کرے۔ خلاصہ اس صورت میں یہ ہے کہ جب پانی کانہر ہو یا اپنی ملک کا ہو اگرایسے پانی سے وضو کرے جو طہارت کرنے والوں پر وقف ہوتو پانی صرف کرنے میں زیادتی اوراسراف کرنا حرام ہے۔ کسی کا اس میں اختلاف نہیں (بحرالرائق)
بخاری شریف اورمسلم شریف کی حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک مُد سے وضو فرماتے تھے اور ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور بعض روایات میں کم وبیش بھی آیا ہے۔ صاع چار مدکا ہوتا ہے اور مد دورتل کااور رتل بیس امتار کا اور ہرامتار ساڑھے چار مثقال کا ۔ اور مدااورمن شرعی ایک ہی چیز ہے۔
رسول اللہﷺ خود پانی وضوکاکم خرچ کرتے تھے اور بہت پانی خرچ کرنے سے منع فرماتے تھے۔اور فرماتے تھے میری امت میں وہ لوگ پیدا ہوں گے جو وضو کے پانی میں تعدی اور تجاوزحدسے کریں گے۔ یعنی زیادہ پانی وضو میں خرچ کریں گے ۔اور فرماتے تھے کہ وضو کاایک شیطان ہے ،اس کا نام ولہان ہے پانی کا وسوسہ اس سے ہوتا ہے۔متوضی کے دل میں زیادہ پانی خرچ کرنے کا وسوسہ ڈالتا ہے اس سے پرہیز کرو (شرح سفر السعادت) ۔
اور ہر مثقال ساڑھے چار ماشے کاہوتا ہے،تو مد اور من شہر لکھنو کے سیر کے حساب سے تخمیناً تین پاؤ پختہ ہوا۔اس واسطےکہ لکھنو کا پختہ سیرچھیانوے روپیہ ہے اور ہرروپیہ گیارہ ماشے کا ہے۔ صاع جس سے غسل سنت ہے تین سیر پختہ قدرے زائد ہوا ہم لوگوں کو عادت ہوگئی پانی زیادہ خرچ کرنے کی لہذا اکثر لوگ اس قدر پانی خرچ کرنے میں حیران ہوتے ہیں۔ اگر تنگ ٹوٹی 
کے لوٹے سے باحتیاط وضو کریں اس طرح کہ بدن پرپانی گرے چند قطروں کے سوا زمین پر بے فائدہ نہ گرے تو تین پاؤ پانی سے بخوبی وضو ہو سکتا ہے ، اس کا ضرور اہتمام کرنا چاہئے کہ سنت پر عمل کرنے کا ثواب حاصل ہواوراسراف مکروہ سے پرہیز کریںاور ایک مدپانی کے مقدار سے کم نہ کریں(تبیین)
 تَحْرِيمًا وَلَوْ بِمَاءِ النَّهْرِ، وَالْمَمْلُوكِ لَهُ (درمختار)
پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے۔ اگر نہر کے پاس یا اپنے مملوک پانی سے وضو ہو۔
. أَمَّا الْمَوْقُوفُ عَلَى مَنْ يَتَطَهَّرُ بِهِ، وَمِنْهُ مَاءُ الْمَدَارِسِ، فَحَرَامٌ
 (درالمختار)
اور وہ پانی جو طہارت کرنے والوں پروقف کیا گیا اوروقف کئے قسم سے ہے ، مدرسوں کا پانی تو اس میں اسراف کرنا حرام ہے( بالاتفاق)
وَتَثْلِيثُ الْمَسْحِ بِمَاءٍ جَدِيدٍ (درالمختار)ا ور مکروہ ہے تین بارمسح کرنا۔نئے تین پانیوں سے ۔وَمِنْ مَنْهِيَّاتِهِ: التَّوَضُّؤُ بِفَضْلِ مَاءِ الْمَرْأَةِ 
اور وضو کرنا ، ممنوعات سے ہے اور مکروہ ہے ، عورت کے وضو یاغسل کے باقی بچے ہوئے پانی سے۔ اس واسطے کہ شاید اس سے مرد کو کچھ تلذذ حاصل ہو یا یہ وجہ ہے کہ اکثر عورتوں کو نجاست سے محافظت کم ہوتی ہے اورکراہیت تنزیہی پردلالت کرتا ہے (طحطاوی)۔
وَفِي مَوْضِعٍ نَجِسٍ؛ لِأَنَّ لِمَاءِ الْوُضُوءِ حُرْمَةً،(درالمختار)اور مکروہ ہے وضوکرناناپاک جگہ میں۔ اس لیے کہ وضو کے پانی کی کچھ عزت ہے اور یہ بھی وجہ ہے کہ وہاں نجاست کے چھینٹوں کے پڑنے کا خوف ہے (طحطاوی)
 أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، إلَّا فِي إنَاءٍ (درالمختار)
مکروہ ہے وضو کرنا مسجد کے اندر۔ مگر مسجد میں برتن کے اندر وضو کرنا جائز ہے، بشرطیکہ مستعمل پانی مسجد میں نہ گرے۔
أَوْ فِي مَوْضِعٍ أُعِدَّ لِذَلِكَ،  (درالمختار) 
وضو جائز ہے مسجد کے اس مکان میں جو وضو کرنے کو بنایا گیا ہے۔چنانچہ اس ملک میں مسجد کے لب فراش وضو کے واسطے بناتے ہیں۔
وَإِلْقَاءُ النُّخَامَةِ، وَالِامْتِخَاطُ فِي الْمَاءِ.(درالمختار)
مکروہ ہے تھوکنا ، جھاڑنا ۔ اگر چہ پانی جاری ہو یہ کراہت تنزیہی ہے۔ اس واسطے کہ ان کے ترک کرنے کو مستحبات میں شمار کیا ہے۔مسئلہ: مکروہ ہے بائیں ہاتھ سے کلی کرنااور ناک میں پانی ڈالنا۔ مسئلہ : مکروہ ہے داہنے ہاتھ سے ناک جھاڑنا بغیر عذر ( خزانۃ الفقہ) مسئلہ:اور مکروہ ہے کہ کسی ایک برتن کو وضو کے لیے خاص کرلے اس برتن سے سوا اس کے اور کوئی وضو نہ کرے جیسے یہ مکروہ ہے کہ مسجد میں کوئی جگہ اپنی نمازکے واسطے خاص کرے(وجیز)
مسئلہ: اورمکروہ ہے اعضا وضو سے لوٹے وغیرہ میں قطرہ ٹپکانا۔ مسئلہ اور مکروہ ہے قبلہ کی طرف تھوک یا کھنکار یا کلی کا پانی ڈالنا۔ مسئلہ:اور مکروہ ہے بے ضرورت دنیا کی باتیں کرنا۔ مسئلہ: اور مکروہ ہے اتنا پانی کم خرچ کرنا کہ سنت ادا نہ ہو۔ مسئلہ: اور مکروہ ہے ایک ہاتھ سے منہ دھونا کہ رفاض اور ہنود کا شعار ہے، مسئلہ:اورمکروہ ہے منہ پر ڈالتے وقت پھونکنا۔
 وضوکے متفرق مسائل

وضوکے متفرق مسائل

وضوکے متفرق مسائل

 اعلیٰ حضرت سیدمقبول احمدشاہ قادری فاضل کشمیری؄  
مسئلہ اگروضونہ ہوتو نمازاورسجدہ تلاوت اورنماز جنازہ اور قرآن مجید کے چھونے کے لیے وضوکرنا فرض ہے ۔مسئلہ: طوف کے لیےوضوواجب ہے۔مسئلہ: غسل جنابت سے پہلے جنبی کو کھانے پینے اورسونے اور اذان واقامت وخطبہ جمعہ اور عیدین اور روضۂ مبارک حضرت رسول اللہ ﷺ کی زیارت اور وقوف عرفہ اور صفا مروہ کے درمیان سعی کے لیے وضو کرناسنت ہے۔ مسئلہ: سونے کے لیے اورسونے کے بعد میت کو نہلانے یا اٹھانے کے بعد عورت کے صحبت کرنے سے پہلے اورجب غصہ آجائے اس وقت اور قرآن عظیم پڑھنے کے لیے حدیث اورعلم دین پڑھنے پڑھانے کے لیےاورباقی خطبوں کے لیے اور کتب دینیہ چھونے کے لیے اوربعد سترغلیظ چھونے ، جھوٹ بولنے، گالی دینے اور فحش لفظ، غیبت کرنے کے بعد وضو کرنا مستحب ہے۔ صلیب یا بت اورکوئی سفید داغ والے کو چھونے کے بعد اور بغل کھجلانے سے جبکہ اس میں بدبو ہو غیبت کرنے کے بعد قہقہہ لگانے کے بعد لغو اشعار پڑھنے کے بعد، اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ،کسی عورت کے بدن سے اپنا بدن بے حائل چھونے کے بعد،
 باوضو شخص کو ہرنماز کے لیے اورکافرکے بدن چھونے کے بعد،اگرچہ زبان سے کلمہ طیب پڑھتا ہواپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو جیسے قادیانی غلام احمدکے پیرو، (غلام احمد نے دعوی کیا کہ میں نبی اور رسول ہوں۔اپنی کتاب کو کتاب الٰہی  کہلوایااورحضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی، ان کی تین دادیاں اور تین نانیاں زانیہ بتائی معاذاللہ۔اپنے آپ کو حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے بہتربتایا۔چنانچہ کہا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمدہے۔ بہت سے انبیا کی پیشگوئیوں کو جھوٹی بتلایا۔ خاتم النبین میں استثنا کی وغیرہ ۔کفریات ملعونہ یا چکڑالوی یہ ایک نیا طائفہ ملعونہ حادث ہوا۔ نبی کریمﷺ کی پیروی سے منکرہے
 تمام احادیث نبویہ کو باطل ناقابل اعتباربتاتا ہے۔ صرف قرآنِ عظیم کی اتباع کا دعویٰ کرتا ہے۔ ان خبیثوں نے اپنی نماز بھی علاحدہ گھڑ دی ہے جس میں ہروقت کی صرف دو ہی رکعتیں ہیں۔یانیچری یہ باطل طائفہ ضروریات دین کا منکر ہے قرآن عظیم کے معنی قطعیہ ضروریہ میں درپردہ تاویل وتحریف تبدیل کرتا۔ وجودملائکہ ، جن وشیاطین، آسمان وحشر،ابدان ونار و جنان ومعجزاتِ انبیاء علیہم السلام کے ان ہی ملعون تاویلوں کی آڑ میںانکار رکھتا ہے۔
 یا آجکل کے تبرائی ورافضی یہ ملا عند صراحتاً قرآنِ عظیم کو ناقص بتاتے اورمولیٰ علی وجہہ الکریم کو اورائمہ اطہار کو انبیا و سابقین سے بہترٹھہراتے ہیں یاکذابی، یہ ملعون طائفہ اللہ تعالیٰ کو بالفعل جھوٹا بتاتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ وقع کذب کے معنی درست ہوگئے۔بہائی یہ گروہ لعین ہرپاگل اور چوپائے کے لیے علم غیب مان کرکہتا ہے کہ جیسا علم حضرت رسول اللہﷺ کوہے ایسا تو ہرپاگل اورجانور کو ہوتاہے ۔ اس شیطانی گروہ کے نزدیک ابلیس لعین کا علم رسول اللہ ﷺ کے وسعت علم کو باطل اور بے ثبوت مانتا ہےاور ان کے لیے وسعت علمی ماننے کو شرک بتاتا ہے۔ مگر ابلیس کی وسعت علم میں خدا کا شریک جانتا ہے ۔خواتمی یہ شقی گروہ رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے پرصاف منکر ہےاور خاتم النبین کے معنی میں تحریف کرتا ہے۔ بمعنیٰ آخرنبی لینے کو خیال جہال بتلاتا ہے یارسول اللہ ﷺکے چھ یا سات مثل موجود 
مانتاہے۔غیرمقلد بدبخت طائفہ تقلید ائمہ اربعہ کو کفر وشرک بتاتاہے حالانکہ تقلید کرنے کا حکم اللہ اوررسول اللہ ﷺکا ہے۔اس طائفہ ملعونہ نے خدا اوررسولﷺ کو بھی کافرمشرک کہا ہے۔کیوںکہ کفروشرک کے لیے حکم دینا، کفروشرک پر راضی رہنا بھی کفرہے ۔ جھوٹے متصوف کے حلول واتحاد کے قائل شریعت مطہرہ کے صراحتاً منکر ومبطل ہیں۔ان دس طائفوں اور ان کے امثال سے مصافحہ کرنا تو خود ہی حرام قطعی گناہ کبیرہ ہے۔)اگر بلا قصد بھی ان کے بدن کو چھو جائے تووضو کا دوبارہ کرنا مستحب ہے۔مذکور بالا فریق منقول ہوئے۔ (از فتاوی رضویہ ) ان دس فریق میں سے یہ چار یعنی کذابی، بہائی، شیطانی خواتمی، دیوبندی، وہابیوں کے ہیں۔اگر کسی کو اس کی تفصیل دیکھنا منظور ہوتو حسام الحرمین دیکھ لیں جس کا اردو ترجمہ ہوچکا ہے۔
مسئلہ جب وضو جاتارہے  پھروضوکرنامستحب ہے۔ مسئلہ: نابالغ پروضوکرنا فرض نہیں۔ مگر ان سے وضوکرانا تاکہ عادت ہو اور وضو کرنا آجائے اور مسائل وضو سے آگاہ ہوجائے، مسئلہ:کوئی ٹوٹی (نل کی) نئے سے تنگ ہوکہ پانی بدقت گرے نہ اتنا فراخ کہ حاجت سے زیادہ پانی گرے بلکہ متوسط ہو۔ مسئلہ: چلو میں پانی لیتے وقت خیال رکھیں کہ پانی زیادہ نہ گرےکہ اسراف ہوگا مثلاً ناک میں پانی ڈالنے کے لیے آدھا چلوکافی ہے تو پورا چلو نہ لے کہ اسراف ہوگا، مثلاً ہاتھ، پاؤں، سینہ اور پشت پر بال ہوں تو ہرتال وغیرہ سےصاف کرڈالیں یاتراش ڈالیں نہیں توپانی زیادہ خرچ ہوگا۔
جلوۂ بیدار

جلوۂ بیدار

جلوۂ بیدار

آنکھ تیری سوئے کعبہ ۔دل ترا بیت الصنم
مجھ کوتیرے دل کا اندیشہ ،تجھے فکر حرم
واعظِ ناداں گرائے جا حجابوں پرحجاب
کوئی دیوانہ اٹھا دے گا نقاب کیف وکم
اس نے منشائے الٰہی کو مکمل کردیا
اپنی آنکھوں پر لیے جس نے محبت کے قدم
ہم نشین لالہ وگل ہوتو کھل جائے یہ راز
بوئے گل کہتے ہیں جس کو ہے نسیم سوزغم
آرزوؤں نے ہزاروں پیچ وخم پیدا کئے
زندگی کا راستہ تھا بے نیاز پیچ وخم
خنکیٔ شبنم ہویاشادابیٔ بحررواں
یہ بھی ساقی کاکرم ہے وہ بھی ساقی کا کرم
عشق کااک جلوۂ بیدار ہے عمرابد
عشق کااک فرش پاانداز ہے خواب عدم
کجکلاہی تیرے مستوں کی رہے گی پیش پیش
تختۂ دار ورسن ہو یا خیابان ارم
دیکھیے سب ختم تاویلات فرقت ہوں روشؔ
روز اک پیغام نو لائی ہے باد صبح دم
روشؔ صدیقی

 ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرنا

ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں علمائے دین کہ ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرناجائز ہے یانہیں۔؟

سیدآغامحمدولدسیدحاجی گل محمد ۔ بھنڈی واڑی بیس محلہ، ہبلی


الجواب: 
روایت ہے ایک صاحب مسجد میں حاضرہوئے اس وقت کہ رسول اللہ ﷺنماز پڑھ چکے تھے ۔فرمایا ہے کوئی کہ اس پرصدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے کہ اسے جماعت کاثواب مل جایے ایک صاحب یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ نمازپڑھی۔(ابوداؤدوترمذی)
مسئلہ ہئیت مسجدمحلہ میں جس کے لیے امام مقرر ہوامام محلہ نے اذان واقامت کے ساتھ اولیٰ پردوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے اور اگر بے اذان جماعت ثانیہ ہوئی تو حرج نہیں جبکہ محراب سے ہٹ کردائیں بائین ہو، ہئیت بدلنے کے لیے امام کا محراب سے دائیں یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا ۔ کافی ہے شارع عام کی مسجد جس میں لوگ جوق درجوق آتے اورپڑھ کر چلے جاتے ہیں یعنی اس کے نماز ی مقرر نہ ہوں اس میں اگرچہ اذاں واقامت کے ساتھ نماز قائم کی جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان واقامت سے جماعت کرے یونہی اسٹیشن وسرائے کے مسجدمیں۔ (درالمختار، ردالمختار وغیرہما)
(اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری علیہ الرحمہ)

سب کفار جنت کو جائیں گے؟

سب کفار جنت کو جائیں گے؟

سوال:انوٹی کےایک ماسٹر کا یہ اعتقاد ہے اور کہتا بھی یہی ہے کہ سب کفار جنت کو جائیں گے۔اس کے بارےمیں ازروئے شرع کیا حکم ہے۔؟
جواب: اس ماسٹر نے قرآن کو حدیث کو اور اجماع امت کا انکار کیا اللہ پاک نےارشاد فرمایاکہ کفار کے واسطے ہمیشہ جہنم ہے۔ اللہ پاک نے کافروں کو جنت کی بو بھی نہ ملے گی یہاں تک اونٹ سوئی کےسراخ میں سے نکل جائے۔سوئی کے سراخ میں سے اونٹ کانکلنا محال ہے۔کافروںکو جنت کی بوملنا بھی محال ہےاس کو تعلیق بالمحال کہتے ہیں۔
 لہٰذا یہ ماسٹر (انوٹی کا)اسلام سے خارج ، کافر ہوا۔اس کے سارے عبادات اور اعمال صالحہ اکارت(ضائع) ہوگیے۔ اگر اس کو عورت ہے تو اس کا نکاح باطل ہوگیا۔لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کو توبہ واستغفار کرائیں اور دوبارہ نکاح پڑھائیں۔ اگر انکار کیا تو بہ کرنے سے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کے ساتھ کوئی تعلقِ خیر وشر نہ رکھیں۔سلام کلام ترک کردیں۔
مہر کتنا باندھنا چاہیے۔

مہر کتنا باندھنا چاہیے۔

سوال(الف) مہر کتنا باندھنا چاہیے۔ تفصیل سے لکھیں۔
(ب) دلہا دلہن کو بٹھا کر اجنبی مردوعورت مل کر ہنسی مسخرا کارسم ادا کرتے ہیں۔یہ کیاجائز ہے؟ عورت کوکونسے دھات کی زیور پہننا جائز ہے یا نہیں؟۔
جواب: (الف)مہر کی مقدار زیادہ مقرر نہیں۔ زیادتی کا حد مقرر نہیں۔اتنا باندھا جائے کہ شوہر اس کو ادا کر سکے ،کم مقدار دس درہم یعنی پونے تین روپیے ۔اگر اس سے کم باندھا جائے تو اس وقت مہر مثل دینا پڑتا ہے یعنی اس کی ماں یا بہنوں کی جو مہر مقرر ہے وہ دینا پڑتا ہے۔مہر جتنا بھی باندھا جائے خواہ دینے کی یا نہ دینے کی نیت کرے پردینا ہی پڑتا ہے۔
(ب) اجنبی مردوں کے سامنے عورتوں کا آنا اوردلہا اور دلہن کوبٹھاناان کے ساتھ ہنسی مسخرا کرناوغیرہ وغیرہ  یہ سب ناجائز اور حرام ہے۔ یہ رسم ورواج ہندوستان میں ہندوؤں سے سیکھا ہے۔
(ج)دھاتوں میں سے کوئی دھات کا زیور پہننا جائز نہیں ،سوائے سونا چاندی کے۔
(د) پھولوں کا سہرا باندھنا جائز ہے جس میں تار وغیرہ کی قسم کے نہ ہوں مرد کو مہندی لگاناجائز نہیں۔ عورتوں کے واسطے جائز ہے۔

نماز عشا کے بعد فجرتک سامان کی حفاظت کے لیے مسجد کوتالا لگانا جائز ہے یانہیں

نماز عشا کے بعد فجرتک سامان کی حفاظت کے لیے مسجد کوتالا لگانا جائز ہے یانہیں

سوال: (۱) مسجد میں گھڑی رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ زید اس کا رکھنا ناجائز سمجھتا ہے۔
(۲) نمازوں کے دوران میں اگر روشنی یکایک گل ہو جائےتو نماز کو جاری رکھنا کیسا ہے؟
(۳)نماز عشا کے بعد فجرتک سامان کی حفاظت کے لیے مسجد کوتالا لگانا جائز ہے یانہیں؟۔
 (۴)مسجد میں بیٹھ کر دنیاوی باتیں کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۵)دو بے داڑھی اشخاص ایک مسجد میں امامت کرتے ہیں، ایک قانون قرات سے واقف ہے اوردوسرا ناواقف۔ان میں سے کس کو ترجیح دی جائے؟
(۶)اذان میں اشھدان محمدالرسول اللہ کے محمد ﷺکے دال اور رسول کے لام کو کیسا پڑھا جائے؟۔

جواب: (۱)

 مسجد میں گھڑی رکھناجائز ہے تاکہ نمازوں اور افطار کا وقت معلوم ہوجائے۔ جماعت کے لیے لوگ وقت مقرر ہ پر حاضر ہوسکیں ۔حضور ﷺ کے زمانے میں مسجد کی چھت کھجور کی پتوں کی تھی یہاں تک کہ جب بارش آئی پانی اندگزرتا ہے اب زید کے نزدیک پختہ عمارت ناجائز ہے ۔ زید کو کہیں جھونپڑی میں بھیج دیں۔پختہ عمارتیں صحابہ و تابعین کے اتفاق سےبنائی گئ ۔مسجد کو منور کرنا زینت دینا وغیرہ بہت ہی بہتر ہے اس سے اسلام کی عظمت اور شان بڑھ جاتی ہے ۔جیسا کہ قرآن شریف کا موٹے موٹے حرفوں میں لکھنا اور سونے کے پانی سےزینت دینا بہت ہی بہتر ہے کیوں کہ اللہ کے کلام کی تعظیم ہے۔(یہ کتب فتاؤں میں موجود ہے)
(۲) بلاکراہت جائز ہے۔
(۳) جائز ہے۔
(۴) حدیث شریف میں آیا ہے کہ چالیس سال کی عبادت برباد ہوہوجاتی ہے اس سے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صرف باتیں کرنے کے لیے آتے ہیں نہ کہ عبادت کرنے کے لیے۔اسی لیے بہتر یہ ہے کہ جب کوئی مسجد کو نماز پڑھنے کے لیے آجائے تو مسجد میں داخل ہوتے ہی اعتکاف کی نیت کرے جب تک مسجد میں رہے اعتکاف کا ثواب پاتا رہے۔اگر کوئی مسجدمیں کوئی چیز کھائے یا دنیاوی باتیں کرنا سوناہرگزجائز نہیں۔
(۵) دونوں فاسق معلن ہیں ، اگر اس مقام پر سب کے سب فاسق ہیںتو ان فاسقوں میں سے اس کو امام بنائے جو علم رکھتا ہے۔باقی صالحین کو جو بے علم ہیں ان کی بھی نمازاس فاسق کے پیچھے جائز ہے۔ اگر جاننے والا صالح ہے تو اس کی نماز اس فاسق معلن کے پیچھے جائز نہیں مکروہ تحریمی ہے اگر پڑھ بھی لیا تو اس نماز کو دوبارہ پڑھ لینا واجب ہے۔
(۶)  لفظ محمدﷺ کے دال کوزبراور رسول کے لام کو پیش سے پڑھیں۔
 شادی شدہ عورت بھگوالایا

شادی شدہ عورت بھگوالایا

سوال: زیدایک شادی شدہ عورت بھگوالایا ہے ۔اس سے زنا کرتا ہے اور اولاد پیدا ہوئی ہے۔ یہ اولاد کس کی ہوئی ؟ یہ زانی کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟۔ اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتےہیں یا نہیں؟۔

(محمدغوث ہوسلی، کلارک میونسپال ہاویری)

جواب: یہ منکوحہ عورت اپنے اسی مرد کی عورت ہے جس سےاس کا نکاح ہوا تھا۔اس سے جو بھی اولاد پیدا ہوگی وہ بھی اسی کی اولاد کہلائے گی ۔نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔اولاد اسی کی ہے جس کی وہ عورت فرش ہے یعنی جس کے نکاح میں وہ ہے۔ زانی کے واسطے سنگسار کرنا ہے۔زانی کواولاد سے محرومی  ہے ۔ زید فاسق ہے۔ مسلمانوں کو چاہیئے کہ اس کو توبہ کرائیں اور استغفار پڑھائیں۔یہ زانیہ عورت کو اپنے مردا صلی کے پاس روانہ کرائیں۔ زید مسجد میں نماز پڑھے تو دوسروں کی نما زمیں کوئی حرج پیدا نہیں ہوتا۔
 ایک قادیانی مولوی سے تعلیم قرآن حاصل کرتا ہے۔

ایک قادیانی مولوی سے تعلیم قرآن حاصل کرتا ہے۔

سوال: (الف) زید ایک قادیانی مولوی سے تعلیم قرآن حاصل کرتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟۔
 (ب) کافروں کے یہاں کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟۔

(خریدارنمبر۴۹۔ہبلی)

جواب:  (الف) زید کو قادیانی کے پاس  تعلیم قرآن حاصل کرنا ہرگزہرگز جائز نہیں کیوں کہ قادیانی سب مسلمانوں کے نزدیک کافرمرتد ہیں۔ مرتد کافر حربی سے بھی بدتر ہے۔ اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہرگز جائز نہیں ۔اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی کہیں اگر ان کے ساتھ بھول کر بیٹھ گیے پس یاد آنے کے بعد ان ظالموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑدے۔
(ب)کافروں کے یہاں کھاناپینا جائز ہے تاوقت کہ اس کی حرمت کا یقین نہ ہو۔ شک سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔ البتہ احتیاط سب مسلمانوں کے لیے بہتر ہے ان کے گھروں اور ہوٹلوں میں نہ کھائیں۔

نماز قضا پڑھناچاہیے یا نہیں اور کس ترکیب سے؟

نماز قضا پڑھناچاہیے یا نہیں اور کس ترکیب سے؟

سوال:(الف )زیدہروقت نماز مغرب کے پچیس منٹ بعد نماز عشاء پڑھتا ہے نمازہوئی یا نہیں؟۔
(ب)ایک آدمی جسے غسل اتارنا(کرنا) آتا نہیں مسجد پاک کر سکتا ہے یا نہیں۔
(ج)نماز قضا پڑھناچاہیے یا نہیں اور کس ترکیب سے؟

(معین الدین شرہٹی قول پیٹ ، ہبلی)

جواب: غروب آفتاب سے مغرب کاوقت کم درجہ ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ رہتا ہے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ پینتیس منٹ۔ بلکہ علامہ شامی کی تحقیقات کے مطابق ایک ۳۷ منٹ اس کے اندر نماز عشا پڑھنا جائز ہی نہیں کیوں کہ وقت داخل ہوا ہی نہیں۔
(ب)جاہلوں نے یہ جو یاد رکھا ، غسل اتارنا غلط ہے۔ غسل میں صرف اتنا ہے کہ ناک اور منہ میں اچھی طرح پانی ڈالے یعنی منہ میں حلق تک اور ناک کی بانس تک پانی چڑھائے اور پورے بدن پرپانی بہائے کوئی جگہ خالی اور سوکھی نہ رہے اس کا غسل اترکیا۔ البتہ غسل اور وضو کے لیے نیت کرنا سنت ہے اگر نیت نہ کرے پھر بھی غسل اترگیا ۔ غسل کی نیت یہ ہے ۔غسل کرتا ہوں پاک ہونے اور نماز پڑھنے کے لیے، اگرکوئی ناپاک آدمی کوئی ناپاک جگہ پاک کرے تو وہ جگہ پاک ہوجاتی ہے۔ 
اس کے بدن کی ناپاکی اس کے ساتھ ہے ۔
(ج)تمام قضا نمازوں کی قضا پڑھنا فرض ہے،اپنی عمر سے بارہ سال نکال کرباقی تمام عمر کی نمازیں قضاکرے ،ہر سال ۳۶۰ فجر ۳۶۰ ظہر ۳۶۰عصر ۳۶۰ مغرب ۳۶۰ عشا ۳۶۰ وتر ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے ادا کریں۔
ایک سنی حنفی بالغ لڑکی کا نکاح زبردستی ایک جبری وہابی کے ساتھ کیا گیا

ایک سنی حنفی بالغ لڑکی کا نکاح زبردستی ایک جبری وہابی کے ساتھ کیا گیا

سوال:ایک سنی حنفی بالغ لڑکی کا نکاح زبردستی ایک جبری وہابی کے ساتھ کیا گیامگروہ لڑکی اب تک خاوند کے پاس نہیں گئی ۔ کیا اس لڑکی کو طلاق حاصل کرنا چاہیے۔؟

(عمرخان حسن خان پٹھان سرسی)

جواب: کسی بالغہ سنی مسلمان لڑکی کوکسی بدمذہب سے جس کی بدعت کفرتک پہنچ گئی تو نکاح کرناقطعاًجائز ہی نہیں ،یہ نکاح ہوا ہی نہیں پھرطلاق کیسا؟ لہٰذا دوسرے سنی مسلمان سے نکاح کرسکتی ہے 
 یوم جمعہ دونوں خطبوں کے درمیان دعا کامقبول وقت ہے

یوم جمعہ دونوں خطبوں کے درمیان دعا کامقبول وقت ہے

سوال:

(الف)قرآن مجید میں حضور رحمت اللعالمین ﷺ کے موئے مبارک ملنا حدیث شریف سے یا اولیاء اللہ کے اقوال سے ثابت ہے یا نہیں۔چنانچہ آجکل یہ افواہ پھیلی ہوئی ہےکہ قرآن مجید میں بال نکل رہے ہیں۔
(ب) حدیث شریف سے ثابت ہے کہ یوم جمعہ دونوں خطبوں کے درمیان دعا کامقبول وقت ہے۔ازراہِ کرم بتائیں کہ دوخطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھاکر دعامانگنا یا حضور اکرمﷺ  کا اسم مبارک سن کر آواز سے درود شریف پڑھنا جائز ہے یانہیں۔؟
(ج)حضورﷺکے جسم مبارک کا سایہ زمیں پڑتا تھا یا نہیں؟ اگر جسم اطہرکا سایہ زمین نہ پڑتا ہوتو موئے مبارک کا سایہ پڑنا یا نہ پڑنا کیا ہے؟

(ملا بوبکربھٹکی ،مدراس)

جواب:(الف) یہ کسی دجال نے بہکایاہے۔لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔آج کل اوراس سے پیشترایسےاشتہارات بکتے آئےہیں۔ان پر ہرگزاعتبار نہ کریں۔
(ب)خطبہ پڑھتے وقت حضورﷺکااسم مبارک آجائے تو خاموشی سے دل میں درود پڑھیں۔ خطبہ نہ ہو تو حضورﷺ کا نام مبارک آجائے بآواز بلند درود شریف پڑھ سکتے ہیں ۔ہاتھ  اٹھا کر دعا کرنادونوں خطبوں کے درمیان جائز ہے۔تفصیل ملاحظہ ہو  ماہنامہ الرشاد جلد اول شمارہ ۵ ص۔۔۔
(ج)حضور پرنورﷺکی ذت مبارک کاسایۂ مبارک زمین پر نہیں پڑتا تھااورجوچیز ذات کے تابع تھی اس کی بھی چھاؤں زمین پرنہیں پڑتی جب وہ چیز ذات سے علاحدہ ہوجاتی تو اس کی چھاؤں پڑتی تھی لہٰذا موئے مبارک کا سایہ زمین پر پڑتا ہےکیوں کہ یہ ذات سے علاحدہ ہے۔ اس واسطے متبرک ہے کہ حضورﷺ کی ذات گرامی سے پیدا ہوا جو چیز حضور قدس ﷺ کے جسم اقدس کے ساتھ تھوڑی دیر بھی رہی وہ متبرک بن گئی۔

سوال: جھنڈا کیاہے۔آثارشریف کی زیارت جائز ہے یانہیں؟

سوال: جھنڈا کیاہے۔آثارشریف کی زیارت جائز ہے یانہیں؟

سوال: جھنڈا کیاہے۔آثارشریف کی زیارت جائز ہے یانہیں؟

(شیخ احمدپاؤگڑھ)
جواب :(الف)جھنڈا کسی بزرگ یاولی کی مزارکے پاس نصب کیاجاتاہےکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ کسی بزرک یا ولی کی قبر ہے۔لوگ وہاں جا کرقرآن پڑھیں گے یاذکر واذکار کریں اورایصال ثواب پہنچائیں گے۔
(ب)آثار شریف کی زیارت جائز اور بہت ہی بہتر ہے کیوں کہ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنے موئے مبارک صحابہ کرام میں تقسیم کرایا ہے جس میں لوگ ایک لاکھ سے بھی بڑھ کر تھے۔
سوال: مرے ہوئے لوگوں کا عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

سوال: مرے ہوئے لوگوں کا عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

سوال: مرے ہوئے لوگوں کا عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

(امیرخان بڈھن خان پٹھان ہبلی)

جواب :عقیقہ بچے یا بڑے کو آفات وبلیات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہوتا ہے جو موجود ہو یعنی زندہ ہو۔جوزندہ نہ ہو اس کا عقیقہ کرنے کا کیا معنی؟۔ اس سے بہتر مردے کے لیے ایصال ثواب پہنچانا یعنی اس بکرے کو ذبح کرناغربا ومساکین کو کھلانا اور نیت کرنا کہ اس کا ثواب اس میت کو پہنچے اگر وہ نابالغ بچہ ہے تو ایصال ثواب کرنے کی ضرورت نہیں۔

 دولہا اپنا نکاح آپ پڑھ سکتا ہے؟

دولہا اپنا نکاح آپ پڑھ سکتا ہے؟

سوال وجواب

جوابات ازاعلیٰ حضرت سیدمقبول احمدشاہ قادری فاضل کشمیری؄  

سوال: مختصرمسائل نکاح سے آگاہ کیجیے۔ کیا دولہا اپنا نکاح آپ پڑھ سکتا ہے؟ اس وقت منڈوے میں فاتحہ دینا کیسا ہے؟
(مستفتی:بغدادی پیراں تڑس)
الجواب : الحمدللہ والمنہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ واٰلہ وصحبہ اجمعین امابعدالجواب وھو الحق الثواب:
نکاح میں دومتقی پرہیزگار گواہوںکے سامنے ایجا ب و قبول ہوگیا تو خطبۂ نکاح وغیرہ پڑھنا مسنون اور بہتر ہے۔ خواہ دولہا پڑھے یا قاضی پڑھے۔
فاتحہ جو پڑھتے ہیں یہ سب بزرگان دین کے لیے ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے طفیل سے ان کو ایصال ثواب پہنچاتے ہیں۔ اس فاتحہ سے ان کے درجے بلند ہوتے ہیں۔ ہر ایک فاتحہ میں یہ حکم ہے کہ اگر بزرگان دین کے لیے ہو تو ان کے درجے بلندہوتے ہیںاورعام مسلمانوں کے لیے ان کے عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے ۔ جب بزرگان دین کے درجے بلند ہوجاتے ہیں اور اللہ کے زیادہ قریب پہنچتے ہیں ۔ایصال ثواب کرنے والوں کے حق میں جب وہ سفارش کرے تو جلد قبول ہوجاتی ہے۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular