Showing posts with label بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan). Show all posts
Showing posts with label بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan). Show all posts
دُعا

دُعا

اے  خداوند  جہاں   اے  کردگار
تیری رحمت کا ہوں میں امیدوار
گو کہ  میں  اک بندہ   ناکارہ  ہوں
بیکس و مجبور ہوں بے چارہ ہوں
تیری  رحت سے مگر دل  شاد ہوں
نعمتوں  کے باغ  کا شمشاد ہوں 
تو  نے   ایسا  فضل   مجھ  پر  کردیا
رحمتوں  سے میرا  دامن بھر دیا
میری قسمت اس طرح نوری ہوئی
یہ  ''بہشتی  کنجیاں''پوری  ہوئی
کس   زبان   سے   شکر  تیرا ہو ادا
میں   تیرا  بندہ  ہوں  تو میرا خدا
اے  خدا جب تک  رہیں لیل و نہار
دو  جہاں میں  ہو یہ  میری یاد گار
غنچہ   امید     کھل    کر   پھول   ہو
نور  کی سرکار   میں   مقبول   ہو
آنکھ  روشن   پڑھ کے ہر دل  سیر ہو
اور    میرا     خاتمہ     بالخیر     ہو
ہوں  مرے  ماں باپ  یارب جنتی
از  طفیل  ''رَبِّ ھَبْ لِیْ اُمَّتِیْ''
میرے  سب   استاد  بھی احباب بھی        
 جنۃ   الفردوس   پا  جائیں سبھی
کر   دعائے    اعظمی  ؔیا رب  قبول         
بہر    اصحابِ    نبی   آلِ   رسول

(۶۰) صالحین کی خدمت

(۶۰) صالحین کی خدمت

حدیث:

    عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَفُّ اَھْلُ النَّارِ فَیَمُرُّ بِھِمُ الرَّجُلُ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ الرَّجُلُ مِنْھُمْ یَا فُلَانُ اَمَا تَعْرِفُنِیْ اَنَا الَّذِیْ سَقَیْتُکَ شَرْبَۃً وَقَالَ بَعْضُھُمْ اَنَا الَّذِیْ وَھَبْتُ لَکَ وَضُوْءً فَیَشْفَعُ لَہٗ فَیُدْخِلَہٗ الْجَنَّۃَ۔رواہ ابن ماجہ (1)

 (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۹۴)
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جہنمی لوگ ایک قطار میں کھڑے کیے جائیں گے تو ایک جنتی آدمی کا ان لوگوں کے پاس گزر ہوگا تو جہنمیوں میں سے ایک آدمی اُس سے کہے گا کہ اے فلاں !کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ میں وہی ہوں کہ آپ کو شربت پلایا تھا اور کوئی جہنمی کہے گا کہ میں وہی ہوں کہ آپ کو وضو کا پانی دیا تھا تو وہ جنتی اُس جہنمی کی شفاعت کریگااوراس کوجنت میں داخل کردے گا۔ اس حدیث کو ابنِ ما جہ نے روایت کیا ہے۔

تشریحات وفوائد


     صالحین یعنی علمائے ملت و مشایخ کے ساتھ عقیدت و محبت اور اِن حضرات کی مخلصانہ خدمت دونوں جہاں میں خیر و برکت کا باعث اور قیامت کے لئے بہترین سامانِ آخرت ہے۔ آپ نے حدیث میں پڑھ لیا کہ ایک گھونٹ شربت یاپانی پلانے والے اور وضو کے لیے پانی دینے والے آدمی کو صالحین کی اتنی ہی سی خدمت کی بنا ء پر ایک نیک بندے کی شفاعت سے جنت مل گئی اور جہنم سے ہمیشہ کے لیے رہائی حاصل ہوگئی۔ حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

شنیدم کہ در روز امید و بیم 
بداں را بہ نیکاں بہ بخشد کریم

    یعنی میں نے سُنا ہے کہ قیامت کے دن خداوندِ کریم بہت سے گناہگاروں کو نیکوں کی و جہ سے بخش دے گا۔ فقط ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
    وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللہِ وَھُوَحَسْبِیْ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِہٖ وَھُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔
تمت بالخیر

(۵۹)    مفلسی اور فقیری

(۵۹) مفلسی اور فقیری

حدیث:۱

    عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُمْتُ عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ فَکَانَ عَامَّۃُ مَنْ دَخَلَھَا الْمَسَاکِیْنُ (1)

 (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۴۶)
    حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو عام طور پر جنت میں داخل ہونے والے مسکین لوگ تھے۔
حدیث:۲

     عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الْاَغْنِیَاءِ بِخَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ نِصْفِ یَوْمٍ(2)  (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۴۷)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمنے فرمایا کہ فقیر لوگ مالداروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں داخل ہوں جائیں گے جو آخرت کا آدھا دن ہے۔

تشریحات وفوائد


    مؤمن کی مفلسی اور غریبی یہ خداوند قدوس کی طرف سے مؤمن بندوں کا امتحان ہے اگر مسلمان صبر کے ساتھ اس امتحان میں کامیاب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اُس مفلس و غریب مسلمان کومالداروں سے پانچ سوبرس پہلے ہی جنت میں داخل فرمادے گا۔ آخرت کاایک دن دنیاکے ہزاربرس کے برابرہوگااس لیے پانچ سوبرس میں آخرت کا آدھا دن ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(۵۸) تکلیفوں کے بدلے جنت

(۵۸) تکلیفوں کے بدلے جنت

 عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّھَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہٖ۔متفق علیہ (1)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم شہوتوں سے ڈھانپی ہوئی ہے اور جنت تکلیفوں سے ڈھانپی ہوئی ہے۔یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے۔

تشریحات وفوائد


    مطلب یہ ہے کہ جہنم تک نہیں پہنچ سکتے مگر شہوتوں کے مرتکب بن کر اور جنت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تکلیفوں کے مرتکب نہیں ہوں گے۔
تکلیفوں سے مُراد قسم قسم کی عبادتوں کی محنتیں اور تکلیفیں، نیز مصائب اور طاعات پر صبر کی کلفتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر قسم کی تکلیفوں پر صبرکی جزاء جنت ہے توگویا جنت تکلیفوں سے گھری ہوئی ہے کہ مسلمان جب تکلیفوں کی منزلوں کوصبرکے ساتھ طے کرلیتا ہے تو جنت میں پہنچ جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(۵۷) چھ عمل پر جنت کی گارنٹی

(۵۷) چھ عمل پر جنت کی گارنٹی

حدیث:

    عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَضْمِنُوْا لِیْ سِتًّا مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَضْمَنُ لَکُمُ الْجَنَّۃَ اُصْدُقُوْا اِذَا حَدَّ ثْتُمْ وَاَوْفُوْا اِذَا وَعَدْتُمْ وَاَدُّوْا اِذَا ائْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ وَغُضُّوْا اَبْصَارَکُمْ وَکُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ (1)

                     (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۱۵)

    حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے لیے اپنی ذاتوں کی طرف سے چھ چیزوں کی ذمہ داری قبول کرلوتو میں تم لوگوں کے لیے جنت کی ذمہ داری قبول کرلوں گا۔(۱) جب بات کرو توسچ بولو۔(۲) جب وعدہ کرو تو پورا کرو۔(۳) جب تم امین بنائے جاؤ تو امانت کو ادا کرو۔(۴) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو(۵) اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو۔ (۶) اپنے ہاتھوں کو گناہ کے کاموں سے روکے رکھو۔

تشریحات وفوائد


    یہ سب اعمال الگ الگ بھی جنت میں لے جانے والے اعمال ہیں جن میں سے بعض کا تذکرہ ہم پہلے صفحات میں تحریر کرچکے ہیں مگر اس حدیث میں مجموعی طور پر ان چھ اعمال کی ذمہ داری قبول کرنے پر حضور اکرمصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جنت کی گارنٹی دی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

(۵۶) توکل

(۵۶) توکل

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ اُمَّتِیْ سَبْعُوْنَ اَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ ھُمُ الَّذِیْنَ لَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ متفق علیہ (2)

 (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۵۲)
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت میں میری امت میں سے ستر ہزار بغیر حساب کے داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے ہیں اور بدشگونی نہیں لیتے ہیں اور اپنے پروردگارعزوجل ہی پر توکل کرتے ہیں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے۔

تشریحات وفوائد


بیماریوں میں قرآنی آیتوں اوردعاؤں کے ذریعے گنڈہ تعویذکرناکرانااور جھاڑ پھونک کرانا اور دوا علاج کرانا جائز ہے لیکن متوکلین کی جماعت جو صرف اللہ عزوجل پرتوکل کرتے ہیں اورہرقسم کے تعویذگنڈوں اوردواؤں سے قطع تعلق رکھتے ہیں اس حدیث میں انہی بزرگوں کا تذکرہ ہے جو بلاحساب جنت میں داخل ہوں گے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
گوشت پتھر ہوگیا

گوشت پتھر ہوگیا

    اسی طرح ایک دوسری حدیث بھی بہت ہی عبرت ناک اور رقت انگیز ہے جس کے راوی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس کسی نے ہدیہ میں ایک بوٹی گوشت بھیجا تو چونکہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کوگوشت بہت پسند تھا اُم المؤمنین نے خادمہ سے کہاکہ اس گوشت کوگھرمیں رکھ دوشایدنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس کوکھائیں۔ چنانچہ خادمہ نے اس گوشت کو گھر کے طاق میں رکھ دیا اس کے بعد ایک سائل آیا اور دروازے پر یہ صدا لگائی کہ صدقہ دو اللہ عزوجل تم گھر والوں کو برکت دے ۔یہ سن کر گھر والوں نے کہہ دیا کہ اے سائل!اللہ عزوجل تم کو برکت دے یہ سن کر سائل چلا گیا پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم مکان میں داخل ہوئے اور فرمایا کہ اے اُمِ سلمہ!تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے کہ میں اس کو کھاؤں تو حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نوکرانی سے فرمایا کہ تم جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لیے وہ گوشت لاؤ تونوکرانی گئی لیکن اس طاق میں اس کو ایک چکنے پتھر کے ٹکڑے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ملا اس پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے فقیر کو گھر میں گوشت ہوتے ہوئے نہیں دیا اور واپس لوٹا دیا تو وہ گوشت پتھر ہوگیا۔ اس حدیث کو امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں روایت فرمایا ہے۔(1) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۶)
حدیث الابرص والا قرع والا عمیٰ

حدیث الابرص والا قرع والا عمیٰ

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کے تین آدمی ایک کوڑھی برص والا، دوسرا گنجا، تیسرا اندھا ، اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کے امتحان کا ارادہ فرمایا تو ان تینوں کے پاس ایک فرشتہ کو بھیج دیا چنانچہ وہ فرشتہ سب سے پہلے برص والے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ دنیا میں تم کو سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ اچھا رنگ ، اچھی کھال اور میری یہ بیماری چلی جائے جس کی و جہ سے تمام لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے بدن پرہاتھ پھیردیاتو ایک دم اس کامرض دفع ہوگیااوراللہ تعالیٰ نے اس کوبہترین رنگ اوربہترین کھال عطا فرمادی پھرفرشتے نے اس سے پوچھاکہ تمہیں کون سا ساما ن پسند ہے؟ تو اس نے کہا کہ ''اونٹ ''تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو ایک گابھن اونٹنی عطا کردی گئی اور فرشتہ یہ کہہ کر اس کے پاس سے چل دیا کہ اللہ تعالیٰ تم کو برکت عطا فرمائے۔
    پھر یہ فرشتہ گنجے کے پاس آیااور کہا کہ دنیا میں تم کو سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ حسین بال اور میری یہ بیماری چلی جائے جس کی و جہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے اوپر ہاتھ پھیرا تو دم زدن میں اس کی بیماری جاتی رہی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو نہایت ہی حسین بال عطا کردیئے گئے۔ اس کے بعد فرشتے نے پوچھا کہ تمہیں کون سا مال پسند ہے؟ تو اس نے کہا کہ ''گائے ''تو اس کو ایک گابھن گائے عطا کردی گئی اور فرشتہ یہ کہہ کر چل دیا کہ اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے۔
    اس کے بعد یہ فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ دنیا میں تم کو کون سی چیز سب سے زیادہ محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ بس یہی کہ اللہ تعالیٰ میری بینائی کو واپس عطافرمادے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے اوپر ہاتھ پھرا دیا توفوراً ہی بینا ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔ پھر فرشتے نے کہا کہ تم کو کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ تو اس نے کہاکہ ''بکری'' تو اس کو ایک گابھن بکری عطا کردی گئی پھر اونٹنی، گائے، بکری تینوں نے بچے دیئے اور ان میں اس قدر برکت ہوئی کہ کوڑھی کے پاس ایک میدان بھر کر اونٹ ہوگئے۔ اور گنجے کے پاس ایک میدان بھر کر'' گائیں ''ہوگئیں اور اندھے کے پاس ایک میدان بھر کر بکریاں ہوگئیں، پھر کچھ دنوں کے بعد یہی فرشتہ برص والے کوڑھی کے پاس اپنی اُسی شکل و صورت میں آیا جس شکل و صورت میں پہلی مرتبہ آیا تھااور آکر اس نے کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اور میرے سفر کے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہیں اب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مجھے وطن میں پہونچانے والا نہیں ہے میں تم سے اس اللہ کے نام پر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور خوبصورت چمڑا اور اونٹ کی دولت عطا کی ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں کہ اس کے ذریعے میں اپنا سفر تمام کرلوں۔ یہ سن کر کوڑھی نے جواب دیاکہ مجھ پر بہت سے حقوق ہیں(یعنی بہت سے لوگوں کو اور بہت سے کاموں میں دینا ہے)فرشتے نے کہا کہ میں تم کو پہچانتا ہوں کہ کیا تم کوڑھی نہیں تھے؟ کہ تمہارے برص کی و جہ سے تمام لوگ تم سے نفرت اور گھن کرتے تھے اور تم فقیر تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیماری دور کرکے تمہیں مال عطافرمادیا یہ سن کر کوڑھی نے کہا کہ مجھے تو یہ مال اپنے بزرگوں سے میراث میں ملا ہے۔ فرشتے نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو تو اللہ تعالیٰ پھر تمہیں ویسا ہی کردے جیسے کہ تم پہلے تھے۔ 
    پھر وہ فرشتہ اپنی صورت میں گنجے کے پاس آیا اور ویسے ہی سوال کیاجیسے کہ کوڑھی سے کیا تھااور گنجے نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا تو فرشتہ اس کے پاس سے بھی یہی کہہ کر چل دیا کہ اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو اللہ تعالیٰ پھرتجھے ویسا ہی کردے جیسا کہ تو پہلے تھا۔

    اس کے بعد یہ فرشتہ اپنی پہلی ہی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اورمسافرہوں میرے سفرکے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہیں اب اللہ کی مدد کے سوا میرے وطن پہنچنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے میں تم سے اُس اللہ کے نام پر جس نے دوبارہ تم کو بینائی عطا کی ایک بکری مانگتا ہوں کہ اس کو میں اپنے وطن پہنچنے کا ذریعہ بناؤں، یہ سن کر اندھے نے کہا کہ جی میں تو اندھاتھا تو اللہ نے مجھے دوبارہ بینائی عطا فرمادی (تم نے اللہ عزوجل کے نام پر سوال کیا ہے)تو اس میدان میں میری جتنی بکریاں ہیں ان میں سے جتنی چاہو تم لے جاؤ اور جتنی چاہو چھوڑ جاؤ خدا کی قسم تم اللہ عزوجل کے نام پر جتنی بھی لے لو گے میں تم سے اس کا مطالبہ کرکے تمہیں مشقت میں نہیں ڈالوں گا۔
    یہ سن کر فرشتہ نے کہا کہ تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو تم تینوں کا امتحان لیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ تم سے خوش ہوگیا اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوگیا۔(1)اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۵)
(۵۵) سخاوت

(۵۵) سخاوت

    سخاوت بھی جنت میں لے جانے والے اعمال میں بہت ممتاز عمل ہے اس کے بارے میں بھی چند حدیثوں کی تجلیاں دیکھئے۔
حدیث:۱

    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلسَّخِیُّ قَرِیْبٌ مِّنَ اللہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ قَرِیْبٌ مِّنَ النَّاسِ بَعِیْدٌ مِّنَ النَّارِ وَالْبَخِیْلُ بَعِیْدٌ مِّنَ اللہِ بَعِیْدٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ بَعِیْدٌ مِّنَ النَّاسِ قَرِیْبٌ مِّنَ النَّارِ وَالْجَاھِلُ السَّخِیُّ اَحَبُّ اِلیَ اللہِ مِنْ عَابِدٍ بَخِیْلٍ(1)  (ترمذی،ج۲،ص۱۸)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ سخی!اللہ عزوجل سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، تمام لوگوں سے قریب ہے، جہنم سے دور ہے اور کنجوس! اللہ عزوجل سے دور ہے، جنت سے دور ہے،تمام لوگوں سے دور ہے، جہنم سے قریب ہے اور جاہل سخی عابد بخیل سے زیادہ اللہ عزوجل کو پیارا ہے۔
حدیث:۲

    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلسَّخَاءُ شَجَرَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ فَمَنْ کَانَ سَخِیًّا اَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْھَا فَلَمْ یَتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ وَالشُّحُّ شَجَرَۃٌ فِی النَّارِ فَمَنْ کَانَ شَحِیْحًا اَخَذَ بِغُضْنٍ مِنْھَا فَلَمْ یَتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی یُدْخِلَہ النَّارَ (2)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۷)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے تو جو شخص (دنیا میں)سخی ہوگا وہ اس درخت کی ایک شاخ کو پکڑے گا تو وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑے گی یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کردے گی اور بخیلی جہنم میں ایک درخت ہے تو جو شخص (دنیا میں)بخیل ہوگا وہ اس درخت کی ایک شاخ پکڑے گا تو وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑے گی یہاں تک کہ اس کو دوزخ میں ڈال دے گی۔

حدیث:۳

عَنْ اَبِیْ بَکْرِنِالصِّدِّیْقِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ خِبٌّ وَّلَا بَخِیْلٌ وَّلَا مَنَّانٌ۔رواہ الترمذی (1) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۵)
    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں کمینی خصلت والااورکنجوس اوراحسان جتانے والا نہیں داخل ہوگا۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۴     وَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِیْ مُؤْمِنٍ اَلْبُخْلُ وَسُوْءُ الْخُلْقِ (2)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۶۵)
    حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ دو خصلتیں مؤمن میں جمع نہیں ہوں گی کنجوسی اور بداخلاقی۔


تشریحات وفوائد


 (۱) احادیث مذکورہ بالااور دوسری حدیثوں سے ظاہر ہے کہ سخاوت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند اور کنجوسی بہت ہی ناپسند ہے اور اللہ تعالیٰ سخی کو جنت عطا فرمادے گااور کنجوس کو جہنم میں بھیج دے گا۔
 (۲)اس عنوان کی حدیث نمبر ۳ میں جو یہ آیا ہے کہ لُچے،کنجوس،احسان جتانے والے جنت میں داخل نہیں ہوں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ لوگ ان تینوں صفتوں کے ساتھ آلودہ رہیں گے جنت میں نہیں جائیں گے اور جب یہ لوگ بُری خصلتوں سے پاک ہوجائیں گے توجنت میں جائیں گے اور اِن بری خصلتوں سے پاک ہونے کی دو صورتیں ہیں یا تو مرنے سے پہلے ان بری خصلتوں سے سچی توبہ کرلیں یا یہ کہ جہنم میں یہ لوگ اپنے گناہوں کے برابر جل لیں بہرحال جب توبہ کرکے یا اپنے گناہوں کے برابر جہنم میں جل کراِن بری خصلتوں سے پاک ہوجائیں گے توپھر صاحب ایمان ہونے کی و جہ سے جنت میں جائیں گے۔
(۳)اس عنوان کی حدیث نمبر۴کا یہ مطلب ہے کہ مؤمن میں کنجوسی اور بداخلاقی یہ دونوں بری خصلتیں بہ یک وقت جمع نہیں ہوں گی مؤمن اگر''کنجوس''ہوگاتو''بداخلاق ''نہیں ہوگااوراگر ''بداخلاق''ہوگا تو''کنجوس''نہیں ہوگااورجس مسلمان کودیکھوکہ کنجوس بھی ہے اور بداخلاق بھی تو اس حدیث کی روشنی میں یہ سمجھ لو کہ اس شخص کے ایمان میں کچھ نہ کچھ فتو ر ضرور ہے۔
(۴)بعض حدیثوں سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنے بندوں کی سخاوت اور کنجوسی کا امتحان بھی لیا کرتا ہے اس لیے جب کوئی سائل تمہارے دروازے پر آئے تو ہمیشہ اس کا خیال رکھو کہ کہیں خدا عزوجل کی طرف سے میرا امتحان تو نہیں ہورہا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہم یہاں اندھے، گنجے ، کوڑھی کے امتحان والی حدیث کا ترجمہ تحریر کرتے ہیں جو بہت ہی عبرت خیز اور نصیحت آموز ہے۔
(۵۴) رحم و شفقت

(۵۴) رحم و شفقت

حدیث:۱

    عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُھُمْ الرَّحْمٰنُ اِرْحَمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ یَرْحَمُکُمْ مَنْ فِی السَّمَاءِ اَلرَّحْمُ شُجْنَۃٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَمَنْ وَصَلَھَا وَصَلَہُ اللہُ وَمَنْ قَطَعَہَا قَطَعَہُ اللہُ (2)
    حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو تو تم لوگوں پر آسمان والا رحم فرمائے گا۔ رشتہ داری رحمن سے تعلق رکھنے والی ایک شاخ ہے تو جو شخص اس کو ملائے گا اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا اور جو شخص اس کو کاٹے گا اللہ عزوجل اس کو کاٹ دے گا۔
حدیث:۲

    عَنْ اَنَسٍ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا رَحِیْمٌ (1) (کنز العمال،ج۳،ص۶۸)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جنت میں رحم کرنے والا ہی داخل ہوگا۔
حدیث:۳

    عَنْ اَنَسٍ مَنْ قَادَ اَعْمٰی اَرْبَعِیْنَ خُطْوَۃً لَمْ تَمَسَّ وَجْھَہُ النَّارُ (2)

                      (کنز العمال،ج۲۰،ص۲۵۵)
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جو کسی اندھے کو چالیس قدم ہاتھ پکڑ کر چلائے گا اس کے چہرے کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔
حدیث:۴

    عَنْ جَرِیْرٍ مَنْ لَا یَرْحَمُ لَا یُرْحَمُ وَمَنْ لَا یَغْفِرُ لَا یُغْفَرُ لَہٗ وَمَنْ لَا یَتُوْبُ لَا یَتُوْبُ اللہُ عَلَیْہِ (3)

 (کنز العمال،ج۳،ص۹۴)
    حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جو رحم نہیں کریگا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا اور جو خطا نہیں بخشے گا اس کی خطا نہیں بخشی جائے گی اور جو توبہ نہیں کریگا اس کی توبہ نہیں قبول کی جائے گی۔


تشریحات وفوائد


 (۱)رحم و شفقت اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ محبوب ہے۔ رحم اپنے رشتہ داروں، آدمیوں، جانوروں ، سب کے ساتھ اچھا ہے یہاں تک کہ جن چیزوں کو قتل کرنے کا حکم ہے ان کے بارے میں بھی یہ حکم ہے کہ ان کو بے رحمی کے ساتھ مت قتل کروبلکہ رحم و شفقت اور اچھائی کے ساتھ قتل کرو۔
(۲) اس عنوان کی حدیث نمبر ۴ میں جو یہ ہے کہ ''جو رحم نہیں کرے گا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ ''اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا میں جو آدمی لوگوں پر رحم نہیں کرے گا دنیا میں اس پر بھی کوئی رحم کرنے والا نہیں ہوگا۔
    چنانچہ تاریخ اس قسم کے واقعات کی شاہد ہے کہ بڑے بڑے خونخوار ظالموں کا اس دنیا میں یہ انجام ہوا ہے کہ وہ مجبورو لاچار ہو کر دربدر لوگوں سے رحم و کرم کی بھیک مانگتے مانگتے مرگئے مگر کوئی ان پرترس کھا کر رحم کرنے والا نہیں ملا۔
    اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جو دنیا میں لوگوں پر رحم نہیں کرے گا قیامت کے دن اللہ عزوجل بھی اس پر رحم نہیں فرمائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(۵۳) مسلمانوں کی پردہ پوشی

(۵۳) مسلمانوں کی پردہ پوشی

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْیَا نَفَّسَ اللہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَمَنْ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ فِی الدُّنْیَا یَسَّرَ اللہُ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَنْ سَتَرَ عَلٰی مُسْلِمٍ فِی الدُّنْیَا سَتَرَ اللہُ عَلَیْہِ فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِیْہِ (2)

 (ترمذی،ج۲،ص۱۵)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو کسی مسلمان سے ایک تکلیف کو دنیا کی تکلیفوں میں سے دور کردے تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف کو دور فرمادے گااور جو کسی تنگ دست پردنیامیں آسانی کردے تواللہ تعالیٰ دنیاوآخرت میں اس پرآسانی فرما دے گا اور جو کسی مسلمان کی دنیا میں پردہ پوشی کریگا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا و آخرت میں پردہ پوشی فرمائے گااور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔
حدیث:۲

    عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ لَا یَرٰ ی اِمْرَؤٌ مِنْ اَخِیْہِ سَیِّئَۃً فَیَسْتُرَھَا عَلَیْہِ اِلَّا اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ (1)

(کنز العمال،ج۳،ص۱۴۵)
    حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جوآدمی اپنے بھائی کی کوئی برائی دیکھ کر اُس کی پردہ پوشی کر دے تو وہ جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
(۵۲) خیر خواہی

(۵۲) خیر خواہی


حدیث:۱

    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ ثَلٰثَ مِرَارٍ قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللہِ لِمَنْ قَالَ لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِھِمْ (2)

 (ترمذی،ج۲،ص۱۴)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ فرمایا کہ ''دین خیر خواہی ہے۔ ''تو صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کس کی خیر خواہی؟ تو آپ نے فرمایا:اللہ عزوجل کی اور اس کی کتاب کی اور مسلمانوں کے اماموں کی اور عام مسلمانوں کی۔
حدیث:۲

    عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ مَنْ جَاءَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ بِخَمْسٍ لَمْ یُصَدَّ وَجْہُہٗ عَنِ الْجَنَّۃِ النُّصْحُ لِلّٰہِ وَلِدِیْنِہٖ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِجَمَاعَۃِ الْمُسْلِمِیْنَ (1)

                    (کنز العمال،ج۳،ص۲۳۶)
    حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جوپانچ باتیں لے کرقیامت کے دن آئے گااس کاچہرہ جنت سے نہیں روکاجائے گا:(۱) اللہ عزوجل کی خیر خواہی۔ (۲)دین کی خیر خواہی۔(۳) خداعزوجل کی کتاب کی خیر خواہی۔(۴) اللہ کے رسول کی خیر خواہی۔(۵) مسلمانوں کی جماعت کی خیر خواہی۔


تشریحات وفوائد


     اللہ تعالیٰ کی خیر خواہی سے مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی ذات و صفات میں شرکت سے بچنااوراس کی عبادت کرنااوراس کی نافرمانی اورمعصیت سے بچنا۔ اللہ کی کتاب کی خیر خواہی سے مراد قرآن پر ایمان لانا اور اس کی نہایت تعظیم کے ساتھ تلاوت کرنا اوراس کی تعلیمات پر جذبہ عقیدت اور جوشِ محبت کے ساتھ کاربند ہونا ۔ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خیرخواہی کا یہ مطلب ہے کہ صدق دل سے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کرنااور ان کے ہر امرو نہی کی اطاعت اور ان کی تعظیم و توقیر اور ان کے ادب و احترام اور ان کے حقوق ادا کرنااور ان کی سنت پر خود عمل کرکے دوسروں کو اُن کی سیرت و سُنّت مبارکہ کی دعوت اور اُن کے دین کی نصرت و حمایت اور نشرو اشاعت میں اپنی طاقت بھر حصہ لینا۔ ائمہ مسلمین کی خیر خواہی یہ ہے کہ ان کے احکام و فرمودات کی اطاعت کرتے رہنااوران کے خلاف خروج وبغاوت نہ کرنا،ان کے جھنڈے کے نیچے جہادکرنااور زکوۃ و صدقات کو ان کے دربار تک پہونچانا۔اور جماعت مسلمین کی خیر خواہی یہ ہے کہ ہر بات میں عام مسلمانوں کی صلاح و فلاح کا خیال رکھا جائے اور کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے مسلمانوں کو ضررو نقصان پہنچے۔(1) (نواوی شریف شرح مسلم ملخصا،ج۱،ص۵۴)
(۵۱) صبر

(۵۱) صبر

حدیث:

     عَنْ عَلِیٍّ اَلصَّبْرُ ثَلٰثَۃٌ فَصَبْرٌ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ وَصَبْرٌ عَلَی الطَّاعَۃِ وَصَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ فَمَنْ صَبَرَ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ حَتّٰی یَرُدَّھَا بِحُسْنِ عَزَائِھَا کَتَبَ اللہُ لَہٗ ثَلٰثَمِائَۃِ دَرَجَۃً مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ صَبَرَ عَلَی الطَّاعَۃِ کَتَبَ اللہُ لَہُ سِتَّ مِائَۃِ دَرَجَۃً مَابَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ تُخُوْمِ الْاَرْضِ اِلٰی مُنْتَھٰی الْاَرْضِیْنَ وَمَنْ صَبَرَ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ کَتَبَ اللہُ لَہٗ تِسْعَ مِائَۃِ دَرَجَۃً مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ تُخُوْمِ الْاَرْضِ اِلٰی مُنْتَھٰی الْعَرْشِ مَرَّتَیْنِ(1)  (کنز العمال،ج۳،ص۱۵۷)
    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ صبر تین ہیں(۱)مصیبت پر صبر (۲)عبادت پر صبر(۳) گناہ سے صبر، توجومصیبت پرصبرکرے یہاں تک کہ مصیبت کواچھی تسلی سے دور کردے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تین سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان ہے اور جو عبادت پر صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے چھ سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ اور تمام زمینوں کے منتہیٰ کے درمیان فاصلہ ہے اور جو گناہ سے صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نو سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتاہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ وں اور عرش کے منتہیٰ کے درمیان کے دو گنے کے درمیان فاصلہ ہے۔


تشریحات وفوائد


صبر کے معنی ''حَبْسُ النَّفْسِ عَلَی الْمَکَارِہِ '' یعنی نفس کو تکلیفوں کے اوپر روکے رہنا اور کنٹرول میں رکھنا،اب غورکیجئے کہ صبرکی تینوں قسموں پریہ تعریف صادق آتی ہے۔  (۱) ''صَبْرٌ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ '' ظاہر ہے کہ مصیبت کے وقت نفس میں بڑی بے چینی اور بے قراری پیدا ہوتی ہے اور بعض مرتبہ ایسی بوکھلاہٹ بلکہ جنون و دیوانگی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ انسان رونے پیٹنے، بال نوچنے اور کپڑے پھاڑنے لگتا ہے اب اسی موقع پراپنے نفس کورونے پیٹنے اورجزع وفزع کی حرکتوں سے روکے رہنایہی''مصیبت پر صبر کرنا''ہے۔ 
 (۲) ''صَبْرٌ عَلَی الطَّاعَۃِ '' ظاہرہے کہ گرمیوں کا روزہ ہو اور آدمی پیاس کی شدت سے بے قرارہو اور سامنے ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھابرف کا شربت رکھا ہوا ہو نفس بار بار شربت کی طرف لپکتا ہے مگر روزہ دار نفس کو روکے ہوئے ہے جو نفس پر گراں اور شاق ہے یہی ''عبادت پر صبر کرنا'' ہے۔  (۳)'' صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ '' جوان آدمی ہے، شہوت کا غلبہ شباب پر ہے، زنا کاری کے لیے نفس بے قرار ہے اور کوئی حسین عورت اس کو بدکاری کی دعوت بھی دے رہی ہے مگر پرہیزگارمسلمان اپنے نفس کوروکے ہوئے ہے اورزناکاری سے بچاہواہے۔ یہی '' صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ '' یعنی ''گناہ سے صبر کرنا ''ہے۔ حدیث میں آپ نے پڑھ لیا کہ صبر کی ان تینوں قسموں کا بڑا درجہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(1) o یعنی صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی امداد و نصرت ہوتی ہے اور صابرین کا مددگار اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔
    سبحان اللہ!اس سے بڑھ کر صبر کا ثواب واجر کیا ہوگا؟ کہ خدا عزوجل صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
(۵۰) حیاء

(۵۰) حیاء

حدیث:۱

    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَلْحَیَاءُ مِنَ الْاِیْمَانِ وَالْاِیْمَانُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِی النَّارِ(1)  (کنز العمال،ج۳،ص۷۱)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حیاء ایمان کی خصلتوں میں سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور بے حیائی ظلم کی خصلتوں میں سے ہے اور ظلم جہنم میں ہے۔
حدیث:۲

     عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ شُعْبَۃً فَاَفْضَلُھَا قَوْلُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَدْنَاھَا اِمَاطَۃُ الْاَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ وَالْحَیَاءُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ۔متفق علیہ(1)

                        (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۲)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں تو ان میں سب سے افضل لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ہے۔ اور سب سے ادنیٰ کسی تکلیف کی چیزوں کو راستے سے ہٹادینا ہے اور حیاء ایمان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔


تشریحات وفوائد


    صاحبِ مرقاۃ نے حیاء کی یہ تعریف کی ہے وَھُوَ خُلُقٌ یَّمْنَعُ الشَّخْصَ مِنَ الْفِعْلِ الْقَبِیْحِ بِسَبَبِ الْاِیْمَانِ(2) یعنی حیاء و ہ عادت ہے کہ آدمی کو برے کاموں سے ایمان کے سبب سے روک دے۔ایمانی حیاء ایک بہت ہی بلند مرتبہ خصلت ہے جو جنت  میں لے جانے والے بہت سے اعمال کا دارومدار ہے اسی لیے اس عنوان کی حدیث نمبر۲ میں فرمایا گیا کہ حیاء ایمان کی شاخوں میں سے ایک بہت بڑی شاخ ہے کیونکہ جس مؤمن میں ایمانی حیاء ہوگی وہ تمام گناہوں کے کاموں سے بچتا رہے گاپھر اس کے جنتی ہونے میں کیا شبہ ہے؟بہرحال حیاء جنت میں لے جانے والی خصلت ہے اس لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مؤمن کو ایمانی حیاء کی دولتِ لازوال سے مالا مال فرمائے۔
    اب رہا یہ سوال کہ آخر ''حیاء '' ایمان کی بہت بڑی شاخ اور بہت ہی اہم خصلت کیوں کراورکس طرح ہے ؟تواس کاجواب یہ ہے کہ اعمالِ اسلام کی دوہی قسمیں ہیں اوامر ونواہی یعنی اچھے کاموں کو کرو اور برے کاموں کو مت کرواورظاہرہے کہ جس مسلمان میں حیاء کی صفت ہوگی وہ تمام برے کاموں سے باز رہے گا توگویا ''حیاء'' ایمان کی ایک ایسی خصلت ہوگی کہ اس کی و جہ سے بہت سی ایمانی خصلتیں پائی جائیں گی اس لیے یہ بلاشبہ درخت ایمان کی شاخوں میں سے نہایت ہی اہم اور بہت ہی بڑی شاخ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(۴۹) تواضع و انکساری

(۴۹) تواضع و انکساری

حدیث:۱

    عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ مَنْ یَّتَوَاضَعْ لِلّٰہِ دَرَجَۃً یَرْفَعْہُ اللہُ دَرَجَۃً حَتّٰی یَجْعَلَہٗ فِیْ عِلِّیِّیْنَ وَمَنْ یَتَکَبَّرْ عَلَی اللہِ دَرَجَۃً یَضَعْہُ اللہُ دَرَجَۃً حَتّٰی یَجْعَلَہٗ فِیْ اَسْفَلِ السَّافِلِیْنَ(1)  (کنز العمال،ج۳،ص۶۶)
    حضرت ابوسعیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جواللہ تعالیٰ کے لیے ایک درجہ انکساری کریگا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ بلند کردے گایہاں تک کہ اس کو علّیّین میں پہنچادے گااور جو اللہ عزوجل کے حضور ایک درجہ تکبر کریگا تواللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ پست کردے گا یہاں تک کہ اس کو اسفل السافلین میں ڈال دے گا۔
حدیث:۲

    عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ مَنْ تَرَکَ الْلِبَاسَ تَوَاضُعًا لِلّٰہِ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلَیْہِ دَعَاہُ اللہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عَلٰی رُءُ وْسِ الْخَلَا ئِقِ حَتّٰی یُخَیِّرَہٗ مِنْ اَیِّ حُلَلِ الْاِیْمَانِ شَاءَ یَلْبَسُھَا (2)  (کنز العمال،ج۳،۶۸)
    حضرت معاذبن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جواللہ عزوجل کے لیے انکساری کرتے ہوئے اورلباس پرقدرت رکھتے ہوئے لباس چھوڑدے گاتواس کواللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوقات کے سامنے بُلاکریہ اختیاردے گاکہ وہ ایمان کے حُلَّوں میں سے جس کو چاہے پہن لے۔

حدیث:۳

    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِّنْ مَّالٍ وَمَا زَادَ اللہُ رَجُلًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللہُ (1)  (ترمذی،ج۲،ص۲۳)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صدقہ مال کو نہیں گھٹاتا اور جو آدمی کسی کو معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتاہے اور جو اللہ تعالیٰ کے لیے انکساری کریگا تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند فرمادے گا۔
حدیث:۴

عَنْ مُعَاذٍ اَ لَا اُخْبِرُکَ عَنْ مُلُوْکِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ کُلُّ رَجُلٍ ضَعِیْفٍ مُسْتَضْعَفٍ ذُوْ طِمْرَیْنِ لَا یُؤْبَہُ لَہٗ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَاَ بَرَّہٗ (2)  (کنز العمال،ج۳،ص۹۰)
حضرت معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ کیامیں تم کواہل جنت کے بادشاہوں کی خبر نہ دوں؟ وہ کمزور وناتواں جنہیں لوگ کچھ نہ سمجھتے ہوں پھٹے پرانے کپڑے پہنتے ہوں اگروہ اللہ عزوجل پر قسم کھالیں تواللہ ضروران کی قسم پوری فرما دے گا۔ (یہ لوگ اہلِ جنت کے بادشاہ ہیں)

تشریحات وفوائد



تواضع اور انکساری خداوندتعالیٰ اور بندوں کے نزدیک بڑی پیاری خصلت ہے گھمنڈ اور تکبر بہت ہی بری عادت ہے ۔تواضع یہ ہے کہ آدمی اپنے کو دوسروں سے کمتر سمجھے اور کسی کو حقیر نہ جانے اور تکبر یہ ہے کہ آدمی اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھے اور دوسروں کو اپنے آپ سے حقیر جانے تکبر کا انجام ذلت و خواری ہے جو تکبر کریگا یقینا ذلیل ہوگا۔

تکبر عزازیل را خوار کرد  
بزندان لعنت گرفتار کرد

تکبر نے عزازیل کو ذلیل کردیا اور اس کو لعنت کے جیل خانہ میں گرفتار کردیا۔
حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ

مرا  پیر    دانائے     روشن    شہاب   
   دو اندرز فرمود  بر روئے آب
یکے آں کہ برخویش خود بیں مباش
   دگر آں کہ برغیر بدبیں مباش

    یعنی میرے پیر خوا جہ شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ کو دریا کے سفر میں دو نصیحت فرمائی ہے۔ ایک یہ کہ اپنے آپ کو اچھا مت سمجھ لینا دوسری یہ کہ دوسروں کو اپنے سے برا مت سمجھنا مطلب یہ ہے کہ کبھی تکبر مت کرنا اور ہمیشہ تواضع اور انکساری کرتے رہنا کیونکہ تواضع کرنے والا ''جنتی''اور تکبر کرنے والا ''جہنمی''ہے۔
(۴۸) سلام و مصافحہ

(۴۸) سلام و مصافحہ

حدیث:۱

     عَنْ سَلْمَانَ اِنَّ الْمُسْلِمَ اِذَا لَقِیَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ فَاَخَذَہٗ بِیَدِہٖ تَحَاتَّتْ ذُنُوْبُھُمَا کَمَا تَحَاتَّ الْوَرَقُ مِنَ الشَّجَرَۃِ الْیَابِسَۃِ فِیْ یَوْمِ رِیْحٍ عَاصِفٍ وَاِلَّا غُفِرَ لَھُمَا وَلَوْکَانَتْ ذُنُوْبُھُمَا مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ(1) (کنز العمال،ج۹،ص۷۵)
حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب مسلمان اپنے(دینی)بھائی سے ملاقات کرکے(مصافحہ میں)اُس کاہاتھ پکڑتاہے توان دونوں کے گناہ اِس طرح جھڑجاتے ہیں جس طرح سوکھے درخت کے پتے تیزآندھی کے دن میں اوران دونوں کی مغفرت ہوجاتی ہے اگرچہ ان دونوں کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ (یعنی گناہ صغیرہ)
حدیث:۲

    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی تُؤْمِنُوْا وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتّٰی تَحَابُّوْا اَوَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیْءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْہٗ تَحَابَبْتُمْ اَفْشُوْا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ۔رواہ مسلم(2)  (مشکوٰۃ،ج۲،ص۳۹۷)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جنت میں نہیں داخل ہو گے یہاں تک کہ مؤمن بن جاؤ اور تم لوگ مؤمن نہیں بن سکو گے یہاں تک کہ تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو۔ کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز کا راستہ نہ بتادوں کہ جب تم لوگ اس کو کرلو گے تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے وہ یہ ہے کہ تم لوگ آپس میں سلام کا چرچا کرو۔

حدیث:۳

    عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُسَلِّمُ عَلٰی عِشْرِیْنَ رَجُلًا مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ اِلَّا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ (1)  (کنز العمال،ج۹،ص۲۸)
    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ جو مسلمان بیس مسلمانوں کو سلام کرے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
حدیث:۴

    عَنْ اَنَسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَا بُنَیَّ اِذَا دَخَلْتَ عَلٰی اَھْلِکَ فَسَلِّمْ یَکُوْنُ بَرَکَۃً عَلَیْکَ وَعَلٰی اَھْلِ بَیْتِکَ۔رواہ الترمذی (2)

                          (مشکوٰۃ،ج۲،۲۹۹)
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اے پیارے بیٹے! جب تم اپنے گھر والوں پر داخل ہوا کرو تو سلام کرلو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے برکت ہے۔
حدیث:۵

    عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَیْنَ یَلْتَقِیَانِ فَیَتَصَافَحَانِ اِلَّا غُفِرَ لَھُمَا قَبْلَ اَنْ یَّتَفَرَّقَا (3)     حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی سے بھی دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں پھر دونوں مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے گناہ ان دونوں کے الگ ہونے سے پہلے ہی بخش دیئے جاتے ہیں(یعنی گناہ صغیرہ) ۔

حدیث:۶

    عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی اَرْبَعًا قَبْلَ الْھَاجِرَۃِ فَکَاَنَّمَا صَلَّاھُنَّ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَالْمُسْلِمَانِ اِذَا تَصَافَحَا لَمْ یَبْقَ بَیْنَھُمَا ذَنْبٌ اِلَّا سَقَطَ(1)  (مشکوٰۃ،ج۲،ص۴۰۳)
    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ جو چار رکعت دوپہر سے پہلے پڑھے توگویا اس نے اِن رکعتوں کو شبِ قدر میں پڑھااور دو مسلمان جب مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے سب گناہ جھڑ جاتے ہیں کوئی گناہ باقی نہیں رہ جاتا۔


تشریحات وفوائد


 (۱) مذکورہ بالا احادیث میں جہاں جہاں تمام گناہوں کے معاف ہونے کا ذکر ہے اس سے مرادصغیرہ گناہ ہیں کیونکہ کبیرہ توبغیرسچی توبہ اوربغیرحق والے سے معاف کرائے معاف نہیں ہوتے۔
(۲)حدیث نمبر ۲ سے معلوم ہوا کہ سلام ذریعہ محبت ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ بکثرت ایک دوسرے کو سلام کریں۔
 (۳)حدیث نمبر ۴سے ثابت ہواکہ سلام خیروبرکت ہے اورآدمی کوچاہیے کہ جب اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرے اس سلام میں سلام کرنے والے اور گھر والے دونوں کے لیے برکت ہے۔ آج کل عام طور پر لوگ اپنے گھروالوں کو سلام نہیں کرتے اورچپکے سے گھروں میں داخل ہوجاتے ہیں یہ طریقہ سنت کے خلاف ہے۔ گھرمیں داخل ہوتے وقت گھروالوں کوسلام کرناسنت اورباعث خیروبرکت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(۴۷) مہمان نوازی

(۴۷) مہمان نوازی

حدیث:
    حضرت اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بھائی حضرت براء بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے براء! آدمی جب اپنے (دینی)بھائی کی لو جہ اللہ مہمان نوازی کرتا ہے اور اس کی کوئی جزاء اور شکریہ نہیں چاہتا تو اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں دس فرشتوں کو بھیج دیتا ہے جو ایک سال کامل تک اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر پڑھتے اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں اورجب سال پوراہوجاتاہے تواُن فرشتوں کی پورے سال کی عبادت کے برابر اُس کے نامہ اعمال میں عبادت لکھ دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ ہے کہ اس کوجنت کی لذیذغذائیں''جنۃالخلد''اور نہ فنا ہونے والی بادشاہی میں کھلائے گا۔(1) (کنز العمال،ج۹،ص۱۵۳)

تشریحات وفوائد


    اخلاص کے ساتھ کسی مسلمان کی مہمان نوازی کا بہت بڑا اجرِ عظیم ہے، قرآن مجید کی سورہ دھر میں خاص طور پر خداوند قدوس نے مہمان نواز بندوں کی تعریف فرمائی اور ان کے لیے جنت اور جنتی لباس حریر کا وعدہ فرمایا ہے، حدیث مذکور بالا میں بھی جو اجرعظیم بیان کیاگیاہے بھلااُس کی عظمت کاکون اندازہ کرسکتاہے۔خداوندکریم مسلمانوں کو مہمان نوازی اور اس کی برکتوں اور اجرو ثواب سے سرفراز فرمائے۔ (آمین)

(۴۶) لوگوں کی خطاؤں کو معاف کرنا

(۴۶) لوگوں کی خطاؤں کو معاف کرنا

حدیث:

    عَنْ اَنَسٍ اِذَا اُوْقِفَ الْعِبَادُ نَادٰی مُنادٍ لِیَقُمْ مَنْ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ وَلْیَدْخُلِ الْجَنَّۃَ قِیْلَ مَنْ ذَا الَّذِیْ اَجْرُہٗ عَلَی اللہِ قَالَ اَلْعَافُوْنَ عَنِ النَّاسِ فَقَامَ کَذَا وَکَذَا اَلْفًا فَدَخَلُوا الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ(1)  (کنز العمال،ج۳،ص۲۱۴)
    حضرت اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ(میدانِ محشر میں)جب تمام بندے (حساب کے لیے) کھڑے کیے جائیں گے تو ایک منادی یہ اعلان کریگا کہ جس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اس کو چاہیے کہ وہ کھڑا ہوجائے اور جنت میں داخل ہوجائے تو کوئی کہنے والا کہے گا کہ وہ کون ہے جس کا اجر اللہ عزوجل کے ذمے ہے؟ تو منادی کہے گا کہ جو لوگوں کی خطاؤں کومعاف کرنے والے ہیں یہ سن کراتنے اتنے ہزارآدمی کھڑے ہوجائیں گے اور بِلا حساب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔

تشریحات وفوائد


    مسلمانوں سے اگر کوئی غلطی اور خطا ہوجائے اور وہ معافی کے طلب گار ہوں یا نہ ہوں بہرحال ان کی خطاؤں کو معاف کردینا یہ بہت بڑا جنتی عمل ہے ۔قرآن مجید میں بھی وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ(2) فرماکراللہ عزوجل نے ان لوگوں کی مدح فرمائی اور ان لوگوں کونیکو کار بتایا ہے۔ اور حدیث شریف میں آپ نے پڑھ لیا کہ ان لوگوں کے بارے میں میدانِ محشر کے اندر اللہ تعالیٰ کا منادی ان لفظوں میں اعلان فرمائے گا کہ وہ لوگ جن کا اجر اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم پر لے لیا ہے وہ اُٹھیں اور بلا حساب جنت میں داخل ہوجائیں اللہ اکبر!یہ کتنابڑاا عزازاورکس قدرعظیم شرف ہے۔ سبحان اللہ!سبحان اللہ!

(۴۵) راستوں سے تکلیفوں کو دور کرنا

(۴۵) راستوں سے تکلیفوں کو دور کرنا

حدیث:۱

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِیْ فِی الطَّرِیْقِ اِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ فَاَخَّرَہٗ فَشَکَرَ اللہُ لَہٗ فَغَفَرَ لَہٗ (2)

                     (ترمذی،ج۲،ص۱۷)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے راوی ہیں کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اس درمیان میں کہ ایک آدمی راستے میں چل رہا تھا اس نے ایک کانٹے کی شاخ کو پایا تو اس کو راستے سے ہٹا دیا تو اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر اس کو بخش دیا۔
حدیث:۲

    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَۃٍ عَلٰی ظَھْرِ طَرِیْقٍ فَقَالَ لَاُنَحِّیَنَّ ھٰذَا عَنْ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنَ لَا یُؤْذِیْھِمْ فَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ۔متفق علیہ(1)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۸)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی ایک درخت کی ٹہنی کے پاس گزرا جو راستہ کی پشت پر تھی تو اُس نے کہا کہ میں ضرور ضرور اس ٹہنی کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹادوں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچائے تو وہ آدمی جنت میں داخل کردیا گیا۔ اِس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۳

     عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ قَالَ قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللہِ عَلِّمْنِیْ شَیْئًا اَنْتَفِعُ بِہٖ قَالَ اِعْزِلِ الْاَذٰی عَنْ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنَ(2)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۸۶)

    حضرت ابوبرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجئے کہ میں اس سے نفع پاؤں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تکلیف کی چیز کو مسلمانو ں کے راستے سے ہٹاتے رہو۔

تشریحات و فوائد


    ہر وہ تکلیف دہ چیز مثلاً کانٹا، شیشہ، ٹھوکر کی چیزیں جس سے چلنے والوں کو ایذا پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو راستوں سے ہٹا دینا بہت معمولی کام ہے لیکن یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اِس قدر پسند ہے کہ وہ اس کی جزا میں اپنے فضل و کرم سے جنت عطا فرمادیتا ہے۔
    آج کل کے مسلمان اس عمل صالح کی عظمت اوراِس کے اجروثواب سے بالکل ہی غافل ہیں۔بلکہ اُلٹے راستوں میں تکلیف کی چیزیں ڈال دیاکرتے ہیں۔ مثلاًعام طورپرلوگ کیلاکھاکراُس کاچھلکاریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرپھینک دیا کرتے ہیں۔گاڑی آنے پرمسافربدحواس ہوکرٹرین میں چڑھنے کے لئے دوڑتے او ر کیلے کے چھلکوں پرپاؤں پڑجانے سے پھسل کرگرجاتے ہیں اوربعض شدیدزخمی ہوجاتے ہیں اسی طرح ہڈیاں اورشیشے کے ٹکڑے عام طورپرلوگ راستوں میں ڈال دیاکرتے ہیں۔اِن حرکتوں سے مسلمان کو بچنا چاہیے بلکہ راستوں میں کوئی تکلیف دہ چیز اگر نظر پڑجائے تو اس کو راستوں سے ہٹا دینا چاہیے اِن شاء اللہ تعالیٰ اگر یہ عمل مقبول ہوگیا تو جنت ملے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(۴۴) زبان و شرم گاہ کی حفاظت

(۴۴) زبان و شرم گاہ کی حفاظت

    زبان و شرمگاہ کی حفاظت بھی اعمالِ جنت میں سے ایک اہم عمل ہے۔اس بارے میں حدیثوں کا مقدس فرمان پڑھئے اور ہدایت کا نور حاصل کیجئے۔
حدیث:۱
    حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے دونوں کلّوں اور اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز کا میرے لیے ضامن ہوجائے تو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔(1) (ترمذی،ج۲،ص۶۳)
    مطلب یہ ہے کہ دونوں کلّوں کے درمیان کی چیز یعنی زبان کی خلافِ شرع باتوں سے حفاظت کرے اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز یعنی اپنی شرمگاہ کی بدکار ی سے حفاظت کرے۔
حدیث:۲
     حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دو آدمی جنت میں جائیں گے ایک وہ جو اپنے دونوں کلوں کے درمیان کی چیز(یعنی زبان )کی حفاظت کرے دوسرا وہ جو اپنے دونوں پیروں کے درمیان کی چیز(یعنی شرمگاہ)کی حفاظت کرے۔(1) (کنز العمال،ج۲،ص۶۳)
تشریحات و فوائد
    بظاہر آدمی کو احساس نہیں ہوتامگر درحقیقت زبان بہت سے گناہوں کا ذر یعہ ہے۔کفر و شرک، غیبت و چغلی وفحش کلامی،بہتان، جھوٹ وغیر ہ سب گناہ زبان ہی سے ہوتے ہیں، لہٰذا جو زبان کی حفاظت کریگا وہ ان سب گناہوں سے محفوظ رہے گا اسی طرح جو شرمگاہ کی حفاظت کریگا وہ زنا کاری اور اس کے لوازم کے گناہوں سے بچارہے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular