Showing posts with label غلام ربانی فدا شخص وشاعر. Show all posts
Showing posts with label غلام ربانی فدا شخص وشاعر. Show all posts
سرحدیقیں کی/ ریاض احمدخمار

سرحدیقیں کی/ ریاض احمدخمار












سرحدیقیں کی/ ریاض احمدخمار

 

ریاض احمدخمارریاست کرناٹک کے نوجوان اور خوش فکرشعرامیں شمارکئے جاتے ہیں۔ نعت گوئی کی سعادت حاصل ہے۔

البتہ اس شرف کوممتازقلمکاروںکی صاف ستھری سوچ کا بڑا حصہ  حاصل ہے۔ ریاض احمدخمار سادہ زمینوں میں بالکل سامنے کے

سادہ اور آسان قافیوں اور ردیفوں کو استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ سوچیں نظم کر جاتے ہیں۔ جو پڑھنے والے پر خصوصاً نعت کے

حوالے سے جذب کی کیفیت طاری کرسکتی ہیں۔ اُن کے ہاں الفاظ میں تراکیب سازی کا بھی کوئی خصوصی رجحان نہیں ہے اور

ان کی نعتیہ شاعری واقعی اُس روایت کا تسلسل ہے۔  یہ اشعاردیکھئے:

انہیں کے ذکر سے شہر سخن مہکتا ہے

خیال ،فکر، قلم اور فن مہکتا ہے

بکھیرتی ہے زباں جب درود کی خوشبو

زبان ہی نہیں سارا بدن مہکتا ہے

(ریاض احمدخمار)

اس نعتیہ مجموعۂ کلام کے شروع میںڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کی طرف سے

’’پیش لفظ‘‘ ڈاکٹرانورمینائی کی طرف سے ’’نعت نگاری اورریاض احمدخمار

کی نعتیں‘‘ جب کہ ’’رتی بھرتعلیم،مٹھی بھرکلام‘‘ مظہرمحی الدین  صاحب

نے تحریر کیا ہے اور ہدیۂ تشکر خود شاعر نے درج کیے ہیں۔

اور کتاب کی پشت پر ڈاکٹرانورمینائی، ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی،مظہرمحی الدین

جیسے خوب صورت شاعروں نے تعریفی کلمات رقم کیے ہیں۔

زیرِنظر کتاب سرحدیقیں کی کرناٹک اردواکاڈمی کے جزوی مال

ی تعاون سے  شائع کی گئ ہے اور اس کی قیمت 100؍روپے ہے۔

قارئین نعت کے لئےبہترین انتخاب ہے،جوعاشقان

رسول ﷺ کے ذوق کوتازگی فراہم کرتاہے















سرحدیقیں کی/ ریاض احمدخمار

سرحدیقیں کی/ ریاض احمدخمار


سرحدیقیں کی/ ریاض احمدخمار

ریاض احمدخمارریاست کرناٹک کے نوجوان اور خوش فکرشعرامیں شمارکئے جاتے ہیں۔ نعت گوئی کی سعادت حاصل ہے۔ البتہ اس شرف کوممتازقلمکاروںکی صاف ستھری سوچ کا بڑا حصہ  حاصل ہے۔ ریاض احمدخمار سادہ زمینوں میں بالکل سامنے کے سادہ اور آسان قافیوں اور ردیفوں کو استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ سوچیں نظم کر جاتے ہیں۔ جو پڑھنے والے پر خصوصاً نعت کے حوالے سے جذب کی کیفیت طاری کرسکتی ہیں۔ اُن کے ہاں الفاظ میں تراکیب سازی کا بھی کوئی خصوصی رجحان نہیں ہے اور ان کی نعتیہ شاعری واقعی اُس روایت کا تسلسل ہے۔  یہ اشعاردیکھئے:
انہیں کے ذکر سے شہر سخن مہکتا ہے
خیال ،فکر، قلم اور فن مہکتا ہے
بکھیرتی ہے زباں جب درود کی خوشبو
زبان ہی نہیں سارا بدن مہکتا ہے
(ریاض احمدخمار)
اس نعتیہ مجموعۂ کلام کے شروع میںڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی کی طرف سے ’’پیش لفظ‘‘ ڈاکٹرانورمینائی کی طرف سے ’’نعت نگاری اورریاض احمدخمارکی نعتیں‘‘ جب کہ ’’رتی بھرتعلیم،مٹھی بھرکلام‘‘ مظہرمحی الدین نے صاحب نے تحریر کیا ہے اور ہدیۂ تشکر خود شاعر نے درج کیے ہیں۔ اور کتاب کی پشت پر ڈاکٹرانورمینائی، ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی،مظہرمحی الدین جیسے خوب صورت شاعروں نے تعریفی کلمات رقم کیے ہیں۔ زیرِنظر کتاب سرحدیقیں کی کرناٹک اردواکاڈمی کے جزوی مالی تعاون سے  شائع کی گئ ہے اور اس کی قیمت 100؍روپے ہے۔
قارئین نعت کے لئےبہترین انتخاب ہے،جوعاشقان رسول ﷺ کے ذوق کوتازگی فراہم کرتاہے

نوجواں شاعر غلام ربانی فداؔ اور نعتیہ شاعری

نوجواں شاعر غلام ربانی فداؔ اور نعتیہ شاعری




نوجواں شاعر غلام ربانی فداؔ اور نعتیہ شاعری


گلزارِنعت کے آئینے میں


ابرار ؔ کرتپوری


جنوبی ہندکے نوعمر شاعرمولانا غلام ربانی فداؔ جوادب اور صحافت سے تعلق رکھتے ہیں۔



بحمدہ تعالیٰ ایک سہ ماہی مجلے جہانِ نعت کے مدیرِاعلیٰ ہیں۔ان کانعتیہ کلام پڑھ کر رسول کریمﷺ کی ذاتِ والاصفات کی طرف قاری کا دل مائل ہوجاتا ہے۔ان کاکلام فکرِسخنِ نعت کا پاکیزہ ومعصوم اظہار ہے۔فداؔ صاحب نوجوان ہیں۔مذہب اوربالخصوص حمدونعت کی طرف ان کارحجان ان کی شخصیت کومزید خصوصیت وقار عطاکرتاہے۔ان کے نعتیہ کلام کاپہلا مجموعہ ہذا گلزارِنعت رسول کریمﷺ کی بارگاہِ بیکس پناہ میں مؤدبانہ خراجِ نعت ہے۔رسول کریمﷺ کی مدحت وثنا ،اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ کاپسندیدہ عمل ہے۔دراصل؛


ہے خدا پاک خود مصنفِ نعت


ہم توتالیف کرنے والے ہیں


(ابرارؔ )


یہ حقیقت ہے کہ رب کریم نے قرآن مقدس کی بہت سی آیات میں اپنے حبیب پاک کی توصیف وثنا کی ہے۔جس ذات کی مد ح وثناخود اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتاہو۔کسی بندے کی کب مجال ہے کہ اسی کی خاطرخواہ مدحت ونعت بیان کرنے کا حق اداکرسکے۔لیکن تاہم جس کام میں رضائے الہٰی شامل ہو اسے کرناتوایک سعادت ہے۔


یہ عجیب وغریب حقیقت ہے کہ حضورسرورکائناتﷺ کی تعریف وتوصیف و مدحت


آپ کی حیاتِ طیبہ ہی میں شروع ہوگئی تھی۔صحابۂ کرام نے بھی نعتیں کہیں اوراس زمانے کے مشہورعربی شعراء نے بھی نعت گوئی میں کمالاتِ سخن کامظاہرہ کیا۔ظاہر ہے کہ عربی فصاحت و بلاغت اوربیانیہ میں لاثانی ہے۔ہم اس سلسلہ میں عبداللہ بن رواحہ ،کعب بن زبیر،حسان بن ثابت اوردیگر




شعراء کے کلام میں فنِ نعت گوئی کے بے بہا نمونے تلاش کرسکتے ہیں۔عربی زبان سے یہ سلسلہ فارسی زبان میںآیافارسی شعراء نے مدحِ رسولِ کریمﷺکے جوہر دکھائے جوآج بھی ہمیں روحانی فیض عطاکرتے ہیں۔اور رسول کریم ﷺ کی محبت اورسیرت پاک کے توصیفی اظہار کاپیش بہاسرمایہ ہیں۔


اردو زبان میں ج نعت گوئی کاسلسلہ دکن کے شعراء نے کیا۔اس زمانے میں کہی جانے والی مثنویاں اس کاجامع ثبوت پیش کرتی ہیں۔شمال میں توشاعری فارسی میں کی جاتی تھی۔لیکن بعدمیںیہاں اردوزبان کا اتناعروج ہواکہ اردوزبان عالمی زبان بن گئی۔ہمارے اردو کے شعرا ء نے بھی نعت گوئی میں کمال حاصل کیااور یہ سلسلہ تمام عالم میں جاری وساری ہے۔اگر ہم عالمی طورپراردوزبان کے نعتیہ کلام جائزہ لیں اور اسے یکجاکرناچاہیں توممکن نہ ہوگاحضورسرورکائنات ﷺکی نعت اتنی کثیرتعداد میں کہی گئی ہے کہ جس کی مثال دنیامیں نہیں ملتی اور یہ سلسلہ ہمہ وقت جاری وساری ہے۔تقریباَپچیس تیس سال سے نعت کوبہت فروغ حاصل ہواہے۔برصغیر میں خاص طور پر پاکستان میں نعتیہ شاعری نہایت عقیدت واحترام سے کی جارہی ہے۔بے شمار مجلے اور کتابی سلسلے حمدونعت کی ترویج وترقی اور معلومات کے حصول کے لیے شروع ہوچکے ہیں اور قبولیت عوام وخواص کرچکے ہیں۔حمدکے سلسلہ میں جہانِ حمد کتابی سلسلہ ہے۔جس کے روحِ رواں جناب طاہرسلطانی ہیں اور نعت رنگ جناب صیح رحمانی کانہایت معتبر ،پاکیزہ اور مقبول کتابی سلسلہ ہے،ہندوستان میں حمدونعت کاواحدمجلہ جہانِ نعت غلام ربانی فداؔ کی ادارت میں نکلتاہے


نعت گوئی کوبزرگوں نے نہایت نازک صنف سخن کہاہے۔کچھ علماء کاخیال ہے کہ؛نعت پل صراط پرچلنے جیساہے کہ ذراپاؤں ادھرادھر ہوااورشاعر قعرِمذلت میں گرا۔اعلیٰ حضرت مولانااحمدرضاخاں بریلوی فرماتے ہیں کہ،،نعت کہناتلوار کی دھار پرچلنے کے مترادف ہے ہاں حمد میں شاعر کتنابھی آگے پڑھاجاسکتاہے،،


،مختصر یہ کہ نعت گوئی میں شاعر کواحتیاط برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔پس لازم ہے کہ ہم بزرگوں کے




کہنے پرعمل کریں اور ایسی نعت تخلیق ہوجو ہمیں رسول کریمﷺکی سیرت پاک سے آشنااورحضورﷺ زیادہ سے زیادہ قریب کرسکے۔آقاکی محبت ہمارے ایمان کی تکمیل کا سبب بنے۔


آئیے جناب غلام ربانی فداؔ کے چند اشعار مطالعہ کریں فداؔ صاحب نے حمدومناجات سےآغاز کیاہے۔فرماتے ہیں؛


دل کومیرے کردے اب سیراب رب الؑ لمیں


میں تو مشت آب وگل اور تونورآفریں


میں کیاجاؤں طلب ارضِ حرم پراے فداؔ


بہرِ سجدہ ہرنفس بیتاب ہے میری جبیں


ہرشخص کی آرزو ہوتی ہے کہ وہ حضور سرورکائناتﷺ کے دربا میں حاضرہواور اپنے بخت پر ناز کرسکے۔یہ تمنافداؔ صاحب کے نعتہ اشعار میں جگہ جگہ موجود ہے۔جس کو رسول کریم ﷺ کی محبت سے تعبیر کرسکتے ہیں۔فرماتے ہیں؛


دیار طیبہ میں جاکرفداؔ عقیدت سے


تمنا دل میں ہے نعت نبی سنانے کی


وسائل مہیا نہیں کم تریں کو


ہوں اسباب پیداتوآؤں مدینہ


روروکے کررہاہے فداؔ بس یہی دعا


یارب سفر مدینے کا ہوتادکھائی دے


رسول کریمﷺ کی محبت انسان کے لیے حق تعالیٰ جل شانہ کا قرب اور خوشنودی حاصل ہونے کاذریعہ بنتی ہے۔فداؔ صاحب نے کیاخوب فرمایاہے؛


ہم کو یوں عشقِ محمد کا صلہ ملتا ہے


بندگی کرتے ہوئے ہم کو خدا ملتا ہے


عشقِ احمد میں ہوئے گم توحقیقت یہ ہے


نعت گوئی میں عجب ہم کو مزہ ملتا ہے


جس کو ملتاہے دامنِ احمدﷺ


اس کو رب غفورملتاہے


رسول کریمﷺ کے دربار میں حاضر ی کی تمناتوہرصاحب ایمان شخص کوہوتی ہے لیکن جب اپنے




اعمال پرنظرجاتی ہے توحضورﷺکے سامنے جاتے ہوئے شرمندگی کااحساس ہوتاہے۔اس مضمون کوفداؔ نے اپنے ایک شعر میں یوں بیان کیاہے۔


ہم خطاکاہیں اورآپ کادرہے اقدس


شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے ہم آتے ہیں


اس سب کے باوجود حضور سرورکائناتﷺ سب پرکرم فرماتے ہیںآپ کادامنِ پاک ہرامتی کے لیے سائبان ہے ۔ایک شخص ان کاامتی ہونے ناز بھی اور کہتاہے؛


ان کاغلام ہوں میں اعزاز کم نہیں ہے


آقاکامیرے مجھ پر کس دم کرم نہیں ہے


یادِ رسول کریمﷺ جس وقت آتی ہے ۔محبت کرنے والے کی عجب کیفیت ہوجاتی ہے۔شعر ملاحظہ ہو؛


فرش زمیں پردیکھے ہم نے موتی چمکیلے


یادسرور کی بدلی اشکوں کی بارش لائی ہے


ان کی محبت امتی کادین بھی سنوارتی ہے اور دنیابھی۔اسے یقین ہوتاہے کہ اسی محبت کے سہارے اسے اپنے آقاکی قربت حاصل ہوگی اوریہ سچ بھی ہے کہ؛


پنہاں ہے جس کے قلب میں الفت رسول کی


پائے گاوہ بہشت میں قربت رسول کی


دوزخ میں کیسے جائے گا حقدارِ خلد وہ


دل میں سمائے جس کے محبت رسول کی


محبت کرنے والے کوحضور سرورکائنات کادیدار ہوجائے ناممکن نہیں۔آپ کاجلوہ اگر خواب میں بھی دیکھ لے تو جنت کاحقدار بن جاتا ہے۔فداؔ صاحب کہتے ہیں؛


ایسابھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے


جس میں ترے حبیب کا چہرہ دکھائی دے




شاعر کوچاہیئے کہ نبی کریمﷺ کی صفات عالیہ بیان کرتے ہوئے تمام نزاکتوں کاخیال رکھے۔شاعری کے تمام رموزونکات سے واقفیت حاصل کرے۔نعتیہ شاعری کاتمام معائب سے پاک ہونا اور محاسن سے مزین ہونا نہایت ضروری ہے اور ہمیں ہمہ وقت اس بات کا خیال رکھناچاہئے کہ؛


بعد ازخدا بزرگ توئی قصہ مختصر


مولاناغلام ربانی فداؔ نے محبت رسولﷺ کی شاعری کی ہیاور اظہار عقیدت میں محتاط رہنے کی کوشش کی ہے۔یہ احتیاط ان کی تخلیقات کومستقبل میں اعتبار عطاکرے گی۔مجموع�ۂ ہذاٰ گلزارِ نعت کی اشاعت پر مبارکباد پیش ہء۔یہ مجموعہ نعت بارگاہ ایزدی میں قبول ہو اور دلوں رسول کریمﷺسے پسندیدگی کی سند حاصل ہو(آمین)۔فداؔ صاحب کے اس شعر پرتحریر ہذا اختتام کو پہنچتی ہے؛


کیاان کی بڑائی کاہوذکر فداؔ ہم سے


بس بعدِ خدا ان کا رتبہ ہی بڑا دیکھا



نوجواں شاعر غلام ربانی فداؔ اور نعتیہ شاعری

نوجواں شاعر غلام ربانی فداؔ اور نعتیہ شاعری



نوجواں شاعر غلام ربانی فداؔ اور نعتیہ شاعری

گلزارِنعت کے آئینے میں

ابرار ؔ کرتپوری

جنوبی ہندکے نوعمر شاعرمولانا غلام ربانی فداؔ جوادب اور صحافت سے تعلق رکھتے ہیں۔


بحمدہ تعالیٰ ایک سہ ماہی مجلے جہانِ نعت کے مدیرِاعلیٰ ہیں۔ان کانعتیہ کلام پڑھ کر رسول کریمﷺ کی ذاتِ والاصفات کی طرف قاری کا دل مائل ہوجاتا ہے۔ان کاکلام فکرِسخنِ نعت کا پاکیزہ ومعصوم اظہار ہے۔فداؔ صاحب نوجوان ہیں۔مذہب اوربالخصوص حمدونعت کی طرف ان کارحجان ان کی شخصیت کومزید خصوصیت وقار عطاکرتاہے۔ان کے نعتیہ کلام کاپہلا مجموعہ ہذا گلزارِنعت رسول کریمﷺ کی بارگاہِ بیکس پناہ میں مؤدبانہ خراجِ نعت ہے۔رسول کریمﷺ کی مدحت وثنا ،اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ کاپسندیدہ عمل ہے۔دراصل؛ 

ہے خدا پاک خود مصنفِ نعت

ہم توتالیف کرنے والے ہیں

(ابرارؔ )

یہ حقیقت ہے کہ رب کریم نے قرآن مقدس کی بہت سی آیات میں اپنے حبیب پاک کی توصیف وثنا کی ہے۔جس ذات کی مد ح وثناخود اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتاہو۔کسی بندے کی کب مجال ہے کہ اسی کی خاطرخواہ مدحت ونعت بیان کرنے کا حق اداکرسکے۔لیکن تاہم جس کام میں رضائے الہٰی شامل ہو اسے کرناتوایک سعادت ہے۔

یہ عجیب وغریب حقیقت ہے کہ حضورسرورکائناتﷺ کی تعریف وتوصیف و مدحت 

آپ کی حیاتِ طیبہ ہی میں شروع ہوگئی تھی۔صحابۂ کرام نے بھی نعتیں کہیں اوراس زمانے کے مشہورعربی شعراء نے بھی نعت گوئی میں کمالاتِ سخن کامظاہرہ کیا۔ظاہر ہے کہ عربی فصاحت و بلاغت اوربیانیہ میں لاثانی ہے۔ہم اس سلسلہ میں عبداللہ بن رواحہ ،کعب بن زبیر،حسان بن ثابت اوردیگر



شعراء کے کلام میں فنِ نعت گوئی کے بے بہا نمونے تلاش کرسکتے ہیں۔عربی زبان سے یہ سلسلہ فارسی زبان میںآیافارسی شعراء نے مدحِ رسولِ کریمﷺکے جوہر دکھائے جوآج بھی ہمیں روحانی فیض عطاکرتے ہیں۔اور رسول کریم ﷺ کی محبت اورسیرت پاک کے توصیفی اظہار کاپیش بہاسرمایہ ہیں۔

اردو زبان میں ج نعت گوئی کاسلسلہ دکن کے شعراء نے کیا۔اس زمانے میں کہی جانے والی مثنویاں اس کاجامع ثبوت پیش کرتی ہیں۔شمال میں توشاعری فارسی میں کی جاتی تھی۔لیکن بعدمیںیہاں اردوزبان کا اتناعروج ہواکہ اردوزبان عالمی زبان بن گئی۔ہمارے اردو کے شعرا ء نے بھی نعت گوئی میں کمال حاصل کیااور یہ سلسلہ تمام عالم میں جاری وساری ہے۔اگر ہم عالمی طورپراردوزبان کے نعتیہ کلام جائزہ لیں اور اسے یکجاکرناچاہیں توممکن نہ ہوگاحضورسرورکائنات ﷺکی نعت اتنی کثیرتعداد میں کہی گئی ہے کہ جس کی مثال دنیامیں نہیں ملتی اور یہ سلسلہ ہمہ وقت جاری وساری ہے۔تقریباَپچیس تیس سال سے نعت کوبہت فروغ حاصل ہواہے۔برصغیر میں خاص طور پر پاکستان میں نعتیہ شاعری نہایت عقیدت واحترام سے کی جارہی ہے۔بے شمار مجلے اور کتابی سلسلے حمدونعت کی ترویج وترقی اور معلومات کے حصول کے لیے شروع ہوچکے ہیں اور قبولیت عوام وخواص کرچکے ہیں۔حمدکے سلسلہ میں جہانِ حمد کتابی سلسلہ ہے۔جس کے روحِ رواں جناب طاہرسلطانی ہیں اور نعت رنگ جناب صیح رحمانی کانہایت معتبر ،پاکیزہ اور مقبول کتابی سلسلہ ہے،ہندوستان میں حمدونعت کاواحدمجلہ جہانِ نعت غلام ربانی فداؔ کی ادارت میں نکلتاہے

نعت گوئی کوبزرگوں نے نہایت نازک صنف سخن کہاہے۔کچھ علماء کاخیال ہے کہ؛نعت پل صراط پرچلنے جیساہے کہ ذراپاؤں ادھرادھر ہوااورشاعر قعرِمذلت میں گرا۔اعلیٰ حضرت مولانااحمدرضاخاں بریلوی فرماتے ہیں کہ،،نعت کہناتلوار کی دھار پرچلنے کے مترادف ہے ہاں حمد میں شاعر کتنابھی آگے پڑھاجاسکتاہے،،

،مختصر یہ کہ نعت گوئی میں شاعر کواحتیاط برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔پس لازم ہے کہ ہم بزرگوں کے 



کہنے پرعمل کریں اور ایسی نعت تخلیق ہوجو ہمیں رسول کریمﷺکی سیرت پاک سے آشنااورحضورﷺ زیادہ سے زیادہ قریب کرسکے۔آقاکی محبت ہمارے ایمان کی تکمیل کا سبب بنے۔

آئیے جناب غلام ربانی فداؔ کے چند اشعار مطالعہ کریں فداؔ صاحب نے حمدومناجات سےآغاز کیاہے۔فرماتے ہیں؛

دل کومیرے کردے اب سیراب رب الؑ لمیں

میں تو مشت آب وگل اور تونورآفریں

میں کیاجاؤں طلب ارضِ حرم پراے فداؔ 

بہرِ سجدہ ہرنفس بیتاب ہے میری جبیں

ہرشخص کی آرزو ہوتی ہے کہ وہ حضور سرورکائناتﷺ کے دربا میں حاضرہواور اپنے بخت پر ناز کرسکے۔یہ تمنافداؔ صاحب کے نعتہ اشعار میں جگہ جگہ موجود ہے۔جس کو رسول کریم ﷺ کی محبت سے تعبیر کرسکتے ہیں۔فرماتے ہیں؛

دیار طیبہ میں جاکرفداؔ عقیدت سے

تمنا دل میں ہے نعت نبی سنانے کی

وسائل مہیا نہیں کم تریں کو

ہوں اسباب پیداتوآؤں مدینہ

روروکے کررہاہے فداؔ بس یہی دعا

یارب سفر مدینے کا ہوتادکھائی دے

رسول کریمﷺ کی محبت انسان کے لیے حق تعالیٰ جل شانہ کا قرب اور خوشنودی حاصل ہونے کاذریعہ بنتی ہے۔فداؔ صاحب نے کیاخوب فرمایاہے؛ 

ہم کو یوں عشقِ محمد کا صلہ ملتا ہے

بندگی کرتے ہوئے ہم کو خدا ملتا ہے

عشقِ احمد میں ہوئے گم توحقیقت یہ ہے

نعت گوئی میں عجب ہم کو مزہ ملتا ہے

جس کو ملتاہے دامنِ احمدﷺ

اس کو رب غفورملتاہے

رسول کریمﷺ کے دربار میں حاضر ی کی تمناتوہرصاحب ایمان شخص کوہوتی ہے لیکن جب اپنے 



اعمال پرنظرجاتی ہے توحضورﷺکے سامنے جاتے ہوئے شرمندگی کااحساس ہوتاہے۔اس مضمون کوفداؔ نے اپنے ایک شعر میں یوں بیان کیاہے۔

ہم خطاکاہیں اورآپ کادرہے اقدس

شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے ہم آتے ہیں

اس سب کے باوجود حضور سرورکائناتﷺ سب پرکرم فرماتے ہیںآپ کادامنِ پاک ہرامتی کے لیے سائبان ہے ۔ایک شخص ان کاامتی ہونے ناز بھی اور کہتاہے؛

ان کاغلام ہوں میں اعزاز کم نہیں ہے

آقاکامیرے مجھ پر کس دم کرم نہیں ہے

یادِ رسول کریمﷺ جس وقت آتی ہے ۔محبت کرنے والے کی عجب کیفیت ہوجاتی ہے۔شعر ملاحظہ ہو؛

فرش زمیں پردیکھے ہم نے موتی چمکیلے

یادسرور کی بدلی اشکوں کی بارش لائی ہے

ان کی محبت امتی کادین بھی سنوارتی ہے اور دنیابھی۔اسے یقین ہوتاہے کہ اسی محبت کے سہارے اسے اپنے آقاکی قربت حاصل ہوگی اوریہ سچ بھی ہے کہ؛

پنہاں ہے جس کے قلب میں الفت رسول کی

پائے گاوہ بہشت میں قربت رسول کی

دوزخ میں کیسے جائے گا حقدارِ خلد وہ

دل میں سمائے جس کے محبت رسول کی

محبت کرنے والے کوحضور سرورکائنات کادیدار ہوجائے ناممکن نہیں۔آپ کاجلوہ اگر خواب میں بھی دیکھ لے تو جنت کاحقدار بن جاتا ہے۔فداؔ صاحب کہتے ہیں؛

ایسابھی کوئی خواب خدایا دکھائی دے

جس میں ترے حبیب کا چہرہ دکھائی دے



شاعر کوچاہیئے کہ نبی کریمﷺ کی صفات عالیہ بیان کرتے ہوئے تمام نزاکتوں کاخیال رکھے۔شاعری کے تمام رموزونکات سے واقفیت حاصل کرے۔نعتیہ شاعری کاتمام معائب سے پاک ہونا اور محاسن سے مزین ہونا نہایت ضروری ہے اور ہمیں ہمہ وقت اس بات کا خیال رکھناچاہئے کہ؛

بعد ازخدا بزرگ توئی قصہ مختصر

مولاناغلام ربانی فداؔ نے محبت رسولﷺ کی شاعری کی ہیاور اظہار عقیدت میں محتاط رہنے کی کوشش کی ہے۔یہ احتیاط ان کی تخلیقات کومستقبل میں اعتبار عطاکرے گی۔مجموع�ۂ ہذاٰ گلزارِ نعت کی اشاعت پر مبارکباد پیش ہء۔یہ مجموعہ نعت بارگاہ ایزدی میں قبول ہو اور دلوں رسول کریمﷺسے پسندیدگی کی سند حاصل ہو(آمین)۔فداؔ صاحب کے اس شعر پرتحریر ہذا اختتام کو پہنچتی ہے؛

کیاان کی بڑائی کاہوذکر فداؔ ہم سے

بس بعدِ خدا ان کا رتبہ ہی بڑا دیکھا 

الہامی کیفیات سے معمور گلزارِنعت

الہامی کیفیات سے معمور گلزارِنعت

الہامی کیفیات سے معمور گلزارِنعت
مولاناحفیظ الرحمٰن اشرفی ایم ،اے



علوم دینیہ میں مہارت،شعروسخن میں کمال کااشتراک بہت ہی کم حضرات کو نصیب ہواہے۔حضراتِ رومی،جامی،امام بوصیری اورامیرخسرو کے قافل�ۂ عشق ومحبت کے حدی خواں حضرت امام احمدرضا خاں بریلوی جنہیں قدرت نے ماےۂ نازفقیہہ ،بے مثال محدث ،دین متین کے بہی خواہ ،عظیم مفکر اور درباررسالت پناہ کے جادوبیاں نعت گو شاعر بنایاتھا۔
امام احمدرضا کی تقلید کرتے ہوئے عزیز محترم مولانا غلام ربانی فداؔ زیدہ مجدہ نے



اردو زبان وادب کے تمام اصناف سخن میں محبوب کبریا علیہ التحیۃ والثناء کی نعت اور اولیائے عظام کی منقبت کو اپنایا۔اوراس پرخار وادی کو کامیابی سے عبور کرتے ہوئے اس کے آداب کوبھی ،لحوظ رکھاہے۔غلام ربانی فداؔ بیک وقت ایک عالمِ دین بھی ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی،معروف شاعر اور ادیب بھی،بلندپایہ ادیب بھی اور صحافی بھی۔جو نعتِ رسول ہی کو اپنی زندگی بنائے ہوئے ہیں۔اورہندوستان میں حمدونعت کا پہلا ادبی رسالہ سہ ماہی جہانِ نعت کے روحِ رواں بھی ہیں۔



اس وقت فداؔ صاحب کااولین نعتیہ مجموعہ گلزارِنعت میرے سامنے ہے۔الہامی کیفیات سے معمور گلزارنعت کے کچھاشعار سے یہ انکشاف ہوتاہے کہ ان میں آمد ہے۔تصنع ومبالغہ آرائی سے دور ہے۔فداؔ صاحب نے عشقِ رسول ﷺ کے پرسوز وپرگداز کو صفحۂ قرطاس کے سپرد کیاہے۔ملاحظہ ہو؛



کتنے ہی نبی آئے دنیامیں مگریارو



ان سا توکسی کابھی رتبہ نہ بڑادیکھا



کیاان کی بڑائی کاہوذکر فداؔ ہم سے



بس بعدِ خدا ان کا رتبہ ہی بڑا دیکھا



من زار قبری وجبہ لہ شفاعتی ۔حدیثِ مصطفیٰ ﷺکی نوری کرن سے شرابور ہونے



کے ہرخوش عقیدہ مسلمان کی تمنا ہوتی ہے کہ میں بھی گنبدِخضریٰ کی روپہلی چھاؤں میں چند لمحے گزاروں توپھر فداؔ صاحب اس کے تمنائی کیوں نہ ہوں۔



دیار طیبہ میں جاکرفداؔ عقیدت سے



تمنا دل میں ہے نعت نبی سنانے کی



روروکے کررہاہے فداؔ بس یہی دعا



یارب سفر مدینے کا ہوتادکھائی دے



رب ذوالجلال کواپنے محبوب سے اتنی محبت کہ محبوب سے منسوب شہر سے بھی محبت فرماتے ہوئے شہررسول ﷺ کی قسم کھاتاہے۔سنتِ خداکی پیروی کرتے ہوئے فداؔ صاحب بھی اپنے آقاومولیٰ کے شہرمقدس سے ان الفاظ میں محبت کااظہار فرماتے ہیں۔



اب تو آجائے یہاں پر موت ہم کواے خدا



مارکے دنیا کو ٹھوکرہم مدینے آئے ہیں



گلہائے رنگ وبو سے آراستہ ہے ایسا



طیبہ کا گلستاں بھی جنت سے کم نہیں ہے



مجھ کو محلاتِ جنت کی خواہش نہیں



شہرِطیبہ میں بس ایک گھرچاہئے



راہِ سلوک کی دشوارگزارراہوں سے گزرنے کے لیے تصورشیخ کی اہمیت اظہرمن الشمس ہے۔ فداؔ صاحب بھی اپنے پیرومرشدحضورشیخ الاسلام والمسلمین علامہ سیدمحمد مدنی میاں صاحب قبلہ کاتصور کرتے ہوئے یوں نغمہ سراہیں؛



خیالِ مدنی میاں جب بھی مجھ کو آتا ہے



شبیہہ ان کی تصور میں چھائی جاتی ہے



عزیز محترم مولاناغلام ربانی فداؔ اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں اپنے رضاوخوشنودی کے بلندترین مقام تک پہنچائے اور محبوب خداﷺ کی بارگاہِ اقدس میں شرفِ قبولیت سے مالامال کرے۔



شمالی کرناٹک کی قدیم دینی درسگاہ دارالعلوم قادریہ دانڈیلی کے فارغ التحصیل ہیں۔موصوف زمانۂ طالب علمی ہی میں بہت ذہین اور میری درسگاہ میں ممتاز تھے۔کلاس میں ایسے ایسے علمی سوالات کیاکرتے تھے کہ کبھی کبھی حیرت استعجاب کے ملے جلے جذبات سے مغلوب ہوکر سوچتاتھاکہ یہ مبتدی طالب علم اورایسے علمی سوالات؟



لیکن میں نے تصور میں بھی یہ نہ سوچاتھاکہ آگے چل کر یہی طالب علم خادمِ نعت ونعت گوشاعر بھی بن سکتاہے۔لیکن خالقِ دوجہاں اپنے محبوب ﷺ کی مدح سرائی کے لیے جسے منتخب فرمالے اس کاکیاکہنا۔ ایں سعادت بزوربازونیست



ہمارے ادارے کے فارغ التحصیل فداصاؔ حب فدائے مصطفیٰ ﷺ ہوکر شعروسخن کے ذریعہ عالمِ اسلام کو مصطفی جانِ رحمت ﷺ کافدائی بن کر زندگی گزارنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔خداکرے زورِقلم اورزیادہ



باری تعالیٰ اپنے محبوب کریمﷺ کے اس مداح کی اس مدح سرائی (گلزارِنعت) کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے (آمین)

الہامی کیفیات سے معمور گلزارِنعت

الہامی کیفیات سے معمور گلزارِنعت


الہامی کیفیات سے معمور گلزارِنعت
مولاناحفیظ الرحمٰن اشرفی ایم ،اے

علوم دینیہ میں مہارت،شعروسخن میں کمال کااشتراک بہت ہی کم حضرات کو نصیب ہواہے۔حضراتِ رومی،جامی،امام بوصیری اورامیرخسرو کے قافل�ۂ عشق ومحبت کے حدی خواں حضرت امام احمدرضا خاں بریلوی جنہیں قدرت نے ماےۂ نازفقیہہ ،بے مثال محدث ،دین متین کے بہی خواہ ،عظیم مفکر اور درباررسالت پناہ کے جادوبیاں نعت گو شاعر بنایاتھا۔
امام احمدرضا کی تقلید کرتے ہوئے عزیز محترم مولانا غلام ربانی فداؔ زیدہ مجدہ نے
اردو زبان وادب کے تمام اصناف سخن میں محبوب کبریا علیہ التحیۃ والثناء کی نعت اور اولیائے عظام کی منقبت کو اپنایا۔اوراس پرخار وادی کو کامیابی سے عبور کرتے ہوئے اس کے آداب کوبھی ،لحوظ رکھاہے۔غلام ربانی فداؔ بیک وقت ایک عالمِ دین بھی ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی،معروف شاعر اور ادیب بھی،بلندپایہ ادیب بھی اور صحافی بھی۔جو نعتِ رسول ہی کو اپنی زندگی بنائے ہوئے ہیں۔اورہندوستان میں حمدونعت کا پہلا ادبی رسالہ سہ ماہی جہانِ نعت کے روحِ رواں بھی ہیں۔ 
اس وقت فداؔ صاحب کااولین نعتیہ مجموعہ گلزارِنعت میرے سامنے ہے۔الہامی کیفیات سے معمور گلزارنعت کے کچھاشعار سے یہ انکشاف ہوتاہے کہ ان میں آمد ہے۔تصنع ومبالغہ آرائی سے دور ہے۔فداؔ صاحب نے عشقِ رسول ﷺ کے پرسوز وپرگداز کو صفحۂ قرطاس کے سپرد کیاہے۔ملاحظہ ہو؛
کتنے ہی نبی آئے دنیامیں مگریارو
ان سا توکسی کابھی رتبہ نہ بڑادیکھا
کیاان کی بڑائی کاہوذکر فداؔ ہم سے
بس بعدِ خدا ان کا رتبہ ہی بڑا دیکھا

من زار قبری وجبہ لہ شفاعتی ۔حدیثِ مصطفیٰ ﷺکی نوری کرن سے شرابور ہونے 
کے ہرخوش عقیدہ مسلمان کی تمنا ہوتی ہے کہ میں بھی گنبدِخضریٰ کی روپہلی چھاؤں میں چند لمحے گزاروں توپھر فداؔ صاحب اس کے تمنائی کیوں نہ ہوں۔
دیار طیبہ میں جاکرفداؔ عقیدت سے
تمنا دل میں ہے نعت نبی سنانے کی
روروکے کررہاہے فداؔ بس یہی دعا
یارب سفر مدینے کا ہوتادکھائی دے
رب ذوالجلال کواپنے محبوب سے اتنی محبت کہ محبوب سے منسوب شہر سے بھی محبت فرماتے ہوئے شہررسول ﷺ کی قسم کھاتاہے۔سنتِ خداکی پیروی کرتے ہوئے فداؔ صاحب بھی اپنے آقاومولیٰ کے شہرمقدس سے ان الفاظ میں محبت کااظہار فرماتے ہیں۔
اب تو آجائے یہاں پر موت ہم کواے خدا
مارکے دنیا کو ٹھوکرہم مدینے آئے ہیں
گلہائے رنگ وبو سے آراستہ ہے ایسا
طیبہ کا گلستاں بھی جنت سے کم نہیں ہے
مجھ کو محلاتِ جنت کی خواہش نہیں
شہرِطیبہ میں بس ایک گھرچاہئے
راہِ سلوک کی دشوارگزارراہوں سے گزرنے کے لیے تصورشیخ کی اہمیت اظہرمن الشمس ہے۔ فداؔ صاحب بھی اپنے پیرومرشدحضورشیخ الاسلام والمسلمین علامہ سیدمحمد مدنی میاں صاحب قبلہ کاتصور کرتے ہوئے یوں نغمہ سراہیں؛
خیالِ مدنی میاں جب بھی مجھ کو آتا ہے
شبیہہ ان کی تصور میں چھائی جاتی ہے
عزیز محترم مولاناغلام ربانی فداؔ اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں اپنے رضاوخوشنودی کے بلندترین مقام تک پہنچائے اور محبوب خداﷺ کی بارگاہِ اقدس میں شرفِ قبولیت سے مالامال کرے۔

شمالی کرناٹک کی قدیم دینی درسگاہ دارالعلوم قادریہ دانڈیلی کے فارغ التحصیل ہیں۔موصوف زمانۂ طالب علمی ہی میں بہت ذہین اور میری درسگاہ میں ممتاز تھے۔کلاس میں ایسے ایسے علمی سوالات کیاکرتے تھے کہ کبھی کبھی حیرت استعجاب کے ملے جلے جذبات سے مغلوب ہوکر سوچتاتھاکہ یہ مبتدی طالب علم اورایسے علمی سوالات؟
لیکن میں نے تصور میں بھی یہ نہ سوچاتھاکہ آگے چل کر یہی طالب علم خادمِ نعت ونعت گوشاعر بھی بن سکتاہے۔لیکن خالقِ دوجہاں اپنے محبوب ﷺ کی مدح سرائی کے لیے جسے منتخب فرمالے اس کاکیاکہنا۔ ایں سعادت بزوربازونیست
ہمارے ادارے کے فارغ التحصیل فداصاؔ حب فدائے مصطفیٰ ﷺ ہوکر شعروسخن کے ذریعہ عالمِ اسلام کو مصطفی جانِ رحمت ﷺ کافدائی بن کر زندگی گزارنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔خداکرے زورِقلم اورزیادہ
باری تعالیٰ اپنے محبوب کریمﷺ کے اس مداح کی اس مدح سرائی (گلزارِنعت) کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے (آمین) 
غلام ربانی فدا کی نعتیہ شاعری

غلام ربانی فدا کی نعتیہ شاعری



غلام ربانی فدا کی نعتیہ شاعری


سید محمد محی الدین شاہ قیسؔ 


آداب کے پہرے ہیں لکھوں تو میں کیا لکھوں 


لِلّٰہ! مجھے آقا اب فکرِ رسا دینا 


( سید محمد محی الد ین شاہ قیسؔ ) 


میرے سامنے فداؔ کے نعتیہ اشعار رکھے ہوئے ہیں ،آج پہلی بار کسی کی کتاب پر مضمون لکھنے بیٹھا ہوں ،مجھ میں یہ سکت نہیں کہ نعتیہ کتاب پرمضمون لکھ سکوں ،مگر رفیقِ دیرینہ کی فرمائش پر خود کو آزمانے کی غرض سے قبول کیا ہوں ۔


عشق جب غالب ہوتا ہے تو عاشق میں صبر کی تاب نہیں رہتی اور دل کی آگ شعلہ ور ہو جاتی ہے ،قلب کسی طرح سکوں 


نہیں پاتا حیرت واضطراب کے مقام میں بے قرار رہتا ہے اسی بے قراری کو تسکین دینے کے لئے عشق اسے عرضِ حال کی وادیوں میں ڈھکیل دیتا ہے ،یہی وہ جا ہے جہاں سے وارداتِ قلب ،رموزِعشق و اسرارکی کتھا شعر کی صورت زبانِ قلم سے صفحۂ قرطاس پر روپذیر ہوتی ہے ۔


عشق کی دو قسمیں ہیں ۱ )عشقِ حقیقی ۲)عشقِ مجازی


عشقِ حقیقی کی تعریف :۔خدااور رسول خداﷺاور ان سے منسوب چیزوں سے الحبٌّ فی اللہ کے تحت کیا جائے ۔


عشقِ مجازی کی تعر یف :۔جو دنیا اور دنیاداروں سے کیا جائے ،یا یوں کہیں جس کی طرف ہوائے نفس مائل ہو۔


عشق حقیقی میں لکھے ہوئے اشعار محامد ،نعوت اور مناقب کا مجموعہ ہوا کرتے ہیں ،جو کہ لائق تحسین ہے ،اور عشق مجازی کالہویات اور واہیات سے مرکب ،جو کہ لائق تنفر و ملامت ہے ۔ان ہی شعرا ء کے لیے اللہ تعالیٰ کا قول والشعراء یتبعھم الغاون ہے ۔


نعت کی تعریف :۔نعت اس کلام منظوم کو کہتے ہیں جو حبیب پاک ﷺکی شان اقدس میں زیب قرطاس ہو،خواہ کسی بھی ہیت شاعری میں ۔




نعت کا موضوع :۔نعت میں ہروہ موضوع شامل ہے جس میں ختم رسل ﷺکی پاکیزگی ،حسن وجمال ،اخلاق وکردار ،ولادت باسعادت ،اختیارات ،تصرفات ،معجزات وکمالات ،جودو سخا ،عفو و حلم ، لطف و عطا ، اسلامی انقلاب ،سراپا کی تعریف وتوصیف ، واقعات جہاد ،عشق ووارفتگی ،فراقِ حبیب ،ہدی�ۂدرود و سلام جیسے موضوعات کا تذکرہ ہو ۔


آپ ﷺ کی مدح و تو صیف کا بیان کر نا عین عبادت اور رو حِ ایمان ہے،اصولانبی رحمت ﷺ کی نعت خوانی کا آغاز ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کیا ۔


یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نعت پاک کا لکھنا کو ئی معمولی بات نہیں ،نعت بہت ہی نازک صنف سخن ہے اور فن شاعر ی کی پل صراط بھی ،کیونکہ خدا اور بندے کا فرق اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے ،نعت نگار کی ذرا سا شاعرانہ مبالغہ آرائی یاعجزبیاں کفر وضلالت کا باعث بن سکتی ہے ۔


مجروح ؔ سلطان پوری سے پوچھا گیا کہ اتنے اچھے شاعر ہونے کے باوجودآپ نے نعت کی طر ف توجہ کیو ں نہیں کی مجروح ؔ نے جواب دیاکوشش تو کی تھی کہ نعت لکھوں مگر ہاتھ کانپنے لگے اور قلم نے ساتھ نہیں دیا نبی کی شان میں لکھتے وقت ہزار بار خیال آتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ نکلے جو قابل گرفت ہو ،نعت میں لغزش ہوئی تو دنیا وا لے الگ لعنت بھیجیں گے اور خدا کا قہر الگ۔


میں آپ کو بتاتا چلوں نعت لکھنے کی بات تو بعید ہے حضرت ابوالولید حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ متوفی ۵۴ ؁ھ کے یہ شعر 


واحسن منک لم ترقط عینی واجمل منک لم تلد النساء


خلقت مبرامن کل عیب کانک قد خلقت کما تشاء


کاصر ف ترجمہ کرتے وقت اچھے اچھے علامۂ وقت کا قلم کانپ جاتا ہے ،اسی لیئے علامہ شیخ سعدی شیرازی نے فرمایا 


لایمکن الثناء کما کان حقہ


بعدا زخدابزرگ توئی قصہ مختصر 


اردو زبان کے مشہور و معروف شاعر اسداللہ خاں غالب ؔ نے یوں کہا 






غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم 


کہ آں ذات پاک مرتبہ دان محمد است 


اور حقیقت بھی یہی ہے، مگر فدایانِ محمد ﷺ بساط کے مطابق اپنی بے بضاعتی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ ﷺ کی شان میں اشعار لکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تا کہ ان کا بھی نام’’ یو سف کے خریداروں‘‘میں ہو جائے، ہر شاعر لکھنے سے قبل یہ دعا ضرور کرتا ہے 


آدابِ محبت کی توہین سے ڈرتا ہوں 


تحریرِ محبت کا انداز سکھا دینا


(سید محمد محی الدین شاہ قیسؔ )


میدان نعت میں غزل کی طرح شاعر کو کو ئی آزادی یا چھوٹ نہیں ہوتی نعت گوئی بردم تیغ رکھنا ہے نعت نگار اس راہ میں بڑے ہوش و حواس کے ساتھ رہتا ہے 


بس اسی کو ہے ثنائے مصطفی لکھنے کا حق


جس قلم کی روشنا ئی میں ہو شامل احتیاط 


(حضور شیخ الاسلام اخترؔ )


اسی راہ کے راہ گیروں کو عر فی ؔ شیرازی نے یو ں مخاطب کیا


عرفیؔ ایں رہ نعت است نہ صحرا 


آہستہ کہ رہ بردم تیغ قدم را


یہ بات حقیقت اور تسلیم شدہ ہے کہ بر صغیر ہند و پاک میں سب سے پہلے نعت گوئی کا رواج دکنی زبان میں دکن سے شروع ہوا اور اس کی خوشبو اطراف و اکناف ہند میں پھیلی ،اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہونے کا شرف بھی دکنی باشندہ سلطان محمدقلی قطب شاہ متوفی ۹۸۸ ؁ھ کو حاصل ہے۔ 


یہ بات نا قابل فراموش حقیقت ہے کہ دکن کی زر خیز زمین نے ایک سے ایک ذی علم حضرات ،اولیاء ،صوفیا، علماء اور شعر اء کو پیدا کیاہے ،لیکن صد افسوس کہ اہل دکن نے ان اکابرین اور زعمائے دکن کو کما حقہ متعارف نہیں کروایا ۔


جواں سال ابھرتے ہوئے خوش فکر شاعر فداؔ بہت بہت قابل مبارکباد ہیں ،اس کم عمری میں وہ کام کرنے لگے ہیں جس کی توقع گنے چنے لو گوں میں ہی کی جاسکتی ہے ،فداؔ کی پیدا ئش ایک متوسط اور




مہذب گھرانے میں یکم جون ۱۹۸۸ ؁ء کوہیرور تعلقہ ہانگل شریف میں ہوئی مکمل نام غلام ربانی اور تخلص فداؔ رکھتے ہیں جو کہ اسم بامسمی ہے موصوف نے حفظ و قرات کے بعد عا لمیت کی بھی تکمیل کی اور اب ہندوستان کا منفر د سہ ماہی رسالہ’’ جہانِ نعت ‘‘میں مصروفِ کار ہیں ،موصوف کا یہ پہلا نعتیہ مجموعہ ہے جس کو آپ اپنے ہا تھوں میں دیکھ رہے ہیں ۔


شعر و شاعری میں محبت کا جذبہ فطری ہے ہر شاعر کی شاعری اس کے جذبات دل کی عکاسی ہوتی ہے ،پیشِ نظر نعتیہ اشعار سے موصو ف کی کیفیتِ قلب کا اندازہ ہوتا ہے موصوف کے اشعار تہذیب زبان وبیان اور وسعت فکر سے آراستہ نظر آتے ہیں ،ان کے نعتیہ اشعار کو پڑھنے کے بعد واقعتا دلِ مومن میں نہاں عشق نبی کی کرنیں بقعۂ نور بن جاتی ہیں موصوف کی نعتوں میں حضور پرنور ﷺ کی سرا پاتعریف وتوصیف کے ساتھ ساتھ حیاتِ طیبہ ،اخلاقِ نبوی ،مدینہ سے دوری و مہجوری ،احساسِ گناہ ،شفاعت طلبی ، حوادثِ زمانہ ،اشکِ ندامت ، حضور ﷺ کے احسانات ،درود و سلام کا تذکرہ بھی ملتا ہے ۔بطو ر مثال ملاحظہ فرمائیں 


رسول رحمت ﷺ کی ثنا ء


عرشِ علٰی پہ جانے والے میرے آقا میرے حضور 


قربت رب کی پانے والے میرے آقامیرے حضور 


اللہ اللہ ان کی رفعت اللہ اللہ ان کی سیرت 


دشمن کو اپنانے والے میرے آقا میرے حضور 


حوادثِ زمانہ کا تذکرہ 


یا رسول خدا لیجئے اب خبر 


آفتوں میں ہوا مبتلا ہر بشر 


جو زمانے کے طبیبوں سے نہ اچھے ہوسکے 


ان مریضوں کی دوا ہے آمنہ کی گودمیں 




ہم کو سرکار بچالیجئے کہ ظالم انساں 


ہم پہ کرنے کو مشقِ ستم آتے ہیں 


مدینہ طیبہ میں حاضری کا متمنی اشکِ ندامت کے ساتھ 


رورو کے کر رہا ہے فداؔ بس یہی دعا 


یا رب سفر مدینہ کا ہوتا دکھا ئی دے 


یادِ نبی میں آنسوں رہ رہ کے بہہ رہے ہیں 


کب دل حزیں نہیں ہے کب چشم نم نہیں ہے 


تصرف واختیاراتِ حبیب پاک ﷺ کا تذکر ہ 


شق القمر کا معجزہ دکھلا کے آپ نے 


مکہ کے بدووں کو مسلماں بنا دیا 


پتھروں نے بند مٹھی میں بصد عجز و نیاز 


آپ کا کلمہ پڑھا آقائے من پیارے نبی 


احساس گناہ 


نیچی نظریں کئے دربار میں ہم آتے ہیں 


غم کے مارے ہیں لئے سیکڑوں غم آتے ہیں 


ہم خطاکار ہیں اور آپ کا در ہے اقدس 


شرم آ تی ہے یہ کہتے ہوئے ہم آتے ہیں 


سرے محشر ملے گا آسر اان کی شفاعت کا


گناہوں سے پشیما ں ہوکے جب دل ڈوبتا ہوگا


در ودو سلام کا تذکرہ 


مدینے کے آقا غلاموں کے سرور درودوسلام اے نبی پیش تم پر 


مکرم ،مطہر ،معطر ،منور درودو سلام اے نبی پیش تم پر 


لب پر میرے درود ہو اور دم تمام ہو 


یوں میری زندگی کی مدینہ میں شام ہو 




یہ تھے فداؔ صاحب کے نعتیہ کلاموں میں سے کچھ اشعار جس کو مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ذکر کیا گیا ،واقعی فداؔ صاحب کے اشعار عشق نبوی ﷺ میں ڈوبے ہوئے ہیں ،اللہ تعالی سے دست بدعا ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے جیسے ہمارے اقوال ہیں ویسے احوال بھی فرمائے ۔


آخر میں ایک بات بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں آج کل کچھ بد عقیدہ لوگ بھی خود کو عاشقِ رسول ﷺ ظاہر کرنے کے لئے نعت پاک لکھنے لگے ہیں میں اس بارے میں زیادہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ لوگ آقا ﷺ کے معجزات واختیارات اور باحیات ہونے کا عقیدہ جب تک تسلیم نہیں کرلیتے نعتیہ شاعری کیا اس کی دہلیز تک بھی نہیں پہنچ سکتے 


شعور و ادراک کو بھیک ،احساس و فکر کو توانائی رسو ل رحمت ﷺ کو باحیات اور آپ کے معجزات کو تسلیم کرنے پر ملتی ہے ،ورنہ الفاظ چند لکیروں کے نام کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتے ،لکیریں تو کاغذ پر بے شعور بچے بھی کھینچ دیتے ہیں لکیروں کو آقاﷺ کی تعظیم و احترام کے سبب زبان ملتی ہے وہ لوگ کیا خاک آقا ﷺ کی شان میں اشعار قلمبند کریں گے جن کے عقائد ہی درست نہیں ،اللہ تعا لیٰ ہدایت عطافرمائے ۔


آمین 


بجاہ سیدالمرسلین وآلہ اجمعین 


فقط 


بندۂ عاصی 

سید محمد محی الدین شاہ قیسؔ  

غلام ربانی فدا کی نعتیہ شاعری

غلام ربانی فدا کی نعتیہ شاعری


غلام ربانی فدا کی نعتیہ شاعری
سید محمد محی الدین شاہ قیسؔ 
آداب کے پہرے ہیں لکھوں تو میں کیا لکھوں 
لِلّٰہ! مجھے آقا اب فکرِ رسا دینا 
( سید محمد محی الد ین شاہ قیسؔ ) 
میرے سامنے فداؔ کے نعتیہ اشعار رکھے ہوئے ہیں ،آج پہلی بار کسی کی کتاب پر مضمون لکھنے بیٹھا ہوں ،مجھ میں یہ سکت نہیں کہ نعتیہ کتاب پرمضمون لکھ سکوں ،مگر رفیقِ دیرینہ کی فرمائش پر خود کو آزمانے کی غرض سے قبول کیا ہوں ۔
عشق جب غالب ہوتا ہے تو عاشق میں صبر کی تاب نہیں رہتی اور دل کی آگ شعلہ ور ہو جاتی ہے ،قلب کسی طرح سکوں 
نہیں پاتا حیرت واضطراب کے مقام میں بے قرار رہتا ہے اسی بے قراری کو تسکین دینے کے لئے عشق اسے عرضِ حال کی وادیوں میں ڈھکیل دیتا ہے ،یہی وہ جا ہے جہاں سے وارداتِ قلب ،رموزِعشق و اسرارکی کتھا شعر کی صورت زبانِ قلم سے صفحۂ قرطاس پر روپذیر ہوتی ہے ۔
عشق کی دو قسمیں ہیں ۱ )عشقِ حقیقی ۲)عشقِ مجازی
عشقِ حقیقی کی تعریف :۔خدااور رسول خداﷺاور ان سے منسوب چیزوں سے الحبٌّ فی اللہ کے تحت کیا جائے ۔
عشقِ مجازی کی تعر یف :۔جو دنیا اور دنیاداروں سے کیا جائے ،یا یوں کہیں جس کی طرف ہوائے نفس مائل ہو۔
عشق حقیقی میں لکھے ہوئے اشعار محامد ،نعوت اور مناقب کا مجموعہ ہوا کرتے ہیں ،جو کہ لائق تحسین ہے ،اور عشق مجازی کالہویات اور واہیات سے مرکب ،جو کہ لائق تنفر و ملامت ہے ۔ان ہی شعرا ء کے لیے اللہ تعالیٰ کا قول والشعراء یتبعھم الغاون ہے ۔
نعت کی تعریف :۔نعت اس کلام منظوم کو کہتے ہیں جو حبیب پاک ﷺکی شان اقدس میں زیب قرطاس ہو،خواہ کسی بھی ہیت شاعری میں ۔

نعت کا موضوع :۔نعت میں ہروہ موضوع شامل ہے جس میں ختم رسل ﷺکی پاکیزگی ،حسن وجمال ،اخلاق وکردار ،ولادت باسعادت ،اختیارات ،تصرفات ،معجزات وکمالات ،جودو سخا ،عفو و حلم ، لطف و عطا ، اسلامی انقلاب ،سراپا کی تعریف وتوصیف ، واقعات جہاد ،عشق ووارفتگی ،فراقِ حبیب ،ہدی�ۂدرود و سلام جیسے موضوعات کا تذکرہ ہو ۔
آپ ﷺ کی مدح و تو صیف کا بیان کر نا عین عبادت اور رو حِ ایمان ہے،اصولانبی رحمت ﷺ کی نعت خوانی کا آغاز ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کیا ۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نعت پاک کا لکھنا کو ئی معمولی بات نہیں ،نعت بہت ہی نازک صنف سخن ہے اور فن شاعر ی کی پل صراط بھی ،کیونکہ خدا اور بندے کا فرق اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے ،نعت نگار کی ذرا سا شاعرانہ مبالغہ آرائی یاعجزبیاں کفر وضلالت کا باعث بن سکتی ہے ۔
مجروح ؔ سلطان پوری سے پوچھا گیا کہ اتنے اچھے شاعر ہونے کے باوجودآپ نے نعت کی طر ف توجہ کیو ں نہیں کی مجروح ؔ نے جواب دیاکوشش تو کی تھی کہ نعت لکھوں مگر ہاتھ کانپنے لگے اور قلم نے ساتھ نہیں دیا نبی کی شان میں لکھتے وقت ہزار بار خیال آتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ نکلے جو قابل گرفت ہو ،نعت میں لغزش ہوئی تو دنیا وا لے الگ لعنت بھیجیں گے اور خدا کا قہر الگ۔
میں آپ کو بتاتا چلوں نعت لکھنے کی بات تو بعید ہے حضرت ابوالولید حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ متوفی ۵۴ ؁ھ کے یہ شعر 
واحسن منک لم ترقط عینی واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرامن کل عیب کانک قد خلقت کما تشاء
کاصر ف ترجمہ کرتے وقت اچھے اچھے علامۂ وقت کا قلم کانپ جاتا ہے ،اسی لیئے علامہ شیخ سعدی شیرازی نے فرمایا 
لایمکن الثناء کما کان حقہ
بعدا زخدابزرگ توئی قصہ مختصر 
اردو زبان کے مشہور و معروف شاعر اسداللہ خاں غالب ؔ نے یوں کہا 


غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم 
کہ آں ذات پاک مرتبہ دان محمد است 
اور حقیقت بھی یہی ہے، مگر فدایانِ محمد ﷺ بساط کے مطابق اپنی بے بضاعتی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ ﷺ کی شان میں اشعار لکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تا کہ ان کا بھی نام’’ یو سف کے خریداروں‘‘میں ہو جائے، ہر شاعر لکھنے سے قبل یہ دعا ضرور کرتا ہے 
آدابِ محبت کی توہین سے ڈرتا ہوں 
تحریرِ محبت کا انداز سکھا دینا
(سید محمد محی الدین شاہ قیسؔ )
میدان نعت میں غزل کی طرح شاعر کو کو ئی آزادی یا چھوٹ نہیں ہوتی نعت گوئی بردم تیغ رکھنا ہے نعت نگار اس راہ میں بڑے ہوش و حواس کے ساتھ رہتا ہے 
بس اسی کو ہے ثنائے مصطفی لکھنے کا حق
جس قلم کی روشنا ئی میں ہو شامل احتیاط 
(حضور شیخ الاسلام اخترؔ )
اسی راہ کے راہ گیروں کو عر فی ؔ شیرازی نے یو ں مخاطب کیا
عرفیؔ ایں رہ نعت است نہ صحرا 
آہستہ کہ رہ بردم تیغ قدم را
یہ بات حقیقت اور تسلیم شدہ ہے کہ بر صغیر ہند و پاک میں سب سے پہلے نعت گوئی کا رواج دکنی زبان میں دکن سے شروع ہوا اور اس کی خوشبو اطراف و اکناف ہند میں پھیلی ،اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہونے کا شرف بھی دکنی باشندہ سلطان محمدقلی قطب شاہ متوفی ۹۸۸ ؁ھ کو حاصل ہے۔ 
یہ بات نا قابل فراموش حقیقت ہے کہ دکن کی زر خیز زمین نے ایک سے ایک ذی علم حضرات ،اولیاء ،صوفیا، علماء اور شعر اء کو پیدا کیاہے ،لیکن صد افسوس کہ اہل دکن نے ان اکابرین اور زعمائے دکن کو کما حقہ متعارف نہیں کروایا ۔
جواں سال ابھرتے ہوئے خوش فکر شاعر فداؔ بہت بہت قابل مبارکباد ہیں ،اس کم عمری میں وہ کام کرنے لگے ہیں جس کی توقع گنے چنے لو گوں میں ہی کی جاسکتی ہے ،فداؔ کی پیدا ئش ایک متوسط اور

مہذب گھرانے میں یکم جون ۱۹۸۸ ؁ء کوہیرور تعلقہ ہانگل شریف میں ہوئی مکمل نام غلام ربانی اور تخلص فداؔ رکھتے ہیں جو کہ اسم بامسمی ہے موصوف نے حفظ و قرات کے بعد عا لمیت کی بھی تکمیل کی اور اب ہندوستان کا منفر د سہ ماہی رسالہ’’ جہانِ نعت ‘‘میں مصروفِ کار ہیں ،موصوف کا یہ پہلا نعتیہ مجموعہ ہے جس کو آپ اپنے ہا تھوں میں دیکھ رہے ہیں ۔
شعر و شاعری میں محبت کا جذبہ فطری ہے ہر شاعر کی شاعری اس کے جذبات دل کی عکاسی ہوتی ہے ،پیشِ نظر نعتیہ اشعار سے موصو ف کی کیفیتِ قلب کا اندازہ ہوتا ہے موصوف کے اشعار تہذیب زبان وبیان اور وسعت فکر سے آراستہ نظر آتے ہیں ،ان کے نعتیہ اشعار کو پڑھنے کے بعد واقعتا دلِ مومن میں نہاں عشق نبی کی کرنیں بقعۂ نور بن جاتی ہیں موصوف کی نعتوں میں حضور پرنور ﷺ کی سرا پاتعریف وتوصیف کے ساتھ ساتھ حیاتِ طیبہ ،اخلاقِ نبوی ،مدینہ سے دوری و مہجوری ،احساسِ گناہ ،شفاعت طلبی ، حوادثِ زمانہ ،اشکِ ندامت ، حضور ﷺ کے احسانات ،درود و سلام کا تذکرہ بھی ملتا ہے ۔بطو ر مثال ملاحظہ فرمائیں 
رسول رحمت ﷺ کی ثنا ء
عرشِ علٰی پہ جانے والے میرے آقا میرے حضور 
قربت رب کی پانے والے میرے آقامیرے حضور 
اللہ اللہ ان کی رفعت اللہ اللہ ان کی سیرت 
دشمن کو اپنانے والے میرے آقا میرے حضور 
حوادثِ زمانہ کا تذکرہ 
یا رسول خدا لیجئے اب خبر 
آفتوں میں ہوا مبتلا ہر بشر 
جو زمانے کے طبیبوں سے نہ اچھے ہوسکے 
ان مریضوں کی دوا ہے آمنہ کی گودمیں 

ہم کو سرکار بچالیجئے کہ ظالم انساں 
ہم پہ کرنے کو مشقِ ستم آتے ہیں 
مدینہ طیبہ میں حاضری کا متمنی اشکِ ندامت کے ساتھ 
رورو کے کر رہا ہے فداؔ بس یہی دعا 
یا رب سفر مدینہ کا ہوتا دکھا ئی دے 
یادِ نبی میں آنسوں رہ رہ کے بہہ رہے ہیں 
کب دل حزیں نہیں ہے کب چشم نم نہیں ہے 
تصرف واختیاراتِ حبیب پاک ﷺ کا تذکر ہ 
شق القمر کا معجزہ دکھلا کے آپ نے 
مکہ کے بدووں کو مسلماں بنا دیا 
پتھروں نے بند مٹھی میں بصد عجز و نیاز 
آپ کا کلمہ پڑھا آقائے من پیارے نبی 
احساس گناہ 
نیچی نظریں کئے دربار میں ہم آتے ہیں 
غم کے مارے ہیں لئے سیکڑوں غم آتے ہیں 
ہم خطاکار ہیں اور آپ کا در ہے اقدس 
شرم آ تی ہے یہ کہتے ہوئے ہم آتے ہیں 
سرے محشر ملے گا آسر اان کی شفاعت کا
گناہوں سے پشیما ں ہوکے جب دل ڈوبتا ہوگا
در ودو سلام کا تذکرہ 
مدینے کے آقا غلاموں کے سرور درودوسلام اے نبی پیش تم پر 
مکرم ،مطہر ،معطر ،منور درودو سلام اے نبی پیش تم پر 
لب پر میرے درود ہو اور دم تمام ہو 
یوں میری زندگی کی مدینہ میں شام ہو 

یہ تھے فداؔ صاحب کے نعتیہ کلاموں میں سے کچھ اشعار جس کو مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ذکر کیا گیا ،واقعی فداؔ صاحب کے اشعار عشق نبوی ﷺ میں ڈوبے ہوئے ہیں ،اللہ تعالی سے دست بدعا ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے جیسے ہمارے اقوال ہیں ویسے احوال بھی فرمائے ۔
آخر میں ایک بات بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں آج کل کچھ بد عقیدہ لوگ بھی خود کو عاشقِ رسول ﷺ ظاہر کرنے کے لئے نعت پاک لکھنے لگے ہیں میں اس بارے میں زیادہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ لوگ آقا ﷺ کے معجزات واختیارات اور باحیات ہونے کا عقیدہ جب تک تسلیم نہیں کرلیتے نعتیہ شاعری کیا اس کی دہلیز تک بھی نہیں پہنچ سکتے 
شعور و ادراک کو بھیک ،احساس و فکر کو توانائی رسو ل رحمت ﷺ کو باحیات اور آپ کے معجزات کو تسلیم کرنے پر ملتی ہے ،ورنہ الفاظ چند لکیروں کے نام کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتے ،لکیریں تو کاغذ پر بے شعور بچے بھی کھینچ دیتے ہیں لکیروں کو آقاﷺ کی تعظیم و احترام کے سبب زبان ملتی ہے وہ لوگ کیا خاک آقا ﷺ کی شان میں اشعار قلمبند کریں گے جن کے عقائد ہی درست نہیں ،اللہ تعا لیٰ ہدایت عطافرمائے ۔
آمین 
بجاہ سیدالمرسلین وآلہ اجمعین 
فقط 
بندۂ عاصی 

سید محمد محی الدین شاہ قیسؔ  

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular