Showing posts with label tahreereAlaHazrat. Show all posts
Showing posts with label tahreereAlaHazrat. Show all posts
پردہ کی ابتدا

پردہ کی ابتدا

پردہ کی ابتدا

مولاناسیدمحموداحمدرضوی نائب ناظم انجمن مرکزی حزب الاحناف لاہور

۱) پردہ کا سب سے پہلا حکم   ۰۵؁ میں نازل ہوا جبکہ حضور اکرم ﷺ نے ام المومنین زینب سے نکاح فرمایا۔ اور جس کی تعمیل میں جناب رسول اللہﷺ نے تمام ازواج مطہرات کے مکانوں پرپردے ڈالوا دیے جو اس سے قبل نہ تھےاور غیر محرموں کو اندرجانے سے منع فرمایا۔ چنانچہ روایت ہے کہ طلحہ جو حضرت صدیقہ ؅کے چچازاد بھائی تھے، ان کو حضور ﷺ نے صدیقہ طاہرہ ؅سے ملنے کوروک دیا جس پروہ ناراض ہو گیے۔
۲) آیات حجاب کے نزول سے قبل عورتیں بے پردہ نکلتی تھیں مگر جب حجاب کی آیتیں نازل ہوئیں تو صحابیات اور مسلم عورتوں نے عہدنبوت ہی میں پردہ کرنا شروع کردیا اور صحابہ کرام پردہ کے احکام کی تفصیل دریافت فرمانے لگے۔
۳) مجلس اقدس میں مستورات کی فلاح وبہبودی کے متعلق تذکرہ ہوا کرتاتھا ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا کہ عورتوں میں آمدورفت نہ رکھاکرو۔ایک صحابی نے عرض کی یارسول اللہ ارایت الحموا قال الحموالموت یارسول اللہ دیور کے متعلق کیا حکم ہے۔ فرمایا دیور تو موت ہے یعنی دیورجیٹھ اور خاوند کے رشتہ داروں سے پردہ کرنا تونہایت ضروری ہے۔

۴) مجالس ابرار میں لکھا ہے۔سدون ال۔۔۔وللوی لئلا تطلع الینا علی الرجال ۔ کہ صحابہ کرام دیواروں کے سوراخ اور جھڑکوں کو اس لیے بند کردیتے تھے کہ عورتیں مردوں کو نہ دیکھ سکیں۔
۵) عورتیں عہد نبوت میں مسجدوں میں پردہ کا اہتمام کے ساتھ آتیں تھیں اور آخرصف میں نماز پڑھتیں مگر حضرت صدیقہ ؅ اس سے بھی روک دیا اورفرمایا۔ لویہ النبی ﷺ کمااحدث النسا من عھد المساجد۔(مسلم شریف) اگر نبی کریم ﷺ یہ صورت ملاحظہ فرماتے جو عورتوں نے اب پیداکردی ہے تو ان کو مسجدوں میں آنے سے روک دیتے۔چنانچہ جوان کوعورتوں کو روک دیا گیا۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ؅ نے اس زمانے میں جوخیروبرکت ،رشد وہدایت کا زمانہ تھا۔مستورات کومساجد میں آنے سے روک دیا اور مستورات کو پردہ کی پوری شرطوں کے ساتھ مسجدوں میں آنا بھی پسند نہ فرمایاْچہ جائے کہ آج مستورات کو سربازار بے حجاب وبے نقاب چہرے کھولے پھرنے کی اجازت دی جائے۔
۶) نیز خدمتِ نبویﷺ میں جو مستورات حاضرہوئی یقیناً وہ بھی حجاب ونقاب کے ساتھ آتی تھیں۔ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہے کہ ایک عورت حضورﷺ کی خدمت میں حاضرہوئی کہا دیکھو اس کا بیٹا مارا گیاہےاوراس کو نقاب کی پڑی ہے،صحابہ نے کہا اگرمجھ پرمصیبت آئی ہےلیکن میری شرم وحیا پرتو مصیبت نہیں آئی۔
حضرت صدیقہ ؅ فرماتی ہیں ایک عورت خدمت نبوی ﷺ میں اومت من ورا حجاب کتاب ابی رسول اللہ ﷺاور انہوں نے پردہ کے پیچھے سے ایک خط خدمتِ اقدس میں پیش کیا۔

ناظرینِ کرام ! یہ چند عبارتیں ہم نے اس لیے نقل کی تاکہ معلوم ہوجائے کہ عہدنبوت ہی میں مستورات نے پردہ کرنا شروع کردیا تھااور خدمت رسالت میں مستورات باپردہ آتی تھیںاور حضور نبی کریمﷺ بھی اجنبیات سے پردہ فرماتے تھے اور  جولوگ یہ کہتے ہیں کہ عہدنبوت میں پردہ نہ تھا یا ایسا پردہ نہ تھا جس کا حکم آج علماے کرام دے رہے ہیں۔وہ سخت غلطی پرہیں نیز جب آیات پردہ کی مویدہیں توپھر ان کا ایسا کہنا کیا حقیقت رکھتا ہےبلکہ ایسا کہنا صحابہ کرام پراحکام قرآنی کی پابندی نہ کرنے کا الزام شدید ہے

متفقہ فیصلہ وہابیہ کی تردید

متفقہ فیصلہ وہابیہ کی تردید

متفقہ فیصلہ وہابیہ کی تردید

 اعلیٰ حضرت سیدمقبول احمدشاہ قادری فاضل کشمیری؄  



سنی حضرات جومضمون ’’متفقہ فیصلہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اس میں مفتی پھلواری، مفتی ویلوری، مفتی حیدرآبادی کے سوا باقی سب متفقہ فیصلہ وہابیوں کا ہے۔اکثرگلابی وہابیہ کا اسمیں حصہ ہے ، بھوپالی وغیرہ تبرائی ہیں اور جمیعۃ لعلما ہند یا دہلی کر کے مشہور ہے یہ بھی انہیں کا مجمع ہے اس میں کوئی سنی عالم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی سنی مسلمان ان فتوں کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آجائیں۔ خبردار رہیں۔ میں نے وہابیہ کا متفقہ فیصلہ کا خلاصہ ذیل میں لکھ دیا ۔غور سے پڑھیںاور میں دوفتوؤں کو جو استاد اور شاگرد کے ہیں۔ذراتشریح کے ساتھ لکھ دیا۔ وہ اس کوغور سےپڑھیں اور یاد رکھیںپھر ان وہابیوں کی ناک پکڑ کر خوب رگڑدیں۔ وہابی کی تردید کرنے کے لیے ایک معمولی سنی مسلمان کی گھنٹے بھر کی محنت کافی ہےچونکہ وہابیہ کو ایمان کے ساتھ سروکار نہیں ۔ان کو جھوٹ بولنے اور لکھنے میںکمال ہے ۔اسی لیے انہوں نے تین مہینہ کا عرصہ ان کی تردید کے لیے قرار دیا ہے۔
-وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَجو شخص حکم نہیں کرتا موافق اس حکم کے جواللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ایسے لوگ بالکل ہی کافر ہیں۔
وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۴۵)جو شخص حکم نہیں کرتا موافق اس حکم کے جواللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ایسے لوگ بالکل ہی ظالم ہیں۔
وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷)جو شخص حکم نہیں کرتا موافق اس حکم کے جواللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ایسے لوگ بالکل ہی فاسق ہیں۔
میں پہلے لکھ چکا تھا کہ ان کا مورد خاص اور حکم عام ہے۔ وہابیہ کہتے ہیں یہ آیۂ کریمہ یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں مگروہابیہ کوکیا معلوم مورد خاص حکم عام کس بلا کانام ہے۔ مورد خاص یعنی ہروہ شخص کافر اورظالم اور فاسق ہے۔جو اللہ کے نازل کیے ہوئےحکم کے موافق حکم نہیں کرتا مسلمانوں کے نزدیک یہ حکم ہرمسلمان کے لیے قیامت تک جاری رہے گا۔
وہابیہ کے نزدیک یہ حکم صرف یہود کے لیے مخصوص ہے  ساراقرآن مجیدمخصوص مواقع مخصوص ضروریات اورمخصوص لوگوں کے لیے تھوڑا تھوڑا تینتیس سال تک نازل ہوتارہا ۔مگر حکم عام ہے۔سب لوگوں کو شامل تا قیام قیامت ان وہابیہ نے ثابت کردیا۔ یہ قرآن حکیم کا حکم انہیں ضروریات اور انہیں مخصوص لوگوں کے لیے منحصر ہے۔یہ اپنے زعم باطل سے اہل کتاب بھی نہ رہے۔جب قرآن حکیم ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوا جو چودہ سو برس سے پہلے تھے۔ ان وہابیہ کے نزدیک قرآن مجید کے احکام بھی انہیں لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔ان کو آزادی ملی، نہ ان کے لیے روزہ نہ نماز وغیرہ۔یہود ونصاریٰ اہلِ کتاب ہیں مگر یہ ان سے بھی گیے گزرے ہیں ان کے لیے نہ کوئی کتاب نہ احکام کتب جاری ہیں۔ ان کا پیر نیچر ان سےپہلے کہہ چکا اورلکھ چکا احکام قرآن انہیں لوگوں کے لیے مخصوص ہیں۔ جو لوگ نبی کریمﷺ کے زمانے میں موجودتھے ۔ خصوصاً صحابہ اللہ تعالیٰ نے بصیغۂ جمع حاضرین کو مخاطب کیا۔ وضو اورغسل انہیں لوگوں کے لیے مخصوص ہیں۔ کیونکہ وہ محنت و مشقت کےسبب سے پسینہ و دھول میں آلودہ رہتے تھے۔ان کے بعد والوں کے لیے نہ قرآن نازل ہوانہ قرآن مجید نے ان کو مخاطب کیا۔ وہابی اس کے چیلے ہیں۔انہوں نے بھی مذکورہ آیتیں صرف یہودہی کے لیے مخصوص کیے ہیں۔اگر یہ بھی قرآن مجید کے احکام کوبصحابہ مخصوص 
کریں تو کوئی تعجب نہیں۔
مسلمانو! یاد رکھو اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ قرآن کے احکام انہیں لوگوں کے لیے ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔یا یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ قرآن کے احکام صرف صحابہ کے لیے ہیں، ان کے بعد آنے والوں کے لیے نہیں یا یہ عقیدہ مذکورہ بالاآیتیں صرف یہود کے لیے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف دوسرا حکم دے وہ کافر ظالم فاسق نہیں ۔ یہ مذکورہ بالاسب کفریا ت ہیں۔ اس نے سارے قرآن کے احکام پر عمل کرنے سے انکار کیا۔اس نے اللہ رب العزت کے حکم کے خلاف یہ حکم دیا ایسا عقیدہ رکھنے والا اور حکم دینےوالا اسلام سے خارج ہے۔
مسلمانوں کو لازم ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہرگز تعلق نہ رکھیں اپنے ایمان کو بچائیں۔ میں نے مذکورہ بالاآیتیں ان مفتیوں کے زجروتوبیخ کے لیے پیش کی تھیں۔ جنہوں نے اللہ کے حکم کے خلاف اور غلط فتویٰ دیا۔ فاتحہ مروجہ ثابت کرنے کے لیے نہیں۔یہ وہابیہ سمجھ گے فاتحہ مروجہ کے ثبوت کے لیے ہے۔ جب ان کورمغزوں کو معمولی اردو عبارت سمجھنے کا مادہ نہیں تو عربی جملے کو کیا خاک سمجھیں گے۔
خرچہ میدا ند کہ زعفراں چیست
سنی حضرات اللہ پاک کے نازل کیے ہوے احکام بہت ہیں ۔ان میں سے بعض فرض، مباح ہیں اگرکوئی ان احکاموں میں سے اللہ پاک پرنازل کیے ہوے حکم کے موافق حکم نہیں کرتا۔بلکہ اس کے خلاف حکم دیتا ہے ،اس کے فرض ہونے سے اور مباح ہونے سے انکار کرتا ہے وہ کافر ظالم، فاسق ہے۔ یہودی اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم دینے اور اس کے انکار کرنے سے کافر ہوے جو بیشتر ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انکار اور توہین کرنے سے کافر ہوچکے تھے۔ پھر کافر بنانا اس کو خوب وہابی ہی سمجھیں گے۔ قرآن پڑھنا اللہ تعالٰی کا نازل کیا ہوا حکم ہے، اس کے پڑھنے کے خلاف حکم دینے والا اس کے پڑھنے کوناجائز کہنے والا وہابیہ کے نزدیک کافر نہیں۔یہ تقسیم وہابیہ کی ٹیڑھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ یہودیوں نے میرے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف حکم دیا وہ کافر ہوئے، اگرکوئی دوسرا میرے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف حکم دے وہ کافر نہیں۔
سنی حضرات اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے حکموں میں سے یہ مندرجہ ذیل اللہ تعالیٰ کانازل کیا ہوا حکم غور سے ملاحظہ کریں۔
۱)اس کتاب کو جو آپ کے طرف وحی کی گئی ہے پڑھا کیجیے۔ قرآن ترتیل کے ساتھ پڑھا کیجیے۔
۲) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’ پڑھو جو کچھ تم کو آسان ہو قرآن میں سے۔مورد ان کا خاص ہے، حکم عام ہے‘ اس کی تشریح اوپر ہوچکی ہے اس کو خوب یاد رکھو۔
حالتِ جنابت اور حیض و نفاس کے سوا ہر وقت اللہ تعالیٰ کے طرف سے قرآن پڑھنے کا ہم مسلمانوں کو حکم ملا یہ حکم فاتحہ مروجہ اور غیر مروجہ کو بھی شامل ہے۔ کیوں کہ فاتحہ مروجہ قرآن ہی تو ہے ۔
خواہ دن ہو یارات ، نماز سے پہلے ہو یا نماز کے اندر،بعد التزام کے ساتھ ہو یا غیر التزام کے اجتماع کے ساتھ ہو ، یا غیر اجتماع جنازے کی نماز کے پہلے ہو یا جنازے کی نماز کے بعد، میت کے دفن کرنے سے پہلے ہو یا دفن کرنے کے بعد چالیس قدم ہو یا چالیس قدم سے پہلے، ہاں بعض جگہوں میں قرآن پڑھنا فرض ہے، بعض جگہ واجب بعض جگہ میں سنت اور مستحب ہے۔
اللہ تعالیٰ کاحکم ہے مجھ سے دعامانگو میں سنتا ہوں ، قبول کرتا ہوں یہ حکم بھی عام ہے ۔خواہ نماز سے پہلے ہو یا نماز کے بعد اجتماع کے ساتھ یا انفراد کے ساتھ، التزام کے ساتھ ہو یا غیر التزام ، جنازے کی نماز سے پہلے ہو یا جنازے کی نماز کے بعد دفن کرنے سے پہلے یا دفن کرنے کے بعد ہو، ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم مسلمانوں کو حکم ملا قرآن پڑھو  جب ہم قرآن 
پڑھیں گے اور دعا کریں گے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تعمیل کرنے والے ٹھہریں گے ہم کو اجر عظیم اللہ کی طرف سے ملے گا۔افسوس ان مفتیوں کے اوپر! جو یہ کہتے ہیں کہ اس کا پڑھنا التزاماً اور اجتماعاًنبی کریم ﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے ثابت نہیں۔
میں کہتا ہوں اگر یہ اجتماع اور التزام کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے اور صحابہ سے اور تابعین سے ثابت ہوتاتو اس کا پڑھنا فرض ہوجاتا۔حالانکہ اس کےفرض کے قائل کوئی نہیں نہ واجب کے قائل نہ سنت مؤکدہ کے قائل ہیں۔ بلکہ اس کو ہم سنی سنت اور مستحب سمجھ کر ہمیشہ التزام اجتماع کے ساتھ پڑھتے ہیں۔فاتحہ مروجہ سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل درود شریف کو فرداً فرداً نبی کریم ﷺ بیان فرمائے ہیں ان کے پڑھنے والے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے سنت مستحب کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے۔
مفتی کفایت اللہ صاحب مدرسہ امینیہ دہلی النکات شاگرد ضیاء الحق دہلی مفرور محمد شفیع مفتی سابق دیوبند ، مہدی حسن مفتی دیوبند، سعید احمدمفتی سہارنپور، ڈابھیلی لکھنوی ،وانمباڑی پیرم پٹی، رائے چٹی ، بھوپال، لاہوری، یہ سب دیوبندیوں کے متعقد اور مقلد اور اذناب ہیں۔
مذکوربالا مفتیوں کے فتویٰ کا خلاصہ یہ ہے ۔ ان سبھوں نے لکھا فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنا نعوذ باللہ ان میں سے بعض نے بے اصل بے سند بعض نے مکروہ کہا بعض نے بدعت شنیع واجب الترک کہا ہے۔ ان کا یہ حکم اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص حکم نہیں کرتا۔ موافق اس حکم کے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ایسے لوگ بالکل ہی کافر ہی ہیں بالکل ظالم ہیں۔ بالکل ہی فاسق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے طرف سے یہ حکم کفرانِ مفتیوں کے اوپر جاری ہیں اگر کوئی شخص کسی چیز کو بے اصل ناجائز حرام بدعت شنیع کہے۔اس نے اس کے کرنے سے انکار کیا۔یہ کہنے کے بعد وہ اس کو ہرگز نہ کر سکے گا اگر وہ کہے کہ ہم اس فاتحہ پڑھنے سے انکار نہیں کرتے تو عقلمندوں کے نزدیک اس دعویٰ میں وہ جھوٹاہے۔
اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ مسلمات سے ہیں اگر کوئی ایسے نفل یا ایسے مباح کو جس کا ثبوت دلیل قطعی سے ہوانکار کرنے والا کافرہوجاتاہے۔ دیکھ لو حصول وغیرہ کو جناب مفتی صاحب سے گزارش یہ ہے اس وقت مفتی حقیقی نہیں ہیں بلکہ مجازی ہیں یعنی ناقل ہیں۔
لہٰذا آپ کو منقول منہ پیش کرنا  ضرور ہے یعنی وہ کتاب مفتا بہ جس سے آپ نے استفتا کا جواب نقل کیا ہو مادہ قرآن کی آیت یا وہ حدیث رسولﷺ پیش نہ کی۔آپ کے اوپر کفر کا حکم عائد ہوتا ہے کیوں کہ آپ نے نص قطعی کو انکار کیا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اس کتاب کو جو آپ کی طرف وحی کی گئی پڑھا کیجئے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے۔ قرآن ترتیل کے ساتھ پڑھا کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے پڑھو جو کچھ تم کو آسان ہو قرآن میں سے بحالت جنابت اور حیض ونفاس کے سوا باقی سب حالت میں قرآن پڑھنا جائز ہے۔ اس میں کسی مکان اور زماں کی تخصیص نہیں ہے یہ حکم ہر وقت کو شامل ہے۔خواہ نماز سے پہلے ہو یا نماز کے بعد ہرگز بعض جگہوں میں یانماز کے اندر قرآن پڑھنا فرض ہے۔ بعض جگہوں میں قرآن پڑھنا واجب ہے بعض جگہوں میں سنت اور بعض مستحب ہے۔
انفراداً ہو یا اجتماعاً آہستہ ہویابلند آواز سے فاتحہ غیرمروجہ کو بھی شامل ہے ۔جنازے کی نماز سے پہلے ہو یا جنازے کے بعد کو بھی شامل ہے۔ دفن کرنے کے بعد کو بھی شامل ہے، چالیس قدم کے پہلے ، چالیس قدم کے بعد بھی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔اللہ تعالیٰ خود اوراس کے فرشتے نبی کریمﷺ کے اوپر درود پڑھتے ہیں۔ اے مسلمانو! تم بھی ان پر درود پڑھو ۔
اس میں کسی زماں ومکاں کی تخصیص نہیں اگر آپ نے یہ حکم اپنے اجتہاد سے دیا ہوتو آپ مقلد محض ہیں ۔ آپ اجتہاد کا حق نہیں رکھتے پھر آپ نے اجتہاد کیا۔ اس اجتہاد میں آپ نے غلطی 
کی سید عالم ﷺ نے آپ کے لیے ٹھکانا جہنم قرار دیا ہے۔ مستدرک حاکم اور مسند ابن حبان کی حدیث وغیرہ کو دیکھ لو جس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا جب غیرمجتہد اس اجتہاد سے حکم دے پھر اس اجتہاد میں غلطی کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ آپ نے بڑی غلطی کی نص قطعی کے خلاف کے حکم دیاگیا۔
کیا نبی کریم ﷺ نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل نہیں پڑھا کیا صحابہ نے سورۂ قل نہیں پڑھا اس نہ پڑھنے پر آپ کے پاس کیا ثبوت ہے۔ کیا آپ کے نزدیک عدم ذکر اور عدم نقل کو عدم وجود مستلزم ہے۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہوتے ہوئے ۔زید ۔ عمر کا قول فعل دریافت کرنا۔ کمالِ بے وقوفی ہے اور نشانی گلابی وہابی کی ہے ۔ سنی حضرات مذکور حکم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے۔ اوپر معلوم ہوچکا اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم دینے پر اللہ تعالیٰ نے اس حکم دینے والے کوکافر، ظالمِ فاسق کہا ہے۔ آپ کے فتوی سے یہ ثابت ہوتا ہے ۔ جس چیز کاوجود عہدِ رسالت میں ہووہی جائز ہے۔ جس کا وجود عہدِ رسالت میں نہ ہووہ چیز ناجائز بدعت ہے۔ خواہ عبادت سے ہو یا معاملات سے ۔ لہٰذا دارالافتا مدرسہ امینیہ اسلامیہ دہلی بہت کذابیہ عہدرسالت میں موجود نہ تھا
نہ اس نام کی کوئی جگہ تھی لہٰذا مدرسہ امنیہ بہئیت کذبیہ بدعت کاگھر ہے۔ یہ نام رکھنے والے سب بدعتی ہیں۔اس نام کے پکارنے والے سب کے سب بدعتی ہیں۔ اس میں کام کرنے والے بدعتی ہیں۔ یہ دارالافتا نہ رہا بلکہ دارالبدعت بدعت کا گھر بنا ۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ مسلمات سے ہیں ۔ جو کوئی کسی ایسے نفل کو یا کسی ایسے مباح کو جس کا ثبوت دلیل قطعی سے ہوانکار کرے انکار کرنے والا کافر ہوجاتا ہے، دیکھوحصول وغیرہ۔
نبی کریمﷺ کاارشاد ہے تم میں سے بہتر وہ ہے ۔ جو قرآن پڑھتا اور دوسروں کو پڑھتا ہے۔ نبی کریمﷺ کاارشاد ہے۔سورہ فاتحہ تین بار پڑھنے سے ایک پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ شریف کو مقلب بقلب سبع مثانی فرمایا ہے، یہ ایسے اعلیٰ برتر سات آئتیں ہیں کہ بار بار پڑھی جاتی ہیں، باربار پڑھنا اس سورہ شریف کا اللہ تعالیٰ نے صفت ٹھہرایا باربار پڑھنا نماز سے پہلے ہو یا نماز کے اندر یا نماز کے بعد ہو۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا سورۂ قل ثلث قرآن ہے یعنی تیسرا حصہ قرآن کا ہے۔ تین مرتبہ پڑھنے سے پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے ۔ طبرانی اور طبقات ابن سعد میں ہے۔ تبوک میں جبرئیل امین رسولﷺ پر نازل ہوےاور خبر دیا ۔ معاویۃ ابن معاویۃ المزنی جن کو لیثی بھی کہتے ہیں۔ انتقال کر گیے آپ دوست رکھتے ہیں کہ آپ اس پر نماز پڑھے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہاں۔ جبرئیل امیں نے ان کی لاش مبارک کونبی کریمﷺ کے سامنے حاضر کیا پھر آپ نے ان کے اوپر نماز پڑھی اور ان کے ہمراہ فرشتوں کی صفیں تھی ہر ایک صف میں ستر ستر ہزار فرشتے تھے ۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریمﷺ نے جبرئیل امیں سےپوچھا معاویہ کو اس قدر بڑا درجہ کیوں ملا۔ حضرت جبرئیل نے عرض کی یارسول اللہﷺ یہ سورۂ قل کو بہت دوست رکھتا تھا۔ جاتے وقت آتے وقت کھڑے ہوتے وقت اٹھتے وقت ، بیٹھتے وقت یعنی ہر وقت اس سورۂ شریف کو تلاوت کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا بڑا مرتبہ دیا۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنازے کی نماز میں میت حاضرہونے کے سوا جائز نہیں ۔میت کا حاضر ہونا یاامام کومیت نظرآنا شرط ہے اگر یہ دونوں چیزیں نہ ہوں یا دونوں میں سے ایک نہ ہو نماز جنازہ جائز نہیں بعض جہلا حنفی وہابیوں کے ساتھ مل کر کبھی جنازے کی نماز میت کے غائب ہونے پرپڑھتے ہیں۔ یہ ہرگز جائز نہیں اگر بلا میت یہ نماز جائز ہوجاتی تو حضرت جبرئیل امین کو میت حاضر کرنے کی ضرورت کیا تھی، اس سے ثابت ہوا یہ نماز میت حاضر ہونے کے سوا جائز نہیں۔
نجاشی کا واقعہ اس پر قیاس کروان کی لاش نبی کریم ﷺ کے سامنے حاضر کی گئی تھی یا نبی کریمﷺ اس کی لاش دیکھ رہے 
تھے، امام کادیکھنا مقتدیوں کی نماز کے جواز کے لیے کافی ہے یہاں پرزیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں۔
سبحان اللہ کیا خوش نصیب ہیں وہ مسلمان مرد ومسلمان عورت جو فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل کو ہروقت ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے ہیں۔ مذکوربالاحدیث پر نظر کرنے سے  معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے والوں کو سب سے سے بہتر قرار دیا کیوں کہ فاتحہ مروجہ قرآن ہی تو ہے۔افسوس ہے ان وہابیوں پر جو فاتحہ مروجہ کو بدعت کہتے ہیں۔ فاتحہ مروجہ قرآن یعنی سورۂ فاتحہ اور سورہ قل پڑھنے والے ایسے مقدس جماعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قسم کھاتا ہے قسم ہے مجھے ان لوگوں کی جو قرآن پڑھتے ہیں۔
قرآن مجید کا نام ذکر بھی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے قرآن پڑھنے والے کو ہر حرف کے بدلے میں دس نیکی دس سے ساٹھ تک ساٹھ سے زائد بھی آیا ہے ۔کیا فاسق بدعتی وہ مسلمان ہیں جو فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے کو بدعت شنیع کہتے ہیں، اس کو واجب الترک کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نےاور ان کے رسولﷺ نے حکم کہیں نہیںدیا کہ فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل ہروقت پڑھنا یا سب نمازوں کے بعد پڑھنا یا بعض نمازوں کے بعد پڑھنا بدعت شنیع واجب الترک ہیں۔ نہ کسی مجتہد نے یہ حکم دیانہ کسی مفتابہ کتاب میں یہ حکم موجود ہے۔ ان مفتیوں نے اللہ اور اس کےرسول ﷺ کےخلاف یہ حکم دیا ہے اور انہوں نے نصوص قطعی کے خلاف خانہ ساز فتویٰ دیا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک قاعدہ کلیہ ہے۔ اگر خبرواحد کتاب اللہ کے مقابلہ میں آجائے تو اگر دونوں کے اوپر عمل کرنا ممکن ہوتو دونوں پرعمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ممکن نہ ہوتو اس خبر واحد کو چھوڑ دیتے ہیں۔کتاب اللہ پر عمل کرتے ہیں ۔جب یہ حال خبرواحد کا ہے بغرض محال اگر قول صحابہ قول ائمہ اسلام جس کی کوئی سند نہ ہو کتاب اللہ کے مقابل میں آجائے وہ کب قابلِ عمل ٹھہرے گا۔
ان سب کے اوپر حکم کفرعائدہوتا ہے۔خواہ تبرائی ہو یا گلابی  ان کا فتویٰ ہرگز اہل سنت والجماعت کے نزدیک قابل عمل نہیں۔ان سے دریافت کرو یہ مسئلہ جزئیہ کس مفتابہ کتاب میں موجود ہےیعنی فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل پڑھنا بدعت شنیع واجب الترک ہے۔ ہم سنت جماعت کے مسلمان ان دونوں سورتوں کے پڑھنے کو سنت، مستحب جان کر التزاماً اجتماعاً بہ نیت ثواب پڑھتے ہیں۔ مسلمانو! جو کوئی نیک کام کرو التزاماً ہمیشہ کرو ہمیشہ نیک کام کرنا سنت ہے۔
نبی کریمﷺ کی عادت مبارک بھی یہی تھی جب کوئی نیک  کام کرتے تھے ہمیشہ کرتے تھے۔ دیکھو حدیث مسلم کو۔۔
وہابیہ کا یہ کہنا کہ جب کوئی کام نیک التزاماً ہمیشہ کیا جائے۔ لوگ اس کو فرض جاننے لگیں گے اس لیے واجب الترک ہے صد حیف صدافسوس ہے ان وہابیوں پر جن کو اللہ تعالیٰ نے مسلوب العقل بنا دیا ہم التزاماً رات دن میں بارہ رکعتیں سنت موکدہ پڑھتے ہیں۔ ابتدائے اسلام سے اب تک سب مسلمان التزاماً ان کو پڑھتے آئے اب بھی التزاماً پڑھ رہے ہیں۔ کوئی مسلمان نادان بے علم ان بارہ رکعتوں کو فرض نہیں جانتا۔ جب نبی کریم ﷺ کے ان سنتوں کو فرض نہیں جانتا تو آپ کے یا میرے کسی فعل مستحسن کو کوئی بیوقوف جاہل کیوں فرض سمجھے گا، یہ صرف وہابیوں کو طاعون کی بیماری لگ گئ ہے ۔ یہ ہمیشہ اس میں مبتلا رہیں گے اسی مرض سے اس دنیا فانی سے جائیں گے۔،
جناب مفتی صاحب!ً گزارش یہ ہے آپ ناقل ہیں حقیقی مفتی نہیں۔ لہٰذا آپ نے استفتا کا جواب جو نقل کیا اس مفتا بہ کتاب کا نام فوراً پیش کریں۔
کفایت اللہ صاحب! فاتحہ مروجہ کا یہ طریقہ جو آپ نے سوال میں ذکرکیا ہے ثابت نہیں۔ میں کہتا ہوں مذکورہ طریقہ کا نہ کر ناکہیں ثابت نہیں۔ عدم ثبوت سے اس کا ناجائز ہونا لازم نہیں آتا ۔ناجائز ہونے کے لیے دلیل پیش کیجیے۔
کفایت اللہ صاحب!سورۂ فاتحہ ایک بار سورۂ اخلاص تین 
باراور پھر بلند آوازسے درود شریف پڑھنے اوراس طرح دعا ختم کرنے کاااور اس کو لازم کرلینے کاثبوت حضورﷺ سےہے نہ صحابہ کرام اورنہ ائمہ اسلام سے میں کہتاہوں مذکورہ طریقہ کے لازم نہ کرنے کاثبوت حضور ﷺ سے نہ صحابہ کرام سے نہ ائمہ اسلام سے ثابت نہیں عدمِ ثابت اسلام میں کوئی دلیل نہیں کیوں عدم ثبوت خوونیست ونابود ہے۔ معدوم محض کسی چیز کے وجود کے لیے نفی کاسبب نہیں بن سکتا۔ علاوہ اس کے آپ کے پاس عدم ثبوت پرثبوت شرعی کیاہے۔ مفتی صاحب عدم ثبوت سے طریقہ مذکورکا ناجائز ہونالازم نہیں آتا۔ اس کے ناجائز ہونے کے لیے دلیل شرعی پیش کیجیے۔
کفایت اللہ صاحب! نماز جمعہ میں سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد کوئی اجتماعی دعا کاکرنا جائز ہے یا ناجائز ۔اس کے ناجائز ہونے کے لیے دلیل شرعی پیش کیجیے۔
کفایت اللہ صاحب! نما ز جنازہ خود دعا ہے۔ میں کہتا ہوں نہ غلط ہے ۔ نمازجنازہ من کل وجوہ ۔۔۔نہیں من وجہ دعا ہے۔ من وجہ نماز ہے اور یہ ۔۔۔دعا ہوتی ہے تو بے وضو بھی جائز ہوجاتی ۔۔۔۔ بے وضو جائز نہیں دعا کے لیے وضو شرط نہیں۔ اس نماز جنازہ کے لیے وضو شرط ہے۔
کفایت اللہ صاحب! اس کے بعد اجتماعی دعا ثابت نہیں ، میں کہتا ہوں اس کے بعد کوئی اجتماعی دعا نہ کرنا ثابت نہیں!۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم دعا کرو میں سنتا اور قبول کرتا ہوں۔ یہ حکم عام ہے ۔ ہر ایک وقت کو شامل ہے خواہ حالت اجتماعی ہویا حالت انفرادی ۔ جنازے کی نماز سے پہلے ہو جنازے کی نماز کے بعد ۔
مفتی صاحب! اجتماعی دعا ثابت نہ ہونے سے اس اجتماعی دعا کاکرنا ناجائز ہونا لازم نہیں آتا۔ ناجائز ہونے کے لیے دلیل پیش کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جب فارغ ہوجاؤ یعنی قرب فرائض سے ٹھہر جاؤ اللہ کی طرف راغب ہو جاؤ بذریعہ قرب نوافل کے یعنی تسبیح، تہلیل، تکبیر، دعا، تلاقت، قرآن وغیرہ سے۔ 
اللہ کی طرف متوجہ ہوجاؤ ۔
اس آیۂ کریمہ سے فقہا ومفسرین نے نماز کے بعد دعا کرنے کااستدلال کیا ہے، نماز جنازہ قرب فرائض میں داخل ہے۔اس کے بعد دعا کرنا قرب نوافل سے ہے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی عبادت اور نماز کے بعد دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے ، وہ عبادت ہی کیا ہوئی جس سے اللہ ناراض ہوجائے۔ کفار اپنے زعم باطل سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں مگر اللہ ان سے ناراض ہے ۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ جنازے کی نماز عبادت ہے اس کے بعد بھی دعا کرنا اللہ کی رضامندی طلب کرنے کےلیے ضروری ہے۔ جولوگ جنازے کی نماز کے بعد دعا نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہے ۔ جس سے اللہ ناراض ہوجائے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
وہابی خواہ تبرائی ہو یا گلابی یہ دونوں نماز جنازے کے بعد دعا نہیں کرتے بلکہ حکم دیتے ہیں جنازے کی نماز کے بعد دعاکرنا ناجائز  اور حرام ، بدعت ہے۔ یہ حکم ان کے اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہے۔ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ مگر یہ ہمیشہ جہنم نہیں رہیں گے اگر ان میں ایمان ہے اگر ایمان نہیں ہے تو یہ بھی ہمیشہ کافروں کی طرح جہنم میں رہیں گے ، اگر کوئی کہے یہ نماز بھی پڑھتے ہیں روزہ بھی رکھتے پھر جہنم میں کیوں جائیں گے ، نماز و روزہ تب کام آجائے جب ایمان ہے ، جب ایمان نہیں تو نماز وروزہ کچھ کام نہیں آتا۔
نبی کریمﷺ کے زمانے میں منافق نماز پڑھتے تھے۔ جہادوں میں بھی جاتے تھے۔ یہاں تک انہوں نے ایک مسجد بھی بنوائی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے واسطے جہنم کے طبقوں میں سے نچلا طبقہ مقرر کیا ہے کیوں کہ ان کے پاس ایمان نہیں تھا۔
کفایت اللہ صاحب! نے لکھا میت کی تدفین کے بعد اس کی مغفرت کے لیے ہرشخص دعاکرے اجتماعی دعا کا ثبوت نہیں ہے ، مولوی کفایت اللہ صاحب نے وہابیوں کی ناک کاٹ دی ، 
فرداً فرداً دعا کرنے کا حکم دیا وہابی اس کو بدعت کہتے ہیں، میں کہتاہوں کہ تدفین کے بعد کوئی اجتماعی دعا نہ کرنا ثابت نہیں۔ میں پوچھ رہا ہوں کہ فرداً فرداً دعا کرنا کسی دلیل سے ثابت ہے؟ اور اجتماعی دعا کرنا جائز ہے یاناجائز؟ ناجائز کے لیے دلیل پیش کریں۔
ہر نیک کام کو لازم کرنا ہمیشہ مسنون ہے۔ نبی کریمﷺ جب کوئی نیک کام کرتے تھے ہمیشہ کرتے تھے جوکوئی اس کو نہ کرے اور اس کو جائز کہے اس پر طعن وتشنیع ضرور کرے، واغلظ علیہم کا مصداق ہے کیوں اس نےجائز کو اپنے طرف سے ناجائز کہا ہے۔ یہ وہابی خواہ تبرائی ہو گلابی۔ الفاتحہ کی آواز سنتے ہی ایسے بھاگ جاتے ہیں جیسے شیطان اذان کی آواز سن کر انگلی کانوں میں رکھ کر گوزمارتا ہوا بھاگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مذمت کرتے ہوئے جو قرآن پڑھنے سے قرآن کے اوپر عمل کرنے سے بھاگ جاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کیا ہوگیا ان کو قرآن سے بھاگتے ہیں جیسے وحشی گدھے شکاری سے یا شیر سے بھاگتے ہیں ، وحشی گدھے شکار ی کو یاشیر کو دیکھ کر بھاگتے ہیں جیسا وحشی گدھا شیر یاشکاری دیکھ کر بھاگتا ہے۔اسلام کے اندر سب احکام آٹھ ہیں ۔اس میں تمام احکام آگئے خواہ عبادت ہو یا معاملات یا عادات فرض، واجب ، سنت موکدہ، مستحب ، مباح ، حرام مکرو ہ تحریمی مکروہ تنزیہی ،بدعت اور شبہ بدعت انہیں میں داخل ہے کوئی نواں قسم علیحدہ نہیں حرام بہ مقابلہ فرض کوآتا ہے۔ ۱) مکروہ تحریمی بمقابلہ واجب کو آتا ہے ۔مکروہ تنزیہی بمقابلہ سنت اور مستحب کو آتا ہے ۔ فرض کے واسطےدلیل موجود ہونا ضروری ہے۔ واجب کے واسطے دلیل ہونا ضروری ہے، سنت موکدہ کے واسطے دلیل موجود ہونا ضروری ہے اور مباح کے واسطے دلیل کی ضرورت نہیںکیون کہ اصل شئے میں اباحت جواز ہے۔
اللہ پاک کا ارشاد ہےاللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے تمہارے فائدے کے لیے ہر وہ چیز جو زمین کے اندر ہے پیدا کیا۔جمیعاً کے ساتھ اس کو تاکید کیا ۔جس چیز کو قرآن مجید نے منع کیا وہ منع جس چیز کو حدیث رسولﷺ نے منع کیا منع ہے۔ جس چیز کے منع ثابت نہیں وہ سب مباح اور جائز ہے مگر وہابیوں کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ ہرگز بدعت سے بچ سکتے نہیں۔ علمائے محققین ماتریدین واشاعرہ سب کا اتفاق اس پر ہے ، ۱) اشیا خباثت، ۲) اشیا مضر،۳) دم، ۴) فروج باقی سب چیزوں کے اندر اباحت جواز ہے۔ یہ سب کتب اصول وفروع میں موجود ہیں آپ کے اور دیوبندیوں اور سہارنپور یوں کے مفتیوں کے تحریر سے ثابت ہوا۔ مباح کوئی چیز نہیں آپ اور ان مفتیوں کے فتویٰ سے شریعت کا بہت بڑا حصہ باطل اور فاسد ہونا لازم آتا ہے۔ چند مثالوں کےساتھ میں اس کو واضح کروں گا ۔ ناظرین باقی چیزوں کو انہیں پرقیاس کریں مثلاً لفظ مفتی اور مولوی کسی نام کے ساتھ ہم سنیوں کے نزدیک لکھنا جائز اور مباح ہے  اور ان مفتیوں سے کوئی پوچھے ان کا لکھنا جائز ہے یا ناجائز َ؟ آپ جواب یہ دیں گے اس کا لکھنا حضور ﷺ کے زمانے سے اور صحابہ کے زمانے سے اور ائمہ اسلام کے زمانے سے ثابت نہیں لہٰذا یہ بدعت شنیع واجب الترک ہے۔ آپ اس کو بدعت بھی کہیں اور آپ اپنے نام کے ساتھ لکھتے بھی رہیں۔ ہم سنیوں کے نزدیک یہ جائز ہے ۔ اگرکوئی آدمی دن کے دس بجے قرآن شریف کی تلاوت چند آدمیوں کے ساتھ التزاماً ہمیشہ کرتے رہیں اور قرآن تلاوت کے بعد چند غربا کوکھانا کھلاتے رہیں اور ان کو چند پیسے بھی تقسیم کرتے رہیں اگر آپ سے کوئی سوال کرے یہ جائز ہے یا ناجائز؟ آپ اور مفتی مذکور بالا یہ جواب دیں گے اس کا کرنا نبی کریمﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ ثابت نہیں۔ لہٰذا بدعت شنیع واجب الترک ہے۔
نبی کریمﷺ نے سنت حسنہ کے موجد کے لیے دو اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا۔ آپ کے اور مفتی مذکور کے فتویٰ سے ثابت ہوا یہ حرام ہے۔ ہم سنیوں کے نزدیک ہر ایک میوہ کھانا مباح اور جائز ہے۔
اگرآپ سے کوئی دریافت کرے اخروٹ اور آم کھانا جائز ہےیا ناجائز ؟ آپ اور مفتی مذکور یہ جواب دیں گے ۔ اس کا کھانا نبی کریمﷺ سے اور صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ ثابت نہیں۔لہٰذا حرام واجب الترک ہے آپ اس کو حرام بھی کہیں اور کھاتے بھی رہیں۔ ہم سنیوں کے نزدیک ہر غذا حلال کھانا جائز ہے۔ اگر آپ سے کوئی بنگلوری سوال کرے یہاں ایک غلہ جس کو غیر مسلم راگی کہتے ہیں مسلمان بھی راگی بولتے ہیں اس کا کھانا جائز ہے یا ناجائز؟ آپ اور مفتی مذکور یہ جواب دیں گے نبی کریم ﷺسے، صحابہ، ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ اس کا کھانا ثابت نہیں۔ لہٰذا حرام واجب الترک ہے آپ لوگوں نے مسلمانوں کے اوپر راستہ بہت تنگ کردیا مسلمانوں کو حرج میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میں نے تمہارے دین میں ہرج اور تنگی پیدا نہیں کیااب بتلاؤ مباح تمہارے نزدیک کیا چیز ہے۔ حضور نبی کریمﷺ سے اجتماعی دعا کرناجنازے کی نماز پڑھنے کے بعد ثابت ہے ۔ مغازی واقدی میں ہے ۔ غزوہ موتہ میں جب مسلمانوں کورومیوں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ نبی کریمﷺ مدینہ طیبہ میں منبر شریف پررونق افروز ہوئے نبی کریم ﷺ پر مدینہ سے لے کر سارا ملک شام موتہ جنگ کے جگہ سینکڑوں میل کا فاصلہ منکشف ہوا۔ جیسے ہم کسی چیز کو سامنے دیکھ رہے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے منبر سے خبر دی لیا جھنڈا ہاتھ میں زید بن حارث نے ۔ دشمن کے مقابلے میں نکلا یہاں تک کہ شہیدا ہوا پھر نبی کریمﷺ نے اس پر نماز پڑھی اور دعا کا حکم دیا صحابیوں کو ان کے واسطے دعاکرو۔پھر ارشاد ہوا لیا جھنڈا ہاتھ میں جعفر بن ابی طالب نے دشمنوں کے مقابلے میں نکلا یہاں تک کہ شہیدہوگیے پھر آپﷺ نے اس پر نماز پڑھی اوردعا کی صحابہ کو حکم دیا دعا کرو۔ آپﷺ نے یہ حکم صیغۂ جمع کے ساتھ دیا ہے۔
حضورﷺ نے خود بھی دعا کی آپ ﷺ کے ہمراہ سب صحابہ نے دعا کی یہی اجتماعی دعا ہے۔اصل موجوب کے لیے آتا ہے ۔ اگر قرینہ صاف ہو سنت مستحب مباح کے لیے بھی آتا ہے ۔ افسوس ہے وہابیہ کے اوپر جو یہ کہتے ہیں اجتماعی دعا نماز جنازے کے بعد ثابت نہیں حالاں کہ یہاں پر ابھی وہ شہدا دفن نہیں ہوئے تھے ۔ شہادت ہوتے ہی حضورﷺ نے ان پر نماز پڑھی اور اجتماعی دعا کا حکم دیا کسی مفتابہ کتاب میں نہیں ہے ، جنازے کی نماز پڑھنے کے بعد میت کے لیے دعا کرنا حرام بدعت ہے۔ یہ صرف وہابیوں کی بکواس ہے۔جب نبی کریمﷺ سے قولاً و فعلاً جنازے کی نماز کے بعد دعا کرنا ثابت ہوچکا اب اگر کسی زید عمر کا قول اس کے مقابلے میں آجاے ہرگزقابل اعتبار نہ ہوگا۔
قبر اگر بغلی ہے تو اس کو اینٹوں کے ساتھ بند کرنا اجماع صحابہ کے ساتھ ثابت ہے۔ نبی کریمﷺ کی لحد شریف کو صحابہ نے کچے اینٹوں کو دہن پر کھڑے کیے تھے اس طور سے کہ مٹی اندرنہ جاے اگربغلی ممکن نہ ہو توشق بنانا جائز ہے۔ اس کو بند کرنا کچے اینٹوں کے ساتھ یا بڑے بڑے سلوں کے ساتھ تختہ دینا ضرورتاً جائز ہے۔ اس طور پر کہ مٹی میت کے اوپر نہ گرجائے۔جہاں تبرائی وہابی میت کے اوپر ہی مٹی ڈالتے ہیں میت کے اوپر مٹی ڈالنا میت کے لیے توہین وتحقیر، تذلیل ہے، اس میں ہندوؤں کے ساتھ مشابہت ہوجاتی ہے کیوں کہ وہ بھی میت کے اوپر مٹی ڈالتے ہیں۔اور اس کو اینٹوں سے یا پتھروں سے یا تختوں سے بند نہیں کرتے۔ یہ اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں۔ صحابہ کاکچے اینٹوں سے نبی کریمﷺ کی قبر شریف کابند کرنا ثابت ہے۔ یہ اجماع قطعی ہے جو چیز اجماع قطعی سے ثابت ہوجائے اس کو بدعت اور اس کو انکار کرنے سے مسلمان کافرہوجاتاہے ۔دیکھو کتب اصول کو اس کو بدعت کہنا خلاف اجماع صحابہ کا ہے۔قبر کے اوپر اونٹ کی پیٹھ کی طرح بنانا مستحب ہے، اسی طرح نبی کریمﷺ کے قبر شریف کواسی طرح جمہور صحابہ نے بنایا تھا۔ادھر کے جہاں تبرائی وہابی اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں یہ بھی اجماع قطعی کے خلاف کفر ہے۔ قبر 
کے اوپر پانی چھڑکناامام محمد کے نزدیک کوئی حرج نہیں یعنی جائز ہے۔ جس کو ادھر کے لوگ مہرکرنا کہتے ہیں مہرکرنا بھی جائز ہے۔بیقہی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر میت دفن کرنے کے بعد سورہ بقر کاابتدا کوسورۂ بقر کے اخیر کوقبر پر پڑھنا مستحب جانتے تھے ۔ بیہقی شریف میں ہے اور ابوداؤد شریف میں ہے کہ نبی کریمﷺ جب میت کے دفن کرنے سے فارغ ہوتے تھے قبر پرٹھہرجاتے تھے اور صحابہ کو حکم دیتے تھے اپنے بھائی کے لیے اللہ سے دعا مانگو ۔اللہ تعالیٰ ان کو ثابت قدم رکھے اب ان کو سوال ہوتے ہیں وہابی خواہ بترائی ہو یا گلابی اس کو بدعت شنیع واجب الترک کہتے ہیں ۔ دیکھو یہ اجتماعی دعا مانگتے تھے میت کے دفن کرنے کے بعد میت کے لیے دعا کرنا حضوررسول کریمﷺ کے قول و فعل سے ثابت ہے۔ 
مگریہ وہابی خواہ گلابی ہو یا تبرائی بعد دفن کے دعا نہیں کرتے بلکہ اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں ہاں کسی فعل مستحسن کواجتماع التزام کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے کرنے سے فرض ہونے کااحتمال تھا۔
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے جب رمضان شریف کے اخیر عشرہ میں جب پہلی رات مسجد میں تشریف لائے لوگ بھی آپ کے ساتھ جمع ہوگیے پھر جب دوسری رات تشریف لائے لوگ زیادہ جمع ہو گیے پھر تیسری رات میں لوگوں کا بہت بڑا مجمع جمع ہوا۔ مسجد کے اندر انتظار میں رہے اور کھنکارتے رہے مگر نبی کریمﷺ تشریف نہ لائے ۔صبح کو جب لوگ نماز کے لئے جمع ہوئے تو نبی کریمﷺ نے عذربیان فرمایا۔
ارشاد ہوا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ آپ لوگ مسجد میں رات نماز کے لیے جمع ہوگیے تھے مگر میں عمداًمسجد میں حاضر نہ ہواْ ۔اس احتمال سے شاید یہ نماز یعنی تراویح تمہارے اوپر فرض نہ ہوجائے کیوں کہ زمانہ نبوت اور وحی کا تھا اب یہ احتمال جاتا رہا۔
 اب نہ زمانہ نبوت اور وحی کاہے نہ صحابہ کا نہ تابعین کا نہ تبع تابعین کا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا مسلمانوں کے اوپر فرض کرنا وہ فرض کر چکا اب کوئی چیز ہمارے اوپر فرض نہیں ہو سکتی ۔ اگر تمام وہابی خواہ تبرائی ہو یا گلابی ہندی ہو یا سندھی کوہی ہو یا جنگلی کسی چیز کے اوپر التزاماً اجتماع کے ساتھ ہمیشہ کرتے رہیں وہ چیز ان کے اوپر فرض نہ ہوجائے۔
جناب مفتی صاحب ! شاید آپ کے نزدیک عدم ذکر عدم نقل کوعدم وجود لازم ہوگا۔ اس لیے آپ نے ثبوت سے استدلال کیا مگر سب دنیا کے عاقلوںکے نزدیک عدم ذکر عدم نقل کو عدم وجود ہرگز لازم نہیںاور آپ نے عدم علت سے عدم حکم پر استدلال کیا حنفیہ کے نزدیک یہ باطل ہے۔ جب حکم کے لیے متعدد علتیں ہوں قرون ثلاثہ میں کسی فعل مستحسن کاثبوت نہ ملنے پر کسی فعل مستحسن کاناجائز ہونا ہرگز لازم نہیں آتا اول تو قرون ثلاثہ کو جائز اور ناجائز کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں نہ قرون ثلاثہ کسی حکم شرعی کے علت تامہ ہے۔نہ کسی حکم شرعی کے علت  ناقصہ ہے فرض اور واجب اور سنت موکدہ کے سوا نبی کریمﷺ نے جتنے افعال مستحسن اپنی عمر شریف میں کیے ہیں وہ سب کے سب بتمامہ کیا لکھے گیے۔؟ وہ سب کے سب نقل کیے گئے ہیں ؟۔آپ کے پاس اس کا ثبوت ہے۔؟ صحابہ نے جتنے افعال مستحسن کیے ہیں۔ ائمہ اسلام نے کیے۔اس کاثبوت آپ کے پاس کیاہے؟۔ جب اس کے لیے کوئی ثبوت شرعی نہیں پھر یہ کہنا اس فعل مستحسن کا ثبوت نبی کریمﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے ثابت نہیں محض نادانی اور بیوقوفی ہے۔ خواہ یہ امور مستحسن ۔۔۔ترقی کے لیے ہوں یا دنیوی۔ خیر قرون کے بہتر ہونے میں نوراً اعلیٰ نوراً ہونے میں کسی سنی مسلمان کو انکار نہیں اگر صحابہ سے کسی امرحادث پر اجتماع ہو یابعض صحابہ کا امرحادثہ پر ہوبعض کاسکوت رد سے ہو یا کسی امر حادث پر تابعین کا اجماعی ہو یا تابعین کاکسی قول صحابہ پر اجماع ہو یہ سب دلائل شرعی اور دلائل وجود ہی واجب العمل ہیں۔ عدم ثبوت کوئی دلیل ہی نہیں مگراس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جوکچھ اس خیر قرون میں موجود تھا جولوگوں نے اس میں کیا تھا۔ وہ سب قابل سند واجب التقلید ہے۔ورنہ آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ 
بدعات قدریہ بدعات جبریہ بدعات معتزلہ بدعات رافضیہ بدعات خارجیہ سب خیرقرون میں موجود تھے؟ یہ سب قابل سند واجب التقلید ہے؟ حالانکہ آپ اس کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے ضرور انکار کریں گے پھر خیرالقرون کو چار اصولوں کی طرح پانچواں اصل گردانا صریحاً لغو اور بیہودہ ہےلہٰذا آپ پر واجب لازم ہے کوئی ایسی دلیل شرعی پیش کریں جس سے یہ ثابت ہوجائے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنا التزاماً اجتماعاً نعوذباللہ بدعت شنیع واجب الترک ہے مگر یہ کسی شرعی دلیل سے آپ ہرگزنہ ثابت کرسکیں گے اگر آپ کے نزدیک جائز اورناجائز کادارومدار خیرقرون ہی پر یعنی جس چیز کا وجود ان قرون میں ہو وہ جائز ہے جس کا وجود ان قرون میں نہ ہو وہ ناجائز خواہ از قسم عبادات ہویا معاملات سے دینی ترقی کے لیے ہے یا دنیاوی میں آپ سے دریافت کرتا ہوںآپ آپ کے اساتذہ اور آپ کے پیرومرشد اور سب دیوبندی اورسہارنپوری اور ان کے اذناب یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ نعوذ باللہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے خدا کا جھوٹ بولنا جائز ہے خدا کاجھوٹ بولنا ممکن ہے۔ کیا اس عقیدے والے لوگ قرون ثلاثہ میں تھے ۔کیا نبی کریم ﷺ العیاذ باللہ اس عقیدے کے قائل تھے؟۔ کیا صحابہ ائمہ اسلام اس کے قائل تھے۔ ظاہر ہے ان پیشواے دین میں سے اس عقیدۂ کفریہ کے کوئی قائل نہ تھے۔ پھر آپ اور سب دیوبندی ، سہارنپوری اس کے قائل کیوں ہوئے قائل ہی نہیں بلکہ اس کے ثبوت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔دیوبندیوں نے اور سہارنپوریوں نے اس کے متعلق متعدد رسالے شائع کرائے ہیں اور تبرائی وہابی امرتسری نے چند سال پیشتر اپنے اخبار میں متعدد مرتبہ اس کی اشاعت کرائی ہے۔
افسوس اس کفریات کے عقیدے آپ اور دیوبندیوں کے نزدیک رکھنااور اس کی اشاعت اور تبلیغ کرنا جائز ہے۔ اور فاتحہ مروجہ قرآن سورہ قل پڑھنا ناجائز اور واجب الترک ہے۔ فاالیٰ اللہ المشتکیٰ۔
سنی حضرات !!جو کوئی صفات مذمومہ میں سے کوئی صفت نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرے اس نے االلہ تعالیٰ کی توہین و تحقیر تذلیل کی وہ اسلام سے خارج ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں سے فتویٰ طلب کرنا ہرگز جائز نہیں ان مفتیوں کے اوپر اور ان کے عقیدے کی پیروی کرنے والوں پر بہت سے کفر کے فتوے موجود ہیں۔۱) مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے علما نے ان پر کفر کے فتویٰ دیئے ہیں جس کو جی چاہے ’حسام الحرمین‘ کو دیکھ لے ۔
ان مفتیوں نے اپنے فتوؤں میں گھریلو حکم جاری کیاہے۔ یہ فتویٰ بالکل بے اصل وبے سند ہے، ہرگز قابل عمل کے نہیں۔ (پتہ مولوی محمدابراہیم صاحب کتب فروش اہلِ سنت والجماعت محلہ سودا گران بریلی)۔
امام طحاوی نے حاشیہ درالمختار میں فرمایا جنت میںجانے والی جماعت آج کے دن ان چارمذہبوں میں مجتمع ہوگئی ہیں۔ وہ حنفی مالکی شافعی حنبلی ہیں جوکوئی ان چارمذہبوں سے اس وقت خارج ہے وہ بدعتی جہنمی ہے ۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے بدعتی کی نہ نماز قبول ہے نہ روزہ وغیرہ۔ حدیث دارقطنی میںآیا ہے بدعتی دوزخ کے کتے ہیں کیا دوزخی کتے کے پیچھے نماز جائز ہے۔ ہرگز نہیں۔ لہٰذا ان سنیوں کو لازم ہے کہ وہابی کوامام ہرگز نہ بنائیں  خواہ وہابی عقلی ہو یا اعتقادی، اعتقادی وہابی عملی وہابی سے بدتر ہیں۔ بدعتی فاسق کے پیچھے نماز مکرو تحریمی ہے فاسق اعتقادی بدترہیں ، فاسق عملی سے جتنی نمازیں اس وہابی کے پیچھے پڑھی گئی ہوں ان سب کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے اور اگر اس امام وہابی نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ  سورۂ قل پڑھنے سے انکار کیا العیاذ باللہ یا اس کو ناجائزکہا توجماعت کثیرہ کے سامنے توبہ اور اس کو دوبارہ کلمہ پڑھنا اس کو اگرنکاح ہو دوبارہ پڑھنا فرض ہے انکار کے بعد جتنے نمازیں اس کے پیچھے پڑھی گئی ہوں۔ ان کا دوبارہ پڑھنا فرض ہے کیوں کہ اس نے ایسی نفل اور مبا ح 
کوانکار کیا۔ جس کا ثبوت دلیل قطعی سے ہو، انکار کرے وہ کافر ہوجاتا ہے ۔ پہلی صورت میں اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی تھی۔ انکار کی صورت میں ان نمازوں کو دوبارہ پڑھنا فرض ہے۔امام تمرتاشی ذبح کے بارے میں کس کاذبح جائز اور کس کا ذبح ناجائز ۔ تنویر الابصار میں فرماتے ہیں۔ ولا جبری ابوہ سنی ، نہیں ذبح جائز جبری مذہب والے کا جس کا باپ سنی ہو۔ یعنی باپ ان چارمذہبوں میں سےکسی کا متبع اور مقلد تھا بیٹا یہ مذہب چھوڑ کر جبری ہوا۔اس کا ذبح جائز نہیں یہی حکم وہابیہ کا ہے جس کا باپ ان چار مذہبوں میں سے کسی مذہب کامتبع اور مقلد تھا ، بیٹا وہابی ہوا ۔ اس کا ذبح بھی جائز نہیں بلکہ ہربدعتی فرقے کا یہی حکم ہے۔ جن کا باپ ان چار مذہبوں میں سے کسی مذہب کا متبع اور مقلد تھا ۔ بیٹا یہ مذہب چھوڑااسی بدعتی فرقے میں مل گیا کیوں کہ اس وقت ان کی بدعت کفر تک پہنچ گئی۔ یہ اپنی زبان سے کافر بنتے رہتے ہیں مگر ہم ان کو کافر نہیں کہتے خصوصاً فرقہ تبرائی وہابیہ کا ان کا عقیدہ ہے کہ تقلید ائمہ اربعہ کی کفر اور شرک ہے۔ تقلید کرنے والا کافر اور مشرک ہے العیاذ باللہ تمام مسلمان اس طائفہ کے نزدیک کافراور مشرک ہے ۔کیوں کہ تمام دنیا کے مسلمان ائمہ اربعہ کے مقلد ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہی مقلدین ائمہ اربعہ مومن کامل اور مسلمان کامل ہیں ۔ان کو کافر کہنے والاخود کافرہوجاتاہے۔
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے اگرکوئی مسلمان کسی مسلمان کو کافر کہے اگر کفر اس میں ہے توخیر ، اگر اس میں کفر نہیں ہے تو یہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے یعنی کہنے والا کافر ہوجاتا ہے نبی کریمﷺ نے کفر اس تبرائی وہابیہ کی طرف لوٹا دیا ۔جو تقلید کو کفر شرک کہتا ہے اور اس کو نبی کریم ﷺ نےکافرفرمایا۔
امام محمد بن علاؤالدین حصکفی نے تنویرالابصار کے شرح درالمختار میں جبری کا ذبح ناجائز ہونے کی یوں وجہ بیان فرمائی۔
 یہ جبری سنت جماعت چارمذہبوں کے چھوڑنے سے جبری مذہب اختیار کرنے سے مرتد کی طرح ہوا۔ مرتد کا ذبح جائز نہیں گواہلِ کتاب یہودکا ذبح جائز ہے، کیوں کہ وہ مرتد نہیں یہ حکم وہابیہ کابھی ہے۔ جس کاباپ ان چارمذہبوں میں سے کسی مذہب کامقلد تھا سنت جماعت  (چارمذہب) چھوڑنے سے مرتد کی طرح ہوا۔ مرتد کا ذبح جائز نہیں۔ہاں اگر اس وہابی کا بیٹا ذبح کرے بشرطیکہ وہ تقلید ائمہ اربعہ کو کفر و شرک نہ کہتا ہو اور کسی ضروریات دین کاانکار نہ کرتا ہو وہ جائز ہے کیوں کہ وہ مرتد نہیں ہے ۔اپنے باپ کے مذہب پرہے۔ اہلِ کتاب کی طرح وہابی کے بیٹے کا بھی ذبح جائز ہے بشرطیکہ تقلید ائمہ اربعہ کو کفروشرک نہ کہتاہو اور مقلدین کو کافرمشرک نہ کہتا ہو اور کسی ضروریات دین کا انکار نہ کرتا ہو اگر اس کایہ عقیدہ ہے کہ تقلید کرنا ئمہ اربعہ کی کفر وشرک ہے اور تقلید کرنے والے العیاذ باللہ کافرمشرک ہے تو اس کا ذبح جائز نہیں مذکور بالاحدیث میں اس کو کافر قرار دیا ہے ۔ کافر کا ذبح جائز نہیں مذکورہ بالا جو کچھ لکھا گیا پڑھو سمجھو اور یاد رکھو تمہارے لیے بہتر ہوگا ورنہ یہ سب اندھے اور بہرے کے سامنے رونا اور بھینس کے سامنے بین بجانا ہے ۔ جب اس مضمون میں جنازے کی نماز کے متعلق کچھ باتیں ہوئیں لہٰذا میں تبرائی وہابی حضرات سے مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب کی فوراًطلب کررہا ہوں۔ ان سوالوں کے جوابوں کی اشد ضرورت ہے۔نماز جنازہ میں آپ لوگ تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں کو باندھتے ہو اگرباندھتے ہوتو کہاں پر نبی کریم ﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو اگر ہاتھوں کو چھوڑتے ہوتو یہ نبی کریم کے قول وفعل سے ثابت کرو دوسرے تکبیر میں رفع الیدین کرتے ہو یا نہ کرتے ہوتو نبی کریمﷺ کے قول و فعل سے ثابت کرو ۔ اگر نہیں کرتے ہو نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے نہ کرنا ثابت کرو اس پر قیاس کرکے تیسرے اور چوتھے تکبیر میں یہ سب جو کچھ کرتے ہو نبی کریم ﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو۔
نماز عیدین میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں کو باندھتے ہو یا 
چھوڑتے ہو اگر باندھتے ہوتو کہاں پر باندھتے ہو نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو تکبیرات زوائد میں جب رفع الیدین کرتے ہو پھر ہاتھوں کو باندھتے ہویاچھوڑتے ہو اگر باندھتے ہوتو کہاں پر باندھتے ہو نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو اگر چھوڑتے ہوتو بھی نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو، مذکورہ بالا دونوں نمازوں میں تم یہ سب ضرور کرتے ہو۔ اگر نبی کریم ﷺ کاقول وفعل پیش نہیں کیا۔ توتمہارے نزدیک یہ سب ناجائز حرام بدعت شنیع واجب الترک ہےان چیزوں کو کرنے والا بدعتی ہے بدعتی کی نم نماز مقبول ہے نہ روزہ نہ حج نہ فرض نہ نفل۔ لہٰذا گزارش ہے نبی کریمﷺ کا قول یافعل ضرور پیش کرکے اپنے تبرائی حضرات کوممنون ومشکور فرمائے گا۔ گلابی اورر تبرائی حضرات دونوں مل کر جواب فوراً دیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے کا حکم دیا اور نبی کریمﷺ  نے قرآن پڑھنے کا حکم دیا۔ سورۂ فاتحہ سورۂ قل عین قرآن ہے۔ کوئی مسلمان اس کا انکارنہیں کرسکتا۔اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حکم کی تعمیل کرنا فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل پڑھنا تمہارے نزدیک رسم ورواج ٹھہرا۔ تمہارے نزدیک عبادت کیا چیز ہے؟۔رسم کی تعریف جامع اور مانع کیجیے اور عبادت کی تعریف جامع اور مانع کیجیے۔ گلابی گلابیوں پر اور تبرائی تبرائیوں پراحسان کر کے ان کو شکریہ ادا کرنے کا موقع دیجیے۔
تنبیہ :۔ دلائل شرعی کے ساتھ فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل کو العیاذ باللہ ناجائز ثابت کرنے پر ہرگز قادر نہ ہوگا۔ خواہ گلابی ہو یا تبرائی ، غدودی ہو یا مردودی، بہائی ہو یا مودودی ، نیچری ہو چکڑالوی،خاکساری ہو بروزی۔
ان کی زبانی بکواس کوگوزِ شتر سمجھ کر ردی کے ٹوکرے میںدفن کر دو ۔ وہابیہ کہتے ہیں اس وقت کے مفتیوں کو مفتیٔ مجازی اور ناقل کہنا ان کی توہین ، تحقیروتذلیل ہے۔ اس جہالت کا کیا علاج ان بے بصروں کو معلوم نہیں کہ مفتی حقیقی کس کو کہتے ہیں اور مفتیِ مجازی کس کو کہتے ہیں۔ نہ یہ لوگ ان لفظوں کوکبھی سنا ہے ۔ان بےخبروں کو لازم تھا کہ کسی جاننے والے سے اس کی تحقیق کریں پھر اپنی جہالت کو جاہلوں میں ظاہر کریں ان کی جہالت ان پر ماتم کرتی ہے اور اس پر ہنسی اور مذاق اڑاتی ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیںجوکسی چیز کو سمجھنے جاننے کے بغیر اس کے خرافات بکتے ہیں۔
صدہا سال گزر گیے مفتی حقیقی دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اس کے لیے شرط ہے ۔ شرط نہ ہونے سے مشروط بھی نہیں ہوتا۔ اس وقت مفتیوں کو مجازی ناقل کہنا اظہارِ حق ہے۔ گالی اور توہین تحقیر نہیں ہے مگر یہ نادان حق کو ناحق ، حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھ گیے ،ایسے لوگ خرد کو جنون، جنون کو خرد سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ انہوں نے ناقل کو ناقابل سمجھے اگر کسی نااہل کاتب صاحب نے ایسا لکھ بھی دیا ہو سمجھ دار آدمی یہی کہے گا یہ کاتب صاحب کی غلطی ہے کیو ں کہ لفطا مجازاور لفط مفتی اور طلب کتاب قرینہ موجود ہے۔ ناقابل کو مفتی کون کہے گااورناقابل سے طلب کتاب کون کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا یہ لوگ بے مغزپوست ہیں ۔ بلکہ پوست برپوست ہم چوں ۔۔۔ہیں گلابی کہتے ہیں کہ ہم وہابی نہیں۔ کیا وہابی کو سینگ ہوتے ہیں یا دم ۔ جس سے پہچانا جائے۔ سینگ اور دم کسی میں نہیں یہ صرف اعتقاد سے معلوم ہوتے ہیں ۔ سنیوں کے خلاف تبرائی اور گلابی ہردو نے بہت سارے رسالے لکھے ہیں۔ ان کو دیکھ کر آپ کو یقین آ جائے گا۔ دور مت جایئے مولوی کفایت اللہ کے رسالوں کو دیکھ لیجئے گا۔ آپ کو معلوم ہو جائے کہ کہیں تیتر بنے کہیں بیٹر گلابی۔ وہابی مقلدیت اور حنفیت کے پردے میں وہابیت کی اشاعت کرتے ہیں ۔ یہ گندم نما جوفروش ہیں۔ عوام ان کی چال چلن پر جلدی واقف نہیں ہوتے۔ گلابی قرآن و حدیث سے استدلال کرتے ہیں ۔ آپ نے یہ بڑاغضب کیا ۔ آپ کو یہ معلوم نہیں ہے۔
ہرایک باطل فرقے نے اپنے زعم باطل سے قرآن 
حدیث سے استدلال کرنے کی کوشش کی مثلا مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اپنے زعم باطل سے قرآن وحدیث سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی جاہلوں کی ایک جماعت اس کے تابع ہوگئی۔ تبرائی وہابیوں نے تقلید ائمہ اربعہ کو کفر وشرک کہا ہے ۔ انہوں نے بھی اپنے زعم باطل سے قرآن حدیث سےا س دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ جاہلوں کی ایک جماعت ان کے تابع ہوگئی۔ تبرائی اور گلابی دونوں نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے کواورجنازے کے بعد کی دعا کرنے کو ناجائز ، حرام، بدعت شنیع کہا۔ انہوں نے بھی اپنے زعم باطل سے قرآن حدیث سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جاہلوں کی ایک جماعت ان کے تابع ہو گئی گلابی اور تبرائی دونوں نے فاتحہ مروجہ، سورۂ فاتحہ، سورۂ قل پڑھنے کو اور جنازے کے بعد کی دعا کرنے کو ناجائز حرام بدعت شنیع کہا ۔ انہوں نے بھی اپنے زعم باطل کوقرآن حدیث سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ جاہلوں کی ایک جماعت ان کے تابع ہوگی۔
سنی علما نے الحمداللہ ان کے دعوؤں کو ان کے دلیلوں کے پرخچے اڑادیئے ہیں۔ ہبا منثوراً کردیا سنی علما نے۔ بکثرت ان کی تردید میں رسالے لکھے ہیں۔ ہر سنی مسلمان کو لازم ہے کہ ان رسالوں کو منگائےاورپڑھے اورسمجھے اپنے ایمان کو مضبوط بنائے۔ وہابیہ اپنے اصول کے اعتبار سے جس میں کسی قسم سے تخصیص نہیں۔ہمیشہ بدعت ہی کے اندر رہیں گے اپنے آپ کو بدعتی ہی کہلائیں گے۔ خواہ دنیاکے ترقی کے گدھے کے اوپر سوار ہو یادنیا کے ذلت کے کیچڑ میں مبتلا ہو۔اس سے ان کو ہرگز نجات نہ ہوگی ۔ بعض ۔۔۔جہلا جو استنجا کرنے سے واقف نہیں مروجہ قرآن سوۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے سے انکار کرتے ہیں العیاذ باللہ ان کے پڑھنے کوناجائز کہتے ہیں ۔ یہ سب کفر ہے ۔ اللہ اور رسولﷺ کے حکم کے خلاف ہے۔ نبی کریمﷺ نے فاتحہ بہتر فرمایا۔کیوں کہ فاتحہ مروجہ قرآن ہی تو ہے ’’خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ‘‘ ان بے علم جہلا کو اس کفر سے بچانے کی غرض سے اور حصولِ ثواب کے لیے عبدالرحیم صاحب تاجر ابریشم مقیم ماب ہلی نے اس رسالہ کو طبع کراکر شائع کیا۔ امید ہے یہ بے علم جاہل اس کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد اپنے عقیدہ فاسد کفریہ سے تائب ہو کر یہ کہ سنی مسلمان بن جائیں گے جب مذکورہ بالامفتیوں کے پاس فاتحہ کے ناجائز ہونے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ۔ انہوں نے خانہ سازی فتویٰ جاری کرکے جاہلوں کو گمراہ کیاجاہلوں اور بے علموں کے پاس کیا ثبوت ہوگا۔ اگر یہ ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہیں یہ بھی تبرائی وہابیوں کی طرح مسلمانوں کے درمیان تفریق اور فساد ڈالنے کے سبب مسلمانوں کے نزدیک ہمیشہ ذلیل وخوار رہیں گے۔ہمارے اوپرلازم تھا یہ احکام ان کے پاس پہنچانا وہ ہم پہنچادیئے۔آئندہ ان کو اختیار ہے۔
مالک مطبع اور کاتب صاحب کی غفلت سے اس میں بہت سی عبارتیں چھوٹ گئی بعض جگہ میں غلط عبارت لکھی گئی بلکہ بعض جگہوں میں مستقل مضمون چھوٹ گیا۔ لہٰذا ہم نے اخیر صفحہ پر لکھ دیا ۔قارئین اس کو بھی پڑھیں ہم سنیوں کے نزدیک دعا کرنا ہر وقت مباح اور جائز ہے نمازوں کے بعد دعا کرنا سنت اور مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دعا کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے دعا کرنے کے لیے حکم دیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کے بہت سے فضائل بیان فرمائے ہیں، نبی کریمﷺ نے دعا کو اصلی عبادت قرار دیاہے۔
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے جوکوئی عبادت اور نماز کے بعد دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے ۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ حی و کریم ہے۔ شرم رکھتا ہے اس بندہ سے جو اس کی طرف ہاتھ اٹھاکر آجائے تواس کے ہاتھوں کو خالی کرے ۔آداب دعا یہ ہے دعا کے اندر ہاتھ اٹھانا جتنی ضرورت زیادہ رہی اتنے زیادہ دراز کرنا یہاں تک کہ اگر بیچ میں پردہ نہ ہوتو بغلوں کی سفیدی نظرآ جائے۔ورنہ ہاتھوں کو اونچا کرنا اور سینہ کے مقابلے میں رکھنا ۔ہم سنیوں کے نزدیک دعا کرنا اجتماعاً اور انفراداً دونوں طریقے سے جائز ہے ۔ جماعت کے ساتھ دعا کرنا بہتر ہے سبب یہ کہ بعض لوگ جو نیک اور صالح ہوتے ہیں ان کی 
دعا مقبول ہوتی ہے۔ ان کے وسیلے سے دوسروں کی دعا بھی قبول ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ حضور نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کے لیے اعلان فرمائے اس وقت حضورﷺ نے اپنے اہل وعیال کو ساتھ نکالے ۔حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین رضوان اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ نے ۔ان کو فرمایامیں دعا کروں تو تم سب آمین ، آمین کہنا۔ امام جب قوم کے ساتھ دعا مانگے امام کو لازم ہے۔ ضمیر ماضی جمع متکلم کی صیغے کا استعمال کرے اورقوم کو لازم ہےکہ آمین آمین کرتے رہیں ۔ دعا کے وقت میں اپنے مظالم، مصیبت کو ذکر نہ کریں اللہ تعالیٰ سے اپنے دینی دنیوی ترقی و بہتری کے لیے درخواست کریں۔ یہ کتب سنیہ میں موجود ہے، زیادہ لکھنے کی یہاں حاجت نہیں ، وہابیہ کے نزدیک فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنا ناجائز ہے۔
نبی کریمﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام اور اجتماع کے ساتھ اس کا پڑھنا ثابت نہیں، وہابیہ کے نزدیک امام کا دعا مانگنا مقتدیوں کا آمین کہنا نبی کریم ﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ ثابت نہیں۔
سوال: کیا نبی کریمﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تھے مقتدیوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ دعا مانگتے تھے۔ مقتدی آمین آمین کہتے تھے، اس کو ثابت کرو ور نہ تمہارے نزدیک امام کا دعا مانگنا اور مقتدیوں کا آمین آمین کرنا ناجائز حرام بدعت شنیع واجب الترک ہے۔ ہرہر جگہ وہابی خواہ تبرائی ہو یا گلابی امام کے ساتھ نماز کے بعد دعا کرتے ہیں۔ خصوصاً نماز عصر اور صبح کے بعد امام دعا مانگتے ہیں یہ لوگ آمین آمین کرتے ہیں۔ اپنے اصول کے اعتبار سے اس کو حرام بدعت شنیع بھی کہتے ہیں۔ اور یہ وہابی اس کوالتزم اجتماع کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ گلابی اور تبرائی یہ سب مل کر اپنے عقل پر ماتم کریں جس کو یہ حرام کہتے ہیں اسی کو یہ کرتے بھی ہیں۔
مندرجہ بالا مضمون رسالہ کی صورت میں ۱۳۶۳؁ھ میں شائع ہوا تھا اور جناب کفایت اللہ صاحب کی خدمت میں پہنچا مگر ان سے جواب نہ بن سکا۔
مکروہاتِ وضو

مکروہاتِ وضو

مکروہاتِ وضو

وَمَكْرُوهُهُ: لَطْمُ الْوَجْهِ ،أَوْ غَيْرِهِ (بِالْمَاءِ) تَنْزِيهًا (درمختار)
اور مکروہ تنزیہی ہے، چہرہ وغیرہ پر پانی کوزور سے مارنا والتکیۃ والاسراف اور مکروہ ہے پانی میں کمی کرنا اورزیادتی کرنا ۔کمی کی صورت یہ ہے کہ اعضا کو دھونے میں تیل کی طرح پانی چپڑے بلکہ اچھی طرح اعضا پر تین بار پانی کو جاری کرے۔ ومنہ الزیادۃ علی الثلاثہ اور اسراف سے ہے ۔ تین بار سےزیادہ دھونا لیکن تسکین دل یا وضو پروضو کے قصد سے زیادتی درست ہے۔چنانچہ مذکور ہوچکا۔ اصل میں مذکور ہے۔
ادب یہ ہے کہ پانی میں اسراف نہ کرے اور کمی بھی نہ کرے۔ خلاصہ اس صورت میں یہ ہے کہ جب پانی کانہر ہو یا اپنی ملک کا ہو اگرایسے پانی سے وضو کرے جو طہارت کرنے والوں پر وقف ہوتو پانی صرف کرنے میں زیادتی اوراسراف کرنا حرام ہے۔ کسی کا اس میں اختلاف نہیں (بحرالرائق)
بخاری شریف اورمسلم شریف کی حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک مُد سے وضو فرماتے تھے اور ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور بعض روایات میں کم وبیش بھی آیا ہے۔ صاع چار مدکا ہوتا ہے اور مد دورتل کااور رتل بیس امتار کا اور ہرامتار ساڑھے چار مثقال کا ۔ اور مدااورمن شرعی ایک ہی چیز ہے۔
رسول اللہﷺ خود پانی وضوکاکم خرچ کرتے تھے اور بہت پانی خرچ کرنے سے منع فرماتے تھے۔اور فرماتے تھے میری امت میں وہ لوگ پیدا ہوں گے جو وضو کے پانی میں تعدی اور تجاوزحدسے کریں گے۔ یعنی زیادہ پانی وضو میں خرچ کریں گے ۔اور فرماتے تھے کہ وضو کاایک شیطان ہے ،اس کا نام ولہان ہے پانی کا وسوسہ اس سے ہوتا ہے۔متوضی کے دل میں زیادہ پانی خرچ کرنے کا وسوسہ ڈالتا ہے اس سے پرہیز کرو (شرح سفر السعادت) ۔
اور ہر مثقال ساڑھے چار ماشے کاہوتا ہے،تو مد اور من شہر لکھنو کے سیر کے حساب سے تخمیناً تین پاؤ پختہ ہوا۔اس واسطےکہ لکھنو کا پختہ سیرچھیانوے روپیہ ہے اور ہرروپیہ گیارہ ماشے کا ہے۔ صاع جس سے غسل سنت ہے تین سیر پختہ قدرے زائد ہوا ہم لوگوں کو عادت ہوگئی پانی زیادہ خرچ کرنے کی لہذا اکثر لوگ اس قدر پانی خرچ کرنے میں حیران ہوتے ہیں۔ اگر تنگ ٹوٹی 
کے لوٹے سے باحتیاط وضو کریں اس طرح کہ بدن پرپانی گرے چند قطروں کے سوا زمین پر بے فائدہ نہ گرے تو تین پاؤ پانی سے بخوبی وضو ہو سکتا ہے ، اس کا ضرور اہتمام کرنا چاہئے کہ سنت پر عمل کرنے کا ثواب حاصل ہواوراسراف مکروہ سے پرہیز کریںاور ایک مدپانی کے مقدار سے کم نہ کریں(تبیین)
 تَحْرِيمًا وَلَوْ بِمَاءِ النَّهْرِ، وَالْمَمْلُوكِ لَهُ (درمختار)
پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے۔ اگر نہر کے پاس یا اپنے مملوک پانی سے وضو ہو۔
. أَمَّا الْمَوْقُوفُ عَلَى مَنْ يَتَطَهَّرُ بِهِ، وَمِنْهُ مَاءُ الْمَدَارِسِ، فَحَرَامٌ
 (درالمختار)
اور وہ پانی جو طہارت کرنے والوں پروقف کیا گیا اوروقف کئے قسم سے ہے ، مدرسوں کا پانی تو اس میں اسراف کرنا حرام ہے( بالاتفاق)
وَتَثْلِيثُ الْمَسْحِ بِمَاءٍ جَدِيدٍ (درالمختار)ا ور مکروہ ہے تین بارمسح کرنا۔نئے تین پانیوں سے ۔وَمِنْ مَنْهِيَّاتِهِ: التَّوَضُّؤُ بِفَضْلِ مَاءِ الْمَرْأَةِ 
اور وضو کرنا ، ممنوعات سے ہے اور مکروہ ہے ، عورت کے وضو یاغسل کے باقی بچے ہوئے پانی سے۔ اس واسطے کہ شاید اس سے مرد کو کچھ تلذذ حاصل ہو یا یہ وجہ ہے کہ اکثر عورتوں کو نجاست سے محافظت کم ہوتی ہے اورکراہیت تنزیہی پردلالت کرتا ہے (طحطاوی)۔
وَفِي مَوْضِعٍ نَجِسٍ؛ لِأَنَّ لِمَاءِ الْوُضُوءِ حُرْمَةً،(درالمختار)اور مکروہ ہے وضوکرناناپاک جگہ میں۔ اس لیے کہ وضو کے پانی کی کچھ عزت ہے اور یہ بھی وجہ ہے کہ وہاں نجاست کے چھینٹوں کے پڑنے کا خوف ہے (طحطاوی)
 أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، إلَّا فِي إنَاءٍ (درالمختار)
مکروہ ہے وضو کرنا مسجد کے اندر۔ مگر مسجد میں برتن کے اندر وضو کرنا جائز ہے، بشرطیکہ مستعمل پانی مسجد میں نہ گرے۔
أَوْ فِي مَوْضِعٍ أُعِدَّ لِذَلِكَ،  (درالمختار) 
وضو جائز ہے مسجد کے اس مکان میں جو وضو کرنے کو بنایا گیا ہے۔چنانچہ اس ملک میں مسجد کے لب فراش وضو کے واسطے بناتے ہیں۔
وَإِلْقَاءُ النُّخَامَةِ، وَالِامْتِخَاطُ فِي الْمَاءِ.(درالمختار)
مکروہ ہے تھوکنا ، جھاڑنا ۔ اگر چہ پانی جاری ہو یہ کراہت تنزیہی ہے۔ اس واسطے کہ ان کے ترک کرنے کو مستحبات میں شمار کیا ہے۔مسئلہ: مکروہ ہے بائیں ہاتھ سے کلی کرنااور ناک میں پانی ڈالنا۔ مسئلہ : مکروہ ہے داہنے ہاتھ سے ناک جھاڑنا بغیر عذر ( خزانۃ الفقہ) مسئلہ:اور مکروہ ہے کہ کسی ایک برتن کو وضو کے لیے خاص کرلے اس برتن سے سوا اس کے اور کوئی وضو نہ کرے جیسے یہ مکروہ ہے کہ مسجد میں کوئی جگہ اپنی نمازکے واسطے خاص کرے(وجیز)
مسئلہ: اورمکروہ ہے اعضا وضو سے لوٹے وغیرہ میں قطرہ ٹپکانا۔ مسئلہ اور مکروہ ہے قبلہ کی طرف تھوک یا کھنکار یا کلی کا پانی ڈالنا۔ مسئلہ:اور مکروہ ہے بے ضرورت دنیا کی باتیں کرنا۔ مسئلہ: اور مکروہ ہے اتنا پانی کم خرچ کرنا کہ سنت ادا نہ ہو۔ مسئلہ: اور مکروہ ہے ایک ہاتھ سے منہ دھونا کہ رفاض اور ہنود کا شعار ہے، مسئلہ:اورمکروہ ہے منہ پر ڈالتے وقت پھونکنا۔
 وضوکے متفرق مسائل

وضوکے متفرق مسائل

وضوکے متفرق مسائل

 اعلیٰ حضرت سیدمقبول احمدشاہ قادری فاضل کشمیری؄  
مسئلہ اگروضونہ ہوتو نمازاورسجدہ تلاوت اورنماز جنازہ اور قرآن مجید کے چھونے کے لیے وضوکرنا فرض ہے ۔مسئلہ: طوف کے لیےوضوواجب ہے۔مسئلہ: غسل جنابت سے پہلے جنبی کو کھانے پینے اورسونے اور اذان واقامت وخطبہ جمعہ اور عیدین اور روضۂ مبارک حضرت رسول اللہ ﷺ کی زیارت اور وقوف عرفہ اور صفا مروہ کے درمیان سعی کے لیے وضو کرناسنت ہے۔ مسئلہ: سونے کے لیے اورسونے کے بعد میت کو نہلانے یا اٹھانے کے بعد عورت کے صحبت کرنے سے پہلے اورجب غصہ آجائے اس وقت اور قرآن عظیم پڑھنے کے لیے حدیث اورعلم دین پڑھنے پڑھانے کے لیےاورباقی خطبوں کے لیے اور کتب دینیہ چھونے کے لیے اوربعد سترغلیظ چھونے ، جھوٹ بولنے، گالی دینے اور فحش لفظ، غیبت کرنے کے بعد وضو کرنا مستحب ہے۔ صلیب یا بت اورکوئی سفید داغ والے کو چھونے کے بعد اور بغل کھجلانے سے جبکہ اس میں بدبو ہو غیبت کرنے کے بعد قہقہہ لگانے کے بعد لغو اشعار پڑھنے کے بعد، اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ،کسی عورت کے بدن سے اپنا بدن بے حائل چھونے کے بعد،
 باوضو شخص کو ہرنماز کے لیے اورکافرکے بدن چھونے کے بعد،اگرچہ زبان سے کلمہ طیب پڑھتا ہواپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو جیسے قادیانی غلام احمدکے پیرو، (غلام احمد نے دعوی کیا کہ میں نبی اور رسول ہوں۔اپنی کتاب کو کتاب الٰہی  کہلوایااورحضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی، ان کی تین دادیاں اور تین نانیاں زانیہ بتائی معاذاللہ۔اپنے آپ کو حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے بہتربتایا۔چنانچہ کہا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمدہے۔ بہت سے انبیا کی پیشگوئیوں کو جھوٹی بتلایا۔ خاتم النبین میں استثنا کی وغیرہ ۔کفریات ملعونہ یا چکڑالوی یہ ایک نیا طائفہ ملعونہ حادث ہوا۔ نبی کریمﷺ کی پیروی سے منکرہے
 تمام احادیث نبویہ کو باطل ناقابل اعتباربتاتا ہے۔ صرف قرآنِ عظیم کی اتباع کا دعویٰ کرتا ہے۔ ان خبیثوں نے اپنی نماز بھی علاحدہ گھڑ دی ہے جس میں ہروقت کی صرف دو ہی رکعتیں ہیں۔یانیچری یہ باطل طائفہ ضروریات دین کا منکر ہے قرآن عظیم کے معنی قطعیہ ضروریہ میں درپردہ تاویل وتحریف تبدیل کرتا۔ وجودملائکہ ، جن وشیاطین، آسمان وحشر،ابدان ونار و جنان ومعجزاتِ انبیاء علیہم السلام کے ان ہی ملعون تاویلوں کی آڑ میںانکار رکھتا ہے۔
 یا آجکل کے تبرائی ورافضی یہ ملا عند صراحتاً قرآنِ عظیم کو ناقص بتاتے اورمولیٰ علی وجہہ الکریم کو اورائمہ اطہار کو انبیا و سابقین سے بہترٹھہراتے ہیں یاکذابی، یہ ملعون طائفہ اللہ تعالیٰ کو بالفعل جھوٹا بتاتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ وقع کذب کے معنی درست ہوگئے۔بہائی یہ گروہ لعین ہرپاگل اور چوپائے کے لیے علم غیب مان کرکہتا ہے کہ جیسا علم حضرت رسول اللہﷺ کوہے ایسا تو ہرپاگل اورجانور کو ہوتاہے ۔ اس شیطانی گروہ کے نزدیک ابلیس لعین کا علم رسول اللہ ﷺ کے وسعت علم کو باطل اور بے ثبوت مانتا ہےاور ان کے لیے وسعت علمی ماننے کو شرک بتاتا ہے۔ مگر ابلیس کی وسعت علم میں خدا کا شریک جانتا ہے ۔خواتمی یہ شقی گروہ رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے پرصاف منکر ہےاور خاتم النبین کے معنی میں تحریف کرتا ہے۔ بمعنیٰ آخرنبی لینے کو خیال جہال بتلاتا ہے یارسول اللہ ﷺکے چھ یا سات مثل موجود 
مانتاہے۔غیرمقلد بدبخت طائفہ تقلید ائمہ اربعہ کو کفر وشرک بتاتاہے حالانکہ تقلید کرنے کا حکم اللہ اوررسول اللہ ﷺکا ہے۔اس طائفہ ملعونہ نے خدا اوررسولﷺ کو بھی کافرمشرک کہا ہے۔کیوںکہ کفروشرک کے لیے حکم دینا، کفروشرک پر راضی رہنا بھی کفرہے ۔ جھوٹے متصوف کے حلول واتحاد کے قائل شریعت مطہرہ کے صراحتاً منکر ومبطل ہیں۔ان دس طائفوں اور ان کے امثال سے مصافحہ کرنا تو خود ہی حرام قطعی گناہ کبیرہ ہے۔)اگر بلا قصد بھی ان کے بدن کو چھو جائے تووضو کا دوبارہ کرنا مستحب ہے۔مذکور بالا فریق منقول ہوئے۔ (از فتاوی رضویہ ) ان دس فریق میں سے یہ چار یعنی کذابی، بہائی، شیطانی خواتمی، دیوبندی، وہابیوں کے ہیں۔اگر کسی کو اس کی تفصیل دیکھنا منظور ہوتو حسام الحرمین دیکھ لیں جس کا اردو ترجمہ ہوچکا ہے۔
مسئلہ جب وضو جاتارہے  پھروضوکرنامستحب ہے۔ مسئلہ: نابالغ پروضوکرنا فرض نہیں۔ مگر ان سے وضوکرانا تاکہ عادت ہو اور وضو کرنا آجائے اور مسائل وضو سے آگاہ ہوجائے، مسئلہ:کوئی ٹوٹی (نل کی) نئے سے تنگ ہوکہ پانی بدقت گرے نہ اتنا فراخ کہ حاجت سے زیادہ پانی گرے بلکہ متوسط ہو۔ مسئلہ: چلو میں پانی لیتے وقت خیال رکھیں کہ پانی زیادہ نہ گرےکہ اسراف ہوگا مثلاً ناک میں پانی ڈالنے کے لیے آدھا چلوکافی ہے تو پورا چلو نہ لے کہ اسراف ہوگا، مثلاً ہاتھ، پاؤں، سینہ اور پشت پر بال ہوں تو ہرتال وغیرہ سےصاف کرڈالیں یاتراش ڈالیں نہیں توپانی زیادہ خرچ ہوگا۔
 ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرنا

ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں علمائے دین کہ ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرناجائز ہے یانہیں۔؟

سیدآغامحمدولدسیدحاجی گل محمد ۔ بھنڈی واڑی بیس محلہ، ہبلی


الجواب: 
روایت ہے ایک صاحب مسجد میں حاضرہوئے اس وقت کہ رسول اللہ ﷺنماز پڑھ چکے تھے ۔فرمایا ہے کوئی کہ اس پرصدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے کہ اسے جماعت کاثواب مل جایے ایک صاحب یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ نمازپڑھی۔(ابوداؤدوترمذی)
مسئلہ ہئیت مسجدمحلہ میں جس کے لیے امام مقرر ہوامام محلہ نے اذان واقامت کے ساتھ اولیٰ پردوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے اور اگر بے اذان جماعت ثانیہ ہوئی تو حرج نہیں جبکہ محراب سے ہٹ کردائیں بائین ہو، ہئیت بدلنے کے لیے امام کا محراب سے دائیں یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا ۔ کافی ہے شارع عام کی مسجد جس میں لوگ جوق درجوق آتے اورپڑھ کر چلے جاتے ہیں یعنی اس کے نماز ی مقرر نہ ہوں اس میں اگرچہ اذاں واقامت کے ساتھ نماز قائم کی جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان واقامت سے جماعت کرے یونہی اسٹیشن وسرائے کے مسجدمیں۔ (درالمختار، ردالمختار وغیرہما)
(اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری علیہ الرحمہ)

ایثار نفس

ایثار نفس



ایثار نفس
حضرت عمر سالانہ وظیفہ پانچ ہزار درہم تھا ۔ اس حساب  سے حضرت عثمان غنی نے اپنے دوازدہ سالہ مدــت ِخلافت
ساٹھ ہازر درہم کی گرانقدر رقم مسلمانوں کےلئے چھوڑدی جو در حقیقت ایثار نفس کا نمونہ ہے٭



ایثار نفس

ایثار نفس

ایثار نفس
حضرت عمر سالانہ وظیفہ پانچ ہزار درہم تھا ۔ اس حساب  سے حضرت عثمان غنی نے اپنے دوازدہ سالہ مدــت ِخلافت
ساٹھ ہازر درہم کی گرانقدر رقم مسلمانوں کےلئے چھوڑدی جو در حقیقت ایثار نفس کا نمونہ ہے٭ 
ہمدردی

ہمدردی




ہمدردی


18ٰ؁ھ میں جب عرب میںقحط پڑا اس وقت حضرت عمر فاروق کی بیقراری قا بل دید تھی۔دور دراز ملکوں سے غلّہ منگوا کر تقسیم کیا۔گوشت ،گھی اور دوسرے مرغوب غذائیں ترک کردیں۔اپنے لڑکے کے ہاتھ میں خربوزہ دیکھکر خفہ ہوئے کہ قوم فاقہ مست ہے ۔اور تو تفکہات سے لطف اٹھاتا ہے۔ غرض جب تک قحط رہا۔ حضرت عمر فاروق نے ہر قسم کے عیش و لطف سے اجتناب رکھا۔ ٭٭٭

فقہ کا مسئلہ بھی در حقیقت حضرت عمر فاروق ہی کا ساختہ و پرداختہ ہے۔ ان سے اس قدر فقہی مسا ئل منقول ہیں، کہ اگر جمع کئے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے۔ استباط احکام اور تفریع مسائل کے لئے بھی انہوں نے ایک شاہراہ قائم کر دی تھی ۔ مختلف فیہ مسائل طے کرنے کے لئے ، اجماع صحا بہ جس کثرت سے حضرت عمر فاروق عادل کے عہد میںہوا ، پھر نہیں ہوا۔ ٭٭٭

تجارت

تجارت



تجارت
حضرت ابو بکر صدیق کا اصذریعہ معاش تجارت تھی ۔ فرماتے ہیں، میں قریش میں سب سے بڑا اور متمول تھا ۔ وہد اسلام میںبھی یہی مشغلہ جاری را، اور مال تجارت لیکر دور دراز ممالک کا سفر اختیر فرمایا ۔ چنانچہ انحضرت ﷺکی وفات سے ایک سال پہلے تجارت کے خیال سے بصرہ تشریف لے گئےتھے۔



تجارت

تجارت

تجارت
حضرت ابو بکر صدیق کا اصذریعہ معاش تجارت تھی ۔ فرماتے ہیں، میں قریش میں سب سے بڑا اور متمول تھا ۔ وہد اسلام میںبھی یہی مشغلہ جاری را، اور مال تجارت لیکر دور دراز ممالک کا سفر اختیر فرمایا ۔ چنانچہ انحضرت ﷺکی وفات سے ایک سال پہلے تجارت کے خیال سے بصرہ تشریف لے گئےتھے۔ 
ہمدردی

ہمدردی

ہمدردی
18ٰ؁ھ میں جب عرب میںقحط پڑا اس وقت حضرت عمر فاروق کی بیقراری قا بل دید تھی۔دور دراز ملکوں سے غلّہ منگوا کر تقسیم کیا۔گوشت ،گھی اور دوسرے مرغوب غذائیں ترک کردیں۔اپنے لڑکے کے ہاتھ میں خربوزہ دیکھکر خفہ ہوئے کہ قوم فاقہ مست ہے ۔اور تو تفکہات سے لطف اٹھاتا ہے۔ غرض جب تک قحط رہا۔ حضرت عمر فاروق نے ہر قسم کے عیش و لطف سے اجتناب رکھا۔ ٭٭٭
فقہ کا مسئلہ بھی در حقیقت حضرت عمر فاروق ہی کا ساختہ و پرداختہ ہے۔ ان سے اس قدر فقہی مسا ئل منقول ہیں، کہ اگر جمع کئے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکتی ہے۔ استباط احکام اور تفریع مسائل کے لئے بھی انہوں نے ایک شاہراہ قائم کر دی تھی ۔ مختلف فیہ مسائل طے کرنے کے لئے ، اجماع صحا بہ جس کثرت سے حضرت عمر فاروق عادل کے عہد میںہوا ، پھر نہیں ہوا۔ ٭٭٭ 
سیرالصحابہ

سیرالصحابہ



                      حب رسولﷺ اور اتباع سنت
تہذیب نفس اور اخلاق جمیدہ سے مزین ہونے کے لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے دل میںمبدء خلق عظیم یعنی رسول اکرمﷺکی خالص محبت اور اتباع سنت کا صحیح جزبہ پیدا کرے ، جو دل رسول اکرم ﷺ کی محبت سے خالی اور جو قدم اسوہءحسنہ کے جادہء مستقیم سے منحرف ہے ، وہ کبھی سعادت کونین کی نعمت سے متمتع نہیں ہو سکتا، ایک دفعہ حضرت عمر نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ اپنی جان کے سوا حضور ﷺ تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، ارشاد ہوا،عمر! میری محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہونا چا ہئے ۔حضرت عمر نے کہا ، اب حضور اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں ۔ آپ جمال نبوت کے سچے شیدائی تھے ان کو اس راہ میں جان ،مال، اولاد، عزیز و اقارب کی قربانی سے بھی دریغ نہ تھا ۔ معرکہء بدر میں خود ان کے ہاتھ سے مارا گیا۔



 اسی طرح آنحضرت ﷺ نے ازواج مطہراتسے ناراض ہو کر علٰحدگی اختیار کرلی، تو حضرت عمر نے یہ خبر سن کر حاضرخدمت ہونا چا ہا۔جب بار بار اذن طلب کرنے پر بھی اجازت نہ ملی تو پکار کر کہا۔ خدا کی قسم میںحفصہ کی سفارش کے لئے نہیں آیا ہوں، اگر رسول اللہﷺحکم دیں تو اس کی گردن ماردوں۔ حضورﷺ کے ساتھ حضرت عمر ککی محبت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ
حضورﷺ نے وفات پائی تو، ان کو کسی طرح یقین نہیں آتا تھا۔مسجد نبو ی میں حالت وارفتگی میں قسمیں کھا کھا کر اعلان کرتے تھے، کہ جس کی زبان سے نکلےگا کہ میرا محبوب آقاﷺدنیا سے اٹھ گیا ۔ اس کا سر اڑا دونگا۔ آپ کے وسال کے بعد جب کبھی عہد مبارک یاد آجاتاتو رقت طاری ہو جاتی،اور روتے روتے بیتاب ہوجاتے۔ ایک دفعہ سفر شام کے موقع پر حضرت بلال نے مسجد اقصیٰ میں اذان دی توحضرت رسول اللہ ﷺ ککی یاد تازہ ہوگئی، اور اس قدر روئے کہ ہچکی بند ہوگئی۔٭٭٭


       یہ فطری امر ہے۔ محبوب کا عزیز بھی عزیز ہوتا ہے، اس بنا پر جن لوگوں کو آنحضرت ﷺ اپنی زندگی میں عزیز رکھتے تھے ، حضرت عمر نے اپنے ایام خلافت میںان کا خاص خیال رکھا




سیرالصحابہ

سیرالصحابہ

                      حب رسولﷺ اور اتباع سنت 
تہذیب نفس اور اخلاق جمیدہ سے مزین ہونے کے لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے دل میںمبدء خلق عظیم یعنی رسول اکرمﷺکی خالص محبت اور اتباع سنت کا صحیح جزبہ پیدا کرے ، جو دل رسول اکرم ﷺ کی محبت سے خالی اور جو قدم اسوہءحسنہ کے جادہء مستقیم سے منحرف ہے ، وہ کبھی سعادت کونین کی نعمت سے متمتع نہیں ہو سکتا، ایک دفعہ حضرت عمر نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ اپنی جان کے سوا حضور ﷺ تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، ارشاد ہوا،عمر! میری محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہونا چا ہئے ۔حضرت عمر نے کہا ، اب حضور اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں ۔ آپ جمال نبوت کے سچے شیدائی تھے ان کو اس راہ میں جان ،مال، اولاد، عزیز و اقارب کی قربانی سے بھی دریغ نہ تھا ۔ معرکہء بدر میں خود ان کے ہاتھ سے مارا گیا۔
 اسی طرح آنحضرت ﷺ نے ازواج مطہراتسے ناراض ہو کر علٰحدگی اختیار کرلی، تو حضرت عمر نے یہ خبر سن کر حاضرخدمت ہونا چا ہا۔جب بار بار اذن طلب کرنے پر بھی اجازت نہ ملی تو پکار کر کہا۔ خدا کی قسم میںحفصہ کی سفارش کے لئے نہیں آیا ہوں، اگر رسول اللہﷺحکم دیں تو اس کی گردن ماردوں۔ حضورﷺ کے ساتھ حضرت عمر ککی محبت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ
حضورﷺ نے وفات پائی تو، ان کو کسی طرح یقین نہیں آتا تھا۔مسجد نبو ی میں حالت وارفتگی میں قسمیں کھا کھا کر اعلان کرتے تھے، کہ جس کی زبان سے نکلےگا کہ میرا محبوب آقاﷺدنیا سے اٹھ گیا ۔ اس کا سر اڑا دونگا۔ آپ کے وسال کے بعد جب کبھی عہد مبارک یاد آجاتاتو رقت طاری ہو جاتی،اور روتے روتے بیتاب ہوجاتے۔ ایک دفعہ سفر شام کے موقع پر حضرت بلال نے مسجد اقصیٰ میں اذان دی توحضرت رسول اللہ ﷺ ککی یاد تازہ ہوگئی، اور اس قدر روئے کہ ہچکی بند ہوگئی۔٭٭٭



       یہ فطری امر ہے۔ محبوب کا عزیز بھی عزیز ہوتا ہے، اس بنا پر جن لوگوں کو آنحضرت ﷺ اپنی زندگی میں عزیز رکھتے تھے ، حضرت عمر نے اپنے ایام خلافت میںان کا خاص خیال رکھا

وہابیہ گندم نما جو فروش ہیں

وہابیہ گندم نما جو فروش ہیں


سلام اللہ علی من اتباع الھدیٰ







 


وہابیہ گندم نما جو فروش ہیں 


سلام اللہ علی من اتباع الھدیٰ 



 


ازاعلیٰ حضرت آقائے نعمت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادر ی سہروردی علیہ الرحمہ


 


آپ کے دو پرچے ملے اسکے متعلق زیادہ کچھ لکھنا نہیں چاہتے ایک دو جملے آپ کو یاد دلانے کے واسطے لکھ دیتے ہیں۔

 اہل حدیث کہنا آپ کے دھرم میں بدعت ہے ،اؤر ال حدیث کہنے والے بدعتی ہیں ،    اوارا کسی حدیث کو صحیح کہناکسی کو ضعیف کہنا ، وغیرہ یہ بھی وہابیہ کے دھرم میں بدعت ہے کیونکہ نبی کریم ﷺنے ن خود اہل حدیث کہلانے کا حکم دیا اور نہ نبیکریم ﷺنے کسی حدیث کو صحیح کہا نہ کسی کو ضعیف ، سب مجتہیدین سنت والجماعت کے نزدیک اہل فق تھے اہابیوں کو کوئی سنّیمسلمان اہل حدیث کہتے نہیں۔ ی نام وہابیوں نے اپنے واسطے مقرر کرکے رکھا۔ جیسا چکڑالوی نے اپنے آپ کو اہل قرآن نام رکھا، یہ نام ایسا ہے جیسا راگی کے بھوسے کو زعفران کہنا ایسے کہنے والے پر سب دنیا کے لوگ ماتم کرتے ہیں، تم یہ ثابت کرو کہ اگلے محدثین میں سے فلاں محدث وہابی تھا ۔ مارے مخاطب وابی ہے ۔ نہ کہ اہل حدیث۔

 


   داؤد راز نے علماء کے مختلف قولوں کو نقل کر کے ان کو مان لیا، اور تسلیم کر لیا ۔ یہی تو تقلید ہے۔ تقلید وہابیوں کے دھرم میں شرک کفر ہے۔داؤدرازنےاپنی زبان سے اقرار کیا ہے کہ میں اپنے عقیدہ کے مطابق کافر مشرک ہوں۔ یہ پرچہ اہل حدیث میرے کافر مشرک ہونے کےلئے یاد گار ہے۔ ہم افسوس کرتے ہیں ، سرسی کے وہابیوں کے اوپر ،کیا سرسی کے وہابیوں میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں؟وہابیوں نے اسلمبے چوڑے پرچے کے مضمون سے کیا فائدہ اٹھایا، وہابیوں کو یہ لازم تھا اپنی نمازیں حیح اور درست کریں۔ کیونکہ ایمان کے بعد نماز ہی کا درجہ ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺسے مقتدی ہوکرمنفرد ہو کر نماز پڑھنا ثانت ہے مگر سینہ پر ہاتھ باندھنا، آمین پکار کر کہنا۔ رکوع کو جاتے وقت رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرناہر گز ثابت نہیں ۔ تمہیں مقتدی ہو کر منفرد ہو کر۔یہ سب  چیزیںپانچ وقتے کی نماز میں کرتے ہو، جب اس بارے میں کوئی حدییث ہی نہیں ، تو تم کس پر عمل کرتے ہو؟ نہ نبی کریم ﷺنے اس حالت میںخود کیا ہے نہ حکم د یا ہے ان افعال کے کرنے کا تمہارے نزدیک عقیدہ کے مطابق یہ سب کا حرام اور ناجائز ہےتم تھنڈے دل سے اس پر غور کرو ہم کو غرض ہے تمہاری صلاح کرنا۔جب اس بارے میں کوئی حدیث ہی نہیں ،تم اپنے عقائد فاسدہ سے توبہ کیوں نہیں کرتے؟ اپنی عبادت کیوں ضائع کرتے ہو؟اپنی زبان سے انہی چیزوں کو حرام کہتے ہو انہی کو پانچ وقت نماز میں کرتے بھی ہو ۔تمہارے لمبی داڑھی والے مولوی تمہیں گمراہ کر رہے ہیں ،انکی غرض ہے،تمہیں گمراہ کرنا ،اور تمہارے پیسے کھانا ۔دیکھو ایڈیڑ محمدی نے خد اقرار کیا ہے ۔حنفی مذہب کا ماخذ قرآن ،حدیث ہے ۔پھر اس کو پوچھو تم نے حنفی مذہب چھوڑ کر مرتد کیو ہوا،مگر وہ تو مر ہی گیا۔ اب رائچوری پیر فرتوت کو پوچھو کہ تو نے بھی ایڈیڑ محمدی کی تقلید کر کے اقرار کیا کہ حنفی مزہب کا ماخذ قرآن حدیث ہی ہے ۔ پھر اس کو پوچھو حنفی مزہب چھوڑ کر مرتد کیوں ہوا ؟ا س سے معلوم ہوا کہ انکی غرض و غایت یہ ہے کہ بے علم مسلما نوں کو گمراہ کرنا،اور مسلمانوں کے درمیان فساد قائم کرنا ۔ تاکہ ان کی رو ٹی گھیکے اندر ہمیشہ تر رہے ۔ہم کو لازم تھا، تمہاری اصلاح کرنا ۔ہم نے سرسی کے وہابیہ کی اصلاح کرنے کی بہت کوشش کی مگر بے سود اس کا کوئی نتیجہ نکلا نہیں وہ اپنے بد مزہبیت پر اوریہودیت  پر ضد سے ڈٹ کے رہے، مسلمان کی یہ شان ہے کہ اس کے سامنے حق بات کہی جائے تو ضرور تسلیم کرلےاور اپنی ضد چھوڑ دے۔ ورنہ خود یہود انحضرت ﷺ کو پہچانتے تھے ، جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھےمگر ضد اور ہٹ دھرمی سے حضرت ﷺ پر ایمان نہیں لائے اگر تم ان حق باتوں کو مانو اور تسلیم کرو، تو تمہارا شمار کامل مسلمانوں میں ہوگا ۔ورنہ تمہارا حشر یہودیوں کے ساتھ ہوگا                                   

 

وہابیہ گندم نما جو فروش ہیں سلام اللہ علی من اتباع الھدیٰ

وہابیہ گندم نما جو فروش ہیں سلام اللہ علی من اتباع الھدیٰ

وہابیہ گندم نما جو فروش ہیں 

سلام اللہ علی من اتباع الھدیٰ 

ازاعلیٰ حضرت آقائے نعمت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادر ی سہروردی علیہ الرحمہ


آپ کے دو پرچے ملے اسکے متعلق زیادہ کچھ لکھنا نہیں چاہتے ایک دو جملے آپ کو یاد دلانے کے واسطے لکھ دیتے ہیں۔
 اہل حدیث کہنا آپ کے دھرم میں بدعت ہے ،اؤر ال حدیث کہنے والے بدعتی ہیں ،    اوارا کسی حدیث کو صحیح کہناکسی کو ضعیف کہنا ، وغیرہ یہ بھی وہابیہ کے دھرم میں بدعت ہے کیونکہ نبی کریم ﷺنے ن خود اہل حدیث کہلانے کا حکم دیا اور نہ نبیکریم ﷺنے کسی حدیث کو صحیح کہا نہ کسی کو ضعیف ، سب مجتہیدین سنت والجماعت کے نزدیک اہل فق تھے اہابیوں کو کوئی سنّیمسلمان اہل حدیث کہتے نہیں۔ ی نام وہابیوں نے اپنے واسطے مقرر کرکے رکھا۔ جیسا چکڑالوی نے اپنے آپ کو اہل قرآن نام رکھا، یہ نام ایسا ہے جیسا راگی کے بھوسے کو زعفران کہنا ایسے کہنے والے پر سب دنیا کے لوگ ماتم کرتے ہیں، تم یہ ثابت کرو کہ اگلے محدثین میں سے فلاں محدث وہابی تھا ۔ مارے مخاطب وابی ہے ۔ نہ کہ اہل حدیث۔
   داؤد راز نے علماء کے مختلف قولوں کو نقل کر کے ان کو مان لیا، اور تسلیم کر لیا ۔ یہی تو تقلید ہے۔ تقلید وہابیوں کے دھرم میں شرک کفر ہے۔داؤدرازنےاپنی زبان سے اقرار کیا ہے کہ میں اپنے عقیدہ کے مطابق کافر مشرک ہوں۔ یہ پرچہ اہل حدیث میرے کافر مشرک ہونے کےلئے یاد گار ہے۔ ہم افسوس کرتے ہیں ، سرسی کے وہابیوں کے اوپر ،کیا سرسی کے وہابیوں میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں؟وہابیوں نے اسلمبے چوڑے پرچے کے مضمون سے کیا فائدہ اٹھایا، وہابیوں کو یہ لازم تھا اپنی نمازیں حیح اور درست کریں۔ کیونکہ ایمان کے بعد نماز ہی کا درجہ ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺسے مقتدی ہوکرمنفرد ہو کر نماز پڑھنا ثانت ہے مگر سینہ پر ہاتھ باندھنا، آمین پکار کر کہنا۔ رکوع کو جاتے وقت رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرناہر گز ثابت نہیں ۔ تمہیں مقتدی ہو کر منفرد ہو کر۔یہ سب  چیزیںپانچ وقتے کی نماز میں کرتے ہو، جب اس بارے میں کوئی حدییث ہی نہیں ، تو تم کس پر عمل کرتے ہو؟ نہ نبی کریم ﷺنے اس حالت میںخود کیا ہے نہ حکم د یا ہے ان افعال کے کرنے کا تمہارے نزدیک عقیدہ کے مطابق یہ سب کا حرام اور ناجائز ہےتم تھنڈے دل سے اس پر غور کرو ہم کو غرض ہے تمہاری صلاح کرنا۔جب اس بارے میں کوئی حدیث ہی نہیں ،تم اپنے عقائد فاسدہ سے توبہ کیوں نہیں کرتے؟ اپنی عبادت کیوں ضائع کرتے ہو؟اپنی زبان سے انہی چیزوں کو حرام کہتے ہو انہی کو پانچ وقت نماز میں کرتے بھی ہو ۔تمہارے لمبی داڑھی والے مولوی تمہیں گمراہ کر رہے ہیں ،انکی غرض ہے،تمہیں گمراہ کرنا ،اور تمہارے پیسے کھانا ۔دیکھو ایڈیڑ محمدی نے خد اقرار کیا ہے ۔حنفی مذہب کا ماخذ قرآن ،حدیث ہے ۔پھر اس کو پوچھو تم نے حنفی مذہب چھوڑ کر مرتد کیو ہوا،مگر وہ تو مر ہی گیا۔ اب رائچوری پیر فرتوت کو پوچھو کہ تو نے بھی ایڈیڑ محمدی کی تقلید کر کے اقرار کیا کہ حنفی مزہب کا ماخذ قرآن حدیث ہی ہے ۔ پھر اس کو پوچھو حنفی مزہب چھوڑ کر مرتد کیوں ہوا ؟ا س سے معلوم ہوا کہ انکی غرض و غایت یہ ہے کہ بے علم مسلما نوں کو گمراہ کرنا،اور مسلمانوں کے درمیان فساد قائم کرنا ۔ تاکہ ان کی رو ٹی گھیکے اندر ہمیشہ تر رہے ۔ہم کو لازم تھا، تمہاری اصلاح کرنا ۔ہم نے سرسی کے وہابیہ کی اصلاح کرنے کی بہت کوشش کی مگر بے سود اس کا کوئی نتیجہ نکلا نہیں وہ اپنے بد مزہبیت پر اوریہودیت  پر ضد سے ڈٹ کے رہے، مسلمان کی یہ شان ہے کہ اس کے سامنے حق بات کہی جائے تو ضرور تسلیم کرلےاور اپنی ضد چھوڑ دے۔ ورنہ خود یہود انحضرت ﷺ کو پہچانتے تھے ، جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھےمگر ضد اور ہٹ دھرمی سے حضرت ﷺ پر ایمان نہیں لائے اگر تم ان حق باتوں کو مانو اور تسلیم کرو، تو تمہارا شمار کامل مسلمانوں میں ہوگا ۔ورنہ تمہارا حشر یہودیوں کے ساتھ ہوگا                                   

اہل سنت و جماعت

اہل سنت و جماعت




تحریراعلیٰ حضرت





سنت والجماعت

۔امسلمانو! اچھی طرح غورسے سنو۔ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کومومن اورمسلمان کہتے تھے۔اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایمان واسلام ایک ہی چیزہے ۔گولفظ تودوہیں ۔اوراس میں لغوی تھوڑی سی فرق بھی ہے۔مگرشرعاً دونوں لفظوں میں کچھ فرق نہیں ہے۔ جب مسلمانوں کوابتدائے اسلام میں کافروں نے تکلیف پہنچائی ۔کچھ مسلمان مرداورعورتیں حبش کی طرف ہجرت کرگئے۔ انہی کو اللہ پاک نے مہاجرین اولین سے تعبیرفرمایا۔ بعدکوجس وقت سب مسلمان ہجرت کر گئے ،مدینہ طیبہ پہنچے۔ اللہ پاک نے ہجرت کرنے والوں کومہاجرین سے تعبیرفرمایا اوراہل مدینہ کوانصار سے۔ مگریہ مہاجروانصارکون تھے۔وہی مسلمان تھے ۔جن کو ابتدا میں مومن ومسلمان کہتے تھے

۔اب ان سب کواصحاب رسولﷺ کہتے ہیں ۔اب ان میں بعض بدرکی لڑائی میں شریک تھے۔ ان کوبدری صحابہ کہتے ہیں۔ بعض صلح حدیبیہ میں شریک تھے۔بعض غزوۂ احدمیں شریک تھے۔ان سب کوایک ایک نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جب نبی کریمﷺ اس عالم سے تشریف لے گئے اس وقت صحابہ کے درمیان میں خلافت کے متعلق کچھ اختلاف پڑا۔ اس میں سے بعض جوحضورﷺ کے زمانے میں خوف کے مارے ایمان ظاہرکرتے تھے حضورﷺ کے ظاہری حیات سے پردہ فرمانے کے بعد صاف مرتدہوگئے۔بعض کارتدادظاہرنہیں ہوا۔مگرخلافت حضرت ابابکرصدیق ؄پرناراض تھے ۔ یہ بھی دراصل منافق ہی تھے۔ بعضوں نے آڑلے لی۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی۔ یہ کہنے لگے کہ خلافت کے حقداراصل حضرت مولیٰ علی ہیں۔ ان کو شیعہ علی کہتے تھے۔بعضوں نے طرفدای کی عثمان غنی ؄ کی،انہوں نے حضرت مولی علی؄ کے مقابلے میں خروج کیا۔ ان ہی کو خوارج سے کہتے ہیں۔محمدابن عبدالوہاب نجدی خاندان اہل خوارج سے ہیں۔اوروہابی بھی اہل خوارج سے ہوئے۔ بعضوں نے ُقدرکاانکارکیا۔ان کوقدریہ کہتے ہیں۔بعضوں نے قیامت کے روزاللہ پاک کی رویت کاانکارکیا۔اورعذاب قبر کا انکارکیا۔سوال وجواب قبرکاانکارکیا۔ان کومعتزلہ کہتے ہیں۔غر ض ابتدائے اسلام میں جن کومومن مسلمان کہتے تھے۔بعدانہی کومہاجربھی کہے ۔انہی کوانصاربھی کہے۔ جب خلافت حضرت ابابکرصدیق ؄ پراتفاق کیا۔ انہی کواہل سنت والجماعت کہتے ہیں۔ اس واسطے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے قول وفعل وتقریرپراورصحابہ کے قول وفعل اور تقریرپرعمل کرنے والے اوراجماع امت پرعمل کرنے والے ہیں باقی یعنی رافضی،خوارجی،وہابی وغیرہ کے نزدیک صحابی کاقول وفعل حجت نہیں۔اسی واسطے انہوں نے صحابیوں کوبدعتی کہا۔رافضی ،خوارجی ،وہابی کے نزدیک اجماع امت بھی حجت نہیں۔

اسی واسطے رافضیوں نے حضرت ابابکرصدیق؄ کی خلافت کوانکارکیا۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک خلافت حضرت ابابکرصدیق؄ کوانکارکرناکفرہے۔ حضورﷺنے سنت والجماعت کے متعلق کہاکہ ایک جماعت ہمیشہ حق پررہے گی۔ اب یہی جماعت ابتداسے چلی آئی۔ اس کے سوائے جتنے ہیں اسلام سے خارج ۔

اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے اور کہتے ہیں۔ حدیث کی تعریف علمانے یہ کی ہے کہ صاحب ہدایہ علامہ جرجانی وشرح ترمذی میں شیخ محقق شاہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی شرح مشکوٰۃ میںیہ تعریف کی ہے نبی کریمﷺ نے جوکچھ کیااورفرمایا اوران کے سامنے کسی نے کوئی کام کیا۔حضورﷺ خاموش رہے اس کو بھی حدیث کہتے ہیں۔۔ صحابی کاقول، صحابی کافعل اورصحابی کی تقریر اس کوبھی حدیث کہتے ہیں ۔تابعی کاقول۔تابعی کافعل اورتابعی کی تقریراس کوبھی حدیث کہتے ہیں۔ مذکورۂ بالاکے اعتبارسے حنفی پورے اہل حدیث ہیں ، کیوں کہ حضرت امام اعظم تابعین میں سے ہیں۔ ہم حنفی رسول اللہ ﷺکے قول وفعل اورتقریراورصحابہ کے قول وفعل اورتابعین کے قول وفعل اورتقریرپرعمل کرتے ہیں۔ مگرالاقدم فاالاقدم یعنی پہلے حضورﷺ کاقول وفعل اورتقریر۔ اس کے بعد صحابہ کاقول وفعل اور تقریر اس کے بعد تابعی کاقول وفعل اورتقریر۔٭٭٭

محترم دوستو

ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے

والسلام

دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔

جزاک اللہ خیر

صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف

اہل سنت و جماعت

اہل سنت و جماعت

تحریراعلیٰ حضرت

سنت والجماعت
۔امسلمانو! اچھی طرح غورسے سنو۔ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کومومن اورمسلمان کہتے تھے۔اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایمان واسلام ایک ہی چیزہے ۔گولفظ تودوہیں ۔اوراس میں لغوی تھوڑی سی فرق بھی ہے۔مگرشرعاً دونوں لفظوں میں کچھ فرق نہیں ہے۔ جب مسلمانوں کوابتدائے اسلام میں کافروں نے تکلیف پہنچائی ۔کچھ مسلمان مرداورعورتیں حبش کی طرف ہجرت کرگئے۔ انہی کو اللہ پاک نے مہاجرین اولین سے تعبیرفرمایا۔ بعدکوجس وقت سب مسلمان ہجرت کر گئے ،مدینہ طیبہ پہنچے۔ اللہ پاک نے ہجرت کرنے والوں کومہاجرین سے تعبیرفرمایا اوراہل مدینہ کوانصار سے۔ مگریہ مہاجروانصارکون تھے۔وہی مسلمان تھے ۔جن کو ابتدا میں مومن ومسلمان کہتے تھے۔اب ان سب کواصحاب رسولﷺ کہتے ہیں ۔اب ان میں بعض بدرکی لڑائی میں شریک تھے۔ ان کوبدری صحابہ کہتے ہیں۔ بعض صلح حدیبیہ میں شریک تھے۔بعض غزوۂ احدمیں شریک تھے۔ان سب کوایک ایک نام سے موسوم کرتے ہیں۔ جب نبی کریمﷺ اس عالم سے تشریف لے گئے اس وقت صحابہ کے درمیان میں خلافت کے متعلق کچھ اختلاف پڑا۔ اس میں سے بعض جوحضورﷺ کے زمانے میں خوف کے مارے ایمان ظاہرکرتے تھے حضورﷺ کے ظاہری حیات سے پردہ فرمانے کے بعد صاف مرتدہوگئے۔بعض کارتدادظاہرنہیں ہوا۔مگرخلافت حضرت ابابکرصدیق ؄پرناراض تھے ۔ یہ بھی دراصل منافق ہی تھے۔ بعضوں نے آڑلے لی۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی۔ یہ کہنے لگے کہ خلافت کے حقداراصل حضرت مولیٰ علی ہیں۔ ان کو شیعہ علی کہتے تھے۔بعضوں نے طرفدای کی عثمان غنی ؄ کی،انہوں نے حضرت مولی علی؄ کے مقابلے میں خروج کیا۔ ان ہی کو خوارج سے کہتے ہیں۔محمدابن عبدالوہاب نجدی خاندان اہل خوارج سے ہیں۔اوروہابی بھی اہل خوارج سے ہوئے۔ بعضوں نے ُقدرکاانکارکیا۔ان کوقدریہ کہتے ہیں۔بعضوں نے قیامت کے روزاللہ پاک کی رویت کاانکارکیا۔اورعذاب قبر کا انکارکیا۔سوال وجواب قبرکاانکارکیا۔ان کومعتزلہ کہتے ہیں۔غر ض ابتدائے اسلام میں جن کومومن مسلمان کہتے تھے۔بعدانہی کومہاجربھی کہے ۔انہی کوانصاربھی کہے۔ جب خلافت حضرت ابابکرصدیق ؄ پراتفاق کیا۔ انہی کواہل سنت والجماعت کہتے ہیں۔ اس واسطے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے قول وفعل وتقریرپراورصحابہ کے قول وفعل اور تقریرپرعمل کرنے والے اوراجماع امت پرعمل کرنے والے ہیں باقی یعنی رافضی،خوارجی،وہابی وغیرہ کے نزدیک صحابی کاقول وفعل حجت نہیں۔اسی واسطے انہوں نے صحابیوں کوبدعتی کہا۔رافضی ،خوارجی ،وہابی کے نزدیک اجماع امت بھی حجت نہیں۔ اسی واسطے رافضیوں نے حضرت ابابکرصدیق؄ کی خلافت کوانکارکیا۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک خلافت حضرت ابابکرصدیق؄ کوانکارکرناکفرہے۔ حضورﷺنے سنت والجماعت کے متعلق کہاکہ ایک جماعت ہمیشہ حق پررہے گی۔ اب یہی جماعت ابتداسے چلی آئی۔ اس کے سوائے جتنے ہیں اسلام سے خارج ۔اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے اور کہتے ہیں۔ حدیث کی تعریف علمانے یہ کی ہے کہ صاحب ہدایہ علامہ جرجانی وشرح ترمذی میں شیخ محقق شاہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی شرح مشکوٰۃ میںیہ تعریف کی ہے نبی کریمﷺ نے جوکچھ کیااورفرمایا اوران کے سامنے کسی نے کوئی کام کیا۔حضورﷺ خاموش رہے اس کو بھی حدیث کہتے ہیں۔۔ صحابی کاقول، صحابی کافعل اورصحابی کی تقریر اس کوبھی حدیث کہتے ہیں ۔تابعی کاقول۔تابعی کافعل اورتابعی کی تقریراس کوبھی حدیث کہتے ہیں۔ مذکورۂ بالاکے اعتبارسے حنفی پورے اہل حدیث ہیں ، کیوں کہ حضرت امام اعظم تابعین میں سے ہیں۔ ہم حنفی رسول اللہ ﷺکے قول وفعل اورتقریراورصحابہ کے قول وفعل اورتابعین کے قول وفعل اورتقریرپرعمل کرتے ہیں۔ مگرالاقدم فاالاقدم یعنی پہلے حضورﷺ کاقول وفعل اورتقریر۔ اس کے بعد صحابہ کاقول وفعل اور تقریر اس کے بعد تابعی کاقول وفعل اورتقریر۔٭٭٭
محترم دوستو
ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
والسلام
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
جزاک اللہ خیر
صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular