Showing posts with label Zakat Zakawat. Show all posts
Showing posts with label Zakat Zakawat. Show all posts
اُونٹوں کی زکوٰۃمیں مادہ اونٹنی کی جگہ نَر اونٹ دینا کیسا؟

اُونٹوں کی زکوٰۃمیں مادہ اونٹنی کی جگہ نَر اونٹ دینا کیسا؟

 اُونٹوں کی زکوٰۃمیں مادہ اونٹنی کی جگہ نَر اونٹ بھی دیا جاسکتا ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے وہ قیمت میں مادہ سے کم نہ ہو۔  (الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ،باب نصاب الابل،ج۳،ص۲۴۰)

اونٹوں کی زکوٰۃمیں مذکورہ جانوروں کی جگہ ان کی قیمت دینا

     اونٹوں کی زکوٰۃمیں مذکورہ جانوروں کی جگہ ان کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے ۔

گائے کی زکوٰۃ

گائے اور بھینس کی زکوٰۃکی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے :
    ٭ کم ازکم 30 گایوں یا بھینسوں پر نصاب پورا ہوتا ہے ،تیس سے کم میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
    ٭30 سے 39 تک کی زکوٰۃ میں سال بھر کا بچھڑا ،یا بچھیادیں گے ۔
    ٭40 سے 59 تک کی زکوٰۃ میں دوسالہ بچھڑا، یا بچھیادیں گے ۔
    ٭60 میں سال بھر کے 2 بچھڑے یا بچھیادیں گے ۔
    ٭ 70 میں سال بھر کا 1 اور ایک 2سالہ بچھڑا یا بچھیادیں گے ۔
    ٭ 80 میں 2سالہ دو بچھڑے یا بچھیادیں گے ۔

 (الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ ،باب زکوٰۃ البقر،ج۳،ص۳۴۱ )

مزید آسانی کے لئے جدول ملاحظہ کیجئے :

زکوٰۃ اور صدقہ فطر میں فرق

زکوٰۃ اور صدقہ فطر میں فرق


    زکوٰۃ میں سال کا گزرنا، عاقل بالغ اور نصاب ِ نامی (یعنی اس میں بڑھنے کی صلاحیّت )ہونا شرط ہے جبکہ صدقہ فطر میں یہ شرائط نہیں ہیں۔چنانچہ اگر گھر میں زائد سامان ہو تو مالِ نامی نہ ہونے کے باوجود اگر اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہے تو اس کے مالک پر صدقہ فطر واجب ہوجائے گا۔زکوٰۃ اور صدقہ فطر کے نصاب میں یہ

صدقہ فطر کے مسائل

صدقہ فطر کے مسائل

زکوٰۃ اور صدقہ فطر میں فرق
    زکوٰۃ میں سال کا گزرنا، عاقل بالغ اور نصاب ِ نامی (یعنی اس میں بڑھنے کی صلاحیّت )ہونا شرط ہے جبکہ صدقہ فطر میں یہ شرائط نہیں ہیں۔چنانچہ اگر گھر میں زائد سامان ہو تو مالِ نامی نہ ہونے کے باوجود اگر اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہے تو اس کے مالک پر صدقہ فطر واجب ہوجائے گا۔زکوٰۃ اور صدقہ فطر کے نصاب میں یہ
فرق کیفیت کے اعتبار سے ہے۔

 (ما خوذ ازالدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۲۰۷،۲۱۴،۳۶۵)

فطرہ کی ادائیگی کی شرائط

    صدقہ فطر میں بھی نیت کرنا اور مسلمان فقیر کومال کا مالک کر دینا شرط ہے۔

 (ردالمحتار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۸۰)

نابالغ پر صدقہ فطر

    نابالغ اگر صاحب ِ نصاب ہوتو اس پر بھی صدقہ فطر واجب ہے۔ اس کا ولی اسکے مال سے فطرہ ادا کرے ۔  (ما خوذ ازالدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۲۰۷،۲۱۴۔۳۶۵)

ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا فطرہ

     جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہو،اس کی طرف سے صدقہ فطر اداکرنا واجب نہیں۔

 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج۱،ص۱۹۲)

چھوٹے بھائی کا فطرہ

    اگر بڑا بھائی اپنے چھوٹے غریب بھائی کی پرورش کرتا ہوتو اس کاصدقہ فطر مالدار باپ پر واجب ہے نہ کہ بڑے بھائی پر۔فتاوی عالمگیری میں ہے :''چھوٹے بھائی کی طرف سے صدقہ و اجب نہیں اگرچہ وہ اس کی عیال میں شامل ہوں۔ ''

 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۳)

اگر کسی کا فطرہ نہ دیا گیا ہوتو؟

     نا بالغی کی حالت میں باپ نے بچہ کا صدقہ فطر ادا نہ کیاتو اگر وہ بچہ مالک نصاب تھااور باپ نے ادا نہ کیا تو بالغ ہونے پرخود ادا کرے اوراگر وہ بچہ مالک نصاب نہ تھا تو بالغ ہونے پر اس کے ذمہ ادا کرناواجب نہیں۔

 (الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۵)

باپ نے اگر روزے نہ رکھے ہوں

     باپ جب مالک نصاب ہو اگرچہ اس نے رمضان کے روزے نہ رکھے ہوں تو صدقہ فطر نابالغ بچوں کا اسی پر واجب ہے، نہ کہ ان کی ماں پر ۔

 (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۷۔۳۶۸)

ماں پر بچوں کا فطرہ واجب نہیں

    اگر باپ نہ ہو توماں پر اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں ہے ۔

 (الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۸)

یتیم بچوں کا فطرہ

    باپ نہ ہوتو اس کی جگہ دادا پراپنے غریب یتیم پوتے ،پوتی کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب ہے جبکہ یہ بچے مالدار نہ ہوں۔

 (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸)

غریب باپ کے بچوں کا فطرہ

    باپ غریب ہوتو اس کی جگہ مالک نصاب دادا پراپنے غریب پوتے ،پوتی
کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب ہے جبکہ بچے مالدار نہ ہوں۔

 (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸)

صدقہ فطر کے لئے روزہ شرط نہیں

    صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں ،لہٰذا کسی عذر مثلاًسفر مرض ،بڑھاپے یا معاذ اللہ(عَزَّوَجَلَّ ) بلاعذر روزے نہ رکھنے والا بھی فطرہ ادا کریگا ۔

 (ما خوذ ازالدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۷)

نابالغ منکوحہ لڑکی کا فطرہ کس پر؟

     نابالغ لڑکی جو اس قابل ہے کہ شوہر کی خدمت کر سکے اس کا نکاح کر دیا اور شوہر کے یہاں اُسے بھیج بھی دیا تو کسی پر اس کی طرف سے صدقہ واجب نہیں، نہ شوہر پر نہ باپ پر اور اگر قابل خدمت نہیں یا شوہر کے یہاں اُسے بھیجا نہیں تو بدستور باپ پر ہے پھر یہ سب اس وقت ہے کہ لڑکی خود مالکِ نصاب نہ ہو، ورنہ بہرحال اُس کا صدقہ فطر اس کے مال سے ادا کیا جائے۔

 (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۸)

بچے پاکستان میں اور باپ ملک سے باہرہو تو

     اگر کسی کے چھوٹے بچے پاکستان میں رہتے ہیں اور باپ ملک سے باہر ہے تو اس صورت میں باپ پر چھوٹے (نابالغ) بچوں کے صدقہ فطر کے گیہوں کی قیمت بیرونِ ملک کے حساب نکالنا واجب ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے، صدقہ فطر میں صدقہ دینے والے کے مکان کا اعتبار ہے چھوٹے بچوں کے مکان کا اعتبار نہیں۔

 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۳ ملخصا)
شب عید بچہ پیدا ہواتو...؟

    شب ِ عید بچہ پیدا ہوا توس کا بھی فطرہ دینا ہوگاکیونکہ عید کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے ،اور اگر بعد میں پیدا ہوا تو واجب نہیں۔

(الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،باب الثامن ،ج۱،ص۱۹۲)

شبِ عید مسلمان ہونے والے کا فطرہ

    عید کے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے ،لہٰذا اگر اس وقت سے پہلے کوئی مسلمان ہوا تو اس پر فطرہ دینا واجب ہے اور اگر بعد میں مسلمان ہواتوواجب نہیں۔

 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،باب الثامن ،ج۱،ص۱۹۲)

مال ضائع ہو جائے تو.....؟

    اگرصدقہ فطر واجب ہونے کے بعد مال ہلاک ہوجائے توپھر بھی دیناہوگاکیونکہ زکوٰۃوعشر کے برخلاف صدقہ فطر ادا کرنے کے لئے مال کا باقی رہنا شرط نہیں۔

(الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۶ )

فوت شدہ شخص کا فطرہ

     اگر کسی شخص نے وصیت نہ کی اورمال چھوڑ کر مر گیا توورثہ پراس میت کے مال سے فطرہ ادا کر نا واجب نہیں کیونکہ صدقہ فطر شخص پر واجب ہے مال پر نہیں، ہاں! اگر ورثہ بطورِ احسان اپنی طرف سے ادا کریں تو ہوسکتا ہے کچھ اُن پر جبر نہیں ۔

 (الفتاوٰ ی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب فی صدقۃ الفطر،ج۳، ص۱۹۳)
مہما نوں کا فطرہ

    عید پر آنے والے مہمانوں کا صدقہ فطر میزبان ادا نہیں کریگااگر مہمان صاحب ِ نصاب ہیں تو اپنا فطرہ خود ادا کریں ۔  (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَّہ،ج۱۰،ص۲۹۶)

شادی شدہ بیٹی کافطرہ

     اگر شادی شدہ بیٹی باپ کے گھر عید کرے تو اس کے چھوٹے بچوں کا فطرہ ان کے باپ پر ہے جبکہ عورت کا نہ باپ پر نہ شوہر پر ، اگر صاحب ِ نصاب ہے تو خود ادا کرے ۔

(فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَّہ ،ج۱۰، ص۲۹۶)

بلااجازت فطرہ ادا کرنا

    اگربیوی نے شوہرکی اجازت کے بغیراس کافطرہ اداکیاتوصدقہ فطر ادا نہیں ہوگا ۔جب کہ صراحۃ یا دلالۃ اجازت نہ ہو۔

 (ملخَصٍّاالفتاوٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر،ج۱،ص۱۹۳ )

     اگرشوہرنے بیوی یا بالغ اولاد کی اجازت کے بغیران کافطرہ اداکیاتو صدقہ فطر ادا ہوجائے گا بشرطیکہ وہ اس کے عیال میں ہو۔

 (ماخوذ ازالدر المختارو رد المحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۷۰)

     اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے تو بلااجازت ناممکن ہے ہاں اجازت کے لیے صراحۃ ہونا ضرور نہیں دلالت کافی ہے مثلاً زید اس کے عیال میں ہے، اس کا کھانا پہننا سب اس کے پاس سے ہونا ہے،اس صورت میں ادا ہو جائے گا۔

 (ماخوذ از فتاوی رضویہ ، ج۲۰، ص۴۵۳)

صدقہ فطر کن چیزوں سے ادا ہوتا ہے

     گندم یا اس کا آٹا یا ستونصف صاع،کھجور یا منقٰی یا جَویا اس کا آٹایا ستو ایک
صاع ۔ان چار چیزوں( یعنی گیہوں ،جو ، کھجور،منقی) کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز سے فطرہ ادا کرنا چاہے، مثلاً چاول، جوار، باجرہ یا اور کوئی غلّہ یا اور کوئی چیز دینا چاہے تو قیمت کا لحاظ کرنا ہوگا یعنی وہ چیز آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جَو کی قیمت کی ہو، یہاں تک کہ روٹی دیں تو اس میں بھی قیمت کا لحاظ کیا جائے گا اگرچہ گیہوں یا جَو کی ہو۔( بہار شریعت حصہ پنجم، ص۹۳۹ ملتقطًا)

صدقۂ فطرکی مقدار

صاع کی تحقیق میں اختلاف ہونے کے سبب صدقۂ فطر کی مقدار میں علماء کرام کا اختلاف ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے :احتیاط یہ ہے کہ جَو کے صاع سے گیہوں دئیے جائیں،جَو کے صاع میں گیہوں تین سو اکاون ۳۵۱  روپے بھر آتے ہیں تو نصف صاع ایک سو پچھتر ۱۷۵ روپے آٹھ آنے بھر ہوا۔ (فتاوی رضويہ ، ج۱۰، ص۲۹۵)

صدقہ فطر کی مقدار آسان لفظوں میں

    ایک سو پَچھتَّر روپے اَٹَھنّی بھراوپر ''(یعنی دوسیر تین چھٹانک آدھا تَولہ،یا 2کِلو اور تقریباً 50 گرام) وَزن گیہوں یا اُس کا آٹا یا اتنے گیہوں کی قیمت ایک صدقہ فطر کی مِقدار ہے۔اگرکھجور یا مُنَـقّٰی (یعنی کشمش)یا جَو یا اس کا آٹا یا ستّو یا ان کی قیمت دینا چاہیں تو '' تین سو اِکاون روپے بھر'' (یعنی 4 کلواور تقریباً 100گرام )ایک صدقہ فطر کی مقدار ہے۔  (بہارِ شریعت جلد اوّل حصہ۵ص۹۳۸)

صدقہ فطر کی ادائیگی کا وقت

    بہتر یہ ہے کہ عید کی صبح صادق ہونے کے بعد اور عید گاہ جانے سے پہلے ادا کر دے۔

 (الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۶)
صدقہ فطررمضان میں اداکردیا تو؟

فتاویٰ عالمگیری میں ہے :اگر عید الفطر سے پہلے فطرہ ادا کریں تو جائز ہے ۔

 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۳ )

رمضان سے بھی پہلے صدقہ فطر ادا کرنا

     اگر صدقہ فطر رمضان سے بھی پہلے ادا کر دیا توجائز ہے۔

 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ، ج۱،ص۱۹۲ ملخصا)

پیشگی فطرہ دیتے وقت صاحب نصاب ہونا

     اگر نصاب کا مالک ہونے سے پہلے صدقہ دے دیا پھر نصاب کا مالک ہوا تو صحیح ہے ۔

 (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الزکوٰۃ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ، ج۱،ص۱۹۲ ملخصا)

اگرعید کے بعد صدقہ فطردیاتو؟

    اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃُ ربِّ العزّت فرماتے ہیں:اس (یعنی صدقہ فطر)کے دینے کا وقت واسع ہے عید الفطر سے پہلے بھی دے سکتا ہے اور بعد بھی، مگر بعد کو تاخیر نہ چاہیے بلکہ اَولی یہ ہے کہ نمازِ عید سے پہلے نکال دے کہ حدیث میں ہے صاحبِ نصاب کے روزے معلق رہتے ہیں جب تک یہ صدقہ ادا نہ کریگا۔

 (فتاویٰ ٰرضویہ،ج۱۰،ص۲۵۳)

کیا دینا افضل ہے؟

    گیہوں اور جَو کے دینے سے اُن کا آٹا دینا افضل ہے اور اس سے افضل یہ کہ قیمت دیدے، خواہ گیہوں کی قیمت دے یا جَو کی یا کھجور کی مگر زمانہ قحط میں خود ان کا دینا قیمت دینے سے افضل ہے

۔(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوٰۃ ،الباب الثامن فی صدقۃ الفطر ،ج۱،ص۱۹۱۔۱۹۲ ونور الایضاح،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر،ص۱۷۳۔۱۷۴ملتقطا)
فطرہ کس کو دیاجائے؟

    صدقہ فطرکے مصَا رِف وُہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں۔(عالمگیری ج۱ ص۱۹۴) یعنی جِن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اِنہیں فِطْرہ بھی دے سکتے ہیں اور جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اُن کو فِطْرہبھی نہیں دے سکتے۔ لہٰذا زکوٰۃ کی طرح صدقہ فطر کی رقم بھی حیلہ شرعی کے بعد مدارس وجامعات اور دیگر دینی کاموں میں استعمال کی جاسکتی ہے۔  (فتاوٰی امجدیہ ج۱ص۳۷۶ملخصًا)

کسے صدقہ فطر نہیں دے سکتے؟

     جنہیں زکوٰۃنہیں دے سکتے انہیں صدقہ فطر بھی نہیں دے سکتے ۔چنانچہ ساداتِ کرام کو صدقہ فطر بھی نہیں دے سکتے۔

 (الدر المختارو رد المحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۷۹ )

ایک شخص کا فطرہ ایک ہی مسکین کو دینا

    بہتر یہ ہے کہ ایک ہی مسکین یا فقیر کو فطرہ دیا جائے اگر ایک شخص کا فطرہ مختلف مساکین کو دے دیا تب بھی جائز ہے اسی طرح ایک ہی مسکین کومختلف اشخاص کا فطرہ بھی دے سکتے ہیں۔

 (الدر المختارو رد المحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،مطلب فی مقدارالفطرج۳،ص۳۷۷ ملخصاً)

وجوب کا وقت

وجوب کا وقت

    عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہوگیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب ہے۔

(الفتاوی الھندۃ، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲)
صدقہ فطر کب مشروع ہوا؟

صدقہ فطر کب مشروع ہوا؟

     ۲؁ھ میں رمضان کے روزے فرض ہوئے اور اسی سال عید سے دو دن پہلے صدقہ فطرکا حکم دیا گیا۔  (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۲ )
صدقہ فطرکی ادائیگی کی حکمت

    حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ،رء وف رَّحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے روزوں کو لغو اور بے حیائی کی بات سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کو کھلانے کے لیے صدقہ فطر مقرر فرمایا ۔

 (سنن ابی داؤد،کتاب الزکوٰۃ ،باب زکوٰۃ الفطر،الحدیث۱۶۰۹،ج۲،ص۱۵۷)

    حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں: یعنی فطرہ واجب کرنے میں 2حکمتیں ہیں ایک تو روزہ دار کے روزوں کی کوتاہیوں کی معافی۔ اکثر روزے میں غصہ بڑھ جاتا ہے تو بلاوجہ لڑ پڑتا ہے، کبھی جھوٹ غیبت وغیرہ بھی ہو جاتے ہیں ،رب تعالیٰ اس فطرے کی برکت سے وہ کوتاہیاں معاف کر دے گا کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔دوسرے مساکین کی روزی کا انتظام۔  (مرأۃ المناجیح، ج۳، ص۴۳)

صدقہ فطر کا شرعی حکم

    صدقہ فطر دینا واجب ہے۔  (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۲) صحیح بخاری میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ عليہ وسلم نے مسلمانوں پر صدقہ فطرمقرر کیا۔

 (صحيح البخاري،،کتاب الزکوٰۃ، باب فرض صدقۃ الفطر، الحديث: ۱۵۰۳،ج۱، ص۵۰۷. ملخصا)

صدقہ فطر کس پر واجب ہے؟

     صدقہ فطر ہر اس آزاد مسلمان پر واجب ہے جو مالک ِ نصاب ہو اور
اسکانصاب حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو ۔  (ما خوذ ازالدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۶۵) مالِکِ نِصاب مَرد اپنی طرف سے ،اپنے چھوٹے بچّوں کی طرف سے اور اگر کوئی مَجْنُون (یعنی پاگل )اولاد ہے(چاہے پھر وہ پاگل اولاد بالِغ ہی کیوں نہ ہو)تو اُس کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کرے۔ہاں! اگر وہ بچّہ یامَجْنُونخود صاحِبِ نِصاب ہے تو پھراُ س کے مال میں سے فِطْرہ اداکردے۔

(الفتاوی الھنديۃ، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲)
صدقہ فطر ۱؎

صدقہ فطر ۱؎

بعد ِ رمضان نمازِ عید کی ادائیگی سے قبل دیا جانے والا صدقہ  واجبہ ،صدقہ فطر کہلاتا ہے ۔ خلیلِ ملّت حضرت علامہ مفتی محمد خلیل خان برکاتی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیںـ: '' صدقہ فطردراصل رمضان المبارک کے روزوں کا صدقہ ہے تاکہ لغو اور بے ہودہ کاموں سے روزے کی طہارت ہو جائے اور ساتھ ہی غریبوں، ناداروں کی عید کا سامان بھی اور روزوں سے حاصل ہونے والی نعمتوں کا شکریہ بھی۔''  (ہمارا اسلام،حصہ۷،ص۸۷)

''حُسَین''کے چار حُرُوف کی نسبت سے صدقہ فطر کی فضلیت کی 4روایات

    (1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے اس آیت کریمہ کے بارے میں سوال کیا گیا

قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۴﴾وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی ﴿ؕ۱۵﴾

ترجمہ کنزالایمان :بے شک مراد کو پہنچا جوستھرا ہوا اور اپنے رب کا نام لے کرنماز پڑھی۔(پ۳۰،الاعلٰی:۱۴،۱۵)
تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :''یہ آیت صدقہ فطر کے بارے میں نازل ہوئی۔''

( صحیح ابن خزیمہ،الحدیث ۳۹۷ ،ج ۴، ص ۹۰)

    (2) سرکارِمدینہ منوّرہ،سردارِمکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ بَرَکت نشان ہےـ: ''جو تمہارے مالدار ہیں اللہ تعالیٰ (صدقہ فطردینے کی وجہ سے)
انہیں پاک فرما دے گا اور جو تمہارے غریب ہیں تواللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں اس سے بھی زیادہ دے گا۔ ''

 (سنن ابی داود،کتاب الزکوٰۃ ،باب روی من ضاع من قمح،الحدیث۱۶۱۹،ج۲،ص۱۶۱)

    (3) حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، کہ'' صدقہ فطر ادا کرنے میں تین فضلتیں ہیں؛ پہلی روزے کا قبول ہونا، دوسری سکرات موت میں آسانی اور تیسری عذاب قبرسے نجات۔''  (المبسوط للسرخسی، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۲، ص۱۱۴ )

    (4) حضرت سیدنا ابو خلدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں: کہ میں حضرت سیدنا ابو العالیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ کل جب تم عید گاہ جاؤ، تو مجھ سے ملتے جانا۔ جب میں گیا تو مجھ سے فرمایا :''کیا تم نے کچھ کھایا؟''میں نے کہا:''ہاں۔'' فرمایا :''کیا تم نہا چکے ہو؟''میں نے کہا :''ہاں۔'' فرمایا:'' صدقہ فطر ادا کر چکے ہو؟'' میں نے کہا :''ہاں صدقہ فطر اداکر دیا ہے۔''فرمانے لگے:'' میں نے تمہیں اسی لیے بلایا تھا۔''پھر آپ نے یہ آیت کریمہ  (قَدْ اَفْلَحَ مَن تَزَکّٰی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی) تلاوت کی اور فرمایا : ''اہل مدینہ صدقہ فطر اورپانی پلانے سے افضل کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے۔''

 (تفسیرطبری ، ج۱۲،ص۵۴۷، رقم:۳۶۹۹۲ )
بکریوں کی زکوٰۃ

بکریوں کی زکوٰۃ

بکریوں ، بکروں،بھیڑوں یا دُنبوں کی زکوٰۃکی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے :
    ٭ کم ازکم 40بکریوں یا بکروں وغیرہ پر نصاب پورا ہوتا ہے ،چالیس سے کم میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
    ٭40 سے 120 تک کی زکوٰۃ میں سال بھر کی بکری یا بکرا دیں گے ۔
    ٭121 سے 200 تک کی زکوٰۃ میں سال بھر کی 2 بکریاں یا بکرے دیں گے ۔
    ٭201 سے 399 تک کی زکوٰۃ میں سال بھر کی 3بکریاں یا بکرے دیں گے ۔
    ٭400 میں سال بھر کی 4بکریاں یا بکرے دیں گے ۔
    ٭ اس کے بعد ہر سو پر ایک بکری یا بکرے کا اضافہ کرتے چلے جائیں گے ۔

 (الفتاویٰ الھندیہ ،کتاب الزکوٰۃ ،الباب الثانی فی صدقۃ السوائم،الفصل الرابع،ج۱،ص۱۷۸)

مزید آسانی کے لئے جدول ملاحظہ کیجئے :
بکریوں کی تعداد زکوٰۃ 
40 سے 120 تک ایک بکری 
121 سے200تک دو بکریاں 
201سے 399تک تین بکریاں 
400 پورے ہونے پر چار بکریاں 
400 سے زیادہ ہوں تو ہر سو پر ایک بکری

جانوروں کی زکوٰۃ کے د یگر مسائل

کتنی عمر کے جانوروں کی زکوٰۃ واجب ہے ؟
    ایک سال کی عمر کے جانوروں کی زکوٰۃ واجب ہے مثلاً اگر 39 بکریاں سال سے کم عمر کی ہیں اور ایک سال بھر کا ہوچکا تو اب تمام کو شاملِ حساب کیا جائے گا اور اگر کوئی بھی سال بھر کا نہیں تو نہیں کیا جائے گا۔

 (ماخوذ از الجوہرۃ النیرہ ،کتاب الزکوٰۃ،با ب زکوٰۃالخیل ،ج۳،ص۲۰۸)

اگر کوئی بھی نصاب کو نہ پہنچتا ہوتو؟

    اگر کسی کے پاس اونٹ ، گائيں اور بکریاں ہوں لیکن ان میں سے کوئی بھی نصاب کو نہ پہنچتا ہو تو ان کو نہیں ملایا جائے گا۔

 (ماخوذ از الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ،با ب زکوٰۃالمال ،ج۳،ص۲۰۸)

گھوڑے گدھے اور خچر کی زکوٰۃ

    گھوڑے گدھے اور خچر کی زکوٰۃ دینا واجب نہیں ہے اگرچہ سائمہ ہوں، ہاں! اگر تجارت کے لئے ہوں تو واجب ہے۔

 (ماخوذ از الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ،با ب زکوٰۃالغنم ،ج۳،ص۲۴۴)
اُونٹوں کی زکوٰۃمیں مادہ اونٹنی کی جگہ نَر اونٹ دینا کیسا؟

اُونٹوں کی زکوٰۃمیں مادہ اونٹنی کی جگہ نَر اونٹ دینا کیسا؟

 اُونٹوں کی زکوٰۃمیں مادہ اونٹنی کی جگہ نَر اونٹ بھی دیا جاسکتا ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے وہ قیمت میں مادہ سے کم نہ ہو۔  (الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ،باب نصاب الابل،ج۳،ص۲۴۰)

اونٹوں کی زکوٰۃمیں مذکورہ جانوروں کی جگہ ان کی قیمت دینا

     اونٹوں کی زکوٰۃمیں مذکورہ جانوروں کی جگہ ان کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے ۔

گائے کی زکوٰۃ

گائے اور بھینس کی زکوٰۃکی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے :
    ٭ کم ازکم 30 گایوں یا بھینسوں پر نصاب پورا ہوتا ہے ،تیس سے کم میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
    ٭30 سے 39 تک کی زکوٰۃ میں سال بھر کا بچھڑا ،یا بچھیادیں گے ۔
    ٭40 سے 59 تک کی زکوٰۃ میں دوسالہ بچھڑا، یا بچھیادیں گے ۔
    ٭60 میں سال بھر کے 2 بچھڑے یا بچھیادیں گے ۔
    ٭ 70 میں سال بھر کا 1 اور ایک 2سالہ بچھڑا یا بچھیادیں گے ۔
    ٭ 80 میں 2سالہ دو بچھڑے یا بچھیادیں گے ۔

 (الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ ،باب زکوٰۃ البقر،ج۳،ص۳۴۱ )

مزید آسانی کے لئے جدول ملاحظہ کیجئے :
گائے یا بھینس کی تعداد زکوٰۃ
30 ہوں تو ایک سال کا بچھڑا یا بچھیا 
40 ہوں تو پورے دو سال کا بچھڑا یا بچھیا 
60 ہوں تو ایک ایک سال کے دو بچھڑے یا بچھیاں 
70 ہوں تو ایک سال کا بچھڑا اورایک دو سال کا بچھڑا
80 ہوں تو دو سال کے دو بچھڑے

کتنی قسم کے جانوروں میں زکوٰۃ واجب ہے ؟

کتنی قسم کے جانوروں میں زکوٰۃ واجب ہے ؟

3 قسم کے جانوروں میں زکوٰۃواجب ہے جب کہ سائمہ ہوں:
(1)اونٹ(2)گائے(3)بکری
اُونٹ کی زکوٰۃ
اُونٹ کی زکوٰۃکی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے :
    ٭ کم ازکم 5 اونٹوں پر نصاب پورا ہوتا ہے ،پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
    ٭5 سے 25 تک کی زکوٰۃ اس طرح دیں گے کہ ہر5کے بدلے ایک سالہ بکری یا بکرا دیں گے ۔ ایک نصاب سے دوسرے نصاب کی درمیانی تعداد شامل ِ زکوٰۃ نہیں ہوگی مثلاً پانچ کے بعد اگر ایک ،دو،تین یا چار اونٹ زائد ہوں اُن کی زکوٰۃ نہیں دی جائے گی بلکہ دس اونٹ پورے ہونے پر دی جائے گی ۔
    ٭25سے35 تک ایک سالہ مادہ اونٹنی جودوسرے برس میں ہو ،دی جائے گی ۔
    ٭36سے 45تک مادہ اونٹنی جودوسال کی ہوکرتیسرے برس میں ہو ،دی جائے گی ۔
    ٭46سے 60تک مادہ اونٹنی جوتین سال کی ہوکرچوتھے برس میں ہو ،دی جائے گی ۔
    ٭61سے 75تک مادہ اونٹنی جوچار سال کی ہوکر پانچویں برس میں ہو ، دی جائے گی ۔
    ٭76سے 90تک 2مادہ اونٹنیاں جودوسال کی ہوکر تیسرے برس میں ہوں ، دی جائيں گی ۔
    ٭91سے 120تک 2مادہ اونٹنیاں جوتین سال کی ہوکرچوتھے برس میں ہوں ،دی جائيں گی ۔
    ٭121سے 145تک 2مادہ اونٹنیاں جوتین سال کی ہو کر چوتھے برس میں ہوں اور ہر پانچ پر ایک سالہ بکری یا بکرا دیاجائے ۔مثلاً 125پر2اونٹنیوں کے ساتھ ایک بکری ،130 پر2 اونٹنیوں کے ساتھ دو بکریاں ،135 پر2 اونٹنیوں کے ساتھ تین بکریاں، 140میں2 اونٹنیوں کے ساتھ چار بکریاں۔
    ٭145میں2مادہ اونٹنیاں جوتین سال کی ہو کر چوتھے برس میں ہوں اور ایک اونٹ کا بچہ جو ایک سال کا ہوکر دوسرے برس میں ہو، دیا جائے گا۔
    ٭150 اونٹوں پر3مادہ اونٹنیاں جوتین سال کی ہوکرچوتھے برس میں ہوں ، دی جائيں گی ۔
    ٭150سے 170تک 3مادہ اونٹنیاں جوتین سال کی ہوکرچوتھے برس میں ہوں ،دی جائيں گی اور ہر پانچ پر ایک سالہ بکری یا بکرا دیاجائے ۔مثلاً 155پر 3اونٹنیوں کے ساتھ ایک بکری،160 پر اونٹنیوں کے ساتھ دو بکریاں ،علی ھذاالقیاس۔
    ٭175سے 185تک 3مادہ اونٹنیاں جوتین سال کی ہوکرچوتھے برس میں ہوں ،دی جائيں گی اورایک سالہ اونٹنی جو دوسرے سال میں ہودی جائے گی ۔
    ٭186سے 195تک 3مادہ اونٹنیاں جوتین سال کی ہوکرچوتھے برس میں ہوں ،دی جائيں گی اورایک اونٹنی جو دو سال کی ہو کر تیسرے سال میں ہو،دی جائے گی ۔
195سے 200تک 4مادہ اونٹنیاں جوتین سال کی ہوکرچوتھے برس میں ہوں ،دے سکتے ہیں ۔اگر چاہیں تو 5مادہ اونٹنیاں جودو سال کی ہوکرتیسرے برس میں ہوں ،دے سکتے  ہیں ۔
    ٭ 200سے 250تک کا حساب اسی طرح سے کیا جائے گا جس طرح 150سے200 تک کیا گیا ہے ۔

(الفتاوٰی الھندیہ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الثانی،الفصل الثانی ،ج۱، ص۱۷۷، الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ،باب نصاب الابل،ج۳،ص۲۳۸)

مزید آسانی کے لئے نیچے دیا گیا جدول ملاحظہ کیجئے :

    اونٹوں کی تعداد زکوٰۃ
5 سے9 تک ایک بکری 
10سے14 تک دوبکریاں 
15 سے19 تک تین بکریاں 
20 سے24 تک چار بکریاں 
25 سے35 تک  اونٹ کا ایک سال کا مادہ بچہ 
36 سے45 تک اونٹ کا دو سال کا مادہ بچہ 
46 سے60 تک تین سال کی اونٹنی 
61 سے75 تک چار سال کی اونٹنی 
76 سے90تک دو، دو سال کی دو اونٹنیاں 
91سے120تک تین، تین سال کی دو اونٹنیاں

تجارت کے لئے جانور خرید کر چَرانا شروع کردیا تو....

تجارت کے لئے جانور خرید کر چَرانا شروع کردیا تو....


    اگر جانور تجارت کے لئے خریدا تھا مگر بعد میں چَرانا شروع کردیا تواگر اسے سائمہ بنانے کی نیت کرلی تو اب سال شروع ہوجائے گا اور اگر نیت نہیں کی تھی تو مال ِ تجارت ہی رہے گا ۔

 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الثانی ،الفصل الاول،ج۳،ص۱۷۷)
وقف کے جانوروں کی بھی زکوٰۃ

    وقف کی جانوروں کی زکوٰۃ دینا واجب نہیں ہے۔

 (ماخوذاز الدرالمختارو رد المحتار ، کتاب الزکوٰۃ ، باب السائمۃ،ج۳،ص۲۳۶)
جانوروں کی زکوٰۃکب فرض ہوگی؟

جانوروں کی زکوٰۃکب فرض ہوگی؟

ہر قسم کے جانور کی زکوٰۃ نہیں دیں گے اس میں تفصیل یہ ہے کہ 
    ٭ جو جانور تجارت کی غرض سے خریدے گئے ہیں ،وہ مال ِ تجارت ہیں اور ان کی زکوٰۃ ان کی قیمت کے حساب سے دی جائے گی ۔
    ٭ جو جانور سال کا اکثر حصہ جنگل میں چَرکر گزارہ کرتے ہوں اور چَرانے سے مقصودصرف دودھ اور بچے لینا اور فربہ کرنا ہے ،یہ سَائِمَہ کہلاتے ہیں ان کی زکوٰۃ دینا ہوگی ۔
    ٭ جو جانوراگرچہ جنگل میں چَرتے ہوں لیکن اس سے مقصود بوجھ لادنا یا ہل وغیرہ کے کام میں لانا یا سواری میں استعمال کرنایا ان کا گوشت کھانا ہو تو یہ جانور سَائِمَہ نہیں ہیں ،ان کی زکوٰۃ دینا واجب نہیں ہے ۔
    ٭ جن جانوروں کو گھر پر چارہ کھلاتے ہوں ان کی بھی زکوٰۃواجب نہیں ہے۔

 (ماخوذ از الدرالمختارو در المحتار ، کتاب الزکوٰۃ ، باب السائمۃ،ج۳،ص۲۳۲،۲۳۴)

نوٹ:جانوروں کی زکوٰۃ کے مصارف بھی وہی ہیں جو سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں وغیرہ کے ہیں۔
خوشدِلی سے زکوٰۃ دیجئے

خوشدِلی سے زکوٰۃ دیجئے


     حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جو ایمان کے ساتھ ان پانچ چیزوں کو بجالایا جنت میں داخل ہوگا ،جس نے پانچ نَمازوں کی ان کے وضو اور رکوع اورسجود اوراوقات کے ساتھ پابندی کی اور رمضان کے روزے رکھے اور جس نے استطاعت ہونے پرحج کیا اور خوش دلی سے زکوٰۃ ادا کی۔ ''

(مجمع الزوائد،کتاب الایمان ، فیما بنی علیہ الا سلام ، رقم ۱۳۹،ج۱،ص ۲۰۵ )

     حضرتِ سیدنا عبداللہ بن معاویہ الغاضری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے تین کام کئے اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ،(۱)جس نے ایک اﷲ کی عبادت کی اور یہ یقین رکھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں (۲)جس نے خوشدلی سے ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی (۳) جس نے زکوٰۃ میں بوڑھے اور بیمار جانو ریابو سید ہ کپڑ ے اور گھٹیامال کی بجائے اوسط درجے کا مال دیا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم سے تمہارا بہترین مال طلب نہیں کرتا اور نہ ہی گھٹیا مال دینے کی اجازت دیتا ہے ۔''

    (ابوداؤد،، کتاب الزکاۃ ، فی زکاۃ السائمہ ،رقم ۱۵۸۲،ج۲، ص ۱۴۷ )

برسوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی کا ایک حیلہ

برسوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی کا ایک حیلہ


     اگر یہ شخص اپنے ان عزیزوں کو بہ نیّتِ زکوٰۃ دے کر قبضہ دلائے پھر وہ ترس کھا کر بغیر اس کے جبر و اِکراہ کے(یعنی مجبور کئے بغیر) اپنی خوشی سے بطورِ ہبہ جس قدر چاہیں واپس کردیں تو سب کے لیے سراسر فائدہ ہے، اس کے لیے یہ کہ خدا کے عذاب سے چُھوٹا ،اﷲتعالیٰ کا قرض و فرض ادا ہُوااور مال بھی حلال وپا کیزہ ہو کر واپس ملا، جو بچ رہا وُہ اپنے جگر پاروں کے پاس رہا، ان کے لیے یہ فائدے ہیں کہ دنیا میں مال ملا عقبے میں اپنے عزیز مسلمان بھائی پر ترس کھانے اور اسے ہبہ کرنے اور اس کے ادائے زکوٰۃ میں مدد دینے سے ثواب پایا، پھر اگر ان پر پُورا اطمینان ہو تو زکوٰۃ سالہا سال حساب لگانے کی بھی حاجت نہ رہے گی، اپنا کل مال بطور تصدّق انھیں دے کر قبضہ دلادے پھر وہ جس قدر چاہیں اسے اپنی طرف سے ہبہ کردیں،کتنی ہی زکوٰۃ اس پر تھی سب ادا ہوگئی اور سب مطلب بر آئے اور فریقین نے ہر قسم کے دینی و دنیوی نفع پائے، مولیٰ عَزَّوَجَلَّ اپنے کرم سے توفیق عطا فرمائے۔ آمین آمین یا رب العالمین۔ واﷲتعالٰی اعلم
قصور اپنا ہے

قصور اپنا ہے


    اگر اس وجہ سے کہ مال کثیر اور برسوں کی زکوٰۃ ہے یہ رقم وافر دیتے ہُوئے نفس کو درد پہنچے گا، تو اوّل تو یہ ہی خیال کر لیجئے کہ قصور اپنا ہے سال بہ سال دیتے رہتے تو یہ گٹھڑی کیوں بندھ جاتی، پھر خدائے کریم عزّو جل، کی مہربانی دیکھئے، اس نے یہ حکم نہ دیا کہ غیروں ہی کو دیجئے بلکہ اپنوں کو دینے میں دُونا ثواب رکھا ہے، ایک تصدّق کا، ایک صلہ رحم کا۔ تو جو اپنے گھر سے پیارے،دل کے عزیزہوں جیسے بھائی، بھتیجے، بھانجے، انھیں دے دیجئے کہ ان کا دینا چنداں ناگوار نہ ہوگا، بس اتنا لحاظ کر لیجئے کہ نہ وہ غنی ہو نہ غنی باپ زندہ کے نا بالغ بچّے، نہ اُن سے علاقہ زوجیت یا ولادت ہو یعنی نہ وُہ اپنی اولاد میں نہ آپ انکی اولاد میں۔ پھر اگر رقم ایسی ہی فراواں(یعنی کثیر) ہے کہ گویا ہاتھ بالکل خالی ہُوا جاتا ہے تو دئے بغیر تو چھٹکارا نہیں، خدا کے وہ سخت عذاب ہزاروں برس تک جھیلنے بہت دشوار ہیں، دُنیا کی یہ چند سانسیں تو جیسے بنے گزر ہی جائیں گی۔
جو صدقہ وخیرات کر چکا اس کا حکم!

جو صدقہ وخیرات کر چکا اس کا حکم!

    با لجملہ جس شخص نے آ ج تک جس قدر خیرات کی ،مسجد بنا ئی ،گاؤں وقف کیا ،یہ سب امور صحیح و لازم تو ہو گئے کہ اب نہ دی ہو ئی خیرات فقیر سے واپس کر سکتا ہے نہ کئے ہوئے وقف کو پھیر لینے کا اختیا ر رکھتا ہے ،نہ اس گاؤں کی توفیر ادائے زکٰوۃ ،خواہ اپنے اور کسی کام میں صرف کر سکتا ہے کہ وقف بعد تمامی لازم و حتمی ہو جاتا ہے  جس کے ابطال کا ہر گز اختیا ر نہیں رہتا ۔
    مگر اس کے باوجود جب تک زکوٰۃ پُوری پُوری نہ ادا کرے ان افعال پر امیدِ ثواب و قبول نہیں کہ کسی فعل کا صحیح ہوجانا اور بات ہے اور اس پر ثواب ملنا ، مقبول بارگاہ ہونا اور بات ہے، مثلاًاگر کوئی شخص دکھا وے کے لیے نماز پڑھے نماز صحیح تو ہوگئی فرض اُتر گیا، پر نہ قبول ہوگی نہ ثواب پائے گا، بلکہ الٹا گناہگار ہوگا، یہی حال اس شخص کا ہے ۔

شیطان کے وار کو پہچانئے

     اے عزیز!اب شیطان لعین کہ انسان کاکھلا دُشمن ہے بالکل ہلاک کر دینے اور یہ ذرا سا ڈورا جو قصدِ خیرات کا لگا رہ گیا ہے جس سے فقراء کو تو نفع ہے اسے بھی کاٹ دینے کے لیے یوں فقرہ سُجھائے گا کہ جو خیرات قبول نہیں تو کرنے سے کیا فائدہ، چلو اسے بھی دُور کرو، اور شیطان کی پوری بندگی بجا لاؤ، مگر اﷲعزوجل کو تیری بھلائی اور عذاب شدید سے رہائی منظور ہے، وہ تیرے دل میں ڈالے گاکہ اس حکم شرعی کا جواب یہ نہ تھا جو اس دشمنِ ایمان نے تجھے سکھایا اور رہا سہابالکل ہی متمرد وسرکش بنایا بلکہ تجھے تو فکر کرنی تھی جس کے باعث عذابِ سلطانی سے بھی نجات ملتی اور آج تک کے یہ وقف ومسجد و خیرات بھی سب قبول ہوجا نے کی اُمید پڑتی، بھلا غور کرو وہ بات بہتر کہ بگڑتے ہُوئے کام پھر بن جائیں، اکارت جاتی محنتیں از سرِ نو ثمرہ لائیں یا معاذاﷲیہ بہتر کہ رہی سہی نام کو جو صورتِ بندگی باقی ہے اسے بھی سلام کیجئے اور کھلے ہوئے سرکشوں، اشتہاری باغیوں میں نام لکھالیجئے، وہ نیک تدبیر یہی ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے سے توبہ کیجئے ۔

زکوٰۃ ادا کردیجئے

    آج تک جتنی زکوٰۃ گردن پر ہے فوراً دل کی خوشی کے ساتھ اپنے رب کا حکم ماننے اور اسے راضی کرنے کو ادا کر دیجئے کہ شہنشاہِ بے نیاز کی درگاہ میں باغی غلاموں کی فہرست سے نام کٹ کر فرماں بردار بندوں کے دفتر میں چہرہ لکھا جائے۔ مہر بان مولا جس نے جان عطا کی، اعضادئے، مال دیا، کروڑوں نعمتیں بخشیں، اس کے حضور منہ اُجالا ہونے کی صورت نظر آئے اورمژدہ ہو ،بشارت ہو، نوید ہو، تہنیت ہو کہ ایسا کرتے ہی اب تک جس قدر خیرات دی ہے وقف کیا ہے، مسجد بنائی ہے، ان سب کی بھی مقبولی کی اُمید ہوگی کہ جس جُرم کے باعث یہ قابلِ قبول نہ تھے جب وہ زائل ہوگیا انھیں بھی باذن اﷲتعالیٰ شرفِ قبول حاصل ہوگیا۔

زکوٰۃ کا حساب کیسے لگائے ؟

    چارہ کار تو یہ ہے آگے ہر شخص اپنی بھلائی بُرائی کا اختیار رکھتا ہے، مدّتِ دراز گزرنے کے باعث اگر زکوٰۃ کا تحقیقی حساب نہ معلوم ہوسکے تو عاقبت پاک کرنے کے لیے بڑی سے بڑی رقم جہاں تک خیال میں آسکے فرض کر لے کہ زیادہ جائے گا تو ضائع نہ جائے گا ،بلکہ تیرے رب مہر بان کے پاس تیری بڑی حاجت کے وقت کے لیے جمع رہے گا وہ اس کا کامل اجر جو تیرے حوصلہ و گمان سے باہر ہے عطا فرمائے گا، اور کم کیا تو بادشاہ قہار کا مطالبہ جیسا ہزار روپیہ کا ویسا ہی ایک پیسے کا۔
چار فرائض میں تین پر عمل کرنا

چار فرائض میں تین پر عمل کرنا

  خود حدیث میں ہے: حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اربع فرضھن اﷲفی الا سلام فمن جاء بثلث لم یغنین عنہ شیئًا حتی یاتی بھن جمیعاًالصّلوۃوالزکوٰۃ وصیام رمضان وحج البیت۔  چار4 چیزیں اﷲتعالیٰ نے اسلام میں فرض کی ہیں جوان میں سے تین ادا کرے وہ اسے کچھ کام نہ دیں جب تک پُوری چاروں نہ بجا لائے نماز ، زکوٰۃ، روزہ رمضان، حجِ کعبہ۔

(مسند امام احمد،مسند الشامیین،ج۶،ص۲۳۶)

نماز قبول نہیں

    حضرت سیّد نا عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: امرنا باقام الصلٰوۃ وایتاء الزکٰوۃ ومن لم یزک فلا صلٰوۃ لہ هميں حکم دیا گیا کہ نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جو زکوٰۃ نہ دے اس کی نماز قبول نہیں ۔

(المعجم الکبیر،الحدیث ۱۰۰۹۵ج۱۰،ص۱۰۳)

    سبحان اﷲ! جب زکوٰۃ نہ دینے والے کی نماز، روزے،حج تک مقبول نہیں تو اس نفل خیرات نام کی کائنات سے کیا امید ہے بلکہ انہی سے اصبہانی کی روایت میں آیا کہ فرماتے ہیں: من اقام الصلٰوۃ ولم یؤت الزکوۃ فلیس بمسلم ینفعہ۔ جو نماز ادا کرے اور زکوٰۃ نہ دے وہ مُسلمان نہیں کہ اسے اس کا عمل کام آئے۔(الزواجر،ج۱،ص۲۸۰) الٰہی !مسلمان کو ہدایت فرما آمین!
غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تنبیہ

غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تنبیہ


    حضور پُر نور سیّد نا غوث اعظم مولائے اکرم حضرت شیخ محی الملّۃ والدّین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے اپنی کتاب مستطاب'' فتوح الغیب شریف ''میں کیا کیا جگر شگاف مثالیں ایسے شخص کے لیے ارشاد فرمائی ہیں جوفرض چھوڑ کر نفل بجالائے۔ فرماتے ہیں: اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ اپنی خدمت کے لیے بلائے ، یہ وہاں تو حاضر نہ ہُوا اور اس کے غلام کی خدمتگاری میں موجود رہے۔ پھر حضرت امیرالمومنین مولی المسلمین سید نا مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اﷲتعالیٰ وجہہ سے اس کی مثال نقل فرمائی کہ جناب ارشاد فرماتے ہیں : ایسے شخص کا حال اس عورت کی طرح ہے جسے حمل رہا جب بچّہ ہونے کے دن قریب آئے اِسقاط (یعنی بچہ ضائع)ہوگیا اب وہ نہ حا ملہ ہے نہ بچّہ والی۔ یعنی جب پُورے دنوں پر اگر اسقاط ہو تو محنت تو پُوری اٹھائی اور نتیجہ خاک نہیں کہ اگر بچہ ہوتا تو ثمرہ (یعنی پھل)خود موجود تھا حمل باقی رہتا تو آگے امید لگی تھی ، اب نہ حمل نہ بچّہ، نہ اُمید نہ ثمرہ
اور تکلیف وہی جھیلی جو بچّہ والی کو ہوتی۔ ایسے ہی اس نفل خیرات دینے والے کے پاس سے روپیہ تو اٹھا مگر جبکہ فرض چھوڑا یہ نفل بھی قبول نہ ہُوا تو خرچ کا خرچ ہوا اور حاصل کچھ نہیں۔ اسی کتاب مبارک میں حضور مولیٰ رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ: فان اشتغل بالسنن والنوافل قبل الفرائض لم یقبل منہ واھین یعنی فرض چھوڑ کر سنّت و نفل میں مشغول ہوگا یہ قبول نہ ہوں گے اور خوار کیا جائے گا۔

(شرح فتوح الغیب،ص۵۱۱تا۵۱۴)

    حضرت شیخ الشیوخ امام شہاب الملّۃ والدّین سُہروردی قدس سرہ العزیز عوارف شریف کے باب الثامن والثلثین میں حضرت خواص رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: بلغنا ان اﷲلایقبل نافلۃحتی یؤدی فریضۃ یقول اﷲتعالیٰ مثلکم کمثل العبد السوء بدء بالھدیۃ قبل قضاء الدین۔ یعنی ہمیں خبر پہنچی کہ اﷲعزّوجل کوئی نفل قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ فرض ادا کیا جائے، اﷲتعالیٰ ایسے لوگوں سے فرماتاہے کہاوت تمھاری بد بندہ کی مانند ہے جو قرض ادا کرنے سے پہلے تحفہ پیش کرے۔

(عوارف المعارف،ص۱۹۱)
امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت

امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت

     جب خلیفہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سیّد ناصدیقِ اکبر رضی اﷲتعالیٰ  عنہ کی نزع کا وقت ہوا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالےٰ عنہ کو بلا کر فرمایا: اے عمر !اﷲسے ڈرنا اور جان لو کہ اﷲکے کچھ کام دن میں ہیں کہ انھیں رات میں کرو تو قبول نہ فرمائے گا اور کچھ کام رات میں کہ انھیں دن میں کرو تو مقبول نہ ہوں گے، اور خبردار رہو کہ کوئی نفل قبول نہیں ہوتا جب تک فرض ادا نہ کرلیا جائے۔ (حلیۃ الاولیاء،اسم ابوبکر الصدیق،ج۱،ص۷۱)
رکھ مت لینا

رکھ مت لینا

     حِیلہ کرتے وقْت شَرعی فقير کو يہ نہ کہے کہ واپَس دے دينا ،رکھ مت لينا وغيرہ وغیرہ ، بِالفرض ایسا کہہ بھی دیا تب بھی زکوٰۃ کی ادائیگی وحِیلہ ميں کوئی فرق نہيں پڑے گا کيونکہ صَدَقات وزکوٰۃ اورتُحفہ دينے ميں اِس قسم کے شَرطِيہ اَلفاظ فاسِد ہيں۔اعلیٰ حضرت ،امام اہلِ سنت ،مجدددين وملت مولانا شاہ احمد رضا خان عليہ رحمۃ الرحمن فتاوٰی شامی کے حوالے سے فرماتے ہيں،'' ہبہ اور صَدَقہ شرطِ فاسِد سے فاسِد نہيں ہوتے ''۔ (فتاوی رضويہ مُخَرَّجَہ ،ج۱۰، ص ۱۰۸)
اگر شرعی فقیر زکوٰۃ لے کر واپس نے دے تو؟

     اگر حِیلہ کرنے کیلئے شَرعی فقير کو زکوٰۃ دی جائے اور وہ لے کر رکھ لے تو اب اس سے نیک کاموں کیلئے جبراً نہيں لے سکتے کيونکہ اب وہ مالِک ہوچکا اور اسے اپنے مال پر اختيار حاصل ہے۔

(فتاوی رضويہ مُخَرَّجَہ ،ج۱۰، ص ۱۰۸)

حیلہ شرعی کيلئے بھروسے کا آدمی نہ مل سکے تو؟

     اگر بھروسے کا کوئی آدمی نہ مل سکے تو اس کا ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ اگر پانچ ہزار روپے زکوٰۃبنتی ہو تو کسی شرعی فقیر کے ہاتھ کوئی چیز مثلاًچند کلو گندم پانچ ہزار کی بیچی جائے اور اسے سمجھا دیا جائے کہ اس کی قیمت تمہیں نہیں دینی پڑے گی بلکہ ہم تمہیں رقم دیں گے اسی سے ادا کردینا ۔ جب وہ بیع قبول کرلے تو گندم اسے دے دی جائے ، اس طرح وہ آپ کا پانچ ہزار کا مقروض ہوگیا ۔اب اسے پانچ ہزار روپے زکوٰۃ کی مد میں دیں جب وہ اس پر قبضہ کر لے تو زکوٰۃ ادا ہوگئی ،پھر آپ گندم کی قیمت کے طور پر وہ پانچ ہزار واپس لے لیں ،اگر وہ دینے سے انکار کرے تو جبرً ا (زبر دستی)بھی لے سکتے ہیں کیونکہ قرض زبردستی بھی وصول کیا جاسکتا ہے ۔

(الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،ج۳، ص۲۲۶،ماخوذازفتاویٰ امجدیہ،ج۱،ص۳۸۸)

فقیر کو زکوٰۃ کی رقم بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے کا مشورہ دینا

    حیلہ شرعی میں دینے کے بعد اس فقیر کو کسی امرِ خیر کے لئے دینے کا کہہ سکتےہیں اس پر ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں کو ثواب ملے گا کہ جو کسی بھلائی پر راہنمائی کرتا ہے اس پر عمل کرنے والے کا ثواب اسے بھی ملتا ہے ۔

(رد االمحتار،کتاب الزکوٰۃ،ج۳، ص۲۲۷،وماخوذ از فتاویٰ امجدیہ ج۱ ص۳۸۸)

حیلہ شرعی کئے بغیر زکوٰۃ مدرسے میں خرچ کر دی تو؟

    اگر کسی نے حیلہ شرعی کئے بغیر زکوٰۃ مدرسے میں خرچ کر دی تو اب وہ خرچ زکوٰۃ میں شمار نہیں ہوسکتا کیونکہ ادائیگی کی شرائط موجود نہیں ہیں۔ جو کچھ خرچ کیا گیا وہ خرچ کرنے والے کی طرف سے ہوا ۔ اس پر لازم ہے کہ اس تمام رقم کا تاوان دے (یعنی اتنی رقم اپنے پاس سے ادا کرے)۔

 ( ماخوذاز فتاویٰ فقیہ ملت،ج۱، ص۳۱۱)

ماں باپ کو زکوٰۃ دینے کے لئے حیلہ شرعی کرنا

    ماں باپ محتاج ہوں اورحیلہ کر کے زکوٰۃ دینا چاہتا ہے کہ یہ فقیر کو دے دے پھر فقیر انھيں دے یہ مکروہ ہے۔يونہی حیلہ کر کے اپنی اولاد کو دینا بھی مکروہ ہے۔

(بہارِ شریعت ،ج۱،حصہ۵،مسئلہ ۲۴،ص۹۲۸)

زکوٰۃ کی جگہ نفلی صدقہ کرنا

     اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن نے فتاویٰ رضویہ جلد 10صَفْحَہ175پر ایک سُوال کے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمایا اس کا خُلاصہ پیشِ خدمت ہے ،چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
     اُس سے بڑھ کر احمق کون کہ اپنا مال جُھوٹے سچے نام کی خیرات میں
صرف کرے اور اﷲعَزَّوَجَلَّ کا فرض او راس بادشاہ قہار کا وہ بھاری قرض گردن پر رہنے دے۔ شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کرتا ہے۔نادان سمجھتا ہی نہیں،یہ سمجھا کہ نیک کام کررہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض نرے دھوکے کی ٹٹی ہے، اس کے قبول کی اُمید تو مفقود اور اس کے ترک کا عذاب گردن پر موجود۔ اے عزیز! فرض خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ۔ قرض نہ دیجئے اور بالائی بیکار تحفے بھیجئے وہ قابلِ قبول ہوں گے خصوصاً اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان و جہانیاں سے بے نیاز ؟ یوں یقین نہ آئے تو دنیا کے جُھوٹے حاکموں ہی کو آزمالے، کوئی زمین دار مال گزاری توبند کر لے اور تحفے میں ڈالیاں بھیجا کرے، دیکھو تو سرکاری مجرم ٹھہرتا ہے یا اس کی ڈالیاں کچھ بہبود کا پھل لاتی ہیں؟ذرا آدمی اپنے ہی گریبان میں منہ ڈالے،فرض کیجئے آسامیوں سے کسی کھنڈ ساری(چینی بنانے والے ) کارَس بندھا ہوا ہے جب دینے کا وقت آئے وہ رَس تو ہرگز نہ دیں مگر تحفے میں آم خربوزے بھیجیں، کیا یہ شخص ان آسامیوں سے راضی ہوگا یا آتے ہوئے اس کی نادہندگی پر جو آزار انھیں پہنچا سکتا ہے ان آم خربوزے کے بدلے اس سے بازآئے گا؟ سبحان اﷲ! جب ایک کھنڈ ساری کے مطالبہ کا یہ حال ہے تو ملک الملوک احکم الحاکمین جل وعلا کے قرض کا کیا پُوچھنا!
100 افراد کو برابر برابر ثواب ملے

100 افراد کو برابر برابر ثواب ملے

ديکھا آپ نے!کفن دَفن بلکہ تعمير مسجِدميں بھی حيلہ شَرعی کے ذَرِيعہ زکوٰۃ ا ستِعمال کی جاسکتی ہے۔ کيونکہ زکوٰۃ تو فقير کے حق ميں تھی جب فقير نے قَبضہ کر ليا تو اب وہ مالِک ہوچکا، جو چاہے کرے۔ حیلہ شَرعی کی بَرَکت سے دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہو گئی اور فقیر بھی مسجِد میں دیکر ثواب کا حقدار ہو گیا ۔ فقیرِشَرعی کو حِیلے کا مسئلہ بے شک سمجھا دیا جائے ۔حِیلہ کرتے وقت ممکِن ہو تو زیادہ
افراد کے ہاتھ میں رقم پِھرانی چاہے تا کہ سب کو ثواب ملے مَثَلاً حِیلہ کیلئے فقیرشَرعی کو ۱۲ لاکھ روپے زکوٰۃ دی، قَبضہ کے بعد وہ کسی بھی اسلامی بھائی کو تُحفۃً دیدے یہ بھی قبضے میں لیکر کسی اور کو مالِک بنا دے، یوں سبھی بہ نیّتِ ثواب ایک دوسرے کو مالک بناتے رہیں، آخِر والا مسجِد یا جس کام کیلئے حِیلہ کیا تھا اُس کیلئے دیدے تو اِن شآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ سبھی کو بارہ بارہ لاکھ روپے صَدَقہ کرنے کا ثواب ملیگا ۔ چُنانچِہ حضرتِ سيدنا ابوہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت  ہے، تاجدار ِرسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، پیکرِ جُودو سخاوت، سراپا رَحمت، محبوبِ ربُّ العزّت  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ، اگر سو ہاتھوں ميں صَدَقہ گزرا تو سب کو وَیسا ہی ثواب ملے گا جيسا دينے والے کيلئے ہے اور اس کے اَجر ميں کچھ کمی نہ ہو گی ۔ ( تاریخ بغداد،ج۷،ص۱۳۵)

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular