Showing posts with label تبصرہ. Show all posts
Showing posts with label تبصرہ. Show all posts
رومانی امانتوں کے امین۔۔۔۔۔۔۔۔سورج کرناٹکی

رومانی امانتوں کے امین۔۔۔۔۔۔۔۔سورج کرناٹکی

رومانی امانتوں کے امین۔۔۔۔۔۔۔۔سورج کرناٹکی

ہری ہر  ضلع  داونگیرہ  کا ایک چھوٹا سا  سر سبز و شاداب مقام ہے اور آج اس مقام کی انفرا دیت یہ بھی ہے کہ یہ شعر و ادب کا ایک اچھا مرکز بن گیا ہے یہاں نہ صر ف اچھے لکھنے والے موجود ہیں بلکہ یہاں کے عوام میں ایک صحت مند ادبی ذوق  بیدار ہو چکا ہے ۔ 
ادب کی اس سر زمین سے ایک جو اں سال شاعر سورجؔ کر نا ٹکی اپنے پہلے شعر ی مجموعہ ’’ صبح اُمید‘‘کے ساتھ ادبی اُفق پر نمو دار ہو ا تھا ۔اب یہ نہایت ہی حوصلہ افزاء بات ہے کہ وہ پھر سے اپنے دوسرے مجموعہ کلا م ’’ ـــ کرشئمہ حیا ت ‘‘کو لیکر ایوان ادب میں داخل ہورہا ہے 
  نقاش نقش اول بہتر کشد زِ اوّل کے مصداق یہ مجموعہ اپنی معنوی اور صوری خوبیوں کے ساتھ منصہ شہود پر جلوہ گر ہونے والا ہے۔
 سورجؔ کے پہلے مجموعہ صبح اُمید کے مطالعہ سے میں نے یہ بخوبی اند ازہ لگا لیاہے کہ یہ چشمہ ایک دن ضرور ایک دریامیںتبدیل ہوجائے گا ۔دوسرے مجموعہ کا پورا کلام تو میرے پیشِ نظر نہیں ہے صرف چند غزلیں میرے مطالعہ میں ہیں اور گا ہے ماہے ریاستی اخبارات میں ان کی تخلیقات نظر سے گذرتی ہیں اور توجہ طلب ہوتی ہیں ۔  
 اُردو کے بیشتر شعر اء کی طرح سورج ؔنے اپنی شاعر ی کا آغاز غزل ہی سے کیا ہے ۔ جیسا کہ انہوں نے اپنے مجموعہ میں اس بات کا اظہا ر کیا ہے کہ غزل ان کی محبوب صنف ِ سخن ہے۔
سورج ؔکی شاعری کو پڑ ھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے ان کی شاعری میں ایک سچا اور حقیقی شاعر نشو نما پارہا ہے ۔ سورجؔ کر ناٹکی کو اُردو زبان پر اہلِ زبان کی سی قدرت ضرور حاصل ہے 
ہلکی پھلکی بحروں میں ان کا نرم لب و لہجہ بڑا ہی دلکش معلوم ہوتا ہے ۔ ان کی عمر اورمشق کے لحاظ سے ان کے کلام کو عروضی اور لسانی اعتبار سے جانچنامیرے خیال میں قبل از  بات ہوگی ۔
 جبکہ ہمارے یہاں دھڑا دھڑ جو مجموعے منظر عام پر آرہے ہیں اُن کے آئینے میں مشاق شعر اء 
کا کلا م بھی عیوب و اسقام سے ہر گزر پاک نہیں ہے ۔ 
سورجؔ کے چند اشعار نے تو بیک نظر میری توجہ کو جذب کر لیاہے اور ان کے کلام میں وہ خوبیا ں ضرور موجود ہیں جو اُردو غزل کی بہترین روایات 
کی مظہر ہیں اور سنجیدہ ترین اوصاف کی حامل ہیں ۔ اُن کے تازہ غزلیہ کلام میں چند ایسے اشعار قابلِ توجہ ہیںجن کو مُشتے از خر وارے کے طور پر پیش کر رہا ہوں ۔ جن سے اُن کے مزاج و آہنگ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
حوصلہ دِل کا ہر ایک گام بڑ ھانا ہو گا 
اِک  نیا  شہر  محبت  کا بسا نا ہو گا 
چاہتے  ہو یہا ں  پیغام ِمسّرت گونجے 
نفرت و یا س کی دیوار کو ڈھانا ہو گا
فلسفہ زندگی کا  اتنا  ہے
کام اوروں کے آنا مر جانا
کر کے وعدہ وفا ئوں کا سورجؔ
ہم کو آتا نہیں مکر جانا
زندگی کو سمجھ  لیا  ہم  نے 
شام کے ساتھ سائے ڈھلتے ہیں
یہ شعر واقعی بڑے خوبصورت ہیں ملاحظہ فرمایئے
حاد ثے ہر حسین چہروں کو 
اک پل میں بگاڑ دیتے ہیں
شر پرستی کے تیز تر  طوفاں 
بستیاں سب اُجاڑدیتے ہیں
میرے سینے میں بھی دل ہے مجھے احساس ہے اسکا 
محبت میں  مجھے  اوروں کو تڑپا نانہیںآتا
میں صابر ہوں ہمیشہ صبر سے ہی کام لیتا ہوں 
مجھے جذبا ت میں آکر بہک جانا نہیں آتا
 انتظار کی کیفیت کو بڑ ے سلیقہ سے پیش کیا ہے ۔ 
 ایک قیامت سی دل پے ڈھاتا ہے
وہ تیرے انتظار کا عالم 
خط کو ئی اُن کا آ گیا ہوتا      سانس راحت کی پاگئے ہوتے 
آپسی نفرتو ں سے شعلوں سے 
جل نہ جائے کہیں یہ گھر اپنا
  شعور کی نا پختگی کو صَرف ِ نظر کر کے دیکھا جا ئے تو سورجؔ کے یہ اشعار اُن کے خوش آئیند مستقبل کے ضامن ہیں ۔ زندگی کے حقائق کو ہلکے پھلکے انداز میں چھو ٹی چھوٹی بحروں میں سمونا سورجؔ کا کمال ہے ۔
ہر غزل میں زندگی کے اقدارکی عکاسی اور تجر بوں کا نچوڑ ملتا ہے ۔ ایک اچھے شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ روایت کا پاسدار بھی ہو اور جدید تقاضوں کا شعور بھی رکھتا ہو۔سورجؔ کے کلام میں ایسے بے شمار اشعار ملتے ہیں ۔
رہو ںگا کامیا ب اک دن وفاکی راہ میں سورجؔ       
مجھے ناکامیوں پر اشک بر سانا نہیںآتا
 ہم  سخن  کے  نا خدا  کہلا ئیں  گے
دیکھنا ، ایک  ایسا  دن  بھی  آئے گا
  یہ جُرّ اتِ گفتا ر کا اقرار اور عزم شاعرکی ذہنی سطح کی بلندی کا پتہ دیتی ہے  ۔
’’کرشئمہ حیا ت ‘‘میں شامل بیشتر کلا م سورج ؔ کرناٹکی کے تازہ رنگ ِ سخن کا آئینہ دار ہے۔میری رائے میں سورج ؔ کی شاعری میںایک نئے ارتقائی قدم کی چاپ سنائی دیتی ہے ۔یہ تازہ رنگ و نکھار آگے چل کر کس حد تک بار آور اور خود سورج ؔ کیلئے کتنا مبارک و مسعود ثابت ہوگا ۔ اسکے بارے میں کہنا مستقبل کے ادبی مورخ یا نقادکے ہاتھ سے قلم چھین لینے کے مترادف ہوگا ۔ میں سورجؔ کے روشن مستقبل کے لئے بدرگاہِ رب العزّت دُعا گوہوں اور اُمید کرتا ہوں کے قارئین ان گُہر ہا ئے بیش بہا سے ضرورفیضیاب ہوسکیں گے ۔   
حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

ارض دکن کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ اردو کاابتدائی مولدومسکن ہے اور اردو کی جنم بھومی میں شعراء وادبا کاایک لشکرِ جرار ہے جو شعری وادبی کاوشوں میں مصروف ومنہمک ہے۔کچھ لوگ نامور ہیں اور کچھ جادۂ ناموری پر مصروف سفر ہیں۔ایسے اصحاب تگ وتازمیں حیدرمظہری کا اسم گرامی ہے  ۔حیدرمظہری  ایکایسا شخص ہے جو کہنہ مشق اور پختہ کارشاعر ہونے کے علاوہ ایک دردمند اوس احساس مزاج کاحامل ہے۔اسے شعر کہنے کاسلیقہ ودیعت کیاگیاہے۔اس لیے شعر میں کہیں تکلف وسجاوٹ نہیں بلکہ ایک بے ساختہ پن ہے۔ان کی نگارشات کا مطالعہ کرنے والوں کومحسوس ہوگا کہ ان کا سخن سادگی کے رنگ کا حامل ہے مگر اس میں جذبے کی تاثیر کی فراوانی ہے۔جگہ جگہ شاعر کا شعری شعور رنگ جماتا ہوا نظرآتاہے وہ قدم بہ قدم اپنے تجربات کی عکاسی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںایک حدتک وضع دار بھی ہیں مگربے تکلفی انہیں بہت پسند ہے۔ان کی لفظیات میں ایک ارتقا کا عمل صاف دکھائی دیتاہے۔ان کی ترکیبات اپنے اندر ایک شان دلآویزی لیے ہوئے ہیں ان کی مستقل اور شعروادب کی عرق ریزی انہیں اپنے ہم عصروں سے کافی آگے لے گئی ہے۔ 
جوچیز اس کے کلام کو پڑھتے وقت قاری کو متوجہ کرتی ہے وہ اس کا فطری حسنِ ادا ہے۔وہ شعر کچھ اس انداز سے کہہ جاتاہے کہ داد دیے ہی بنتی ہے۔
کوئی بتلائے چراغوں کو ہوا کی نیت
جل اٹھے ہیں یہ سرِ شام خیر خدا کرے
٭
اسے ہی ان دنوں ویرانیاں  بھی راس نہیں
جو شخص شہر میں بھی خال خال رہتاہے
٭
راس آئے نہ راس آئے گلشن کی فضا دائم
بے وجہ سہی لیکن  زنداں پہ نظر رکھنا
٭
بال آئے تو آئینہ دل کا
پھر کسی کام کا نہیں ہے کیا

یہی حسن ادا بعض اوقات اس سے ایسے چونکادینے والا شعرکہلواتی ہے ہے جنہیں پڑھ کر آپ خود وجد کی کیفیت میں آجاتے ہیں اور خوشگوار حیرت ذہن ودماغ پر طاری ہوجاتی ہے۔یہ اشعار دیکھئے
پتھروں کا ہے شہر چپ ہو جا
زندگی کو پکارنے والے

پاسداری مل نہ پائے گی ترے فن کو یونہی
غم کی اس تصویر میں رنگِ حنا رہنے بھی دے

زمیں پر ہے متاعِ زندگانی
ستاروں میں جہاں کوئی نہیں ہے
جبرزیست شائد مڈل کلاس کا مقدر ہے۔حیدرمظہری اسی جبرِ زیست کا شاعر ہے
زندگی ہے تو حادثے کتنے
ناگہاں ناگہاں نہیں ہوں گے 

کرایہ دار نہیں تھا کسی محل میں کبھی
غریب تھا بھی تو اپنے مکان میں میں تھا

مگرزندگی کے اس جبر نے اسے جین اسکھایا ہے وہ خود بیں اورخود آگاہ ہے اور یہی احساس ذات زندگی کے اس خرابے میں اسے قوت حیات عطاکرتا ہے
ابھی ڈھلتے نہیں آنکھوں سے آنسو
ابھی سینے میں پتھر جاگتا ہے
حقیقت جھیلتے آگے بڑھے ہیں
فقط خوابوں کے بہلائے نہیں تھے 

حیدرمظہری کی شاعری غیرروایتی شاعری ہے مگراس نے اپنا رشتہ روایت سے توڑانہیںاور سچی بات یہ ہے کہ احساس روایت کے بغیر اچھی شاعری جنم ہی نہیں لیتی۔ان کے جواشعارمیںنقل کرتاآیا ہوںوہ روایتی ہرگزنہیںمگرروایت سے وابستگی کی دین ہیں۔یہ بات تجربے کی نہیں احساس کی ہے۔
 حیدر مظہری ایک سوچتے ذہن کا ذہن کا شاعر ہے اسے اپنے معاشرے کے تضادات ،سیاہ دھبے،بونے قد،بلندبانگ نعرے سبھی کچھ سنائی دیتے ہیں اور دکھائی بھی۔وہ ان پہ کڑھتابھی ہے اور ہمیں آئینہ بھی دکھاتا ہے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پرجوناانصافیاں،حق تلفیاں بلکہ انسانیت کی جو تذلیل ہو رہی ہے اسے اس نے محسوس بھی کیاہے اور اس طرف متوجہ بھی کیاہے اور اس پر طنز بھی کیا ہے۔
کبھی تو قوت کی بے پنا ہی اتارتی ہے زمیں پہ دوزخ
فرشتگی کے لباس ہی میں یہ آدمی بدخصال بھی ہے
ہر ستم گر کا نام لیتا ہے
پر زمانے کو بھول جاتا ہے
اور روتا ہے اپنی حالت پر
مسکرانے کو بھول جاتا ہے
لیکن اس صورت حال نے اسے انسان سے مایوس نہیں کیا۔وہ احترام ِ 
آدمیت کا شاعر ہے۔انسانی عظمتوںکا معترف اور اس کے ا مکانات کامبلغَ
پیغامِ محبت ہی ہر دل کا اثاثہ ہے
ہر لمحہ محبت کے ساماں پہ نظر رکھنا

تمام عمر مسلسل اڑان میں میں تھا
بہت تھکا تھا مگر آسمان میں میں تھا

اڑانوں میں وہ شہپر لے گیا تھا
فرشتوں کا مقدر لے گیا تھا

زمیں پر کھینچ لے آئے مسائل
وہ خود کو آسماں پر لے گیا تھا
 آدمیت کایہی احترام ہے جس نے اسے محبت کامغنی بنادیاہے۔وہ محبت مانگتا اور محبت بانٹتا ہے۔محبت کی تکرار اس کے کلام میں اس قدر ہے کہ بعض اوقات وہ مبلغ محبت نظرآنے لگتا ہے۔
ساری دنیا قحط زدہ سی لگے
کون خوشیوں کی بھیک ڈالے گا

مخالفت تھی تصادم تھا شور تھا حیدرؔ
کہاں سکون تھا اک امتحان میں میں تھا

لیکن بات صرف موضوعات کی نہیں ہے بلکہ طرزادا کی ہے شعر میںجان حسن  ادا سے پڑتی ہے وہ حیدر مظہری کوخوب عطاہواہے۔جوایسے شعرکہہ جاتے ہیں
کبھی نہ ترک محبت کی سوچئے حیدرؔ
کہ زندگی ہے تو جی کا وبال رہتاہے
اوروں کی طرح تیری قسم جی نہیں پائے
شامل نہ رہا درد تو ہم جی نہیں  پائے
اک جہنم میں بھی تروتازہ
دل ہے ایسا کہ پھول لگتا ہے
دفترِ اعمال میں لفظِ خطا رہنے بھی دے
آدمی ہوں تو مجھے  تھوڑا بُرا رہنے بھی دے

تعلق اجنبیت کا تماشہ
محبت۔۔۔۔۔شاعری کی آبرو تھی
اس کی فنکارانہ بصیرت اور شعری قامت سے انکار ممکن نہیں۔حیدر مظہری کو شعر کہناآتاہے۔اور وہ اس آسانی سے شعر کہتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے


تبصرہ

تبصرہ

"بلگام تاریخ کے آئینہ میں" ایک ایسی مستند کتاب ہے جو کتاب لکھنے والے جناب  عبد الصمد خانہ پوری کی محنتوں کی عکاس ہے، اسکے زریعہ جناب ع صمد خانہ پوری نے اپنا نام تاریخ میں سنہری حروف سے درج کرالیا ہے ۔میری قوم کے وہ افراد جو بصیرت کا چراغ لیکر آگے کو چل نکلیں گے تو انکے لیےء یہ کتاب مشعل راہ، زاد راہ،اور منزل کو تعین کرنے والے کمپاس کا کام کریگی ۔سب سے پہلے میں جناب ع الصمد خانہ پوری صاحب کو اس بیش بہا  محنت، کتاب کی اشاعت و اجراء کے لیےء دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔دعا ہے آپ اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن بھی نکالیں اور آپ کو رب مہربان کی جانب سے صحت و سلامتی بھی عطا ہو

بحیثیت ِ مبصر ،کتاب کے کل نو ابواب کو میں نے تین حصوں میں دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔

*تاریخ بلگام ۔۔۔۔ایک محقق اور مورخ کی نگاہ سے

*بلگام کے علماء اور اولیائے کرام

*بلگام کی علمی ادبی تحریکیں، صحافت، اور بلگام کے ادباء و شعراء

مندرجہ بالا کتاب لکھتے وقت جناب ع الصمد خانہ پوری نے اپنے تمام تر وسائیل کو بروے کار لانے کی کوشش کی ہے ۔تحقیق و جستجو کے لئے انہوں نے جو عرق ریزی کی ہے وہ بے مثال ہے ۔اس کے لئے انہوں مندرجہ ذیل چیزوں سے استفادہ کیا ہے ۔

1۔۔۔۔تاریخ بیجاپور دکن از مولوی بشیر الدین احمد

2۔۔۔تاریخ دکن ۔از ابن فرشتہ

3۔۔۔۔بلگام گزیٹئر

4۔۔کچھ حوالہ جات انگریزی مورخین کی کتابوں سے

5۔۔۔بلگام کے قلعہ، درگاجات، تاریخی عمارتوں پر لگے کتبے، تانبے کی تختیاں اور پتھروں پر کنندہ لکھائی

6۔۔۔۔ان سیاحوں کے تذکرے جنہوں نے بلگام کو اپنی سیاحت کا مقام بنایا اور اپنے تذکروں میں اسکا ذکر کیا۔

بلگام کی تاریخ کو موہنجادرو ہڑپہ کی تاریخی ادوار سے جوڑنے کی سعی کرتے ہوئے سلسلہ وار انہوں نے بلگام پر حکومت کرنے والے تمام تر حکمرانوں کا ذکر کیا ہے ۔، کدمبا، چولا، چالوکیہ، عادل شاہی، مراٹھا، مغل سلطنت، پیشوا، ٹیپو سلطان، نظام حیدر آباد سے ہوتے ہوئے انگریزی حکمرانوں تک پہنچ کر جنگ آزادی، آزادی کے مجاہدین، انکا کردار اور تفصیل، پھر آزادی کے بعد ضلع کلکٹران، مراٹھی اور کنڑی زبان کے تنازعہ میں بلگام میں ہوئی سیاسی تحریکیں، بلگام کا سرحدی تنازعہ، عدالت عظمیٰ کا کردار، بلگام ودھان سودھ کی تعمیر اور اسکے اجلاس کے ذکر تک کی تاریخ کو انہوں نے سمیٹنے کی بہترین کوشش کی ہے ۔

تاریخ نویسی آسان کام نہیں ہے، اسکے لیےء جگر کو پانی کرنا، آنکھوں کو پتھر کرنا، اور دماغ کی چولیں ہلانا پڑتی ہیں، تب کہیں جاکر تاریخ کا ایک صفحہ مرتب کیا جاسکتا ہے ۔تاریخ مرتب کرنے کے لئے جتنے حوالہ حات کی ضرورت ہوتی ہے شاید ہی کسی اور علم کے لیےء ہوتی ہو ۔

جناب عبد الصمد خانہ پوری بہ حیثیتِ محقق کامیاب ہوکر ابھرے ہیں ،کیونکہ انکے تمام تر ریفرنسس کو میں نے پرکھا ہے اور تمام تر سچ پر مبنی ہیں، اس  لئے کہ اوپر کے تمام حوالے میرے اپنے مطالعہ کا حصہ ہیں ۔

بہ حیثیتِ مورخ انکی دوسری خوبی انکی غیر جانبداری اور، اور جذبات سے عاری موّرِخانہ لہجہ ہے ۔جو سچ کو بالکل مصفا شکل میں پیش کرتا ہے ۔

تاریخ بیان کرتے وقت جب وہ شیواجی، ہندو راجاؤوں، ہندو مہاسبھا، سوامی وویکا نند ۔منادر کی تعمیر اور توسیع کا ذکر کرتے ہیں، تو کہیں بھی انکے لہجہ میں تعصب یا انکی مسلمانی نہیں جھلکتی ۔،ایک ذمہ دار انسان، غیر جانبدار تاریخ دان، ایک مفّکر،ایک روادار انسان کی طرح انہوں نے اپنے لہجہ اور اپنی زبان کو ٹھوس رکھا ہے ۔جس سے قاری کو مورخ کی انسان پروری صاف دکھائی دیتی ہے ۔اس ضمن میں، سلطنت خداد کا حوالہ دینا چاہونگی، جسے جناب محمود بنگلوری نے لکھا ہے ۔جناب محمود بنگلوری نے جب جب حضرت ٹیپوسلطان رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر کیا وہاں انکا لہجہ اتنا رقت آمیز ہوگیا، کہ قاری کی آنکھیں بھر آئیں ۔ٹیپو کی عقیدت مندی تاریخی حقایق پر بھاری پڑتی صاف دکھائی دیتی ہے ۔۔جناب ع الصمد خانہ پوری کی غیر جانبداری، نہ صرف قابل ستائش ہے، بلکہ انکے بہترین محقق و مورخ ہونے کی گواہ بھی ہے ۔

کتاب کی ایک اور خوبی ہے اسکا تسلسل ۔مورخ نے واقعات کی ابتداء جہاں سے کی وہ قدیم تہذیبی دور تھا ۔پھر چھوٹے موٹے راجا جو بلگام پر حکومت کرتے رہے ۔بلگام کے نام کا ،ہر حکمران اور زیر سلطنت تبدیل ہونا ایک دلچسپ داستان ہی ہے۔ واقعات کا تسلسل اتنا واضح اور صاف ہے کہ ایک عام قاری بھی اس تاریخ کو نہ صرف آسانی سے سمجھ سکتا ہے بلکہ یاد بھی رکھ سکتا ہے ۔تاریخی تفصیل اتنی آسان ہے کہ تاریخ ایک ناٹک کی صورت زندہ ہوکر ہماری چشم تصور میں پھیل جاتی ہے ،جس کا ہر منظر اپنے پس منظر کے ساتھ واضح ہوکر تخیل میں نکھر آتا ہے ۔اپنی بات کی دلیل کے لئے میں تاریخ ابن فرشتہ اور تاریخ بیجاپور دکن از مولوی بشیر الدین احمد کا حوالہ دونگی جہاں قاری کو واقعاتی تسلسل کی کمی کے باعث بات کو سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے ۔اور واقعات کی کڑیوں کو جوڑنا ہی ایک چیلنج بن جاتا ہے ۔مندرجہ بالا کتاب اس سقم سے مبّرا ہے ۔

اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کتاب ِ ھٰذا کا مواد اور کینوس اتنا وسیع نہیں جتنا کہ مذکور دو اور تواریخ کا ہے ۔
بحیثیت مورخ آپ نے جو زبان استعمال کی ہے وہ سادہ، سلیس، آسان اور عام فہم ہے ۔کتاب کی زبان عربی و فارسی کے ثقیل الفاظ سے مبّرا ہے اسلیےء عام انسان کا ادراک بھی کتاب کو بہ آسانی جذب کرسکتا ہے ۔

کتاب کی ابتداء میں ایک جملہ لکھا ہوا ہے ۔"مادر وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے "جس نے موصوف کو کتاب لکھنے کی طرف توجہ مبذول کروائی ۔بلگام کے تمام تر حکمرانوں نے اور خاصکر مسلمانوں نے بلگام کی تعمیر و تشکیل میں اہم رول ادا کیا اور مادر ِ وطن سے اپنی محبت کا حق ادا کیا۔

اسی حوالے سے ایک اور حدیث یاد آگئی

"بدبخت ہے وہ شخص جس نے اپنی تاریخ سے اپنی جڑیں کاٹ لیں "

اس حدیث کے  پس منظر میں کتاب کو پڑھتے وقت ایک جملہ میرے ذہن میں اُپجا ۔۔۔خوش بخت ہے وہ شخص جو تاریخ سے اپنی جڑیں جوڑتا ہے اور دوسروں کو بھی روشناس کرواتا ہے ۔تاریخ مرتب کرنا نہ صرف سنت ہے، بلکہ عین عبادت بھی ہے، جسکی پیروی نہ صرف خلفائے راشدین نے کی بلکہ ان کے ساتھ تابعین اور تبع تابعین نے کی ،پھر دیگر آئمہ کرام نے اس فن کو زندہ رکھا ۔جب مسلمانوں نے اس سے کنارہ کشی کرلی تو انگریزوں نے اس فن کو اٹھالیا اور وہ اپنے آباء کی تاریخ لکھنے لگے ۔

جناب ع الصمد خانہ پوری نے نہ صرف اس ذمہ داری کو اٹھایا، بلکہ تاریخ نویسی کے فن کو جِلا دی اور بلگام کی عوام کی طرف سے ایک فرض کفایہ بھی ادا کردیا۔جسکے لئے بلگام کے لوگ ہمیشہ موصوف کے احسان مند رہیں گے ۔

اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر میری ایک ذاتی رائے یہ ہے کہ اس کا ترجمہ ریاستی زبان کنڑا، قومی زبان ہندی، بین الاقوامی زبان انگریزی اور پڑوسی ریاستی زبان مراٹھی میں بھی کروایا جائے تاکہ کثرت سے لوگ اس سے استفادہ کرسکیں ۔خاصکر میری آنے والی وہ نسل بھی اسے پڑھ سکے جو بعض حالات کی وجہ اردو سے نابلد ہوتی جارہی ہے ۔

دوسری رائے یہ بھی ہے کہ کتاب کا وہ حصہ جس میں مجاہدین ِ آزادی کا ذکر ہے، جس پر موصوف نے لکھا کہ بہ سبب طوالت ادھوری ہے ،اسے مکمل کرواکر اشتہار یا اخباری ضمیمہ کی شکل میں تین یا چار زبانوں میں شایع کر عوام میں بڑے پیمانے پر تقسیم کروایا جائے، تاکہ احساس کمتری میں مبتلا قوم، اور پیچھے دھکیلے جاتے نوجوان فخر سے کہہ سکیں کہ اس وطن کی مٹی کی سینچائی میں انکا خون بھی شامل ہے وہ مجاہدین آزادی تو ہوسکتے ہیں لیکن دہشت گرد نہیں ۔

کتاب کا دوسرا حصہ اولیائے دکن (بلگام )پر مشتمل ہے .یہاں پر بھی جناب نے بڑی تفصیل کے ساتھ نہ صرف اولیائے کرام کی ذات، حیات، خدمات کا ذکر کیا ہے بلکہ انکے مقبرہ جات کی تصاویر رنگین عکسی صفحات میں شایع کرواکر اپنی عقیدت مندی کا ثبوت بھی دیا ہے ۔بلگام کے تمام ترمساجد کی تعمیر و توسیع، قلعہ اور دیگر عمارات کی تعمیر و توسیع اور درستی کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے ۔اس سے بڑھ کر تمام تاریخی منادر اور گرجا گھروں کی تعمیر کا ذکر بھی تفصیلاً موجود ہے ۔

ایک اور قیمتی رائے یہ ہے کہ ان تمام آثار قدیمہ، درگاہ جات، منادر، مساجد، گرجے، قلعہ، باقیات، کھنڈرات کی گوگل میپنگ (گوگل کے زریعہ نقشہ کاری) کرواکر اگر وکی پیڈیا یا گوگل پر لگادی جائے تو مستقبل میں کسی بھی قسم کے تنازعات سے بچا جا سکتا ہے، اور بابری مسجد جیسا واقعہ پیدا ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے، جس سے حکومتیں بنائی اور بگاڑی جاتی ہیں ۔اور سیاسی بازار گرم رہتے ہیں ۔

کتاب کا تیسرا حصہ ادبی افادیت سے تعلق رکھتا ہے

پہلی ادبی افادیت یہ ہے کہ آپ نے حوالے کے ساتھ لکھا ہے  "ابراہیم عادل شاہ نے فارسی کو ترک کرتے ہوئے دکنی اردو کو درباری زبان کے عہدے پر فائز کیا اور دربار و حکومت کے تمام ترمعاملات دکنی اردو میں لکھے جانے لگے ۔"

یہ بہت بڑی ادبی خدمت ہے جو موصوف نے انجام دی ہے جس سے ہماری نسل آگاہ رہیگی ۔

دوسرا واقعہ یہ لکھا گیا ہے کہ بیل ہونگل کے مجاہد آزادی سنگولی رایناّ کی حیات پر لکھا گیا ناول جس پر فلم بنی جس کی کردار نگاری اداکار درشن نے کی ہے ۔

تیسرا ادبی حوالہ حضرت اسد اللہ خان لاری رحمتہ اللہ علیہ کے ذکر میں آیا ہے جو کہ ابراہیم عادل شاہ کے سسر تھے ۔اور عادل شاہی حکومت کے استحکام میں جنہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔۔ان کی ذات کو تاریخی کردار بناکر محترم احسن ممتاز نے دوتاریخی ناول لکھے "غدار کی واپسی " "جاں باز کنیز "..جو ماہنامہ" تاریخی داستان" میں قسط وار شایع ہوئے اور بہت مشہور ہوئے ۔یہ ایک بہت بڑا ادبی تاریخی حوالہ ہے جو ادب کی خاک چھاننے والوں کے لئے کیمیا ہے ۔

اسکے بعد بلگام میں آزادی کے بعد ہوئی تاریخی، ادبی و لسانی تحریکوں پر کافی تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے ۔ان تمام اداروں کا ذکر کیا ہے جو تعلیم کو عام کرنے اور عوامی بیداری مہمات میں لگے ہیں ۔بلگام میں شایع ہونے والے تمام اخبارات کی عکسی تصاویر دی گیء ہیں اور انکی تفصیلات درج ہیں ۔تمام جوہران صحافت کا ذکر بھی ہے، جنہہوں نے اخبارات کو چلاتے چلاتے خود کو خاک کر ڈالا ۔ان تمام ادباء اور شعراء کا ذکر بھی ہے جنہوں نے ادبی سرزمینِ بلگام کی آبیاری کی ۔

آخر میں ان تمام بنکس اور امداد باہمی سے چلنے والے اداروں کا ذکر ہے جن پر بلگام کی معیشت چلتی ہے ۔

کتاب "بلگام تاریخ کے آئینہ میں "مصنف جناب ع الصمد خانہ پوری کے والدِ مرحوم محی الدین صاحب محمد صاحب خانہ پوری کے نام منسوب ہے ۔

کتاب کی ضخامت 250صفحات پر مبنی A5 سائیز پر چھپی کتاب  کی قیمت 250روپیہ ہے اشاعت کا کاغذ معیاری نہیں ہے نہ ہی بائنڈنگ عمدہ ہے ۔مگر سر ورق دیدہ زیب ہے، اور تاریخی تصاویر سے مزئین ہے ۔اسکے مالکانہ حقوق جناب ع الصمد خانہ پوری کے پاس موجود ہیں ۔کتاب کی اشاعت اشرفی پرنٹرس ہبلی نے کی ہے۔

کتاب ملنے کا پتہ

اقبال بک ڈپو بھینڈی بازار بلگام فون 09844175764

مومن بک ڈپو بھینڈی بازار بلگام فون 08880932949

عبد الصمد خانہ پوری فون 9880924402

مبصر
مہر افروز
الرحمٰن
تھرڈ فیز کے ایچ بی کالونی
ڈی این کوپّ دھارواڑ 580008
کرناٹک
انڈیا

ایک باوقار فنکار ،خوبصورت شاعر.....صابرفخرالدین ​

ایک باوقار فنکار ،خوبصورت شاعر.....صابرفخرالدین ​

ایک باوقار فنکار ،خوبصورت شاعر.....صابرفخرالدین 
غلام ربانی فداؔ
مدیراعلیٰ جہان نعت ہیرور

یادگیر ایک پتھروں کے درمیان آباد شہر ہے اور آج اس مقام کی انفرا دیت یہ بھی ہے کہ یہ شعر و ادب کا ایک اچھا مرکز ہے یہاں نہ صر ف اچھے لکھنے والے موجود ہیں بلکہ یہاں کے عوام میں ایک صحت مند ادبی ذوق بیدار ہے ۔ 

ادب کی سزرخیز سر زمین سے ایک کہنہ مشق شاعر صابرفخرالدین
اپنے پہلے شعر ی مجموعہ’’ ۔۔۔ ستارے ڈوب جاتے ہیں ‘‘(مختصرنظمیں)
کے ساتھ ادبی منظرنامے پر نمو دار ہو گئےتھے ۔اب یہ نہایت ہی حوصلہ افزاء بات ہے کہ وہ پھر سے اپنے دوسرے 
مجموعہ کلا م ’’ بیاضِ شعر‘‘ کو لیکر ایوان ادب میں دستک دےچکےہیں۔اورمقبولیت کے آسماں کوچھوچکا ہے۔
صابرفخرالدین کےدونوں مجموعہ’ ۔۔۔ ستارے ڈوب جاتے ہیں ‘کے مطالعہ سے
یہ بخوبی اند ازہ لگا یاجاسکتاہے کہ یہ چشمہ ایک دن ضرور ایک دریامیںتبدیل ہوجائے گا ۔دونوں مجموعۂ کلام میرے پیش نظرہیں۔علاوہ ازیںصابرفخرالدین کی گا ہے ماہے رسائل و اخبارات میں تخلیقات نظر سے گذرتی ہیں اور توجہ طلب ہوتی ہیں ۔ 

اُردو کے بیشتر شعر اء کی طرح صابرنے اپنی شاعر ی کا آغاز غزل ہی سے کیا ہے ۔ غزل ان کی محبوب صنف ِ سخن ہے۔صابرفخرالدین ؔکی شاعری کو پڑ ھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے ان کی شاعری میں ایک سچا اور حقیقی شاعر نشو نما پارہا ہے ۔ صابرفخرالدین کو اُردو زبان پر اہلِ زبان کی سی قدرت ضرور حاصل ہے ہلکی پھلکی بحروں میں ان کا نرم لب و لہجہ بڑا ہی دلکش معلوم ہوتا ہے 
صابرفخرالدین کے چند اشعار نے تو بیک نظر میری توجہ کو جذب کر لیاہے اور ان کے کلام میں وہ خوبیا ں ضرور موجود ہیں جو اُردو غزل کی بہترین روایات کی مظہر ہیں اور سنجیدہ ترین اوصاف کی حامل ہیں ۔ اُن کے تازہ غزلیہ کلام میں چند ایسے اشعار قابلِ توجہ ہیںجن کو مُشتے از خر وارے کے طور پر پیش کر رہا ہوں ۔ جن سے اُن کے مزاج و آہنگ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
یہ شعر واقعی بڑے خوبصورت ہیں ملاحظہ فرمایئے
طئے کوئی نرحلہ ابھی نہ ہوا
وقت کا فیصلہ ابھی نہ ہوا
سانس آتی ہے اور جاتی ہے
ختم ابھی یہ سلسلہ نہ ہوا
قرض سانسوں کا اترنا مشکل
جاتے لمحوں کا ٹھہرنا مشکل
ساری دنیا کو جو کھونا تھا مجھے
اپنے ہی آپ میں ہونا تھا مجھے
یہی تو سوچ کے میں نے اٹھا لیا پتھر
رہوں گا تو پھر آئے گا دوسرا پتھر
میں جانتا ہوں زمین و زماں کی کیفیت

بتاؤ پوچھ رہے ہو کہاں کی کیفیت
انتظار کی کیفیت کو بڑ ے سلیقہ سے پیش کیا ہے ۔ 
چلے بھی آؤ کہ صدیوں سے انتظار میں ہوں
تمہیں دکھاؤں ذرا قلب و جاں کی کیفیت
ترے ملن کی خوشی ہو کہ ترے ہجر کا غم
رہی ہے ایک سی کب جسم و جاں کی کیفیت
زندگی کے حقائق کو ہلکے پھلکے انداز میں چھو ٹی چھوٹی بحروں میں سمونا صابرؔ کا کمال ہے ۔
میں اپنے کام سے آیا ہوا تھا
مگر شہر آکے گھبرایا ہوا تھا
چھوٹی چھوٹی دیواریں تھیں
سستے کرایہ کی چالیں تھیں
میں جب چھوٹا بچہ تھا
سب کچھ اچھا لستا تھا
کمروں سے آزادی تھی
گودیوں میں رہتا تھا
نگاہوں پر اگر پہرا لگے گا
تو ہر اک شخص بے چہرہ لگے گا
ہر غزل میں زندگی کے اقدارکی عکاسی اور تجر بوں کا نچوڑ ملتا ہے ۔ ایک اچھے شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ روایت کا پاسدار بھی ہو اور جدید تقاضوں کا شعور بھی رکھتا ہو۔صابرفخرالدین کے کلام میں ایسے بے شمار اشعار ملتے ہیں ۔
ہر لمحہ تمہاری فکر صابرؔ
اڑانوں کے جہاں کیوں ڈھونڈتی ہے
زمانہ مجھ کو ڈراتا بھی کیا کہ میں صابرؔ
قدم قدم پہ سزا ساتھ ساتھ رکھتا تھا 
یہ جُرّ اتِ گفتا ر کا اقرار اور عزم شاعرکی ذہنی سطح کی بلندی کا پتہ دیتی ہے ۔
ستارے ڈوب جاتے ہیں کی مختصر نظموں میں کہیں کہیں ایک مصرعہ یا فقرہ کا گمان ہوتاہے۔کہیں مختصرنظم اقوال زرین کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے یا کسی محاورہ کی نئی شکل میں قاری کے دل فرحت عطا کرتی ہے اور کچھنظمیںتو عام قاری کے سمجھ سے بالاتر یاسرکے اوپرسے گزرجاتی ہیں۔
صابرفخرالدین کی مختصر نظموں میں مشاہدہ بھی ہے زندگی کاتلخ تجربہ بھی۔الفاظ کا رکھ رکھاؤ اور خطیبانہ انداز ان کی نظموں کے شناخت ہے۔صابرفخرالدین کی نظموں کا اختتام ڈرامائی اور حیران کن ہوتا ہے جس میں کبھی کبھی تشنگی باقی رہ جاتی ہے۔المختصر مختصر نظمیں قابل مطالعہ اورصابرفخرالدین کی غزلیات قاری کی تنہائی کی ساتھی ہیں۔میری تمنائیں صابرفخرالدین کے ساتھ ہیں۔
صابرفخرالدین کے چند مختصرنظمیں پیش ہیں۔دیکھنا ہے قاری کے دامن دل کواپنے کس طرح متوجہ کرتی ہیں۔ اوریہی کشش صابرفخرالدین کی کامیابی کی سندہے۔
زندگی 
شطرنج کا
اک کھیل ہے
جس میں اجل ہی 
اصل مہرہ ہے
جیالو
چاند نگر کے
رہنے والو
دھوپ نگر میں
کیا ہوتاہے
تم کیاجانو
جب بھی 

غروب ہوتاہے
چاندنی کو
حیات
ملتی ہے

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular