Showing posts with label manaqib. Show all posts
Showing posts with label manaqib. Show all posts
 علمِ تفسیر اورحضور شیخ الاسلام

علمِ تفسیر اورحضور شیخ الاسلام

 علمِ تفسیر اورحضور شیخ الاسلام                     

مولانا محمد یٰسین اشرفی
) مدرس مدنی میاں عربک کالج ہبلی ) 



 قرآن شریف کا نزول زبانِ عرب میں انہیں کے اسالیب بلاغت پر ہوا اسی لئے صحابۂ کرام کو قرآن فہمی میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔رہ گئیں مجملاتِ قرآنیہ کی تفصیلات ،ناسخ اور منسوخ کے امتیازات تو انہیں حضور رحمتِ عالم ﷺ حسبِ موقع فرما دیا کرتے تھے معیتِ رسولِ کریم ﷺ ان کے لئے مشعلِ راہ رہی صحابۂ کرام کے بعد تابعین کا دور آتا ہے اصحابِ عظام کی محبت اور زمانہ نبی  سے قرب کے سبب یہ حضرات بھی قرآنِ پاک سمجھنے میں اسبق و اقدم رہے پھر ایک زمانہ بعض تابعین و تبع تابعین کا ایسا آتا ہے جس میں ان معارفِ قرآنیہ کو علوم وفنون کی شکل دی گئی اور کثرت کے ساتھ تالیفات وتصنیفات شروع ہوگئی علمائے اسلاف کو علوم کی تدوین کی طرف مائل کرنے والی دو چیزیں ہیں ۔ اول مسلمانوں کے درمیان فتنوں کا ظہور ائمہ دین پر بغاوت و ظلم، اختلافِ آرا اور بدعت کی جانب میلان کا حدوث ،فتاویٰ وحوادثات کی کثرت ،مہمات میں علماء کی طرف رجوع کا لامتناہی سلسلہ ۔ دوم عجمیوں کا کثرت کے ساتھ دامنِ اسلام میں پناہ لینا اور اسلام کا روز بروز دنیا کے طول وعرض میں پھیل جانا یہ وہ اسباب تھے جنہوں نے  علمائے اسلاف کومجبور کیا کہ وہ نظر واستدلال ،اجتہاد واستنباط، قوائد واصول گستری، ترتیب الابواب وفصول،تکثیر مسائل بالدلائل ،ایراد شبہ مع الاجوبہ ،تعیین اوضاع و اصطلاحات اور تبیین مذاہب واختلافات کی طرف توجہ فرمائیں ۔یہی سبب ہے کہ قرآن پاک کی تحقیق وتدقیق کے سلسلے میں کوئی مخارجِ حروف اور رعایتِ حروف کو مرکزِ نگاہ بنائے ہوئے ہے تو کوئی قرآنی لغات کے حرکات وسکونات سے بحث کر رہاہے کسی کی نظر  اگر اسباب پر ہے کہ لفظ ِ قرآنی کا استعمال استقبال کے لئے ہے یا حال کے لئے تو کوئی احوالِ کلمات کو اعراب وبنا کی حیثیت سے دیکھتا ہے اگر ایک قوم قرآن کی فصاحت و بلاغت اور وجوہ اعجاز وتحسین کو موضوعِ بحث بنائے ہوئے ہے تو دوسرے لوگ اس کے مبانی ومعانی کی تحقیق وتدقیق میں لگے ہوئے ہیں اگر ایک جماعت عقلیہ اور شواہد ِ اصلیہ سے وحدانیت خدا اور اس کی قدرت پر علتوں کا استنباط کررہی ہے تو دوسرا فریق اس پر عامل ،مجمل ومفصل وغیرہ کے زاویہ نگا سے غور کرتا ہے اور ایسا ہی ایک گروہ فکر صحیح کا سہارا لے کر ایک شیٔ کی حلت اور دوسری  شیٔ کی حرمت کے احکام کا استخراج کرتا ہے ۔اس غورو فکر کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے سامنے علمِ  قرأت ،علم لغت ، علم صرف ،علم نحو ، علم بیان، علم تفسیر ، علم کلام ، علم اصول اور علم فقہ جیسے گراں قدر علوم کا ایک ذخیرہ آگیا صرف انہیں پر اکتفا نہیں بلکہ قرآن شریف سے متعلق بہت سارے علوم ِخاص ،علمائے اسلام نے ایجاد کئے جن میں بعض یہ بھی ہیں ۔ علم مفردات ، علم رسم الخط ، علم عروض وقوافی، علم مناظرہ ، علم اسماء الرجال ،علم حدیث، علم قصص ، علم تصوف وغیرہ ۔ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیٔ (سورۃ النحل) اے محبوب ہم نے تم پر کتاب اتاری جس میں ہر شیٔ ،ہرچیز،ہر موجود کاروشن بیان ہے(معارف القرآن) کی حقیقتیں گوا ہ ہیں کہ کوئی ایسی شئی نہیں جس کا استخراج قرآن سے ممکن نہ ہویہاں تک کہ بعض مفکرینِ اسلام نے علم ہیئت ،علم ہندسہ ، علم نجوم، علم طب اور دیگر علوم عربیہ کا استخراج قرآ ن شریف ہی سے فرمایا ہے ان تمام علوم قرآنیہ میں علم تفسیر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے لہذا اس کو سید العلوم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہمارے موضوع کلام کا تقاضہ ہے کہ ہم تفسیر کے مفہوم ،غرض وغایت اور اس کے متعلقات کو واضح کر کے تاریخی حیثیت سے اس پرکچھ روشنی ڈالیں اور پھر اپنے اصل موضوع پر گفتگو کریں ۔
علم تفسیر ۔  وہ علم ہے جو بحسب طاقت بشریہ اور باعتبار قواعد عربیہ نظم قرآنی کے معانی سے بحث کرے۔      
غرض ۔ نظم قرآنی کے معانی کے شناخت اور استنباطِ احکام ۔
غایت ۔ سعادت دارین ، دنیا میں امتثالِ ا وامر اور اجتناب نواہی سے اور آخرت میں جنت سے 
موضوع ۔ آیات قرآنیہ فہم معانی کے حیثیت سے ۔
واضع  ۔تابعین کرام میں سے علمائے راسخین ۔
شرائط تفسیر۔ حضرت امام جلا ل الدین سیوطی قدس سرہ نے قرآن مجید کی تفسیر کے لئے پندرہ  علوم وفنون میں مہا رت تامہ کی شرط لگا ئی ہے اور فرماتے ہیں جو شخص ان پندرہ علوم وفنون  میںسے کسی ایک میں بھی نا قص ہو اسے قرآن مجید کی تفسیر کرنے کا حق نہیں ہے (الاتقان)  (۱) لغت عربیہ (۲) علم النحو (۳)علم الصرف (۴) علم الاشتیاق (۵) علم المعانی (۶) علم البیان (۷) علم البدیع (۸) علم القرأ ت(۹) قوائد شرعیہ (۱۰) علم فقہ (۱۱) اصول فقہ (۱۲) علم الاسبا ب النزول (۱۳)علم ناسخ ومنسوخ (۱۴)علم الحدیث (۱۵)علم الموہبہ                                                                                                                                                                                        مفسر قرآن کے لئے جن شرائط کا ہونا مستند مفسرین نے ضروری قرار دیا ہے وہ یہ ہیں۔  
 (۱) ذکی ،فہیم ہو قرآن فہمی کی کامل و مکمل مہا رت رکھتا ہو (۲) علوم مذکور ہ باضابطہ  ماہر و حاذق اور تجربہ کار اساتذہ سے حاصل کیاہو۔
(۳) علمائے معاصرین اور فضلائے ہم زماں کی نظر میں اس کا علم، فہم اور تقویٰ مسلم ومعتبر ہو (۴) خود رائے اور متکبر نہ ہو (۵) سنی صحیح العقیدہ ہو  (فیوض الرحمن )
 سید المفسرین حضور شیخ الاسلام والمسلمین حضرت علامہ الشاہ سید محمد مدنی میاں اشرفی جیلا نی کے جملہ تصانیف گوہر بے بہا تحقیقات وتدقیقات کا خزینہ ہیں مگر ان سب میں تفسیر اشرفی کا مقام سب سے اعلیٰ وارفع ہے گویا کہ یوں کہنا بجا نہ ہوگا سارے تفاسیر کا نچوڑ ہے ۔ حضور شیخ الاسلام علم تفسیر میں ایک قوت راسخہ رکھتے ہیں علم تفسیر کے تمام شرائط اور مفسر کے تمام اوصاف آپ میں بدرجہ اتم موجود ہیں یہ سارے خصوصیات کی وجہ سے آپ اس دور کے علماء و مشائخین میں میر اور حکم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔  
مولانا سید سیف الدین اصدق فرماتے ہیں 
حضور شیخ الاسلام  جہا ں کلام الہٰی کے رمز آشنا مفسر ہیں ،وہیں ذخیرہ ٔاحادیث کے فہیم بھی علم فقہ پر دسترس رکھنے والے فقیہ ہیںتو وہیں ایک نکتہ رس معقولی بھی ،علم کلام کے اگر ماہر ہیں ،تو بحرتحقیق وتدقیق کے شناور بھی ،
شائستہ وپاکیزہ شاعری کا اگر ذوق رکھتے ہیں، تو وہیں ایک سلا مت رو  ادیب بھی ،فصاحت و بلا غت سے مزین اگر تا ج دارِ خطا بت ہیں، تو تصو فِ حقیقی سے آراستہ ایک خانقاہی فقیر بھی، ان فضا ئل وکما لات کو دیکھ کر بس یہی کہا جا سکتا ہے جیسے صد یوں پہلے حضرت  شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے کہا  تھا  اور آج تک کہا جارہا ہے اور شاید قیامت تک کہا جا تا ر ہے کہ  
 ایں سعا دت بزور بازونیست    تانہ بخشد خدائے بخشندہ    
مولانا  سید شاہ رکن الدین صاحب اصدق  فرماتے ہیں کہ
 میں نے خود دیکھا کہ مفکر اسلام حضرت علا مہ مظفر حسن صا حب ظفر ادیبی  جو بلا شبہ اپنے دور کے اما م المعقولات تھے اور دور تک ان کا طوطی بولتا تھا  وہ شمسِ بازغہ لے کا مطا لعہ میں غرق ہیں ،میں جب قریب سے گزرا تو آہٹ پا کر انہوں نے سر اٹھا یا ،اور پو چھا کون ؟  میں پلٹ کر قریب ہوا اور بولا  جی میں !  بولے اچھا سید صاحب  ذرا مدنی میاں کو بلا ئیے  میں نے مدنی میاں کو جو چھت پر ہم در سوں کے در میا ن کسی کتا ب کی تکرار میں مشغول تھے، جا کر اطلاع دی اور وہ اٹھ کر چلے تو تجسس کے ہا تھوں مجبور ہو کر میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا کہ آخر کیا بات ہے ؟علا مہ ظفر ادیبی صاحب کے پا س جب مدنی میاں پہنچے تو آپ نے انہیں احترام کے ساتھ بیٹھنے کو کہا ادھر استاذ کے احترام  میں جب یہ صرف ایک کنا رے ٹک گئے  تو اشا رہ کر کے کہا میاں  یہاں آرام سے بیٹھیے پھر کتاب ان کی طرف  بڑھا کر عبا رت پر انگلی رکھتے ہوئے بولے  ذرا دیکھیٔے یہاں مصنف کیا کہنا چاہ رہے ہیں   مدنی میاں کتاب لے  کرکچھ دیر تک دیکھتے رہے اور پھر جب اسکی وضاحت کی تو علا مہ ظفر ادیبی کے چہرے پر تسکین وشادمانی کا خاص رنگ چھا گیا اور اطمینان بخش انداز  میں گردن ہلا کر تائید کرتے ہوئے انہیں رخصت کیا، اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے  مولانا  سید شاہ رکن الدین صاحب اصدق  نے فرمایا کہ اس سے جہاں مدنی میاں کی ٹھو س علمی استعداد اور منطق و فلسفہ کے ادق اور خشک مسا ئل پر گہری نظر کا پتہ چلتا ہے وہیں اسا تذہ کا ان پر کتنا اعتماد تھا اس کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے ساتھ ہی علامہ ظفرادیبی کے کما ل ظرف اور وسعت قلبی کا بھی پتہ چلتا ہے یہ جگر ہر استاذ کانہیں ہو سکتا کہ وہ کسی مسئلے کے حل کے لئے اپنے شا گرد سے رجو ع کرے اورفراخ دلی کے ساتھ اسے قبول بھی کرلے (جام نورمحدث اعظم نمبر)
     ٹی وی ویڈیو اور کا شرعی استعمال اور دیگر تصنیفات دیکھنے کے بعد غزالی ٔ دوراں حضرت علامہ سید سعید احمد کاظمی صاحب قبلہ نے حضور  شیخ الاسلام کوـ’’رئیس المحققین" کے خطاب سے نوازا۔(حیات حضور محدث اعظم )
    مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی صاحب قبلہ فرماتے ہیں  ویڈیو اور ٹی وی کا شرعی استعمال  مشروط استعمال سے متعلق ایک استفتا ء کا جواب ہے ,
اس کتاب کے مطالعہ سے مصنف (حضور شیخ الاسلام  ) کی فقہی بصیرت اور علوم شرعیہ میں ان کی دسترس وگہرائی کا پتہ چلتا ہے ۔(جام نورمحدث اعظم نمبر) 
اورکیو ں نہ ہوں  جن کے اہلِ خاندان کا عالم یہ ہے کہ صدیوں سے اسلام کی روح کو تقویت دے رہے ہیں اور طالبانِ حق کی تشنگی کو دور کرہے ہیں اور انہیں برگزیدہ محبوب بندوں کے سائے میں حضو شیخ الاسلام والمسلمین کی پرورش ہوئی اور انہیں کے ذریعہ سلسلہ در سلسلہ  غوث العالم ، تارک السلطنت ، محبوب یزدانی حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کا فیضان آپ پر ایسا برسا کہ آپ نے اس فیضان سے سارے عالمِ اسلام کو سیراب کردیا اورآپ عالمِ اسلام کی روحانی ودینی تشنگی کو بجھانے کا مرکز بن گئے۔  
 ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا                         





منقبت درشان حضور شیخ الاسلام

منقبت درشان حضور شیخ الاسلام

آفتاب ِ علم کی تنویر ہیں مدنی میاں
لوحِ دل پر عشق کی تحریر ہیں مدنی میاں
سیرت و کردار میں نبوی وراثت کا جمال
آسوۂ سرکار کی تفسیر  ہیں مدنی میاں
ان کی آنکھیں حلقۂ آفاق سے زیادہ وسیع 
فکر و فن میں نائبِ شبیر ہیں مدنی میاں
سادۂ روشن جبین پر علم کا ایسا وقار
ہوبہو اسلاف کی تصویر ہیں مدنی میاں
مظہر رازی غزالی ہے بصیرت آپ کی
اشرفی فیضان کے ایک نِیر  ہیں مدنی میاں
محفلِ ارباب فن کی آبرو ان کے چراغ
علم کے انوار کی تعمیر  ہیں مدنی میاں
زہد و تقویٰ میں حسن بصری کا ہے عکس جمیل
فقرِ رومی جامی کی تاثر  ہیں مدنی میاں
آج تک ٹھہری نہ جس کے سامنے باطل کی فوج
دست حیدر کی وہی شمشیر ہیں مدنی میاں
علم کی ایسی تجلی فضل مولیٰ سے ملی
چاند سورج تیرے دامن گیر  ہیں مدنی میاں
آپ کا گھر جسم و جاں کی سلطنت کا ہے مدار 
دل ہمارے آپ کی جاگیر  ہیں مدنی میاں
تیری صحبت سے ہمارے کہفِ دل ہیں مستیز
ہم تیرے دربار کے قطمیر  ہیں مدنی میاں
اک نظر اے بخش دیں دل کے شبستاں کو حیات
غمزدہ افکار کی تطہیر ہیں مدنی میاں
آپ رکھتے ہیں سبھی اہل وفا سے ایسا پیار 
سارے سنی ہیں شَکر اور شیر  ہیں مدنی میاں
غازیٔ عصر غوثِ زماں شیخ الشیوخ
اہل حق اہل وفا کے پیر ہیں مدنی میاں
آپ سے اہل سنت کے گلستاں میں بہار
نجدیت کے واسطے تعزیر ہیں مدنی میاں
مجمع البحرین ہیں غوث و رضا کے فیض سے
تاجدار حکمت و تدبیر ہیں مدنی میاں
زندہ و پائندہ ہوں گے تا ابد ان کے کمال
کائنات فکر وفن کے میر  ہیں مدنی میاں
اے فریدیؔ ان سے طیبہ تک رسائی ہوگئی
مصطفیٰ کے قرب کی زنجیر ہیں مدنی میاں

                                     مولانامحمدسلمان رضا فریدی مصباحی
                                           نوری مسجد، مسقط، عمان

منقبت درشان حضور شیخ الاسلام

منقبت درشان حضور شیخ الاسلام

کہوں جب حضرتِ مدنی ،زباں خوشبو دے 
جو ان کے بارے میں سو چو ںتودھیان خو شبو دے 
خطیب ایسے کہ جس کی کوئی مثال نہیں 
خطا بت ایسی کہ اک اک بیان خوشبو دے   
بتا دیا ہے یہ احمد رضا نے دنیاکو 
رسول پاک کا کُل خاندان خوشبو دے 
ہیں گلستان ِ نبی کے وہ پھول مدنی میا ں 
یہ جس پہ رکھ دیں قدم وہ مکان خوشبو دے  

                                                 انورؔرائے پوری اشرفی مرحوم


ترانۂ مدنی

ترانۂ مدنی

چہرہ ہے یوں سہانا میرے مدنی اشر فی کا
محبوب حق ہے نانا میرے مدنی اشر فی کا
اللہ پاک جس کو پاکیزہ کہہ رہا ہے 
وہ پاک ہے گھرانہ میرے مدنی اشر فی کا 
جو ہے مرید صادق ہر وقت اس کے دل میں 
رہتا ہے آنا جانا میرے مدنی اشر فی کا
یہ فاتح جہاں کے بیٹے ہیں پھر نہ کیوں ہو 
انداز فا تحانہ میرے مدنی اشر فی کا
ہے التجا ئے امت رہے تا ابد سلامت 
یارب یہ آستانہ میرے مدنی اشر فی کا
ہر ایک بگڑی قسمت رحمت میں ڈھل رہی ہے 
مدنی ہے کار خانہ میرے مدنی اشر فی کا
دستاریںاور خر قے یہ بیچتے نہیں ہیں
 یہ ہے چلن پرانا میرے مدنی اشر فی کا
 جو رو تے آئیں گھر سے وہ ہنستے جا ئیں در سے 
 تیور ہے دلربانہ میرے مدنی اشر فی کا
 اے کاش غوث و خواجہ سننے شکیل ؔ آئیں 
 جب میں پڑھو ترانہ میرے مدنی اشر فی کا

                                 حافظ و قاری شکیلؔ احمد صابری، سنبھلی، یوپی









منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

ہر شخص کی زباں پر آیا بیانِ مدنی

سایہ فگن سبھی پر ہے سائبانِ مدنی
طوفاں سے نکل کر پاجائے گی کنارا

کشتی پہ بندھ گیا ہے اب بادبانِ مدنی
ہونٹوںتلک نہیں ہے محدوداس کی وسعت

ہر اک مشام جاںکا ہے مدح خوانِ مدنی
اللہ نے جوبخشی  ذاتِ مبارکہ کو

کیاکرسکیں بیاںہم وہ عزوشانِ مدنی

از:ڈاکٹرغلام ربانی فداؔ


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

اہل سنت کے پیشوا تم ہو

بالیقیں نائب رضا ؔ تم ہو
فیض مولیٰ علی سے رب کے ولی

میرے مدنی میاںشہا تم ہو
شیخ اسلام ‘ شیخِ کامل بھی

میرے مختارؔ کی دعا تم ہو
ہو مفسر ،فقیہ، محدث بھی

رب ہی جانے کہ اور کیا تم ہو
موجِ طوفاں کا خوف کیوں ہو مجھے

میری کشتی کے ناخدا تم ہو
حشر کا خوف کیوں ہو یوسفؔ ہو

میری بخشش کا آسرا تم ہو

از: محمد یوسفؔ اشرفی نظامی ، ڈانڈیلی ، کرناٹک۔


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

جب کہا مل گئے لب حضرت شیخ الاسلام

کتنا پیارا ہے لقب حضرت شیخ الاسلام 
ضمہ کسرہ کو بھی پڑتی ہے ضرورت تیری

آپ ہیں ایسے نصب حضرت شیخ الاسلام 
بھیڑ میں رہ کے بھی تنہا ہی نظر آتے ہیں

علم وتقوئ کے سبب حضرت شیخ الاسلام
ہم سے ادنیٰ کوبھی دامن میں چھپائے رکھئے 

آپ ہیں عالی نسب حضرت شیخ الاسلام
دیدو قسمت ؔکو بھی کچھ فکرونظر کی سوغات

ماہر علم وادب حضرت شیخ الاسلام 

قسمتؔ سکندر پوری امبیڈ کر نگر یو ۔پی


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

تیرگی میں چاندنی ہیں حضرتِ مدنی میاں

روشنی ہی روشنی ہیں حضرت ِمدنی میاں
وار دشمن کا کبھی بھی کار گر ہوتا نہیں

وہ دیوار آہنی ہیں حضرتِ مدنی میاں
جھولیاں بھر جائینگی فیضان اشرف سے سبھی

وہ سخی ابن ِ سخی ہیں حضرتِ مدنی میاں
عارف حق اور امیر کاروانِ اشرفی

معرفت کی چاشنی ہیںحضرت مدنی میاں
ہاتھ پھیلائے کہاں صوفیؔبتائے تو کوئی 

جب ولی ابن ولی ہیں حضرت مدنی میاں

از: مولانا غلام مصطفی اشرفی ،ایم۔پی


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

طوفان  نے خود آگے بڑھ کر میری کشتی کو سنبھالا ہے
مدنی رکھوالا ہے جس کا اسے کون مٹانے والا ہے
ہر اہل نظر نے جانا ہے مدنی کو مجد دمانا ہے
سب ہند کے علماء میں رتبہ شیخ الاسلام کا اعلیٰ ہے
کیوں جلتے ہو میرے مدنی سے ہے وقت ابھی بھی سدھر جائو
جسے رب نے بلندی عطا کی ہو اسے کون گرانے والا ہے 
ہے ہاتھ میں دامن مدنی کا محشر میں کرم ہم پر ہوگا 
سب کو شفاعت آقا سے میرا مدنی دلانے والا ہے
جو آل نبی کو نہ مانے رتبہ ان کا نہ پہچانے 
ایسے گستاخ کو دوزخ میں اللہ جلانے والا ہے
ہم سب مدنی کے در والے ،مدنی آقا کا گھر والا
حسنین کے صدقے دے دے کر مدنی نے ہم کو پالا ہے
سرکار دو عالم کے پیارے اوصاف تیرے کردارمیں ہے
اپنے تو اپنے دشمن کے دامن کو تو نے بھر ڈالا ہے
فاضلؔتیرے نغمے گاتا ہے اپنی قسمت چمکا تا ہے 
تیرے نور کے صدقے میں مدنی آنگن میں مرے اجیالا ہے 

از:   فاضل اشرفی میسوری کرناٹک


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

میرے مدنی میاں سرکارہیں شیخ الاسلام 

عترتِ حیدرِ کرار ہیں شیخ الاسلام
بوبکر فاروق ،عثمان و علی کے واللہ 

دکھتے آپ کے کردار ہیں شیخ الاسلام
محدث اعظم ہندو شہ سمناں کے لخت جگر

غوث و خواجہ کے دلدار ہیں شیخ الاسلام 
اہل حق ،اہل نظر ،اہل محبت کی دلیل 

آپ کی ادائے گفتار ہیں شیخ الاسلام
مفتی ،شاعر بھی، مقرربھی، مصنف ، صوفی 

رہبر و رہنما غمخوار ہیں شیخ الاسلام    

نذرانئہ د ر شانِ حضرت شیخ الاسلام 

  مرحبا صد آفریں ہمارے شیخ الاسلام کی ذات پر
خلیفہ و مرید لٹاتے ہیںجان ان کی ذات پر
 بیکراں فضلِ الٰہی و کرمِ رسول ہے ان کی ذات پر
 دنیا ئے ولایت کی نگاہیںلگی ہیں ان کی ذات پر
 علم وعرفاں کا عالم یہ کہ مجددِ زماں ہوگے ٔ
  ان کے متوسلین کو بڑاناز ہے ان کی ذات پر
عالمِ برزخ و محشر کی کیوں ہو فکر ہمیں ریاضؔ
  پار لگ جائے گا سفینہ یقیںہے ان کی ذات پر

    از: ڈاکٹرقاضی ریاض احمد اشرفی ہبلی


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

میرا مدنی اشرف آگیا 

وہ مدنی آیا کہ سج گئیں یہ گلیاں بازار
 ہر اشرفی جشن مناتا ہے بس یہی کہتا جاتا ہے

اشرف کا دلارا آگیا 


میرا مدنی اشرف آگیا 
ہے قلب وجگر میں بس مدنی 

ہے نور ونظر میں بس مدنی 
بس مدنی ہر سو چھا گیا 

میرا مدنی اشرف آگیا 


مدنی آیا کہ سج گئیں یہ گلیاں بازار
ہے سایئہ غوث اعظم یہ 

خواجہ کی سیرت ہے ان میں 
مخدومی جلالت پا گیا 

میرا مدنی اشرف آگیا 


مدنی آیا کہ سج گئیں یہ گلیاں بازار
ہے مدنی اشرف کے دو نین

ایک حمزہ اشرف اور حسن
حسنین کا رم جم چھا گیا

میرا مدنی اشرف آگیا


مدنی آیا کہ سج گئیں یہ گلیاں بازار
پوری ہوگئی ہم سب کی یہ دعا

جب دور مجدد آپہونچا
جب شیخ الاسلام آگیا 

میرا مدنی اشرف آگیا


مدنی آیا کہ سج گئیں یہ گلیاں بازار
اشرف کا کرم ہے ان پر صدا

خاؔلد بھی ان کا ادنی گدا
کیسا یہ مقدر پا گیا 

میرا مدنی اشرف آگیا 


مدنی آیا کہ سج گئیں یہ گلیاں بازار

از: سید خالدؔبورسدی گجرات


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

مدنی میاں کی ذات تو ایسی دکھائی دے 

کوزے میں جیسے ایک سمندر دکھائی دے 
تقویٰ طہارت میں بے مثل آپ ہیں 

واللہ ثانی بوحنیفہ دکھائی دے
حق کو بجھانے آندھیاں چلتی رہیں صدا

یہ اشرفی چراغ تو روشن دکھائی دے
صورت میں قادری تو سیرت میں چشتیت

مرشد مرا سبھی میں انوکھا دکھائی دے 
قادرؔغلام مدنی کی کیا شان ہو بیاں

سب میں انوکھا سب میں نرالا دکھائی دے 

از:  عبد القادر اشرفی


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

صاحب ِرشد وہدایت حضرت مدنی میاں

ہادی ِراہ طریقت حضرت مدنی میاں
وارث علم نبی ہیں شیخ ہیں اسلام کے 

تاجدارعلم و حکمت حضرت مدنی میاں
کیوں نہ ہو سر پرمریدی لاتخف سایہ فگن

ہوگئی جب تم سے نسبت حضرت مدنی میاں

سلمان رضا اشرفی ابن مولانا شاہد رضا اشرفی، اتراکھنڈ


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

مدنی میاںکا نام پکارونگا بار بار

مرشد ہیں میرے  ان کو بلائونگا بار بار
علماء بہت ہیںآپ سا عالم نہیں کوئی 

یہ بات سچ ہے سب کوبتائونگا بار بار
الجھا کبھی وہابی مجھ سے اگر کہیں 

میں اشرفی مزاج دکھائونگا بار بار
مدنی میاں کا چاند سا چہرہ میں دیکھ کر

روشن میں اپنی آنکھوں کو کرلونگا بار بار

از: سہایر پٹلاد، گجرات


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

علم کا وہ مینار ہیں مدنی میاں 

قافلہ سالار ہیں مدنی میاں 
دین احمد کی حفاظت کے لیے

آہنی دیوار ہیں مدنی میاں 
بد عقیدوں کے لیے رب کی قسم

حیدری تلوار ہیں مدنی میاں
کربلا میں جو تھا پیغام حسین

اس کا ہی اظہار ہیں مدنی میاں
نجدیت کے واسطے انجمؔ کبھی
لشکر جرّار ہیں مدنی میاں

از: انجم کچھوچھوی


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

آمنہ بی تیرا دلدار بڑا پیارا ہے

یعنی وہ احمدِ مختار بڑا پیاراہے
دیکھ کر پیرِ طریقت کو مریدوں نے کہا

مرحبا  چہرۂ  انوار  بڑا  پیارا ہے
لاڈلا میرے محدث کا مفسر ٹھہرا

شیخ الاسلام کا معیار بڑا پیارا ہے
ہر کسی چھوٹے بڑے، مفلس و مجبور کے ساتھ

مدنی  سرکار  کا  ویوہار  بڑا  پیارا  ہے
جانبِ پیر بڑھاہاتھ پکڑلے دامن

فیض و برکات کا یہ مینار بڑا پیارا ہے

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

دریائے انوار سید مدنی ہے

جلوئوں کا انبار سید مدنی ہے 
کیسے لٹیرے دولت ایماں لوٹینگے 

جب کہ پہرے دار سید مدنی ہے
علم تو ان کے گھر و آنگن کی وادی ہے 

علم کے شہر یار سید مدنی ہے

از:جناب محمد سمیع ؔکچھوچھوی


قطعات در شان حضور شیخ الاسلام

قطعات در شان حضور شیخ الاسلام

قطعات در شان حضور شیخ الاسلام

ٌٌعلی کاخون ، لعاب رسول ، شیر بتول

اس امتزاج کو ہم سب حسین کہتے ہیں
اسی حسین کے اولاد ہیں شیخ الاسلام 

ہم ان کے کنبے کو کنبئہ حسین کہتے ہیں
یہ نسل رسول ہیں شیخ الاسلام 

اللہ کے مقبول ہیں شیخ الاسلام 
شیر خدا کی نسب کے اک فرد بے مثال

سب کے دل ِحضور ہیں شیخ الاسلام

از:عبد الحسیب کچھوچھوی

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

علم کے سلطان ہیں مدنی میاں 

فخر ہندوستان ہیں مدنی میاں
صرف یاقوتی شریعت ہی نہیں 

لئو لئو و مرجان ہیں مدنی میاں
نعت گوئی آپ کی مقبول ہے

آج کے حسّان ہیں مدنی میاں 
اشرفی تفسیر لکھی آپ نے 

بولتا قرآن ہیں مدنی میاں 
میں جو نعتیں پڑھ رہا ہوں حنیفؔ

آپ کا فیضان ہے مدنی میاں 

از:مولانامحمد حنیف رضا بیجاپور،کرناٹک 


منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

منقبت در شان حضور شیخ الاسلام

عرس سید ہے یہ اس کا کیا پوچھنا

رحمتوں کا برسنا ہر اک آن ہے
جتنے مہمان یہاں پرہیں آئے ہوے

آج تو سب پہ سید کا فیضان ہے
وہ جو ہوتا ہے سو سال میں کردیا

سب کے ذہنوں میں تفسیر کو بھر دیا 
ہم غلاموں کو حمزہ حسن دے دیا

اب تو سمجھو کہ مدنی کی کیا شان ہے
یہ حقیقت ہے کوئی کہانی نہیں

شیخ الاسلام کا کوئی ثانی نہیں 
مانتے ہیں جسے سارے عرب وعجم

سچ کہوں سنیت کی یہ پہچان ہے
سر غریبوں کے خم ہیںامیروں کے خم

سر ادیبوں کے خم ہیں خطیبوں کے خم 
ہاتھ باندھے کھڑے ہیں سبھی محترم

میرے مدنی میاں کی عجب شان ہے
ہے خدا کا مرے نور نور نبی

اور نبی کا وہی نور آل نبی  
ایسی نسبت سے یوسفؔکہے کیوں نہ اب

ہاں میرا پیر بھی نور رحمٰن ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر اب کسی کے در پہ جھکایا نہ جائے گا

سید تمہارے در سے اٹھایانہ جائے گا
ہوگی نہ کامیاب یہ باطل کی کوششیں

دامنِ مدنی ہم سے چھڑایانہ جائے گا
ہیرا ہے وہ مدنی اشرف سمناں کے کان کا

دنیا کے کسی کان میں یہ پایانہ جائے گا
اکبر جسے منا نہ سکا الف ثانی سے

وہ آج بھی مدنی سے منایا نہ جائے گا
یوسفؔ رہے گا دین نبی جب تلک عیاں

احسانِ اہل بیت بھلایانہ جائے گا

از: جناب محمدیوسفؔ اشرفی رائے پوری،

 چھتیس گڑھ۔برادر زادئہ انور رائپوری 


    منقبت در شانِ حضور شیخ الاسلام

منقبت در شانِ حضور شیخ الاسلام

    منقبت در شانِ حضور شیخ الاسلام

کیا سمجھ پائے زمانہ عظمتِ مدنی میاں 

چارسو یوں ہی نہیں ہے شہرتِ مدنی میاں
سیرت وکردار میں اسلاف کے عکسِ جمیل

منبع ِرشد و ہدایت ہے سیرتِ مدنی میاں
قلب کو تسکین و راحت ہوتی ہے بیشک اسے

ہو گیٔ جس کو میسر صحبتِ مدنی میاں
آلِ پاکِ مصطفی ہیں اس میں کوئی شک نہیں

حضرتِ مخدوم سے ہے نسبتِ مدنی میاں
اشرفی،عطاری،رضوی ہوں یا برکاتی چمن

ہو تے ہیں سرشار پی کے شربتِ مدنی میاں
چوںچرا کر رہے تھے جو آپ کی تحقیق سے

دیر سے پہچان پائے حکمتِ مدنی میاں
آپ کی تحقیق سے عالم منور ہو گیا

اہلِ حق ہی جانتے ہیں رفعتِ مدنی میاں
اتحادِ اہلِ سنت یا خدا قائم رہے

کرتے ہیں رب سے دعاء یہ حضرتِ مدنی میاں
فیضِ مدنی سے ملے حسنی ؔکو طیبہ کا سفر

راہِ طیبہ میں ہو حاصل قربتِ مدنی میاں

   از:مفتی نور محمد حسنیؔ قادری 

صاحب دار الافتاء جامعہ خدیجہ پورنپور ،پیلی بھیت، یوپی


عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular