Showing posts with label عجائب القرآن مع غرائب القرآن. Show all posts
Showing posts with label عجائب القرآن مع غرائب القرآن. Show all posts
غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

     کتاب کانام مصنف کے نام مطبوعہ
تفسیر معالم التنزیل للبغوی علامہ ابومحمد حسین بن مسعود دار الکتب العلمیۃ بیروت 
تفسیر ابن کثیر علامہ ابو الفداء اسماعیل بن کثیر الدمشقی دار الکتب العلمیۃ بیروت 
تفسیر جلالین علامہ جلال الدین السیوطی وجلال الدین المحلی قدیمی کتب خانہ کراچی
موضح القرآن شاہ عبدالقادر صاحب تاج کمپنی لمیٹیڈ لاہور کراچی
صحیح مسلم ابو الحسن امام مسلم بن الحجاج بن مسلم دار ابن حزم بیرو ت 
فتح الباری امام احمد بن علی العسقلانی قدیمی کتب خانہ کراچی
تذکرۃ الانبیاء قاضی عبدالرزاق چشتی بھترالوی مکتبہ ضیائیہ راو لپنڈی 
البدایہ والنہا یہ ابو الفداء اسماعیل بن کثیر الدمشقی لدار احیاء التراث العر بی بیروت ۔
الدولۃ المکیۃ اعلی حضرت امام احمد رضا خان موسسۃ رضا لاہور 
فضائل الشہور والا یام

عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

   کتاب کا نام مصنف کا نام     مطبوعہ
قرآن مجید کلام باری تعالیٰ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور 
     کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ا علیٰ حضرت احمد رضا خان ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور 
تفسیر صاوی علامہ احمد بن محمد الصاوی مطبوعہ دار الفکر بیرو ت
تفسیر مدارک امام عبداللہ بن احمد النسفی صدیقیہ کتب خانہ اکوڑہ خٹک
تفسیر روح البیان الشیخ اسماعیل حقی البر وسوی کتبہ عثمانیہ کوئٹہ
تفسیر جمل الشیخ سلیمان الجمل قدمی کتب خانہ کراچی
تفسیر خازن علامہ علاء الدین علی بن محمد صدیقیہ کتب خانہ اکوڑہ خٹک
تفسیر خزائن العرفان محمد نعیم الدین مطبوعہ پاک کمپنی اردو بازار لاہور
بخاری شریف ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری درالکتب العلمیۃ بیروت 
مشکوۃ المصابیح ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الخطیب دار الفکر بیروت 
     کنزالعمال علامہ علاء الدین علی المتقی دار الکتب العلمیۃ بیروت 
شرح الزرقانی علامہ قسطلانی دار الکتب العلمیۃ بیروت 
     کشف الخفاء الشیخ اسماعیل بن محمد د ار الکتب العلمیۃ بیروت 
مرقاۃ المفا تیح نور الدین علی بن سلطان (ملا علی قاری) دار الفکر بیروت 
بہار شریعت مولانا امجد علی اعظمی مکتبہ رضویہ کراچی
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ابو محمد عبد الملک بن ہشام دار لمعرفہ بیروت
مدارج النبوۃ مولانا عبد الحق محدث دہلوی نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور
الخیرات الحسان شیخ شہاب الحمد بن حجر مدینہ پبلشنگ کمپنی لاہور
حدائق بخشش اعلیٰ حضرت احمد رضا خان مکتبۃ المدینہ کراچی
کلیات اقبال ڈاکٹر اقبال مطبوعہ شمع بک ایجنسی لاہور
المستدرک علی الصحیحین ابو عبد اللہ محمد بن عبداللہ الحاکم مطبوعہ دار لمعرفہ بیروت
سنن ابن ماجہ ابو عبداللہ محمد بن یزید دار لمعرفہ بیروت
علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات مذکور ہیں اور دوسری طرف اس کے باطن کی گہرائیوں میں علوم و معارف کے خزانوں کے بے شمار ایسے سمندر موجیں ماررہے ہیں جو قیامت تک کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی اس عظیم الشان جامعیت کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

لاَ یَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَآءُ وَلاَ یَخْلَقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ وَلاَ یَنْقَضِیْ عَجَائِبُہٗ

قرآنی مضامین کا احاطہ کر کے کبھی علماء آسودہ نہیں ہوں گے اور بار بار پڑھنے سے قرآن پرانا نہیں ہو گا اور قرآن کے عجیب و غریب مضامین کبھی ختم نہیں ہوں گے۔

        (مشکوٰۃ شریف، کتاب فضائل القرآن، الفصل الثانی، ص ۱۸۶)

چنانچہ حضرت سیدنا علی خواص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

اِنَّ اللہَ تَعَالٰی اِطَّلَعَنِی عَلٰی مَعَانِیْ سُوْرَۃِ الْفَاتِحَۃِ فَظَھَرَلِیْ مِنْھَا مِائَۃَ أَلْفِ عِلْمٍ وَّاَرْبَعُوْنَ اَلْفِ عِلْمٍ وَتِسْعَمِائَۃٍ وَّ تِسْعُوْنَ عِلْمًا ط

بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے سورۃ فاتحہ کے معانی پر آگاہ فرمایا تو ان میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار نو سو ننانوے علوم مجھ پر منکشف ہوئے۔

 (الدولۃ المکیۃ، النظر الخامس فی دلائل المدعی من الاحادیث والاقوال والایات، ص ۷۹)

اسی طرح امام شعرانی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب میزان میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

قَدِ اسْتَخْرَجَ اَخِیْ اَفْضَلُ الدِّیْنِ مِنْ سُوْرَۃِ الْفَاتِحَۃِ مَائَتَیْ اَلْفِ عِلْمٍ وَّ سَبْعَۃً وَّاَرْبَعِیْنَ اَلْفِ عِلْمٍ وَّتِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَّ تِسْعُوْنَ عِلْمًا

میرے بھائی افضل الدین نے سورۃ فاتحہ سے دو لاکھ سینتالیس ہزار نو سو ننانوے علوم نکالے ہیں۔

 (الدولۃ المکیۃ، النظر الخامس فی دلائل المدعی من الاحادیث والاقوال والایات، ص ۷۹)

ان روایتوں سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید اگرچہ ظاہر میں تیس پاروں کا مجموعہ ہے لیکن اس کا باطن کروڑوں بلکہ اربوں علوم و معارف کا ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا کسی عارف باللہ کا مشہور شعر ہے کہ!

جَمِیْعُ الْعِلْمِ فِی الْقُرْاٰنِ لٰکِنْ  
تَقَاصَرَ عَنْہُ اَفْہَامُ الرِّجَالِ

یعنی تمام علوم قرآن میں موجود ہیں لیکن لوگوں کی عقلیں ان کے سمجھنے سے قاصر و کوتاہ ہیں۔ الحاصل قرآن مجید میں صرف علوم و معارف ہی کا بیان نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں پوری کائنات اور سارے عالم کی ہر ہر چیز کا واضح اور روشن تفصیلی بیان ہے یعنی آسمان کے ایک  ایک تارے، سمندر کے ایک ایک قطرے ،سبزہ ہائے زمین کے ایک ایک تنکے، ریگستان کے ایک ایک ذرے، درختوں کے ایک ایک پتے، عرش و کرسی کے ایک ایک گوشے، عالم کائنات کے ایک ایک کونے، ماضی کا ہر ہر واقعہ، حال کا ہر ہر معاملہ ،مستقبل کا ہر ہر حادثہ قرآن مجید میں نہایت وضاحت کے ساتھ تفصیلی بیان کیا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ!

فَرَّطْنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ

    ترجمہ کنزالایمان:۔ ہم نے اس کتاب میں کچھ اُٹھا نہ رکھا۔(پ7،الانعام:38)
لیکن واضح رہے کہ قرآن کی یہ اعجازی شان ہمارے تمہارے اور عام لوگوں کے لئے نہیں ہے بلکہ قرآن کی اس اعجازی شان کا کامل ظہور تو صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور صرف آپ ہی کا یہ معجزہ ہے کہ آپ نے قرآن مجید کے تمام مضامین و معانی کو تفصیلی طور پر جان لیا اور پورا قرآن نازل ہوجانے کے بعد کائنات عالم کی کوئی شے، ماضی و حال اور مستقبل کا کوئی واقعہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پوشیدہ نہیں رہا اور آپ نے ہر غیب و شہادت کو تفصیلی طور پر جان لیا کیونکہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ:۔

 وَ نَزَّلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ۔

ترجمہ کنزالایمان:۔ اور ہم نے تم پر یہ قرآن اُتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔(پ14،النحل:89)
پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صدقے میں بعض اولیاء کرام اور علماء عظام کو بھی بقدر ظرف ان کے باطنی علوم و معارف سے حصہ ملا ہے جن میں سے کچھ کتابوں کے لاکھوں صفحات پر ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں اور کچھ سینوں کے صندوق اور دلوں کی تجوریوں میں اب تک مقفل ہی رہ گئے ہیں جو آئندہ ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک صفحات قرطاس پر جلوہ ریز ہوتے رہیں گے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس غیبی خبر وَلاَ تَنْقَضِیْ عَجَآئِبُہٗ کا وقتاً فوقتاً ظہور ہوتا رہے گا اور امت مسلمہ ان کے فیوض و برکات سے مستفیض و مالا مال ہوتی ہی رہے گی۔ بہرحال یہ یقین و ایمان رکھنا چاہے کہ ہم نے ''عجائب القرآن'' اور ''غرائب القرآن'' میں جو قرآن کے چند عجیب و غریب مضامین کا ایک مختصر مجموعہ تحریر کیا ہے اور ہم سے پہلے بہت سے علماء کرام نے مضامینِ قرآن پر ہزاروں کتابیں اور لاکھوں صفحات تحریر فرمائے ہیں، قرآن مجید کے علوم و معارف کے سامنے ان سب تحریروں کو وہ نسبت بھی حاصل نہیں جو ایک قطرہ کو دنیا بھر کے سمندروں سے اور ایک ذرہ کو تمام روئے زمین سے حاصل ہو، کیونکہ قرآن مجید تو علوم و معارف کا وہ خزانہ ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتا بلکہ قیامت تک علماء کرام اس بحر ناپیدا کنار سے ہمیشہ عجیب و غریب مضامین کے موتی نکالتے ہی رہیں گے اور ہزاروں لاکھوں کتابوں کے دفتر تیار ہوتے ہی رہیں گے۔
میں اگرچہ اس پر بہت خوش ہوں کہ قرآن کریم کے چند مضامین پر دو مختصر مجموعے لکھ کر میں ان علماء کرام کی جوتیوں کی صف میں جگہ پاگیا جنہوں نے اپنے نوکِ قلم سے قرآنی آیات کے ایسے ایسے در شہوار اور گوہر آبدار صفحات قرطاس پر بکھیر دیئے جن کی چمک دمک سے مومنین کے ایمان و عرفان میں ایسی تابانی و تابندگی پیدا ہو گئی جو قیامت تک روشن رہے گی مگر میں انتہائی متاسف اور شرمندہ ہوں کہ اپنی علمی کوتاہی اور کم فہمی کی وجہ سے اور پھر اپنی علالت کے باعث کچھ زیادہ نہ لکھ سکا اور نہ کوئی ایسی نادر بات لکھ سکا جو اہل علم کے لئے باعث ِ کشش و قابل مسرت ہو۔
بہرحال دعاگو ہوں کہ خداوند کریم بطفیل نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم میری اس حقیر خدمت کو قبول فرما کر اس کو مقبولیت دارین کی کرامتوں سے سرفراز فرمائے۔ (آمین)

تمت

وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی خَیرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن 
برحمۃٖ وھو ارحم الراحمین

               ابتدائے تصنیف :یکم جمادی الاخری  ۱۴۰۳؁ھ 
               ختمِ تصنیف :۲۳/رمضان  ۱۴۰۴؁
                  عبدالمصطفیٰ الاعظمی عفی عنہ
اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

کفارِ عرب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے کوئی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نسب اور خاندا ن کیا ہے؟ اس نے ربوبیت کس سے میراث میں پائی ہے؟ اور اس کا وارث کون ہو گا؟ کسی نے یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ سونے کا ہے یا چاندی کا؟ لوہے کا ہے یا لکڑی کا؟ کسی نے یہ پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کیا کھاتا پیتا ہے؟
ان سوالوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ قُلْ ھُوَا للہُ نازل فرمائی اور اپنی ذات و صفات کا واضح بیان فرما کر اپنی معرفت کی راہ روشن کردی اور کفار کے جاہلانہ خیالات و اوہام کی تاریکیوں کو جن میں وہ لوگ گرفتار تھے اپنی ذات و صفات کے نورانی بیان سے دور فرما دیا۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۶،پ۳۰، اخلاص: ۱)

    ارشاد فرمایا کہ:

قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۚ﴿1﴾اَللہُ الصَّمَدُ ۚ﴿2﴾لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوۡلَدْ ۙ﴿3﴾وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿4﴾ 

                (پ30،الاخلاص:1۔4)

ترجمہ کنزالایمان:۔تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔
درسِ ہدایت:۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ قل ھو اللہ کی چند آیتوں میں ''علم الہیات'' کے وہ نفیس اور اعلیٰ مطالب بیان فرما دیئے ہیں کہ جن کی تفصیلات اگر بیان کی جائیں تو کتب خانے کے کتب خانے پُر ہوجائیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت اور الوہیت میں صفت عظمت و کمال کے ساتھ موصوف ہے۔ مثل و نظیر و شبیہ سے پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔
وہ کچھ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، نہ کسی کا محتاج ہے بلکہ سب اس کے محتاج ہیں وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وہ قدیم ہے اور پیدا ہونا حادث کی شان ہے اس لئے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ کسی کا باپ ہے نہ اس کا کوئی مجانس ہے اور نہ اس کا عدیل و مثیل ہے۔
اس سورۃ مبارکہ کی فضیلتوں کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اسکو تہائی قرآن کے برابر بتایا گیا ہے یعنی اگر تین مرتبہ اس سورۃ کو پڑھا جائے تو پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملے گا۔
ایک شخص نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے اس سورۃ سے محبت ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کر دے گی۔

    (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۶، پ۳۰، اخلاص:۱)
کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

کفار قریش میں سے ایک جماعت دربارِ رسالت میں آئی اور یہ کہا کہ آپ ہمارے دین کی پیروی کریں تو ہم بھی آپ کے دین کا اتباع کریں گے۔ ایک سال آپ ہمارے معبودوں (بتوں)کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبود اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ کہ میں غیر اللہ کو اس کا شریک ٹھہراؤں۔ یہ سن کر کفارِ قریش نے کہا کہ اگر آپ بتوں کی عبادت نہیں کرسکتے تو کم سے کم آپ ہمارے کسی بت کو ہاتھ ہی لگا دیجئے تو ہم آپ کی تصدیق کرلیں گے اور آپ کے معبود کی عبادت کرنے لگیں گے اس موقع پر سورۃ قُلْ یٰآیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ نازل ہوئی اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کعبہ میں تشریف لے گئے اور کفار قریش کو یہ سورۃ پڑھ کر سنائی تو کفار قریش مایوس ہو گئے اور پھر غصہ میں جل بھن کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو طرح طرح کی ایذائیں دینے پر تل گئے۔

 (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۵، پ۳۰، الکفرون :۱)

قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿1﴾لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوۡنَ ۙ﴿2﴾وَ لَاۤ اَنۡتُمْ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعْبُدُ ۚ﴿3﴾وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمْ ۙ﴿4﴾وَ لَاۤ اَنۡتُمْ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعْبُدُ ؕ﴿5﴾لَکُمْ دِیۡنُکُمْ وَلِیَ دِیۡنِ ٪﴿6﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔تم فرماؤ اے کافرو نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو اور نہ تم پوجتے ہو جو میں پوجتا ہوں اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے پوجا اور نہ تم پوجو گے جو میں پوجتا ہوں تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین۔(پ30،الکافرون :1۔6)
درسِ ہدایت:۔اس سورۃ پاک کے مضمون اور حضور سید لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کفر و اسلام میں کبھی مفاہمت اور موافقت نہیں ہو سکتی جو مسلمان کفار کی خوشنودی اور ان کی خوشامد کے لئے ان کی مذہبی تقریبات میں حصہ لیتے ہیں اور بت
پرستی کی مشرکانہ رسموں میں چندہ دے کر شرکت کرتے ہیں ان کو اس سورۃ سے ہدایت کا نورانی سبق حاصل کرنا چاہے اور ایمان رکھنا چاہے کہ توحید اور شرک کبھی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے جو موحد ہو گا وہ کبھی مشرک نہیں ہو سکتا اور جو مشرک ہو گا وہ کبھی موحد نہیں ہو گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔
قریش کے دو سفر

قریش کے دو سفر

مکہ مکرمہ میں نہ کاشت کاری ہوتی تھی نہ وہاں کوئی صنعت و حرفت تھی۔ پھر بھی قبیلہ قریش کے لوگ کافی خوشحال اور صاحب ِ مال تھے اور خوب دل کھول کر حاجیوں کی ضیافت اور مہمان نوازی کرتے تھے۔ قریش کی خوشحالی اور فارغ البالی کا راز یہ تھا کہ یہ لوگ ہر سال دو مرتبہ تجارتی سفر کیا کرتے تھے۔ جاڑے کے موسم میں یمن اور گرمی کے موسم میں شام کا سفر کیا کرتے تھے اور ہر جگہ کے لوگ انہیں اہل حرم اور بیت اللہ شریف کا پڑوسی کہہ کر ان لوگوں کا اکرام و احترام کرتے تھے اور ان لوگوں کے ساتھ تجارتیں کرتے تھے اور قریش ان تجارتوں میں خوب نفع اٹھاتے تھے۔ اور ان لوگوں کے حرم کعبہ کا باشندہ ہونے کی بناء پر راستہ میں ان کے قافلوں پر کسی قسم کی رہزنی اور ڈکیتی نہیں ہوا کرتی تھی۔ باوجودیکہ اطراف و جوانب میں ہر طرف قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم رہا کرتا تھا۔ قریش کے سوا دوسرے قبیلوں کے لوگ جب سفر کرتے، تو راستوں میں ان کے قافلوں پر حملے ہوتے تھے اور مسافر لوٹے مارے جاتے تھے اس لئے قریش جس طرح امن و امان کے ساتھ یہ دونوں تجارتی سفر کرلیا کرتے تھے دوسرے لوگوں کو یہ امن و امان نصیب نہیں تھا۔

          (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۴۔۱۰۸۹، پ۳۰، قریش:۱ تا ۴)

اللہ تعالیٰ نے قریش کو جو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی تھیں ان میں سے خاص طور پر ان دو تجارتی سفروں کی نعمت کو یاد دلا کر ان کو خداوند قدوس کی عبادت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿1﴾اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیۡفِ ۚ﴿2﴾فَلْیَعْبُدُوۡا رَبَّ ہٰذَا الْبَیۡتِ ۙ﴿3﴾الَّذِیۡۤ اَطْعَمَہُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ۬ۙ وَّ اٰمَنَہُمۡ مِّنْ خَوْفٍ ٪﴿4﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔اس لئے کہ قریش کو میل دلایا ان کی جاڑے اور گرمی دونوں کے کوچ میں میل دلایا تو انہیں چاہے اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا۔ (پ30،قریش:1۔4)
ان لوگوں کو بھوک میں کھانا دیا یعنی ان دونوں تجارتی سفروں کی بدولت ان لوگوں کے معاش اور روزی کا سامان پیدا کردیا اور ان کے قافلوں کو لوٹ مار سے امن و امان عطا فرمایا۔ لہٰذا ان لوگوں کو لازم ہے کہ یہ لوگ رب کعبہ کی عبادت کریں جس نے ان لوگوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا ہے نہ کہ یہ لوگ بتوں کی عبادت کریں جنہوں نے ان لوگوں کو کچھ بھی نہیں دیا۔
درسِ ہدایت:۔اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں اپنی دو نعمتوں کو یاد دلاکر بت پرستی چھوڑنے اور اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ اس سورۃ میں اگرچہ خاص طور پر قریش کا ذکر ہے مگر یہ حکم تمام دنیا کے انسانوں کے لئے ہے کہ لوگ خدا کی نعمتوں کو یاد کریں اور نعمت دینے والے خدائے واحد کی عبادت کریں اور بت پرستی سے باز رہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔
مجاہدین کے گھوڑوں کی عظمت

مجاہدین کے گھوڑوں کی عظمت

 خداوند قدوس کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدین اور غازیوں کا مرتبہ کتنا بلند و بالا، اور کس قدر عظمت والا ہے اس کے بارے میں تو سینکڑوں آیتوں میں خداوند قدوس نے ان مردانِ حق کی مدح و ثناء کا خطبہ ارشاد فرمایا ہے مگر سورۃ ''والعٰدیٰت'' میں رب العزت جل جلالہ نے مجاہدین اور غازیوں کے گھوڑوں، بلکہ ان گھوڑوں کی رفتار اور ان کی اداؤں کی قسم یاد فرما کر ان کی عزت و عظمت کا اظہار فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ِ ربانی ہے کہ:

وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا ۙ﴿1﴾فَالْمُوۡرِیٰتِ قَدْحًا ۙ﴿2﴾فَالْمُغِیۡرٰتِ صُبْحًا ۙ﴿3﴾فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا ۙ﴿4﴾فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا ۙ﴿5﴾اِنَّ الْاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿6﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔قسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر پھر صبح ہوتے تاراج کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اُڑاتے ہیں پھر دشمن کے بیچ لشکر میں جاتے ہیں بے شک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (پ30،العدیت:1۔6)
ان گھوڑوں سے مراد ،مفسرین کا اجماع ہے کہ مجاہدین اور غازیوں کے گھوڑے مراد ہیں جو خداوند قدوس کے دربار میں اس قدر محبوب و محترم ہیں کہ قرآن مجید میں حضرت حق جل مجدہ نے ان گھوڑوں بلکہ ان کی اداؤں کی قسم یاد فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں کی قسم ہے جو جہاد میں دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں اور مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی جو پتھروں پر اپنے نعل والے کھُر مار کر رات کی تاریکی میں چنگاری نکال دیتے ہیں اور مجھے ان گھوڑوں کی قسم ہے جو صبح سویرے کفار پر حملہ کردیتے ہیں اور مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی جو میدانِ جنگ میں دوڑ کر غبار اُڑاتے ہیں اور مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی جو کفار کے بیچ لشکر میں گھس جاتے ہیں۔ اتنی قسموں کے بعد رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ''انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔''
اللہ اکبر!خداوند قدوس جن چیزوں کی قسم یاد فرمائے، ان چیزوں کی عظمتِ شان کا کیا کہنا؟ قرآن مجید میں جن جن چیزوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ مجھے ان کی قسم ہے، ان تمام چیزوں کا مرتبہ اتنا بلند و بالا اور اس قدر عظمت والا ہو گیا کہ وہ تمام چیزیں ہم مسلمانوں کے لئے بلکہ ساری کائنات کے لئے معزز و محترم ہو گئیں۔ تو پھر مجاہدین کے گھوڑوں کی عزت و عظمت اور ان کے تقدس و احترام کا کیا عالم ہو گا؟ اللہ اکبر اللہ اکبر۔
درسِ ہدایت:۔اس سے ہدایت کا یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کی ہر ہر چیز سے محبت فرماتا ہے اور خدا کے محبوبوں کی ہر ہر چیز قابل عزت و لائق احترام ہے۔ مجاہدین اسلام اور غازیانِ کرام چونکہ خداوند قدوس کے محبوب اور پیارے بندے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کے گھوڑوں سے بھی اس قدر پیار و محبت فرماتا ہے کہ ان گھوڑوں بلکہ ان گھوڑوں کی رفتار اور میدانِ جنگ میں ان گھوڑوں کے حملوں کی قسم یاد فرما کر ان گھوڑوں کی عزت و عظمت کا اعلان فرما رہا ہے۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ۔

جب مجاہدین کرام کے گھوڑوں کے بلند درجات کا خطبہ قرآن عظیم نے پڑھا تو اس سے معلوم ہوا کہ مجاہدین کے آلاتِ جنگ اور ان کے ہتھیاروں اور ان کی کمانوں، ان کی تلواروں کا بھی مرتبہ بہت بلند ہے اسی لئے بعض خانقاہوں میں بعض غازیوں کی تلواروں کو لوگوں نے بڑے اہتمام کے ساتھ تبرک بنا کر برسہا برس سے محفوظ رکھا ہے جو بلاشبہ باعث ِ برکت و لائق ِ عزت و احترام ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
زمین بات چیت کرے گی

زمین بات چیت کرے گی

قیامت کے دن بندوں کی نیکی بدی کے حساب کے وقت جہاں بہت سے گواہ ہوں گے۔ وہاں زمین بھی گواہ بن کر شہادت دے گی۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ ہر مرد و عورت نے زمین پر جو کچھ اچھا یا برا عمل کیا ہے زمین اس کی گواہی دے گی کہے گی کہ فلاں روز یہ کام کیا اور فلاں روز یہ کام کیا۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۷۹، پ۳۰، الزلزال:۴)

زمین پر جو کچھ اچھے یا برے کام لوگوں نے کئے ہیں۔ان سب کو زمین نے یاد رکھا ہے اور قیامت کے دن وہ ساری خبروں کو علی الاعلان بیان کرے گی جس کو سب لوگ سنیں گے۔ اس مضمون کو خداوند (عزوجل)نے قرآن مجید میں ان لفظوں کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے:

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا ۙ﴿1﴾وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا ۙ﴿2﴾وَ قَالَ الْاِنۡسَانُ مَا لَہَا ۚ﴿3﴾یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا ﴿ۙ4﴾بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَہَا ؕ﴿5﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔جب زمین تھر تھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے اورآدمی کہے اسے کیا ہوا اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی اس لئے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔(پ30،الزلزال:1۔5)
درسِ ہدایت:۔قیامت کے دن بندوں کے اچھے برے اعمال کے بہت سے گواہ ہوں گے۔ ہر انسان کے کندھوں پر جو فرشتے نامہ اعمال لکھ رہے ہیں وہ مستقل گواہ ہیں۔ پھر ان کے علاوہ انسان کے اعضاء گواہی دیں گے یعنی انسان کے ہاتھ پاؤں، آنکھ کان وغیرہ وغیرہ جن جن اعضاء سے جو جو اعمال کئے گئے ہر ہر عضو گواہی دے گا۔ پھر زمین پر جو جو نیکی یا بدی انسان نے کی ہے ان اعمال کے بارے میں زمین ہر ہر عمل کی خبر دے گی۔ اور خداوند قدوس کے حضور گواہی دے گی۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان چاہے جتنا بھی چھپ کر اور چھپا کر کوئی اچھا یا برا عمل کرے، مگر وہ عمل قیامت کے دن ہرگز ہرگز چھپ نہ سکے گا۔ بلکہ ہر آدمی کا ہر عمل اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور وہ اپنے تمام کرتوتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ اور ہر عمل کا بدلہ بھی پائے گا۔ چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ:

یَوْمَئِذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ۬ۙ لِّیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ ؕ﴿6﴾فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہو کر تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔ (پ30،الزلزال:6۔8)
بہرحال قیامت کا دن بڑا سخت ہو گا اور ہر آدمی کو اپنے ہر چھوٹے بڑے اور اچھے برے اعمال کا حساب دینا پڑے گا۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ زندگی کے ہر لمحہ میں یہ دھیان رکھے کہ جو کچھ کررہا ہوں مجھے ایک دن اپنے ان کاموں کا حساب دینا پڑے گا اور جن اعمال کو میں چھپا کر کررہا ہوں قیامت کے دن بھرے مجمع میں احکم الحاکمین کے حضور ظاہر ہو کر رہیں گے اس وقت کیسی اور کتنی بڑی رسوائی اور شرمندگی ہوگی؟
شب ِ قدر

شب ِ قدر

شب ِ قدر بڑی برکت و رحمت والی رات ہے۔ اس رات کے مراتب و درجات کا کیا کہنا کہ خداوند قدوس نے اس مقدس رات کے بارے میں قرآن مجید کی ایک سورہ نازل فرمائی ہے جس میں ارشاد فرمایا کہ:۔

اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الْقَدْرِ﴿1﴾ۚۖوَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ؕ﴿2﴾لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ3﴾تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمْرٍ ۙ﴿ۛ4﴾سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ٪﴿5﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اُتارا اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر ، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبریل اُترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔(پ30،القد ر:1۔5)
یعنی شب ِ قدر وہ قدر و منزلت والی رات ہے کہ اس رات میں پورا قرآن مجید لوحِ محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور اس ایک رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر افضل ہے۔ اس رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام ملائکہ کے ایک لشکر کے ساتھ آسمان سے زمین پر اترتے ہیں۔ یہ رات زمین و آسمان اور سارے جہان کے لئے سلامتی کا نشان ہے۔ غروبِ آفتاب سے طلوع فجر تک اس کے انوار و برکات کی تجلیاں برابر جلوہ افروز رہتی ہیں۔ 
روایت ہے کہ ایک دن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل کے ایک عابد کا قصہ بیان فرمایا کہ اس نے ایک ہزار مہینے تک لگاتار عبادت اور جہاد کیا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! آپ کے امتیوں کی عمریں تو بہت کم ہیں۔ پھر بھلا ہم لوگ اتنی عبادت کیونکر کرسکیں گے؟ صحابہ کے اس افسوس پر آپ کچھ فکرمند ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ نازل فرمائی کہ اے محبوب! ہم نے آپ کی امت کو ایک رات ایسی عطا کی ہے کہ وہ ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

          (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۳۹۹، پ۳۰، القدر:۳)

مومنوں کو ملائکہ کی سلامی:۔روایت ہے کہ شب ِ قدر میں سدرۃ المنتہیٰ کے فرشتوں کی فوج حضرت جبرئیل علیہ السلام کی سرداری میں زمین پر اترتی ہے اور ان کے ساتھ چار جھنڈے ہوتے ہیں۔ ایک جھنڈا بیت المقدس کی چھت پر۔ اور ایک جھنڈا کعبہ معظمہ کی چھت پر۔ اور ایک جھنڈا طور سیناء پر لہراتے ہیں اور پھر یہ فرشتے مسلمانوں کے گھروں میں تشریف لے جا کر ہر اس مومن مرد و عورت کو سلام کرتے ہیں جو عبادت میں مشغول ہوں۔ مگر جن گھروں میں بت یا تصویر یا کتا ہو یا جن مکانوں میں شرابی یا خنزیر کھانے والا یا غسل جنابت نہ کرنے والا، یا بلاوجہ شرعی اپنی رشتہ داری کو کاٹ دینے والا رہتا ہو، ان گھروں میں یہ فرشتے داخل نہیں ہوتے۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۱، پ۳۰، القدر:۴)

     ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان فرشتوں کی تعداد روئے زمین کی کنکریوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ سب سلام و رحمت لے کر نازل ہوتے ہیں۔

              (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۱، پ۳۰، القدر:۴)

شب ِ قدر کون سی رات ہے؟حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شب ِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں یعنی اکیسویں ، تئیسویں ، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں راتوں میں تلاش کرو۔

 (بخاری شریف، کتاب الصوم، باب تحری لیلۃ القدر، ج۱،ص ۲۷۰، مسلم شریف، کتاب الصیام، باب فضل لیلۃ القد ر، ص ۳۶۹)
اس لئے بعض علماء کرام نے فرمایا کہ شب ِ قدر کی کوئی رات معین نہیں ہے لہٰذا ان پانچوں راتوں میں شب ِ قدر کو تلاش کرنا چاہے۔
مگر حضرت ابی بن کعب و حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور دوسرے علماء کرام کا قول یہ ہے کہ شب ِ قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۰، پ۳۰، القد ر) اور بعض علماء کرام نے بطور اشارہ اس کی دلیل یہ بھی پیش کی ہے کہ ''لیلۃ القدر'' میں نو حروف ہیں اور ''لیلۃ القدر'' کا لفظ اس سورہ میں تین جگہ آیا ہے اور نو کو تین سے ضرب دینے سے ستائیس ہوتے ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ شب ِ قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۰، پ۳۰، القدر)

شب قدر کی نماز اور دعائیں:روایت ہے کہ جو شب ِ قدر میں اخلاصِ نیت سے نوافل پڑھے گا اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہوجائیں گے۔

            (تفسیر روح البیان،ج۱۰، ص ۸۱۔۴۸۰، پ۳۰،القدر:۳)

 (۱)شب ِ قدر میں چار رکعت نماز نفل اس ترکیب سے پڑھے کہ ہر رکعت میں ''الحمد'' کے بعدسورہ انا انزلناہ تین مرتبہ اور قل ھو اللہ پچاس مرتبہ پڑھے پھر سلام کے بعد سجدہ میں جا کر ایک مرتبہ سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ وَاللہُ اَکْبَر پڑھے۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر جو دعا مانگے ان شاء اللہ تعالیٰ مقبول ہو گی۔  (فضائل الشہور والایام)

 (۲)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے شب ِ قدر مل جائے تو میں کون سی دعا پڑھوں؟ تو ارشاد فرمایا کہ تم یہ دعا پڑھو۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ

 (سنن ابن ماجہ،کتاب الدعاء بالعفو و العافیۃ، ج۴،ص۲۷۳،رقم ۳۸۵۰ )

 (۳)ایک روایت میں ہے کہ جو شخص رات میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھ لے گا تو اس نے گویا
شب ِ قدر کو پالیا۔ لہٰذا ہر رات اس دعا کو پڑھ لینا چاہے۔ دعا یہ ہے:

لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم

 (۴)یہ دعا بھی جس قدر زیادہ پڑھ سکیں پڑھیں۔ یہ بھی حدیث میں آیا ہے، دعا یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ وَالْمُعَافَاۃَ الدَّائِمَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃ
ابوجہل اور خدا کے سپاہی

ابوجہل اور خدا کے سپاہی

ابوجہل نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے منع کیا تھا اور وہ علانیہ کہا کرتا تھا کہ اگر میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو نماز پڑھتے دیکھا تو اپنے پاؤں سے ان کی گردن کچل دوں گا اور ان کا چہرہ خاک میں ملا دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنے اس فاسد ارادہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نماز پڑھتے دیکھ کر آپ کے قریب آیا مگر اچانک الٹے پاؤں بھاگا۔ ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے جیسے کوئی کسی مصیبت کو روکنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھاتاہے۔چہرے کا رنگ اُڑ گیا، اور بدن کی بوٹی بوٹی کانپنے لگی۔ اس کے ساتھیوں نے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو کہنے لگا کہ میرے اور محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام)کے درمیان ایک خندق ہے جس میں آگ بھری ہوئی ہے اور کچھ دہشت ناک پرند بازو پھیلائے ہوئے ہیں۔ اس سے میں اس قدر خوفزدہ ہو گیا کہ آگے نہیں بڑھ سکا اور ہانپتے کانپتے کسی طرح جان بچا کر بھاگا۔
نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ابوجہل میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو جدا کردیتے۔
    اس کے بعد بھی ابوجہل اپنی خباثت سے باز نہیں آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے منع کرنے لگا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سختی سے جھڑک دیا تو ابوجہل نے غصہ میں بھر کر کہا کہ آپ مجھے جھڑکتے ہیں؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ مکہ میں مجھ سے زیادہ جتھے والا اور مجھ سے بڑی مجلس والا کوئی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! میں آپ کے مقابلہ میں سواروں اور پیدلوں سے اس میدان کو بھردوں گا۔ اس کی اس دھمکی کے جواب میں سورہ''علق'' یعنی سورہ اقراء کی یہ آیات نازل ہوئیں۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۷۷، پ۳۰، علق، رکوع :۱) خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا۔

کَلَّا لَئِنۡ لَّمْ یَنۡتَہِ ۬ۙ  لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ15﴾     نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ16﴾      فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ ﴿ۙ17﴾ سَنَدْعُ  الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ18﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔ہاں ہاں اگر باز نہ آیا توہم ضرور پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے کیسی پیشانی جھوٹی خطاکار اب پکارے اپنی مجلس کو ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں۔ (پ30،العلق:15۔18)
حدیث شریف میں ہے کہ اگر ابوجہل اپنی مجلس والوں کو بلاتا تو فرشتے اس کو بالاعلان گرفتار کرلیتے اور وہ ''زبانیہ'' کی گرفت سے بچ نہیں سکتا تھا۔

        (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۷۷، پ۳۰، علق: ۱۸)

درسِ ہدایت:۔ابوجہل جب تک زندہ رہا۔ ہمیشہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دشمنی و ایذاء رسانی پر کمربستہ رہا۔ اور دوسروں کو بھی اس پر اُکساتا رہا۔ آخر قہر خداوندی میں گرفتار ہوا کہ جنگ ِ بدر کے دن دو لڑکوں کے ہاتھ سے ذلت کے ساتھ قتل ہوا اور اس کی لاش بے گوروکفن بدر کے گڑھے میں پھینک دی گئی۔ اس طرح تمام دشمنانِ رسول طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو کر ہلاک و برباد ہو گئے۔ سبحان اللہ۔

مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعداتیرے
نہ  مٹا  ہے  نہ   مٹے  گا   کبھی  چرچا  تیرا
                  تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
  جب   بڑھائے   تجھے   اللہ  تعالی ٰ تیرا
عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
یہ گھٹائیں اُسے منظور بڑھانا تیرا

                    (حدائق بخشش، حصہ اول، ص۲۷)
پانچ مشہور اور پرانے بت

پانچ مشہور اور پرانے بت

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بت پرست ہو گئی تھی۔ اور ان لوگوں کے پانچ بت بہت مشہور تھے جن کی پوجا کرنے پر پوری قوم نہایت ہی اصرار کے ساتھ کمربستہ تھی اور ان پانچوں بتوں کے نام یہ تھے۔(۱) ودّ (۲) سُواع (۳) یغُوث (۴) یَعُوق (۵) نسر
حضرت نوح علیہ السلام جو بت پرستی کے خلاف وعظ فرمایا کرتے تھے تو ان کی قوم ان کے خلاف ہر کوچہ و بازار میں چرچا کرتی پھرتی تھی اور حضرت نوح علیہ السلام کو طرح طرح کی ایذائیں دیا کرتی تھی۔ چنانچہ قرآن مجید کا بیان ہے کہ:

وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ۬ۙ وَّ لَا یَغُوۡثَ وَ یَعُوۡقَ وَ نَسْرًا ﴿ۚ23﴾وَ قَدْ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا ۬ۚ

ترجمہ کنزالایمان:۔اور بولے ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو اور ہرگز نہ چھوڑنا وَدّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو اور بے شک انہوں نے بہتوں کو بہکایا۔(پ29،نوح:23،24)
یہ پانچوں بت کون تھے؟ ان کے بارے میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے یہ پانچوں فرزند تھے جو نہایت ہی دین دار و عبادت گزار تھے اور لوگ ان پانچوں کے بہت ہی محب و معتقد تھے۔ جب ان پانچوں کی وفات ہو گئی تو لوگوں کو بڑا رنج و صدمہ ہوا تو شیطان نے ان لوگوں کی تعزیت کرتے ہوئے یوں تسلی دی کہ تم لوگ ان پانچوں صالحین کا مجسمہ بنا کر رکھ لو اور ان کو دیکھ دیکھ کر اپنے دلوں کو تسکین دیتے رہو۔ چنانچہ پیتل اور سیسے کے مجسمے بنا بنا کر ان لوگوں نے اپنی اپنی مسجدوں میں رکھ لئے۔ کچھ دنوں تک تو لوگ ان مجسموں کی زیارت کرتے رہے پھر لوگ ان بتوں کی عبادت کرنے لگے اور خدا پرستی چھوڑ کر بت پرستی کرنے لگے۔ (تفسیر صاوی، ج۶، ص۲۲۴۵،پ۲۹، نوح:۲۳)

     حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک ان لوگوں کو وعظ سنا سنا کر اس بت پرستی سے منع فرماتے رہے۔ بالآخر طوفان میں غرق ہو کر سب ہلاک ہو گئے۔ مگر شیطان اپنی اس چال سے باز نہیں آیا اور ہر دور میں اپنے وسوسوں کے جادو سے لوگوں کو اس طور پر بت پرستی سکھاتا رہا کہ لوگ اپنے صالحین کی تصویروں اور مجسمے بنا کر پہلے تو کچھ دنوں تک ان کی زیارت کرتے رہے اور ان کے دیدار سے اپنا دل بہلاتے رہے۔ پھر رفتہ رفتہ ان تصویروں اور مجسموں کی عبادت کرنے لگے۔ اس طرح شرک و بت پرستی کی لعنت میں د نیا گرفتار ہو گئی اور خدا پرستی اور توحید خالص کا چراغ بجھنے لگا جس کو روشن کرنے کے لئے انبیاء سابقین یکے بعد دیگرے برابر مبعوث ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ہمارے حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کے لئے بت پرستی کی جڑ اس طرح کاٹ دی کہ آپ نے تصویروں اور مجسموں کا بنانا ہی حرام فرما دیا اور حکم صادر فرمادیا کہ تصاویر اور مجسمے ہرگز ہرگز کوئی شخص کسی آدمی تو آدمی کسی جاندار کے بھی نہ بنائے اور جو پہلے سے بن چکے ہیں ان کو جہاں بھی دیکھو فوراً مٹا کر اور توڑ پھوڑ کر تباہ و برباد کردو تاکہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔
درسِ ہدایت:۔آج کل میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے پیروں کے مریدین نے اپنے پیروں کی تصویروں کو چوکھٹوں میں بند کر کے اپنے گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اور خاص خاص موقعوں پر اس کی زیارت کرتے کراتے رہتے ہیں بلکہ بعض تو ان تصویروں پر پھول مالائیں چڑھا کر اگربتی بھی سلگایا کرتے ہیں اور اس کے دھوئیں کو اپنے بدن پر ملا کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی ان خرافات سے باز نہ رہے اور علماء اہل سنت نے اس کے خلاف علم مخالفت نہ بلند کیا تو اندیشہ ہے کہ شیطان کا پرانا حربہ اور اس کی شیطانی چال کا جادو مسلمانوں پر چل جائے گا اور آنے والی نسلیں ان تصویروں کی عبادت کرنے لگیں گی۔ خوب کان کھول کر سن لو کہ: حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے بت پرستی کے جس درخت کی جڑوں کو کاٹ دیا تھا۔ آج کل کے یہ جاہل بدعتی پیر اور ان کے توہم پرست مریدین بت پرستی کی ان جڑوں کو سینچ سینچ کر پھر شرک و بت پرستی کے درخت کو ہرا بھرا اور تناور بنا رہے ہیں۔ آج کل کے جاہل اور دنیا دار پیروں سے تو کیا امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس کے خلاف زبان کھولیں گے۔ مگر ہاں حق پرست اور حق گو علماء اہل سنت سے بہت کچھ امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ان کے خلافِ شرع اعمال و افعال کے خلاف ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور علم جہاد بلند کریں گے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر اس موقع پر جب کہ اسلام کی کشتی گمراہیوں کے بھنور میں ڈگمگانے لگی ہے تو علماء اہل سنت ہی نے اپنی جان پر کھیل کر کشتی اسلام کی ناخدائی کی ہے۔ اور آخر طوفانوں کا رخ موڑ کر اسلام کی کشتی کو غرقاب ہونے سے بچا لیا ہے۔
مگر اس زمانے میں اس کا کیا علاج ہے؟ کہ ان بے شرع پیروں اور مکار باباؤں نے چند روپیوں کے بدلے کچھ مولویوں کو خرید لیا ہے اور یہ مولوی صاحبان ان بے شرع پیروں اور مکار باباؤں کو ''مجذوب'' یا فرقہ ''ملامتیہ'' کا خوبصورت لبادہ اوڑھا کر خوب خوب ان کے کشف و کرامت کا ڈنکا بجا رہے ہیں۔ اور ان باباؤں کے نذرانے سے اپنی مٹھی گرم کررہے ہیں اور اگر کوئی حق گو عالم ان لوگوں کے خلاف کوئی کلمہ کہہ دے تو بابا لوگ اپنے داداؤں کو بلا کر اس عالم کی مرمت کرادیں اور ان کے زرخرید مولوی اپنی مخالفانہ تقریروں کی بوچھاڑ سے بے چارے حق گو عالم کی زندگی دوبھر کردیں۔ میں نے بارہا علماء اہلسنت کو پکارا اور للکارا کہ لِلّٰہ اٹھو اور حق کے لئے کمربستہ ہو کر کم از کم اتنا تو کردو کہ متفقہ فتویٰ کے ذریعے یہ اعلان کردو کہ یہ داڑھی منڈے ،اول فول بکنے والے، گَنجیڑی، تارک صوم و صلوٰۃ، بے شرع بابا لوگ فاسق معلن ہیں۔ جو خود گمراہ اور مسلمانوں کے لئے گمراہ کن ہیں اور ان لوگوں کو ولایت و کرامت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ مگر افسوس کہ ایک مولوی بھی مجھ عاجز کی آواز پر لبیک کہنے والا نہیں ملا۔ بلکہ پتا یہ چلا کہ ہر بابا کی جھولی میں کوئی نہ کوئی مولوی چھپا ہوا ہے۔ جس کے خلاف کچھ کہنا خطرے سے خالی نہیں۔ کیونکہ جو بھی ان باباؤں کے خلاف زبان کھولے گا ان نذرانہ خور مولویوں کی کاؤں کاؤں اور چاؤں چاؤں میں اس کی مٹی پلید ہوجائے گی۔

فیا اسفاہ ویاحسرتاہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
ایک عجیب وظیفہ

ایک عجیب وظیفہ

مفسرین نے فرمایا کہ عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک فرزند کو جن کا نام ''سالم'' تھا، مشرکوں نے گرفتار کرلیا تو عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور اپنی مفلسی و فاقہ مستی کی شکایت کرتے ہوئے یہ عرض کیا کہ مشرکوں نے میرے بچے کو گرفتار کرلیا ہے، جس کے صدمہ سے اس کی ماں بے حد پریشان ہے تو اس سلسلے میں اب مجھے کیا کرنا چاہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم صبر کرو اور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرو اورتم بھی بکثرت وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ پڑھا کرو اور بچے کی ماں کو بھی تاکید کردو کہ وہ بھی کثرت سے اس وظیفہ کا ذکر کرتی رہیں۔ یہ سن کر عوف بن مالک اشجعی اپنے گھر چلے گئے اور اپنی بیوی کو یہ وظیفہ بتا دیا۔ پھر دونوں میاں بیوی اس وظیفہ کو بکثرت پڑھنے لگے۔
اسی درمیان میں وظیفہ کا یہ اثر ہوا کہ ایک دن مشرکین ''سالم''کی طرف سے غافل ہو گئے چنانچہ موقع پا کر حضرت سالم مشرکوں کی قید سے نکل بھاگے اور چلتے وقت مشرکوں کی چار ہزار بکریاں اور پچاس اونٹوں کو بھی ہانک کر ساتھ لائے اور اپنے گھر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ ماں باپ نے دروازہ کھولا تو حضرت سالم موجود تھے، ماں باپ بیٹے کی ناگہاں ملاقات سے بے حد خوش ہوئے اور عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بیٹے کی سلامتی کے ساتھ قید سے رہائی کی خبر سنائی اور یہ فتویٰ دریافت کیا کہ مشرکین کی یہ بکریاں اور اونٹ ہمارے لئے حلال ہیں یا نہیں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی کہ وہ اونٹوں اور بکریوں کو جس طرح چاہیں استعمال کریں  (تفسیر خزائن العرفان، ص۱۰۰۴، پ۲۸،الطلاق:۲) وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿2﴾وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ؕ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدْرًا ﴿3﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔ اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے بیشک اللہ نے ہرچیز کا ایک اندازہ رکھا ہے۔(پ28،الطلاق:2۔3)
حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس آیت کو لے لیں تو یہ آیت لوگوں کو کافی ہوجائے گی۔ اور وہ آیت یہ ہے وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ سے آخر آیت تک۔ (تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۸۲، پ۲۸، الطلاق:۳)

حکایت عجیبہ:۔علامہ :اجہوری نے اپنی کتاب ''فضائل رمضان'' میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ سمندر میں کشتی پر سوار ہو کر سفر کررہے تھے تو سمندر میں سے ایک آواز دینے والے کی آواز آئی مگر اس کی صورت نہیں دکھائی پڑی۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص مجھے دس ہزار دینار دے دے تو میں اس کو ایک ایسا وظیفہ بتا دوں گا کہ اگر وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گیا ہو اور اس وظیفہ کو پڑھ لے تو تمام بلائیں اور ہلاکتیں ٹل جائیں گی۔ تو کشتی والوں میں سے ایک نے بلند آواز سے کہا کہ آؤ میں تجھ کو دس ہزار دینار دیتا ہوں تو مجھے وہ وظیفہ بتا دے تو آواز آئی کہ تو دیناروں کو سمندر میں ڈال دے۔ مجھے مل جائیں گے۔
چنانچہ کشتی والے نے دس ہزار دیناروں کو سمندر میں ڈال دیا تو اس غیبی آواز والے نے کہا کہ وہ وظیفہ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ آخر آیت تک ہے تجھ پر جب کوئی مصیبت پڑے تو اس کو پڑھ لیا کرو۔ یہ سن کر کشتی کے سب سواروں نے اس کا مذاق اُڑایا اور کہا کہ تونے دس ہزار دیناروں کی کثیر دولت ضائع کردی تو اس نے جواب دیا کہ ہرگزہرگز میں نے اپنی دولت کو ضائع نہیں کیا ہے اور مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ قرآن شریف کی آیت ضرور نفع بخش ہو گی۔ اس کے بعد چند دن کشتی چلتی رہی۔ پھر اچانک طوفان کی موجوں سے کشتی ٹوٹ کر بکھر گئی اور سوائے اس آدمی کے کشتی کا کوئی آدمی بھی زندہ نہیں بچا۔ یہ کشتی کے ایک تختے پر بیٹھا ہوا سمندر میں بہتا چلا جارہا تھا یہاں تک کہ ایک جزیرہ میں اتر پڑا۔ اور چند قدم چل کر یہ دیکھا کہ شاندار محل بنا ہوا ہے اور ہر قسم کے موتی اور جواہرات وہاں پڑے ہوئے ہیں۔ اور اس محل میں ایک بہت ہی حسین عورت اکیلی بیٹھی ہوئی ہیں اور ہر قسم کے میوے اور کھانے کے سامان وہاں رکھے ہوئے ہیں۔ اس عورت نے اس سے پوچھا۔
''کہ تم کون ہو اور کیسے یہاں پہنچ گئے۔''
    تو اس نے عورت سے پوچھا کہ :
    ''تم کون ہو اور یہاں کیا کررہی ہو؟''
تو اس عورت نے اپنا قصہ سنایا کہ میں بصرہ کے ایک عظیم تاجر کی بیٹی ہوں میں اپنے باپ کے ساتھ سمندری سفر میں جارہی تھی کہ ہماری کشتی ٹوٹ گئی اور مجھے کوئی اچانک کشتی میں سے اچک کر لے بھاگا۔ اور میں اس جزیرہ میں اس محل کے اندر اس وقت سے پڑی ہوں۔ ایک شیطان ہے جو مجھے اس محل میں لے آیا ہے وہ ہر ساتویں دن یہاں آتا ہے اور میرے ساتھ صحبت تو نہیں کرتا مگر بوس و کنار کرتا ہے۔ اور آج اس کے یہاں آنے کا دن ہے۔ لہٰذا تم اپنی جان بچا کر یہاں سے بھاگ جاؤ ورنہ وہ آ کر تم پر حملہ کردے گا۔ ابھی اس عورت کی گفتگو ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک دم اندھیرا چھا گیا تو عورت نے کہا کہ جلدی بھاگ جاؤ وہ آرہا ہے ورنہ وہ تم کو ضرور ہلاک کردے گا۔ چنانچہ وہ آگیا اور یہ شخض کھڑا رہا مگر جوں ہی شیطان اس کو دبوچنے کے لئے آگے بڑھا تو اس نے وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ کا وظیفہ پڑھنا شروع کردیا تو شیطان زمین پر گرپڑا۔ اور اس زور کی آواز آئی کہ گویا پہاڑ کا کوئی ٹکڑا ٹوٹ کر گر پڑا ہے اور پھر وہ شیطان جل کر راکھ کا ڈھیر ہو گیا۔ یہ دیکھ کر عورت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو فرشتہ رحمت بنا کر میرے پاس بھیج دیا ہے۔ تمہاری بدولت مجھے اس شیطان سے نجات ملی۔ پھر اس عورت نے اس مرد سے کہا کہ ان موتی جواہرات کو اٹھالو اور اس محل سے نکل کر میرے ساتھ سمندر کے کنارے چلو اور کوئی کشتی تلاش کر کے یہاں سے نکل چلو۔ چنانچہ بہت سے موتی و جواہرات اور پھل وغیرہ کھانے کا سامان لے کر دونوں محل سے نکلے اور سمندر کے کنارے پہنچے تو ایک کشتی ''بصرہ'' جا رہی تھی۔ دونوں اس پر سوار ہو کر بصرہ پہنچے۔ لڑکی کے والدین اپنی گم شدہ لڑکی کو پا کر بے حد خوش ہوئے اور اس مرد کے ممنون ہو کر اس کو بہت عزت و احترام کے ساتھ اپنے گھر میں مہمان رکھا۔ پھر لڑکی کے والدین نے پوری سرگزشت سن کر دونوں کا نکاح کردیا اور دونوں میاں بیوی بن کر رہنے لگے۔ اور تمام موتی و جواہرات جو دونوں جزیرہ سے لائے تھے، وہ دونوں کی مشترکہ دولت بن گئے اور اس عورت سے خداوند تعالیٰ نے اس مرد کو چند اولاد بھی دی اور وہ دونوں بہت ہی محبت و الفت کے ساتھ خوش حال زندگی بسر کرنے لگے۔

 (تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۸۳، پ۲۸، الطلاق:۲)

درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اعمال و وظائف قرآنی میں بڑی بڑی تاثیرات ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ عقیدہ درست ہو اور اعمال کو صحیح طریقے سے پڑھا جائے اور زبان گناہوں کی آلودگی اور لقمہ حرام سے محفوظ اور پاک و صاف ہو اور عمل میں اخلاص نیت اور شرائط کی پوری پوری پابندی بھی ہو۔ تو ان شاء اللہ تعالیٰ قرآنی اعمال سے بڑی بڑی اور عجیب عجیب تاثیرات کا ظہور ہو گا۔ جس کی ایک مثال آپ نے پڑھ لی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
یہودیوں کی جلاوطنی

یہودیوں کی جلاوطنی

ہجرت کے بعد جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مدینہ اور اطرافِ مدینہ کے یہودیوں سے ''صلح و عہد'' کا معاہدہ فرمالیا۔ مگر یہودی اپنے عہد و پیمان پر قائم نہیں رہے بلکہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کا جال بچھانا شروع کردیا۔ اسی دوران یہودیوں میں سے قبیلہ ''بنونضیر''کے ذمہ دار افراد نے ایک روز یہ سازش کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر یہ عرض کریں کہ ہم کو آپ سے ایک ضروری مشورہ کرنا ہے اور جب وہ تشریف لے آئیں تو دیوار کے قریب ان کو بٹھایا جائے اور وہ جب گفتگو میں مصروف ہوجائیں تو چھت کے اوپر سے ایک بھاری پتھر ان کے اوپر گرا کر ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا جائے۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کی بستی میں تشریف لے گئے۔ مگر ابھی آپ دیوار کے قریب بیٹھے ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی یہودیوں کی سازش سے آپ کو مطلع کردیا۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی کے ساتھ فوراً واپس تشریف لے گئے۔ اس طرح یہودیوں کی سازش ناکام ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچ کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبھیجا کہ وہ بنونضیر کے یہودیوں تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ چونکہ تم لوگوں نے غداری کر کے معاہدہ توڑ ڈالا ہے اس لئے تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ حجاز مقدس کی سرزمین سے جلا وطن ہو کر باہر نکل جاؤ۔ منافقین نے یہ سنا تو جمع ہو کر بنو نضیر کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ تم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کے اس حکم کو ہرگز تسلیم نہ کرو اور یہاں سے ہرگز جلاوطن نہ ہو۔ ہم ہر طرح تمہارے شریک کار ہیں۔ بنو نضیر نے منافقین کی پشت پناہی دیکھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے سے انکار کردیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی تیاری شروع کردی، اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کو مدینہ کا امیر بنا کر صحابہ کرام کی ایک فوج لے کر بنو نضیر کے قلعہ پر حملہ آور ہوگئے۔ یہودی اس قلعہ میں بند ہو گئے اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اب مسلمان ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قلعہ کا محاصرہ کرلیا اور پھر حکم دیا کہ ان کے درختوں کو کاٹ ڈالو کیونکہ ممکن تھا کہ درختوں کے جھنڈ میں چھپ کر یہودی اسلامی لشکر پر چھاپہ مارتے۔ ان حالات کو دیکھ کر بنونضیر کے یہودیوں پر ایسا رعب بیٹھ گیا اور اس قدر خوف طاری ہو گیا کہ وہ لرز اُٹھے، اور ان کو منافقین کی طرف سے بھی بجز مایوسی اور رسوائی کے کچھ ہاتھ نہ آیا، آخر کار مجبور ہو کر یہودیوں نے درخواست کی کہ ہم لوگوں کو جلا وطن ہونے کا موقع دیا جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کو اجازت دی گئی کہ سامانِ جنگ کے علاوہ جس قدر سامان بھی وہ اونٹوں پر لاد کر لے جانا چاہتے ہیں، لے جائیں۔ چنانچہ بنونضیر کے یہودی چھ سو اونٹوں پر اپنا مال و سامان لاد کر ایک جلوس کی شکل میں گاتے بجاتے مدینہ سے نکلے اور کچھ تو ''خیبر''چلے گئے اور زیادہ تعداد میں ملک شام جا کر ''اذرعات'' اور ''اریحاء'' میں آباد ہو گئے اور چلتے وقت یہودیوں نے اپنے مکانوں کو گرا کر برباد کردیا تاکہ مسلمان ان مکانوں سے فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔

    (مدارج النبوت، بحث غزوہ بنی نضیر، ج۲ ،ص ۴۸۔۱۴۷، )

اللہ تعالیٰ نے بنونضیر کے یہودیوں کی اس جلاوطنی کا ذکر قرآن مجید کی سورہ حشر میں اس طرح فرمایا ہے کہ:

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَخْرَجَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ مِنۡ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ؕؔ مَا ظَنَنۡتُمْ اَنۡ یَّخْرُجُوۡا وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوۡنُہُمۡ مِّنَ اللہِ فَاَتٰىہُمُ اللہُ مِنْ حَیۡثُ لَمْ یَحْتَسِبُوۡا ٭ وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمْ وَ اَیۡدِی الْمُؤْمِنِیۡنَ ٭ فَاعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ ﴿2﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو ان کے گھروں سے نکالا ان کے پہلے حشر کے لئے تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے تو اللہ کا حکم ان کے پاس آیا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا اور اُس نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا کہ اپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ (پ28،الحشر:2)
درسِ ہدایت:۔یہودیوں کی قوم اپنے روایتی حسد و بغض اور تاریخی منافقت میں ہمیشہ سے مشہور ہے۔ خاص کر غداری اور بدعہدی تو اُن کا قومی خاصہ ہے اس کے علاوہ ان بدبختوں کا ظلم بھی ضرب المثل ہے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے بہت سے انبیاء کرام کو قتل کردیا۔ دراں حالیکہ ان بدبختوں کو یہ اعتراف تھا کہ ہم ان کو ناحق قتل کررہے ہیں۔ خداوند قدوس نے ان کی بدعہدیوں اور
وعدہ شکنیوں کا قرآن مجید میں بار بار ذکر فرما کر مسلمانوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ یہودیوں کے عہد و معاہدہ پر ہرگز ہرگز مسلمانوں کو بھروسا نہیں کرناچاہے اور ہمیشہ ان بدبختوں کی مکاریوں اور دسیسہ کاریوں سے ہوشیار رہنا چاہے۔
اور بدعہدی اور عہد شکنی کے یہ خبیث خصائل اور بدترین شرارتوں کے گھناؤنے رذائل زمانہ دراز سے آج تک بدستور یہودیوں میں موجود ہیں جیسا کہ اس دور میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ آج کل اسرائیل کی غاصبانہ حکومت بنا کر فلسطینی عربوں کے ساتھ کیا کررہے ہیں؟ اور امریکہ کے یہودی کس طرح ان کی بدعہدیوں پر ان کی پیٹھ ٹھونک کر خود اترا رہے ہیں، اور اسرائیلی حکومت کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں، حالانکہ پوری دنیا اسرائیل اور امریکہ پر لعنت و ملامت کررہی ہے مگر ان بے ایمان بے حیاؤں کی شرم و حیا اس طرح غارت ہوچکی ہے کہ ان ظالموں کو اس کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ فلسطینی عرب تو ظاہر ہے کہ امریکی جیسی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے، مگر ہم ناامید نہیں ہیں اور قرآنی وعدوں سے پُر امید ہیں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ بدستور و سابق ان لوگوں کو کوئی نہ کوئی عذابِ الٰہی تو ضرور ہلاک و برباد فرما دے گا۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سخاوت

صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سخاوت

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے بطور ہدیہ ایک صحابی کے گھر بکری کا ایک سر بھیج دیا تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ ہم سے زیادہ تو میرا فلاں بھائی اس سر کا ضرورت مند ہے۔ وہ سر اس کے گھر بھیج دیا تو اُس نے کہا کہ میرا فلاں بھائی مجھ سے بھی زیادہ محتاج ہے۔ یہ کہا اور وہ سر اُس صحابی کے گھر بھیج دیا۔ اسی طرح ایک نے دوسرے کے گھر اور دوسرے نے تیسرے کے گھر اُس سر کو بھیج دیا یہاں تک کہ جب یہ سر چھٹے صحابی کے پاس پہنچا تو انہوں نے سب سے پہلے والے کے گھر یہ کہہ کر بھیج دیا کہ وہ ہم سے زیادہ مفلس اور حاجت مند ہیں اس طرح وہ سر جس گھر سے سب سے پہلے بھیجا گیا تھا پھر اسی گھر میں آگیا۔ اس موقع پر سورہ حشر کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی جس میں اللہ جل جلالہٗ نے صحابہ کرام کی سخاوت کا خطبہ ارشاد فرمایا ہے:

 وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿ۚ9﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔ اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔ (پ28،الحشر:9)
یہ تو زمانہ رسالت کا ایک حیرت انگیز واقعہ تھا۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت میں تقریباً اِسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا جو عبرت خیز اور نصیحت آموز ہونے میں پہلے واقعہ سے کم نہیں۔ چنانچہ منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار ایک تھیلی میں بند کر کے اپنے غلام کو حکم دیا کہ یہ تھیلی حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کی خدمت میں پیش کردو اور پھر تم گھر میں اس وقت تک ٹھہرے رہو کہ تم دیکھ لو کہ وہ اس تھیلی کا کیا کرتے ہیں؟ چنانچہ غلام تھیلی لے کر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور عرض کیا کہ حضرت امیرالمؤمنین نے یہ دیناروں کی تھیلی آپ کے پاس بھیجی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ اس کو اپنی حاجتوں میں خرچ کریں۔ امیرالمومنین کا پیغام سن کر آپ نے یہ دعا دی کہ اللہ تعالیٰ امیرالمومنین کا بھلا کرے۔ پھر اپنی لونڈی سے فرمایا کہ اے خادمہ!یہ سات دینار فلاں کو دے آؤ اور یہ پانچ دینار فلاں کو۔ اسی طرح انہوں نے ایک ہی نشست میں تمام دیناروں کو حاجت مندوں میں تقسیم کرادیا۔ صرف دو دینار ان کے سامنے رہ گئے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ اے لونڈی!یہ دو دینار بھی فلاں ضرورت مند کو دے دو۔
یہ ماجرا دیکھ کر غلام امیرالمومنین کے پاس واپس آگیا تو امیرالمومنین نے چار سو دینار کی دوسری تھیلی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی اور غلام سے فرمایا کہ تم اس وقت تک ان کے گھر میں بیٹھے رہنا اور دیکھتے رہنا کہ وہ اس تھیلی کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔ چنانچہ غلام حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھیلی لے کر پہنچا تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیرالمومنین کا تحفہ اور پیغام پانے کے بعد یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ امیرالمومنین پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور ان کو نیک بدلہ دے پھر فوراً ہی اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ فلاں فلاں صحابہ کے گھروں میں اتنی اتنی رقم پہنچادو۔ صرف دو دینار باقی رہ گئے تھے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی آگئیں اور کہا کہ خدا کی قسم! ہم لوگ بھی تو مفلس اور مسکین ہی ہیں۔ یہ سن کر وہ دینار جو باقی رہ گئے تھے بیوی کی طرف پھینک دیئے۔ یہ منظر دیکھ کر غلام امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور سارا چشم دید ماجرا سنانے لگا۔ امیرالمومنین حضرت ابو عبیدہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اس سخاوت و اولو العزمی کی داستان کو سن کر فرط ِ تعجب سے انتہائی مسرور ہوئے اور فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صحابہ کرام یقینا آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک دوسرے پر انتہائی رحم دل اور آپس میں بے حد ہمدرد ہیں۔
حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور دوسرے صحابہ کرام سے بھی یہ روایت منقول ہے۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۳۸، پ۲۸، الحشر:۹)

ایک حدیث میں ہے کہ آیت مذکورہ بالا کا نزول اس واقعہ کے بعد ہوا کہ بارگاہِ نبوت میں ایک بھوکا شخص حاضر ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواجِ مطہرات کے حجروں میں معلوم کرایا کہ کیا کھانے کی کوئی چیز ہے؟ معلوم ہوا کہ کسی بی بی صاحبہ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحابِ کرام سے فرمایا کہ جو اس شخص کو مہمان بنائے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری کھڑے ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر مہمان کو اپنے گھر لے گئے۔
گھر جا کر بیوی سے دریافت کیا کہ گھر میں کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا کہ صرف بچوں کے لئے تھوڑا سا کھانا ہے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بچوں کو بہلا پھسلا کر سلادو۔ اور جب مہمان کھانے بیٹھے تو چراغ درست کرنے کے لئے اٹھو اور چراغ کو بجھادو تاکہ مہمان اچھی طرح کھالے۔ یہ تجویز اس لئے کی کہ مہمان یہ نہ جان سکے کہ اہلِ خانہ اس کے ساتھ نہیں کھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس کو یہ معلوم ہوجائے گا تو وہ اصرار کریگا اور کھانا تھوڑا ہے۔ اس لئے مہمان بھوکا رہ جائے گا۔ اس طرح حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہمان کو کھانا کھلا دیا اور خود اہلِ خانہ بھوکے سو رہے۔ جب صبح ہوئی اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ کر فرمایا کہ رات فلاں فلاں کے گھر میں عجیب معاملہ پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے بہت راضی ہے اور سورہ حشر کی یہ آیت نازل ہوئی۔  (تفسیرخزائن العرفان،ص۹۸۴،پ۲۸،الحشر:۹) درسِ ہدایت:۔یہ آیتِ مبارکہ اور اس کی شانِ نزول کے حیرت ناک واقعات ہم مسلمانوں کے لئے کس قدر عبرت خیز و نصیحت آموز ہیں۔ اس کو لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہر شخص خود ہی انصاف کی عینک لگا کر اس کو دیکھ سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کے دل میں بصیرت کی روشنی اور آنکھوں میں بصارت کا نور موجود ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
لوہا آسمان سے اُترا ہے

لوہا آسمان سے اُترا ہے

اللہ تعالیٰ نے ''لوہے'' کا ذکر فرماتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ:

 وَ اَنۡزَلْنَا الْحَدِیۡدَ فِیۡہِ بَاۡسٌ شَدِیۡدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ

ترجمہ کنزالایمان:۔اور ہم نے لوہا اُتارا اس میں سخت آنچ اور لوگوں کے فائدے ۔ (پ27،الحدید:25)
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام بہشت بریں سے روئے زمین پر تشریف لائے تو لوہے کے پانچ اوزار اپنے ساتھ لائے۔ ہتھوڑا، نہائی، سنسی، ریتی، سوئی ۔ اور دوسری روایت انہی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ تین چیزیں زمین پر نازل ہوئیں۔ حجر اسود، عصاءِ موسوی اور لوہا۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۱۲، پ۲۷،الحدید:۲۵)

    اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار برکت والی چیزیں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمائی ہیں۔ لوہا، آگ، پانی، نمک۔  (تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۱۲، پ۲۷، الحدید:۲۵)

درسِ ہدایت:۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ ''لوہا''جنت سے زمین پر آیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہ ہے کہ ''لوہا''آسمان سے نازل ہوا ہے۔ ان دونوں روایتوں میں کوئی خاص تعارض نہیں۔ اس لئے کہ ''جنت'' آسمانوں کے اوپر ہی ہے تو لوہا جب جنت سے اُترا تو آسمان ہی سے زمین پر اُترا۔
''لوہا''ایک ایسی دھات ہے کہ ہر صنعت و حرفت کے آلات اس سے بنتے ہیں اور ہر قسم کے آلاتِ جنگ بھی اسی سے تیار ہوتے ہیں اور انسانوں کی ضروریات کے ہزاروں سامان ایسے ہیں کہ بغیر لوہے کے تیار ہی نہیں ہو سکتے۔ اس لئے قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ وَمَنَافِعُ لِلنَّاس کہ اس ''لوہے'' میں لوگوں کے لئے بے شمار فوائد و منافع ہیں۔ بہرحال لوہا خداوند تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ لہٰذا لوہے کا ہر سامان دیکھ کر خداوند قدوس کی اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
کسی قوم کا مذاق نہ اُڑاؤ

کسی قوم کا مذاق نہ اُڑاؤ

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ اونچا سنتے تھے اس لئے جب وہ مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو صحابہ انہیں آگے جگہ دے دیا کرتے تھے۔ ایک دن جب وہ دربارِ رسالت میں آئے تو مجلس پُر ہوچکی تھی، لیکن وہ لوگوں کو ہٹاتے ہوئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب پہنچ گئے۔ مگر پھر بھی ایک آدمی ان کے اور حضور کے درمیان رہ گیا۔ حضرت ثابت بن قیس اس کو بھی ہٹانے لگے لیکن وہ شخص اپنی جگہ سے بالکل نہیں ہٹا تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غصہ میں بھر کر پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو اس شخص نے کہا کہ فلاں آدمی ہوں۔یہ سن کر حضرت ثابت بن قیس نے حقارت کے لہجے میں کہا کہ اچھاتو فلانی عورت کا لڑکا ہے ۔ یہ سن کر اس شخص نے شرمندہ ہو کر سر جھکالیا اور اس کو بڑی تکلیف ہوئی اس موقع پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
اور حضرت ضحاک سے منقول ہے کہ قبیلہ بنی تمیم کے کچھ لوگ بہترین پوشاک پہن کر بصورت وفد بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے اور جب ان لوگوں نے ''اصحاب صفہ''کے غریب و مفلس مسلمانوں کو فرسودہ حال دیکھا تو ان کا مذاق اُڑانے لگے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۲۹، پ۲۶، الحجرات:۱۱)
اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ام المؤمنین بی بی صفیہ کو ایک دن ''یہودیہ''کہہ دیا تھا۔ جس سے ان کو بہت رنج و صدمہ ہوا۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معلوم ہوا تو حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہت زیادہ خفگی کا اظہار فرمایا اور حضرت بی بی صفیہ رضی اللہ عنہا کی دل جوئی کے لئے فرمایا کہ تم ایک نبی (حضرت موسیٰ علیہ السلام)کی اولاد میں ہو اور تمہارے چچاؤں میں بھی ایک نبی (حضرت ہارون علیہ السلام) ہیں اور تم ایک نبی کی بیوی بھی ہو یعنی میری بیوی ہو۔ اس موقع پر ان آیات کا نزول ہوا۔  (تفسیر صاوی،ج۵، ص۱۴۹۴، پ۲۶، الحجرات:۱۱)

بہرحال ان مذکورہ بالا تینوں شانِ نزول میں سے کسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ (عزوجل) نے کسی قوم کا مذاق اڑانے کی سخت ممانعت فرمائی۔
آیت کریمہ یہ ہے کہ:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنْہُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿11﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔(پ26،الحجرات:11)
درسِ ہدایت:۔قرآن کریم کی ان چمکتی ہوئی آیتوں کو بغور پڑھئے اور عبرت حاصل کیجئے کہ اس زمانے میں جو ایک فاسقانہ اور سراسر مجرمانہ رواج نکل پڑا ہے کہ ''سید''و ''شیخ''اور ''پٹھان''کہلانے والوں کا یہ دستور بن گیا ہے کہ وہ دُھنیا، جولاہا، کُنجڑا، قصائی، نائی کہہ کر مخلص و متقی مسلمانوں کا مذاق بنایا کرتے ہیں بلکہ ان قوموں کے عالموں کو محض ان کی قومیت کی بناء پر ذلیل و حقیر سمجھتے ہیں بلکہ اپنی مجلسوں میں ان کا مذاق بنا کر ہنستے ہنساتے ہیں۔ جہال تو جہال بڑے بڑے عالموں اور پیرانِ طریقت کا بھی یہی طریقہ ہے کہ وہ بھی یہی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ حد ہو گئی کہ جو لوگ برسوں ان قوموں کے عالموں کے سامنے زانوئے تلمذ طے کر کے خود عالم اور شیخ طریقت بنے ہیں مگر پھر بھی محض قومیت کی بناء پر اپنے استادوں کو حقیر و ذلیل سمجھ کر ان کا تمسخر کرتے رہتے ہیں۔ اور اپنے نسب و ذات پر فخر کر کے دوسروں کی ذلت و حقارت کا چرچا کرتے رہتے ہیں۔ لِلّٰہ بتایئے کہ قرآن مجید کی روشنی میں ایسے لوگ کتنے بڑے مجرم ہیں؟
ملاحظہ فرمایئے کہ قرآنِ مجید نے مندرجہ ذیل احکام اور وعیدیں بیان فرمائی ہیں:
(۱)کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اُڑائے۔ ہوسکتا ہے کہ جن کا مذاق اُڑا رہے ہیں وہ مذاق اُڑانے والوں سے دنیا و آخرت میں بہتر ہوں۔
(۲)مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ ایک دوسرے پر طعنہ زنی کریں۔
(۳)مسلمانوں پر حرام ہے کہ ایک دوسرے کے لئے برے برے نام رکھیں۔
(۴)جو ایسا کرے وہ مسلمان ہو کر ''فاسق''ہے۔
(۵)اور جو اپنی ان حرکتوں سے توبہ نہ کرے وہ ''ظالم''ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اگر کوئی گناہ گار مسلمان اپنے گناہ سے توبہ کر لے تو توبہ کے بعد اس کو اس گناہ سے عار دلانا بھی اسی ممانعت میں داخل ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان کو کتا، گدھا، سُور کہہ دینا بھی ممنوع ہے یا کسی مسلمان کو ایسے نام یا لقب سے یاد کرنا جس میں اس کی برائی ظاہر ہوتی ہو یا اس کو ناگوار ہوتا ہو یہ ساری صورتیں بھی اسی ممانعت میں داخل ہیں۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۳۰، پ۲۶،الحجرات:۱۱)\
اور حضر ت عبداللہ بن مسعود صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو حقیر سمجھ کر اس کا مذاق بناؤں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ مجھے کتا نہ بنادے۔

     (تفسیر صاوی،ج۵، ص۱۹۹۴، پ۲۶، الحجرات:۱۱)
چاند دو ٹکڑے ہو گیا

چاند دو ٹکڑے ہو گیا

کفارِ مکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو آپ نے چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھا دیا ایک ٹکڑا ''جبل ابو قبیس'' پر نظر آیا اور دوسر اٹکڑا ''جبل قعیقعان'' پر دیکھا گیا۔ اس طرح چاند کو دو پارہ کر کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کفارِ مکہ کو دکھا دیا اور فرمایا کہ تم لوگ گواہ ہوجاؤ۔

 (تفسیر جلالین، ص۴۴۰،پ۲۷، القمر:۱)

یہ دیکھ کر کفار مکہ نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے جادو کر کے ہماری نظر بندی کر دی ہے اس پر انہیں کی جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اگر یہ نظر بندی ہے تو مکہ سے باہر کے کسی آدمی کو چاند کے حصے نظر نہ آئے ہوں گے۔ لہٰذا اب باہر سے جو قافلے آنے والے ہیں ان کی جستجو رکھو اور مسافرں سے دریافت کرو اگر دوسرے مقامات سے بھی چاند کا شق ہونا دیکھا گیا ہے تو بیشک یہ معجزہ ہے۔ چنانچہ سفر سے آنے والوں سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے دیکھا کہ اس روز چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔ اس کے بعد مشرکین کو انکار کی گنجائش نہ رہی۔ لیکن وہ لوگ اپنے عناد سے اس کو جادو ہی کہتے رہے۔ یہ معجزہ عظیمہ صحاح کی احادیث کثیرہ میں مذکور ہے اور یہ حدیث اس قدر درجہ شہرت کو پہنچ گئی ہے کہ اس کا انکار کرنا عقل و انصاف سے دشمنی اور بے دینی ہے۔  (تفسیر خزائن العرفان، ص۹۵۳۔۹۵۴،پ۲۷،القمر:۱)

اللہ تعالیٰ نے اس معجزہ کا بیان قرآن کی سورہ قمر میں ان الفاظ کے ساتھ بالاعلان فرمایا کہ:

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الْقَمَرُ ﴿1﴾وَ اِنۡ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوۡا وَ یَقُوۡلُوۡا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ﴿2﴾وَکَذَّبُوۡا وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمْ وَ کُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ ﴿3﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔پاس آئی قیامت اور شق ہوگیا چاند اور اگر دیکھیں کوئی نشانی تو منہ پھیرتے اور کہتے ہیں یہ تو جادو ہے چلا آتا اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے اور ہر کام قرار پا چکا ہے۔ (پ27،القمر:1۔3)
درسِ ہدایت:۔ معجزہ ''شق القمر'' حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بے مثال معجزہ ہے جو اس آیتِ کریمہ اور بہت سی مشہور حدیثوں سے ثابت ہے ہم نے اپنی کتاب ''سیرۃ المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم''میں اس مسئلہ پر سیرِ حاصل بحث کی ہے اس کے مطالعہ سے اطمینان قلب اور جلاء ایمان حاصل کیجئے۔
ملائکہ مہمان بن کر آئے

ملائکہ مہمان بن کر آئے

حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت مہمان نواز تھے۔ منقول ہے کہ جب تک آپ کے دستر خوان پر مہمان نہیں آجاتے تھے آپ کھانا نہیں تناول فرماتے تھے۔ ایک دن مہمانوں کا ایک ایسا قافلہ آپ کے گھر اُتر پڑا کہ ان مہمانوں سے آپ خوفزدہ ہو گئے یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے جو دس یا بارہ فرشتوں کو ہمراہ لے کر تشریف لائے تھے اور سلام کر کے مکان کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ سب فرشتے نہایت ہی خوبصورت انسانوں کی شکل میں تھے۔ اولاً تو یہ حضرات ایسے وقت تشریف لائے جو مہمانوں کے آنے کا وقت نہیں تھا۔ پھر یہ حضرات بغیر اجازت طلب کئے دندناتے ہوئے مکان کے اندر داخل ہو گئے پھر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حسب ِ عادت ان حضرات کی مہمان نوازی کے لئے ایک فربہ بھنا ہوا بچھڑا لائے تو ان حضرات نے کھانے سے انکار کردیا۔ ان مہمانوں کی مذکورہ بالا تین اداؤں کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کچھ خدشہ گزرا کہ شاید یہ لوگ دشمن ہیں کیونکہ اس زمانے کا یہی رواج تھا کہ دشمن جس گھر میں دشمنی کے لئے جاتا تھا اس گھر میں کچھ کھاتا پیتا نہیں تھا۔ چنانچہ آپ ان مہمانوں سے کچھ خوف محسوس فرمانے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ ہم سے بالکل کوئی خوف نہ کریں ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور ہم دو کاموں کے لئے آئے ہیں پہلا مقصد تو یہ ہے کہ ہم آپ کو یہ بشارت سنانے آئے ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ایک علم والا فرزند عطا فرمائے گا اور ہمارا دوسرا کام یہ ہے کہ ہم حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب لے کر آئے ہیں۔
فرزند کی بشارت سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مقدس بیوی حضرت ''سارہ''چونک پڑیں کیونکہ ان کی عمر ننانوے برس کی ہوچکی تھی اور وہ کبھی حاملہ بھی نہیں ہوئی تھیں۔ تعجب سے وہ چلاتی ہوئی آئیں اور ہاتھ سے ماٹھا ٹھونک کر کہنے لگیں کہ کیا مجھ بڑھیا بانجھ کے بھی فرزند ہو گا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں آپ کے رب کا یہی فرمان ہے اور وہ پروردگار بڑی حکمتوں والا بہت علم والا ہے۔ چنانچہ حضرت اسحٰق علیہ السلام پیدا ہوئے۔

    (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۳۸ (ملخصاً) پ۲۶،الذاریات:۲۴ ۔ ۲۹ )

قرآن مجید نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ:

ہَلْ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ ضَیۡفِ اِبْرٰہِیۡمَ الْمُکْرَمِیۡنَ ﴿ۘ24﴾اِذْ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ سَلٰمٌ ۚ قَوْمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿25﴾فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ26﴾فَقَرَّبَہٗۤ اِلَیۡہِمْ قَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫27﴾
فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفْ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ  بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿28﴾      فَاَقْبَلَتِ امْرَاتُہٗ  فِیۡ صَرَّۃٍ  فَصَکَّتْ وَجْہَہَا وَ قَالَتْ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿29﴾      قَالُوۡا کَذٰلِکِ ۙ قَالَ رَبُّکِ ؕ اِنَّہٗ  ہُوَ الْحَکِیۡمُ الْعَلِیۡمُ ﴿30﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔اے محبوب کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی جب وہ اس کے پاس آ کر بولے سلام کہا سلام نا شناسا لوگ ہیں پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا پھر اسے ان کے پاس رکھا کہا کیا تم کھاتے نہیں تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا وہ بولے ڈریئے نہیں اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی اس پر اس کی بی بی چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ انہوں نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرما دیا ہے اور وہی حکیم دانا ہے۔      (پ26،الذاریات:24۔30)
درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے یہ ہدایت کی روشنی ملتی ہے کہ ملائکہ کبھی کبھی آدمی کی صورت میں لوگوں کے پاس آیا کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حج کے موقع پر حرم کعبہ اور منیٰ و عرفات و مزدلفہ وغیرہ میں کچھ فرشتوں کی جماعت انسانوں کی شکل و صورت میں مختلف بھیس بنا کر آتی ہے جو حاجیوں کے امتحان کے لئے خدا کی طرف سے بھیجی جاتی ہے۔ اس لئے حجاج کرام کو لازم ہے کہ مکہ مکرمہ اور منٰی و عرفات و مزدلفہ اور طواف ِ کعبہ و زیارتِ مدینہ منورہ کے ہجوم میں ہوشیار رہیں کہ ہرگزہرگز کسی انسان کی بھی بے ادبی و دل آزاری نہ ہونے پائے اور تاجروں یا حمالوں یا فقیروں سے جھگڑا تکرار نہ ہونے پائے۔ تمہیں کیا خبر ہے کہ یہ آدمی ہے یا آدمی کی صورت میں کوئی فرشتہ ہے جو تمہیں دھکا دے کر یا ڈانٹ کر تمہارے حلم و صبر کا امتحان لے رہا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس سے عام طور پر لوگ ناواقف ہیں اس لئے سفر حج میں قدم قدم پر لوگوں سے الجھتے اور جھگڑتے رہتے ہیں اور بعض اوقات دنیا و آخرت کا شدید نقصان و خسارہ اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا اس نقصانِ عظیم سے بچنے کی بہترین تدبیر یہی ہے کہ ہر شخص کے بارے میں یہی خطرہ محسوس کرتے رہیں کہ شاید یہ کوئی فرشتہ ہو جو تاجر یا سائل یا مزدور کے بھیس میں ہے اور پھر اس سے سنبھل کر بات چیت کریں اور حتی الامکان اس کو راضی رکھنے کی کوشش کریں اور ہرگز ہرگز کسی تلخ کلامی یا سخت گوئی کی نوبت نہ آنے دیں کہ اسی میں سلامتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
فاسق کی خبر پر اعتماد مت کرو

فاسق کی خبر پر اعتماد مت کرو

۵ ؁ھ کے غزوہ بنی مصطلق میں جب مسلمان فتح یاب ہو گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلہ کے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرما لیا تو صحابہ کرام نے تمام اسیرانِ جنگ کو یہ کہہ کر رہا کردیا کہ جس خاندان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کرلی، اس خاندان کا کوئی آدمی لونڈی غلام نہیں رہ سکتا۔ مسلمانوں کے اس حسنِ سلوک اور اخلاقِ کریمانہ سے متاثر ہو کر تمام قبیلہ مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ''ولید بن عقبہ''کو اس قبیلہ والوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ قبیلے کے دولت مندوں سے زکوٰۃ وصول کر کے ان کے فقراء پر تقسیم کردیں۔
قبیلہ بنی المصطلق کے لوگوں کو جب ''ولید''کی اس آمد کا علم ہوا تو وہ عامل اسلام کے استقبال کے لئے خوشی خوشی ہتھیار لے کر بستی سے باہر میدان میں نکلے۔ زمانہ جاہلیت میں اس قبیلہ اور ولید میں کچھ ناچاقی رہ چکی تھی اس لئے پرانی عداوت کی بناء پر استقبال کے لئے اس اہتمام کو ولید نے دوسری نظر سے دیکھا اور سمجھا اور قبیلہ والوں سے اصل معاملہ دریافت کئے بغیر ہی مدینہ واپس چلا آیا، اور دربارِ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ قبیلہ بنی مصطلق کے لوگ تو مرتد ہو گئے اور انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اس خبر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور مسلمان بے حد برافروختہ ہوگئے بلکہ مقابلہ کے لئے جہاد کی تیاریاں ہونے لگیں۔ ادھر بنی مصطلق کو ولید کے اس عجیب طرزِ عمل سے بڑی حیرت ہوئی اور جب ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ ولید نے دربارِ نبوت میں غلط بیانی اور تہمت طرازی کردی ہے تو ان لوگوں نے ایک معزز اور باوقار وفد دربارِ نبوت میں بھیجا جس نے بنی المصطلق کی طرف سے صفائی پیش کی۔ ایک جانب اپنے عامل ولید کا بیان اور دوسری جانب بنی المصطلق کے وفد کا یہ بیان دونوں باتیں سن کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خاموشی اختیار فرمالی۔ اور وحی الٰہی کا انتظار فرمانے لگے، آخر وحی اُتر پڑی اور سورہ''حجرات'' کی آیات نے نازل ہو کر نہ صرف معاملہ کی حقیقت ہی واضح کردی بلکہ اس خصوص میں ایک مستقل قانون اور معیارِ تحقیق بھی عطا فرمادیا۔ وہ آیات یہ ہیں۔

 (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۲۸، پ۲۶،الحجرات:۶)

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوْمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیۡنَ ﴿6﴾وَ اعْلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمْ رَسُوۡلَ اللہِ ؕ لَوْ یُطِیۡعُکُمْ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الْاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوۡقَ وَ الْعِصْیَانَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۙ﴿7﴾فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَ نِعْمَۃً ؕ وَ اللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿8﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذاء نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچتاتے رہ جاؤ اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں تو تم ضرور مشقت میں پڑو لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کردی ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں اللہ کا فضل اور احسان اوراللہ علم و حکمت والا ہے۔(پ26، الحجرات:6۔8)
درسِ ہدایت:۔(۱)خبروں کے بیان کرنے میں عام طور پ لوگوں کا یہی مزاج اور طریقہ بن چکا ہے کہ جو خبر بھی ان کے کانوں تک پہنچے اس کو بلا تکلف بیان کردیا کرتے ہیں اور حقیقتِ حال کی تفتیش اور جستجو بالکل نہیں کرتے۔ خواہ اس خبر سے کسی بے گناہ پر افتراء کیا جاتا ہو یا کسی کو نقصان پہنچتا ہو۔
اسلام نے اس طریقہ کو بالکل غلط قرار دیا ہے بلکہ قرآن نے اسلامی آداب کا یہ قانون بتایا ہے کہ ہر خبر کو سن کر پہلے اس کی تحقیق کرلینی چاہے جب وہ خبر پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو پھر اس خبر کو لوگوں سے بیان کرنا چاہے اسی بات کی طرف متوجہ کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ

کَفٰی بِالْمَرْءِ کِذَابًا اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ

 (صحیح مسلم، باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع، رقم الحدیث ۵، ص ۸ )

یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ جو بات بھی سنے لوگوں سے (بلا تحقیق)بیان کرنے لگے۔

 (واللہ تعالیٰ اعلم)

 (۲)اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایک شخص اگر عادل اور پابند شریعت ہو تو اس کی خبر معتبر ہے۔
(۳)بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت ولید بن عقبہ ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ آیت عام ہے اور ہر فاسق کی خبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
(۴)ولید بن عقبہ کو صحابی ہوتے ہوئے قرآن مجید نے فاسق کہا تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ اس واقعہ کے بعد جب ولید بن عقبہ نے صدقِ دل سے سچی توبہ کرلی تو ان کا فسق زائل ہو گیا۔ لہٰذا کسی صحابی کو فاسق کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ ہر صحابی صادق، عادل اور پابند شرع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

صاحب ِ اولاد اور بانجھ

صاحب ِ اولاد اور بانجھ

اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ وہ کسی کو صرف بیٹی عطا فرماتا ہے اور کسی کو صرف بیٹا دیتا ہے اور کچھ لوگوں کو بیٹا اور بیٹی دونوں ہی عطا فرما دیا کرتا ہے۔ اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو بانجھ بنا دیتا ہے نہ انہیں بیٹی دیتا ہے نہ بیٹا اور یہ دستورِ خداوندی صرف عام انسانوں ہی تک محدود نہیں بلکہ اس نے اپنے خاص و مخصوص بندوں یعنی حضرات انبیاء علیہم السلام کو بھی اس خصوص میں چاروں طرح کا بنایا ہے۔ چنانچہ حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہما السلام کے صرف بیٹیاں ہی تھیں کوئی بیٹا نہیں تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صرف بیٹے ہی بیٹے تھے کوئی بیٹی ہوئی ہی نہیں۔ اور حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹے اور چار بیٹیاں عطا فرمائیں اور حضرت عیسیٰ و حضرت یحییٰ علیہما السلام کے کوئی اولاد ہی نہیں ہوئی۔

    (تفسیر روح البیان،ج۸، ص۳۴۲۔۳۴۳، پ۲۵،الشوریٰ:۴۹۔۵۰)

قرآن مجید میں رب العزت جل جلالہ نے اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ:

یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ49﴾اَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ  وَ یَجْعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿50﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔ (پ25،الشورٰی:49۔50)
درسِ ہدایت:۔اللہ تعالیٰ بیٹی دے یا بیٹا دے یا دونوں عطا فرمائے یا بانجھ بنا دے بہرحال یہ سبھی خدا کی نعمتیں ہیں۔ مذکورہ بالا آیت کے آخری حصہ یعنی اِنَّہ، عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ کون اس کے لائق ہے کہ اس کو بیٹی ملے اور کون اس قابل ہے کہ اس کو بیٹا ملے اور کون اس کی اہلیت رکھتا ہے کہ اس کو بیٹا اور بیٹی دونوں ملیں اور کون ایسا ہے کہ اس کے حق میں یہی بہتر ہے کہ اس کے کوئی اولاد ہی نہ ہو۔ ان باتوں کو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کیونکہ وہ بہت علم والا اور بڑی قدرت والا ہے۔ انسان اپنی ہزار علم و آگہی کے باوجود اس معاملہ کو نہیں جانتا کہ انسان کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:

وَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ ۚ وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿216﴾٪

ترجمہ کنزالایمان:۔اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔(پ2،البقرہ:216)
اس لئے بندوں کو چاہے کہ اگر اپنی خواہش کے مطابق کوئی چیز نہ مل سکے تو ہرگز ناراض نہ ہوں بلکہ یہ سوچ کر صبر کریں کہ ہم اس چیز کے لائق ہی نہیں تھے اس لئے ہمیں خدا نے نہیں دیا وہ علیم و قدیر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کون کس چیز کا اہل ہے اور کون اہل نہیں ہے۔

         اس  کے  الطاف  تو  ہیں  عام  شہیدی  سب  پر 
         تجھ  سے  کیا  ضد  تھی   اگر  تو  کسی  قابل  ہوتا

بیٹیا ں: اس زمانے میں دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ بیٹیوں کی پیدائش سے چڑتے ہیں اور منہ بگاڑ لیتے ہیں بلکہ بعض بدنصیب تو اول فول بک کر کفرانِ نعمت کے گناہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ بیٹیوں کی پیدائش پر منہ بگاڑ کر ناراض ہوجانا یہ زمانہ جاہلیت کے کفار کا منحوس طریقہ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ58﴾یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنۡ سُوۡٓءِ مَا بُشِّرَ بِہٖ ؕ اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْکُمُوۡنَ ﴿59﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔ اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں۔       (پ14،النحل:58۔59)
خوب سمجھ لو کہ مسلمانوں کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ بیٹیوں کی پیدائش پر بھی خوش ہو کر اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کرے اور مندرجہ ذیل حدیثوں کی بشارت پر ایمان رکھ کر سعادتِ دارین کی کرامتوں سے سرفراز ہو۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل حدیثیں ارشاد فرمائی ہیں:
(۱)عورت کے لئے یہ بہت ہی مبارک ہے کہ اس کی پہلی اولاد لڑکی ہو۔
(۲)جس شخص کو کچھ بیٹیاں ملیں اور وہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرے یہاں تک کہ کفو میں ان کی شادی کردے تو وہ بیٹیاں اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔
(۳)حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ تم لوگ بیٹیوں کو برا مت سمجھو، اس لئے کہ میں بھی 
چند بیٹیوں کا باپ ہوں۔
 (۴)جب کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لڑکی! تو زمین پر اتر۔ میں 
تیرے باپ کی مدد کروں گا۔  (تفسیر روح البیان،ج۸، ص۳۴۲،پ۲۵، الشوریٰ:۴۹۔۵۰)

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular