Showing posts with label hayatwokhidmat. Show all posts
Showing posts with label hayatwokhidmat. Show all posts

ضروری تنبیہ
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام حضرات انبیاء علیہم السلام کے مقدس اجسام انکی مبارک قبروں میں سلامت رہتے ہیں اور زمین پر حضرت حق جل جلالہ نے حرام فرما دیا ہے کہ ان کے مقدس جسموں پر کسی قسم کا تغیر و تبدل پیدا کرے۔ جب تمام انبیاء علیہم السلام کی یہ شان ہے تو پھر بھلا حضور سید الانبیاء و سید المرسلین اور امام الانبیاء و خاتم النبییّن صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس جسم انور کو زمین کیونکر کھا سکتی ہے؟ اس لئے تمام علماء امت و اولیاء امت کا یہی عقیدہ ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی قبر اطہر میں زندہ ہیں اور خداعزوجل کے حکم سے بڑے بڑے تصرفات فرماتے رہتے ہیں اور اپنی خداداد پیغمبرانہ قوتوں اور معجزانہ طاقتوں سے اپنی امت کی مشکل کشائی اور ان کی فریاد رسی فرماتے رہتے ہیں۔
خوب یاد رکھئے کہ جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ یقینا بارگاہِ اقدس کا گستاخ بد عقیدہ، گمراہ اور اہل سنت کے مذہب سے خارج ہے۔

سیرت پاک کے اجلاس
ان جلسوں میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے فضائل اور آپ کی مقدس سیرت اور اتباع سنت و شریعت اور محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا بیان ہوا کرتا ہے میلاد شریف کی طرح یہ جلسے بھی بہت مبارک اور خیر و برکت والے ہیں اور اہل جلسہ حاضرین سب ثواب پاتے ہیں۔

کنوئیں کے مسائل
کنوئیں میں کسی آدمی یا جانور کا پاخانہ' پیشاب' یا مرغی یا بطخ کی بیٹ یا خون یا تاڑی شراب وغیرہ کسی نجاست کا ایک قطرہ بھی گر پڑے یا کوئی بھی ناپاک چیز کنوئیں میں پڑ جائے تو کنواں ناپاک ہو جائے گا اس کا کل پانی نکالا جائے گا۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۷۔۴۰۹)
مسئلہ:۔اگر کنوئیں میں آدمی' گائے' بھینس' بکری یا اتنا ہی بڑا کوئی جانور گر کر مر جائے یا چھوٹے سے چھوٹا بہنے والے خون والا جانور کنوئیں میں مر کر پھول پھٹ جائے یا ایسا جانور جس کا جھوٹا ناپاک ہے کنوئیں میں گر پڑے اگرچہ زندہ نکل آئے جیسے سور' کتا تو ان سب صورتوں میں کنواں ناپاک ہو جائے گا اور کل پانی نکالا جائے گا۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۷۔۴۱۰/
الفتاوی القاضی خان ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی مایقع فی البئر،ج۱،ص۵)
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الثالث،الفصل الاول،النوع الثالث ماء لآبار،ج۱،ص۱۹)
مسئلہ:۔اگر چوہا' چھپکلی' گرگٹ یا ان کے برابریا ان سے چھوٹا جانور کنوئیں میں گر کر مرجائے۔ا ور پھولنے پھٹنے سے پہلے نکال لیا جائے تو بیس ڈول پانی نکالنا واجب اور تیس ڈول پانی نکال دینا مستحب ہے اس کے بعد کنواں پاک ہو جائے گا۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۱۱)
مسئلہ:۔جن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے جیسے بکری' گائے' بھینس وغیرہ ان میں سے اگر کوئی کنوئیں میں گر پڑے اور زندہ نکل آئے اور ان کے جسم پر کسی نجاست کا لگا ہونا معلوم نہ ہو تو کنواں پاک ہے لیکن احتیاطاً بیس ڈول پانی نکال ڈالیں۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۱۰)
مسئلہ:۔حلال پرندے جیسے کبوتر اور گوریا' مینا' مرغابی وغیرہ اونچے اڑنے والے پرندوں کی بیٹ کنویں میں گر جائے تو کنواں ناپاک نہیں ہوگا یوں ہی چمگادڑ کے پیشاب سے بھی کنواں ناپاک نہ ہوگا۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،مطلب مھمٌّ: فی تعریف الاستحسان، ج۱، ص۴۲۱/ الفتاوی القاضی خان، کتاب الطہارۃ، فصل فی ما یقع فی البئر،ج۱،ص۶)
مسئلہ:۔یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ فلاں فلاں صورت میں اتنا اتنا پانی نکالا جائے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جو چیز کنوئیں میں گری ہے پہلے اس کو کنوئیں میں سے نکال لیں پھر اتنا پانی نکا لیں۔ اگر وہ چیز کنوئیں ہی میں پڑی رہی تو کتنا ہی پانی نکالیں بے کار ہے۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۹)
مسئلہ:۔جہاں اتنے اتنے ڈول پانی نکالنے کا ذکر آیا ہے وہاں ڈول کی گنتی اس ڈول سے کی جائے گی جو ڈول اس کنوئیں پر استعمال ہوتا رہا ہے اور اگر اس کنوئیں کا کوئی خاص ڈول نہ ہو تو اتنا بڑا ڈول ہونا چاہے کہ جس میں سوا پانچ کیلو پانی آجائے۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۱۶)
مسئلہ:۔سالن یا پانی شربت میں اگر مکھی گر پڑے تو اس کو غوطہ دے کر باہر پھینک دیں اور سالن' پانی' شربت' کو کھا پی لیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کھانے میں مکھی گر پڑے تو اس کو کھانے میں غوطہ دے کر مکھی کو پھینک دیں پھر اس کھانے کو کھائیں کیونکہ مکھی
کے دو پروں میں سے ایک میں بیماری اور دوسرے میں اس کی شفا ہے اور مکھی اس پر کو کھانے میں پہلے ڈالتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے اس لئے غوطہ دے کر دوسرا شفاء والا پر بھی کھانے میں پہنچادیں۔
(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الصید والذبائح، باب مایحل اکلہ وما یحرم، الفصل الثانی، رقم ۴۱۴۳۔۴۱۴۴،ج۲،ص۴۳۸)
مسئلہ:۔ناپاک کنوئیں میں جس صورت میں جتنے پانی نکالنے کا حکم ہے جب اتنا پانی نکال لیا گیا تو اب وہ ڈول اور رسی اور کنوئیں کی دیواریں سب خود بخود پاک ہو گئیں۔ کسی کو دھو کر پاک کرنے کی ضرورت نہیں۔ (الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۹)

شب برات کا حلوا
شب برات کا حلوا پکانا نہ تو فرض و سنت ہے نہ حرام و ناجائز بلکہ حق بات یہ ہے کہ شب برات میں دوسرے تمام کھانوں کی طرح حلوا پکانا بھی ایک مباح اور جائز کام ہے اور اگر اس نیک نیتی کے ساتھ ہو کہ ایک عمدہ اور لذیذ کھانا فقراء ومساکین اور اپنے اہل و عیال کو کھلا کر ثواب حاصل کرے تو یہ ثواب کا کام بھی ہے۔
درحقیقت اس رات میں حلوے کا دستوریوں نکل پڑا کہ یہ مبارک رات صدقہ وخیرات اور ایصال ثواب و صلہ رحمی کی خاص رات ہے۔ لہٰذا انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس رات میں کوئی مرغوب اور لذیذ کھانا پکایا جائے۔ بعض عالموں کی نظر بخاری شریف کی اس حدیث پر پڑی کہ۔
کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحب الحلواء والعسل۔
(صحیح البخاری، کتاب الاطعمۃ، باب الحلواء والعسل، رقم ۵۴۳۱،ج۳،ص۵۳۶)
یعنی'' رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حلوا (شیرینی) اور شہد کو پسند فرماتے تھے۔'
ہٰذا ان علمائے کرام نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس رات میں حلوا پکایا۔ پھر رفتہ رفتہ عوام میں بھی اس کا چرچا اور رواج ہوگیا۔ چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب قبلہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کے ملفوظات میں ہے کہ ہندوستان میں شب برات کو روٹی اور حلوا پر فاتحہ دلانے کا دستور ہے۔ اور سمر قند و بخارا میں ''قتلما'' پر جو ایک میٹھا کھانا ہے۔
الغرض شب برات کا حلوا ہو یا عید کی سویاں' محرم کا کھچڑا ہو یا ملیدہ' محض ایک رسم و رواج کے طریقہ پر لوگ پکاتے کھاتے اورکھلاتے ہیں۔ کوئی بھی یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ یہ فرض یا سنت ہیں۔ اس لئے اس کو ناجائز کہنا درست نہیں۔ یاد رکھو کسی حلال کو حرام ٹھہرانااﷲ پر جھوٹی تہمت لگانا ہے جو ایک بدترین گناہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔
قُلْ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللہُ لَكُمۡ مِّنۡ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمۡ مِّنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا ؕ قُلْ آٰللہُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرُوۡنَ ﴿59﴾
یعنی کہہ دو بھلا بتاؤ تو وہ جو اﷲ نے تمہارے لئے رزق اتارا۔ اس میں تم نے اپنی طرف سے کچھ حرام کچھ حلال ٹھہرالیا۔ (اے پیغمبر) فرمادو کیا اﷲ نے اس کا تمہیں حکم دیا ہے' یا اﷲ پر تم لوگ تہمت لگاتے ہو؟(پ 11 ،یونس:59)

بد گمانی
بہت سے مردوں اور عورتوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جہاں انہوں نے دو آدمیوں کو الگ ہو کر چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو فوراََ ان کو یہ بدگمانی ہو جاتی ہے کہ یہ میرے ہی متعلق کچھ باتیں ہو رہی ہیں اور میرے ہی خلاف کوئی سازش ہورہی ہے اسی طرح عورتیں اگر اپنے شوہروں کو اچھا لباس پہن کر کہیں جاتے ہوئے دیکھتی ہیں یا شوہروں کو کسی عورت کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے سن لیتی ہیں تو ان کو فوراََ اپنے شوہروں کے بارے میں یہ بدگمانی ہو جاتی ہے کہ ضرور میرے شوہر کی فلانی عورت سے کچھ ساز باز ہے اسی طرح شوہروں کا حال ہے کہ اگر ان کی بیویاں میکے میں زیادہ ٹھہر گئیں یا میکا کے رشتہ داروں سے بات یا ان کی خاطر ومدارات کرنے لگیں تو شوہروں کو یہ بدگمانی ہو جاتی ہے کہ میری بیوی فلاں فلاں مردوں سے محبت کرتی ہے کہیں کوئی بات تو نہیں ہے۔ بس اس بد گمانی میں طرح طرح کی جستجو اور ٹوہ لگانے کی فکر میں مبتلا ہو کر دن رات دماغ میں الم غلم قسم کے خیالات کی کھچڑی پکانے لگتے ہیں اور کبھی کبھی رائی کا پہاڑ اور پھانس کا بانس بنا ڈالتے ہیں۔
پیاری بہنو اور بھائیو! یاد رکھو کہ بدگمانیوں کی یہ عادت بہت بری بلا اور بہت بڑا گناہ ہے
قرآن مجید میں اﷲتعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ
اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ
یعنی بعض گمان گناہ ہیں۔(پ26،الحجرات:12)
لہٰذا جب تک کھلی ہوئی دلیل سے تم کو کسی بات کا یقین نہ ہو جائے ہر گز ہر گز محض بے بنیاد گمانوں سے کوئی رائے قائم نہ کر لیا کرو۔

بچوں کے حقوق
(۱)ہر ماں پر لازم ہے کہ اپنے بچوں سے پیار و محبت کرے اور ہر معاملہ میں ان کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ کرے اور ان کی دلجوئی و دل بستگی میں لگی رہے اور ان کی پرورش اور تربیت میں پوری پوری کوشش کرے۔
(۲)اگر ماں کے دودھ میں کوئی خرابی نہ ہو تو ماں اپنا دودھ اپنے بچوں کو پلائے کہ دودھ کا بچوں پر بڑا اثر پڑتا ہے۔
(۳)بچوں کی صفائی ستھرائی۔ ان کی تندرستی و سلامتی کا خاص طور پر دھیان رکھے۔
(۴)بچوں کو ہر قسم کے رنج و غم اور تکلیفوں سے بچاتی رہے۔
(۵)بے زبان بچے اپنی ضروریات بتا نہیں سکتے۔ اس لئے ماں کا فرض ہے کہ بچوں کے اشارات کو سمجھ کر ان کی ضروریات کو پوری کرتی رہے۔
(۶)بعض مائیں چلا کر یا بلی کی بولی بول کر یا سپاہی کا نام لے کر' یا کوئی دھماکہ کرکے چھوٹے بچوں کو ڈرایا کرتی ہیں۔ یہ بہت ہی بری باتیں ہیں۔ بار بار ایسا کرنے سے بچوں کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور وہ بڑے ہونے کے بعد ڈرپوک ہو جایا کرتے ہیں۔
(۷)بچے جب کچھ بولنے لگیں تو ماں کو چاہے کہ انہیں بار بار اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا نام سنائے ان کے سامنے بار بار کلمہ پڑھے۔ یہاں تک کہ وہ کلمہ پڑھنا سیکھ جائیں۔
(۸)جب بچے بچیاں تعلیم کے قابل ہو جائیں تو سب سے پہلے ان کو قرآن شریف اور دینیات کی تعلیم دلائیں۔
(۹)بچوں کو اسلامی آداب و اخلاق اور دین و مذہب کی باتیں سکھائیں۔
(۱۰)اچھی باتوں کی رغبت دلائیں اور بری باتوں سے نفرت دلائیں۔
(۱۱)تعلیم و تربیت پر خاص طور پر توجہ کریں اور تربیت کا دھیان رکھیں۔ کیونکہ بچے سادہ ورق کے مانند ہوتے ہیں۔ سادہ کاغذ پر جو نقش و نگار بنائے جائیں وہ بن جاتے ہیں اور بچوں بچیوں کا سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ اس لئے ماں کی تعلیم و تربیت کا
بچوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا ہر ماں کا فرض منصبی ہے کہ بچوں کو اسلامی تہذیب و تمدن کے سانچے میں ڈھال کر ان کی بہترین تربیت کرے اگر ماں اپنے اس حق کو نہ ادا کرے گی تو گناہ گار ہوگی!
(۱۲)جب بچہ یا بچی سات برس کے ہو جائیں تو ان کو طہارت اور وضو و غسل کا طریقہ سکھائیں اور نماز کی تعلیم دے کر ان کو نمازی بنائیں اور پاکی و ناپاکی اور حلال و حرام اور فرض و سنت وغیرہ کے مسائل ان کو بتائیں۔
(۱۳)خراب لڑکوں اور لڑکیوں کی صحبت' ان کے ساتھ کھیلنے سے بچوں کو روکیں اور کھیل تماشوں کے دیکھنے سے'ناچ گانے' سینما تھیٹر' وغیرہ لغویات سے بچوں اور بچیوں کو خاص طور پر بچائیں۔
(۱۴)ہر ماں باپ کا فرض ہے کہ بچوں اور بچیوں کو ہر برے کاموں سے بچائیں اور ان کو اچھے کاموں کی رغبت دلائیں تاکہ بچے اور بچیاں اسلامی آداب و اخلاق کے پابند اور ایمانداری و دینداری کے جوہر سے آراستہ ہو جائیں اور صحیح معنوں میں مسلمان بن کر اسلامی زندگی بسر کریں۔
(۱۵)یہ بھی بچوں کا حق ہے کہ ان کی پیدائش کے ساتویں دن ماں باپ ان کا سر منڈا کر بالوں کے وزن کے بر ابرچاندی خیرات کریں اور بچے کا کوئی اچھا نام رکھیں۔ خبردار خبردار ہر گز ہر گز بچوں بچیوں کا کوئی برا نام نہ رکھیں۔
(۱۶)جب بچہ پیدا ہو تو فوراً ہی اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھیں تاکہ بچہ شیطان کے خلل سے محفوظ رہے اور چھوہارہ وغیرہ کوئی میٹھی چیز چبا کر اس کے منہ میں ڈال دیں تاکہ بچہ شیریں زبان اور بااخلاق ہو۔
(۱۷)نیا میوہ' نیا پھل' پہلے بچوں کو کھلائیں پھر خود کھائیں کہ بچے بھی تازہ پھل ہیں۔ نئے پھل کو نیا پھل دینا اچھا ہے۔
(۱۸)چند بچے بچیاں ہوں تو جو چیزیں دیں سب کو یکساں اور برابردیں۔ ہر گز کمی بیشی نہ کریں۔ ورنہ بچوں کی حق تلفی ہوگی۔ بچیوں کو ہر چیز بچوں کے برابر ہی دیں۔ بلکہ بچیوں کی دلجوئی و دلداری کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ کیونکہ بچیوں کا دل بہت نازک ہوتا ہے۔
(۱۹)لڑکیوں کو لباس اور زیور سے آراستہ اور بناؤ سنگھار کے ساتھ رکھیں تاکہ لوگ رغبت کے ساتھ نکاح کا پیغام دیں۔ ہاں اس کا خیال رکھیں کہ وہ زیورات پہن کر باہر نہ نکلیں کہ چوروں ڈاکوؤں سے جان کا خطرہ ہے۔ بچیوں کو بالا خانوں پر نہ رہنے دیں کہ اس میں بے حیائی کا خطرہ ہے۔
(۲۰)حتی الامکان بارہ برس کی عمر میں بچیوں کی شادی کردیں مگر خبردار ہر گز ہر گز کسی بددین یا بد مذہب مثلاً رافضی' خارجی' وہابی' غیر مقلد وغیرہ کے یہاں لڑکوں یا لڑکیوں کی شادی نہ کریں ورنہ اولاد کی بہت بڑی حق تلفی ہوگی اور ماں باپ کے سروں پر بہت بڑے گناہ کا بوجھ ہوگا اور وہ عذاب جہنم کے حقدار ہوں گے۔ اسی طرح فاسقوں' فاجروں' شرابیوں' بدکاروں' حرام کی کمائی کھانے والوں' سود خوروں اور ناجائز کام دھندا کرنے والوں کے یہاں بھی لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں نہ کریں اور رشتہ تلاش کرنے میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ مذہب اہل سنت اور دین دار ہونے کا خاص طور پر دھیان رکھیں۔

ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں علمائے دین کہ ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرناجائز ہے یانہیں۔؟
سیدآغامحمدولدسیدحاجی گل محمد ۔ بھنڈی واڑی بیس محلہ، ہبلی
الجواب:
روایت ہے ایک صاحب مسجد میں حاضرہوئے اس وقت کہ رسول اللہ ﷺنماز پڑھ چکے تھے ۔فرمایا ہے کوئی کہ اس پرصدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے کہ اسے جماعت کاثواب مل جایے ایک صاحب یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ نمازپڑھی۔(ابوداؤدوترمذی)
مسئلہ ہئیت مسجدمحلہ میں جس کے لیے امام مقرر ہوامام محلہ نے اذان واقامت کے ساتھ اولیٰ پردوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے اور اگر بے اذان جماعت ثانیہ ہوئی تو حرج نہیں جبکہ محراب سے ہٹ کردائیں بائین ہو، ہئیت بدلنے کے لیے امام کا محراب سے دائیں یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا ۔ کافی ہے شارع عام کی مسجد جس میں لوگ جوق درجوق آتے اورپڑھ کر چلے جاتے ہیں یعنی اس کے نماز ی مقرر نہ ہوں اس میں اگرچہ اذاں واقامت کے ساتھ نماز قائم کی جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان واقامت سے جماعت کرے یونہی اسٹیشن وسرائے کے مسجدمیں۔ (درالمختار، ردالمختار وغیرہما)
(اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری علیہ الرحمہ)

برہمن اورعیسائی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے یانہیں؟
سوال:برہمن اورعیسائی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے یانہیں؟۔
(نذیراحمدبیجاپور۔ہبلی)
جواب:
مشرکہ وکافرہ سے بدون ایمان ہرگزنکاح کرنا جائز نہیں اہل کتاب کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ عیسائی لڑکی اپنے مذہب اصلی پر قائم رہے۔ مگر اب یہ کہاں؟
نکاح کرنے کی غرض وغایت یہ ہے کہ اولاد صالح پیدا کریںاور نبی کریمﷺ کی امت بڑھائیں ۔ اولاد اکثرماں کے ساتھ رہتی ہے جو طریقہ اورمذہب ماں کا ہوتا ہے، وہی طریقہ بچوں کو سکھاتی ہے۔ لہٰذا عیسائی لڑکی کے ساتھ نکاح مکروہ تحریمی ہے۔ کیوں کہ اولاد ضائع ہوجاتی ہے( فتح القدیر) یہی حکم ہے ہر بدمذہب کے ساتھ نکاح کرنے کا۔اگر بدمذہب لڑکی کی بدعت کفرتک پہنچ گئی تو اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہی نہیں اگر کفر تک نہ پہنچے تو نکاح کرنا جائز مگر مکروہ تحریمی ہے۔ کیوں کہ اولاد اپنی ماں کا مذہب اختیار کرتی ہے۔
اہل رائے
راج پیپلا
۔۔۔۔
بخدمت شریف جنان مینجر صاحب ’’ الرشاد ‘‘ ، اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ٗ
آپ رسالہ ’’ الرشاد‘‘ ماہ ذی الحجہ 1372 ھ کا منیجر الوارث صاحب بمبئی میں جناب مولیٰنا وارث علی صاحب کے پاس میں اور حضرت شیر بیشۂ سنت مولانا مولوی حشمت علی خاں صاحب قبلہ دیکھے ، حضرت مولیٰنا مولوی حاجی حشمت علی خاں صاحب قبلہ اس رسالہ کی تعریف فرمائی ، ماشاء اللہ رسالہ دیکھ کر بہت خوشی حاصل ہوئی اس وقت ایسے رسالوں کی بہت اشد ضرورت ہے ، پروردگار دو عالم اپنے محبوب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صدقہ میں اس رسالہ کو تاقیامت قائم رکھے اور آپ کو
اس کی بہترین جزا عطا فرمائے کہ اس نازک وقت میں آپ نے اہل سنت والجماعت کی سچی خدمت کرنے کے لئے تیار ہوئے ، ان شاء اللہ میری ہمدردی آپ کے ساتھ ہے ۔
(خادم علماء مولوی حاجی علی محمد ، سنی ، حنفی ، رضوی ، راج پیپلا)
انی گیرہ
27-8-53
محترم جناب منیجر صاحب ’’ الرشاد ‘‘ ، ہانگل
اسلام علیکم
خیریت مزاج شریف ۔۔۔ آپ لوگوں کی ہمت اور اسلامی ہمدردی پر نہایت ہی آفیرں ہے سارے کرناٹک میں اب تک کوئی اردو اخبار یا رسالہ نہیں نکالا گیا ، مگر آپ صاحبوں نے نہایت ہی عمدہ اور نیک کام کیاہے ہم تمام لوگ آپ کا تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ، اس تبلیغ کے کام میں جو کچھ بھی ہم سے خدمت ہوسکتی ہے کرنے کو تیار ہیں ۔
(1) امیر الدین صاحب ، ریٹائزڈ ہیڈ ماسٹر ، انی گیرہ ، (2) عبدالرزاق صاحب دوڈمنی ، انی گیرہ ، (3) یٰسین خاں صاحب جمعدار ، انی گیرہ ۔
ہزاری باغ
27-7-53
مکرمی منتظمی ! السلام علیکم رحمۃاللہ
......دلی مسرت حاصل ہوئی کہ دنیائے سنیت کی بیداری و خدمت کا جذبہ لے کر آپ کا جریرہ میدان عمل میں خدمت کے لئے نکلا ہے ، مولیٰ تعالیٰ قبولیت عامہ بخشے اور آپ کے عزائم کو تقویت اور ادارئہ الرشاد کو فائز المرام فرمائے ، آمین ۔
(مولیٰنا منظور حسین القادری مہتمم مدرسہ فرقانیہ ، ہزاری باغ )
ہاسن
11-6-53
محترمی سلامت السلام علیکم و رحمتہ اللہ برکاتہ
........ رسالہ دیکھ کر تو دل بہت خوش ہو اکیونکہ فی زمانہ ایسے ہی رسالوں کی سخت ضرورت ہے ، اور میں اسے وقت کی بہت بڑی اور اہم ضرورت سمجھتا ہوں .......
خیر طلب ، قاضی ، فیاض ، ہاسن
تلک عشرۃ کاملۃ لطائفۃٍ حادثۃٍ کاذبۃٍ خادعۃ
اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری
ہمارا سابق اشتہار معززین کی نظروں سے گذرا ہوگا ، جس میں تین سوال فرقہ حادثہ پر کئے تھے ، ان کا جواب ہندوستان و پنجاب کے لکھے پڑھے آدمیوں سے نہ بنا اور نہ بنے گا، ادھر کے بے علموں سے کیا بنتا ، پھر ناظرین کی دلچسپی کے لئے اس فرقہ کے دعویٰ کے مطابق دس سوال کرتا ہوں ، تاکہ سمجھدار آدمی ان سے طلب حدیث کر کے ناطقہ بند کرے ، اس فرقہ کا دعویٰ ہے جو چیز حدیث صحیحہ سے جائز نہیں وہ سب ناجائز ہے، حرام ، بدعت ہیں ۔
(1) س :۔ آپ لوگ قیام میں دونوں قدموں کے درمیان کتنا فاصلہ رکھتے ہو، اس فاصلہ رکھنے پر رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟
(3) س :۔ اگر دونوں قدموں کو ملا کر رکھتے ہو۔ پھر بھی ملا کر رکھنے کے لئے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(3) س :۔ جب تم قیام میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے کے اوپر بھی رسول صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(4) س:۔ اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو بند کرنے میں بھی رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(5) س :۔ پھر جب رکوع کرتے ہو رکوع میں کدھر دیکھتے ہو ، اس دیکھنے پر بھی رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(6) س :۔ اگر آنکھوں کو کھلے رکھتے ہو تو پھر بھی کھلے رکھنے پر رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قول یا فعل پیش کرو ؟
( 7) س :۔ جب رکوع سے اٹھتے ہو اور قومہ میں رہتے ہو ، کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟
(8) س:۔ اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟
(9) س:۔ جب سجدہ میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول و فعل پیش کرو ؟
( 10) س :۔ اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو اس بند کرنے کے واسطے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
یہ دس سوال ہیں ، اس پر اگر حدیث صحیح پیش کرو تمہارے واسطے بہتر ہوگا ورنہ یاد رکھو حدیث صحیح سے ثابت ہے تمہاری نہ نماز مقبول نہ روزہ وغیرہ ، اور حدیث دار قطنی کے مصداق بلاریب بن جاؤ گے اور سینے کے اور ہاتھ باندھنا آمین پکار کر کہنا اور رفع یدین کرنا ان کو سنت کہتے ہیں یہ بتاؤ کس حدیث سے ان کی سنت ثابت ہے ؟ ورنہ افعال مذکور کو سنت کہنا تمہارے دعویٰ کے مطابق بدعت ہے ، اور افعال مذکور کو سنت کہنے والا بدعتی ہے ۔
اللہ عزوجل نے جھوٹوں پر لعنت بھیجا ہے ، مگر میسوری مشتہر نے لعنت کی کچھ پروانہ کی ، چامراج
نگر کے قصہ کے متعلق سب جھوٹ لکھ مارا ، قصہ یوں ہے ، چند سال پیشتر میں چامراج نگر میں تھا ، ایک روز مشتہر مغرب کی نماز میں شریک نماز ہوا، اور آمین بلند آواز سے پکاری اور میں نے بعد فراغ نماز کے پوچھا کہ یہ کس نے اس زور سے آمین کہی ، مشتہر نے کہا میں نے کہی ، میں نے ان کو کیا ادھر آیئے ، پھر وہ آکر میرے پاس بیٹھ گئے ،
میں نے مشتہر کو پوچھا کہ آمین کون صیغہ ہے ؟ اور آمین کس وزن پر ہے ؟ آمین میں کونسی مدہے ؟ اور آمین میں اجتماع ساکنیں کیوں جائز ہوا ، مشتہر نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں بے علم ہوں ، مجھے علم نہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ آمین کہنا جائز ہے یا ناجائز ؟ میں نے کہا کہ آپ کے سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بت علم ہیں اس لئے آمین کو کوئی مسلمان ناجائز نہیں کہہ سکتا ہر ایک مسلمان کے نزدیک جائز ہے ، صرف اختلاف ہے اس کے آہستہ کرنے میں اور بلند آواز سے کرنے میں ، آپ نے جو مقتدی ہو کر بلند آواز سے آمین کہی وہ کونسی حدیث سے ثابت ہے ، مشتہر نے اس کے متعلق کوئی جواب نہ دیا ، مشتہر کے یوں لکھدیا کہ میں نے مشکوٰۃؔ اور کنزؔ پیش کرکے قائل کروایا ہوں، کیا ! مشکوٰۃ میں مقتدی ہو کر آمین پکارنے کی حدیث ہے ؟ کیا کنزؔ میں آمین پکارنا سنت لکھا ہے ؟ کیا تمہارے فرقہ کے درمیان
میں نے مشتہر کو پوچھا کہ آمین کون صیغہ ہے ؟ اور آمین کس وزن پر ہے ؟ آمین میں کونسی مدہے ؟ اور آمین میں اجتماع ساکنیں کیوں جائز ہوا ، مشتہر نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں بے علم ہوں ، مجھے علم نہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ آمین کہنا جائز ہے یا ناجائز ؟ میں نے کہا کہ آپ کے سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بت علم ہیں اس لئے آمین کو کوئی مسلمان ناجائز نہیں کہہ سکتا ہر ایک مسلمان کے نزدیک جائز ہے ، صرف اختلاف ہے اس کے آہستہ کرنے میں اور بلند آواز سے کرنے میں ، آپ نے جو مقتدی ہو کر بلند آواز سے آمین کہی وہ کونسی حدیث سے ثابت ہے ، مشتہر نے اس کے متعلق کوئی جواب نہ دیا ، مشتہر کے یوں لکھدیا کہ میں نے مشکوٰۃؔ اور کنزؔ پیش کرکے قائل کروایا ہوں، کیا ! مشکوٰۃ میں مقتدی ہو کر آمین پکارنے کی حدیث ہے ؟ کیا کنزؔ میں آمین پکارنا سنت لکھا ہے ؟ کیا تمہارے فرقہ کے درمیان
کوئی سمجھدار آدمی نہیں ؟ وہ مشتہر سے نہ پوچھے کہ تم نے یہ کیا لکھ دیا؟ اس اشتہار کا اثر تمہارے فرقہ پر اُلٹا پڑے گیا، کیونکہ آپ کے پاس کوئی حدیث قولی یا فعلی افعال مذکور کے ثبوت کے لئے نہیں ، علاوہ اس کے مشتہر مشکوٰۃ کی ایک حدیث اور کنز کی ایک عبارت نہیں پڑھ سکتا ، اس لئے وہ عربی ہیں ، عربی پڑھنے کے لئے قانون کی ضرورت ہے مشتہر کو مشکوٰۃ کے ساتھ اور کنزؔ کے ساتھ کیا نسبت ہے۔
چہ نسبت خال را باعالم پاک
کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک
بھلاجو آدمی اپنی زبان سے اقرار کرے اپنی بے علمی کا وہ بے علم آدمی اپنے جاننے والے آدمی کو قائل کروانا جھوٹے آدمی سچے آدمی کو جھوٹ بات پر قائل کروانا ایسا ہے کہ ’’ تف بسوئے آسماں بروئے خود است ‘‘ مشتہر کی بے علمی اس کے اشتہار سے ہی ظاہر ہے، خصوصاً اس کی سرخیٔ عنوان جو محض غلط ہے، مشتہر کی بے عنوانی سوال از آسماں جواب از کیسمان ، پنجاب اور ہندوستان کے پڑے لکھے جواب دینے سے حیران و پریشان ادھر کے بے علم نالاں و گریاں ہیں ، مگر آفریں ہے اس ٹکڑی پر جو جوانمرد اور بڑی ہمت والی ہے، جو حیا و شرم کی کچھ پروا نہیں کرتی ، گو حیا ایک جز ہے ایمان کا ، یہ جزوجائے تو جائے مگر اپنی ضد اور ہت نہ چھوڑے بے چارے غریب کو یہ معلوم نہیں ، اذافات الجزفات الکل ، اس ٹکڑی کا کوئی آدمی اگر سُنّیوں کی مسجد میں آجائے آمین پکار کر کہے اس پوچھتے ہیں اجی حدیث کے ٹھیکیدارو رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے حکم دیا ہے آمین پکار نے کی ، یا رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے
مقتدی ہو کر آمین پکار کہی ہے ؟ جواب دیتا ہے ، حدیث نہیں مگر سنت ہے ، پھر اس پوچھتے ہیں کہ اس کا سنت ہونا کس حدیث سے ثابت ہے ؟ پھر مسجد سے ایسا بھاگتا ہے جیسے شیطان اذان کے وقت میں انگلی کان میں رکھ کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے، اس کا بھاگنا مناسب ہے کیونکہ دعویٰ ہے حدیث کی ۔۔۔
تلک عشرۃ کاملۃ لطائفۃٍ حادثۃٍ کاذبۃٍ خادعۃ
اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری
ہمارا سابق اشتہار معززین کی نظروں سے گذرا ہوگا ، جس میں تین سوال فرقہ حادثہ پر کئے تھے ، ان کا جواب ہندوستان و پنجاب کے لکھے پڑھے آدمیوں سے نہ بنا اور نہ بنے گا، ادھر کے بے علموں سے کیا بنتا ، پھر ناظرین کی دلچسپی کے لئے اس فرقہ کے دعویٰ کے مطابق دس سوال کرتا ہوں ، تاکہ سمجھدار آدمی ان سے طلب حدیث کر کے ناطقہ بند کرے ، اس فرقہ کا دعویٰ ہے جو چیز حدیث صحیحہ سے جائز نہیں وہ سب ناجائز ہے، حرام ، بدعت ہیں ۔
(1) س :۔ آپ لوگ قیام میں دونوں قدموں کے درمیان کتنا فاصلہ رکھتے ہو، اس فاصلہ رکھنے پر رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟
(3) س :۔ اگر دونوں قدموں کو ملا کر رکھتے ہو۔ پھر بھی ملا کر رکھنے کے لئے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(3) س :۔ جب تم قیام میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے کے اوپر بھی رسول صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(4) س:۔ اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو بند کرنے میں بھی رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(5) س :۔ پھر جب رکوع کرتے ہو رکوع میں کدھر دیکھتے ہو ، اس دیکھنے پر بھی رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
(6) س :۔ اگر آنکھوں کو کھلے رکھتے ہو تو پھر بھی کھلے رکھنے پر رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قول یا فعل پیش کرو ؟
( 7) س :۔ جب رکوع سے اٹھتے ہو اور قومہ میں رہتے ہو ، کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟
(8) س:۔ اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو تو پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو؟
(9) س:۔ جب سجدہ میں رہتے ہو کدھر دیکھتے ہو اس دیکھنے پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول و فعل پیش کرو ؟
( 10) س :۔ اگر آنکھوں کو بند کرتے ہو اس بند کرنے کے واسطے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا قول یا فعل پیش کرو ؟
یہ دس سوال ہیں ، اس پر اگر حدیث صحیح پیش کرو تمہارے واسطے بہتر ہوگا ورنہ یاد رکھو حدیث صحیح سے ثابت ہے تمہاری نہ نماز مقبول نہ روزہ وغیرہ ، اور حدیث دار قطنی کے مصداق بلاریب بن جاؤ گے اور سینے کے اور ہاتھ باندھنا آمین پکار کر کہنا اور رفع یدین کرنا ان کو سنت کہتے ہیں یہ بتاؤ کس حدیث سے ان کی سنت ثابت ہے ؟ ورنہ افعال مذکور کو سنت کہنا تمہارے دعویٰ کے مطابق بدعت ہے ، اور افعال مذکور کو سنت کہنے والا بدعتی ہے ۔
اللہ عزوجل نے جھوٹوں پر لعنت بھیجا ہے ، مگر میسوری مشتہر نے لعنت کی کچھ پروانہ کی ، چامراج
نگر کے قصہ کے متعلق سب جھوٹ لکھ مارا ، قصہ یوں ہے ، چند سال پیشتر میں چامراج نگر میں تھا ، ایک روز مشتہر مغرب کی نماز میں شریک نماز ہوا، اور آمین بلند آواز سے پکاری اور میں نے بعد فراغ نماز کے پوچھا کہ یہ کس نے اس زور سے آمین کہی ، مشتہر نے کہا میں نے کہی ، میں نے ان کو کیا ادھر آیئے ، پھر وہ آکر میرے پاس بیٹھ گئے ،
میں نے مشتہر کو پوچھا کہ آمین کون صیغہ ہے ؟ اور آمین کس وزن پر ہے ؟ آمین میں کونسی مدہے ؟ اور آمین میں اجتماع ساکنیں کیوں جائز ہوا ، مشتہر نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں بے علم ہوں ، مجھے علم نہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ آمین کہنا جائز ہے یا ناجائز ؟ میں نے کہا کہ آپ کے سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بت علم ہیں اس لئے آمین کو کوئی مسلمان ناجائز نہیں کہہ سکتا ہر ایک مسلمان کے نزدیک جائز ہے ، صرف اختلاف ہے اس کے آہستہ کرنے میں اور بلند آواز سے کرنے میں ، آپ نے جو مقتدی ہو کر بلند آواز سے آمین کہی وہ کونسی حدیث سے ثابت ہے ، مشتہر نے اس کے متعلق کوئی جواب نہ دیا ، مشتہر کے یوں لکھدیا کہ میں نے مشکوٰۃؔ اور کنزؔ پیش کرکے قائل کروایا ہوں، کیا ! مشکوٰۃ میں مقتدی ہو کر آمین پکارنے کی حدیث ہے ؟ کیا کنزؔ میں آمین پکارنا سنت لکھا ہے ؟ کیا تمہارے فرقہ کے درمیان
میں نے مشتہر کو پوچھا کہ آمین کون صیغہ ہے ؟ اور آمین کس وزن پر ہے ؟ آمین میں کونسی مدہے ؟ اور آمین میں اجتماع ساکنیں کیوں جائز ہوا ، مشتہر نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ میں بے علم ہوں ، مجھے علم نہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ آمین کہنا جائز ہے یا ناجائز ؟ میں نے کہا کہ آپ کے سوال ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بت علم ہیں اس لئے آمین کو کوئی مسلمان ناجائز نہیں کہہ سکتا ہر ایک مسلمان کے نزدیک جائز ہے ، صرف اختلاف ہے اس کے آہستہ کرنے میں اور بلند آواز سے کرنے میں ، آپ نے جو مقتدی ہو کر بلند آواز سے آمین کہی وہ کونسی حدیث سے ثابت ہے ، مشتہر نے اس کے متعلق کوئی جواب نہ دیا ، مشتہر کے یوں لکھدیا کہ میں نے مشکوٰۃؔ اور کنزؔ پیش کرکے قائل کروایا ہوں، کیا ! مشکوٰۃ میں مقتدی ہو کر آمین پکارنے کی حدیث ہے ؟ کیا کنزؔ میں آمین پکارنا سنت لکھا ہے ؟ کیا تمہارے فرقہ کے درمیان
کوئی سمجھدار آدمی نہیں ؟ وہ مشتہر سے نہ پوچھے کہ تم نے یہ کیا لکھ دیا؟ اس اشتہار کا اثر تمہارے فرقہ پر اُلٹا پڑے گیا، کیونکہ آپ کے پاس کوئی حدیث قولی یا فعلی افعال مذکور کے ثبوت کے لئے نہیں ، علاوہ اس کے مشتہر مشکوٰۃ کی ایک حدیث اور کنز کی ایک عبارت نہیں پڑھ سکتا ، اس لئے وہ عربی ہیں ، عربی پڑھنے کے لئے قانون کی ضرورت ہے مشتہر کو مشکوٰۃ کے ساتھ اور کنزؔ کے ساتھ کیا نسبت ہے۔
چہ نسبت خال را باعالم پاک
کجا عیسیٰ کجا دجال ناپاک
بھلاجو آدمی اپنی زبان سے اقرار کرے اپنی بے علمی کا وہ بے علم آدمی اپنے جاننے والے آدمی کو قائل کروانا جھوٹے آدمی سچے آدمی کو جھوٹ بات پر قائل کروانا ایسا ہے کہ ’’ تف بسوئے آسماں بروئے خود است ‘‘ مشتہر کی بے علمی اس کے اشتہار سے ہی ظاہر ہے، خصوصاً اس کی سرخیٔ عنوان جو محض غلط ہے، مشتہر کی بے عنوانی سوال از آسماں جواب از کیسمان ، پنجاب اور ہندوستان کے پڑے لکھے جواب دینے سے حیران و پریشان ادھر کے بے علم نالاں و گریاں ہیں ، مگر آفریں ہے اس ٹکڑی پر جو جوانمرد اور بڑی ہمت والی ہے، جو حیا و شرم کی کچھ پروا نہیں کرتی ، گو حیا ایک جز ہے ایمان کا ، یہ جزوجائے تو جائے مگر اپنی ضد اور ہت نہ چھوڑے بے چارے غریب کو یہ معلوم نہیں ، اذافات الجزفات الکل ، اس ٹکڑی کا کوئی آدمی اگر سُنّیوں کی مسجد میں آجائے آمین پکار کر کہے اس پوچھتے ہیں اجی حدیث کے ٹھیکیدارو رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے حکم دیا ہے آمین پکار نے کی ، یا رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے
مقتدی ہو کر آمین پکار کہی ہے ؟ جواب دیتا ہے ، حدیث نہیں مگر سنت ہے ، پھر اس پوچھتے ہیں کہ اس کا سنت ہونا کس حدیث سے ثابت ہے ؟ پھر مسجد سے ایسا بھاگتا ہے جیسے شیطان اذان کے وقت میں انگلی کان میں رکھ کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے، اس کا بھاگنا مناسب ہے کیونکہ دعویٰ ہے حدیث کی ۔۔۔
تعارف اعلیٰ حضرت
اازحکیم عبدالحمید خاں ۔ ہونگنور ۔ ریاست میسور
الرشاد شمارہ 4 (شوال 1372۔ھجری
خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ الرشاد مسلمانوں کو شدید ضرورت تھی ۔ آج بندہ رسالہ الرشاد کے نگران کار حضرت علامہ سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ کا تعرف کرائےگا۔ یہ کشمیری عالم 25 سال سے قیام فرماہیں ۔ ہم نے علامہ موصوف کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے ۔ خادم نے یہ دیکھا ۔ وہ من و عب بیان کرتا ہے ۔ آپ صًورت و سیرت دونوں ،بہ درجہ کمال رکھتے ہیں ۔ خوش وضع میانہ قد گورا رنگ دلکش قدو خال کا اعلیٰ نمونہ ہیں ۔ سیرت پاک صورت سے لاکھ گنا بڑھ چڑھ کر ہے۔ چہرے پر نورانیت مسکراہٹ ہمیشہ ہونٹوں پر کھیلتی رہتی ہے۔ ے غرض حق گو عالم ۔راست باز۔ متقی دیندار ۔عباد ت گذار نڈروبےباک انسان جو خدا کی ذات کے سوا کسی سے ڈرتا ہی نہیں ۔ بہترین قاری جنکی قرات سننے سے سخت سے سخت د ل بھی نرم بن جاتا ہے ۔ محبت الٰہی خوف الٰہی کا نورانی پیکر بے ملال مقرر قال اللہ قا ل ا لرسول پر گھنٹوں تقریر کرنے والے جن کا لفظ لفظ دل پر نقش ہوتا چلا جاتا ہے۔
بے مثال مفتی آپ جو بھی فتو یٰ پوچھے فوراََ جواب ملےگا۔
قرآن وحدیث وائمہ کے اقوال سند میں فوراََ پیش کردیتے ہیں۔
قوت حافظہ پر حیرت ہوتی ہے
۔ بغیر کتابوں کی مدد کے قوت یادداشت سے بر موقعہ
جوان دینے والے جس کا ہر لفظ سچا اور دل پر اثر کرنے والا ہوتا ہے۔ آپ دوستوں کے دوست ۔ بچوں کے دوست ، مسافروں کے دوست ۔ غریبوں کے دوست۔ مسکینوں کے دوست یتیموں کے دوست ۔ ہر پابند صوموصلٰوۃ مسلمانوں کے دوست ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ قوم کی طرف سے نقدی پیش کی۔ آپ نے اس ہمیشہ ٹھکرایا۔ کبھی کسی وقت بھی قبول نہ فرمایا ۔ سچ ہے کہ قال اللہ قال الرسول کی قیمت چاندی کے بے جان سکّے نہیں ہیں۔ آپ خلوص وایثار کی جیتی جاگتی تصویر ہیں ۔ جو اس صدی میں چراغ لے کر ڈھوندنے سے بھی نہیں ملتی ہے۔ آفاق ہاگر دیدہ ام مہربتاں ورنویدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
اس دور الحاد فتنہ و فساد میں آپ واقعی آفتاب ہدایت ہیں ۔ بڑے ہی خوش قسمت ہیں مسلمانان ہانگل کہ رب العزت نے انہیں ایک صالح متقی متبحرعالم کی ذات سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیدیا ہے ۔ اب مسلمانان ہانگل کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس آفتاب شریعت سے کما حقہ فائدہ اٹھائیں ۔ ایک دینی مدرسہ قائم کرکے بچوں اور جوانوں کی دینی تربیت کا انتظام کرائیں اورعلامہ موصوف سے تصنیف وتالیف کاکام لیں۔تاک ہماری قوم کے جوان اوربچے سب کے سب راسخ العقیدہ سچے سنی مسلمان بن کرنکلیں۔اس دوربے دینی میں اپنےایمان واسلام کی حفاظت فرض اولین ہے۔حضرت علامہ موصوف کی ذات گرامی شریعت وتصوف کادریائے بیکراں ہے۔ایسے نایاب ہستیاں باربار پیدانہیں ہوتے
۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدۂ ور پیدا
آپ شہرت اورنام ونمود سے ہمیشہ دوررہا کرتے ہیں ۔ علوم شریعت کاگہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ جوبھی مسئلہ پوچھاجائے محققانہ اندازمیں سب کچھ سمجھادیتے ہیں ۔مسئلہ کاکوئی حصہ بھی تشنۂ تکمیل نہیں رہتا۔آپ عشق رسولﷺ اورزہدوتقویٰ کاعالی مرتبہ حاصل ہے۔ کاش قوم ایک متبحرعالم کی حقیقت کوپہچانے اوراس دریائے علوم سے اپنی روحانی تشنگی کوبجھائے ۔ایک خدارسیدہ بزرگ سے اپنی آخرت سنوارلیں۔وماعلیناالاالبلاغ
بے مثال مفتی آپ جو بھی فتو یٰ پوچھے فوراََ جواب ملےگا۔
قرآن وحدیث وائمہ کے اقوال سند میں فوراََ پیش کردیتے ہیں۔
قوت حافظہ پر حیرت ہوتی ہے
۔ بغیر کتابوں کی مدد کے قوت یادداشت سے بر موقعہ
جوان دینے والے جس کا ہر لفظ سچا اور دل پر اثر کرنے والا ہوتا ہے۔ آپ دوستوں کے دوست ۔ بچوں کے دوست ، مسافروں کے دوست ۔ غریبوں کے دوست۔ مسکینوں کے دوست یتیموں کے دوست ۔ ہر پابند صوموصلٰوۃ مسلمانوں کے دوست ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ قوم کی طرف سے نقدی پیش کی۔ آپ نے اس ہمیشہ ٹھکرایا۔ کبھی کسی وقت بھی قبول نہ فرمایا ۔ سچ ہے کہ قال اللہ قال الرسول کی قیمت چاندی کے بے جان سکّے نہیں ہیں۔ آپ خلوص وایثار کی جیتی جاگتی تصویر ہیں ۔ جو اس صدی میں چراغ لے کر ڈھوندنے سے بھی نہیں ملتی ہے۔ آفاق ہاگر دیدہ ام مہربتاں ورنویدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
اس دور الحاد فتنہ و فساد میں آپ واقعی آفتاب ہدایت ہیں ۔ بڑے ہی خوش قسمت ہیں مسلمانان ہانگل کہ رب العزت نے انہیں ایک صالح متقی متبحرعالم کی ذات سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیدیا ہے ۔ اب مسلمانان ہانگل کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس آفتاب شریعت سے کما حقہ فائدہ اٹھائیں ۔ ایک دینی مدرسہ قائم کرکے بچوں اور جوانوں کی دینی تربیت کا انتظام کرائیں اورعلامہ موصوف سے تصنیف وتالیف کاکام لیں۔تاک ہماری قوم کے جوان اوربچے سب کے سب راسخ العقیدہ سچے سنی مسلمان بن کرنکلیں۔اس دوربے دینی میں اپنےایمان واسلام کی حفاظت فرض اولین ہے۔حضرت علامہ موصوف کی ذات گرامی شریعت وتصوف کادریائے بیکراں ہے۔ایسے نایاب ہستیاں باربار پیدانہیں ہوتے
۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدۂ ور پیدا
آپ شہرت اورنام ونمود سے ہمیشہ دوررہا کرتے ہیں ۔ علوم شریعت کاگہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ جوبھی مسئلہ پوچھاجائے محققانہ اندازمیں سب کچھ سمجھادیتے ہیں ۔مسئلہ کاکوئی حصہ بھی تشنۂ تکمیل نہیں رہتا۔آپ عشق رسولﷺ اورزہدوتقویٰ کاعالی مرتبہ حاصل ہے۔ کاش قوم ایک متبحرعالم کی حقیقت کوپہچانے اوراس دریائے علوم سے اپنی روحانی تشنگی کوبجھائے ۔ایک خدارسیدہ بزرگ سے اپنی آخرت سنوارلیں۔وماعلیناالاالبلاغ
محترم دوستو
ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
والسلام
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
جزاک اللہ خیر
صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف
تعارف اعلیٰ حضرت
اازحکیم عبدالحمید خاں ۔ ہونگنور ۔ ریاست میسور
الرشاد شمارہ 4 (شوال 1372۔ھجری
خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ الرشاد مسلمانوں کو شدید ضرورت تھی ۔ آج بندہ رسالہ الرشاد کے نگران کار حضرت علامہ سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ کا تعرف کرائےگا۔ یہ کشمیری عالم 25 سال سے قیام فرماہیں ۔ ہم نے علامہ موصوف کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے ۔ خادم نے یہ دیکھا ۔ وہ من و عب بیان کرتا ہے ۔ آپ صًورت و سیرت دونوں ،بہ درجہ کمال رکھتے ہیں ۔ خوش وضع میانہ قد گورا رنگ دلکش قدو خال کا اعلیٰ نمونہ ہیں ۔ سیرت پاک صورت سے لاکھ گنا بڑھ چڑھ کر ہے۔ چہرے پر نورانیت مسکراہٹ ہمیشہ ہونٹوں پر کھیلتی رہتی ہے۔ ے غرض حق گو عالم ۔راست باز۔ متقی دیندار ۔عباد ت گذار نڈروبےباک انسان جو خدا کی ذات کے سوا کسی سے ڈرتا ہی نہیں ۔ بہترین قاری جنکی قرات سننے سے سخت سے سخت د ل بھی نرم بن جاتا ہے ۔ محبت الٰہی خوف الٰہی کا نورانی پیکر بے ملال مقرر قال اللہ قا ل ا لرسول پر گھنٹوں تقریر کرنے والے جن کا لفظ لفظ دل پر نقش ہوتا چلا جاتا ہے۔
بے مثال مفتی آپ جو بھی فتو یٰ پوچھے فوراََ جواب ملےگا۔
قرآن وحدیث وائمہ کے اقوال سند میں فوراََ پیش کردیتے ہیں۔
قوت حافظہ پر حیرت ہوتی ہے
۔ بغیر کتابوں کی مدد کے قوت یادداشت سے بر موقعہ
جوان دینے والے جس کا ہر لفظ سچا اور دل پر اثر کرنے والا ہوتا ہے۔ آپ دوستوں کے دوست ۔ بچوں کے دوست ، مسافروں کے دوست ۔ غریبوں کے دوست۔ مسکینوں کے دوست یتیموں کے دوست ۔ ہر پابند صوموصلٰوۃ مسلمانوں کے دوست ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ قوم کی طرف سے نقدی پیش کی۔ آپ نے اس ہمیشہ ٹھکرایا۔ کبھی کسی وقت بھی قبول نہ فرمایا ۔ سچ ہے کہ قال اللہ قال الرسول کی قیمت چاندی کے بے جان سکّے نہیں ہیں۔ آپ خلوص وایثار کی جیتی جاگتی تصویر ہیں ۔ جو اس صدی میں چراغ لے کر ڈھوندنے سے بھی نہیں ملتی ہے۔ آفاق ہاگر دیدہ ام مہربتاں ورنویدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
\
اس دور الحاد فتنہ و فساد میں آپ واقعی آفتاب ہدایت ہیں ۔ بڑے ہی خوش قسمت ہیں مسلمانان ہانگل کہ رب العزت نے انہیں ایک صالح متقی متبحرعالم کی ذات سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیدیا ہے ۔ اب مسلمانان ہانگل کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس آفتاب شریعت سے کما حقہ فائدہ اٹھائیں ۔ ایک دینی مدرسہ قائم کرکے بچوں اور جوانوں کی دینی تربیت کا انتظام کرائیں اورعلامہ موصوف سے تصنیف وتالیف کاکام لیں۔تاک ہماری قوم کے جوان اوربچے سب کے سب راسخ العقیدہ سچے سنی مسلمان بن کرنکلیں۔اس دوربے دینی میں اپنےایمان واسلام کی حفاظت فرض اولین ہے۔حضرت علامہ موصوف کی ذات گرامی شریعت وتصوف کادریائے بیکراں ہے۔ایسے نایاب ہستیاں باربار پیدانہیں ہوتے
۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدۂ ور پیدا
آپ شہرت اورنام ونمود سے ہمیشہ دوررہا کرتے ہیں ۔ علوم شریعت کاگہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ جوبھی مسئلہ پوچھاجائے محققانہ اندازمیں سب کچھ سمجھادیتے ہیں ۔مسئلہ کاکوئی حصہ بھی تشنۂ تکمیل نہیں رہتا۔آپ عشق رسولﷺ اورزہدوتقویٰ کاعالی مرتبہ حاصل ہے۔ کاش قوم ایک متبحرعالم کی حقیقت کوپہچانے اوراس دریائے علوم سے اپنی روحانی تشنگی کوبجھائے ۔ایک خدارسیدہ بزرگ سے اپنی آخرت سنوارلیں۔وماعلیناالاالبلاغ
بے مثال مفتی آپ جو بھی فتو یٰ پوچھے فوراََ جواب ملےگا۔
قرآن وحدیث وائمہ کے اقوال سند میں فوراََ پیش کردیتے ہیں۔
قوت حافظہ پر حیرت ہوتی ہے
۔ بغیر کتابوں کی مدد کے قوت یادداشت سے بر موقعہ
جوان دینے والے جس کا ہر لفظ سچا اور دل پر اثر کرنے والا ہوتا ہے۔ آپ دوستوں کے دوست ۔ بچوں کے دوست ، مسافروں کے دوست ۔ غریبوں کے دوست۔ مسکینوں کے دوست یتیموں کے دوست ۔ ہر پابند صوموصلٰوۃ مسلمانوں کے دوست ہیں۔ ہم نے کئی مرتبہ قوم کی طرف سے نقدی پیش کی۔ آپ نے اس ہمیشہ ٹھکرایا۔ کبھی کسی وقت بھی قبول نہ فرمایا ۔ سچ ہے کہ قال اللہ قال الرسول کی قیمت چاندی کے بے جان سکّے نہیں ہیں۔ آپ خلوص وایثار کی جیتی جاگتی تصویر ہیں ۔ جو اس صدی میں چراغ لے کر ڈھوندنے سے بھی نہیں ملتی ہے۔ آفاق ہاگر دیدہ ام مہربتاں ورنویدہ ام
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
\
اس دور الحاد فتنہ و فساد میں آپ واقعی آفتاب ہدایت ہیں ۔ بڑے ہی خوش قسمت ہیں مسلمانان ہانگل کہ رب العزت نے انہیں ایک صالح متقی متبحرعالم کی ذات سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیدیا ہے ۔ اب مسلمانان ہانگل کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس آفتاب شریعت سے کما حقہ فائدہ اٹھائیں ۔ ایک دینی مدرسہ قائم کرکے بچوں اور جوانوں کی دینی تربیت کا انتظام کرائیں اورعلامہ موصوف سے تصنیف وتالیف کاکام لیں۔تاک ہماری قوم کے جوان اوربچے سب کے سب راسخ العقیدہ سچے سنی مسلمان بن کرنکلیں۔اس دوربے دینی میں اپنےایمان واسلام کی حفاظت فرض اولین ہے۔حضرت علامہ موصوف کی ذات گرامی شریعت وتصوف کادریائے بیکراں ہے۔ایسے نایاب ہستیاں باربار پیدانہیں ہوتے
۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدۂ ور پیدا
آپ شہرت اورنام ونمود سے ہمیشہ دوررہا کرتے ہیں ۔ علوم شریعت کاگہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ جوبھی مسئلہ پوچھاجائے محققانہ اندازمیں سب کچھ سمجھادیتے ہیں ۔مسئلہ کاکوئی حصہ بھی تشنۂ تکمیل نہیں رہتا۔آپ عشق رسولﷺ اورزہدوتقویٰ کاعالی مرتبہ حاصل ہے۔ کاش قوم ایک متبحرعالم کی حقیقت کوپہچانے اوراس دریائے علوم سے اپنی روحانی تشنگی کوبجھائے ۔ایک خدارسیدہ بزرگ سے اپنی آخرت سنوارلیں۔وماعلیناالاالبلاغ
محترم دوستو
ہمیں ا امیدرہے گی کہ آپ ہماراہرممکن تعاون فرمائیں گے۔
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
دوبارہ ضرورتشریف لائیے
والسلام
دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
جزاک اللہ خیر
صدرواراکین تنظیم الرشادہاگل شریف
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
Popular Tags
Islam
Khawab Ki Tabeer
خواب کی تعبیر
Masail-Fazail
waqiyat
جہنم میں لے جانے والے اعمال
AboutShaikhul
Naatiya Shayeri
Manqabati Shayeri
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
آداب حج و عمرہ
islami Shadi
gharelu Ilaj
Quranic Wonders
Nisabunnahaw نصاب النحو
al rashaad
Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri
نِصَابُ الصرف
fikremaqbool
مُرقعِ انوار
Maqbooliyat
حدائق بخشش
بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan)
Taqdeesi Mazameen
Hamdiya Adbi Mazameen
Media
Zakat Zakawat
اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت
اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت
مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی
Mazameen
mazameenealahazrat
گھریلو علاج
شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲)
نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔
Libarary
BooksOfShaikhulislam
Khasiyat e abwab us sarf
fatawa
مقبولیات
کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ)
کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی
News
مذہب اورفدؔا
صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
about
نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی
manaqib
Du’aas& Adhkaar
Kitab-ul-Khair
Some Key Surahs
naatiya adab
نعتیہ ادبی
Shayeri
آیاتِ قرآنی کے انوار
نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya)
نعتیہ ادبی مضامین
غلام ربانی فدا شخص وشاعر
مضامین
Tabsare
تقدیسی شاعری
مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے
مسائل و فضائل
app
books
تبصرہ
تحقیقی مضامین
شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1)
علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی
Hamd-Naat-Manaqib
tahreereAlaHazrat
hayatwokhidmat
اپنے لختِ جگر کے لیے
نقدونظر
ویڈیو
hamdiya Shayeri
photos
FamilyOfShaikhulislam
WrittenStuff
نثر
یادرفتگاں
Tafseer Ashrafi
Introduction
Family
Ghazal
Organization
ابدی زندگی اور اخروی حیات
عقائد
مرتضی مطہری
Gallery
صحرالہولہو
Beauty_and_Health_Tips
Naatiya Books
Sadqah-Fitr_Ke_Masail
نظم
Naat
Shaikh-Ul-Islam Trust
library
شاعری
Madani-Foundation-Hubli
audio
contact
mohaddise-azam-mission
video
افسانہ
حمدونعت
غزل
فوٹو
مناقب
میری کتابیں
کتابیں
Jamiya Nizamiya Hyderabad
Naatiya Adabi Mazameen
Qasaid
dars nizami
interview
انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ
غیرمسلم شعرا
نعت
Abu Sufyan ibn Harb - Warrior
Hazrat Syed Hamza Ashraf
Hegira
Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan
Khutbat-Bartaniae
Naatiya Magizine
Nazam
Shura
Victory
khutbat e bartania
نصاب المنطق
اِسلامی زندگی
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
Khawab ki Tabeer
Most Popular
-
بسم الرحمن الرحیم السلام علیکم الحمد للہ !ناظرین محترم تمام تعریفیں رب کائنات کے لئے جس نے لفظ کن سے کائنات عالم کی تخلیق کی۔ اور ...
-
(۱)۔۔۔۔۔۔ اِفْتِعَالٌ: باب اِفْتِعَالٌ میں فاء کلمہ کے بعد تاء زائدہ ہوتی ہے۔جیسےاِجْتَنَبَ۔ بنانے کا طریقہ: ثلاثی مجرد کے ف...
-
بسم الرحمن الرحیم آپ کے ہر ممکن تعاون کی ہمیں ضرورت ہے۔ Tanzeem-ur-Rashad C/o Karnatak Hardware Usmaniya Complex, (hollati Buildi...
-
حروف اصلیہ اور حروف زائدہ کے ا عتبار سے کلمہ کی چھ اقسا م ہیں: (۱)ثلاثی مجرد (۲)ثلاثی مزیدفیہ (۳) ربا عی مجرد (۴)رباعی مزیدفیہ ...
-
تمام ابواب کو چھ حصوں پر تقسیم کیا جاسکتاہے: (۱)ثلاثی مجرد کے ابواب (۲)ثلاثی مزید فیہ کے ابواب (۳)رباعی مجرد کے ابواب (۴)رباعی مزید...
-
سبق نمبر: (10) (۔۔۔۔۔۔باب تَفَعُّل کی خاصیات۔۔۔۔۔۔) اس باب کی خاصیات درج ذیل ہیں: (۱)تعمل(۲)موافقت(۳)ابتداء(۴)اتخا ذ(۵)سلب مأخذ (۶) تدریج ...
-
(۱)عدل کی تعریف: کسی اسم کابغیر کسی قاعدہ صرفی کے اپنے صیغے سے دوسرے صیغے کی طرف پھیراہوا ہونا۔جیسے:ثُلٰثُ(تین تین)ثَلٰثَۃٌ ثَلٰثَۃ...
-
سورہ یوسف کا خلاصہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو ''احسن القصص'' یعنی تمام قصوں میں سب سے اچھا قصہ ف...
-
نقشہ برائے ثلاثی مجرد ابواب ۱۔ضَرَبَ یَضْرِبُ تعمل۔۔۔۔۔۔۔۔موافقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتخاذ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تدریج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کثرت مأخذ اطعام مأخذ۔۔۔۔۔۔ البا ...
-
مشق برائے ثلاثی مجرد ابواب سوال نمبر1: درج ذیل خاصیات کی تعریف کریں اور مثال سے واضح کریں۔ تعمل،موافقت ،اتخاذ،تدریج،کثرت مأخذ،اطعام مأخذ،ا...

