Showing posts with label مذہب اورفدؔا. Show all posts
Showing posts with label مذہب اورفدؔا. Show all posts
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانام برہ تھاحضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانام تبدیل کرکے میمونہ رکھا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۳)

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ کا نام ہند بنت عوف ہے جن کے ایسے داماد تھے جو کسی اور کو میسر نہیں، ایک داماد حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تھے، دوسرے داماد حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیونکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں، ہند بنت عوف کی پہلے شوہر عمیس خثعمی
رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دو صاحبزادیاں تھیں، ایک اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں آئیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی دوسری بہن حضرت زینب بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں جوحضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۴)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ ماہ ذیقعدہ    ۷ ھ؁ میں عمرۃ القضاء میں ہوا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۴)

    جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف سے انہیں نکاح کا پیام ملا وہ اونٹ پر سوار تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا: اونٹ اورجواس پرہے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے ہے۔

 (التفسیر القرطبی،الجزء الرابع عشر، الاحزاب:۵۰،ج۷،ص۱۵۴)

    یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح، زفاف اور وصال ایک ہی مقام پر واقع ہوا جسے سرف کہتے ہیں اور یہ مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲، ص۴۸۴)
    حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھہتر حدیثیں مروی ہیں۔ سات متفق علیہ باقی دیگر کتابوں میں ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲، ص۴۸۴)

وصال

    سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال مشہور تر قول کے مطابق  ۵۱ھ ؁میں ہوا اور باقوال مختلفہ        ۶۱ ھ ؁یا  ۶۳ ھ؁ یا  ۶۶ھ؁ بھی بتایا گیا ہے۔ بقول بعض حضرات میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال  ۳۸ھ؁ میں امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آخری زوجہ مطہرہ ہیں ان کے بعد حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی سے نکاح نہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھانجے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی اور دیگر بھانجوں نے انکوقبر میں اتارا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲، ص۴۸۴)

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب بنی اسرائیل سے حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔

 (المواہب اللدنیۃ،المقصد الثانی،الفصل الثالث،ذکر ازواجہ الطاہرات...الخ،ج۱، ص۴۱۲)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی خیبر کے قیدیوں میں تھيں۔ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو اپنے لئے منتخب کرلیا۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئیں لوگوں نے کہا وہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔حسینہ جمیلہ ہونے کے علاوہ قبیلہ کے سردار کی بیٹی بھی ہیں لہٰذا مناسب یہی ہے، کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ مخصوص کی جائیں۔ مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ان قیدی باندیوں میں سے کوئی اور لے لو۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سیدہ صفیہ کے چچا کی لڑکی ان کے بدلہ میں مرحمت فرمائی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سات باندیوں کے بدلہ میں خریدا۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں آزاد فرمادیا اور نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر بنایا۔

 (مدارج النبوت،قسم سوم،باب ششم،وصل ذکر غزوہ خیبر...الخ،ج۲،ص۲۴۹)

سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خواب

    سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ چاند ان کی آغوش میں
آگیا ہے جسے اپنے پہلے شوہر کنانہ سے بیان کیا۔ اس نے کہا کہ تو اس بات کی خواہش رکھتی ہے کہ اس بادشاہ کی بیوی بنے جو مدینہ میں ہے اور ایک طمانچہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مارا جس سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آنکھ نیلی پڑ گئی،اس طمانچہ کا اثر ظاہر تھا، سرور دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے استفسار پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ساری حقیقت حال بیان کردی۔

 (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج۸،ص۹۶)

سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ادب

    غزوہ خیبرسے واپسی پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے پائے مبارک سواری پر رکھے تاکہ سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قدموں کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ران پر رکھ کر سوار ہوجائیں۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قدم کے بجائے اپنے زانو کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ران پر رکھ کر سوار ہوگئیں۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو اپنا ردیف بنایا اور پردہ باندھا۔

 (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج۸،ص۹۶)

    حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی باری کے دن ان کے پاس تشریف لائے، سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو روتا پا کر سبب گریہ وزاری پوچھا عرض کیا: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آکر مجھے ایذا دیتی ہیں، کہتی ہیں کہ ہم صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بہترہیں کیونکہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے نسب مبارک کی شرافت حاصل ہے، حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :تم نے کیوں نہیں کہا کہ تم کیوں کر مجھ سے بہتر ہو، حالانکہ میرے باپ
ہارون علیہ السلام ہیں اور میرے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۳)

    سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کتب معتبرہ میں دس حدیثیں مروی ہیں۔ ایک متفق علیہ اور باقی نو دیگر کتابوں میں ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۳)

وصال

    ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال مختلف اقوال کے مطابق  ۳۶ھ؁یا  ۵۲ھ ؁میں ہوا،یہ قول بھی ہے کہ خلافت فاروقی میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا، اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۳)
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

سلسلہ نسب

    ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن مناف۔ ان کا نام رملہ یا بقول دیگر ہند تھا، ان کی والدہ صفیہ بنتِ ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس تھیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)

    سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اوائل اسلام میں ایمان لے آئیں اور حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ کی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پہلے عبید اللہ بن جحش کی زوجیت میں تھیں
جس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی،اس کانام حبیبہ تھا، اسی سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کنیت ام حبیبہ ہوئی عبید اللہ بعد میں دین اسلام سے پھر گیا اور مرتد ہو کر مرا۔

     (الطبقات الکبری لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ،ج۸،ص۷۶)

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خواب

    ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :میں نے خواب میں دیکھاکہ ایک شخص مجھے ''یاام المؤمنین'' کہہ کر مخاطب کررہا ہے، میں نے خواب کی تعبیر یہ لی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم مجھے نکاح میں لائیں گے۔

     (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ،ج۸،ص۷۷)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا کہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے پیام دیں اور نکاح کریں، پھر سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا وکیل بنایا، نجاشی نے خطبہ پڑھا، حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وہ تمام مسلمان جو حبشہ میں موجود تھے شریک محفل ہوئے، پھر نجاشی نے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دینار سپرد کئے لوگ جب روانہ ہونے کے لئے تیار ہوئے تونجاشی نے کہا: بیٹھ جاؤ کہ مجلس نکاح میں کھانا کھلانا انبیا علیہم السلام کی سنت ہے، نجاشی نے کھانے کاانتظام کیا،سب نے کھانا کھایا پھر رخصت ہوگئے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)
سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ادب

صلح حدیبیہ کے دوران ابو سفیان مدینہ منورہ آیاسیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پہنچ کر چاہا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے بستر پربیٹھے سیدہ نے اپنے باپ کو بستر پر بیٹھنے سے منع کردیا اور فرمایا: یہ بستر طاہر و مطہر ہے اور تم نجاست شرک سے آلودہ ہو۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)

    سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کتب معتبرہ میں پینسٹھ احادیث مروی ہیں ان میں سے دو متفق علیہ ہیں ایک تنہا مسلم میں ہے باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۲)

وصال

    سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پاکیزہ ذات ، حمیدہ صفات، جواد اور عالی ہمت تھیں، قرب و صال سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ مجھے ان امور میں معاف کردو جو ایک شوہر کی بیویوں کے درمیان ہوجاتے ہیں اور اس نوع سے جو کچھ میری جانب سے تمہارے متعلق واقع ہوا ہو اسے معاف کردو۔ انہوں نے کہا حق تعالیٰ آپ کو بخشے اور معاف کرے ہم بھی معاف کرتے ہیں۔ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں خوش رکھے تم نے مجھے خوش کردیا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)

    ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال مدینہ طیبہ میں  ۴۰ ھ؁ یا  ۴۴ھ؁ میں ہوا۔ ایک قول کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال شام میں ہوا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۲)

ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانام بھی برہ تھا، حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام تبدیل کرکے جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رکھ دیا تھا۔
    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ گویا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس کو مکروہ جانتے تھے کہ کوئی یہ کہے ''برہ کے پاس سے نکل آئے ''۔ (برہ کے معنی نیکی و احسان کے ہیں۔)

 (المرجع السابق،ص۴۷۹)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بڑی شیریں ، ملیح اورصاحبِ حسن و جمال عورت تھیں۔ جب سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں، تو انہوں نے سب سے پہلی بات یہ کہی کہ یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئی ہوں، اشھدان لاالہ الا اللہ وانک رسولہ اور میں حارث بن ابی ضرار کی بیٹی ہوں جو اس قبیلہ کا سردار اور پیشوا تھا، اب لشکر اسلام کے ہاتھوں میں قید ہوں، اور حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آگئی ہوں، اور انہوں نے مجھے اتنے مال پر مکاتب  ( مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے اپنے آقا سے مال کی ادائیگی کے بدلے آزادی کا معاہدہ کیاہواہو۔ مختصر القدوری، کتاب المکاتب،ص۳۷۶) بنایا ہے کہ میں اسے ادا نہیں کرسکتی،میں امید رکھتی
ہوں کہ میری اعانت فرمائی جائے تاکہ کتابت (یعنی آزادی کی قیمت)کی رقم ادا کرسکوں، فرمایا: میں ادا کردوں گا اور اس سے بھی بہتر تمہارے ساتھ سلوک کروں گا۔ عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس سے بہتر کیا ہوگا؟ فرمایا: کتابت کی رقم دے کر تمہیں حِبالۂ عقد میں لا کر زوجیت کا شرف بخشوں گا۔ اس کے بعد کسی کو ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا کہ وہ کتابت کی رقم ادا کرے ،پھرآزادی کے بعدان سے نکاح کیااوران کا مہرچار سو درہم مقرر فرمایا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا مہر بنی المصطلق کے قیدیوں کی آزادی کو بنایا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی، ج۲،ص۴۸۰)

قیدیوں کی رہائی

    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جب اس حقیقت حال سے باخبرہوئے تو باہم کہنے لگے :ہمیں یہ زیب نہیں دیتاکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے حرم کے اقربا کوجوکہ ان کے اصہارہیں قید و غلامی میں رکھیں اس کے بعد سب کو آزاد کردیا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۰)

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ ازواج مطہرات میں سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے زیادہ خیروبرکت والی کوئی اور ہو۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۰)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکاخواب

    ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہونے سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ مدینہ طیبہ سے چاند چلتا ہوا میری
آغوش میں اتر آیا، یہ خواب کسی سے بھی بیان نہ کیا جب میں خواب سے بیدار ہوئی تو اس کی تعبیر خود ہی کرلی جو الحمدللہ پوری ہوئی ۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی، ج۲،ص۴۸۰)

    کتب معتبرہ میں سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سات حدیثیں مروی ہیں، بخاری میں دو مسلم میں دو اور باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)

وصال

    ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ۵۰  ھ؁ یا  ۵۶ ھ؁ میں مدینہ طیبہ میں ہوا۔ ان کی نماز جنازہ مروان نے پڑھائی جوکہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے مدینہ میں حاکم تھا ۔

 (الطبقات الکبریٰ،ذکر ازواج رسول اللہ،جویریۃ بنت الحارث،ج۷،ص۹۵)
ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام برہ تھا۔ سرکار دوعالم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نام تبدیل فرما کر زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا رکھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت ام الحکم تھی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی والدہ امیمہ بنتِ عبدالمطلب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو طلاق دے دی۔ اس

کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نکاح حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ ہوا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
    حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو سرور دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا :جاؤ اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو میرے لئے پیام دو۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پہنچا اور کہا کہ تمہیں خوشی ہو کہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ میں سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے پیام دوں۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:میں اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکتی جب تک کہ میں اپنے رب عزوجل سے مشورہ نہ کرلوں ۔ پھر وہ اٹھیں اور مصلّے پر پہنچیں اور سر بسجود ہو کر بارگاہِ الہٰی میں عرض کیا: اے خدا! تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھے چاہا ہے اگر میں ان کی زوجیت کے لائق ہوں تو مجھے ان کی زوجیت میں دے دے۔ اسی وقت ان کی دعا قبول ہوئی اور یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی۔

فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۳۷﴾

ترجمۂ کنزالایمان :پھرجب زید کی غرض اس سے نکل گئی توہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہو کر رہنا۔(پ22،الاحزاب:37)
   آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پر آثار وحی ظاہرہوئے چند لمحے بعد مسکراتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :کون ہے جو زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جائے اور انہیں بشارت دے کہ حق تعالیٰ نے ان کو میری زوجیت میں دے دیا ہے اور نازل شدہ آیت تلاوت فرمائی۔

    حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خادمہ حضرت سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہا دوڑیں اور سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بشارت دی اور انہوں نے یہ خوشخبری سنانے پر اپنے زیورات اتار کر حضرت سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عطا کردیئے اور سجدہ شکر بجا لائیں اور دو ماہ روزہ سے رہنے کی نذر مانی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۷)

انفاق فی سبیل اللہ

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:میں نے کوئی عورت حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ نیک اعمال کرنے والی،صدقہ و خیرات کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی،اور اپنے نفس کوہرعبادت وتقرب کے کام میں مشغول رکھنے والی نہیں دیکھی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،،ج۲،ص۴۷۸)

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحت کے ساتھ مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا: '' تم میں سے جس کے ہاتھ دراز ہیں وہ مجھ سے ملنے میں تم سب پرسبقت کرنے والی ہے۔'' اس کے بعد ازواج مطہرات نے اپنے اپنے ہاتھوں کو بانس کا ٹکڑالے کر ناپنا شروع کردیا
تاکہ جانیں کہ کس کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں۔

    انہوں نے جانا کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں، جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے وصال فرمانے کے بعد سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دار فانی سے رخصت ہوئیں تو انہیں معلوم ہوا کہ درازی سے مراد صدقہ و خیرات کی کثرت تھی، اس لئے کہ سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے ہاتھ سے دستکاری کرتیں اور صدقہ دیتی تھیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

    سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کیا:مجھے چند فضیلتیں ایسی حاصل ہیں جوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی کسی اور زوجہ کوحاصل نہیں ایک یہ ہے کہ میرے جد اورآپ کے جد ایک ہیں ،دوسرے یہ کہ میرا نکاح آسمان میں ہوا تیسرے یہ کہ اس قصہ میں جبرائیل علیہ السلام سفیر و گواہ تھے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

    ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے گیارہ حدیثیں مروی ہیں دو متفق علیہ یعنی بخاری ومسلم میں ہیں اور باقی نو دیگر کتابوں میں ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

وصال

ان کے وصال کی خبر جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پہنچی توفرمایا: ''پسندیدہ خصلت والی،فائدہ پہنچانے والی،یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرنے والی دنیا سے چلی گئی۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نمازجنازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال تریپن سال کی عمر میں  ۲۰ھ؁ یا   ۲۱ھ؁ مدینہ شریف میں ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

سلسلہ نسب

    سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام ہندبنت ابی امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہے،  آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ کا نام عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ ہے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

    سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا پہلا نکاح حضرت ابو سلمہ ابن عبد الاسدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا۔ جن سے چار بچے پیدا ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے شوہر کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر حبشہ سے مدینہ طیبہ واپس آئیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

    حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوۂ احد میں شریک ہوئے۔ لڑائی کے دوران جو زخم آئے کچھ عرصہ مندمل ہونے کے بعد دوبارہ تازہ ہوگئے۔ اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نے انہی زخموں کی وجہ سے   ۴ ھ؁ میں اس دارِ فانی سے کوچ فرمایا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے شوہر کے وصال کے بعد اس دعا کو اپنا ورد بنالیا ہے جسے حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مسلمان کو مصیبت کے وقت پڑھنے کی تعلیم فرمائی وہ دعا یہ ہے۔

    اَللّٰھُمَّ أجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَيرًا مِّنْھَا

ترجمہ :'' اے اللہ !عزوجل مجھے اجر دے میری مصیبت میں اور میرے لئے اس سے بہتر قائم مقام بنا '' سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اپنے شوہر کے وصال کے بعد اس دعا کو پڑھتی تھی اور اپنے دل میں کہتی کہ ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر مسلمانوں میں کون ہوگا۔ لیکن چونکہ یہ ارشاد رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا تھا اس لئے اسے پڑھتی رہی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

    نیز سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آقا ئے دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے سن رکھاتھا کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: جو میت کے سرہانے موجود ہو وہ اچھی دعا مانگے اس وقت جو بھی دعا مانگی جائے فرشتے آمین کہتے ہیں۔ جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصال فرمایا تو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یارسول اللہ :صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد ان کے فراق میں کیا کہوں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہو ''اے اللہ! عزوجل انہیں اور مجھے بخش دے اور

میری عاقبت کو اچھی بنا۔ پھر میں اسی دعا پر قائم ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر عوض عطا فرمایا۔ اور وہ محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تھے۔
 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

   حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال پر حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تعزیت کے لئے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لائے اور دعا فرمائی۔ اے خدا ان کے غم کو تسکین دے اور ان کی مصیبت کو بہتر بنا اور بہتر عوض عطا فرما۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

    ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے اپنا اپنا پیام بھیجا لیکن حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کے پیام کو منظور نہ فرمایا پھر جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا پیام آیا تو کہا: ''مرحبا برسول اللہ''صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح ماہ شوال   ۴ھ ؁ میں ہوا۔ ان کا مہر ایسا سامان جو دس درہم کی مالیت کاتھا مقرر ہوا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

    ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تین سو اٹھترحدیثیں مروی ہیں ان میں تیرہ حدیثیں بخاری و مسلم میں صرف بخاری میں تین حدیثیں اور تنہا مسلم میں تیرہ اور باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔

 (المرجع السابق،ص۴۷۶)

وصال

    ام المؤمنین حضرتِ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال امہات المؤمنین میں سے سب سے آخر میں ہوا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال  ۵۹ھ؁ میں ہوا جو صحیح تر ہے اور
بعض  ۶۲ھ؁ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد بتاتے ہیں۔ اور اس قول کی تائیداس روایت سے ہوتی ہے جسے ترمذی نے ایک انصار کی بیوی سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔ وہ کہتی ہیں میں ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو روتے ہوئے دیکھ کر عرض کیا اے ام سلمہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا کس چیز نے رلایا ہے؟ فرمایا کہ میں نے ابھی ابھی خواب میں تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا سر انور اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے محاسن شریف گرد آلود ہیں اورگر یہ فرمارہے ہیں، میں نے عرض کیا :یارسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کس بات پر گریہ فرمارہے ہیں۔ فرمایا: جہاں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا وہاں موجود تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے وقت حیات تھیں۔

    ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال چوراسی سال کی عمر میں مدینہ طیبہ میں ہوا۔ ان کی نماز جنازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بقول دیگر سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

نسب شریف

     ام المؤمنین حفصہ بنت عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی۔ سیدہ کی والدہ ماجدہ حضرت زينب بنت مظعون ، حضرت عثمان بن مظعون کی بہن ہیں۔     ام المؤمنین حفصہ بنت عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی۔ سیدہ کی والدہ ماجدہ حضرت زينب بنت مظعون ، حضرت عثمان بن مظعون کی بہن ہیں۔

 (الطبقات الکبری لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ،ج۸،ص۶۵)

     حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے پہلے حضرت خنیس بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں،جو شرکائے بدر میں سے ہيں سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کے ہمراہ ہجرت فرمائی۔

     (الطبقات الکبری لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ،ج۸،ص۶۵)
    بعد وصال حضرت خنيس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی صاحبزادی کے نکاح کے لئے حضرت عثما ن غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا مگر انہوں نے اثبات میں جواب نہ دیا۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی اور فرمایا کہ اگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خواہش ہو تو حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح آپ کے ساتھ کردوں۔اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔ تو میں غصہ میں آیا اور یہ غصہ اس سے زیادہ تھا جتنا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر آیا تھا۔ اس کے بعد چند راتیں گزری تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے پیام دیا اور میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکانکاح حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے کردیا، پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ شاید اس وقت مجھ پر ناراض ہوگئے تھے جب کہ تمہاری پیش کش پر میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے کہا :میں ناراض ہوگیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہاری پیش کش کا انکار تو نہیں کیا تھا۔ البتہ میں یہ جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یاد فرمایا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے راز کو افشا نہیں کیا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم انہیں قبول نہ فرماتے تو میں قبول کرلیتا۔

 (الطبقات الکبری لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ،ج۸،ص۶۵،ملخصاً)

خوشخبری

    حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوطلاق دینے کاارادہ فرمایاتوحضرت جبریل علیہ السلام نے حاضرہوکرعرض کی:آپ انھیں طلاق نہ دیں کیونکہ وہ شب بیدار،بکثرت
روزے رکھنے والی اورجنت میں آپ کی زوجہ ہیں۔

     (المعجم الکبیرللطبرانی،الحدیث۳۰۶،ج۲۳،ص۱۸۸)

    سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ساٹھ حدیثیں مروی ہیں، ان میں سے چار تو متفق علیہ ،صرف مسلم میں چھ اور پچاس دیگر تمام کتابوں میں مروی ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۴)

وصال

    سیدہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال زمانۂ امارتِ حضرتِ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ۴۵ھ؁ یا  ۴۱ھ؁ یا ۴۷ھ؁ میں ہوا۔ بعض خلافت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بتاتے ہیں لیکن پہلا قول صحیح تر ہے۔ (المرجع السابق)

 (۵)ام المؤمنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

سلسلہ نسب

    زینب بنت خزیمہ بن حارث بن عبداللہ بن عمرو بن عبد مناف بن ہلال بن عامر بن صعصعہ۔ (الطبقات

الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ،ج۸،ص۹۱)

آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہافقرا و مساکین پر نہایت ہی مہربان تھیں۔ انہیں کھانا کھلاتیں اور ان پر بڑی شفقت فرماتی تھیں۔ لہٰذا زمانہ جاہلیت میں بھی '' ام المساکین'' کے لقب سے مشہور تھیں۔آپ کا پہلا نکاح حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا جو نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے غزوۂ احد میں شہید ہوئے۔ ہجرت کے تیسرے سال حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاازواج
مطہرات میں شامل ہوئیں۔لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں بہت کم حیات رہیں۔ اور رحمت عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں وصال فرمایا۔

وصال:

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے تین ماہ یا چھ ماہ یا آٹھ ماہ سرکار ابدقرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت اقدس میں رہ کر ماہ ربیع الاخر   ۴ھ؁ میں اس دارِ فانی سے کوچ کیا۔ اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۴)
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

سلسلہ نسب

    سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق بن ابو قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی۔

 (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج۸،ص۴۶)

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کنیت

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کنیت ام عبداللہ ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے کنیت مقرر کرنے کی درخواست کی چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھانجے ( یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے اپنی کنیت رکھ لو۔
    ایک اور روایت میں آیا ہے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب اپنی بہن کے نوزائیدہ فرزند حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بارگاہِ رسالت میں لے کر حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کے منہ میں لعاب دہن ڈال کر فرمایا :یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۶۸)

خواب میں سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی صورت

    ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں:رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:تم تین راتیں مجھے خواب میں دکھائی گئیں ایک فرشتہ تمہیں (تمہاری تصویر)ریشم کے ایک ٹکڑے میں لے کر آیااوراس نے کہا:یہ آپ کی زوجہ ہیں ان کاچہرہ کھولئے۔ پس میں نے دیکھاتووہ تم تھیں میں نے کہا:اگریہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تووہ اسے پوراکریگا۔

 (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل عائشۃ،الحدیث۲۴۳۸،ص۱۳۲۴)

دوسری روایت میں یہ لفظ بھی ہیں، یہ تمہاری زوجہ ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔رضی اللہ تعالیٰ عنہا

 (سنن الترمذی،کتاب المناقب ،باب فضل عائشۃ،الحدیث۳۹۰۶،ج۵،ص۴۷۰)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور پیغام سنایا کہ اللہ تعالیٰ نے
  آپ کا نکاح عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے فرمادیا ہے ، اوران کے پاس عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک تصويرتھی۔

(شرح العلامۃ الزرقانی،المقصد الثانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات،ج۴،ص۳۸۷)

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نکاح مدینہ طیبہ میں چھ سال کی عمر میں ماہ شوال میں ہوا،اور ماہِ شوال ہی میں نو سال کی عمر میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں نو سال تک رہیں۔ جب سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے وصال فرمایا تو اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی عمر اٹھارہ سال تھی۔

 (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکرازواج رسول اللہ،ج۸،ص۴۶،۴۸)

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں نکاح کیااوررخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی تو کون سی عورت مجھ سے زیادہ خوش نصیب ہے!ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس بات کوپسندکرتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی شوال میں ہو۔

 (صحیح مسلم،کتاب النکاح،باب استحباب التزوج ...الخ، الحدیث۱۴۲۳،ص۷۳۹)

حبیبہ حبیب خداعزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اعظم فضائل ومناقب میں سے ان سے حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا بہت زیادہ محبت فرمانا بھی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اپنی نعلین مبارک میں پیوند لگارہے تھے جبکہ میں چرخہ کات رہی تھی۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے چہرہ پر نور کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پیشانی مبارک سے
پسینہ بہہ رہا تھا اور اس پسینہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے جمال میں ایسی تابانی تھی کہ میں حیران تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے میری طرف نگاہ کرم اٹھاکر فرمایا: کس بات پر حیران ہو؟ سیدہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ !صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے رخِ روشن اور پسینۂ جبین نے مجھے حیران کردیا ہے اس پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کھڑے ہوئے اور میرے پاس آئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: اے عائشہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے تم اتنا مجھ سے لطف اندوز نہیں ہوئی جتنا تم نے مجھے مسرور کردیا۔

 (حلیۃ الاولیاء،ذکر النساء الصحابیات، عائشۃ زوج رسول اللہ،الحدیث۱۴۶۴،ج۲،ص۵۶)

    حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے سيدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:اے فاطمہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا جس سے میں محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو گی؟ سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: ضرور یارسول اللہ !صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں محبت رکھوں گی۔ اس پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے محبت رکھو۔

 (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل عائشۃ،الحدیث۲۴۴۲،ص۱۳۲۵)

    حضرت عماربن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کسی کو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بارے میں بدگوئی کرتے سنا تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: او ذلیل و خوار! خاموش رہ، کیا تو اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی حبیبہ پربد گوئی کرتا ہے۔

 (حلیۃ الاولیاء،ذکر النساء الصحابیات،عائشۃ زوج رسول اللہ،الحدیث۱۴۶۰، ج۲،ص۵۵)
حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذوق روایت

    حضرت مسروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکابر تابعین میں سے ہیں، جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت کرتے تو فرمایا کرتے : ''حدثتنی الصدیقۃ بنت الصدیق حبیبۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم'' مجھ سے حدیث بیان کی صدیقہ بنت صدیق، محبوبۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے یا کبھی اس طرح حدیث بیان کرتے حبیبۃ حبیب اللہ المبرّأۃ من السماء اللہ کے حبیب کی محبوبہ جن کی پارسائی کی گواہی آسمان سے نازل ہوئی ۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۶۹)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نازو نیاز

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو محبوب کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ گفتگو کرنے کی بہت قدرت تھی اور وہ جو چاہتیں بلاجھجک عرض کردیتی تھیں اور یہ اس قرب و محبت کی وجہ سے تھا جو ان کے مابین تھی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۱)

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں اپنی گڑیا ں گھر کے ایک دریچہ میں رکھ کر اس پر پردہ ڈالے رکھتی تھی۔ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے دریچہ کے پردہ کو اٹھایا اور گڑیاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو دکھائیں۔حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: یہ سب کیا
ہیں؟ میں نے عرض کیا:میری بیٹیاں (یعنی میری گڑیاں) ہیں، ان گڑیوں میں ایک گھوڑا ملاحظہ فرمایا جس کے دو بازو تھے۔ فرمایا: کیا گھوڑوں کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ میں نے عرض کیا:کیاآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے تھے اور ان کے بازو تھے۔حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس پر اتنا تبسم فرمایاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۱)

    ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہوگا مگر حق تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کیا آپ بھی جنت میں داخل نہ ہوں گے مگر خدا کی رحمت سے؟ فرمایا: ہاں !میں بھی داخل نہ ہوں گا مگر یہ کہ مجھے حق تعالیٰ نے اپنی رحمت میں چھپا لیا ہے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۲)

    حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن حضورپر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے درآنحالیکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ بلندآواز سے باتیں کررہی تھیں،توحضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے ہوئے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی طرف بڑھے کہ اے ام رومان کی بیٹی!کیاتورسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پراپنی آوازکوبلندکرتی ہے۔توبنی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم درمیان میں حائل ہوگئے۔  جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے چلے گئے تو حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
کومناتے ہوئے فرمایا:کیاتم نے نہ دیکھاکہ میں تمہارے اوران( حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کے درمیان حائل ہوگیا۔راوی فرماتے ہیں:پھرجب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضرہوئے توسیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بہت خوش پایا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی بہت خوش ہوئے۔

 (المسندللامام أحمدبن حنبل،مسند الکوفیین،حدیث النعمان بن بشیر،ج۲،ص۲۵۴)

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں جب تم مجھ سے راضی رہتی ہو اور جب تم خفا رہتی ہو میں نے پوچھا:آپ کیسے پہچانتے ہيں؟ فرمایا:جب تم مجھ سے خوش رہتی ہو توکہتی ہو محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے رب عزوجل کی قسم! اور جب ناراض رہتی ہوتوکہتی ہو ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! میں نے عرض کیا: ہاں! یہی بات ہے میں صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔

 (صحیح البخاری،کتاب النکاح،باب غیرۃ النساء ...الخ،الحدیث ۵۲۲۸،ج۳، ص۴۷۱)

     مطلب یہ ہے کہ اس حال میں صرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا نام نہیں لیتی۔ لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات گرامی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی یاد میرے دل میں اور میری جان آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت میں مستغرق ہے۔

تفقہ فی الدین

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فقہاوعلماوفصحابلغااور اکابرمفتیانِ صحابہ میں سے تھیں اور حدیثوں میں آیا ہے کہ تم اپنے دو تہائی دین کو ان حمیرا(یعنی عائشہ
صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)سے حاصل کرو۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۶۹)

     عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے کسی کو معانی قرآن احکام حلال و حرام، اشعار عرب اور علم انساب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ عالم نہیں دیکھا۔

 (حلیۃ الاولیاء،ذکر النساء الصحابیات،عائشۃ زوج رسول اللہ،الحدیث۱۴۸۲، ج۲،ص۶۰)

    حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ہم کوکسی حدیث کے بارے میں مشکل پیش آتی ہم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کرتے تو ان کے پاس اس کے متعلق علم پاتے۔

 (سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب فضل عائشۃ،الحدیث:۳۹۰۸،ج۵،ص۴۷۱)

برکاتِ آلِ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

     ایک سفر میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار مدینہ طیبہ کے قریب کسی منزل میں گم ہوگیا، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس منزل پر پڑاؤ ڈالا تاکہ ہار مل جائے، نہ منزل میں پانی تھا نہ ہی لوگوں کے پاس، لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شکایت لائے،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے،دیکھا کہ راحت العاشقين صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آغوش میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپر سختی کا اظہار کیا لیکن سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے آپ کو جنبش سے باز رکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سرکار دوعالم
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی چشمانِ مبارکہ خواب سے بیدا رہوجائیں چنانچہ صبح ہوگئی اور نمازکے لئے پانی عدم دستیاب ، اس وقت اللہ عزوجل نے اپنے لطف و کرم سے آیت تیمم نازل فرمائی اور لشکر اسلام نے صبح کی نماز تیمم کے ساتھ ادا کی حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''ما ھی باول برکتکم یا ال ابی بکر'' اے اولاد ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے۔( مطلب یہ کہ مسلمانوں کو تمہاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں) سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد جب اونٹ اٹھایا گیا تو ہار اونٹ کے نیچے سے مل گیا( گویا حکمت الٰہی عزوجل یہی تھی کہ مسلمانوں کے لئے آسانی اور سہولت مہیا کی جائے۔)

 (صحیح البخاری،کتاب التیمم،باب التیمم،الحدیث۳۳۴،ج۱،ص۱۳۳ملخصاً)

ارفع شان

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:قبل اس کے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرے لئے پیام نکاح دیں جبرئیل علیہ السلام نے ریشمی کپڑے پر میری صورت حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کودکھائی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۰)

    ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی تھیں :بے شک اللہ عزوجل کی نعمتوں میں سے مجھ پریہ بھی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا وصال میرے گھر میں اور میری باری میں، میرے سینے اور گلے کے درمیان ہوا،اور اللہ تعالیٰ نے میرے اوران کے لعاب کوان کے وصال کے وقت جمع فرمایا،عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس آئے، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی،اوررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم مجھ پرٹیک لگائے ہوئے تھے،تومیں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کودیکھاکہ مسواک کی طرف
دیکھ رہے ہیں،میں نے پہچاناکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم مسواک کوپسندفرماتے ہيں، میں نے پوچھا :آپ کے لئے مسواک لے لوں؟ توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے سر انور سے اشارہ فرمایاکہ ہاں! میں نے مسواک لی(مسواک سخت تھی )میں نے عرض کی: اسے نرم کردوں؟ توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے سرسے اشارہ فرمایا کہ ہاں!تومیں نے( اپنے منہ سے چبا کر) اسے نرم کردیا،پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کواپنے منہ میں پھیرا۔( اس طرح میرا اورسرور دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کالعاب جمع ہوگیا۔)

 (صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النبی ووفاتہ،الحدیث۴۴۴۹،ج۳، ص۱۵۷)

خلفائے مسلمین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ایمان افروز اقوال

    مروی ہے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے عرض کی:(ام المؤمنین پر افترا کرنے والے) منافقین قطعاً جھوٹے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کواس سے محفوظ رکھاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے جسم اطہرپرمکھی بیٹھے، اس لئے کہ وہ نجاست پر بیٹھتی اوراس سے آلودہ ہوتی ہے، توجب اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کواتنی سی بات سے بھی محفوظ رکھاپھر یہ کیسے ہوسکتاہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو ایسے کی صحبت سے محفوظ نہ فرماتاجوایسی بے حیائی سے آلودہ ہو۔

     (تفسیر النسفی،الجزء الثانی عشر،النورتحت الآیۃ۱۲،ص۷۷۲)

    حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے سائے کو زمین پر نہیں پڑنے دیااس لئے کہ کوئی شخص اس سائے پراپناپاؤں نہ رکھے توجب کسی کوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے سائے پرپاؤں
رکھنے کابھی موقع نہ دیاتو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی زوجہ کی آبرو پرکسی کوکیسے اختیار دے دیتا۔

 (تفسیر النسفی،الجزء الثانی عشر،النورتحت الآیۃ۱۲،ص۷۷۲)

     حضرت سیدناعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:بے شک جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کواس بات پربھی مطلع کیاکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی نعلین پرمیل لگاہواہے ،اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کی کہ اسے اپنے پاؤں سے اتاردیجئے کیونکہ اس میں میل لگاہواہے،لہٰذا اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو الگ کردینے کا حکم بھی نازل ہوجاتا۔

        (تفسیر النسفی،الجزء الثانی عشر،النورتحت الآیۃ۱۲،ص۷۷۲)

انفاق فی سبیل اللہ عزوجل

    مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرے لئے دعا فرمائیں کہ حق تعالیٰ مجھے جنت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں رکھے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :اگر تم اس رتبہ کی تمنا کرتی ہو تو کل کے لئے کھانا بچاکر نہ رکھو۔ اور کسی کپڑے کو جب تک اس میں پیوند لگ سکتا ہے بے کار نہ سمجھو، سیدہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی اس وصیت ونصیحت پر اس قدر کاربند رہیں کہ کبھی آج کا کھانا کل کے لئے بچا کر نہ رکھا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،ذکر امہات المؤمنین،حضرت عائشۃ،ج۲،ص۴۷۲)

    حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ستر ہزار درہم راہِ خدا میں صدقہ کرتے دیکھا حالانکہ
ان کی قمیص کے مبارک دامن میں پیوند لگا ہوا تھا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،ذکر امہات المؤمنین،حضرت عائشۃ،ج۲،ص۴۷۳)

    ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی خدمت میں ایک لاکھ درہم بھیجے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اسی دن وہ سب دراہم اقارب و فقرا میں تقسیم فرمادیئے ۔ اس دن روزہ سے ہونے کے باوجود شام کے کھانے کے لئے کچھ نہ بچایا۔ باندی نے عرض کیا کہ اگر ایک درہم روٹی خریدنے کے لئے بچالیتیں تو کیا ہوتا؟ فرمایا: یاد نہیں آیا اگر یاد آجاتا تو بچالیتی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،ذکر امہات المؤمنین،حضرت عائشۃ،ج۲،ص۴۷۲)

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے کتب معتبرہ میں دوہزاردوسودس حدیثیں مروی ہیں ان میں سے بخاری و مسلم میں ایک سو چوہتر متفق علیہ ہیں اور صرف بخاری میں چوَّن اور صرف مسلم میں سٹر سٹھ ہیں، بقیہ تمام کتابوں میں ہیں صحابہ و تابعین میں سے خلق کثیر نے ان سے روایتیں لی ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،ذکر امہات المؤمنین،حضرت عائشۃ،ج۲،ص۴۷۲)

وصال

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ حکومت میں ۵۷ھ؁ میں ۶۶ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔

 (شرح الزرقا نی علی المواہب،المقصدالثانی،الفصل الثالث،عائشۃ ام المؤمنین،ج۴،ص۳۹۲)

    سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال کے وقت فرمایا: کاش کہ میں
درخت ہوتی کہ مجھے کاٹ ڈالتے کاش کہ پتھر ہوتی کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی۔

   جب سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وصال فرمایا تو ان کے گھر سے رونے کی آواز آئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی باندی کو بھیجا کہ خبر لائیں۔ باندی نے آکر وصال کی خبر سنائی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی رونے لگیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی وہ سب سے زیادہ محبوب تھیں اپنے والد ماجد کے بعد۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۳)
ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

نسب شریف

    ام المؤمنین سیدہ سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبدشمس بن عبدود، قرشیہ عامر یہ
ہیں، ان کا نسب افضل الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے نسب شریف سے لوی میں مل جاتا ہے۔ ان کی کنیت ام الاسود ہے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲، ص۴۶۷)

ہجرت حبشہ

     سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ابتدا ہی میں مکہ مکرمہ میں ایمان لائیں ان کے شوہر حضرت سکران بن عمروبن عبدالشمس بھی ان کے ساتھ اسلام لائے،جن سے عبدالرحمن نامی لڑکا پیدا ہوا۔ سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت سکران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ کی۔ ان کے شوہر مکہ مکرمہ بروایت دیگر حبشہ میں فوت ہوئے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲، ص۴۶۷)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خواب

    سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب مکہ مکرمہ واپس تشریف لائيں توخواب میں دیکھاکہ رحمت عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور قدم مبارک ان کی گردن پر رکھا۔ اپنا یہ خواب حضرت سکران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سنایا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر خواب بعینہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تم بیان کررہی ہو تو میں بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہوجاؤں گا اور پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تمہیں چاہیں گے۔ پھر کچھ دنوں بعد حضرت سکران رضی اللہ تعالیٰ عنہ وصال فرماگئے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲، ص۴۶۷)
نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

    حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے انتقال سے آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو نہایت پریشانی ہوئی ،کیونکہ گھر بار ،بال بچوں کا انتظام ان ہی سے متعلق تھا۔ یہ دیکھ کر خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہانے عرض کیا:یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ نکاح کر لیجئے ،فرمایا: کس سے؟ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے حضرت عائشہ وسودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا نام لیا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دونوں سے خواستگاری کی اجازت دیدی۔ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس گئیں اور کہا کہ خدا عزوجل نے تم پر کیسی خیروبرکت نازل فرمائی ہے ۔سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے پوچھاکہ وہ کیا ہے! خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھے آپ کے پاس بغرض خواستگاری بھیجا ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے منظور ہے مگر میرے باپ سے بھی دریافت کرلو۔ چنانچہ وہ ان کے والد کے پاس گئیں اور جاہلیت کے طریق پر سلام کیا یعنی انعم صباحاکہا انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنا نام بتایا پھر نکاح کا پیغام سنایا انہوں نے کہا کہ محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم) شریف کفو ہیں مگر سودہ سے بھی دریافت کرلو۔خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ وہ راضی ہيں۔یہ سن کر زمعہ نے کہا کہ نکاح کے ليے آجائیں۔

 (شرح العلامۃ الزرقانی،الفصل الثالث،سودۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنھا ،ج۴،ص۳۷۹)

    بعض روایتوں کے مطابق حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصال کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے نکاح میں آئیں
اور بعض کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا نکاح ثانی ہوا۔

 (اسدالغابۃ،کتاب النساء،حرف السین،سودہ بنت زمعہ،ج۷،ص۱۷۳)

    حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے پانچ حدیثیں مروی ہیں ایک بخاری اور باقی چار سنن اربعہ میں مروی ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۶۷)

وصال

    سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ماہ شوال ۵۴ھ؁ میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور مبارک میں ہوا۔ بمو جب روایت دیگر دور خلافت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ہوا۔(المرجع السابق)
ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

نسب شریف

    سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنتِ خویلد بن اسدبن عبدالعزی بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی۔ آپ کا نسب حضور پر نور شافعِ یوم النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے نسب شریف سے قصی میں مل جاتا ہے۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت ام ہند ہے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت زائدہ بن العصم قبیلہ بنی عامر بن لوی سے تھیں۔

(مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی، ج۲،ص۴۶۴)

اللہ تعالیٰ کا سلام

    صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بارگاہِ رسالت میں جبرائیل علیہ السلام نے حاضرہوکرعرض کیا: اے اللہ عزوجل کے رسول! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم آپ کے پاس حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دستر خوان لارہی ہیں جس میں کھانا پانی ہے جب وہ لائیں ان سے ان کے رب کا سلام فرمانا۔

(صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضائل خدیجۃ ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنھا،الحدیث۲۴۳۲،ص۱۳۲۲)

افضل ترین جنتی عورتیں

    مسند امام احمد میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: جنتی عورتوں میں سب سے افضل سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،سیدہ فاطمہ بنت محمدرضی اللہ تعالیٰ عنہاو صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ،حضرت
مریم بنت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ تعالیٰ عنہا امراه  فرعون ہیں۔

(المسندللامام احمدبن حنبل،مسند عبداللہ بن عباس،الحدیث۲۹۰۳،ج۱،ص ۶۷۸)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تجارت میں دو نانفع

    سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ کا ہر جگہ چرچا تھا حتی کہ مشرکین مکہ بھی انہیں الامین والصادق سے یاد کرتے، سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے کاروبار کے لئے یکتائے روزگار کو منتخب فرمایا اور سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ میں پیغام پہنچایا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مال ِ تجارت لے کر شام جائیں اور منافع میں جو مناسب خیال فرمائیں لے لیں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس پیشکش کو بمشورۂ ابوطالب قبول فرمالیا۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے غلام میسرہ کو بغرض خدمت حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ کردیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنا مال بصرہ میں فروخت کرکے دونا نفع حاصل کیا نیز قافلے والوں کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی صحبت بابرکت سے بہت نفع ہوا جب قافلہ واپس ہوا تو سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیکھا کہ دو فرشتے رحمت عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پر سایہ کنا ں ہیں نیزدوران سفر کے خوارق نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ کاگرویدہ کردیا۔

(مدارج النبوت،قسم دوم،باب دوم درکفالت عبدالمطلب ...الخ،ج۲،ص۲۷)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح

    سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مالدار ہونے کے علاوہ فراخ دل اور قریش کی عورتوں میں اشرف وانسب تھیں۔ بکثرت قریشی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے نکاح کے خواہشمند تھے
لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کسی کے پیغام کو قبول نہ فرمایا بلکہ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سرکار ابدقرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی بارگاہ میں نکاح کا پیغام بھیجا اور اپنے چچا عمرو بن اسد کو بلایا۔ سردار دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم بھی اپنے چچا ابوطالب، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر رؤساء کے ساتھ سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان پر تشریف لائے۔ جناب ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھا۔ ایک روایت کے مطابق سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر ساڑھے بارہ اوقیہ سونا تھا۔

(مدارج النبوت،قسم دوم،باب دوم درکفالت عبدالمطلب ...الخ،ج۲،ص۲۷)

    بوقتِ نکاح سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر چالیس برس اور آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی عمر شریف پچیس برس کی تھی۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد،تسمیۃ النساء...الخ،ذکرخدیجہ بنت خولید،ج۸،ص ۱۳)

    جب تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاحیات رہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی موجودگی میں پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی عورت سے نکاح نہ فرمایا۔

(صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضائل خدیجۃ ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنھا،الحدیث ۲۴۳۵،ص۱۳۲۴)

غم گسار بیوی

    غارِ حرا میں حضرت جبرائیل علیہ السلام بارگاہِ رحمتِ عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں وحی لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا پڑھئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: کہ ''ما انا بقارئ'' میں نہیں پڑھتااس کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے اپنی آغوش میں لے کر بھینچاپھرچھوڑ کر دوبارہ کہا: پڑھئے، میں نے کہا: میں نہیں پڑھتا، جبرائیل علیہ
السلام نے پھر آغوش میں لے کر بھینچا پھر چھوڑ کر کہا پڑھئے میں نے کہا میں نہیں پڑھتا۔ تیسری مرتبہ پھر جبرائیل علیہ السلام نے آغوش میں لے کربھینچاپھرچھوڑکر کہا:

اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾خَلَقَ الْاِنۡسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾اِقْرَاۡ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۙ﴿۳﴾الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۙ﴿۴﴾عَلَّمَ الْاِنۡسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ؕ﴿۵﴾

ترجمۂ کنزالایمان : پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔(پ30،العلق:1تا5)

اس پر مژدہ واقعہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی طبیعت بے حد متأثِر ہوئی گھر واپسی پر سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ''زملونی زملونی''مجھے کمبل اڑھاؤ مجھے کمبل اڑھاؤ۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے جسم انور پر کمبل ڈالا اور چہرہ انور پر سرد پانی کے چھینٹے دیئے تاکہ خشیت کی کیفیت دور ہو۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سارا حال بیان فرمایا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ اچھا ہی فرمائے گاکیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم صلۂ رحمی فرماتے، عیال کا بوجھ اٹھاتے، ریاضت و مجاہدہ کرتے، مہمان نوازی فرماتے، بیکسوں اور مجبوروں کی دستگیری کرتے، محتاجوں اور غریبوں کے ساتھ بھلائی کرتے لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آتے، لوگوں کی سچائی میں انکی مدد اور ان کی برائی سے حذر فرماتے ہیں، یتیموں کو پناہ دیتے ہیں سچ بولتے ہیں اور امانتیں ادا فرماتے ہیں۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ان باتوں سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ
واٰلہ وسلم کو تسلی و اطمینان دلایا کفار قریش کی تکذیب سے رحمت عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم جو غم اٹھاتے تھے وہ سب سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھتے ہی جاتا رہتا تھا او رآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم خوش ہوجاتے تھے اور جب سرکار ابدقرار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تشریف لاتے تو وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خاطر مدارات فرماتیں جس سے ہر مشکل آسان ہوجاتی۔

( مدارج النبوت،قسم دوم،باب سوم دربدووحی وثبوت نبوت ...الخ،ج۲،ص۳۲ وقسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی، ج۲،ص۴۶۵)

سابق الایمان

    مذہب جمہور پر سب سے پہلے علی الاعلان ایمان لانے والی حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ کیونکہ جب سرور دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم غارحرا سے تشریف لائے اور ان کو نزول وحی کی خبر دی تو وہ ایمان لائیں۔ بعض کہتے ہیں ان کے بعد سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے بعض کہتے ہیں سب سے پہلے سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف دس سال کی تھی۔ شیخ ابن الصلاح فرماتے ہیں۔ کہ سب سے زیادہ محتاط اور موزوں تر یہ ہے کہ آزاد مردوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچوں اور نو عمروں میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عورتوں میں سیدتنا خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور موالی میں زيد بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور غلاموں میں سے حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائے۔

(مدارج النبوت،قسم دوم،باب سوم دربدووحی وثبوت نبوت ...الخ،ج۲،ص۳۷)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فراخدلی

   حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: اللہ کی
قسم! خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا اس وقت وہ مجھ پر ایمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وقت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہ تھا اس وقت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شکم سے اﷲ تعالیٰ نے مجھے اولادعطافرمائی۔

 (شرح العلامۃ الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ،حضرت خدیجۃام المؤمنین رضی اللہ عنہا،ج۴،ص۳۶۳۔الاستیعاب،کتاب النساء:۳۳۴۷،خدیجۃ بنت خویلد،ج۴، ص۳۷۹)

    حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب کہ لوگ میری تکذیب کرتے تھے اور انہوں نے اپنے مال سے میری ایسے وقت مدد کی جب کہ لوگوں نے مجھے محروم کررکھا تھا۔

 (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند السیدۃعائشۃ،الحدیث۲۴۹۱۸،ج۹،ص۴۲۹)

اولادِ کرام

    حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی تمام اولاد سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے ہوئی۔ بجز حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جو سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پیدا ہوئے۔ فرزندوں میں حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسمائے گرامی مروی ہیں جب کہ دختران میں سیدہ زینب، سیدہ رقیہ ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہن ہیں۔

 (السیرۃالنبویۃلابن ہشام،حدیث تزویج رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم خدیجۃ، اولادہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم من خدیجۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،ص۷۷۔اسدالغابۃ،کتاب النساء،خدیجۃ بنت خولید،ج۷،ص۹۱)
وصال

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تقریباً پچیس سال حضور پرنور شافع یو م النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی شریک حیات رہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا وصال بعثت کے دسویں سال ماہ ِ رمضان میں ہوا۔ اور مقبرہ حجون میں مدفون ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی قبر میں داخل ہوئے اور دعائے خیر فرمائی ۔ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہ ہوئی تھی۔ اس سانحہ پر رحمت عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم بہت زیادہ ملول و محزون ہوئے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکرازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۶۵)

ذکر خير

   ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اکثر ذکر فرماتے رہتے تھے۔ بعض اوقات حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم بکری ذبح فرماتے اور پھر اس کے گوشت کے ٹکڑے کرکے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سہیلیوں کے گھر بھیجتے صرف اس لئے کہ یہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سہیلیاں تھیں۔

 (صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضائل خدیجۃ ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا،الحدیث ۲۴۳۵،ص۱۳۲۳)

ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن

ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن

ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن

    حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی نسبت مبارکہ کی وجہ سے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کا بھی بہت ہی بلند مرتبہ ہے،ان کی شان میں قرآن کی بہت سی آیات بینات نازل ہوئیں جن میں ان کی عظمتوں کا تذکرہ اور ان کی رفعتِ شان کا بیان ہے،چنانچہ خدا وند قدوس نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ

ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی کی بیبیو تم اورعورتوں کی طرح نہیں ہو۔ (پ22،الاحزاب:32)

    دوسری آیت میں ارشاد فرمایاکہ

وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمْ

ترجمۂ کنزالایمان:اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (پ22،الاحزاب:6)

    یہ تمام امت کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی مقدس ازواج دوباتوں میں حقیقی ماں کے مثل ہیں ،ایک یہ کہ ان کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے ليے کسی کا نکاح جائز نہیں۔
    دوم یہ کہ ان کی تعظیم وتکریم ہر امتی پر اسی طرح لازم ہے جس طرح حقیقی ماں کی، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ،لیکن نظر اور خلوت کے معاملہ میں ازواج مطہرات کا
حکم حقیقی ماں کی طرح نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں حضرت حق جل جلالہ کا ارشاد ہے کہ

وَ اِذَا سَاَلْتُمُوۡہُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ؕ

ترجمۂ کنزالایمان:اورجب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو۔(پ22،الاحزاب:53)

    مسلمان اپنی حقیقی ماں کو تو دیکھ بھی سکتا ہے اور تنہائی میں بیٹھ کر اس سے بات چیت بھی کر سکتا ہے مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی مقدس ازواج سے ہر مسلمان کے ليے پردہ فرض ہے اور تنہائی میں ان کے پاس اٹھنا بیٹھنا حرام ہے ۔

اسی طرح حقیقی ماں کے ماں باپ،نانی نانا اورحقیقی ماں کے بھائی بہن ماموں خالہ ہوا کرتے ہیں ،مگرازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ماں باپ امت کے نانی نانااور ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بھائی بہن امت کے ماموں خالہ نہیں ۔

    یہ احکام حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ان تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ہيں جن سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے نکاح فرمایا ،چاہے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے پہلے ان کا انتقال ہوا ہو یا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد انہوں نے وفات پائی ہو۔یہ سب کی سب امت کی مائیں ہیں اور ہر امتی کے ليے اس کی حقیقی ماں سے بڑھ کر لائق تعظیم و واجب الاحترام ہیں ۔

(شرح العلامۃ الزرقانی،المقصد الثانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات،ج۴،ص۳۵۶)

    ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی تعداداور ان کے نکاحوں کی ترتیب کے بارے میں مؤرخین کا قدرے اختلاف ہے ۔مگر گیارہ امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سامنے ہی انتقال ہوگیا تھا
مگر نو بیبیاں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی وفات اقدس کے وقت موجود تھیں۔
    ان گیارہ امت کی ماؤں میں سے چھ خاندان قریش کے اونچے گھرانوں کی چشم وچراغ تھیں جن کے اسماء مبارکہ یہ ہیں:

(۱) خدیجہ بنت خویلد (۲) عائشہ بنت ابوبکر صدیق (۳) حفصہ بنت عمر فاروق (۴)ام حبیبہ بنت ابوسفیان (۵) ام سلمہ بنت ابوامیہ (۶) سودہ بنت زمعہ

اورچار ازواج مطہرات خاندان قریش سے نہیں تھیں بلکہ عرب کے دوسرے قبائل سے تعلق رکھتی تھیں وہ یہ ہیں:

(۱) زینب بنت جحش (۲) میمونہ بنت حارث (۳) زینب بنت خزیمہ
(۴) جویریہ بنت حارث اور ایک زوجہ یعنی صفیہ بنت حیی ،یہ عربی النسل نہیں تھیں بلکہ خاندان بنی اسرائیل کی ایک شریف النسب رئیس زادی تھیں۔

    اس بات میں بھی کسی مؤرخ کا اختلاف نہیں ہے کہ سب سے پہلے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا اور جب تک وہ زندہ رہیں آپ نے کسی دوسری عورت سے عقد نہیں فرمایا۔

( شرح العلامۃ الزرقانی، المقصد الثانی،الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات، ج۴،ص۳۵۹)

ان کے مولیٰ کے ان پر کروڑوں درود           ان کے اصحاب وعترت پہ لاکھوں سلام
پارہائے صحف غنچہائے قدس                 اہل بیت نبوت پہ لاکھوں سلام
اہل اسلام کی مادران شفیق                    بانوان طہارت پہ لاکھوں سلام
                                        (حدائق بخشش،حصہ دوم، ص۲۲۳)

عبادت کسے کہتے ہیں؟

عبادت کسے کہتے ہیں؟

عبادت کسے کہتے ہیں؟ 
مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: عِبَادَت عبدٌ سے بنا ہے بمعنیٰ بندہ، عِبَادَت کے لُغَوِی معنیٰ ہیں بندہ بننا یا اپنی بندگی کا اِظْہَار کرنا جس سے لازِم آتا ہے مَعْبُود کی اُلُوہِیَّت کا اِقْرَار کرنا۔مُفَسِّرین نے اس کی تعریف اِنتہائی تعظیم بھی کی ہے اور اِنتہائی عاجِزی بھی۔دونوں تعریفیں دُرُسْت ہیں کیونکہ عابِد کی اِنتہائی عاجِزی سے مَعْبُود کی اِنتہائی تعظیم لازِم ہے اور مَعْبُود کی اِنتہائی تعظیم سے عابِد کی اِنتہائی عاجِزی مُسْتَلْزَم (ضَروری)۔ اِنتہائی تعظیم کی حَد یہ ہے کہ مَعْبُود کی وہ تعظیم کی جاوے جس سے زیادہ تعظیم نامُمکِن ہو او راپنی ایسی عاجِزی کی جاوے جس سے نیچے کوئی دَرْجَہ مُتَصَوَّر نہ ہو(1)اور عِبَادَت کے اِصْطِلَاحی معنیٰ یہ ہیں کہ کسی کو خالِق یا خالِق کا حِصّہ دار مان کر اس کی اِطَاعَت کرنا۔ جب تک یہ نِیَّت نہ ہو تب تک اسے عِبَادَت نہیں کہا جائے گا، اب بُت پرست بُت کے سامنے سجدہ کرتا ہے اور مسلمان کعبہ کے سامنے، وہاں بھی پتّھر ہی ہیں لیکن وہ مُشْرِک ہے اور ہم مُوَحِّد، ہندو اپنے دیوتاؤں رام چندر وغیرہ کو مانتا ہے مسلمان نبیوں ولیوں کو، پھر کیا وجہ کہ وہ مُشْرِک ہو گیا اور یہ مُوَحِّد رہا۔ فَرْق یہی ہے کہ وہ انہیں اُلُوہِیَّت (مَعْبُود ہونے) میں حِصّہ دار مانتا ہے ہم ان کو اللہ کا خاص بندہ مانتے ہیں۔ (2)
عبادت، اطاعت اور تعظیم میں فرق
پیاری پیاری اسلامی بہنو!عِبَادَت کی شَرْط یہ ہے کہ بَنْدَگی کرنے والا مَعْبُود کو اِلٰه (1)اور اپنے کو اس کا بندہ سمجھے، یہ سمجھ کر جو تعظیم بھی اس کی کرے گا عِبَادَت ہوگی۔ اگر اسے اِلٰه نہیں سمجھتا، بلکہ نبی، ولی، باپ، استاد، پیر، حاکم، بادشاہ سمجھ کر تعظیم کرے تو اس کا نام اِطَاعَت ہو گا۔ توقیر،تعظیم، تَـبْجِیل(عزّت کرنا) ہوگا، عِبَادَت نہ ہوگا۔ غرضیکہ اِطَاعَت وتعظیم تو اللہ تعالی اور بندوں سب کی ہو سکتی ہے لیکن عِبَادَت اللہ تعالی ہی کی ہو سکتی ہے، بندے کی نہیں۔ اگر بندے کی عِبَادَت کی تو شِرک ہو گیا اور اگر بندے کی تعظیم کی تو جیسا بندہ ویسا اس کی تعظیم کا حکْم۔کوئی تعظیم کُفْر ہے؛ جیسے گنگا جمنا، ہولی، دیوالی کی تعظیم۔ کوئی تعظیم اِیمان ہے؛ جیسے پیغمبر کی تعظیم۔ کوئی تعظیم ثواب ہے، کوئی گناہ ۔(2)
مفہومِ عبادت
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!عِبَادَت کا مَفْہُوم بَہُت وسیع ہے اور یہ رَضائے ربُّ الاَنام کیلئے کیے جانے والے ہر کام کو گھیرے ہوئے ہے،جیسا کہ فتاویٰ رضویہ جلد 29 میں ہے:عِبَادَت وہ ہے کہ جس کے کرنے پر ثواب دیا جاتا ہے اور وہ ثواب کی نِیَّت پر مَوْقُوف ہوتی ہے۔تاجُ العَرُوس میں نَقْل کیا:عِبَادَت وہ فِعل ہے جس کے کرنے پر ربّ راضی ہوتا 

ہے۔ (1)لِہٰذا مَعْلُوم ہوا کہ عِبَادَت اپنی مرضی و اِخْتِیار سے کی جاتی ہے، کسی کے مَـجْبُور کرنے سے نہیں۔ چُنَانْچِہ مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن تفسیر نُورُ الْعِرْفَان پارہ 27 سورةُ الذّٰریٰت کی آیت نمبر 56 کی تفسیر میں عِبَادَت کی انہی دو۲ صورتوں یعنی اِخْتِیاری اور اِضْطِرَاری کی وَضَاحَت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عِبَادَتِ اِخْتِیاری:جس پر سزا، جزا مُرَتَّب ہو صِرف جن و انسان کے لیے ہے۔ عِبَادَتِ اِضْطِرَاری ساری مَـخْلُوق کرتی ہے،مگر ان عِبادَات پر جزا نہیں۔ (2)
جن و انس کی عبادت 
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!ہمیں یہ تو مَعْلُوم ہو چکا ہے کہ جن و اِنْس کی تخلیق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاپنی عِبَادَت کے لیے فرمائی، مگر سوال یہ ہے کہ وہ کون سی عِبَادَت ہے جو اِبتدائے زمانہ سے لے کر آج تک ہر جن و اِنْس پر لازِم ہے؟ چُنَانْچِہ اس کی وَضَاحَت کرتے ہوئے اِمام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی تفسیرِ کبیر میں فرماتے ہیں کہ جن و اِنْس کی تخلیق جس عِبَادَت کیلئے کی گئی یہ دو۲ طرح کی ہے: پہلی اُمُورِ باری تعالیٰ کی تعظیم اور دوسری مخلوقِ باری تعالیٰ پر شَفْقَت۔ اِبتدائے زمانہ سے لیکر آج تک کوئی بھی اُمَّت ان دو۲ قسم کی عِبادَتوں سے مستثنیٰ نہیں رہی۔ البتہ! بعض مَخْصُوص عِبادَات ہر اُمَّت میں اپنی وَضْع و ھَیْئَت،قِلَّت و کَثْرَت، زمان و مکان اور شَرَائط و اَرکان کے اِعْتِبَار سے مُـخْتَلِف رہی ہیں۔ مگر باری تعالیٰ 


________________________________
1 -    اِلٰه وہ ہے جسے خالق مانا جائے یا خالق کے برابر ۔  برابری خواہ خدا کی اولاد مان کر ہو یا اس طر ح مستقل مالک ، حاکم ، حی ، قیوم مان کر یا اللہتعالیٰ کو اس کا حاجت مند مان کر ہو ۔  ( علم القرآن ، ص۱۰۷ ) 
2 -     علم القرآن ، ص۱۰۵ ، ملتقطاً





شبِ عروسی عبادت میں گزری  اور تخلیق انسانی کا مقصد

شبِ عروسی عبادت میں گزری اور تخلیق انسانی کا مقصد

شبِ عروسی عبادت میں گزری
جب آسمانِ رِسَالَت پر حضر تِ سیِّدَتُنا فاطِمہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا آفتابِ حُسْن وجَمال چمکا اور اُفُقِ عَظَمَت و جَلَالَت پر آپ کا بَدْرِ کمال طُلوع ہوا، تو نیک خَصْلَت ذِہْنوں میں آپ کا خَیال آیا، مُہاجِرین و اَنْصَار کے مُعَزَّزین نے پیغامِ نِکاح دیا۔ لیکن رَضائے الٰہی کے ساتھ مَخْصُوص ذاتِ اَقدَس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواباً اِرشَاد فرمایا:میں خُدائی فیصلے کا مُنْتَظِر ہوں۔بالآخر جب حضرت سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ، شیر خُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے نِکاح کا پیغام دیا تو مَحْبُوبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرۂ اَنْوَر خوشی و مَسَرَّت سے کھِل اُٹھا اور مُناسِب اِنْتِظامات کے بعد (ہجرت کے دوسرے سال ماہِ صفر المظفّر میں(2)) اپنی لَخْتِ جِگَر کا نِکاح فرما دیا۔ جب اس نِکاح کو ایک مہینہ گزر گیا تو سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خواہش پر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بَہُت بڑی دَعْوَتِ طَعام کا اِہتِمام فرمایا اور پھر خود پیدل چل کر کاشانۂ علی تک تشریف لائے اور دُعا دیتے ہوئے سیّدہ خاتونِ جنّت کو رُخْصَت فرمایا۔ جب رات کا اندھیرا چھا گیا اور سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سیّدہ فاطمہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے مَحَبَّت بھری گفتگو فرمانے لگے تو اچانک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رونا شروع کر دیا۔شیرِ خُدا رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حیران ہو کر جب اس اَشک باری کی وجہ دَرْیَافْت کی تو فرمانے لگیں:میں تو اپنی اُس حَالَت و مُعَامَلے کے متعلِّق سوچ کر رو رہی ہوں کہ جب میری عُمْر  بِیت جائے گی اور مجھے قَبْر میں داخِل کر دیا جائے گا، آج میرا عزّت و فَخْر کے بِسْتَر میں داخِل ہونا کل قَبْر میں داخِل ہونے کی مَانِنْد ہے۔

 لِہٰذا چاہیے کہ آج رات ہم اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں کھڑے ہو کر عِبَادَت کریں کہ وُہی عِبَادَت کا زیادہ حَق رکھتا ہے۔چُنَانْچِہ اس کے بعد دونوں پاک ہستیاں اٹھیں اور ربّ ِقدیر عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت میں مَشْغُول ہوگئیں۔(1)


تخلیق انسانی کا مقصد 
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!شادی خانہ آبادی بلاشبہ دو۲ اَفراد کے درمیان ایک ایسے بندھن کا نام ہے جس کے دَوَام کیلئے ذہنی ہم آہنگی اور ہم مِزاجی کا اِعْتِبَار اور لِـحَاظ بَہُت ضَروری ہے۔چُنَانْچِہ جب دو۲ ہَم مِزاج اَفراد کے درمیان یہ رشتہ قائم ہوتا ہے تو جہاں ان کی خوشی کا ٹھکانا نہیں ہوتا وہیں وہ خوشی کے ان لمحات کو سمیٹنے میں اس قَدْر مگن ہو جاتے ہیں کہ بسا اَوقات انہیں کسی دوسرے کی کیا اپنی خَبَر تک نہیں رہتی۔ مگر قربان جائیے! سیّدہ خاتونِ جنت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی مَدَنی سوچ پر! جب یہ پاکیزہ بندھن میں بندھیں تو انہوں نے دنیا کی اس حقیقت سے منہ نہ موڑا کہ آج اگرچہ انہیں دلہن بنا کر ان کے دامَن کو خوشیوں سے بھر دیا گیا ہے مگر کل ان کا جَنازہ بھی تو اُٹھایا جانے والا ہے،کیونکہ یہی دنیا ہے کہ ایک طرف خوشی کے شادیانے بج رہے ہوتے ہیں تودوسری طرف کسی کی میّت پر آہ و فُغاں کا شور ہوتا ہے۔
نسیمِ صُبْح گُلشن میں گُلوں سے کھیلتی ہوگی
کسی کی آخِری ہچکی کسی کی دِل لگی ہوگی
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
لِہٰذا اس وَقْت بھی سیِّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے نہ صِرف ایک نبی کی بیٹی ہونے کا حَق ادا کیا بلکہ یہ بھی ثابِت کر دیا کہ آپ واقعی جنّت کی تمام عورتوں کی سردارہیں۔ کیونکہ جہاں آپ نے مَـحْبُوب ربِّ دَاوَر، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان پر عَمَل کیا:عَقْل مند اور سمجھدار وہ ہے جو اپنے نَفْس کا مُحَاسَبہ کرے اور موت کے بعد والی زِنْدَگی کےلئے عَمَل کرے۔وہیں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اپنے رب کی یاد سے بھی غافِل نہ ہوئیں،بلکہ اس بات کو پیشِ نَظَر رکھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں اس دنیا میں مَحْض لذّتوں کے حُصُول اور نفسانی خواہشات پوری کرنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ صِرف اور صِرف اپنی عبادَت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ جیسا کہ پارہ 27 سورةُ الذّٰریٰت کی آیت نمبر 56میں اِرشَاد ہوتا ہے:
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) (پ۲۷، الذّٰریٰت:۵۶)
 ترجمۂ کنز الایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی لیے) بنائے کہ میری بندگی کریں۔ 
سَیِّدہ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے اس عَمَل کو گویا خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مُحَدِّثِ اَعْظَم ہند حضرت مولانا شاہ ابو المحامِد سَیِّد محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی نے اپنے اس شعر میں کیا خوب بیان فرمایا ہے:
دِن کو ہشیار رہو رات کو بیدار رہو
چَین کی نیند کہاں ملتی ہے تُرْبَت کے سِوا(1)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
غیر شادی شدہ ہر وقت شیطان کے نرغے میں

غیر شادی شدہ ہر وقت شیطان کے نرغے میں

غیر شادی شدہ ہر وقت شیطان کے نرغے میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
غیر شادی شدہ آدمی ہر وقت شیطان کے نرغے میں رہتا ہے۔جوانی کا فطری تقاضا، خیالات اور جذبات کو غلط راہوں پر ڈال سکتا ہے۔ خصوصاً بے حیائی کے اِس دور میں، جب کہ جذبات کو بہکانے اور بھڑکانے کا سامان ہر طرف موجود ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو زیادہ عرصے تک ازدواجی زندگی سے محروم رکھنے سے معاشرے میں بڑی گھناؤنی اخلاقی بیماریاں نشوونما پاتی ہیں۔

فرمانِ الٰہی ہے :
ولاتقربوا الزنیٰ انہ کان فاحشۃ (الاسراء 32)
اور زنا کے پاس بھی مت جائو بلاشبہ وہ بڑی بے حیائی کی بات ہے۔
بڑا ہی بُرا راستہ ہے۔ اس بُرائی اور بے حیائی کے راستے سے بچنے کے لیے جہاں یہ تدبیر بتائی گئی ہے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں اپنی نگاہوں کو بچا کر رکھیں وہی نکاح کو عملی ذریعہ بتایا گیا۔ سورۂ المؤمنون میں کامیاب اہل ایمان جو آخرت میں جنت کے وارث بنیں گے، ان کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حَافِظُوْنَ عملی ذریعہ کیا ہے۔ اس بُرائی اور بے حیائی کے راستے سے بچنے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا اَلَاعْلٰی اَزْوَاجِھِمْ سوائے اپنی بیویوں/شوہروں کے۔ زوج سے تعلق ہی شرم گاہوں کی حفاظت کا عملی ذریعہ ہے۔ اس لیے نبی کریمﷺ نے امت کو یہ ہدایت دی کہ نکاح کو آسان بناؤ تاکہ زنا مشکل ہوجائے۔ یہ بھی فرمایا کہ برکت کے لحاظ سے بہترین نکاح وہ ہے، جس میں کم سے کم خرچ ہو۔

آج امت نے نبی کریمﷺ کی ان ہدایات کو نظر انداز  کر کے اپنی بد اعمالیوں کے ذریعے نکاح کو مشکل بنادیا ہے۔ حال یہ ہے کہ چاہے بال بال قرض میں ڈوب جائے ، مکان جائیداد بک جائے یا گروی رکھنے کی نوبت آئے، اولاد کے لیے ترکہ میں چھوڑنے کے لیے کچھ نہ بچے، مگر رسموں، بدعتوں، نمود ونمائش کے ہنگاموں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں، جس کی وجہ سے آج نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے حیائی کے اس بُرے راستے کی طرف جارہے ہیں۔ یہ راستہ ان کے لیے آسان ہو گیا ہے، بالخصوص بڑے شہروں میں۔ اللہ تعالیٰ ملّت کے نوجوانوں کی حفاظت فرمائے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین طرح کے لوگوں کی مدد اللہ نے اپنے ذمّے لے لی ہے۔ اس میں سے ایک وہ آدمی ہے جو عفت اور پاک دامنی کی زندگی بسر کرنے کے لیے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ ﴿مگر غریبی رکاوٹ ہے﴾۔‘‘

سورۂ البقرہ، آیت: ۱۸۶ روزوں سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے۔ ھُنّ لِباسٌ لَکُمْ وَ اَنْتُم لِباسٌ لَہُنَّ) وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس۔ جس طرح لباس اور جسم کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا، اسی طرح تمہارا اور تمہاری بیویوں کا باہمی تعلق ہے۔ لباس کا نمایاں پہلو آدمی کے جسم کے لیے ساتر ہونا ہے جس سے عیوب کی پردہ پوشی ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے جنسی جذبات کے لیے پردہ فراہم کرتے ہیں۔

بہرحال نکاح کا پہلا اور اہم مقصد ہر مومن مرد اور عورت کے اخلاق کی حفاظت اور اس کے ذریعے سے پورے معاشرے کو فتنہ و فساد اور اخلاقی بگاڑ سے محفوظ رکھنا ہے۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular