۔۔۔۔ حروف غیر عاملہ کا بیان ۔۔۔۔

حروف غیر عاملہ تیرہ ہیں جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
*۔۔۔۔۔۔۱۔حروف عطف:
حروف عطف کی تعریف:
وہ حروف جو اپنے مابعد کو ماقبل کے حکم میں جمع کرنے کیلئے آتے ہیں۔ ان کو حروف عطف کہتے ہیں ، انکے ماقبل کو معطوف علیہ اورما بعد کو معطوف کہتے ہیں ۔ حروف عطف نو ہیں۔

۱۔وَاؤ ۲۔ فَا ۳۔أَوْ ۴۔ أَمْ ۵۔ لاَ ۶۔بَلْ ۷۔حَتٰی ۸ لَکِنْ ۹۔ ثُمَّ

۱۔واؤ:
    یہ مطلق جمع کیلئے آتاہے اور معطوف ومعطوف علیہ میں ترتیب ضروری نہیں جیسے جَاءَ زَیْدٌ وَعُمَرُ اس کا مطلب ہے زَیْدٌ اورعُمَرُ دونوں آئے اب یہاں یہ ترتیب ضروری نہیں کہزَیْدٌ پہلے آیا ہو یا عُمَرُ ۔ 
۲۔فا:
     یہ ترتیب کیلئے آتاہے اور اس میں یہ بات ضروری ہوتی ہے کہ ماقبل کیلئے جو حکم ثابت ہواہے وہ فورا ہی مابعد کیلئے ثابت ہو اور اس میں تاخیر نہ ہو۔ جیسے جَاءَ زَیْدٌ فَبَکْرٌ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے زید آیا اوراس کے فوراً بعد بکر ۔
۳۔او ، ۴۔ام:
    یہ دونوں اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ انکے مابعد یا ماقبل میں کسی ایک کیلئے حکم ثابت ہے لیکن کس کیلئے ثابت ہے اس میں شک ہے۔ جیسے جَاءَ زَیْدٌ أَوْ عَمْر ٌو، جَاءَ زَیْدٌ أَمْ عَمْرٌ و، اس کا مطلب یہ ہے کہ زید یا عمر و میں سے کوئی ایک آیا ہے لیکن یہ معلوم نہیں کون آیا ہے۔
۵۔لا:
     یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کے مابعد سے حکم کی نفی کی گئی ہے۔ جیسے رَکِبَ السَّیِّدُ لاَ خَادِمُہ، اس کا مطلب یہ ہے کہ سردار سوار ہوا، اس کاخادم نہیں ۔
۶۔بَلْ:
     یہ معطوف علیہ سے حکم کی نفی کرکے معطوف کیلئے حکم کو ثابت کرنے کیلئے آتاہے۔ جیسے جَاءَ نِیْ زَیْدٌ بَلْ بَکْرٌ  (میرے پاس زید نہیں بلکہ بکر آیا)۔ 
۷۔حتی:
     حتی انتہائے غایت کیلئے آتا ہے۔ جیسے قَرَءَ الطُّلاَّبُ حَتَّی الأُستَاذُ (طالب علموں نے پڑھا حتی کہ استاد نے بھی پڑھا) ۔
۸۔لٰکِنَّ:
     یہ اس وہم کو دور کرنے کیلئے آتاہے جو ماقبل کلام سے پیدا ہواہو،یہ جس جملہ میں آئے اس سے پہلے یا اس کے بعد نفی کا ہونا ضروری ہے۔ جیسے مَا نَامَ زَیْدٌ لٰکِنْ عَمْرٌو
نَامَ۔(زید نہیں سویا لیکن عمرو سوگیا)۔ 
۹۔ثُمَّ:
    یہ بھی ترتیب کیلئے آتاہے لیکن اس میں یہ بات ضروری ہے کہ ماقبل کیلئے جو حکم ثابت ہے وہ مابعد کیلئے کچھ دیر کے بعدثابت ہو۔ جیسے اِسْتَیْقَظَ زَیْدٌ ثُمَّ بَکْرٌ (زیدجاگا پھر اس کے کچھ دیربعد بکر جاگا)۔

*۔۔۔۔۔۔۲۔حروف استفہام:
    ان کی پوری بحث کلمات استفہام میں گزر چکی ہے۔
*۔۔۔۔۔۔۳۔حروف استقبال:
    یہ وہ حروف ہیں جو فعل مضارع پر داخل ہوکر اس کو مستقبل کے معنی میں کر دیتے ہیں۔یہ دو ہیں۔۱۔سین۲۔سوف جیسے سَیَقُوْمُ (عنقریب وہ کھڑاہوگا)اورسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (عنقریب تم جان لوگے)۔
*۔۔۔۔۔۔۴۔حروف تاکید:
    وہ حروف ہیں جو جملہ پر داخل ہوتے ہیں اور اس میں تاکید کے معنی پیدا کردیتے ہیں۔ یہ دوہیں۔         
۱۔ نون تاکید        ۲۔ لام ابتدائیہ
۱۔نون تاکید:
    نون تاکید فعل پر داخل ہوتاہے۔جیسے لَیَضْرِبَنَّ ( ضرور ضرور مارے گا وہ ایک مرد)۔
۲۔لام ابتدائیہ: 
    یہ اسم اور فعل دونوں پر داخل ہوتا ہے جیسے:  (وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ) ترجمہ کنز الایمان:''اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے ''۔ اور  (لَوَجَدُوْا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا) ترجمہ کنز الایمان:''تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں''۔
نوٹ:
    اِنَّ اور أَنَّ بھی تاکید کیلئے استعمال ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کبھی قَدْ بھی تاکید کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔ 
ز۔۔۔۔۔۔۵۔حروف تفسیر:
    وہ حروف جواپنے ماقبل کی وضاحت کیلئے آتے ہیں انہیں حروف تفسیر کہا جاتاہے۔ انکے ماقبل کو مُفَسَّر اورمابعد کو مفسِّر کہتے ہیں ۔یہ دو حرف ہیں ۔     
۱۔ أَیْ        ۲۔أَنْ 
۱۔أَیْ: 
    یہ مفرداور جملہ دونوں کی تفسیر بیان کرتاہے جبکہ أَنْ صرف جملہ کی (مفرد کی مثال)۔ جیسے رَأَیْتُ لَیْثًا أَیْ أَسَدًا  (میں نے لیث یعنی شیر کو دیکھا)اور ( جملہ کی مثال ) اِنْقَطَعَ رِزْقُہ، أَیْ مَاتَ  (اسکا رزق منقطع ہوگیایعنی وہ مر گیا)۔
۲۔اَنْ: 
    جیسے  (وَنَادَیْنٰہ أَنْ یَّا اِبْرَاھِیْمُ ) ترجمہ کنز الایمان:''ہم نے اسے نداء دی کہ
اے ابراہیم''۔
*۔۔۔۔۔۔۶۔حروف تحضیض :
    حروف تحضیض سے مراد وہ حروف ہیں جنکے ذریعے کسی کام پر ابھاراجائے اوروہ چارہیں۔     ۱۔ ھَلاَّ : جیسے ھَلاَّ ضَرَبْتَ زَیْدًا  (تونے زید کو کیوں نہیں مارا؟) ۔

    ۲۔ أَلاَ:     أَلاَ تَحْفَظُوْنَ دُرُوْسَکُمْ  (تم اپنا سبق یاد کیوں نہیں کرتے؟)۔

    ۳۔ لَوْلاَ:   لَوْلاَ تَتْلُوْالْقُرْآنَ (تو قرآن کی تلاوت کیوں نہیں کرتا؟) ۔

    ۴۔ لَوْمَا:   لَوْمَا تُصَلِّیَ الصَّلٰوۃَ (تونماز کیوں نہیں پڑھتا؟) ۔
ز۔۔۔۔۔۔۷۔حروف مصدریہ:
    وہ حروف جو جملہ کو مصدر کے معنی میں کردیں ان حروف کو حروف مصدریہ کہتے ہیں۔
۱۔ مَا         ۲۔ اَن         ۳۔ اَنَّ 
مَا، اَ نْ:
    مااورا َن دونوں جملہ فعلیہ پر داخل ہوتے ہیں ۔جیسے ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ  (زمین ان پر تنگ ہوگئی کشادہ ہونے کے باوجود) اس مثال میں رَحُبَتْ بِرُحْبِھَامصدر کے معنی میں ہے۔ اور یَفْرَحُکَ أَنْ تَفُوْزَ( تیرا کامیاب ہونا تجھے خوش کرتاہے) اس مثال میں اَنْ تَفُوْزَ ، فَوْزُکَ کے معنی میں ہے۔

اَنَّ:
    عَلِمْتُ أَنَّکَ قَائِمٌ (میں نے تیرے کھڑے ہونے کو جانا) اس مثال میںأَنَّکَ قَائِمٌ ، قِیَامُکَ کے معنی میں ہے۔ 
ز۔۔۔۔۔۔۸۔حرف رَدع:
    یہ وہ حرف ہے جو ڈانٹنے اورجھڑکنے اورمتکلم کو اس کے عمل سے روکنے کے لئے آتاہے یہ صرف ایک حرف ہے۔ 
    کَلاَّ:۔ کبھی حَقًّاکے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ اورجملہ کی تحقیق کیلئے آتاہے۔ جیسے (کَلاَّ اِنَّ الاِنْسَانَ لَیَطْغٰی ) ترجمہ کنزالا یمان:''ہاں ہاں بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے''۔ کبھی یہ ما قبل کی تردید کے لیئے آتا ہے بشرطیکہ اس پر وقف کیا جائے ۔ جیسے کوئی کہے فُلاَنٌ یَبْغَضُکَ (فلاں شخص تجھ سے بغض ر کھتا ہے) تو اس کے جواب میں کہا جائے: کَلاَّ یعنی ہر گز نہیں۔
*۔۔۔۔۔۔۹۔ حرف توقع :
    وہ حرف جو ما ضی پر داخل ہو کر اس کو حال کے قریب کر دے ۔یہ صرف قَدْ ہے ۔ اس میں تحقیق کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور اگر یہ مضارع پر داخل ہو تو اکثر تقلیل کا معنی دیتا ہے ۔    قَدْ رَکِبَ (وہ ابھی ابھی سوار ہواہے )، قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ (تحقیق مؤمنین فلاح پا گئے) اِنَّ الْکَذُوْبَ قَدْ یَصْدُقُ  (جھوٹا کبھی کبھی سچ بولتا ہے )۔
*۔۔۔۔۔۔۱۰۔حروف جواب:
    وہ جو ما قبل کلام کے اثبات کے لیے آتے ہیں وہ چھ ہیں ۔

            ۱۔نَعَمْ ۔۲۔بلٰی۔۳۔أِیْ۔۴۔جَیْرِ۔۵۔أَجَلْ۔۶۔ اِنَّ
۱۔نعم:
     یہ کلام سابق کو تسلیم کرنے کا فائدہ دیتا ہے جیسے کوئی کہے أَ جَاءَ زَیْدٌ ؟(کیا زید آگیا) تو جواب میں کہا جائے نَعَمْ (ہاں)۔
۲۔بلٰی:
     اگر نفی کے جواب میں آئے تو اثبات کا فائدہ دیتا ہے جیسے أَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟( کیا میں تمہارا رب نہیں ) ؟ ۔تو اس کے جواب میں کہا بَلٰی (کیوں نہیں)۔
۳۔اِیْ: 
    یہ قسم کے لیے آتاہے جیسے قُلْ اِیْ وَرَبِّیْ اِنَّہ، لَحَقٌّ ۔  (آپ فرما دیجئے کہ میرے رب کی قسم بے شک وہ ضرور حق ہے )۔

۴ جَیْرِ ۔۵ اَجَلْ ۔۶ اِنَّ:

     یہ تینوں خبر دینے والے کی تصدیق کے لیے آتے ہیں خواہ وہ خبر مثبت ہو یا منفی ،
جیسے اگر کوئی کہے أَ جَاءَ کَ زَیْدٌ ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے جَیْرِ،أَجَلْ، اِنَّ تو اسکا مطلب ہوگا جی ہاں آپ نے ٹھیک کہا ۔منفی خبر کے جواب میں جیسے أَلَمْ یَأْ تِکَ زَیْدٌ؟ کے جواب میں جَیْرِ، أَجَلْ ،اِنَّ کہا جائے ۔یہ تینوں بہت قلیل الاستعمال ہیں۔
ز۔۔۔۔۔۔۱۱۔حروف تنبیہ:
    یہ تین ہیں جیسے:
    ۱۔أَلاَ :  (أَلاَاِنَّ أَوْلِیَاءَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ) ترجمہ
کنزالایمان: ''سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم ''۔     ۲ ۔أَمَا:     أَمَا لاَ تَفْعَلْ  (خبردار تو یہ نہ کر) ۔

    ۳۔ھَا    :    ھَا زَیْدٌ قَائِمٌ  (خبر دار زید کھڑا ہے) ۔
*۔۔۔۔۔۔۱۲۔حروف زیادت:
    یہ ایسے حروف ہیں جوفعل واسم دونوں کے شروع میں آتے ہیں اور ان کے کوئی معنی نہیں ہوتے ،ان سے مقصود کلام کی زینت ہوتی ہے ۔یہ آٹھ ہیں ۔

۱۔اِنْ ۔ ۲۔أَنْ۔ ۳۔مَا۔ ۴۔لاَ۔ ۵۔مِنْ ۔ ۶۔کَافْ۔ ۷۔بَا ۔ ۸۔لاَمْ

جیسے( ۱)۔۔۔۔۔۔ مَا اِنْ زَیْدٌ قَائِمٌ  (زیدنہیں کھڑا )۔     (۲)۔۔۔۔۔۔فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِیْرُ  (جب خوش خبری دینے والاآیا)۔  (جب خوش خبری دینے والاآیا)۔
    (۳)۔۔۔۔۔۔ اِذَا مَاصُمْتَ صُمْتُ  (جب تو روزہ رکھے گامیں بھی روزہ رکھوں گا )۔
    (۴)۔۔۔۔۔۔ مَا ھَرَبَ زَیْدٌ وَلاَ عَمْرٌو  (نہ زید بھاگا اور نہ ہی عمرو ) ۔
    (۵)۔۔۔۔۔۔ مِنْ (۶)کَافْ (۷)بَا (۸)لاَمْ۔ ان چاروں کا ذکر حروف جر کی بحث میں گزر چکا ہے ۔ نیز یہ حروفِ عاملہ میں بھی ہیں۔
ز۔۔۔۔۔۔۱۳۔ الف لام :
    اس کی مکمل تفصیل الف لام کے سبق میں دیکھیں۔


SHARE THIS

Author:

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Comments:

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




  • غرائب القرآن کے ماخذو مراجع
    غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

         کتاب کانام مصنف کے نام مطبوعہ تفسیر معالم التنزیل للبغوی علامہ ابومحمد حسین بن مسعود دار الکتب العلمیۃ بیروت  تفسیر ابن کثیر علامہ ابو الفداء اسماعیل بن...

  • عجائب القرآن کے ماخذو مراجع
    عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

       کتاب کا نام مصنف کا نام     مطبوعہ قرآن مجید کلام باری تعالیٰ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور       کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ا علیٰ حضرت...

  • علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ
    علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات...

  • اللہ تعالٰی کی چند صفتیں
    اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

    کفارِ عرب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے کوئی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نسب اور خاندا ن کیا ہے؟ اس نے ربوبیت کس سے میراث میں پائی ہے؟ اور اس کا وارث...

  • کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن
    کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

    کفار قریش میں سے ایک جماعت دربارِ رسالت میں آئی اور یہ کہا کہ آپ ہمارے دین کی پیروی کریں تو ہم بھی آپ کے دین کا اتباع کریں گے۔ ایک سال آپ ہمارے معبودوں (بتوں)کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبود...

Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




  •    ماخذ مراجع
    ماخذ مراجع

    (۱)     رو ح البیان          کانسی رو ڈ کوئٹہ (۲)    تفسیر نعیمی              مکتبہ اسلامیہ...

  • مال کے لئے الٹ پلٹ:
    مال کے لئے الٹ پلٹ:

        تا جر کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا مال بلا وجہ رکانہ رہے جو لوگ گرانی کے انتظار میں مال قید کر دیتے ہیں۔ وہ سخت غلطی کرتے ہیں کہ کبھی بجائے مہنگائی کے مال سستا ہوجاتا ہے اور اگر...

  • مسلمان خریدارو ں کی غلطی:
    مسلمان خریدارو ں کی غلطی:

        ہندو مسلمان تاجر کو دیکھنا چاہتے ہی نہیں ۔ انہیں مسلمان کی دکان کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں کسی مسلمان نے دکان نکالی تو  آس پاس کے ہندودکانداروں نے چیز...

  • ایک سخت غلطی:
    ایک سخت غلطی:

    اولاً تو مسلمان تجارت کرتے ہی نہیں اور کرتے بھی ہیں تو اصولی غلطیوں کی وجہ سے بہت جلد فیل ہوجاتے ہیں ، مسلمانوں کی غلطیاں حسب ذیل ہیں۔ (۱) مسلم دکانداروں کی بد خلقی: کہ جو گا ہک ان کے پاس ایک...

  • تجارت کے اصول:
    تجارت کے اصول:

        تجارت کے چند اصول ہیں جس کی پابند ی ہر تا جر پر لازم ہے یعنی پہلے ہی بڑی تجارت شروع نہ کردو بلکہ معمولی کام کو ہاتھ لگاؤ ۔ آپ حدیث شریف سن چکے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک...

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




  • غرائب القرآن کے ماخذو مراجع
    غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

         کتاب کانام مصنف کے نام مطبوعہ تفسیر معالم التنزیل للبغوی علامہ ابومحمد حسین بن مسعود دار الکتب العلمیۃ بیروت  تفسیر ابن کثیر علامہ ابو الفداء اسماعیل بن...

  • عجائب القرآن کے ماخذو مراجع
    عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

       کتاب کا نام مصنف کا نام     مطبوعہ قرآن مجید کلام باری تعالیٰ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور       کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ا علیٰ حضرت...

  • علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ
    علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات...

  • اللہ تعالٰی کی چند صفتیں
    اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

    کفارِ عرب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے کوئی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نسب اور خاندا ن کیا ہے؟ اس نے ربوبیت کس سے میراث میں پائی ہے؟ اور اس کا وارث...

  • کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن
    کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

    کفار قریش میں سے ایک جماعت دربارِ رسالت میں آئی اور یہ کہا کہ آپ ہمارے دین کی پیروی کریں تو ہم بھی آپ کے دین کا اتباع کریں گے۔ ایک سال آپ ہمارے معبودوں (بتوں)کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبود...

Khawab ki Tabeer




  • khwab mein Jhanda  dekhna
    khwab mein Jhanda dekhna Jhanda safaid dekhnatwangar sahibe izzat hone ki dalil hai. Jhanda jard beemar ho kar sehat hasil ho. Jhanda siyahkisi tataf  jaye jafaryaab ho log izzat kare.
  • khwab mein Rogan  dekhna
    khwab mein Rogan dekhna

    Rogan sar par malnasare kam thik taur par ho. Rogani rozi dekhnamaal halaal milne ki dalil hai. Rogan jard dekhnaranz va gam ki nishani. Rogan siyah dekhnasafar se salamat gar wapas aane ki...

  • khwab mein Zameen dekhna
    khwab mein Zameen dekhna

    Zeene par chadnatarkki ki nishani. Zamin ko hilte dekhnahamal aurat dekhe. iskate amal ho aur mard dekhe to hakim ke itaab mai girftar ho. Zamin ko bote dekhnatamaam maksade deen milne ki dalil...

  • khwab mein Zewar  dekhna
    khwab mein Zewar dekhna izzat va aabru pane pane ki dalil hai.
  • khwab mein Sirhanah dekhna
    khwab mein Sirhanah dekhna Khwab main sirhanah zawaj, mahfooz maal, raazdaar aurat aur taabo takaan se raahat haasil hone ki daleel hai.

Most Popular