Showing posts with label Islam. Show all posts
Showing posts with label Islam. Show all posts
دونوں ہاتھ سونے کی اشرفیوں سے بھر گئے:

دونوں ہاتھ سونے کی اشرفیوں سے بھر گئے:

دونوں ہاتھ سونے کی اشرفیوں سے بھر گئے:


    حضرتِ سیِّدُنا عثمان جرجانی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّوْرَانِی فرماتے ہیں :''میں ایک دن بصرہ جانے کے لئے کوفہ سے نکلا توراستے میں ایک خاتون پرمیری نظر پڑی،اس نے اون کا جبہ پہنا اوربالوں کادوپٹہ اوڑھا ہواتھااور وہ چلتے ہوئے کہہ رہی تھی :''ا ے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ! اس کی منزل کتنی دور ہے جس کا راہنمانہیں۔ اوراس کا راستہ کتنا وحشت ناک ہے جس کا ہم سفر نہیں۔ '' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''میں نے قریب جا کراسے سلام کیا ۔اس نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، آپ کون ہیں؟''میں نے اپنا نام بتایاتو کہنے لگی :''اے عثمان!اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی عمر دراز فرمائے ، کہاں کا ارادہ ہے؟'' میں نے کہا: ''بصرہ کا۔'' پوچھنے لگی:''کس کام کی غرض سے ؟ ''میں نے جواب دیا:''اپنی کسی حاجت کے لئے۔''
    یہ سن کر وہ کہنے لگی :'' آپ تمام حاجات پوری کرنے والے کو حاجت کیوں نہیں بتاتے کہ وہ آپ کی طرف توجہ فرمائے اور آپ کو اتنی مشقت نہ جھیلنی پڑے؟'' میں نے کہا:''مجھے ابھی اس کی معرفت حاصل نہیں ہوئی۔''اس نے کہا:'' حصولِ معرفت میں کون سی چیزرکاوٹ ہے؟''میں نے جواب دیا:'' گناہوں کی کثرت ۔'' اس نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!یہ بہت بری بات ہے،  گناہ نہ کیاکرو۔ اگر آپ اپنی رسی کو اس کی رسی سے مضبوط باندھ دیں تو وہ آپ کی حاجت پوری فرما دے گا اور آپ کو کوئی مشقت بھی نہ اٹھانی پڑے گی ۔''اس عورت کی یہ بات سن کر مجھے رونا آ گیا۔پھر میں نے اس سے دعا کی درخواست کی تو اس نے دعا دی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی اطاعت کرنے اور نافرمانی سے بچنے پر آپ کی مدد فرمائے ۔ جب میں لوٹنے لگاتو اپنی جیب سے درہم نکال کر آدھے اس کو دیئے اور کہا:'' یہ رکھ لیں، آپ کے کام آئیں گے۔''اس نے پوچھا: ''یہ آپ نے کہاں سے حاصل کئے ہیں؟'' میں نے بتایا:''میں پہاڑ پر چڑھ کر وہاں سے لکڑیوں کا گٹھااکٹھا کرتا ہوں پھر اس کو اپنی گردن پر اٹھا کر مسلمانوں کے بازار میں فروخت کرتااور اس کے بدلے رقم لے لیتا ہوں ۔''اس عورت نے کہا: ''ہاں!یہ حلال کی کمائی ہے اور انسان جو اپنے ہاتھ سے کماتا ہے اسے کھانا حلال ہے، لیکن اے عثمان !اگر آپ صحیح معنوں میں اپنے پالنے والے ربّ ِذوالجلال عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کریں اور اسی پر کامل بھروسہ کریں تو پہاڑوں کی بلندی سے لکڑیوں کا گٹھا اُٹھانے کی زحمت نہ کرنا پڑے گی۔''میں نے کہا: ''پھر تو میرے لئے رزق کاکوئی ظاہری سبب باقی نہ رہے گا،میں کہاں سے کھاؤں گااور کہاں سے پیؤں گا؟''اس نے کہا:''اے عثمان !کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو یہ دکھاؤں کہ میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے کیسا معاملہ اوراس پرکیسا بھروسہ کیا ہے ؟ ' '
 میں نے کہا:''کیوں نہیں، ضرور دکھائیں۔'' چنانچہ، اس عورت نے اپنے ہاتھ بڑھا کر ہونٹوں کو ابھی جنبش دینا ہی چاہی تھی کہ اس کے دونوں ہاتھ سونے کی اشرفیوں سے بھر گئے ۔پھر اس نے کہا:''اے عثمان !یہ لیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! یہ سونے کی اشرفیاں ایسی ہیں کہ ان پر کسی بادشاہ و سلطان کا نام منقّش(یعنی لکھا ہوا) نہیں اور یاد رکھیں کہ اگر آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے محبت کریں گے تو وہ آپ کو تمام مخلوق سے بے نیاز کردے گااور صرف وہی آپ کے لئے کافی ہو گا۔''
    سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!ان لوگوں کی کیا شان ہے جو راتوں کو جاگ کر سخت تاریکی میں اپنے محبوب سے مناجات کرتے ، کثرت سے عبادت کرتے ہیں،یقینا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے کلا م میں انہی لوگوں کی مدح کی ہے:

(6) اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ

ترجمۂ کنزالایمان:بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں۔(۱)(پ22،الاحزاب :35)
1۔۔۔۔۔۔مفسر شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیۂ مبارکہ کا شان نزول بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: ''اسماء بنتِ عمیس جب اپنے شوہر جعفر بن ابی طالب کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواجِ نبئ کریم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم سے مِل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے باب میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: '' نہیں۔'' تو اسماء نے حضور سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم سے عرض کیا کہ '' حضور! عورتیں بڑے ٹوٹے میں ہیں۔''فرمایا: '' کیوں؟'' عرض کیا کہ '' ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں، جیسا کہ مردوں کا ہوتا ہے۔'' اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور اُن کے ساتھ اِن کی مدح فرمائی گئی اور مراتِب میں سے پہلا مرتبہ اسلام ہے جو خدا اور رسول کی فرمانبرداری ہے۔ دُوسرا ایمان کہ وہ اعتقادِ صحیح اور ظاہر و باطن کا موافق ہونا ہے۔ تیسرا مرتبہ قنوت یعنی طاعت ہے۔''
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر وقف کرکے واپس نہ لو:

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر وقف کرکے واپس نہ لو:

اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر وقف کرکے واپس نہ لو:


جب حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی عمر پندرہ برس ہوئی تو اپنی ماں سے عرض کی :''اے امی جان ! مجھے راہ ِخدا عَزَّوَجَلَّ میں وقف فرما دیجئے ۔'' تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی والدہ کہنے لگیں: ''اے میرے بیٹے! بادشاہوں کو وہ چیز ہدیہ کی جاتی ہے، جو ان کے شایانِ شان ہو،اور تجھ میں ایسی کوئی خوبی نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شان کے مطابق ہو ۔ ''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو حیا ء آئی اور ایک کمرے میں داخل ہو کر پانچ سال تک وہیں عبادت کرتے رہے۔ اس کے بعد آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی والدۂ محترمہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آئیں اور دیکھا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ عبادت میں مصروف ہیں اور آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ پر سعادت کے آثار نمایاں ہیں، تو انہوں نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا:''اے میرے بیٹے ! اب میں تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں وقف کرتی ہوں۔''چنانچہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے نکلے اور دس سال سفر میں رہے اور عبادت سے لذت حاصل کرتے رہے۔ پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو اپنی والدۂ محترمہ کی زیارت کا اشتیاق ہوا تو گھر کی طرف چل پڑے۔ جب
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے رات کے وقت دروازہ کھٹکھٹایاتو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی والدۂ محترمہ نے پردے کے پیچھے سے آواز دی: ''اے سفیان (رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ)!جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر کوئی چیز وقف کردیتا ہے وہ واپس نہیں لیتااور میں نے تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام پر پیش کردیا ہے، اب میں تجھے صرف اسی کے سامنے دیکھنا چاہتی ہوں۔''
مغفرت کاپروانہ:

حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں:'' میں نے ایک نوجوان کودیکھا جو کعبہ مکرمہ زادھا اللہ شرفاً وتعظیماً کے نزدیک کثرت سے رکوع و سجود کر رہا تھا۔میں نے اس کے پاس جا کر کہا: ''بلا شبہ تم کثرت سے نماز پڑھ رہے ہو۔'' تو وہ کہنے لگا: ''میں اپنے اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے یہاں سے واپس جانے کے پروانے کا انتظار کر رہا ہوں۔''حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: ''میں نے دیکھا کہ اوپر سے کاغذکاایک ٹکڑا گراجس میں لکھاہوا تھا: ''یہ پیغام عزیز وغفار کی جانب سے اپنے سچے بندے کی طرف ہے، اب تواس حال میں لوٹ جا کہ تیرے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔''

منکرینِ کرامات بھی مان گئے:

حضرت سیِّدُنا جابر رحبی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ'' رحبہ کے اکثر لوگ کراماتِ اولیاء کے منکر تھے۔ ایک دن میں ایک درندے پر سوار ہو کر رحبہ میں داخل ہو گیا اور پوچھا: ''کہاں ہیں وہ لوگ جو اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی کرامات کو جھٹلاتے ہیں؟'' آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' اس کے بعد وہ میرے بارے میں ایسی یاوَہ گوئیوں سے باز آگئے ۔''

کیکرکے درخت سے کھجوریں:

حضرت سیِّدُنا بکر بن عبدالرحمن علیہ رحمۃ اللہ الحنّان فرماتے ہیں کہ'' ہم ایک جنگل میں حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ محو ِسفرتھے ۔ہم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیااور کہا: ''یہ جگہ کتنی عمدہ ہے، کاش! اس درخت پر تروتازہ کھجوریں ہوتیں۔''حضرت سیِّدُناذوالنون مصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مسکرانے اور پوچھنے لگے: ''کیاتروتازہ کھجوریں کھانا چاہتے ہو؟'' اس کے ساتھ ہی آپ نے درخت کو حرکت دے کر کہا: ''میں تجھے اس ذات کی قسم دیتاہوں جس نے تجھے پیداکیااور تناور درخت بنایا! ہماری طرف تازہ کھجوریں پھینک۔''
پھر آپ نے اس درخت کو ہلایا تو اس سے واقعتاً تازہ کھجوریں گر نے لگیں۔ہم نے خوب سیر ہوکر کھائیں پھر ہم سو گئے اور بیدار ہو کر جب ہم نے دوبارہ درخت کو حرکت دی تو ہم پر کانٹے گرے۔''
محبوبوں کے سردار کی شفاعت کے بارے میں چالیس حدیثیں سنانا

محبوبوں کے سردار کی شفاعت کے بارے میں چالیس حدیثیں سنانا

 إِسْمَاعُ الْأَرْبَعِیْن فِیْ شَفَاعَۃِ سَیِّدِالْمَحْبُوْبِیْن ( ۱۳۰۵ھ) 

( محبوبوں کے سردار کی شفاعت کے بارے میں چالیس حدیثیں سنانا) 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

مسئلہ : 

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا شَفِیْع ہونا کس حدیث سے ثابت ہے ؟ بَيِّنُوْا تُؤْجَرُوْا ( بیان فرمائیے اجرپائیے  ۔ ت) 

اَلْجَوا ب

اَلْحَمْدُ لِلهِ الْبَصِيْرِ السَّمِيْعِ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَی الْبَشِيْرِ الشَّفِيْعِ وَعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ کُلَّ مَسَاءٍ وَسَطِيْع.
( سب تعریفیں اللہ  تعالیٰ کے لیے جو دیکھنے  سننے والا ہے  اورصبح وشام دُرود و سلام نازل ہوں بشارت دینے ، شفاعت کرنے والی ذات اور ان کی آل و اصحاب پر ۔ ت) 
سُبْحٰنَ اللہ  ! ایسے سوال سُن کر تعجب آتا ہے کہ مسلمان و مدعیانِ سُنّیت(1 ) اور ایسے واضح عقائد میں تَشْکِیْک( 2) کی آفت ،  یہ بھی قُربِ قیامت کی ایک علامت ہے ۔  اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ     احادیثِ شفاعت بھی ایسی چیز ہیں جو کسی طرح چُھپ سکیں !  ،  بیسیوں صحابہ ،  صدہا( 3) تابعین ،  ہزار ہا محدثین ان کے راوی ، حدیث کی ہرگُونَہ(4 )  کتابیں
 صِحاح(1 ) ،  سُنن(2 ) ،  مَسانید(3 ) ،  مَعاجیم(4 ) ،  جوامع( 5) ،  مُصَنَّفات( 6) ان سے مالا مال ۔  اہلِ سنت کا ہر متنفِّس(7 ) یہاں تک کہ زَنان و اَطفال( 8) بلکہ دَہقانی جُہَّال( 9) بھی اس عقیدے سے آگاہ ۔   خدا کا دیدار ، محمد کی شفاعت ایک ایک بچے کی زبان پر جاری ، صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَارَكَ وَشَرَّفَ وَمَجَّدَ وَکَرَّمَ ( اللہ تعالیٰ ان پردُرود وسلام نازل فرمائے ، برکت دے ، عزت وفضیلت اور بزرگی عطا کرے ۔ ت) فقیر غَفَرَ اللهُ تَعَالٰی لَهٗ ( اللہ تعالیٰ اِس کی مغفرت فرمائے ۔ ت) نے رسالہ "سَمْع وَطَاعَة لِأَحَادِيْثِ الشَّفَاعَة" میں بہت کثرت سے ان احادیث کی جمع وتلخیص کی ، ( یہاں) بہ نہایتِ اِجمال( 10) صرف چالیس حدیثوں کی طرف اِشارت(11 ) اور ان سے پہلے چند آیاتِ قرآنیہ کی تلاوت کرتا ہوں ۔ 
اَ لْاٰیات

آیتِ اُولٰی  : 

 قَالَ اللہُ تَعَالٰی( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔ ت)  : 
عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا( ۷۹) ( پ۱۵ ، بنی اسرائیل :  ۷۹) قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقامِ محمود میں بھیجے ۔ 
حدیث شریف میں ہے : حُضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے عرض کی گئی :  مقامِ محمود کیا چیز ہے ؟ فرمایا   : ( ( هُوَ الشَّفَاعَةُ) ) (1 ) وہ شفاعت ہے ۔ 

آیتِ ثانیہ  : 

 قَالَ اللہُ تَعَالٰی :  
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ( ۵) ( پ۳۰ ، الضحی : ۵) اور قریب تر ہے تجھے تیرا رب اتنا دے گا کہ تُو راضی ہوجائے گا ۔ 
دَیلمی ’’مسند الفردوس‘‘ میں اَمِیْرُ  الْمُؤمِنِیْن مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ  سے راوی ، جب یہ آیت اُتری حُضورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا :  ( ( إذًا لَا أَرْضٰی وَوَاحِدٌ مِنْ أُمَّتِيْ فِي النَّار) ) (2 ) یعنی جب اللہ  تعالیٰ مجھ سے راضی کردینے کا وعدہ فرماتا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایک امتی بھی دوزخ میں رہا ۔ 
اَللهم صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْه.
( اے اللہ عَزَّوَجَل !  ان پر درود وسلام اوربرکت نازل فرما ۔ ت)

طبرانی ’’معجم اَوسط‘‘ اور بَزار ’’مسند‘‘ میں جناب مَوْلَی الْمُسْلِمِیْن(1 ) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ( ( أَشْفَعُ لِأُمَّتِيْ حَتّٰی يُنَادِيَنِيْ رَبِّيْ قَدْ رَضِيْتَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَأَقُوْلُ :  أَيْ رَبِّ قَدْ رَضِيْتُ) ) (2 ) میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا یہاں تک کہ میرا رب پکارے گا اے محمد !  تو راضی ہوا؟ میں عرض کروں گا :  اے رب میرے ! میں راضی ہوا ۔ 

آیتِ ثالثہ :

  قَالَ اللہُ تَعَالٰی( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ت) :  
وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ         ( پ۲۶ ، محمد : ۱۹) 
اے محبوب ! اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اورعورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو ۔ 
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْمکو حکم دیتا ہے کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہ مجھ سے بخشواؤ ،  اور شفاعت کا ہے ( 3) کا نام ہے ! 

آیتِ رابعہ : 

 قَالَ اللہُ تَعَالٰی :  
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا( ۶۴) ( پ۵ ، النسآء : ۶۴) 
اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں ،  تیرے پاس حاضر ہوں  پھر خدا سے استغفار کریں  اور رسول ان کی بخشش مانگے تو بیشک اللہ  تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ 
اس آیت میں مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ گناہ کرکے اس نبی کی سرکار(1 ) میں حاضر ہو اور اس سے درخواستِ شفاعت( 2)  کرو ،  محبوب تمہاری شفاعت فرمائے گا تو ہم یقیناً تمہارے گناہ بخش دیں گے ۔ 
آیتِ خامسہ : 
 قَالَ اللہُ تَعَالٰی :  
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ ( پ۲۸ ، المنٰفقون : ۵) 
جب ان منافقوں سے کہا جائے کہ آؤ رسولُ اللہ  تمہاری مغفرت مانگیں تو اپنے سر پھیر لیتے ہیں ۔ 
اس آیت میں منافقوں کا حالِ بد مآل ارشاد ہوا( 3)  کہ وہ حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے شفاعت نہیں چاہتے  پھر جو آج نہیں چاہتے وہ کل نہ پائیں گے ۔  اللہ دنیا و آخرت میں ان کی شفاعت سے بَہرہ مند(4 ) فرمائے ۔ ع
حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے منکر آج ان سے التجا نہ کرے
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی شَفِيْعِ الْمُذْنِبِيْنَ وَاٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَحِزْبِهٖ أَجْمَعِيْن.
( اللہ تعالیٰ دُرودنازل فرمائے گناہ گاروں کی شفاعت فرمانے والے پر اور اُن کی آل ، اَصحاب اور تمام اُمت پر ۔ ت) 

اَلْاَحَادِیْث

شَفاعتِ کُبریٰ کی حدیثیں جن میں صاف صَریح(1 ) ارشاد ہوا کہ عَرصاتِ محشر(2 ) میں وہ طویل دن ہوگا کہ کاٹے نہ کٹے (3 ) اور سَروں پر آفتاب( 4) اور دوزخ نزدیک ،  اُس دن سورج میں دس برس کامل کی(5 )  گرمی جمع کریں گے اور سَروں سے کچھ ہی فاصلہ پر لارکھیں گے (6 ) ، پیاس کی وہ شدت کہ خدا نہ دکھائے ، گرمی وہ قیامت کہ اللہ  بچائے ،  بانسوں پسینہ(7 ) زمین میں جذب ہو کر اوپر چڑھے گا یہاں تک کہ گلے گلے سے بھی اونچا ہوگا ، جہاز چھوڑیں تو بہنے لگیں ،  لوگ اس میں غوطے کھائیں گے ،  گھبرا گھبرا کر دل حلق تک آجائیں گے ۔ ( 8) لوگ ان عظیم آفتوں میں جان سے تنگ آکر شَفِیْع (9 )  کی تلاش میں جابجا( 10) پِھریں گے ، آدم ونوح ، خَلیل وکلیم ومسیح عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْم کے پاس

 حاضر ہوکر جواب صاف( 1) سنیں گے ،  سب انبیاء فرمائیں گے : ہمارا یہ مرتبہ نہیں ہم اس لائق نہیں ہم سے یہ کام نہ نکلے گا ، نَفْسِی نَفْسِی ، تم اور کسی کے پاس جاؤ ، یہاں تک کہ سب کے بعدحضور پُرنور خَاتَمُ النَّبِیِّیْن ، سَیِّدُالْاَوَّلِیْن وَالْاٰخِرِیْن ، شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلعٰلَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوں گے ۔ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ( ( أَنَا لَهَا أَنَا لَهَا) ) فرمائیں گے یعنی میں ہوں شفاعت کے لیے ،  میں ہوں شفاعت کے لیے ۔ پھر اپنے ربِّ کریم جَلَّ جَلَالُہٗٗ  کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سجدہ کریں گے اُن کا ربّ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی ارشاد فرمائے گا : ( ( يَا مُحَمَّدُ !  اِرْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّع) ) ( 2) اے محمد ! اپنا سر اٹھاؤ اور عَرْض کرو تمہاری بات سنی جائے گی اور مانگو کہ تمہیں عطا ہوگا اورشفاعت کرو کہ تمہاری شفاعت قبول ہے ۔ 
یہی مقامِ محمود ہوگا جہاں تمام اَوَّلین و آخرین میں حُضور کی تعریف و حمد و ثنا کا غُل(3 ) پڑ جائے گا اور موافق ومخالف( 4) سب پر کُھل جائے گابارگاہِ الٰہی میں جو وَجاہت( 5) ہمارے آقا کی ہے کسی کی نہیں اور مالکِ عظیم جَلَّ جَلَالُہٗ  کے یہاں جو عَظَمت ہمارے مَوْلیٰ کے لیے ہے کسی کے لیے نہیں  وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن. ( اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے
 ہیں جو سب جہانوں کا پَرْوَرْدگار ہے ۔ ت) اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنی حکمتِ کاملہ کے مطابق لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ پہلے اور( 1) انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے پاس جائیں اور وہاں سے محروم پِھر کر اِن کی خدمت میں حاضر آئیں تاکہ سب جان لیں کہ منصبِ شفاعت اِسی سرکار کا خاصَّہ ہے دوسرے کی مجال( 2) نہیں کہ اس کا دروازہ کھول سکے ، وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن.
یہ حدیثیں ’’صحیح بخاری‘‘ و’’صحیح مسلم‘‘ تمام کتابوں میں مذکور اور اہلِ اسلام میں معروف ومشہور ہیں ، ذکر کی حاجت نہیں کہ بہت طویل ہیں ۔  شک لانے والا اگر دو حَرْف بھی پڑھا ہو تو ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ کا اُردو میں ترجمہ منگاکر دیکھ لے یا کسی مسلمان سے کہے کہ پڑھ کر سُنا دے ۔  اور اِنہیں حدیثوں کے آخر میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ شفاعت کرنے کے بعدحُضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم بخششِ گنہگاران(3 ) کے لیے بار بار شفاعت فرمائیں گے اور ہر دفعہ اللہتعالیٰ وہی کلمات فرمائے گا اور حضور ہر مرتبہ بے شمار بندگانِ خداکو نجات بخشیں گے ۔  میں اِن مشہور حدیثوں کے سِوا (4 ) ایک اَرْبعین یعنی چالیس حدیثیں اور( 5) لکھتا ہوں جو گَوشِ عوام( 6) تک کم پہنچی ہوں ،  جن سے مسلمانوں کا ایمان
 ترقی پائے ، مُنْکِر(1 ) کا دل آتشِ غیظ( 2) میں جل جائے ، بالخُصُوص جن سے اس ناپاک تحریف کا رَد شریف ہو جوبعض بددینوں ، خدا ناترسوں(3 ) ، ناحق  کوشُوں(4 ) ، باطل کَیْشوں(5 ) نے معنیٔ شفاعت میں کیں اور انکارِ شفاعت کے چہرۂ نجس چھپانے کو(6 ) ایک جھوٹی صورت نام کی شفاعت دل سے گَھڑی ۔ 
ان حدیثوں سے واضح ہوگا کہ ہمارے آقائے اَعظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم شفاعت کے لیے مُتَعَیَّن ہیں ، اِنہی کی سرکار بیکس پناہ ہے (7 ) ،  اِنہی کے دَر سے بے یاروں کا نِباہ(8) ہے ، نہ جس طرح ایک بد مذہب کہتا ہے کہ جس کو چاہے گا اپنے حکم سے شَفِیْع بنادے گا ۔ یہ حدیثیں ظاہر کریں گی کہ ہمیں خدا اور رَسول نے کان کھول کر ’’شَفِیْع‘‘  کا پیارا نام بتادیا اور صاف فرمایا کہ وہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ ہیں( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَسَلَّم) نہ یہ کہ بات گول(9 ) رکھی ہو جیسے ایک بدبخت کہتا ہے کہ اُسی کے اختیار پر چھوڑ دیجئے جس کو وہ چاہے ہمارا شفیع کردے ۔ 

یہ حدیثیں مُژدہ جانفزا(1 ) دیں گی کہ حضور کی شفاعت نہ اس کے لیے ہے جس سے اتّفاقاً  گناہ ہوگیا ہو اور وہ اس پر ہر وقت نادم و پریشان و تَرساں ولَرزاں( 2) ہے جس طرح ایک دُزد ِباطن(3 )  کہتا ہے کہ چور پر تو چوری ثابت ہوگئی مگر وہ ہمیشہ کا چور نہیں اور چوری کو اس نے کچھ اپنا پیشہ نہیں ٹھہرایا مگر نفس کی شامت سے قُصُور ہوگیا(4 ) سواُس پر شرمندہ ہے اور رات دن ڈرتا ہے ۔  نہیں نہیں اُن کے رب کی قسم !  جس نے اُنہیں شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنکیا ۔  اُن کی شفاعت ہم جیسے رُوسِیاہوں( 5) ، پُرگناہوں( 6) ، سیاہ کاروں( 7) ستم گاروں(8 ) کے لیے ہے جن کا بال بال گناہ میں بندھا ہے جن کے نام سے گناہ بھی ننگ وعار( 9) رکھتا ہے ۔  ع
ترسم آلودہ شَوَد دامنِ عصیاں اَز مَن
( میں ڈرتا ہوں کہ گناہوں کا دامن میری وجہ سے آلودہ ہوجائے گا ۔ ت) 
وَحَسْبُنَا اللہُ تَعَالٰی وَنِعْمَ الْوَکِيْلُ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَی الشَّفِيْعِ الْجَمِيْلِ
 وَعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ بِأُلُوْفِ التَّبْجِيْلِ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن.
( اور اللہتعالیٰ ہمارے لیے کافی ہے اور کیا ہی خوب کار ساز ہے  اور دُرود و سلام نازل ہوں جمال والے شفیع پر اور ان کے آل و اصحاب پر ہزاروں تعظیم و تکریم کے ساتھ اور تمام تعریفیں اللہ  کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ت) 

حدیث ۱ و۲ : 

  امام احمد بسندِ صحیح اپنی ’’مسند‘‘ میں حضرت عبداللہ  بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے اور ابنِ ماجہ حضرت ابوموسٰی اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوِی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ( ( خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَّدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّها أَعَمُّ وَأَکْفٰی أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِيْنَ؟ !  لَا وَلٰکِنَّهَا لِلْمُذْنِبِيْنَ الْخَطَّائِيْنَ الْمُتَلَوِّثِيْنَ) ) (1 ) 
اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو شفاعت لو یا یہ کہ تمہاری آدھی امّت جنت میں جائے ، میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ تمام اور زیادہ کام آنے والی ہے ،  کیا تم یہ سمجھ لیے ہو کہ میری شفاعت پاکیزہ مسلمانوں کے لیے ہے ؟ نہیں بلکہ وہ اُن گنہگاروں کے واسطے ہے جو گناہوں میں آلودہ اور سخت خطا کار ہیں ۔ 
اَللهم صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن.
( اے اللہ ! درود و سلام اور برکت نازل فرما اُن پر ،  اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کاپروردگار ہے ۔ ت) 

حدیث ۳ : 

  ابنِ عدی حضرت اُمُّ المومنین اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے راوی حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ( ( شَفَاعَتِيْ لِلْهَالِكِيْنَ مِنْ أُمَّتِیْ) ) ( 1) میری شفاعت میرے اُن امتیوں کے لیے ہے جنہیں گناہوں نے ہلاک کر ڈالا ، حق ہے ۔  اے شفیع میرے ، میں قربان تیرے ، صَلَّی اللهُ عَلَيْكَ.( اللہ  تعالیٰ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر درود بھیجے ۔ ت) 

حدیث ۴تا۸ :  

حضرت ابوداؤد و ترمذی و ابنِ حبان و حاکم و بیہقی بافادۂ تصحیح حضرتِ اَنَس بن مالک اور ترمذی ،  ابنِ ماجہ ،  ابنِ حبان و حاکم حضرت جابر بن عبداللہ اور طبرانی ’’معجم کبیر‘‘ میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور خطیب بغدادی حضرت عبد اللہ  ابنِ عمر فاروق وحضرت کعب بن عُجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے راوی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ( ( شَفَاعَتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَهْلِ الْکَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي) ) ( 2) میری شفاعت میری اُمت میں اُن کے لیے ہے جو کبیرہ گناہ والے ہیں ۔ 
صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَيْكَ وَسَلَّمَ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن( اللہ  تعالیٰ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمام تعریفیں اللہ  تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کاپروردگار ہے ۔ ت) 


حدیث ۹  : 

 ابوبکر احمد بن علی بغدادی حضرت ابودَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی حُضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا :  ( ( شَفَاعَتِيْ لِأَهْلِ الذُّنُوْبِ مِنْ أُمَّتِي) ) میری شفاعت میرے گنہگار اُمتیوں کے لیے ہے ۔ ابودَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :  ( ( وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ) ) اگرچہ زانی ہو ، اگرچہ چور ہو ۔ فرمایا :  ( ( وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ عَلٰی رَغْمِ أَنْفِ أَبِی الدَّرْدَاء) ) (1 ) اگرچہ زانی ہو اگرچہ چور ہو برخلاف خواہشِ ابودَرداء کے ۔  

حدیث ۱۰ و ۱۱ : 

 طبرانی و بیہقی حضرت بُرَیْدہ اور طبرانی ’’معجم اَوسط‘‘ میں حضرت انس(2 ) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حُضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ( ( أَنْ أَشْفَعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَکْثَرَ مِمَّا عَلٰی وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ شَجَرٍ وَحَجَرٍ وَمَدَرٍ) ) (3 ) یعنی رُوئے زمین پر جتنے پیڑ ،  پتھر ، ڈھیلے ہیں میں قیامت میں ان سب سے زیادہ آدمیوں کی شفاعت فرماؤں گا ۔ 

حدیث ۱۲ : 

 بخاری ، مسلم( 4) ، حاکم ، بیہقی حضرتِ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، وَاللَّفْظُ لِهٰذَيْن ( اور الفاظ حاکم و بیہقی کے ہیں ۔ ت) حضورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں :  ( ( شَفَاعَتِيْ لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ مُخْلِصًا يُصَدِّقُ قَلْبُه

 لِسَانَه) ) ( 1) میری شفاعت ہر کلمہ گو کے لیے ہے جو سچے دل سے کلمہ پڑھے کہ زبان کی تصدیق دل کرتا ہو ۔ 

حدیث ۱۳ : 

 احمد ، طبرانی وبزار حضرت مُعاذ بن جبل و حضرت ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں :  ( ( أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ وَهِیَ لِمَنْ مَاتَ وَلَا يُشْرِكُ بِاللہِ شَيْئًا) ) ( 2) شفاعت میں امت کے لیے زیادہ وُسعت ہے کہ وہ ہر شخص کے واسطے ہے جو اللہ  تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے یعنی جس کا خاتمہ ایمان پر ہو ۔ 
حدیث ۱۴  : 
 طبرانی ’’معجم اَوسط‘‘ میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں :  ( ( آتِیْ جَهَنَّمَ فَأَضْرِبُ بَابَهَا فَيُفْتَحُ لِیْ فَأَدْخُلُهَا فَأَحْمَدُ اللہَ مَحَامِدَ مَا حَمِدَهٗ أَحَدٌ قَبْلِيْ مِثْلَهَا وَلَا يَحْمَدُ أَحَدٌ بَعْدِيْ ثُمَّ أُخْرِجُ مِنْهَا مَنْ قَالَ :  لَا اِلٰهَ إِلَّا الله) ) ، ملخّصاً ( 3) ۔ میں جہنم کا دروازہ کھلوا کر تشریف لے جاؤں گا وہاں خُدا کی تعریف کروں گا ،  ایسی نہ مجھ سے پہلے کسی نے کی ، نہ میرے بعد کوئی کرے  پھر دوزخ سے ہر اس شخص کو نکال لوں گا جس نے خالص دل سے لَا اِلٰهَ إِلَّا الله کہا ۔ ( خلاصَۂ حدیث ۔ ت) 

حدیث ۱۵  : 

 حاکم بافادۂ تصحیح اور طبرانی و بیہقی حضرت عبداللہ  بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ( ( يُوْضَعُ لِلْاَنْبِيَاءِ مَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ فَيَجْلِسُوْنَ عَلَيْهَا وَيَبْقٰی مِنْبَرِيْ لَا أَجْلِسُ عَلَيْهِ أَوْ لَا أَقْعُدُ عَلَيْهِ قَائِمًا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّي مَخَافَةَ أَنْ يُبْعَثَ بِیْ إِلَی الْجَنَّةِ وَيَبْقٰی أُمَّتِيْ بَعْدِيْ فَأَقُوْلُ :  يَارَبِّ أُمَّتِيْ أُمَّتِيْ فَيَقُوْلُ اللہُ عَزَّوَجَلَّ :  يَا مُحَمَّدُ مَا تُرِيْدُ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمِّتِكَ؟ فَأَقُوْلُ :  يَا رَبِّ عَجِّلْ حِسَابَهُمْ فَمَا أَزَالُ أَشْفَعُ حَتّٰی أُعْطٰی صِکَاکًا بِرِجَالٍ قَدْ بُعِثَ بِهِمْ إِلَی النَّارِ حَتّٰی أَنَّ مَالِکاً خَازِنَ النَّارِ يَقُوْلُ :  يَا مُحَمَّدُ مَا تَرَکْتَ لِغَضَبِ رَبِّكَ فِیْ أُمَّتِكَ مِنْ نِقْمَةٍ) ) (1 ) 
انبیا کے لیے سونے کے منبر بچھائیں گے وہ ان پر بیٹھیں گے ،  اور میرا منبر باقی رہے گا کہ میں اس پر جلوس نہ فرماؤں گا (2 ) بلکہ اپنے رب کے حُضور سَر وقَد(3 )  کھڑا رہوں گا اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو مجھے جنّت میں بھیج دے اور میری امّت میرے بعد رہ جائے ، پھر عرض کروں گا :  اے رب میرے ! میری امّت ،  میری امّت ۔  اللہ  تعالیٰ فرمائے گا :  اے محمد !   تیری کیا مرضی ہے میں تیری امّت کے ساتھ کیا کروں؟ عرض کروں گا :  اے رب میرے !  اِن کا حساب جلد فرمادے ۔  پس میں شفاعت کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مجھے اُن کی رہائی کی چٹھیاں ملیں گی جنہیں دوزخ بھیج چکے تھے یہاں تک کہ مالک داروغَۂ
دوزخ(1 ) عَرْض کرے گا :  اے محمد ! آپ نے اپنی اُمت میں رب کا غضب نام کو نہ چھوڑا( 2) ۔  
اَللهم صَلِّ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن 
( اے اللہ  ! درود و برکت نازل فرما اُن پر  اور تمام تعریفیں اللہ  تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ت) 

حدیث ۱۶ تا ۲۱ : 

بخاری و مسلم و نسائی حضرت جابر بن عبداللہ ، اور احمد بسندِ حَسَن اور بخاری ’’تاریخ‘‘ میں اور بزّار اور طبرانی و بیہقی و ابونعیم حضرتِ عبداللہ  بن عباس  اور احمد بسندِ حَسَن و بزّار بسندِ جیّد و دارمی و ابنِ ابی شیبہ و ابویعلیٰ وابونعیم وبیہقی حضرت ابوذر اور طبرانی ’’معجمِ اوسط‘‘ میں بسندِ حضرت ابوسعید خدری  اور’’ کبیر‘‘ میں حضرت سائب ابنِ یزید  اور احمد باسنادِ حَسَن اور ابنِ ابی شیبہ و طبرانی حضرت ابوموسٰی اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے راوی :  وَاللَّفْظُ لِجَابِرٍ( اور لفظ حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کردہ حدیث کے ہیں ۔  ت) قَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  ( ( وَأُعْطِيْتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ قَبْلِيْ) ) إِلٰی قَوْلِهٖ صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  ( ( وَأُعْطِيْتُ الشَّفَاعَةَ) ) (3 ) 


( حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ”مجھے وہ کچھ عطا ہوا جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا ۔ “یہاں تک فرمایا کہ ”مجھے شفاعت دی گئی ۔ “ت) 
ان چھئوں حدیثوں( 1) میں یہ بیان ہوا ہے کہ حُضورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  میں شفیع مقرّر کردیا گیا اور شفاعت خاص مجھی کو عطا ہوگی ، میرے سوا کسی نبی کو یہ منصب نہ ملا ۔ 

حدیث ۲۲ و ۲۳ :  

ابنِ عباس وابوسعید وا بو موسٰی سے انہیں حدیثوں میں وہ مضمون بھی ہے جو احمد و بخاری و مسلم نے اَنَس اور شیخین نے ابوہُرَیرہ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن) سے روایت کیا کہ حُضورشَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ( ( إِنَّ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فِيْ أُمَّتِهٖ وَاسْتُجِيْبَ لَهٗ) ) (2 ) . وَهٰذَا اللَّفْظُ لِأَنَسٍ وَلَفْظُ أَبِيْ سَعِيْدٍ :  ( ( لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ دَعْوَةً فَتَعَجَّلَهَا) ) (3 ) وَلَفْظُ ابْنِ عَبَّاسٍ :  

( ( لَمْ يَبْقَ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ سُؤْلَهٗ) ) (1 ) . رَجَعْنَا إِلَی لَفْظِ أَنَسٍ وَأَلْفَاظُ الْبَاقِيْنَ کَمِثْلِهٖ مَعْنًی ، قَالَ :  ( ( وَإِنِّی اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِيْ شَفَاعَةً لِأُمَّتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ( 2) . زَادَ أَبُوْ مُوْسٰی :  ( ( جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاﷲِ شَيْئاً) ) ( 3) .
( ”ہر نبی کے لیے ایک خاص دعا ہے جو وہ اپنی امّت کے بارے میں کرچکا ہے اور وہ قبول ہوئی ہے ۔ “  یہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی روایت کے ا لفاظ ہیں اور حضرت ابوسعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مَروِی حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ ”نہیں ہے کوئی نبی مگر یہ کہ اُسے ایک خاص دعا عطا ہوئی جسے اس نے دنیا میں مانگ لیا ، روایتِ  ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے الفاظ ہیں کہ”کوئی نبی نہ بچا جس کو خاص دُعا عطا نہ ہوئی ہو ۔ “  ہم حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ والی حدیث کے الفاظ کی طرف رجوع کرتے ہیں ، باقی راویوں کے الفاظ معنیٰ کے اعتبار سے اُن ہی کی مِثل ہیں ۔ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا : ”میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امّت کی شفاعت کے لیے بچا رکھا ہے ۔ “  ابو موسٰی نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ میں ہر اُس امّتی کے لیے شفاعت کروں گا جو اس حال پر مَرا کہ اللہ  تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ۔ ت) 
یعنی انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اگرچہ ہزاروں دُعائیں قَبول ہوتی ہیں مگر ایک دُعا انہیں خاص جناب باری تَبَارَک وَ تَعَالٰی سے ملتی ہے کہ جو چاہے مانگ لو بے شک دیا جائے گا ۔  تمام انبیاء آدم سے عیسٰی( عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) تک سب اپنی اپنی وہ دُعا دنیا میں کرچکے اور میں نے آخرت کے لیے اٹھا رکھی ،  وہ میری شفاعت ہے میری امّت کے لیے قیامت 
کے دن ،  میں نے اسے اپنی ساری امت کے لیے رکھا ہے جو ایمان پر دنیا سے اُٹھی ۔ اَللهم ارْزُقْنَا بِجَاهِهٖ عِنْدَكَ آمِيْن ! ( اے اللہ  عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں ان کی اِس وجاہت کے صدقے میں عطا فرما جو اُن کو تیری بارگاہ میں حاصل ہے ۔ ت) 
اللہ  اکبر !  اے گنہگارانِ اُمّت !  کیا تم نے اپنے مالک و مولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی یہ کمالِ رأفت و رحمت اپنے حال پر نہ دیکھی( 1)   کہ بارگاہِ الٰہی عَزَّجَلَالُہٗ سے تین سوال حضور کو ملے کہ جو چاہو مانگ لو عطا ہوگا ۔  حضور نے ان میں کوئی سوال اپنی ذاتِ پاک کے لیے نہ رکھا ،  سب تمہارے ہی کام میں صَرف فرمادیئے ، دو سوال دنیا میں کیے وہ بھی تمہارے ہی واسطے ،  تیسرا آخرت کو اٹھا رکھا(2 ) ،  وہ تمہاری اس عظیم حاجت کے واسطے جب اس مہربان مولیٰ رؤف و رحیم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سوا کوئی کام آنے والا ،  بگڑی بنانے والا نہ ہوگا( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) ۔  حق فرما یا حضرت حق عَزَّوَجَلَّ نے  : 
عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ( ۱۲۸) ( پ۱۱ ، توبه : ۱۲۸) 
 ترجمۂ کنزالایمان : جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان ۔ 
وَاللہِ الْعَظِيْم !  قسم اُس کی جس نے انہیں آپ پر مہربان کیا ہر گز ہر گز کوئی ماں اپنے عزیز پیارے اکلوتے بیٹے پر زِنْہار(3 ) اتنی مہربان نہیں جس قدر وہ اپنے ایک  ایک اُمّتی پر


 مہربان ہیں( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) ۔ الٰہی !  تو ہمارا عجزو ضعف( 1) اور اُن کے حقوقِ عظیمہ( 2)  کی عظمت جانتا ہے ۔  اے قادِر !  اے واجِد ! ہماری طرف سے اُن پر اور اُن کی آل پر وہ برکت والی درودیں نازل فرما جو اُن کے حُقوق کو وافِی ہوں اور اُن کی رَحمتوں کو مکافِی (3 ) ۔ 
اَللهم صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ قَدْرَ رَأْفَتِهٖ وَرَحْمَتِهٖ بِأُمَّتِهٖ وَقَدْرَ رَأْفَتِكَ وَرَحْمَتِكَ بِهٖ آمِيْن آمِيْن اِلٰهَ الْحَقّ ، آمِيْن. 
( اے اللہ ! درود وسلام اور برکت نازل فرما آپ پر ،  آپ کی آل پر اور آپ کے اصحاب پر جتنا کہ وہ اپنی اُمت پر مہربان اور رحمت والے ہیں اور جس قدر تو اُن پر مہربان اور رحیم ہے ۔  اے معبودِ برحق !  ہماری دُعا قبول فرما ۔ ت) 
سُبْحٰنَ اللہ  ! امّتیوں نے اُن کی رحمتوں کا یہ مُعاوَضَہ(4 ) رکھا کہ کوئی افضلیت میں تَشْکِیْکِیْں(5 ) نکالتا ہے ، کوئی اُن کی تعریف اپنی سِی جانتا ہے ( 6) ،  کوئی اُن کی تعظیم پر بگڑ کرکَرَّاتا( 7) ہے ۔ اَفعالِ محبت کا بدعت نام ، اِجْلال  واَدَب پر شرک کے اَحکام( 8) ،


 اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ     وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِيْم ( بے شک ہم اللہ  تعالیٰ کے لیے ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف لوٹنا ہے ،  عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں  اور اللہ  بلند و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ تو گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ۔ ت) 

حدیث ۲۴ :  

’’صحیح مسلم‘‘ میں حضرت اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوِی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمفرماتے ہیں  : اللہ تعالیٰ نے مجھے تین سوال عطا فرمائے ،  میں نے دو بار تو دنیامیں عرض کرلی : ( ( اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي) ) الٰہی !  میری اُمت کی مغفرت فرما ، الٰہی !  میری اُمت کی مغفرت فرما ۔  ( ( وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إلَیَّ فِيْهِ الْخَلْقُ حَتّٰی إِبْرَاهِيْم) ) ( 1) اور تیسری عرض اُس دن کے لیے اُٹھا رکھی( 2) جس میں مخلوقِ الٰہی میری طرف نیاز مند(3 ) ہوگی یہاں تک کہ ابراہیم خلیلُ اللہ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ۔ 
وَصَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن ( اور دُرود و سلام و برکت نازل فرما اُن پر اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ت) 

حدیث ۲۵ : 

 بیہقی حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے شبِ اَسریٰ اپنے ربّ سے عرض کی :  تو نے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو یہ 


یہ فضائل بخشے ،  رب عَزَّ مَجْدُہٗ نے فرمایا : ( ( أَعْطَيْتُكَ خَيْرًا مِنْ ذٰلِكَ -اِلٰی قَوْلِهٖ : -خَبَأْتُ شَفَاعَتَكَ وَلَمْ أَخْبَأْهَا النَّبِيَّ غَيْرَكَ) ) ( 1) میں نے تجھے جو عطا فرمایا وہ ان سب سے بہتر ہے ،  میں نے تیرے لیے شفاعت چھپا رکھی اور تیرے سوا دوسرے کو نہ دی ۔ 

حدیث ۲۶  : 

 ابنِ ابی شیبہ و ترمذی بافادۂ تحسین وتصحیح اور ابنِ ماجہ و حاکم بحکمِ تصحیح حضرت اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی حُضور شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ( ( إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ کُنْتُ إِمَامَ النَّبِيِّيْنَ وَخَطِيْبَهُمْ وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ غَيْرَ فَخْرٍ) ) ( 2) قیامت کے دن میں انبیاء کا پیشوااور ان کا خطیب اور ان کا شفاعت والا ہوں اور یہ کچھ فخر کی راہ سے (3 ) نہیں فرماتا ۔ 

حدیث ۲۷ تا ۴۰  : 

 ابنِ مَنِیع  حضرت زید بن اَرقم وغیرہ چودہ صحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے راوی ، حضرت شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  ( ( شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِهَا لَمْ يَکُنْ مِنْ أَهْلِهَا) ) (4 ) میری شفاعت روزِ قیامت حق ہے جو اس پر ایمان نہ لائے گا اس کے قابل نہ ہوگا ۔ 


مُنْکِرمسکین( 1) اس حدیثِ مُتَواتر(2 ) کو دیکھے اور اپنی جان پر رحم کرکے شفاعتِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر ایمان لائے ۔ 
اَللهم إِنَّكَ تَعْلَمُ هَدَيْتَ فَاٰمَنَّا بِشَفَاعَةِ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِهَا فِی الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَا أَهْلَ التَّقْوٰی وَاَهْلَ الْمَغْفِرَةِ وَاجْعَلْ أَشْرَفَ صَلَوَاتِكَ وَأَنْمٰی بَرَکَاتِكَ وَأَزْکٰی تَحِيَّاتِكَ عَلٰی هٰذَا الْحَبِيْبِ الْمُجْتَبٰی وَالشَّفِيْعِ الْمُرْتَجٰی وَعَلٰی اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ دَائِمًا أَبَدًا ، آمِيْن يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْن.
( اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !  تو جانتا ہے ، بے شک تو نے ہدایت عطا فرمائی ہے  تو ہم تیرے حبیب محمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی شفاعت پر ایمان لائے ہیں ۔ اے اللہ ! تو ہمیں دُنیا وآخرت میں لائِقِ شفاعت بنادے ۔ اے تقویٰ ومغفرت والے ! اپنا افضل درود ،  اکثر بَرکات اور پاکیزہ تحیات بھیج اُس منتخب محبوب پر جن کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے اور ان کی آل اور اصحاب پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔  اے بہترین رحم فرمانے والے ! ہماری دُعا کو قبول فرما ۔  اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پَروَرْدگار ہے ۔ ت) 

________________________________
1 - صحاح : حدیث کی وہ کتابیں جن میں صرف احادیثِ صحیحہ ذکر کرنے کا اِلتزام کیا گیا ہو  ، جیسے : صحیح بخاری ومسلم  ۔  
2 -   سنن : حدیث کی وہ کتابیں جن میں ابوابِِ فقہ کی ترتیب پر فقط احادیث ِاحکام جمع کی گئی ہوں  ، جیسے : سنن ابوداود   ۔  
3 -   مسانید : حدیث کی وہ کتابیں جن میں ہر صحابی کی مرویات الگ الگ جمع کی جائیں  ، جیسے : مسند امام احمد وغیرہ  ۔  
4 -   معاجیم : حدیث کی وہ کتابیں جن میں اسمائے شیوخ کی ترتیب سے احادیث لائی جائیں  ، جیسے : معجم طبرانی   ۔  
5 -   جوامع : حدیث کی وہ کتابیں جن میں آٹھ عنوانات کے تحت احادیث لائی جائیں  ۔  وہ آٹھ عنوانات یہ ہیں :  سیر  ، آداب  ، تفسیر  ، عقائد  ، فتن  ، احکام  ، اشراط  ، مناقب  ۔         ( تيسیر مصطلح الحدیث  ، ص۱۲۸  ، نصاب اصول حدیث  ، ص۲۱) 
6 -   مصنفات : حدیث کی وہ کتابیں جن میں ترتیب ابواب فقہ پر ہو اور احادیثِ مرفوعہ کے ساتھ موقوف ومقطوع احادیث بھی مذکور ہوں  ۔   ( جامع الاحادیث  ، ۱/۵۶۷) 
7 -   یعنی ہرزندہ دل سنی  ۔  
8 -   خواتین اور بچے  ۔  
9 -    اَن پڑھ گنوار  ۔  
10 - 4    یعنی انتہائی اختصار کے ساتھ  ۔  
11 - 5   اشارہ  ۔
________________________________
1 -   ترمذی  ، کتاب التفسیر  ، باب ومن سورۃ بنی اسرائیل  ، ۵/۹۳  ، حدیث :   ۳۱۴۸  ۔  
2 -   شرح الزرقانی علی المواھب  ، المقصد الخامس  ، النوع الخامس  ، ۸/۴۴۸  ( عن مسند الفردوس)  ۔  
  مسند الفردوس  ، فصل فی تفسیر القرآن  ، ۴/ ۴۰۶  ، حدیث : ۷۱۷۹ ( عن ابن عباس موقوفاً بنحوه)  ۔  




________________________________
1 -   یعنی مولائے کائنات سَیِّدُناعَلِیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  ۔  
2 -   معجم اوسط  ، من اسمہ احمد  ، ۱/ ۵۶۰  ، حدیث : ۲۰۶۲  ۔   
مسند البزار  ، مسند علی بن ابی طالب  ، ۲/۲۴۰  ، حدیث : ۶۳۸  ۔  
3 -   کس چیز   ۔  

________________________________
1 -   بارگاہ  ۔  
2 -   شفاعت کی گزارش  ۔  
3 -   یعنی برے انجام والی حالت بیان ہوئی  ۔  
4 -   یعنی مشرف  ۔  



________________________________
1 -   یعنی واضح ترین طور پر  ۔  
2 -   میدانِ حشر  ۔  
3 -   پ۲۹  ، المعارج : ۴  ۔  
4 -   مسلم  ، کتاب الجنۃ ...  الخ  ، باب فی صفۃ یوم القیامۃ ... الخ  ، ص۱۱۷۳  ، حدیث : ۷۲۰۶  ۔  
5 -   پورے دس برس جتنی  ۔  
6 -   مصنف عبد الرزاق  ، کتاب الجامع  ، باب قیام الساعۃ  ، ۱۰/۳۳۸  ، حدیث : ۲۱۰۱۴  ۔  
7 -   بہت سارا پسینہ  ۔  
8 -   بخاری  ، کتاب الرقاق  ، باب قول اللہ تعالی : الا یظن اولئک انھم مبعوثون ... الخ  ، ۴/۲۵۵  ۔  
مسند امام  احمد  ، مسند الشامیین  ، ۶/۱۴۶  ، حدیث : ۱۷۴۴۴  ۔  
معجم اوسط  ، ۱/۵۳۵  ، حدیث : ۵۳۵  ، حلیۃ الاولیاء  ، کعب الاحبار  ، ۵/ ۴۰۹  ، رقم : ۷۵۴۶  ۔  
9 -   شفاعت فرمانے والے  ۔  
10 - 2  جگہ جگہ  ۔  




________________________________
1 -   یعنی صاف انکار  ۔  
2 -   بخاری  ، کتاب التوحید  ، باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الانبیاء وغیرھم  ، ۴/ ۵۷۷  ، حدیث : ۷۵۱۰  ، بخاری  ، کتاب التوحید  ، باب قول اللہ تعالی :  لما خلقت بیدی  ، ۴/۵۴۲  ، حدیث :  ۷۴۱۰  ۔  
3 -   شور  ۔  
4 -   اپنے اور پَرائے  ۔  
5 -   عزت  ۔  




________________________________
1 -   یعنی دیگر  ۔  
2 -   طاقت  ۔  
3 -   گناہگاروں کی بخشش  ۔  
4 -   علاوہ  ۔  
5 -   یعنی دوسری  ۔  
6 -   عوام کے کانوں   ۔  


________________________________
1 -   انکار کرنے والے  ۔  
2 -   غصہ کی آگ  ۔  
3 -   خوفِ خدا نہ رکھنے والوں  ۔  
4 -   ناحق بات کی کوشش کرنے والوں  ۔  
5 -   جھوٹے عقیدے رکھنے والوں  ۔  
6 -   شفاعت کے انکار کی ناپاک صورت کو چھپانے کیلئے  ۔  
7 -   یعنی حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی بارگاہ ہی بے سہاروں کا سہارا ہے  ۔  
8 -   گزارا  ۔  
9 -   مبہم  ، غیر واضح  ۔  





________________________________
1 -   دل خوش کردینے والی بشارت  ۔  
2 -   خوف زدہ  ۔  
3 -   دل کا چور  ۔  
4 -   خطا ہوگئی  ۔  
5 -   ذلیلوں  ۔  
6 -    گناہوں میں ملوث  ۔  
7 -   بدکاروں  ۔  
8 -   ظالموں  ۔  
9 -   شرم  ۔  





___
1 -   مسند امام احمد  ، مسند عبد اﷲ بن عمر  ، ۲/۳۶۶  ، حدیث : ۵۴۵۳  ، ابن ماجہ  ، کتاب الزھد  ، باب ذکر الشفاعۃ  ، ۴/۵۲۴  ، حدیث : ۴۳۱۱  ۔  




________________________________
1 -   الکامل لابن عدی  ، عمرو بن مخرم  ، ۶/۲۶۱  ، رقم :  ۱۳۱۷  ۔  
2 -   ابو داود  ، کتاب السنۃ  ، باب فی الشفاعۃ  ، ۴/۳۱۱  ، حدیث : ۴۷۳۹  ، ترمذی  ، کتاب صفۃ القیامۃ  ، باب ما جاء فی الشفاعۃ  ، ۴/۱۹۸  ، حدیث : ۲۴۴۳-۲۴۴۴  ، ابن حبان  ، کتاب التاریخ  ، باب الحوض والشفاعۃ  ، ۸/۱۳۲  ، ۱۳۱  ، حدیث : ۶۴۳۴-۶۴۳۳  ، مستدرک حاکم  ، کتاب الایمان  ، شفاعتی لاھل الکبائر من امتی  ، ۱/۲۴۶  ، حدیث :  ۲۳۶  ، ۲۳۹  ، سنن الکبری للبیهقی  ، کتاب الشهادات  ، باب من تجوز شهادتہ ...  الخ  ، ۱۰/ ۳۲٠  ، حدیث :  ۲۰۷۷۴  ، معجم کبیر  ، ۱۱/۱۵۱  ، حدیث : ۱۱۴۵۴  ، ابن ماجہ  ، کتاب الزھد  ، باب ذکر الشفاعۃ  ، ۴/۵۲۳  ، حدیث : ۴۳۱۰  ، تاریخ بغداد  ، رقم : ۴۰۴۶ : الحسین بن احمد بن سلمۃ  ، ۸/۱۱  ۔  





________________________________
1 -   تاریخ بغداد  ، رقم : ۴۱۷ : محمد بن ابراھیم بن محمد بن یزید  ، ۱/۴۳۳  ۔  
2 -   قد وجدناھذہ الروایۃ عن انیس الانصاری   ۔  
3 -   معجم اوسط  ، ذکر من اسمہ محمد  ، ۴/۱۰۴  ، حدیث :  ۵۳۶۰  ۔  
انظر مسند امام احمد  ، حدیث بریدۃ الاسلمی  ، ۹/۷  ، حدیث : ۲۳۰۰۴  ۔  
4 -   بخاری  ، کتاب العلم  ، باب الحرص علی الحدیث  ، ۱/ ۵۳  ، حدیث : ۹۹  ، مسلم  ، کتاب الایمان  ، باب اختباء النبی صلی اللہ علیہ وسلم دعوۃ الشفاعۃ لامتہ  ، ص۱۰۸  ، حدیث : ۴۹۱  ۔   



________________________________
1 -    مستدرک حاکم  ، کتاب الایمان  ، شفاعتی لمن شھد ان لا الہ الا اللہ ... الخ  ، ۱/۲۴۸  ، حدیث :  ۲۴۱  ۔  
2 -   مسند امام احمد  ، مسند الکوفیین  ، حدیث ابی موسی الاشعری  ، ۷/۱۷۰  ، حدیث : ۱۹۷۴۵  ۔  
معجم کبیر  ، ۲۰/۱۶۳  ، حدیث : ۳۴۳  ، ۳۴۲  ۔  
  مسند البزار  ، مسند معاذ بن جبل  ، ۷/۱۱۹  ، حدیث : ۲۶۷۴  ۔  
3 -    معجم اوسط  ، ذکر من اسمہ علی  ، ۳/۵۳  ، حدیث : ۳۸۴۵  ۔  



________________________________
1 -   مستدرک حاکم  ، کتاب الایمان  ، للانبیاء منابر من ذھب  ، ۱/۲۴۲  ، حدیث : ۲۲۸  ۔  
معجم اوسط  ، ذکر من اسمہ ابراھیم  ، ۲/۱۷۸  ، حدیث :  ۲۹۳۷  ۔  
2 -    نہ بیٹھوں گا  ۔  
3 -   سیدھا  ۔  



________________________________
1 -   جہنم پر مقرر فرشتہ حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام  ۔  
2 -   یعنی اپنی امت کے معاملے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے غضب کو بجھا دیا ہے  ۔  
3 -   بخاری  ، کتاب التیمم  ، باب التیمم  ، ۱/۱۳۴  ، حدیث :  ۳۳۵  ، مسلم  ، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ  ، باب المساجد ومواضع الصلاۃ  ، ص۲۱۰  ، حدیث : ۱۱۶۳  ، نسائی  ، کتاب الغسل والتیمم  ، باب التیمم بالصعید  ، ص۷۷  ، حدیث :  ۴۳۰  ، مسند بزار  ، مسند عبد اللہ بن عباس  ، ۱۱/۱۶۶  ، حدیث :  ۴۰۷۷  ، مسند امام احمد  ، مسند عبد اللہ بن عباس  ، ۱/۶۴۵  ، حدیث :  ۲۷۴۲  ، مسند بزار  ، مسند ابی ذر الغفاری  ، ۹/۴۶۱  ، حدیث :  ۴۰۷۷  ، معجم کبیر  ، ۱۱/۶۱  ، حدیث :  ۱۱۰۸۵  ، شعب الایمان  ، باب فی حشر الناس ...  الخ  ، فصل فی اصحاب الکبائر ...  الخ  ، ۱/۲۸۳  ، حدیث :  ۳۰۴ ( عن جابر)  ، حلیۃ الاولیاء  ، ابو الحکم سیار  ، ۸/۳۵۳  ، حدیث :  ۱۲۴۷۶  ، ( عن جابر)  ، مسند امام احمد  ، مسند الانصار  ، حدیث ابی ذر غفاری  ، ۸/۹۹  ، حدیث :  ۲۱۴۹۱  ، دارمی  ، کتاب السیر  ، باب الغنیمۃ ...  الخ  ، ۲/۲۹۵  ، حدیث :  ۲۴۶۷  ، مصنف ابن ابی شیبہ  ، کتاب الفضائل  ، ما اعطی اللہ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم  ، ۱۶/۳۸۸  ، حدیث :  ۳۲۲۹۹ ( عن جابر)  ، معجم اوسط  ، من اسمہ محمد  ، ۵/۳۱۰  ، حدیث :  ۷۴۳۹  ، معجم کبیر  ، ۷/ ۱۵۵  ، حٰدیث :  ۶۶۷۴  ۔  مسند امام احمد  ، مسند الکوفیین  ،  ۷/۱۷۳  ،  حدیث :  ۱۹۷۵۶  ،  مصنف ابن ابی شیبہ  ، کتاب الفضائل  ، ما اعطی اللہ محمداً  ،  ۱۶/۳۸۹  ،  حدیث :  ۳۲۳۰۲  ۔  




________________________________
1 -    یعنی حدیث نمبر ۱۶ تا۲۱  ۔  
2 -   بخاری  ، کتاب الدعوات  ، باب لکلّ نبی دعوۃ مستجابۃ  ، ۴/۱۸۹  ، حدیث :  ۶۳۰۵  ، مسلم  ، کتاب الایمان  ، باب اختباء النبی ...  الخ  ، ص۱۰۸  ، حدیث :  ۴۹۴  ، مسند امام احمد  ، مسند انس بن مالک  ، ۴/۲۷۰  ، حدیث :  ۱۲۳۷۹  ۔  
3 -   معجم اوسط  ، من اسمہ محمد  ، ۵/۳۱۰  ، حدیث :  ۷۴۳۹  ۔  





________________________________
1 -   سنن الکبری للبیھقی  ، کتاب الصلاۃ  ، باب اینما ادرکتک الصلاۃ  ... الخ  ، ۲/۶۰۸  ، حدیث :  ۴۲۶۶  ۔  
2 -   مسلم  ، کتاب الایمان  ، باب اختباء النبی ... الخ  ، ص۱۰۸  ، حدیث :  ۴۹۴  ۔  
3 -   مسندامام احمد  ، مسند الکوفیین  ، حدیث ابی موسی الاشعری  ، ۷/۱۷۳  ، حدیث :  ۱۹۷۵۶  ۔  



________________________________
1 -   اے امت کے گناہگارو !  کیا تم نے اپنے معاملے میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی کامل شفقت ورحمت نہیں دیکھی  ۔  
2 -   تیسرا آخرت کیلئے باقی رکھا  ۔  
3 -   ہرگز  ۔  






________________________________
1 -    ہمارا عاجز وکمزور ہونا  ۔  
2 -    یعنی امت پرلازم پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے عظیم حقوق   ۔  
3 -    جو اُن کے ہم پر لازم حقوق اوران کی رحمتوں اور شفقتوں کو کافی ہوں  ۔  
4 -   بدلہ  ۔  
5 -   یعنی شکوک وشبہات  ۔  
6 -   اپنی جیسی سمجھتا ہے  ۔  
7 -   شورکرتا  ۔  
8 -   یعنی عشقِ رسول میں انجام دئیے جانے والے کاموں کو بدعت اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعظیم وادب بجالانے کومَعَاذَ اللہ  شرک قرار دینا   ۔  




________________________________
1 -   مسلم  ، کتاب صلاۃ المسافرین  ، باب بیان انّ القرآن علی سبعۃ ...  الخ  ، ص۳۱۸  ، حدیث :  ۱۹۰۴  ۔  
2 -   باقی رکھی  ۔  
3 -     محتاج  ۔  







________________________________
1 -    الشفا  ، الباب الثالث  ، الفصل الاول  ، ص۱۷۰  ، الجزء الاول  ( عن ابن وھب )  ۔  
2 -   مصنف ابن ابی شیبہ  ، کتاب الفضائل  ، ما اعطی اللہ محمداً صلی اللہ علیہ وسلم  ، ۱۶/۳۸۷  ، حدیث :  ۳۲۲۹۷  ۔  
ترمذی  ، کتاب المناقب  ، باب ما جاء فی فضل النبی  ، ۵/۳۵۳  ، حدیث :  ۳۶۳۳  ۔  
ابن ماجہ  ، کتاب الزھد  ، باب ذکر الشفاعۃ  ، ۴/۵۲۷  ، حدیث :  ۴۳۱۴  ۔  
  مستدرک حاکم  ، کتاب الایمان  ، اذا کان یوم القیامۃ ... الخ  ، ۱/۲۵۱  ، حدیث :  ۲۴۹  ۔  
3 -   یعنی بطورِ فخر  ۔  
4 -   جامع صغیر  ، حرف الشین  ، ص۳۰۱  ، حدیث : ۴۸۹۶ ( عن ابن منیع)  ۔   
المطالب العالیۃ  ، کتاب الفتن  ، باب الشفاعۃ  ، ۸/ ۶۹۱  ، حدیث : ۴۵۵۵  ۔  



________________________________
1 -   یعنی انکار کرنے والا بے چارہ  ۔  
2 -   حدیثِ متواتر :  وہ حدیث جس کو سَنَد کے ہر طبقہ میں راویوں کی اتنی بڑی تعداد روایت کرے جس کا جھوٹ پر متفق ہونا عقلاً محال ہو اور سند کی انتہاء اَمرِحِسِّی پر ہو  ۔  حدیث کے درجۂ  تواتر تک پہنچنے کیلئے چار شرائط ہیں :  ( 1) حدیث کے راوی کثیر ہوں  ۔  ( 2) یہ کثرت سند کے تمام طبقات میں پائی جائے یعنی ابتداء سے انتہاء تک راوی کثیر ہوں  ۔  ( 3) یہ کثرت اس درجہ کی ہوکہ عادۃً یا اتفاقاً اُن کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو  ۔  ( 4) سند کی انتہاء امرِ حسی پر ہو  ۔                   ( نصاب اصول حدیث  ، ص۳۱) 









قیامت اور اس کی نشانیاں

قیامت اور اس کی نشانیاں

سوال:قیامت کسے کہتے ہیں ؟
جواب:جیسے ہر چیز کی ایک عُمر مُقَرَّرہے اس کے پورے ہونے کے بعد وہ چیز فنا ہو جاتی ہے۔ایسے ہی دنیا کی بھی ایک عُمر اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے عِلم میں مُقَرَّرہے۔ اس کے پورا ہونے کے بعددنیا فنا ہو جائے گی۔ زمین و آسمان، آدمی، جانور کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔ اس کو ’’قیامت‘‘کہتے ہیں جیسے آدمی کے مرنے سے پہلے بیماری کی شدّت، جان نکلنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ایسے ہی قیامت سے پہلے اس کی نشانیاں ہیں۔
سوال:قیامت آنے سے پہلے اس کی کیاکیا علامات ظاہر ہوں گی؟
جواب:قیامت کے آنے سے پہلے دنیا سے عِلم اُٹھ جائے گا،عالِم باقی نہ رہیں گے، جہالت پھیل جائے گی، بدکاری اور بے حیائی زیادہ ہوگی، عورتوں کی تعداد  مَردوں سے بڑھ جائے گی۔ بڑے دَجّال کے سوا تیس دَجّال اور ہوں گے،ہر ایک ان میں سے نبوّت کا دعویٰ کرے گا باوجودیہ کہ حضور پُرنور سیِّدُ الانبیاء صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمپر نبوّت ختم ہو چکی۔ ان میں سے بعض دجّال تو گزر چکے جیسے مسیلمہ کذّاب، اسود عنسی، مرزا علی محمد باب، مرزا علی حسین بہاء اللّٰہ، مرزا غلام احمد قادیانی، بعض اور باقی ہیں وہ بھی ضرور ہوں گے، مال کی کثرت ہوگی، عرب میں کھیتی، باغ ،نہریں ہو جائیں گی، دین پر قائم رہنا مشکل ہوگا۔ وقت بہت جلد گزرے گا، زکوٰۃ دینا لوگوں کو دشوارہوگا، عِلم کو لوگ دنیا کیلئے پڑھیں گے ، مَرد عورتوں کی اطاعت کریں گے۔ ماں باپ کی نافرمانی زیادہ ہوگی، شراب نوشی عام ہو جائے گی، نااہل سردار بنائے جائیں گے، نہرِ فرات سے سونے کا خزانہ کھلے گا۔ زمین اپنے اندر دفن شدہ خزانے اُگل دے گی،امانت غنیمت یعنی مفت کامال سمجھی جائے گی، مسجدوں میں شور مچیں گے، فاسق سرداری کریں گے، فتنہ انگیزوں کی عزّت کی جائے گی، گانے باجے کی کثرت ہوگی۔ پہلے بزرگوں کو لوگ بُرا بھلا کہیں گے،کوڑے کی نوک اور جوتے کے تسمے باتیں کریں گے، دَجّال اور دَابَّۃُ الارض اور یاجُوج ماجُوج نکلیں گے۔ حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ظاہر ہوں گے، حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام آسمان سے اُتریں گے، سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
سوال:دَجّال کس کو کہتے ہیں، اس کے نکلنے کا حال بیان فرمائیے؟
جواب:دَجّال مسیح کذّاب کا نام ہے۔ اس کی ایک آنکھ ہوگی اور ایک سے کانا ہو گا اور اس کی پیشانی پر ’’ک  ا  ف  ر‘‘(یعنی کافر) لکھا ہوگا۔ہر مسلمان اس کو پڑھے گا ، کافر کو نظر نہ آئے گا۔ وہ چالیس دن میں تمام زمین میں پھرے گا مگر مکّہ شریف اور مدینہ شریف میں داخل نہ ہو سکے گا۔ ان چالیس دن میں پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا، دوسرا ایک مہینہ کے برابر، تیسرا ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن عام دنوں کے برابر ہوں گے۔ دَجّال خُدائی کا دعویٰ کرے گا اور اسکے ساتھ ایک باغ اور ایک آگ ہوگی، جس کا نام وہ جنّت و دوزخ رکھے گا۔ جو اس پر ایمان لائے گا اس کو وہ اپنی جنت میں ڈالے گا، جو حقیقت میں آگ ہوگی اور جو اس کا انکار کرے گا اس کو اپنی جہنم میں داخل کرے گا جو واقع میں آسائش کی جگہ ہوگی۔ بہت سے عجائب یعنی حیرت انگیز چیزیں دکھائے گا، زمین سے سبزہ اُگائے گا ، آسمان سے بارش برسائے گا،مُردے زندہ کرے گا، ایک مومن صالح اس طرف متوجہ ہوں گے اور ان سے دَجّال کے سپاہی کہیں گے کیا تم ہمارے ربّ پر ایمان نہیں لاتے؟ وہ کہیں گے۔ میرے ربّ کے دلائل چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر وہ ان کو پکڑ کر دَجّال کے پاس لے جائیں گے۔ یہ دَجّال کو دیکھ کر فرمائیں گے اے لوگو! یہ وہی دَجّال ہے جس کا رسولِ کریمصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمنے ذکر فرمایا ہے۔ دَجّال کے حکم سے ان کو زدوکوب کیا یعنی مارا جائے گا۔ پھر دَجّال کہے گا:کیا تم میرے اوپر ایمان نہیں لاتے ؟وہ فرمائیں گے تو مسیح کَذَّا ب ہے ، دَجّال کے حکم سے ان کا جسم مبارک سَر سے پاؤں تک چیر کے دوحصّے کر دیا جائے گا اور ان دونوں حصّوں کے درمیان دَجّال چلے گا۔ پھر کہے گا اُٹھ!تو وہ تندرست ہو کر اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ تب دَجّال اُن سے کہے گا تم مجھ پر ایمان لاتے ہو ؟وہ فرمائیں گے میری بصیرت اور زیادہ ہو گئی۔ اے لوگو!یہ دَجّال اب میرے بعد کسی کے ساتھ پھر ایسا نہیں کر سکتا۔ پھر دَجّال انہیں پکڑ کر ذبح کرنا چاہے گا اور اس پر قادر نہ ہو سکے گا، پھر ان کے دَسْت وپاسے پکڑ کر اپنی جہنم میں ڈالے گا، لوگ گمان کریں گے کہ ان کو آگ میں ڈالا۔ مگر درحقیقت وہ آسائش کی جگہ ہوں گے۔
سوال:دَا  بَّۃُ الارض کیا چیز ہے؟
جواب: دَا  بَّۃُ الارض ایک عجیب شکل کا جانور ہے جو کوہِ صفا سے ظاہر ہو کر تمام شہروں میں نہایت جلد پھرے گا، فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا۔ ہر شخص پر ایک نشانی لگائے گا، ایمانداروں کی پیشانی پر عصائے موسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام سے ایک نورانی خَط کھینچے گا ۔ کافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی اَنگُشتَری یعنی انگوٹھی سے کالی مُہر کرے گا۔
سوال:یاجوج ماجوج کون ہیں؟
جواب:یہ یافِث بن نوح عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی اولادمیں سے فسادی گروہ ہیں، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ وہ زمین میں فساد کرتے تھے، ایّامِ رَبیع یعنی فصل پکنے کے ز مانے میں نکلتے ، سبزہ ذرا نہ چھوڑتے ،آدمیوں کو کھالیتے اور جنگل کے درندوں، وَحشی جانوروں، سانپوں، بچھوؤں کو کھا جاتے تھے، حضرت سکندر ذوالقرنین نے لوہے کی دیوار کھینچ کر ان کی آمد بند کردی۔ حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کے نُزول کے بعد جب آپ دَجّال کو قتل کر کے بحکمِ الٰہی مسلمانوں کو کوہِ طور لے جائیں گے اس وقت وہ دیوار توڑ کرنکلیں گے اور زمین میں فسادکریں گے،قتل و غارت کریں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی دُعا سے ہلاک کرے گا۔
سوال:حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ حال بیان فرمائیے؟
جواب:حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ خلیفۃُ اللّٰہہیں۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی آل میں سے حَسَنی سیّد ہوں گے، جب دنیا میں کُفر پھیل جائے گا اور اسلام حَرَمین شریفین یعنی مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ کی طرف سمٹ جائے گا، اولیاء و ابدال وہاں کو ہجرت کر جائیں گے۔ ماہِ رمضان میں اَبدال کعبہ شریف کے طواف میں مشغول ہوں گے وہاں اولیاء حضرت مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہچان کر ان سے بیعت کی درخواست کریں گے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ انکار فرمائیں گے، غیب سے ندا آئے گی ھٰذَاخَلِیْفَۃُ اللّٰہِ الْمَھْدِیُّ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْہٗ’’یہ اللّٰہ تعالیٰ کے خلیفہ مہدی ہیں ان کا حکم سنو اور اطاعت کرو‘‘۔ لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دستِ مبارک پر بیعت کریں گے وہاں سے مسلمانوں کو ساتھ لے کر شام تشریف لے جائیں گے ۔آپ کا زمانہ بڑی خیرو برکت کا ہوگا، زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔
سوال:حضرت مسیح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نُزول کا مختصر حال بیان کیجئے؟
جواب:جب دَجّال کا فتنہ انتہا کو پہنچ چکے گا اور وہ ملعون تمام دنیا میں پھرکر ملکِ شام میں جائے گا اس وقت حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام دِمَشْق کی جامع مسجد کے شَرقی مَنارہ پر نزول فرمائیں گے۔آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی نظر جہاں تک جائے گی وہاں تک خوشبو پہنچے گی اور آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی خوشبو سے دَجّال پگھلنے لگے گا اور بھاگے گا۔ آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام دَجّال کو بیتُ المقدس کے قریب مقامِ لُد میں قتل کریں گے۔ ان کا زمانہ بڑی خیر و برکت کا ہوگا،مال کی کثرت ہوگی۔ زمین اپنے خزانے نکال کر باہر کرے گی۔ لوگوں کو مال سے رَغبت نہ رہے گی،یہودیت ، نصرانیت اور تمام باطل دینوں کو آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام مٹا ڈالیں گے۔ آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کے عہد مبارک میں ایک دین ہوگا، اسلام۔ تمام کافر ایمان لے آئیں گے اور ساری دنیا اہلِ سنّت ہوگی۔ امن وامان کا یہ عالَم ہو گا کہ شیر بکری ایک ساتھ چریں گے۔ بچے سانپوں سے کھیلیں گے ۔ بغض وحسدکا نام و نشان نہ رہے گا۔ جس وقت آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کا نُزول ہوگا فجر کی جماعت کھڑی ہوتی ہوگی۔ حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کو دیکھ کر آپ سے امامت کی درخواست کریں گے۔ آپ انہیں کو آگے بڑھائیں گے اور حضرت امام مہدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضور سیّدُ الانبیاء عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان و صفت اور آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی اُمّت کی عزّت و کرامت دیکھ کر اُمتِ محمد ی عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَامُ میں داخل ہونے کی دعا کی ۔ اللّٰہتعالیٰ نے آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی دعا قبول فرمائی اور آپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کو وہ بَقا عطا فرمائی کہ آخر زمانہ میں اُمتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَامُ کے امام ہو کر نُزول فرمائیں  گےآپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام نُزول کے بعد برسوں دنیا میں رہیں گے، نکاح کریں گے پھر وفات پاکر حضور سیّدِ انبیاء عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پَہلو میں مدفون ہوں گے۔
سوال:آفتاب کے مغرب سے طلوع کرنے اور دروازۂ توبہ کے بند ہونے کی کیفیت بیان فرمائیے؟
جواب:روزانہ آفتاب بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کر کے اِذن چاہتا ہے، اِذن ہوتا ہے تَب طلوع کرتا ہے۔قریبِ قیامت جب دَابَّۃُ الارض نکلے گا، حسبِ معمول آفتاب سجدہ کر کے طلوع ہونے کی اجازت چاہے گا۔ اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ واپس جا۔ تب آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا اور نصف آسمان تک آکر لوٹ جائے گا اور جانبِ مغرب غروب کرے گا۔ اس کے بعد پھر پہلے کی طرح مشرق سے طلوع کیا کرے گا ، آفتاب کے مغرب سے طلوع کرتے ہی توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر کسی کا ایمان لانا مقبول نہ ہوگا۔
سوال:قیامت کب قائم ہو گی؟
جواب:اس کا عِلم تو خدا کو ہے اور اس کے بتانے سے حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو ہے ۔ ہمیں اس قدر معلوم ہے کہ جب یہ سب علامتیں ظاہر ہو چکیں گی اور روئے زمین پر کوئی خدا کا نام لینے والا باقی نہ رہے گا تب حضرت اسرافیل عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام بحکمِ الٰہی صور پھونکیں  گے۔ اس کی آوازشروع شروع میں تو بہت نرم ہوگی اور آہستہ آہستہ بلند ہوتی چلی جائے گی۔ لوگ اس کو سُنیں گے اور بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے اور مَرجائیں گے،زمین و آسمان اور تما م جہان فنا ہو جائے گا۔پھر جب اللّٰہ تعالیٰ چاہے گا حضرت اسرافیل کو زندہ کرے گا اور دوبارہ صور پھونکنے کا حکم دے گا ۔ صور پھونکتے ہی پھر سب کچھ موجود ہو جائے گا۔ مُردے قبروں سے اُٹھیں گے ۔ نامۂ اعمال ان کے ہاتھوں میں دے کر محشر میں لائے جائیں گے۔ وہاں جزا اور حساب کیلئے منتظر کھڑے ہوں گے۔ آفتاب نہایت تیزی پر اور سروں سے بہت قریب بقدر ایک میل ہوگا۔ شدّتِ گرمی سے دماغ کھولتے ہوں گے، اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستّر گز زمین میں جَذب ہوجائے گا   پھر جو پسینہ زمین نہ پی سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کے ٹخنوں تک ہو گا، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے کمر، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثلِ لگام کے جکڑ جائے گا۔ ہر شخص حسبِ حال و اعمال ہوگا، پھر پسینہ بھی نہایت بدبو دار ہوگا۔
سوال:اس مصیبت سے لوگوں کو کیسے نجات ملے گی؟
جواب:اس حالت میں طویل عرصہ گزرے گا ۔ پچاس ہزار سال کا تو وہ دن ہوگا اور اس حالت میں آدھا گزر جائے گا۔لوگ سفارشی تلاش کریں گے جو اس مصیبت سے نجات دلائے اور جلد حساب شروع ہو۔ انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی بارگاہ میں حاضری ہوگی لیکن مقصد پورا نہ ہوگا۔آخر میں حضور پُر نور، سیّدِانبیاء، رحمتِ عالَم ،محمدِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے حضور میں فریاد لائیں گے اور شفاعت یعنی سفارش کی درخواست کریں گے۔ حضور پُر نورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمفرمائیں گے:’’ اَنَا لَھَا‘‘میں اس کیلئے موجود ہوں۔ یہ فرما کر حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمبارگاہِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّمیں سجدہ کریں گے۔ اللّٰہتعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوگا  یَا مُحَمَّدُ اِرْفَعْ رَأسَکَ قُلْ تُسْمَعْ وَ سَلْ تُعْطَہْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ’’اے محمد صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمسجدے سے سر اٹھائیے بات کہئے سنی جائے گی، شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی‘‘۔ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی یہ شفاعت تو تمام اہلِ محشر کیلئے ہے جو شدید ڈر اور خوف کی وجہ سے فریاد کر رہے ہوں گے اور یہ چاہتے ہوں گے کہ حساب فرما کر ان کے لئے حکم دے دیا جائے۔ اَب حساب شروع ہوگا۔ میزانِ عمل میں اعمال تولے جائیں گے،اعمال نامے ہاتھوں میں ہوں گے۔ اپنے ہی ہاتھ، پاؤں، بدن کے اعضاء اپنے خلاف گواہیاں دیں گے ۔ زمین کے جس حصّہ پر کوئی عمل کیا تھا وہ بھی گواہی دینے کو تیار ہوگا۔ عجیب پریشانی کا وقت ہو گا کوئی یار نہ غمگسار ۔ نہ بیٹا باپ کے کام آسکے گا نہ باپ بیٹے کے۔ اعمال کی پُرسش یعنی پوچھ گچھ ہے۔ زندگی بھر کا کیا ہوا سب سامنے ہے۔ نہ گناہ سے مُکَرْ سکتا ہے، نہ کہیں سے نیکیاں مل سکتی ہیں۔
سوال:اس مشکل گھڑی میں حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّماپنے چاہنے والوں کی کیسے مدد فرمائیں گے؟
جواب:اس بے کسی کے وقت میں بے کسوں کے مددگار، حضور پُر نور، محبوبِ خدا، محمدِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکام آئیں گے اور اپنے نیاز مندوں اور امیدواروں کی شفاعت فرمائیں گے۔ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعتیں کئی طرح کی ہوں گی بہت لوگ تو آپ کی شفاعت سے بے حساب داخلِ جنت ہوں گے اور بہت لوگ جو دوزخ کے مستحق ہوں گے حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے دخولِ دوزخ سے بچیں گے اور جو گناہگار مومن دوزخ میں پہنچ چکے ہوں گے وہ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ اہلِ جنّت بھی آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے فیض پائیں گے ان کے درجات بلند کئے جائیں گے۔ باقی اور انبیاء ومرسلین عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام و صحابۂ کرام و شہداء و علماء واولیا ء رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَاپنے مُتَوَسِّلین یعنی وسیلہ ڈھونڈنے والوں کی شفاعت کریں گے۔ لوگ علماء کو اپنے تعلقات یاد دلائیں گے، اگر کسی نے عالِم کو دنیا میں وضو کے لئے پانی لا کر دیا ہوگا تو وہ بھی یاد دلا کر شفاعت کی درخواست کرے گا اور وہ اس کی شفاعت کریں گے۔
سوال:محشر کی ہولناکیوں،آفتاب کی نزدیکی سے بھیجے کھولنے، بدبودار پسینوں کی تکالیف اور ان مصیبتوں میں ہزارہا برس کی مدّت تک مبتلا اور پریشان رہنے کا جو بیان فرمایا یہ سب کیلئے ہے یااللّٰہ تعالیٰ کے کچھ بندے اس سے مستثنیٰ بھی ہیں یعنی جو اس میں شامل نہیں؟
جواب:ان اَہوال میں سے کچھ بھی انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام و اولیاء و اتقیاء(پرہیزگار)و صلحاء (نیک) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو نہ پہنچے گا وہ اللّٰہتعالیٰ کے کرم سے ان سب آفتوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہوں گے۔ قیامت کا پچاس ہزار برس کا دن جس میں نہ ایک لقمہ کھانے کو میسّر ہوگا، نہ ایک قطرہ پینے کو، نہ ایک جھونکا ہوا کا۔ اوپر سے آفتاب کی گرمی بھون رہی ہوگی، نیچے زمین کی تَپش،اندر سے بھوک کی آگ لگی ہوگی۔ پیاس سے گردنیں ٹوٹی جاتی ہوں گی، سالہاسال کی مُدّت کھڑے کھڑے بدن کیسا دُکھا ہوا ہوگا، شدّتِ خوف سے دل پھٹے جاتے ہوں گے۔ انتظار میں آنکھیں اُٹھی ہوں گی، بدن کا پُرزہ پُرزہ لرزتا کانپتا ہوگا ،وہ طویل دن اللّٰہتعالیٰ کے فضل سے اس کے خاص بندوں کیلئے ایک فرض نماز کے وقت سے زیادہ ہلکا اور آسان ہوگا۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭

موت اور قبر کا بیان

موت اور قبر کا بیان

سوال:کیا کسی شخص کی عُمر بڑھ یا کم ہوسکتی ہے؟
جواب:ہرشخص کی جوعُمر مقرر ہے نہ اس سے کم ہو سکتی ہے اور نہ بڑھ سکتی ہے۔
سوال:جب وہ عُمر پوری ہو جاتی ہے پھر کیا معاملہ ہوتاہے ؟
جواب: مَلکُ الموت یعنی حضرت عِزرائیل عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام اس کی جان نکال لیتے ہیں، موت کے وقت مرنے والے کے داہنے ،بائیں جہاں تک نظر جاتی ہے فرشتے  ہی فرشتے دکھائی دیتے ہیں۔ مسلمان کے پاس رحمت کے فرشتے، کافر کے پاس عذاب کے۔مسلمانوں کی روح کو فرشتے عزّت کے ساتھ لے جاتے ہیں اور کافروں کی روح کو فرشتے حقارت کے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
سوال:کیا مرنے کے بعد روح فنا ہوجاتی ہے؟
جواب:روح کے جسم سے جدا ہونے کانام موت ہے، روح جسم سے جدا ہوکر فنا نہیں ہو جاتی بلکہ روحوں کے رہنے کے لئے مقامات مقرر ہیں، نیکوں کیلئے علیحدہ اور بُروں کے لئے علیحدہ جہاں وہ اپنے مرتبہ کے مطا بق چلی جاتی ہیں مگر وہ کہیں ہوں، جسم سے ان کا تعلق باقی رہتا ہے۔جسم کی ایذا سے روح کو تکلیف ہوتی ہے۔ قبر پر آنے والے کو دیکھتے ہیں، اس کی آواز سنتے ہیں۔
سوال:آواگون کسے کہتے ہیں؟
جواب:یہ خیال کہ موت کے بعد روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ بدن آدمی کا ہو یا کسی جانور کا،اسے تَناسُخ یا آواگون کہتے ہیں، یہ محض باطل ہے اور اس کا ماننا کفرہے۔
سوال:آوا گون کو کون لوگ مانتے ہیں؟
جواب:ہندو۔
سوال:مُنْکَرْ  نَـکِیْر کسے کہتے ہیں؟
جواب:جب دفن کرنے والے دفن کر کے واپس ہو جاتے ہیں تو دو فرشتے زمین چیرتے آتے ہیں ان کی صورتیں ڈراؤنی، آنکھیں نیلی کالی ہوتی ہیں۔ایک کا نام مُنْکَرْ، دوسرے کا نام نَـکِیْرہے۔ وہ مُردے کو اٹھا کر بٹھاتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں۔
سوال:قبر میں مُردے سے کتنے اور کون کون سے سوالات کئے جاتے ہیں؟
جواب: قبر میں مُردے سے تین سوالات ہوتے ہیں:
(۱)…تیرا رب کون ہے؟
(۲)…تیرا دین کیا ہے؟
(۳)…حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم  کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں،تو ان کے حق میں کیا کہتا تھا ؟
سوال:مسلمان ان سوالوں کے کیا جواب دیتا ہے ؟
جواب:  مسلمان جواب دیتا ہے، میرا رب اللّٰہہے ۔میرا دین اسلام ہے۔ یہ اللّٰہ کے رسول ہیں۔اَشْھَدُ  اَنْ لَّااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔فرشتے کہتے ہیں ہم جانتے تھے کہ تو یہی جواب دے گا۔(1)
سوال:قبر کے سوال وجواب میں کامیاب ہونے والے مسلمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟
جواب:   اس کی قبرکُشادہ اور روشن کر دی جاتی ہے۔ آسمان سے منادِی پکارتا ہے میرے بندے نے سچ کہا، اس کیلئے جنّتی فرش بچھاؤ ،جنّتی لباس پہناؤ، جنّت کی طرف دروازے کھولو۔ چنانچہ دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جس سے جنّت کی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہے اور فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اب تو آرام کر۔
سوال:کافر سے قبر میں کیا سلوک کیا جائے گا؟
جواب:کافر ان سوالوں کاجواب نہیں دے سکتا ،ہرسوال کے جواب میں کہتا ہے: میں نہیں جانتا۔ آسمان سے ندا کرنے والا ندا کرتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے، اس کیلئے آگ کا بچھونا  بچھاؤ، آگ کا لباس پہناؤ اور دوزخ کی طرف کا دروازہ کھول دو۔چنانچہ  دروازہ کھول دیا جاتا ہے تو اس سے دوزخ کی گرمی اور لپٹ آتی ہے پھر اس پر فرشتے مقرر کر دیئے جاتے ہیں جو لوہے کے بڑے بڑے گُرزوں یعنی ہتھوڑوں  سے مارتے ہیں اور عذاب کرتے ہیں۔
سوال:کیا قبر ہر مُردے کو دباتی ہے؟
جواب:انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے سوا قبر سب مسلمانوں کو بھی دباتی ہے اور کافروں کو بھی لیکن مسلمانوں کو دبانا شفقت کے ساتھ ہوتا ہے جیسے ماں بچّہ کو سینہ سے لگا کر چپٹائے اور کافر کو سختی سے یہاں تک کہ پسلیاں اِدھر سے اُدھر ہو جاتی ہیں ۔
سوال:کیا کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن سے قبرمیں سوال نہیں ہوتا؟
جواب:ہاں۔ جن کو حدیث شریف میں مستثنیٰ کیا گیا ہے جیسے انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام اور جمعۃُ المبارک اور رمضانُ المبارک میں مرنے والے مسلمان۔
سوال:قبر میں عذاب فقط کافر پر ہوتا ہے یا مسلمان پر بھی؟
جواب:کافر تو عذاب ہی میں رہیں گے اور بعض گنہگار مسلمانوں پر بھی عذاب ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے صدقات ،دعا ، تلاوتِ قرآن اور دوسرے ثواب پہنچانے کے طریقوں سے اس میں تخفیف یعنی کمی ہو جاتی ہے اوراللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے کرم سے اس عذاب کو اٹھا دیتا ہے ۔ بعض کے نزدیک مسلمان پر سے قبر کا عذاب جمعہ کی رات آتے ہی اٹھا دیا جاتا ہے۔
سوال:جو مُردے دفن نہیں کئے جاتے ان سے بھی سوال ہوتا ہے؟
جواب:جی ہاں۔  خواہ دفن کیا جائے یا نہ کیا جائے یا اسے کوئی جانور کھاجائے ،ہر حال میں اس سے سوال ہوتا ہے اور اگر قابلِ عذاب ہے تو عذاب بھی  ہوتا ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … کتاب العقائد،ص۱۹
تقدیرکابیان

تقدیرکابیان

سوال: تقدیر کسے کہتے ہیں ؟
جواب:دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی ،بدی وہ سب اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کے علمِ اَزَلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے، اسی کو تقدیر کہتے ہیں۔
ہر بھلائی برائی اس نے اپنے علمِ اَزَلی کے مُوافق مُقدّر فرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا زید کے ذمّہ برائی لکھی اس لئے کہ زید برائی  کرنے والا تھا اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ اس کے لئے  بھلائی لکھتا تو اس کے علم یا اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کردیا تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبی صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے اس امت کا مجوس بتایا ہے۔(1)
سوال:تقدیر کی کتنی قسمیں ہیں کیا تقدیر بدل بھی جاتی ہے ؟
جواب:تین قسمیں ہیں (۱) مُبْرَمِ حقیقی (۲) مُعلّقِ محض (۳) معلقِ شبیہ بہ مُبْرَم 
پہلی قسم یعنی مُبْرَمِ حقیقی وہ ہوتی ہے جو علمِ الٰہی میں کسی شے پر مُعلّق نہیں۔ 
دوسری قسم یعنی مُعلّقِ محض وہ ہوتی ہے جس کا ملائکہ کے صحیفوں میں کسی شے پر مُعلّق ہونا ظاہر فرمادیا گیا ہو۔
تیسری قسم یعنی مُعلّقِ شبیہ بہ مُبْرَم وہ ہوتی ہے جس کا ملائکہ کے صحیفوں میں مُعلّق ہونا ظاہر نہ فرمایا گیا ہو مگر علمِ الٰہی میں  کسی شے پرمُعلّق ہو۔
ان میں سے پہلی قسم مُبْرَمِ حقیقی کا بدلنا ناممکن ہے اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندے اکابرین بھی اتفاقاً اس میں کچھ عرض کرتے ہیں تو انھیں اس خیال سے روک دیا جاتا ہے
جب قومِ لوط پر فرشتے عذاب لے کر آئے تھے تو سیّدُنا ابراہیم خلیلُ اللّٰہ  عَـلَـيْهِ  الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام نے  ان کافروں کے بارے میں اتنی کوشش کی کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے اللّٰہ  تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ (یُجَادِلُنَا فِیۡ قَوْمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۴﴾)(1)’’ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں۔‘‘
    یہ قرآنِ عظیم نے اُن بے دینوں کا رَد فرمایا جو محبوبانِ خدا کی بارگاہِ عزّت میں کوئی عزّت و وجاہت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اس کے حضور کوئی دَم نہیں مار سکتا، حالانکہ اُن کا رب عَزَّ  وَجَلَّ اُن کی وجاہت اپنی بارگاہ میں ظاہر فرمانے کو خود ان لفظوں سے ذکر فرماتا ہے کہ : ’’ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں‘‘، حدیث میں ہے: شب ِمعراج حضورِ اقدس صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے ایک آواز سُنی کہ کوئی شخص اﷲ  عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ بہت تیزی اور بلند آواز سے گفتگو کر رہا ہے،حضورِ اقدس صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ عرض کی: موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، فرمایا: کیا اپنے رب پر تیز ہو کر گفتگو کرتے ہیں؟ عرض کی: اُن کا رب جانتا ہے کہ اُن کے مزاج میں تیزی ہے۔ جب آیۂ کریمہ(وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾)(2) نازل ہوئی کہ ’’بیشک عنقریب تمھیں تمھارا رب اتنا عطا فرمائے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔‘‘تو    حضور سیّدُالمحبوبین صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اِذاً لاَّ اَرْضٰی وَوَاحِدٌ مِّنْ اُمَّتِیْ فِی النَّارِ‘‘(3)
’’ایسا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا، اگر میرا ایک اُمتی بھی آگ میں ہو۔‘‘
یہ تو شانیں بہت رفیع (بلند)ہیں، جن پر رفعت عزّت وجاہت ختم ہے۔ صَلَوَاتُ اﷲِ تَعَالیٰ وَ سَلاَمُہٗ عَلَیْہِم مسلمان ماں باپ کا کچّا بچّہ جو حمل سے گر جاتا ہے اُس کے لیے حدیث میں فرمایا: کہ ’’روزِ قیامت اﷲ عَزَّ  وَجَلَّ سے اپنے ماں باپ کی بخشش کے لیے ایسا جھگڑے گا جیسا قرض خواہ کسی قرض دار سے، یہاں تک کہ فرمایا جائے گا:
’’اَيُّها السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّہٗ ‘‘(1)
’’اے کچے بچے! اپنے رب سے جھگڑنے والے! اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑ لے اور جنت میں چلا جا۔‘‘
    خیر یہ تو جملہ مُعْتَرِضَہ تھا، مگر ایمان والوں کے لیے بہت نافع اور شیاطینُ الاِنْس کی خباثت کا دافع تھا، کہنا یہ ہے کہ قومِ لوط پر عذاب قضائے مُبرَمِ حقیقی تھا، خلیلُ اﷲ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس میں جھگڑے تو اُنہیں ارشاد ہوا:
’’اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑو ... بیشک اُن پر وہ عذاب آنے والاہے جو پھرنے کا نہیں۔‘‘
    اور وہ جو(دوسری قسم یعنی) ظاہر قضائے مُعلّق ہے، اس تک اکثر اولیا کی رسائی ہوتی ہے، اُن کی دُعا سے، اُن کی ہمّت سے ٹل جاتی ہے اور وہ جو (تیسری قسم یعنی مُعلّق شبیہ بہ مُبْرَم) متوسّط حالت میں ہے، جسے صُحُفِ ملائکہ کے اعتبا ر سے مُبرَم بھی کہہ سکتے ہیں، اُس تک خواص اکابر کی رسائی ہوتی ہے۔ حضور سیّدُنا غوثِ اعظم رَضِیَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْہُ اسی کو فرماتے ہیں: ’’میں  قضائے مُبرَم کو رد کر دیتا ہوں‘‘ (1)اور اسی کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا:’’اِنَّ الدُّعَاءَ يَرُدُّ القَضَاءَ بَعْدَ مَا اُبْرِمَ‘‘(2) ’’بیشک دُعا قضائے مُبرَم کو ٹال دیتی ہے۔‘‘(3)
سوال:کیا تقدیر کے موافق کام کرنے پر آدمی مجبور ہوتا ہے اس بارے میں عقیدہ کیا رکھنا چاہئے؟
جواب:نہیں۔ بندہ کو اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ نے نیکی ،بدی کے کرنے پر اختیار دیا ہے۔ وہ اپنے اختیار سے جو کچھ کرتا ہے وہ سب اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے یہاں لکھا ہوا ہےجیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ   قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے، ان میں زیادہ غور و فکر کرنا سببِ ہلاکت ہے، صدیقِ اکبر وفاروقِ اعظمرَضِیَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْھُمَاکواس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ تو ہم اور آپ کس گنتی میں ہیں ...! اتنا سمجھ لیا جائے کہ اﷲ تعالیٰ نے آدمی کو  پتھر  اور دیگر جمادات کی طرح بے حس و حرکت نہیں پیدا کیا، بلکہ اس کو ایک نوعِ اختیار (یعنی ایک طرح کا  محدوداختیار ) دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے، چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ بھلے، بُرے، نفع، نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیّا کر دیے ہیں، کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اُسی قسم کے سامان مہیّا ہو جاتے ہیں اور اسی بنا پر اُس پر مؤاخذہ ہوتا ہے۔اس سچے عقیدہ کو یاد رکھا جائے اور دل میں بسا لیا جائے اسی پر قائم رہا جائے غیر ضروری غور و خوض سے باز رہا جائے تو وسوسوں سے چھٹکارا مل جاتا ہے،یہ  عقیدہ بھی یاد رہے کہ اپنے آپ کو بالکل مجبور سمجھنا یا بالکل  مختار سمجھنا دونوں گمراہی کی بات ہیں۔(1)
سوال:بعض لوگ بُرا کام کرکے کہتے ہیں کہ تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:بُراکام کرکے تقدیر کی طرف نسبت کرنااور مشیّتِ الٰہی کے حوالے کرنا بہت بُری بات ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے اسے مِنْ جَانِبِ اللّٰہِ (اللّٰہ کی طرف سے) کہے اور جو بُرائی سَرزَدْ ہواسے شامت ِ نفس (اپنا قصور) تصوّر کرے۔(2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۔۔۔ بہار شریعت،حصہ۱،۱/۱۱
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… پ١٢،ھود:٧٤
2… پ٣٠،الضحٰى:٥
3 … تفسیر کبیر، پ۳۰، الضحی: تحت الآیة: ۵، ۱۱/۱۹۴
… ابن ماجہ،کتاب الجنائز، باب ما جاء فیمن أصیب بسقط، ۲/۲۷۳، حدیث: ۱۶۰۸
… مکتوبات امام ربانی، مکتوب نمبر۲۱۷،۱/۱۲۳۔۱۲۴
2 …الفردوس بمأثور الخطاب،۵/۳۶۴،حدیث:۸۴۴۸، بتغیرٍ 
3… بہار شریعت ،حصہ۱،۱/۱۲۔ ۱۶، بتغیرٍ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … بہار شریعت ،حصہ۱،۱/۱۸ ، بتغیرٍ
2 … بہار شریعت ،حصہ۱،۱/۱۹

ملائکہ کا بیان

ملائکہ کا بیان

سوال:فرشتے کسے کہتے ہیں؟
جواب:فرشتے اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے ایمانداراورعزت والے بندے ہیں جواس کی نافرمانی کبھی نہیں کرتے ہیں، ہر قسم کے گناہ سے معصوم ہیں۔ ان کے جسم نورانی ہیں ، وہ نہ کچھ کھاتے ہیں ،نہ پیتے ہیں، ہر وقت اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں یہ قدرت یعنی طاقت دی ہے کہ وہ جو شکل چاہیں اختیار کریں۔ 
سوال:فرشتوں کے ذمّہ کیا کیاکام ہیں؟
جواب:وہ جُدا گانہ کاموں پر مقررہیں۔ بعض جنّت پر، بعض دوزخ پر، بعض آدمیوں کے عمل لکھنے پر، بعض روزی پہنچانے پر، بعض پانی برسانے پر، بعض ماں کے پیٹ میں بچہ کی صورت بنانے پر، بعض آدمیوں کی حفاظت پر ،بعض روح قبض کرنے پر، بعض قبر میں سوال کرنے پر، بعض عذاب پر، بعض رسول  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دربار میں مسلمانوں کے درود و سلام پہنچانے پر، بعض انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے پاس وحی لانے پر ۔
سوال:ملائکہ کے پاس کس قدر طاقت ہوتی ہے؟
جواب:ملائکہ کو اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے بڑی قوت عطا فرمائی ہے، وہ ایسے کام کر سکتے ہیں جسے لاکھوں آدمی مل کر بھی نہیں کر سکتے۔
سوال:مشہور فرشتے کون کون سے ہیں؟
جواب: تمام فرشتوں میں سے یہ چارفرشتے بہت مشہور اور بڑی عظمت رکھتے ہیں: حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اِسرافیل، حضرت عِزرائیل عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام۔
سوال:کیا فرشتے دیکھنے میں آتے ہیں؟
جواب:ہمیں تو نظر نہیں آتے مگر جنہیں اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ چاہتا ہے وہ فرشتوں کو دیکھتے ہیں۔ انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام انہیں ملاحظہ فرماتے ہیں ،ان سے کلام ہوتا ہے۔ قبروں میں مُردے بھی فرشتوں کو دیکھتے ہیں اور بھی جسے اللّٰہ  عَزَّ    وَجَلَّ چاہے، دیکھ سکتا ہے۔
سوال:ہر آدمی کے ساتھ ایک ہی فرشتہ عُمر بھر اس کے عمل لکھا کرتا ہے یا کئی فرشتے لکھتے ہیں؟
جواب:نیکی اور بدی کے لکھنے والے علیحدہ علیحدہ ہیں اور رات کے علیحدہ اور دن کے علیحدہ ہیں۔
سوال:نامۂ اعمال لکھنے والے ان فرشتوں کوکیا کہتے ہیں؟
جواب:کراماً  کاتبین۔
سوال:کُل کتنے فرشتے ہیں؟
جواب:بہت ہیں ہمیں ان کی تعداد معلوم نہیں۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
قرآن شریف کا بیان

قرآن شریف کا بیان

سوال:دنیا میں کوئی آسمانی کتاب بھی ہے؟
جواب:جی ہاں۔
سوال:آسمانی کتاب سے کیا مطلب ہے؟
جواب:خداکی کتاب۔
سوال:کون سی؟
جواب:قرآن شریف۔
سوال:اس میں کیا بیان ہے؟
جواب:اس میں سارے علم ہیں۔
سوال:وہ کتاب کس لئے آئی ہے؟
جواب:بندوں کی رہنمائی کیلئے تاکہ بندے اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو جانیں اور ان کی مرضی کے کام کریں۔
سوال:قرآن شریف کس پر اترا؟
جواب:حضرت محمد مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم پر۔
سوال:کب اُترا؟
جواب:آپ کی ظاہری حیاتِ طیبہ کے زمانے میں اب سےتقریباً چودہ سو برس پہلے۔
سوال:کیا قرآن شریف کے سوا اللّٰہ تعالیٰ نے کوئی اور کتاب بھی اُتاری تھی؟
جواب:جی ہاں۔
سوال:کون کون سی؟
جواب :سب کتابوں کے نام تو معلوم نہیں،البتہ مشہور کتابیں یہ  ہیں۔ توریت شریف  ، انجیل شریف، زَبور شریف۔
سوال:یہ کتابیں کن کن انبیاء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام پر نازل ہوئیں؟
جواب: توریت حضرت موسیٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام پر ، زَبور حضرت داؤد عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام پر، انجیل حضرت عیسٰی عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام پر نازل ہوئی۔
سوال:کیا صحیح توریت ، صحیح انجیل اور صحیح زَبور آج کل کہیں ملتی ہے؟
جواب:جی نہیں۔
سوال:کیوں؟
جواب:عیسائیوں اور یہودیوں نے ان کتابوں میں اپنی مرضی سے گھٹا بڑھا کر کچھ کا کچھ کر دیا، بہت سا مضمون بدل دیا ہے یہ اپنی اصل شکل میں باقی نہیں ہیں۔
سوال:کیا صحیح قرآن شریف ملتا ہے؟
جواب:جی ہاں قرآن شریف ہر جگہ صحیح ملتا ہے۔
سوال:کیا وہ نہیں بدلا؟
جواب: وہ نہیں بدل سکتا ۔ اس میں ایک حرف کا بھی فرق نہیں ہو سکتا۔
سوال: کیوں؟
جواب:اس لئے کہ اس کا نگہبان اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ ہے اور قرآنِ پاک میں اس کی حفاظت کا ذِمَّہ اللّٰہ تعالیٰ نےخود اپنے ذمۂ کرم پر لیا ہے۔
سوال:قرآن شریف کہاں ملتا ہے؟
جواب:ہر شہر اور ہر گاؤں میں ، ہر مسلمان کے گھر میں ہوتا ہے اور مسلمانوں کے بچوں کو بھی یاد ہوتا ہے۔
سوال:تم نے کیسے جانا کہ وہ خد اکی کتاب ہے؟
جواب:جیسے خدا کی بنائی ہوئی چیزوں کی طرح کوئی چیز کسی سے نہیں بن سکتی ایسے ہی قرآن شریف کی طرح کوئی کتاب کسی سے نہیں بن سکی اس سے ہم نے جانا کہ وہ خدا کی کتاب ہے۔ آدمی کی ہوتی تو کوئی اور بھی ویسی ہی بنا سکتا۔
سوال:کیا ہندوؤں کے پاس کوئی خد اکی کتاب ہے؟
جواب:نہیں ۔
سوال:وید کیا ہے؟
جواب:پرانے زمانے کے شاعروں کی نظمیں۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
معجزات کابیان

معجزات کابیان

سوال:معجزہ کسے کہتے ہیں؟
جواب: وہ عجیب و غریب کام جو عام طورپریعنی عادۃً ناممکن ہوں اورایسی باتیں اگر نبوّت کا دعویٰ کرنے والے سے اس کی تائید میں ظاہر ہوں تو ان کو ’’معجزہ‘‘ کہتے ہیں(1)  جیسے حضرت موسیٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے عصا کا اژدھابن جانا، حضرت سلیمان عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کا میلوں دورسے چیونٹی کی آواز سن لینا،حضرت داؤد عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے ہاتھ میں لوہے کا موم کی طرح نرم ہوجانا،حضرت عیسیٰ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کامُردوں کو زندہ کرنا ،ہمارے پیارے آقا صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکا ڈوبے ہوئے سورج کو واپس لوٹانا،چاند کے دو ٹکڑے کرناوغیرہ۔
سوال: انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ   الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کو معجزات کیوں عطا کئے جاتے ہیں ؟
جواب: معجزات انبیاء عَـلَـيْهِمُ   الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کی نبوّت کی دلیل ہیں۔ معجزات دیکھ کر آدمی کا دل نبی کی سچائی کا یقین کر لیتا ہے جس کے ہاتھ سے قُدرت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں  جن کے آگے سب لوگ عاجز و حیران ہیں ضرور وہ خُدا کا بھیجا ہوا ہے چاہے ضِدّی دُشمن نہ مانے مگر دل یقین کر ہی لیتا ہے اورعقل والے ایمان لے آتے ہیں۔
سوال: کیاکوئی نبوّت کاجھوٹا دعویٰ کر کے معجزہ نہیں دکھا سکتا؟
جواب:نبوّت کاجھوٹادعویٰ کر نے والا معجزہ ہرگز نہیں دکھا سکتا اور قُدرت اس کی تائید نہیں فرماتی۔
سوال:ہمارے حضور سیّدُ الانبیاء صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے کتنے معجزات ہیں؟
جواب:ہمارے حضور سیّدُ الانبیاء صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کے معجزات بہت زیادہ ہیں ان میں سے معراج شریف بہت مشہور معجزہ ہے۔
سوال:معراج کے معجزے کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمرات کے تھوڑے سے حصّہ میں مکّۂ معظّمہ سے بیتُ المقدس تشریف لے گئے، وہاں انبیا ء عَـلَـيْهِمُ   الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کی امامت فرمائی۔بیتُ المقدس سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ۔ اللّٰہ تعالیٰ کے قُرب کا وہ مرتبہ پایا کہ کبھی کسی انسان یا فرشتے ، نبی یا رسول نے نہ پایا تھا ۔ خداوندِ عالَم کا جمالِ پاک اپنی مبارک آنکھوں سے دیکھا، کلامِ الٰہی سنا ، آسمان وزمین کے تمام مُلک ملاحظہ فرمائے یعنی دیکھے، جنّتوں کی سیر کی، دوزخ کا معائنہ فرمایا یعنی اپنی آنکھوں سے دیکھا، مکّۂ معظّمہ سے بیتُ المقدس تک راستے میں جو قافلے ملے تھے صبح کو ان کے حالات بیان فرمائے۔(1)
سوال:کیامعراج کا سفرنیندکی حالت میں ہواتھا؟
جواب:جی نہیں ،بلکہ عین بیداری کی حالت میں ہواتھا۔ 
سوال:یہ معراج جسمِ اطہر کے ساتھ تھی یا فقط روح کی تھی؟ 
جواب:یہ معراج جسمِ اطہر اور روح دونو ں کے ساتھ ہوئی تھی۔
سوال:کیا نبی کے علاوہ بھی کسی سے معجزہ ظاہر ہوسکتا ہے؟
جواب:جی نہیں،معجزہ صرف نبی کے ساتھ خاص ہے ۔
سوال:معجزہ اور کرامت میں کیا فرق ہے؟
جواب:وہ عجیب و غریب کام جوعادۃً ناممکن ہو جسے نبی اپنی نبوّت کے ثبوت میں پیش کرے اور اس سے منکرین عاجز ہوجائیں وہ معجزہ ہے اورولی سے ظاہر ہوتو کرامت ہے۔(1)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ۔۔۔کتاب العقائد،ص۱۹
۔۔۔سرکار صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی سیرت اور معجزات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کتاب ’’سیرتِ مصطفےٰ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
۔۔۔قانونِ شریعت،ص۲۵


عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular