Showing posts with label fatawa. Show all posts
Showing posts with label fatawa. Show all posts
پردہ کی ابتدا

پردہ کی ابتدا

پردہ کی ابتدا

مولاناسیدمحموداحمدرضوی نائب ناظم انجمن مرکزی حزب الاحناف لاہور

۱) پردہ کا سب سے پہلا حکم   ۰۵؁ میں نازل ہوا جبکہ حضور اکرم ﷺ نے ام المومنین زینب سے نکاح فرمایا۔ اور جس کی تعمیل میں جناب رسول اللہﷺ نے تمام ازواج مطہرات کے مکانوں پرپردے ڈالوا دیے جو اس سے قبل نہ تھےاور غیر محرموں کو اندرجانے سے منع فرمایا۔ چنانچہ روایت ہے کہ طلحہ جو حضرت صدیقہ ؅کے چچازاد بھائی تھے، ان کو حضور ﷺ نے صدیقہ طاہرہ ؅سے ملنے کوروک دیا جس پروہ ناراض ہو گیے۔
۲) آیات حجاب کے نزول سے قبل عورتیں بے پردہ نکلتی تھیں مگر جب حجاب کی آیتیں نازل ہوئیں تو صحابیات اور مسلم عورتوں نے عہدنبوت ہی میں پردہ کرنا شروع کردیا اور صحابہ کرام پردہ کے احکام کی تفصیل دریافت فرمانے لگے۔
۳) مجلس اقدس میں مستورات کی فلاح وبہبودی کے متعلق تذکرہ ہوا کرتاتھا ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا کہ عورتوں میں آمدورفت نہ رکھاکرو۔ایک صحابی نے عرض کی یارسول اللہ ارایت الحموا قال الحموالموت یارسول اللہ دیور کے متعلق کیا حکم ہے۔ فرمایا دیور تو موت ہے یعنی دیورجیٹھ اور خاوند کے رشتہ داروں سے پردہ کرنا تونہایت ضروری ہے۔

۴) مجالس ابرار میں لکھا ہے۔سدون ال۔۔۔وللوی لئلا تطلع الینا علی الرجال ۔ کہ صحابہ کرام دیواروں کے سوراخ اور جھڑکوں کو اس لیے بند کردیتے تھے کہ عورتیں مردوں کو نہ دیکھ سکیں۔
۵) عورتیں عہد نبوت میں مسجدوں میں پردہ کا اہتمام کے ساتھ آتیں تھیں اور آخرصف میں نماز پڑھتیں مگر حضرت صدیقہ ؅ اس سے بھی روک دیا اورفرمایا۔ لویہ النبی ﷺ کمااحدث النسا من عھد المساجد۔(مسلم شریف) اگر نبی کریم ﷺ یہ صورت ملاحظہ فرماتے جو عورتوں نے اب پیداکردی ہے تو ان کو مسجدوں میں آنے سے روک دیتے۔چنانچہ جوان کوعورتوں کو روک دیا گیا۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ؅ نے اس زمانے میں جوخیروبرکت ،رشد وہدایت کا زمانہ تھا۔مستورات کومساجد میں آنے سے روک دیا اور مستورات کو پردہ کی پوری شرطوں کے ساتھ مسجدوں میں آنا بھی پسند نہ فرمایاْچہ جائے کہ آج مستورات کو سربازار بے حجاب وبے نقاب چہرے کھولے پھرنے کی اجازت دی جائے۔
۶) نیز خدمتِ نبویﷺ میں جو مستورات حاضرہوئی یقیناً وہ بھی حجاب ونقاب کے ساتھ آتی تھیں۔ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہے کہ ایک عورت حضورﷺ کی خدمت میں حاضرہوئی کہا دیکھو اس کا بیٹا مارا گیاہےاوراس کو نقاب کی پڑی ہے،صحابہ نے کہا اگرمجھ پرمصیبت آئی ہےلیکن میری شرم وحیا پرتو مصیبت نہیں آئی۔
حضرت صدیقہ ؅ فرماتی ہیں ایک عورت خدمت نبوی ﷺ میں اومت من ورا حجاب کتاب ابی رسول اللہ ﷺاور انہوں نے پردہ کے پیچھے سے ایک خط خدمتِ اقدس میں پیش کیا۔

ناظرینِ کرام ! یہ چند عبارتیں ہم نے اس لیے نقل کی تاکہ معلوم ہوجائے کہ عہدنبوت ہی میں مستورات نے پردہ کرنا شروع کردیا تھااور خدمت رسالت میں مستورات باپردہ آتی تھیںاور حضور نبی کریمﷺ بھی اجنبیات سے پردہ فرماتے تھے اور  جولوگ یہ کہتے ہیں کہ عہدنبوت میں پردہ نہ تھا یا ایسا پردہ نہ تھا جس کا حکم آج علماے کرام دے رہے ہیں۔وہ سخت غلطی پرہیں نیز جب آیات پردہ کی مویدہیں توپھر ان کا ایسا کہنا کیا حقیقت رکھتا ہےبلکہ ایسا کہنا صحابہ کرام پراحکام قرآنی کی پابندی نہ کرنے کا الزام شدید ہے

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

محمدعبدالہادی مجددی

معززقارئین کرام! ایک رسالہ بعنوان تحققیق حق محترم محمد یحیٰ صاحب شمسی (بن حضرت الحاج مولوی محمدعمرصاحب رحمہ اللہ علیہ ) نےلکھ کرشائع فرمایا ہے۔ جسے ہم نے خلوص کے ساتھ دیکھا اور مطالعہ نے جن تاثرات سے ہمیں محفوظ کیا ہے ۔ وہ آپ کی خدمت میں پیش ہیں
محترم مضمون نگار نے رسالہ کے صفحہ ایک اورآٹھ پر مندرجہ ذیل عبارتیں لکھی ہیں ۔
۱) برادران اسلام! ایک اشتہار بعنوان جواب سوال بصورت سوال وجواب کے ذریعے عوام کو پھرفروع مسائل میں الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔آج مسلمان فرائض وواجبات سے غافل ،کبائر میں مبتلا ہیں لیکن بعض خودغرضوںکو اسکے تدارک کی فکر نہیں مگر فاتحہ کی فکر ہے (صفحہ ۱)(۲) (۸)۔
نوٹ: چونکہ ہم سے بعض حضرات نےاشتہار مذکورکے جواب یاتسلیم کاسخت مطالبہ کیا تھا۔ اس لیے یہ مضمون تحریر کرناپڑا ورنہ ہم ایسے کاموں میں مشغول ہونا پسند نہیں کرتے۔
سبحان اللہ رسالہ لکھنے والے بزرگ سے جب بعض حضرات مسئلہ فاتحہ پرفتویٰ مانگتے ہیں۔ توفاتحہ کوناجائز بتا کر نہ مصنف رسالہ خودغرض بنتے اور نہ یہ فاتحہ کا مسئلہ فروعی ہی رہتاہے بلکہ مصنف رسالہ کے قلم کو حرکت میں لانے والے بعض حضرات جوکچھ کرتے ہیں۔ وہ سب فرائض وواجبات میں داخل ہوکر کبائر کےخلاف جہادِ اکبر ہوجاتا ہےاور جب اس کے سوا دوسرے مسلمان مسئلہ فاتحہ پر قلم اٹھاتے ہیں خود غرض بددیانت اورفریبی بن جاتے ہیں۔
بروز حشر گر۔۔۔۔۔ امت راچراکشتی
چہ خواہی گفت قربانت شوم من نیز متشاقم۔
للہ غور فرمایاجائے کہ آخر اس طرح کی دورنگی عبارتیں شائع فرمانے کے لیے روپیہ وقت اور محنت ضائع کرنے سے دین ودنیا کی کونسی دولت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد صفحہ ۲ پر رسالہ نویس نے اسی فروعی مسئلہ میں فتاوی اورجندی پر لے دے کر کرتے ہوےمذکور کتاب کو تسلیم نہ کرنے کے لیے جودلیل ذیل دی ہے۔ اس کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔آپ کومعلوم ہونا چاہئے کہ ۸۵۷؁ء کے بعد جبکہ انگریز نے وہابی اور سنی کا جھگڑا پیدا کرکے مسلمانوں کی مجموعی قوت کوتوڑنے کی کوشش شروع کی تھی۔ اور فروعی مسائل کو ابھارا گیا تھا، یہ روایت اس وقت گھڑی گی تھی۔
محترم رسالہ نگارنے جودلیل فتاویٰ اوزجندی کے ناقابل استدلال ہونے کی فرمائی ہےوہ نہ قرآن مجید میں ہے نہ حدیث رسولﷺ میں۔
یہ دلیل بےدلیل توایسی ہی مضحکہ خیز ہے۔ جیسے کوئی کوسنے والاعلامہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے کہ یہ مدرسہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اورمسلمانوں کی مجموعی قوت کوتوڑنے کے لیے انگریز نے خفیہ طورپر فنڈ کراکے تیار کرایا تھا۔
مکرم ناظرین!غور فرمایئے کہ ایسی بے سروپا کہانیوں کو دلیل سمجھنا کیسی غلطی اور زبردست مغالطہ ہے۔
مگر ہمارے مصنف رسالہ اسے فاتحہ کو ناجائز کردینے والی عظیم الشان ترجمان قرآن وحدیث دلیل سمجھ رہے ہیں۔
اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
یہ گھر جوجل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
اس کے بعد محترم رسالہ نویس نے صفحہ ۵ سے صفحہ ۶ تک بحث کرکے یہ فتویٰ دیا ہے کہ قرآن شریف میں حرکات زیروزبر لگانا علم تجوید ایجاد کرنا، علم نحووصرف کوایجاد کرنا، مدرسہ قائم کرناوغیرہ کے لیے اصل صحیح یعی وجہ جواز یہ ہے کہ حفاظت قرآن نماز میں تلاوت قرآن فہم قرآن وغیرہ فرض ہے۔
محترم صاحب رسالہ کے اس مبارک فتویٰ سے چشم ما رشن دل ماشاد جب قیام مدارس اور علم صرف و نحو وتجوید وغیرہ مروجہ علوم وفنون کو آپ فہم قرآن حفاظت قرآن کا مدار علیہ فرماتے ہیں۔ اور اسے بدعت حسنہ اور سنت حسنہ نام رکھتے ہیں۔ حالانکہ ان مختلف فیہ علوم پر ان کے ماہرین کاتمام مسائل میں اتفاق بھی نہیں ہےاور نہ یہ مروجہ علوم وفنون براہ راست قرآن کا مقصود ہی ہیں۔ تو پھر بیچارہ ایصال ثواب کی اصل صحیح نے کسی کاکیا بگاڑا ہے کہ اس اصل صحیح کومانتے ہوئے بھی اس کی مختلف شکلوں کے لیے کسی’’خاص مستقل‘‘ حدیث کے انتظار وتلاش میں کسی کا حواس باختہ ہونا منظور رکھا جائے۔
محترم رسالہ نویس نے صفحہ ۷ پرقیاس صحیح کو شرعی حجت فرمایاہے اس کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ کیاایصال ثواب کی مختلف شکلوں والے تعامل کے لیے اس کی صحیح ایصال ثواب کی بنا پر قیاس صحیح عرفاً فاتحہ وغیرہ کہہ لینے کو برداشت نہیں کرسکتا۔؟
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا۔
محترم مصنف نے قیاس صحیح کو شرعی حجت قرار دیتے ہوئے صف ۷ پر بھنگ تاڑی افیون کو ایصال ثواب کا مدارعلیہ قیاس فرمایاہے سوکون صاحب بصیرت مصنف کے اس خیال کو قیاس صحیح کا درجہ دینے کی ہمت کرے گا۔صفحہ ۷ پر مصنف رسالہ کا یہ گہربار فتویٰ موجود ہے۔
ظاہر ہے کہ اس طرح آج تک کوئی ثبوت اس فاتحہ مروجہ کانہیں مل سکا،لہٰذا یقیناً یہ طریقہ فاتحہ مروجہ کابدعت شرعیہ میں داخل ہے اورقطعاً ناجائز ہے۔
اب صفحہ ۸پرفاضل مصنف کایہ مہربان فتویٰ ملاحظہ فرمایئے ایسے فروعی اختلافات اوران سے متعلق اشتہارات من گھڑت بیانات سے دلچسپی لینا چھوڑ دیں۔
ہماری رائے یہ ہے کہ اختلافی مسائل کامعاملہ ان کے اور خدا کے حوالے کردینا چاہئے نہ کسی کو کرنے پرمجبور کیاجائے نہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔
ناظرین کرام !مقام عبرت ہے کہ کل بدعۃ ضلالۃ کے مطابق جن مصنف صاحب نے فاتحہ مروجہ کو قطعاً ناجائز فرمایاتھا ۔اب آپنے آخری فتویٰ میں وہی بزرگ کل بدعۃ ضلالۃ کے مطابق فاتحہ مروجہ کو اختلافی مسئلہ کہنے پر مجبور ہوگیے ہیں۔
ہمیں حیرت ہے کہ جب کل بدعۃ ضلالۃ کومٹانے اور اس سے یکلخت نفرت فرمانے کی بجائے مصنف اسے فروعی اختلاف اور اختلافی مسئلہ فرمارہے ہیں۔ آخربدعت شرعیہ سے اتنی ہمدردی کیوں؟۔
ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ مصنف فاضل سارے چکر کاٹ کر آخر اسی نقطہ پر کس طرح آ پہنچے کہ فاتحہ کامعمول بہا طریقہ بدعت حسنہ ، سنت حسنہ میں امت کا اختلاف ثابت ہے جیسا کہ خود مصنف نے اپنے رسالے کے ص ۶ پر تراویح باجماعت میں امرحضرت عمر بیان کیا ہے۔
آخر میں ہم جمیع مسلمانوں کے لیےجناب باری تعالیٰ میں التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور حسنات میں ترقی کرنے کی ہمیں توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

مولاناشاہ عبدالعزیز دہلوی کو گنگوہی نے تقیہ بازبتادیا

مولاناشاہ عبدالعزیز دہلوی کو گنگوہی نے تقیہ بازبتادیا

مولاناشاہ عبدالعزیز دہلوی کو گنگوہی نے تقیہ بازبتادیا
اور شاہ اسحاق دہلوی وہابی تھے اور گنگوہی صاحب کی گواہی
مفتی محبوب علی خان؄ ممبئی کا فتوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شاہ اسحاق صاحب دہلوی کس عقیدہ اور مذہب کے تھے۔ یعنی سنی تھے یاوہابی اور ان کے سلسلہ میں بیعت ہونااور بیعت کرنا جائز ہے یا نہیں۔؟
صوفی محمد علی قادری رضوی ڈھکنہ پوروہ کانپور)
الجواب:اللھم ھدایۃ الحق والصواب:
شاہ اسحاق دہلوی اور اسماعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان وغیرہ دونوں ایک ہی خاندان اور ایک ہی عقیدے اور مذہب کے وہابی تھے۔ شاہ اسحاق کی وہابیت ان کی اربعین اور مائۃمسائل سے خوب ظاہر و روشن ہے۔ ان کی اربعین کاردبلیغ حضرت مولانا شاہ ابو سعید احمدنقشبندی دہلوی نے فرمایا۔ اس کتاب کا نام حق الیقین ہے اور مائۃ مسائل کاواضح اور صاف رد تصحیح مائۃ مسائل حضرت بابرکت مولاناشاہ فضل رسول صاحب قادری عثمانی بدایونی رحمت اللہ علیہ نے لکھا اور بمبئی سے شائع ہوا۔ توحضرات علمائے اہل سنت کثرہم اللہ تعالیٰ ویداہم نے اب سے بہت پہلے شاہ اسحاق دہلوی کی وہابیت کو ظاہر وآشکار فرمادیا اور ان کی تصانیف مبارکہ آج بھی مسلمانانِ اہل سنت کی رہبری فرمارہی ہیں۔ آج وہابیہ دیوبندیہ کی طاغوت اکبر جناب رشیداحمد گنگوہی کی زبان سے شاہ اسحٰق دہلوی کی وہابیت سنئے۔ یہ لیجئے دیوبندیوں کی کتاب تذکرۃ الرشیدحصہ دوم ص ۲۴۷؁ میں لکھا ہے کہ ایک دن مولانا ولایت حسین صاحب نے دریافت کیا، حضرت اس کی کیا وجہ ہے کہ شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو سب لوگ اچھاکہتے ہیں اور مانتے ہیں مگر اسی خاندان کے دوسرے حضرات کو برا کہتے ہیں، حضرت امام ربانی (رشید احمد گنگوہی) نے ارشاد فرمایا، میاںکہوں گا تمہیں بھی بری لگے گی اورمجھے بھی ۔
بات یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ پر بعض لوگوں کے اعتراضات تھے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب ان کو رفع کرنا چاہتے تھے اس وجہ سے بات لگا کر کہتے تھے ۔ایک مرتبہ شاہ صاحب سے واعظ کے بعد کسی شخص نے پوچھا ۔ حضرت بڑے پیر صاحب کا دوگانہ پڑھنا کیسا ہے۔؟
شاہ صاحب نے فرمایا بھای حدیث میں تو کہیں نہیں آیا ہے ۔ہاں فعل مشائخ ہے۔ میر محبوب علی صاحب وہاں موجود تھے کہنے لگے کہ حضرت! مسائل حدیث اور فعل مشائخ کونہیں پوچھتا وہ تو جواز اور عدم جواز دریافت کرتا ہے شاہ صاحب نے پھر وہی فرمایا ، اس پر میر محبوب علی صاحب وہاں موجود تھے ، کہنے لگے کہ حضرت! مسائل حدیث اور فعل مشائخ کو نہیں پوچھتاوہ توجواز اورعدم جواز دریافت کرتا ہے ، شاہ صاحب نے پھروہی فرمایا۔ اس پر میرمحبوب علی صاحب نے کہا صاف فرمادیجئے کہ جائز ہے یا ناجائز۔ تب تو سائل بھی کہنے لگا جی ہاں میری بھی یہی غرض ہے عبدالعزیز نے میر محبوب کو ڈانٹ کر کہا۔ تومجھے لوگوں سے گالیاں سنوانی چاہتا ہے ۔ ایک مرتبہ مااھل کا مسئلہ لکھا تھا تو اب تک گالیاں سن رہا ہوں۔ اس وقت میر محبوب علی صاحب نے سائل سے کہا ۔ سن لو حضرت اس نماز کو ناجائز فرمارہے ہیں۔ مگرگالیوں 
کے ڈر سے صاف جواب نہیں دے سکتے۔ اس قصہ کے بعد حضرت امام ربانی (رشیداحمدگنگوہی)نے ارشاد فرمایا کہ بات لگاکرکہنے میں کوئی نفع نہیں ہوتا۔ بری چھوٹتی نہیں۔ شاہ اسحاق اور مولانا اسماعیل صاحب ان سب حضرات کا ایک ہی مشرب تھا مگر شاہ اسحاق صاحب نے شقوق نکال کر کہا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ مولوی اسماعیل نے صاف صاف منع کیا، بہیترے مان گیے۔
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
گنگوہی کی یہ گواہی ہے اور گنگوہی کے خلفا خلیل احمد اینبھٹوی ومحمود حسن دیوبندی و عاشق الٰہی میرٹھی وغیرہم کی تصدیق وتصحیح سے شائع ہوئی ہے۔
توثابت ہوا کہ دیوبندی اکابرواصاغر کے نزدیک بھی شاہ اسحاق دہلوی اور اسماعیل دہلوی دونوں ہم عقیدہ و ہم مذہب تھے۔ اور دونوں ہی وہابی تھے۔ لہٰذا جناب شاہ اسحاق کا سلسلہ  ہی منقطع ہوا۔ مسلمانوں کو ان کے سلسلے میں بیعت ہونا اور بیعت کرنا ہرگزہرگز جائز نہیں بلکہ حرام ہے اور جو سنی مسلمان ناواقفیت سے ہوچکے انہیں جلد ازجلد اس سے علاحدہ ہونافرض ہے۔
قرآن عظیم فرماتا ہے ۔وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ۔ اور ارشاد فرماتا ہےوَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اور حدیث شریف میں ہے ۔ ایاکم وایاھم ۔ تم ان سے دور رہو انہیں اپنے سے دور رکھو اور حدیث شریف میں ہے۔
ولاتصلو معھم۔ان کے ساتھ نماز نہ پڑھو جب بدمذہبوں کے ساتھ پڑھنے سے منع فرمایاتوبدمذہب وبد دین وہابی کے سلسلے میں مرید ہونا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ اور یہ ثبوت توسارے کے سارے دیوبندیوں کو مسلم ومعتبر ہے توشاہ اسحاق دہلوی کی وہابیت اب برادرانِ اہل سنت کے علما اور وہابیوں دیوبندیوں کی وہابیت اب برادران اہل سنت کے علمااور وہابیوں دیوبندیوں کے زعما نے خوب واضح وآشکار کردی ۔ 
خدائے تعالیٰ مسلمانان اہل سنت کو ان بدمذہبوں بددینیوں سے دور رکھے ۔آمین۔
اب ہم سنی بھائیوں کویہ غور کرناہے کہ گنگوہی جی نے شاہ اسحاق کی وہابیت کی نقاب کشائی توکی حضرت شاہ عبد العزیز  صاحب دہلوی کو تقیہ باز ، عیار، مکار سب کچھ کہہ ڈالا اور محض بے ثبوت واقعہ گڑھ کراس سے یہ بھی ثابت ہواکہ دیوبندیوں کے بڑے بوڑھے شروع سے ہی جھوٹے واقعات بے بنیاد گڑھنے کی عادی ہیں۔ اسی طرح فسادی ملا بہرائچی نے ابلیس کی پیروی کرکے گڑھی مگرالحمدللہ کہ فقیرنے اس فسادی ملا کاوہ ردتبلیغ کردیا ہے کہ سارے دیوبندی دم بخود پڑے ہیں۔ جواب ندارد ہے۔ دیوبندیو! مسلمانوں کے جذبات ایمان واسلام سے مت کھیلو ورنہ تمہارے بڑوں پرکھوں پرانوں کے جو حالات وکیفیات وخرق عادات وخلاف فطرت وانسانیت تمہارے کتابوں میں جو بدمذہب دیوبندیوں سے جلد ازجلد دور والگ ہوجاؤ جودن رات برابر تمہارے بزرگوں اورپیشواؤں کی توہین وتنقیص کرتے رہتے ہیں۔
بہرحال شاہ اسحاق دہلوی اور اسماعیل دہلوی دونوں ایک ہی درجہ ایک ہی نمبر کے وہابی تھے ۔لہٰذا مسلمانوں کو ان دونوں اور دیوبندیوں سے دورونفور رہنا چاہئے۔
خدائے تعالیٰ توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
اللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وسلم۔
فقیر ابولظفر محب الرضا محمدمحبوب علی خان سنی قادری 
برکاتی خطیب جامع مسجد مدنپورہ بمئے۔

مکروہاتِ وضو

مکروہاتِ وضو

مکروہاتِ وضو

وَمَكْرُوهُهُ: لَطْمُ الْوَجْهِ ،أَوْ غَيْرِهِ (بِالْمَاءِ) تَنْزِيهًا (درمختار)
اور مکروہ تنزیہی ہے، چہرہ وغیرہ پر پانی کوزور سے مارنا والتکیۃ والاسراف اور مکروہ ہے پانی میں کمی کرنا اورزیادتی کرنا ۔کمی کی صورت یہ ہے کہ اعضا کو دھونے میں تیل کی طرح پانی چپڑے بلکہ اچھی طرح اعضا پر تین بار پانی کو جاری کرے۔ ومنہ الزیادۃ علی الثلاثہ اور اسراف سے ہے ۔ تین بار سےزیادہ دھونا لیکن تسکین دل یا وضو پروضو کے قصد سے زیادتی درست ہے۔چنانچہ مذکور ہوچکا۔ اصل میں مذکور ہے۔
ادب یہ ہے کہ پانی میں اسراف نہ کرے اور کمی بھی نہ کرے۔ خلاصہ اس صورت میں یہ ہے کہ جب پانی کانہر ہو یا اپنی ملک کا ہو اگرایسے پانی سے وضو کرے جو طہارت کرنے والوں پر وقف ہوتو پانی صرف کرنے میں زیادتی اوراسراف کرنا حرام ہے۔ کسی کا اس میں اختلاف نہیں (بحرالرائق)
بخاری شریف اورمسلم شریف کی حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک مُد سے وضو فرماتے تھے اور ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور بعض روایات میں کم وبیش بھی آیا ہے۔ صاع چار مدکا ہوتا ہے اور مد دورتل کااور رتل بیس امتار کا اور ہرامتار ساڑھے چار مثقال کا ۔ اور مدااورمن شرعی ایک ہی چیز ہے۔
رسول اللہﷺ خود پانی وضوکاکم خرچ کرتے تھے اور بہت پانی خرچ کرنے سے منع فرماتے تھے۔اور فرماتے تھے میری امت میں وہ لوگ پیدا ہوں گے جو وضو کے پانی میں تعدی اور تجاوزحدسے کریں گے۔ یعنی زیادہ پانی وضو میں خرچ کریں گے ۔اور فرماتے تھے کہ وضو کاایک شیطان ہے ،اس کا نام ولہان ہے پانی کا وسوسہ اس سے ہوتا ہے۔متوضی کے دل میں زیادہ پانی خرچ کرنے کا وسوسہ ڈالتا ہے اس سے پرہیز کرو (شرح سفر السعادت) ۔
اور ہر مثقال ساڑھے چار ماشے کاہوتا ہے،تو مد اور من شہر لکھنو کے سیر کے حساب سے تخمیناً تین پاؤ پختہ ہوا۔اس واسطےکہ لکھنو کا پختہ سیرچھیانوے روپیہ ہے اور ہرروپیہ گیارہ ماشے کا ہے۔ صاع جس سے غسل سنت ہے تین سیر پختہ قدرے زائد ہوا ہم لوگوں کو عادت ہوگئی پانی زیادہ خرچ کرنے کی لہذا اکثر لوگ اس قدر پانی خرچ کرنے میں حیران ہوتے ہیں۔ اگر تنگ ٹوٹی 
کے لوٹے سے باحتیاط وضو کریں اس طرح کہ بدن پرپانی گرے چند قطروں کے سوا زمین پر بے فائدہ نہ گرے تو تین پاؤ پانی سے بخوبی وضو ہو سکتا ہے ، اس کا ضرور اہتمام کرنا چاہئے کہ سنت پر عمل کرنے کا ثواب حاصل ہواوراسراف مکروہ سے پرہیز کریںاور ایک مدپانی کے مقدار سے کم نہ کریں(تبیین)
 تَحْرِيمًا وَلَوْ بِمَاءِ النَّهْرِ، وَالْمَمْلُوكِ لَهُ (درمختار)
پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے۔ اگر نہر کے پاس یا اپنے مملوک پانی سے وضو ہو۔
. أَمَّا الْمَوْقُوفُ عَلَى مَنْ يَتَطَهَّرُ بِهِ، وَمِنْهُ مَاءُ الْمَدَارِسِ، فَحَرَامٌ
 (درالمختار)
اور وہ پانی جو طہارت کرنے والوں پروقف کیا گیا اوروقف کئے قسم سے ہے ، مدرسوں کا پانی تو اس میں اسراف کرنا حرام ہے( بالاتفاق)
وَتَثْلِيثُ الْمَسْحِ بِمَاءٍ جَدِيدٍ (درالمختار)ا ور مکروہ ہے تین بارمسح کرنا۔نئے تین پانیوں سے ۔وَمِنْ مَنْهِيَّاتِهِ: التَّوَضُّؤُ بِفَضْلِ مَاءِ الْمَرْأَةِ 
اور وضو کرنا ، ممنوعات سے ہے اور مکروہ ہے ، عورت کے وضو یاغسل کے باقی بچے ہوئے پانی سے۔ اس واسطے کہ شاید اس سے مرد کو کچھ تلذذ حاصل ہو یا یہ وجہ ہے کہ اکثر عورتوں کو نجاست سے محافظت کم ہوتی ہے اورکراہیت تنزیہی پردلالت کرتا ہے (طحطاوی)۔
وَفِي مَوْضِعٍ نَجِسٍ؛ لِأَنَّ لِمَاءِ الْوُضُوءِ حُرْمَةً،(درالمختار)اور مکروہ ہے وضوکرناناپاک جگہ میں۔ اس لیے کہ وضو کے پانی کی کچھ عزت ہے اور یہ بھی وجہ ہے کہ وہاں نجاست کے چھینٹوں کے پڑنے کا خوف ہے (طحطاوی)
 أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، إلَّا فِي إنَاءٍ (درالمختار)
مکروہ ہے وضو کرنا مسجد کے اندر۔ مگر مسجد میں برتن کے اندر وضو کرنا جائز ہے، بشرطیکہ مستعمل پانی مسجد میں نہ گرے۔
أَوْ فِي مَوْضِعٍ أُعِدَّ لِذَلِكَ،  (درالمختار) 
وضو جائز ہے مسجد کے اس مکان میں جو وضو کرنے کو بنایا گیا ہے۔چنانچہ اس ملک میں مسجد کے لب فراش وضو کے واسطے بناتے ہیں۔
وَإِلْقَاءُ النُّخَامَةِ، وَالِامْتِخَاطُ فِي الْمَاءِ.(درالمختار)
مکروہ ہے تھوکنا ، جھاڑنا ۔ اگر چہ پانی جاری ہو یہ کراہت تنزیہی ہے۔ اس واسطے کہ ان کے ترک کرنے کو مستحبات میں شمار کیا ہے۔مسئلہ: مکروہ ہے بائیں ہاتھ سے کلی کرنااور ناک میں پانی ڈالنا۔ مسئلہ : مکروہ ہے داہنے ہاتھ سے ناک جھاڑنا بغیر عذر ( خزانۃ الفقہ) مسئلہ:اور مکروہ ہے کہ کسی ایک برتن کو وضو کے لیے خاص کرلے اس برتن سے سوا اس کے اور کوئی وضو نہ کرے جیسے یہ مکروہ ہے کہ مسجد میں کوئی جگہ اپنی نمازکے واسطے خاص کرے(وجیز)
مسئلہ: اورمکروہ ہے اعضا وضو سے لوٹے وغیرہ میں قطرہ ٹپکانا۔ مسئلہ اور مکروہ ہے قبلہ کی طرف تھوک یا کھنکار یا کلی کا پانی ڈالنا۔ مسئلہ:اور مکروہ ہے بے ضرورت دنیا کی باتیں کرنا۔ مسئلہ: اور مکروہ ہے اتنا پانی کم خرچ کرنا کہ سنت ادا نہ ہو۔ مسئلہ: اور مکروہ ہے ایک ہاتھ سے منہ دھونا کہ رفاض اور ہنود کا شعار ہے، مسئلہ:اورمکروہ ہے منہ پر ڈالتے وقت پھونکنا۔
 وضوکے متفرق مسائل

وضوکے متفرق مسائل

وضوکے متفرق مسائل

 اعلیٰ حضرت سیدمقبول احمدشاہ قادری فاضل کشمیری؄  
مسئلہ اگروضونہ ہوتو نمازاورسجدہ تلاوت اورنماز جنازہ اور قرآن مجید کے چھونے کے لیے وضوکرنا فرض ہے ۔مسئلہ: طوف کے لیےوضوواجب ہے۔مسئلہ: غسل جنابت سے پہلے جنبی کو کھانے پینے اورسونے اور اذان واقامت وخطبہ جمعہ اور عیدین اور روضۂ مبارک حضرت رسول اللہ ﷺ کی زیارت اور وقوف عرفہ اور صفا مروہ کے درمیان سعی کے لیے وضو کرناسنت ہے۔ مسئلہ: سونے کے لیے اورسونے کے بعد میت کو نہلانے یا اٹھانے کے بعد عورت کے صحبت کرنے سے پہلے اورجب غصہ آجائے اس وقت اور قرآن عظیم پڑھنے کے لیے حدیث اورعلم دین پڑھنے پڑھانے کے لیےاورباقی خطبوں کے لیے اور کتب دینیہ چھونے کے لیے اوربعد سترغلیظ چھونے ، جھوٹ بولنے، گالی دینے اور فحش لفظ، غیبت کرنے کے بعد وضو کرنا مستحب ہے۔ صلیب یا بت اورکوئی سفید داغ والے کو چھونے کے بعد اور بغل کھجلانے سے جبکہ اس میں بدبو ہو غیبت کرنے کے بعد قہقہہ لگانے کے بعد لغو اشعار پڑھنے کے بعد، اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد ،کسی عورت کے بدن سے اپنا بدن بے حائل چھونے کے بعد،
 باوضو شخص کو ہرنماز کے لیے اورکافرکے بدن چھونے کے بعد،اگرچہ زبان سے کلمہ طیب پڑھتا ہواپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو جیسے قادیانی غلام احمدکے پیرو، (غلام احمد نے دعوی کیا کہ میں نبی اور رسول ہوں۔اپنی کتاب کو کتاب الٰہی  کہلوایااورحضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دی، ان کی تین دادیاں اور تین نانیاں زانیہ بتائی معاذاللہ۔اپنے آپ کو حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے بہتربتایا۔چنانچہ کہا کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمدہے۔ بہت سے انبیا کی پیشگوئیوں کو جھوٹی بتلایا۔ خاتم النبین میں استثنا کی وغیرہ ۔کفریات ملعونہ یا چکڑالوی یہ ایک نیا طائفہ ملعونہ حادث ہوا۔ نبی کریمﷺ کی پیروی سے منکرہے
 تمام احادیث نبویہ کو باطل ناقابل اعتباربتاتا ہے۔ صرف قرآنِ عظیم کی اتباع کا دعویٰ کرتا ہے۔ ان خبیثوں نے اپنی نماز بھی علاحدہ گھڑ دی ہے جس میں ہروقت کی صرف دو ہی رکعتیں ہیں۔یانیچری یہ باطل طائفہ ضروریات دین کا منکر ہے قرآن عظیم کے معنی قطعیہ ضروریہ میں درپردہ تاویل وتحریف تبدیل کرتا۔ وجودملائکہ ، جن وشیاطین، آسمان وحشر،ابدان ونار و جنان ومعجزاتِ انبیاء علیہم السلام کے ان ہی ملعون تاویلوں کی آڑ میںانکار رکھتا ہے۔
 یا آجکل کے تبرائی ورافضی یہ ملا عند صراحتاً قرآنِ عظیم کو ناقص بتاتے اورمولیٰ علی وجہہ الکریم کو اورائمہ اطہار کو انبیا و سابقین سے بہترٹھہراتے ہیں یاکذابی، یہ ملعون طائفہ اللہ تعالیٰ کو بالفعل جھوٹا بتاتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ وقع کذب کے معنی درست ہوگئے۔بہائی یہ گروہ لعین ہرپاگل اور چوپائے کے لیے علم غیب مان کرکہتا ہے کہ جیسا علم حضرت رسول اللہﷺ کوہے ایسا تو ہرپاگل اورجانور کو ہوتاہے ۔ اس شیطانی گروہ کے نزدیک ابلیس لعین کا علم رسول اللہ ﷺ کے وسعت علم کو باطل اور بے ثبوت مانتا ہےاور ان کے لیے وسعت علمی ماننے کو شرک بتاتا ہے۔ مگر ابلیس کی وسعت علم میں خدا کا شریک جانتا ہے ۔خواتمی یہ شقی گروہ رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے پرصاف منکر ہےاور خاتم النبین کے معنی میں تحریف کرتا ہے۔ بمعنیٰ آخرنبی لینے کو خیال جہال بتلاتا ہے یارسول اللہ ﷺکے چھ یا سات مثل موجود 
مانتاہے۔غیرمقلد بدبخت طائفہ تقلید ائمہ اربعہ کو کفر وشرک بتاتاہے حالانکہ تقلید کرنے کا حکم اللہ اوررسول اللہ ﷺکا ہے۔اس طائفہ ملعونہ نے خدا اوررسولﷺ کو بھی کافرمشرک کہا ہے۔کیوںکہ کفروشرک کے لیے حکم دینا، کفروشرک پر راضی رہنا بھی کفرہے ۔ جھوٹے متصوف کے حلول واتحاد کے قائل شریعت مطہرہ کے صراحتاً منکر ومبطل ہیں۔ان دس طائفوں اور ان کے امثال سے مصافحہ کرنا تو خود ہی حرام قطعی گناہ کبیرہ ہے۔)اگر بلا قصد بھی ان کے بدن کو چھو جائے تووضو کا دوبارہ کرنا مستحب ہے۔مذکور بالا فریق منقول ہوئے۔ (از فتاوی رضویہ ) ان دس فریق میں سے یہ چار یعنی کذابی، بہائی، شیطانی خواتمی، دیوبندی، وہابیوں کے ہیں۔اگر کسی کو اس کی تفصیل دیکھنا منظور ہوتو حسام الحرمین دیکھ لیں جس کا اردو ترجمہ ہوچکا ہے۔
مسئلہ جب وضو جاتارہے  پھروضوکرنامستحب ہے۔ مسئلہ: نابالغ پروضوکرنا فرض نہیں۔ مگر ان سے وضوکرانا تاکہ عادت ہو اور وضو کرنا آجائے اور مسائل وضو سے آگاہ ہوجائے، مسئلہ:کوئی ٹوٹی (نل کی) نئے سے تنگ ہوکہ پانی بدقت گرے نہ اتنا فراخ کہ حاجت سے زیادہ پانی گرے بلکہ متوسط ہو۔ مسئلہ: چلو میں پانی لیتے وقت خیال رکھیں کہ پانی زیادہ نہ گرےکہ اسراف ہوگا مثلاً ناک میں پانی ڈالنے کے لیے آدھا چلوکافی ہے تو پورا چلو نہ لے کہ اسراف ہوگا، مثلاً ہاتھ، پاؤں، سینہ اور پشت پر بال ہوں تو ہرتال وغیرہ سےصاف کرڈالیں یاتراش ڈالیں نہیں توپانی زیادہ خرچ ہوگا۔
 ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرنا

ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں علمائے دین کہ ایک جماعت محلہ کی مسجد میں جماعت اولیٰ ہوگئی بطریق مسنون دوبارہ اس میں جماعت ثانی کرناجائز ہے یانہیں۔؟

سیدآغامحمدولدسیدحاجی گل محمد ۔ بھنڈی واڑی بیس محلہ، ہبلی


الجواب: 
روایت ہے ایک صاحب مسجد میں حاضرہوئے اس وقت کہ رسول اللہ ﷺنماز پڑھ چکے تھے ۔فرمایا ہے کوئی کہ اس پرصدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے کہ اسے جماعت کاثواب مل جایے ایک صاحب یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ نمازپڑھی۔(ابوداؤدوترمذی)
مسئلہ ہئیت مسجدمحلہ میں جس کے لیے امام مقرر ہوامام محلہ نے اذان واقامت کے ساتھ اولیٰ پردوبارہ جماعت قائم کرنا مکروہ ہے اور اگر بے اذان جماعت ثانیہ ہوئی تو حرج نہیں جبکہ محراب سے ہٹ کردائیں بائین ہو، ہئیت بدلنے کے لیے امام کا محراب سے دائیں یا بائیں ہٹ کر کھڑا ہونا ۔ کافی ہے شارع عام کی مسجد جس میں لوگ جوق درجوق آتے اورپڑھ کر چلے جاتے ہیں یعنی اس کے نماز ی مقرر نہ ہوں اس میں اگرچہ اذاں واقامت کے ساتھ نماز قائم کی جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہی افضل ہے کہ جو گروہ آئے نئی اذان واقامت سے جماعت کرے یونہی اسٹیشن وسرائے کے مسجدمیں۔ (درالمختار، ردالمختار وغیرہما)
(اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری علیہ الرحمہ)

سب کفار جنت کو جائیں گے؟

سب کفار جنت کو جائیں گے؟

سوال:انوٹی کےایک ماسٹر کا یہ اعتقاد ہے اور کہتا بھی یہی ہے کہ سب کفار جنت کو جائیں گے۔اس کے بارےمیں ازروئے شرع کیا حکم ہے۔؟
جواب: اس ماسٹر نے قرآن کو حدیث کو اور اجماع امت کا انکار کیا اللہ پاک نےارشاد فرمایاکہ کفار کے واسطے ہمیشہ جہنم ہے۔ اللہ پاک نے کافروں کو جنت کی بو بھی نہ ملے گی یہاں تک اونٹ سوئی کےسراخ میں سے نکل جائے۔سوئی کے سراخ میں سے اونٹ کانکلنا محال ہے۔کافروںکو جنت کی بوملنا بھی محال ہےاس کو تعلیق بالمحال کہتے ہیں۔
 لہٰذا یہ ماسٹر (انوٹی کا)اسلام سے خارج ، کافر ہوا۔اس کے سارے عبادات اور اعمال صالحہ اکارت(ضائع) ہوگیے۔ اگر اس کو عورت ہے تو اس کا نکاح باطل ہوگیا۔لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کو توبہ واستغفار کرائیں اور دوبارہ نکاح پڑھائیں۔ اگر انکار کیا تو بہ کرنے سے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کے ساتھ کوئی تعلقِ خیر وشر نہ رکھیں۔سلام کلام ترک کردیں۔
مہر کتنا باندھنا چاہیے۔

مہر کتنا باندھنا چاہیے۔

سوال(الف) مہر کتنا باندھنا چاہیے۔ تفصیل سے لکھیں۔
(ب) دلہا دلہن کو بٹھا کر اجنبی مردوعورت مل کر ہنسی مسخرا کارسم ادا کرتے ہیں۔یہ کیاجائز ہے؟ عورت کوکونسے دھات کی زیور پہننا جائز ہے یا نہیں؟۔
جواب: (الف)مہر کی مقدار زیادہ مقرر نہیں۔ زیادتی کا حد مقرر نہیں۔اتنا باندھا جائے کہ شوہر اس کو ادا کر سکے ،کم مقدار دس درہم یعنی پونے تین روپیے ۔اگر اس سے کم باندھا جائے تو اس وقت مہر مثل دینا پڑتا ہے یعنی اس کی ماں یا بہنوں کی جو مہر مقرر ہے وہ دینا پڑتا ہے۔مہر جتنا بھی باندھا جائے خواہ دینے کی یا نہ دینے کی نیت کرے پردینا ہی پڑتا ہے۔
(ب) اجنبی مردوں کے سامنے عورتوں کا آنا اوردلہا اور دلہن کوبٹھاناان کے ساتھ ہنسی مسخرا کرناوغیرہ وغیرہ  یہ سب ناجائز اور حرام ہے۔ یہ رسم ورواج ہندوستان میں ہندوؤں سے سیکھا ہے۔
(ج)دھاتوں میں سے کوئی دھات کا زیور پہننا جائز نہیں ،سوائے سونا چاندی کے۔
(د) پھولوں کا سہرا باندھنا جائز ہے جس میں تار وغیرہ کی قسم کے نہ ہوں مرد کو مہندی لگاناجائز نہیں۔ عورتوں کے واسطے جائز ہے۔

نماز عشا کے بعد فجرتک سامان کی حفاظت کے لیے مسجد کوتالا لگانا جائز ہے یانہیں

نماز عشا کے بعد فجرتک سامان کی حفاظت کے لیے مسجد کوتالا لگانا جائز ہے یانہیں

سوال: (۱) مسجد میں گھڑی رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ زید اس کا رکھنا ناجائز سمجھتا ہے۔
(۲) نمازوں کے دوران میں اگر روشنی یکایک گل ہو جائےتو نماز کو جاری رکھنا کیسا ہے؟
(۳)نماز عشا کے بعد فجرتک سامان کی حفاظت کے لیے مسجد کوتالا لگانا جائز ہے یانہیں؟۔
 (۴)مسجد میں بیٹھ کر دنیاوی باتیں کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۵)دو بے داڑھی اشخاص ایک مسجد میں امامت کرتے ہیں، ایک قانون قرات سے واقف ہے اوردوسرا ناواقف۔ان میں سے کس کو ترجیح دی جائے؟
(۶)اذان میں اشھدان محمدالرسول اللہ کے محمد ﷺکے دال اور رسول کے لام کو کیسا پڑھا جائے؟۔

جواب: (۱)

 مسجد میں گھڑی رکھناجائز ہے تاکہ نمازوں اور افطار کا وقت معلوم ہوجائے۔ جماعت کے لیے لوگ وقت مقرر ہ پر حاضر ہوسکیں ۔حضور ﷺ کے زمانے میں مسجد کی چھت کھجور کی پتوں کی تھی یہاں تک کہ جب بارش آئی پانی اندگزرتا ہے اب زید کے نزدیک پختہ عمارت ناجائز ہے ۔ زید کو کہیں جھونپڑی میں بھیج دیں۔پختہ عمارتیں صحابہ و تابعین کے اتفاق سےبنائی گئ ۔مسجد کو منور کرنا زینت دینا وغیرہ بہت ہی بہتر ہے اس سے اسلام کی عظمت اور شان بڑھ جاتی ہے ۔جیسا کہ قرآن شریف کا موٹے موٹے حرفوں میں لکھنا اور سونے کے پانی سےزینت دینا بہت ہی بہتر ہے کیوں کہ اللہ کے کلام کی تعظیم ہے۔(یہ کتب فتاؤں میں موجود ہے)
(۲) بلاکراہت جائز ہے۔
(۳) جائز ہے۔
(۴) حدیث شریف میں آیا ہے کہ چالیس سال کی عبادت برباد ہوہوجاتی ہے اس سے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صرف باتیں کرنے کے لیے آتے ہیں نہ کہ عبادت کرنے کے لیے۔اسی لیے بہتر یہ ہے کہ جب کوئی مسجد کو نماز پڑھنے کے لیے آجائے تو مسجد میں داخل ہوتے ہی اعتکاف کی نیت کرے جب تک مسجد میں رہے اعتکاف کا ثواب پاتا رہے۔اگر کوئی مسجدمیں کوئی چیز کھائے یا دنیاوی باتیں کرنا سوناہرگزجائز نہیں۔
(۵) دونوں فاسق معلن ہیں ، اگر اس مقام پر سب کے سب فاسق ہیںتو ان فاسقوں میں سے اس کو امام بنائے جو علم رکھتا ہے۔باقی صالحین کو جو بے علم ہیں ان کی بھی نمازاس فاسق کے پیچھے جائز ہے۔ اگر جاننے والا صالح ہے تو اس کی نماز اس فاسق معلن کے پیچھے جائز نہیں مکروہ تحریمی ہے اگر پڑھ بھی لیا تو اس نماز کو دوبارہ پڑھ لینا واجب ہے۔
(۶)  لفظ محمدﷺ کے دال کوزبراور رسول کے لام کو پیش سے پڑھیں۔
 شادی شدہ عورت بھگوالایا

شادی شدہ عورت بھگوالایا

سوال: زیدایک شادی شدہ عورت بھگوالایا ہے ۔اس سے زنا کرتا ہے اور اولاد پیدا ہوئی ہے۔ یہ اولاد کس کی ہوئی ؟ یہ زانی کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟۔ اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتےہیں یا نہیں؟۔

(محمدغوث ہوسلی، کلارک میونسپال ہاویری)

جواب: یہ منکوحہ عورت اپنے اسی مرد کی عورت ہے جس سےاس کا نکاح ہوا تھا۔اس سے جو بھی اولاد پیدا ہوگی وہ بھی اسی کی اولاد کہلائے گی ۔نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔اولاد اسی کی ہے جس کی وہ عورت فرش ہے یعنی جس کے نکاح میں وہ ہے۔ زانی کے واسطے سنگسار کرنا ہے۔زانی کواولاد سے محرومی  ہے ۔ زید فاسق ہے۔ مسلمانوں کو چاہیئے کہ اس کو توبہ کرائیں اور استغفار پڑھائیں۔یہ زانیہ عورت کو اپنے مردا صلی کے پاس روانہ کرائیں۔ زید مسجد میں نماز پڑھے تو دوسروں کی نما زمیں کوئی حرج پیدا نہیں ہوتا۔
 ایک قادیانی مولوی سے تعلیم قرآن حاصل کرتا ہے۔

ایک قادیانی مولوی سے تعلیم قرآن حاصل کرتا ہے۔

سوال: (الف) زید ایک قادیانی مولوی سے تعلیم قرآن حاصل کرتا ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟۔
 (ب) کافروں کے یہاں کھانا پینا جائز ہے یا نہیں؟۔

(خریدارنمبر۴۹۔ہبلی)

جواب:  (الف) زید کو قادیانی کے پاس  تعلیم قرآن حاصل کرنا ہرگزہرگز جائز نہیں کیوں کہ قادیانی سب مسلمانوں کے نزدیک کافرمرتد ہیں۔ مرتد کافر حربی سے بھی بدتر ہے۔ اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہرگز جائز نہیں ۔اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نبی کہیں اگر ان کے ساتھ بھول کر بیٹھ گیے پس یاد آنے کے بعد ان ظالموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑدے۔
(ب)کافروں کے یہاں کھاناپینا جائز ہے تاوقت کہ اس کی حرمت کا یقین نہ ہو۔ شک سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی۔ البتہ احتیاط سب مسلمانوں کے لیے بہتر ہے ان کے گھروں اور ہوٹلوں میں نہ کھائیں۔

نماز قضا پڑھناچاہیے یا نہیں اور کس ترکیب سے؟

نماز قضا پڑھناچاہیے یا نہیں اور کس ترکیب سے؟

سوال:(الف )زیدہروقت نماز مغرب کے پچیس منٹ بعد نماز عشاء پڑھتا ہے نمازہوئی یا نہیں؟۔
(ب)ایک آدمی جسے غسل اتارنا(کرنا) آتا نہیں مسجد پاک کر سکتا ہے یا نہیں۔
(ج)نماز قضا پڑھناچاہیے یا نہیں اور کس ترکیب سے؟

(معین الدین شرہٹی قول پیٹ ، ہبلی)

جواب: غروب آفتاب سے مغرب کاوقت کم درجہ ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ رہتا ہے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ پینتیس منٹ۔ بلکہ علامہ شامی کی تحقیقات کے مطابق ایک ۳۷ منٹ اس کے اندر نماز عشا پڑھنا جائز ہی نہیں کیوں کہ وقت داخل ہوا ہی نہیں۔
(ب)جاہلوں نے یہ جو یاد رکھا ، غسل اتارنا غلط ہے۔ غسل میں صرف اتنا ہے کہ ناک اور منہ میں اچھی طرح پانی ڈالے یعنی منہ میں حلق تک اور ناک کی بانس تک پانی چڑھائے اور پورے بدن پرپانی بہائے کوئی جگہ خالی اور سوکھی نہ رہے اس کا غسل اترکیا۔ البتہ غسل اور وضو کے لیے نیت کرنا سنت ہے اگر نیت نہ کرے پھر بھی غسل اترگیا ۔ غسل کی نیت یہ ہے ۔غسل کرتا ہوں پاک ہونے اور نماز پڑھنے کے لیے، اگرکوئی ناپاک آدمی کوئی ناپاک جگہ پاک کرے تو وہ جگہ پاک ہوجاتی ہے۔ 
اس کے بدن کی ناپاکی اس کے ساتھ ہے ۔
(ج)تمام قضا نمازوں کی قضا پڑھنا فرض ہے،اپنی عمر سے بارہ سال نکال کرباقی تمام عمر کی نمازیں قضاکرے ،ہر سال ۳۶۰ فجر ۳۶۰ ظہر ۳۶۰عصر ۳۶۰ مغرب ۳۶۰ عشا ۳۶۰ وتر ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے ادا کریں۔
ایک سنی حنفی بالغ لڑکی کا نکاح زبردستی ایک جبری وہابی کے ساتھ کیا گیا

ایک سنی حنفی بالغ لڑکی کا نکاح زبردستی ایک جبری وہابی کے ساتھ کیا گیا

سوال:ایک سنی حنفی بالغ لڑکی کا نکاح زبردستی ایک جبری وہابی کے ساتھ کیا گیامگروہ لڑکی اب تک خاوند کے پاس نہیں گئی ۔ کیا اس لڑکی کو طلاق حاصل کرنا چاہیے۔؟

(عمرخان حسن خان پٹھان سرسی)

جواب: کسی بالغہ سنی مسلمان لڑکی کوکسی بدمذہب سے جس کی بدعت کفرتک پہنچ گئی تو نکاح کرناقطعاًجائز ہی نہیں ،یہ نکاح ہوا ہی نہیں پھرطلاق کیسا؟ لہٰذا دوسرے سنی مسلمان سے نکاح کرسکتی ہے 
 یوم جمعہ دونوں خطبوں کے درمیان دعا کامقبول وقت ہے

یوم جمعہ دونوں خطبوں کے درمیان دعا کامقبول وقت ہے

سوال:

(الف)قرآن مجید میں حضور رحمت اللعالمین ﷺ کے موئے مبارک ملنا حدیث شریف سے یا اولیاء اللہ کے اقوال سے ثابت ہے یا نہیں۔چنانچہ آجکل یہ افواہ پھیلی ہوئی ہےکہ قرآن مجید میں بال نکل رہے ہیں۔
(ب) حدیث شریف سے ثابت ہے کہ یوم جمعہ دونوں خطبوں کے درمیان دعا کامقبول وقت ہے۔ازراہِ کرم بتائیں کہ دوخطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھاکر دعامانگنا یا حضور اکرمﷺ  کا اسم مبارک سن کر آواز سے درود شریف پڑھنا جائز ہے یانہیں۔؟
(ج)حضورﷺکے جسم مبارک کا سایہ زمیں پڑتا تھا یا نہیں؟ اگر جسم اطہرکا سایہ زمین نہ پڑتا ہوتو موئے مبارک کا سایہ پڑنا یا نہ پڑنا کیا ہے؟

(ملا بوبکربھٹکی ،مدراس)

جواب:(الف) یہ کسی دجال نے بہکایاہے۔لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔آج کل اوراس سے پیشترایسےاشتہارات بکتے آئےہیں۔ان پر ہرگزاعتبار نہ کریں۔
(ب)خطبہ پڑھتے وقت حضورﷺکااسم مبارک آجائے تو خاموشی سے دل میں درود پڑھیں۔ خطبہ نہ ہو تو حضورﷺ کا نام مبارک آجائے بآواز بلند درود شریف پڑھ سکتے ہیں ۔ہاتھ  اٹھا کر دعا کرنادونوں خطبوں کے درمیان جائز ہے۔تفصیل ملاحظہ ہو  ماہنامہ الرشاد جلد اول شمارہ ۵ ص۔۔۔
(ج)حضور پرنورﷺکی ذت مبارک کاسایۂ مبارک زمین پر نہیں پڑتا تھااورجوچیز ذات کے تابع تھی اس کی بھی چھاؤں زمین پرنہیں پڑتی جب وہ چیز ذات سے علاحدہ ہوجاتی تو اس کی چھاؤں پڑتی تھی لہٰذا موئے مبارک کا سایہ زمین پر پڑتا ہےکیوں کہ یہ ذات سے علاحدہ ہے۔ اس واسطے متبرک ہے کہ حضورﷺ کی ذات گرامی سے پیدا ہوا جو چیز حضور قدس ﷺ کے جسم اقدس کے ساتھ تھوڑی دیر بھی رہی وہ متبرک بن گئی۔

سوال: جھنڈا کیاہے۔آثارشریف کی زیارت جائز ہے یانہیں؟

سوال: جھنڈا کیاہے۔آثارشریف کی زیارت جائز ہے یانہیں؟

سوال: جھنڈا کیاہے۔آثارشریف کی زیارت جائز ہے یانہیں؟

(شیخ احمدپاؤگڑھ)
جواب :(الف)جھنڈا کسی بزرگ یاولی کی مزارکے پاس نصب کیاجاتاہےکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ کسی بزرک یا ولی کی قبر ہے۔لوگ وہاں جا کرقرآن پڑھیں گے یاذکر واذکار کریں اورایصال ثواب پہنچائیں گے۔
(ب)آثار شریف کی زیارت جائز اور بہت ہی بہتر ہے کیوں کہ نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنے موئے مبارک صحابہ کرام میں تقسیم کرایا ہے جس میں لوگ ایک لاکھ سے بھی بڑھ کر تھے۔
سوال: مرے ہوئے لوگوں کا عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

سوال: مرے ہوئے لوگوں کا عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

سوال: مرے ہوئے لوگوں کا عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟

(امیرخان بڈھن خان پٹھان ہبلی)

جواب :عقیقہ بچے یا بڑے کو آفات وبلیات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہوتا ہے جو موجود ہو یعنی زندہ ہو۔جوزندہ نہ ہو اس کا عقیقہ کرنے کا کیا معنی؟۔ اس سے بہتر مردے کے لیے ایصال ثواب پہنچانا یعنی اس بکرے کو ذبح کرناغربا ومساکین کو کھلانا اور نیت کرنا کہ اس کا ثواب اس میت کو پہنچے اگر وہ نابالغ بچہ ہے تو ایصال ثواب کرنے کی ضرورت نہیں۔

 دولہا اپنا نکاح آپ پڑھ سکتا ہے؟

دولہا اپنا نکاح آپ پڑھ سکتا ہے؟

سوال وجواب

جوابات ازاعلیٰ حضرت سیدمقبول احمدشاہ قادری فاضل کشمیری؄  

سوال: مختصرمسائل نکاح سے آگاہ کیجیے۔ کیا دولہا اپنا نکاح آپ پڑھ سکتا ہے؟ اس وقت منڈوے میں فاتحہ دینا کیسا ہے؟
(مستفتی:بغدادی پیراں تڑس)
الجواب : الحمدللہ والمنہ والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ واٰلہ وصحبہ اجمعین امابعدالجواب وھو الحق الثواب:
نکاح میں دومتقی پرہیزگار گواہوںکے سامنے ایجا ب و قبول ہوگیا تو خطبۂ نکاح وغیرہ پڑھنا مسنون اور بہتر ہے۔ خواہ دولہا پڑھے یا قاضی پڑھے۔
فاتحہ جو پڑھتے ہیں یہ سب بزرگان دین کے لیے ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے طفیل سے ان کو ایصال ثواب پہنچاتے ہیں۔ اس فاتحہ سے ان کے درجے بلند ہوتے ہیں۔ ہر ایک فاتحہ میں یہ حکم ہے کہ اگر بزرگان دین کے لیے ہو تو ان کے درجے بلندہوتے ہیںاورعام مسلمانوں کے لیے ان کے عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے ۔ جب بزرگان دین کے درجے بلند ہوجاتے ہیں اور اللہ کے زیادہ قریب پہنچتے ہیں ۔ایصال ثواب کرنے والوں کے حق میں جب وہ سفارش کرے تو جلد قبول ہوجاتی ہے۔

نار حامیہ

نار حامیہ

نار حامیہ 

۷۳ برسابین۱۳

صحابیت ملک معاویہم

حضرت مفتی محبوب علی خان قادری رضوی  ممبئی

ماہنامہ الرشاد ہانگل شریف کے شمارہ نمبر ۱۲ ۔شعبان المعظم ۱۳۷۴؁ھ   میں شائع ہونے والا فتوی 



سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک شخص زید جو سنیوںکی مسجد کا امام ہے۔وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے اور اسی کی لوگوں میں تبلیغ کرتا ہے کہ رسول اللہﷺ کے صحابیوں میں کافر ومشرک ومنافق ومسلم عادل وفاسق وفاجر سب ہی تھے اور حضرت سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کو اسلام کا باغی وطاغی وزانی وشرابی وجہنمی بتاتا ہے ۔یہ عقائد کیسے ہیں۔ مفصل بیان فرمایئے اورایسے عقائد والاشخص اہل سنت کاامام ہو سکتا ہے ؟۔ بینوا توجرروا۔
سائل حاجی مصطفیٰ بن حاجی ولی محمدحلوائی مدنپورہ ممبئی۔
الجواب: اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا دنیائے رفض میں تبرے بازی کی اس سے بدترین مثال ہے معاذ اللہ۔ دنیا کے کسی کافرومشرک کابھی یہ عقیدہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں کافر مشرک منافق سب ہی تھے ،معاذ اللہ ہاں رافضی کا یہ عقیدہ ہوسکتا ہے اورروافض سے ہی ساز باز کراکے بنارسی داس نے بہ خبیث عقیدہ اور تبرا پھیلایا ہے یا اس تقیہ باز وہابی ، دیوبندی ، ندوی، وسنبھلی کایہ ناپاک عقیدہ ہو سکتا ہے ۔ جس نے بیان کیاکہ’ ابوجہل مجھے ملتا تومیں اس کی آنکھوں کو چوم لیتااسے بوسہ دیتا ،کیوں کہ اس کی آنکھیں بڑی مقدس ہیں۔ اس کی آنکھوں نے پیغمبر خدا کو دیکھا ہے‘‘ ولاحول ولاقوۃ الاباللہ ‘‘ مسلمان بھائی غور کریں کہ اس وہابی ، دیوبندی، ندوی و سنبھلی کے اس گندے گھناؤنے قول سے عداوت رسول ﷺ کس طرح ظاہر ہورہی ہے اور ابوجہل کی جانشینی بھی پوری پوری کھل رہی ہے کہ اس مسلم نما ابوجہلی کو ابو جہل خبیث کی کفر ی وشرکی آنکھیں نظرآئیں کہ بیٹے کو باپ کے پوتے کودادا کے دیکھنے کا شوق ہوتا ہی ہے اور بے دین کو صدیقی وفاروقی وعثمانی وحیدری وبلالی ایمانی آنکھیں سوجھائیں نہ دیں کیوں کہ ہر ایک اپنے بڑے کی بڑائی کرتاہے ان وہابی ، ندوی وسنبھلی وزید مذکور نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کوپہچانا ہی نہیں۔

انہوں نے اپنی بے دینی اور رافضیوں کی شاگردی سے یہ سمجھا کہ کافرومشرک ومنافق جس نے بھی حضور سیدالمرسلین ﷺ کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا وہ صحابی ہے۔ حالانکہ صحابی کے لیے ایمان و اسلام شرط اول ہے ورنہ کافروں مشرکوںکو تو ارشاد فرمایا۔
وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ
تو زید رافضی عقیدہ رکھتا اور اسی کو پھیلاتا ہے۔ حضرات صحابۂ کرام کی شان والا میں قرآن عظیم نے یوں خطبہ فرمایا۔
فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ-اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ٘-یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىٕمٍؕ-ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-
دیکھئے ! حضرات صحابہ کرام اللہ کو پیارے اور اللہ ان کا پیارا اور مسلمانوں پرنرم اور کافروں پرسخت اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور کسی ملامت کرنے والوں کی ملامت کا 
اندیشہ نہ کرنے والے اور ان پر اللہ کا فضل ہے۔ صرف ان سات صفتوں پر ہی کوئی عقل وانصاف والا غور کرے تو اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ کافرومشرک منافق و فاسق ، فاجر سب اس سے خارج ہیں وہ وہی نفوس قدسیہ تھے جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا، زید کا عقیدہ ہے وہ چھپا ہوا رافضی معلوم ہوتا ہے ۔ اس نے قرآن وحدیث سے قطعاً منہ موڑ لیااور ابلیس کے پیچھے لگ کر ابلیس کا داس بن گیا۔
قرآن مجید میں ارشادخدا ہے۔
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)
اس آیۂ کریمہ نے صاف بتایاکہ بنارسی داس کا فرو مشرک منافق کہتا ہے مگر حضرات صحابہ فاسق وفاجر بھی نہیں ہیں۔ فالحمدللہ
صحابی رسول وہی ہے جنہوں نےایمان لانے کے بعد حضور اقدس ﷺ کا دیدار کیا اور ایمان کے ساتھ دنیا سے گیا اسی کے لیے اللہ تعالیٰ کی یہ نعمتیں اوریہ انعام واکرام ہیں۔ فللہ الحمد۔
اور زید اپنے عقیدۂ رفض کی وجہ سے ان حضرات میں اس زمانے کے کافروں مشرکوں منافقوں کوبھی شامل وداخل کرارہا ہے تواس کے نزدیک ان انعامات کے حقدار کافرمشرک منافق سب ٹھہرے ۔والعیاذباللہ تعالیٰ۔
مسلمان بھائی سنیں! کافروں مشرکوں منافقوں کے لیے قرآن عظیم فرماتا ہے۔
 لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍؕ


 اور فرماتا ہے ۔
اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ(۵۰)
اور فرماتا ہے ۔ 
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ(۶)
ا ور فرماتا ہے۔
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ
اور فرماتا ہے۔
-وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ(۱)
اورفرماتا ہے۔
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-
اورفرماتا ہے۔
اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاؕ-
غرض کہ قرآن حکیم میں بکثرت ایسی آیتیں ہیں اورزید ان تمام آیتیوں کا منکر ہے توقرآن کی آیتوں کاانکار کر کے وہ کون ہوا۔ اور قرآن کی ہرآیت کاانکار کفر ہے یانہیں؟۔ تم قرآن شریف کھول کر پڑھو اور شمار کرو کہ کتنی آیات قرآنی کازید نے انکار کیا۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
اورقرآن عظیم سے کافروں کی شان بیان فرمائی۔ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍۙ۔ کافرلوگ قرآن کی کچھ آیتوں پرایمان لاتے ہیں اور کچھ انکار کرتے ہیں اور احادیث مبارکہ میں ہے ۔ ان اللہ ببعض کل مبتدع۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہربدمذہب کو دشمن رکھتا ہے۔ رواہ ابن عساکر عن انس رضی اللہ عنہ ۔
اور حدیث شریف میں ہے ۔ اذا مدح الفاسق غضب الرب واتزلذالک العرش۔
جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ غضب فرماتا ہے اور اس کے سبب سےعرش عظیم ہل جاتا ہے۔ رواہ ابن عدی وابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلیٰ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور یہ بھی حدیث پاک ہے۔ ان اللہ یغضب اذا مدح الفاسق فی الارض ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ غضب فرماتا ہے جب زمین میں فاسق کی مدح کی جاتی ہے 
۔رواہ عن انس رضی اللہ عنہ۔ 
ان مبارک حدیثوں کو پڑھ کر ثابت ہواکہ حضراتِ صحابہ کرام  میں کوئی فاسق وفاجربھی نہیں ہے کیوں کہ قرآن و حدیث میں ان کی تعریف و توصیف کے خطبے موجود ہیں۔ فسبحن اللہ وبحمدہ۔
خود قرآن عظیم ارشادفرماتا ہے ۔ انہ لایفلح الکٰفرون اور حضور اکرم ﷺکی شان میں بیان فرماتے ہیں:
لاتمس النارمسلما رانی اورای مرزانی جس مسلمان نےمجھے دیکھا یامیرے دیکھنے والے کو دیکھا اسے جہنم نہ چھوئے گا۔ رواہ الترمذی عن جابر بن عبداللہ؄
  اور حضورسرورانبیا حبیب کبریا ﷺ فرماتے ہیں"
لاتسبوا اصحابی فی الذی نفسی بیدہ لوان احد کم انفق مثل احد ذھبا مادرک مداحدھم ولانصیۃ
میرے صحابہ کو برا نہ کہو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر تم میں کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو میرے صحابہ کے ایک مدجو بلکہ نصف مد ہے کے برابر بھی نہ ہوگا۔
 رواہ الامام احمدشیخین وابوداؤد والترمذی عن ابی سعید ومسلم وابن ماجہ عن ابی ہریرۃ 

اورارشاد فرماتے ہیں:
 ﷺ ان الناس یکثرون واصحابی یعقلون فلاتبسوا اصحابی فمن سبھم فعلیہ لعنۃ اللہ۔
لوگ زیادہ ہوں گے اور میرے صحابہ کم ہوں گے تو صحابہ کو برا نہ کہو۔جو صحابہ کو برا کہے گا اس پر اللہ کی لعنت ہے۔
رواہ الدارقطنی فی الافراد عن ابی ہریرۃ والخطیب عن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنھما
اور ارشاد فرماتے ہیں:
ﷺ اذارایاایتم الذین یسبون اصحابی فقولوا لعنۃ اللہ علیٰ شرکم
جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جومیرے صحابہ کوبراکہتے ہیں تو تم کہو اللہ کی لعنت ہو تمہاری اس خباثت پر۔
رواہ الترمذی والخطیب عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما
صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ واصھابہ اجمعین وبارک وسلم من سب اصحابی فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین
جو میرے صحابہ کو برا کہے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور کل فرشتوں اور تمام انسانوں کی ،سب کی لعنت ہے
رواہ الطبرانی عن سیدناوابن سیدنا عبداللہ بن عباس
اورارشاد اقدس ہے:
   ان اللہ اختارنی واختارلی اصحابا فجعل لی منھم وزراء وانصارا ومھارافمن سبھم فعلیہ لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین لایقبل اللہ منہ یوم القیمۃ صرفا والاعدہ
یقیناً اللہ نے مجھے پسند کیا(چن لیا)اور میرے لیے صحابہ پسند کیے پھر ان میں سے اللہ نے ان میں وزیراور مددگار رشتہ کردیئے جو شخص میرے صحابہ کو براکہے اس پر اللہ کی اور تمام فرشتوں اور کل آدمیوں کی سب کی لعنت ہے۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ اس کا فرض قبول کرے نہ نفل۔
رواہ الطبرانی والحاکم والمحاملی عن عویمر بن ساعدۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھما۔
اور ارشاد عالی ہے 
لعن اللہ من سب اصحابی
اللہ تعالیٰ لعنت کرے اس پر جو میرے صحابہ کو براکہے،
رواہ الطبرانی عن ابن عمر رضی اللہ عنہ
اور ارشاد ہے
من اذاھم فقد اذالنی ومن اذالنی فقد اذی اللہ 
جس نے میرے صحابہ کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔
رواہ الترمذی عن عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ
اور فرمانِ اقدس ہے۔
سیاتی قوم یسبونھم ویتقصونھم فلا تجالسھم والاتشاربوھم والاتراکلوھم والا تناکحوھم  
یعنی عنقریب ایک ٹولی آے گی جو میرے صحابہ کو براکہے گی اور ان کی بدگوئی کرے گی تو ان کے ساتھ نہ بیٹھنا اوران کے ساتھ پانی نہ پینا ان کےساتھ کھانا نہ کھانا ان سے شادی بیاہ نہ کرنا 
رواہ العقیلی عن انس رضی اللہ عنہ
جب اس بدگو سے اسلامی تعلقات ہی رکھنا حرام فرمادیا تو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا وہ داس ہو یا داسی یا رافضی ہو یا وہابی ،دیوبندی اور ارشاد فرماتے ہیں۔
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی الہ واصحابہ وسلم اذا اراداللہ برجل من امتی خیرا لقی حب اصحابی فی قلبی
جب میرے کسی امتی سے اللہ تعالیٰ بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تواس کے دل میں میرے صحابہ کی محبت ڈال دیتا ہے
رواہ الدیلمی عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
معلوم ہوا کہ جس مسلمان کے دل میں صحابہ کی محبت ہے وہ اچھا بھلائی وخیریت والا ہے جس کے دل میں صحابہ کی عدوات ہے  گرچہ ایک کی ہے وہ برا ،شریر خبیث، شرارت وخباثت والا ہے۔اور ابلیس کا داس ہے اختصار منظور ہے۔
لہٰذا ن حدیثوں پر ہی اکتفاکرتاہوں۔ ان احادیث مبارکہ نے بتایا کہ جس نے حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہا ان کی توہین کی وہ اللہ کامطعون ہے۔
فرشتوں کا ملعون اور تمام انسانوں کا ملعون ہے ۔ اس کا فرض ونفل سب اکارت ہے ناقابل قبول نامقبول مردود ہے اس سے اسلامی تعلقات رکھنا حرام ہے ۔وہ اللہ ورسول ﷺ کو ایذا دینے والاہے وہ بدتر ہے وہ خدااور رسول ﷺ کا دشمن ہے  وہ قرآن و حدیث کامنکر ہے۔
حضرت سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم ﷺ کے جلیل القدر عظیم الشان صحابی ہیں۔ خود حضور محبوب خدا ﷺ نے ان کے مراتب بیان فرمائے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کی تعریف وتوصیف فرمائی۔
ائمہ دین نے ان کی مدح کے خطبے لکھے۔


حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
حضرت معاویہ کے لیے:
 اللھم اجعلہ ھادیا مھدیا وھدایہ
 یعنی اے اللہ معاویہ کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتنہ کردے اور ان کے ذریعہ ہدایت فرما۔
رواہ الترمذی عن عبدالرحمٰن بن عمیرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وقال ھٰذا حدیث حسن غریب
یعنی امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے ، غریب ہے یعنی حدیث فی نفسہ حسن ہے ۔ غرابت باعتبار راوی کے ہے۔
حدیث دوم : حضرت عمیر فرماتے ہیں:
سول کریمﷺ کوفرماتے سنا کہ اے میرے اللہ معاویہ کے ذریعہ ہدایت فرما۔ 
رواہ الترمذی عنہ
مسلمان ان دونوں ہی صفتوں پرغورکریں کہ سرکار اعظمﷺ نے آپ کے ہادی ہونے اور ہدایت یافتہ ہونے کی دعا فرمائی جو اس کے دعا قبول نہ ہونے کا مدعی ہو وہ اسی مرتبہ کی حدیث پیش کرے۔ ورنہ بلا دلیل دعویٰ باطل ومردود اور مدعی کذاب ودجال ومفتری علی اللہ والرسول ہے۔ ہم اہل سنت وجماعت کاعقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کی یہ دعا قبول بھی فرمائی تو حضرت سیدنا معایہ ؄ ہادی بھی ہوئے اورمہدی بھی اور انہیں کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت حاصل ہونے کی بھی دعافرمائی توانہیں دونوں حدیثوں سے ہی زید پر مکروکیدکی ساری باتیں سارے اعتراض رفو چکر ہوگیے۔ کیوں کہ اللہ کے محبوبﷺ کی مبارک دعاکی برکت سے جو شخص ہادی ومہدی بنا اس میں فسق وفجورنہیں ہونا چاہیئے ۔ پس زید پرکید کے شرابی وزانی وغیرہ کے سارے داغ دھبے قطعاً رفع ہوگیے۔
فالحمدللہ رب العالمین
تیسری حدیث: حضور سید المرسلین ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :
وصاحب سری معاویۃ بن ابی سفیان 
یعنی میرے رازدار ہیں حضرت معایہ ؄ 
نقلہ الامام احمدبن حجرالھیتمی فی التطھیر
سنی مسلمان بھائی! غور کریں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؄ جو خود فقیہ اورسیدالمفسرین ہیں ۔ وہ کس شان سے حضرت معاویہ کی عظمت وبزرگی بیان فرماتے ہیں۔ یہی صفات جلیلہ تھیں جن کی وجود سے مورخین نے اتفاق کیا کہ خلافت عثمانی کے بعدحضرت عثمان ؄ کے بعد حضرت سیدنامعاویہ کے دور حکومت میں جوفتوحات اور تبلیٖغ اسلام ہوئی ہے وہ اپنی نظیرآپ ہے۔ تاریخ اسلام میں اس کی مثال نہیں ملتی افریقہ  آپ کے دور میں فتح ہوا۔افریقہ کے لوگوں کودولت اسلام آپ ہی کے طفیل میں ملی۔

فالحمداللہ علیٰ ذلک ثانیا 
علم اصول میں مبرہن ومحقق ہوچکا کہ :
الصحابہ کلھم عدول 
یعنی رسول اللہ ﷺکے تمام صحابہ کرام عادل(ثقہ) ہیں اور حضرت سیدنا معاویہ ؄  تو مخصوصیات والے عظیم المرتبہ صحابی ہیں،۔
ثالثاً حضرت معاویہ ؄  رسول اللہﷺ کے خسرالی رشتہ دار بھی ہیں یعنی امام المومنین سیدنا حبیبہ بنت سفیان کے بھائی ہیں۔
لہٰذا ہرامتی کو ان سے نیازمندی رکھنا ضروری ہے۔
فسبحن اللہ وبحمدہ
قرآن عظیم بھی ارشاد کرتاہے:
قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ-
الحمدللہ کہ اہل سنت کا اسی پر عمل وعقیدہ ہے۔
رابعاً: شاہزادۂ زمن حضرت سیدنا امام حسن ؄کو جو مسلمان اپنا مقتدااور پیشوا مانتا ہے۔ اس پر ضروری ہے کہ حضرت معاویہ ؄ سے بھی نسبت غلامی رکھے ورنہ حضرت سیدناامام حسن ؄کانافرمان وغدا رہوگا کہ آپ نے حضرت سیدنا معاویہ ؄ سے صلح ،دوستی کرلی اوریہ دشمنی رکھتا ہے۔
خامساً: حضرت سیدناامام حسن؄ نے جب حضرت معاویہ ؄ سے صلح کرکے خلافت راشدہ علی منہاج النبوۃ کو تیس برس پر تمام کرکے حضرت سیدنا معاویہ؄کی امارت وحکومت کو بخوشی قبول فرمالیامان لیاتوآپ اولوالامر ہوگیے اور قرآن عظیم کاارشاد ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-
یعنی اے ایمان والو! اطاعت کرواللہ کی اور رسول اللہﷺ کی اورفرماں برداری کرواپنے اولی الامر کی اورحضرت 
معاویہ ؄ یقیناً حاکم وبادشاہ تھے۔ اور اگر اولی الامر کی تفسیر مجتہد ہے تو حضرت امام المفسرین سیدنا ابن عباس ؄ کی گواہی بخاری شریف سے گزرچکی ۔ 
انہ کان فقیھا
تویقناً آپ فقیہ مجتہد بھی ہوے بہرحال آپ کی فرمان برداری اور تابعداری کرنا بحکم قرآن ضروری ہے اورآج جو آپ کا نافرمان ہے وہ قرآن کا نافرمان اوررحمٰن جل جلالہ کا باغی اور رسول اللہ ؄ کاغدار ہے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
سادساً: اللہ تعالیٰ کاارشاد قرآن مجیدمیں ہے:
-لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰)
یعنی تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلےمال خرچ کیا اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں۔ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد مال خرچ کیا اورجہاد کیا۔اور ان سب سے اللہ  جنت کاوعدہ فرماچکا اوراللہ کوتمہارےکاموں کی خبر ہے۔ ذراملاحظہ ہو۔
اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام کو اپنے خطاب سے نوازا، انہیں دوگروہ بتایا ایک فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے اور خرچ کرنے اور جہاد کرنے والے،دوسرے فتح مکہ کے بعد خرچ کرنے اور جہاد کرنے والے۔
اس دوسرے گروہ میں حضرت سیدنا معاویہ وحضرت سیدنا ابوسفیان ہیں۔پہلے گروہ کو بڑےمرتبہ والافرمایا پھرارشاد فرمایا۔
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ
اللہ نے ان سب سے جنت کا وعدہ فرمایا۔اب اگروہابیہ ،دیوبندیہ کی طرح زید بھی اللہ تعالیٰ کو جھوٹا اوروعدہ خلاف مانتا ہے توکافر مرتدہے۔اوراگر اللہ کے وعدے کو سچامانتا ہے تو کافر جہنمی بتا کر عقیدہ رکھ کر ،قرآن کا انکارکر کے کافرمرتدہوا۔ .

بہرحال بنارسی داس کی اگلی پچھلی دونوں گلیاں بند ہوگئیں۔
 فسبحن اللہ وبحمدہ
اب بنارسی داس وداسی کان کھول کر سنیںکہ جن سے اللہ نے حسنی کاوعدہ فرمایا۔ ان کی شان اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہےْ
اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ-وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ(۱۰۲)لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕ-هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۱۰۳)
بنارسی داس آپ کوجہنمی لکھ کر اورزید جہنمی بتا کران چاروں آیاتِ قرآنیہ کاانکار کرکے کافرومرتدہوا۔
ارشاد باری ہے’ بیشک وہ لوگ جن سے ہم نے حسنی بھلائی کاوعدہ فرمایا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ وہ جہنم کی بھنک بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں غم میں نہ ڈالیں گے وہ سب سے بڑی گھبراہٹ سے اور فرشتے ان سےملاقات کریں گے۔اورخوشخبری دیںگے کہ آج ہی کادن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیاہے۔
سبحان اللہ سبحان اللہ! اس آیت نے بھی آپ کو فسق وفجور سے پاک بتایاورنہ حسنی کاوعدہ کیسا؟۔ اوراگراسلام سے پہلے حالت کفر کی کسی چیز کوپیش کرے تووہ مردود ہے۔
حضورﷺ ارشاادفرماتے ہیں کہ:
الاسلام یھدم ماقبلہ
اسلام اپنے سے پہلی برائیوں کو مٹادیتا ہے۔
اگربنارسی داس یا اس کا کوئی چیلا تاریخی رطب ویابس کو پیش کرکے کہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد فلاں صحابی نے یہ کیا اورفلاں صحابی نے یہ کیا تورب تبارک وتعالیٰ نے ایسے ہربدگو کے منہ میں جواب کابھاری پتھر دے کر اس کامنہ بند 
فرمادیا۔اور بنارسی داس اور اس کے پرکھے رافضیوں سے پہلے ہی ارشاد فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کو تمہارے علموںکی خبر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے بعد تم لوگ کیا کروگے ۔اس علم وخبرکے باوجود بے نیاز احکم الحاکمین جل جلالہ اپنے محبوبﷺ کے پروانوں جاں نثاروں اورحضراتِ صحابہ کرام سے جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔
 امام ہے وہ ہمیشہ اجنبی عورتوں کو شہوت سے دیکھتا ہے

امام ہے وہ ہمیشہ اجنبی عورتوں کو شہوت سے دیکھتا ہے

سوال :زید ایک مسجد کاپیش امام ہے وہ ہمیشہ اجنبی عورتوں کو شہوت سے دیکھتا ہے۔ان کے پاس بیٹھتا اور ہنسی مذاق اڑاتا ہے۔ اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟۔

(عبدالرحیم سلک مرچنٹ، مامبہلی)

جواب: اجنبی عورتوں کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کے ساتھ بےہودہ باتیں کرنا گناہ صغیرہ ہے ۔ اور ہمیشہ یہی کام کرتے رہنا گناہ صغیرہ گناہ کبیرہ بن جاتا ہے ۔گناہ کبیرہ کرنے والافاسق ہے ۔فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔جس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔لہٰذا اس پیش امام کو تاکید کریںکہ 
ایسا کام نہ کرے۔ 
جب نمازی اس سے ناراض ہیں اس کا امامت کرناگناہ ہے۔کیوں کہ ازروئے شرع امام کے اندر قصور ہے۔اگر وہ اس کے اندرباز نہ آئے تو جماعت کو لازم ہےکہ اس کو امامت سے علاحدہ کرے۔
(یہی کتب فتاوی میں موجود ہے)
برہمن اورعیسائی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے یانہیں؟

برہمن اورعیسائی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے یانہیں؟

سوال:برہمن اورعیسائی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے یانہیں؟۔

(نذیراحمدبیجاپور۔ہبلی)

جواب:
مشرکہ وکافرہ سے بدون ایمان ہرگزنکاح کرنا جائز نہیں اہل کتاب کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ عیسائی لڑکی اپنے مذہب اصلی پر قائم رہے۔ مگر اب یہ کہاں؟
 نکاح کرنے کی غرض وغایت یہ ہے کہ اولاد صالح پیدا کریںاور نبی کریمﷺ کی امت بڑھائیں ۔ اولاد اکثرماں کے ساتھ رہتی ہے جو طریقہ اورمذہب ماں کا ہوتا ہے، وہی طریقہ بچوں کو سکھاتی ہے۔ لہٰذا عیسائی لڑکی کے ساتھ نکاح مکروہ تحریمی ہے۔ کیوں کہ اولاد ضائع ہوجاتی ہے( فتح القدیر) یہی حکم ہے ہر بدمذہب کے ساتھ نکاح کرنے کا۔اگر بدمذہب لڑکی کی بدعت کفرتک پہنچ گئی تو اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہی نہیں اگر کفر تک نہ پہنچے تو نکاح کرنا جائز مگر مکروہ تحریمی ہے۔ کیوں کہ اولاد اپنی ماں کا مذہب اختیار کرتی ہے۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular