Showing posts with label مضامین. Show all posts
Showing posts with label مضامین. Show all posts
محبت رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم

محبت رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم





محبت رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم

احد کی لڑائی میں جو کافر مارے گئے تھے ان کے عزیزوں میں انتقام کا جوش زوروں پر تھا ، صلافہ نے جس کے دو بیٹے لڑائی میں مارے گئے تھے منت مانی تھی کہ اگر عاصم کا ( جنہوں نے اس کے بیٹوں کو قتل کیا تھا) سر ہاتھ آجائے تو اس کی کھوپڑی میں شراب پیوں گی ، اس لئے اس نے اعلان کیا تھا کہ جو عاصم کا سر لائے گا اس کو سو اونٹ انعام دوں گی ، سفیان بن خالدکو اس لالچ نے آمادہ کیا کہ وہ ان کا سرلانے کی کوشش کرے ،

 چنانچہ اس نے عضل و قارہ کے چند آدمیوں کے مدینہ منّورہ بھیجا ، ان لوگوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم سے تعلیم و تبلیغٖ کے لئے اپنے ساتھ چند حضرات کو بھیجنے کی درخواست کی اور حضرت عاصم کے بھی بھیجنے کی درخواست کی کہ ان کا وعظ پسندیدہ بتلایا ، چنانچہ حضور نے دس آدمیوں کے بعض روایات میں چھ آدمیوں کو ان کے ساتھ کر دیا جن میں حضرت عاصم بھی تھے ، راستہ میں جاکر ان لے جانے والے آدمیوں نے بد عہدی کی اور دشمنوں کو مقابلہ کے لئے بلایا ،

 جو دوسو آدمی تھے ان میں سے سو آدمی بہت مشہور تیر انداز تھے اور بعض روایات میں ہے کہ حضور نے ان حضرات کو مکہ کی خبر لانے کے لئے بھیجا تھا راستہ میں بنو لحیان کے دوسو آدمیوں سے مقابلہ ہوا ، یہ مختصر جماعت دس آدمیوں کی یا چھ آدمیوں کی یہ حالت دیکھ کر ایک پہاڑ جس کا نام فدفذ تھا





چڑھ گئی ، کفار نے کہا کہ ہم تمہارے خون سے اپنی زمین رنگنا نہیں چاہتے ، صرف اہل مکہ سے تمہارے بدلہ میں کچھ مال لینا چاہتے ہیں ، تم ہمارے ساتھ آجاؤ ہم تم کو قتل نہ کریں گے ،
مگر انہوں نے کہا کہ ہم کافر کے عہد میں آنا نہیں چاہتے اور ترکش سے تیر نکال کر مقابلہ کیا جب تیر ختم ہوگئے تو نیزوں سے مقابلہ کیا ، حضرت عاصم نے ساتھیوں سے جو ش میں آکر کہا کہ تم سے دھوکہ کیا گیا ہے مگر گھبرانے کی بات نہیں شہادت کو غنیمت سمجھو تمہارا محبوب تمہارے ساتھ ہے اور جنت کی حوریں تمہاری منتظر ہیں ، یہ کہہ کر جوش سے مقابلہ کیا اور جب نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار سے مقابلہ کیا ، مقابلوں کا مجموعہ کثیر تھا ، آخر شہید ہوگئے اور دعا کی کہ یا اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کو ہمارے قصہ کی خبر کر دے ،
چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور اسی وقت اس واقعہ کا علم حضور کو ہوگیا اور چونکہ عاصم یہ بھی سن چکے تھے کہ سلافہ نے میرے سر کی کھوپڑی میں شراب پینے کی منت مانگی ہے ، اس لئے مرتے وقت دعا کی کہ یا اللہ میرا سر تیرے راستے میں کاٹا جارہا ہے تو ہی اس کا محافظ ہے وہ بھی دعا قبول ہوئی ، اور شہادت کے بعد جب کافروں نے سرکاٹنے کا ارادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا اور بعض روایات بھڑوں کا ایک غول بھیج دیا جنہوں نے ان کے بدن کو چاروں طرف سے گھیر لیا ،
کافروں کو خیال تھا کہ رات وقت جب یہ اڑجائیں گے تو سر کاٹ لیں گے ، مگر رات کو بارش کی ایک رو آئی اور ان کی
نعش کو بہا لے گئی ، اس طرح سات آدمی یا تین آدمی شہید ہوگئے، غرض تین آدمی باقی رہ گئے ۔



حضرت خبیب اور زید بن ۔۔۔ اور عبداللہ بن طارق ان تینوں حضرات سے بھر انہوں نے عہد و پیمان کیا کہ تم نیچے اتر آجاؤ ہم تم سے بد عہدی نہ کریں گے ، یہ تینوں حضرات نیچے اتر آئے ، اور نیچے اترنے پر کفار نے ان کی کمانوں کی تانت مار کر ان کی مشکیں باندھ دیں ، حضرت عبداللہ بن طارق نے فرمایا یہ پہلی بد عہدی ہے ، میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گا ، ان شہید ہونے والوں کا اقتدا ہی مجھے پسند ہے ، انہوں نے زبردستی ان کو کھینچنا چاہا مگر یہ نہ ٹلے تو ان لوگوں نے ان کو شہید کردیا ، صرف دو حضرات ان کے ساتھ رہے ، جن کو لے جا کر لوگوں نے مکہ والوں کے ہاتھ فروخت کر دیا ، ایک حضرت زید بن دثنہ جن کو صفوان بن امیہ نے پچاس اونٹ کے بدلہ میں خریدا تاکہ اپنے باپ امیہ کے بدلہ میں

قتل کرے دوسرے حضرت خبیب رضی اللہ عنہما جن کو حجیر بن ابی اہاب نے سو اونٹ کے بدلہ میں خریدا تاکہ اپنے باپ کے بدلہ میں ان کو قتل کرے ، بخاری شریف کی روایت ہے کہ حارث بن عامر کی اولاد نے خریدا کہ انہوں نے بدر میں حارث کو قتل کیا تھا ، صفوان نے تو اپنے قیدی حضرت زید رضی اللہ علیہ کو فوراً ہی حرام سے اپنے غلام کے ہاتھ بھیجدیا کہ قتل کر دئے جائیں ، اس کا تماشہ دیکھنے کے واسطے اور بھی بہت سے لوگ جمع ہوئے ،جس میں ابو سفیان بھی تھا ، اس نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے زید تجھ کو خدا کی قسم سچ کہنا کہ تجھ کو یہ پسند ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ) کی گردن تیرے بدلہ میں ماردی جائے اور تجھ کو چھوڑ دیا جائے کہ اپنے اہل و عیال میں خوش و خرم رہے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کی قسم مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم جہاں ہیں وہیں ان کے ایک کانٹا بھی چبھے ، اور ہم اپنے گھر آرام سے رہیں ، یہ جواب سن کر قریش حیران رہ گئے ، ابو سفیان نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ) کے ساتھیوں کی جتنی اس سے محبت ہے اس کی نظیر کہیں نہیں دیکھی ، اس کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے ۔
حضرت خبیث رضی اللہ عنہ ایک عرصہ تک قید رہے ،جحیر کی باندی جو بعد میں مسلمان ہوگئیں کہتی ہیں کہ جب خبیب رضی اللہ عنہ ہم لوگوں کی قید میں تھے تو ہم نے دیکھا کہ خبیب رضی اللہ عنہ ایک دن انگور کا بہت بڑا خوشہ آدمی کے سر کے برابر لئے ہوئے کھا رہے تھے اور مکہ میں اس وقت انگور بالکل نہیں تھا ، وہی کہتی ہیں کہ جب ان کے قتل کا وقت قریب آیا تو انہوں نے صفائی کے لئے استرہ مانگا ، وہ دیدیا گیا اتفاق سے ایک کمسن بچہ اس وقت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا ، ان لوگوں نے دیکھا کہ استرہ ان کے ہاتھ میں ہے اور بچہ ان کے پاس ، یہ دیکھ گھبرائے ، خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ میں بچے کو قتل کروں گا ، نہیں کرسکتا اس کے بعد ان کو حرم سے باہر لاگیا ، اور سولی پر لٹکانے کے وقت آخری خواہش کے طور پر پوچھا گیا کہ کوئی تمنا ہوتو بتاؤ، انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنی مہلت دی جائے کہ دو رکعت نماز پڑھ لوں کہ دنیا سے جانے کا وقت ہے ، اور اللہ جل شانہٗ کی ملاقات قریب ہے چنانچہ مہلت دی گئی ، انہوں نے دو رکعت نہایت اطمینان سے پڑھے اور فرمایا کہ مجھے خیال نہ ہوتا کہ تم
لوگ یہ سمجھو گے کہ میں موت کے ڈر کی وجہ سے دیر کررہا تو دورکعت اور پڑھتا ، اس کے بعد سولی پر لٹکائے گئے ، تو انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو تیرے رسول پاک صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم تک میرا آخری سلام پہنچادے چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کو بذریعہ وحی اسی وقت سلام پہنچایا ، حضور نے فرمایا و علیکم السلام یا خبیب رضی اللہ عنہ ، اور ساتھیوں کو اطلاع دی کہ خبیب کو قریش نے قتل کردیا ، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو جب سولی پر چڑھا یا گیا تو چالیس کافروں نے نیزے لے کر چاروں طرف سے ان پر حملہ کیا ، اور بدن کی چھلنی کردیا ، اس وقت کسی نے قسم دے کریہ بھی پوچھا کہ تم یہ پسند کرتے ہوکہ تمہاری جگہ محمد ( صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ) کو قتل کردیں اور تم کو چھوڑیں ، انہوں نے فرمایا واللہ تعظیم مجھے یہ بھی پسند نہیں نہیں کہ میری جان کے فدیہ میں ایک کانٹا بھی حضور کو چھبے ۔





تدبروایا اولی الالباب

تدبروایا اولی الالباب




تدبروایا اولی الالباب



حصہ دوم


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )




ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون ،

کا مصداق بن جاؤگے ، اگر تمام کے مسلمانوں کی نمازیں اکھٹے کئے جائیں کے اور ان تمام نمازوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی نمازیں صحیح تر کل تر اور مکمل تر ہیں ، جولوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان نمازوں طرح نمازیں پڑھنے ہیں یعنی سینے پر ہاتھ ہو نہ آمین پکار نی ہو نہ خلف امام سورئہ فاتحہ کا پڑھنا ہو نہ رکوع جاتے نہ رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین ہو ، ان لوگوں کی نمازیں صحیح ہیں یا ان لوگوں کی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان نمازوں کے خلاف نمازیں پڑھتے ہیں ، یعنی سر پر ہاتھ باندھ کر آمین پکارتے خلف امام سورئہ فاتحہ پڑھتے اور رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے رفیع الیدین کرتے یہ صاف اور ظاہر ہے ، ہر ذی عقل یہی کہے گا جو مقتدی ہوکر نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی ان نمازوں کی طرح نمازیں پڑھتے میں اور جو امام نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان اماموں کے


نمازوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں ، انہیں لوگوں کی نمازیں صحیح ہیں ، کامل ہیں مکمل ہیں ، یہ نمازیں سنّی حنفیوں کے ہیں ، فللہ الحمد ، اور ان سنیوں کے بھی نمازیں صحیح کامل ہیں جو اپنے اماموں کے فتواؤں پر عمل کرتے ہیں ۔

جن مقتدیوں کی نمازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان نمازوں کے خلاف ہو اور جن اماموں کی نمازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان اماموں کے خلاف ہو وہ بھی ناقص ، ناصحیح ، نامکمل اور ناکامل ہیں ، یہ نمازیں تمہارے لوگوں کے ہیں ۔






فلیزم ویتب المشتاھر ونادیہ واذنابہ ومقلدہٗ بفتح لام ۔
سردار دوجہاں کا ارشاد ہے ، جب امام ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہے تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب امام قرآن پڑھنا شروع کر دے تم خاموش رہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم پانچ وقت کے فرضوں میں بحالتِ امامت کم سے کم فی رکعت چار پانچ مرتبہ آواز سے اللہ اکبر فرماتے تھے ، آمین بحالت امامت ایک دو مرتبہ بلند آواز سے کرنے میں بھی اختلاف ہے ، اور تم آمین بلند آواز سے کہنے میں مقتدی ہوکر ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہو ، مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ تشبیہ کرتے ہو، بعض جگہ لڑکوں کو دو پیسے تین پیسے دے کر آمین بلند آواز سے کراتے ہو، جس کی کوئی اصل شرع میں نہیں ہے ، اللہ اکبر نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے بحالتِ امامت ہمیشہ بلند آواز سے فرماتے رہے ہیں ، اس میں کسی بھی(طرح کا) اختلاف نہیں ، یہی سنت اب تک پیش اماموں میں جاری ہے ۔ تم ایک وقت بھی مقتدی ہو کر بلند آواز سے اللہ اکبر نہیں پکارتے اور تقسیم تمہاری خیزی ہے ، (تیڑھی ) کیا تمہارے نزدیک آمین کی آواز اللہ اکبر سے بھی افضل ہے ؟ امید ہے کہ آپ لوگ پانچ وقت کی نمازوں میں ہر ایک رکعت میں چار پانچ مرتبہ مقتدی ہوکر اللہ اکبر کی آوازیں کستے رہوگے ، تمہاری مسجدیں گونجتے رہیں گے ، مردہ سنت کو زندگی بھی عطا ہوجائے اور تم کو سو شہیدوں کا درجہ بھی مل جائے گا ، ورنہ یہ دعوی تمہارا اور تمہارے مدیر کا ہم مردہ سنتوں کے زندہ کرنے کے در پے ہیں چھوٹ سمجھا جائے گا مجھے صرف تمہاری اصلاح مدنظر ہے کیونکہ تم بھی انسان اور مسلمان کہلواتے ہو ، تم تو مجبور ہو تمہارا کوئی قصور نہیں ، اس لئے کہ تم کو علم نہیں ، قصور تو اس کا
ہے جس نے تم کو گمراہ بنا دیا ہو ، اس وقت تمہاری ٹکڑی قلق اور اضطراب میں ہے ، نہ اس تمہارے طریقہ کو چھوڑ سکی ، اگر اس کو چھوڑ دیتے تو لو گ ان پر ہنستے ہیں ، اگر اس طریقہ پر رہیں گے تو بے اصل اور بے سند ہیں ، کوئی ایک بات اپنے دعویٰ کے مطابق ثابت نہیں کرسکتی چنانچہ ناظرین ہمارے اشتہاروں کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہوں گے کہ تین ہی سوالوں سے حدیث کی منڈی کا دیوالہ نکل گیا ، باقی دس ان پر قرض رہ گئے ، سنیوں کو لازم ہے اس قرض کا تقاضا ان سے ہمیشہ کرتے رہیں غرض
:
دوگونہ آفت ست جان مجنوں را
بلائے صحبت لیلیٰ و فرقت لیلیٰ



ایک شیعہ کو نماز پڑھتے دیکھا رکوع کے رفع الیدین کے علاوہ سجدے کو جاتے وقت اور سجدے سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے یہی ان کا مذہب ہے ، ان سے پوچھا یہ کس کی حکم ہے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھ کو دیکھتے ہو نماز پڑھتے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم رکوع جاتے وقت ، رکوع کرتے وقت ، رکوع سے اٹھتے وقت ، سجدے میں جاتے وقت ، سجدے سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے ، صحابہ رضی اللہ عنہ دیکھتے تھے لہٰذا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ثابت ہوگا ، میں نے کہا اس حدیث میں وہ کونسا لفظ ہے جو رکوع کے رفع الیدین اور سجدے کے رفع الیدین پر دلالت کرتا ہو ، یایہ ثابت کرو جس وقت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم رکوع اور سجدے کی رفع الیدین کی اسی وقت حدیث مذکور فرمائی ہیں ،یا یہ ثابت کرو کہ اس حدیث مذکور کو رفع الیدین کرنے سے پہلے فرمائی تھی ، یہ سن کر وہ حیران و ششد رہ گئے ، میں نے کہا وہابی بھی اس حدیث کو پیش کرتے ہیں جب ان سے سوال کرتے ہیں سینے پر ہاتھ باندھنا ، آمین پکارنا ، رفع الیدین کرنا کس کا حکم ہے ؟ وہابی تو کہتے ہیں سجدے کی رفع الیدین منسوخ ہوگئی ، اب تم شیعہ سچے ہو یا وہابی ؟ حقیقت یہ ہے کہ حدیث مذکور کو ان افعال کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ، نہ اس حدیث میں کوئی لفظ ایسا ہے جو افعال مذکور پر دلالت کرتا ہو بلکہ حدیث مذکور کا مطلب یہ ہے کہ ارکان نماز کو پوری طرح اطمینان سے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا کرو جس طرح مجھے ادا کرتے دیکھتے ہو ، اسی پر دلالت کرتا ہے ۔
ارشاد عزوجل ہے : ھم فی صلواتھم خاشعون ۔ اس لئے ارکان داخل ماہیت نماز ہیں افعال مذکور ، زاتد عن الارکان خارج عن الماھیت ، نماز میں حدیث مذکور ان افعال کے ثبوت میں پیش کرنا پیش کرنے والے کی بے علمی اور جہالت پر دلالت کرتا ہے ، باقی رہا وہابی کا کہنا سجدہ کی رفع الیدین منسوخ ہوگئی ، اصل میں یہ ہے ، رفع الیدین منسوخ ہوگئی ، خواہ وہ رکوع کی ہو یا سجدہ کی یا قعدہ میں بیٹھ کر سلام کرتے وقت ہاتھ اٹھانا ہو ، یہ مختصر ہے ، اس وقت مسئلہ کی تفصیل کی گنجائش نہیں ، ان شاء اللہ اگر موقع مل جائے یہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ ہدیہ ناظرین کردیا جائے گا ۔



تدبروایا اولی الالباب

تدبروایا اولی الالباب




تدبروایا اولی الالباب


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )


عقل سلیم اور ذہن مستقیم رکھنے والے حضرات ذیل کے مضامین پر غور و غوض فرمائیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم چند وقت کی نمازیں چند اماموں کی اقتدا میں ادا فرمائی ہیں ، چنانچہ کتب اصول و فروع کے واقفوں پر پوشیدہ نہیں ، اگر کوئی جاہل مرفوع القلم اس کو انکار کرے گا وہ قابل گرفت نہ کریگا ، بحالت اقتدا سینے پر ہاتھ باندھنا اور آمین پکارنا ، رکوع جاتے وقت رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا کہیں ثابت نہیں ، نہ ان اماموں سے بحالتِ امامت افعالِ مذکور کا کرنا ثابت ہے ، اگر افعال مذکور جزو ایمان ہوتے جیسے یہ فرقے سمجھ رہے ہیں ،
حضور ان اپنے اماموں سے افعال مذکور کرنے کے لئے نہ اللہ عزوجل کا حکم ہے نہ اللہ کے رسول کاحکم ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے حالت اقتدا میں ان افعال کو کیا ہے ، نہ کسی صحابہ نے مقتدی ہو کر افعال مذکور کیا ہو ، اور حضور نے دیکھ کر خاموشی فرمائی ہو ، نی رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے ان افعال مذکور سنت کرکے نام رکھا ہے اگر آپ لوگ افعال مذکور کو سنت کہتے ہو نام رکھنے میں سنیوں کی تقلید کرتے ہو ،
یہ تمہارے ہاں کفر و شرک ہے ، پس تم لوگ افعالِ مذکور کسی کے حکم سے کرتے ہو ؟ پتہ چلتا ہے کہ شاید محمد بن عبد الوہاب صاحب نجدی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب شیخ محی الدین لاہوری سابق نام ہری چند بن دویوان چند کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب ابو سعید بنارسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ؟
اغلب یہ ہے کہ مدیر معزز محمد صاحب جوناگڈھی کی اتباع و تقلید واقتدار کرتے ہو ، اس لئے تم لوگ محمدی بھی کہلاتے ہو ، جس میں نسبت محمد صاحب جو نا گذگی کی طرف ہے ، اس نے بھی تم کو محمدی بھائیو یعنی میرے بھائیو کر کے خطاب کیاہے ، یا محمد بن عبدالوہاب کی طرف نسبت ہوگی ، بنگلور اور لشکر میں ایک انجمن احمدی غلام احمد قادیانی کے پیروؤں کی تھی ، دوسری انجمن محمدی محمد صاحب جو ناگڈھی کے پیروؤں کی تھی ، ا ب معلوم نہیں ہے یا نہیں ، اللہ عزوجل نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے علماء مجتہدین و محققین کی اتباع اور تقلیدہ اقتدا کا حکم دیا ہے ، سب وہ صحابہ رضی اللہ عنہ ، سب وہ تابعین اور سب وہ تبع تابعین اور بے شمار فقہاء اور

محدثین جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچے تھے اور کروڑوں عوام اس حکم کی تعمیل کرچکے ہیں ، اللہ عزوجل نے تقلید کا اطلاق اپنے نبی علیہ السلام کے اوپر کہیں نہیں فرمایا ، نہ علماء کی اصطلاع میں مجتہدین کے واسطے اس لفظ کا اطلاق کہیں آیا ہو ،
ہم اس لفظ کا اطلاق پر نہیں کرتے ، اور ہم ہر ایک کے مرتبے کا لحاظ کرتے ہیں ، گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی ست اور ہزاروں علماء و فقہا ومحدثین و بے حساب عوام الناس اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں ، اور کرتے رہیں گے ، تم تو اس کو کفر و شرک کہتے ہو ، جو لوگ کم درجہ کے طالب علموں کی صف میں ہیں ،
جیسے ہم نے تمہارے چند بزرگوں کے نام اوپر گنوائے ہیں ، ان کی اتباع تقلید واقتدا تمہارے نزدیک بطریق اولیٰ کفر و شرک ہوگی خیر تم تو آزاد ، خود مختار و خود روہو ، جدھر جانا چاہتے ہو چلے جا سکتے ہو ، جس کوئیں میں کودنا چاہتے ہو کود سکتے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم سے ان چند نمازوں میںجو بحالتِ اقتدا ادا فرمائی ہیں ، سورئہ فاتحہ کا پڑھنا خلف امام ہرگز کہیں ثابت نہیں ، تم تو کہتے ہو جس نے امام کے پیچھے سورئہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز صحیح نہیں ، یہ بتلاؤ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی یہ نمازیں تمہارے نزدیک صحیح ہوگئے یانہیں ؟ ذرا غور کرو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی نمازیں میں، تم تو دلبر و جرأت والے ہو، کوئی جرأت نہ کر بیٹھو ۔






تاریخ کا زرّین ورق

تاریخ کا زرّین ورق


تاریخ کا زرّین ورق




 حضرت خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور شاعرہ ہیں ، اپنی قوم کے چند آدمیوں کے ساتھ مدینہ آکر مسلمان ہوئیں ، ابن اثیر کہتے ہیں کہ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی عورت نے ان سے شعر نہیں کہا نہ ان سے پہلے نہ ان کے بعد ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں 16؁ھ میں قادسیہ کی لڑائی ہوئی
جس میں حضرت خنساء اپنے چاروں بیٹوں سمیت شریک ہوئیں ، لڑکوں ایک دن پہلے بہت نصیحت کی اور لڑائی کی شرکت پر بہت ابھارا کہنے لگیں کہ میرے بیٹو ! تم اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے ہو اور اپنی ہی خوشی سے تم نے ہجرت کی ،
اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ جس طرح تم ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہو اسی طرح ایک باپ کی اولاد ہو، میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا نہ میں نے تمہاری شرافت میں دھبہ لگایا
نہ تمہارے نسب کو خراب کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کے لئے کافروں سے لڑائی میں کیا کیا ثواب رکھا ہے ؟ تمہیں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے
کہ آخرت کی باقی رہنے والی زندگی دنیا کی فنا ہونے والی زندگی سے کہیں بہتر ہے ، اللہ جل شانہٗ کا پاک ارشاد ہے :


یا ایھا الذین آمنوا صبروا و رابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون ۔



اے ایمان والو تکالیف پر صبر کرو ( اور کفار کے مقابلہ میں ) صبر کرو اور مقابلہ کے لئے تیار رہو تاکہ تم پورے کامیاب رہو ( بیان القرآن ) لہٰذا کل صبح کو جب تم صحیح و سالم اٹھو تو بہت ہوشیاری سے لڑائی میں شریک ہونا اور اللہ تعالیٰ سے دشمنوں کے مقابلے میں مدد مانگتے ہوئے بڑھو اور جب تم دیکھو کہ لڑائی زور پر آگئی اور اس کے شعلے بھڑکنے لگے تو اس کی گرم آگ میں گھس جانا اور کافروں کے سردار کا مقابلہ کرنا ان شاء اللہ جنت میں اکرام کے ساتھ کامیاب ہوکر رہو گے ، چنانچہ جب صبح کو لڑائی زوروں پر ہوئی لڑکوں میں سے ایک ایک نمبروار آگے بڑھتا تھا ، اور اپنی ماں کی نصحیت کو اشعار میں پڑھ کر اُمنگ پیدا کرتا تھا اور جب شہید ہوجاتا تھا تو دوسرا بڑھتا تھا ، اور شہید ہونے تک لڑتا رہتا تھا بالآخر چاروں شہید ہوئے اور جب ماں کو چاروں کے مرنے کی خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ان کی شہادت سے مجھے شرف بخشا مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کی رحمت کے سایہ میں ان چاروں کے ساتھ میں بھی رہوں گی ۔ ( اسد الغابہ )۔

ایسی بھی اللہ کی بندی مائیں ہوتی ہیں جو چاروں جوان بیٹوں کو لڑائی کی تیزی اور زور میں گھس جانے کی ترغیب دیں اور جب چاروں شہید ہوجائیں اور ایک ہی وقت میں سب کام آجائیں تو اللہ کا شکر ادا کریں ؟ ہمارے ماں بہنوں کی طرف دیکھئے کبھی بھی گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے ، ہر وقت ان کی دعا یہی رہتی ہے کہ یا اللہ میرے بچہ کو زندہ رکھ ، فقیر ہی بنا کر سہی ، ماں کی دعا کبھی خالی جاتی نہیں اسی لئے آج کل کے مسلمان سب فقیر بن کر دربدر پھر رہے ہیں ، ہمارے ماں بہنوں کو چاہئے کہ بھولے ہوئے سبق یاد کریں اور تعلیمات اسلام پر خود بھی باقاعدہ عمل کریں اور اپنے بچوں اور بھائیوں کو بھی عمل کرنے کی ترغیب دلائیں ، حضرت امام بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو درجہ آج حاصل ہے وہ ان کو ان کے مہربان ماں اور بہن کے طفیل ہی سے نصیب ہوا ، کیا آپ بھول گئے کہ صرف بچہ ( چودہ ) سال کی عمر میں حضرت امام بخاری رضی اللہ عنہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے جب گھر چھوڑتے ہیں تو ان کے ساتھ کون تھے ؟ ان کے مفلس الحال ماں اور بہن ، کیونکہ راستے میں سوائے پتوں اور کچھ کھانے کو نہ تھا ، آخر حضرت غوث پاک رضی اللہ عنہ کو جو درجہ آج حاصل ہے کیااس کا سبب ان کے مہربان ماں نہیں ہیں؟ آپ کے بیوہ ماں ہی تو تھے جنہوں نے چالیس دینار بغل کے نیچے سی کر سچ بولنے کی ہدایت کی تھی ۔

کاش ہمارے بھی ماں بہنیں اپنا کام انجام دیتے ۔



حسام اسد اللہ لحسوم من علیٰ قلبہ ختم اللہ

حسام اسد اللہ لحسوم من علیٰ قلبہ ختم اللہ

حسام اسد اللہ لحسوم من علیٰ قلبہ ختم اللہ


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )






قارئین کرام کی توجہ ایک دعویٰ اور چند سوالوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ، اس  زمانے میں جب لوگ مذہب سے دور ہو رہے ہیں اور مذہبی معلومات سے تو کوئی دور کا بھی واسط نہیں رکھتے ، ہر ایک اہل رائے اپنے رائے اور سمجھ پر نازاں ہے خصوصاً فرقہ حدثی ، انکا دعویٰ ہے ، جو چیز حدیث صحیح سے ثابت نہیں ہے وہ سب حرام ناجائز اور بدعت شنیع ہے ، یہ دعویٰ کر کے بہت سے مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹا کر گمراہ بنا رہے ہیں ، ان کے اس دعویٰ پر بہت سے سوال وارد ہوسکتے ہیں ، یہاں گنجائش نہ ہونے کے سبب سے تین سوالوں کے اوپر اکتفا کرتا ہوں ۔


سوال (1) مقتدی ہو کر سینے پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا


( 2)


مقتدی ہو کر نماز میں آمین پکار کر کہنا


(3)


 مقتدی ہو کر رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا نہ حدیث قولی سے ثابت ہے نہ حدیث سے فعلی سے نہ حدیث تقریری سے ثابت ۔




سید عالم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم چند وقت کی نمازیں مقتدی ہوکر پڑھی ہیں حالت اقتدا میں ان
افعال کا کرنا ہرگز کہیں ثابت نہیں ہے ، لہٰذا افعال مذکور اس فرقہ کے نزدیک حرام ناجائز بدعت شنیع ہے ، ان افعال کا کرنے والا بدعتی ہے ، اللہ عزوجل کے نزدیک بدعتی کی نماز مقبول نہ روزہ ، نہ زکوٰۃ ، نہ حج نہ نفل نہ فرض ، حدیث شریف میں آیا ہے ، ’’ بدعتی دوزخیوں کے کتے ہیں ‘‘ مسلمانوں کو لازم ہے کتّوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں ، اور کتوں کو اپنے مسجدوں سے باہر نکال کر پھینکیں ، اس زمانے کے جاہل کہتے ہیں کہ بد مذہبوں کو کتے وغیرہ برے الفاظ سے یاد کرنا نہیں ، جب اللہ پاک نے ان کو جہنمی بنایا اور اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو دوزخیوں کے کتے بنایا اور ہم کو اللہ و رسول کی پیروی کرنا ضروری ہے ، ہم کو بھی وہی کہنا لازم ہے ، جو اللہ اور رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان کے متعلق فرمایا ، لہٰذا کوئی نادان جاہل ہمارے اوپر اعتراض نہ کرے ، ہاں افعال مذکور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے حالت امامت میں ایک دو مرتبہ کرنا ثابت ہیں اس میں بھی اختلاف ہے اس حالت کے متعلق سوال بھی نہیں ، سوال مذکور کسی مقلد پروار نہیں ہوتے ، اس لئے کہ مقلد کو صرف اللہ و رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے اپنے امام اور مجتہد کے فتویٰ کی دلیل اور سند مجتہد کے پاس موجود ہے ، چنانچہ کتب اصول فروع میں شرح موجود ہے اور دلیل طلب کرنا مقلد سے جہالت اور بدعت پر بدعت ہے ، یہ شرذمۂ قلیل پانچ وقت کی نمازوں میں ان افعال کو کرتے ہیں ، اپنی نمازوں کو اکارت اور ضائع کرتے ہیں ، ان افعال کو اپنے دعویٰ میں حرام کہتے ہیں ، کرنے میں افعال کو جزوی نماز سمجھتے ہیں ۔
گر فرق مراتب نکنی زندیقیست 
اللہ اس فرقہ کو سمجھ دے ، ہم ازروئے اسلام ان کو اطلاع دیتے ہیں ، تم لوگ اس اعتقاد فاسد سے توبہ کرو ، باز آجاؤ ، تمہارے واسطے بہتر ہوگا ورنہ ندامت کرنی پڑے گی وہ ندامت تم کو کچھ فائدہ نہ دے گی ۔
وسعلم الذین طلمویٰ منقلب ینقلبون 
( انتباہ )
دعویٰ مذکور کے مطابق اگر کوئی جواب دے تو دوبارہ اس کی طرف توجہ کی جائے گی ، مگر یاد رہے کہ اس فرقہ کے اکابر و اصاغر مجتمع ہوکر ایک دوسرے کی مدد کریں پھر بھی جواب دینے سے عاجز ہیں اور عاجز ہی رہیں گے ۔نہ خنجر اٹھے گی نہ تلوار ان سے 
میرے بازواں آزمائے ہوئے ہیں 
اگر سب شتم کریں اس کا جواب ہماری طرف سے نہ ہوگا اس فرقہ کی عادت ہے جب جواب دینے سے عاجز آتے ہیں تو کچھ بُرا بھلا کہتے ہیں حال ہی میں ایک خبر آئی ، حدثی کمیٹی کے متبعین سب شتم ، دلال ، قوال نقال و بقال بہت کچھ اگل دیئے ہیں ، جس کی تعفن اور بدبو سے کمیٹی کے ممبروں کو ناک میں دم آیا اور شاتم کو اختلاج قلب لاحق ہونے کا اندیشہ تھا ، ہمیں منکر حدثی ذہنیت پر افسوس بھی نہ آیا کیونکہ وہ اس کے خوگر ہیں ، شاتم کو اس کا نفع اور نقصان خود ہی معلوم ہوجائے گا شاتم کے واسطے کافی ہے۔

شاعرِ حمدونعت طاہرؔ سُلطانی کی حمدیہ و نعتیہ شاعری پر اہل علم و قلم کی آراء

شاعرِ حمدونعت طاہرؔ سُلطانی کی حمدیہ و نعتیہ شاعری پر اہل علم و قلم کی آراء


شاعرِ حمدونعت طاہرؔ سُلطانی کی حمدیہ و نعتیہ شاعری پر
اہل علم و قلم کی آراء

محترم طاہرؔسُلطانی صاحب ایک اچھے نعت خواں ہی نہیں بلکہ سُلجھے ہو ئے نعت گو شا عر بھی ہیں۔ سُلطانی صاحب کی نعتیں سننے کا اتفاق کئی مرتبہ ہوا ہے ۔ ماشا ء اللہ خوب پڑھتے ہیں اور خو ب کہتے ہیں۔محترم طاہر صاحب ایک درویش صفت مسکین طبع نوجوان ہیں جن کا باطِن ان کے ظاہر کی طرح صاف معلوم ہو تا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی نعتیں سُن کر اور پڑھ کر معلوم ہو تا ہے کہ حضور اکرمﷺ کی تعظیم و تکریم اور حضورﷺ کے عشق و محبت کی شمع ان کے دل میں درخشاں اور تاباں ہے یقین ہے کہ حضور کی تعظیم و تکریم اور حضور کے عشق و محبت کا جذبہ طاہر ؔ صاحب کو قربِ خدا اور رضائے مصطفی ﷺ کی منزل تک پہنچانے میں انشاء اللہ الرحمن ممدو معاون ثابت ہو گا ۔اللہ تعالیٰ اپنے محبوب مکرمﷺ کے طفیل جناب طاہرؔسُلطانی صاحب کی نعتوں کو مقبولیت عطا فرمائے اور اسے ان کے لئے تو شئہِ آ خرت بنائے۔آمین …{علامہ سیّد ریاض الدین سہروردی}
ژژژژژ
ان کی نعتوں کی زبان نہایت سادہ، بیاں دلکش اور محبت رسولﷺ سے سرشار ہے۔ انہوں نے اپنی نعتوں میں شمائل رسول، اسوۂ رسول، مدینہ کے دلکش مناظرکا اظہار بڑے خلوص سے کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی نعتیں تاثیر سے لبریز ہیں اور دل و روح کی بالیدگی کا سبب ہیں…{تابش دہلوی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی نے نعتوں میں مکمل احتیاط سے کام لیا ہے۔ جناب طاہر نے مبالغے اور غلو سے دامن بچایا ہے اور خدا اور رسولﷺ کے فرق و امتیاز کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے نہایت سلیقے سے نعتیہ اشعار کہے ہیں۔ ان کی نعتوں کا مطالعہ کیا۔مجھے اطمینانِ قلب اور روحانی مسرت حاصل ہوئی…{راغب مراد آبادی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی صاحب کے یہاں حضور اکرمﷺ سے والہانہ اظہار بھی ہے اور اظہار میں وجدانی کیفیت کی سرشاری بھی چنانچہ ان کی نعت سُن کر اور پڑھ کر ان کے قاری کا وجدان بھی جھوم جھوم اٹھتا ہے۔ بلاشبہ ان کی نعتیں اُردو کی نعتیہ شاعری میں ایک نمایاں اور لائق تحسین اضافہ ہیں اور حقیقت میں یہی نعتیہ شاعری ان کی شہرت و عظمت کا بلکہ ہر نعت گو کی شہرت کا سبب ہے…{ڈاکٹر فرمان فتح پوری}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی کے مجموعے میں جابجا ایسے اشعار ملیں گے جو رسالت پر ان کے ایمان اور رسول اکرمﷺ سے ان کی والہانہ مودت و ارادت اور ان کی عقیدت کی بین دلیل ہیں۔ بہرحال یہ بات باعثِ تشکر و امتنان ہے کہ طاہرؔسُلطانی کی نعتیہ شاعری میں عقیدت آفریں جذبات کی فراوانی اور خیالات کی روانی کے ساتھ ساتھ مضامین کا تنوع پایا جاتا ہے جو بلاشبہ ان کی نعت گوئی کی قدرت پر دلالت کرتا ہے…{محسن بھوپالی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی بھی ایک نعت گو ہیں، وہ حضور کا سراپا ہی بیان نہیں کرتے بلکہ وہ اس بات کا بھی برملا اظہار کرتے ہیں کہ حضور کی سیرت کی تعلیم ہمارا اوّلین فریضہ ہے۔ ہماری نجات اس میں ہے۔ اس بات کے لیے وہ مختلف پیرائے اختیار کرتے ہیں۔ عقیدت کے جذبے میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں اور گوہر مراد پاتے ہیں۔ حضورﷺ سے ان کی والہانہ محبت صرف شاعرانہ احساسات تک نہیں، وہ اپنی عملی زندگی میں بھی ایک سچے عاشقِ رسولﷺنظر آتے ہیں…{ڈاکٹر حسرت کاسگنجوی}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی اپنے پاکیزہ جذبوں سے ہی دل موہ نہیں لیتے بلکہ ان کی شاعرانہ استعداد بھی چونکا دینے والی ہے کیونکہ انہوں نے اظہار کے لیے مشکل پسندی کا ثبوت دیا ہے اور زبان و ہیئت کے تجربوں سے بھی گزرے ہیں۔ ان کی مشکل پسندی قاری کو گراں نہیں گزرتی۔ وہ طویل ردیف اور تکرار لفظی سے تنوع اور دلچسپی پیدا کردیتے ہیں ۔ اس کے کئی نمونے ان کے مجموعہ میں موجود ہیں…{پروفیسر شفقت رضوی }
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی کی حمدیہ کتاب ’’حمد میری بندگی‘‘ اس وقت میرے پیش نظر ہے جو مکمل طور پر حمد اور مناجات کے موضوع پر مبنی ہے۔ نئی نسل کے شاعروں کی مانند طاہرؔ سُلطانی نے بھی کہیں پابند ، کہیں آزاد نظم کا پیرایۂ اظہار اور ہیئت استعمال کی ہے تو کہیں غزل کی مروّجہ خارجی شکل! علاوہ ازیں کچھ ’’ہائیکو‘‘ اور چند ’’حمدیہ ماہیے‘‘ بھی اس مجموعہ میں شامل ہیں۔ جہاں تک خالقِ کائنات کی توصیف و ثنا کا تعلق ہے اس باب خاص میں طاہرؔ سُلطانی کا تخلیقی روّیہ نہایت محتاط اور متوازن ہے۔ موضوع جن نزاکتوں اور احتیاطوں کا متقاضی ہے طاہرؔ سُلطانی کی بیشتر حمدیہ کلام ان کی آئنہ دار ہیں…{پروفیسر منظر ایّوبی}
ژژژژژ
کلام میں کہیں کہیں جدّت بھی ہے، حسن معنی بھی ہیں۔ لیکن سادگی ان کے مزاج کی، ان کی شاعری پر بھی سایہ فگن ہے اس لئے دور از کار خیالات سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔قدرت کو طاہرؔسُلطانی سے شاید ابھی بہت کام لینا ہے وہ اپنی دھن کے پکے، خوشامد اور چاپلوسی سے دور (اللہ انہیںمستقبل میں بھی دور ہی رکھے۔آمین) اور اس پُر آشوب دور میں ان کے شب و روز وقف ذکر حمدونعت ہیں۔ سب سے بڑا وصف ان کا یہ ہے کہ وہ گروہی تعصبات سے بالکل بے نیاز ہیں۔ خداوند کریم ان کے ارادوں میں کامیابی اور ان کی محبت کو قبول فرمائے۔آمین…{ادیب رائے پوری}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی مزاج کے سادہ اور اخلاق و کردار میں خوشگوار استقامت رکھنے والے ایک بلند ہمت اور صالح جوان ہیں جنہوں نے اپنی علم دوستی اور ادبی دلچسپی ، صحافت ، طباعت و اشاعت کے امور میں معنی آفریں پیش رفت کے باعث اپنا ایک مقام اور مرتبہ منوالیا ہے۔ وہ ہر دلعزیز کے منصب پر پہنچے ہیں اور آج ایک دنیا ان کی معترف ہے۔ ان کی ایک درجن سے زیادہ تصانیف و تالیفات منظر عام پر آچکی ہیں۔ مگر جس بات نے انہیں اتنا اہم اور معتبر بنادیا ہے وہ حمد و نعت سے ان کا گہرا شغف اور بے مثال عملی تگ و دو ہے۔ ان کی زندگی کا یہی پہلو ان کی ساری شخصیت اور فن کو روشن اور تابناک بنائے ہوئے ہے۔ موضوعات کے حوالے سے بھی اور تربیتِ ذات کے حوالے سے بھی…{پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم}
جناب طاہرؔسُلطانی کو میں ایک خوش فکر نعت گو اور خوش الحان نعت خواں کی حیثیت سے عرصۂ دراز سے جانتا ہوں۔ محافل نعت کی میزبانی بھی ان کا ایک طرۂ امتیاز ہے۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر مجھے ان کے اس جذبے نے متاثر کیا ہے وہ حمد باری تعالیٰ کی جانب ان کی مسلسل توجہ اور اس کی ترویج کے لیے ان کی سعیٔ پیہم ہے۔ مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے انہیں بہت سی مخالفتوں کا سامنا بھی کرنا


پڑا یہاں تک کہ کچھ اپنے، پرائے ہوگئے لیکن ان کے پاس استقلال میں لغزش نہیں آئی بلکہ وہ اور ’’تیزگام‘‘ ہوگئے۔فروغِ حمد کے ضمن میں طاہرؔسُلطانی صاحب کا ادارہ ’’جہانِ حمد پبلی کیشنز‘‘ گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ سعادت بھی اُن ہی کے حصے میں آئی کہ وہ ہر انگریزی مہینے کے پہلے اتوار کو طرحی حمدیہ مشاعرہ منعقد کرتے ہیں۔ ان کی زیر ادارت شائع ہونے والا ماہنامہ ’’ارمغانِ حمد‘‘ ملک بھر میں اپنی نوعیت کا واحد جریدہ ہے جو حمدیہ شاعری کے لیے وقف ہے۔ اس مناسبت سے طاہرؔسُلطانی کہتے ہیں    ؎
سامنے نظروں کے تھی رنگیں جریدوں کی بہار   ہم نے حمدِ پاک کے طاہرؔ شمارے ہی چُنے
{ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی دینی پس منظر کے نوجوان شاعر ہیں۔ طاہرؔسُلطانی نے نعت گوئی کے تازہ پیرایوں پر خصوصی توجہ دی ہے، ان کے کلام میں قلبی کیفیات اور عقیدت کا والہانہ اظہار ملتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ نوجوان نعت گو شعراء کے مجموعوں میں طاہرؔسُلطانی کا نعتیہ کلام خوشگوار اضافہ ہوگا…{پروفیسر سحر انصاری}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی، صحافی بھی ہیں اور تحقیق نگار بھی اور ایک دلنواز شخصیت کا پرتو بھی۔ بالآخر میں یہ کہوں گا کہ یہ سب خدا کی دین ہے کہ وہ طاہر ہیں اور وہ بھی سُلطانی۔ طاہرؔسُلطانی جہاں اپنی عقیدت مندی کو اپنی نعت کی بنیاد بناتے ہیں، ہاں دوسری طرف اسلام کے پیغام اور اس کی افادیت کو بھی بڑی تاثیر سلاست روی اور خیال آفرینی کے ساتھ بیان کرتے ہیں…{ڈاکٹر نظر کامرانی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی نے شاعرانہ نزاکتوں اور لفظی و معنوی صنفوں سے بڑا کام لیا ہے اور اس معاملے میں تکلفات سے کام نہیں لیتے بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے محسوسات کو لفظ و بیاں کے پیکر میں ڈھال دیتے ہیں۔طاہرؔسُلطانی سادگی اور بے ساختگی کا جوہر رکھتے ہیں…{پروفیسر آفاق صدیقی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی بہت اچھے نعت خواں اور جانے پہچانے نعت کے شاعر ہیں جس کی گواہی بہت سے لکھنے پڑھنے والوں نے دی ہے۔ مگر میں ان کی حمدیہ شاعری پر مختصر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ کئی حمدیہ کتابوں اور کئی حمدیہ جریدوں کے اشاعتی کارنامے کے علاوہ طاہرؔسُلطانی نے کچھ دوسرے ذریعوں سے بھی حمد کے ارتقاء اور اس کے فروغ میں اضافے کئے ہیں۔ انہوں نے حمدیہ مصرعے دے کر حمدیں لکھوائیں اور ان حمدوں کو اپنے جریدے’’ارمغانِ حمد‘‘ میں شائع کرتے رہے۔ وہ خود ایک اچھے حمد خواں اور حمد نگار رہے ہیں جو اپنی خوب صورت آواز کے پرکشش لحن کے ساتھ حمد کو عام لوگوں کی مقبولیت تک لے گئے ہیں۔ طاہرؔسُلطانی نے حمد کا کام کسی ایک شخص کی طرح نہیں کیا بلکہ انہیں ایک ادارے کی سی اہمیت و شہرت حاصل ہوگئی ہے…{پروفیسر جاذب قریشی}
ژژژژژ
ہم پھر اس بات کو دہراتے ہیں کہ طاہرؔ سُلطانی کے ہاں شاعرانہ بے باکیاں ہرگز نہیں ، شروع تا آخر ان کا دامن اس آلودگی سے پاک نظر آتا ہے۔ لگتا ہے بے خودی میں بھی وہ خودی کی لذت سے آشنا رہتے ہیں ، رہوار شاعری کو کھُلا نہیں چھوڑ دیتے ، حمد و نعت کے بیان میں تمام آدابِ کو ملحوظ رکھتے اور ان پابندیوں پر سختی سے عمل کرتے ہیں جو اس موقع کے لیے ضروری قرار دی گئی ہیں وہ اللہ اور اس کے محبوب کے درمیان خالق و مخلوق اور عابدو معبود کے فرق کو ایک لمحہ کے لیے بھی ذہن سے محو نہیں ہونے دیتے۔
عاشقانِ رسولﷺ اپنے آقا و مولا کے حضور نعت کا نذرانہ پیش کرکے، درحقیقت اپنے ربِّ اکبر کی سنّت اَدا کرتے ہیں۔ شمع رسالت کے ان پروانوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ان کا تعین کرنا کار مشکل ہے، یوں بھی اس کی چنداں ضرورت نہیں۔ تاہم اس وقت بستانِ محمدﷺ کے جس طوطیٔ خوش نوا کا تذکرہ پیش ہے اس کا نام طاہرؔسُلطانی ہے جو حمدونعت کو اپنی سانسوں کے زیروبم سے منسلک کرچکے ہیں۔ اس مشغلۂ روحانی کو مختلف رنگ و انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس وقت میرے سامنے ان کی جو نئی کاوش موجود ہے وہ اس اعتبار سے خاصی تنوع اور طرح دار ہے کہ بجائے خود نعت کی نعت ہے، اس کو طاہرؔسُلطانی نے ’’قصیدہ نعت‘‘ کا عنوان دیا ہے، اس طویل نظم کے اندر انہوں نے نعت کو مختلف رُخوں سے متعارف کرایا ہے جو پڑھنے اور سُننے سے تعلق رکھتی ہے۔ عشق و مستی کا ایک زمزمہ ہے جو شروع سے آخر تک بہتا چلا جاتا ہے۔ اس روانی کا سبب یقینا طاہرؔسُلطانی کا وہی خلوص عشق ہے جو حمدونعت کہتے وقت ان کے اندر کار فرما رہتا ہے۔ ان کے ہاں تصنع، بناوٹ اور عام شاعری کا سا تکلف ہرگز نہیں مِلتا، کہ یہی تو ان کے کلام کی خوبی، خوبصورتی اور ان کے ذوق و شوق کی حسین علامت اور دلیل ہے۔ میری دُعا ہے، اللہ تعالیٰ ان

کی اس متاعِ عزیز کی خیر کرے، اور حمدونعت کی صورت میں ان کے نذرانہ ہائے خلوص و محبت کو شرف قبولیت بخشے۔آمین…{پروفیسر خیال آفاقی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی نعت خواں بھی ہیں اور نعت گو بھی۔ ان کی نعتوں میں سوز بھی موجود ہے اور ساز بھی، وہ لفظوں کو برتنے کا ہنر جانتے ہیں اس لئے نعت پاک کو نعت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر لکھتے ہیں۔ ان کے کلام میں مقامات جنبش ابرو شاذ و نادرہی آتے ہیں، ہر جگہ التجا اور دعا کا لہجہ کار فرما ہے، انکسار اور عاجزی ان کی فکر ایمان کی طرح پیوست ہے لہٰذا نہ اظہار میں کوئی فخر و مبالغہ ہے نہ کردارمیں کوئی منافقت…{خواجہ رضی حیدر}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی وہ قابلِ مبارکباد سُخن ور ہیں جنہوں نے اپنے دل، اپنی فکر، اپنے احساس اور اپنے قلم کو حمدِ باری تعالیٰ کی تخلیق کے لیے وقف کرنے کا باسعادت فریضہ نہ صرف مکمّل خلوص اور یکسوئی کے ساتھ اختیار کیا بلکہ اُسے ثابت قدمی سے برقرار بھی رکھّے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے نام کے ساتھ بصد افتخار ’’شاعرِ حمدونعت‘‘ لکھتے ہیں اور ان کو حمد نگاری سے طویل اور عقیدت آثار وابستگی کی بِنا پر اس کا حق بھی ہے۔ مجموعۂ سخن ’’حمدِ کردگار‘‘ جو حمدیہ کلام اور مناجات پر مشتمل ہے، جہاں طاہرؔسُلطانی کی شاعرانہ صلاحیتوں کا عکس گرہے وہاں اُن کے اُس صدقِ دل اور اخلاص فراواں کا بھی آئینہ دار ہے جو اُن کی ہر حمد کے پیکر میں دل بن کر دھڑک رہا ہے۔میں برادرم طاہرؔسُلطانی کو خلوصِ دل کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور بارگاہِ ایزدی میں دُعا گزار ہوں کہ اس شاعرِ حمدونعت کی توفیقات میں نہ صرف اضافہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس حمد نگار کی پُرخلوص کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا کرتے ہوئے طاہرؔسُلطانی کو اپنی بے پایاں رحمتوں،برکتوں اور نعمتوں سے نوازیں اور اِتنا نوازیں کہ طاہرؔسُلطانی زندگی بھر حمدونعت تخلیق کرکے اَدائے شُکر کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں…{پروفیسر حسن اکبر کمال}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی اس لحاظ سے قابلِ قدر ہی نہیں قابلِ رشک حیثیت کے مالک ہیں کہ وہ اپنے سارے وسائل اپنی ساری توانائی ان دو عظیم اصناف حمد و نعت کی آبیاری اور ترویج و ترقی پر صرف کررہے ہیں۔ایک ایسے زمانے میں جب ادب ، سیاست ، مذہب غرض ہر چیز کمرشل ہوگئی ہو، خدا اور محبوبِ خداﷺ کے ذکر و فکر کو اپنی زندگی اور تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور بنا لینا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور یہ سعادت بہ زور بازو بھی نہیں ہے…{پروفیسر علی حیدر ملک}
ژژژژژ
الحمدللہ! طاہرؔسُلطانی انہی مقاصد و عزائم کو ساتھ لے کر حمد و نعت نگاری کا حق ادا کررہے ہیں، ان کے یہاں خلوص ، دردمندی اور تڑپ کے ساتھ ساتھ (حسب توفیق) فنی اور معنوی التزامات بھی نظر آتے ہیں، وہ کوشش کرتے ہیں کہ نئی زمینیں پیدا کریں ، نئی اور شگفتہ ردیفیں لائیں اور ان ردیفوں کی مناسبت سے اچھے قوافی کا بندوبست کرتے ہوئے نئے نئے مضامین کے لیے گنجائش پیدا کریں۔ لفظیت اور شعریت میں وہ غنائی نظام بھی ان کے مد نظر ہے جو ’’نعت گوئی‘‘ کا ساز و سامان فراہم کرسکے۔ اگر اچھی نعت گوئی کو اچھی نعت خوانی کا وسیلہ ہاتھ آجائے تو نعت کی تفہیم و ابلاغ اور اس کے ذریعے سے دینی تبلیغ کی قدرتی فضا ہاتھ میں آجاتی ہے…{پروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی}
ژژژژژ
حمد باری تعالیٰ کے شعبے میں نسبتاً کم لکھا گیا۔ مگر کراچی کے جناب طاہرؔسُلطانی نے اس شعبے کو بھی چار چاند لگادیے۔ یہ دبلا پتلا خوش مزاج انسان بلا کی ہمت رکھتا ہے اور اپنی زندگی حمدباری تعالیٰ کے لئے وقف کرچکا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت و حاکمیت کا پرچم لہرارہا ہے۔ ایسے باہمت لوگوں کو دیکھ کر اپنی کم ہمتی پر افسوس ہوتا ہے۔ یہ لوگ اس دنیا ہی میں اپنے لئے جنّت بنارہے ہیں۔ یہ شریف النفس انسان اللہ تعالیٰ کا عاشق ہے۔ یہ نعت گو شاعر بھی ہے اور نعت خواں بھی مگر حمدِ خدا کے سلسلے میں ہمہ تن مصروف رہتا ہے۔ ان کے صاحبزادگان بھی اس سلسلے میں ان سے بھرپور معاونت کرتے ہیں۔ طاہرؔسُلطانی حمد کے سلسلے میں وہ بڑے بڑے کام کررہے ہیں جو بڑے بڑے اداروں کے بھی بس میں نہیں۔میں جب نور احمد میرٹھی (مولف’’بہرزماں بہرزباں‘‘) اور جناب طاہرؔسُلطانی جیسے دیندار، مخلص اور محنتی لوگوں سے ملتا ہوں تو میرے اندر ایک روحانی قوت سمٹ کر آجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے…{ضیاء الحق قاسمی}
ژژژژژ
اُردو میں حمد کے حوالے سے طاہرؔ سُلطانی کی خدمات سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ اس نے مجلّہ ’’جہانِ حمد‘‘ جاری کیا ، ماہنامہ ’’ارمغانِ حمد‘‘ کی باقاعدہ اشاعت اس کا بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ ان دونوں رسالوں کی خصوصی اشاعتیں اس پر مستزاد ہیں۔ پھر ’’خزینۂ حمد‘‘ ، ’’اذانِ دیر‘‘ ، ’’حریمِ ناز میں

صدائے اللہ اکبر‘‘ اور ’’اُردو حمد کا ارتقا‘‘ ایسی تصانیف و تالیفات ہیں کہ حمد پر کام کرنے والا ان سے صرفِ نظر نہیں کرسکتا۔ ’’حمد میری بندگی‘‘ اس کا مجموعۂ حمد ہے۔ نعت کے حوالے سے اس کے فن کا ارتقا ’’مدینے کی مہک‘‘ سے ’’نعت میری زندگی‘‘ تک کے سفر سے واضح ہوتا ہے ۔ حال ہی میں اس کی ایک اور تالیف ’’خوشبوئوں کا سفر‘‘ پنجاب کے نعت گویانِ اُردو کے انٹر ویوز کا مجموعہ ہے۔ ماہانہ حمدیہ مشاعروں کا اہتمام بھی ساتھ ساتھ ہورہا ہے۔ اب تک اس کی فتوحات سے مترشح ہوتا ہے کہ میری عمر کو پہنچتے پہنچتے مجھ سے کہیں زیادہ کام کرلے گا۔ خدا کرے اس کی ’’جنّیت‘‘ کے مظاہر بھی زیادہ ہوں اور اس کی عمر بھی مجھ سے کہیں زیادہ ہوتا کہ وہ حمد اور نعت کے ضمن میں زندہ رہنے والا بہت زیادہ کام کرسکے۔اس لحاظ سے میں طاہرؔ سُلطانی کو اپنا محسن سمجھتا ہوں کہ اس نے مجھے حمد کی راہ پر لگایا…{راجا رشید محمود۔ لاہور}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی ایک عمرسے نعت خوانی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد نعت قرار دیا ہے، ایک ایسا والہانہ لگائو ان کو شہنشاہِ دوعالم سرورِ کونین محمد مصطفیٰﷺ سے ہے کہ وہ ہر وقت تعریف و توصیف اور ثنائے خواجہ میں مستغرق نظر آتے ہیں۔ نعت نبی میں کھوکر انہوں نے نعت کو اپنی زندگی قرار دیا ہے…{اقبال عالم}
ژژژژژ
عصر حاضر میں جو نوجوان شعراء نعت نگار کی حیثیت سے متعارف ہوئے ہیں ان میں طاہرؔسُلطانی کا نام بھی نمایاں ہے۔ عشقِ سرکارِ دوعالمﷺ کی دولت بے بہا انہوں نے وراثت میں پائی ہے۔ جس کا اندازہ ان کے حال اور قال سے بخوبی ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے نعتیہ اشعار میں جو کچھ کہا ہے وہ فیضان محبت کے زیر اثر راہوار تخیل کی صحیح سمت کی جانب جولانی کا مظہر ہے…{رشید وارثی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی حمدونعت گوئی میں ایک معتبر نام ہے۔ انہوں نے نہ صرف حمدیں ،نعتیں کہیں بلکہ حمدونعت کہنے والے شعراء کے کلام کو متعارف کرانے اور ان میں شوق کو مزید منہمک کرنے میں نمایاں کام انجام دیا ہے۔ وہ شاعر ہونے کے علاوہ ایک صحافی بھی ہیں۔ طاہرؔسُلطانی کی نعتیں انتہائی سادہ اُسلوب میں ہیں۔ ان کی نعتوں میں مدینہ بلائے جانے کی آرزوئوں اور بار بار روضۂ اقدس پر حاضری کی کی تمنائوں کا ذکر کثرت سے موجود ہے…{پروفیسر ڈاکٹر عزیز انصاری۔ ٹنڈوآدم}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی ملک کے معروف نعت گو اور نعت خواں ہیں۔ انہوں نے مشاعروں کے ناظم کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے لیکن ان کا اصل حوالہ ’’جہانِ حمد‘‘ اور ’’ارمغانِ حمد‘‘ کی ادارت ہے۔ یہ دونوں رسالے جاری کرکے انہوں نے وقت کی ایک بہت بڑی ادبی و دینی ضرورت کو پورا کیا ہے اور اس ضمن میں اوّلیت کا شرف بھی حاصل کرلیا ہے…{پروفیسر افضال احمد انور۔فیصل آباد}
ژژژژژ
جناب طاہرؔسُلطانی کی شخصیت کے کئی گوشے ہیں۔وہ ایک نعت خواں بھی ہیں اور حمدونعت کے معتبر شاعر بھی۔حمدونعت کے فروغ کے لئے مختلف جہتوں میں کوشاں بھی ہیں۔ نعت کے کئی ماہنامے وطنِ عزیز میں شائع ہو رہے ہیں لیکن خالصتاً حمد کے موضوع پر ان کی کوششیں اپنی مثال آپ ہیں۔طاہرؔسُلطانی صاحب نے ’’ارمغانِ حمد‘‘ اور’’جہانِ حمد‘‘ کے ذریعے صنفِ حمد پر سب سے زیادہ اور وقیع کام کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ماہانہ حمدیہ مشاعروں کا پابندی سے اہتمام حمدیہ ادب میں اضافے کا ایک کامیاب سبب ہے جس سے شعراء میں نعت کے ساتھ حمد کہنے کا رجحان بڑھا ہے۔ان ہی کوششوں کی برکت سے کئی حمدیہ مجموعے منظرِ عام پر آئے ہیں جبکہ اس سے پہلے خال خال ہی حمدیہ کتب شائع ہوئیں۔اب طاہرؔسُلطانی ایک شخص کا نام نہیں ہے۔انہوں نے ادارے کی شکل اختیار کرلی ہے اور ایسا ادارہ جس میں پاکیزگی و تازگی اور تابندگی ودر خشندگی پورے طورپر جلوہ گر ہے…{نوراحمد میرٹھی}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی کی نعت پڑھتے ہوئے ہمیں جو باتیں اُن کی نعت میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ذکر مدینہ،دیدِ گنبدِ خضریٰ اور برکاتِ درود پاک ہیں۔مدینہ محبانِ نبی رحمتﷺ کی جان میں بسا ہوا ہے۔اسی طرح درود پاک وہ وظیفہ ہے جو زبان کا ذکر اورقلب و روح کی روشنی ہے اور گنبدِ خضریٰ کی دید سے عاشق آنکھوں کی طراوت بھی حاصل کرتے ہیں اور درجہ ایمان کو بھی یہ بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔طاہرؔ سُلطانی کی نعت میں سادگی، دلکشی اور تغزل کی چاشنی بدرجہ اتم موجود ہے۔اُن کی نعتیں فنی اور فکری طور پر نہایت پختگی اور وسعت رکھتی ہیں۔عقیدت کا رنگ خلوص کا دلکش پیرایہ،شمائل و خصائل رسولﷺ کا بیان اُن کی نعتوں میں تاثیر کا باعث ٹھہرا ہے۔جس نے طاہرؔ سُلطانی کی نعت کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اُن کی نعت نگاری کا یہ سفر ارتقا کی منزلیں طے کرتا رہے۔آمین…{محمداقبال نجمی۔گوجرانوالہ}

    خدا نے حمدیہ شاعری کی ترویج و ترقی کے لئے ایک ایسی شخصیت کو منتخب کیا جس کا نام طاہرؔسُلطانی ہے یہ شخص خود بھی شاعر ہے اور دوسرے شعرا ء سے حسن عقیدت رکھتا ہے۔نام و نمود سے بے نیاز اور جذبہ شہرت سے بے پروا ہو کر اس نے ’’جہان حمد پبلی کیشنز‘‘ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قائم کیا ہُوا ہے۔اگر چہ طاہرؔسُلطانی کے پاس مالی وسائل نہ تھے اور شریک کاروں کی کمی تھی مگر ایک جذبہ صادق جس کے تحت اس نے متعدد کتابیں شائع کیں۔ طاہرحُسین طاہرؔ سُلطانی نے آسان اور سادہ الفاظ میں شاعری کی ہے۔ شکوہ الفاظ کا ذخیرہ اُن کے کلام میں کم ضرور ہے مگر اعلیٰ و ارفع اور پاکیزہ خیالات کی بہتات نظر آتی ہے۔ طاہرحُسین طاہرؔ سُلطانی نہایت خوش نصیب ہیں اور یہ خوش نصیبی یقینا اُن کے والدین اور بزرگوں کی دُعائوں کا ثمر ہے کہ انہوں نے حمدونعت نگاری کا انتخاب کیا۔ طاہرؔ سُلطانی حمدونعت گوئی کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ بحیثیت حمدونعت نگار وطنِ عزیز پاکستان کی آبرو اور وقار بن کر اکیسویں صدی پر اپنے اثرات مرتب کریں گے۔ (انشاء اللہ )…{ڈاکٹراخترہاشمی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی ایک دینی اسکالر اور عملی صحافی ہے۔ طاہرؔسُلطانی بڑا باکمال منکسر المزاج ، سادہ طبیعت اور مشنری جذبے کا حامل ایسا انسان ہے جس کی موجودہ عہد کو اشد ضرورت ہے۔وہ بڑوں کا احترام تو کرتا ہی ہے لیکن چھوٹوں کو بھی بڑا بنانے کا عادی ہے۔ وہ حوصلہ شکنی کے رواج میں حوصلہ افزائی کرنے کا عادی ہے۔ وہ اپنے بڑے کام کو بھی چھوٹا کام ظاہر کرتا ہے۔سچ یہ ہے کہ حضرت طاہرؔسُلطانی کی گراں قدر خدمات کرتے ہوئے جب وطن عزیز نقاد، محققین، شعراء اور اُردو ادب کے روشن ماہتاب و آفتاب برملا کر رہے ہیں تو میری چند سطور کی حیثیت کیا ہوگی۔ میرے لیے یہی بات بہت ہے کہ میرا شمار طاہر بھائی کے دوستوں میں ہوتا ہے…{ملک محبوب الرسول قادری۔ لاہور}
ژژژژژ
ادارہ ’’ارمغانِ حمد‘‘ و ’’جہانِ حمد‘‘ اور خاص کر نوجوان شاعر، شاعرِ حمدونعت طاہرؔسُلطانی کی ہمت مردانہ ہے کہ مسلسل انداز سے ’’ارمغانِ حمد‘‘ کی اشاعت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ حمدیہ شماروں اور کتابی سلسلوں اور ماہانہ حمدیہ مشاعروں سے ملک بھر میں حمد کے فروغ میں نمایاں کوششیں کر رہے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ طاہرؔسُلطانی اور ’’جہانِ حمد‘‘ سے پہلے ہندوپاک میں حمد گوئی کا چرچا نہ ہونے کے برابر تھا جو اب مردِ مجاہد طاہرؔسُلطانی کی محنت سے ایک تحریک کی شکل اختیار کرگیا ہے…{پروفیسر سہیل اختر۔سرگودھا}
ژژژژژ
فنِ حمد، نعت گوئی اسلامی تہذیب کا ایک امتیازی مظہر ہے جس کی مثال کسی دوسری تہذیب میں نظر نہیں آتی ہے۔ ہمارے سخنوروں میں شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہو جس نے اس شرف سے کچھ نہ کچھ بہرہ مند نہ ہوا ہو، لیکن سیّد طاہر حسین سلطانی کی طرح حمد و نعت کے حوالے سے بہ سعادت کسی کسی کے حصّے میں آتی ہے۔ عقیدے کا رسوخ اور شعور کی جدّت طاہر سلطانی صاحب کے اندر کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے اور محافل میں خوبصورت ترنم کے ساتھ اپنے اشعار نذرِ سامعین کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مترنم لب و لہجہ بعض اوقات شاعری کی ادبی حیثیت کو کمزور کردیتا ہے،مگر طاہر سلطانی صاحب کی حمدونعت میں ترنم ان کی فکری جولانیوں میں اضافے کا موجب بنتا ہے…{ڈاکٹر شبیہہ الحسن۔ لاہور}
ژژژژژ
طاہرؔ  سُلطانی کی حمدیہ اور نعتیہ تخلیقات کے مطالعے سے ایک بات نے مجھے اس قدر متاثر کیا ہے اور میرا خیال ہے جس نے بھی ان کے کلام کا عمیق نظر سے مطالعہ کیا ہے اُسے بھی ضرور متاثر کیا ہوگا کہ وہ قرآن اور سنّت کی روشنی میں حمدونعت کہتے ہیں۔ وہ اسمائے حسنہ کے مخزنِ حقیقی کے حوالے سے اپنی صفات اور تخلیقات کا رزق بناتے ہیں۔ یہ الوہیت کی بیانیہ شہادت ان کی حمد کو ضیائے انفرادی عطا کرتی ہے اسی طرح جب وہ نعت کے گلستاں میں گلہائے رنگا رنگ مہکاتے ہیں تو سیرت اقدس کے غنچے چٹکتے ہیں اور اسوۂ حسنہ کا سرمدی موسم اپنی آب و تاب سے دلوں کو منوّر کرتا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فروغِ حمد و نعت میں مشاہر ادب میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا کسی ایک صنف کو آفاقی سطح پر تو بہت سے تابندہ مدیر و مصنّفین جگمگانے میں کامیاب ہوئے ہیں مگر طاہرؔ  سُلطانی تو بہت سے اداروں کو بامِ عروج پرپہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں اور ان کی قلبی تمنّائوں اور ان کی مستقبل کے ارادوں میں خیر و برکت ڈالے ان کے چشمۂ تخلیق میں خیر کثیر کے انوار بھردے۔ ایں دُعا از من و از جملہ جہاں آمین باد…{گوہر ملسیانی۔ صادق آباد}
ژژژژژ
عام فہم بحروں کو بھی استعمال کیاہے تاکہ بات زیادہ سے زیادہ لوگ آسانی سے سمجھ سکیں۔ سنّتِ رسول اور معجزاتِ رسولﷺ کی باتوں کو بھی آپ نے تبلیغ کے انداز میں بیان کیا ہے مگر شعر کو وعظ نہیں بننے دیا…{احسان اللہ  طاہر۔ گوجرانوالہ}



مقصد رسالت

مقصد رسالت


مقصد رسالت
از :ڈاکٹر و حکیم اے ،یم ،یس


نوٹ: (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے جتنے نبی آئے وہ سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نائب تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیابت میں کام کرے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصرت کا عہد ان سے لیا گیا تھا اس واسطے وہ تمام کے تمام امتی نبی آخرالزماں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی الانبیاء ہیں۔( ادارہ)




نسل انسانی کی تاریخ میں عجیب ترین بات یہ ہے کہ علم الٰہی کا دروازہ ایک امی عرب نے کھولا جو سرزمین عرب میں پیدا

ہو تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس احسان عظیم کا صحیح اندازہ اس وقت نہیں ہوسکتا جب تک اس ماحول کا علم نہ ہو جس میں اس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے تھے، عربوں کا قومی انتشار بہت ہی درد ناک تھا ،ظلم و ستم کا بازار گرم تھا ،عورت کے ساتھ حقارت آمیز اور شرمناک سلوک کی انتہا نہیں تھی،اس خطہ زمین پر اور ایسے ماحول میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ پاک کی طرف سے تمام عالم کے لئے اخری پیغبر بن کر آئے۔

عربستان بت پرستی کا بہت بڑا مرکز تھا،مرد وعورت سب سچے خدا سے بے خبر اپنی اپنی بنائے ہوئی مصنوعات کی پرستش ہوتی تھی اور ایسے لوگوں کو صحیح راستہ دکھانا کوئی آسان کام نہ ،کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف اپنی ہی قوم کی اصلاح کے لئے پیغمبر بن کر آئے تھے یا آپ کے پاس تمام دنیا کے لئے کوئی پیغام تھا؟ بے شک آپ کا پیغام کسی خاص ملک سے وابستہ نہ تھا ،بلکہ تمام دنیا کے لئے توحید الٰہی کا پیغام لائے تھے ،آپ کی تعلیمات تمام دنیا کے بیشمارانسانوں کے خیالات وتمدن میں ایک زبردست انقلاب برپا کر دیا اسلام نے اس وقت کے فلاسفر کو غور وفکر کے لئے کافی مواد دیا جنہوں نے مختلف ممالک میں اس کا مطالعہ اور سبھوں نے اسلام کو سراہا،آج بھی ہم ذرا دنیا کے نقشہ پر دیکھیں اور

خاص طور پر ایک طرف چین کا ملک اور دوسری طرف اسپین ،ہمیں پتہ چلے گا کہ اسلام کا پیغام صدیوں پہلے کتنے دور درور کے ملکوں میں پہنچا ہے ،بعض متعصب مؤرخین نے مسلمانوں کی فتوحات اور تلوار کی زور سے اسلام کی اشاعت ہونے کی جھوٹی اور لغو دلیل پیش کی ہے ؛حالانکہ یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے اسلام میں بذات خود ختم کرنے کی طاقت ہے کیونکہ اس اقوام کی آنکھیں کھول دیں جو خود اپنے بنائے ہوئے مخلوقات کی پرستش میں مبتلا تھی، ان کو اس حقیقت کا کوئی علم نہ تھا کہ ان بتوں سے بالا تر بھی کوئی عبادت ہے جو زیادہ طاقور زیاہایم اور بے پایاں اور عالی مرتبہ ہے۔

جب آپ کی عمر 40سال کی ہوئی تو آپ کو وحی نازل ہوئی جس کی بدولت آپ نے دنیا کو جدید اور کامل تصور عطا فرمایا ، لیکن دنیا نے شروع میں آپ کی بات پر کان نہ دھرا حالانکہ عربوں نے آپ کو ایماندار متقی شخص ہونے کے باعث ’’ امین ‘‘ کا لقب دیا تھا، صرف چند لوگ ایمان لائے سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو آپ کی زوجہ صالحہ تھیں ایمان لے آئے ، ان کے بعد حضرت کرم اللہ وجہہ رفیق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور غلام زید رضی اللہ عنہ شروع میں آپ علانیہ طور پر تبلیغ نہیں کرتے تھے ، کچھ عرصہ کے بعد خدا نے آپ کو علانیہ تبلیغ کا حکم دیا ، اس پر نئی دشواریاں پیدا ہوئیں

(بقیہ آئندہ)

طاہرحسین طاہرسلطانی سے مکالمہ

طاہرحسین طاہرسلطانی سے مکالمہ


روبرو۔۔۔۔

            غلام ربانی فدا
طاہرحسین طاہرسلطانی سے مکالمہ
سوال نمبر: عصرحاضرمیں رائج حمدیہ شاعری سے آ پ کتنے مطمئن ہیںـــــــــــــــــ
جواب:الحمدللہ، میں موجودہ دَور کی حمدیہ شاعری سے مطمئن ہوں اس لیے کہ عصرحاضر میں شعراء وشاعرات نے حمدنگاری پر خاص توجہ کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حمدیہ مجموعے بھی تواتر سے شائع ہورہے ہیں۔ یہ تو آپ کے علم میں ہے کہ ماہنامہ ’’ارمغانِ حمد‘‘، ’’جہانِ حمد‘‘ (کتابی سلسلہ)، ’’جہانِ حمدپبلی کیشنز‘‘ فروغِ حمدونعت کے حوالے سے مثالی کردار اَدا کررہے ہیں۔ ’’بزمِ جہانِ حمد پاکستان‘‘ ہر ماہ طرحی حمدیہ مشاعرہ کا انعقاد کررہی ہے۔
سوال: حمدیہ شاعری کے نئے آفاق کیاہیں
جواب:الحمدللہ، پاکستان میں اسلام آباد یونیورسٹی سے محترمہ افضالہ شاہین صاحبہ، پنجاب یونیورسٹی سے محترمہ سعدیہ جعفر صاحبہ نے بالترتیب ’’پاکستان میں اُردو حمد کا ارتقا‘‘ اور ’’اُردو میں حمدومناجات‘‘ کے موضوعات پر پی ایچ ڈی کرلیا ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے ڈاکٹرسہیل شفیق نے ’’جہانِ حمد‘‘ کے ۱۹ شماروں کا اشاریہ مکمل کرلیا ہے، یہی نہیں انہوں نے ماہنامہ ’’ارمغانِ حمد‘‘ کے ۱۱۴ شماروں کا اشاریہ بھی کام شروع کردیا ہے، اُمید ہے چند ماہ میں وہ یہ کام بھی مکمل کرلیں گے۔

 سوال:  ہندوستانی  وپاکستانی حمدگوشعراکے کلام میں موضوعات وطرزاظہارکے  اعتبارسے کیافرق محسوس کرتے ہیں؟
جواب:کوئی فرق محسوس نہیں کرتا۔
سوال؛ جہان حمداورارمغان حمد کے آغاز کی کیا وجوہات رہےــــــــــــ؟
جواب:اللہ ربُّ العزت کا حکم عالی شان اور رضائے الٰہی کہ ’’ارمغانِ حمد‘‘ اور ’’جہانِ حمد‘‘ کا اجراء ممکن ہوسکا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ حمد پر کام برائے نام ہورہا تھا۔
سوال:  پورے عالم اردوادب میں حمدیہ  شاعری کے  حوالے سے کام کرنے والے آپ پہلی  شخصیت ہیں  ۔ آپ اپنے کام سے کتنے مطمئن ہیں ؟
جواب:میں سمجھتا ہوں کہ کام کا آغاز تو اب ہوا ہے۔ آپ دُعا فرمائیں کہ اللہ ربُّ العزت اس حقیروفقیر کو مزید توفیق عطا فرمائے کہ مرتب کردہ پروگرام کے مطابق کام ہوتا رہے۔ (آمین)
سوال؛ آپ کے پسندیدہ شعراکون ہیں؟
جواب:تمام حمدونعت گویان میرے لیے قابلِ احترام ہیں، جہاں پسندیدہ شعراء کی بات ہے تو مجھے امام اہلسنّت مجدّدین و ملت، علامہ مفتی حافظ احمد رضا خاں قادری رحمتہ اللہ علیہ، شاعرمشرق علامہ محمد اقبال، مولانا حسن رضا خاں، مولانا حسرت موہانی، مولانا الطاف حسین ححالی، علامہ امیرامیراحمدمینائی، بیدم شاہ وارثی وغیرہ
سوال: ابھی آپ کے زیرمطالعہ کونسی کتاب ہے؟
جواب:فقیر کی پوری توجہ آج کل ’’جہانِ حمد‘‘ کے ’’رسولِ اعظم نمبر‘‘ (مصطفی جانِ رحمت) پر مرکوز ہے۔ بائیس سو سے زائد صفحات کمپوز ہوچکے ہیں ہنوز سلسلہ جاری ہے۔ جہانِ حمد کی مذکورہ خصوصی اشاعت تین جلدوں پر مشتمل ہوگی (انشاء اللہ)
سوال1:سُنا ہے آپ حمدونعت ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔ حمدونعت ریسرچ سینٹر کے بارے میں ہمارے قارئین کو تفصیلات بتائیں؟
جواب:حمدونعت ریسرچ سینٹر کی تفصیلات:

 اندرونِ ملک و بیرونِ ملک کے اسکالرز کے قیام کا انتظام٭ریسرچ اسکالرز کے لیے شعبۂ کمپیوٹر کا قیام٭قرآن و سنّت، حمدونعت کے موضوع پر تربیتی کورسز کا اجراء٭قرآن و سیرت، حمدونعت کے حوالے سے سیمینار،٭مقابلۂ تحریر و تقریر، مقابلۂ حُسنِ قرأت و نعت کا اہتمام٭مسجد اور کانفرنس ہال کا قیام برائے قرآن و سنہ کانفرنس و حمدونعت سیمینار وغیرہ٭حمدونعت ریسرچ سینٹر لائبریری کے لیے قرآن و سیرت اور حمدونعت کے موضوعات پر تمام زبانوں میں لکھی گئی کُتب کے حصول کے لیے جدوجہد٭حمدیہ، نعتیہ و منقبتی مشاعروں کا انعقاد٭آڈیو اور ویڈیو کیسٹس پر تمام پروگراموں کی تحفیظ٭عربی، اُردو اور انگلش لینگویج کلاسوں کا اہتمام و انعقاد٭غوثیہ مدرسۂ حمدونعت کے تحت طلبہ کو تین سالہ کورس مکمل کرنے پر سَند کی تفویض
سوال:آپ انتہائی جانفشانی اور لگن کے ساتھ فروغِ حمدونعت کی تحریک کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ کیا حکومت پاکستان آپ کو کوئی گرانٹ دیتی ہے نیز یہ کہ آپ کو حکومت کی جابن سے کوئی اعزازوایوارڈ ملا یا نہیں؟
جواب:اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مذہبی رسائل و جرائد کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہورہا ہے۔ حکمرانوں اور مخیرحضرات کو مذہبی رسائل و جرائد کی جانب خصوصی توجہ کرنی چاہیے۔ ابھی تک تو جہانِ حمد، ماہنامہ ارمغانِ حمد، حمدونعت ریسرچ سینٹر کو حکومت کی جانب سے کوئی گرانٹ نہیں ملی۔ ہماری نظریں صرف اور صرف اللہ کریم کے کرم پر مرکوز ہیں۔
سوال: جہان نعت کے قارئین کوکیاپیغام دیناچاہیں گےــ؟
جواب:’’جہانِ نعت‘‘ کے قارئین کے لیے میرا یہی پیغام ہے کہ اس معتبرومنور رسالے سے دامے، درمے، سخنے، قدمے تعاون فرمائیں۔
سوال:  جہان نعت کے حوالے سے آپ کے کیاکیاتاثرات ہیں؟
جواب:’’جہانِ نعت‘‘ اُردو نعتیہ ادب کی خدمات فریضہ بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے۔ میری دُعا ہے کہ اللہ کریم اس کتابی سلسلے کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ (آمین)




اجمالی بیان ،دوزخ

اجمالی بیان ،دوزخ



اجمالی بیان ،دوزخ


حصہ اول





ایک مکان ہے اس قہار وجبار کے جلال وقہر کا مظہر ہے جس طرح اس کی رحمت ونعمت کی انتہا نہیں کہ انسانی خیالات و تصورات جہاں تک پہنچے وہ ایک تھوڑا ساحصہ ہے اس کی بے شمار نعمتوں سے اسی طرح اس کے غضب وقہر کی کوئی حد نہیں کہ ہر وہ ہر تکلیف وہ اذیت اور ایک کی جائے ایک ادنیٰ حصہ ہے
،اس کے بے انتہا عذاب کا قرآن مجید اور احادیث میں جو سختیاں مذکور ہیں ان میں سے کچھ اجمالاً بیان کرتا ہوں کہ مسلمان دیکھیں اور اس سے پناہ مانگیں اور ان اعمال سے بچیں جن کی جزا جہنم ہے۔

حدیث میں ہے جو بندہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے ،
جہنم کہتا ہے : اے رب !یہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے تو اس کو پناہ دے ،
قرآن مجید میں بکثرت ارشاد ہواکہ جہنم سے بچو ! دوزخ سے ڈرو،ہمارے آقا ومولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو سکھانے کے لئے کثرت کے ساتھ اس سے پناہ مانگتے ،جہنم کے شرارے یعنی


چنگاریں اورنچے اونچے محلوں کے برابر اڑیں گے ،گویا کہ زرد اونٹوں کے قطارے پے درپے آتے رہیں گے آدمی اور پتھر اس کے ایندھن ہیں،یہ جو دنیا کی آگ ہے اس آگ سے ستر (70) جز میں سے ایک جز ہے ،جس کو سب سے کم درجہ کا عذاب ہوگا اس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائینگی ، جس سے اس کا دماغ کھولے گا ،جیسے تانبے کی پتیلی کھولتی ہے وہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ عذاب مجھ پر ہو رہا ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا ہے ،
سب سے ہلکے درجہ کا جس پر عذاب ہوگا ،اس سے اللہ عزوجل پوچھے گا: کہ اگر ساری زمین تیری ہوجائے تو کیا اس عذاب سے بچنے کے لئے تو فدیہ میں دے گا؟عرض کرے گا: ہاں ، فرمائے گا جب تو پشت آدم میں تھا تو ہم نے اس سے بہت آسان چیز کا حکم دیا تھا کہ کفر نہ کر ،مگر تونے نہ مانا،جہنم کی آگ ہزار برس تک دہکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی ،
پھر ہزار برس یہاں تک کہ سفید ہوگئی، پھر ہزار برس یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی، تو اب وہ نری سیاہ ہے جس میں روشنی کا نام نہیں۔

جبرئیل علیہ السلام نے قسم کھا کر عرض کی کہ اگر جہنم سوئی کے ناکے کے برابر کھول دی جائے تو تمام زمین والے اس کی گرمی سے مرجائیں گے اور قسم کھاکر کہا کہ اگر جہنم کا کوئی داروغہ اہل دنیا پر ظاہر ہوتو زمین کے رہنے والے کل کے کل اس کی ہیبت سے مرجائیں گے اور قسم کھاکرفرمایا:اگر جہنمیوں کی زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دی جائے تو کانپنے لگیں گے اور انہیں قرار نہ ہوگا ،یہاں تک کہ نیچے کی زمین میں دھنس جائیں گے یہ دنیا کی آگ جس کی گرمی اور تیزی سے کون واقف نہیں ؟کہ بعض موسم میں اس کے قریب جانا تو شاق گذرتا ہے ،پھر بھی یہ آگ خدا سے دعا کرتی ہے کہ اسے جہنم میں پھر نہ لے جا ؛مگر تعجب ہے انسان سے کہ جہنم میں جانے کا کام کرتا ہے اور اس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی ڈرتی ہے اور پناہ مانگتی ہے ،دوزخ کی گہرائی کو خدا ہی جانے کہ کتنی گہری ہے ،حدیث میں آیا ہے کہ اگر پتھروں کی چٹان جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکی جائے تو ستر (70) برس میں بھی اس کی تہ تک نہ پہنچیں گی اور اگر انسان کے سر برابر سیسے کا گولہ آسمان سے زمین کو پھینکا جائے تو رات آنے سے پہلے زمین تک پہنچے گا ؛حالانکہ یہ پانچ سو (500 ) برس کی راہ ہے ،پھر اس جہنم میں مختلف طبقات ،وادی اور کوئیں ہیں،بعض وادی ایسے ہیں کہ جہنم بھی ہر روز ستر مرتبہ یا زیادہ ان سے پناہ مانگتا ہے۔



اجمالی بیان ،جنت

اجمالی بیان ،جنت



اجمالی بیان ،جنت


حصہ دوم





از: حضرت مولانا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی










جنتی کے بدن پر سر کے بال ،پلکوں اور بھوؤں کے سوا کہیں بال نہ ہوں گے ،سب بے ریش ہوں گے ،سرمہ گیں آنکھیں ،تیس ( 30) برس کے معلوم ہوں گے ،اس سے زیادہ نہ معلوم ہوں گے ، جنت میں نیند نہیں ،نیند ایک قسم کی موت ہے اور جنت میں موت نہیں،جنتی جب جنت میں جائینگے ،ہر ایک اپنے اعمال کے مقدار سے مرتبہ پائے گا ،اس کے فضل کی حد نہیں ،پھر انہیں دنیا کے ایک ہفتہ کی مقدار کے بعد اجازت دی جائے گی کہ اپنے پروردگا رکی زیارت کریںاور عرش الٰہی ظاہر ہوگا ،رب عزوجل جنت کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں تجلی فرمائے گا اور ان جنتیوں کے لئے منبر بچھائے جائیں گے ،نور کے منبر ،موتی کے منبر،یواقوت وزبرجد کے منبر ،سونے چاندی کے منبر اور ان میں کا ادنیٰ مشک وکافورکے ٹیلے پر بیٹھے گا اور ان کا ادنیٰ کوئی اپنے گمان میں کرسی والوں کو کچھ بھی اپنے سے بڑھ کر نہ سمجھے گا،خدا کا دیدار ایسا صاف ہوگا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو اپنے اپنے جگہ سے دیکھتا ہے .
ایک دیکھنا ددوسرے کے مانند نہیں اور اللہ عزوجل ہر ایک پرتجلی فرمائے گا،ان میں سے کسی کو فرمائے گا : ات فلاں بن فلاں تجھے یاد ہے جس دن تو نے ایسا ایسا کیا تھا؟
دنیا کے معاصی یاد دلائے گا ، بندہ عرض کرے گا اے رب کیا تو نے مجھے بخش نہ دیا ،فرمائے گا: ہاں میری مغفرت کی وسعت ہی کی وجہ سے تو اس مرتبہ کو پہنچا وہ سب اسی حالت میں ہوں گے ،ابر چھاجائے گا اور خوشبو ان پر برسائے گا اس جیسی خوشبو ان لوگوں نے کبھی نہ پائی تھی اور اللہ عزوجل فرمائے گا کہ جاؤ اس طرف جو میں نے تمہارے لئے عزت تیار کر رکھی ہے جو چاہو لے لو!پھر لوگ ایک بازار میں جائیں گے
جسے ملائکہ گھیرے ہوئے ہیں ،اس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ انکی مثل نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی نہ دل پر انکا خطرا گذرا ، اس میں سے جو چاہیں گے ان کے ساتھ کردی جائے گی اور خرید وفروخت نہ ہوگی ،جنتی اس بازار میں باہم چلیں گے چھوٹے مرتبہ والا بڑے مرتبہ والے کو دیکھے گا اس کا لباس پسند کرے گاابھی تک گفتگو ختم ہوگی کہ خیال کرے گا کہ میرا لباس اس سے اچھا ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ جنت میں کسی کے لئے غم نہیں ،پھر وہاں سے اپنے اپنے مکانوں کو واپس آئیں گے ۔



ان کے بیبیاں استقبال کریں گے اور مبارکباد دیکر کہیں گے : کہ آپ واپس ہوئے آپکا جمال اور حُسن اس سے زیادہ ہے کہ ہمارے پاس سے آپ گئے تھے ؟جواب دیں گے کہ پروردگار جبار کے حضور بیٹھنا ہمیں نصیب ہوا، ہمیں ایسا ہی ہونا سزاوار تھا ،جنتی باہم ملنا چاہیں گے تو ایک کا تخت دوسرے کے پاس چلاجائے گا اور ایک روایت میں ہے ان کے پاس نہایت اعلیٰ درجہ کے سواریاں اور گھوڑے لائے جائیں گے اور ان پر سوار ہوکر جہاں جائیں گے سب سے کم درجہ کا جو جنتی ہے اس کے باغات اور بیبیاں اور نعمتیں اور خدام اور تخت ہزار برس کی مسافت تک ہوں گے اور ان میں اللہ عزوجل کے نزدیک سب میں معزز وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی وجہہ کریم کی دیدار سے ہر صبح وشام مشرف ہوگا،جب کنتی جنت میں جائیں گے اللہ عزوجل ا ن سے فرمائے گا کچھ اور چاہتے ہو ؟ جو تم کو دوں ،عرض کریں گے: تو نے ہمارے منہ روشن کئے جنت میں داخل کیا جہنم سے نجات دی ،اس وقت پردہ کہ مخلوق پر تھا ،اُٹھ جائے گا تب دیدار الٰہی جو سب سے بڑھ کر انہیں نہ ملی ہوگی ملے گی۔


اللہم الرزقنا زیارت وجھک الکریم بجاہ حبیبک الرؤف الرحیم علیہ الصلوۃ والتسلیم ،آمین۔

اجمالی بیان ،جنت

اجمالی بیان ،جنت




اجمالی بیان ،جنت


)حصہ اول(
از: حضرت مولانا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی






جنت ایک مکان ہے ،جس کو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کیلئے بنایا ہے اس میں وہ نعمتیں مہیا کی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے


دیکھا نہ کانوں نے سنانہ کسی آدمی کے دل پر خطرا گذرا ،جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جاتی ہے وہ سمجھانے کے لئے ہے ،ورنہ دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شیٔ کی کسی چیز کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں،وہاںکی کوئی عورت زمین کی طرف جھانکی تو زمین سے آسمان تک روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے ،چاند سورج کی روشنی جاتی رہے اور اس کا دوپٹا دنیا ومافیھا سے بہتر ہے اور ایک روایت میں یوں ہے اگر حور اپنی ہتھیلی زمین وآسمان کے درمیان رکھے تو اس کے حسن کی وجہ سے خلائق فتنہ میں پڑجائیں
اور اگر اپنا دوپٹا ظاہر کرے تو اس کی خوبصورتی کے آگے آفتاب ایسا ہوجائے جیسا آفتاب کے سامنے چراغ ،اگر جنت کی کوئی ناخن بھر چیز دنیا میں ظاہر ہوجائے تو تمام آسمان وزمین اس سے آراستہ ہوجائیں ،اگر جنتی کا کنگن ظاہر ہوتو آفتاب کی روشنی مٹادے ،جیسا آفتاب ستاروں کی روشنی مٹا دیتا ہے جنت کی اتنی جس میں کوڑا رکھ سکے دنیا ومافیھا سے بہتر ہے ،جنت کتنی وسیع ہے اس کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جانے۔

اجمالی بیان یہ ہے کہ اس میں سو(100)درجہ ہیں ہردرجوں میں وہ مسافت ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ،رہایہ کہ خود اس درجہ کی کیا مسافت ہے ؟ اس کے متعلق اس وقت کوئی روایت خیال میں نہیں، البتہ ایک روایت ترمذی شریف کی ہے کہ اگر تمام عالم ایک درجہ میں جمع ہوں تو سب کے لئے وسیع ہے ،جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں تیز گھوڑے کا سوار سو(100) برس

تک دوڑتا رہے مگر ختم نہ ہو، جنت کے دروازے اتنے وسیع ہیں کہ ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک تیز گھوڑے کے سوار کے لئے ستر (70) برس کی راہ ہوگی ،پھر بھی چلنے والوں کی وہ کثرت ہوگی منڈھے سے منڈھا چھلتا رہے گا

،بھیڑ کی وجہ سے دروازے چر چراتے رہیں گے ،جنت میں قسم قسم کے جواہروں کے محل ہونگے جو ایسے صاف اور شفاف کو اندر کے حصے باہر سے اور باہر کے حصے اندر سے دکھائی دیں گے ،جنت کی دیواریں سونے اور چاندی کے اینٹوں کی ہوں گے اور گارہ مشک کا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ ،چاندی کی زمین زعفران کی ،
اور ایک روایت میں ہے،ایک اینٹ سونے کی ،ایک اینٹ چاندی کی ایک اینٹ یاقوت سرخ کی اور زمین زمرد سبزکی گھاس کی جگہ زعفران ہے ،جنت میں ایک ایک موتی کاخیمہ ہوگا،
جس کی بلندی ساٹھ (60) میل ،جنت میں چار دریاہیں،ایک پانی کا، دوسرا دودھ کا ،تیسرا شہد کا اور چوتھا شراب کا،پھر ان سے نہریں نکل کر ہر ایک کے مکان میں جاری رہیں گے، وہاں کے نہریں زمین کھود کر نہیں بہتے ،بلکہ زمین کے اوپر رواں ہیں، نہر کا ایک کنارہ موتی کا ،دوسرا یاقوت کا
اور نہروں کی زمین خالص مشک کی ،وہاں کی شراب دنیاکی شراب کی طرح نہیں،جس میں بدبو کراہٹ اور نشہ ہوتا ہے ،پینے والے بے عقل ہوجاتے ہیںاور آپ سے باہر ہوکر بیہودہ بکتے ہیں،وہ پاک شراب اب سب باتوں سے پاک اورمنزہ ہے۔


جنت میں جنتیوں کو ہر قسم کے لذیذ کھانے ملیں گے جو چاہیں گے فوراً ان کے سامنے موجود ہوگا
،اگر کسی پرندہ کو دیکھ کر اس کے گوشت کھانے کو جی چاہے تو اسی وقت بھنا ہوا سامنے آجائے گا ،حرؔ پانی وغیرہ کی خواہش ہوتو کوزہ ہاتھ میں آجائیں گے،ان میں ٹھیک اندازے کے موافق پانی ،دودھ ، شراب اور شہد ہوگا کہ ان کے خواہش سے ایک قطرہ کم نہ زیادہ ،بعد پینے کے خود بخود جہا ں سے آئے تھے وہاںچلے جائیں گے ،
وہاں نجاست ،گندگی ،پائخانہ ،پیشاب ،تھوک ،رینٹ ،کان کا میل ،بدن کا میل ،اصلا نہ ہوں گے ،ایک خوشبودار فرحت بخش ڈکار آئیگی اور ڈکار اور پسینے سے خوشبو نکلے گی ،جو مشک کی سی ہوگی،ہر آدمی کو سو ( 100) اشخاص کے کھانے پینے وغیرہ کی طاقت دی جائیگی ،ہر وقت زبان سے تسبیح تکبیر بقصد اور بلا قصد مثل سانس کے جاری ہوں گے ہر شخص کے سرہانے کم از کم دس ہزار



خادم کھڑے ہوں گے ،خادموں کے ایک ہاتھ میں چاندی اور دوسرے ہاتھ میں سونے کا پیالہ ہوگا،ہر پیالہ میں نئی نئی رنگ کی نعمتیں ہونگی ،جنتی کھاتا جائے گا لذت میں کمی نہ ہوگی بلکہ زیادتی ہوگی ،ہر نوالہ میں ستر ( 70)مزے ہوں گے ،ہر مزہ دوسرے سے ممتاز ،وہ معاً محسوس ہوں گے،ایک کا احساس دوسرے سے مانع نہ ہوگا۔


جنتیوں کے نہ لباس پرانے پڑیں گے نہ ان کی جوانی فنا ہوگی؛بلکہ پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے ایسے روشن ہونگے جیسے چودھویں رات کا چاند،دوسرا گروہ جیسا کوئی نہایت روشن ستارہ ، جنتی سب ایک دل ہونگے ،ان کے آپس میں کوئی اختلاف اور بغض نہ ہوگا،ان میں ہر ایک حورعین میں سے کم  سے کم دوبیبیاں ایسے ملیں گے کہ ستر ستر (70-70) جوڑے پہنے ہوں گے ،پھر بھی ان لباسوں اور گوشت کے باہر سے انکی پنڈلیوں کا مغض دکھائی دے گا
،جیسا سفید شیشے میں شراب سرخ دکھائی دیتی ہے اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ عزوجل نے انہیں یاقوت سے تشبیہ دی ،اگر یاقوت میں سوراخ کرکے ڈوراڈالا جائے تو ضرور باہر سے دکھائی دے گا، آدمی اپنے چہرہ کو اس کے رخساروں میں آئینہ سے بھی زیادہ صاف دیکھے گااوران پر ادنیٰ درجہ کا جو موتی ہوگا وہ ایسا ہوگا جو مشرق سے مغرب تک روشن کردے ۔ایک روایت میں ہے کہ مرد اپنا ہاتھ اس کے شانے کے درمیان رکھے گا تو سینے کی طرف سے کپڑے جلد اور گوشت کے باہر سے دکھائی دے گا، اگر جنت کا کپڑا دنیا میں پہنا جائے تو جو دیکھے بیہوش ہوجائے اور لوگوں کی نگاہیں اس کا تحمل نہ کر سکیں ،اگر کوئی حور سمندر میں آب دہن ڈالے تو اس کے آب دہن سے سارا سمندرمیٹھا ہوجائے گا۔اور ایک روایت میں ہے کہ اگر جنت کی عورت سات سمندروں میں آب دہن ڈالے تو شہد سے زیادہ شیریں ہوجائیںگے ،جب کوئی بندہ جنت میں جائے گا تو اس کے سرہانے اور پینتے دوحوریں نہایت اچھی آواز سے گائیں گی ،مگر گانا یہ شیطانی مزامیر نہیں؛بلکہ اللہ عزوجل کی حمد ،ثنا اور پاکی ہوگی،وہ ایسے خوش گلو ہوں گے کے مخلوق نے کبھی ایسی خوش آواز نہ سنی ہوگی اور یہ بھی گائیں گے ’’ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں،کبھی نہ مریں گے ہم چین والیاں ہیں کبھی تکلیف میں نہ پڑیں گے ،ہم راضی ہیں ناراض نہ ہوں گے ،مبارکباد اس کے لئے جو ہمارا اورہم

اس کے ہوں‘‘۔

بقیہ آئندہ ان شاء اللہ


احکام اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

احکام اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


احکام اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


1)کنیز بن قیس کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا تھا،

ایک شخص ان کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں مدینہ منورہ سے صرف ایک حدیث کی وجہ سے آیا ہوں میں نے سنا ہے کہ وہ آپ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے ، حضرت ابولدردا رضی اللہ عنہ نے پوچھا کوئی اور تجارتی کام نہیں تھا؟انہوں نے کہا: نہیں،ابوالدردا رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھاکہ کوئی دوسری غرض تو نہ تھی؟ کہا: نہیں،صرف حدیث ہی معلوم کرنے کے لئے آیا ہوں ،



ابوالدردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص کوئی راستہ علم کرنے کے لئے چلتا ہے حق تعالیٰ شانہٗ اس کے لئے جنت کا راستہ سہل (آسان) فرمادیتا ہے اور فرشتے اپنے پر طالب العلم کی خوشنودی کے واسطے بچھا دیتے ہیں اور طالب العلم کے لئے آسمان و زمین کے رہنے والے (فرشتے) اسغفار کرتے ہیں،اور عالم کی فضلیت عابد پر ایسی ہے جیساکہ چاند کی فضیلت سارے تاروں پرہے اور علماء انبیا کے وارث ہیں، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے بلکہ علم کا وارث بناتے ہیں جو شخص علم کو حاصل کرتا ہے وہ ایک بڑی دولت کو حاصل کرتا ہے ۔ (ابن ماجہ)۔

2) جو تمہارے دل میں ہے اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ خدااس کا حساب لے گا،پھر جس کو چاہے گا بخش دے گا ،اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔( بقرۃ،4)



اڈیٹر ’’ آستانہ ‘‘ دہلی کی خدمت میں ( از ادارہ)

اڈیٹر ’’ آستانہ ‘‘ دہلی کی خدمت میں ( از ادارہ)


اڈیٹر ’’ آستانہ ‘‘ دہلی کی خدمت میں

( از ادارہ)


آپ کا مضمون اداریہ مطابق نومبر 1953؁ء دیکھا ، یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کا طریقہ مذہب کیا ہے ؟ آپ کا تعلق کس فرقہ کے ساتھ ہے ؟ آپ تو اصول و فروع سے واقف ہی نہیں ،
آپ اصول و فروع کی تعریف جامع کیجئے ،
آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس وقت ان فرقوں کے درمیان اختلاف اصولی ہے یا فروعی ؟ جس کا یہ اعتقاد ہو ، العیاذ باللہ ، جبرئیل امین نے غلطی کیا، نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو وحی دیا ، مستحق وحی حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے ،اور یہ قرآن مجید جو ہے بیاض عثمانی ہے ،
اصل قرآن مجید حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جلادیا، نعوذ باللہ ، حضرت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد سب صحابہ مرتد ہوگئے ،حضرت ابا بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما مرتد تھے ؟ کیا یہ اصولی اختلاف ہے یا فروعی ؟ العیاذ باللہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ ملانا شرک ہے ، العیاذ باللہ ، تقلید کرنا شرک ہے ، چاروں مذہب چاروں مذہب والے شریک ہیں ؟ اب یہ اختلاف اصولی ہے یا فروعی ؟

العیاذ باللہ شیطان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے زیادہ علم ہے ، شیطان کے علم کے واسطے نص ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے واسطے نص نہیں ، العیاذ باللہ سب نبی مر کر مٹی میں مل گئے ، یہ



توہین نبی ہے یا نہیں ؟ توہین نبی کرنا اصولی اختلاف ہے یا فروعی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے بعد العیاذ باللہ دوسرے نبی آنا یہ اصولی اختلاف ہے یا فروعی ؟آپ لکھیں کہ آپ ان فرقوں میں سے کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ؟ سنت جماعت والے تو نہیں اگر آپ سنت جماعت سے ہوتے تو یہ مضمون کھبی نہ لکھتے ، جب اللہ پاک نے حکم دیا کہ ظالموں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے ساتھ نہ کھاؤ نہ پیو ، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو نہ ان کے مردوں پر جنازہ پڑھو ( ابن حبان ) آپ ان سب کو اکھٹا کرنا چاہتے ہیں ، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے خلاف یہ تعلیم دیتے ہیں ، آپ کی یہ تعلیم شیطانی تعلیم ہے ، مذہب اور سیاست مسلمانوںکے نزدیک ایک ہی چیز ہے آپ یہ ثابت کیجئے کہ فلاں بات کی تشریح مذہب سے نہیں ہے ، مذہب نے اس کی تشریح نہیں کی ۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے خود خبر دی ہے کہ میری امت کے اندر 73فرقے ہوجائیں، سب کے سب جہنمی ہیں ، مگر ایک فرقہ جہنم کو نہ جائے ، وہ فرقہ یہ ہے جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ، آپ اس کے خلاف تعلیم دیتے ہیں ، ہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ تم بڑی جماعت کی پیروی کرو ، بڑی جماعت سے مراد ، جس میں بڑے بڑے علماء بڑے بڑے فقہاء اور بڑے بڑے محدثین ہوں ۔

جتنے بڑے علماء و فقہاء و محدثین گذرے انہیں چار مذہبوں کے ہیں ، یہ چار مذہب والے مومن کامل ، مسلمان کامل ہیں ، ان کو کافر مشرک کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کافر کہے کفر اس میں ہو تو خیر ورنہ کفر اس کہنے والے کی طرف لوٹ جاتا ہے ، یعنی کہنے والا خود کافر ہوجاتاہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے رافضی ، وہابی ، قادیانی کو کافر کہا ہے ، کیونکہ کہ یہ لوگ سنی مسلمانوںکو کافر کہتے ہیں ، سنی مسلمان تو اللہ کے فضل سے مومن کامل مسلمان کامل ہیں ، اسی پر اجماع امت ہے ، باقی فرقے بھی اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں ، یہ ان کا مسلمان کہلانا ایسا ہے جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانہ میں منافق بھی مسلمان کہلاتے تھے ، اس پر مذکور بالا عقائد دال ہے ۔

اور آپ کو معلوم ہے ، کہ سب فرقے اکھٹے ہوگئے تھے، اور پاکستان بنا یہ بھی معلوم ہے کہ مشرقی پنجاب میں دس لاکھ مسلمان مارے گئے ، دہلی ، حیدر آباد وغیرہ کے قصے کہانیاں تو آپ کو معلوم ہے ، ساٹھ ہزار مسلمانوں کی عورتیں غیر مسلم لے گئے ، یہی نتیجہ ہوا اکھٹے ہونے کا ، یہ اصل وبال ہے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے تعلیم کی مخالفت کرنے کا ، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ۔۔۔۔۔

سنت جماعت کا بول بالا

سنت جماعت کا بول بالا


ضروری اعلان

سنت جماعت کا بول بالا


وہابیہ کا ہو منہ کالا

’’ الرشاد ‘‘ ماہنامہ ’’ اردو ‘‘ ہانگل ، سنت والجماعت ہانگل کی طرف سے زیر اہتمام عالم دین اسلام اعلیٰ حضرت شمس العلماء مولٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ العالی کے شائع ہورہاہے اور اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے اس رسالہ کے طفیل سنیت کا بول بالا اطراف وجوانت خصوصاً کرناٹک میں دن دونی رات چوگنی ہو

 رہاہے ۔




لہذا ہم مسلمانوں سے گذرش کرتے ہیں کہ اس نازک دور میں جبکہ اسلام میں کافی باطل فرقے پیدا ہوچکے ہیں اور عام مسلمانوں کو اپنے مذہب اصلی سے بالکل ہی وقفیت نہیں ہے

، ایسے وقت ان باطل فرقوں سے بچنا بھی کہیں مشکل ہے ، لہٰذا تمام مسلمانوں سے گذارش کرتے ہیں کہ رسالہ ’’ الرشاد ‘‘

آج ہی خریدیں اور عین اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہوجائیں ، خاص کر مسلمانان کرناٹک جو مذہب سے بہت دور ہیں اس نادر موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں ، یہ اللہ ہی کا احسان عظیم ہے کہ کرناٹک میں ایک اردو ماہنامہ شائع ہورہایے جواردو میں شائع ہونے والا پہلا اخبار ہے ، اور بہترین ترجمان اسلام ہے ،

الرشاد ہر انگریزی پہلی تاریخ کو پوسٹ کیا جاتا ہے اگر کوئی خریدار بھائی کو وقت مقررہ پر ڈاک والوں کی مہربانی سے دستیاب نہ ہوسکا تو کارڈ کے ذریعہ مطلع فرمائیں تاکہ دبارہ رسالہ بھیجا جائے ، ہر وقت پتہ صاف لکھاکریں ورنہ تعمیل حکم نہ ہوگا ۔





جو حضرات اپنے مضامین بغرض اشاعت روانہ کرتے ہیںان سے درخواست ہے کہ مضامین بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھیں جن کو قابل اشاعت سمجھاجائے گا وہ ضرور شائع ہوتے رہیں گے ، باربار شکایت نہ کریں ۔


مندرجہ ذیل پتہ پر 2-4-0روپیہ منی آرڈر فرما کر خریدار رسالہ ’’ الرشاد ‘‘ بن جائیں ، وی، پی ، کے ذریعہ طلب نہ کیجئے ،

’’ الرشاد ‘‘ مسلمانوں کی دینی خدمت کے علاوہ دینوی خدمت بھی انجام دینے ہر وقت تیار ہے ، لہٰذا اپنے اشتہار ’’ الرشاد ‘‘ کے ذریعہ دیجئے ۔

پتہ :۔  مینجر ’’ الرشاد ‘‘ ہانگل ( ضلع دھارواڈ ، صوبۂ بمبئی )


اختلاف امتی رحمتٔ

اختلاف امتی رحمتٔ

اعلی حضرت سیدمقبول احمدشاہ قادری علیہ الرحمہ

یعنی میری امت کا اختلاف باعث رحمت الٰہی ہے۔
اختلاف امتی سے مراد ،’’ اختلاف مجتہدین ہے، اس لئے کہ اس اختلاف سے بہت سے مشکل مسائل حل ہوگئے ، بہت سی دقیق باتیں جن کو کم فہم ، کم علم سمجھنے سے عاجز تھے، ان کے لئے آسان کردیا ، مجتہدین نے قرآن وسنت میں امعان نظر کر کے بال کی کھال نکالی ، قواعد مقرر کئے ، اور ان پر جزویات متفرع کئے ، وہ خلائق کے حوادث کے باوجود اس کے اختلاف  مواقع کے بعینہٖ لکھ دیئے یا جو ان حوادث پر دلالت کرتے تھے بلکہ فقہ ان امور میں تکلم کیا ، جو بھی واقع نہیں ہوتے اس تصور سے کہ مبادا اگر ایسا موقع ہوتو مسلمان حیران نہ ہوں اور جو جزوی منصوص نہیں وہ نادر اور کمیاب ہے اور گاہے منصوص بھی ہوتا ہے، لیکن ناظر اس کے محل سے قاصر ہے ، فہم کا قصور ہے ، ہرامرفقہ میں مذکور خواہ بمفہوم ہو یا منطوق۔ ( طحطاوی )۔




اگر اہل اسلام انصاف کریں تو حضرات مجتہد عظام اور فقہاء کرام کے احسان کی شکر گذاری سے اپنے آپ کو عاجز جانیں۔

اللھم فارحم المجتھدین و فقھاء الدین وجزاھم عنا خیرالجزاء یا ارحم الراحمین ۔



ہمارے امام کا اسم مبارک یہ ہے، نعمان بن ثابت ، لقب امام اعظم ، کنیت ابو حنیفہ ( سب باطل کو چھوڑ کر حق کی طرف جانا اس کو حنیف کہتے ہیں ) اہل عرب کی عادت ہے ، جو چیز کسی سے زیادہ صادر ہوجائے تو اس کی اس کی کنیت بنادیتے ہیں ، گویا کہ وہ چیز اس سے پیدا ہوئی ، اور یہ شخص اس کا باپ ٹھہرا ، حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ باطل کو مٹانے والے ، برباد کرنے والے ، ہمیشہ حق کے تابع ، حق کے پیرو حق پر چلنے والے تھے، گویا کہ حق امام اعظم رضی اللہ عنہ سے پیدا ہوا اور حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ حق کے باپ ہوئے اس لئے امام اعظم رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو حنیفہ ہوئی۔




تا، اسم وحدت اور یکتائی کا ہے ، مسند خوارزمی میں سیف الائمہ سے منقول ہے کہ یہ بات مشہور ہے،چارہزار استادوں کی علماء تابعین سے شاگردگی کی ، اور علم فقہ حاصل کیا ، لیکن اپنے علم پر  اپنی زبان سے فتویٰ نہیں دیا ، یہاں تک کہ انہوں نے اجازت دی ، کوفہ کی جامع مسجد میں مجلس کے اندر بیٹھے اور ہزار شاگرد امام کے جمع ہوئے ان میں سے بزرگ تر اور فاضل تر چالیس شاگرد تھے جو رتبہ اجتہاد کو پہنچے تھے ان کو اپنا مقرب کیا اور کہا کہ تم میرے رازداں اور غمگسار ہو، میں نے اس فقہ کے گھوڑے کو تمہارے واسطے تیار کردیا لگام دے کر زین کس کر تم میری مدد کرو اس واسطے کہ لوگوں مجھ کو جہنم کا پل بنایا ہے، غیر لوگ پار ہوتے ہیں اور بوجھ میری پیٹھ پر پڑے ،یعنی لوگ تقلید کے سبب سے نجات پائیں گے، مواخذہ مجھ سے ہوگا اگر عرق ریزی اور اجتہاد میں کچھ تساہل ہوگا، امام کو عادت تھی کہ جب کوئی واقعہ پیش آتا تو مجتہد شاگردوں سے مشورہ اور مناظرہ اور گفتگو کرتے اور ان سے پوچھتے اور جو احادیث اور آثار شاگردوں کے پاس تھے ان کو سننے اور جو آپ کو معلوم تھے ان کو فرماتے، اور مجتہد شاگرد امام کے ساتھ مہینہ مہینہ بھر بلکہ زیادہ دو بدل اور مناظرہ کرتے ، یہاں تک کہ آخر کو ایک بات ٹھہر جاتی ، اس کو



محقق امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ ثابت کرتے، یعنی لکھ دیتے ، یہاں تک کہ تمام اصول فقہ کو اسی طرح شورہ کرکے ثابت کیا ، امام اعظم رضی اللہ عنہ اور اماموں کی طرح ہذات خود منفرد نہیں ہوئے انتہا روایت ، ( خوارزمی )

علم فقہ کے مدوین

علم فقہ کے مدوین




اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری علیہ الرحمہ کے مضمون کاایک حصہ


مذکورہ بالا احادیث کے جانچ پڑتال کرنے کے لئے ایک دوسرے سے تمیز کرنے کے لئے صحیح کو ، سقیم کو ، جداکرنے

؂ے لئے اللہ پاک نے مجتہد عظام پیدا کردیا ، ہر ایک مجتہد نے اس کی صحت اور جانچنے کے لئے شرائط مقرر کر دیا ہے ، جب کوئی حدیث مجتہد کے پاس اس کے شرائط کے مطابق ثابت ہوجائے تو وہ اس حدیث کو اپنے مدعیٰ ثابت کرے کے لئے دلیل بنا دیتے ہیں ، ورنہ اس کو کوئی دوسری تادیل کرتے ہیں تاکہ احادیث پر عمل کرنا ممکن ہوجائے ،

ورنہ احادیث پر عمل کرنا محال ہوجاتا ہے ، مثلاً سینہ پر ہاتھ باندھنا نماز میں ، ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ، ناف کے اوپر ہاتھ باندھنا یہ سب احادیث سے ثابت ہے ،

ان سب احادیث پر ایک وقت عمل کرنا محال ہے ، جس نے سینہ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی ، اس نے سینے کے نیچے اور ناف کے اوپر ، ناف کے نیچے کے احادیث پر عمل کرنا مشکل ہوجاتا ہے ، اس لئے شرط مقرر ہوئے ، ہر مجتہد نے اپنے شرائط کے ساتھ ان تمام احادیث میں سے ایک حدیث کو دلیل بنایا۔

مثلاً حنفی مذہب میں نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا سنت ہے ( ابو داؤد اور ترمذی شریف )سے ثابت ہے ، فرمایا راوی مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ نے:

السنت فی الصلوٰۃ وضع الیمنیٰ علی الشمال تحت السرۃ۔

یعنی سنت ہے نماز میں رکھنا دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے جب راوی صحابہ سنت کہے اس سے مراد ، نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی سنت ہے،



 دیکھو اس حدیث شریف میں لفظ سنت موجود ہے سنت اس فعل کو کہتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو یا اپنی عمر شریف میں ایک دو مرتبہ چھوڑ دیا ہو ، باقی احادیث کو حنفیوں نے تاویل کیا ہے ، نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا یا سینے کے نیچے


یا ناف کے یہ جواز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے ایک دو مرتبہ کیا ہے، مگر سنت موکدہ نماز میں ہاتھوں کو باندھنا ناف کے نیچے ہے ، ہر مجتہد کے پاس قرآن و حدیث بطور اصول کے ہے اسی لئے چاروں مذہب حنفی ، شافعی ، مالکی ، اور حنبلی حق ہیں ۔تاویل مذکور بالا صرف عمل کے لئے ہے بخلاف تبرائی وہابی کے جن کا دعویٰ ہے خدا ورسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے سوا کسی تیسرے کی بات ماننا کفر اور شرک ہے، یہ فرقہ کسی ایک حدیث پر عمل نہیں کرسکتا ، ایک حدیث پر عمل کرنے سے دوسرے حدیث کا خلاف لازم آتا ہے، کیونکہ وہ بھی تو حدیث ہی ہے اس پر عمل کیوں نہیں کیا ؟ اور وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے یہ حدیث صحیح ہے یا وہ حدیث ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے کسی حدیث کے متعلق یہ نہیں فرمایا ، یہ اصطلاح علماء جرح و تعدیل کا ہے اگر یہ فرقہ اس کو مانے گا یہ تو ان کی تقلید ٹھہری ، تقلید کرنا اس گمراہ فرقہ کے نزدیک کفر و شرک ہے یہ اپنے زعم باطل سے اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں، لہٰذا یہ فرقہ کسی حدیث پر عمل نہیں کرسکتا اگر چہ زبان سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم عمل بالحدیث ہیں ۔

سنی مسلمانوں کو لازم ہے کہ معلوم کریں فقہ کیا چیز ہے ، اس کا بانی کون ہے؟ لہٰذا مختصر چند باتیں اس کے متعلق نقل کرتا ہوں ، تاکہ سنی بھائی بد مذہب وہابیہ وغیرہ کے دھوکوں سے محفوظ رہیں ، فقہ لغت میں کسی چیز کے جاننے کو کہتے ہیں ، حرف میں مخصوص ہوا علم شریعت کو فقہ کہتے ہیں ، تعریف فقہ یہ ہے :

العلم بالاحکام الشرعیۃ الفرعیۃ المکتسب من ادا التھا التفصیلیہ ۔ (درالمختار)

 یعنی فقہ عبارت ہے احکام شرعی فرعی کے اس علم سے جو حاصل ہوا احکام کے دلائلی مفصلہ سے ، احکام فرعی وہ ہے کو عمل کے متعلق ہو اور اعتقاد کے متعلق ہو ، ان کو احکام فرعی وہ ہے جو عمل کے متعلق ہو اور اعتقاد کے متعلق ہو ، ان کو احکام اصول کہتے ہیں ، دلائل تفصیلیہ سے مراد چار اصول ہیں ، یعنی قرآن ، سنت اجماع اور قیاس مجتہد اور فقہ کے سب سائل انہیں چار اصولوں سے ثابت ہیں ،

 جس نے فقہ کا انکار کیا اس نے قرآن حدیث کو انکار کیا وہ اسلام سے خارج ہوا ، جیسے بد مذہب تبرائی وہابی جواپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں ، یہ فرقہ العیاذ باللہ فقہ شریف کی بہت توہین اور برا بھلا کہتا ہے۔

فقہ بحث کرتا ہے عاقل بالغ کے فعل سے ، ثبوت کی راہ سے یا سب کی راہ سے ، ثبوت کی راہ سے

یعنی اس عاقل بالغ کو خواہ مرد ہو یا عورت یہ کرنا واجب ہے ، یہ کرنا سنت ہے ، یہ کرنا مستحب ہے اور مباح ہے ، یاسب کی راہ سے یعنی اس عاقل بالغ کو یہ کرنا حرام ہے ، یہ کرنا مکروہ تحریمی ہے ، یہ کرنا مکروہ تنزیہی ہے

، امام عبدالوہاب شیرانی شافعی نے میزان شیرانی میں مجتہد فقہ کی سند متصل یوں لکھی ہے : امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی فقہ کی ، حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے ،

حضرت عطاء رضی اللہ عنہ کی روایت کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے روایت کی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، حضرت نبی کریم ی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روایت کی حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے روایت کی حضرت اللہ عزوجل سے ۔




حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ نے فقہ کی روایت کی حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت نبی کریم ی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ، حضرت نبی کریم ی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ، حضرت جبرئیل  علیہ اسلام نے حضرت اللہ عزوجل سے۔


حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ نے روایت کی حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے،حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ نے آخری سند تک اور حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے فقہ کی روایت کی حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ سے، حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ نے روایت کی   حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ سے آخری سند تک ۔

حضرات علماء کرام نے حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دوسری سند متصل یوں بیان فرمائی ، حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ نے علم فقہ حاصل کیا ، حضرت حماد رضی اللہ عنہ سے ، حضرت حماد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔

حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ سے پہلے لوگ اپنے حفظ پر اعتبار کرتے تھے ،

جب امام نے علم کو

منتشر دیکھا متاخرین کے سوء حفظ سے ڈرے، مبادا علم ضائع نہ ہوجائے ، پھر امام نے علم فقہ کی تدوین کے بانی ہوئے، حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ، آپ کے شاگرد حضرت امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ اور حضرت امام محمدر ضی اللہ عنہ لکھتے تھے، اس طرح تدوین رہی عبادات کو مقام کیا ، کتاب طہارت سے ابتداء ہوئی ، اس کے بعد صلوات پھر صوم پھر باقی عبادات اور معاملات سے مواریث پر خاتمہ کیا۔ ( مجموعہ مسانید خوارزمی )۔

حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ نے کیا عمدہ نیک طریقہ نکالا ،

 آپ سے پہلے یہ طریقہ کسی نے نہیں نکالا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کوئی نیک طریقہ نکالے اس کو اس کا ثواب ملے گااور اس کو اس شخص کے برابر ثواب ملے گا جو اس نیک طریقہ پر چلے گا، اوراس کے بعد حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ نے موطا میں وہی طریقہ اختیار کیا اوسان کے بعد علماء محدثین نے کتابیں لکھنی شروع کیں ، حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کو ان سب کے برابر قیامت تک ثواب ملتا رہے گا اور فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے:

طلباء کو مندرجہ ذیل اصطلاح یاد رکھنا بہترہے

طلباء کو مندرجہ ذیل اصطلاح یاد رکھنا بہترہے


طلباء کو مندرجہ ذیل اصطلاح یاد رکھنا بہترہے




قسم حدیث : تعریف

صحیح :۔وہ حدیث ہے جس کی سند راوی سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم تک متصل ہو، کوئی راوی چھوٹا نہ ہو، اور اس کے سب راوی سچے اور یاد کے پکے ہوں ، اور روایت کا خلاف اور پوشیدہ اسباب طعن نہ رکھتے ہوں ۔

حسن :۔  وہ حدیث ہے جس کے راویوں میں سے کسی پر جھوٹ کی تہمت نہ ہوئی ہے ، نہ رواہت کا خلاف ہو ، اور وہی حدیث دوسری طرح سے مروی ہو، اس کا رتبہ صحیح کے رتبہ سے کم ہے ۔

مرفوع :۔  وہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا خاص فعل یاقول یا تقریرہو ، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے اس کو مقرر کر رکھا ہو۔

متصل : ۔  وہ ہے جس کی سند برابر ملی ہو کوئی راوی چھوٹا نہ ہو۔

مسند :۔  وہ حدیث ہے جس کے راویوں کے نام مذکور ہوں ۔

مشہور:۔  وہ حدیث ہے کہ ہر زمانہ میں بہت راویوں نے اس کو روایت کیا ہو ۔

ضعیف :۔  وہ حدیث ہے جس کے راویوں میںسے کوئی راوی چھوٹا یا فاسق یا کسی طرح سے مطعون ہو۔

موقوف :۔  وہ قول اور فعل ہے جس کسی صحابی سے روایت کیاجائے۔

مرسل :۔  وہ حدیث ہے جو تابعی نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے روایت کرے کہ آپ نے ایسا کیا یا ایسا فرمایا یعنی ذکر صحابی کا نہ کرے۔



منقطع :۔ وہ حدیث جس کے اسناد برابر نہ ہوں ، شروع میں سے یا بیچ میں سے یا اوپر سے کوئی راوی چھوٹ گیا ہو
، مگر اکثر اس روایت پر بولتے ہیں جو تبع تابعی سے روایت کرے اور تابعی کا ذکر نہ کرے۔

معضل :۔  وہ حدیث ہے جس کے سند میں دو یا زیادہ راوی چھوٹے ہوں ۔

مضطرب :۔  وہ حدیث ہے جس میں روایت مختلف ہو کوئی کسی طرح روایت کرے کوئی دوسری طرح ۔

غریب :۔  وہ حدیث صحیح ہے جس کی روایت میں کسی جگہ ایک راوی اکیلا ہو ، اگر ہر زمانہ میں اکیلا ہوگا توفرد کہتے ہیں ، اگر ہر جگہ دو راوی ہوں تو اس کو عزیز کہتے ہیں ۔

متواتر :۔  وہ حدیث ہے کہ اس کے راوی کثرت سے ہوں کہ ان کا اتفاق جھوٹ پر عادتاً محال ہو۔

منکر:۔  اس حدیث کو کہتے ہیں جو کوئی ثقہ یعنی یاد کا پکا اور معتبر شخص لوگوں کی روایت کے خلاف بیان کرے ، اسی کو شاذ بھی کہتے ہیں ۔

معلق :۔  اس حدیث کو کہتے ہیں جس کے اسناد کے شروع میں سے ایک یازیادہ راوی چھوٹ جائیں اور اس فعل کو تالیق کہتے ہیں ۔

مدلس :۔  تدلیس حدیث اس فعل کو کہتے ہیں کہ راوی جس شخص سے روایت کرے
اس سے ملاقات کی ہو یا وہ اس کا ہم عصر ہو، مگر اس سے اس روایت کو سنا نہ ہو، اور ایسے الفاظ میں بیان کرے جس سے یہ وہم ہوتا ہو کہ سنا ہوا کہتا ہے ، یا تدلیس اس کو کہتے ہیں کہ راوی اپنے استاذ کا نام چھپائے اور دوسرے شخص کا نام بولے۔

معلل :۔  وہ حدیث ہے کہ ظاہر میں تو عیب سے پاک معلوم ہوتا ہومگر باطن میں سب سے طعن پایا جاتے ہوں ۔

مدرج :۔  اس کو کہتے ہیں کہ حدیث میں کسی راوی کا کلام درج ہوجائے اور یہ گمان ہو کہ یہ کلام



بھی حدیث ہے یا دو متنوں کو کہ دو سندوں سے مروی ہو ، ان کو ایک سند سے روایت کیاجائے ۔

مودوع :۔  وہ حدیث ہے جو کسی نے خود بناکر نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی طرف یا صحابہ کی طرف منسوب کر دی ہو۔

تمام ہوئے اقسام حدیث ۔



آثار فضائل تعلیم

آثار فضائل تعلیم


آثار فضائل تعلیم


اعلیٰ حضرت پیرسیدمقبول احمدشاہ قادری




حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص حدیث بیان کرے اور اس پر عمل کرے تو اس کو ثواب ان لوگوں کے برابر ملے گا جو اس پر عمل کریں گے ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص لوگوں کو بہتر بات سکھاتا ہے اس کے لئے تمام چیزیں سمندر کی مچھلیاں تک استغفار کرتے ہیں ، بعض علماء کا قول ہے کہ عالم خدا تعالیٰ اور اس کے مخلوق کے درمیان واسطہ پڑتا ہے پس دیکھو کہ کس طرح واسطہ پڑتا ہے ، وہ تعلیم کے ذریعہ ہے ،۔

روایت ہے کہ حضرت سفیان ثوری عسقلان تشریف لائے اور کچھ دن وہاں رہے ، ان سے کسی نے کچھ پوچھا نہیں آپ نے فرمایا : کہ میرے لئے سواری کرایہ پر لاؤ کہ میں اس شہر سے نکل جاؤں ،
یہ ایسا شہر ہے کہ اس میں علم مرجائے گا ، یہ اس واسطے کہا کہ تعلیم کی بزرگی اور اس کے جہد سے علم باقی رکھنے کو آپ کو حرص تھی۔

حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں سعد بن مسیب کے پاس گیا وہ روتے تھے ، میں نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی ، انہوں کہا کہ مجھے کوئی پوچھتا نہیں ، بعضوں کا قول ہے کہ علماء زمانے کا چراغ ہیں ہر ایک اپنے وقت کا چراغ ہوتا ہے
کہ اس سے ان کے زمانے کے لوگ روشنی حاصل کرلیں ۔

حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، اگر علماء نہ ہوتے تو آدمی مثل چوپائے کے ہوجاتے ، علماء لوگوں کو تعلیم کی جہد سے حالت بہیمی سے نکال کر سرحد انسانیت پر پہنچا دیتے ہیں ۔

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
اس علم کا کچھ مول ہے ، کسی نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا: وہ یہ ہے کہ ایسے علم کو سکھائے جو اچھی طرح یاد کرے اور ضائع نہ کرے ۔

یحییٰ ابن معاذ فرماتے ہیں کہ علماء امت پر ماں باپ سے زیادہ رحیم ہیں ، لوگوں نے پوچھا کہ




کس طرح ؟ آپ نے فرمایا کہ ماں باپ بچوں کو آگ دنیاوی سے بچاتے ہیں ، اور علماء آخرت کی آگ سے جوزیادہ سخت اور ہمیشہ رہنے والی ہے ،
بعض اک قو ل ہے ، ابتدائی علم سکوت سے ہے ، پھر سننا اور یاد کرنا ، پھر عمل کرنا، اور اس کو لوگوں میں پھیلانا ، بعض یوں فرماتے ہیں کہ اپنا علم ایسے کو سکھاؤ جو اس سے جاہل ہو، اور ایسے شخص سے سیکھو جو چیز تم کو نہ آتی ہو اور اس کو وہ جانتا ہو، جب ایسا کروگے تو جو چیز تمہیں معلوم نہیں وہ جان لوگے
اور جو تمہیں آتا ہوگا وہ زیادہ یاد رہے گا۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور ایک حدیث مرفوع سے بھی پایا گیاہے کہ  علم سیکھو کہ اس لئے کہ اس کاسیکھنا خوف الٰہی ہے، اس کی جستجو عبادت ہے اوراس کا درس دینا تسبیح ہے
، اس کی بحث جہاد ہے ، اور جو شخص نہ جانتا ہو اس کو تعلیم دینا خیرات ہے ، جو اس کا اہل ہو اس پر خرچ کرنا قرب منزلت ہے ،
یہی علم تنہائی میں انیس ہے، سفر میں جلیس ہے ، خلوت میں گفتگو کرنے والا دین کا راہ نما ، حالت تونگری اور افلاس میں چراغ ، دوستوں کے سانے نائب اجنبی اشخاص کو قریب کرنے والا،
دشمنوں کے حق میں ہتھیار ، راہ جنت کا منار ، اور اسی علم کی بدولت اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو بلند مراتب عنایت فرماتا ہے کہ
ان کو امور خیرمیں سردار پیشوا ، ہادی بناتا ہے ،
ان کی دیکھا دیکھی اوروں کو خیر نصیب ہوتی ہے
، ان کے قدموں پر لوگ چلتے ہیں ، ان کے افعال کو لوگ تاکتے ہیں ، فرشتے ان کی دوستی میں رہتے ہیں ، اپنے بازوؤں سے ان کو پوچھتے ہیں ، تمام خشکی اور تری کے لوگ ان کے لئے بخشش مانگتے ہیں ، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں اور کیڑے خشکی کے درندے اور چوپائے ،
آسمان اور ستارے سب کے سب ان کے لئے دعاء مغفرت مانگتے ہیں ۔

علم دل کی زندگی ہے ، اس کے باعث جہالت نہیں رہتی ، اور علم نور ہے
کہ جس کے سامنے تاریکی جاتی رہتی ہے ، اس سے بدن کو قوت آتی ہے
اور ضعف دور ہوجاتا ہے ، اور اس کے باعث بندہ نیک مراتب اور بلند درجہ حاصل کرتا ہے ، علم میں فکر کرنا روزہ رکھنے کے برابر ہے ،
اس کے درس میں مشغول رہنا شب بیداری کے برابر ہے ، اور اسی کے باعث خدائے تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی توحید و تمجید ہوتی ہے ،اس سے ورع اور تقویٰ ، صلہ ارمام اور معرفت حلال و حرام حاصل ہوتی ہے ، علم امام اور عمل اس کا



تابع ہے ، نیک بختوں ہی کے دل میں اس کی جگہ ہوتی ہے اور بدبخت اس سے محروم رہتے ہیں ،اللہ تعالیٰ سے ہم لوگ نیک توفیق کی خواہش رکھتے ہیں ۔

اب سنو ! ہر مسلمان پر علم سیکھنا فرض عین کتنا ہے ،
فرض عین اس کو کہتے ہیں جس پر وہ فرض ہے خود ادا کرے تو ادا ہوگا اگر کوئی دوسرا ادا کرے تو ادا نہ ہوگا، مثلاً پانچ وقت کی نماز یہ فرضِ عین ہے ، ہرمسلمان عاقل بالغ پر خواہ مرد ہو یا عورت ۔

فرض کفایہ وہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان عاقل بالغ ادا کرے تو سب کی طرف سے ادا ہوگا اگر کسی نے ادا نہیں کیا تو سب کے سب گناہ گار ہوجائیں گے۔

علم سیکھنا فرض عین ہے ، قرآن کریم سے ایک آیۂ کریم پڑھی یا چھوٹے چھٹوٹے تین آیتیں ، سیکھنا اور یاد کرنا پر عاقل ، بالغ مسلمان پر خواہ مرد ہو یا عورت فرض عین ہے۔

سورئہ فاتحہ شریف سیکھنا اوراس کو یاد کرنا واجب ہے، اور اس کے ساتھ ضم سورہ کرنا تین چھوٹے چھوٹے آیتوں کے برابر سیکھنا اور یاد کرنا واجب ہے۔

باقی قرأت مسنونہ اور مستحبہ سیکھنا اور یاد کرنا سنت اور مستحب ہے سارا قرآن مجید سیکھنا سنت عین ہے۔

جب مسلمان عاقل بالغ ہوجائے تو اس کو کلمۂ طیبہ شریف پڑھنا اوراس کے معنیٰ سیکھنا ، اس کی تصدیق کرنا فرض عین ہے۔

اگر چہ مسلمانوں کے گھروں میں جو بچہ تین سال کا ہوتا ہے تو کلمہ شریف اس کو یاد کراتے ہیں ، مگر اس کے معنی اور تصدیق کرانے کی تعلیم سے نا آشناہوتے ہیں یہاں تک کہ اکثر بوڑھے بھی اس کے معنیٰ سے واقف نہیں ، عورتوں میں شاید ہی کوئی اس کے معنیٰ سے واقف ہوگی ، اب اس کلمہ طیبہ کا معنی سنو۔

لَا ِالٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمّدُرَّسُوْلُ اللّٰہِ

لا الہ الا اللہ : کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں ، مگر اللہ پاک عبادت کے لائق ہے، اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول اس کے بھیجے ہوئے ہیں ، رسول کا معنی بھیجا ہوا ہے ، یہ دو جملے ہیں ،



پہلے جملے میں وحدانیت الٰہی کی تصدیق ہے ، دوسرے جملہ میں رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق ہے ، جب تک ان دونوں جملوں پر ایمان و تصدیق نہ ہوگا ہرگز ہر گز ایماندار نہیں ہو سکتا، یعنی دل سے سچ سے جاننا اور زبان سے اقرار کرنا ضروری ہے،اگر کسی ایک ضرورت کو انکار کرے گا تو اسلام سے خارج کافر ہوجائے گا ، ضروریات دین کا بیان عقائد میں درج ہوچکا ہے ، ہمارے ذمہ جو کام تھ اس کو لکھ دیئے ، مگر لوگوں میں اس قدر سستی پیدا ہوگئی ہے کہ ان کو ان باتوں کی فکر ہی نہیں
، سنیما کے اشتہاروں کو اچھی طرح یاد رکھتے ہیں ، سنیماکے کہانیاں زبانی تو نقل کرتے ہیں ، مگر مذہبی امور کا تذکرہ کہیں ہوتا ہی نہیں ، اگر سنی مسلمان اس کو یاد رکھتے تو بہتر تھا، اس میں ان کی دینی و دنیوی بہتری تھی خصوصاً ضلع دھارواڑ
کے مسلمان بالکل مذہب سے نابلد ہیں ، کچھ مذہبی معلومات ہے ہی نہیں خیر آئندہ اس کا نفع نقصان خود معلوم ہوجائے گا، مرنے کے بعد پچتانا ہوگا ، مگر کچھ نتیجہ نہیں ۔



یہ کلمہ شریف اصل اور جڑ ہے سب عبادات اس کے سوا بیکار ہے ،

تعلیم متعلم میں لکھا ہے علم حال کی طلب فرض عین ہے یعنی مسلمان جس حال پر ہو اس علم سیکھنا فرض عین ہے ،مثلاً جب مسلمان عاقل اور بالغ ہوجائے اس پر نمازروزوں کے فرائض سیکھنا فرض عین ہے اور نمازموقوف ہے وضو پر اس لئے وضو کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے ،
بالجملہ جس چیز کا شغل رکھتاہے اس پر اس کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے تاکہ اس میں ارتکاب حرام سے محفوظ رہے ، علم کا سیکھنا واجب ہے جس سے امر واجب ادا ہوجائے ۔ ( طحطاوی ) اور درالمختار میں ہے:


اعلم ان تعلم العلم یکون فرض عین وھو بقدر مایحتاج لدینہ ۔

یعنی معلوم کر اے مخاطب سیکھنا علم کا فرض عین ہوتا ہے۔

اس قدر جس کے طرف آدمی محتاج اپنے دین کے واسطے ہو ، یہ سب اوپر مذکور ہوا ۔

وفرض کفایت وھو مازاد علیہ لنفع الغیر ۔

اور علم سیکھنا فرض کفایہ ہے وہ جو اپنے حاجت سے زیادہ ہو ،
غیروں کے نفع کے واسطے ، یعنی ناواقف لوگوں کو بتائے کہ وہ لوگ مہالک اور محرمات سے بچیں ، ایک عالم ہر طرف ہونا ضروری ہے



تاکہ عوام مسلمین کو ضرورت دین سکھائے ورنہ عوام ضائع ہوجائیں گے ۔

مندربٌ وھو التبحرنی الفقہ وعلم القلب ۔

یعنی اور علم سیکھنا مستحب ہوتا ہے زیادتی ہے ، ( علم حاصل کرنا ) فقہ میں اور دل کے علم میں علم قلب سے مراد ہے ، اخلاق ہے۔


عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular