Showing posts with label شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1). Show all posts
Showing posts with label شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1). Show all posts
حضور شیخ الاسلام اور انداز ِ خطابت

حضور شیخ الاسلام اور انداز ِ خطابت

حضور شیخ الاسلام اور انداز ِ خطابت

                                                          محمد نعیم برکاتی بن محمد سالار کپٹہال ،ہبلی،کرناٹک

خطیب ایسے کہ جس کی کوئی مثال نہیں 
خطا بت ایسی کہ اک اک بیان خوشبو دے
آستا نئہ عالیہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ علم و عر فان ،طریقت اور ادب و تہذیب کا ہمیشہ مرکز رہا ہے ۔کیونکہ اس خاندان کچھوچھہ مقدسہ کا تعلق سلطان التا ر کین حضرت سید مخدوم اشرف جہا نگیر سمنانی علیہ الرحمہ سے ہے ، یہ خاندان گویا ولایت کی کان ہے جس کے افق سے ہمیشہ نسلاً بعد نسلٍ ولایت کے آفتاب طلوع ہوتے رہے ۔
چنانچہ صاحب کتاب ــ ـــــــــــــــــــ ’’مراۃ الاسرار‘‘حضرت شیخ عبدالرحمن چشتی علیہ الرحمہ (مُتو فی ۱۰۹۴)تحریر فرماتے ہیں ۔
ایک دن آپ (حضرت شیخ مخدوم اشرف سمنا نی علیہ الرحمہ )خوش وقت تھے اور ایک مرید کے حق میں بخشش و نوازش فر ما رہے تھے جب آپ کی نظر میر سید عبدالرازق(نور العین) پر پڑی تو فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو مکمل تجھ پر نثار کیا اور تجھ سے کوئی چیز دریغ نہیں کی اور تمہاری اولاد کے حق میں حق تعا لیٰ سے یہ درخواست کی ہے کہ ہمیشہ مقبول و مسعود رہیں ،اور تمہاری اولاد میں سے ہر طبقہ میں ایک رجال غیب اور مجذوب ہوگا اور وہ ایسا شخص ہوگا جس کے اندر میری حالت اُترآئے گی (مراۃ الاسرار صفحہ ۷۸۔ ۱۱۷۷)   
   حضور شیخ الاسلام حضرت علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی الجیلانی قبلہ مدظلہ النورانی بھی اِنہیں (حضرت میر سید عبدالرازق نور العین علیہ الرحمہ) کی اولاد میں سے ہیں ۔اسی آستا نئہ عالیہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے تعلق سے نواسئہ حضور محدث اعظم ہند حضرت سید محمد قاسم اشرف قبلہ مد ظلہ العالی فرماتے ہیں:
  ــ آستا نئہ عالیہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ ہندوستان کے قدیم ترین روحانی دینی اور تعلیمی مراکز میںسے ایک ہے ۔صدیوں سے علماء نوازی ،غر با پر وری اور دین و سنیت کی اشاعت اس خانقاہ کی پہچان رہی ہے ۔ یہاں کے مشائخ نے جہاں عوام کی دستگیری اور روحانی تسکین کا سامان کیا ہے وہیں علم و فضل سے بھی ان کا گہرا رشتہ رہاہے ۔آج بھی یہ آستانہ علمی، فکری، روحانی ،دینی و دنیاوی وسائل سے مالا مال ہے،اس کے شہزادگان و مشائخ کی ایک بڑی تعداد ہے جن میں ہر شخص اپنی صلاحیت ولیاقت کے لحاظ سے خدمت دین اور فلاح انسانیت کے کام میں مصروف ہے ۔اس وقت آستانے کی بڑی علمی شخصیت حضرت شیخ الاسلام سید مدنی میاں صاحب قبلہ کی زیر سر پرستی مُلکی اور بین الاقوامی سطح پر ’’محدث اعظم مشن‘‘ نہایت بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے جس کے تحت ہندوستان اور دیگر ممالک کے مختلف شہروں میں طلبہ و طا لبات کے لئے بہت سے جونیر اور ہائر سکینڈ ری اسکول، کالجز ،ITکا لج، اشا عتی ادارے ،دینی مد ارس ،تنظیمی ،تحریکی اور اشاعتی ادارے چل رہے ہیں ۔حضرت شیخ اسلام نے پچھلے سال کئی سالوں سے علمی و تحقیقی کام کے لئے خود کو وقف کررکھا ہے( ماہنامہ جام نور دہلی ، شمار ہ مئی ۲۰۱۰ 42 صفحہ)
  جہاں تک حضرت کا انداز خطابت کا بیان ہے ایسا مقرر میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا،آج سے تقریباً تیس سال پہلے کی بات ہے میرے عزیز و بردار طریقت خلیفئہ حضور شیخ الاسلام مولانا قاضی سید شمس الدین صاحب قبلہ اکثر اپنی تقریر کے بعد مجھے پو چھتے کہ میری تقریرآپ کو کیسی لگی؟ تو میں جواب میں کہتا کہ حضور شیخ الاسلام کی تقریر کا انداز اپنا ئیے ،اس پر وہ یہی کہتے کہ’’ ارے یار ‘‘وہ تو اُنہیں پلایاگیا علم ہے جو اُنہیں ان کے والد مکرم حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ سے وراثت میں ملا ہے ۔
حضور شیخ الاسلام کی اسی شان خطا بت کے تحت نبیرہ ء رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری (علیہ الرحمہ)  و مد یر ما ہنامہ جام نور دہلی ،علامہ خوشتر نورانی (علیگ)رقمطرازہیں ۔
ـسلطان التارکین حضرت شیخ مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ اور سادات کچھوچھہ مقدسہ کا علمی ،دینی ،اور روحانی فیضان صدیوں سے سر زمین ہند اور اس کے اطراف و اکناف کی دنیا پر موسلا دھار بارش کی طرح برستا رہا ہے ۔آج اس خانقاہ کی شخصیات مختلف میدان عمل کے سر براہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔خصوصا ً حضور شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی الجیلانی قدس سرہ علمیت اور خطابت کے استعارے کے طور پر جانے جاتے ہیں(ما ہنامہ جام نور دہلی شمارہ مئی ۲۰۱۰ء صفحہ 40)
حضرت اگر کسی موضوع پر گفتگو کرتے تو اس قدر گہرائی میں چلے جاتے کہ سننے والا یہی سوچتا کہ یہ تو کسی کتاب میں تلاشنے سے ملنے والا علم نہیں بلکہ بعطائے ربی (روحانی) علم ہے جو اُنہیں اپنے والد سے وراثت میں ملا اس کی ایک دو مثال پیش خدمت ہے ملاحظہ فرمائیں 
ایک تقریر کے دوران یوں ارشاد فرمایا ۔
ٍحدیث مبارکہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا (اول ما خلق اللّٰہ القلم )یعنی اللہ جل شانہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ(انما خلق اللہ اللّوح )یعنی بے شک اللہ نے لوح کو پیدا فرمایا ،پھر تیسری جگہ ارشاد فرمایا (انما خلق اللہ العرش )یعنی بے شک اللہ نے عرش کوپہلے پیدا فرمایا ۔مگر ہمارے رسول ﷺ نے تو ارشاد فرمادیا کہ( اول ما خلق اللہ نوری )یعنی اللہ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا گویا چار چیزوں کی پیدا ئش سب سے اول ہوئی ۔
لیکن یہاں پر ایک سوال ذہن میں یہ ابھرتا ہے کہ سب سے پہلے کس چیز کی تخلیق ہوئی قلم پہلے پیدا ہو ایا لوح ؟ عرش پہلے پیدا ہوا یا نور محمد ﷺ ؟ الغرض صحیح کیا ہے ؟ میں سوچ میں پڑ گیا کہ معمہ کس طرح سمجھا جائے ؟پھر حضرت نے اس کا جواب یوں ارشاد فرمایا کہ چاروں صحیح ہیں ۔وہ کیسے؟ وہ اس طرح کہ ہمارے رسول ﷺ قلم بھی ہیں اور لوح بھی ،عرش بھی ہیں اور نور بھی گویا عرش بھی آپ ﷺہیں اور لوح بھی آپ ﷺ ہیں ۔قلم بھی آپ ﷺہیں اور نور بھی آپ ﷺ ہیں ۔
پس دوسرا سوال ذہن میں یہ اُبھرتا ہے کہ قلم جب آپ ﷺ ہی ہیں تو وہ کس طرح؟ اورلوح بھی آپ ﷺ ہی ہیں تو وہ کیسے ؟ عرش جب آپ ﷺ  ہیں تو وہ کس طرح ؟ اور نور بھی آپ ﷺہیںتو وہ کیسے؟ ان چار سوالوں کے جوابات اگر معلوم کرنا ہوتو حضرت کی تقریروں کو سننا پڑیگا ،کیونکہ حضرت جب بیان کرنا شروع کرتے یو ںایک ہی چیز پر گھنٹوں بیان کرتے ،صرف ایک ہی لفظ پر گھنٹوں تقریر کرتے میں نے خود حضرت کو  قرآن کریم کے صرف ایک ہی لفظ پر گھنٹوں تقریر کرتے دیکھا ہے ۔جیسے لفظ 1:جائوک 2:ویز کیھم 3: نور،وغیرہ ۔
مزید تفصیل کے لئے اور مذکورہ بالا چاروں سوالوں کے جوابات کو ،ملاحظہ کرنے کے لئے میری تحریر کردہ کتاب ’’معا رف اسم محمد ﷺکا ‘‘مطالعہ کریں ،جس کا رسم اجراء خود حضور شیخ الاسلام نے اپنے دست مبارک سے فرما یا ۔
اسی طرح ایک اور جگہ مورخہ۶ ۲ذی لقعدہ ،۱۴۲۱؁ھ ،بمطابق۲۰ فروری ،۲۰۰۱ء؁ کو بمقام آستانئہ عالیہ درگاہ ہاشم پیر علیہ الرحمہ بیجاپور میں عرس چہلم حضرت سید شاہ عبداللہ حُسینی علیہ الرحمہ (سجادہ نشین درگاہ حضرت سیدہاشم پیرعلیہ الرحمہ )کے موقع پر حضور شیخ الاسلام نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے ایک شعرکی تشریح اس قدر بہترین اور دلکش انداز میں بیان فرمائی کہ اسٹیج پر بیٹھے علماء تک عش عش کر گئے اور یہ لفاظی نہیں بلکہ حقیقت ہے چنا نچہ ملاحظہ ہو۔
ایک آسمان تووہ ہے جیسے آپ سمائے دنیا کہتے ہیں ،یہاں سے جونظر آرہا ہے یہ آسمان مگر دوستو صوفیا کی نظر کچھ اور ہے ان کی نظر میں ایک اورآسمان ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آسمان اور ہے وہ بھی سمائے دنیا ہے اور اس کو بھی خدانے ستاروں سے آراستہ کردیا ہے اور وہ ستارے بھی شیا طین پر رجم کر رہ ہے  ہیں،اوراس معنی کی طرف امام احمد رضا کا ایک شعر جواس مفہوم کی طرف ذہن کو لے جاتا ہے ۔
رضا یہ نعت نبی ﷺ نے بلند یاں بخشیں 
لقب  زمین فلک کا ہو ا  سما ئے  فلک! 
(حدائق بخش)
ذرا سا آپ دیکھیں اور سوچیں زمین فلک ،سمائے فلک ،لقب زمین فلک کا ہوا،سمائے فلک ،اور دیکھئے یہ زمین جواس آسمان کے نیچے ہے یہ تو زمین فلک (یعنی فلک کی زمین یا آسمان کی زمین ) جو اس آسما ن کے نیچے ہے ۔تو یہ اس آسمان کی زمین ہے نا؟ تویہ زمین اُسی آسمان کی آسمان بن جائے ،یہ زمین اس آسمان کی طرف اشارہ کرکے یہ کہے کہ وہ آسمان ،اور آسمان اس زمین کی طرف اشارہ کرکے یہ کہے کہ یہ آسمان ،اور کچھ ستاروں پر نظر زمین کی ہے ،آسمان نے کہا کہ یہ آسمان ۔
  تو زمین جو آسمان کی آسمان ہے یہ زمین خوداس آسمان کا فلک ٹھہری،اور یہ آسما ن اس زمین کا فلک ٹھہرا (تو پتہ یہ چلا )  وہ آسمان اس زمین کا فلک ،اور یہ زمین اُس آسمان کا فلک ،اور واقعی دوستو! یہ فلک (زمین)توایسا فلک ہے کہ وہ فلک (آسمان) بھی اس پرناز کرتا ہے ۔
آپ خودکہیں گے کہ عرش معلی تو بہت اونچی چیز ہے نا ؟۔۔۔۔۔عرش معلی! ۔۔۔۔۔۔کبھی عرش سے پوچھو کہ خود اُس کا عرش کیا ہے ؟۔۔۔۔۔حضرت شیخ با یزید بسطامی عالم روحانیت کی سیر کرتے ہوئے مراقبہ کی دنیا سے گزر رتے ہو ئے پہنچتے ہیں(عرش کی طرف )۔روحانی دنیا کی سیر کرتے ہوئے عرش کی طر ف پہنچے ۔عرش کے قریب جب پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیںعرش کوکہ سر گرداں ہے۔عرش کو سر گرداںدیکھتے ہیں ،جیسے کسی کی تلاش میں ہے ۔اور عرش سے پو چھتے ہیں کہ اے عرش! توتو خدا کی تجلی گاہ ہے ،تیرے لئے تو ــ’’ثم استوٰی علی العرش ‘‘(پارہ نمبر ۱۱سورئہ یونس آیت نمبر ۳)کے الفاظ ہیں ،توخدا کی خاص جلوہ گاہ ہے ،تجھے کس کی تلاش ہے ؟۔۔۔۔ کہا : با یزید !۔۔۔تم سے تو یہ کہا جاتا ہے کہ میں عرش پر ہوں (لیکن) مجھ سے یہ کہا جاتا ہے میں ’’دل ‘‘مومن کا ہوں ۔میں دل مومن ہوں ۔۔۔۔۔توتو میری تلاش میں ،میں تیری تلاش میں !اللّٰھم صل وسلم علی سید نا ومولانامحمد وعلی آل سیدناومولانا محمد کماتحب وتر ضٰی بان تصلی علیہ
    میں حضرت شیخ بایزید بسطامی ہی کا ایک اور واقعہ سنادوں! ۔۔۔۔۔۔ایک صاحب کو شوق ہوگیا، کہ خواب انہوں نے دیکھا ۔خواب کیا دیکھاتھا ؟۔۔۔۔۔ ـ’’میں عرش الٰہی کو سر پہ لے جارہا ہو ں‘‘۔بڑا عجیب خواب تھا سوچا چلو بسطام شہر میں حضرت شیخ بایزید بسطامی سے( اس خواب کی ) تعبیر پو چھیں ۔جب وہاں پہنچے تو پتہ چلاکہ حضرت کا وصال ہو گیا ہے ،کہا کہ چلواچھا ہوا ،کم سے کم کاندھا تو دے لیں گے اور نماز پڑھ لیں گے ۔یہ بات تو ہے تو خواب کی تعبیر نہیں مل سکی ۔اب اس کے بعد ہجوم اتنا ! کہ کاندھا دینا بھی مشکل ! مگر کیسے ؟۔۔۔۔۔کوشش کرتے کرتے جنازے کے نیچے گھس گئے ۔ اب اُسی کے اندر ذرا سا تھوڑی سی عافیت جو محسوس کی تو چلتے چلتے سوچتے ’حضور !میں آیا تھا ایک خواب کی تعبیرپوچھنے ‘کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ’’میں عرش الٰہی کو لے کے چل رہا ہو ں‘‘۔۔۔۔۔اندر سے آواز آئی :’’یہی تیرے خواب کی تعبیر ہے ‘‘۔۔۔۔۔۔قلب المؤمن عرش اللہ ۔۔۔۔۔مومن کا قلب ،عرش الٰہی ہے ۔۔۔۔۔مومن کا قلب ،عرش الٰہی ہے ۔تو دوستو! کچھ ہی دنوں پہلے تم نے زمین کے انداز عرش الٰہی کواتارا ہے (یعنی حضرت شاہ سید عبد اللہ حسینی علیہ الرحمہ ۔جن کا اس روزعرس چہلم منایا گیا)۔اللّٰھم صل وسلم علی سید نا ومولانامحمد وعلی آل سیدناومولانا محمد کماتحب وتر ضٰی بان تصلی علیہ
مومن کا دل جو ہے ،وہ عرش الٰہی ہے ۔اب عرش تو اپنے عرش کی تلاش میں ہے ۔۔۔۔۔ہم اس عرش کی تلاش میں ہیں وہ اپنے عرش کی تلاش میں ہے ۔۔۔۔۔۔زمین اُسے آسمان کہہ رہی ہے ۔آسمان ، اسے (زمین کو )آسمان کہہ رہا ہے ۔
رضا یہ نعت نبی ﷺ نے بلند یاں بخشیں 
لقب زمین فلک کا  ہوا  سما ئے  فلک!
تو یہ زمین جو ہے ، یہ بھی ستاروں کی جگہ ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ بھی ستاروں کے رہنے کی جگہ ہے ۔تو قرآن یہ کہنا چا ہتا ہے کہ ہم نے اس فرش زمین کو ستاروں سے مزین کردیا ہے اور ان ستاروں کو شیا طین کے لئے رجم بنادیا ہے (وجعلنھا رجوماً للشطین ۔پارہ نمبر ۲۹،سوئہ ملک آیت نمبر ۵)ان ستا روں کو شیا طین کے لئے ہم نے رجم بنا دیا ہے۔ یہ ستارے کون ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ان ستاروں کو نہیں سمجھتے تم ؟۔۔۔۔۔ اصحابی کا لنجوم(حدیث۔ مشکوۃ شریف باب مناقب الصحابہ،الفصل الثالث)  ۔۔۔۔۔یہ میرے سارے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ۔۔۔۔۔۔ العلما ء نجوم الارض ،یہ علماء جو ہیں ،یہ زمین کے ستارے ہیں ۔علماء اُمتی کا النجوم بھا یخر ف البحر والبر ۔۔۔۔۔۔۔۔علمائے امت جو ہیں ،تویہ ستاروں کی طرح ہیں۔جن سے ہدایت حا صل کی جا تی ہے بحروبر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان سے ہدایت حاصل کی جارہی ہے ۔تو یہ زمین کے ستارے !۔۔۔۔۔۔۔۔یہ زمین کے ستارے !۔۔۔۔ ذرا سا آپ خیا ل کریں ، فلااقسم بمواقع النجوم (پارہ نمبر ۲۷،سورئہ واقعہ آیت نمبر ۷۵)۔۔۔۔۔۔۔۔میں قسم یاد فرماتا ہوں ستاروں کے رہنے کی جگہ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں قسم یاد فرماتا ہوں ستاروں کے رہنے کی جگہ کی!۔۔۔۔یہ اولیائے کرام کے مزارات جو ہیں ،یہ ستاروں کے رہنے کی جگہ ہیں(تفسیر روح البیان )۔ فلااقسم بمواقع النجوم!۔۔۔۔۔۔۔۔میں ان کے رہنے کی جگہوں کی قسم یاد فرماتا ہوں ۔الخ 
وما علینا الاا لبلاغ المبین ۔
آپ ایک ہی وقت منقولات پر کامل دسترس رکھتے ہیں ۔علم منطق و فلسفہ اور ہر چیز کے اسرار و رموز بیان کرنے میں آپ کو کافی مہارت حاصل تھی صرف یہی نہیں آپ ایک بین الاقوامی سطح کے خطیب اورتفقہ فی الدین میں منفرد، مسند ر شد و ہدایت کے پیکر و زینت اور معتبر ادیب و شاعر بھی ہیں ،جس وقت آپ نے تبلیغ اسلام و خدمت مسلک حقہ کی غرض سے دنیا ئے خطابت میں قدم رکھا تو فن خطابت کو چار چاند لگاتے ہوئے جلد ہی اپنے کو صف اول کے خطیبوں میںشما ر کروا لیا ۔تبلیغی مساعی میں خطابت اور سفر کی مصرو فیات کے ساتھ ساتھ جب جب ضرورت پیش آئی اور موقع ملا آپ نوک قلم سے بھی دین متین اور مسلک حقہ کی خدمت کا مو قع ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور نہایت ہی انداز میں معاملات کو سلجھا کر مسا ئل کا شرعی حل ،علماء امت اور عوام اہلسنت کے سامنے پیش کیا ۔چنانچہ غزالی دوراں حضرت علامہ شاہ سید احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ نے آپ کی تصنیف لطیف "ویڈیو اور ٹی وی کا شرعی استعمال" کے سلسلے میں آپ کو رئیس المحققین کے خطاب سے نوازا۔
برطانیہ کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا ایک وسیع و عریض بر اعظم پر مشتمل ہے ،جہاں کام کرنے کیلئے علحٰدہ سے ایک عمر خضر درکار ہے ۔حضور شیخ الاسلام نے ۱۹۹۰ء؁ سے یہاں کا دورہ شروع کیا اور بڑے بڑے شہروںمیں جاکر اپنی خطابت کا لوہا منواتے ہوئے یہاں بھی سنیت کا گلشن آباد کرنے کیلئے تخم ریزی کردی اوراسی فیضان نظر سے جس سے آپ کو خدمت لوح وقلم کا شعور ملا اپنے خلفا ءکو سیراب کردیا جو انشا ءاللہ ایک دن یہاں ایک نئی دنیا بسا دینگے۔ گلوبل اسلامک مشن نیویارک یو۔ایس۔اے کے زیر اہتمام حضور شیخ الاسلام کی تحریر کردہ تفسیر قرآن سید التفا سیرا المعروف تفسیر اشرفی کی اشاعت مسا عئی جمیلہ کی ایک کڑی ہے ۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضور شیخ الاسلام نے نہ صرف جانشینی کا حق ادا کر دیا بلکہ جا نشین کہتے کسے ہیں اس کا عملی کردار پیش کر دکھایا ۔
شیخ الاسلام کا صرف دل ہی نہیں بلکہ ان کی لیا قت وخطابت بھی عشق مصطفی ﷺسے مستنیر ہے ۔ان کا دماغ عظمت رسالت کاا سیر ہے اور ان کی زبان بابرکت رسول کریم ﷺ کی ثنا خواں ہے ۔ ان کی ایک ہی خواہش ایک ہی تمنا اور ایک ہی تڑپ ہے کہ ملت کا ہر فرد ہر وقت عشق محمد ﷺ اور ہمہ وقت جمال محمدی ﷺکو اپناآئیڈیل بنالے ،کیونکہ حقیقت محمدی ﷺسے قریب ہونا تمام حقیقتوں سے قریب ہونا ہے اور یہی اصل کامیابی ہے ۔
حضور شیخ الاسلام نے اپنی منفرد شان خطابت کے حوالے سے جب دیار غیر، برطانیہ کی سر زمین پر قدم رکھا تواس کی برکت سے سر زمین برطانیہ روشن ستارے کی طرح اُفق پر جگمگانے لگی۔ بقول فیض احمد فیض۔
سنسان راہیں خلق سے آباد ہوگئی
ویراں میکدوں کا نصیب سنور گیا
ایسا اس لئے ہواکہ دیگر خطباءو مقررین کے برعکس اختلافی مسائل حضور شیخ الاسلام کا نقطئہ نظر خا صا متوازن لب ولہجہ ،متین و سنجیدہ اور انداز سلجھا ہوا تھا ۔اس اعتبار سے حضور شیخ الاسلام ایشیا ئی خطابت کا وہ فکر ہیں جس نے اپنی پر کشش و معجز نما خطابت سے حلقئہ اسلام سے وابستہ افراد کو پختہ اور ناوابستہ کو پیوستہ کرنے کا کام کیا ۔
حضرت کا انداز بیان صرف دینی ہی نہیں بلکہ سا ئنٹیفک طرز استدلال کی جھلک بھی آپ کی خطابت میں نمایا ں طور پر نظر آتی ہے ۔جس نے آپ کے ان خطبات کو بہت ہی بلند اور معیار اعلیٰ پر پہنچا دیا ہے ۔ان سائنٹیفک استدلالات اور سائنسی طرز تفہیم نے یہ ثابت کردیا کہ عقائد اہلسنت نقلی اور سماعی نہیں ہے کہ ہمارے  اسلا ف نے فرما دیا تو اسے آنکھ بند کرکے بلاچوں و چرا قبول کر لینا ہی چاہئے۔ بلکہ یہ عقا ئد و احکام صرف دینی واسلامی ہی نہیں بلکہ عقلی اور سائنسی بھی ہیں جو موجودہ ذہن و فکر کو جھنجوڑتے ہیں، اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو سائنس سے منافی ہو۔ایک پڑھا لکھا اور جانب دار دانشور سطح کا انسان اگر ان خطبات کو پڑھ لے گا یا سنے گا تواس کاایمان و عقائد اس قدر پختہ ہو جائے گا کہ بد مذہبیت کو وہ اپنے قریب بھی آنے نہ دیگا ۔
حضور شیخ الاسلام حالات کے اعتبار سے اپنے تقاریر کے موضوع کا انتخاب کرتے ہیں ۔ حضرت کے پاس خوبصورت الفاظ کاایک وسیع تر ذخیرہ ہے۔ جس سے دوران تقریر محسوس ہوتا ہے کہ واقعی ہر لفظ اس مقام کے لائق ہے ۔الفاظ کی مرصع کاری ان کے یہاں عام ہے ۔علمی وادبی زبان ان کی خطابت کا نمایا ں پہلو ہے اور ان کے دائرہ خطابت میں صوتی آہنگ کا بھی ایک منفرد مقام ہے ان کے لہجے کہیںپر زور ہیں، تو کہیں پر دھیمے، کہیں گرجدار، تو کہیں سبک رو ،غرض جیسی گفتگو ویسا صوتی آہنگ ،جیسا عنوان ویسا لہجہ ،جیسا موضوع ویسا انداز، علمی موضوعات کیلئے الگ تکلم،اصلاحی موضوعات کیلئے ایک الگ رنگ اور اصلاحی موضوعات کیلئے الگ آہنگ ۔دوران خطابت جہاں کہیں علمی گفتگو ہو اسے آسان زبان میں ڈھالنا جیسے ایک عام شخص بھی سمجھ سکے یہ انہی کا حصہ ہے ۔تشبیہات و استعارات کی زبان میں عمدہ مثا لیں دے کر سمجھانے میں انہیں کافی مہا رت ہے کہ عدم ابلاغ خطابت کا بہت بڑا نقص ہے ، کیونکہ جب سننے والے کو یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ سامنے والا کیا کہہ رہا ہے تو ظاہر بات ہے کہ اس کاوہ خطاب اس کے لئے بے سود ہوگا اس سلسلے میں حضرت کا ابلاغ عام موثر ترین ہے ،جو سامعین کے دلوں میں خود بخود راہ بناتا چلا جاتا ہے۔
آپ کی شخصیت عنصر تخلیقیت کا مظہرا تم ہے ۔ایک پرانی بات کو نئے انداز میں پیش کرنا اور اس کیلئے نئے نئے انداز وطریقے وضع کرنا وہ اچھی طرح جانتے ہیں تاکہ سامعین اس گفتگو کی تہہ تک پہنچ جائیں ،فالتو عنوانات کو موضوع سخن بنانا لفاظی بکنا ،ان کی شخصیت وذہن کے منا فی ہے.
ایک اچھے خطیب کی شناخت یہ ہے کہ جو بھی وہ پیش کرے ،مستنددلائل سے پیش کرے جس کی صحت پر کوئی کلام نہ ہو ،وہ غیر معیاری باتوں کو اپنے تقریر میں نہ لاتا ہو ،اس کے علاوہ تحقیقی و تخریجی مزاج اس مقرر کے اندر پایا جاتا ہو ،جو خود اُمہات الکتب تک دسترس رکھتا ہو یہ ساری باتیں حضرت میں موجود ہیں ۔مزاج تحقیق و تخریج آپ کے پاس دلائل و براہین کا انبار آپ کے پاس ہے ۔مستند وا قعات و علمی نکات کا بحر نا پیدکنار آپ کے پاس ہے۔
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مقرر جذ بات کی رومیں ایسی سطح پر آجاتا ہے جہاں وہ اپنی خطابت کی سطح سے گر جاتا ہے ،جب جذبات بے قابو ہوں تو اس وقت خطیب کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ حضور شیخ الاسلام کی خطابت میں مبتذل ،نا شائستہ اور غیر شستہ جملے ہر گز نہیں ملیں گے ۔رد ابطال ورد وہابیہ میں بھی وہ ذرہ برابر ابتذال و رکاکت کی گہرائی میں نہیں جا پڑتےبلکہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ بد مذہبوں کا رد بلیغ فرماتے ہیں ،گویا آپ کی خطابت ، حکمت و موعظت حسنہ کا گنجنئہ گرا نما یہ ہے۔
حضرت سیدتنا عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے۔ــ’’کلموا لناس علیٰ قدر عقولھم ‘‘ یعنی لوگوں سے ان کے عقل و فہم کے مطابق بات کرو۔حضور شیخ الاسلام کے سارے خطا بات کا مطالعہ کرکے آپ دیکھ لیں کہ جملہ خطبات’’کلموا لناس علیٰ قدر عقولھم ‘‘کی بہترین تفسیر ہے، احترام نفسیات آپ کی خطابت کا اہم جز ہے ۔
آج کا یہ دور سا ئنٹیفک دور ہے، اس زمانے میں ایسی کوئی بات بھی قبول کرنے میں تامل ہوتا ہے ،جو غیر علمی و غیر معقول او ر سا ئنٹیفک نظریہ کے خلاف ہو ۔حضور شیخ الاسلام کے سامعین اچھی طرح جا نتے ہیں کہ ان کی خطابت اس طرح کے سا ئنٹیفک طرز استدلال سے لبالب ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے خطابات اپنوں اور غیروں میں یکسا ں مقبول ہیں ۔
الغرض یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے حضور شیخ الاسلام ا پنی دیگر نمایاں ترین خوبیوں اور بہترین خصوصیات کے ساتھ ایک اہم ترین خطیب کی حیثیت سے بھی سامنے آئے ہیں۔
بڑے خوش نصیب ہیں وہ حضرات جن کی شخصیت میں اللہ جل شانہ نے خطابت کی خوبیاں جمع  کردی ہیں ،اور ان سے بھی زیادہ سعادت مند ہیںوہ حضرات جو علم و فکر کے کوہ ہمالیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم ترین خطیب بھی ہیں ۔حضور شیخ ا لاسلام کا تعلق دوسرے زمرے سے ہے ،کوئی ضروری نہیں کہ جو عالم دین ہو ،شیخ طریقت ہو ،استاد ہو، مصنف ہو،وہ ایک اچھا خطیب ہو ،مگر خانقاہ اشرفیہ کے بزرگوں کا یہ بے پناہ فیض و کرم ہے حضور شیخ الاسلام پر ،کہ ان کی شخصیت میں یہ ساری صفات موجود ہیں صحیح معنوں میں قیادت وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے اندر خوبیوں کے ساتھ ساتھ خطابت کا ملکہ بھی ہو ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ قیادت خطابت کی کنیز ہے ۔عوام الناس کو جتنی جلدی آسان اور بہترین طریقے سے خطابت کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور ان کےاذہان و افکار کو موڑ ا جاسکتا ہے ۔وہ صرف خطابت کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ہماری یہ خوش نصیبی ہے کہ ایسا خطیب ہمیں میسر آیا جوان ساری صفحات و خوبیوں کا جامع ہے ۔دعا ہے کہ اللہ جل شانہ حضر ت کا سایہ جملہ اہلسنت پر دراز سے درازتر فرمائے ، اوران کی قلمی ،فکری و عملی نقوش کو ہمارے لئے مشعل راہ بنائے اور ہماری اس سعی کو قبول فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم افضل الصلوۃ والتسلیم ۔
آخر میں میری ایک التماس یہ ہے کہ حضرت کی زیادہ تقاریر جو کیسٹ اور سی ڈیز ( CDS)کی شکل میں جہاں موجود ہوں انہیں اکٹھا کرکے اسے صفحہ قرطاس پہ لایا جائے ،اور ایک اچھی خاصی کتابی شکل دی جائے میں سمجھتا ہو ں یہ عموماً عوام الناس اور خصوصاً علماء کرام کیلئے ایک بہترین اور نایاب سرما یہ ہوگا اور آنے والی  نسلوں کیلئے بھی ایک یاد گار علمی ذ خیرہ ہوگا ۔ 
حضور شیخ الاسلام کا اندازِمثال بے مثال

حضور شیخ الاسلام کا اندازِمثال بے مثال


حضور شیخ الاسلام کا اندازِمثال بے مثال


 قاری محمد یوسف اشرفی نظامی، ڈانڈیلی۔
فاضل جامعہ نظامیہ حیدرآباد،رتلنگانہ۔


اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس طرح تاجدار اہل سنت حضور شیخ الاسلام رئیس المحققین حضرت علامہ مفتی سید محمد مدنی اشرفی جیلانی دامت برکاتہم العالیہ کچھوچھہ شریف کوبے شمار خوبیوں سے نوازا ہے وہیں پر رب ذوالجلال نے حضور شیخ الاسلام کو خطابت کا ملکہ کابھی عطا فرمایا ہے ’’چونکہ مثالوں کا بیان مقتضائے حکمت اور مضمون کو دل نشین کرنے والا ہوتاہے اور فُصَحائے عرب کا دستور ہے‘‘۔ حضور شیخ الاسلام اپنے خطابات میں عموما مثالوں کے ذریعہ سے بڑے سے بڑے مسئلہ کو حل فرماتے ہیں خصوصا عقائد کے متعلق سمجھنے میں جو دشواری پیش آتی ہے اس کو آپ اپنے فن سے بڑی آسانی سے سمجھا دیتے ہیں ۔ اورکیوںنہ ہو مثال کے ذریعہ سمجھانا خود رب کعبہ کا طریقہ ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے کلام مجید میں کئی ایک مقامات پر مثالوں کے ذریعہ سے سمجھایاہے جیسے اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتاہے  مَثَلُہُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا  فَلَمَّآ اَضَآء َتْ مَا حَوْلَہ ذَہَبَ اللہُ بِنُوْرِہِمْ وَتَرَکَہُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(سورہ بقرۃ17)
ترجمہ :ان کی کہاوت اسکی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ تعالیٰ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا ۔
یہ ان کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے کچھ ہدایت دی یا اس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ان کا مال حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے ۔ اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِایمان کیا اور دل میں کُفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کر دیا اور وہ بھی جو مؤمن ہونے کے بعد مرتد ہو گئے اور وہ بھی جنہیں فِطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی اور جب حق سننے ، ماننے ، کہنے ، راہِ حق دیکھنے سے محروم ہوئے تو کان ، زبان ، آنکھ سب بے کار ہیں ۔(خزائن العرفان)
اور ایک دوسری مثال دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَۃً فَمَا فَوْقَہَا (سورہ بقرۃ:26)
ترجمہ:بیشک اللہ تعالیٰ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر ۔
اور احادیث طیبہ میں بھی آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم نے مثالوں کے ذریعہ سے اپنے صحابہ کو اعمال کی طرف ترغیب دلائی ہے جیسے کہ سرکار دوعالم خود مثال دیتے ہو ئے فرماتے ہیں
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: اَرَاَیْتُمْ لَوْ اَنَّ نَہْرًا بِبَابِ اَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ مِنْہُ کُلَّ یَومٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، ہَلْ یَبْقَی مِنْ دَرَنِہِ شَیئٌ؟ قَالُوْا: لَا یَبْقَی مِنْ دَرَنِہِ شَیئٌ. قَالَ: فَذٰلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ. یَمْحُواﷲُ بِہِنَّ الْخَطَایَا.(۱۔مسلم فی السنن، کتاب : الساجد، باب : المشی إلی الصلاۃ تُمْحَی بہ الخطایا وتُرْفَعُ بِہِ الدرجات۔۲۔والترمذی فی السنن، کتاب : الامثال عن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، باب: مثل الصلوات الخمس)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بتاؤ!اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک دریا ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس (کے بدن)پر کچھ میل باقی رہے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: اس (کے بدن)پر بالکل میل باقی نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پانچ نمازوں کی مثال بھی ایسی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے سبب (بندے کے سارے)گناہ مٹا دیتا ہے۔
اب آئیے حضور شیخ الاسلام نے اپنے خطابات میں جو مثالوں کے ذریعہ سے مشکل مسئلوں کو حل فرمایا ہے اس کو ملاحظہ فرمائیں۔
بشریت مصطفی ﷺ سمجھاتے ہوئے حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم ا فرماتے ہیں 
نبی سب کو آپس میں بھائی بنانے آیا ہے ، خود بھائی بننے نہیں آیا ہے ۔
دیکھو پہلے باپ ہوتا ہے پھر بیٹا ، ایسا ہی تو ہوتا ہے ۔ ایسا تو نہیں کہ پہلے بیٹا ہو اور بعد میں باپ آئے ۔ ذرا سا خیال کرو تو معلوم ہوگا کہ باپ مقدم  ہوتا ہے اور اس دنیا کی ابتداء بھی باپ سے ہوتی ہے۔ اس دنیا کی ابتداء بھی نبی سے ہوتی ہے ، پہلے باپ ، پھر بیٹا یہی حال ہے پہلے نبی ، پھر امتی ۔ ایسا نہیں کہ امتی پہلے آجائے اور نبی بعد میں آئے اور سنو باپ اپنے بیٹے کی ظاہری زندگی کا سبب ہے اور نبی امتی کی دائمی زندگی کا سبب ہے ۔ باپ جو زندگی دیتا ہے وہ قبر تک ختم اور نبی سے جو زندگی ملتی ہے وہ جنت تک چلتی ہے ۔ نبی دائمی زندگی دینے والا ہے ۔ ایک بات اور بتلاؤں کہ کسی کو بہت سے بیٹے ہوتے ہیں ، کسی کو چار ، کسی کو پانچ ، چھ کسی کو ، کسی کو ایک درجن ہوتے ہیں ۔ جب ایک درجن ہوئے تو ایک درجن رنگ کے بھی ہوتے ہیں ، نقشہ بھی ایک درجن ہوتا ہے ، کوئی دبلا ہوگا کوئی موٹا ہوگا ، کوئی لمبا ہوگا ، کوئی کالا ہوگا کوئی گورا ہوگا، مگر ہوتا کیا ہے ؟ باپ تو سب کو حق برابر دیتا ہے ۔ کالے ، گورے ، موٹے ، دبلے ، سب کو آپس میں بھائی بنا دیتا ہے ۔ دیکھو باپ سب بیٹوں کو بھائی بنانے آیا ہے خود بھائی بننے نہیں آیا ہے ۔بھائی بننے نہیں آیا ہے ، بھائی بنانے آیا ہے ۔ نبی کا کا م یہی ہے کہ اپنی امتیوں کو چاہے حبشی ہو، چاہے رومی ہو، چاہے عربی ہو ، چاہے عجمی ہو، چاہے فارسی ہو، چاہے ہاشمی ہو ، چاہے مطلبی ہو، سب کو بھائی بنادے ۔ نبی بھائی بننے نہیں آیا ہے آپ خیال کرتے چلے جائیں یہ بیٹے جو ہیں اگر مختلف ڈگریاں حاصل کریں مثلاً یہ ڈاکٹر ہوگیا ، یہ انجنئیر ہوگیا ، یہ پروفیسر ہوگیا ، یہ بی اے ہوگیا ، یہ انتظامیہ کی طرف رخ کیا تو یس پی ہوگئے ، ڈی یس پی ہوگئے ، آئی جی ہوگئے ، ڈی آئی جی ہوگئے ، عدلیہ کی طرف گئے تو منصف ہوگئے ، مجسٹریٹ ہوگئے ، سشن جج ہوگئے ، اگر یہ مقننہ کی طرف گئے تو ایم ایل اے ہوگئے ، ایم پی ہوگئے ، منسٹر ہوگئے ، صدر ہوگئے ، موٹی موٹی ڈگریاں حاصل کر کے سب کچھ ہوسکتا ہے ، مگر اپنا باپ نہیں ہو سکتا جتنی بھی ترقی کرے بیٹے کا بیٹا ہی رہے گا ۔(خطبات حیدرآباد ، صفحہ:75.74)
نبی اور غیر نبی میںکیا فرق ہے اس کو واضح کرتے ہوئے حضور شیخ الاسلام فرماتے ہیں
کوئی غیر نبی ، نبی نہیں ہوسکتا
یہ ہی حال ہے ایمان والوں کا ۔ اگر ایمان والے ترقی کریں تو متقی ہوجائیں گے ، قطب ہوجائیں گے ، قطب الارشاد ہوجائیں گے ، خواجہ ہوجائیں گے ، غوث اعظم ہوجائیں گے ، ابدال بنیں گے اوتاد بنیں گے ، تبع تابعی بنیں گے ، صحابہ بنیں گے ، حیدر بنیں گے ، غنی بنیں گے ، صدیق بنیں گے ، سب کچھ بن جائیں گے ، مگر نبی نہیں ہوں گے ۔ مر جاؤ گے نبی نہیں بن سکتے ۔اس لئے میں کبھی کبھی پوچھ لیا کرتا ہوںنبی وغیر نبی کا فرق بتلاؤ تو کچھ لوگ محبت میں بول سکتے ہیں نبی بادشاہ غیر نبی اس کے سامنے رعایا ہے،کوئی بولا نبی کمانڈر اِن چیف ،غیر نبی اس کے سامنے سپاہی‘نبی عالم اور غیر نبی اس کے سامنے جاہل ‘میں کہتا ہوں کہ تم نے سوچنے میں غیر نبی کے آداب کا کچھ لحاظ کیا پورے طور پر حقیقت نبوت نہ سمجھ سکے ،کیوںکہ نبی وغیر نبی میںوہ فرق نہیں ہے جو جاہل اور عالم میں ہے،جو بادشاہ اور رعایا میں ہے،جو سپہ سالار اور سپاہی میں ،کیوںاس لئے کہ جاہل اگر محنت کرے تو عالم ہو سکتا ہے مگر نبی!  تڑپ تڑپ کر مر جائے تو بھی نہیں بن سکتا ،نبی و غیرنبی کا فرق وہی ہے جو جانور اور انسان میں ہے ،گدھا گدھا رہے گا ،آدمی نہیں بن سکتا ۔(خطبات حیدرآباد ،صفحہ:76.75)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم کو تکلیف پہنچانے والوں کے تعلق سے حضور شیخ الاسلام فرماتے ہیں
اذیت کی مذمت 
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم فرماتے ہیں مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہے ۔ یہ زبان اور ہاتھ اذیت پہونچانے میں بہت آگے رہتے ہیں، جب کسی سے کوئی اختلاف ہوتا ہے تو پہلے زبان چلتی ہے اس کے بعد ہاتھ چلتا ہے ویسے تو کام سب ہی کرتے ہیں پیر دوڑتا ہے، منشاء یہ ہے کہ تم کسی بھی طور سے اذیت نہ پہنچاؤ نہ ہاتھ سے نہ زبان سے ۔ کچھ اذیت پہنچانے کے لئے نقلیں کرتے ہیں ، مذاق اڑاتے ہیں فلاں ایسا ہے فلاں ویسا ہے ۔ 
مروان کے باپ حَکَم نے حضورصلی اللہ علیہ والہ سلم کی رفتار کی نقل بنائی تھی حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ سلم سے خوبصورت کس کی رفتار ہو سکتی ہے مگر خوبصورت چیز کوبھی کسی نے بطور استہزاء پیش کرے تو اس میں بھی توہین ہے تو سرکار رسالت صلی اللہ علیہ والہ سلم نے حَکم اور مروان کو مدینہ منورہ سے نکال دیا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ سلم نے خود ارشاد فرمایا کہ تم میری نقل کرو : صلوا کما رایتمونی اصلی ، نماز پڑھو جیسا مجھ کو نماز پڑھتا ہوا دیکھو ۔ نماز پڑھنے کے لئے رسول کی  نقل کرنی پڑے گی ۔رسول کے قیام کی نقل ، رکوع کی نقل اور سجدو ں کی نقل قعدہ کی نقل ہر چیز کی نقل کرنی پڑے گی ۔ معلوم ہوا کہ استہزاء والی نقل اور ہے ، غلامی والی نقل اور ہے ، محبت والی نقل اور ہے عداوت والی نقل اور ہے تحقیر شان والی نقل اور ہے ، اتباع و اطاعت والی نقل اور ہے ۔ تم کو حق نہیں ہے کہ تم کسی مسلمان کو اذیت پہچاؤ زبان سے نہ ہاتھ سے ۔
خداوند کریم کے دین کی نشانیوں کی تعظیم کے تعلق سے حضورشیخ الاسلام ارشاد فرماتے ہیں
اللہ کے دین کی نشانیوں کی تعظیم
وشکرولی ومن یعظم شعائر اللہ فانہ من تقوی القلوب ۔ جو اللہ کے دین کی نشانیوں کی تعظیم کرے یہی دل کا تقویٰ ہے تو ان کی تعظیم یہی خدا کی تعظیم ہے ،یہاں پر ایک بات میں اور کہہ کے آسانی سے نکل جاؤں یہ خدا کی دین کی نشانی کیا ہے تاکہ یہ پتہ چلے وہ کونسی چیز ہے جس کی تعظیم خدا کی تعظیم ہے تو قرآن کریم سے ایک ضابطہ آپ نکال سکتے ہیں یہ خدا کی دین کی نشانی کیسے ہم سمجھیں گے کیا چیز خداکے دین کی نشانی ہے ۔ تو ، ان الصفا و المروۃ من شعائر اللہ ، (سورہ بقرۃ )صفا اور مروہ یہ خدا کے دین کی نشانیوں میں سے ہے۔ سارے حاجی وہاں کی زیارت کر کے آیئے ہیں جائیں گے وہ دیکھیں گے یہ صفا اور مروہ کیا ہے پوچھ لیجئے کسی حاجی صاحب سے صفا اور مروہ۔ کسی پیغمبر کا نام نہیں ہے کسی نبی و رسول کا نام نہیں کسی غوث و قطب کا نام نہیں ہے صفا اور مروہ یہ دو پہاڑیاں پتھر اب جاکر آپ صفا ومروہ سے بھی پوچھ لیں زبان حال کے بولی اگر آپ سمجھتے ہیں اور آپ معلوم کریں پتہ لگائیں کے صفا مروہ نے کتنی نمازیں پڑھیں اور کتنے چلّے کئے ساری دنیا وہیں جاکے حج کرتی ہے آج اس نے ایک بھی حج نہیں کئے اور ساری دنیا وہیں جاکر سعی کرتی ہے اس نے خود اپنے اوپر سعی نہیں کیا وہیں جاکر اس کے سامنے لوگ کعبہ کا چکّر لگاتے ہیں اس نے کبھی چکر نہیں لگایا پھر یہ مقام وہ خدا کے دین کی نشانی کیسے ہوگیا ؟ یہ پتھر ہے پتھر مگر پوچھئے گا کسی ایسے حاجی سے واقعی جوجاکر آیا ہے۔ ایسا نہ کہ بمبئی سے واپس آگیا ہو پتہ نہیں وہ کیا بتا دے کہ صفا کسی غوث کا نام رکھ دے اور مروہ کسی قطب کا نام رکھدے ، مجھے کسی نے ایک واقعہ سنایا تھا کہ ایک دیہات میں کوئی سیٹھ صاحب تھے اللہ نے دے رکھا تھا بہت کچھ مگر حج کا خیال نہیں کرتے تھے گاؤں والوں نے بہت اسرار کیا سیٹھ صاحب حج کر لیجئے سوچا کے چلو بمبئی تک چلتے ہیں حاجیوں کے قافلے کے ساتھ اور پھر حاجیوں ہی کے قافلے کے ساتھ واپس آجائیں گے کسی غرض سے پانی بھر لیں گے بازار سے کھجور خرید لیں گے کہیں لمبا کرتا بنوالیں گے اور حاجی بن کے چلے آئیں گے تو سیٹھ کسی طرح جب وہ حاجی بن کے آئے حاجیوں کے قافلے کے ساتھ گاؤں والوں نے خوب پھول ہار کیا بہترین انداز سے خوش آمدید کیامگر جو پرانے حاجی صاحب تھے انہوں ایک بات پوچھا حاجی صاحب یہ بتائے کہ حجر اسود کو بوسہ دینے کا موقع ملا؟ تو کہا ہاں حضرت اسود جو ہیں بڑے اچھے آدمی ہیں اور وہ حاجی گھبرا گیا ارے آپ آدمی کہتے ہیں وہ تو پتھر ہے تو مسکرا کر کہنے لگے نہیں حاجی صاحب جب آپ گئے تھے تو پتھرتھے اب آدمی ہوگئے ہیں بہت پہلے آپ گئے تھے ۔ تو ایسے مت کہنا اُسے پوچھئے جو واقعی زیارت کر کے آگیا ہو سوالات کرنے کی ضرورت نہیں ہے واقعی اگر پتھر کا دیکھنا ہے تو مکہ چلو صفا اور مروہ پتھر، خانۂ کعبہ پتھر ، حجر اسود پتھر ، مقام ابراھیم پتھر ، عرفات کا میدان پتھر، منیٰ کی وادی پتھریلی وادی، غارحرا پتھر، جبل رحمت پتھر،پتھر کا مقدر دیکھنا ہو تو مکہ چلو اور یہ پتھر خدا کے دین کی نشانی یہ پتھر کیوںنہ یہ خدا کی نشانی ہے ان کی تعظیم خدا کی تعظیم بات صرف صفا و مروہ کے تعلق سے چلی ایک اللہ کے مقبول بندے کے قدموں سے نسبت ہوگئی اس کو تو آپ کیا دیکھے یہ سب نسبتوں نے انہیں یہ مقام دیدیا ۔ مقام ابراھیم کو تو وہ مقام ملا تو کسی پتھر کا مقدر ایسا نہیں دکھتا حاجیوں کے لئے حکم ہے کہ مقام ابراھیم کو اپنا مصلّٰی بنا لومقام ابراھیم وہی پتھر ہے نا جہاں پہ ابراھیم کھڑے تھے اور کعبہ کی تعمیر فرمارہے تھے تو پتھر وہ بلند ہوتا تھا نیچے ہوتا تھا ان کے ارادے کے مطابق تو اس پہ نشان لگ گئے حضرت ابراھیم کے قدم کے نشان اس کے اوپر تو کہا اس کو مصلّٰی بناؤ اس پورے حصے میں وہ نماز سب سے افضل ہے جو مقام ابراھیم کے پاس ادا کی جائے یعنی اس نماز سے بھی زیادہ افضل جو حطیم میں ادا کی گئی ہو ، اس نماز سے بھی زیادہ افضل جو خانۂ کعبہ کے اندر ادا کی جائے مقام ابراھیم یعنی کعبہ کے اندر کھڑے ہو کے نماز پڑھو تو وہ فضیلت نہ ملے اور مقام ابراھیم کے قریب پڑھو تو فضیلت ملے بات کیاہے بات یہ ہے کہ مقام ابراھیم جو پتھر ہے اس پر حضرت ابراھیم کا نشانِ قدم ہے تو اپنی عبادت کو تم مقبول معظم اور بہتر فضیلت والا بنانا چاہو تو سجدہ خدا کے لئے ہو قربت نبی کے نشانِ قدم پہ ہو کبھی اس پتھر سے پوچھنا اے پتھر تیری سختی بہت مشہور ہے یہ کیوں نشان لے لیا ،تو موم نہیں نشان لے لے تُو پتھر ہے پتھر، تو کتنا اچھا جواب وہ پتھر دیگا اگر میں  نبی کا نشان نہ لیتا میرا نشان کہاں سے بچتا، بتانے کا طریقہ یہی تھا کہ کتنے بھی انقلاب آجائیں مگرمیں بچا رہوں گا اس لئے کہ میں نے نشان قدم کو اپنا لیا ہے بچنے کا نشان مل گیا ہے اگر تم دنیا میں بچنا چاہوتو نبی کا نشان دل میں لگا لینا یہی ایک بچنے کی ترکیب نبی کے نشان کے قریب ہوجاؤ میں انتہا کی بات بتاؤں وہ قوم جو آثار منسوبات کی دشمن ہے وہ بھی اثر ابراھیمی کی حفاظت کر رہی ہے ذرا سا آپ خیال کریں کہ یہی تو نشان قدم تو جو چیز عظمت والے سے منسوب ہوجائے وہ باعظمت نسبت میں بڑا رنگ ہوتاہے ، نسبت میں بڑا زور ہوتا ہے
یہ چند مثالیں تھی جن کو حضورشیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے خطابات میں بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ حضورشیخ الاسلام کو عمر خضر عطا فرمائے اور ان کا سایہ اہل سنت پر تادیر قائم و دائم رہے آمین بجاہ سید المرسلین و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ و اصحابہ اجمعین ۔


حضور شیخ الاسلام  اخلاص کا پیکر

حضور شیخ الاسلام اخلاص کا پیکر

حضور شیخ الاسلام  اخلاص کا پیکر

مفتی نورمحمد حسنی قادری
پورنپور پیلی بھیت


رب قدیر کاارشاد پاک ہے  ’’کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر
(ترجمہ) تم بہتر ہوان سب امتیوں میں جو لوگ میں ظاہرہوئیں بھلائی کا حکم دیتے رہواور برائی سے منع کرتے رہو ۔
قرآن میں اللہ نے اپنے نیک صالحین بندوں کو اچھائی عام کرنے اور برائی کو روکنے کا حکم دیا۔مذکورہ آیت مقدسہ کی روشنی میںماہر علوم عقلیہ و نقلیہ ، متکلم و محدث جامع معقولا ت ومنقولات ، ادیب شہیر ،مفسر وفقیہ، ادیب ومحقق بحرِ علوم تحقیق  شیخ الاسلام والمسلمین آقائی مولائی سیدی حضور علامہ سیدمحمدمدنی میاں صاحب قبلہ کی وہ مبارک ذات ہے جو مذکورہ آیت کریمہ پر عمل پیرا نظر آتی ہے ۔حضورشیخ الاسلام دورِ طالب علمی سے لے کراب تک خدمت دین متین میں مصروف رہے ہیں ۔آپ کا ذو ق مطالعہ اس قدت ہے اس کا اندازہ ڈاکٹر طارق سعید صاحب کی تحریر سے بخوبی معلوم ہوتاہے زمانہ طالب علمی کاایک واقعہ بیان کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا شفیق جونپوری اردوشعریات میں اپنا ایک اہم مقام رکھتے ہیں ذی علم شخصیت کے مالک تھے ان کے بھائی نےایک عظیم الشان کتب خانہ سجا رکھا تھا ایک نایاب اس ذخیرے کی زینت تھی مولانا فضل امام جو مولانا فضل حق خیرآبادی کے والد بزرگوار تھے۔ علمِ منطق میں طاق تھے ان کی ایک شرط کے ساتھ کہ کتاب کامطالعہ کتب خانے میں کیا جائے مطالعہ کت شوقین مدنی میاں کے لئے یہ شرط خاص اہمیت نہیں رکھتی تھی انہوں نے لائبریری میں دوسے ڈھائی گھنٹہ روزانہ بیٹھنے کافیصلہ کیا۔اور طےکیا کہ کیوں نہ یہ کتاب نقل کر کے ہمیشہ کے لئے اپنے پاس محفوظ کر لی جائے طویل نششتوںکاتین دن تک سلسلہ چلا کہ مستقبل کے لئے اس عالم منطق وفلسفہ کو  برادرزادہ شفیق نے کتاب ہی حوالے کردی اور کہاکہ اگر مجھے آپکے اس درجہ اشتیاق کی خبر پہلے ہوتی توآپ کو اتنی زحمت نہ اٹھانی پڑتی۔علم دوست اس پندرہ سالہ طالب علم نے تیسرے دن عربی زبان میں لکھی ادق منطقی کتاب کویہ کہہ کر لوٹا دیاکہ جناب یہ کتاب بطورمخطوطہ میرے پاس محفوظ ہوگئی اس کتاب کی نقل کتب خانہ محدث اعظم میں شایدموجود ہو۔ لیکن اصل نسخہ سیدمحمد مدنی میاں اشرفی جیلانی کے سینے کی امانت ضرور ہے۔(محدث اعظم نمبر جامِ نور)
حضورشیخ الاسلام کی مبارک اورمقدس ذات پاک بچپن سے لے کراب تک مذہب اسلام کے فروغ اور نصرت وحمایت میں صرف ہوئی ۔ حضور شیخ الاسلام اگر چہ کافی ضعیف ہوگئے ہیں مگر اسلام کی ترویج و اشاعت کا جذبہ اب بھی جواں ہے آپ 79 سال کے ہوگئے ضعیف ونقاہت کے بعد بھی تفسیراشرفی قلمبند فرماکر امت مسلمہ کو ایک عظیم تحفہ عنایت فرمایا۔ اللہ حضور شیخ الاسلام کو سلامت رکھے اورآپ کا علمی دنیا میں فیضان جاری وساری رہے۔
حضور شیخ الاسلام کےمحاسن اخلاق
 حضور شیخ الاسلام جس طرح علم و تحقیق میں بے مثل و بے مثال ہیں اسی طرح اخلاق اورمہمان نوازی میں آپ کا مقام بہت اعلیٰ ہے کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنے وقت کے شیخ الاسلام ہوتے ہوئے اس قدر عاجزی کہ انا کاشبہ بھی نظر نہیں آتا۔ضعیف و نقاہت کے اس عالم میں بھی عوام و خواص سے خندہ پیشانی کے کرم فرماتے نظر آتے ہیں
راقم نے حضور شیخ الاسلام کوغالباً2002؁ میں دیکھا ہوگا جب میں اور میرے چھوٹے بھائی مفتی ساجد حسنی صاحب قادری ، مولانا عبدالعظیم عابدقالین آبادی جب حضرت کے گھر گئے تو ماشاء اللہ خندہ پیشانی کے ساتھ دست بوسی کا شرف بخشا۔ میں یہ محسوس کر رہاتھا کہ حضرت اپنی زبان پاک سے اللہ اللہ کی ضرب لگا رہے ہیں میں یہ روحانی منظر دیکھ کر بہت دم بخود رہ گیا ۔جماعت اہل سنت کے عظیم قلمکار جومیرے مخلص دوست اور ساتھی بھی ہیں ابھی حال ہی میں فون پر بات ہوئی توفرمانے لگے کہ حضورمدنی میاں صاحب قبلہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا اورایسی ملاقات کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے عظیم محقق وفقیہ اورمشہور ومعروف خانقاہ کے سجادہ ہیں صرف مصافحہ ہوجائے یہی کافی ہے مگر جب حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل ہواتو میں خلوص کی تمام خصوصیات کو آپ کی ذات پاک میں یکجا پایا۔ دست بوسی کے بعد حضرت نے خلافت واجازت سے نوازا اور خوب دعائیں دیں میں نے عرض کیا حضور کچھ وظائف کی بھی اجازت فرمادیں تو حضور نے فرمایا ’’مولانامیں نے تمہیں اسی میں سب کچھ دے دیا ۔سبحان اللہ‘‘
آپ کی ذات ایک ہمہ گیرشخصیت ہے آپ کے سامنے اصاغر تواصاغر اکابرینِ زمانہ بھی خمیدہ سر نظرآتے ہیں۔
حضورشیخ الاسلام کی علمی وتحقیقی گہرائی وگیرائی
جہاں تک فقیر کامحاسبہ ہے کہ ہر خانقاہ میں اختلاف رہتاہے کوئی نہ کوئی بات تحریر وتقریر اور قول وفعل سے سننے کو ملتی رہتی ہے مگرراقم نے کبھی بھی حضور شیخ الاسلام کی تقریر وتحریر ، گفتگو میں کسی خانقاہ یا کسی شیخ پر طنزکرتے نہ دیکھا نہ سنا اور نہ پڑھا۔ ایک مرتبہ حضور قائدِ ملت حضرت سید محمود اشرف اشرفی جیلانی ، جناب نعیم اشرفی صاحب (پورنپور پیلی بھوت)کے مکان پر تشریف لائے ہوئے تھے حضرت سے ملاقات کے لئے راقم اور برادرِ اصغر مفتی ساجد حسنی قادری حاضرہوئے دست بوسی کا شرف حاصل کیا پھر ناشتہ کے لئے حضرت نے اپنے قریب میں ہی جگہ عنایت فرمائی ،گفتگو کے دوران حضرت فرمانے لگے کہ حالات حاضرہ میں حضورسید محمدمدنی میاں نے فتویٰ ٹی وی پر دینی پروگرام کا دیا آج وہ لوگ بھی عمل کر رہے ہیں جو آپ کی مخالفت میں کپڑے پھاڑ رہے تھے حضرت نے فرمایا مولاناسیدمحمدمدنی میاں نے ٹی وی کو خود جائز قرار نہیں دیا بلکہ اپنی تحقیق و رائے ہندوپاک علماءو مفتیان کرام کے پاس بھیجااکثر حضرات نے اتفاق رائے کی مگر شیخ الاسلام کواس طرح بدنام غیر شرعی، غیر اخلاقی ، غیر انسانی فعل ہے۔


 شیخ الاسلام مخلص و بے لوث خادم دین

شیخ الاسلام مخلص و بے لوث خادم دین

 شیخ الاسلام مخلص و بے لوث خادم دین

مولانا نثاراحمدمصباحی
صدرالمدرسین مدنی میاں عربک کالج ہبلی

شیخ الاسلام والمسلمین رئیس المحققین حضرت علامہ سیدمحمدمدنی میاں صاحب قبلہ مدظلہ العالی ان مومنین کاملین میں سے ہیں جن کے قلوب مزکی ومصفیٰ ہوتے ہیں علائق وعرواض ان کے دلوں کے قریب بھی نہیں بھٹکتے ۔ اللہ عزوجل اور رسول اکرم ﷺ کی سچی محبت دل میں نسبی ہے اعمال وکردار میں اخلاص و للہیت کاعنصر پایاجاتاہے تزکیہ نفس و تصفیہ قلب اللہ تبارک وتعالیٰ وہ عطیہ ہے جو اس کی محبت میں سرشار رہنے والے کو عطا ہوتا کبھی صحبت عرفاء واولیا سے حاصل ہوتاہے۔
المختصر شیخ الاسلام تزکیہ وتصفیہ قلب میں عطیہ الٰہی بھی ہے اور اہل عرفان کی صحبت بابرکت کااثر بھی ہے، مرشدکامل شیخ المشائخ نبیرۂ اعلیٰ حضرت ،مجدد سلسلۂ اشرفیہ، حضوراشرفی میاں علیہ الرحمہ الشاہ سیدمختاراشرف اشرفی جیلانی قدس سرہ کی نظر بھی ہے اورآپ کے والد گرامی مخدوم الملت رئیس المتکلمین امام المناظرین سیدمحمد محدث اعظم ہند قدس سرہ کی عنایت توجہ بھی ہے۔
جب ہم شیخ الاسلام کی حیات کے درخشاں وتاباں گوشوں کودیکھیں اور پڑھیں توبے ساختہ کہہ اٹھیں گے کہ یہ مخلص فی الدین ہیں ۔ آپ سے جن کو ملاقات کا شرف حاصل ہوا یاصحبت میں بیٹھنا نصیب ہوا وہ چہرہ دیکھ کر ہی کہہ دیا کرتے ہیںکہ اللہ ورسول سے محبت رکھنے والے کا چہرہ ہے اور جن کو صحبت نہ ملی ہو آپ کی تصانیف پڑھ کر آپ کی تقاریر سن کر کہہ دے گا کہ ان تحریرات وتقاریر سے عشق رسول کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔
آپ کی عبادات وریاضات ، نششت و برخواست، جلوت و خلوت ، خطاب و تکلم ، رفتار وگفتار، تحریر و تقریر، تفسیر قرآن عظیم وتشریح احادیث نبی کریم ﷺ ،سوالات وجوابات، فقہ، فتاوی ، رشد و ہدایت کے اسفار، حمایتِ مذہبِ اہل سنت والجماعت سب حدیث رسول ﷺ
ثلاث لایغل علیھن قلب امرء میم
تین باتوں میں کسی سچے مسلمان شخص کو خیانت نہیں کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خلوص نیت کے ساتھ عمل کرنا ، حکام مسلمین کو نصیحت کرنا، اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑے رہنا ۔
حضورشیخ الاسلام کی تفسیر قرآن کریم سیدالتفاسیر المعروف بہ تفسیر اشرفی، الاربعین الاشرفی، محبتِ رسول ، تصدیق جبرئیل امین ، انماالاعمال بالنیات ، اسلام کا تصور الٰہ اور مودودی صاحب ، اسلام کا نظریہ عبادت اور مودودی صاحب، دین اور اقامت دین وغیرہ درجنوں کتب و رسائل کاعمیق مطالعہ کرتے جائیں جگہ جگہ اخلاص و للہیت کے گلِ تر نظرآئیں گے۔خدمت دین میں اخلاص وللہیت بے لوث دعوت و تبلیغ کا نتیجہ ہے کہآپ شہرت پسندی اور نام ونمود سے بہت دور نظر آتے ہیں ۔مثال کے طورپر ریاست گجرات کے ضلع بھروچ کے قصبہ واگھرا میں ایک تاریخی عظیم الشان انٹرنیشنل محدث اعظم کانفرنس ہوئی جس میں کثیرتعداد میں خانوادۂ اشرفیہ وغیرہ کے سادات عظام اور کئی صوبۂ ہند کے مشائخ کرام ہند وبیرون ہند کے مشاہیر خطبا و علماء شعرا وادبا ، مداحانِ خیرالانام ﷺکے ساتھ ساتھ مریدین ومعتقدین پورے ملک سے شیخ الاسلام کی  زیارت و ملاقات اور شرف دیدار سے مشرف ہونے کی غرض سے اتنی تعداد میں جمع ہوئے کہ ایسا مجمع شاید آج تک نہ دیکھا گیاہو۔۵ لاکھ سے زائد مجمع تھا۔
حضرت سید قاسم اشرف اشرفی جیلانی صاحب قبلہ اپنے خطبئہ استقبالیہ میںفرماتے ہیں:ذمہ داران کانفرنس اور معتقدین آپ کے پچاس سالہ جانشینی کاپوراپورا حق ادا کرنے اور بہترین دینی وملی ،علمی و رحانی ، فلاحی و سماجی خدمات انجام دینے کی وجہ سے آپ کو چاندی سے تولنے کا ارادہ ظاہر کیا اور اصرار کرنے لگے لیکن آپ نے قبول نہیں کیا ۔آپ نے فرمایا جس کام میں نام و نمود کی بو ہو وہ ہمیں پسند نہیں ،منتظمین نے عرض کیا ہم اس کی رقم پیش کرینگے آپ اسے قبول فرمائیے یا محدث اعظم مشن کو عطا کر دیں ،حضرت نے فرمایا جو چیز میں اپنے لیے پسند نہیں کرتا وہ اپنی تنظیم کے لیے بھی پسند نہیں کرتا۔
اس پیشکش کو ٹھکرانے کی وجہ کیا ہے؟ یہ کہ اس سے شہرت پسندی کی بو محسوس ہو رہی تھی ۔جسے آپ نے قطعاً پسند نہیں فرماتے۔
آپ کے انکار نے یہ بھی ظاہر کردیا سجادہ نشینی کے امور کی انجام دہی ہو یادینی خدمات ۔ نام ونمود ،شہرت کےلیے نہیں کیا بلکہ اللہ اور رسول کی خوشنودی کے لیے کیاہے۔
ویڈیو کے جوازاور ٹی وی کے استعمال پر مشروط جواز کافتویٰ کئی دہائیوں قبل دیے ۔اس فتوے کے بعد کئی لوگ ٹی وی پر ایسے ویسے کیسے کیسے بن گئے مگر واہ رے شان مدنی ۔کبھی بھی خودٹی وی کے پردے پر نظر نہیں آئے۔
ذمہ داران کیو ٹی وی نے حضورشیخ الاسلام سےرابطہ کئے اور بھرپورکوشش کئے کہ حضور شیخ الاسلام اپنا کچھ پروگرام یا انٹرویوQtvسے عوام المسلمین کے پیش فرمائیں لیکن آپ نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکارفرمایا۔
ایک او ر ٹی وی چیل بنام ’’ مدنی چینل‘‘ کاآغاز ہوا۔ ہر ممکن کوشش کی کہ ایک بار انٹرویو دیں مگر حضرت اس نام و نمود سے دور ہی رہے۔
ذاتِ شیخ الاسلام بچپن ہی سے نام ونمود کی پراوہ کیے نہ شہرت کی کوئی چاہ رکھی۔ صلہ و ستائش کی کبھی امید رکھی نہ کبھی طلب کی۔
جو ذاتِ ستودہ صفا ت بچپن سے شہرت سے دور رہی کیسے ممکن تھا ان پیشکش کو قبول کرتے۔ 
اسی اخلاص وللہیت کاثمرہ ہے کہ آپ دنیا سے بے رغبت نظر آتے ہیں  ،ڈاکٹر طارق سعید صاحب جو گھر کے آدمی ہیں اور شیخ الاسلام کو قریب سے جانتے ہیں لکھتے ہیں
’’لاکھوں چاہنے والوں کا یہ فقیر منش انسان جسے دنیا مدنی میاں کے نام سے جانتی ہے احد صمدپروردگار نے اسے دنیا سے بے نیاز ومستغنی کردیا ہے جہاں بسیرا ڈال دیا وہ جگہ اس کا گھر اور مکان ٹھہرا خدا اپنے نیک بندوں پر مہربان ہوتا ہے تو یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ
میرے خدا تو مجھے اتنا معتبر کردے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے
سچ تو یہ ہے کہ اس پوری زمیں پر مدنی میاں کے پاس کوئی مکان یا گھر (شرعی یا قانونی لحاظ سے) ہے ہی نہیں‘‘
واقعی دنیا سے بے رغبتی اور تقویٰ اللہ کے محبوب ہونے اور لوگوں میں محبوب ہونے کا ذریعہ ہے۔
جیسا کہ حدیث پاک میں ہے
عن سھل بن سعد الساعدی قال اتی النبی ﷺرجل فقال یارسول اللہ ﷺدلّنی علی عمل عملتہ احبنی اللہ واحبنی الناس فقال رسول اللہ ﷺازھد فی الدنیا یحبک اللہ وازھد فیما فی اید ی الناس یحبوک
سہل ابن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺکی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے ایسا عمل بتادیجئے کہ اگر میں اسے کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھے محبوب رکھے اور لوگ بھی محبوب رکھیں آپ نے فرمایا دنیا میں تقویٰ اختیارکرو اور لوگوں کے مال کے جانب رغبت نہ کرو تجھے لوگ محبو ب رکھیں گے۔
آپ کی بے نفسی و بے رغبتی عوام خواص سب پر عیاں ہے ۔آپ کی خطابت کا شہرہ ہندوپاک ہی میں نہیں بلکہ برطانیہ ، ہالینڈ، فرانس ، بلیجم ، شمالی امریکہ، کناڈا تک ہے اور شہنشاہِ خطابت آپ کاموزوں خطاب ہے لیکن کسی ملک کے کسی جلسہ میں مدعو کئے گئے ہوں نہ تو آپ نے کبھی کچھ طئے کیا نہ پہلے سے کچھ مطالبہ کیا نہ کوئی شکایت۔
کرناٹک کے مشہور شہر ہبلی میں جہاں آپ کا قائم کردہ عظیم الشان ادارہ مدنی میاں عربک کالج ہے اس ادارہ کے حالات کا جائزہ لینے یا سالانہ جلسۂ دستار بندی میں تشریف لائیں ہوں یا س ادارہ کے قیام سے پہلے آپ کا تبلیغی دورہ ہو جوکچھ آپ کی خدمت میں اہل عقیدت پیش کرتے ہیں آپ نہ اسے گنے نہ لفافہ کھولے بلکہ کئی بار تو ایسا ہوا کہ جہاں آپ کا قیام ہواہل خانہ ہی کے ذمہ کردیتے ہیں۔
اسی طرح تفسیر اشرفی کا معاوضہ نہ رائلٹی کی کوئی فرمائش۔ اور اپنی تصنیف خدمات کا بھی کبھی معاوضہ نہ لیے۔
آخر اس بے لوث خادم دین متین کی قربانیوں کا تذکرہ کیسےکریں جس نے سب کچھ اللہ کے لئے وقف کردیا ہو۔
شیخ الاسلام علامہ سید مدنی میاں کا زورِاستدلال

شیخ الاسلام علامہ سید مدنی میاں کا زورِاستدلال

شیخ الاسلام علامہ سید مدنی میاں کا زورِاستدلال

غلام مصطفی نعیمی(مدیر اعلیٰ سوادِاعظم دہلی)

جانشین محدث اعظم ہند،رئیس المحققین،شیخ الاسلام حضرت علامہ سید مدنی میاں دامت برکاتہم العالیہ کی ذاتِ گرامی اس شجر سایہ دار کی مانند ہے جہاں گردش زمانہ کی سختیوں کے ستائے ہوئے افراد راحت وسکون کا احساس پاتے ہیں، جدید مسائل کے ہوشربا طوفان کے آگے جب بڑے بڑے محققین حیران وپریشان ہوتے ہیں تو شیخ الاسلام کا نام نامی کسی تازہ ہواکے خوشنما جھونکے کی طرح ملت اسلامیہ کی پژمردگی کو دور کرتا ہے،فکروفن کی باریکیوں کی تہہ تک جاتے ہوئے جب اساطین علم تھکن محسوس کرتے ہیں وہاں حضرت شیخ الاسلام کا علم موجیں مارتا ہے۔یوں حضرت شیخ الاسلام کی ہمہ جہت خوبیوں کے حامل ہیں لیکن فقیر کی محدود نگاہ میں جو چیز شیخ الاسلام کو دیگر اساطین علم سے ممتاز کرتی ہے وہ آپ کا زور استدلال ہے۔
وادی تحقیق بڑی خاردار ہوتی ہے اس لیے اکثر تحقیقات ’’خشکی‘‘کا شکار ہو جاتی ہیں مگر شیخ الاسلام کی تحریروں میں یہ عنصر دور دور تک نظر نہیں آتا ۔آپ کی تحریر دل نشیں انداز میں عوام وخواص کی دل ودماغ میں اتر جاتی ہیں ۔ع
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے  
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
چونکہ وقت کی قلت دامن گیر ہے اس لیے حضرت شیخ الاسلام کی زیادہ تصنیفات سے استفادہ کا موقع نہیں مل سکا ۔حضرت کی صرف ایک کتاب’’مقالات شیخ الاسلام‘‘ اس وقت میرے پیش نظر ہے ،جو آپ کے مختلف اوقات میں تحریر کیے گیے مضامین کا مجموعہ ہے اسی کتاب کے اقتباسات کی روشنی میں حضرت شیخ الاسلام کا زور استدلال واضح کرنے کی  ادنیٰ سی کوشش ہے۔
اندازِاستدلال:
عام طور پرہر قلم کا ر اپنی تحقیقات کے اثبات میں استدلالاً ان چیزوں کا خیال رکھتا ہے۔تمثیل،روایات،منقولات،محاورات اورفہم مخاطب وغیرہ ۔لیکن ان سب کا بر محل استعمال یہ عطائے خداوندی ہوتا ہے۔اور حضرت شیخ الاسلام کی تحریروں میں ان ساری چیزوں کا استعمال بہت خوبصورت طریقے پر کیا گیا ہے ۔چند مثالیں حاضر ہیں:
جماعت اسلامی سے وابستہ ایک تعلیم یافتہ خاتون نے آپ کی بارگاہ میں تین سوال بھیجے اور ان کا جواب چاہاجن میں سے ایک اہم سوال یہ ہے:
’’اسلام کا مزاج چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والے اس کی اپنی حکومت قائم کریں۔کیوں کہ غیر اسلامی نظام میںمکمل اسلام پر عمل ہی نہیں ہو سکتا۔مثلاً۔۔۔نہ چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے اور نہ حدود جاری کی سکتی ہیں،نہ سود سے بچا جا سکتا ہے،نہ جہاد کیا جا سکتا ہے،وغیرہ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ ۱۳۰۰،سو سال سے اسلام اپنے رنگ و روپ میں زمین کے کسی حصے میں نہ موجود تھا اورنہ اب ہے،اس کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے یا یہ اسلام ہی کا نقص تو نہیں؟‘‘
گہری نگاہ سے اس سوال پر نظر ڈالیں اور محسوس کریں کہ اس خاتون نے کس قدر پریشان کن سوال پوچھا ہے۔سوال کے پس منظر میں یہ بات صاف عیاں ہے کہ سائلہ کی نگاہ میں یہ بات تو ہے کہ دنیا کے نقشے پر بے شک ۵۰ سے زائد مسلم حکومتیں ہیں مگر ان میں اسلامی نظام قائم نہیں ہے،اور سائلہ اس بات کوبھی جانتی ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد اسلام کا نظام منہاج نبوت پر قائم نہیں رہ سکا۔ 
اس ایک چھوٹے سے سوال میں اعتراضات کے انبار پوشیدہ ہیں ،اور ایک سوال کے ضمن میں کئی دیگر سوال منہ کھولے کھڑے ہیں۔حضرت شیخ الاسلام اپنی خداداد قوت کے مظاہرہ کرتے ہوئے بطور تمہید یوں تحریر فرماتے ہیں:
’’اسلام کسی ملکی،شہری،خانگی،بیرونی،مجموعی یا انفرادی نظام زندگی کا نام نہیں بلکہ یہ ان اٹل،بے بدل اور غیر متبدل قوانینِ الہیہ کا نام ہے جس کا امین ومحافظ صحیفہ ربانیہ یعنی قرآن کریم ہے اور رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کی سنت کریمہ ہے۔ہاں بلا شبہ یہ قوانین اپنے اندر ایسی جامعیت رکھتے ہیں کہ ملکی شہری،خانگی وبیرونی،مجموعی وانفرادی اور دنیوی واخروی زندگی کا واحد علاج ہیں‘‘۔(مقالات شیخ الاسلام ص۶۳)
اس تمہید ہی سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اسلام محض کسی نظام حکومت کا نہیں بلکہ قوانین الٰہیہ کا نام ہے جو جو ہمیشہ تبدل ازمنہ سے محفوظ رہیں گے۔ کوئی بھی صاحب خرد یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں کی پسپائی سے اسلام پسپا ہو گیاہے۔مسلمانوں کی تمام تر ہزیمتوںکے باوجود یہ امر مسلم ہے کہ اسلام آج بھی دنیا کے کونے کونے میں اپنی اصل شکل میں نہ صرف موجود ہے بلکہ سب سے زیادہ پر کشش اور سب سے زیادہ قبول کیا جانے والا مذہب ہے۔اس کا مطلب صاف ہے کہ مسلمانوں کی پسپائی سے اسلام پر کوئی فرق نہیں پڑا۔
شیخ الاسلام آگے فرماتے ہیں کہ ’’اگر نام نہاد مسلمان مختلف گروہوں اور ٹولیوں میں تقسیم ہو گئے ہیں تو یہ انہیں نام نہاد مسلمانوں کی تقسیم ہے،اسلام کی تقسیم نہیں ‘‘۔اپنی بات کو مدلل کرتے ہوئے آپ نے دو آیات اور ایک حدیث پیش کی ہے ہم صرف حدیث پاک کو نقل کرتے ہیں:
حضرت امیر معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔آپ نے فرمایا ہمیشہ ایک گروہ رہے گاجو امر دین وشریعت کو برپا کرے گا،ایسے کو نہ تو اپنوں کا عدم تعاون نقصان پہنچا سکے گا اور نہ مخالفین کی مخالفت۔۔۔یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اور وہ گروہ اسی حال پر قائم رہے۔(متفق علیہ)
اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام فرماتے ہیں’’ارشاد نبوی نے واضح فرما دیا کہ ہر دور میں ایک ایسی مقدس جماعت کا وجود رہے گا جو صحیح معنوں میں اسی اسلام کی حامل ہوگی اور اسی اسلام کی ترویج واشاعت میں مصروف ومنہمک رہے گی جس کی تعلیم قرآن وحدیث نے دی ہے ۔آج اسلامی حکومت دنیا کے کسی حصے میں نہیں ہے ،لیکن اسلام دنیا کے ہر گوشے میں موجود ہے اور یہ حقیقت اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ اسلامی حکومت کچھ اور ہے ،دین اسلام کچھ اور۔۔
آگے آپ نے سائلہ کے مزاج کے مطابق ایک سوال قائم کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ساری دنیا میں اسلام عام ہو جائے کفر بالکل نہ رہے ،برائی کا نام ونشان بھی رہے توکیا اس وقت یہ اعتراض کیا جائے گا کہ اب جہادکرنا،چوری پر ہاتھ کاٹنا،تہمت پر کوڑے لگانا جیسے قوانین پر عمل کیسے کیا جائے؟
دیکھا کس آسانی کے ساتھ شیخ الاسلام نے سائلہ کے سارے شکوک وشبہات کو تار عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ثابت کیا یہ آپ کے زور استدلال کی خاصیت ہے۔
ختم نبوت پر زور استدلال:
ختم نبوت ضروریات دین میں سے ہے،اس کا ماننا ہمارے عقائد کا جزو لاینفک ہے اور اس کا انکار صریح گمراہی وکفر ہے۔لیکن اس عقیدہ پر خیر قرن ہی سے شب خون مارنے کا آغاز ہو گیا ،جب مسیلمہ کذاب نامی ملعون نے ختم نبوت پر ڈاکہ دالنے کی کوشش کی مگر یار غار،افضل البشر بعد الانبیا حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔مگر روپ بدل بدل کر کسی نہ کسی زمانے میں یہ فتنہ جنم لیتا رہا اور ہر دور میں نبی ہاشمی کے وفادار اس فتنے کی سرکوبی فرماتے رہے۔۱۴ ویں صدی کے پر آشوب دور میں ایک بار اس فتنے نے سر اٹھایا اور اس بار اس فتنے نے غلام احمد قادیانی کا روپ اختیار کیا لیکن امام احمد رضا اور دیگر علمائے اہل سنت نے اس فتنے کو سر ابھارنے نہ دیا مگر بعد میں کچھ لوگوں کو دور کی کوڑی سوجھی اور انہوں نے راستہ بدل کر ختم نبوت پر نقب زنی اوراہل اسلام کو فریب دینے کی ناکام کوشش کی مگر! ع
ہم کوتو ہر حجاب میں آتے ہو تم نظر 
دھوکہ وہ کھائے جو تمہیں پہچانتا نہ ہو
ایسی ہی ایک کوشش دیوبندی جماعت کے آرگن ’’الجمیعۃ‘‘کے سابق ایڈیٹر عثمان فارقلیط نے شبستان اردو ڈائجسٹ (نومبر۱۹۷۴ء)میں شائع ایک مضمون میں کی ۔جس میں ختم نبوت کے معنیٰ کو بدلنے اور نئی نبوت کی راہ نکالنے کی ناروا سعی کی گئی۔اس مضمون کا علمی رد لکھتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے تحقیق کے دریا بہا دیے ہیں اور اپنے زورِ استدلال سے مخالفین کا ساکت وعاجز کر دیا ۔آپ لکھتے ہیں:
یقینی باتوں کو مشکوک بنانے کا شمار اب فنون لطیفہ میں ہو چکا ہے اور اسے ریسرچ کا خوبصورت نام دیا جاتا ہے۔۔۔ارشاد قرآنی میں مذکورہ لفظ ’خاتم النبین‘کو بے جا بحث کی سولی پر لٹکا یا جا رہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حضور ’خاتم النبین‘ تو ہیں مگر!خاتم کا وہ معنیٰ نہیں ہے جو آج  تک سمجھا گیا ہے۔بلکہ اس کا صحیح معنیٰ وہ ہے جس کی بنیاد پر اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی کوئی نبی آجائے،جب بھی رسول کریم علیہ التحیۃ والتسلیم ہی’خاتم‘رہتے ہیں‘‘۔(ایضاً ،ص۸۳)
اس کے بعد منکرین ختم نبوت کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آپ کا سیال قلم چلتا اور گیا علم کے موتی بکھرتے چلے ۔’خاتم النبین‘کے معنیٰ کو تفاسیر واحادیث کی روشنی میں ثابت کرنے کے لیے آپ نے درج ذیل کتب کے اقتباس بطورحوالہ بیان فرمائے۔
۱،تفسیر قرطبی۔۲،تفسیر طبری۔۳،تفسیر جلالین۔۴،تفسیر نیشا پوری۔۵،تفسیر کبیر۔۶،تفسیر ابو سعود۔۷،تفسیر مدارک۔۸،تفسیر روح المعانی۔۹،تفسیر ابن کثیر۔۱۰،تفسیر روح البیان۔۱۱،تفسیر معالم التنزیل۔۱۲،تفسیر خازن۔۱۳،تفسیر احمدی(ملاجیون)۔۱۴،تفسیر غریب القرآن۔
لفظ خاتم کی تین قرأتیں:
ان ۱۴،مستند ومعتبر تفاسیر کے حوالے درج کرنے کے بعد شیخ الاسلام تحریر فرماتے ہیں :
’خاتم النبین‘کو قاریوں نے تین طرح سے پڑھا ہے۔
۱۔خاتم النبین(اسم آلہ)بر وَزَن’عالم‘یعنی جس سے کسی کو جانا جائے۔اسی طرح ’خاتم‘جس سے کسی چیزکو چھپایا جائے۔
۲۔’خاتِم النبین‘(اسم فاعل)یعنی تمام نبیوں کا آخر۔
۳۔’ختم النبین‘(فعل ماضی)یعنی حضرت پر تمام نبیوں کا خاتمہ ہوا۔مذکورہ بالا قرأتوں میں سے کسی بھی قرأت کو اختیار کیا جائے پیغمبر اسلام پرسلسلہ نبوت کا خاتمہ لازم آتا ہے۔حتیٰ کہ خاتم(مہر)قرار دینے کی صورت میںبھی ۔اس لیے کہ مہر کسی چیز کو ختم کر دینے کے بعد ہی کی جاتی ہے کہ اب اس ملفوف اورمحدودشے میںکوئی اپنی طرف سے اضافہ نہ کر سکے‘‘۔(ایضاً،ص۹۶)
کتب تفاسیر اور طرق قرأت سے اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے بعدآپ نے اس موضوع پر ۱۲،احادیث سے استدلال فرماکر منکرین ختم نبوت کے تار وپود بکھیر دیے۔
حاشیہ نشیں بھی گرفت میں:
 مولانا قاسم نانوتوی کی رسوائے زمانہ کتاب’تحذیر الناس‘پر ہنگامہ مچنے کے بعد اس پر حاشیہ لگایا گیا۔یہان ہم اصل کتاب کی ایک عبارت اور اس پر لگایاگیا حاشیہ پیش کرتے ہیں۔
’اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا‘(ص ۳۵)
تحذیر الناس کی اس عبارت پر یہ حاشیہ لگایا گیا
’بالفرض آپ کے بعد بھی کوئی نبی فرض کیا جایے تو بھی خاتمیت محمدیہ میں فرق نہ آئے گا‘(ص۱۳،بر حاشیہ)
اس پر گرفت کرتے ہوئے شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ
 ’آخرکون سی لغت ہے جس میں’پیداہو‘کو ترجمہ’فرض کیا جائے‘تحریر ہے۔پیدا ہونا اور ہے ،فرض کیا جانااور۔دونوں کے اثرات ونتائج بالکل الگ الگ ہیں۔۔۔مثلاً۔۔اگر بالفرض حاشیہ نگار صاحب کے گھر میں کوئی بچہ پیدا ہو،تو وہ صاحب اولاد کہلائیں گے۔لیکن اگر بالفرض ان کے گھر میں کوئی بچہ فرض کر لیا جائے تو وہ لاولد کے لاولد ہی رہیں گے‘‘۔
غرض کہ حضرت شیخ الاسلام کی کسی بھی تحریر کو دیکھ لیں اس میںزور تحقیق کے ساتھ اعلیٰ درجے کا استدلال نظر آئے گا جس کے آگے مخالف کی تمام راہیں مسدود ہو جاتی ہیں اور قاری نفس مسئلہ کو بخوبی سمجھ لیتا ہے ۔موجودین اکابر علما میں حضرت شیخ الاسلام اپنے اسی وصف خاص کی بنیاد پر سب سے منفرد نظر آتے ہیں ۔
تبصرہ بر مقالہ  ’’نظریۂ ختم نبوت اور تحذیرالناس  از حضور شیخ الاسلام سید محمد مدنی میاں ‘‘

تبصرہ بر مقالہ ’’نظریۂ ختم نبوت اور تحذیرالناس از حضور شیخ الاسلام سید محمد مدنی میاں ‘‘

تبصرہ بر مقالہ 
’’نظریۂ ختم نبوت اور تحذیرالناس
 از حضور شیخ الاسلام سید محمد مدنی میاں ‘‘

محمد ثاقب رضا قادری 
مرکز الاولیاء لاہور-پاکستان

برادرم غلام ربانی فدا کے پیہم اصرار پر نہایت قلیل مدت میں یہ چند سطور تحریر کیں ، کماحقہٗ نظرثانی بھی نہیں کر سکا۔ اگر مزید وقت میسر ہوتا تو یقینا اس مضمون کے مندرجات میں مزید بہتری لائی جا سکتی تھی۔ اللہ کریم شرف قبول بخشے۔ و ما توفیقی الاباللہ
برصغیر پاک و ہند میں فتنۂ انکار ختم نبوت کی تخم ریزی انگریزوں کے ایماء پر چند زرخرید مولویوں نے کی۔ اولیاء کرام کی فیض یافتہ سرزمین پریہ کام اتنا آسان تو نہ تھا کہ ایک شخص اُٹھ کر بلا جھجھک دعویٔ نبوت کرتا اور لوگ اس کے پیروکار ہو جاتے۔ لہذا ان بکاؤ مولویوں نے دعوی نبوت کے لیے سازگار ماحول بنانے کے لیے یہ پالیسی اختیار کی کہ پہلے پہل توحید کی آڑ لے کر لوگوں کے ذہنوں میں ان برگزیدہ ہستیوں (یعنی انبیاء و اولیاء) کے مقام و مرتبہ کو کم کیا جائے چنانچہ مولوی  اسمعیل دہلوی نے ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور ’’صراط مستقیم‘‘ جیسی بدنام زمانہ کتب تحریر کیں ۔ان دونوں کتب میں کہیں نبی کی تعظیم ’’بڑے بھائی کی سی ‘‘ قرار دی گئی تو کہیں ’’گاؤں کے چودھری‘‘ جتنی، کہیں نماز میں نبی کے خیال کو بُرا قرار دیا گیا تو کہیں انبیاء و اولیاکو ’’ذرۂ ناچیز‘‘ سے بھی کم تر لکھا گیا، کہیں اختیارات پر بحث کرتے ہوئے انبیاء و اولیاء کے بارے یوں لکھا گیا کہ وہ کسی چیز کے مالک و مختار نہیں تو کہیں شفاعت کا انکار کیا گیا۔ اور پھر اسی کتاب میں نظریۂ ختم نبوت پر ان الفاظ میں ضرب لگائی گئی :
’’اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک آن میں ایک حکم کُن سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن و فرشتہ جبرئیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برابر پیدا کر ڈالے۔‘‘(تقویۃ الایمان مصنفہ شاہ اسمعیل دہلوی ، ص:۳۵ مطبوعہ مطبع مرکنٹائل پرنٹنگ ، دہلی)
اسمعیل دہلوی نے اس عبارت کے ذریعہ حضور ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی نظیر کو ممکن قرار دے کر نظریۂ ختم نبوت پر براہ راست حملہ کیا چنانچہ علماء اہل سنت نے اس کتاب کا بھر پور رد کیا اور شاہ اسمعیل دہلوی سے کئی مناظرے بھی کیے اور بالآخر تکفیربھی کی گئی۔ ان علماء میں علامہ فضل حق خیرآبادی، شاہ عبدالمجید قادری بدایونی ، شاہ فضل رسول بدایونی اور شاہ مخصوص اللہ دہلوی کے نام سرفہرست ہیں۔ بالخصوص علامہ فضل حق خیرآبادی نے اسمعیل دہلوی کا رد کرتے ہوئے ’’تحقیق الفتوی فی ابطال الطغویٰ‘‘ تحریر کی اور پھر امکان نظیر کے رد میں ایک مستقل کتاب ’’امتناع النظیر تحریر فرمائی۔
بعض محققین کے نزدیک تقویۃ الایمان ۱۲۳۵ھ/۱۸۲۰ء میں لکھی گئی۔ ہم نے اپنے اس مقالہ میں فتنۂ انکار نبوت کی تاریخ کو چار ادوار میں تقسیم کیا ہے جن میں سے پہلا دور تقویۃ الایمان کی تصنیف ہے جس میں نظریۂ امکان نظیر کو پیش کیا گیا۔
دوسرا دور:مسئلہ امکان نظیر اور اثر ابن عباس
فتنۂ انکار ختم نبوت کے دوسرے دور میں امکان نظیر کے مسئلہ کو اثر ابن عباس کی بنیاد پر پیش کیا گیا چنانچہ اس حوالہ سے ہمارے مرحوم دوست شہید بغداد شیخ اسید الحق قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
’’مسئلہ امکان نظیر کے سلسلہ میں سب سے پہلے اثر ابن عباس کو میاں نذیر حسین دہلوی نے ۱۲۸۰ھ /۱۲۸۴ھ کے درمیانی عرصہ میں پیش کیا۔ (دیکھیے افادات احمدیہ از حافظ بخاری مولانا سید عبدالصمد سہسوانی ، ص:۴ مطبع الٰہی آگرہ ۱۲۸۶ھ)
اس کے بعد میاں نذیر حسین دہلوی کے شاگرد میاں امیر حسن سہسوانی نے ’’افادات ترابیہ‘‘ کے نام سے سولہ صفحات کا ایک رسالہ لکھا جو ان کے ایک شاگرد مولانا  تراب علی خانپوری کے نام سے ۱۲۸۶ھ/۱۸۶۹ء میں میرٹھ سے شائع ہوا۔ اس رسالہ میں میاں امیر حسن سہسوانی نے اثر ابن عباس کو بنیاد بناتے ہوئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ امثال (ہم شکل و ہم مثل) دیگر طبقات زمین میں بالفعل موجود و متحقق ہونے کا دعوی کیا۔ اس کے بعد اثر ابن عباس کے تعلق سے نفیاً و اثباتاً سند و متن، صحت و ضعف اور نقل و عقل کے اعتبار سے بحث و تمحیص کا دروازہ کھلا، درجنوں رسائل تحریر کیے گئے، مناظرے ہوئے ، جواب اور جواب الجواب لکھے گئے۔ اس طرح تقریباً چوتھائی صدی تک یہ اثر اہل علم کے درمیان موضوع بحث بنا رہا۔ بالآخر یہ سلسلہ تحذیرالناس کی تالیف اور پھر اس کے مصنف کی تکفیر تک دراز ہو کر اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔‘‘ (ماہ نامہ جام نور ، دہلی جولائی ۲۰۰۸ء ، ص:۵۳)
تیسرا دور: تحذیرالناس کی تالیف اور خاتم النبیین کے معانی سے بالتصریح انکار
پروفیسرایوب قادری کے بقول تحذیرالناس مطبع صدیقی بریلی سے ۱۲۹۰ھ /۱۸۷۳ء میں پہلی بار طبع ہوا۔ اس رسالہ کا سبب تالیف مولوی احسن نانوتوی کا استفتاء بنا جو انہوںنے مولوی قاسم نانوتوی کو اثر ابن عباس کی وضاحت کے متعلق بھیجا تھا ۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ مولوی قاسم نانوتوی اثر ابن عباس پر اپنی فلسفیانہ موشگافیوں کی بجائے اسنادیا متن پر تحقیق کرکے اس کی صحت کو جانچتے لیکن تعجب ہے کہ جناب ’’قاسم العلوم والخیرات ‘‘ نے اس جانب توجہ مبذول نہیں کی اور محض فلسفہ بگاڑتے چلے گئے۔خاتم النبیین کے معنی آخری نبی ہونے کو عوام کا خیال قرار دیا (تحذیرالناس:۳)بلکہ بالصراحت تحریر کر دیا؛
’’اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں یا بالفرض آپ کے بعد بھی کوئی نبی فرض کیا جائے تو بھی خاتمیت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق نہ آئے گا۔(تحذیرالناس، حاشیہ برصفحہ ۱۳)
مزید صفحہ ۱۴ پر لکھاہے:
’’بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔‘‘
صفحہ ۲۵ پر لکھا ہے:  ’’اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائیکہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یافرض کیجیے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویزکیا جائے۔‘‘
اس رسالہ کی اشاعت سے پورے ہندوستان میں شور برپا ہو گیا اور چوںکہ اس رسالہ میں ختم نبوت کے مسلمہ معانی کا انکار پایا جاتا تھا لہذا علماء کرام نے مولوی قاسم نانوتوی کی تکفیر کرنا شروع کر دی۔ مولانا محمد شاہ پنجابی نے مولوی قاسم نانوتوی سے مناظرہ بھی کیا جس کا مفصل حال ’’ابطال اغلاط قاسمیہ‘‘ میں درج ہے۔ یونہی اس رسالہ کے رد میں کئی علماء نے قلم اٹھایا چنانچہ اس ضمن میں جن کتب تک ہماری رسائی ہو سکی ان کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔ ابطال اغلاط قاسمیہ
۲۔ تنبیہ الجہال بالہام الباسط المتعال مولفہ حافظ بخش صاحب آنولوی مطبوعہ ۱۲۹۱ھ
۳۔ حسام الحرمین علی منحرالکفر والمین مولفہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی
۴۔ فتاوی بے نظیر
 تحذیرالناس کے معاملہ میں صرف مولانا عبدالحئی فرنگی محلی نے مولوی قاسم نانوتوی کی موافقت کی ۔(الافاضات الیومیہ ،ج۵، ص:۲۹۶ مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان) چنانچہ تحذیرالناس مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دیوبند کے نسخہ میں مولانا عبدالحئی فرنگی محلی کے دستخط موجود ہیں لیکن بعدازاں مولانا عبدالحئی فرنگی محلی بھی مولوی قاسم نانوتوی کی تکفیر کے قائل ہو گئے ۔ (مطالعہ بریلویت ، ج۳، ص:۳۰۰) ابطال اغلاط قاسمیہ پر مولانا عبدالحئی کے تصدیقی دستخط اس بات کا ثبوت ہیں حالاں کہ اس سے قبل مولانا اثر ابن عباس کی تائید میں دو مستقل رسالے تصنیف کر چکے تھے جن کے نام درج ذیل ہیں:
۱۔ الایات البینات علی وجود الانبیاء فی الطبقات
۲۔ دافع الوسواس فی اثر ابن عباس
چوتھا دور:مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٔ نبوت
تقریباپون صدی کی تگ و دو کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے تدریجاً (یعنی پہلے مناظر، مصلح، مبلغ، مجدد، مہدی، مثیل مسیح )نبوت کا دعوی کر دیا۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ قادیانی اپنے دفاع میں اکثر تحذیرالناس کو پیش کرتے ہیں حتی کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے جب قادیانیوں کو کافر قرار دیا تو وہاں بھی دوران کارروائی قادیانیوں نے اپنے دفاع میں اسی کتاب کو پیش کیا۔
نظریۂ ختم نبوت اور تحذیرالناس مصنفہ حضور شیخ الاسلام سید محمد مدنی میاں اشرفی مدظلہ العالی 
قارئین کرام نے فتنۂ انکار ختم نبوت کی مختصر تاریخ کا جائزہ لیا اب ہم یہاں حضور شیخ الاسلام جانشین محدث اعظم ہند سید محمد مدنی میاں اشرفی مدظلہ العالی کے تحقیقی مقالہ ’’نظریۂ ختم نبوت اور تحذیرالناس‘‘ کے بارے چند تعارفی سطور تحریر کررہے ہیں چنانچہ پیش نظر مقالہ حضور شیخ الاسلام کے مجموعہ مقالات کے حصہ اول میں شامل ہے اور یہ مقالہ الگ سے کتابی صورت میں گلوبل اسلامک مشن (یو ایس اے) کے اہتمام سے اکتوبر ۲۰۰۴ء اور پھر دسمبر ۲۰۰۷ء میں شائع ہو چکا ہے۔ نیز حال ہی میں ماہنامہ الحقیقہ (پاکستان) کے ’’تحفظ ختم نبوت نمبر‘‘ کی جلد اول میں صفحہ ۳۶۶ سے ۳۹۹ تک موجود ہے۔ جبکہ پہلی مرتبہ یہ وقیع مقالہ ماہ نامہ المیزان نے شائع کیا۔
اس مقالہ کی ابتدا میں حضور شیخ الاسلام نے لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ کے مفہوم کو مستندتفاسیر و احادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے چوں کہ تحذیرالناس میں اور بعدازاں مرزا قادیانی نے خاتم النبیین کے من گھڑت معانی بیان کر عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کی تھی ۔ اس ضمن میں حضور شیخ الاسلام نے تفسیر قرطبی ، تفسیر طبری ،جلالین، نیشاپوری ،کبیر،تفسیر ابوسعود، مدارک ، روح المعانی ، ابن کثیر، روح البیان ، معالم التنزیل، خازن، تفسیر احمدی (ملا جیون)، تفسیر غریب القرآن (علامہ ابوبکر سجستانی) اور پھر مولوی محمد شفیع دیوبندی کی کتاب ھدیۃ المہدیین سے ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی ’’آخری نبی ‘‘ ہونا ثابت کیا ہے۔نیز اس ضمن میں حضرت امام اعظم کے عہد کا ایک واقعہ بھی نقل فرمایا ہے جس کو ہم قارئین کے استفادہ کے لیے نقل کر رہے ہیں چنانچہ حضور شیخ الاسلام لکھتے ہیں:
’’امام اعظم کے عہد میں ایک شخص نے نبوت کا دعوی کا دعوی کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی نشانیاں پیش کروں۔ تو حضرت امام اعظم نے فرمایا جس نے بھی اس سے اس کی نبوت کی علامت طلب کی وہ کافر ہو گیا۔اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ لا نبی بعدی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (ص: ۱۹ مطبوعہ گلوبل اسلامک مشن، یو ایس اے)
اس کے بعد خاتم النبیین کے مفہوم کی مزید وضاحت کے لیے قبلہ شیخ الاسلام نے بارہ احادیث سے استدلال فرمایا اور درج ذیل پانچ اُمور کا اثبات فرمایا:
۱۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہونا بایں معنی کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد ہے اور آپ سب میں آخری نبی ہیں -یہ عوام کا خیال نہیں بلکہ یہی رسول اکرم ﷺ کا ارشاد اور اسی پر صحابہ و تابعین و جمیع علمائے دین کا اعتقاد ہے۔
۲۔تاخر زمانی کی فضیلت کا ادراک غیر نبی کے لیے ممکن نہیں ۔ البتہ اس قدر فضیلت واضح ہے کہ جو آخری نبی ہو گا ، لازمی طور پر اس کی شریعت آخری شریعت ہو گی اور اس قدر کامل و مکمل ہو گی کہ مزید تکمیل کا سوال نہ ہو گا اور اس کی نبوت کا دائرہ کار تمام کائنات کو محیط ہو گا ۔ وہ کسی ایک قوم یا محدود زمانے کا نبی نہ ہو گا بلکہ قیامت تک اس کی عظمت و شوکت کا پرچم لہراتا رہے گا اور صرف نبی ہی نہیں بلکہ رسول بھی ہو گا جس کی رسالت ’رسالت عامہ‘ ہو گی، وہ اگر ایک طرف سارے عالم کے لیے نذیر ہو گا تو دوسری طرف سارے عالم کے لیے ہادیٔ کامل اور رحمت مجسم بھی ہو گا۔
۳۔ جب ایک نبی کے لیے ظاہری طور پر تاخرزمانی میں اس قدر فضیلتیں ہیں تو پھر و لکن رسول اللہ و خاتم النبین کو ’اوصاف مدح‘ میں رکھتے ہوئے اور اس مقام کو ’مقام مدح‘ قرار دیتے ہوئے بھی خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہی ہے۔
۴۔ خاتم النبین کا معنی آخر الانبیاء لینے سے نہ تو خدائے تعالیٰ پر زیادہ گوئی کا وہم ہوتا ہے اور نہ رسول کریم ﷺ کی قدرو منزلت میں کمی کا احتمال اور نہ ہی کلام الٰہی پر بے ارتباطی کا الزام
۵۔ خاتم النبین کا ایسا معنی بتانا کہ اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا - قرآن کریم کے ثابت شدہ اجماعی مفہوم کوبدلنے کی شرم ناک کوشش ہے جس کا کفر ہونا اظہر من الشمس ہے۔
اس کے بعد قبلہ شیخ الاسلام نے اثر ابن عباس کا تحقیقی جائزہ لیا ہے اور اس کے مفہوم ظاہری سے چار احتمالات بیان کرنے ان کا رد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہے۔ نیز یہاں یہ وضاحت بھی فرمائی ہے کہ آخری نبی سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ حضور کو نبوت سب سے آخر میں دی گئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ظہور میں سب انبیاء کے بعد ہیں اور نبوت سے تو آپ کو اس وقت سرفراز کیا گیا تھا جب کہ کسی نبی کا وجود نہ تھا۔ 
مقالہ کے آخرمیں آپ تحریر فرماتے ہیں :
’’(مولوی قاسم نانوتوی نے) اپنی کتاب تحذیرالناس میں لفظ خاتم النبیین میں تاویل فاسد کا سہارا لے کر غلام احمد قادیانی کے لیے دعوی نبوت کی راہ ہموار کرنے میں جو شاندار رول ادا کیا ہے اس کے لیے امت قادیان آپ کی بجا طور پر شکر گزار ہے۔ بعض قادیانیوں کی تحریریں نظر سے گزری ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ختم نبوت کے باب میں قادیانیوں کا موقف بالکل وہی ہے جو صاحب تحذیرالناس مولوی قاسم نانوتوی کا ہے۔ اس کا اعتراف خود مولوی قاسم نانوتوی کے بعض بہی خواہوں نے بھی کیا ہے۔یقین نہ ہو تو اٹھا لیجیے شبستان اردو ڈائجسٹ (نئی دہلی) نومبر ۱۹۷۴ء کو مولوی فارقلیط کے قلم سے نکلے ہوئے یہ فقرے ملیںگے:
’’بیج بویا علما نے اور جب وہ تناور درخت ہو گیا تو اس کا پھل کھایا مرزا غلام احمد قادیانی نے‘‘
اس کے بعد حضور شیخ الاسلام نے تحذیرالناس مطبوعہ محمدی پرنٹنگ پریس ، دیوبند -جس کو کتب خانہ رحیمیہ دیوبند نے شائع کیا ہے - کے حواشی نقل کر کے ان کا رد کیا ہے۔
المختصر حضور شیخ الاسلام کا پیش نظر مقالہ تحذیرالناس کی کفریہ عبارات کا نہایت مدلل رد ہے،طرز استدلال نہایت پختہ اور زبان نہایت شستہ و سہل ہے جس کے سبب عام قارئین بھی اس سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے مسئلہ کی حقیقت کو جان سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ کریم حضور شیخ الاسلام کا سایہ اہل سنت پر دراز فرمائے اور مزید تحقیقی کام منظر عام پر لانے کی توفیق دے۔
٭

عصرحاضر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ  فکر شیخ الاسلام کی روشنی میں

عصرحاضر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ فکر شیخ الاسلام کی روشنی میں

عصرحاضر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ 
فکر شیخ الاسلام کی روشنی میں  

مولانانعیم الدین اشرفی (ایم اے)

سکر یٹری مدنی فاؤنڈیشن ہبلی مذہب اسلام میں جس قدر علم کی اہمیت بیان کی گئی ہے دنیا کے کسی او مذہب میں نہیں ملتی ۔اس بات کا ثبوت ہمیں قرآن و حدیث سے ملتا ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں متعدد جگہ علم کی اہمیت و فضیلت بتائی گئی ہے۔ سورئہ مجادلہ آیت نمبر ۱۱ میں ہے۔ یَرفَعِ اللہُ الَّذِینَ اٰمَنُوا مِنکُم وَ الَّذِینَ اُوتُو العِلمَ دَرَجٰت ۔اس آیت کریمہ کی تفسیر یہ ہے کہ "بلند فرمادے گااللہ تعالی انہیں جو ایمان لائے تم میں سے ،اور بلند فرمادےگا انہیں جو دیے گئے علم درجوں ایمان کے ساتھ۔ان مومنوں کے درجوں پر جوبے علم ہوتے۔اس واسطے کہ مومن عالم افضل ہے مومن بے علم سے"۔(تفسیر اشرفی جلد ۱۰ صفحہ ۲۳)
رہتا ہے نام علم سے زندہ ہمیشہ داغؔ 
اولاد سے تو بس یہی دو پشت چار پشت
اسلام میںعلم کی تقسیم نہیں ہے کہ یہ دینی علم ہے اور وہ دنیوی علم۔ہر وہ علم جو انسانی ضرورت و شرعی قانون کے دائرہ میں ہو وہ دینی کہلائے گی۔اس بات کاایک ثبوت یہ ہے کہ مسلمانوں نے کاغذ کا ایجاد کیا اور تاریخ کو سمجھنے کے قواعد بیان کیے۔اس سے دنیا کے تمام مذاہب نے فائدہ اٹھایا۔
علم و قلم کی اہمیت قرآن پاک میں یوں بیان ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن کی سب سے پہلی آیت علم و قلم کے احکام کے بارے میں نازل فرمائی۔اقرا باسم ربک الذی خلق ۔سورئہ علق کی ابتدائی پانچ آیات اس بات کے شاہد ہیں۔ان آیات میں زبانی و تحریری دونوں علوم کا ثبوت ہے۔
عہد رسالت ہی سے ان دونوں طریقوں کا آغاز ہو چکا تھا،صحابئہ کرام قرآن و حدیث کو حفظ کر لیا کرتے تھےاور بسا اوقات چمڑوں پر،ہڈیوں پر،پتھرو ں وغیرہ پر لکھ لیا کر تے تھے۔اس طرح علم کی اشاعت و حفاظت ہوتی رہی۔صحابہ کرام کے بعد تابعین و تبع تابعین کے ساتھ ساتھ بہت سے حکمرانوں نے بھی اس طرف رغبت کی اور تعلیمی ادارے قائم کروائے۔  حضور ﷺ کے زمانہ میںمقام اصحاب صفہ جو کہ اس عہد کاپہلا تعلیمی مرکز (یونیور سٹی ) قرار دیا گیا ، اسی  مقام و شہرمدینہ شریف سے علم کا چراغ روشن ہوا،بعد میں کوفہ،بصرہ ،بغداد علمی مراکز کی شکل میں دنیائے اسلام میں گنے جانے لگے۔
   ملک ہندوستان میں سلطان محمد غوری نے اجمیر شریف میں ،سلطان شمس الدین التمش اور فیروز شاہ تغلق نے دہلی میں مدارس قائم کیے۔مغلیہ سلطنت کے دوران بھی درس و تدریس کا سلسلہ چلتا رہا۔فتح اللہ شیرازی،حکیم ابو الفتح جیلانی ،قاضی سید نوراللہ ان حضرات نے عہد مغلیہ میںنئی تعلیمی پالیسی اور مدرسوں کے لیے نصاب کا انتخاب کیا۔ان مدارس میں مذہبی و دینی علوم کے ساتھ ساتھ علم ریاضی ،علم جغرافیہ،علم فلکیات،علم طبعیات و علم طب وغیرہ سکھائے جاتے تھے۔کیونکہ سلطنت کے نظم و ضبط کے لیےافسران کوان علوم کا جاننا ضروری ہے۔
جب ہندوستان پر انگریزی اقتدار قائم ہوگیا تو انہوں نے مسلمانوں کے مذہبی،علمی،اقتصادی اور فکری وجاہت کو ختم کرنے کے لیے انہیں سرے سے تعلیم یا عصری تعلیم سے روکنے کی کوشش نہیں کی ،بلکہ مذہبی تعلیم پر پابندی عائد کی اور علم کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ایک دینی علم دوسرا دنیوی علم ۔یہی وجہ تھی کہ ۱۸۵۷ ؁ ء کے بعد ہندوستان میں ایک ساتھ دو تعلیمی تحریکیں اٹھیں ،ایک عصری دوسری دینی و مذہبی۔
۱۹۴۷؁ء میں ہندوستان کی آزادی کے بعد علمی نقطئہ نظر سے بہت برا اثر پڑا وہ یہ کہ جو اہل علم تھے وہ یہاں سے ہجرت کر گئے۔
بعض سیاسی وجوہات اور تعصب کی بنا پر ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا رویہ اپنایا گیاجس سے ہندوستانی مسلمان تعلیمی پسماندگی کا شکار ہوے۔(مزید تفصیلات اور مسلمانوں کے تعلیمی،سماجی و اقتصادی حالات کو جاننے کےلیے سچر کمیٹی رپورٹ کا مطالعہ کریں)     
ان حالات کی وجہ سے ہند کے مسلمانوں نے سو چا کہ ہمیں حکومت کے بجٹ پر منحصر نہیں رہنا ،ہم اپنی ذاتی رقم سے تعلیمی ادارے بنائیں۔اس طرح مدارس کا نیٹ ورک پورے ہندوستان میں پھیلایاگیا۔اب مدارس کی تعداد تو بڑھ گئی مگر معیار میں کمی واقع ہوئی۔الا ماشاء اللہ ،اوراکیسویں صدی میں تعلیمی نظام و نصاب میں تبدیلی کی ضرورت پڑی۔مدارس میں عصری تعلیم کا نصاب ضروری ہونے لگا اور اسکولوں میں دینی تعلیم کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔عصر حاضر میں تعلیمی اداروں کا نصاب و نظام کیسا ہونا چاہئے؟
اس کا مختصر جائزہ فکرِ حضورشیخ الاسلام کی روشنی میں نذرِ قارئین ہے۔
  مشہور حدیث پاک ہے طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم  ۔(حدیث)
علم حاصل کرنا ہرمسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔
  اس حدیث پاک میں جس علم کی فرضیت کا بیان ہے اس سے مراد فرض عین علم ہے۔ ہر شخص کو علم دین جاننا فرض ہے،اس کی فرضیت ٹھیک اسی طرح ہے جیسے نماز و روزہ۔فرض کی دو اقسام ہیں ایک فرض عین دوسرا فرض کفایہ۔ رہا یہ سوال کہ علوم اسلامیہ میں کونسا علم سیکھنا فرض عین ہے اور کونسافرض کفایہ؟ تو فقہائے کرام نے فرمایا کہ ہر وہ علم جو مسلمانوں کے لیے وقت پر ضروری ہو سیکھنا فرض عین ہے، خواہ وہ ضرورت ایمانیات میں سے ہو یا اعمال میں سے، معاملات میں سے ہو یا تجارت و ملازمت میں سے،محرمات میں سے ہو یا منہیات میں سے۔جیسے اللہ تعالی کی ذات و صفات کو جاننا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت و نبوت کو جاننا،نماز ،روزہ،زکوٰۃ و حج فرض ہوجائے تو ان کے احکام جاننا،وغیرہ وغیرہ ۔رہ گیا اس کے علاوہ عالم ،مفتی،حافظ ،فقیہ ،محدث وغیرہ بننایہ فرض کفایہ ہے۔ اول الذکر علم بہت اہم ہےجس کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے او ر جس پر فرض ہے اسی کو وہ فرض ادا کرنا ہے اس کے بد لے دوسرا نہیں کر سکتا ۔ اس بابت حضور شیخ الاسلام فرماتے ہیں:"ایک مثال آپ کو بتادوں کہ نماز ہم سب پر فرض ہے۔کیا کسی ایک شخص کے نماز ادا کرنے سے سب کی نماز ادا ہو جائے گی؟ اگر صرف اما م صاحب نماز پڑھ لے تو کیا سب بستی والو ںکی نماز ادا ہوجائےگی؟ہرگز نہیں ۔ اگر صرف شوہر نماز ادا کرے تو بیوی کی نماز ادا نہیں ہوگی،اگر صرف بیوی روزہ رکھے تو شوہر کا روزہ ادا نہیں ہوگا۔ اسی طرح جن چیزوں کاعلم جاننا تم پر فرض عین ہے وہ فرض دوسروں کے ادا کرنے سے کیسے ادا ہوگا بلکہ ہر شخص کو علم جاننا فرض ہے جیسے نماز ادا کرنا فرض ہے"۔ (اسکول اور دینی تعلیم ،صفحہ 18)
 افسوس ہے کہ یہ بنیادی تعلیم جو فرض عین ہے لوگ اس سے ناواقف ہیں ،اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں، تعلیمی پسماندگی اور بے رغبتی عام ہے۔ حالات اس قدر بگڑے ہوے ہیں کہ وضو و غسل ،طہارت اور نمازکے مسائل بھی کئی لوگوں کو نہیں آتے۔ان خستہ حالات کے پیش نظر ہم پر لازم ہے کہ ہم خود بھی اور اپنی قوم کو بھی اس بنیادی تعلیم سے آراستہ کریں۔مگر ہماری قوم فرض عین والے علم کو چھوڑ کر فرض کفایہ والے علم میں زیادہ مصروف ہے۔ حضور شیخ الاسلام فرماتے ہیں:"لوگوں نے غلطی یہ کی کہ لوگ اپنے فرض عین کو فراموش کرگئے اور ایک مدرسہ بنادیا،اس مدرسہ میں چالیس پچاس بچے آگئے اور مطمئن ہوگئےکہ ہمارا فرض ادا ہوگیا،اس طرح آپ کا فرض ادا نہیں ہوگا ۔آپ کا فرض جو آپ پر ہے وہ ادا نہیں ہو گاجب تک کہ آپ خود اپناضروری علم حاصل نہیں کرینگےجو کہ فرض عین ہے۔صرف مسجد بنوانے سے آپ کا فرض اد انہیں ہوگا بلکہ آپ کو بھی نماز ادا کرنا ہوگاجو کہ آ پ پرفرض عین ہے۔صرف افطار کروانے سے آپ کا روزہ ادا نہیں ہوگابلکہ آپ کو بھی روزہ رکھنا ہوگا جو کہ آ پ پرفرض عین ہے"۔(اسکول اور دینی تعلیم ،صفحہ 18،19) 
مذکورہ بالا اقتباس سے یہ واضح ہو تا ہے کہ دینی تعلیم کے دو منزل ہیں ایک وہ علم جو فرض عین ہے دوسرا فرض کفایہ ۔پہلے کے دور میں فرض عین والا علم گھر سے ہی مل جاتا تھا لیکن اب وہ صورت حال نہیں، رہ گیافرض کفایہ والا علم،تو اس کے لیے مدارس کا بڑا نیٹ ورک ہے ،یہاں عالم ،مفتی، فقیہ ،محدث بنایا جاتا ہے۔ فرض کفایہ کے لیے ان مدارس کا حال کیا ہے جہاں معیاری تعلیم نہیں ہوتی؟ تو اس سلسلہ میں حضور شیخ الاسلام فرماتے ہیں:" اب تو ہزاروں دارالعلوم قائم ہوچکے ہیں ،پہلے نہ تو اتنے مدرسے تھے اور نہ ہی تعلیم کا اتنامعاملہ تھااور نہ ہی اتنی آسانیاں تھیںبلکہ بہت زیادہ پریشانیاں اور دشواریاں تھیں۔ آج تو اتنی آسانیاں پیدا ہو گئی تو پھر اتنے دار العلوم میں سے کوئی غزالی کیوں پیدا نہیں ہوتا ،کوئی رومی کیوں نہیں پیدا ہوتا، کوئی رازی کیو ںنہیں پیدا ہوتا،کوئی احمد رضا کیوں نہیں پیدا ہوتا؟ ان جیسے مصلحین امت کیوں پیدا نہیں ہوتے جو اپنی امامت کا لوہا منالے۔یہ ہے آپ کے دارالعلوم کا حشر"۔ (اسکول اور دینی تعلیم ،صفحہ 24)
مزید فرماتے ہیں:’اب جو عربی مدرسے ہیں ،کیا وہ پچیس کڑوڑ مسلمانوں کی دینی ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں ؟ یعنی وہ علم جو ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض عین ہے ،کیا ان عربی مدرسوں کی اتنی کوشش سےفرض عین ادا ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ہو سکتا ہے اس لیے کہ ویسے بھی عموما لوگ مدرسوں میں آنا پسند نہیں کرتے ، آپ خود اپنا لائق و فائق بچہ مدرسہ بھیجنا نہیں چاہتے ہیں بلکہ اسے آپ  اسکول میں بھیجتے ہیں ،یعنی جس کو آپ کند ذہن ،شرارتی ، کم عقل، ناکارہ اور کچا سمجھتے ہیں اسے مدرسہ بھیجتے ہیں اور جسے آپ ذہین ،سمجھدار ، ہوشیار ، اور پکا سمجھتے ہیں اسے اسکول بھیجتے ہیں "۔(اسکول اور دینی تعلیم، صفحہ 27)
اس میں کوئی شک نہیں کہ دور حاضر میں مسلم بچوں کی تعداد مدرسوں سے زیادہ اسکول میں ہے۔جہاں تعداد زیادہ ہو وہاں کام زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر اسکول میں صرف عصری تعلیم ہو، دینی تعلیم نہ ہو توپھر یہ مسلمان بچے کب دین کا علم حاصل کرینگے؟ظاہر سی بات ہے کہ یہ بچے دین سے ناواقف ہو جائینگے۔اس طرح وہ فرض علم سے ناآشنا ہوکر گناہ گار ہوجائینگے!
دینی علوم کا مرکز مدارس اسلامیہ ہی ہیں مگر اس میں طلباء کی قلت ہے،اکثریت تو اسکولوں میں ہے۔جو طلباء مدرسہ میں علم حاصل کرینگے وہ تو دینی علم سیکھ ہی لینگے ،ان کا کیا ہوگا جو اسکولوں میں پڑھتے ہیں ؟اور یہی اکثریت میں ہیں۔اس بابت حضور شیخ الاسلام فرماتے ہیں :"یہی بات ہماری ذہن میں آئی اس لیے ہم نے اسکول قائم کیا ۔آپ لوگ بھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ایسے اسکولس قائم کریں تا کہ فرض عین کو کسی نہ کسی بہانہ ہرمسلمان کو سکھادیا جائے‘(اسکول اور دینی تعلیم، صفحہ31)
عصر حاضر میں فرض عین علم (اسلامی و اخلاقی تعلیم) سکھانے کا آسان طریقہ :
حضور شیخ الاسلام فرماتے ہیں : ’’عربی مدرسوں میں مسلمانوں کے بچے ہمیشہ بہت ہی کم اور اسکولوں میں زیادہ ہوتے ہیں لہذا کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ ہم خود ہی اسکول بنائیں او ر ان کواسکول کا نصاب ہی پڑھائیں جو نصاب وہاں چلتا ہے وہی نصاب پڑھنے دیاجائے،صرف ایک مضمون ہمارا دین کا ہو اور پہلی کلاس سے لیکر دسویں کلاس تک ضروری قرار دیا جائے اور ان کو ان کی ہی زبان میں دین سکھائے"۔ (اسکول اور دینی تعلیم صفحہ 27)
اسکول میں دینیات کا مضمون لازم کرنے کے فوائد :
مسلمانوں کے ہر اسکول میں دینی تعلیم کا ایک مضمون لازم قرار دیا جائے تو بہت سارے فوائد حاصل ہونگے۔حضرت شیخ الاسلام اس کے چند فوائد یوں بیان فرماتے ہیں :
۱) اسکول سے فراغت کے بعد عالم بننا چاہتا ہے تو کسی مدرسہ میں چلا جائے۔
۲)کوئی کالج میں جانا چاہے تو کالج میں چلا جائے ۔کالج میں جاتاہے تو دین سے بے خبر نہیں رہے گا اور مدرسہ میںجا تا ہے تو دنیا سے بے خبر نہیں رہے گا۔اگر کہیں بھی نہیں جاتا ہے تو بھی جاہل نہیں رہے گا۔
۳) بچوں کو اسلامی تہذیب ملے گی۔
۴) غیر مسلمین (ان کے بچے)بھی اسلامی تہذیب سے متاثر ہونگے۔
۵) (مسلمانوں کا)  اپنا اسکول ہو جائےگا تو غیروں کے پاس نہیں بھیجینگے۔
۶) بچے انسانیت سیکھینگے ،ماں باپ کی اطاعت سیکھینگے۔ (اسکول اور دینی تعلیم ص28)
۷) اگر آپ فرض عین والا علم سکھا دیتے ہیں تو پھراس کے بعد بچہ اس سے زیادہ سیکھتا ہے۔
۸) جو بچے اسکول سے فراغت کے بعد دوسری لائن یا فیلڈ میں جانا چاہے وہ بھی آسانی سے جا سکتے ہیں۔(اسکول اور دینی تعلیم صفحہ 31)
  خلاصئہ کلام یہ ہے کہ بنیادی اسلامی تعلیم جو فرض ہے اسے ہر اسکول میں رائج کیا جائے۔چند لوگ مدرسہ میںعصری تعلیم سکھانے پر بہت زور دیتے ہیں انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ عصری دانش گاہ (اسکول و کالج) میں بھی دینی تعلیم کو لازم قرار دیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسکولوں میں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کاا متزاج عہد جدید کی اہم ترین ضرورت ہے،ٹھیک اسی طرح جیسے مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا امتزاج اہم ہے۔مدرسوں کی کثرت کے بجائے معیاری تعلیم والے ادارے بنائیں جائیں اور اسکولوں میں علم دینیات سکھایا جائے ۔ حضور شیخ الاسلام نے اپنی اسی فکر پر عمل فرمایااور اس فکر کوعام کیا۔ملک ہندوستان و بیرون ملک میں حضرت کےزیر سرپرستی کئی تعلیمی ادارے قائم ہیں ۔سب سے پہلے حضو ر شیخ الاسلام نے اپنے وطن شریف کچھوچھہ مقدسہ،یوپی میں "محدث اعظم مشن اسکول" بنا کر اپنی فکر کو عملی جامہ پہنایا۔محدث اعظم مشن کے ماتحت ملک کے کئی صوبوں میں مدارس و اسکولس قائم ہیں۔کچھوچھا شریف کے علاوہ دیگر عصری تعلیمی ادارے، ہماری ناقص معلومات کے مطابق صوبئہ گجرات ،کرجن میں "مدنی اسلامک اسٹڈی سنٹر‘ نبی پور ضلع بھروچ محدث اعظم مشن اسکول‘،صوبئہ کرناٹک،ہبلی میں"محدث اعظم مشن اسکول"، صوبئہ کرناٹک ،داونگیرہ میں "محد ث اعظم مشن اسکول"، صوبئہ کرناٹک ،گھٹہ پھر با ،ضلع بلگام میں " مدنی میاںاردو ہائی اسکول۔" دینی تعلیمی اداروں میں ،گجرات ،احمدآبا دمیں’دارالعلوم شیخ احمد کھٹّو‘، یوپی ،بہرائچ میں "مدرسہ چھوٹی تکیہ"، کچھوچھا میں "دار الافتاء"، کرناٹک ، ہبلی میں حضرت کا محبوب ادارہ "مدنی میاں عربک کالج"، بلہاری میں "دار العلوم شیخ الاسلام"،تڑس میں "الجامعۃ الاشرفیہ فاطمۃ الزہراء للبنات" وغیرہ۔  ہندوستان کے علاوہ برطانیہ، ڈیوسبری میں "مدنی اسلامک سنٹر"، بلیک برن میں "محدث اعظم ایجو کیشن سنٹر"، پرسٹن ،لنکا شائر میں مدنی اسلامک انسٹی ٹیوٹ "، سائو تھ افریقہ ،ونڈا میں مسجد اور " مدرسہ اشرفیہ"، اس کے علاوہ امریکہ میں بھی مساجد و مکاتب قائم ہیں۔ الحمد للہ ہمارے مرشد گرامی کا فیض ہر طرف اور ہر شعبے میں جاری ہے،چاہے وہ تعلیمی میدان ہو یا فلاحی۔
صوبئہ کرناٹک میں حضرت کی زیر سرپرستی دینی و عصری تعلیمی اداروں کی تفصیل اور مختصر رپورٹ پیش خدمت ہے۔ (اس میں کرناٹک کے صرف مدارس و اسکول کی رپورٹ ہے مکتب وغیرہ کی نہیں) اس مقصد کی خاطر کہ حضرت کے اداروں کی تفصیل سارے لوگوں کو معلوم ہو۔ آخر میں مئو دبانہ گذارش ہے کہ حضرت کے جتنے بھی تعلیمی ادارے ہیں وہ اپنی اپنی رپورٹ ہر سال شائع کرتے رہیں۔       
 ۱)دارالعلوم شیخ الاسلام ،بلاّری
  بلاری والوں کی خوش نصیبی ہے کہ یہاں قادری ہو یا چشتی، نقشبندی ہو یا سہروردی تمام سلاسل کے بزرگ تشریف لائے۔کوئی اپنی آخری آرام گاہ اسی شہر کا بنائے تو کوئی اپنے قدوم میمنت سے فیضیاب کرتے گئے ۔ ان بزرگوں میں سے ایک عظیم بزرگ ولی کامل مخدوم الملت حضور محدث اعظم حضرت علامہ سید محمد اشرفی جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کچھوچھہ شریف یوپی سے سن 1961؁ ء میں بلاری تشریف لائے ۔ صوبئہ کرناٹک میںشہر بلاری کو وہ پہلا شرف حاصل ہے جہاں حضور محدث اعظم ہند تشریف لائے۔کرناٹک میں حضرت کی آمد سب سے پہلے بلاری میں ہوی اس کے بعد ہبلی میں۔گویا کہ محدث اعظم کی آمد کے اعتبار سے یہ صوبئہ کرناٹک کا باب  محدث اعظم ہے۔1961سے 1963تک کرناٹک میں خانوادئہ اشرفیہ کا یہی مرکز تھا بعدہٗ ہبلی کو وہ مقام حاصل ہوا۔1961؁ء سے لیکر2004؁ ء تک اس تقریباچالیس سالہ عرصے میں حضور محدث اعظم ہند کی آمد کے بعدجانشین محدث اعظم ہند حضور شیخ الاسلام حضرت علامہ مفتی سید محمد مدنی میاں اشرفی جیلانی  صاحب قبلہ کا تبلیغی ،تقریری اور روحانی دورہ ہوتا رہا ،حضرت کی تشریف آوری سے خوب دین و سنیت کا کام ہوا ۔حضور شیخ الاسلام کی سرپرستی میں 2004ء تک بلاری میں دین و سنیت کا کام محافل و مجالس اورمساجدومکاتب کے ذریعے ہو تا تھا۔ اسی سال 2004؁ء میں دین و سنیت کے مزید فروغ کے لیے حضرت کی سرپرستی میںشیخ الاسلام ٹرسٹ کے ماتحت بلاری میں  ـ دارالعلوم شیخ الاسلام  کی بنیاد رکھی گئی۔(فی الحال دار العلوم کا اہتمام جانشین شیخ الاسلام حضرت سید حمزہ میا ں صاحب قبلہ کے اسم مبارک سے موسوم ـ حمزہ ٹرسٹـ کے ذمے ہے)
  13؍ سالہ مدت کی کارکردگی ایک نظر میں:۔ 
 ٹرسٹ کی ذاتی تین منزلہ خوبصورت عمارت میںیہ دارالعلوم شہر ہی میں قائم ہے۔اس عمارت میں 13؍کمرے اور تین ہال ہیں۔ایک ہال درسگاہ کے لیے،دوسرا نماز کے لیے اور تیسرا طلباء کے طعام کے لیے۔ ایک لائبریری ہے۔ طلباء کی تعداد : 40۔اساتذہ :4۔فارغین کی تعداد: 6؍حفاظ۔دارالعلوم کے شعبہ جات۔ ۱)ناظرہ  ۲) حفظ و قرات  ۳)عصری تعلیم،انگریزی،کنڑ اور حساب۔۴)  طلباء کے مشق کے لیے ہرجمعرات کو ہفتہ واری بزم بنام  ـ بزم محبّان اشرفـ  منعقد ہوتی ہے۔ ۵)  شہر کے مسلمانو ں کی تعلیم و تربیت کے لیے اتوار کے دن تفسیر اشرفی کا ہفتہ واری درس ہوتاہے اور ہر اسلامی مہینہ کی ستائسویں (۲۷) شب کو حلقئہ ذکر کی محفل ہوتی ہے جس میں طلباء کے علاوہ عوام بھی شرکت کرتے ہیں۔
 دارلعلوم کے علاوہ حمزہ ٹرسٹ کی جانب سے فلاحی و سماجی کام بھی ہورہا ہے۔ حمزہ ٹرسٹ کی جانب سے 2012؁ء میںـ  مدنی ہیلتھ کلینک (MADANI HEALTH CLINIC) قائم ہوا جس میں مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے اور ہر سال ماہ ربیع الاول میں میلاد مصطفی کے موقع پر مفت آنکھوں کا آپریشن ہوتا ہے۔
مستقبل کا منصوبہ:
۱)  حمزہ ٹرسٹ کے نام سے شہرمیں6000؍سکوائر فٹ کی اراضی خریدی گئی انشاء اللہ اس میں  ITIکالج شروع کرنے کا ارادہ ہے۔ ۲)شہر سے 18؍کیلو میٹر دور گنتکل روڈ پر 5؍ ایکڑ زمین خریدی گئی ہے انشا ء اللہ حضرت کے حکم کے مطابق جیسی عمارت حضرت حکم فرمائینگے ویسی بنائی جائے گی۔
  پتہ: دارالعلوم شیخ الاسلام ، طریقت منزل ، کمیلا روڈ بلاری کرناٹک 
رابطہ نمبر۔ صدر صاحب۔9448779969،  8123827092
سکریٹری صاحب  9972375712
۲)شیخ الاسلام عربی مدرسہ بلگام 
  حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم القدسیہ کے زیرسرپرستی شہر بلگام میں 1989؁ء میں محدث اعظم مشن کا قیام ہوا۔ 31؍مئی 2014؁ء کو حضور فاضل بغداد حضرت علامہ الشاہ سید محمد حسن العسکری میاں اشرفی جیلانی نائب سجادہ جانشین محد ث ا عظم ہند کی صدارت میں25؍ سالہ جشن سلور جوبلی منایا گیا ۔الحمد للہ، حضور شیخ الاسلام کی دعائوں سے محدث اعظم مشن کے ماتحت شہر بلگام میںفلاحی و سماجی ،دینی وتعلیمی خدمات  انجام دی جارہی ہیں ۔تعلیمی خدمات اور ادارے مندرجہ ذیل ہیں۔
۱) محدث اعظم مشن بلگام کے زیر اہتمام اشرفی منزل ،املی مارکیٹ،نیو گاندھی نگر بلگام میں شیخ الاسلام عربی مدرسہ کے نام سے 2014؁ء میں روزانہ بعد نماز عشاء تعلیم بالغاں کے لیے شروع کیا گیا ۔جس میں نوجوانوں کو دینی تعلیم دی جاتی ہے۔فی الحال 25؍نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔۲) اسکول و کالج کی تعطیل میں تربیتی کورس بھی چلایا جاتا ہے۔
مستقبل کا منصوبہ: 
انشاء اللہ جلد ہی اعظم نگر بلگام میں محدث اعظم مشن نرسری اسکول شروع کیا جائیگا۔
پتہ : محدث اعظم مشن بلگام۔ اشرفی منزل پلاٹ نمبر 5،پانچواں کراس، اشرفی محلہ اجول نگر بلگام کرناٹک  
رابطہ نمبر:  صدر صاحب۔9481007492.   
سکریٹری صاحب۔ 9844281299
۳)المدرسۃ الاشرفیہ فاطمۃ الزہراء للبنات تڑس
  ہبلی سے جنوب کی طرف ۲۵؍ کلومیٹر کے فاصلے پر شیگائوں تعلقہ میںایک خوبصورت گائوں ـ تڑسـ واقع ہے۔ حضرت شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی جیلانی صاحب قبلہ جب ہبلی تشریف لائے تو تڑس کے عاشقان اہل بیت حضرت سے ملاقات کا شرف حاصل کیے اور دعوت پیش کی۔ ۔حضرت اس دعوت کو بخوشی قبول کیے اور پہلی بار خانوادئہ اشرفیہ کے اشرفی دولہے کی تڑس میں آمد ہوی۔حضرت شیخ الاسلام کی آمد کی برکت سے سرزمین تڑس میں تازہ بہار آئی ،جوق در جوق لوگ داخل ِسلسلہ اشرفیہ ہوے حضرت کے قدموں کی برکت سے لوگ تو لوگ یہاں کی مٹی بھی اشرفی ہوگئی۔اس کے بعد تو تڑس والوں کی قسمت جاگ اٹھی جب بھی حضرت شیخ الاسلام ہبلی تشریف لاتے تو تڑس بھی آمد ہوتی اور دینی کام میں اضافہ ہوتا گیا۔حضرت کی سرپرستی میں غالبا ً ۱۹۸۰ ؁ء میں مدرسہ اشرفیہ قادریہ کے نام سے حضرت سید شاہ احمد قادری کے احاطے جامع مسجد میں ایک مکتب شروع ہوا۔اس کے بعد ۱۹۸۴؁ء میں مدنی میاں عربک کالج کو قائم کیا گیا۔(دو سال تک یہ مدرسہ تڑس میں ہی تھا اس کے بعدمحلہ یلاپورہبلی میں منتقل ہوا،وہاں سے اب یہ مدرسہ کندگول کراس بڈرسنگی پی۔بی روڈ ہبلی میں ہے) سن ۴ ۱۹۹ ؁ء میں محدث اعظم مشن تڑس کا قیام ہوا اور اسی مشن کے ذریعے دینی و فلاحی کام ہوتے رہے۔ 
 ۲۰۱۱؁ء میں محدث اعظم مشن تڑس کی ایک خصوصی میٹگ ہوئی جس میں دختر ان اسلام کی تعلیم و تر بیت اور سلسلہ قادر یہ چشتیہ اشرفیہ کی اشا عت کے تعلق سے غور و خوص کرکے کمیٹی نے دخترانِ اسلام کیلئے بہترین تعلیم و تر بیت کے ساتھ ایک ادارے کا فیصلہ لیا ۔ ۶ ؍اکتوبر ۲۰۱۲؁ء کو با قا عدہ  ـ المدر ستہ الا شر فیہ فا طمتہ الز ھراء للبناتـ کی افتتاحی تقریب عمل میں آئی۔  ادارے کے قیام کے بعد جب مشن کے تمام اراکین حضور شیخ الاسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر اس ادارے کی خوشخبری سنائے تو حضور شیخ الاسلام نے خوشی کا اظہار کرتے ہو ئے فرمایا اس ادارے کو آگے بڑھا ئیںاور دعائوں سے نوازا۔۲؍ سال تک ناظرہ اور مُبلغہ کا ۲؍ سالہ کورس پڑھا یا گیا ۔ان دو سالوں میں ادارہ ھذا سے ۱۶ ؍مبلغات فارغ ہوئیں ۔  ۲۰۱۴ ؁ء کو بڑے تزک احتشام کے ساتھ ماہر معلمات کی نگرانی میں عالمہ کورس بھی شروع کیا گیا ۔ فی الحال ۳۰؍ بچیاں قیام و طعام کے ساتھ با صلاحیت و تجر بہ کار معلمات و اساتذہ کی نگرانی میں پوری محنت ولگن کے ساتھ علم دین حاصل کر رہی ہیں ۔ ہم اپنی بہن ،بیٹیوں اپنی نسلوں کو اہل بیت کے دامن سے وابستہ اور صحیح العقیدہ بنائے رکھنے کیلئے اور اسلام و سنیت کے فروغ و بقا کے لیے حضور شیخ الاسلام صاحب قبلہ و حضور سید حسن عسکری میاں اشرفی جیلانی مد ظلہ العالی کی سر پرستی میں چلنے والے اس ادارے کو استحکام بخشنا وقت کی اولین ضرورت ہے ۔
کورسس : ۱) ناظرہ  ۲) مبلغہ  ۳) عالمہ  ۴) ٹیلر نگ  ۴) کمپیوٹر کورس 
تعداد طالبات :  130۔ شعبئہ ناظرہ میں 90؍ بچیا ں،مبلغہ کورس میں 20؍بچیا ں اورشعبئہ عالمیت میں 20؍ بچیا ںزیر تعلیم ہیں 
کل اساتذہ ومعلمات: 4
انتظامیہ کمیٹی:  صدر وراکین محدث اعظم مشن تڑس 
مسجد گلی نزدجامع مسجد تڑس،تعلقہ شیگائوں ۔ضلع ہاویری 581212کرناٹک
 فون نمبر: 08378-257156
۴) محدث اعظم مشن نرسری و پرائمری اسکول دیورٹی، داونگیرہ
محدث اعظم مشن داونگیرہ کے زیر اہتمام 2005؁ ء میں حضور شیخ الاسلام کے دست مبارک سے داونگیرہ شہر کے قریب دیورٹی میں محدث اعظم مشن انگلش میڈیم اسکول کا افتتاح ہوا۔اسکول کی 20؍گنٹہ زمین میں ایک خوبصورت عمارت بنائی گئی ہے۔
۱) محدث اعظم مشن پرائمری اسکول :  تعلیم :  پانچویں جماعت تک۔کل طلبہ و طالبات کی تعداد: 120۔اساتذہ ودیگر عملہ : 8 اسکول میں مسلم و غیر مسلم طلبہ و طالبات سبھی تعلیم حاصل کر تے ہیں۔
۲) دانگیرہ شہر میں محدث اعظم مشن کی جانب سے خانقاہ مدنی کی تعمیرکی گئی ۔مورخہ 24؍مارچ 2015؁ ء کو فاضل بغداد حضرت علامہ الشاہ سید محمد حسن عسکری میاں اشرفی جیلانی صاحب قبلہ کے دست مبار ک سے افتتاح ہوا۔اس دو منزلہ عمارت میں، بالائی منزل پر مشن کی آفس ہے او ر ہر مہینہ حلقئہ ذکر کی محفل ہوتی ہے۔نچلی منزل میں نرسری اسکول ہے ۔
مسقبل کے منصوبے: 
۱)سن 2000؁ ء میں مشن کی جانب سے ایک زمین خریدی گئی ہے۔ انشا ء اللہ اس اراضی پر دارالعلوم کی بنیاد ڈالی جائے گی۔  
۲)خانقاہ مدنی میں لڑکیوں کے لیے مفت کمپیوٹر کورس اور ٹیلرنگ کلاس۔
پتہ: محدث اعظم مشن ،خانقاہ مدنی امام نگر ،نورانی مسجد روڈ داونگیرہ،کرناٹک۔
رابطہ نمبر: صد ر صاحب ۔9448535026

 ۵)دارالعلوم قادریہ ڈانڈیلی
مدنی میاں عربک کالج کی ایک شاخ جوحضور شیخ الاسلا م مد ظلہ کی سرپرستی میں قائم ہے۔۱۹۹۳؁میں اس کا افتتاح ہوا۔تین کمروں پر مشتمل ذاتی عمارت ہے۔طلبہ کی تعداد۔ ۲۵۔قیام و طعام کے ساتھ ۔اساتذہ کی تعداد ۔۳۔شعبہ جات :حفظ و قرات ۔اب تک ۲۵ سے زائد حفاظ فارغ ہوے۔دارالعلوم کے ماتحت دو مکتب بھی ہیں ۱) مکتب شیخ الاسلام،لمانی چال ،جونی ڈانڈیلی۔۲)مکتب مدنی میاں،سگرین چال،جونی ڈانڈیلی۔
مستقبل کے منصوبے:
۱)کمپیوٹر کورس۔۲)عصری تعلیم
پتہ : دار العلوم قادریہ ڈانڈیلی،
رابطہ نمبر08284-230571۔ ,9845823686
۶)مدنی میاں اردو ہائی اسکولگھٹ پربھا،تعلق گوکاک ،ضلع بلگام:  
حضو رشیخ الاسلام مد ظلہ کے مرید جناب سلطان صاحب کبّو ر اشرفی نے حضرت کی اجازت اورآپ کے نام سے سن ۱۹۹۴؁ میں مدنی میاں اردو ہائی اسکول کا آغاز کیا۔یہ اسکول حکومت کرناٹک سے منظور شدہ (Government Added)ہے اور اساتذہ کی تنخواہ بھی گورنمینٹ سے دی جاتی ہے۔نیز گورنمینٹ سے مفت سائیکل، مفت کتب اور روزانہ دوپہر کا کھانا۔بہترین تعلیم و نظم و ضبط اور سو فیصدرزلٹ ہونے پر دو مرتبہ حکومت کرناٹک نےمیڈل سے نوازا ۔پہلی بار سن ۲۰۰۵؁میں اور دوسری مرتبہ سن ۲۰۱۴؁ میں۔ 
 تعلیم: آٹھویں جماعت سے دسویں جماعت تک۔کمپیوٹر۔ تعداد طلبہ و طالبات: ۱۲۰۔ اساتذہ و دیگر عملہ کی تعداد ۸۔
مستقبل کے منصوبے: 
۱) دینیات کورس شروع کرنا۔۲) مدنی میاں آرٹس ،سائنس اینڈ کامرس کالج شروع کرنا۔
پتہ: مدنی میاں اردو ہائی اسکول،گھٹ پربھا،تعلق گوکاک، ضلع بلگام،کرناٹک۔
  میر معلم: 9538380167
 ۷)مدنی میاں عربک کالج ہبلی
شہر ہبلی صوبئہ کرناٹک کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔یہاں مسلمانان اہل سنت کی کثرت ہے اورالحمد للہ اسے اہل سنت و جماعت کی مرکزیت کا شرف حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس شہر میں پیران کرم و مشائخین کرام و علمائے ذوی الاحترام کا ہمیشہ دورا ہوتے رہتا ہے۔
انہی مشائخ و سادات کرام میں خانوادئہ اشرفیہ کچھوچھا شریف کی ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت جن کو عالم اسلام میںحضور شیخ الاسلام رئیس المحققین حضرت علامہ الشاہ مفتی سید محمد مدنی میاں اشرفی جیلانی کے نام سے پہچا نا جاتا ہے۔
   حضرت کے مسلسل دعوتی و تبلیغی دوروں  سے ایک علمی ماحول پیدا ہواجس سے لوگ متاثر ہوکر ایک خالص دینی و مذہبی ،علمی و خانقاہی ادارے کی ضرورت محسوس کرنے لگے۔ مریدین نے خواہش ظاہر کی تو حضرت نے پہلے اس کی اجازت نہیں دی۔آ پ نے فرمایا "والد صاحب(محدث اعظم ہند) کا قائم کردہ مدرسہ دارالعلوم غوثیہ شہر میں ایک سنی ادارہ موجود ہے دوسرے ادارہ کی فی الحال ضرورت نہیں ،آپ سب اسی مدرسہ کوفروغ دیں"۔مگر بارہا اصرار اور حالات کے مدنظر حضرت نے دین وسنیت کی مزید ترویج و اشاعت کے لیےایک دینی مدرسہ قائم کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ مشہور قول ہے کہ "ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے" ،جس وقت مدنی میاں عربک کالج کی اجازت ملی اس وقت بالکل صحیح وقت تھااو ر ایسے سنی ادارہ کی ضرورت تھی۔
حضرت کی اجازت ملتے ہی 1984؁ میں ہبلی سے 25 کیلو میٹر دور تڑس میں شعبئہ ناظرہ و حفظ سےمدنی میاں عربک کالج کاآغاز ہوا۔دو سال بعد تڑس سے ہبلی شہر محلہ یلاپور میں منتقل ہوا ۔1989؁ میں عظیم الشان کانفرنس بنام "محدث اعظم کانفرنس " کا انعقاد ہوا۔اس کانفرنس میں علماء اہل سنت ،سادات کرام و مشائخین عظام کے علاوہ سلسلہ اشرفیہ کے بالخصوص خانوادئہ محدث اعظم ہند نے شرکت فرمائی۔اس تاریخی کانفرنس میں صوبئہ کرناٹک کے علاوہ اطراف و اکناف ریاستوں سے عوام اہل سنت لا کھوں کی تعداد میں جمع ہوے تھے۔اس کانفرنس کے ذریعے مدنی میاں عربک کالج کا بہت بڑا فائدہ ہوا۔وہ یہ کہ مدرسہ کے لیے شہر ہبلی سے ۷کیلو میٹر دورکندگول کراس ،پی،بی روڈ سے بالکل متصل ساڑھے پانچ (5.5) ایکڑزمین خریدی گئی اور اسی سال سنگ بنیاد ڈال دی گئی،بڑی تیزی کے ساتھ ایک  سال کی مدت میں 6 کمروں پر مشتمل ایک ہاسٹل و درسگاہ کی عمارت تعمیر ہوگئی ۔اس طرح  مدنی میاں عربک کالج 4سال تک یلاپور میں رہا پھر وہاں سے موجودہ جگہ کندگول کراس ،پی۔بی روڈ میں بحسن و خوبی رواں دواں ہے۔ 1991؁ میں مدنی میاں عربک کالج محلہ یلاپور ہبلی سےموجودہ جگہ کندگول کراس پی ۔بی روڈ میں منتقل کیاگیا۔
 بحمدہ تعالی حضور شیخ الاسلام کی دعائوں ،مدرسہ کی انتظامیہ کی مسلسل جد و جہد اور عوام اہل سنت کی دلچسپی سے تعلیم و تعمیر کا سلسلہ بڑھتا ہی گیا۔
فی الحال مدرسہ کی زمین پر وسیع و عریض 20 کمروں کی دو منزلہ خوبصورت عمارت ، ایک وسیع ہال اور 20 لاکھ کی لاگت سے کمپائونڈ کا کام مکمل ہو چکا ہے۔مزید 10 کمروں کی تعمیر اور عمارت کی تزئین و توسیع کا کام جاری ہے۔انشا ء اللہ عنقریب حضور شیخ الاسلام کی آرزو اور تمنا پوری ہوگی۔حضور شیخ الاسلام کی تمنا خود حضرت کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔آپ کی تمناو خواہش یہ ہے کہ " ہم اس منزل تک پہونچ کر رہینگے جہاں پہونچ کر یہ ادارہ ملک کے دیگر مرکزی ا دارو ںکی صف میں نظر آئے گا۔ یہ ایک ایسا مینارئہ نور و ہدایت ہوگا جس کی روشنی ملک کے ہر ہر گوشے بلکہ بیرون ملک سے بھی دیکھی جاسکے گی"۔
مدنی میاں عربک کالج کے معاونین کے لیے حضرت کی یہ دعاء ہے:"مولی تعالی اس ادارے پر اپنا فضل خاص فرماتا رہے اور اس کے اعوان و انصار کی عمر و صحت و اقبال میں برکت عطا فرماتا رہےاو ر مومنین کے قلوب کو اس کی طرف مائل کر دےاور پھر مائل رکھےتا کہ وہ اس کے عروج کو اپناعروج اور اس کے فروغ و ارتقاء کو خود اپنا فروغ و ارتقاء سمجھنے لگیں"۔ (معائنہ ر جسٹر مدنی میاں عربک کالج)
مدنی میاں عربک کالج کے تعلیمی شعبہ جات: 
1) شعبئہ ناظرہ۔2) شعبئہ حفظ۔3) شعبئہ تجوید و قرات۔4) شعبئہ عالمیت ۔5) فضیلت۔6) حکومت کرناٹک سے منظور شدہ برج کورس۔ 7) انگریزی و کنڑ زبان کی تعلیم۔8) تعطیلاتی تربیتی کورس۔
تعداد طلبہ: 160۔ تعداد اساتذہ ودیگر عملہ 18۔فارغین کی تعداد۔ 150  (عالم ،فاضل،حافظ و قاری کل فارغین)
دیگر خصوصیات:
 1)شیخ الاسلام لائبریری ۔جس میں 4000 سے زائد درسی و غیر درسی کتب موجود ہیں ۔2) بزم محدث اعظم۔اساتذہ کی نگرانی میںطلبہ کے اندر تقریری و تبلیغی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیےہر جمعرات بعد نماز مغرب تا عشاء بزم محدث اعظم کا انعقاد۔3) قیام و طعام کا بہترین انتظام۔
مستقبل کے منصوبے:1) تعلیمی معیار مزید بلند کرنا۔2) طلبہ کی تعداد میں مزیداضافہ کرنا۔3)تعمیری کام بڑھانا۔4)چہار دیواری (کمپائونڈ وال) کا بقیہ کام پورا کرنا ۔
پتہ: مدنی میا ں عربک کالج ،بڈرسنگی،پی۔بی روڈ ،نزد کندگول کراس ،ہبلی۔580212کرناٹک۔رابطہ نمبر: 0836-2317211
صدر صاحب۔9590245194 سکریٹری صاحب9845684366
مدنی میاں عربک کالج کے نام ۔مرحوم سید انور رائے پوری اشرفی کا کلام
مَدنی میاں عربک کالج کے ایک جلسَہ دستار بندی کے موقع پر پڑھاگیا۔
مدنی کالج یہ بتاؤں میں تمہیں کیا دے گا 
یہ تو سورج ہے اجالا ہی اجالا دے گا 
اس ادارے کے ہیں بانی میرے مرشد مدنی 
عشق محبوبِ خدا کا یہ نگینہ دے گا
اس کے ہیں روحِ رواں صوفی جہا نگیر اشرف 
یہ گواہی تو ہر اک باب و دریچہ دے گا 
آج تم اس کو مدد دوگے تو ہبلی والو 
کل قیامت میں تمہیں یہ بھی سہارا دے گا   
دیکھ کر آج یہ دستارِ فضیلت کا سماں 
ہے یقیں ہم کو کہ ہرسال یہ تحفہ دے گا
نذر کرنے کے لئے لایا ہے کچھ شعر انورؔ 
سننے والوں کو بھلا اس سے سوا کیا دے گا 
 ۹)محدث اعظم مشن اسکول،ہبلی۔
  حضور شیخ الاسلام کی سرپرستی میں دینی درسگا ہ مدنی میاں عربک کالج کے قائم ومستحکم ہو جانے کے بعدمریدین نے ایک عصری دانش گاہ قائم کرنے کی حضرت سے خواہش ظاہر کی تو حضور شیخ الاسلام کی اجازت سے محدث اعظم مشن ہبلی کے زیر اہتمام ۱۹۹۵؁  میں محدث اعظم مشن اسکول کا افتتاح ہوا۔صوفی ملت سید جہانگیر اشرف علیہ الرحمہ کی نگرانی میں کرایہ کی عمارت پر تروی ہکل میں نرسری اسکول سے ابتد اہوی۔
۱۹۹۸؁ میں اسلام پور جونی ہبلی میں زمین خریدی گئ ۔اس کے فورا بعدحضور شیخ الاسلا م کے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھی گئی اور تیزی کے ساتھ تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا ۔ صرف دو سالہ عرصے میں سن ۲۰۰۰؁ کوبہترین عمارت تیار ہوگئی اور عمارت کی افتتاح حضور شیخ الاسلام کے دست مبارک سے عمل میں آئی ۔اس طرح ذاتی زمین و عمارت حاصل کرلینے کے بعد اسکول تروی ہکل سےاسلام پور منتقل ہوا۔
فی الحال 33کمروں پر مشتمل تین منزلہ خوبصورت عمارت دیدہ زیب ہے۔جس میں کلاس روم کے علاوہ " سائنس لیب"،کمپیوٹر لیب" بھی ہیں۔
تعلیم: ۱)نرسری سےہائی اسکول تک ۔۲)اردو میڈیم ۔۳) انگلیش میڈیم۔ ۴)دینیات۔۵)کمپیوٹر واسمارٹ کلاس۔
تعداد طلبہ و طالبات: 2600۔اساتذہ ودیگر عملہ: اردو ،انگلیش میڈیم دونوں ملاکر 55۔
خصوصیات:  1) عصری تعلیم کے ساتھ دینی واخلاقی تعلیم لازمی۔ ۲)تعلیمی سر گرمیوں کے علاوہ کھیلوں او ر کلچرل مقابلہ کا انعقاد۔
۳) سال ۲۰۱۴؁ میں% 97فی صد رزلٹ ۔۴)سی سی ٹی وی کیمرہ کے ذریعے پورے اسکول کی نگرانی۔
مستقبل کے منصوبے: محدث اعظم مشن کالج شروع کرنا۔ اآرٹس ،سائنس وکامرس PUکالج۔
پتہ:      محدث اعظم مشن اسکول،اسلام پور روڈ،جونی ہبلی۔580024
رابطہ نمبر: 0836-2209032
۱۰)مدنی میاں کمپیوٹر ایجو کیشن اینڈ اسٹڈی سنٹر ہبلی:
مدنی میاں ایجو کیشن اینڈ چاری ٹیبل ٹرسٹ کے ماتحت حضور شیخ الاسلام کی اجازت سے سال ۲۰۱۳؁ ء کوشہر ہبلی میں کمپیوٹرکی تعلیمات عام کرنے کے لیےایک سنٹر قائم ہوا۔اس میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی مرکزی حکومت سے منظور شدہ یک سالہ ڈپلومہ ان کمپیوٹر اپلیکیشن کورس ماہر اساتذہ کی نگرانی میں سکھایا جاتا ہے،اس کا نصاب اور سند دونوں مرکزی حکومت کے مطابق دی جا تی ہے۔
کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی تعلیم بھی ہوتی ہے۔اس میںمسلم و غیر مسلم طلبہ و طالبات سبھی کو یکساں تعلیم دی جاتی ہے۔الحمد للہ اب تک ۱۵۰ طلبہ و طالبات اس کورس سے استفادہ کر چکے ہیں ۔ اس کورس کے علاوہ کمپیوٹر کے دیگر کورسس اور انگلش اسپیکنگ کورس بھی شروع ہے۔ اساتذہ و دیگر عملہ:۵۔ طلباء و طالبات کی تعداد۴۹۔ 
پتہ: مدنی میاں کمپیوٹر ایجو کیشن اینڈ اسٹڈی سنٹر ،نبی ریسیڈینسی ،طبیب لینڈ،نزد واٹر ٹینک،ہبلی۔کرناٹک۔
 رابطہ نمبر0836-2267866۔
زیراہتمام :صدرو اراکین مدنی فائونڈیشن ہبلی



عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular