صَحابیات طیبات رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُنَّ کَرَمِ سرکار کی اس قَدْر مُشْتَاق تھیں کہ وہ ہر وَقْت مَوْقَع کی تلاش میں رہتیں۔جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ عامِر اَسما بنتِ یزید اَشْہَلِیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہا سے مَرْوِی ہے کہ ایک بار میں نے آقائے نامدار، رَسولوں کے سالار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قریب کی ایک مَسْجِد میں نمازِ مَغْرِب اَدا فرماتے دیکھا تو اپنے گھر سے گوشت اور روٹیاں لے کر حاضِرِ خِدْمَت ہوئی اور عَرْض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! حُضُور رات کا کھانا تَناوُل فرمائیے۔چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لے کر کھاؤ۔آپ فرماتی ہیں: اس ذات کی قَسَم جس کے قبضۂ قُدْرَت میں میری جان ہے! سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ آئے ہوئے تمام صَحابۂ کِرام اور گھر والوں سے جو وہاں حاضِر تھے سب نے مِل کر کھانا تَناوُل فرمایا مگر میں نے دیکھا کہ کچھ بوٹیاں جوں کی توں پڑی تھیں اور بَہُت سی روٹیاں بھی بچ گئیں،حالانکہ کھانے والے 40اَفراد تھے۔ پھر واپسی پر حُضُور نے میرے پاس مَوجُود ایک پُرانی مشک سے پانی نوش فرمایا اور تشریف لے گئے۔
Showing posts with label صَحابیات اور عِشْقِ رَسول. Show all posts
Showing posts with label صَحابیات اور عِشْقِ رَسول. Show all posts

سرکار کے پسینے سے صحابیات کی محبت
خادِمِ رَسول حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: حُضُور خا تمُ المُرسَلین،جنابِ صادِق واَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے یہاں تشریف لائے اور قَیْلُوْلَہ فرمایا(یعنی دوپہر میں کچھ دیر آرام کیا)۔ حَالَتِ خواب میں جناب رِسَالَت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پسینہ آگیا، میری والدہ مُحتَرَمہ (حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا) نے ایک شیشی لی اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پسینہ مُبارَک اس میں ڈالنا شُروع کر دیا۔ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیدار ہوئے تو دَرْیَافْت فرمایا: اے اُمِّ سُلَیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عَرْض کی:یہ آپ کا پسینہ ہے ہم اس کو اپنی خوشبو میں ڈالتی ہیں اور یہ سب خوشبوؤں سے عُمْدَہ خوشبو ہے۔ ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا نے عَرْض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم اپنے بچوں کے لیے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے
پسینہ مُبارَک سے بَرَکت کی اُمِّید رکھتے ہیں ۔تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: تم ٹھیک کرتی ہو۔

عمر بھر ہارگلے سے نہ اتارا
غزوۂ خیبر میں رَسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبیلہ بنی غفّار کی ایک صَحابیہ کو اپنے دَسْتِ مُبارَک سے ایک ہار پہنایا تھا۔ وہ اس کی اتنی قَدْر کرتی تھیں کہ عمر بھر گلے سے جُدا نہ کیا اور جب اِنْتِقَال فرمانے لگیں تو وَصیَّت کی کہ ہار بھی ان کے ساتھ دَفْن کیا جائے۔1

موئے مبارک سے صحابیات کی محبت
حضرت سَیِّدَتُنا کَبْشہ اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی مَحبَّتِ مصطفےٰ کے کیا کہنے!یہ صِرف آپ ہی نہیں جنہوں نے اللہعَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَت رکھنے والی چیزوں کو اپنے پاس بَطَورِ تَبَرُّک رکھ لیا تھا۔ بلکہ کئی صَحابیات ایسی ہیں جنہوں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَت رکھنے والی چیزوں کو ساری زِنْدَگی اپنا مَتاعِ حَیات جان کر سینے سے لگائے رکھا۔ جیسا کہ حُدَیبِیَّہ کے مَقام پر تاجدارِ رِسَالَت، شہنشاہِ نُبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بال مُبارَک بنوائے تو وہ تمام مُوئے مبارَک ایک سبز دَرَخْت پر ڈال دئیےگئے، جہاں سے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بَطَورِ تَبَرُّک انہیں اپنے پاس رکھ لیا۔ چنانچہ حضرت سیِّدتُنا اُمِ عمَّارہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے بھی چند بال حاصِل کیے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصالِ ظاہِری کے بعد جب کوئی بیمار ہوتا تو میں اُن مُبارَک بالوں کو پانی میں ڈبو کر پانی مریض کو پلاتی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے صِحَّت یاب فرما دیتا۔2

تبرکات مقدسہ کی تعظیم
جن چیزوں اور لوگوں کو سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَت و تعلّق حاصِل ہے ان سب سے مَحبَّت کی جائے اور ان کا اَدَب واِحْتِرام مَلْحُوظِ خاطِر رکھا جائے۔ یعنی صَحابہ کِرام، اَزْوَاجِ مُطَہِّرَات،اَہْلِ بَیْت اَطْہَار رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن،شہر مدینہ،قَبْرِ اَنْوَر،مَسْجِد نبوی، آپ کے آثارِ شریفہ ومَشَاہِدِ مُقَدِّسَہ، قرآن مجید و احادیث مُبارَکہ وغیرہ سب کی تعظیم و توقیر اور ان کا اَدَب و اِحْتِرام کیا جائے۔3جیسا کہ ایک صَحابیہ حضرت سَیِّدَتُنا کَبْشَہ اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہا کے گھر خا تمُ المُرسَلین، جنابِ صادِق واَمین صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم تشریف لے گئے اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے ہاں مَوجُود مشکیزہ سے منہ لگا کر پانی نوش فرمایا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں: میں نے اُس مَشْک کا منہ کاٹ کر (بطورِ تَبَرُّک)اپنے پاس رکھ لیا۔1

راہِ خدا کے مصائب پر صبر
راہِ مَحبَّت میں دَرپیش مَصَائِب پر صَبْر کیا جائے اور کبھی بھی حَرْفِ شِکایَت زبان پر نہ آئے۔کیونکہ مَحبَّتِ مصطفےٰ سے بندے کو ایک ایسی لذّت حاصِل ہوتی ہے کہ بندہ ہر قِسْم کے مَصَائِب کو بھول جاتا ہے اور ان مَصَائِب سے جو تکلیف دوسرے لوگوں کو پہنچتی ہے وہ اسے نہیں پہنچتی۔1 جیسا کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ عمار سُـمَیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے مُتَعَلّق مَرْوِی ہے کہ جب آپ اَسِیرِ گَیْسُوئے مصطفےٰ ہوئیں تو کفّار بَداَطْوَار نے آپ پر ظُلْم و سِتَم کی حَد کر دی مگر آپ نے اپنے دِل میں فَروزاں (روشن)عِشْقِ رَسول کی شَمْع کو ظلمتوں کی آندھیوں سے بجھنے نہ دیا اور موت کا اَبَدِی جام نوش فرما لیا۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا اِبنِ اسحاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَّ زَّاق فرماتے ہیں: مجھے آلِ عمّار بِن یاسِر کے لوگوں نے بتایا کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا سُـمَیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو آل ِبنو مُغِیرہ اِسلام لانے کی وجہ سے اِیذائیں دیتے تھے تاکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِنکار کر دیں ، مگر آپ ان کے باطِل معبودوں کا اِنکار کرتی رہیں یہاں تک کہ انہوں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو شہید کر دیا۔ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عمَّار، ان کی والِدہ اور ان کے والِد کو مکۂ مکرّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے تپتے صحرا میں مَقامِ اَبْطَح پر اِیذائیں پاتے دیکھتے تو اِرشَاد فرماتے: اے آلِ یاسِر! صَبْر کرو! تمہارے لیے جنّت کا وعدہ ہے۔1 حضرتِ سُـمَیَّہ بِنت خُبَّاطرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے مَظْلُومَانہ شَہادَت کے عِلاوہ اور بھی سختیاں جھیلی تھیں،مثلاً ان کو لوہے کی زِرہ پہنا کر سَخْت دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا تاکہ دھوپ کی گرمی سے لوہا تپنے لگے۔ یہاں تک کہ انہوں نے سب سے بڑے دُشْمَنِ اِسلام ابو جہل کے ہاتھوں شَہادَت کو قُبول کر لیا مگر اِسلام سے منہ نہ موڑا۔

محبت و نفرت کا معیار
دو۲عالَم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار ، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یاد کو سینے میں بسانے والوں سے مَحبَّت کی جائے اور ان کی ہم نشینی کو سَعَادَت سمجھا جائے جبکہ دُشمنانِ رَسول سے قطعی کوئی تعلّق رَوا نہ رکھا جائے۔2 جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ ایک بار حضرت سَیِّدُنا ابو سُفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اِیمان لانے سے پہلے مدینۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں حاضِر ہوئے تو اپنی بیٹی اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا سے ملنے ان کے مَکان پر گئے۔ جب آپ نے بِسْتَرِ رَسول پر بیٹھنا چاہا تو سَیِّدہ اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جَلْدی سے بِسْتَر اُٹھا لیا، حیران ہوکر بولے:بیٹی! تم نے بِسْتَر کیوں اُٹھا لیا؟ کیا بِسْتَر کو میرے لائق نہیں سمجھا؟یا مجھ کو اس بِسْتَر کے قابِل نہیں جانا؟اُمُّ الْمُومِنِین نے جواب دیا:یہ بِسْتَر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہے اور آپ مُشرِک وناپاک ہیں،اس لیے میرے دِل نے گوارا نہ کیا کہ آپ اس پر بیٹھیں۔3

حکم سرکار بجا لانے کی ایک اور مثال
حضرت سَیِّدُنا بَرزَہ اَسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا جُلَیْبِیْب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک خوش مِزاج شخص تھے ،مگر ان کی ایک عادت ایسی تھی جو مجھے پسند نہ تھی۔ لہٰذا میں نے اپنے گھر والوں کو سختی سے مَنْع کر دیا کہ آج کے بعد وہ تمہارے پاس نہ آئیں۔(ان دِنوں)اَنصار کا چونکہ یہ مَعْمُول تھا کہ کسی لڑکی کی شادی اس وَقْت تک نہ کرتے جب تک یہ مَعْلُوم نہ کرلیتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی کو اِس کے رشتے میں دلچسپی ہے یا نہیں؟ چنانچہ ایک مرتبہ جب آقائے نامدار، نبیوں کے سالار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک انصاری شخص کو فرمایا: مجھے اپنی بیٹی کا رشتہ دے دو۔ تو اس نے خوش ہو کر کہا: یہ تو ہمارے لیے قابِلِ شَرَف اور اِعزاز کی بات ہے کہ آپ ہماری بیٹی کا رشتہ لے رہے ہیں۔اس پر حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: میں اپنے لیے اس رشتے کا خواہش مند نہیں ہوں۔ اَنصاری صحابی نے عَرْض کی: پھر کس کے لیے؟ اِرشَادفرمایا: جُلَیْبِیْب کے لیے۔ تو عَرْض کرنے لگے: میں اس بارے میں لڑکی کی ماں سے مَشْوَرَہ کرنا چاہتا ہوں۔لہٰذا وہ اَنصاری صحابی حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِجازَت لے کر اپنی بیوی کے پاس آئے اور جب اسے بتایا کہ اللہ کے نبی تمہاری بیٹی کے رشتے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس نے خوشی کا اِظْہَار کرتے ہوئے کہا یہ تو ہمارے لیے باعِثِ صَد اِفْتِخَار ہے۔ مگر جب انہوں نے بتایا کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے لیے نہیں بلکہ جُلَیْبِیْب کے لیے رشتہ چاہتے ہیں تولڑکی کی ماں نے اِنکار کر دیا۔ یہ تمام باتیں ان کی بیٹی بھی سن رہی تھی کہ جس کے لیے یہ رشتہ آیا تھا ۔ چنانچہ جب اس کا باپ اِنکار کرنے کے لیے دَرْبارِ رِسَالَت میں جانے لگا تو آقائے دو۲جَہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رَضا چاہنے والی وہ عاشقہ صَحابیہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اپنے وَالِدَین سے عَرْض کرنے لگی: کیا آپ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکْم کو رَدّ کرنا چاہتے ہیں؟ اگران کی اس رشتے میں رَضا ہے تو آپ مجھے میرے سرکار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سُپُرد کردیں وہ کبھی مجھے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ اس کی یہ بات سن کر آخِر وَالِدَین اس رشتے کے لیے راضی ہوگئے اور بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضِر ہوکر عَرْض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جب آپ راضی ہیں تو ہم بھی راضی ہیں۔پھر حُضور نے حضرت جُلَیْبِیْب رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شادی خانہ آبادی اپنی اس صَحابیہ سے فرما دی جس نے اپنی ذات پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رَضا کو ترجیح دی تھی۔1
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو۲ عالم
خدا چاہتا ہے رضائے مُحَمَّد
…… مسند احمد، مسند البصرین،حدیث برزہ الاسلمی، ۸/۱۱۷، حدیث:۲۰۳۱۵ ملتقطاً

چادریں پھاڑ کر دوپٹے بنا لیے
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ !پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!بلاشبہ حکْمِ سرکار پر سرِ تسلیم خم کرنے کی یہ ایک اَعلیٰ مِثال ہے کہ اللہعَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَہْنِ مُبارَک سے حکْم اِرشَاد ہوتے ہی حضرت سَیِّدَتُنا اَسماء بنت یزید اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے کنگن اُتار کر پھینک دئیے اور پھر پَلَٹ کر یہ بھی نہ دیکھا کہ انہیں کس نے اُٹھایا ہے۔ یہ صِرف آپ ہی نہیں تھیں کہ جنہوں نے ایسا کیا بلکہ صحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی حیاتِ طیبہ میں ایسی مِثالیں بَہُت زیادہ ہیں کہ انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کے بَرعکس حکْمِ سرکار پر بغیر کسی لیت ولَعْل (ٹال مٹول، عُذْر، بہانے) کے فوراً عَمَل کر کے دِکھایا۔جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مَرْوِی ہے کہ جب پردے کا حکْم نازِل ہوا تو صحابیات طیبات نے اپنی چادروں اور تہہ بندوں کو پھاڑ کر دوپٹے بنا لیے۔2

کنگن اتار کر پھینک دئیے
حضرت سَیِّدَتُنا اَسماء بنت یزید اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بڑی عَقْل مند اور بَہَادُر صَحابیہ تھیں،آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جنگ یرموک میں نو۹ کافِروں کو خیمے کی لکڑی سے واصِلِ جہنّم کر دیا تھا۔2آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ جب میں بارگاہِ رِسَالَت میں بَـیْعَت کے لئے حاضِر ہوئی تو اس وَقْت میں نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے۔ جب قریب پہنچی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی چمک دیکھ کر اِرشَاد فرمایا:اے اَسْماء!اِنہیں اُتار کر پھینک دو! کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ (اگر تم نے ان کی زکوٰۃ اَدا نہ کی تو بَروزِ قِیامَت) اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے گا۔ (فرماتی ہیں )میں نے فوراً کنگن اُتار کر پھینک دیئے اور مَعْلُوم نہیں انہیں کِس نے اُٹھایا؟

حکمِ محبوب پر عمل
حضرت سَیِّدُنا اِمام احمد بن محمد قَسْطَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی اَلْـمَوَاھِبُ اللَّدُنِّـیَّه میں فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب بخشنے والے اُمُور کو نفسانی خواہشات پر مبنی اُمُور پر ترجیح دی جائے۔یعنی جس بات کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مَشْرُوع فرمایا اور اس پر عَمَل کی ترغیب و تَنْبِیْہ فرمائی ہو اس سے راضی رہا جائے اور اسے اپنی نفسانی و شہوانی خواہشات پر اس طرح ترجیح دی جائے کہ دِل میں کوئی تنگی مَحْسُوس نہ ہو۔ جیسا کہ اِرْشَادِ باری تعالیٰ ہے:
فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۶۵﴾ (پ۵، النسآء: ۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اے مَحْبُوب تمہارے رب کی قَسَم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپَس کے جھگڑے میں تمہیں حاکِم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکْم فرما دو اپنے دِلوں میں اس سے رُکاوَٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔مَعْلُوم ہوا کہ جو شخص حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فیصلے سے دِل میں تنگی مَحْسُوس کرے اور اسے تسلیم نہ کرے اس کا اِیمان سَلْب کر لیا جاتا ہے۔ نیز حضرت سَیِّدُنا تاجُ الدِّین بن عطاء اللّٰه شاذِلی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْوَلِی فرماتے ہیں کہ آیَتِ مُبارَکہ میں اس بات پر دَلَالَت ہے کہ حقیقی اِیمان اسی شخص کو حاصِل ہوتا ہے جو قول وفعل، عَمَل کرنے و تَرْک کرنے اور مَحبَّت و بُغْض ہر اِعْتِبَار سے اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکْم مانے۔ مزید فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان لوگوں سے جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فیصلے کو نہیں مانتے یا مانتے ہیں لیکن دِل میں حَرَج بھی مَحْسُوس کرتے ہیں، صِرف اِیمان کی نفی نہیں کی بلکہ اس پر اُس رَبُوبِیَّت کی قَسَم بھی یاد فرمائی ہے جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ خاص ہے۔ 1

جان و مال کی قربانی
عِشْقِ مصطفےٰ میں جان و مال کی قربانی پیش کرنا پڑے تو قطعی طور پر دریغ نہ کیا جائے بلکہ ہر اس واسطے و ذریعے کو خَتْم کر دیا جائے جو حُصُولِ رَضا و قُرْبِ مصطفےٰ سے مانِع ہو 3 اور اس نِدائے پُر مَسَرَّت پر یقین رکھا جائے کہ
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جَہاں چیز ہے کیا لوح و قَلَم تیرے ہیں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صَحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ ہمیشہ راہِ خُدا مصطفےٰ میں اپنے تَن مَن دھن کو قُربان کرنے کے لیے تیّار رہتیں اور اس سلسلے میں کبھی کسی کی پَروا نہ کرتیں۔ کیونکہ وہ سمجھتی تھیں:
نِگاہِ عِشْق و مستی میں وُہی اَوّل ، وُہی آخِر
وُہی قرآں ، وُہی فُرقاں ، وُہی یٰسیں ، وُہی طٰہ
یہی وجہ ہے کہ جب اُمُّ الْمُومنین حضرت سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اُمَرا و رَؤسائے قُریش پر سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نِکاح کو ترجیح دی تو بعض لوگوں نے اسے مَعْیُوب جانا اور چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ جب آپ کو مَعْلُوم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے تمام رَؤُسَائے مکّہ کو حَرَم شریف میں بُلایا اور انہیں گواہ بنا کر اپنا سارا مال مَحْبُوبِ رَبِّ دَاوَر، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں پر نچھاوَر کر دیا۔1 اس کی تائید اُس حدیثِ پاک سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے اِرشَاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسَم!خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی، جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کُفْر کیا اس وَقْت وہ مجھ پر اِیمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وَقْت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وَقْت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لیے تیّار نہ تھا اس وَقْت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شِکَمْ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اَولاد عَطا فرمائی۔1

قُرْبِ محبوب کی کوشش
مَحبَّتِ مصطفےٰ کے باعِث ہر شے سے ناطہ توڑ کر اس طرح سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بن جائیے کہ ان کے سِوا کہیں سُکُون ملے نہ چین، بلکہ بارگاہِ حبیب میں ہی دِل کو اِطمینان حاصِل ہو یعنی فِکْر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قُرْب کے حُصُول میں مگن رہے تو نَظَر میں ہمیشہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جَلْوے سمائے ہوں۔نہ اِس پَل چَین آئے نہ اُس پَل قَرار آئے۔3 جیسا کہ شَرْم وحَیا کے پیکر اَمیرُ الْمُومنین حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اَخیافی (یعنی ماں جائی) بہن حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مُتَعَلّق مَرْوِی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا شُمار بھی ان خوش بختوں میں ہوتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مدینہ شریف ہجرت فرمانے سے پہلے پہلے دامَنِ مصطفےٰ سے وَابَسْتہ ہو کر اَسِیرِ گیسوئے مصطفےٰ تو ہو گئے تھے مگر کسی وجہ سے ہجرت نہ کر سکے اور یوں ان کی نِگاہیں صُبْح و شام دِیدارِ مصطفےٰ کی لذّتوں سے مَحْرُوم ہوگئیں۔ دُکھی دِلوں کے چَین ، سَروَرِ کونَین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نِگاہوں سے اَوجھل ہونے نے ان کے دِلوں میں فِراق و جُدائی کی وہ آگ بھڑکائی کہ مَوْقَع ملتے ہی یہ لوگ آہستہ آہستہ سُوئے مَقامِ مصطفےٰ روانہ ہونے لگے۔
کرے چارہ سازی زِیَارَت کسی کی بھرے زَخْم دِل کے مَلاحَت کسی کی
چمک کر یہ کہتی ہے طَلْعَت کسی کی کہ دِیدارِ حَق ہے زِیَارَت کسی کی1
حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے دِل و دِماغ عِشْق و مَحبَّتِ مصطفےٰ کی آگ میں خَاکِسْتَر ہوئے جا رہے تھے تو آنکھیں محبوبِ خُدا کے دِیدار کے لیے بے قَرار تھیں، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بھی ہر دَم سُوئے مصطفےٰ روانگی کے لیے کسی مَوْقَع کی تلاش میں تھیں،آخِر جب دِلِ مُضْطَر(بے چین دِل)پر قابو نہ رہا تو درِ حبیب پر حاضِری کے لیے عَجَب حیلہ سے کام لیا۔ اُدھر حالات بھی کافی سازگار تھے کیونکہ صُلْح حُدَیْبِیَّہ کے بعد اہلِ مکّہ کو یہ اِطمینان ہو چکا تھا کہ اب اگر کسی نے ہجرت کی بھی تو اسے واپَس لے آیا جائے گا، لہٰذا ان کی اس بے فِکْری کے باعِث سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو گھر سے باہَر نکلنے کا مَوْقَع مل گیا اور انہوں نے اس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کا سوچا اور سب سے پہلے وہ مکّہ مکرمہ کے قریب ہی واقِع ایک بستی میں اپنے چند رشتہ داروں کے ہاں گئیں اور تین۳چار۴ دِن قِیام کے بعد واپَس لَوٹ آئیں تاکہ گھر والوں کو شک نہ ہو اور ان کا دوبارہ دیہات جانا انہیں ناگوار نہ گزرے۔ واپسی کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ گھرکے حالات سازگار ہیں اور ان کا دیہات جانا کسی کو مَعْیُوب نہیں لگا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے سُوئے مدینہ رَخْتِ سَفَر باندھا اور تَن تَنْہا گھر سے اس انداز میں روانہ ہوئیں کہ سب کو یہی لگے کہ دیہات کی طرف جا رہی ہیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے عِشْقِ سَرْوَر کے کیا کہنے! آپ راستے سے آگاہ تھیں نہ راستے کی مشکلات سے بخوبی واقِف تھیں۔ بس رُخ سُوئے مدینہ کیا اور پیدل ہی چل پڑیں۔1
ان کے در پہ موت آجائے تو جی جاؤں حسن
ان کے در سے دور رہ کے زِنْدَگی اَچھّی نہیں2
ابھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کچھ دُور ہی گئی تھیں کہ کَرَم ہوا اور تائیدِ غیبی نے کچھ یوں دستگیری فرمائی کہ قبیلہ بنی خُزاعہ کا ایک شخص راستے میں آپ کو ملا، جس نے ایک باپردہ مسلمان خاتون کو یوں سُوئے طَیبہ عازِمِ سَفَر دیکھ کر گوارا نہ کیا کہ وہ اکیلی اس قَدْر طویل سَفَر تنہا اور پیدل کریں۔ چنانچہ اس نے اپنا اُونْٹ پیش کیا اور اس طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا عِشْق و مستی سے سَرشار جذبات لے کر مَنْزِلُوں پہ مَنْزِلیں طے کرتی آخِر دَرِ رَسول پر جا پہنچیں۔ 1
آستانہ پہ تیرے سر ہو اَجَل آئی ہو اور اے جانِ جَہاں تو بھی تماشائی ہو2
……پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! اس واقعہ سے کسی کے ذِہْن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ عورت کو بغیر مَحْرَم کے تین۳ دن یا زیادہ ، بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی ناجائز ہے۔ (بہارِ شریعت، ۱/۷۵۲) تو پھر حضرت سَیِّدَتُنا ام کلثوم رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی طرف ہجرت کا سَفَر تنہا اور بغیر کسی مَحْرَم کے کیوں کیا؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اس مُمانَعَت کے حکْم سے مُہاجِرہ اور کفّار کی قید سے چھوٹنے والی عورت خارِج ہے کہ یہ دونوں عورتیں بغیر مَحرم اکیلی ہی دارُ السلام کی طرف سَفَر کر سکتی ہیں بلکہ یہ سَفَر ان پر واجِب ہے۔ (مراۃ المناجیح، ۴/۹۰)
………ذوق نعت، ص۱۳۳

تیسری علامت: اتباع شریعت
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پَیروی کرے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنّتوں کا عامِل ہو، آپ کے اَفعال و اَقوال کا اِتِّبَاع کرے، آپ کے حکْم کو بجا لائے اور نَوَاہی سے اِجْتِنَابکرے اور ہر تنگی و آسانی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ طیبہ سے حاصِل مدنی پھولوں کو پیشِ نَظَر رکھے، نیز جس بات کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مَشْرُوع قرار دیا اور اس پر عَمَل کی ترغیب وتنبیہ فرمائی ہو اسے اپنی نفسانی خواہشات پر ترجیح دے۔1چنانچہ ہر اُمَّتی کے لیے طَاعَتِ رَسول کی کیا شان ہونی چاہیے اس کا جَلْوَہ دیکھنا ہو تو صَحابیات طیبات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی سِیْرَت کا مُطَالَعَہ کیجئے، کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں پر عَمَل کی سراپا مِثال تھیں، انہوں نے کبھی بھی کسی بھی حال میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کسی حکْم پر عَمَل سے منہ موڑا نہ اس سلسلے میں کبھی کسی رِشتے کو کوئی اَہَمِیَّت دی۔ جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا اُمّ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے والِد ماجِد حضرت سَیِّدُنا ابو سُفیان رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ کے اِنتقَال فرمانے کے بعد اور اُمُّ الْمُومنین حضرت سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے بھائی کے وِصال کے (تین۳ دن)بعد خوشبو لگائی اور اِرشَاد فرمایا: خُدا کی قَسَم! مجھے اس کی ضَرورت نہ تھی مگر میں نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا ہے کہ جو عورت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور یومِ آخِرَت پر اِیمان رکھتی ہے اس کے لیے حَلال نہیں کہ وہ کسی کے مَرنے کا سوگ تین۳ راتوں سے زیادہ کرے۔ سِوائے شوہَر کے،کہ اس کے سوگ کی مُدَّت چار۴ ماہ دس دِن ہے۔1اسی طرح مَرْوِی ہے کہ ایک بار اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی خِدْمَت سراپا غیرت میں آپ کے بھائی حضرت سَیِّدُنا عبدُ الرَّحمٰن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی حضرت سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا حاضِر ہوئیں جنہوں نے سر پر بارِیک دوپٹّا اَوڑھا ہوا تھا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس دوپٹّے کو (شرعاً مَـمْنُوع ہونے کی وجہ سے)پھاڑ کر انہیں موٹا دوپٹّا اوڑھا دیا

دوسری علامت: شوقِ ملاقات
دیدارِ سرکار کا بَہُت زیادہ شوق ہو، کیونکہ ہر مُحِب اپنے مَحْبُوب سے مُلاقات کا شوق رکھتا ہے اور بعض مشائخ کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ مَحبَّت مَحْبُوب کے شوق کا ہی دوسرا نام ہے۔2چنانچہ،
فراقِ نبی میں تڑپنے والی صحابیہ
جب اللہعَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس جَہانِ فانی سے پردہ فرمایا تو قبیلہ ہاشِم کی ایک عورت نے اُمُّ الْمُومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی خِدْمَت میں حاضِر ہو کر عَرْض کی : مجھے ایک بار میرے آقا کی قَبْرِ اَنْوَر کا دِیدار کرا دیجئے۔کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عَظَمَتِ شان کے باعِث آپ کی قَبْرِ اَنْوَر پر پردے لٹکا دئیے گئے تھے اور اگر کوئی زِیارَتِ قَبْرِ اَنْوَر سے مُشَرَّف ہونا چاہتا تو اسے سَیِّدہ عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی اِجازَت لینا پڑتی کیونکہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کے ہی کاشانۂ اَقْدَس میں مَحْوِ آرام تھے۔ چنانچہ اُمُّ الْمُومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس کی حَالَتِ زَار پر کَرَم فرماتے ہوئے جونہی قَبْرِ اَنْوَر کے درمیان حائل پردہ ہٹایا اور عِشْقِ نبی سے مَعْمُور اس عورت کی نِگاہ اپنے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قَبْرِ اَنْوَر پر پڑی تو وہ اپنی بے پناہ مَحبَّت اور والہانہ عِشْق کے باعِث خود پر قابو نہ رکھ پائی اور جان سے بھی عزیز تر اپنے مَحْبُوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جُدائی پر اس کی آنکھوں سے اَشکوں کا سیلاب جارِی ہو گیا اور پھر دَرِ رَسول پر یوں ہی روتے روتے اس کی بے قَرار رُوْح کو قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کرنے کے باعِث قَرار مل گیا۔1
آپ کے عِشْق میں اے کاش! کہ روتے روتے
یہ نِکَل جائے میری جان مدینے والے2
تیرے قدموں پر سَر ہو اور تارِ زِنْدَگی ٹوٹے
یہی اَنْجَامِ اُلْفَت ہے یہی مرنے کا حاصِل ہے3
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کثرتِ ذکر
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکْر اس کَثْرَت و لذّت سے کیا جائے کہ آپ کے سِوا دِل میں کسی کی مَحبَّت باقی رہے نہ کسی کی یاد سے لُطْف آئے۔2 بلکہ ذِکْرِ مَحْبُوب کے وَقْت اَلفاظ اس قَدْر شیریں ہو جائیں کہ ان کی حَلَاوَت و مِٹھاس تادیر کانوں میں رَس گھولتی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ صَحابیات طیبات رَضِیَ اللّٰہ ُتعالٰی عَنْہُنَّ جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تَذْکِرہ کرتیں تو مَحبَّتِ سرکار ان کے اَلفاظ سے عَیاں ہوتی۔ جیسا کہ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ عَطیہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہا جب بھی حُضُور سراپا نور،شاہِ غَیور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکْر کرتیں تو فَرْطِ مَسَرَّت سے کہتیں:
میرے والِد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قُربان۔1

قبرِ انور کی زیارت
صَدْرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی بہارِ شَریعَت میں فرماتے ہیں کہ زیارتِ اَقْدَس قریب بواجِب ہے۔2جبکہ شیخ الحدیث حضرت عَلّامہ عبد المصطفےٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی سیرتِ مصطفےٰ میں فرماتے ہیں کہ حُضُورِ اَقْدَس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روضَۂ مُقدسہ کی زِیَارَت سُنّتِ مُؤکدّہ قریب واجِب ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النسآء:۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراگر جب وہ اپنی جانوں پر ظُلْم کریں تو اے مَحْبُوب تمہارے حُضُور حاضِر ہوں اور پھر اللہسے مُعافی چاہیں اور رسول ان کی شَفَاعَت فرمائے تو ضَرور اللہکو بَہُت توبہ قُبول کرنے والا مِہربان پائیں۔
مزید فرماتے ہیں کہ اس آیَت میں گناہ گاروں کے گناہ کی بَـخْشِشْ کے لیے اَرْحَمُ الرَّاحِمِین نے تین۳ شرطیں لگائی ہیں: اَوَّل دربارِ رسول میں حاضِری۔ دُوَم اِسْتِغْفار۔ سِوُم رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دُعائے مَغْفِرَت۔یہ حکْم حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہِری دُنْیَوِی حَیات ہی تک مَحْدُود نہیں بلکہ روضۂ اَقْدَس میں حاضِری بھی یقیناً دربارِ رَسول ہی میں حاضِری ہے۔ اسی لیے عُلَمائے کِرام عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ السَّلَامنے تصریح فرما دی ہے کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دربار کا یہ فیض آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفاتِ اَقْدَس سے مُنْقَطِع نہیں ہوا ہے۔ اس لیے جو گناہ گار قَبْرِ اَنْوَر کے پاس حاضِر ہو جائے اور وہاں خُدا سے اِسْتِغْفار کرے اور چونکہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو اپنی قَبْرِ اَنْوَر میں اپنی اُمَّت کے لیے اِسْتِغْفار فرماتے ہی رہتے ہیں، لہٰذا اس گناہ گار کے لیے مَغْفِرَت کی تینوں شرطیں پائی گئیں۔ اس لیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی ضَرور مَغْفِرَت ہو جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ چاروں مَذاہِب کے عُلَمائے کِرام نے مَناسِکِ حَج و زِیَارَت کی کِتابوں میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ جو شخص بھی رَوضۂ مُنَوّرہ پر حاضِری دے اس کے لیے مُسْتَحَب ہے کہ اس آیَت کو پڑھے اور پھر خُدا سے اپنی مَغْفِرَت کی دُعا مانگے۔مذکورہ بالا آیَتِ مُبارَکہ کے عِلاوہ بَہُت سی حدیثیں بھی رَوضَہ مُنَوّرہ کی زِیَارَت کے فضائل میں وارِد ہوئی ہیں جن کو عَلّامہ سَمْہُودی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی نے اپنی کتاب وفاء الوفا اور دوسرے مُسْتَنَد سلف صَالِـحِین عُلَمائے دین نے اپنی اپنی کتابوں میں نَقْل فرمایا ہے۔ مثلاً فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَهٗ شَفَاعَتِیْ۔1 یعنی جس نے میری قَبْر کی زِیَارَت کی اس کے لیے میری شَفَاعَت واجِب ہو گئی۔ اسی لیے صَحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہم کے مُقَدَّس زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان قَبْرِ مُنَوَّر کی زِیَارَت کرتے اور آپ کی مُقَدَّس جناب میں تَوَسُّل اور اِسْتِغَاثَہ کرتے رہے ہیں اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قِیامَت تک یہ مُبارَک سلسلہ جارِی رہے گا۔ 2
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… سنن الدار قطنی، کتاب الحج، باب المواقیت، ۱/۲۱۷، حدیث:۲۶۶۹
2 ………سیرت مصطفےٰ، ص ۸۴۸

دُرود شریف
اللہعَزَّ وَجَلَّنے ہمیں اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود ِ پاک پڑھنے کا حکْم دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی: ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ اور اس کے النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۵۶﴾ (پ۲۲، الاحزاب: ۵۶)
فرشتے دُرُود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر دُرُود اور خوب سلام بھیجو۔
بہارِ شریعت(جلد اوّل) صَفْحَہ 75پر ہے: جب حُضُور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا ذِکْر آئے تو بکمالِ خُشوع و خُضوع و اِنکسار بَاَدَب سُنے اور نامِ پاک سُنتے ہی دُرُود شریف پڑھنا واجِب ہے۔
اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنّت،مُجَدّدِ دِىن و ملّت مولانا شاہ اِمام احمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ میں اس مسئلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرماتے ہیں:نامِ پاکِ حُضُور پُرنُور سَیِّدِ عَالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم مُـخْتَلِف جلسوں میں جتنی بار لے یا سُنے ہر بار دُرُود شریف پڑھنا واجِب ہے ،اگر نہ پڑھے گا گنہگار ہو گا اور سَخْت سَخْت وَعِیدوں میں گِرِفتار، ہاں ا س میں اِخْتِلاف ہے کہ اگر ایک ہی جَلْسَہ میں چند بار نامِ پاک لیا یا سنا تو ہر بار واجِب ہے یا ایک بار کافی اور ہر بار مُسْتَحَب ہے، بَہُت عُلَما قَولِ اَوّل کی طرف گئے، ان کے نزدیک ایک جَلْسَہ میں ہزار بار کلمہ شریف پڑھے تو ہر بار دُرُود شریف بھی پڑھتا جائے اگر ایک بار بھی چھوڑا گنہگار ہوا ۔
دیگر عُلَما نے بَنَظَرِ آسانیِ اُمَّت قَولِ دُوَم اِخْتِیار کیا ان کے نزدیک ایک جَلْسَہ میں ایک بار دُرُود اَدائے واجِب کے لیے كِفَایَت کرے گا، زیادہ کے تَرْک سے گنہگار نہ ہو گا مگر ثوابِ عظیم و فَضْلِ جسیم سے بے شک مَحْرُوم رہا۔بَہَرحَال مُناسِب یہی ہے کہ ہر بار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کہتا جائے کہ ایسی چیز جس کے کرنے میں بِالْاِتِّفَاق بڑی بڑی رحمتیں برکتیں ہیں اور نہ کرنے میں بلا شبہ بڑے فَضْل سے مَحْرُومی اور ایک مَذْھَبِ قَوِی پر گناہ و مَعْصِیَّت، عاقِل کا کام نہیں کہ اُسے تَرْک کرے۔ 1
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ مَحْبُوبِیَّت کا کیا کہنا؟ ایک حقیر و ذلیل بندۂ خُدا کے پیغمبر جمیل کی بارگاہِ عَظَمَت میں دُرُود شریف کا ہدیہ بھیجتا ہے تو خُداوند جلیل اس کے بَدْلے میں اس بندے پر رحمتیں نازِل فرماتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ دُرُود شریف پڑھنے کی توفیق عَطا فرمائے۔ (آمین)
1فتاویٰ رضویہ، ۶/۲۲۲
2بہارِ شریعت، فضائل مدینہ طیبہ، ۱/ ۱۲۲۱

مَدحِ رسول
مَحْبُوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہر اُمتی پر یہ بھی حَق ہے کہ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَدْح و ثَنا کا ہمیشہ اِعلان اور چَرْچَا کرتا رہے اور ان کے فضائل و کمالات کو عَلَی الْاِعْلَان بیان کرے ۔
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فضائل و مَحاسِن کا ذِکْرِ جمیل رَبُّ العالمین اور تمام انبیا و مرسلین عَلَیْہِمُ السَّلَام کا مُقَدَّس طریقہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآن کریم کو اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَدْح و ثَنا کے مُـخْتَلِف رنگا رنگ پھولوں کا ایک حَسِین گلدستہ بنا کر نازِل فرمایا ہے اور پورے قرآنِ کریم میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نَعْت و صِفات کی آیاتِ بَیّنات اس طرح جگمگا رہی ہیں جیسے آسمان پر سِتارے جگمگاتے ہیں اور گزَشْتَہ آسمانی کِتابیں بھی اِعلان کر رہی ہیں کہ ہر نبی و رسول اللہ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مَدّاح و ثنا خوان اور ان کے فضائل و مَحَاسِن کا خطیب بن کر فضائلِ مصطفےٰ کے فَضْل و کَمال اور ان کے جاہ و جَلال کا ڈنکا بجاتا رہا۔یہی وجہ ہے کہ ہزاروں صَحابہ و صَحابیات نے ہر کوچہ و بازار اور میدانِ کارزار میں نَعْتِ رَسول کے ایسے ایسے عظیم شاہکار گلدستے ترتیب دئیے کہ جن کی خوشبو آج بھی چہار سُو پھیلی ہوئی ہے، 1 یہی نہیں بلکہ دَورِ صَحابہ سے آج تک سرورِ انبیا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خوش نصیب مَدَّاحوں نے نَظْم و نَثْر میں نَعْتِ پاک کا اتنا بڑا ذخیرہ جَمْع کر دیا ہے کہ اسے اِحاطۂ شُمار میں لانا مُمکِن نہیں۔

بارگاہِ نبوت کی بے ادبی قطعاً گوارا نہ تھی
اسی طرح حضرت سَیِّدُنا عبدُ الرحمٰن بن عامِری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی قوم کے شُیوخ سے رِوایَت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بازارِ عُکاظ میں تھے کہ سرورِ دو۲عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں دینِ اِسلام کی دعوت دی جو ہم نے قُبول کر لی۔ اتنے میں بُحیرہ بن فِراس قُشَیری آیا اور اس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اونٹنی کی کوکھ میں نیزہ چبھا دیا جس کی وجہ سے وہ اچھلی اور آپ زمین پر تشریف لے آئے۔ اس دن حضرت سَیِّدَتُنا ضُباعہ بنتِ عامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بھی اِیمان لا کر عاشِقانِ مصطفےٰ میں شامِل ہو چکی تھیں، انہیں مَعْلُوم ہوا تو وہ آپے سے باہَر ہو گئیں اور اپنے چچا زاد بھائیوں کے پاس آکر ان کی غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے غضبناک لہجے میں بولیں:اے آلِ عامِر! مجھے تمہارا کیا فائدہ! تمہارے سامنے میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بے اَدَبی کی گئی اور تم میں سے کسی نے اسے نہیں روکا۔ یہ سن کر فوراً آلِ عامِر کے تین۳ آدمی اُٹھے اور قبیلہ بُحیرہ کے تین۳آدمیوں کو پکڑ کر ان کی خوب دُرْگَت بنائی حالانکہ یہ ابھی تک مسلمان بھی نہ ہوئے تھے مگر انہوں نے تَحَفُّظِ عَظَمَتِ رَسول پر جس جرأت کا مُظاہَرہ کیا تھا اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خوش ہو کر انہیں بَرَکت کی دُعا دی تو ان کے دِلوں میں عِشْقِ مُصطفےٰ کی وہ شَمْع فَروزاں ہوئی کہ اِسلام قبول کر کے بعد میں ان سب نے حُرْمَتِ رَسول کی پاسبانی کرتے ہوئے اپنی جانیں اپنے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان کر دیں۔1
……… اسد الغابة،حرف الضاد،۷۰۷۷-ضباعة بنت عامر،۷/ ۱۷۶ملخصاً
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
Popular Tags
Islam
Khawab Ki Tabeer
خواب کی تعبیر
Masail-Fazail
waqiyat
جہنم میں لے جانے والے اعمال
AboutShaikhul
Naatiya Shayeri
Manqabati Shayeri
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
آداب حج و عمرہ
islami Shadi
gharelu Ilaj
Quranic Wonders
Nisabunnahaw نصاب النحو
al rashaad
Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri
نِصَابُ الصرف
fikremaqbool
مُرقعِ انوار
Maqbooliyat
حدائق بخشش
بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan)
Taqdeesi Mazameen
Hamdiya Adbi Mazameen
Media
Zakat Zakawat
اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت
اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت
مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی
Mazameen
mazameenealahazrat
گھریلو علاج
شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲)
نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔
Libarary
BooksOfShaikhulislam
Khasiyat e abwab us sarf
fatawa
مقبولیات
کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ)
کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی
News
مذہب اورفدؔا
صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
about
نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی
manaqib
Du’aas& Adhkaar
Kitab-ul-Khair
Some Key Surahs
naatiya adab
نعتیہ ادبی
Shayeri
آیاتِ قرآنی کے انوار
نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya)
نعتیہ ادبی مضامین
غلام ربانی فدا شخص وشاعر
مضامین
Tabsare
تقدیسی شاعری
مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے
مسائل و فضائل
app
books
تبصرہ
تحقیقی مضامین
شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1)
علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی
Hamd-Naat-Manaqib
tahreereAlaHazrat
hayatwokhidmat
اپنے لختِ جگر کے لیے
نقدونظر
ویڈیو
hamdiya Shayeri
photos
FamilyOfShaikhulislam
WrittenStuff
نثر
یادرفتگاں
Tafseer Ashrafi
Introduction
Family
Ghazal
Organization
ابدی زندگی اور اخروی حیات
عقائد
مرتضی مطہری
Gallery
صحرالہولہو
Beauty_and_Health_Tips
Naatiya Books
Sadqah-Fitr_Ke_Masail
نظم
Naat
Shaikh-Ul-Islam Trust
library
شاعری
Madani-Foundation-Hubli
audio
contact
mohaddise-azam-mission
video
افسانہ
حمدونعت
غزل
فوٹو
مناقب
میری کتابیں
کتابیں
Jamiya Nizamiya Hyderabad
Naatiya Adabi Mazameen
Qasaid
dars nizami
interview
انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ
غیرمسلم شعرا
نعت
Abu Sufyan ibn Harb - Warrior
Hazrat Syed Hamza Ashraf
Hegira
Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan
Khutbat-Bartaniae
Naatiya Magizine
Nazam
Shura
Victory
khutbat e bartania
نصاب المنطق
اِسلامی زندگی
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
Khawab ki Tabeer
Most Popular
-
بسم الرحمن الرحیم السلام علیکم الحمد للہ !ناظرین محترم تمام تعریفیں رب کائنات کے لئے جس نے لفظ کن سے کائنات عالم کی تخلیق کی۔ اور ...
-
(۱)۔۔۔۔۔۔ اِفْتِعَالٌ: باب اِفْتِعَالٌ میں فاء کلمہ کے بعد تاء زائدہ ہوتی ہے۔جیسےاِجْتَنَبَ۔ بنانے کا طریقہ: ثلاثی مجرد کے ف...
-
بسم الرحمن الرحیم آپ کے ہر ممکن تعاون کی ہمیں ضرورت ہے۔ Tanzeem-ur-Rashad C/o Karnatak Hardware Usmaniya Complex, (hollati Buildi...
-
حروف اصلیہ اور حروف زائدہ کے ا عتبار سے کلمہ کی چھ اقسا م ہیں: (۱)ثلاثی مجرد (۲)ثلاثی مزیدفیہ (۳) ربا عی مجرد (۴)رباعی مزیدفیہ ...
-
تمام ابواب کو چھ حصوں پر تقسیم کیا جاسکتاہے: (۱)ثلاثی مجرد کے ابواب (۲)ثلاثی مزید فیہ کے ابواب (۳)رباعی مجرد کے ابواب (۴)رباعی مزید...
-
سبق نمبر: (10) (۔۔۔۔۔۔باب تَفَعُّل کی خاصیات۔۔۔۔۔۔) اس باب کی خاصیات درج ذیل ہیں: (۱)تعمل(۲)موافقت(۳)ابتداء(۴)اتخا ذ(۵)سلب مأخذ (۶) تدریج ...
-
(۱)عدل کی تعریف: کسی اسم کابغیر کسی قاعدہ صرفی کے اپنے صیغے سے دوسرے صیغے کی طرف پھیراہوا ہونا۔جیسے:ثُلٰثُ(تین تین)ثَلٰثَۃٌ ثَلٰثَۃ...
-
سورہ یوسف کا خلاصہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو ''احسن القصص'' یعنی تمام قصوں میں سب سے اچھا قصہ ف...
-
نقشہ برائے ثلاثی مجرد ابواب ۱۔ضَرَبَ یَضْرِبُ تعمل۔۔۔۔۔۔۔۔موافقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتخاذ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تدریج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کثرت مأخذ اطعام مأخذ۔۔۔۔۔۔ البا ...
-
مشق برائے ثلاثی مجرد ابواب سوال نمبر1: درج ذیل خاصیات کی تعریف کریں اور مثال سے واضح کریں۔ تعمل،موافقت ،اتخاذ،تدریج،کثرت مأخذ،اطعام مأخذ،ا...