Showing posts with label تحقیقی مضامین. Show all posts
Showing posts with label تحقیقی مضامین. Show all posts
اسلامی اقدار کا شاعر        عزیزبلگامی

اسلامی اقدار کا شاعر عزیزبلگامی


اسلامی اقدار کا شاعر 
     عزیزبلگامی

غلام ربانی فدا
جن کو تم شعر و سخن کی کہکشاں کہتے رہے
اصل میں قرطاس پر تھے، خامہ فرسائی کے داغ
مذکورہ بالا شعرعزیز بلگامی کاہے مگرعزیز بلگامی کے خیال سے میں متفق نہیںہوں، کیونکہ داغ تو ان کے لیے ہوسکتے ہیں مگر ان کا لکھاہواہرہرلفظ مجھ کوروشن اجالوںسے عبارت نظرآتاہے۔عزیزبلگامی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔مشاعرے،اخبارات ورسائل سے لے کر انٹرنیٹ تک ان کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔عزیزبلگامی کے یہاں اسلامی اقدار کی پاسداری مقصداولیں ہے۔گو کہ عزیزبلگامی نے خال خال عاشقانہ شاعری بھی کی ہے۔ اس کی خصوصیت اول تو یہ ہے کہ شاعر کااحساس جمال نہایت تیزاورشدیدہے۔ انگریزی رومانی شاعرکیٹس(KEATS) نے اپنے ایک خط میں لکھاہے کہ’’ایک ادنیٰ مخفی اورہلکاسا بھی احساس جمال میرے جسم کی رگ رگ میں ہیجان پیداکردیتاہے‘‘۔عزیزبلگامی کا معاملہ بھی کچھ ایساہی ہے مگر اس ہیجان میں سنبھلی ہوئی کیفیت نظر آتی ہے اوراس کے اظہارمیں رکھ رکھاؤ موجود ہے۔قدوگیسوکی قیامت خیزیوں، لب ورخسارکی حلاوت اور چشم وابرو کی فتنہ انگیزیوںکا ذکر اوّل توہے نہیں اور اگر ہے بھی تو اِس میں عامیانہ پن نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ ان کے عشقیہ  اشعارمیں مریضانہ کیفیت بھی نہیں ہے۔ ہمارے اکثرشعرا غزلوںمیں اس امر کااعادہ کرتے رہتے ہیں کہ عاشق مجبور محض، ناکام اور غم آلام میں محصورہوتا ہے۔ محبوب کو ستم پیشہ،کج رو،بددماغ اورتغافل شعارکہا جاتا ہے۔لیکن عزیز کے کلام میں عاشق کی دوری ومہجوری اس کی حیات کا تقاضہ ہے، محبوب کی ستم نوازشوں کا نتیجہ نہیں۔ اس عالم جدائی میں عزیزؔمحبوب کی تغافل شعارطبیعت کارونانہیں روتے ،بلکہ جذب وکیف، سروروانبساط میںڈوب 
جاتے ہیں۔اس طرح قاری کی طبیعت پربجائے افسردگی کے شگفتگی طاری ہوجاتی ہے۔تیسرے یہ کہ ان شعروں میںعاشق کارول ایک غیرت مند اورخوددارانسان کاکردارہے۔ وہ درمحبوب پرناصیہ فرسائی نہیں کرتا اور محبوب ستم شعار ہوتے ہوئے بھی باوقارہے، بے وفا اور ہرجائی نہیں۔ اِن کی تمام تر عشقیہ شاعری میں ضمناًبھی کہیں کسی ’’رقیب‘‘ کاذکر نہیں ملتا اور ہوبھی نہیں سکتا ،ظاہر ہے یہ ایک اسلامی اقدار کے پاسدار شاعرکی عشقیہ شاعری ہے۔ اس سلسلہ میںآخری نکتہ یہ ہے کہ اِن کے اس نوع کے شعروں پر مشتمل غزلوں کامحبوب ایک تصوراتی یامثالی محبوب ہے جس کے حسن وجمال کوآب ورنگ، عشق نے بخشاہے،اس کی تائید عزیز کے اس شعرسے ہوتی ہے:
مرے اشعار میں کچھ زخم مہکتے ہیں عزیزؔ
یہ سبب ہے کہ مرے فن پہ بہار آئی ہے
معدودے چندعشقیہ اشعارکے اِس تذکرے کے بعد عزیزکی اُن غزلیات کی طرف توجہ کرتے ہیں جواصلاً اُن کی فکر و نظر کا محور رہی ہیں، جن کوخالص سماجی وسیاسی صورت حال سے سروکار ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عزیز جیسے طبعاًحساس شاعراپنے اردگردکے ماحول سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہتے۔عزیزؔکے ان اشعار میںجن کاتعلق اخلاقی وسماجی اقدار کی پامالی سے یاسیاسی زبوںحالی سے ہے،لہجے کی تندی،احتجاج،چیخ وپکار،گھن گرج،یانعرہ بازی یا سوقیانہ بلندآہنگی نہیںہے،بلکہ ان میں جرأتِ اظہار کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ سلگنے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان اشعارمیںاپنے موقف یاردعمل کااظہا رشاعرنے سلیقہ مندی سے کیاہے، جس طرح ایک نہایت ہلکاسارنگ کسی تصویرمیںچمک پیداکردیتا ہے، اسی طرح چند علامات کے استعمال سے شاعرنے معنی آفرینی کاکام کیاہے اورچند اشارے صورت حال کی افراتفری،زمانے کے پیچ وخم اوروقت کے نشیب وفرازکی تصویرواضح طورپرنمایاںکردیتے ہیں۔ یہ علامات ہیں: باغباں،گلشن،آشیاں،صیاد،گل تر،شمع ،محفل ،قفس وغیرہ۔مادروطن کی ترقی اور اس کی مادی،تہذیبی اورمعاشی خوشحالی کے فروغ میںہندوستان کی مختلف قوموںاورنسلوں کی جو قربانیاں شامل ہیں ان میںمسلمانوںکی قربانیوں کو جس طرح یکسرنظراندازکیاجاتارہاہے،اس حقیقت کے اظہار میں شاعر کالہجہ کرب انگیز بن جاتا ہے اور اُن کاتیورطنزیہ چاشنی سے بھرپورنظر آتا ہے:
کیوں کر مزاج صبح کو سب کے بدل گیے
اطوار محسنوں کے تو کل رات ٹھیک تھے
معاشرے میں موجودنفاق وافتراق کے درمیان فرد کی بے بسی،انحطاط پذیر سوسائیٹی کی ابتری وبدحالی اورآئے دن برپا ہونے والے فرقہ وارنہ فسادات کی ہلاکت خیزی کاعکس اس شعرمیں دیکھئے:
ایک حسینہ ہے ، تشدّد جسے کہتے ہیں عزیزؔ
گرم رکھتی ہے بہت اہلِ وطن کا پہلو
جہاںطاقتور کی برتری وبالادستی کی اساس محض کسی دوسرے کی کمزوری اورخستہ حالی پر استوار ہوتی ہو،اخلاقی اقدار کے زوال کے ایسے ایک نمونے کا 
عکس اس شعرمیںملاحظہ ہو:
’’قوم زندہ ہے‘‘ یہ کہتے نہیں تھکتے تم لوگ
کیوں یہ تصویر بنی پھرتی ہے مجبوری کی!
 اسی زوال پذیر معاشرے کی پیداوار ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ذمہ دارانہ مناصب پر فائز رہتے ہوئے بھی ریاکاری اورمنافقت کا پیکر بن جاتے ہیں:
متولیوں کو کس کی نظر لگ گئی عزیزؔ
اب تک تومسجدوں کے حسابات ٹھیک تھے
اشتراکیت کی یلغار نے دنیاکے سیاسی استحکام اورمعاشی نظام کو تہہ وبالاکر کے رکھ دیا ہے۔آج یہی اشتراکیت پارہ پارہ ہے۔اس کے برعکس المیہ یہ ہے کہ خالص روحانی نظام بھی ملک ،معاشرے اورافرادکی ترقی کاضامن نہیں بن سکا ہے۔ایک اِلٰہی نظام کویکسر نظرانداز کرکے شخصیت کی نشونماہوسکتی ہے نہ معاشرے کی۔انسان کے متنوع مسائل کا واحدحل صرف اسلامی نظام میں ہے جو…مادہ اور روح…دونوں کے امتزاج میںتوازن واعتدال کو ترجیح دیتاہے۔ اور نمونہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے۔ اس خیال کے اظہار کے لئے درج ذیل شعر غیرمعمولی بصیرت اوردروں بینی کا ذریعہ بن گیا ہے:  
اپنے خاموش سمندر میں بھنور پیدا کر
سیپیاں خالی نہ رہ جائیں گُہر پیدا کر
کائنات کے ذرّے ذرّے میں چونکہ عشق سرایت کئے ہوئے ہے چنانچہ انسانی نفوس کی اکملیت کا انحصار اِسی فطری عشق میں مضمر ہے،یہ عشق روحانی کی صورت میں متجلی رہتاہے۔لیکن درمیان میں جب ہوس کی منزل آجاتی ہے ، جو حسن کا ایک تجسیمی تصور ہے تو یہی مقام ہوتا ہے جہاں عاشق کی نظر صرف قدوگیسو اورلب ورخسار تک محدود ہوکررہ جاتی ہے۔ پھر یہی ہوس جل کرعشقِ روحانی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور اس کاپہلا زینہ ہوتا ہے:
تلاش کُو چۂ جاناں کی چھوڑ دی میں نے
دماغ و دِل میں چمکنے لگی ہے حق کی کِرن
ذہن تھا سوچ میں جذبات ہوں پیدا کیسے
دفعتاً آئی صدا ، دِل میں اُتر ، پیدا کر
ابھی چشمِ کرم کی آرزو ہے سیر چشموں کو
ہو ممکن تو ہوس کے داغ دھولو ، کیا تماشہ ہے
 تمام اشعار میں مذہبی عقیدے کی سختی ہے، نہ بوجھل صوفیانہ مصطلحات کی فراوانی۔یہ اشعارایک اسلامی مبلغ کی سادگی ،انسان دوستی اور حقیقت سناشی کے پرتوہیں۔غزلوںمیںبدیع وبیان کاتصنع ہے، نہ ملمع کاری۔نمودونمائش اورالفاظ وتراکیب کے طمطراق سے دوردرورکاواسطہ نہیں۔ایک قلب بے ریا کی طرح یہ اشعار بھی سادہ وسلیس الفاظ مگرلطیف احساسات سے مملوہیں۔تلمیحات کااستعمال کم سے کم ہے۔مفرس معرب الفاظ کے استعمال سے حتی الامکان گریزکیاگیاہے۔ مشکل اورپیچیدہ تراکیب کی ترکیب سازی سے شاعر کی قوت ایجاد اورذہنی اختراع کاپتہ چلتاہے۔مگران کے استعمال کی 
کثرت سے شعر کی لطافت مجروح ہوتی ہے۔اس حقیقت سے عزیز صاحب خوب واقف ہیں۔ ترکیب سازی کلام عزیزؔمیں ایک وسیلہ ہے ترسیل وابلاغ کا،کلام میں گل بوٹے بنانے کا نہیں ۔اسی لئے کلام میں سہل ممتنع کے اشعار بیش ازبیش ہیں اوریہ شاعر کی فنکارانہ ہنرمندیوں پردال ہیں۔اسی طرح تشبیہات واستعارات سے بھی کلام کونہیں سجایاگیاہے۔زیادہ سے زیادہ صنعت تضاد سے کام لیاگیاہے۔تمام اشعارمیں آرائش اظہار کے لئے کوئی شعوری کوشش نظرنہیں آتی۔
ان تمام غزلوںکے مطالعہ کے بعد یہ بات پورے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ شاعری خشک ہے نہ محض قافیہ پیمائی۔اس کی وجہ صاف ہے ۔عزیزپروجد اورسرخوشی کاعالم طاری ہوتارہتا ہے ۔پایان کارکسی اسلامی شاعرکاکلام سپاٹ اور بے رنگ نہیں ہوسکتا۔ان غزلوںمیں جمالیاتی احساس کی شدت کے ساتھ عصری حسیت بھی بدرجہ اتم موجودہے۔یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ غزلیہ شاعری ہے یالطافت احساس، غنائیت اورموسیقیت کاایک سیل رواں۔!!شعری اظہارمیں غیرمعمولی سرمستی اوروالہانہ پن ہے۔بعض غزلوںمیں قافیے کی تکرار اوراس کے پھیلاؤ نے غزل کے حسن کودوبالاکردیاہے۔مجموعی طور پرکلام کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ اپنے احساسات ومشاہدات وتجربات کی ادائیگی میںعزیزؔتغزل کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔بعض اشعار ملاحظہ ہو ں جہاں جذبہ وفکر کی آمیزش کوتغزل کے رنگ وآہنگ نے چمکادیاہے۔یہ اشعار نہایت مترنم بحرمیں ہیں:
زمیں بنجر ہے پھر بھی بیج بولو ، کیا تماشہ ہے
ترازو پر خرد کی دِل کو تولو ، کیا تماشہ ہے 
ابھی تک گیسوئوں کے پیچ و خم کی بات ہوتی ہے
بھگولو ، اب تو پلکوں کو بھگولو ، کیاتماشہ ہے
ہم نے ہر شرط دُعائوں کی کہاں پوری کی!
پھر بھی اُمید دُعائوں کی ہے منظوری کی
معاملے میں تُو کردار کے نکھر تو سہی
تُو کارزار کے میدان میں اُتر تو سہی




لپٹ کے چومے گی تجھ سے،ترے قدم جنّت
اے نوجوان! کبھی راہِ حق میں مر تو سہی
فکر کی آنکھ سے اوجھل تھا سُخن کا پہلو
بس اِسی واسطے تشنہ رہا فن کا پہلو
نظروں سے ہے اوجھل تو، تعجب ہے تجھے کیوں
اِنصاف کا خوگر ہے تو محشر کو پرکھ مت
میں تو بس، دولتِ اخلاص کا شیدائی ہوں
اس لئے پیشِ نظر ہی نہیں دھن کا پہلو
غزلوں کے مطالعہ سے عزیزؔکی شاعرانہ مہارت وعظمت میں کسی کمی کا احساس پیدانہیں ہوتا۔مگر سچی بات یہ ہے کہ شاعر کے محسوسات،مشاہدات وتجربات کی اصل جولاںگاہ غزل ہے۔ یہ غزلیں چاہے عشقیہ ہوں یاصوفیانہ یا چاہے ان کاسروکارعصری حسیت سے ہو،ان کی سادگی میں گل پیرہنی، حزنیہ لہجے 
میں سر خوشی ،نشاطیہ آہنگ میں رومانی غم انگیزی اورلفظوںکے پیچ وخم میں طنزیہ کاٹ کی آمیزش موجود ہے۔عزیزؔکے صاف وشفاف اور بے داغ کتاب  ’’ دل کے دامن پر ‘‘کی طرح کلام میں بھی ابہام ہے نہ پیچیدگی نہ ژولیدہ خیالی۔
یہ اشعارملاحظہ کیجئے اورانصاف کے ساتھ کہئے کہ عزیز کی شاعری آپ کے ’’دل کے دامن پر‘‘کیا کھلبلی مچائی ہے:
کون کہتا ہے کہ مُردوں کو کفن دیتی ہے
اِن کی تہذیب مجھے ننگے بدن دیتی ہے
آزمائش کے لیے شرط  ہے عالی ظرفی
زندگی سب کو کہاں دارو رسن دیتی ہے
ایسانہیں کہ آپ کے جذبات ٹھیک تھے
سب کچھ تھا ٹھیک ،جب مرے حالات ٹھیک تھے
زمانے سے چھپا رکھا ہے ہم نے سارے زخموں کو
ستم کے داغِ داماں تم بھی دھولو ، کیا تماشہ ہے
کچھ نظر آتا نہیں ، کچھ بھی نظر آتا نہیں
ان کے چہروں پر اُبھر آئے ہیں بینائی کے داغ
اگرکوئی شخص یہ سوچتاہے کہ عزیزبلگامی ہندوستان کے ہزاروں شعرا میں سے ایک اورشاعر کی اضافت ہے تو میرے خیال میں وہ سخت اندھیرے میں ہے۔دراصل عزیزبلگامی ایک تحریک کا نام ہے، جس کامقصدادب میں اسلامی اقداروروایات کی امانتداری وپاسداری ہے۔ جس میںوہ یقینااطمینان بخش حدتک کامیاب ہے۔عزیزبلگامی اپنے شاعرانہ جنون میں حرف کولفظ،لفظ کومعنی،معنی کوکہانی بنانے کاہنر خوب جانتے ہیں۔ان کے ہی شعرمیں کچھ  تصرف کے ساتھ قلم روکتاہوں:
تم نے بخشاہے تغزل کو تقدس کا جمال
ہر غزل تیری، ضمیروں کو چبھن دیتی ہے

٭٭٭

شہرنعت کاایک باشندہ

شہرنعت کاایک باشندہ

شہرنعت کاایک باشندہ
منیراحمدجامیؔ

غلام ربانی فدا



منیراحمدجامی ایک زیرک صحافی کی حیثیت سے مقبول ہیں۔ انھوںنے اپنے عہد کے نامور تخلیق کاروں سے گفتگو کرکے اپنے عہد کے سیاسی، سماجی، مذہبی، شعری اور تہذیبی رویوں کو محفوظ کرنے کی ہر سعی کی اواردو اب کو اپنی تخلیقی وانفرادی فکر سے ’’اختراع اور ارتفاع‘‘ جیسی کتابیں صاحبانِ علم و ادب کی خدمت میں پیش کیں۔ 
جامی کا اسلوب ان کی شخصیت کا غماز ہے۔ سادگی، سلاست اور اخلاص ان کے پُرتاثیر اسلوب کا منظرنامہ مرتب کرتے ہیں۔ طویل و مختصر ہر مزاج کی بحر میں ان کی طبیعت اپنے صناعانہ جوہر دکھاتی ہے۔ وہ لکھنوی شعرا کی طرف صنائع بدائع کی نزاکتوں سے تو کماحقہ آگاہ نہیں ہیں تاہم انھوںنے علم بیان و بدیع کے معروف اراکین سے خوب خوب کام کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نقوی صاحب نے آیات و احادیث سے بھی کماحقہ استفادہ کیا ہے۔ آپ ان کی نعتوں کی درج ذیل تراکیب و مرکبات ملاحظہ فرمایئے اور دیکھیے کہ عمران نقوی نے کس طرح فنی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی نعتوں میں اپنے تخلیقی جوہر نمایاں کیے ہیں خاکِ پا، سرِ مژگاں، دل مضطر، قصدِ سخن، جبلِ نور، شہرِ انوار، اشک ندامت، سُوئے مدینہ، گنبدِ خضرا، گل جاں، قریۂ سنگ، مدحتِ سرورِ عالم، اہلِ بقا، سرِ کوہِ صفا، رنگِ فنا، دیارِ جاں، رہینِ احساں، طاقِ افلاک، سرِ عرش بریں، جوارِ مکہ، حرفِ التجا، حرفِ تسلی، نقشۂ صحرا، ارض پاک، خیالِ خواجۂ بطحا، کشتِ تمنا، رنگ و بو، نگاہِ فیض، جمالِ شہرِنبی، کعبۂ دل، لوحِ زماں و مکاں، نگارخانۂ قصرِ شہاں، بہارِ عشقِ نبی، حلقۂ چارہ گراں، شاخِ خزاں، درِ قبول، آلِ عبا، عمرِ جاوداں، گلِ مراد، طلوعِ حسنِ بصیرت، فراتِ عصر، صبحِ اُمید، نقشِ سادہ، سالارِ کارواں، محبوبِ سبحانی، آیاتِ قرآنی، جمالِ طیبہ، راحتِ سائبان، درِ غارِ حرا، لوح، ادراک، فکر و نظر، ظلمتِ شب، ماہ تابِ مبیں، حسرتِ مدحتِ شہِ بطحا، گوشۂ چشمِ تر، قریۂ نور، کتابِ مبیں، سایۂ سیّدالابرار، عہدِ مواخات، لوحِ تاریخ، سحابِ مبیں، عرصۂ ہجر، شہرِ انوار، صبحِ مدحت، مدحِ شہِ والا، انبوہِ یاس، کشتِ سخن، صدق و صفا، ربّ دوعالم، نخلِ جاں، شاخِ ثنا، ساعتِ مہرباں، شہرِ انوار، نسیمِ طیبہ، کارِ فضول، آہنگ ثنا، رشکِ کہکشاں، صفحۂ دل، شہرِ رحمت، دلِ زار، اُسوۂ کامل، حسرتِ طیبہ، ورق زیست، ساعتِ فجر، اسیرِ نسیمِ طیبہ، عفو و  رحمت، خواہشِ خلد، بریں، کارزارِ حیات، ریاضِ جنہ، فردوسِ سخن، موجِ کرم، صورتِ التماس، صفحۂ جاں، خلدِ نظر، داغِ عصیاں، مشعلِ عشقِ نبی، لطفِ حضوری، ہجومِ صحنِ حرم۔
جناب جامی صاحب کے حوالے سے ڈاکٹر غلام ربانی فدا رقمطراز ہیں:
جناب منیراحمدجامی کرناٹک کی ان ادبی شخصیات میں سے ہیں جنہیں کرناٹک ادبی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ منیراحمد تخلص جامیؔ رکھتے ہیں۔جامی ؔ کی پیدائش۵۔مئی ۱۹۵۴ کو جناب ایم عبدالرحمٰن  کے پیداہوئے۔ والدمرحوم ایم عبدالرحمٰن نے جامی کی پیدائش دینی ومذہبی ماحول میں کی۔ یہی وجہ ہے کہ جامیؔ میں تصوف کا گہرا رنگ پایاجاتا ہے ۔ جامی کی زندگی نشیب وفراز سے ہمیشہ گزرتی رہی ۔ جامیؔ نے زندگی کوبہت قریب سے دیکھاہے اور زندگی کے کئی رنگ دیکھے ہیں ۔جن میں خوشیوں کے ساتھ ساتھ غموں کوبھی بہت قریب سے دیکھاہے مگر صوفیانہ صفت نے جامیؔ کو کبھی بھی ان غموں سے اداس اور مایوس نہیں کیا۔ دوستوں کی چالاکیاں اورحاسدین کے حسد نے انہیں مزیدترقیاں عطاکی ہیں۔اگر ایک جملے میں جامیؔ کوکہا جائے تو یہ وہ ہوگا ’’ فارسی کے جامیؔ کے ثانی ہمارے منیراحمدجامیؔ ہیں۔ شہرت و خودنمائی سے دور سادگی مزاج وسادگی پسند ۔ یہی کیفیت وخصوصیت انہیں معاصرین میں ممتازکرتی ہے، خیرجامیؔ سے میراربط گہرا ہے۔ منیراحمدجامیؔ کی تمام خدمات کواحاطہ کرنے کے لئے مختصرسطریںکافی نہیں ہیں۔ انشاء اللہ کبھی جامیؔ مکمل ’’فن اورشخصیت‘‘ کے ساتھ آپ سے تعارف کرواتاہوں۔ منیراحمدجامیؔ نے پی یو سی کی تکمیل کے بعد آل انڈیا ریڈیو بنگلور میں تقریباً 1973؁ء میں بحیثیت ناظم خدمات کاآغاز کیا۔ہنوز برقرار ہے۔ 1978میںحکومت سے ملنے کے بعد آپ نے ہورائیزن پرنٹنگ پریس کا آغاز کیا۔ ان کا پریس گورنمنٹ سے اپرول  بھی کروایا۔ اردو کا یہ مجذوب منیراحمدجامیؔ بے شمار کتابوں کی چھپائی کی اور ان کے حوالے سے یہ مشہوررہاکہ ’’اگراردواکاڈمی سے انعام پاناہوتوجامیؔ کے پریس سے کتاب چھپاؤ‘‘ اس بات سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ جامی ؔ کس دیانتداری اورایمانداری سے یہ کام کرتے تھے۔ اکثرلوگوں کی کتابیں شائع کرنےکے بعد اپناحقِ محنت بھی لینا نہیں چاہا۔اس طرح خسارہ کے ساتھ اس پریس کوبندکرناپڑا۔ 1983؁ء میں جب دوردرشن بنگلورکا قیام عمل میں آیا تو جامیؔ دوردرشن کے چندن چینل میں بحیثیت انٹرویور کے خدمات کاآغاز کیے اور سنکیڑوں لوگوں کے انٹرویو لیے اور لاتعداد ڈرامہ لکھے اور دوردرشن سے نشربھی ہوئے۔ اور آج تک کتنوں پوشیدہ شاعروں کو ٹی وی اسکرین پر پیش کرچکے ہیں اورکریں گے انشاء اللہ۔
تصنیفات:٭ سوانح حضرت سید فخرالدین،٭ سوانح حضرت خواجہ بندہ نواز٭  سوانح ٹیپوسلطان،٭ سوانح حضرت توکل مستان٭  اردوکے اصناف سخن٭ اجالوں کاسفیر٭  الجامعہ ( تاریخ جمعہ مسجدبنگلور)٭ قصیدہ بردہ شریف کامنظوم ترجمہ٭  اختراع٭ حرف ناتمام ٭  نقش لاثانی٭ باران رحمت(کتابچہ سیریز پانچ حصے)٭  ارتفاع٭ اختراع٭ اجتماع٭ تذکرۃ الصالحین  ۔حال ہی میں وجہ کل نامی ایک نعتیہ سی ڈی ان کی ہی آواز میں جاری کی گئی ہے۔
روزنامہ سیاست بنگلور کے ادبی ایڈیشن کے مدیر اور ماہنامہ طرزتحریر بنگلورکے مدیراعلیٰ ہیں،
ایوارڈ واعزازات:
جشن جامیؔ (۲۰۱۴)
گورنرایوارڈ (۲۰۱۳)
’’اختراع ‘‘اردومنچ کی جانب سے ایوارڈ اور۲۵۰۰۰نقد
کرناٹک اردواکادمی کی جانب سے تین مجموعہائے کو اولین انعام
(یہ فہرست بہت طویل ہے۔ اورتفصیل طلب ہے)
آڈیوکیسٹس :
مشہورزمانہ کنڑا فلم انڈسٹری کی کیسٹ کمپنی لہری کی جانب سے نشرکی گئی جامیؔ کی کیسٹس
۱)فضائل رمضان
۲)پہلاوہ گھرخداکا
۳)ایمان کامل (اول)
۴)ایمان کامل(دوم)
۵)حسن عقیدت
۶)حسین ابن علی
اس کے علاوہ بھی ہیں، 
اس مختصرتعارف کے بعد جامیؔ کی نعتیہ شاعری پرنظرڈالتے ہیں:
جامی کی نعت گوئی میں خود سپردگی اور جاں فگاری ہے جس کی بدولت ان کا رنگِ نعت حسنِ تغزل کے ستارے بکھیرتا نظر آتا ہے۔ یہ الفاظ کے سنگ ریزوں کو مہر و ماہ کی چمک عطا کرتے ہوئے اپنے محبوب کے حسنِ ظاہر و باطن کی جلوہ گری سے نعت کو غزلیت عطا کرتے ہیں۔ خوب صورت غزل کو بہترین نعتوں کے گل و لالہ کو شعورِ حیات بخشتا ہے۔ ان الفاظ کا رچائو، مصرعوں کی صد رنگی اور احساسات کے حسنِ عقیدت اور عشق کی جلوہ گری حسنِ تغزل کو جنم دیتی ہے۔جامی کے نغز و آہنگ کی آمیزش ان کی نعت گوئی کو دوامی چمک عطا کرتی ہے۔
کرناٹک میں نعتیہ شاعری میں ڈاکٹرغلام ربانی فدا لکھتےہیں:
نعت گوئی ایک نازک صنف سخن ہے۔ یہ فن شاعری کی پل صراط ہے۔ خدا اور بندے کا فرق اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ یہاں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اردو کے بعض شعرا اس پل صراط سے سلامتی کے ساتھ نہیں گذرسکے لیکن جناب اظہار اشرف صاحب نے ایسے موقع پر بہت ہی احتیاط سے کام لیتے ہوئے اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کرتے ہوئے اس فن کا بہت ہی مہارت سے استعمال کیاہے۔آپ الوہیت اور عبدیت کے فرق کو بخوبی سمجھتے اورجانتے ہیں اور رسالت مآب کی  عظمت و جلات کا بھرپور شعور بھی رکھتے ہیں۔اس لئے آپ کی نعتوں میں کہیں کوئی بے راہ روی نہیں پائی جاتی۔ آپ نے نعت گوئی کو ایک منفرد لب ولہجہ دیا ہے۔ وہ اشعار بھی جس میں براہِ راست نعتیہ مضامین نہیںآئے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذات و صفات کی تجلی سے منور نظرآتے ہیں۔سادہ بیانی اور لب ولہجہ کی انفرادیت اس پر مستضاد ہیں
جامیؔ نعت گوئی میں کوئی بناوٹ و تصنع نہیں ہے ۔ لب و لہجہ بالکل صاف ستہرا، آسان اور عام فہم ہے۔الفاظ و جملوں کی ترکیب سے خلوص و محبت ٹپکتی ہے نمونہ دیکھئے:
جمالِ دیدۂ بینا کا انتخاب ہیں آپ
خدا حجاب ہے آئینۂ حجاب ہیں آپ
مہ و نجوم کہاں اپنے آپ روشن ہیں
جو انبیا کاہے مرکز  وہ آفتاب ہیں آپ
جامی کے کلام میں صد رنگی ہے۔ آپ کے بقول نبی اکرمﷺ کا خلقِ بے کراں، آپ کی رحمت جاوداں ہے آپ کے نطق پہ ’’وما ینطق عن الھویo ان ھو حی‘‘ کی جلوہ کاری، آپ کے عفوِ عام پہ حسنِ دوام کی غم گستری، پتھر کھا کر بھی رحمت کی دعا دینا، دشمنانِ دین کو جادۂ حق پر گامزن کرکے خلدِ نعیم کا مژدہ سنا دینا، وہ جن کے آنے سے زمانے کو جگمگاہٹ ملی، جن کے لطف و کرم سے اسلام کو سطوت ملی، جنھوںنے غریبوں کو شاد کامی بخشی۔ رنج و آلام کے ماروں کو پُرکیف زندگی کی نکہت بخشی۔ جنھوںنے عرب کے بدوئوں کو قیصر و کسریٰ کے مقدر کا مالک بنایا۔ جنھوںنے پژمردہ حیاتِ ارضی کو سکوں بخش زندگی کا قرینہ سکھایا۔ کرم ہی کرم، عطا ہی عطا، بخشش ہی بخشش، غرض ذاتِ تنہا اور کونین کی وسعتیں سینہ پُرنور میں لیے ہوئے:
نیا سراغ نئی جہت زندگی کو ملی
شعورِ ذات میں درپردہ انقلاب ہیں آپ
نگاہ شوق کہ رہتی ہے آپ پر مرکوز
زوال چھو نہ سکا جس کو وہ شباب ہیں آپ
نہ رکھی آپ نے کوئی بات بھی پوشیدہ
کہ پڑھ کے دیکھ لو جامیؔ کھلی کتاب ہیں آپ
جب ہم جامیؔ صاحب کا نعتیہ کلام دیکھتے ہیں تویہ احساس ہوتا ہے کہ آپ کو رسالت مآب  ﷺ سے قلبی لگاؤ ہے، آپ کو شہر مدینہ سے اس طرح محبت و عقیدت ہے کہ اس کا اثر آپ کے اشعار میں بجا طور پر نمایاں ہے ایک نعت کے کچھ اشعار دیکھیں:
صحرا میں سنکتی ہیں گلستاں کی ہوائیں
ہے ابر کرم سایۂ دامانِ محمد
خوشبوؤں کی روشنی سے روح کا پیکر دھلے
پرتو انوارِ جنت کوچۂ  سرکار ہے
ُجامی کی  شاعری میں تنوع ہے۔ندرت ہے بانکپن ہے۔ عشق کے گل بوٹے ہیں فکر کی توانائی ہیں۔جامیؔ کاخیال  اورعقیدہ ہے نظر ودل کی پاکیزگی کے لئے جمالِ مصطفٰی ﷺ کی ضرورت ہے۔ اور کہتے ہیں کہ میری نظر پاکیزہ ہو گئی ہے کیوں کہ تصور میں جمالِ مصطفیﷺ ہے۔ جو بازارِ مصطفیٰ ﷺ میں بک جائے اسے دنیا کی ضرورت ہی کیاہے:
نظر ہو جائے گی پاکیزہ جامیؔ
تصور میں جمالِ مصطفیٰ ہے
ایک نعت گو کے لیے سب سے بڑی تمنا محشر کی تمازتوں میں شفاعتِ حضورﷺ ہے۔ اس کیفیت سےجامی بھی سرشار ہیں کہ قبر کی تاریکیوں سے لے کر محشر تک اگر کوئی سہارا میسر آسکتا ہے تو وہ شفاعتِ حضورﷺ ہے۔ حضور مہربان ہیں تو خدائے قدوس مہربان ہے۔ حضورﷺ تو تمام اُمت کے لیے مایۂ رحمت و شفاعت ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جس طرف نظر اُٹھ گئی ہر طرف الطاف و کرم کا سحابِ نور چھانے لگے گا۔ خدا نے اپنے محبوب سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ’’آپ کو اتنا دوںگا کہ آپ راضی ہوجائیںگے‘‘ قیامت کے ہنگام میں یہی وعدہ پورا ہوگا اور محبوبِ خدا سے جو کچھ کہا گیا ہے آج اس کے ایفا کی گھڑی ہے۔ حضورﷺ سجدۂ رحمت نوازی میں سر رکھے ہوںگے۔ لبوں سے اُمتِ عاصی کے لیے دعائیں نکل رہی ہوںگی، آنکھوں سے اشکوں کی لڑیاں گر رہی ہوںگی اور یہی شفاعت طلبی بخشش و عطائے بے کراں کی ساعتوں میں ڈھل جائے گی اور حضورﷺ کو اُمتِ عاصی کی  بخشش کا مژدہ یوں سنائی دے گا کہ بے چارگان ہستی خلد کے تصور سے مسکرا مسکرا اُٹھیںگے۔جامی نے حضورﷺ کو عطا ہونے والے اسی اذنِ شفاعت کو سینے میں بسا رکھا ہے۔ آپ خود پر برسنے والے بارانِ رحمت کا یوں تذکرہ کرتے ہیں:
آپ آئے تو ہوا پھر سامانِ زندگی  کا
تپتی ہوئی زمیں سے چشمہ ابل پڑا ہو
صد مرحبا کہ روئے روشن کا یہ تصور
اک چاند جیسے میری آنکھوں سے کھیلتاہو
   نعت گوئی میں نہ صرف زبان دیکھی جاتی ہے اور نہ بیان پر نظر جاتی ہے، نہ فنی نکات تلاش کئے جاتے ہیں ۔ اس کی روح صرف اخلاص اور محبت رسول ہے۔ اگر بات دل سے نکلی ہے تو دلوں پر اپنا اثر چھوڑتی ہے اور بارگاہِ رسالت مآب میں وہ نذرانہ عقیدت اور محبت قبول ہوجائے تو اشعار کو حیات جاویدانی نصیب ہوجاتی ہے۔ جیسے فارسی میں سعدی شیرازیؒ، عبدالرحمان جامیؒ، محمد جان قدسیؒ وغیرہ کی بعض نعتیں اس کی شہادت دے رہی ہیں ۔
آرزوئے احمد میں چین ہی ملا جامیؔ
زندگی کے چہرے کا حسن بھی نکھر آیا
ہرایک لفظ نور کے سانچے میں ڈھل گیا
جامیؔ بیاں جو تم نے کی مدحت رسول کی
ہوائے دامنِ احمد چلی کہ دنیا میں
کتابِ زیست کا اک خوشگوار باب کھلا
نعت گوئی کا منصب جلیلہ جس نے بھی پایا، اس نے بڑی سعادت پائی، لیکن نعت گوئی کے منصب کو جس نے ہوش مندی سے نباہا اُس نے نعت گوئی کے مقصد کی طرف پیش قدمی کی اور میں بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ محمد اکرم رضا نے نعت گوئی کے مقصد کی طرف نہ صرف پیش قدمی کی ہے بلکہ نعت گوئی کے معیارات قائم کرنے کی طرف توجہ مبذول کروا کے بعد کے نعت گو شعرا کے لیے جادۂ رہنمائی بھی بنا دیا ہے




کرناٹک میں نعتیہ شاعری

کرناٹک میں نعتیہ شاعری

کرناٹک میں نعتیہ شاعری

ڈاکٹرغلام ربانی فداؔ




ہانگل
gulamrabbanifida@gmail.com
نعتیہ شاعری کی خوشبو ئیں روزبروزکائنات کومعطرکررہی ہیں ۔نعت کی روشنیاںعاشقان رسول ﷺ کو نویدسحر سے سرفراز کر رہی ہیں اورنعت خوانی فن قرات کی طرح مقبول ہوتی جارہی ہے۔ مرد شاعر ہوں کہ خواتین شاعرات سبھی اس میدان میں اپنے جوہر اورحضور ﷺ سے محبت کا پرخلوص اظہار (کرچکے اور) کررہے ہیں ۔ ریاست کرناٹک میں نعتیہ منظرنامے پر اپنی شناخت بنانے والے شعراء اور شاعرات میں چند نام یہ ہیں ۔ صابرشاہ آبادی، رزاق اثرشاہ آبادی ، ڈاکٹر وحیدانجمؔ، ظہیررانی بنوریؔ، حافظ کرناٹکیؔؔ ، ڈاکٹرصغریٰ عالم، راج پریمیؔ ، کامل کلادگی ، غلام ربانی فداؔ، سلام نجمیؔ،سلیمان خمارؔ، ریاض احمدخمارؔ، منیراحمدجامیؔ، جیلانی شاہدؔ، وغیرہ وغیرہ ۔ 
جب بات موضوعات اور طرزِ اظہار کی ہوگی تو کرناٹک کے نعت گوشعرا اس میدان میں کیفیت اور کمیت ہردواعتبار سے پیچھے ہیں ۔ کرناٹک کے اکثر صاحب مجموعہ نعت گوشعرا میں آداب نعت اور موضوعات کافقدان ہے۔ ہم شعرائے کرناٹک کے یہاںصرف اور صرف ایک موضوع مدینہ سے دوری ومہجوری کثرت سے نظرآتاہے۔ سیرتِ نبویﷺ کے دیگر پہلو پیش کرنے اور اس کے لئے الفاظ کے چناؤ میں ہم پیچھے ہیں۔واضح رہے کہ رسولِ کریم ﷺکی بارگاہ میں عرض کرنے کے لئے ہمیں عمدہ عمدہ سے موضوع والفاظ کاانتخاب کرناچاہئے۔مگر ایک دہے سے بعض شعرا ئے نعت سیرت طیبہ کے مختلف گوشوں کو قلمبند فرما رہے ہیں جن کے نام انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔نعت برائے نعت کہنے والوں کی تعداد ابھی بہت زیادہ ہے۔ نعت عبادت ہے مگر نعت کے تقاضوں اور مطالبوں کی تکمیل بھی ازحدضروری ہے۔
 کرناٹک میں غیرمسلم نعت گوشعرانے بھی اپناادبی حصہ نعتیہ ادب میں شامل کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے اور کامیاب ہوئےجن میں راج پریمی، کامل کلادگی، طلب راج سیٹھ وغیرہ نمایاں ہیں۔
کرناٹک کے نعتیہ منظرنامہ کوسمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل ایک فہرست ناچیزنے تحقیق کے بعد رقم کی ہے،
فہرست مجموعہائے نعت
شمار
نام کتاب
شاعر
سن اشاعت
1
یاایھالنبیﷺ
خان صاحب سلیمؔ
۱۹۵۷؁ء
2
خطاب تاب
کلام قمرؔ
۱۹۶۰
3
حرم کاتحفہ
فیاضؔ بلگوڈی
۱۹۷۱
4
رحمت تمام
صابرؔشاہ آبادی
۱۹۷۳
5
نورروظہور
اکمل ؔآلدوری
۱۹۷۹
6
نقش لاثانی
منیراحمدجامیؔ
۱۹۸۳ء
7
جذباتِ دل
ظہیرالدین بابرؔ
۱۹۸۱
8
گلزارِحرم
اظہارافسرؔ
۱۹۸۵ء
9
ضامن نجات
 صابرؔشاہ آبادی
۱۹۸۴
10
شیون احمدی
سرورؔمرزائی
۱۹۸۶
11
اعتراف
رزاق افسرؔ
۱۹۸۹
12
تہذیب منورہ
صابرؔشاہ آبادی
۱۹۹۰
13
صداقت کے پھول
ظہیرالدین بابرؔ
۱۹۹۰
14
گنجینۂ گوہر
باسط خاں صوفیؔ
۱۹۹۲
15
مصداق
ڈاکٹر راہیؔ فدائی
۱۹۹۳
16
جذبۂ اطہر
سلام نجمیؔ
۱۹۹۸
17
محراب دعا
صغریٰ ؔعالم
۱۹۹۹
18
ورفعنالک ذکرک
سیدخسروحسینی
۲۰۰۰
19
اوج سخن
کوثرؔجعفری
۲۰۰۰
20
صلواعلیہ وسلموا
جوہرؔصدیقی
۲۰۰۰
21
بیاض ثنا
رزااق ؔشاہ آبای
۲۰۰۲
22
ردائے رحمت
ایس ایم عقیلؔ 
۲۰۰۳
23
آبروئے سخن
اسداعجازؔ
۲۰۰۳
24
انواررحمت
نازؔرانی بنوری
۲۰۰۳
25
انوارِ مدینہ
تاجؔ نوردریا
۲۰۰۴
26
شمع ہدیٰ
حافظؔ کرناٹکی
۲۰۰۵
27
نورہدایت
بشیرؔبیجاپوری
۲۰۰۵
28
سرحدیقیں کی
ریاض احمد خمارؔ
۲۰۰۶
29
نغمۂ رحمت
 نازؔرانی بنوری
۲۰۰۶
30
تجلیات حرمین
تاجؔ نوردریا
۲۰۰۷
31
فردوس سخن
سیدشاہ قاسم القادری
۲۰۰۷
32
ازہارمدینہ
سیدمحمدمحی الدین قیسؔ
۲۰۰۸
33
نورِوحدت
حافظ ؔکرناٹکی
۲۰۰۸
34
باب جبرئیل
صغریٰؔ عالم
۲۰۰۹
35
مہبط انوار
ڈاکٹرراہی فدائیؔ
۲۰۰۹
36
انوارِحرم
تاج ؔنوردریا
۲۰۰۹
38
ابررحمت
ڈاکٹروحیدانجمؔ
۲۰۱۰
39
فانوسِ حرم
حافظ ؔکرناٹکی
۲۰۱۰
40
پہلی ضیا
صبیح ؔحیدر
۲۰۱۰
41
گلزارنعت
غلام ربانی فداؔ
۲۰۱۰
42
سنگ در
کلیم ؔرضانوری چشتی
۲۰۱۰
43
 یامصطفیٰﷺ
غلام ربانی فداؔ
۲۰۱۱
44
مہکِ ریاضِ رسولﷺ
ڈاکٹرریاض احمدریاضؔ
۲۰۱۱
45
صحرائے مدینہ
غلام ربانی فدؔا
۲۰۱۱
46
ورفعنالک ذکرک
جوہرؔصدیقی
۲۰۱۱
47
نشاط نو ر
عبدالستارخاطرؔ
۲۰۱۱
48
مراۃ
چنداؔحسینی
۲۰۱۲
49
گلشن مدینہ
غلام ربانی فدؔا
۲۰۱۲
50
بیابانِ مدینہ
غلام ربانی فداؔ
۲۰۱۲
51
جہاں محمدوہاں خداہے
جیلانی شاہدؔ
۲۰۱۳
52
تجلیات مدنی
سورج ؔکرناٹکی
۲۰۱۳
53
اذکارِمبین
مبین منورؔ
۲۰۱۳
54
یانبی یا نبی یانبی
غلام ربانی فداؔ
۲۰۱۴
55
انوارِمصطفیٰ
تاج ؔنوردریا
۲۰۱۴
56
ناعت  ومنعوت 
ڈاکٹرراہی فدائیؔ
۲۰۱۴
57
آبشاررحمت
سیدعبدالوہاب جامیؔ
۲۰۱۴
58
انواررحمت
جیلان بادشاہ جیلانؔ
۲۰۱۴
59
دروداصفیہ
حبیب اللہ ساغرؔ مظہری
۲۰۱۵
انتخابات
جلوۂ رحمت:( کوثری جعفری، ۲۰۰۲)
گلستان رحمت، ؛( عثمان شاہد،)
اکرام، 
  مدنی رنگ(امتیازاشرفی)    
نور (ضلع بیدرکے نعت گوشعرا) 
گلستاں 
نعت جہان(سیدہ نورفاطمہ2014)
(اس کے علاوہ بھی دیگرانتخابات ہوسکتے ہیں)
نثری کتب:
  آدابِ نعت گوئی 2013 (غلام ربانی فداؔ) 
کرناٹک میں نعت گوئی (جہان نعت کاخصوصی شمارہ)
گل وبرگ(ڈاکٹر غصنفر)۲۰۱۴۔
کرناٹک میں نعتیہ شاعری(غلام ربانی فدا)ؔ
اس فہرست پر غورکرنے سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ کرناٹک میں ادبِ نعت کی طرف شعراکا رجحان کم رہااورنعتیہ مشاعروں تک محدود رہے۔سن 2000کے بعد کئی نعتیہ مجموعے منظرعام پرآئے۔ نعتیہ مشاعروں کاانعقاد بھی زیادہ تعدادمیں ہونے لگا۔
۱۹۵۷ کو ریاست میسور اور حیدرآباد وممبئی کے مختلف علاقوں کے جوڑ سے ریاست کرناٹک کاوجودمیں آیا۔کرناٹک کی تشکیل کے بعد ادب حمدو نعت میں جو کتب اولین مقام حاصل کرتی ہیں وہ یہ ہیں۔

اولیاتِ ادبِ حمدو نعت مابعد ۱۹۵۷
نام کتاب
مرتب/مصنف
صنف
سالِ اشاعت
یایھالنبیﷺ
خانصاحب سلیم
نعت (پابند)
1957
نوروظہور
اکمل آلدوری
نعت(رباعیات)
1979
حرفِ تمام
منیراحمدجامی 
حمد
1983
ردائے رحمت
ایس ایم عقیل
نعت(آزادنظمیہ)
2003
اردومیں حمد
مصنفہ ڈاکٹرسلیمیٰ کولور
حمد(نثر)
2010
جہان نعت
غلام ربانی فدا
مجلہ 
2010
آدابِ نعت گوئی
غلام ربانی فدا
نثر
2011
انوارِمدینہ
تاج نوردریا
نعتیہ دیوان
2015
مجھے اپنی کم علمی کابخوبی احساس ہے کہ ممکن ہوکہ ان فہرستوں میں کئی چیزیں چھوٹ گئی ہوں اگرکسی صاحب علم وفہم کو کسی کے رہ جانے کا علم ہوتوبرائے کرم ناچیز کو آگاہ فرمائیں۔


فیاضؔ بلگوڈی کی نعتیہ شاعری

فیاضؔ بلگوڈی کی نعتیہ شاعری



فیاضؔ بلگوڈی کی نعتیہ شاعری




ڈاکٹرغلام ربانی فداؔ
gulamrabbanifida@gmail.com

مولاناقاضی عبدالقادر فیاض بلگوڈی اپنے وقت کے معتبر عالم دین تھے۔ آپ نے مذہبی کتب کی تصنیف فرمائے۔ آپ حضرت شاہ جماعت سے شرف بیعت رکھتے تھے۔ اور دارالعلوم شاہ جماعت کے آر پورم ہاسن کے مہتمم بھی مقرر ہوئے۔ تفصیلی تعارف تلاش وبسیار کے باوجود بھی حاصل نہ ہوسکا۔ ناچیز اسی بہانے ہاسن وبلگوڈ کاسفر بھی کیا ۔
 م پ راہی فیاض بلگوڈی رقمطراز ہیں۔
  آپ کا پورا نام قاضی عبدالقادر تھا ۔ فیاض تلخص فرمایا ۔ جائے پیدائش کی نسبت سے فیاض بلگوڑی کے نام سے مشہور ہوئے اور’ شاعر ملناڈ ‘ کا خطاب پایا ۔ آپ اس ضلع کے سکلیشپور تعلقہ کے ایک چھوٹے سے قصبے بلگوڑ میں پیدا ہوئے ۔ شہر کی میونسپل ہائی اسکول میں عرصے تک اردو کے استاد کی حیثیت سے خدمت انجام دی اور یہاں سے سبکدوش ہوکر اپنے گاؤں لوٹ گئے اور باقی عمر اردو کی زلفیں سنوارنے میں گزار دی ۔ 
آپ ایک کہنے مشق اور استاد شاعر تھے ۔ آپ نے کم وبیش تمام قدیم اصناف سخن  میں طبع آزمائی کی مگر نعت گوئی سے انہیں ایک خاص شغف رہا ۔ حضور ﷺ سے غیر معمولی عشق تھا ۔ حب رسول ﷺ ان کی رگ رگ میں بسا ہوا تھا ۔ انہوں نے عشق رسول ﷺ ہی کو زندگی کا حصول سمجھا لہٰذا آگے چل کر مستقل طور پر نعت گوئی ہی اپنا وظیفہ بنالیا ۔ 
آپ نے حج بیت اللہ کے موقع پر مدینہ شریف میں بے شمار نعتیہ کلام تحریر فرمائے۔  



فیاض بلگوڈی کرناٹک کے وہ خوش قسمت شاعر جنہیں مدینۃ الرسولﷺ کے محافل میں اپنا کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جنہیں بھارت اور پاکستان کے بیت سے حاجیوں نے انہیں سنا اورآپ کاکلام ٹیپ کر کے لے گیے۔قیام مدینہ کے دوران جو واقعات پیش آئے تھے انہیں اپنے اشعار میں مبہم انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہیں ۔ اورشہررسول ﷺمیں قطبِ مدینہ حضرت ضیاء الدین مدنی کی صحبت بابرکت حاصل رہی۔
دو مرتبہ حج کی سعادت سے مشرف ہوئے ۔ آپ کو نعتوں اور سلاموں کا مجموعہ ’’ حرم کا تحفہ ‘‘ کے نام سے بہت پہلے ہی زیور طباعت سے آراستہ ہو کر ادبی حلقوں میں داد و تحسین حاصل کر چکا ہے ۔ آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ اس خطے اور اس ضلع کے پہلے صاحب ِمجموعہ شاعر تھے ، جنہوں نے نعت گوئی کو محض ایک صنف کے نہیں بلکہ ایک فن کی حیثیت سے اختیار کیا تھا ۔ یہی بات ہے کہ ان کی نعتوں میں بلا کی سر شاری اور والہانہ پن پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرا ن کے یہ نعتیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
تو حسیں حسیں گلوں میں توہے نس بہ نس کلی میں 
تو جمیل خلوتوں میں کہاں رونما نہیں ہے
مراسر ہو تیرے درپر میں اٹھوں وہاں سے مرکر
بجز اسکے زندگی کا کوئی مدعا نہیں ہے 
محمدکے دامن میںدنیا بھی دیں بھی  محمد ہیں قندیل راہ یقیں بھی 
زمیں آسماں اس کی عظمت کے قائل 
محمد کے دربان روح امیں بھی 
پلادے ساقیا بھر بھر کے پیمانہ محمد کا 





 زمانے بھر میں کہلاؤں میں مستانہ محمد کا 
لڑکپن ہی سے انہیں نعت خوانی کاشوق رہا ،ابتدا میں حضرت محسن کاکوروی ، امیر مینائی ، امجدحیدرآبادی زائرحرم حمیدصدیقی اور ماہرالقادری کوبہت پڑھا ہے اوراس دورمیں بارہ ربیع الاول کوانہیں نعت خوانی کی مجلسوں میں شریک ہونے اوراپنی لحنِ داؤڈی سے محفلوں کومسحورکرنے موقعہ ملتارہاوراسی زمانہ کی بات ہے کہ طبیعت شعرکہنے کی طرف مائل ہوئی۔
فیاض اس نصیب  پہ رشک آئے پھر نہ کیوں
عشقِ رسول نے تجھے شاعر بنا دیا
عرب کو لے کر میں کیا کروں گا عدن کولے کرمیںکیا کروں گا
نہیں ہے خود رغبتِ چمن جب چمن کو لے کرمیںکیا کروں گا 
کمال جب ہے کلامِ فیاضؔ سے ہو بیدار روحِ ملت
مرے محبو کے خشک دادِ سخن کو لے کر میں کیا کروں گا





فیاض بلگوڈی کی نعتیہ شاعری


ہندو شعراءکا حمدیہ کلام ٭غلام ربانی فداؔ

ہندو شعراءکا حمدیہ کلام ٭غلام ربانی فداؔ



 ہندو شعراءکا حمدیہ کلام

٭غلام ربانی فداؔ


شعراءعوام الناس سے زیادہ حساس ہوتے ہیں ۔ان کے جذبات فطری طورپر نازک ،لطیف اورسریع الاشتعال ہوتے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ کی حکمت وکاری گری اس کے گونا گوں جلوؤں اور اس کی بخشش و فیض عام سے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ،ان کا یہی احساس و تاثر شعر کی شکل اوڑھ لیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان کی شاعری میں خدا تعالیٰ کی حمد و معرفت کے زمرے اوردعا و مناجات کے نذرانے ملتے ہیں ۔اردو شاعری کا خزانہ بھی اس سے اس حد تک مملو ہے کہ جو شعراءاپنی رندی و ہوسناکی کے لئے بدنام ہیں ،ان کا شعر ی دفاتر بھی اس صنف شاعری سے خالی نہیں ۔اکثر قدیم شعراءکے دواوین و کلیات کا آغاز حمد و نعت اور منقبت کے اظہار سے ہوا ہے ۔حمد و مناجات اور نعت و منقبت کو مذہبی تقدس کا درجہ حاصل ہے اور یہ سب اصناف شاعری عربی و فارسی کے اثر و وسیلہ سے اردو میں داخل ہوتی ہیں۔لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی طرح ہندو شعراءنے بھی ان میں اپنی طبیعت کے جوہر دکھائے ہیں ۔یہ ایک محقیقین کے لئے دلچسپ عنوان ہے، اگر صرف حمد کے تعلق سے ان کے کلام کو موضوع بنایا جائے تو ایک پوری مکمل کتاب تیار ہو سکتی ہے ،اس لئے ہم اپنے مضمون میں چند ہندو شعراءقدیم کی حمدیہ شاعری تک بحث و گفتگو محدود رکھیں گے ۔

پنڈت دیا شنکر نسیم:۔یہ کشمیری برہمن تھے ۔کشمیر ہی ان کے بزرگوںکا وطن ہے ۔لیکن خود نسیم۱۸۱۱ءمیں لکھنومیں پیدا ہوئے اور عین عالم شباب میں ۱۸۴۳ءیہیں پر وفات پائی ۔نسیم کو غزل گوئی سے بھی مناسبت تھی اور ایک مختصر دیوان ِغزلیات بطور یادگار چھوڑ ا ہے ۔لیکن نسیم کو شہرت اور بقائے دوام عطا کرنے والی ان کی مثنوی”گلزار نسیم “ ہے ۔جو اردو کی ان چند مثنویوںمیں سے ہے جن کو قبول عام کی سند حاصل ہے ۔اردو کی یہ مایہ ناز مثنوی ”سحر البیان “ کے بعد بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کا نام بھی لیا جاتا ہے ۔یہ مثنوی طبع زاد نہیں ہے بلکہ نسیم نے ایک پرانی داستان کو اردو کا جامہ پہنا کر اپنے کمال فن سے اسے زندہ جاوید بنا دیا ہے ۔واقعہ نگاری، مصوری اور جذیات نگاری سے قطع نظر مثنوی کا خاص جوہر ایجاز و اختصار ہے ۔رعایت لفظی اور ضائع بدائع کے استعمال کے باوجود انداز بیان کے سلیقے اور بندش کی چستی نے اسے معراج ِکمال پر پہنچا دیا ہے ۔اور مثنوی کے بہت سے شعروں کو ضرب المثل کا درجہ د ے دیا ہے ۔مثنوی میں گل بکاؤلی کا قصہ نظم ہوا ہے ،اور یہ قصہ گل بکاؤلی کے نام سے بھی مشہور ہے ۔اس کا آغاز جن چار شعروں سے ہوا ہے ان میں سے دو ملا حظہ ہوں۔

ہر شاخ میں ہے شگوفہ کاری ثمرہ ہے قلم کا حمد باری

کرتا ہے یہ دوزباں سے یکسر حمد، حق، و مدحت پیمبر

اس کے بعد اور اصل قصہ شروع ہونے سے پہلے یہ عنوان درج ہے ۔

”خواستگاری جناب یاری سے مثنوی گلزار نسیم کی ترتیب کے واسطے“

اس عنوان کے تحت کئی اشعار دئے گئے ہیں ۔پہلا شعر پیش خدمت ہے

یارب میرے خامے کو زباں دے منقار ہزار داستاں دے

منشی جگن ناتھ خوشتر:۔ان کی ذات کائستھ سریواستو تھا ۔اصل وطن قصبہ بڈسہ ضلع اناؤ تھا ۔تلاش معاش میں ان کے بزرگ لکھنو آئے اور سرکار شاہی میں ملازم ہوئے ۔خوشتر۱۸۰۹ءمیں پیدا ہوئے اور ۱۸۶۴ءمیں انتقال کیا ۔وہ اچھے خوش نویس اور کامیاب شاعر تھے ۔شاعری میں ان کا میلان طبع فدہیات کی طرف تھا ۔انہوں نے سری ور بھاگوت منظوم مثنوی ”چند گپت کتھاست نرائن “منظوم اور ”سراپا چرتر‘وغیرہ کتابیں تصنیف کیں جو مطبع نول کشور سے طبع ہو چکی ہے ۔

خوشتر کی معرکۃالآراءتصنیف ”رامائن خوشتر“ ہے انہوں نے ۱۸۵۱ءمیں تلسی کی رامائن کا ترجمہ حرف بہ حرف نہایت سلیس اور دل کش انداز میں کیا ۔جو بہت مقبول ہو ااس کتاب کو ان کا بڑا کارنامہ اور اردو ادب میں ایک بیش بہا اضافہ خیال کیا جاتا ہے ۔پر شکوہ الفاظ و تراکیب دل آویز و نادر تشبیہات و استعارات ،جیسی بندش ،صفائی کلام ،اور اعلی تخیل و بلند مضامین کے لحاظ سے بھی یہ ایک مایہ ناز تصنیف ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو ادب کا خزانہ ہندوؤں کے مذہبی عناصر سے بھی مملو ہے ۔رامائن سے ان کے مناجات کے چند اشعار ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔

مناسب ہے بشر کو وقت حاجات کرے درگاہ باری میں مناجات

وہی حاجت روائے دو جہاں ہے کرم فرمائے عالم بے گماں ہے

وہی آمرزگار ہر خطا ہے وہی روزی وہ شاہ و گدا ہے

اسی کی ذات ہے غفار و ستار اسی کا نام ہے قہار و جبار

وہی دوزخ وہی دیتا ہے جنت وہی ذلت وہی دیتا ہے عزت

ایک اور دعائیہ شعر اس طرح بھی آیا ہے ۔

خدایا نامہ و نام آواری دے قلم کو جلوۂ بال و پری دے

منشی شیو پرشاد وہبی:۔لکھنو کے باشندے اور ذات کا ئستھ سکسینہ سے متعلق تھے شاعری میں آفتاب الدولہ خواجہ ارشد علی خاں بہادر قلق کے شاگرد تھے۔منشی نول کشور کے مطیع میں ”اودھ اخبار“ کے منیجر تھے۔منشی صاحب دہبی کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔دہبیکی زندگی میں ان کا کلیات موسوم بہ ” مرقع ارژنگ“۱۸۸۰ءمیں طبع ہوا جو غزلوں مخمس،تاریخوں ،قصائد،سہرے اور رباعیات وغیرہ پر مشتمل ہے ۔دستور زمانہ کے مطابق دہبی کی شاعری میں عاشقانہ رنگ غالب ہے ۔زبان شستہ اور بند پختہ ہیں ۔سادگی و صفائی کلام کی شیرینی و شگفتگی اور محاوروں کی برجستگی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے ،کلیات کے ابتداءمیں ایک نظم ” مناجات بدرگاہ قاضی الحاجات جل جلالہ“پرزور اور دل آویز ہے ۔یہ محاوروں کے اور الفاظ کی بندش ،مضامین کی خوبی اور زبان کی فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے اچھی ہے ہم اس کے دو بندپیش کر رہے ہیں

تو قادر و غیور غنی و کریم ہے تو مالک وسمیع،بصیر و علیم ہے

تو وارث و حلیم ،غفور رحیم ہے تو حافظ و حفیظ ،عزیز وحکیم ہے

واحد ہے تو قدیر ہے تو کبیر ہے تو

چاہ جو تو گداکو بھی پادشاہ کردے ذرے کو اوج نیر اعظم عطا کرے

در کوخذف،خذف کو در بے بہا کرے قطرے کو دم میں قلزم بے انتہا کرے

  ہندو شعراءکا حمدیہ کلام  ٭غلام ربانی فداؔ

ہندو شعراءکا حمدیہ کلام ٭غلام ربانی فداؔ


 ہندو شعراءکا حمدیہ کلام
٭غلام ربانی فداؔ

شعراءعوام الناس سے زیادہ حساس ہوتے ہیں ۔ان کے جذبات فطری طورپر نازک ،لطیف اورسریع الاشتعال ہوتے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ کی حکمت وکاری گری اس کے گونا گوں جلوؤں اور اس کی بخشش و فیض عام سے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ،ان کا یہی احساس و تاثر شعر کی شکل اوڑھ لیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان کی شاعری میں خدا تعالیٰ کی حمد و معرفت کے زمرے اوردعا و مناجات کے نذرانے ملتے ہیں ۔اردو شاعری کا خزانہ بھی اس سے اس حد تک مملو ہے کہ جو شعراءاپنی رندی و ہوسناکی کے لئے بدنام ہیں ،ان کا شعر ی دفاتر بھی اس صنف شاعری سے خالی نہیں ۔اکثر قدیم شعراءکے دواوین و کلیات کا آغاز حمد و نعت اور منقبت کے اظہار سے ہوا ہے ۔حمد و مناجات اور نعت و منقبت کو مذہبی تقدس کا درجہ حاصل ہے اور یہ سب اصناف شاعری عربی و فارسی کے اثر و وسیلہ سے اردو میں داخل ہوتی ہیں۔لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی طرح ہندو شعراءنے بھی ان میں اپنی طبیعت کے جوہر دکھائے ہیں ۔یہ ایک محقیقین کے لئے دلچسپ عنوان ہے، اگر صرف حمد کے تعلق سے ان کے کلام کو موضوع بنایا جائے تو ایک پوری مکمل کتاب تیار ہو سکتی ہے ،اس لئے ہم اپنے مضمون میں چند ہندو شعراءقدیم کی حمدیہ شاعری تک بحث و گفتگو محدود رکھیں گے ۔ 
پنڈت دیا شنکر نسیم:۔یہ کشمیری برہمن تھے ۔کشمیر ہی ان کے بزرگوںکا وطن ہے ۔لیکن خود نسیم۱۸۱۱ءمیں لکھنومیں پیدا ہوئے اور عین عالم شباب میں ۱۸۴۳ءیہیں پر وفات پائی ۔نسیم کو غزل گوئی سے بھی مناسبت تھی اور ایک مختصر دیوان ِغزلیات بطور یادگار چھوڑ ا ہے ۔لیکن نسیم کو شہرت اور بقائے دوام عطا کرنے والی ان کی مثنوی”گلزار نسیم “ ہے ۔جو اردو کی ان چند مثنویوںمیں سے ہے جن کو قبول عام کی سند حاصل ہے ۔اردو کی یہ مایہ ناز مثنوی ”سحر البیان “ کے بعد بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کا نام بھی لیا جاتا ہے ۔یہ مثنوی طبع زاد نہیں ہے بلکہ نسیم نے ایک پرانی داستان کو اردو کا جامہ پہنا کر اپنے کمال فن سے اسے زندہ جاوید بنا دیا ہے ۔واقعہ نگاری، مصوری اور جذیات نگاری سے قطع نظر مثنوی کا خاص جوہر ایجاز و اختصار ہے ۔رعایت لفظی اور ضائع بدائع کے استعمال کے باوجود انداز بیان کے سلیقے اور بندش کی چستی نے اسے معراج ِکمال پر پہنچا دیا ہے ۔اور مثنوی کے بہت سے شعروں کو ضرب المثل کا درجہ د ے دیا ہے ۔مثنوی میں گل بکاؤلی کا قصہ نظم ہوا ہے ،اور یہ قصہ گل بکاؤلی کے نام سے بھی مشہور ہے ۔اس کا آغاز جن چار شعروں سے ہوا ہے ان میں سے دو ملا حظہ ہوں۔ 
ہر شاخ میں ہے شگوفہ کاری ثمرہ ہے قلم کا حمد باری 
کرتا ہے یہ دوزباں سے یکسر حمد، حق، و مدحت پیمبر 
اس کے بعد اور اصل قصہ شروع ہونے سے پہلے یہ عنوان درج ہے ۔ 
”خواستگاری جناب یاری سے مثنوی گلزار نسیم کی ترتیب کے واسطے“ 
اس عنوان کے تحت کئی اشعار دئے گئے ہیں ۔پہلا شعر پیش خدمت ہے 
یارب میرے خامے کو زباں دے منقار ہزار داستاں دے 
منشی جگن ناتھ خوشتر:۔ان کی ذات کائستھ سریواستو تھا ۔اصل وطن قصبہ بڈسہ ضلع اناؤ تھا ۔تلاش معاش میں ان کے بزرگ لکھنو آئے اور سرکار شاہی میں ملازم ہوئے ۔خوشتر۱۸۰۹ءمیں پیدا ہوئے اور ۱۸۶۴ءمیں انتقال کیا ۔وہ اچھے خوش نویس اور کامیاب شاعر تھے ۔شاعری میں ان کا میلان طبع فدہیات کی طرف تھا ۔انہوں نے سری ور بھاگوت منظوم مثنوی ”چند گپت کتھاست نرائن “منظوم اور ”سراپا چرتر‘وغیرہ کتابیں تصنیف کیں جو مطبع نول کشور سے طبع ہو چکی ہے ۔ 
خوشتر کی معرکۃالآراءتصنیف ”رامائن خوشتر“ ہے انہوں نے ۱۸۵۱ءمیں تلسی کی رامائن کا ترجمہ حرف بہ حرف نہایت سلیس اور دل کش انداز میں کیا ۔جو بہت مقبول ہو ااس کتاب کو ان کا بڑا کارنامہ اور اردو ادب میں ایک بیش بہا اضافہ خیال کیا جاتا ہے ۔پر شکوہ الفاظ و تراکیب دل آویز و نادر تشبیہات و استعارات ،جیسی بندش ،صفائی کلام ،اور اعلی تخیل و بلند مضامین کے لحاظ سے بھی یہ ایک مایہ ناز تصنیف ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو ادب کا خزانہ ہندوؤں کے مذہبی عناصر سے بھی مملو ہے ۔رامائن سے ان کے مناجات کے چند اشعار ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔ 
مناسب ہے بشر کو وقت حاجات کرے درگاہ باری میں مناجات 
وہی حاجت روائے دو جہاں ہے کرم فرمائے عالم بے گماں ہے 
وہی آمرزگار ہر خطا ہے وہی روزی وہ شاہ و گدا ہے 
اسی کی ذات ہے غفار و ستار اسی کا نام ہے قہار و جبار 
وہی دوزخ وہی دیتا ہے جنت وہی ذلت وہی دیتا ہے عزت 
ایک اور دعائیہ شعر اس طرح بھی آیا ہے ۔ 
خدایا نامہ و نام آواری دے قلم کو جلوۂ بال و پری دے 
منشی شیو پرشاد وہبی:۔لکھنو کے باشندے اور ذات کا ئستھ سکسینہ سے متعلق تھے شاعری میں آفتاب الدولہ خواجہ ارشد علی خاں بہادر قلق کے شاگرد تھے۔منشی نول کشور کے مطیع میں ”اودھ اخبار“ کے منیجر تھے۔منشی صاحب دہبی کو بہت زیادہ عزیز رکھتے تھے۔دہبیکی زندگی میں ان کا کلیات موسوم بہ ” مرقع ارژنگ“۱۸۸۰ءمیں طبع ہوا جو غزلوں مخمس،تاریخوں ،قصائد،سہرے اور رباعیات وغیرہ پر مشتمل ہے ۔دستور زمانہ کے مطابق دہبی کی شاعری میں عاشقانہ رنگ غالب ہے ۔زبان شستہ اور بند پختہ ہیں ۔سادگی و صفائی کلام کی شیرینی و شگفتگی اور محاوروں کی برجستگی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے ،کلیات کے ابتداءمیں ایک نظم ” مناجات بدرگاہ قاضی الحاجات جل جلالہ“پرزور اور دل آویز ہے ۔یہ محاوروں کے اور الفاظ کی بندش ،مضامین کی خوبی اور زبان کی فصاحت وبلاغت کے لحاظ سے اچھی ہے ہم اس کے دو بندپیش کر رہے ہیں 
تو قادر و غیور غنی و کریم ہے تو مالک وسمیع،بصیر و علیم ہے 
تو وارث و حلیم ،غفور رحیم ہے تو حافظ و حفیظ ،عزیز وحکیم ہے 
واحد ہے تو قدیر ہے تو کبیر ہے تو 
چاہ جو تو گداکو بھی پادشاہ کردے ذرے کو اوج نیر اعظم عطا کرے 
در کوخذف،خذف کو در بے بہا کرے قطرے کو دم میں قلزم بے انتہا کرے 
سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ شاعری غلام ربانی فداؔ

سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ شاعری غلام ربانی فداؔ


سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ شاعری


غلام ربانی فداؔ


نعت موضوعی صنف سخن ہے جس کے عنوان شہنشاہ کو نین صل اﷲ علیہ و سلم ہیں۔ یہی اس کی اصل پہچان ہے۔ اسی لئے نعت کے لئے کوئی فارم متعین نہیں۔ مسدس، مثنوی، غزل، رباعی، ہائیکو یا تکونی جس شکل میں چاہے نیاز مند اپنے دل کا نذرانہ بارگاہ مصطفےٰ میں پیش کر سکتا ہے شرط یہ ہے کہ اس کی اصل پہچان قائم رہے۔ یہاں ایک بات بڑی دلچسپ ہے کہ موضوعی اصناف اپنی خالصیت کی تکمیل بغیر سچائی اور خلوص کے نہیں کر پاتیں بلکہ ’’حق و خلوص‘‘ کی شدت جتنی زیادہ ہو گی کلام اتنا ہی سچا اور خالص ہو گا۔ رسول کی تعریف سب ہی کرتے ہیں حجر، شجر، ملائکہ اور جن حتیٰ کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ بھی رسول پر درود بھیجتا ہے اور بندوں کو تلقین وتاکید کرتا ہے کہ تم بھی میرے محبوب (صلی اﷲ علیہ و سلم) پر دردو بھیجو۔ یعنی نعت خالص ایمان وعقیدہ کی چیز ہوئی۔ سچی اور خالص نعت کے لئے فنکار کا صاحب ایمان اور عاشقِ رسول ہونا شرط اوّل قرار پائی۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اطاعت کے مقابلے میں ’’حُب رسولؐ ‘‘ اِس صنف سخن کے لئے زیادہ موزوں اور کار آمد ثابت ہوتا ہے جب تک کمالِ مصطفے ٰ صلی اﷲ علیہ و سلم پر یقین اتنا مستحکم نہ ہو کہ عقیدہ کے درجے تک پہنچ جائے تب تک نعت کا سچا اور کھر اشعر وجود میں نہیں آ سکتا۔ عقیدے کی محکمی اور یقین کا مل کی پختگی نعت کی تاثیر میں شدت اور سچّا حُسن پیدا کر تی ہے۔ مگر یہ بھی ملحوظ رہے کہ عقیدہ خود ساختہ نہ ہو، قرآن و حدیث اور اسلاف کے اقوال سے کشید کیا ہوا ہو۔سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ شاعری جہاں عشق رسول کی روح سے مملو ہے وہیں قرآن و حدیث سے ماخوذ مضامین، معجزات نبوی، تاریخی واقعات اور اصلاحی و تبلیغی خیالات بھی اسے تنوع اور رنگارنگی کی کیفیت عطا کرتے ہیں۔ اس پر مستزادیہ کہ فنی طور پر اُن کی نعتیہ شاعری ایسی بے شمار خوبیوں کی حامل ہے جن کی تلاش ایک کہنہ مشق اور بڑے شاعر سے کی جا سکتی ہے۔ تشبیہ، استعارہ تمثیل اور پیکر تراشی کی مثالیں تو بڑی آسانی سے مل سکتی ہیں، اُن کی شاعری میں وہ تکنیکیں بھی ملتی ہیں جو شعری مہارت کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ چھوٹی بحروں کی کاٹ، طویل بحروں کا ترنم، مشکل ردیفوں کا استعمال، ہندی کے مدھر بولوں کا کھپانا، نادر مگر خوش رنگ ترکیبیں گڑھنا اور محاوروں سے برجستگی اور روانی پیدا کرنا وغیرہ، ایسے حربے ہیں جن سے اشعار میں ادب کا بانکپن اور فکر و فن کی بہار اپنے جلوے بکھیرتی ہے چند مثالیں ملاحظہ کیجئے۔

گدازِ عشق کو ہم اجنبی رہنے نہیں دیتے

کہ سازِ دل بجز ذکرِ نبی رہنے نہیں دیتے

شعورِ زیست ملتا ہے فقط ان کے تصدق سے

وہ امت کو بحالِ خفتگی رہنے نہیں دیتے

جدھر اٹھتی ہیں نظریں سیر ہوجاتے ہیں دیوانے

وہ دیوانوں کی اپنے تشنگی رہنے نہیں دیتے

زباں کھلنے سے پہلے وہ عطا کرتے ہیں سائل کو

غلاموں کا کبھی دامن تہی رہنے نہیں دیتے

نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے

میں وابستہ ہوں دامانِ نبی سے

وہ میرے ہیں میں دیوانہ ہوں اْن کا

یہ کہتا پھر رہا ہوں میں سبھی سے

مری نسبت ہی سرمایہ ہے میرا

یہی پایا ہے میں نے زندگی سے

مئی عشقِ نبی سے مست یوں ہوں

نہ نکلوں عمر بھر اس بے خودی سے

سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ فکر ستھرا اسلوب بیان رکھتی ہے۔ اُن کے ذخیرۂ علم میں دین اور ادب، اردو اور فارسی و عربی دونوں کی رونقیں یکجا ہیں اس لئے اُن کے اسلوب و اظہار میں دونوں کے انعکاسات ملتے ہیں۔ وہ جہاں عربی و فارسی کے الفاظ اور ترکیبیں  استعمال کرتے ہیں وہیں اودھ اور دہلی کی شستگی سے بھی اُن کا لسانی انسلاک نظر آتا ہے۔ ثقیل اور بھاری بھرکم الفاظ کے ساتھ عام فہم، رواں اور بول چال کے آسان الفاظ بھی اُن سے مانوس نظر آتے ہیں۔سیدوحیدالقادری عارفؔ نے صنف نعت میں جدید شعری روایات کو بھی بڑی خوبی سے برتا ہے۔ رباعی، ہائیکو، تکونی اور آزاد نعتیہ شاعری بھی کی ہے۔ اُن کے اظہار و اسلوب میں جہاں تنوع اور رنگارنگی ہے وہین فنی اظہار میں شفافیت اور جذبے کی تپش بھی ہے۔ انہوں نے اپنی نعتوں کا خمیر عشق رسول صل اﷲ علیہ و سلم کی آنچ میں تیار کیا ہے۔ اس لئے اُن کا ہر شعر عشق رسول کے تاروں سے لپٹا نظر آتا ہے۔ اُن کے یہاں محض الفاظ کی بازی گری نہیں بلکہ جذبۂ عقیدت کا پر خلوص اظہار ہوتا ہے۔ ذیل کے اشعار پڑھئے اورسیدوحیدالقادری عارفؔکی نعت گوئی کے محاسن پر سر دھنئے ؂

درِ سرکار پر کچھ اس طرح دیوانے جائیں گے

خرد سے بے تعلق ہوش سے بیگانے جائیں گے

جہاں ہر درد ہر غم کی دوا تقسیم ہوتی ہے

دلِ صد چاک کو اپنے وہاں بہلانے جائیں گے

غلامی ان کے در کی باعثِ صد فخر ہے ہم کو

یہی ہے اصل اپنی ہم اسی سے جانے جائیں گے

مئی حبِ نبی کی اور بڑھ جائے گی سرشاری

جہاں کثرت ہے اس مئی کی اسی میخانے جائیں گے

کمالِ بے خودی میں بھی ادب ملحوظ رکھنا ہے

وگرنہ زندگی کے سب عمل مٹوانے جائیں گے

سکونِ قلب آتا ہے میسر ان کی چوکھٹ پر

مقدر میں لکھی سب الجھنیں سلجھانے جائیں گے

اسی در سے ہمیں ملجائے گا بخشش کا پروانہ


نبی کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہیں دنیا میں

اسی نسبت سے محشر میں بھی ہم پہچانے جائیں گے

کھنچے جائیں نہ کیوں سوئے مدینہ بار بار عارفؔ

جہاں پر شمع ہوگی اس جگہ پروانے جائیں گے


بط و نسبت کے تقاضوں کو نبھانے آئے

ہم ترے در پہ جبیں اپنی جھکانے آئے

خوابِ غفلت میں کٹی عمرِ گذشتہ ساری

اب مگر ہوش میں آنے کے زمانے آئے

ہم نے شہرت جو سنی تیری مسیحائی کی

یاد سب زخم نئے اور پرانے آئے

نہیں کہنا تھا کسی سے نہ کہا تھا ہم نے

وہ جو سنتا ہے اسے اپنی سنانے آئے

اس قسم کے بیشتر اشعار قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں کیونکہ نعتیہ شاعری میں یہ نیا لب و لہجہ اُنہیں متحیر کرتا ہے اور سیدوحیدالقادری عارفؔ کو معاصر نعتیہ ادب کے سب سے منفرد ممتاز اور نمایاں شاعر کی حیثیت سے متعارف کراتا ہے۔

سیدوحیدالقادری عارفؔ کا تاریخی شعور بہت پختہ ہے۔ اسلامی تاریخ اور انسانی اقدار کی خوشبو اُن کی نظموں کو نئی روشنی اور نئے رنگ آہنگ سے معطر کرتی ہے۔ اُنہوں نے تلمیحاتی انداز میں تاریخی واقعات کی طرف اشارہ ہی نہیں کیا، بلکہ تاریخ کے کسی واقعے یا واردات کو قصے کے پیرائے میں نقل کر دیا ہے تاکہ وہ واقعہ نہ صرف قاری کو مطلع کرے بلکہ اُس کے ذہن و دل پر اپنے اثرات بھی قائم کرے۔ 

سیدوحیدالقادری عارفؔ کے اسلوب، لہجے اور موضوعات کی انفرادیت کا یہ عالم ہے کہ اُن کی شاعری سب سے الگ پہچانی جاتی ہے۔ نعتوں کے مجموعوں سے قطع نظر صرف چندنعتیں‘‘ پڑھ جائیے، یہ حقیقت پہلی نظر میں سامنے آئے گی کہ ایک زندہ توانا اور متحرک شاعر جس کی قوت متخیلہ نامیاتی، زرخیز اور کائنات گرد ہے ان کا خالق ہے۔ سیدوحیدالقادری عارفؔ ؔ خوشبو، خوب صورتی اور روشنی کے متلاشی ایک بے چین و بے قرار شاعر ہیں۔ یہ بے چینی اور بے قراری شاید اس لئے ہے کہ متعفن فضا نے خوشبو وں کو جلاوطن کر دیا ہے۔ بدصورت کرداروں نے خوب صورتی کو کال کو ٹھری میں بند کر رکھا ہے تاریکی نے روشنی کو مقفل کر دیا ہے۔ شاعر بے چین اور بے قرار ہے۔ خوشبو، خوبصورتی، روشنی اور رنگ و آہنگ کے متلاشی سیدوحیدالقادری عارفؔ کے غموں، تنہائیوں، اشکوں، ویرانیوں، جدائیوں، دہشتوں اور تمناؤں کے معانی اسی تناظر میں تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ بہتر دنیا، بہتر ماحول اوربہتر زندگی کی جستجو سیدوحیدالقادری عارفؔ  کے آؤٹ لک کا خصوصی خاصہ ہے

سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ شاعری  غلام ربانی فداؔ

سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ شاعری غلام ربانی فداؔ


سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ شاعری
غلام ربانی فداؔ
نعت موضوعی صنف سخن ہے جس کے عنوان شہنشاہ کو نین صل اﷲ علیہ و سلم ہیں۔ یہی اس کی اصل پہچان ہے۔ اسی لئے نعت کے لئے کوئی فارم متعین نہیں۔ مسدس، مثنوی، غزل، رباعی، ہائیکو یا تکونی جس شکل میں چاہے نیاز مند اپنے دل کا نذرانہ بارگاہ مصطفےٰ میں پیش کر سکتا ہے شرط یہ ہے کہ اس کی اصل پہچان قائم رہے۔ یہاں ایک بات بڑی دلچسپ ہے کہ موضوعی اصناف اپنی خالصیت کی تکمیل بغیر سچائی اور خلوص کے نہیں کر پاتیں بلکہ ’’حق و خلوص‘‘ کی شدت جتنی زیادہ ہو گی کلام اتنا ہی سچا اور خالص ہو گا۔ رسول کی تعریف سب ہی کرتے ہیں حجر، شجر، ملائکہ اور جن حتیٰ کہ اﷲ تبارک وتعالیٰ بھی رسول پر درود بھیجتا ہے اور بندوں کو تلقین وتاکید کرتا ہے کہ تم بھی میرے محبوب (صلی اﷲ علیہ و سلم) پر دردو بھیجو۔ یعنی نعت خالص ایمان وعقیدہ کی چیز ہوئی۔ سچی اور خالص نعت کے لئے فنکار کا صاحب ایمان اور عاشقِ رسول ہونا شرط اوّل قرار پائی۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اطاعت کے مقابلے میں ’’حُب رسولؐ ‘‘ اِس صنف سخن کے لئے زیادہ موزوں اور کار آمد ثابت ہوتا ہے جب تک کمالِ مصطفے ٰ صلی اﷲ علیہ و سلم پر یقین اتنا مستحکم نہ ہو کہ عقیدہ کے درجے تک پہنچ جائے تب تک نعت کا سچا اور کھر اشعر وجود میں نہیں آ سکتا۔ عقیدے کی محکمی اور یقین کا مل کی پختگی نعت کی تاثیر میں شدت اور سچّا حُسن پیدا کر تی ہے۔ مگر یہ بھی ملحوظ رہے کہ عقیدہ خود ساختہ نہ ہو، قرآن و حدیث اور اسلاف کے اقوال سے کشید کیا ہوا ہو۔سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ شاعری جہاں عشق رسول کی روح سے مملو ہے وہیں قرآن و حدیث سے ماخوذ مضامین، معجزات نبوی، تاریخی واقعات اور اصلاحی و تبلیغی خیالات بھی اسے تنوع اور رنگارنگی کی کیفیت عطا کرتے ہیں۔ اس پر مستزادیہ کہ فنی طور پر اُن کی نعتیہ شاعری ایسی بے شمار خوبیوں کی حامل ہے جن کی تلاش ایک کہنہ مشق اور بڑے شاعر سے کی جا سکتی ہے۔ تشبیہ، استعارہ تمثیل اور پیکر تراشی کی مثالیں تو بڑی آسانی سے مل سکتی ہیں، اُن کی شاعری میں وہ تکنیکیں بھی ملتی ہیں جو شعری مہارت کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ چھوٹی بحروں کی کاٹ، طویل بحروں کا ترنم، مشکل ردیفوں کا استعمال، ہندی کے مدھر بولوں کا کھپانا، نادر مگر خوش رنگ ترکیبیں گڑھنا اور محاوروں سے برجستگی اور روانی پیدا کرنا وغیرہ، ایسے حربے ہیں جن سے اشعار میں ادب کا بانکپن اور فکر و فن کی بہار اپنے جلوے بکھیرتی ہے چند مثالیں ملاحظہ کیجئے۔
گدازِ عشق کو ہم اجنبی رہنے نہیں دیتے
کہ سازِ دل بجز ذکرِ نبی رہنے نہیں دیتے
شعورِ زیست ملتا ہے فقط ان کے تصدق سے
وہ امت کو بحالِ خفتگی رہنے نہیں دیتے
جدھر اٹھتی ہیں نظریں سیر ہوجاتے ہیں دیوانے
وہ دیوانوں کی اپنے تشنگی رہنے نہیں دیتے
زباں کھلنے سے پہلے وہ عطا کرتے ہیں سائل کو
غلاموں کا کبھی دامن تہی رہنے نہیں دیتے
نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے
میں وابستہ ہوں دامانِ نبی سے
وہ میرے ہیں میں دیوانہ ہوں اْن کا
یہ کہتا پھر رہا ہوں میں سبھی سے
مری نسبت ہی سرمایہ ہے میرا
یہی پایا ہے میں نے زندگی سے
مئی عشقِ نبی سے مست یوں ہوں
نہ نکلوں عمر بھر اس بے خودی سے
سیدوحیدالقادری عارفؔ کی نعتیہ فکر ستھرا اسلوب بیان رکھتی ہے۔ اُن کے ذخیرۂ علم میں دین اور ادب، اردو اور فارسی و عربی دونوں کی رونقیں یکجا ہیں اس لئے اُن کے اسلوب و اظہار میں دونوں کے انعکاسات ملتے ہیں۔ وہ جہاں عربی و فارسی کے الفاظ اور ترکیبیں  استعمال کرتے ہیں وہیں اودھ اور دہلی کی شستگی سے بھی اُن کا لسانی انسلاک نظر آتا ہے۔ ثقیل اور بھاری بھرکم الفاظ کے ساتھ عام فہم، رواں اور بول چال کے آسان الفاظ بھی اُن سے مانوس نظر آتے ہیں۔سیدوحیدالقادری عارفؔ نے صنف نعت میں جدید شعری روایات کو بھی بڑی خوبی سے برتا ہے۔ رباعی، ہائیکو، تکونی اور آزاد نعتیہ شاعری بھی کی ہے۔ اُن کے اظہار و اسلوب میں جہاں تنوع اور رنگارنگی ہے وہین فنی اظہار میں شفافیت اور جذبے کی تپش بھی ہے۔ انہوں نے اپنی نعتوں کا خمیر عشق رسول صل اﷲ علیہ و سلم کی آنچ میں تیار کیا ہے۔ اس لئے اُن کا ہر شعر عشق رسول کے تاروں سے لپٹا نظر آتا ہے۔ اُن کے یہاں محض الفاظ کی بازی گری نہیں بلکہ جذبۂ عقیدت کا پر خلوص اظہار ہوتا ہے۔ ذیل کے اشعار پڑھئے اورسیدوحیدالقادری عارفؔکی نعت گوئی کے محاسن پر سر دھنئے ؂
درِ سرکار پر کچھ اس طرح دیوانے جائیں گے
خرد سے بے تعلق ہوش سے بیگانے جائیں گے
جہاں ہر درد ہر غم کی دوا تقسیم ہوتی ہے
دلِ صد چاک کو اپنے وہاں بہلانے جائیں گے
غلامی ان کے در کی باعثِ صد فخر ہے ہم کو
یہی ہے اصل اپنی ہم اسی سے جانے جائیں گے
مئی حبِ نبی کی اور بڑھ جائے گی سرشاری
جہاں کثرت ہے اس مئی کی اسی میخانے جائیں گے
کمالِ بے خودی میں بھی ادب ملحوظ رکھنا ہے
وگرنہ زندگی کے سب عمل مٹوانے جائیں گے
سکونِ قلب آتا ہے میسر ان کی چوکھٹ پر
مقدر میں لکھی سب الجھنیں سلجھانے جائیں گے
اسی در سے ہمیں ملجائے گا بخشش کا پروانہ
نبی کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہیں دنیا میں
اسی نسبت سے محشر میں بھی ہم پہچانے جائیں گے
کھنچے جائیں نہ کیوں سوئے مدینہ بار بار عارفؔ
جہاں پر شمع ہوگی اس جگہ پروانے جائیں گے
بط و نسبت کے تقاضوں کو نبھانے آئے
ہم ترے در پہ جبیں اپنی جھکانے آئے
خوابِ غفلت میں کٹی عمرِ گذشتہ ساری
اب مگر ہوش میں آنے کے زمانے آئے
ہم نے شہرت جو سنی تیری مسیحائی کی
یاد سب زخم نئے اور پرانے آئے
نہیں کہنا تھا کسی سے نہ کہا تھا ہم نے
وہ جو سنتا ہے اسے اپنی سنانے آئے
اس قسم کے بیشتر اشعار قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں کیونکہ نعتیہ شاعری میں یہ نیا لب و لہجہ اُنہیں متحیر کرتا ہے اور سیدوحیدالقادری عارفؔ کو معاصر نعتیہ ادب کے سب سے منفرد ممتاز اور نمایاں شاعر کی حیثیت سے متعارف کراتا ہے۔
سیدوحیدالقادری عارفؔ کا تاریخی شعور بہت پختہ ہے۔ اسلامی تاریخ اور انسانی اقدار کی خوشبو اُن کی نظموں کو نئی روشنی اور نئے رنگ آہنگ سے معطر کرتی ہے۔ اُنہوں نے تلمیحاتی انداز میں تاریخی واقعات کی طرف اشارہ ہی نہیں کیا، بلکہ تاریخ کے کسی واقعے یا واردات کو قصے کے پیرائے میں نقل کر دیا ہے تاکہ وہ واقعہ نہ صرف قاری کو مطلع کرے بلکہ اُس کے ذہن و دل پر اپنے اثرات بھی قائم کرے۔ 
سیدوحیدالقادری عارفؔ کے اسلوب، لہجے اور موضوعات کی انفرادیت کا یہ عالم ہے کہ اُن کی شاعری سب سے الگ پہچانی جاتی ہے۔ نعتوں کے مجموعوں سے قطع نظر صرف چندنعتیں‘‘ پڑھ جائیے، یہ حقیقت پہلی نظر میں سامنے آئے گی کہ ایک زندہ توانا اور متحرک شاعر جس کی قوت متخیلہ نامیاتی، زرخیز اور کائنات گرد ہے ان کا خالق ہے۔ سیدوحیدالقادری عارفؔ ؔ خوشبو، خوب صورتی اور روشنی کے متلاشی ایک بے چین و بے قرار شاعر ہیں۔ یہ بے چینی اور بے قراری شاید اس لئے ہے کہ متعفن فضا نے خوشبو وں کو جلاوطن کر دیا ہے۔ بدصورت کرداروں نے خوب صورتی کو کال کو ٹھری میں بند کر رکھا ہے تاریکی نے روشنی کو مقفل کر دیا ہے۔ شاعر بے چین اور بے قرار ہے۔ خوشبو، خوبصورتی، روشنی اور رنگ و آہنگ کے متلاشی سیدوحیدالقادری عارفؔ کے غموں، تنہائیوں، اشکوں، ویرانیوں، جدائیوں، دہشتوں اور تمناؤں کے معانی اسی تناظر میں تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ بہتر دنیا، بہتر ماحول اوربہتر زندگی کی جستجو سیدوحیدالقادری عارفؔ  کے آؤٹ لک کا خصوصی خاصہ ہے

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular