Showing posts with label مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی. Show all posts
Showing posts with label مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی. Show all posts
   ماخذ مراجع

ماخذ مراجع

(۱)     رو ح البیان          کانسی رو ڈ کوئٹہ
(۲)    تفسیر نعیمی              مکتبہ اسلامیہ لاہور
(۳)    صحیح البخاری        دار الکتب العلمیہ بیروت
(۴)    صحیح مسلم              دار ابن حزم بیروت 
(۵)    سنن ابن ماجہ          دار المعرفۃبیروت 
(۶)    سنن التر مذی          دار الفکربیروت 
(۷)    شعب الایمان        دار الکتب العلمیہ بیروت 
(۸)    مشکاۃ المصابیح          دار الکتب العلمیہ بیروت 
(۹)    المعجم الا وسط          دار الکتب العلمیہ بیروت 
(۱۰)    المعجم الکبیر              دار احیاء التر اث العربی بیروت 
(۱۱)    سنن ابی داؤد          دار احیاء التراث العربی بیروت 
(۱۲)    الدر المختار              دار المعرفہ بیروت 
(۱۳)    رد المحتار              دار المعر فہ بیروت 
(۱۴)    مدارج النبوت          مرکز اھل سنت برکات رضاھند
(۱۵)    جاء الحق              قادری پبلشر ز لاہور 
(۱۶)    کشف الخفاء          دار الکتب العلمیہ بیروت

مال کے لئے الٹ پلٹ:

مال کے لئے الٹ پلٹ:

    تا جر کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا مال بلا وجہ رکانہ رہے جو لوگ گرانی کے انتظار میں مال قید کر دیتے ہیں۔ وہ سخت غلطی کرتے ہیں کہ کبھی بجائے مہنگائی کے مال سستا ہوجاتا ہے اور اگر کچھ معمولی نفع پابھی لیاتو بھی خاص فائدہ نہیں حاصل ہوتا ۔ سال میں ایک بار اٹھنی رو پیہ نفع ہوجانے سے رو ز اکنی روپیہ نفع بہتر ہے ۔ تجارت کے اور بھی بہت سے اصول ہیں جو کسی تاجرسے حاصل ہوسکتے ہیں ۔

مسلمانو ! حلال ر ز ق حاصل کرو ، بیکاری صدہا گناہوں کی جڑہے ، رزق حلال سے عبادت میں ذوق ،نیکیوں کا شوق اور اطاعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس گھر کے بچے 
آوارہ اور جوان بیکار ہوں وہ گھر چند دن کا مہمان ہے ۔ مثنوی شریف میں ہے ۔

علم و حکمت زائد از لقمہ حلال               
     عشق  ورقت  زائد  از لقمہ حلال 
لقمہ تخم است وہر ش اندیشہا         
            لقمہ   بحر   و  گوہر ش   اندیشہا! 
زائد از  لقمہ حلال اندر وہاں        
             میل خدمت عزم سوئے آں جہاں 
چو ں زلقمہ تو حسد بینی دوام!   
     جہل  وغفلت زائد آں اواں حرام

ترجمہ: علم وحکمت حلال کے لقمے سے بہتر ہے : عشق ورقت حلال کے لقمے سے بہتر ہیں ۔
    لقمہ ایک بیج ہے اور ہر کسی کو اس کی فکر ہے :لقمہ سمندر ہے اور اس کا موتی اس کی فکر کرتا ہے ۔
    اکژ حلال لقمہ کا منہ میں ہونا آخرت کے عزم اور عبادت کی طرف مائل کرتا ہے ۔
    جب تو لقمہ سے ہمیشہ حسد دیکھے اس وقت جہالت و غفلت کا بڑھ جانا حرام ہے۔

    حق تعالیٰ میری اس ناچیز گفتگو میں اثر دے اور میری مسلم قوم کو بیکاری سے بچا ئے اور مجھے وہ دن دکھائے کہ میں اپنے ہر مسلمان بھائی کو دیندار ، فا رغ البال اور مسلمان کا خیر خواہ دیکھو ں۔

آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ وَنُوْرِ عَرْشِہٖ سَیِّدِنَا وَمَوْلاَنَا مُحَمَّد وَعَلٰی اٰلہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَ حْمَتِہٖ وَھُوَاَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ

مسلمان خریدارو ں کی غلطی:

مسلمان خریدارو ں کی غلطی:

    ہندو مسلمان تاجر کو دیکھنا چاہتے ہی نہیں ۔ انہیں مسلمان کی دکان کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں کسی مسلمان نے دکان نکالی تو  آس پاس کے ہندودکانداروں نے چیز یں فوراً سستی کردیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو بہت کما بھی چکے اور آئندہ کمائیں گے بھی ۔دو چار مہینے اگر نہ کمایا تو نہ سہی ۔ مسلمان خریدار ایک پیسے کی رعایت دیکھ کر بنیوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اپنے غریب بھائیوں پر نظر نہیں کرتے ۔ اگر ہندو کے ہاں پیسے کے چار پان مل رہے اور مسلمان کے ہاں تین تو مسلمان سے تین لو اور دل میں سمجھ لو کہ اگریہ مسلمان بھائی ہمارے گھر آتا تو اسے ایک پان کھلانا ہی پڑتا ۔ ہم نے ایک پان سے اس کی تو اضع ہی کردی ۔ دل میں کچھ گنجائش پیدا کرو ۔ دلی گنجائش سے قومیں بنتی ہیں۔
حکایت :مجھ سے ایک تا جر نے کہا کہ ایک انگریز میری دکان پر چھڑی خرید نے آیامیں نے نہایت نفیس جاپانی چھڑی پیش کی جس کی قیمت بارہ آنے تھی۔ اس نے چھڑی بہت پسند کی اور بہت خوش ہوا مگر جاپان کی مہر پڑھتے ہی جھنجھلا کر پٹک دی بو لا ڈیم جاپان ۔ انگلش مال لاؤ ۔ میں نے لندن کی بنی ہوئی معمولی چھڑی دی جس کی قیمت پورے تین رو پے تھی وہ بخوشی لے گیا ۔ یہ ہے قوم پر ستی کہ جاپانی سستا اور خوبصورت مال نہ لیا اور لندن کا بنا ہوا معمولی مال زیادہ قیمت سے لے گیا ۔ مسلمان خریدا ر اس سے عبرت پکڑیں ۔

ایک سخت غلطی:

ایک سخت غلطی:

اولاً تو مسلمان تجارت کرتے ہی نہیں اور کرتے بھی ہیں تو اصولی غلطیوں کی وجہ سے بہت جلد فیل ہوجاتے ہیں ، مسلمانوں کی غلطیاں حسب ذیل ہیں۔

(۱) مسلم دکانداروں کی بد خلقی:

کہ جو گا ہک ان کے پاس ایک دفعہ آتا ہے پھر ان کی بد مزاجی کی جہ سے دو بارہ نہیں آتا ۔

(۲) جلد با ز یانا واقف تا جر :

 دکان رکھتے ہی لکھ پتی بننا چاہتے ہیں اگر دو دن بکری نہ ہو یا کچھ گھاٹا پڑے تو فوراً بد دل ہو کر دکان چھوڑبیٹھتے ہیں ۔ اس کی بہت مثالیں موجود ہیں۔

(۳) نفع بازی:

عام طو ر پر مسلمان تاجر جلد مالدار بننے کے لئے زیادہ نفع پر تجارت کرتے ہیں ۔ایک ہی چیز اور جگہ سستی بکتی ہے اور ان کے ہاں گراں تو ان سے کون خریدے گا ۔ عام تجارت میں نفع ایسا چا ہیے ، جیسے آٹے میں نمک ، ہاں نادرو نایاب چیزوں پر زیادہ نفع لیاجائے تو حرج نہیں ۔

(۴) بے جا خر چ :

ناواقف تاجر معمولی کا رو بار پر بہت خرچ بڑھالیتے ہیں۔ ان کی چھوٹی سی دکان اتنا خرچ نہیں اٹھاسکتی آخر فیل ہوجاتے ہیں ۔
تجارت کے اصول:

تجارت کے اصول:

    تجارت کے چند اصول ہیں جس کی پابند ی ہر تا جر پر لازم ہے یعنی پہلے ہی بڑی تجارت شروع نہ کردو بلکہ معمولی کام کو ہاتھ لگاؤ ۔ آپ حدیث شریف سن چکے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لکڑیا ں کا ٹ کر فروخت کر نے کاحکم فرمایا ۔ 
حکایت: ایک شخص تجارت کرنا چاہتے تھے وہ کسی مشہور فر م کے مالک کے پاس مشورہ کے لئے پہنچے ۔ ان کا خیال تھا کہ تجارت میں نہایت پوشیدہ راز ہوں گے جنہیں معلوم کرتے ہی میں ایک دم لاکھ پتی بن جاؤں گا ۔ مالک فرم نے مشورہ دیا کہ آپ پانچ روپیہ کی دیا سلائی کی ڈبیاں لے کر بازار میں بیٹھ جائیں ، اگر شام کو پانچ آنے کے پیسے بھی کمائے تو آپ کامیاب ہیں ۔ جب اس کی بِکری کچھ بڑھ جائے تو اس کے ساتھ کچھ سگریٹ کی ڈبیاں بھی رکھ لیں جب یہ کام چل پڑے تو پان چھالیہ بھی رکھ لیں یہاں تک کہ ایک دن پورے پنواڑی بلکہ پورے پنساری بن جائیں گے ۔ دیکھو ہندوؤں کے بچے پہلے ہی منیم نہیں بن جاتے بلکہ اولاً معمولی خوانچے بیچتے ہیں اسی خوانچہ سے ایک دن لکھ پتی بن جاتے ہیں۔ ہم نے کا ٹھیا واڑ میں میمن تاجروں کو دیکھا کہ جب وہ کسی کو تجارت سکھاتے ہیں تو ایک سال باور چی رکھتے ہیں ۔دو سرے سال ادھار وصول کرنے پر ، تیسرے سال بِلٹیاں چھوڑا نے اور مال روانہ کرنے پر ، چوتھے سال خور دہ فر وشی پر،پھر دکان کی چابیان سپر د کردیتے ہیں ۔
    (۲) ہر شخص اپنے مناسب طا قت تجارت کر ے ، قدرت نے ہر ایک کو علیٰحدہ علیٰحدہ کام کے لئے بنایا ہے کسی کو غلہ کی تجارت پھلتی ہے ، کسی کو کپڑے ،کسی کو لکڑی کی ، کسی کو کتابوں کی ، غرضیکہ تجارت سے پہلے یہ خوب سو چ لو کہ میں کس قسم کی تجارت میں کامیاب ہوسکتا ہوں ۔
اپنی کہانی:میرا مشغلہ شر وع سے ہی علم کا رہا ۔ مجھے بھی تجارت کا شو ق تھا کہ میں نے غلہ کی مختلف تجارتیں کیں مگر ہمیشہ نقصان اٹھایا ۔ اب کتا بو ں کی تجارت کو ہاتھ لگایا ۔ رب تعالیٰ نے بڑا فائدہ دیا۔ معلوم ہواکہ علماء اور مدرسین کو علمی تجارت فائدہ مند ہوسکتی ہے ۔ ہم نے بعض ایسے ہندو ماسٹر بھی دیکھے جو پڑھاتے ہیں اور ساتھ ساتھ قلم ، دوات ، پنسل ، کاغذ وغیرہ کی مدرسہ ہی میں تجارت بھی کرتے ہیں ۔ اس نفع سے اپنا ماہواری خرچ چلا کر تنخواہ ساری بچاتے ہیں ۔ غرضیکہ تجارت کے لئے اتنخابِ کار کی بڑی سخت ضرورت ہے ۔
    (۲) کسی ایسے کام میں ہاتھ مت ڈالو ، جس کی تمہیں خبر نہ ہواور سب کچھ دوسرو ں کے قبضہ میں ہو۔
ایک سخت غلطی: اولاً تو مسلمان تجارت کرتے ہی نہیں اور کرتے بھی ہیں تو اصولی غلطیوں کی وجہ سے بہت جلد فیل ہوجاتے ہیں ، مسلمانوں کی غلطیاں حسب ذیل ہیں۔
محنت:

محنت:

   (۶) یوں تو دنیا میں کوئی کام بغیر محنت نہیں ہوتا مگر تجارت سخت محنت ،چستی اور ہوشیاری چاہتی ہے ۔کاہل سست آدمی کبھی کسی کام میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ مثل مشہور ہے کہ بغیر محنت تو لقمہ بھی منہ میں نہیں جاتا ، تا جر خواہ کتنا ہی بڑا آدمی بن جائے مگر سارے کام نوکروں پر ہی نہ چھوڑدے ۔ بعض کام اپنے ہاتھ سے بھی کرے ۔ ہم نے بنیوں کو اپنے ہاتھ سے دالیں دلتے اور سود ا خود اٹھا کر لا تے ہوئے دیکھا ۔

دیا نتداری:

دیا نتداری:

  (۵)تاجر کو نیک چلن ، دیا نتدارہونا ضروری ہے ، بد چلن ، بدمعاش ، حرام خور کبھی تجارت میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ اسے بد معا شی سے فر صت ہی نہ ملے گی ۔ تجارت کب کرے ، مشرکین وکفارتجارت میں بہت دیانتداری سے کام لیتے ہیں۔ دیا نتداری سے ہی بازار سے قرض مل سکتا ہے ۔ دیا نتداری سے ہی لوگ اس پر بھر وسہ کریں گے ۔ دیانتداری سے ہی بینک اور کمپنیاں چلتی ہیں ۔ کم تو لنے والا ، جھوٹا ،خائن ، کچھ دن تو بظاہر نفع کمالیتا ہے مگر آخر کا ر سخت نقصان اٹھاتا ہے ۔

خوش اخلاقی:

خوش اخلاقی:

  (۴) یوں توہر مسلمان کو خوش خلق ہونا لازم ہے مگر تا جر کو خصوصیت سے خوش خلقی ضروری ہے ۔ مسلمان تا جرو ں کی نا کامی کا ایک سبب ان کی بد خلقی بھی ہے کہ جو گا ہک ان کے پاس ایک با ر آگیا وہ ان کی بد خلقی کی وجہ سے دوبا ر ہ نہیں آتا ۔ ہم نے ہندو تاجروں کو دیکھا کہ جب وہ کسی محلہ میں نئی دکا ن رکھتے ہیں تو چھوٹے بچو ں کو جو سودا خرید نے آئیں کچھ رونک یا چو نگا بھی دیتے رہتے ہیں تا کہ بچے اس لا لچ میں ہمارے ہی یہاں سے سودا خریدیں ۔ بڑے سود اگر خاص گا ہکوں کی پان ، بیڑی ،سگر یٹ بلکہ کبھی کھانے سے بھی تواضع کرتے ہیں ۔ یہ سب با تیں گاہک کو ہلالینے کی ہیں اگر تم یہ کچھ نہ کر سکو تو کم از کم گا ہک سے ایسی میٹھی بات کر و اور ایسی محبت سے بو لو کہ وہ تمہارا گر وید ہ ہوجائے ۔
حکایت :

حکایت :

   ایک بار سلطان محی الدین اور نگزیب غازی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بہت لمبی دعا مانگی ۔ ایک فقیر بو لا کہ حضرت ! اب کیا گدھا چاہتے ہو ؟ تخت پر بیٹھے ہو ، تاج والے ہو راج کر رہے ہو ، با ج لے رہے ہو ، اب اتنی لمبی دعائیں کاہے کے لئے مانگتے ہو ؟ آپ نے فوراً  فرمایا کہ حضرت گدھا نہیں آدمی مانگتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ اچھا مشیر عطا فرمائے ۔غرضیکہ بہتر ین ساتھی بہت مشکل سے ہاتھ آتا ہے ۔

    حکایت:

کسی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ تین خلفاء کے زمانہ میں فتو حات اسلامیہ بہت ہوئیں اور آپ کے زمانۂ خلافت میں خانہ جنگی ہی رہی ۔ آپ نے فورًا جواب دیا کہ وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے وزیر ومشیر ہم تھے اور ہمارے مشیر ہوتم، جیسا مشیر،ویسا سلطان ۔

تجارت:

تجارت:

پہلے معلوم ہو چکاہے کہ تجارت پیشہ انبیاء ہے اس کے بے شمار فضائل ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ تاجر مر زوق ہے اور ضرورت کے وقت غلہ روکنے والا ملعون ہے۔

   (سنن ابن ماجہ ،کتاب التجارات ، باب الحکرۃ والجلب ، الحدیث ۲۱۵۳، ج۳ ،ص۱۴)

بعض روایات میں ہے کہ رب تعالیٰ نے رزق کے دس حصے کئے نو حصے تا جر کو دیئے اور ایک حصہ ساری دنیاکو ۔
    نیز رو ایت میں ہے کہ قیامت کے دن سچا اور امین تا جر انبیاء اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا ۔
    تا جر در حقیقت تا جور ہے ۔ مثل مشہور ہے کہ تا جر کے سر پر تاج ہے ، تجارت سے دنیا کا قیام ہے ۔ تجارت سے با زارو ں کی رو نق ، ملکوں کی آبادی ، انسان کی زندگی قائم ہے ۔ مرے ، جیتے تجارت کی ضرورت ہے ، میت کا کفن اور قبر کے تختے تاجر ہی سے خرید ے جاتے ہیں ۔ سلطنت کا مدار تجارت پر ہے آج ملکی جنگیں تجارت کے لئے ہوتی ہیں ۔
    تعمیرِ مسجد کے لئے اینٹ ، چونا وغیرہ تا جروں کے ہاں سے آتا ہے ، مسجد کے مصلے چٹائیاں تاجر کی دکان سے آتے ہیں ، غلاف ِکعبہ کے لئے کپڑاتا جر ہی سے ملتا ہے ۔ ستر پوشی کے لئے کپڑا اور رو زہ افطار کرنے کے لئے افطاری دکان سے ہی خریدی جاتی ہے ، قرآن وحدیث چھاپنے کے لئے کا غذ رو شنائی تاجر سے ہی ملتی ہے غرضیکہ تجارت دین ودنیا کے لئے ضروری ہے مگر افسوس کہ ہند و ستا ن کے مسلمان اس سے بے بہرہ ہیں۔
    ہندوستا ن میں مسلمانوں کی تعداد د س کرو ڑ ہے اگر فی کس آٹھ آنے یومیہ خرچ کا اوسط ہو تو مسلمان پانچ کر وڑ رو پیہ رو ز خرچ کر تے ہیں اور سب تقریبا غیر قوموں کے پاس جاتا ہے گو یا ہر دن مسلم قوم پانچ کرو ڑ رو پیہ کفا ر کی جیب میں ڈالتی ہے ۔ اسی حساب سے مسلمانوں کا ما ہوار ڈیڑ ھ ارب رو پیہ اور سالا نہ اٹھارہ ارب غیر قوم کے پاس پہنچتا ہے ۔
    کاش ! اگر اس کا آدھا روپیہ بھی اپنی قوم میں رہتا تو  آج ہماری قوم کے دن پھر جاتے۔ یہ سب ''بر کتیں ''تجارت سے دو ر ہنے کی ہیں ، ہم حج کو جائیں تو غیروں کی جیب بھریں ، عید منائیں تو غیر کھائیں ، غرضیکہ جئیں تو غیروں کو دیں اور مریں تو غیروں کو دے کر جائیں اس لئے اٹھواور تجارت میں کو د پڑو ۔ آہستہ آہستہ منڈیوں پر قبضہ کرلو اور اپنے قبضہ کا کام کرو کیونکہ دیا نتداری اور خیر خواہ آدمی نہیں ملتے ہر شخص اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتا ہے ۔

پیشہ اور قومیت:

پیشہ اور قومیت:

مسلمانوں کی بے کاری کی وجہ ان کی جھوٹی قومیت او ر غلط قوم پرستی ہے ۔ ہند وستا ن کے مسلمانوں نے پیشے پر قومیت بنائی او رپیشہ ور قوموں کو ذلیل جانا ، ان بیوقوفوں کے نزدیک جو کما کے حلال رو زی کھائے وہ کمین ہے اور بھکاری سودی،مقرو ض، چوری، ڈکیتی کرنے والاشریف اللہ تعالیٰ عقل نصیب فرمائے۔جو کپڑا بننے کا پیشہ کرے وہ جولا ہا ہوگیا،جو مسلمان چمڑے کاکاروبارکرنے لگیں انہیں موچی کاخطاب مل گیا ،جو کپڑاسی کر اپنے بچوں کوپالے وہ درزی کہلا کر قوم سے باہر ہوا،جوروئی دھننے کا کام کرے وہ وہ دھنیا کہلایا گیا اور اٹھتے بیٹھتے ان پر طعنے بھی ہیں ان کا مذاق بھی اڑایا جارہاہے ۔با ت بات میں کہا جاتا ہے ہٹ جو لا ہے ، چل بے دھینے، دور ہوموچی ، یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی خاندان میں کسی نے بھی چمڑے کی تجارت کی تو اس کے پڑپوتو ں کو اپنی قوم میں لڑکی نہیں ملتی۔کہا جاتا ہے کہ اس کی فلانی پشت میں چمڑے کی دکان ہوتی تھی۔اس بیوقوفی کا یہ انجام ہوا کہ مسلمان سارے پیشو ں سے محرو م رہ گئے اب ان کے لئے صرف تین راستے ہیں  یا لالہ جی کے ہاں ذلت کی نوکری کریں یا زمین جائیدادبیچ کر کھائیں یابھیک مانگیں، چوری کریں اور اپنی شرافت کواوڑ ھیں اور بچھائیں۔ خیال رکھو کہ تمام ملکوں میں ملک عرب اعلیٰ اورافضل ہے کہ وہاں ہی حج ہوتا ہے اور وہ ہی ملک آفتابِ نبوت کا مشرق ومغرب بنا ۔ با قی پنجاب ، بنگال ، یوپی ، سی پی ، ایران،تہران،چین وجاپان سب یکساں ہیں ، حج کہیں نہیں ہوتا نہ پنجابی ہونا کمال ہے ۔ نہ ہندو ستانی ہونا فخر ، نہ ایرانی ہونا ولایت ہے نہ تو رانی ہونا ، بے شک اہل عرب ہمارے مخدو م ہیں کہ وہ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوسی ہیں ایسے ہی حضرات ساداتِ کرام اسلام کے شہزادے اور مسلمانوں کے سردارہیں۔حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ قیامت میں سارے نسب حسب بیکار ہوں گے ۔ سوائے میرے نسب کے۔

(المعجم الکبیر ، الحدیث ۱۱۶۲۱ ،ج ۱۱ ، ص ۱۹۴ )

باقی ساری اسلامی قومیں شیخ ،مغل،پٹھان اوردیگراقوام برا برہیں۔ان میں نبی زادہ کوئی نہیں، شرافت اعمال پرہے نہ کہ محض نسب پر۔رب تعالیٰ فرماتاہے :

وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ

ہم نے تمہیں مختلف قبیلے اس لئے بنایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو۔اللہ کے نزدیک عزت والاوہی ہے جو تم میں پر ہیزگارہو۔(پ26،الحجرات:13)

    جیسے کہ زمین میں مختلف شہر اور گاؤں ہیں اور شہرو ں میں مختلف محلے تا کہ ملکی انتظام میں آسانی رہے اور ہر ایک سے خط و کتابت کی جاسکے ۔ ایسے ہی انسانوں میں مختلف قومیں ہیں اور ہر قوم کے مختلف قبیلے تا کہ انسان ایک دوسرے سے ملے جلے رہیں اور ان میں نظم اور انتظام رہے ۔محض قومیت کو شرافت یا رِ ذلالت کا مدار ٹھرانا سخت غلطی ہے ۔یقین کر و کہ کوئی مسلمان کمین نہیں اور کوئی کا فر شریف نہیں۔ عزت وعظمت مسلمانوں کے لئے ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ

عزت اللہ اور رسول کے لئے ہے اور مسلمانوں کے لئے ۔(28،المنافقون:8)
    پھر مسلمانوں میں جس کے اعمال زیادہ اچھے اسی کی عزت ،زیادہ شریف وہ جو شریفوں کے سے کام کرے اور کمین وہ جو کمینوں کی سی حرکتیں کرے ۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔

ہزار خویش کہ بے گا نہ از خدا با شد
فدائے یک تنِ بے گا نہ کا شنا با شد

    ہمارے وہ اپنے جو اللہ ورسول کے غیر ہوں اس ایک غیر پر قربان ہوجائیں جو اللہ و رسول کے اپنے ہوں جل واعلیٰ تبارک وتعالیٰ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
کسی ہندی شاعر نے کہا ہے۔

رام نام کشٹے بھلے کہ ٹپ ٹپ ٹپکے جام
داروں کنچن دیھ کو کہ جس سکھ ناہیں رام

    غرضیکہ حلال پیشو ں کو ذلت سمجھ کر اسے چھوڑ بیٹھنا سخت غلطی ہے اب تو زمانہ 
بہت پلٹ چکا ہے ۔ بڑے بڑے لو گ کپڑے اور سوت کے کار خانے قائم کر رہے ہیں ۔ تم کب تک سو ؤگے ، خواب غفلت سے اٹھو اور مسلم قوم کی حالت پلٹ دو ، بیکاروں کو باکار بناؤ ، قر ضداروں کو قر ض سے آزاد کرو ، اپنے بچوں کو جاہل نہ رکھو انہیں ضرور تعلیم دلواؤ اور ساتھ ہی کوئی ہنر بھی سکھا دو تا کہ وہ کسی کے محتا ج نہ رہیں۔
معذور مسلمان:

معذور مسلمان:

  عا م طو ر پر دیکھا گیا ہے کہ مسلمانوں میں اندھے ، اپا ہج لوگ اور بیوہ عورتیں ، یتیم بچے بھیک پر گزارہ کرتے ہیں ، جگہ جگہ ریلوں اور گھرو ں میں یتیم بچے یتیم خانوں کے نام پر بھیک مانگتے پھرتے ہیں مگر ہندونابینا،لولے، لنگڑے اپنے لائق محنت مزدوری کر کے پیٹ پالتے ہیں۔ میں نے بہت سے اندھے اور لنگڑے ہندو سرخی کوٹتے،تمباکوبناتے او ر ایسی مزدوری کرتے ہوئے دیکھے جو وہ نہ کرسکیں ۔ ان کے یتیم بچو ں کے لئے آشرم اور پاٹھ شالے (یعنی اسکول)کھلے ہوئے ہیں۔
    امرتسرمیں ایک گوروگل(دارالیتامی)ہے جس میں ہندو یتیموں کو تعلیم دی جاتی ہے وہاں کا طریقۂ تعلیم یہ ہے کہ صبح دو گھنٹے پڑھائی اور دو گھنٹے کسی ہنر کی تعلیم مثلاًصابون سازی ، درزی گری ، کار چو بی ، وغیرہ پھر بعد دو پہر بچے دیا سلائی کی ڈبیاں،بٹن اور دیگر چھوٹی چھوٹی چیزیں لے کر بازار میں بیٹھ جاتے ہیں اور شام تک آٹھ دس آنے کمائی کرلیتے ہیں ۔ غرضیکہ بھیک سے بھی بچتے ہیں اور مدرسہ سے علم کے ساتھ ہنر بھی سیکھ کر نکلتے ہیں۔
    اب بتلاؤ کہ جب مسلمانوں کے یہ بھکاری یتیم خانہ سے اور ہندوؤں کے کارو باری یتیم گو رو گل سے نکلیں گے تو ان کی زندگی میں کتنا فر ق ہوگا ۔

 اے مسلم قوم ! اپنی آنے والی نسل کو سنبھال ۔ یہ سمجھنا کہ معذور آدمی کچھ نہیں کر سکتا سخت الفاظ ہے ۔ میں نے گجرات پنجاب میں ایک ایسانا بینا مسلمان بھی دیکھا جو ہزارو ں روپوں کی تجارت کرتا ہے ۔ اس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ معذوری کے باوجود بھی کارو بار ہوسکتا ہے ۔ میرے نزدیک وہ مسلمان جو صرف پنج وقتی نماز پڑھے اور کماکر کھائے ۔ اس کم ہمت سے افضل ہے جو قوی اور تندرست ہوکر صرف وظیفے پڑھا کر ے اور بھیک کو ذریعہ معا ش بنائے ۔
    صحابہ کرام صرف نمازی ہی نہ تھے وہ مسجدو ں میں نمازی تھے ۔ میدان جنگ میں بہادر غازی ، کچہری میں قاضی اور بازار میں اعلیٰ درجہ کے کارو باری،غرضیکہ مدرسۂ نبوی میں ان کی ایسی اعلیٰ تعلیم ہوئی تھی کہ وہ مسجدوں میں ملائکہ مقربین کا نمونہ ہوتے تھے مسجدو ں سے با ہرمد برات امر کا نقشہ پیش کرتے تھے ۔
ناجائز پیشے:

ناجائز پیشے:

بے مروتی کے پیشے مکروہ ہیں جیسے ضرورت کے وقت غلہ روکنا (احتکار)غیالی کفن دوزی کے پیشے وکالت اور دلالی ۔ ہاں بو قت ضرورت ان دو نوں میں حرج نہیں جبکہ جھوٹ وغیرہ سے بچے،حرام چیز وں کے کارو بار حرام ہیں جیسے گانا بجانا ، نا چنا ، شکر ے بازی ، بیٹر با زی وغیرہ ۔جھوٹی گواہی کے پیشے ایسے ہی شراب کی تجارت کہ شراب کھینچنا ، کھچوانا ، بیچنا ،بکوانا، خریدنا ، خریدوانا ، مزدوری پر خریدار کے گھر پہنچا نا یہ سب حرام ہیں۔ ایسے ہی جانور کے فو ٹو کی تجارت ناجائز ہے ۔فو ٹو بھی کھینچنا ، کھچوانا سب ناجائز ، جوئے کے کارو با ر حرام ، جوا کھیلنا ، کھلوانا، جوئے کامال لینا سب حرام ہیں۔ ایسے ہی مسلمانوں سے سودی کا رو با ر حرام ، سو د لینا ، دلوانا ، کھانا او راس کا گواہ بننا ، وکالت کرنا سب حرام ہے ۔ 
    علمائے متقدّمین امامت ، اذان ، مسجد کی خدمت ، علم دین کی تعلیم پر مزدوری لینے کو مکروہ فرماتے ہیں مگر علمائے متا خّرین نے جب یہ دیکھا کہ ا س صورت میں مسجدیں ویران ہوجائیں گی ، تعلیمِ دین بند اورامامت اذان موقوف ہوجائیں گی لہٰذا اسے بلا کر اہت جائزفرمایا ۔ تعویذ کی اجرت بلا کراہت جائز ہے۔
    خلاصہ یہ کہ حرام او ر مکروہ پیشو ں کے سوا کسی جائز پیشہ میں عا ر نہیں جو لوگ پیشہ کو عار سمجھ کر قر ضدار ہوگئے وہ دین ودنیا میں نقصان میں رہے ۔ مسلمانوں کی عقل پر کہاں تک ماتم کیا جائے ان اللہ کے بندوں نے سو دلینا حرام جانا اور دینا حلال سمجھا بلا ضرورت مقدمہ بازی ، شادی، غمی کی رسو م ادا کرنے کے لئے بے دھڑ ک سو دی قرض لے کر بر باد ہوتے ہیں ۔ 
    خیال رکھو کہ سو د لینے والا صرف گناہگار ہے اور سود دینے والا گناہگار بھی ہے اور بیوقوف بھی کہ سو د خور اپنی آخرت بر باد کر کے دنیا تو بنالیتا ہے مگر سود دینے والا بیوقوف اپنے دین ودنیا دونوں بر باد کرتا ہے ۔ میں نے ایک کتاب میں دیکھا کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں پر دیگر قوموں کا ڈیڑھ ارب وہ سو دی رو پیہ قرض ہے جن کے مقدمات دائر ہیں اور یہ تو دیکھنے میں آتاہے کہ مسلمانوں کے محلّے کے محلّے مکانات ، دکانیں ، جائیداد یں اس سود کی بدولت بنیوں کے پاس پہنچ گئیں ۔
    کا ش اگر مسلمان سود دینے کو سود خوری کی طر ح حرام سمجھتے تو انہیں یہ رو زِبد دیکھنا نصیب نہ ہوتا ،  کاش ! اب بھی مسلمانوں کی آنکھیں کھل جائیں اور اپنا مستقبل سنبھا لیں۔ سمجھ لو کہ اگر تم زمین سے محروم ہوگئے تو ہندو ستا ن میں تمہاری حیثیت مسافر کی سی ہے کہ کفار جب چاہیں تم سے اپنی زمین خالی کرالیں۔
بہتر پیشہ:

بہتر پیشہ:

    افضل پیشہ جہاد ، پھر تجارت ، پھر کھیتی باڑی ، پھر صنعت وحرفت ہے ، علمائے کرام نے فرمایا کہ جا ئز پیشو ں میں تر تیب ہے کہ بعض سے بعض اعلیٰ ہیں ۔
    جن پیشو ں سے دین ودنیا کی بقا ہے دو سرے پیشو ں سے افضل ہیں چنا نچہ بہترصنعت دینی تصنیف اور کتا ب ہے کہ اس سے قرآ ن وحدیث او رسارے دینی علوم کی بقا ہے ۔ پھر آٹے کی پسائی اور چاول کی صاف کرائی کہ اس سے نفس انسان کی بقا ہے ۔ پھر روئی دھنائی،سو ت کتا ئی اور کپڑا بننا ہے کہ اس سے ستر پوشی ہے پھر درزی گر ی کا پیشہ بھی کہ اس کا بھی یہی فا ئدہ ہے ۔ پھر رو شنی کا سامان بنانا کہ دنیا کو اس کی بھی ضرورت ہے۔ پھر معماری ، اینٹ بنانا(بھٹہ) اورچونے کی تیاری ہے کہ اس سے شہر کی آبادی ہے ۔ رہی زرگری ، نقاشی ، کار چو بی ، حلوہ سازی ، عطر بنانا یہ پیشے جائزہیں مگر ان کا کوئی خاص درجہ نہیں کیونکہ فقط زینت کے سامان ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ بیکاررہنا بڑاجرم ہے اور ناجائز پیشے کرنا اس سے بڑھ کر جرم،رب تعالیٰ نے ہاتھ پاؤں وغیرہ بر تنے کے لئے دیئے ہیں نہ کہ بیکار چھوڑنے کے لئے۔  (تفسیر نعیمی،تفسیر عزیزی)
انبیاء کرام نے کیا پیشے اختیار کئے:

انبیاء کرام نے کیا پیشے اختیار کئے:

   کسی پیغمبر نے نہ سوال کیا،نہ ناجائز پیشے کئے،ہرنبی نے کوئی نہ کوئی حلال پیشہ ضرورکیا۔چنا نچہ آدم علیہ السلام نے اولاً کپڑا بُننے کا کام  کیا اور بعد میں آپ کھیتی باڑی میں مشغول ہوگئے ۔ ہر قسم کے بیج جنت سے ساتھ لائے تھے ان کی کاشت فرماتے تھے ۔ ان کے سوا سارے پیشے کئے ۔ نوح علیہ السلام کا ذریعہ معا ش لکڑی کا کام تھا (بڑھئی پیشہ)ادریس علیہ السلام درزی گری فرماتے تھے۔حضرت ہود اورصالح علیہما السلام تجارت کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مشغلہ کھیتی باڑی تھا ۔حضرت شعیب علیہ السلام جانور پالتے اور ان کے دو دھ سے معا ش حاصل کرتے تھے ۔ لوط علیہ السلامکھیتی باڑی کرتے تھے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے چند سال بکریاں چرائیں ، داؤد علیہ السلام زِرہ بناتے تھے۔سلیمان علیہ السلام اتنے بڑے با د شاہ ہو کر درختو ں کے پتو ں سے پنکھے اورزنبیلیں بنا کر گزر فرماتے تھے ۔ عیسیٰ علیہ السلام سیر وسیاحت میں رہے ، نہ کہیں مکان بنایا ، نہ نکاح کیا اور فرماتے تھے کہ جس نے مجھے ناشتہ دیاہے وہ ہی شام کا کھانا بھی دے گا۔حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ سلم نے بکریاں بھی چرائی ہیں اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے مال کی تجارت بھی فرمائی ، غرض ہر قسم کی حلال کمائیاں سنت انبیاء ہے اس کو عار جاننا نادانی ہے  ( تفسیر نعیمی، تفسیر عزیزی)

کمائی کے عقلی فوائد:

کمائی کے عقلی فوائد:

(۱) حلال کمائی پیغمبروں کی سنت ہے (۲) کمائی سے مال بڑھتا ہے اورمال سے صدقہ ، خیرات ، حج ، زکوۃ ، مسجدو ں کی تعمیر ، خانقاہوں کی عمارت ہوسکتی ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مال کے ذریعہ جنت خریدلی کہ ان کے لئے فرمایا گیا۔ اِفْعَلُوْا مَا شِئْتُمْ  (یعنی تم جوچاہے کرو)۔

 (۳)کمائی کھیل کو د او ر صد ہا جر موں سے رو ک دیتی ہے چوری ، ڈکیتی ، بد معا شی چغلی غیبت لڑائی جھگڑے سے بیکاری کے نتیجے ہیں۔
(۴) کسب سے انسان کو محنت کی عا دت پڑتی ہے اور دل سے غرو ر نکل جاتا ہے۔
(۵) کسب میں غربت وفقیر ی سے امن ہے او رغریبی دنیا بر باد کر کے دونوں میں منہ کالا کرتی ہے ۔ اِلَّا مَا شَاءَ اللہُ (۶)جو کوئی کمائی کے لئے نکلتا ہے تو اعمال لکھنے والے فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تیری اس حرکت میں بر کت دے اور تیری کمائی کو جنت کاذخیرہ بنائے اس دعا پر زمین وآسمان کے فر شتے آمین کہتے ہیں۔

 (تفسیرنعیمی پارہ دو م،روح البیان)
(تفسیر نعیمی ، ج ۲ ،ص۱۳۷ ، رو ح البیان ، پ ۲ ، البقرۃ ، تحت ۱۶۹،ج۱ ،ص ۱۷۳)

کسب کے نقلی فضائل

کسب کے نقلی فضائل

    حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے بہتر غذا وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی سے کھائے ۔ داؤدعلیٰ بنیناوعلیہ الصلاۃوالسلام بھی اپنی کمائی سے کھاتے تھے۔

( صحیح البخاری ،کتاب البیوع ، باب کسب الرجل ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث ۲۰۷۲، ج ۲ ،ص۱۱ ) (ومشکوۃ المصابیح ، کتاب البیوع ، باب الکسب ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۲۷۵۹ ، ج۲ ، ص ۵۱۳)

    (۲) فر ماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کہ طیب چیز وہ ہے جو تم نے اپنی کمائی سے کھائی او رتمہاری اولاد تمہاری کمائی ہے۔

 یعنی ماں با پ اولاد کی کمائی کھاسکتے ہیں۔

 (سنن التر مذی ،کتاب الاحکام ،باب ماجاء ان الوالد یا خذ من مال و لدہ، الحدیث ۱۳۶۳ ، ج۳ ،ص۷۶)

(۳) فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں رو پیہ پیسہ کے سوا کوئی چیز کام نہ دے گی ۔
(۴) فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)حلال کمائی فر ض کے بعد فرض ہے۔

( شعب الایمان ، باب فی حقوق الا ولاد و الاھلین ، الحدیث ، ۸۷۴۱ ، ج ۶ ،ص ۴۲۰ )
یعنی نما ز رو زہ کے بعد کسب حلال فر ض ہے ۔
(۵)فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کہ رب تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کا پیغمبر وں کو دیا تھا کہ انبیاء کرام سے فرمایا:

یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوۡا صَالِحًا ؕ

اے پیغمبرو! حلال رزق کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ (پ18، المومنون:51)
اورمسلمانوں سے فرمایا:

کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ؕ

ہماری دی ہوئی حلال چیزیں کھاؤ۔(پ1،البقرہ57)

( صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ، باب قبول الصدقۃ ۔۔۔۔۔۔ الخ ، الحدیث ۱۰۱۵ ، ص۵۰۷)

(۶) بعض لوگ ہاتھ پھیلا پھیلا کر گڑ گڑ ا کر دعائیں مانگتے ہیں حا لانکہ ان کی غذا،ان کا لباس حرام کمائی کا ہوتاہے۔پھر ان کی دعا کیو نکر قبول ہو ۔

( صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ، باب قبول الصدقۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث ۱۰۵۱ ، ص ۵۰۷)

(۷)فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کہ تین شخصوں کے سوا کسی کو مانگنا جائز نہیں ایک وہ جو کسی مقروض کا ضامن بن گیا اور قرض اسے دینا پڑگیا۔دو سرا وہ جس کا مال آفت ناگہانی سے بر باد ہوگیا ۔ تیسرا وہ جو فا قہ میں مبتلا ہوگیا ان کے سوا کسی اور کو سوال حلال نہیں ۔

( صحیح مسلم ،کتاب الزکاۃ ، باب من نحل لہ المسئلۃ ، الحدیث ۱۰۴۴ ، ص ۵۱۹)

(۸)ایک بار حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں کسی انصاری نے سوال کیا فرمایا: ''کیاتیرے گھر میں کچھ عرض(یعنی سامان) ہے؟'' عرض کیا: صرف ایک کمبل ہے جس کا آدھا بچھاتا ہوں ، آدھا اوڑھتا ہوں او ر ایک پیالہ جس سے پانی پیتا ہوں ۔ فرمایا: وہ دونوں لے آ، وہ لے آیا ۔حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) نے مجمع سے خطا ب کر کے فرمایا: اسے کون خرید تا ہے ، ایک نے عرض کیا کہ میں ایک درہم سے لیتا ہوں پھر دو تین بار فرمایا کہ درہم سے زیادہ کو ن دیتا ہے ؟ دو سرے نے عرض کیا میں دو درہم (نو آنے ) میں خرید تا ہوں ۔ حضور علیہ السلام نے وہ دو نوں انہیں کو عطا فرمادیں (نیلام کا ثبوت ہوا ) اور یہ دو درہم ان سائل صاحب کو دے کر فرمایا کہ ایک کا غلہ خرید کر گھرمیں ڈالو دوسرے درہم کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ پھر اس کلہاڑی میں اپنے دست مبارک سے دستہ ڈالااور فرمایا جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور پندر ہ رو ز تک میرے پاس نہ آنا ۔ وہ انصاری پندرہ رو ز تک لکڑیاں کاٹتے اور بیچتے رہے پندرہ رو ز کے بعد جب بارگاہ نبوی میں حاضر ہو ئے تو ان کے پاس کھانے پینے کے بعد دس درہم یعنی پونے تین روپے بچے تھے ۔ اس میں سے کچھ کا کپڑا خریدا کچھ کا غلہ ۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا یہ محنت تمہارے لئے مانگنے سے بہتر ہے ۔

(ابن ماجہ ، مشکوۃ کتاب الزکوۃ ) (سنن ابی داؤد ،کتاب الزکاۃ ، باب ما تجوز فیہ المسالۃ ، الحدیث ۱۶۴۱ ،ج۲ ، ص ۱۶۸)

(۹)فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کہ جو کوئی بھیک نہ مانگنے کا ضامن بن جائے میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں ۔

(سنن ابی داؤد ،کتاب الزکاۃ ، باب کراھیۃ المسئلۃ ، الحدیث ۱۶۴۳ ، ج۲ ،ص ۱۷۰)

(۱۰)حضور علیہ السلام نے ابو ذر سے فرمایا کہ تم لوگوں سے کچھ نہ مانگو ۔ عرض کیا بہت اچھا فرمایا اگر گھوڑے پر سے تمہارا کو ڑاگرجائے تو وہ بھی کسی سے نہ مانگواترکرخودلو۔

( مشکاۃ المصابیح ،کتاب الزکاۃ ، باب من لا تحل لہ المسالۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ، الفصل الثالث الحدیث ۱۸۵۸ ، ج۲ ، ص ۳۵۳ )( المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث ابی ذر الغفاری ، الحدیث ۲۱۶۲۹ ، ج ۸ ، ص ۱۳۷)
(۱۱) فرماتے ہیں(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)جو کو ئی اپنا فا قہ مخلوق پر پیش کر ے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی فقیری بڑھائے گا۔

( سنن ابی داؤد ،کتاب الزکاۃ ، باب فی الاستعفا ف ، الحدیث ۱۶۴۵ ، ج ۲ ،ص ۱۷۰)

طبع فقیر ی ہے اور یاس غنا۔

( مشکوۃ المصابیح ،کتاب الزکاۃ ،باب من لا تحل ۔۔۔۔۔۔ الخ ، الفصل الثالث ، الحدیث ، ۱۸۵۶)
مسلمان اور بیکاری:

مسلمان اور بیکاری:

   مسلمانوں کو بر باد کر نے والے اسباب میں سے بڑا سبب ان کے جوانوں کی بیکاری اور بچوں کی آوار گی ہے ۔ پاکستا ن کے مسلمانوں پر اخراجات زیادہ اور آدمی کے ذریعہ محدود بلکہ قریباًنا بود ہیں ، یقین کرو ، بیکاری کا نتیجہ ناداری ہے ۔ ناداری کا انجام قر ضداری اور قرضداری کا انجام ذلت وخواری ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ناداری و مفلسی صدہا عیبو ں کی جڑ ہے ۔ چوری ، ڈکیتی ، بھیک بد معا شی ، جعلسازی اس کی شاخیں ہیں اور جیل پھانسی اس کے پھل،مفلس کی بات کا وزن ہی نہیں ہوتا ۔ پیشہ ور واعظ اور علماء کو بد نام کر نے والے مہذب بھکاری اعلی درجہ کا وعظ کہہ کر جب اخیر میں کہہ دیں کہ بھائیو! میرے پاس کرایہ نہیں،میں مفلس ہوں،میری مددکرو،ان دو لفظوں سے سار اوعظ بیکار ہوجاتا ہے ۔

    بھیک وہ کھٹائی ہے جو وعظ کے سارے نشہ کو اتا ردیتی ہے ۔ حق تو یہ ہے کہ مفلس کی نہ نماز اطمینان کی ، نہ رو زہ ، زکوۃ وحج کا تو ذکر ہی کیا ۔ یہ عبادتیں اسے نصیب ہی کیسے ہوں ۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے کیا خوب فرمایا ۔

غم اہل وعیال وجامہ وقوت     
            بازت آرد زسیر در ملکوت ! 
شب چو عقد نماز بر بندم        
            چہ خورد با مداد فر زندم

    یعنی بیوی بچو ں او رروٹی کپڑے کا غم،عا بد صاحب کو ملکوت کی سیرسے نیچے اتا ر لاتا ہے ۔ نماز کی نیت با ندھتے ہی خیال پیدا ہوتا ہے کہ صبح بچے کیا کھائیں گے ۔
 اس ليے مسلمانوں کو چاہيے کہ بیکاری سے بچیں ، اپنے بچو ں کو آوارہ نہ ہونے دیں اور جو انوں کو کام پر لگائیں دو سری قوموں سے سبق لیں دیکھو ہندوؤں کے چھوٹے بچے یا سکول وکالج میں نظر آئیں گے یا خوانچہ بیچتے ۔ مسلمانوں کے بچے یا پتنگ اڑاتے دکھائی دیں گے یا گیند بَلّا کھیلتے دیگر قوموں کے جوان کچہریوں،دفتروں اورعمدہ عمدہ عہدوں کی کر سیوں پر دکھائی دیں گے یا تجارت میں مشغول نظر آئیں گے مگر مسلمانوں کے جوان یا فیشن ایبل اور عیش پر ست ملیں گے یا بھیک مانگتے دکھائی دیں گے یا بدمعاشی کرتے نظر آئیں گے ۔

    سینما مسلمانوں سے آبا د،کھیل تماشوں میں مسلمان آگے آگے،تیتربازی، بٹیر بازی اور پتنگ بازی، مرغ بازی غرض ساری بازیاں اور ہلاکت کے سارے اسباب مسلم قوم میں جمع ہیں۔میں تو یہ دیکھ کرخو ن کے آنسو رو تا ہوں کہ ذلیل پیشہ ور مسلمان ہی ملتے ہیں میراثی مسلمان ، رنڈیاں اکثر مسلمان زنانے (ہیجڑے)مسلمان یکہ و تانگا والے اکثرمسلمان جواری وشرابی اکثرمسلمان،افسوس جو دین بد معا شیوں کو دنیا سے مٹا نے آیا اس دین کے ماننے والے آج بد معا شیوں میں اول نمبر۔

    یقین کر و کہ ہمارا زندہ رہنا اور ہم پر عذاب الٰہی نہ آنا صر ف اس لئے ہے کہ ہم حضورصلی اللہ تعالیٰ وآلہ وسلم کی امت میں ہیں ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ ؕ

ترجمہ کنزالایمان :اوراللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرماہو۔(پ9،الا نفال 33)
ورنہ پچھلی ہلاک شدہ قوموں نے جو کام ایک ایک کر کے کئے تھے ہم ان سب کے برابر
بلکہ ان سے بڑھ کر کرتے ہیں ۔ شعیب علیہ السلام کی قوم کم تو لنے کی مجرم تھی ۔لوط علیہ السلام کی قوم نے حرام کا ری کی،لیکن دودھ میں سے مکھن نکال لینا ، ولا یتی گھی دیسی بنا کر بیچ دینا و غیرہ وغیرہ ۔ان کے با پ دادوں کو بھی نہ آتا تھا لہٰذا مسلمانو ! ہوش میں آؤ جلد کو ئی حلال کا رو با ر شرو ع کر و۔ اب ہم بیکاری کی برائیاں اور حلال کمائی کے نقلی وعقلی فضائل بیان کرتے ہیں ۔
بارہ مہینوں کی متبرک تاریخوں کے وظیفے اورعملیات

بارہ مہینوں کی متبرک تاریخوں کے وظیفے اورعملیات

دسویں محرم (عاشورہ):


    محرم کی نویں اور دسویں کو رو زہ رکھے تو بہت ثواب پائے گا ۔ بال بچو ں کے لئے دسویں محرم کو خوب اچھے اچھے کھانے پکائے توإن شاءاللہ عزّوجلّ! سال بھر تک گھر میں برکت رہے گی ۔ بہتر ہے کہ حلیم (کھچڑا )پکا کر حضرت شہید کر بلا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فا تحہ کر ے بہت مجر ب ہے اسی تا ریخ  کو غسل کرے تو تمام سال إن شاءاللہ عزّوجلّ! بیماریوں سے امن میں رہے گا کیونکہ ا س دن آب زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔

(رو ح البیان ، پ ۱۲ ، ھود : تحت ۳۸،ج۴ ،ص ۱۴۲)

    اسی دسویں محرم کو جو سر مہ لگائے تو  سال بھر تک اس کی آنکھیں نہ دکھیں۔

(درمختار کتاب الصوم)(رد المحتار ، کتاب الصوم ،باب ما یفسد الصوم ، مطلب فی حدیث التو سعۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ، ج ۳ ،ص ۴۵۷)

ربیع الا ول کا میلا د شریف:


    ربیع الاول بارہویں تا ریخ حضور انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پاک کی خوشی میں روزہ رکھنا ثواب ہے مگر بہتر ہے کہ دو روزے رکھیں اور اس مہینہ میں محفل میلا د شریف کرنے سے تمام سال گھر میں بر کتیں اور ہر طرح کا امن رہتا ہے۔

(رو ح البیان ، پ ۲۶ ، الفتح : تحت ۲۹ ، ج۹ ، ص ۵۷ ملخصا)
 اس کا بہت تجربہ کیا گیا ہے اور گیارہویں، بارہویں تاریخوں کی درمیانی رات کو تمام رات جاگے اس رات میں غسل کرے ، نئے کپڑے بدلے ، خوشبو لگائے ، ولادت پاک کی خوشی کرے اور بالکل ٹھیک صبح صادق کے وقت قیام اور سلام کرے ۔ ان شاء اللہ عزوجل!جو بھی نیک دعا مانگے قبول ہوگی۔ بہت ہی مجرب ہے ۔ اعتقاد شرط ہے ۔ لادوامریض اوربہت مصیبت زدوں پر آزما یا گیا ، درست پایا مگر قیام اور سلام کا وقت نہایت صحیح ہو ۔

ربیع الآخر کی گیارہویں شریف:


   اس مہینہ میں ہر مسلمان اپنے گھر میں حضور غوث پاک سر کا ر بغدادرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فاتحہ کرے ۔ سال بھر تک بہت بر کت رہے گی اگر ہرچاندکی گیارہویں شب کو یعنی دسویں او رگیارہویں تا ریخ  کی درمیانی رات کو مقرر پیسو ں کی شیرینی مسلمان کی دکان سے خر ید کرپا بندی سے گیارہویں کی فا تحہ دیا کرے تو رزق میں بہت ہی بر کت ہوگی اوران شاء اللہ تعالیٰ کبھی پر یشان حال نہ ہوگا مگر شر ط یہ ہے کہ کوئی تا ریخ ناغہ نہ کرے اور جتنے پیسے مقر ر کردے اس میں کمی نہ ہو اتنے ہی پیسے مقر ر کرے جتنے کی پابندی کرسکے ۔ خود میں اس کا سختی سے پابند ہو ں اور بفضلہ تعالیٰ اس کی خوبیاں بے شمار پاتا ہوں وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ

رجب:


    رجب کے مہینے میں تیر ہویں ، چودھویں اور پندرھویں تا ریخ  کو رو زے رکھے اس کو ہزاری رو زہ کہتے ہیں کیونکہ ان رو زوں کا ثواب مشہور یہ ہے کہ ایک ہزار روزوں کے برابر ہے ۔
    بائیسویں رجب کو امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فا تحہ کر ے ، بہت اڑی ہوئی مصیبتیں جاتی ہیں۔
    ستا ئیسویں رجب کو معراج النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں جلسے کریں ، خوشیاں منائیں رات کو جاگ کر نوافل پڑھیں، پنجاب میں رجب کے مہینہ میں زکوٰۃ نکالتے ہیں لیکن ضروری یہ ہے کہ جب مال کا سال پورا ہوجائے فوراً  زکوٰۃ نکال دے رجب کا انتظار نہ کرے ہاں سال پورا ہوجانے سے پہلے بھی نکال سکتا ہے اور اگر رمضان میں زکوٰۃ نکالے تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ رمضان میں نیک کاموں کا ثواب زیادہ ہے ۔

شعبان، شب برأت:  

  اس مہینہ کی پندرھویں رات جس کو شب ِبرأت کہتے ہیں بہت مبارک رات ہے ۔ اس رات میں قبر ستان جانا ، وہاں فاتحہ پڑھنا سنت ہے ، اسی طر ح بزرگان دین کے مزارات پر حاضر ہونا بھی ثواب ہے اگر ہو سکے تو چودھویں اور پندرھویں تا ریخ  کو رو زے رکھے ۔ پندرھویں تا ریخ  کو حلوہ وغیرہ بزرگان دین کی فاتحہ پڑھ کر صدقہ وخیرات کرے اور پندرھویں رات کو ساری رات جاگ کر نفل پڑھے اور اس رات کو ہر مسلمان ایک دوسرے سے اپنے قصور معا ف کرالیں، قرض وغیرہ ادا کریں کیونکہ بغض والے مسلمان کی دعا قبول نہیں ہوتی اور بہتر یہ ہے کہ سو رکعت نفل پڑھے دو دو رکعت کی نیت باندھے اور ہر رکعت میں ایک ایک با رسورہ فا تحہ پڑھے گیارہ گیارہ
مرتبہ'' قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌ''پڑھے تو رب تعالیٰ اس کی تمام حاجتیں پوری فرمادے اور اس کے گناہ معاف فرمادے۔

( رو ح البیان ، پ ۲۵، الدخان: تحت ۳ ، ج ۸ ،ص ۴۰۳)

    اور اگرتمام رات نہ جاگ سکے تو جس قدر ہو سکے عبادت کرے اور زیاراتِقبور کرے (عورتوں کو قبرستان جانا منع ہے) لہٰذا وہ صرف نوافل اور روزے ادا کریں۔ اگر اس رات کو سات پتے بیری کے پانی میں جوش دے کر غسل کرے تو ان شاء اللہ العزیز تمام سال جادو کے اثر سے محفو ظ رہے گا ۔

ماہ رمضان:


    یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کا ہرہرمنٹ بر کتوں سے بھرا ہے اس میں ہر وقت عبادت کی جاتی ہے ، دن کو رو زہ اور تلاوت قرآن پاک اور رات تر وایح اور سحری میں گزرتی ہے ۔ مگر اس ماہ میں ایک رات بڑی ہی مبارک ہے ۔دن تو جمعۃ الوداع کا دن اور رات ستائیسویں رات ، اس کے کچھ عمل بتائے جاتے ہیں ۔
    رمضان شریف کی ستا ئیسویں رات غالبا ًشب قدر ہے ۔اس رات کو جاگ کر گزارے اگر تمام رات نہ جاگ سکے تو سحری کھا کر نہ سوئے اور یہ دعا زیادہ مانگے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَ الْعَا فِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالْاٰ خِرَۃِ اور اگر ہو سکے تو سورکعت نفل دودو کی نیت سے پڑھے اور ہررکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد اِنَّااَنْزَلْنَاہ، فِیْ لَیْلَۃِالْقَدْرِ(الخ)ایک بار اور '' قُلْ ھُوَاللہُ اَحَد'' تین تین بار پڑھ لے اور ہر سلام پر کم از کم دس دس باردرود شریف پڑھتا جائے اور بہتر یہ ہے کہ اسی ستا ئیسویں شب کو تراویح کا ختم قرآن بھی کیا جائے ۔

 ( رو ح البیان ، پ ۳۰ ، القدر : تحت ۳ ، ج ۸ ، ص ۴۰۳)

    جمعۃ الواداع میں نماز قضا عمری پڑھے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جمعۃ الوداع کے دن ظہر وعصر کے درمیان بار ہ رکعت نفل دو دو رکعت کی نیت سے پڑھے اور ہررکعت میں سورہ فاتحہ کے بعدا یک بار آیت الکرسی اور تین بار ''قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ'' اور ایک ایک بار فلق اور ناس پڑھے ۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جس قد ر نمازیں اس نے قضا کر کے پڑھی ہوں گی ۔ ان کے قضا کرنے کا گناہ إن شاءاللہ عزّوجلّ! معا ف ہوجائے گا۔یہ نہیں کہ قضا نمازیں اس سے معاف ہوجائیں گی وہ تو پڑھنے سے ہی ادا ہوں گی ۔ عید بقرعید کی راتوں میں عبادت کرنا ثواب ہے ۔

    جو کوئی اس کتاب سے فائدہ اٹھائے تو مجھ فقیر بے نوا کے لئے دعا کرے کہ رب تعالیٰ ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے آمِیْنَ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ وَنُوْرِ عَرْشِہٖ سَیِّدِنَا وَمَوْلاَنَا مُحَمَّد وَعَلٰی اٰلہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَ حْمَتِہٖ وَھُوَاَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ
روزانہ پڑھنے  کے  فائدہ مند وظیفے اوراعمال

روزانہ پڑھنے کے فائدہ مند وظیفے اوراعمال

    ہمارے بعض دوستوں کی فرمائش تھی کہ کتاب کے آخر میں فائدہ مند وظیفے اوراعمال روزانہ پڑھنے کے بھی اورمتبرک تاریخوں اوربڑی راتوں کے بھی بیان کردیے جائیں ۔ کیونکہ لوگ ان سے بے خبر ہیں ۔ میں مسلمانوں کے فائدے کے لیے وہ اعمال جو کہ بفضلہ تعالیٰ سو فیصدکامیاب ہیں اورجس کی مجھ کو میرے ولی نعمت ، مرشد برحق،حضرت صدرالافاضل مولانامحمدنعیم الدین صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ کی طرف سے اجازت ہے خاص لِوَجہِ اللہ بتاتاہوں اورسنی مسلمانوں کو ان کی اجازت دیتاہوں ۔

نوٹ ضروری : ہر عمل کی کامیابی کی دو شرطیں ہیں ۔ اول عامل کا صحیح العقیدہ سنی ہونا اورہر بد مذہب خصوصاًدیوبندی اوروہابی کی صحبت سے بچنا۔ دوم شرعی احکام خصوصاًنماز روزے کا سختی سے پابند ہونا ۔ مریض اگر دوا کرے مگر پرہیزنہ کرے تو دوا فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اسی طرح اگر ان مذکورہ اعمال کاکرنے والا یہ دو پرہیز نہ کریگاتو کامیاب نہ ہوگا ۔ دو طرح کے وظیفے بیان کرتاہوں ایک تو روزانہ یا کسی خاص موقعہ پر
پڑھنے کے،دوسرے خاص راتوں اورمتبرک تاریخوں میں پڑھنے کے لئے۔

صبح و شام: نماز فجر اورنماز مغرب کے بعد ہر روز تین بار یہ دعا پڑھے اول وآخر تین تین بار درود شریف اَعُوْذُ بِکَلِمٰتِ اللہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ۔

( الوظیفۃ الکریمۃ ، ص ۴۵)

پھر یہ پڑھے سَلٰمٌ عَلٰی نُوۡحٍ فِی الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۹﴾ (الصفّت : 79)

خدانے چاہا تو زہر یلے جانوروں سانپ بچھو وغیرہ سے محفوظ رہے گا ۔ نہایت مجرب ہے ۔
    روزانہ صبح فجر کی سنتیں اپنے گھر پڑھے اورسنتوں کے بعد اول آخر درود شریف تین تین بار درمیان میں ۷۰بار اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہٖ پڑھے گھر میں بہت برکت رہے گی اورسب گھر والوں میں اتفاق بفضلہ تعالیٰ ہوگا مگر شرط یہ ہے کہ مرد سنت فجر کے بعد فرض مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھے ۔
کھانا کھانے کے وقت :

     بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لاَیَضُرُّمَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَآءِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔  جب کھانا سامنے آجائے تب یہ پڑھ کر کھائے ۔ رب نے چاہا تو وہ کھانا نقصان نہ کرے ۔ دوا پر بھی یہی دعا پڑھ لینی چاہیے ۔

دشمنوں کے شر سے بچنے کے لئے:

     روزانہ صبح وشام اول وآخر درود شریف پڑھ کر ۳بار یہ دعا پڑھے۔ 
 بِسْمِ اللہِ خَیْرُالْاَسْمَآءِ بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لاَیَضُرُّمَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَآءِ۔ ان شاء اللہ عزوجل! دشمنوں کے شر سے محفوظ رہے گا۔

سفر کو جاتے وقت :

    جب گھر سے سفر کے ليے نکلے تو اگر کراہت کا وقت نہ ہو (نفل کی کراہت کا وقت فجر اورعصر کے بعد اوردوپہر میں ہے) تو دو رکعت نفل نماز سفر کی نیت سے پڑھ لے ۔ ہر رکعت میں تین تین بارقل ھواللہ پڑھے اور بعد کو یہ دعا پڑھے اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ؕ ۔ (20 القصص :85)

رب نے چاہا توبخیریت گھر واپس آئے گا۔ اورسب کو خیریت سے پائے گا۔ اوراگر اس وقت نفل مکروہ ہوتو بھی محلہ کی مسجد میں آجائے اوریہ دعا پڑھے ۔

سواری پر سوار ہوتے وقت :

    اگر گھوڑا تانگہ ، ریل موٹر وغیرہ خشکی کی سواری پر سوار ہوتو یہ پڑھ کر بیٹھے۔  سُبْحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾ ۔( الزخرف:13،14)

    ان شاء اللہ عزوجل! اس سواری میں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی ۔ ہر مصیبت سے محفوظ رہے گا۔ اوردریا کی سواری یعنی کشتی جہاز وغیرہ میں بيھٹتے وقت یہ دعا پڑھ لے وَقَالَ ارْکَبُوۡا فِیۡہَا بِسْمِ اللہِ مَجْرٖؔىھَا وَمُرْسٰىہَا ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۱﴾۔ (ھود :41)

ان شاء اللہ عزوجل! ڈوبنے سے بچے گا۔
رات کو سوتے وقت

    اگر سوتے وقت آیۃ الکرسی پڑھ لے تورات بھر وہ مکان چوری آگ اورناگہانی آفات سے محفوظ رہے گا اورپڑھنے والا بدخوابی اورجنات کے خلل سے بچا رہے گا۔ ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھنے سے إن شاءاللہ عزّوجلّ! خاتمہ بالخیر ہوگا۔ 
(۲)جو شخص سوتے وقت پانچواں کلمہ اور قُلْ یَا ۤاَیُّھَاالْکٰفِرُوْنَ ایک ایک دفعہ پڑھ کر سویا کرے تو ان شاء اللہ تعالیٰ مرتے وقت کلمہ نصیب ہوگا مگر چاہے کہ اس کے بعد کوئی دنیاوی بات نہ کرے اگر بات کرنی پڑ جائے تو دوبارہ اس کو پڑھ لے ۔ 
ہر نماز کے بعد لَقَدْ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ آخر رکوع تک ۔( پ ۱۱ ، التو بۃ :۱۲۸ ، ۱۲۹)
پڑھ لیا جائے تو غیب سے روزی ملے گی اوربہت برکت ہوگی ۔

مصیبت زدہ کو دیکھ کر:

    بیمار قرضداریا اورکسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر یہ دعا پڑھنی چاہے ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلاَکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلاً۔  إن شاءاللہ عزّوجلّ! وہ مصیبت اپنے کو کبھی نہ آئے گی ۔

( سنن التر مذی ،کتاب الدعوات ، باب مایقول اذا رأی مبتلی ، الحدیث ۳۴۴۳ ، ج ۵ ، ص ۲۷۳)

نہایت مجرب ہے ۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular