Showing posts with label fikremaqbool. Show all posts
Showing posts with label fikremaqbool. Show all posts
سفر معراج کی سواریاں

سفر معراج کی سواریاں

    امام علائی نے اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ معراج میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے پانچ قسم کی سواریوں پر سفر فرمایا مکہ سے بیت المقدس تک براق پر،بیت المقدس سے آسمان اول تک نور کی سیڑھیوں پر، آسمان اول سے ساتویں آسمان تک فرشتوں کے بازوؤں پر، ساتویں آسمان سے سدرۃ المنتہیٰ تک حضرت جبریل علیہ السلام کے بازو پر، سدرۃ المنتہیٰ سے مقام قاب قوسین تک رفرف پر۔(1) (تفسیر روح المعانی جلد ۱۵ ص ۱۰)

ظروف و مختلف سامان

ظروف و مختلف سامان

ظروف اور برتنوں میں کئی پیالے تھے ایک شیشہ کا پیالہ بھی تھا۔ ایک پیالہ لکڑی کا تھا جو پھٹ گیا تھا تو حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کے شگاف کو بند کرنے کیلئے ایک چاندی کی زنجیر سے اس کو جکڑ دیا تھا۔(1)  (بخاری ج۱ ص۴۳۸ باب ماذکر من ورع النبی)

چمڑے کا ایک ڈول، ایک پرانی مشک، ایک پتھر کا تغار، ایک بڑا سا پیالہ جس کا نام "السعہ" تھا، ایک چمڑے کا تھیلا جس میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آئینہ، قینچی اور مسواک رکھتے تھے، ایک کنگھی، ایک سرمہ دانی، ایک بہت بڑا پیالہ جس کا نام "الغراء" تھا، صاع اور مدد و ناپنے کے پیمانے۔ 
ان کے علاوہ ایک چارپائی جس کے پائے سیاہ لکڑی کے تھے۔ یہ چارپائی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہدیۃً خدمت اقدس میں پیش کی تھی۔ بچھونا اور تکیہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، مقدس جوتیاں، یہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسباب و سامانوں کی ایک فہرست ہے جن کا تذکرہ احادیث میں متفرق طور پر آتا ہے۔(المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،تکمیل،ج۵،ص۹۴۔۹۶ملخصاً)

وفد کندہ

وفد کندہ

 یہ لوگ یمن کے اطراف میں رہتے تھے۔ اس قبیلے کے ستّریا اسی سوار بڑے ٹھاٹھ باٹ کے ساتھ مدینہ آئے۔ خوب بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اور ریشمی گونٹ کے جبے پہنے ہوئے، ہتھیاروں سے سجے ہوئے مدینہ کی آبادی میں داخل ہوئے۔ جب یہ لوگ دربار رسالت میں باریاب ہوئے تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے؟ سب نے عرض کیا کہ ''جی ہاں'' آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم لوگوں نے یہ ریشمی لباس کیوں پہن رکھا
ہے؟ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنے جبوں کو بدن سے اتار دیا اور ریشمی گونٹوں کو پھاڑ پھاڑ کر جبوں سے الگ کر دیا۔(1) (مدارج ۲ص۳۶۶)
تبوک کو روانگی

تبوک کو روانگی

بہرحال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تیس ہزار کا لشکر ساتھ لے کر تبوک کے لئے روانہ ہوئے اور مدینہ کا نظم و نسق چلانے کے لئے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ
بنایا۔ جب حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے نہایت ہی حسرت و افسوس کے ساتھ عرض کیا کہ یا رسول اﷲـ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر خود جہاد کے لئے تشریف لئے جا رہے ہیں تو ارشاد فرمایا کہ

اَلَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلاَّ اَنَّہٗ لَیْسَ نَبِیَّ بَعْدِیْ (1)(بخاری ج۲ ص۶۳۳ غزوۂ تبوک)

    کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
    یعنی جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر جاتے وقت حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنی امت بنی اسرائیل کی دیکھ بھال کے لئے اپنا خلیفہ بنا کر گئے تھے اسی طرح میں تم کو اپنی امت سونپ کر جہاد کے لئے جا رہا ہوں۔
    مدینہ سے چل کر مقام ''ثنیۃ الوداع'' میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قیام فرمایا۔ پھر فوج کا جائزہ لیا اور فوج کا مقدمہ،میمنہ، میسرہ وغیرہ مرتب فرمایا۔ پھر وہاں سے کوچ کیا۔ منافقین قسم قسم کے جھوٹے عذر اور بہانے بنا کر رہ گئے اور مخلص مسلمانوں میں سے بھی چند حضرات رہ گئے ان میں یہ حضرات تھے، کعب بن مالک، ہلال بن امیہ، مرارہ بن ربیع، ابوخیثمہ، ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ ان میں سے ابوخیثمہ اور ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما تو بعد میں جا کر شریک جہاد ہو گئے لیکن تین اول الذکر نہیں گئے۔
    حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پیچھے رہ جانے کا سبب یہ ہوا کہ ان کا اونٹ بہت ہی کمزور اور تھکا ہوا تھا۔ انہوں نے اس کو چند دن چارہ کھلایا تا کہ وہ چنگا ہو جائے۔ جب روانہ ہوئے تو وہ پھر راستہ میں تھک گیا۔ مجبوراً وہ اپنا سامان اپنی پیٹھ پر لاد کر چل پڑے اور اسلامی لشکر میں شامل ہو گئے۔(1) (زرقانی ج۳ ص۷۱)
    حضرت ابوخیثمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے مگر وہ ایک دن شدید گرمی میں کہیں باہر سے آئے تو ان کی بیوی نے چھپر میں چھڑ کاؤ کر رکھا تھا۔         تھوڑی دیر اس سایہ دار ا ور ٹھنڈی جگہ میں بیٹھے پھر ناگہاں ان کے دل میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا خیال آ گیا۔ اپنی بیوی سے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ میں تو اپنی چھپر میں ٹھنڈک اور سایہ میں آرام و چین سے بیٹھا رہوں اور خداعزوجل کے مقدس رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس دھوپ کی تمازت اور شدید لو کے تھپیڑوں میں سفر کرتے ہوئے جہادکے لئے تشریف لے جا رہے ہوں ایک دم ان پر ایسی ایمانی غیرت سوار ہو گئی کہ توشہ کے لئے کھجور لے کر ایک اونٹ پر سوار ہو گئے اور تیزی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے روانہ ہو گئے۔ لشکر والوں نے دور سے ایک شتر سوار کو دیکھا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوخیثمہ ہوں گے اس طرح یہ بھی لشکر اسلام میں پہنچ گئے۔ (2) (زرقانی ج۳ص۷۱)
    راستے میں قوم عاد و ثمود کی وہ بستیاں ملیں جو قہر الٰہی کے عذابوں سے الٹ پلٹ کر دی گئی تھیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں خدا کا عذاب نازل ہوچکاہے اس لئے کوئی شخص یہاں قیام نہ کرے بلکہ نہایت تیزی کے ساتھ سب لوگ یہاں سے سفر کرکے ان عذاب کی وادیوں سے جلد باہر نکل جائیں اور کوئی یہاں کا پانی نہ پیئے اور نہ کسی کام میں لائے۔
    اس غزوہ میں پانی کی قلت، شدید گرمی، سواریوں کی کمی سے مجاہدین نے
بے حد تکلیف اٹھائی مگر منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لیا۔(۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب ثم غزوۃ تبوک،ج۴، ص۸۵)
نجاشی کا کردار

نجاشی کا کردار

نجاشی بادشاہ حبشہ کے پاس جب فرمان رسالت پہنچا تو اس نے کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس معاملہ میں مؤرخین کا اختلاف ہے کہ اس نجاشی نے اسلام قبول کیا یا نہیں؟ مگر مواہب لدنیہ میں لکھا ہوا ہے کہ یہ نجاشی جس کے پاس اعلان نبوت کے پانچویں سال مسلمان مکہ سے ہجرت کرکے گئے تھے اور    ۶ھ؁ میں جس کے پاس حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خط بھیجا اور   ۹ھ؁ میں جس کا انتقال ہوا اور مدینہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی اس کا نام ''اصمحہ'' تھا اور یہ بلاشبہ مسلمان ہوگیا تھا۔ لیکن اس کے بعد جو نجاشی تخت پر بیٹھا اس کے پاس بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسلام کا دعوت نامہ بھیجا تھا ۔مگر اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نجاشی کانام کیاتھا؟اور اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں؟ مشہورہے کہ یہ دونوں مقدس خطوط اب تک سلاطین حبشہ کے پاس موجود ہیں اور وہ لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔(2) (مدارج النبوۃ ج ۲ص ۲۲۰ )

عمرو بن عبدود مارا گیا

عمرو بن عبدود مارا گیا

سب سے آگے عمرو بن عبدود تھایہ اگرچہ نوے برس کا خرانٹ بڈھا تھا مگر ایک ہزار سواروں کے برابر بہادر مانا جاتا تھاجنگ ِ بدر میں زخمی ہو کر بھاگ نکلا تھا اور اس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے بدلہ نہ لے لوں گا بالوں میں تیل نہ ڈالوں گا،یہ آگے بڑھا اور چلا چلا کر مقابلہ کی دعوت دینے لگاتین مرتبہ اس نے کہا کہ کون ہے جو میرے مقابلہ کو آتا ہے؟ تینوں مرتبہ حضرت علی شیرخداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے اُٹھ کر جواب دیا کہ ''میں'' حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے روکاکہ اے علی!کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم یہ عمرو بن عبدود ہے۔حضرت علی شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے عرض کیا کہ جی ہاں میں جانتا ہوں کہ یہ عمرو بن عبدود ہے لیکن میں اس سے لڑوں گا،یہ سن کر تاجدار نبوت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی خاص تلوار ذوالفقار اپنے دست مبارک سے حیدر کرارکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے مقدس ہاتھ میں دے دی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر انور پر عمامہ باندھااوریہ دعا فرمائی کہ یااللہ!عزوجل تو علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی مدد فرما ۔حضرت اسد اﷲ الغالب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مجاہدانہ شان سے اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور دونوں میں اس طرح مکالمہ شروع ہوا:
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ    اے عمرو بن عبدود! تو مسلمان ہو جا! 
عمرو بن عبدود        یہ مجھ سے کبھی ہر گز ہر گز نہیں ہو سکتا!
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ    لڑائی سے واپس چلا جا!
عمرو بن عبدود        یہ مجھے منظور نہیں!
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ    تو پھر مجھ سے جنگ کر!
عمرو بن عبدود        ہنس کر کہا کہ میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا 
میں کوئی مجھ کو جنگ کی دعوت دے گا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ    لیکن میں تجھ سے لڑنا چاہتا ہوں۔
عمرو بن عبدود         آخر تمہارا نام کیا ہے؟
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ    علی بن ابی طالب
عمرو بن عبدود        اے بھتیجے!تم ابھی بہت ہی کم عمر ہومیں تمہارا خون 
بہانا پسند نہیں کرتا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ    لیکن میں تمہاراخون بہانے کوبے حدپسندکرتا ہوں۔
عمرو بن عبدود خون کھولا دینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیاحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پیدل تھے اور یہ سوار تھااس پر جو غیرت سوار ہوئی توگھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے اور ننگی تلوار لے کر آگے بڑھا اورحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پر تلوار کا بھرپور وار کیاحضرت شیر خدا نے تلوار کے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا،یہ وار اتنا سخت تھا کہ تلوار ڈھال اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی گو بہت گہرا زخم نہیں لگامگر پھر بھی زندگی بھریہ طغریٰ آپ کی پیشانی پر یادگار بن کر رہ گیاحضرت علی شیر خدا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تڑپ کر للکارا کہ اے عمرو! سنبھل جااب میری باری ہے یہ کہہ کر اسد اﷲ الغالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ

الکریم نے ذوالفقار کا ایسا جچا تلا ہاتھ مارا کہ تلوار دشمن کے شانے کو کاٹتی ہوئی کمر سے پار ہو گئی اور وہ تلملا کر زمین پر گرااور دم زدن میں مر کر فی النار ہو گیااور میدان کارزار زبان حال سے پکار اٹھا کہ ؎
                شاہِ مرداں، شیرِ یزداں قوتِ پرورد گار
                         لَا فَتٰی اِلَّا عَلِی لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَار
    حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیااور منہ پھیر کر چل دئیے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے علی!کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم آپ نے عمرو بن عبدود کی زرہ کیوں نہیں اتار لی ؟سارے عرب میں اس سے اچھی کوئی زرہ نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذوالفقار کی مار سے وہ اس طرح بے قرار ہو کر زمین پر گرا کہ اس کی شرمگاہ کھل گئی اس لئے حیاء کی وجہ سے میں نے منہ پھیر لیا۔ (1) 
                     (زُرقانی ج۲ ص۱۱۴و۱۱۵)

انصار کی ایمانی شجاعت

انصار کی ایمانی شجاعت

محاصرہ کی وجہ سے مسلمانوں کی پریشانی دیکھ کر حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
نے یہ خیال کیا کہ کہیں مہاجرین و انصار ہمت نہ ہار جائیں اس لئے آپ نے ارادہ فرمایا کہ قبیلہ غطفان کے سردار عیینہ بن حصن سے اس شرط پر معاہدہ کر لیں کہ وہ مدینہ کی ایک تہائی پیداوار لے لیا کرے اور کفار مکہ کا ساتھ چھوڑ دے مگر جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے اپنا یہ خیال ظاہر فرمایاتو ان دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اگر اس بارے میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وحی اتر چکی ہے جب تو ہمیں اس سے انکار کی مجال ہی نہیں ہو سکتی اور اگر یہ ایک رائے ہے تو یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) جب ہم کفر کی حالت میں تھے اس وقت تو قبیلہ غطفان کے سرکش کبھی ہماری ایک کھجور نہ لے سکے اور اب جب کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو اسلام اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی غلامی کی عزت سے سرفراز فرما دیا ہے تو بھلا کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنا مال ان کافروں کو دے دیں گے؟ ہم ان کفار کو کھجوروں کا انبار نہیں بلکہ نیزوں اور تلواروں کی مار کا تحفہ دیتے رہیں گے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا،یہ سن کر حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خوش ہوگئے اورآپ کوپوراپورااطمینان ہو گیا۔(1) 
(زرقانی ج۲ص۱۱۳)
خندق کی و جہ سے دست بدست لڑائی نہیں ہو سکتی تھی اور کفار حیران تھے کہ اس خندق کو کیونکر پار کریں مگر دونوں طرف سے روزانہ برابر تیر اور پتھر چلا کرتے تھے آخر ایک روز عمرو بن عبدودو عکرمہ بن ابو جہل وہبیرہ بن ابی وہب وضرار بن الخطاب وغیرہ کفار کے چند بہادروں نے بنو کنانہ سے کہا کہ اٹھوآج مسلمانوں سے جنگ
کرکے بتا دو کہ شہسوار کون ہے؟ چنانچہ یہ سب خندق کے پاس آ گئے اور ایک ایسی جگہ سے جہاں خندق کی چوڑائی کچھ کم تھی گھوڑا کودا کر خندق کو پار کر لیا۔(1)
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ الخندق...الخ، ج۳،ص۴۲ملخصاً
فاتحہ

فاتحہ

محرم کے دس دنوں تک خصوصاََ عاشوراء کے دن شربت پلا کر' کھانا کھلا کر' شیرینی پر یا کھچڑا پکا کر شہدائے کر بلا کی فاتحہ دلانا اور ان کی روحوں کو ثواب پہنچانا یہ سب جائز اور ثواب کے کام ہیں۔ اور ان سب چیزوں کا ثواب یقیناََ شہدائے کربلاکی روحوں کو پہنچتا ہے اور اس فاتحہ و ایصال ثواب کے مسئلہ میں حنفی' شافعی' مالکی' حنبلی اہلسنّت کے چاروں اماموں کا اتفاق ہے ۔

(شرح العقائد النسفیۃ، مبحث دعاء الاحیاء للاموات،ص۱۷۲)

    پہلے زمانوں میں فرقہ معتزلہ اور اس زمانے میں فرقہ وہابیہ اس مسئلہ میں اہلسنّت کے خلاف ہیں اور فاتحہ و ایصال ثواب سے منع کرتے رہتے ہیں۔ تم مسلمانان اہلسنّت کو لازم ہے کہ ہرگز ہرگز نہ ان کی باتیں سنو،نہ ان لوگوں سے میل جول رکھو ورنہ تم خود بھی گمراہ ہوجاؤ گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرو گے۔
    دسویں محرم کو دعائے عاشوراء پڑھنے سے عمر میں خیروبرکت اور زندگی میں فلاح و نعمت حاصل ہوتی ہے۔ ہماری کتاب ''موسم رحمت'' میں پوری اور مکمل دعائے عاشوراء لکھی ہوئی ہے اس کتاب کو ضرور پڑھو۔

فضول بکواس

فضول بکواس

مردوں اور عورتوں کی بری عادتوں میں سے ایک بہت بری عادت بہت زیادہ بولنا اور فضول بکواس ہے۔ کم بولنا اور ضرورت کے مطابق بات چیت یہ بہت ہی پسندیدہ عادت ہے۔ ضرورت سے زیادہ بات اور فضول کی بکواس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی ایسی باتیں بھی زبان سے نکل جاتی ہیں جس سے بہت بڑے بڑے فتنے پیدا ہو جاتے ہیں اور شروفساد کے طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس لئے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے کہ

    وَکُرِہَ لَکُمْ قِیْلَ وَ قَالَ وَ کَثْرَۃَ السُّوَالِ وَ اِضَاعَۃَ الْمَالِ۔

(صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،باب قول اللہ تعالٰی لایسألون الناس إلحافاً، الحدیث۱۴۷۷، ج۱،ص۴۹۸)

یعنی اﷲتعالیٰ کو یہ ناپسند ہے کہ بلا ضرورت قیل اورقال اور فضول اقوال آدمی کی زبان سے نکلیں۔ اسی طرح کثرت سے لوگوں کے سامنے کسی چیز کا سوال کرتے رہنا اور فضول کاموں میں اپنے مالوں کو برباد کرنا یہ بھی اﷲتعالیٰ کو ناپسند ہے یہ بھی سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ
علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمان ہے کہ اپنی زبانوں کو فضول باتوں سے ہمیشہ بچائے رکھو۔

(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ ، الترغیب فی الصمت الاعن خیر والترہیب من کثرۃ الکلام ، رقم ۵،ج۳،ص۳۳۶)

    کیونکہ بہت سی فضول باتیں ایسی بھی زبانوں سے نکل جاتی ہیں جو بولنے والوں کو جہنم میں پہنچا دیتی ہیں۔ اسی لئے تمام بزرگوں نے یہ فرمایا ہے کہ تین عادتوں کو لازم پکڑو۔ کم بولنا، کم سونا، کم کھانا کیونکہ زیادہ بولنا، زیادہ سونا، زیادہ کھانا، یہ عادتیں بہت ہی خراب ہیں اور ان عادتوں کی وجہ سے انسان دین و دنیا میں ضرور نقصان اٹھاتا ہے۔

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

اظہارحق بجواب’’تحقیق حق‘‘

محمدعبدالہادی مجددی

معززقارئین کرام! ایک رسالہ بعنوان تحققیق حق محترم محمد یحیٰ صاحب شمسی (بن حضرت الحاج مولوی محمدعمرصاحب رحمہ اللہ علیہ ) نےلکھ کرشائع فرمایا ہے۔ جسے ہم نے خلوص کے ساتھ دیکھا اور مطالعہ نے جن تاثرات سے ہمیں محفوظ کیا ہے ۔ وہ آپ کی خدمت میں پیش ہیں
محترم مضمون نگار نے رسالہ کے صفحہ ایک اورآٹھ پر مندرجہ ذیل عبارتیں لکھی ہیں ۔
۱) برادران اسلام! ایک اشتہار بعنوان جواب سوال بصورت سوال وجواب کے ذریعے عوام کو پھرفروع مسائل میں الجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔آج مسلمان فرائض وواجبات سے غافل ،کبائر میں مبتلا ہیں لیکن بعض خودغرضوںکو اسکے تدارک کی فکر نہیں مگر فاتحہ کی فکر ہے (صفحہ ۱)(۲) (۸)۔
نوٹ: چونکہ ہم سے بعض حضرات نےاشتہار مذکورکے جواب یاتسلیم کاسخت مطالبہ کیا تھا۔ اس لیے یہ مضمون تحریر کرناپڑا ورنہ ہم ایسے کاموں میں مشغول ہونا پسند نہیں کرتے۔
سبحان اللہ رسالہ لکھنے والے بزرگ سے جب بعض حضرات مسئلہ فاتحہ پرفتویٰ مانگتے ہیں۔ توفاتحہ کوناجائز بتا کر نہ مصنف رسالہ خودغرض بنتے اور نہ یہ فاتحہ کا مسئلہ فروعی ہی رہتاہے بلکہ مصنف رسالہ کے قلم کو حرکت میں لانے والے بعض حضرات جوکچھ کرتے ہیں۔ وہ سب فرائض وواجبات میں داخل ہوکر کبائر کےخلاف جہادِ اکبر ہوجاتا ہےاور جب اس کے سوا دوسرے مسلمان مسئلہ فاتحہ پر قلم اٹھاتے ہیں خود غرض بددیانت اورفریبی بن جاتے ہیں۔
بروز حشر گر۔۔۔۔۔ امت راچراکشتی
چہ خواہی گفت قربانت شوم من نیز متشاقم۔
للہ غور فرمایاجائے کہ آخر اس طرح کی دورنگی عبارتیں شائع فرمانے کے لیے روپیہ وقت اور محنت ضائع کرنے سے دین ودنیا کی کونسی دولت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد صفحہ ۲ پر رسالہ نویس نے اسی فروعی مسئلہ میں فتاوی اورجندی پر لے دے کر کرتے ہوےمذکور کتاب کو تسلیم نہ کرنے کے لیے جودلیل ذیل دی ہے۔ اس کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔آپ کومعلوم ہونا چاہئے کہ ۸۵۷؁ء کے بعد جبکہ انگریز نے وہابی اور سنی کا جھگڑا پیدا کرکے مسلمانوں کی مجموعی قوت کوتوڑنے کی کوشش شروع کی تھی۔ اور فروعی مسائل کو ابھارا گیا تھا، یہ روایت اس وقت گھڑی گی تھی۔
محترم رسالہ نگارنے جودلیل فتاویٰ اوزجندی کے ناقابل استدلال ہونے کی فرمائی ہےوہ نہ قرآن مجید میں ہے نہ حدیث رسولﷺ میں۔
یہ دلیل بےدلیل توایسی ہی مضحکہ خیز ہے۔ جیسے کوئی کوسنے والاعلامہ چیخ چیخ کرکہہ رہاہے کہ یہ مدرسہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اورمسلمانوں کی مجموعی قوت کوتوڑنے کے لیے انگریز نے خفیہ طورپر فنڈ کراکے تیار کرایا تھا۔
مکرم ناظرین!غور فرمایئے کہ ایسی بے سروپا کہانیوں کو دلیل سمجھنا کیسی غلطی اور زبردست مغالطہ ہے۔
مگر ہمارے مصنف رسالہ اسے فاتحہ کو ناجائز کردینے والی عظیم الشان ترجمان قرآن وحدیث دلیل سمجھ رہے ہیں۔
اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
یہ گھر جوجل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو
اس کے بعد محترم رسالہ نویس نے صفحہ ۵ سے صفحہ ۶ تک بحث کرکے یہ فتویٰ دیا ہے کہ قرآن شریف میں حرکات زیروزبر لگانا علم تجوید ایجاد کرنا، علم نحووصرف کوایجاد کرنا، مدرسہ قائم کرناوغیرہ کے لیے اصل صحیح یعی وجہ جواز یہ ہے کہ حفاظت قرآن نماز میں تلاوت قرآن فہم قرآن وغیرہ فرض ہے۔
محترم صاحب رسالہ کے اس مبارک فتویٰ سے چشم ما رشن دل ماشاد جب قیام مدارس اور علم صرف و نحو وتجوید وغیرہ مروجہ علوم وفنون کو آپ فہم قرآن حفاظت قرآن کا مدار علیہ فرماتے ہیں۔ اور اسے بدعت حسنہ اور سنت حسنہ نام رکھتے ہیں۔ حالانکہ ان مختلف فیہ علوم پر ان کے ماہرین کاتمام مسائل میں اتفاق بھی نہیں ہےاور نہ یہ مروجہ علوم وفنون براہ راست قرآن کا مقصود ہی ہیں۔ تو پھر بیچارہ ایصال ثواب کی اصل صحیح نے کسی کاکیا بگاڑا ہے کہ اس اصل صحیح کومانتے ہوئے بھی اس کی مختلف شکلوں کے لیے کسی’’خاص مستقل‘‘ حدیث کے انتظار وتلاش میں کسی کا حواس باختہ ہونا منظور رکھا جائے۔
محترم رسالہ نویس نے صفحہ ۷ پرقیاس صحیح کو شرعی حجت فرمایاہے اس کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ کیاایصال ثواب کی مختلف شکلوں والے تعامل کے لیے اس کی صحیح ایصال ثواب کی بنا پر قیاس صحیح عرفاً فاتحہ وغیرہ کہہ لینے کو برداشت نہیں کرسکتا۔؟
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا۔
محترم مصنف نے قیاس صحیح کو شرعی حجت قرار دیتے ہوئے صف ۷ پر بھنگ تاڑی افیون کو ایصال ثواب کا مدارعلیہ قیاس فرمایاہے سوکون صاحب بصیرت مصنف کے اس خیال کو قیاس صحیح کا درجہ دینے کی ہمت کرے گا۔صفحہ ۷ پر مصنف رسالہ کا یہ گہربار فتویٰ موجود ہے۔
ظاہر ہے کہ اس طرح آج تک کوئی ثبوت اس فاتحہ مروجہ کانہیں مل سکا،لہٰذا یقیناً یہ طریقہ فاتحہ مروجہ کابدعت شرعیہ میں داخل ہے اورقطعاً ناجائز ہے۔
اب صفحہ ۸پرفاضل مصنف کایہ مہربان فتویٰ ملاحظہ فرمایئے ایسے فروعی اختلافات اوران سے متعلق اشتہارات من گھڑت بیانات سے دلچسپی لینا چھوڑ دیں۔
ہماری رائے یہ ہے کہ اختلافی مسائل کامعاملہ ان کے اور خدا کے حوالے کردینا چاہئے نہ کسی کو کرنے پرمجبور کیاجائے نہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔
ناظرین کرام !مقام عبرت ہے کہ کل بدعۃ ضلالۃ کے مطابق جن مصنف صاحب نے فاتحہ مروجہ کو قطعاً ناجائز فرمایاتھا ۔اب آپنے آخری فتویٰ میں وہی بزرگ کل بدعۃ ضلالۃ کے مطابق فاتحہ مروجہ کو اختلافی مسئلہ کہنے پر مجبور ہوگیے ہیں۔
ہمیں حیرت ہے کہ جب کل بدعۃ ضلالۃ کومٹانے اور اس سے یکلخت نفرت فرمانے کی بجائے مصنف اسے فروعی اختلاف اور اختلافی مسئلہ فرمارہے ہیں۔ آخربدعت شرعیہ سے اتنی ہمدردی کیوں؟۔
ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ مصنف فاضل سارے چکر کاٹ کر آخر اسی نقطہ پر کس طرح آ پہنچے کہ فاتحہ کامعمول بہا طریقہ بدعت حسنہ ، سنت حسنہ میں امت کا اختلاف ثابت ہے جیسا کہ خود مصنف نے اپنے رسالے کے ص ۶ پر تراویح باجماعت میں امرحضرت عمر بیان کیا ہے۔
آخر میں ہم جمیع مسلمانوں کے لیےجناب باری تعالیٰ میں التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور حسنات میں ترقی کرنے کی ہمیں توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

متفقہ فیصلہ وہابیہ کی تردید

متفقہ فیصلہ وہابیہ کی تردید

متفقہ فیصلہ وہابیہ کی تردید

 اعلیٰ حضرت سیدمقبول احمدشاہ قادری فاضل کشمیری؄  



سنی حضرات جومضمون ’’متفقہ فیصلہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اس میں مفتی پھلواری، مفتی ویلوری، مفتی حیدرآبادی کے سوا باقی سب متفقہ فیصلہ وہابیوں کا ہے۔اکثرگلابی وہابیہ کا اسمیں حصہ ہے ، بھوپالی وغیرہ تبرائی ہیں اور جمیعۃ لعلما ہند یا دہلی کر کے مشہور ہے یہ بھی انہیں کا مجمع ہے اس میں کوئی سنی عالم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی سنی مسلمان ان فتوں کو دیکھ کر دھوکے میں نہ آجائیں۔ خبردار رہیں۔ میں نے وہابیہ کا متفقہ فیصلہ کا خلاصہ ذیل میں لکھ دیا ۔غور سے پڑھیںاور میں دوفتوؤں کو جو استاد اور شاگرد کے ہیں۔ذراتشریح کے ساتھ لکھ دیا۔ وہ اس کوغور سےپڑھیں اور یاد رکھیںپھر ان وہابیوں کی ناک پکڑ کر خوب رگڑدیں۔ وہابی کی تردید کرنے کے لیے ایک معمولی سنی مسلمان کی گھنٹے بھر کی محنت کافی ہےچونکہ وہابیہ کو ایمان کے ساتھ سروکار نہیں ۔ان کو جھوٹ بولنے اور لکھنے میںکمال ہے ۔اسی لیے انہوں نے تین مہینہ کا عرصہ ان کی تردید کے لیے قرار دیا ہے۔
-وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَجو شخص حکم نہیں کرتا موافق اس حکم کے جواللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ایسے لوگ بالکل ہی کافر ہیں۔
وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۴۵)جو شخص حکم نہیں کرتا موافق اس حکم کے جواللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ایسے لوگ بالکل ہی ظالم ہیں۔
وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷)جو شخص حکم نہیں کرتا موافق اس حکم کے جواللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ۔ایسے لوگ بالکل ہی فاسق ہیں۔
میں پہلے لکھ چکا تھا کہ ان کا مورد خاص اور حکم عام ہے۔ وہابیہ کہتے ہیں یہ آیۂ کریمہ یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں مگروہابیہ کوکیا معلوم مورد خاص حکم عام کس بلا کانام ہے۔ مورد خاص یعنی ہروہ شخص کافر اورظالم اور فاسق ہے۔جو اللہ کے نازل کیے ہوئےحکم کے موافق حکم نہیں کرتا مسلمانوں کے نزدیک یہ حکم ہرمسلمان کے لیے قیامت تک جاری رہے گا۔
وہابیہ کے نزدیک یہ حکم صرف یہود کے لیے مخصوص ہے  ساراقرآن مجیدمخصوص مواقع مخصوص ضروریات اورمخصوص لوگوں کے لیے تھوڑا تھوڑا تینتیس سال تک نازل ہوتارہا ۔مگر حکم عام ہے۔سب لوگوں کو شامل تا قیام قیامت ان وہابیہ نے ثابت کردیا۔ یہ قرآن حکیم کا حکم انہیں ضروریات اور انہیں مخصوص لوگوں کے لیے منحصر ہے۔یہ اپنے زعم باطل سے اہل کتاب بھی نہ رہے۔جب قرآن حکیم ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوا جو چودہ سو برس سے پہلے تھے۔ ان وہابیہ کے نزدیک قرآن مجید کے احکام بھی انہیں لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔ان کو آزادی ملی، نہ ان کے لیے روزہ نہ نماز وغیرہ۔یہود ونصاریٰ اہلِ کتاب ہیں مگر یہ ان سے بھی گیے گزرے ہیں ان کے لیے نہ کوئی کتاب نہ احکام کتب جاری ہیں۔ ان کا پیر نیچر ان سےپہلے کہہ چکا اورلکھ چکا احکام قرآن انہیں لوگوں کے لیے مخصوص ہیں۔ جو لوگ نبی کریمﷺ کے زمانے میں موجودتھے ۔ خصوصاً صحابہ اللہ تعالیٰ نے بصیغۂ جمع حاضرین کو مخاطب کیا۔ وضو اورغسل انہیں لوگوں کے لیے مخصوص ہیں۔ کیونکہ وہ محنت و مشقت کےسبب سے پسینہ و دھول میں آلودہ رہتے تھے۔ان کے بعد والوں کے لیے نہ قرآن نازل ہوانہ قرآن مجید نے ان کو مخاطب کیا۔ وہابی اس کے چیلے ہیں۔انہوں نے بھی مذکورہ آیتیں صرف یہودہی کے لیے مخصوص کیے ہیں۔اگر یہ بھی قرآن مجید کے احکام کوبصحابہ مخصوص 
کریں تو کوئی تعجب نہیں۔
مسلمانو! یاد رکھو اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ قرآن کے احکام انہیں لوگوں کے لیے ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔یا یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ قرآن کے احکام صرف صحابہ کے لیے ہیں، ان کے بعد آنے والوں کے لیے نہیں یا یہ عقیدہ مذکورہ بالاآیتیں صرف یہود کے لیے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف دوسرا حکم دے وہ کافر ظالم فاسق نہیں ۔ یہ مذکورہ بالاسب کفریا ت ہیں۔ اس نے سارے قرآن کے احکام پر عمل کرنے سے انکار کیا۔اس نے اللہ رب العزت کے حکم کے خلاف یہ حکم دیا ایسا عقیدہ رکھنے والا اور حکم دینےوالا اسلام سے خارج ہے۔
مسلمانوں کو لازم ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہرگز تعلق نہ رکھیں اپنے ایمان کو بچائیں۔ میں نے مذکورہ بالاآیتیں ان مفتیوں کے زجروتوبیخ کے لیے پیش کی تھیں۔ جنہوں نے اللہ کے حکم کے خلاف اور غلط فتویٰ دیا۔ فاتحہ مروجہ ثابت کرنے کے لیے نہیں۔یہ وہابیہ سمجھ گے فاتحہ مروجہ کے ثبوت کے لیے ہے۔ جب ان کورمغزوں کو معمولی اردو عبارت سمجھنے کا مادہ نہیں تو عربی جملے کو کیا خاک سمجھیں گے۔
خرچہ میدا ند کہ زعفراں چیست
سنی حضرات اللہ پاک کے نازل کیے ہوے احکام بہت ہیں ۔ان میں سے بعض فرض، مباح ہیں اگرکوئی ان احکاموں میں سے اللہ پاک پرنازل کیے ہوے حکم کے موافق حکم نہیں کرتا۔بلکہ اس کے خلاف حکم دیتا ہے ،اس کے فرض ہونے سے اور مباح ہونے سے انکار کرتا ہے وہ کافر ظالم، فاسق ہے۔ یہودی اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم دینے اور اس کے انکار کرنے سے کافر ہوے جو بیشتر ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انکار اور توہین کرنے سے کافر ہوچکے تھے۔ پھر کافر بنانا اس کو خوب وہابی ہی سمجھیں گے۔ قرآن پڑھنا اللہ تعالٰی کا نازل کیا ہوا حکم ہے، اس کے پڑھنے کے خلاف حکم دینے والا اس کے پڑھنے کوناجائز کہنے والا وہابیہ کے نزدیک کافر نہیں۔یہ تقسیم وہابیہ کی ٹیڑھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ یہودیوں نے میرے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف حکم دیا وہ کافر ہوئے، اگرکوئی دوسرا میرے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف حکم دے وہ کافر نہیں۔
سنی حضرات اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے حکموں میں سے یہ مندرجہ ذیل اللہ تعالیٰ کانازل کیا ہوا حکم غور سے ملاحظہ کریں۔
۱)اس کتاب کو جو آپ کے طرف وحی کی گئی ہے پڑھا کیجیے۔ قرآن ترتیل کے ساتھ پڑھا کیجیے۔
۲) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’ پڑھو جو کچھ تم کو آسان ہو قرآن میں سے۔مورد ان کا خاص ہے، حکم عام ہے‘ اس کی تشریح اوپر ہوچکی ہے اس کو خوب یاد رکھو۔
حالتِ جنابت اور حیض و نفاس کے سوا ہر وقت اللہ تعالیٰ کے طرف سے قرآن پڑھنے کا ہم مسلمانوں کو حکم ملا یہ حکم فاتحہ مروجہ اور غیر مروجہ کو بھی شامل ہے۔ کیوں کہ فاتحہ مروجہ قرآن ہی تو ہے ۔
خواہ دن ہو یارات ، نماز سے پہلے ہو یا نماز کے اندر،بعد التزام کے ساتھ ہو یا غیر التزام کے اجتماع کے ساتھ ہو ، یا غیر اجتماع جنازے کی نماز کے پہلے ہو یا جنازے کی نماز کے بعد، میت کے دفن کرنے سے پہلے ہو یا دفن کرنے کے بعد چالیس قدم ہو یا چالیس قدم سے پہلے، ہاں بعض جگہوں میں قرآن پڑھنا فرض ہے، بعض جگہ واجب بعض جگہ میں سنت اور مستحب ہے۔
اللہ تعالیٰ کاحکم ہے مجھ سے دعامانگو میں سنتا ہوں ، قبول کرتا ہوں یہ حکم بھی عام ہے ۔خواہ نماز سے پہلے ہو یا نماز کے بعد اجتماع کے ساتھ یا انفراد کے ساتھ، التزام کے ساتھ ہو یا غیر التزام ، جنازے کی نماز سے پہلے ہو یا جنازے کی نماز کے بعد دفن کرنے سے پہلے یا دفن کرنے کے بعد ہو، ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم مسلمانوں کو حکم ملا قرآن پڑھو  جب ہم قرآن 
پڑھیں گے اور دعا کریں گے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تعمیل کرنے والے ٹھہریں گے ہم کو اجر عظیم اللہ کی طرف سے ملے گا۔افسوس ان مفتیوں کے اوپر! جو یہ کہتے ہیں کہ اس کا پڑھنا التزاماً اور اجتماعاًنبی کریم ﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے ثابت نہیں۔
میں کہتا ہوں اگر یہ اجتماع اور التزام کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے اور صحابہ سے اور تابعین سے ثابت ہوتاتو اس کا پڑھنا فرض ہوجاتا۔حالانکہ اس کےفرض کے قائل کوئی نہیں نہ واجب کے قائل نہ سنت مؤکدہ کے قائل ہیں۔ بلکہ اس کو ہم سنی سنت اور مستحب سمجھ کر ہمیشہ التزام اجتماع کے ساتھ پڑھتے ہیں۔فاتحہ مروجہ سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل درود شریف کو فرداً فرداً نبی کریم ﷺ بیان فرمائے ہیں ان کے پڑھنے والے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے سنت مستحب کے ثبوت کے لیے یہی کافی ہے۔
مفتی کفایت اللہ صاحب مدرسہ امینیہ دہلی النکات شاگرد ضیاء الحق دہلی مفرور محمد شفیع مفتی سابق دیوبند ، مہدی حسن مفتی دیوبند، سعید احمدمفتی سہارنپور، ڈابھیلی لکھنوی ،وانمباڑی پیرم پٹی، رائے چٹی ، بھوپال، لاہوری، یہ سب دیوبندیوں کے متعقد اور مقلد اور اذناب ہیں۔
مذکوربالا مفتیوں کے فتویٰ کا خلاصہ یہ ہے ۔ ان سبھوں نے لکھا فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنا نعوذ باللہ ان میں سے بعض نے بے اصل بے سند بعض نے مکروہ کہا بعض نے بدعت شنیع واجب الترک کہا ہے۔ ان کا یہ حکم اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے حکم کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص حکم نہیں کرتا۔ موافق اس حکم کے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ایسے لوگ بالکل ہی کافر ہی ہیں بالکل ظالم ہیں۔ بالکل ہی فاسق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے طرف سے یہ حکم کفرانِ مفتیوں کے اوپر جاری ہیں اگر کوئی شخص کسی چیز کو بے اصل ناجائز حرام بدعت شنیع کہے۔اس نے اس کے کرنے سے انکار کیا۔یہ کہنے کے بعد وہ اس کو ہرگز نہ کر سکے گا اگر وہ کہے کہ ہم اس فاتحہ پڑھنے سے انکار نہیں کرتے تو عقلمندوں کے نزدیک اس دعویٰ میں وہ جھوٹاہے۔
اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ مسلمات سے ہیں اگر کوئی ایسے نفل یا ایسے مباح کو جس کا ثبوت دلیل قطعی سے ہوانکار کرنے والا کافرہوجاتاہے۔ دیکھ لو حصول وغیرہ کو جناب مفتی صاحب سے گزارش یہ ہے اس وقت مفتی حقیقی نہیں ہیں بلکہ مجازی ہیں یعنی ناقل ہیں۔
لہٰذا آپ کو منقول منہ پیش کرنا  ضرور ہے یعنی وہ کتاب مفتا بہ جس سے آپ نے استفتا کا جواب نقل کیا ہو مادہ قرآن کی آیت یا وہ حدیث رسولﷺ پیش نہ کی۔آپ کے اوپر کفر کا حکم عائد ہوتا ہے کیوں کہ آپ نے نص قطعی کو انکار کیا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اس کتاب کو جو آپ کی طرف وحی کی گئی پڑھا کیجئے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے۔ قرآن ترتیل کے ساتھ پڑھا کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے پڑھو جو کچھ تم کو آسان ہو قرآن میں سے بحالت جنابت اور حیض ونفاس کے سوا باقی سب حالت میں قرآن پڑھنا جائز ہے۔ اس میں کسی مکان اور زماں کی تخصیص نہیں ہے یہ حکم ہر وقت کو شامل ہے۔خواہ نماز سے پہلے ہو یا نماز کے بعد ہرگز بعض جگہوں میں یانماز کے اندر قرآن پڑھنا فرض ہے۔ بعض جگہوں میں قرآن پڑھنا واجب ہے بعض جگہوں میں سنت اور بعض مستحب ہے۔
انفراداً ہو یا اجتماعاً آہستہ ہویابلند آواز سے فاتحہ غیرمروجہ کو بھی شامل ہے ۔جنازے کی نماز سے پہلے ہو یا جنازے کے بعد کو بھی شامل ہے۔ دفن کرنے کے بعد کو بھی شامل ہے، چالیس قدم کے پہلے ، چالیس قدم کے بعد بھی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔اللہ تعالیٰ خود اوراس کے فرشتے نبی کریمﷺ کے اوپر درود پڑھتے ہیں۔ اے مسلمانو! تم بھی ان پر درود پڑھو ۔
اس میں کسی زماں ومکاں کی تخصیص نہیں اگر آپ نے یہ حکم اپنے اجتہاد سے دیا ہوتو آپ مقلد محض ہیں ۔ آپ اجتہاد کا حق نہیں رکھتے پھر آپ نے اجتہاد کیا۔ اس اجتہاد میں آپ نے غلطی 
کی سید عالم ﷺ نے آپ کے لیے ٹھکانا جہنم قرار دیا ہے۔ مستدرک حاکم اور مسند ابن حبان کی حدیث وغیرہ کو دیکھ لو جس میں نبی کریمﷺ نے فرمایا جب غیرمجتہد اس اجتہاد سے حکم دے پھر اس اجتہاد میں غلطی کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ آپ نے بڑی غلطی کی نص قطعی کے خلاف کے حکم دیاگیا۔
کیا نبی کریم ﷺ نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل نہیں پڑھا کیا صحابہ نے سورۂ قل نہیں پڑھا اس نہ پڑھنے پر آپ کے پاس کیا ثبوت ہے۔ کیا آپ کے نزدیک عدم ذکر اور عدم نقل کو عدم وجود مستلزم ہے۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہوتے ہوئے ۔زید ۔ عمر کا قول فعل دریافت کرنا۔ کمالِ بے وقوفی ہے اور نشانی گلابی وہابی کی ہے ۔ سنی حضرات مذکور حکم اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے۔ اوپر معلوم ہوچکا اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف حکم دینے پر اللہ تعالیٰ نے اس حکم دینے والے کوکافر، ظالمِ فاسق کہا ہے۔ آپ کے فتوی سے یہ ثابت ہوتا ہے ۔ جس چیز کاوجود عہدِ رسالت میں ہووہی جائز ہے۔ جس کا وجود عہدِ رسالت میں نہ ہووہ چیز ناجائز بدعت ہے۔ خواہ عبادت سے ہو یا معاملات سے ۔ لہٰذا دارالافتا مدرسہ امینیہ اسلامیہ دہلی بہت کذابیہ عہدرسالت میں موجود نہ تھا
نہ اس نام کی کوئی جگہ تھی لہٰذا مدرسہ امنیہ بہئیت کذبیہ بدعت کاگھر ہے۔ یہ نام رکھنے والے سب بدعتی ہیں۔اس نام کے پکارنے والے سب کے سب بدعتی ہیں۔ اس میں کام کرنے والے بدعتی ہیں۔ یہ دارالافتا نہ رہا بلکہ دارالبدعت بدعت کا گھر بنا ۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک یہ مسلمات سے ہیں ۔ جو کوئی کسی ایسے نفل کو یا کسی ایسے مباح کو جس کا ثبوت دلیل قطعی سے ہوانکار کرے انکار کرنے والا کافر ہوجاتا ہے، دیکھوحصول وغیرہ۔
نبی کریمﷺ کاارشاد ہے تم میں سے بہتر وہ ہے ۔ جو قرآن پڑھتا اور دوسروں کو پڑھتا ہے۔ نبی کریمﷺ کاارشاد ہے۔سورہ فاتحہ تین بار پڑھنے سے ایک پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ شریف کو مقلب بقلب سبع مثانی فرمایا ہے، یہ ایسے اعلیٰ برتر سات آئتیں ہیں کہ بار بار پڑھی جاتی ہیں، باربار پڑھنا اس سورہ شریف کا اللہ تعالیٰ نے صفت ٹھہرایا باربار پڑھنا نماز سے پہلے ہو یا نماز کے اندر یا نماز کے بعد ہو۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا سورۂ قل ثلث قرآن ہے یعنی تیسرا حصہ قرآن کا ہے۔ تین مرتبہ پڑھنے سے پورے قرآن کا ثواب ملتا ہے ۔ طبرانی اور طبقات ابن سعد میں ہے۔ تبوک میں جبرئیل امین رسولﷺ پر نازل ہوےاور خبر دیا ۔ معاویۃ ابن معاویۃ المزنی جن کو لیثی بھی کہتے ہیں۔ انتقال کر گیے آپ دوست رکھتے ہیں کہ آپ اس پر نماز پڑھے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہاں۔ جبرئیل امیں نے ان کی لاش مبارک کونبی کریمﷺ کے سامنے حاضر کیا پھر آپ نے ان کے اوپر نماز پڑھی اور ان کے ہمراہ فرشتوں کی صفیں تھی ہر ایک صف میں ستر ستر ہزار فرشتے تھے ۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریمﷺ نے جبرئیل امیں سےپوچھا معاویہ کو اس قدر بڑا درجہ کیوں ملا۔ حضرت جبرئیل نے عرض کی یارسول اللہﷺ یہ سورۂ قل کو بہت دوست رکھتا تھا۔ جاتے وقت آتے وقت کھڑے ہوتے وقت اٹھتے وقت ، بیٹھتے وقت یعنی ہر وقت اس سورۂ شریف کو تلاوت کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا بڑا مرتبہ دیا۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنازے کی نماز میں میت حاضرہونے کے سوا جائز نہیں ۔میت کا حاضر ہونا یاامام کومیت نظرآنا شرط ہے اگر یہ دونوں چیزیں نہ ہوں یا دونوں میں سے ایک نہ ہو نماز جنازہ جائز نہیں بعض جہلا حنفی وہابیوں کے ساتھ مل کر کبھی جنازے کی نماز میت کے غائب ہونے پرپڑھتے ہیں۔ یہ ہرگز جائز نہیں اگر بلا میت یہ نماز جائز ہوجاتی تو حضرت جبرئیل امین کو میت حاضر کرنے کی ضرورت کیا تھی، اس سے ثابت ہوا یہ نماز میت حاضر ہونے کے سوا جائز نہیں۔
نجاشی کا واقعہ اس پر قیاس کروان کی لاش نبی کریم ﷺ کے سامنے حاضر کی گئی تھی یا نبی کریمﷺ اس کی لاش دیکھ رہے 
تھے، امام کادیکھنا مقتدیوں کی نماز کے جواز کے لیے کافی ہے یہاں پرزیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں۔
سبحان اللہ کیا خوش نصیب ہیں وہ مسلمان مرد ومسلمان عورت جو فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل کو ہروقت ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے ہیں۔ مذکوربالاحدیث پر نظر کرنے سے  معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے والوں کو سب سے سے بہتر قرار دیا کیوں کہ فاتحہ مروجہ قرآن ہی تو ہے۔افسوس ہے ان وہابیوں پر جو فاتحہ مروجہ کو بدعت کہتے ہیں۔ فاتحہ مروجہ قرآن یعنی سورۂ فاتحہ اور سورہ قل پڑھنے والے ایسے مقدس جماعت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قسم کھاتا ہے قسم ہے مجھے ان لوگوں کی جو قرآن پڑھتے ہیں۔
قرآن مجید کا نام ذکر بھی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے قرآن پڑھنے والے کو ہر حرف کے بدلے میں دس نیکی دس سے ساٹھ تک ساٹھ سے زائد بھی آیا ہے ۔کیا فاسق بدعتی وہ مسلمان ہیں جو فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے کو بدعت شنیع کہتے ہیں، اس کو واجب الترک کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نےاور ان کے رسولﷺ نے حکم کہیں نہیںدیا کہ فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل ہروقت پڑھنا یا سب نمازوں کے بعد پڑھنا یا بعض نمازوں کے بعد پڑھنا بدعت شنیع واجب الترک ہیں۔ نہ کسی مجتہد نے یہ حکم دیانہ کسی مفتابہ کتاب میں یہ حکم موجود ہے۔ ان مفتیوں نے اللہ اور اس کےرسول ﷺ کےخلاف یہ حکم دیا ہے اور انہوں نے نصوص قطعی کے خلاف خانہ ساز فتویٰ دیا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک قاعدہ کلیہ ہے۔ اگر خبرواحد کتاب اللہ کے مقابلہ میں آجائے تو اگر دونوں کے اوپر عمل کرنا ممکن ہوتو دونوں پرعمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ممکن نہ ہوتو اس خبر واحد کو چھوڑ دیتے ہیں۔کتاب اللہ پر عمل کرتے ہیں ۔جب یہ حال خبرواحد کا ہے بغرض محال اگر قول صحابہ قول ائمہ اسلام جس کی کوئی سند نہ ہو کتاب اللہ کے مقابل میں آجائے وہ کب قابلِ عمل ٹھہرے گا۔
ان سب کے اوپر حکم کفرعائدہوتا ہے۔خواہ تبرائی ہو یا گلابی  ان کا فتویٰ ہرگز اہل سنت والجماعت کے نزدیک قابل عمل نہیں۔ان سے دریافت کرو یہ مسئلہ جزئیہ کس مفتابہ کتاب میں موجود ہےیعنی فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل پڑھنا بدعت شنیع واجب الترک ہے۔ ہم سنت جماعت کے مسلمان ان دونوں سورتوں کے پڑھنے کو سنت، مستحب جان کر التزاماً اجتماعاً بہ نیت ثواب پڑھتے ہیں۔ مسلمانو! جو کوئی نیک کام کرو التزاماً ہمیشہ کرو ہمیشہ نیک کام کرنا سنت ہے۔
نبی کریمﷺ کی عادت مبارک بھی یہی تھی جب کوئی نیک  کام کرتے تھے ہمیشہ کرتے تھے۔ دیکھو حدیث مسلم کو۔۔
وہابیہ کا یہ کہنا کہ جب کوئی کام نیک التزاماً ہمیشہ کیا جائے۔ لوگ اس کو فرض جاننے لگیں گے اس لیے واجب الترک ہے صد حیف صدافسوس ہے ان وہابیوں پر جن کو اللہ تعالیٰ نے مسلوب العقل بنا دیا ہم التزاماً رات دن میں بارہ رکعتیں سنت موکدہ پڑھتے ہیں۔ ابتدائے اسلام سے اب تک سب مسلمان التزاماً ان کو پڑھتے آئے اب بھی التزاماً پڑھ رہے ہیں۔ کوئی مسلمان نادان بے علم ان بارہ رکعتوں کو فرض نہیں جانتا۔ جب نبی کریم ﷺ کے ان سنتوں کو فرض نہیں جانتا تو آپ کے یا میرے کسی فعل مستحسن کو کوئی بیوقوف جاہل کیوں فرض سمجھے گا، یہ صرف وہابیوں کو طاعون کی بیماری لگ گئ ہے ۔ یہ ہمیشہ اس میں مبتلا رہیں گے اسی مرض سے اس دنیا فانی سے جائیں گے۔،
جناب مفتی صاحب!ً گزارش یہ ہے آپ ناقل ہیں حقیقی مفتی نہیں۔ لہٰذا آپ نے استفتا کا جواب جو نقل کیا اس مفتا بہ کتاب کا نام فوراً پیش کریں۔
کفایت اللہ صاحب! فاتحہ مروجہ کا یہ طریقہ جو آپ نے سوال میں ذکرکیا ہے ثابت نہیں۔ میں کہتا ہوں مذکورہ طریقہ کا نہ کر ناکہیں ثابت نہیں۔ عدم ثبوت سے اس کا ناجائز ہونا لازم نہیں آتا ۔ناجائز ہونے کے لیے دلیل پیش کیجیے۔
کفایت اللہ صاحب!سورۂ فاتحہ ایک بار سورۂ اخلاص تین 
باراور پھر بلند آوازسے درود شریف پڑھنے اوراس طرح دعا ختم کرنے کاااور اس کو لازم کرلینے کاثبوت حضورﷺ سےہے نہ صحابہ کرام اورنہ ائمہ اسلام سے میں کہتاہوں مذکورہ طریقہ کے لازم نہ کرنے کاثبوت حضور ﷺ سے نہ صحابہ کرام سے نہ ائمہ اسلام سے ثابت نہیں عدمِ ثابت اسلام میں کوئی دلیل نہیں کیوں عدم ثبوت خوونیست ونابود ہے۔ معدوم محض کسی چیز کے وجود کے لیے نفی کاسبب نہیں بن سکتا۔ علاوہ اس کے آپ کے پاس عدم ثبوت پرثبوت شرعی کیاہے۔ مفتی صاحب عدم ثبوت سے طریقہ مذکورکا ناجائز ہونالازم نہیں آتا۔ اس کے ناجائز ہونے کے لیے دلیل شرعی پیش کیجیے۔
کفایت اللہ صاحب! نماز جمعہ میں سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد کوئی اجتماعی دعا کاکرنا جائز ہے یا ناجائز ۔اس کے ناجائز ہونے کے لیے دلیل شرعی پیش کیجیے۔
کفایت اللہ صاحب! نما ز جنازہ خود دعا ہے۔ میں کہتا ہوں نہ غلط ہے ۔ نمازجنازہ من کل وجوہ ۔۔۔نہیں من وجہ دعا ہے۔ من وجہ نماز ہے اور یہ ۔۔۔دعا ہوتی ہے تو بے وضو بھی جائز ہوجاتی ۔۔۔۔ بے وضو جائز نہیں دعا کے لیے وضو شرط نہیں۔ اس نماز جنازہ کے لیے وضو شرط ہے۔
کفایت اللہ صاحب! اس کے بعد اجتماعی دعا ثابت نہیں ، میں کہتا ہوں اس کے بعد کوئی اجتماعی دعا نہ کرنا ثابت نہیں!۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تم دعا کرو میں سنتا اور قبول کرتا ہوں۔ یہ حکم عام ہے ۔ ہر ایک وقت کو شامل ہے خواہ حالت اجتماعی ہویا حالت انفرادی ۔ جنازے کی نماز سے پہلے ہو جنازے کی نماز کے بعد ۔
مفتی صاحب! اجتماعی دعا ثابت نہ ہونے سے اس اجتماعی دعا کاکرنا ناجائز ہونا لازم نہیں آتا۔ ناجائز ہونے کے لیے دلیل پیش کیجیے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جب فارغ ہوجاؤ یعنی قرب فرائض سے ٹھہر جاؤ اللہ کی طرف راغب ہو جاؤ بذریعہ قرب نوافل کے یعنی تسبیح، تہلیل، تکبیر، دعا، تلاقت، قرآن وغیرہ سے۔ 
اللہ کی طرف متوجہ ہوجاؤ ۔
اس آیۂ کریمہ سے فقہا ومفسرین نے نماز کے بعد دعا کرنے کااستدلال کیا ہے، نماز جنازہ قرب فرائض میں داخل ہے۔اس کے بعد دعا کرنا قرب نوافل سے ہے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی عبادت اور نماز کے بعد دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے ، وہ عبادت ہی کیا ہوئی جس سے اللہ ناراض ہوجائے۔ کفار اپنے زعم باطل سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں مگر اللہ ان سے ناراض ہے ۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ جنازے کی نماز عبادت ہے اس کے بعد بھی دعا کرنا اللہ کی رضامندی طلب کرنے کےلیے ضروری ہے۔ جولوگ جنازے کی نماز کے بعد دعا نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہے ۔ جس سے اللہ ناراض ہوجائے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
وہابی خواہ تبرائی ہو یا گلابی یہ دونوں نماز جنازے کے بعد دعا نہیں کرتے بلکہ حکم دیتے ہیں جنازے کی نماز کے بعد دعاکرنا ناجائز  اور حرام ، بدعت ہے۔ یہ حکم ان کے اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہے۔ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ مگر یہ ہمیشہ جہنم نہیں رہیں گے اگر ان میں ایمان ہے اگر ایمان نہیں ہے تو یہ بھی ہمیشہ کافروں کی طرح جہنم میں رہیں گے ، اگر کوئی کہے یہ نماز بھی پڑھتے ہیں روزہ بھی رکھتے پھر جہنم میں کیوں جائیں گے ، نماز و روزہ تب کام آجائے جب ایمان ہے ، جب ایمان نہیں تو نماز وروزہ کچھ کام نہیں آتا۔
نبی کریمﷺ کے زمانے میں منافق نماز پڑھتے تھے۔ جہادوں میں بھی جاتے تھے۔ یہاں تک انہوں نے ایک مسجد بھی بنوائی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے واسطے جہنم کے طبقوں میں سے نچلا طبقہ مقرر کیا ہے کیوں کہ ان کے پاس ایمان نہیں تھا۔
کفایت اللہ صاحب! نے لکھا میت کی تدفین کے بعد اس کی مغفرت کے لیے ہرشخص دعاکرے اجتماعی دعا کا ثبوت نہیں ہے ، مولوی کفایت اللہ صاحب نے وہابیوں کی ناک کاٹ دی ، 
فرداً فرداً دعا کرنے کا حکم دیا وہابی اس کو بدعت کہتے ہیں، میں کہتاہوں کہ تدفین کے بعد کوئی اجتماعی دعا نہ کرنا ثابت نہیں۔ میں پوچھ رہا ہوں کہ فرداً فرداً دعا کرنا کسی دلیل سے ثابت ہے؟ اور اجتماعی دعا کرنا جائز ہے یاناجائز؟ ناجائز کے لیے دلیل پیش کریں۔
ہر نیک کام کو لازم کرنا ہمیشہ مسنون ہے۔ نبی کریمﷺ جب کوئی نیک کام کرتے تھے ہمیشہ کرتے تھے جوکوئی اس کو نہ کرے اور اس کو جائز کہے اس پر طعن وتشنیع ضرور کرے، واغلظ علیہم کا مصداق ہے کیوں اس نےجائز کو اپنے طرف سے ناجائز کہا ہے۔ یہ وہابی خواہ تبرائی ہو گلابی۔ الفاتحہ کی آواز سنتے ہی ایسے بھاگ جاتے ہیں جیسے شیطان اذان کی آواز سن کر انگلی کانوں میں رکھ کر گوزمارتا ہوا بھاگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مذمت کرتے ہوئے جو قرآن پڑھنے سے قرآن کے اوپر عمل کرنے سے بھاگ جاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کیا ہوگیا ان کو قرآن سے بھاگتے ہیں جیسے وحشی گدھے شکاری سے یا شیر سے بھاگتے ہیں ، وحشی گدھے شکار ی کو یاشیر کو دیکھ کر بھاگتے ہیں جیسا وحشی گدھا شیر یاشکاری دیکھ کر بھاگتا ہے۔اسلام کے اندر سب احکام آٹھ ہیں ۔اس میں تمام احکام آگئے خواہ عبادت ہو یا معاملات یا عادات فرض، واجب ، سنت موکدہ، مستحب ، مباح ، حرام مکرو ہ تحریمی مکروہ تنزیہی ،بدعت اور شبہ بدعت انہیں میں داخل ہے کوئی نواں قسم علیحدہ نہیں حرام بہ مقابلہ فرض کوآتا ہے۔ ۱) مکروہ تحریمی بمقابلہ واجب کو آتا ہے ۔مکروہ تنزیہی بمقابلہ سنت اور مستحب کو آتا ہے ۔ فرض کے واسطےدلیل موجود ہونا ضروری ہے۔ واجب کے واسطے دلیل ہونا ضروری ہے، سنت موکدہ کے واسطے دلیل موجود ہونا ضروری ہے اور مباح کے واسطے دلیل کی ضرورت نہیںکیون کہ اصل شئے میں اباحت جواز ہے۔
اللہ پاک کا ارشاد ہےاللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے تمہارے فائدے کے لیے ہر وہ چیز جو زمین کے اندر ہے پیدا کیا۔جمیعاً کے ساتھ اس کو تاکید کیا ۔جس چیز کو قرآن مجید نے منع کیا وہ منع جس چیز کو حدیث رسولﷺ نے منع کیا منع ہے۔ جس چیز کے منع ثابت نہیں وہ سب مباح اور جائز ہے مگر وہابیوں کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ ہرگز بدعت سے بچ سکتے نہیں۔ علمائے محققین ماتریدین واشاعرہ سب کا اتفاق اس پر ہے ، ۱) اشیا خباثت، ۲) اشیا مضر،۳) دم، ۴) فروج باقی سب چیزوں کے اندر اباحت جواز ہے۔ یہ سب کتب اصول وفروع میں موجود ہیں آپ کے اور دیوبندیوں اور سہارنپور یوں کے مفتیوں کے تحریر سے ثابت ہوا۔ مباح کوئی چیز نہیں آپ اور ان مفتیوں کے فتویٰ سے شریعت کا بہت بڑا حصہ باطل اور فاسد ہونا لازم آتا ہے۔ چند مثالوں کےساتھ میں اس کو واضح کروں گا ۔ ناظرین باقی چیزوں کو انہیں پرقیاس کریں مثلاً لفظ مفتی اور مولوی کسی نام کے ساتھ ہم سنیوں کے نزدیک لکھنا جائز اور مباح ہے  اور ان مفتیوں سے کوئی پوچھے ان کا لکھنا جائز ہے یا ناجائز َ؟ آپ جواب یہ دیں گے اس کا لکھنا حضور ﷺ کے زمانے سے اور صحابہ کے زمانے سے اور ائمہ اسلام کے زمانے سے ثابت نہیں لہٰذا یہ بدعت شنیع واجب الترک ہے۔ آپ اس کو بدعت بھی کہیں اور آپ اپنے نام کے ساتھ لکھتے بھی رہیں۔ ہم سنیوں کے نزدیک یہ جائز ہے ۔ اگرکوئی آدمی دن کے دس بجے قرآن شریف کی تلاوت چند آدمیوں کے ساتھ التزاماً ہمیشہ کرتے رہیں اور قرآن تلاوت کے بعد چند غربا کوکھانا کھلاتے رہیں اور ان کو چند پیسے بھی تقسیم کرتے رہیں اگر آپ سے کوئی سوال کرے یہ جائز ہے یا ناجائز؟ آپ اور مفتی مذکور بالا یہ جواب دیں گے اس کا کرنا نبی کریمﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ ثابت نہیں۔ لہٰذا بدعت شنیع واجب الترک ہے۔
نبی کریمﷺ نے سنت حسنہ کے موجد کے لیے دو اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا۔ آپ کے اور مفتی مذکور کے فتویٰ سے ثابت ہوا یہ حرام ہے۔ ہم سنیوں کے نزدیک ہر ایک میوہ کھانا مباح اور جائز ہے۔
اگرآپ سے کوئی دریافت کرے اخروٹ اور آم کھانا جائز ہےیا ناجائز ؟ آپ اور مفتی مذکور یہ جواب دیں گے ۔ اس کا کھانا نبی کریمﷺ سے اور صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ ثابت نہیں۔لہٰذا حرام واجب الترک ہے آپ اس کو حرام بھی کہیں اور کھاتے بھی رہیں۔ ہم سنیوں کے نزدیک ہر غذا حلال کھانا جائز ہے۔ اگر آپ سے کوئی بنگلوری سوال کرے یہاں ایک غلہ جس کو غیر مسلم راگی کہتے ہیں مسلمان بھی راگی بولتے ہیں اس کا کھانا جائز ہے یا ناجائز؟ آپ اور مفتی مذکور یہ جواب دیں گے نبی کریم ﷺسے، صحابہ، ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ اس کا کھانا ثابت نہیں۔ لہٰذا حرام واجب الترک ہے آپ لوگوں نے مسلمانوں کے اوپر راستہ بہت تنگ کردیا مسلمانوں کو حرج میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میں نے تمہارے دین میں ہرج اور تنگی پیدا نہیں کیااب بتلاؤ مباح تمہارے نزدیک کیا چیز ہے۔ حضور نبی کریمﷺ سے اجتماعی دعا کرناجنازے کی نماز پڑھنے کے بعد ثابت ہے ۔ مغازی واقدی میں ہے ۔ غزوہ موتہ میں جب مسلمانوں کورومیوں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ نبی کریمﷺ مدینہ طیبہ میں منبر شریف پررونق افروز ہوئے نبی کریم ﷺ پر مدینہ سے لے کر سارا ملک شام موتہ جنگ کے جگہ سینکڑوں میل کا فاصلہ منکشف ہوا۔ جیسے ہم کسی چیز کو سامنے دیکھ رہے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے منبر سے خبر دی لیا جھنڈا ہاتھ میں زید بن حارث نے ۔ دشمن کے مقابلے میں نکلا یہاں تک کہ شہیدا ہوا پھر نبی کریمﷺ نے اس پر نماز پڑھی اور دعا کا حکم دیا صحابیوں کو ان کے واسطے دعاکرو۔پھر ارشاد ہوا لیا جھنڈا ہاتھ میں جعفر بن ابی طالب نے دشمنوں کے مقابلے میں نکلا یہاں تک کہ شہیدہوگیے پھر آپﷺ نے اس پر نماز پڑھی اوردعا کی صحابہ کو حکم دیا دعا کرو۔ آپﷺ نے یہ حکم صیغۂ جمع کے ساتھ دیا ہے۔
حضورﷺ نے خود بھی دعا کی آپ ﷺ کے ہمراہ سب صحابہ نے دعا کی یہی اجتماعی دعا ہے۔اصل موجوب کے لیے آتا ہے ۔ اگر قرینہ صاف ہو سنت مستحب مباح کے لیے بھی آتا ہے ۔ افسوس ہے وہابیہ کے اوپر جو یہ کہتے ہیں اجتماعی دعا نماز جنازے کے بعد ثابت نہیں حالاں کہ یہاں پر ابھی وہ شہدا دفن نہیں ہوئے تھے ۔ شہادت ہوتے ہی حضورﷺ نے ان پر نماز پڑھی اور اجتماعی دعا کا حکم دیا کسی مفتابہ کتاب میں نہیں ہے ، جنازے کی نماز پڑھنے کے بعد میت کے لیے دعا کرنا حرام بدعت ہے۔ یہ صرف وہابیوں کی بکواس ہے۔جب نبی کریمﷺ سے قولاً و فعلاً جنازے کی نماز کے بعد دعا کرنا ثابت ہوچکا اب اگر کسی زید عمر کا قول اس کے مقابلے میں آجاے ہرگزقابل اعتبار نہ ہوگا۔
قبر اگر بغلی ہے تو اس کو اینٹوں کے ساتھ بند کرنا اجماع صحابہ کے ساتھ ثابت ہے۔ نبی کریمﷺ کی لحد شریف کو صحابہ نے کچے اینٹوں کو دہن پر کھڑے کیے تھے اس طور سے کہ مٹی اندرنہ جاے اگربغلی ممکن نہ ہو توشق بنانا جائز ہے۔ اس کو بند کرنا کچے اینٹوں کے ساتھ یا بڑے بڑے سلوں کے ساتھ تختہ دینا ضرورتاً جائز ہے۔ اس طور پر کہ مٹی میت کے اوپر نہ گرجائے۔جہاں تبرائی وہابی میت کے اوپر ہی مٹی ڈالتے ہیں میت کے اوپر مٹی ڈالنا میت کے لیے توہین وتحقیر، تذلیل ہے، اس میں ہندوؤں کے ساتھ مشابہت ہوجاتی ہے کیوں کہ وہ بھی میت کے اوپر مٹی ڈالتے ہیں۔اور اس کو اینٹوں سے یا پتھروں سے یا تختوں سے بند نہیں کرتے۔ یہ اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں۔ صحابہ کاکچے اینٹوں سے نبی کریمﷺ کی قبر شریف کابند کرنا ثابت ہے۔ یہ اجماع قطعی ہے جو چیز اجماع قطعی سے ثابت ہوجائے اس کو بدعت اور اس کو انکار کرنے سے مسلمان کافرہوجاتاہے ۔دیکھو کتب اصول کو اس کو بدعت کہنا خلاف اجماع صحابہ کا ہے۔قبر کے اوپر اونٹ کی پیٹھ کی طرح بنانا مستحب ہے، اسی طرح نبی کریمﷺ کے قبر شریف کواسی طرح جمہور صحابہ نے بنایا تھا۔ادھر کے جہاں تبرائی وہابی اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں یہ بھی اجماع قطعی کے خلاف کفر ہے۔ قبر 
کے اوپر پانی چھڑکناامام محمد کے نزدیک کوئی حرج نہیں یعنی جائز ہے۔ جس کو ادھر کے لوگ مہرکرنا کہتے ہیں مہرکرنا بھی جائز ہے۔بیقہی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر میت دفن کرنے کے بعد سورہ بقر کاابتدا کوسورۂ بقر کے اخیر کوقبر پر پڑھنا مستحب جانتے تھے ۔ بیہقی شریف میں ہے اور ابوداؤد شریف میں ہے کہ نبی کریمﷺ جب میت کے دفن کرنے سے فارغ ہوتے تھے قبر پرٹھہرجاتے تھے اور صحابہ کو حکم دیتے تھے اپنے بھائی کے لیے اللہ سے دعا مانگو ۔اللہ تعالیٰ ان کو ثابت قدم رکھے اب ان کو سوال ہوتے ہیں وہابی خواہ بترائی ہو یا گلابی اس کو بدعت شنیع واجب الترک کہتے ہیں ۔ دیکھو یہ اجتماعی دعا مانگتے تھے میت کے دفن کرنے کے بعد میت کے لیے دعا کرنا حضوررسول کریمﷺ کے قول و فعل سے ثابت ہے۔ 
مگریہ وہابی خواہ گلابی ہو یا تبرائی بعد دفن کے دعا نہیں کرتے بلکہ اس کو بدعت شنیع کہتے ہیں ہاں کسی فعل مستحسن کواجتماع التزام کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے کرنے سے فرض ہونے کااحتمال تھا۔
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے جب رمضان شریف کے اخیر عشرہ میں جب پہلی رات مسجد میں تشریف لائے لوگ بھی آپ کے ساتھ جمع ہوگیے پھر جب دوسری رات تشریف لائے لوگ زیادہ جمع ہو گیے پھر تیسری رات میں لوگوں کا بہت بڑا مجمع جمع ہوا۔ مسجد کے اندر انتظار میں رہے اور کھنکارتے رہے مگر نبی کریمﷺ تشریف نہ لائے ۔صبح کو جب لوگ نماز کے لئے جمع ہوئے تو نبی کریمﷺ نے عذربیان فرمایا۔
ارشاد ہوا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ آپ لوگ مسجد میں رات نماز کے لیے جمع ہوگیے تھے مگر میں عمداًمسجد میں حاضر نہ ہواْ ۔اس احتمال سے شاید یہ نماز یعنی تراویح تمہارے اوپر فرض نہ ہوجائے کیوں کہ زمانہ نبوت اور وحی کا تھا اب یہ احتمال جاتا رہا۔
 اب نہ زمانہ نبوت اور وحی کاہے نہ صحابہ کا نہ تابعین کا نہ تبع تابعین کا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا مسلمانوں کے اوپر فرض کرنا وہ فرض کر چکا اب کوئی چیز ہمارے اوپر فرض نہیں ہو سکتی ۔ اگر تمام وہابی خواہ تبرائی ہو یا گلابی ہندی ہو یا سندھی کوہی ہو یا جنگلی کسی چیز کے اوپر التزاماً اجتماع کے ساتھ ہمیشہ کرتے رہیں وہ چیز ان کے اوپر فرض نہ ہوجائے۔
جناب مفتی صاحب ! شاید آپ کے نزدیک عدم ذکر عدم نقل کوعدم وجود لازم ہوگا۔ اس لیے آپ نے ثبوت سے استدلال کیا مگر سب دنیا کے عاقلوںکے نزدیک عدم ذکر عدم نقل کو عدم وجود ہرگز لازم نہیںاور آپ نے عدم علت سے عدم حکم پر استدلال کیا حنفیہ کے نزدیک یہ باطل ہے۔ جب حکم کے لیے متعدد علتیں ہوں قرون ثلاثہ میں کسی فعل مستحسن کاثبوت نہ ملنے پر کسی فعل مستحسن کاناجائز ہونا ہرگز لازم نہیں آتا اول تو قرون ثلاثہ کو جائز اور ناجائز کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں نہ قرون ثلاثہ کسی حکم شرعی کے علت تامہ ہے۔نہ کسی حکم شرعی کے علت  ناقصہ ہے فرض اور واجب اور سنت موکدہ کے سوا نبی کریمﷺ نے جتنے افعال مستحسن اپنی عمر شریف میں کیے ہیں وہ سب کے سب بتمامہ کیا لکھے گیے۔؟ وہ سب کے سب نقل کیے گئے ہیں ؟۔آپ کے پاس اس کا ثبوت ہے۔؟ صحابہ نے جتنے افعال مستحسن کیے ہیں۔ ائمہ اسلام نے کیے۔اس کاثبوت آپ کے پاس کیاہے؟۔ جب اس کے لیے کوئی ثبوت شرعی نہیں پھر یہ کہنا اس فعل مستحسن کا ثبوت نبی کریمﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے ثابت نہیں محض نادانی اور بیوقوفی ہے۔ خواہ یہ امور مستحسن ۔۔۔ترقی کے لیے ہوں یا دنیوی۔ خیر قرون کے بہتر ہونے میں نوراً اعلیٰ نوراً ہونے میں کسی سنی مسلمان کو انکار نہیں اگر صحابہ سے کسی امرحادث پر اجتماع ہو یابعض صحابہ کا امرحادثہ پر ہوبعض کاسکوت رد سے ہو یا کسی امر حادث پر تابعین کا اجماعی ہو یا تابعین کاکسی قول صحابہ پر اجماع ہو یہ سب دلائل شرعی اور دلائل وجود ہی واجب العمل ہیں۔ عدم ثبوت کوئی دلیل ہی نہیں مگراس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جوکچھ اس خیر قرون میں موجود تھا جولوگوں نے اس میں کیا تھا۔ وہ سب قابل سند واجب التقلید ہے۔ورنہ آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ 
بدعات قدریہ بدعات جبریہ بدعات معتزلہ بدعات رافضیہ بدعات خارجیہ سب خیرقرون میں موجود تھے؟ یہ سب قابل سند واجب التقلید ہے؟ حالانکہ آپ اس کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے ضرور انکار کریں گے پھر خیرالقرون کو چار اصولوں کی طرح پانچواں اصل گردانا صریحاً لغو اور بیہودہ ہےلہٰذا آپ پر واجب لازم ہے کوئی ایسی دلیل شرعی پیش کریں جس سے یہ ثابت ہوجائے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنا التزاماً اجتماعاً نعوذباللہ بدعت شنیع واجب الترک ہے مگر یہ کسی شرعی دلیل سے آپ ہرگزنہ ثابت کرسکیں گے اگر آپ کے نزدیک جائز اورناجائز کادارومدار خیرقرون ہی پر یعنی جس چیز کا وجود ان قرون میں ہو وہ جائز ہے جس کا وجود ان قرون میں نہ ہو وہ ناجائز خواہ از قسم عبادات ہویا معاملات سے دینی ترقی کے لیے ہے یا دنیاوی میں آپ سے دریافت کرتا ہوںآپ آپ کے اساتذہ اور آپ کے پیرومرشد اور سب دیوبندی اورسہارنپوری اور ان کے اذناب یہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ نعوذ باللہ خدا جھوٹ بول سکتا ہے خدا کا جھوٹ بولنا جائز ہے خدا کاجھوٹ بولنا ممکن ہے۔ کیا اس عقیدے والے لوگ قرون ثلاثہ میں تھے ۔کیا نبی کریم ﷺ العیاذ باللہ اس عقیدے کے قائل تھے؟۔ کیا صحابہ ائمہ اسلام اس کے قائل تھے۔ ظاہر ہے ان پیشواے دین میں سے اس عقیدۂ کفریہ کے کوئی قائل نہ تھے۔ پھر آپ اور سب دیوبندی ، سہارنپوری اس کے قائل کیوں ہوئے قائل ہی نہیں بلکہ اس کے ثبوت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔دیوبندیوں نے اور سہارنپوریوں نے اس کے متعلق متعدد رسالے شائع کرائے ہیں اور تبرائی وہابی امرتسری نے چند سال پیشتر اپنے اخبار میں متعدد مرتبہ اس کی اشاعت کرائی ہے۔
افسوس اس کفریات کے عقیدے آپ اور دیوبندیوں کے نزدیک رکھنااور اس کی اشاعت اور تبلیغ کرنا جائز ہے۔ اور فاتحہ مروجہ قرآن سورہ قل پڑھنا ناجائز اور واجب الترک ہے۔ فاالیٰ اللہ المشتکیٰ۔
سنی حضرات !!جو کوئی صفات مذمومہ میں سے کوئی صفت نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرے اس نے االلہ تعالیٰ کی توہین و تحقیر تذلیل کی وہ اسلام سے خارج ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں سے فتویٰ طلب کرنا ہرگز جائز نہیں ان مفتیوں کے اوپر اور ان کے عقیدے کی پیروی کرنے والوں پر بہت سے کفر کے فتوے موجود ہیں۔۱) مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے علما نے ان پر کفر کے فتویٰ دیئے ہیں جس کو جی چاہے ’حسام الحرمین‘ کو دیکھ لے ۔
ان مفتیوں نے اپنے فتوؤں میں گھریلو حکم جاری کیاہے۔ یہ فتویٰ بالکل بے اصل وبے سند ہے، ہرگز قابل عمل کے نہیں۔ (پتہ مولوی محمدابراہیم صاحب کتب فروش اہلِ سنت والجماعت محلہ سودا گران بریلی)۔
امام طحاوی نے حاشیہ درالمختار میں فرمایا جنت میںجانے والی جماعت آج کے دن ان چارمذہبوں میں مجتمع ہوگئی ہیں۔ وہ حنفی مالکی شافعی حنبلی ہیں جوکوئی ان چارمذہبوں سے اس وقت خارج ہے وہ بدعتی جہنمی ہے ۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے بدعتی کی نہ نماز قبول ہے نہ روزہ وغیرہ۔ حدیث دارقطنی میںآیا ہے بدعتی دوزخ کے کتے ہیں کیا دوزخی کتے کے پیچھے نماز جائز ہے۔ ہرگز نہیں۔ لہٰذا ان سنیوں کو لازم ہے کہ وہابی کوامام ہرگز نہ بنائیں  خواہ وہابی عقلی ہو یا اعتقادی، اعتقادی وہابی عملی وہابی سے بدتر ہیں۔ بدعتی فاسق کے پیچھے نماز مکرو تحریمی ہے فاسق اعتقادی بدترہیں ، فاسق عملی سے جتنی نمازیں اس وہابی کے پیچھے پڑھی گئی ہوں ان سب کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے اور اگر اس امام وہابی نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ  سورۂ قل پڑھنے سے انکار کیا العیاذ باللہ یا اس کو ناجائزکہا توجماعت کثیرہ کے سامنے توبہ اور اس کو دوبارہ کلمہ پڑھنا اس کو اگرنکاح ہو دوبارہ پڑھنا فرض ہے انکار کے بعد جتنے نمازیں اس کے پیچھے پڑھی گئی ہوں۔ ان کا دوبارہ پڑھنا فرض ہے کیوں کہ اس نے ایسی نفل اور مبا ح 
کوانکار کیا۔ جس کا ثبوت دلیل قطعی سے ہو، انکار کرے وہ کافر ہوجاتا ہے ۔ پہلی صورت میں اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی تھی۔ انکار کی صورت میں ان نمازوں کو دوبارہ پڑھنا فرض ہے۔امام تمرتاشی ذبح کے بارے میں کس کاذبح جائز اور کس کا ذبح ناجائز ۔ تنویر الابصار میں فرماتے ہیں۔ ولا جبری ابوہ سنی ، نہیں ذبح جائز جبری مذہب والے کا جس کا باپ سنی ہو۔ یعنی باپ ان چارمذہبوں میں سےکسی کا متبع اور مقلد تھا بیٹا یہ مذہب چھوڑ کر جبری ہوا۔اس کا ذبح جائز نہیں یہی حکم وہابیہ کا ہے جس کا باپ ان چار مذہبوں میں سے کسی مذہب کامتبع اور مقلد تھا ، بیٹا وہابی ہوا ۔ اس کا ذبح بھی جائز نہیں بلکہ ہربدعتی فرقے کا یہی حکم ہے۔ جن کا باپ ان چار مذہبوں میں سے کسی مذہب کا متبع اور مقلد تھا ۔ بیٹا یہ مذہب چھوڑااسی بدعتی فرقے میں مل گیا کیوں کہ اس وقت ان کی بدعت کفر تک پہنچ گئی۔ یہ اپنی زبان سے کافر بنتے رہتے ہیں مگر ہم ان کو کافر نہیں کہتے خصوصاً فرقہ تبرائی وہابیہ کا ان کا عقیدہ ہے کہ تقلید ائمہ اربعہ کی کفر اور شرک ہے۔ تقلید کرنے والا کافر اور مشرک ہے العیاذ باللہ تمام مسلمان اس طائفہ کے نزدیک کافراور مشرک ہے ۔کیوں کہ تمام دنیا کے مسلمان ائمہ اربعہ کے مقلد ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہی مقلدین ائمہ اربعہ مومن کامل اور مسلمان کامل ہیں ۔ان کو کافر کہنے والاخود کافرہوجاتاہے۔
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے اگرکوئی مسلمان کسی مسلمان کو کافر کہے اگر کفر اس میں ہے توخیر ، اگر اس میں کفر نہیں ہے تو یہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے یعنی کہنے والا کافر ہوجاتا ہے نبی کریمﷺ نے کفر اس تبرائی وہابیہ کی طرف لوٹا دیا ۔جو تقلید کو کفر شرک کہتا ہے اور اس کو نبی کریم ﷺ نےکافرفرمایا۔
امام محمد بن علاؤالدین حصکفی نے تنویرالابصار کے شرح درالمختار میں جبری کا ذبح ناجائز ہونے کی یوں وجہ بیان فرمائی۔
 یہ جبری سنت جماعت چارمذہبوں کے چھوڑنے سے جبری مذہب اختیار کرنے سے مرتد کی طرح ہوا۔ مرتد کا ذبح جائز نہیں گواہلِ کتاب یہودکا ذبح جائز ہے، کیوں کہ وہ مرتد نہیں یہ حکم وہابیہ کابھی ہے۔ جس کاباپ ان چارمذہبوں میں سے کسی مذہب کامقلد تھا سنت جماعت  (چارمذہب) چھوڑنے سے مرتد کی طرح ہوا۔ مرتد کا ذبح جائز نہیں۔ہاں اگر اس وہابی کا بیٹا ذبح کرے بشرطیکہ وہ تقلید ائمہ اربعہ کو کفر و شرک نہ کہتا ہو اور کسی ضروریات دین کاانکار نہ کرتا ہو وہ جائز ہے کیوں کہ وہ مرتد نہیں ہے ۔اپنے باپ کے مذہب پرہے۔ اہلِ کتاب کی طرح وہابی کے بیٹے کا بھی ذبح جائز ہے بشرطیکہ تقلید ائمہ اربعہ کو کفروشرک نہ کہتاہو اور مقلدین کو کافرمشرک نہ کہتا ہو اور کسی ضروریات دین کا انکار نہ کرتا ہو اگر اس کایہ عقیدہ ہے کہ تقلید کرنا ئمہ اربعہ کی کفر وشرک ہے اور تقلید کرنے والے العیاذ باللہ کافرمشرک ہے تو اس کا ذبح جائز نہیں مذکور بالاحدیث میں اس کو کافر قرار دیا ہے ۔ کافر کا ذبح جائز نہیں مذکورہ بالا جو کچھ لکھا گیا پڑھو سمجھو اور یاد رکھو تمہارے لیے بہتر ہوگا ورنہ یہ سب اندھے اور بہرے کے سامنے رونا اور بھینس کے سامنے بین بجانا ہے ۔ جب اس مضمون میں جنازے کی نماز کے متعلق کچھ باتیں ہوئیں لہٰذا میں تبرائی وہابی حضرات سے مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب کی فوراًطلب کررہا ہوں۔ ان سوالوں کے جوابوں کی اشد ضرورت ہے۔نماز جنازہ میں آپ لوگ تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں کو باندھتے ہو اگرباندھتے ہوتو کہاں پر نبی کریم ﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو اگر ہاتھوں کو چھوڑتے ہوتو یہ نبی کریم کے قول وفعل سے ثابت کرو دوسرے تکبیر میں رفع الیدین کرتے ہو یا نہ کرتے ہوتو نبی کریمﷺ کے قول و فعل سے ثابت کرو ۔ اگر نہیں کرتے ہو نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے نہ کرنا ثابت کرو اس پر قیاس کرکے تیسرے اور چوتھے تکبیر میں یہ سب جو کچھ کرتے ہو نبی کریم ﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو۔
نماز عیدین میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھوں کو باندھتے ہو یا 
چھوڑتے ہو اگر باندھتے ہوتو کہاں پر باندھتے ہو نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو تکبیرات زوائد میں جب رفع الیدین کرتے ہو پھر ہاتھوں کو باندھتے ہویاچھوڑتے ہو اگر باندھتے ہوتو کہاں پر باندھتے ہو نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو اگر چھوڑتے ہوتو بھی نبی کریمﷺ کے قول وفعل سے ثابت کرو، مذکورہ بالا دونوں نمازوں میں تم یہ سب ضرور کرتے ہو۔ اگر نبی کریم ﷺ کاقول وفعل پیش نہیں کیا۔ توتمہارے نزدیک یہ سب ناجائز حرام بدعت شنیع واجب الترک ہےان چیزوں کو کرنے والا بدعتی ہے بدعتی کی نم نماز مقبول ہے نہ روزہ نہ حج نہ فرض نہ نفل۔ لہٰذا گزارش ہے نبی کریمﷺ کا قول یافعل ضرور پیش کرکے اپنے تبرائی حضرات کوممنون ومشکور فرمائے گا۔ گلابی اورر تبرائی حضرات دونوں مل کر جواب فوراً دیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے کا حکم دیا اور نبی کریمﷺ  نے قرآن پڑھنے کا حکم دیا۔ سورۂ فاتحہ سورۂ قل عین قرآن ہے۔ کوئی مسلمان اس کا انکارنہیں کرسکتا۔اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حکم کی تعمیل کرنا فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل پڑھنا تمہارے نزدیک رسم ورواج ٹھہرا۔ تمہارے نزدیک عبادت کیا چیز ہے؟۔رسم کی تعریف جامع اور مانع کیجیے اور عبادت کی تعریف جامع اور مانع کیجیے۔ گلابی گلابیوں پر اور تبرائی تبرائیوں پراحسان کر کے ان کو شکریہ ادا کرنے کا موقع دیجیے۔
تنبیہ :۔ دلائل شرعی کے ساتھ فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ اور سورۂ قل کو العیاذ باللہ ناجائز ثابت کرنے پر ہرگز قادر نہ ہوگا۔ خواہ گلابی ہو یا تبرائی ، غدودی ہو یا مردودی، بہائی ہو یا مودودی ، نیچری ہو چکڑالوی،خاکساری ہو بروزی۔
ان کی زبانی بکواس کوگوزِ شتر سمجھ کر ردی کے ٹوکرے میںدفن کر دو ۔ وہابیہ کہتے ہیں اس وقت کے مفتیوں کو مفتیٔ مجازی اور ناقل کہنا ان کی توہین ، تحقیروتذلیل ہے۔ اس جہالت کا کیا علاج ان بے بصروں کو معلوم نہیں کہ مفتی حقیقی کس کو کہتے ہیں اور مفتیِ مجازی کس کو کہتے ہیں۔ نہ یہ لوگ ان لفظوں کوکبھی سنا ہے ۔ان بےخبروں کو لازم تھا کہ کسی جاننے والے سے اس کی تحقیق کریں پھر اپنی جہالت کو جاہلوں میں ظاہر کریں ان کی جہالت ان پر ماتم کرتی ہے اور اس پر ہنسی اور مذاق اڑاتی ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیںجوکسی چیز کو سمجھنے جاننے کے بغیر اس کے خرافات بکتے ہیں۔
صدہا سال گزر گیے مفتی حقیقی دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اس کے لیے شرط ہے ۔ شرط نہ ہونے سے مشروط بھی نہیں ہوتا۔ اس وقت مفتیوں کو مجازی ناقل کہنا اظہارِ حق ہے۔ گالی اور توہین تحقیر نہیں ہے مگر یہ نادان حق کو ناحق ، حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھ گیے ،ایسے لوگ خرد کو جنون، جنون کو خرد سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ انہوں نے ناقل کو ناقابل سمجھے اگر کسی نااہل کاتب صاحب نے ایسا لکھ بھی دیا ہو سمجھ دار آدمی یہی کہے گا یہ کاتب صاحب کی غلطی ہے کیو ں کہ لفطا مجازاور لفط مفتی اور طلب کتاب قرینہ موجود ہے۔ ناقابل کو مفتی کون کہے گااورناقابل سے طلب کتاب کون کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا یہ لوگ بے مغزپوست ہیں ۔ بلکہ پوست برپوست ہم چوں ۔۔۔ہیں گلابی کہتے ہیں کہ ہم وہابی نہیں۔ کیا وہابی کو سینگ ہوتے ہیں یا دم ۔ جس سے پہچانا جائے۔ سینگ اور دم کسی میں نہیں یہ صرف اعتقاد سے معلوم ہوتے ہیں ۔ سنیوں کے خلاف تبرائی اور گلابی ہردو نے بہت سارے رسالے لکھے ہیں۔ ان کو دیکھ کر آپ کو یقین آ جائے گا۔ دور مت جایئے مولوی کفایت اللہ کے رسالوں کو دیکھ لیجئے گا۔ آپ کو معلوم ہو جائے کہ کہیں تیتر بنے کہیں بیٹر گلابی۔ وہابی مقلدیت اور حنفیت کے پردے میں وہابیت کی اشاعت کرتے ہیں ۔ یہ گندم نما جوفروش ہیں۔ عوام ان کی چال چلن پر جلدی واقف نہیں ہوتے۔ گلابی قرآن و حدیث سے استدلال کرتے ہیں ۔ آپ نے یہ بڑاغضب کیا ۔ آپ کو یہ معلوم نہیں ہے۔
ہرایک باطل فرقے نے اپنے زعم باطل سے قرآن 
حدیث سے استدلال کرنے کی کوشش کی مثلا مرزا قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اپنے زعم باطل سے قرآن وحدیث سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی جاہلوں کی ایک جماعت اس کے تابع ہوگئی۔ تبرائی وہابیوں نے تقلید ائمہ اربعہ کو کفر وشرک کہا ہے ۔ انہوں نے بھی اپنے زعم باطل سے قرآن حدیث سےا س دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ جاہلوں کی ایک جماعت ان کے تابع ہوگئی۔ تبرائی اور گلابی دونوں نے فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے کواورجنازے کے بعد کی دعا کرنے کو ناجائز ، حرام، بدعت شنیع کہا۔ انہوں نے بھی اپنے زعم باطل سے قرآن حدیث سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جاہلوں کی ایک جماعت ان کے تابع ہو گئی گلابی اور تبرائی دونوں نے فاتحہ مروجہ، سورۂ فاتحہ، سورۂ قل پڑھنے کو اور جنازے کے بعد کی دعا کرنے کو ناجائز حرام بدعت شنیع کہا ۔ انہوں نے بھی اپنے زعم باطل کوقرآن حدیث سے اس دعویٰ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ جاہلوں کی ایک جماعت ان کے تابع ہوگی۔
سنی علما نے الحمداللہ ان کے دعوؤں کو ان کے دلیلوں کے پرخچے اڑادیئے ہیں۔ ہبا منثوراً کردیا سنی علما نے۔ بکثرت ان کی تردید میں رسالے لکھے ہیں۔ ہر سنی مسلمان کو لازم ہے کہ ان رسالوں کو منگائےاورپڑھے اورسمجھے اپنے ایمان کو مضبوط بنائے۔ وہابیہ اپنے اصول کے اعتبار سے جس میں کسی قسم سے تخصیص نہیں۔ہمیشہ بدعت ہی کے اندر رہیں گے اپنے آپ کو بدعتی ہی کہلائیں گے۔ خواہ دنیاکے ترقی کے گدھے کے اوپر سوار ہو یادنیا کے ذلت کے کیچڑ میں مبتلا ہو۔اس سے ان کو ہرگز نجات نہ ہوگی ۔ بعض ۔۔۔جہلا جو استنجا کرنے سے واقف نہیں مروجہ قرآن سوۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنے سے انکار کرتے ہیں العیاذ باللہ ان کے پڑھنے کوناجائز کہتے ہیں ۔ یہ سب کفر ہے ۔ اللہ اور رسولﷺ کے حکم کے خلاف ہے۔ نبی کریمﷺ نے فاتحہ بہتر فرمایا۔کیوں کہ فاتحہ مروجہ قرآن ہی تو ہے ’’خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ‘‘ ان بے علم جہلا کو اس کفر سے بچانے کی غرض سے اور حصولِ ثواب کے لیے عبدالرحیم صاحب تاجر ابریشم مقیم ماب ہلی نے اس رسالہ کو طبع کراکر شائع کیا۔ امید ہے یہ بے علم جاہل اس کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد اپنے عقیدہ فاسد کفریہ سے تائب ہو کر یہ کہ سنی مسلمان بن جائیں گے جب مذکورہ بالامفتیوں کے پاس فاتحہ کے ناجائز ہونے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ۔ انہوں نے خانہ سازی فتویٰ جاری کرکے جاہلوں کو گمراہ کیاجاہلوں اور بے علموں کے پاس کیا ثبوت ہوگا۔ اگر یہ ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہیں یہ بھی تبرائی وہابیوں کی طرح مسلمانوں کے درمیان تفریق اور فساد ڈالنے کے سبب مسلمانوں کے نزدیک ہمیشہ ذلیل وخوار رہیں گے۔ہمارے اوپرلازم تھا یہ احکام ان کے پاس پہنچانا وہ ہم پہنچادیئے۔آئندہ ان کو اختیار ہے۔
مالک مطبع اور کاتب صاحب کی غفلت سے اس میں بہت سی عبارتیں چھوٹ گئی بعض جگہ میں غلط عبارت لکھی گئی بلکہ بعض جگہوں میں مستقل مضمون چھوٹ گیا۔ لہٰذا ہم نے اخیر صفحہ پر لکھ دیا ۔قارئین اس کو بھی پڑھیں ہم سنیوں کے نزدیک دعا کرنا ہر وقت مباح اور جائز ہے نمازوں کے بعد دعا کرنا سنت اور مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دعا کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے دعا کرنے کے لیے حکم دیا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کے بہت سے فضائل بیان فرمائے ہیں، نبی کریمﷺ نے دعا کو اصلی عبادت قرار دیاہے۔
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے جوکوئی عبادت اور نماز کے بعد دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے ۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ حی و کریم ہے۔ شرم رکھتا ہے اس بندہ سے جو اس کی طرف ہاتھ اٹھاکر آجائے تواس کے ہاتھوں کو خالی کرے ۔آداب دعا یہ ہے دعا کے اندر ہاتھ اٹھانا جتنی ضرورت زیادہ رہی اتنے زیادہ دراز کرنا یہاں تک کہ اگر بیچ میں پردہ نہ ہوتو بغلوں کی سفیدی نظرآ جائے۔ورنہ ہاتھوں کو اونچا کرنا اور سینہ کے مقابلے میں رکھنا ۔ہم سنیوں کے نزدیک دعا کرنا اجتماعاً اور انفراداً دونوں طریقے سے جائز ہے ۔ جماعت کے ساتھ دعا کرنا بہتر ہے سبب یہ کہ بعض لوگ جو نیک اور صالح ہوتے ہیں ان کی 
دعا مقبول ہوتی ہے۔ ان کے وسیلے سے دوسروں کی دعا بھی قبول ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے کہ حضور نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کے لیے اعلان فرمائے اس وقت حضورﷺ نے اپنے اہل وعیال کو ساتھ نکالے ۔حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین رضوان اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ نے ۔ان کو فرمایامیں دعا کروں تو تم سب آمین ، آمین کہنا۔ امام جب قوم کے ساتھ دعا مانگے امام کو لازم ہے۔ ضمیر ماضی جمع متکلم کی صیغے کا استعمال کرے اورقوم کو لازم ہےکہ آمین آمین کرتے رہیں ۔ دعا کے وقت میں اپنے مظالم، مصیبت کو ذکر نہ کریں اللہ تعالیٰ سے اپنے دینی دنیوی ترقی و بہتری کے لیے درخواست کریں۔ یہ کتب سنیہ میں موجود ہے، زیادہ لکھنے کی یہاں حاجت نہیں ، وہابیہ کے نزدیک فاتحہ مروجہ قرآن سورۂ فاتحہ سورۂ قل پڑھنا ناجائز ہے۔
نبی کریمﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام اور اجتماع کے ساتھ اس کا پڑھنا ثابت نہیں، وہابیہ کے نزدیک امام کا دعا مانگنا مقتدیوں کا آمین کہنا نبی کریم ﷺ سے صحابہ سے ائمہ اسلام سے التزام کے ساتھ ثابت نہیں۔
سوال: کیا نبی کریمﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تھے مقتدیوں کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ دعا مانگتے تھے۔ مقتدی آمین آمین کہتے تھے، اس کو ثابت کرو ور نہ تمہارے نزدیک امام کا دعا مانگنا اور مقتدیوں کا آمین آمین کرنا ناجائز حرام بدعت شنیع واجب الترک ہے۔ ہرہر جگہ وہابی خواہ تبرائی ہو یا گلابی امام کے ساتھ نماز کے بعد دعا کرتے ہیں۔ خصوصاً نماز عصر اور صبح کے بعد امام دعا مانگتے ہیں یہ لوگ آمین آمین کرتے ہیں۔ اپنے اصول کے اعتبار سے اس کو حرام بدعت شنیع بھی کہتے ہیں۔ اور یہ وہابی اس کوالتزم اجتماع کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ گلابی اور تبرائی یہ سب مل کر اپنے عقل پر ماتم کریں جس کو یہ حرام کہتے ہیں اسی کو یہ کرتے بھی ہیں۔
مندرجہ بالا مضمون رسالہ کی صورت میں ۱۳۶۳؁ھ میں شائع ہوا تھا اور جناب کفایت اللہ صاحب کی خدمت میں پہنچا مگر ان سے جواب نہ بن سکا۔
موت کے بعد کی زندگی

موت کے بعد کی زندگی

موت کے بعد کی زندگی


    کیا انسان موت کے بعد ایک دم عالم قیامت میں  داخل ہو گا اور معاملہ ختم ہو جائے گا یا موت اور قیامت کے مابین ایک خاص عالم کو طے کرے گا اور جب قیامت کبریٰ برپا ہو گی، تو عالم قیامت میں  داخل ہو گا؟
    اس کا علم صرف خدا کو ہے کہ قیامت کبریٰ کب برپا ہو گی؟ انبیاء اور رسل نے بھی اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
    قرآن کریم کے نصوص، حضرت رسول اعظم اور آئمہ اطہار علیہم السلام سے منقول متواتر اور ناقابل انکار احادیث و روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی موت کے فوراً بعد قیامت کبریٰ میں  داخل نہیں  ہو گا، کیونکہ قیامت کبریٰ تمام ذہنی، زمینی اور آسمانی موجودات جیسے پہاڑ، دریا، چاند، سورج، ستارے اور کہکشاں  میں  ایک کلی انقلاب اور مکمل تبدیلی کے ہمراہ ہو گی، یعنی قیامت کبریٰ کے موقع پر کوئی چیز بھی اپنی موجودہ حالت پر برقرار نہیں  رہے گی۔ علاوہ ازیں  قیامت کبریٰ میں  اولین و آخرین سب جمع ہوں  گے، جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں، ابھی نظام عالم برقرار ہے اور شاید لاکھوں  بلکہ کروڑوں  سال قائم رہے اور اربوں  انسان ایک دوسرے کے بعد اس دنیا میں  آئیں۔ اسی طرح قرآن کریم کی رو سے (جیسے بعض آیات سے معلوم ہوا، جن کا ذکر بعد میں  ہو گا) کوئی بھی شخص ایسا نہیں، جس کی عمر قیامت کبریٰ اور موت کے درمیانی فاصلے میں  سکوت اور بے حسی میں  گذر جائے۔ یعنی ایسا نہیں  کہ مرنے کے بعد انسان نیم بے ہوشی کی حالت میں  ہو، کسی چیز کو محسوس کرے اور نہ لذت ہو نہ الم نہ اسے سرور حاصل ہو سکے، نہ ہی غم و اندوہ بلکہ مرنے کے بعد انسان فوراً حیات کے ایسے مرحلہ میں  داخل ہوتا ہے کہ کچھ چیزوں  سے اسے لذت حاصل ہوتی ہے اور کچھ سے تکلیف، البتہ اس لذت و الم کا ربط اس کے دنیوی افکار، اعمال اور اخلاق سے ہے۔ قیامت کبریٰ تک یہ مرحلہ جاری رہتا ہے، لیکن جب آن واحد میں  ایک کلی انقلاب اور تبدیلی تمام عالم کو اپنی لپیٹ میں  لے لے گی اور دور ترین ستاروں  سے لے کر ہماری زمین تک ہر چیز اس انقلاب اور تبدیلی کی زد میں  ہو گی، تب یہ مرحلہ یا یہ عالم جو سب کے لئے دنیا و قیامت کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتا تھا، اختتام پذیر ہو گا، لہٰذا قرآن کریم کی نظر میں  موت کے بعد کے عالم میں  دو مرحلے ہوں  گے۔ دوسرے لفظوں  میں  مرنے کے بعد انسان دو مراحل طے کرے گا۔
    ایک عالم برزخ جو عالم دنیا کی طرح ختم ہو جائے گا اور دوسرا عالم قیامت کبریٰ جو کبھی بھی ختم نہیں  ہو گا۔

خاطرمدارات اور واعظ نافع کی صفات

خاطرمدارات اور واعظ نافع کی صفات


خاطرمدارات اور واعظ نافع کی صفات


پسرعزیز!  لوگوں کی بہترین خاطر و مدارات کرنا،مگر ان سے دور رہنے کی پوری پوری کوشش کرنا،کیوں کہ عزلت نشینی برے دوستوں کی صحبت کے مقابلے میں راحت رساں ہوتی ہے اور اس سے تمہارا وقار لوگوں کی نگاہوں میں بحال رہتا ہے۔
ایک واعظ کے لیے بطورِ خاص یہ ضروری ہے کہ وہ فضول گو نہ ہو،لوگوں کے سامنے نازیبا حرکت نہ کرے، بازاروں کے چکر نہ لگائے،اور زیادہ نہ ہنسا کرے۔ تاکہ اس کے ساتھ حسن ظن قائم رہے اور لوگ اس کی بابت اچھا گمان رکھیں،  اس طرح اس کا وعظ و بیان اُن کے قلب و باطن کی گہرائی میں اُترسکے گا۔
ہاں اگر کسی خاص ضرورت کے پیش نظر لوگوں میں جانا پڑ جائے تو حلم کو اپنا امام بناؤ اور بردباری کے ساتھ ان سے پیش آؤ،کیوں کہ اگر تمہیں ان کا اخلاق و کردار معلوم ہو جائے تو تم ان کی خاطرخواہ آؤ بھگت نہ کرسکوگے۔
حقوق کی اَدائیگی اور معاملات کی رعایت
عزیز از جان!  بیوی و بچے اور اہل قرابت میں جس کے جو حقوق بنتے ہوں ان کی اَدائیگی میں کسی تساہلی سے کام نہ لینا۔اور اپنے لمحات اور گھڑیوں کامحاسبہ کرتے رہنا کہ وہ کس کام میں صرف ہو رہی ہیں۔بھرپور کوشش کرنا کہ وہ اچھے اور قابل تعریف کاموں میں گزریں۔ اپنے نفس کو آزاد نہ چھوڑ دو،بلکہ اسے کارِ خیر اور نیکیوں پراُکساتے رہو،اور اپنی قبر کی کوٹھری میں آسودہ حال رہنے کے لیے جوبن پڑے آگے بھیج دو،تاکہ وہاں پہنچ کر آرام وسکون پاؤ۔بزبانِ شاعر  :
                        يا من بدنياه  انشَغَل
                        يا من غَرَّه طُول الامَل
                                                                                                المَوتُ يَاتي بَغتَةً
                                                                                                وَالقبرُ صُندوقُ العمَل
            یعنی اے وہ شخص! جو دنیا میں پورے طور پر مشغول و منہمک ہے اور لمبی لمبی اُمیدوں نے دھوکے کے جال میں پھنسارکھاہے۔
یاد رہے کہ موت ہمیشہ اچانک آتی ہے، اور قبر عمل کا صندوق ہے،(لہٰذا دیکھ لو کہ اپنے صندوق میں کیا کچھ بھیج رہے ہو)۔
ہمیشہ معاملات کے انجام کو دیکھو، ایسی صورت میں پسند وناپسند چیز پر صبر کرنا تمہیں آسان ہو گا۔جب نفس غفلت کیشی شروع کر دے اور نیکیوں میں دلچسپی لینا چھوڑ دے تو گورِ گریباں کی سیرکوچلے جایا کرو، اور اسے اپنے سانحہ موت کی یاد دہانی کراتے رہو۔
اصل مدبر حقیقی تو پروردگار ہے تاہم جب کوئی معاملہ درپیش ہو تو تدبیر کر کیا کرو کہ کہیں تمہارے اِنفاق میں اِسراف کی آمیزش تو نہیں ہے، تاکہ لوگوں کا محتاج نہ بننا پڑے،کیوں کہ ہمارا دین‘ مال کی حفاظت کاسبق بھی دیتا ہے۔ اپنے وارثوں کو محتاج بنانے سے بہتر ہے کہ اپنے بعد ان کے لیے کچھ چھوڑ جاؤ۔


(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
حفظ و صدق کی اہمیت

حفظ و صدق کی اہمیت


حفظ و صدق کی اہمیت


راحت دل و جاں ! تجھے پتا ہو گا کہ میں نے کوئی سوکتابیں تصنیف کی ہیں،  ان میں سے کچھ تو بہت ضخیم ہیں جیسے بیس جلدوں پر مشتمل ’’تفسیرکبیر‘‘۔بیس جلدوں میں ’’تاریخ‘‘ یوں ہی بیس جلدوں میں پھیلی ’’تہذیب المسند‘‘ اور کچھ کتابیں پانچ جلدوں کی ہیں،  کچھ چار کی،  کچھ تین کی اور کچھ دو کی یوں ہی کم و بیش۔
تمہارے باپ کا یہ ورثۂ  تصنیف تمہیں از خود کتابیں لکھنے یا کتابیں خریدنے اور  دوسروں سے عاریۃً لینے سے بے نیاز کر دے گا،لہٰذا اِن کتابوں کی حفاظت کے ساتھ انھیں اپنے قلب و باطن میں جگہ دو،کیوں کہ جو بچ جاتا ہے وہی اصل مال ہوتا ہے، اور خرچ کرنے سے نفع ہوتا ہے۔اور اللہ کے کرم پر اعتماد کر کے ان دونوں حالتوں میں صدق کا دامن ہاتھ میں تھامے رہنااوراس کے حدود و حقوق کا خیال رکھنا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :
إنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ(سورۂ  محمد: ۴۷؍۷)
اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا۔
فَاذْکُرُونِي أذْکُرْکُمْ (سورۂ  بقرہ:۲؍ ۱۵۲)
سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔
وَ أوفُوا بِعَہْدِيْ أُوفِ بِعَہْدِکُمْ (سورۂ  بقرہ: ۲؍۱۴۰)
اور تم میرے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کرو میں تمہارے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کروں گا۔



(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
علم و عمل کا باہمی رشتہ

علم و عمل کا باہمی رشتہ


علم و عمل کا باہمی رشتہ


بیٹے!  اپنے حوصلہ و ہمت کو بال و پر دے کر فضل و کمال کی فضاؤں میں مائل پرواز ہو جا۔دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جو زہد کے دروازے سے آگے نہیں بڑھنا چاہتے،اور کچھ لوگ تو( عمل سے بے پروا ہو کر)محض علم کے پیچھے پڑ گئے،مگر اس سے آگے کچھ عالی بخت وہ ہیں جنھوں نے علم کامل کے ساتھ عمل صالح کو بھی پروان چڑھایا۔
تیری معلومات کے لیے بتائے دیتا ہوں کہ مجھے تابعین اور اُن کے بعد کے لوگوں کی سیرت وسوانح پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے،لیکن چارنفوسِ قدسیہ سے بڑھ کر فضل و کمال کا حامل میں نے کسی کو نہ دیکھا : سعید بن مسیب (م۹۴ھ)، سفیان ثوری(م۲۶۱ھ)، حسن بصری(م۱۱۰ھ) اور احمد بن حنبل(م۲۴۱ھ)-علیہم الرحمۃ والرضوان- اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے عزم و اِرادے فولاد کی مانند تھے اور وہ صحیح معنوں میں مردِ میداں تھے،مگر وہ حوصلے اور ہمتیں اب ہم میں جواب دے گئیں۔
اسلافِ کرام میں ایسے بہت ہوئے ہیں جو عزم و ایقان کے دھنی تھے۔اگر تمہیں ان کے احوال و کوائف کی سچی جستجو ہو تو میری کتاب ’’صفۃ الصفوۃ‘‘ میں تلاش کر کو،ورنہ میں نے ’’اخبارِ سعید‘‘،اخبارِ سفیان‘‘ اور ’’اخبارِ احمد بن حنبل‘‘ کے نام سے الگ الگ کتابیں بھی مرتب کی ہیں وہاں سے شہدِ معلومات کشید کر کو۔




(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular