Showing posts with label جہنم میں لے جانے والے اعمال. Show all posts
Showing posts with label جہنم میں لے جانے والے اعمال. Show all posts
ودیعت کا بیان

ودیعت کا بیان

باب الوديعۃ
ودیعت کا بیان 
کبيرہ نمبر238:     ود یعت (امانت) میں خیانت کرنا
کبيرہ نمبر239:     رہن رکھی ہوئی چیز میں خیانت کرنا
کبيرہ نمبر240:     کرائے پرلی ہوئی چيزميں خيانت کرنا

    اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا

ترجمۂ کنز الايمان: بے شک اللہ تمہيں حکم دیتاہے کہ امانتيں جن کی ہيں انہيں سپرد کرو۔(پ5، النساء:58)
(1)۔۔۔۔۔۔يہ آيت مبارکہ حضرت سیدنا عثمان بن طلحہ حجبی داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق ميں نازل ہوئی، وہ فتح مکہ کے دن خانہ کعبہ کے خادم تھے، جب نبی کريم،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم خانہ کعبہ شریف ميں داخل ہونے لگے تو انہوں نے کعبہ کا دروازہ بند کر ديا اور یہ گمان کرتے ہوئے چابی دينے سے انکار کر ديا اگر وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کو اللہ عزوجل کا رسول مانتے تو ہر گز انکار نہ کرتے حضرت سيدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اُن کے ہاتھ کو مروڑا (یعنی بل ديا) اور ان سے چابی لے لی اور کعبہ کا دروازہ کھول ديا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کعبہ شريف ميں داخل ہوئے اور اس ميں نماز پڑھی، پھر جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم باہر تشريف لائے تو حضرت سيدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:''چابی مجھے عنايت فرمایئے تا کہ ميں کعبہ شریف کی خدمت اور اس ميں حاجيوں کوپانی پلانے کی ذمہ داری لے لوں۔ تو اللہ عزوجل نے يہ آيت مبارکہ نازل فرمائی۔

    پس رسول اکرم، شفيع مُعظَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے حضرت سيدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو حضرت سيدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چابی واپس دينے اور اُن سے معذرت کرنے کا حکم ديا، اس پرحضرت سیدناعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:''پہلے تم نے نفرت دلائی، ايذاء پہنچائی اور اب نرمی کرنے لگے ہو۔'' تو حضرت سيدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے  ارشاد فرمایا:''اللہ عزوجل نے تیرے بارے ميں قرآنِ کریم کی آیت مبارکہ نازل فرمائی ہے۔'' پھر انہيں يہ آيت مبارکہ سنائی تو وہ مسلمان ہو گئے،اور چابی انہيں کے پاس رہی جب ان کے انتقال کا وقت ہوا تو انہوں نے وہ چابی اپنے بھائی شيبہ کے حوالے کر دی اور اب قيامت تک کعبہ کی خدمت انہيں کی اولاد ميں رہے گی، کيونکہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہيں چابی عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمايا تھا:''اسے ہميشہ کے لئے لے لو تم سے يہ چابی ظالم کے علاوہ کوئی نہيں چھين سکتا۔''

     (المعجم الاوسط ، الحدیث: ۴۸۸ ، ج۱ ، ص ۱۵۱)

    اور ايک قول يہ ہے :''اس آیتِ کریمہ ميں تمام امانتيں مراد ہيں۔''حافظ ابو نُعَيم''حِلْيَۃُ الْاَوْلِیَاء'' ميں فرماتے ہيں : ''جن علماء نے ارشاد فرمایا ہے کہ يہ آيت مبارکہ ہر قسم کی امانتوں کو عام ہے ان ميں حضرت سيدنا براء بن عازب، عبداللہ بن مسعود اور اُبی ّ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی شامل ہيں، یہ سب فرماتے ہيں:''وضو، جنابت، نماز، زکوٰۃ، روزہ، ناپ تول اور وديعت ہر چيز ميں امانت ہے۔''
    حضرت سيدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہيں :اللہ عزوجل نے تنگدست يا فراخ دست کسی کو بھی امانت روک لينے کی رخصت نہيں دی۔''
    حضرت سيدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہيں:اللہ عزوجل نے انسان کی شرمگاہ کو پيدا کياتو فرمايا:''يہ ايک امانت ہے جو ميں نے تيرے سپرد کی ہے، اسے حق کے علاوہ قابو ميں رکھ۔''
٭۔۔۔۔۔۔کسی کا قول ہے :''انسان کا معاملہ یا تو اپنے رب عزوجل کے ساتھ یہ ہے کہ وہ مامورات پر عمل کرے اور منہیات سے اجتناب کرے، کیونکہ انسان کا ہر عضو اللہ عزوجل کی امانت ہے، زبان ميں امانت يہ ہے کہ انسان اسے جھوٹ، غيبت، چغلی، بدعت اور بدکلامی ميں استعمال نہ کرے، آنکھ ميں امانت يہ ہے کہ اسے حرام اشياء ديکھنے ميں استعمال نہ کرے، کانوں ميں امانت يہ ہے کہ انہيں حرام سننے کے لئے استعمال نہ کرے، اسی طرح ديگر اعضاء ہيں۔

٭۔۔۔۔۔۔یا پھر انسان کا معاملہ لوگوں کے ساتھ یہ ہے کہ وہ ان کی امانتيں لوٹائے اور ناپ تول وغيرہ ميں کمی نہ کرے،
٭۔۔۔۔۔۔ اور اُمراء رعايا کے ساتھ عدل کریں،
٭۔۔۔۔۔۔علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا عوام کے ساتھ معاملہ يوں ہے کہ وہ انہيں اطاعت، اخلاقِ حسنہ اور اعتقاداتِ صحيحہ کی ترغيب ديں اور نافرمانی اور ديگر برائيوں جيسے تعصبات باطلہ سے روکيں،
٭۔۔۔۔۔۔عورت اپنے شوہر کے مال اوراس کی آبرو ميں خيانت نہ کرے،
٭۔۔۔۔۔۔غلام اپنے آقا کی خدمت ميں کوتاہی نہ کرے اور نہ اس کے مال ميں خيانت کرے،
(2)۔۔۔۔۔۔بے شک اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے اس فرمانِ عالیشان ميں اس بات کی طرف اشارہ فرمايا کہ''تم ميں سے ہر ايک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے ميں پوچھا جائے گا۔''

   ( صحیح البخاری ،کتاب الجمعۃ ، باب الجمعۃ فی القری المدن، الحدیث:۸۹۳، ص ۷۰)

٭۔۔۔۔۔۔نفس کی امانت يہ ہے کہ اس کے لئے اسی چيز کو اختيار کرے جودين ودنيا ميں اس کے لئے نفع بخش اور بہتر ہو اور يہ کہ اس کی خواہشات اور ارادوں کی مخالفت ميں کوشش کرے کيونکہ يہ اپنے پيروکار کے لئے دنيا و آخرت ميں زہر قاتل ہيں۔
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ايسے خطبے بہت کم دئيے جن ميں يہ بات ارشاد نہ فرمائی ہو :''جو امانتدار نہيں اس کا کوئی ايمان نہيں اور جس کا عہد نہيں اس کا کوئی دين نہيں۔''

 ( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند انس بن مالک بن النضر،الحدیث:۱۲۳۸۶ج ۴،ص۲۷۱)

 (4)۔۔۔۔۔۔اللہ عزوجل کافرمانِ عالیشان ہے کہ،

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللہَ وَالرَّسُوۡلَ وَتَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿27﴾

ترجمۂ کنز الايمان:اے ايمان والو اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں ميں دانستہ خيانت۔(پ9،الانفال:27)

    يہ آيت مبارکہ حضرت سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے ميں نازل ہوئی، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بنو قريظہ کے محاصرے کے وقت انہيں بنو قريظہ کی طرف بھيجا کيوں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اہل وعیال یہودیوں کے قبیلے میں رہتے تھے اس لئے وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ميلان رکھتے تھے، یہودیوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا:''اگر ہم محمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کے حکم کے مطابق نيچے اتر آئيں تو تمہارے خيال ميں ہمارے ساتھ کيا معاملہ ہو گا؟'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ہاتھ سے گردن کی طرف اشارہ کيا کہ تمہيں قتل کر ديا جائے گا لہذا ايسا مت کرنا، يہ بات اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے خيانت تھی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں :''ميرے قدم اپنے مقام سے ہٹے بھی نہ تھے کہ ميں سمجھ گیاکہ ميں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے خيانت کا مرتکب ہو چکا ہوں۔'' پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد ميں حاضر ہوئے اور اپنے آپ کو باندھ ديا اور قسم اٹھائی کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے علاوہ مجھے کوئی نہ کھولے گا، پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی طرح بندھے رہے يہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ان کی توبہ کی قبولیت کا فرمان نازل فرمايا تو خاتَمُ الْمُرْسَلِین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے دستِ مبارک سے انہيں رسيوں سے کھول کر آزاد فرمايا۔
    حضرت سيدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہيں:''امانات سے مراد وہ اعمال ہيں جن پر اللہ عزوجل نے بندوں کو امین مقرر کيا ہے۔'' اوردیگرکا قول ہے :'' اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے خيانت کرنے سے مراد ان دونوں کی نافرمانی ہے۔''

    جہاں تک امانتوں ميں خيانت کرنے کامعاملہ ہے توہرايک اللہ عزوجل کے احکامات پرامين ہے اور اللہ عزوجل اسے اپنی بارگاہ ميں اس طرح کھڑاکریگاکہ اللہ عزوجل اور بندے کے درميان کوئی ترجمان نہ ہوگا،پھراس بندے سے اس کے بارے ميں پوچھے گا کہ اس نے ان احکام ميں اللہ عزوجل کی امانت کی حفاظت کی يا انہيں ضائع کر ديا؟ لہذا انسان کو چاہے کہ وہ اللہ عزوجل کے سوالات کے جوابات تيار کرے کيونکہ جب اللہ عزوجل ان احکام کے بارے ميں پوچھے گا تو اس دن اس کے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہ ہو گی،پس اسے چاہے کہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان ميں غور کرے کہ،

وَ اَنَّ اللہَ لَا یَہۡدِیۡ کَیۡدَ الْخَآئِنِیۡنَ ﴿52﴾

ترجمۂ کنزالايمان:اوراللہ دغا بازوں کا مکر نہيں چلنے ديتا۔(پ12،يوسف:52)
    یعنی امانت میں خیانت کرنے والے کاکوئی حیلہ اسے ہدایت کے مقام پرفائزنہیں کرسکتا بلکہ اسے دنیا میں بھی راہِ ہدایت سے محروم کردیتا ہے اور آخرت میں بھی ساری انسانیت کے سامنے رسوا کرے گا، خیانت اگرچہ ہر چیزمیں قبیح ہے لیکن بعض چیزوں میں دوسری چیزوں کے مقابلے میں زیادہ قبیح ہے، کیونکہ جو شخص روپے پیسے کے معاملے میں تجھ سے خیانت کرے وہ اس شخص کی مثل نہیں ہو سکتا جوتيرے اہل وعیال کے معاملے میں خیانت کا مرتکب ہو، نیز اللہ عزوجل نے امانت کے معاملے کو انتہائی عظمت دی اور اس کی تاکید بیان کی ،پس ارشادفرمایا:


اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا الْاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ72﴾

ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ہم نے اما نت پیش فرما ئی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھا نے سے انکا ر کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھا لی،بے شک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے ۔(پ22، الاحزاب:72)
(5)۔۔۔۔۔۔منقول ہے :''اللہ عزوجل نے اس دنيا کو ايک باغ کی طرح پيدا کيا پھر اسے 5چيزوں:علماء کے علم،حکمرانوں کے عدل،صالحين کی عبادت،مشورہ دينے والے کی خيرخواہی،اورامانت کی ادائيگی سے مزین فرمایا، تو ابليس ملعون نے علم کے ساتھ چھپانے، عدل کے ساتھ ظلم، عبادت کے ساتھ ريا کاری، خير خواہی کے ساتھ بدديانتی اور امانت کے ساتھ خيانت کو ملا ديا۔''
(6)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''مؤمن ہر عادت اپنا سکتا ہے مگر جھوٹااور خائن (یعنی خیانت کرنے والا )نہیں ہوسکتا۔''

(جامع الاحادیث ، قسم الاقوال ، باب الاکمال من الجامع الکبیر، الحدیث: ۲۸۵۸۵،ج۹ ، ص ۳۰۱)

(7)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''سب سے پہلے لوگوں سے امانت اٹھائی جائے گی،آخرمیں نماز باقی رہ جائے گی اور بہت سے نمازی ايسے ہوں گے جن ميں کوئی بھلائی نہ ہو گی۔''

( مجمع الزوائد ،کتاب الفتن ، باب رفع الامانۃ والحیاء ، الحدیث: ۱۲۴۲۷ ، ج ۷ ، ص ۶۲۲)

(8)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق وامین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جہنميوں ميں ايسے شخص کو بھی شمار فرمايا جس کی خواہش اور طمع اگرچہ کم ہی ہو مگر وہ اسے خيانت کا مرتکب کر دے۔

( صحیح مسلم ،کتاب الجنۃ ، باب الصفات التی یعرف بھا فی الدنیا ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۷۲۰۷، ج۱۱۷۴)


(9)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دِلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''تم ميری 6باتيں قبول کر لو ميں تمہارے لئے جنت قبول کر لوں گا: (۱)جب تم کوئی بات کرو توجھوٹ نہ بولو (۲)جب وعدہ کرو تواس کی خلاف ورزی نہ کرو (۳)جب امانت رکھی جائے تو اس ميں خيانت نہ کرو(۴)اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھو (۵)اپنے ہاتھوں کو (حرام سے )روکے رکھواور (۶)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔''

(شعب الایمان ، باب فی الایفاء بالعقود ،الحدیث: ۴۳۵۵ ،ج۴، ص ۷۸)

(10)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''تم مجھے 6 چيزوں کی ضمانت دے دو ميں تمہيں جنت کی ضمانت ديتا ہوں: (۱)جب بات کرو توسچ بولو (۲)جب وعدہ کرو توپورا کرو (۳) جب امین بنائے جاؤتوامانت اداکرو(۴)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو(۵)اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھو اور (۶)اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو۔''

 ( المسند للاما م احمد بن حنبل ،حدیث عبادہ بن الصامت، الحدیث: ۲۲۸۲۱، ج۸، ص ۴۱۲)

(11)۔۔۔۔۔۔ ایک روایت میں ہے کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''تم مجھے6چيزوں کی ضمانت دے دو ميں تمہيں جنت کی ضمانت ديتا ہوں: (۱)نماز(۲)زکوٰۃ(۳)امانت (۴)شرمگاہ(۵)پيٹ اور (۶)زبان۔''

       ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۴۹۲۵ ، ج ۳ ، ص۳۹۶)

(12)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا حذيفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''امانتداری لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں اُتری، پھر قرآنِ حکیم نازل ہوا تو انہوں نے قرآن پاک سيکھا اور سنت سيکھی۔'' پھرسرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہميں امانت اٹھنے کے بارے ميں بتايا اورارشاد فرمايا: ''آدمی سوئے گا تو امانت اس کے دل سے کھينچ لی جائے گی اور اس کا نشان ايسا رہ جائے گا جيسے پھنسی کے دھبے جب وہ اچھی ہو جاتی ہے اور پھر آدمی سوئے گا تو امانت اس کے دل سے کھينچ لی جائے گی اور اس کا نشان آبلے کے نشان کی طرح رہ جائے گاجیسے تُو کوئی انگارہ اپنے پاؤں پر رکھے تو جِلد پھول جائے اور تُو اُسے آبلے کی صورت میں پائے حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا ۔''


( صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب رفع الامانۃ والایمان۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۳۶۷ ، ص ۷۰۲)

(13)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہميں بتايا:''جو امانتدار نہیں اس کا کوئی ايمان نہيں اور جس کا و ُضُونہیں اس کی کوئی نماز نہيں۔''

     ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۲۲۹۲ ، ج۱ ، ص ۶۲۶)

(14)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا علی المرتضیٰ کَرَّ مَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہيں :''ہم سرکارِ مدینہ،راحت قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ ميں حاضر تھے کہ مدینے کے بالائی حصّے کی بستی کے ايک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی:''يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے اس دين کی سب سے مشکل اور سب سے آسان چيز کے بارے ميں بتایئے؟'' تو نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اس کی آسان ترین چیز یہ ہے کہ ،اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) اللہ عزوجل کے بندے اور رسول ہيں،اور اے بالائی بستی والے ! اس کی مشکل ترین چیز امانت ہے، بے شک جو امانت ادا نہيں کرتا اس کا نہ کوئی دين ہے، نہ نماز اور نہ ہی زکوٰۃ۔'' ( البحر الزخار بمسند البزار ،مسندعلی بن ابی طالب،الحدیث: ۸۱۹،ج۳ ، ص ۶۱)

(15)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''تم ميں سب سے بہتر ميرا زمانہ ہے، پھر وہ لوگ جو ا ن سے ملے ہوں گے، پھر وہ جو ان سے ملے ہوں گے، پھر ان کے بعد ايسے لوگ آئيں گے جو گواہی ديں گے تو ان کی گواہی قبول نہ کی جائے گی، خيانت کريں گے اور امانت دار نہيں ہوں گے، نذريں مانيں گے اورپوری نہيں کريں گے اور ان ميں موٹاپا ظاہر ہو گا۔''


 ( صحیح مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ ، باب فضل الصحابہ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۶۴۷۵، ص ۱۱۲۲)

(16)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''منافق کی 3علامتيں ہيں: (۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور (۳)جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس ميں خيانت کرے۔''
(17)۔۔۔۔۔۔مسلم شريف کی روايت ميں يہ الفاظ زائد ہیں:''اگرچہ روزے رکھتا ہو، نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو ۔''

(صحیح مسلم ،کتاب الایمان ، باب خصال المنافق ، الحدیث: ۲۱۴ ، ص۶۹۰)

(18)۔۔۔۔۔۔حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''4خصلتيں ايسی ہيں جس ميں ہوں گی وہ پکا منافق ہو گا اور جس ميں ان ميں سے کوئی ايک خصلت ہو گی تو اس ميں منافقت کی بھی ايک خصلت ہو گی يہاں تک کہ اسے چھوڑ دے: (۱)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خيانت کرے (۲)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۳)جب عہد کرے تو بد ديانتی کرے اور (۴)جب جھگڑا کرے تو گالياں دے۔''

 (صحیح البخاری ،کتاب الایمان ، باب علامات المنافق ، الحدیث: ۳۴، ص۵ )


(19)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دعا مانگا کرتے تھے : ''اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُوْعِ فَاِنَّہ، بِئْسَ الضَّجِیْع وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخِیَانَۃِ فَاِنَّھَابِئْسَتِ الْبطَانَۃ'' یعنی اے اللہ عزوجل! ميں بھوک سے تيری پناہ چاہتا ہوں کيونکہ يہ بہت بُرا دوست ہے اور خيانت سے پناہ چاہتا ہوں کيونکہ يہ بہت بری چھپی ہوئی خصلت ہے۔''

( سنن ابی داؤد ،کتاب الوتر، باب الاستعاذۃ ،الحدیث: ۱۵۴۷، ص۱۳۳۷)

(20)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جب بھی ہميں خطبہ ديا يہ بات ضرور ارشاد فرمائی :''جو امانتدار نہيں اس کا کوئی ايمان نہيں اور جو وعدہ پورا نہيں کرتا اس کا کوئی دين نہيں۔''

( المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند انس بن مالک بن النضر ، الحدیث: ۱۲۳۸۶،ج۴،ص ۲۷۱)

(21)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:''ميری اُمت جب 15خصلتيں اپنا لے گی تو اس پر آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوں گی۔'' عرض کی گئی:''يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ 15برائیاں کون سی ہيں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''(۱)جب غنيمت کا مال دولت سمجھا جائے (۲)امانت کو غنيمت اور (۳) زکوٰۃ کو قرض سمجھا جانے لگے (۴)شوہر اپنی بيوی کی اطاعت کرے اور (۵)اپنی ماں کی نافرمانی کرے (۶)اپنے دوست سے اچھا سلوک کرے اور (۷)اپنے باپ پر ظلم کرے (۸)مسجدوں ميں آوازيں بلند ہونے لگيں(۹)قوم کا ذليل ترين شخص اس کا سردار بن جائے (۱۰)آدمی کی عزت اس کے شر سے بچنے کے لئے کی جائے (۱۱)شراب نوشی کی جائے (۱۲)جھوٹی گواہی دی جائے (۱۳)ريشم پہنا جائے(۱۴)گانے والی عورتیں اور آلات موسیقی رکھے جائیں اور (۱۵)اس اُمت کے پچھلے (بدبخت) لوگ اگلے(نیک)لوگوں پر لعنت بھيجيں تو اس وقت سرخ آندھی، زمين ميں دھنسنے ياچہرے بدلنے کا انتظار کريں۔''

( جامع الترمذی ،ابواب الفتن ، باب ماجاء فی علامۃ حلول ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث:۲۲۱۰،ص ۱۸۷۴،بدون'' وشہد بالزور '')

(22)۔۔۔۔۔۔ايک اور روايت ميں ہے:''تو اس وقت ميری اُمت آندھی، شکليں بگڑ جانے، زمين ميں دھنس جانے، قذف (یعنی پتھروں کی بارش)اور ايسی نشانيوں کا انتظار کرے، گويا ايک ہارہے جس کا دھاگاکاٹ دياگيا ہے اوراس کے موتی ايک ايک کرکے مسلسل گررہے ہيں ۔''

     ( المرجع السابق، الحدیث:۲۲۱۱ ، ص ۱۸۷۴)

(23)۔۔۔۔۔۔رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:''3چيزيں عرش سے معلق ہيں:(۱)رشتہ داری کہتی ہے: ''اے اللہ عزوجل !ميں تيری وجہ ہی سے ہوں لہذا مجھے نہ توڑا جائے۔'' (۲)امانت کہتی ہے:''يا اللہ عزوجل! ميں تيری وجہ سے ہی ہوں لہذا مجھ ميں خيانت نہ کی جائے۔'' اور (۳)نعمت کہتی ہے:'' يا الٰہی عزوجل! ميں تيری طرف سے ہوں لہذا ميری ناشکری نہ کی جائے۔''      (البحرالزخاربمسند البزار،مسند ثوبان،الحدیث:۴۱۸۱،ج۱۰،ص۱۱۷)

(24)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں :''راہِ خدا عزوجل ميں شہيدہوناامانت(میں خیانت )کے علاوہ تمام گناہوں کو مٹا ديتا ہے۔مزيد فرماتے ہيں :''قيامت کے دن ايک بندے کو لايا جائے گا اگرچہ اسے راہِ خدا عزوجل ميں شہيد کر ديا گيا ہو، پھر اس سے کہا جائے گا:''امانت ادا کرو۔'' وہ عرض کریگا:''اے ميرے رب عزوجل! کيسے ادا کروں دنيا تو ختم ہو گئی۔'' تو کہا جائے گا:''اسے ھَاوِيَۃ کی طرف لے جاؤ۔'' تو امانت اس کے سامنے اس ہيئت ميں آ جائے گی جس ميں اس کے سپرد کی گئی تھی، وہ اسے ديکھ کر پہچان لے گا تو اسے پانے کے لئے اس کے پیچھے جائے گا، اور پھر اسے اپنے کندھے پر اٹھا لے گا، جب اسے يہ گمان ہو گا کہ وہ جہنم سے نکل آيا ہے تو وہ امانت اس کے کندھے سے پھسل کر پھر جہنم ميں جا گرے گی، اور وہ ہمیشہ اس کے پیچھے جاتارہے گا۔'' پھر فرمايا:''نما ز امانت ہے، وضو امانت ہے، اور ناپ تول امانت ہے ۔'' اور بہت سی چيزوں کو شمار کر کے فرمايا:''ان سب ميں سخت تر وہ اشياء ہيں جو تمہارے پاس حفاظت کے لئے رکھی جاتی ہيں۔''

    حضرت سيدنا زاذان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہيں :''ميں نے حضرت سيدنا زيد بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آ کر ان سے کہا:''کيا آپ نہيں ديکھتے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کيا فرمارہے ہيں؟ انہوں نے ايسا ايسا کہا ہے۔'' تو حضرت سيدنا زيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''انہوں نے سچ کہا ہے، کيا تم نے اللہ عزوجل کا يہ فرمان نہيں سنا؟

اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا

ترجمۂ کنز الايمان:بے شک اللہ تمہيں حکم دیتاہے کہ امانتيں جن کی ہيں انہيں سپرد کرو۔ (پ5، النساء:58)

(شعب الایمان،باب فی الامانات ووجوب...الخ،الحدیث:۵۲۶۶،ج۴،ص۳۲۳''زیدبن عامر''بدلہ''براء بن عازب'')

تنبیہ:

    اس گناہ کو بہت سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا ہے اور يہ مذکورہ آیاتِ مبارکہ ا ور احادیثِ مبارکہ سے بالکل ظاہر ہے۔
وصیت کرنے کی فضلیت:

وصیت کرنے کی فضلیت:

(8)۔۔۔۔۔۔سرکارِمدینہ، راحت قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''جو وصيت کر کے مرا وہ سنت پر مرا اور تقوی وشہادت پر مرا اور مغفرت يافتہ ہو کر مرا۔''

(سنن ابن ماجۃ،ابواب الوصایا،باب الحث علی الوصیۃ ،الحدیث:۲۷۰۱،ص۲۶۳۹)

 (9)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے:''محروم ہے وہ شخص جو وصيت سے محروم ہو۔''  (المرجع السابق، الحدیث: ۲۷۰۰، ص ۲۶۳۹)

 (10)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''وصيت ترک کر دينا دنيا ميں رسوائی اور آخرت ميں عذاب اور تباہی کا باعث ہے۔''

   ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۵۴۲۳، ج۴، ص ۱۲۲)

    اگريہ حديث مبارک درجہ صحت تک پہنچ جائے تو اس سے يہ فائدہ حاصل ہو گا کہ وصيت ترک کرنا کبيرہ گناہ ہے اور يہ حديثِ پاک اس شخص پر محمول ہو گی جو جانتا ہے کہ وصيت نہ کرنا اس کے مال پر ظالموں کے قابض ہونے اور ورثاء سے چھن جانے کا سبب بنے گا۔ 

(11)۔۔۔۔۔۔نبی کريم،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''آدمی کا اپنی صحت اور زندگی ميں ايک درہم صدقہ کرنا موت کے وقت 100درہم خرچ کرنے سے بہتر ہے۔''

 (سنن ابی داؤد،کتاب الوصایا ، باب ماجاء فی کراھیۃ الاضرار فی الوصیۃ،الحدیث:۲۸۶۶،ص۱۴۳۷)

وصیت میں عدل کو پیش نظر رکھنا

وصیت میں عدل کو پیش نظر رکھنا

وصيت ميں عدل کو پيش نظر رکھنا چاہے۔دوسری شِق کی تفصيل تو بيان ہو چکی ہے جبکہ پہلی شق اس حديثِ پاک سے ثابت ہے کہ،
(7)۔۔۔۔۔۔سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''کسی مسلمان کے پاس کوئی ايسی چيز ہو جس ميں وصيت کی جاتی ہے تواسے کوئی حق نہيں کہ وہ 2يا3راتيں اس طرح گزارے کہ اس کے پاس وصيت لکھی ہوئی نہ ہو۔''

 (صحیح مسلم ،کتاب الوصیۃ ، باب وصیۃ الرجل مکتو بۃ عندہ ، الحدیث: ۴۲۰۷ ، ص ۹۶۲)

    حضرت سيدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہيں :''جب سے ميں نے حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے يہ حديثِ پاک سنی ميری کوئی رات ايسی نہيں گزری جس ميں ميرے پاس وصيت لکھی ہوئی نہ رکھی ہو۔''  (المرجع السابق،تحت الحدیث:۴۲۰۷)
وصیت میں نقصان پہنچانے والی چند صورتیں:

وصیت میں نقصان پہنچانے والی چند صورتیں:

    علامہ ابنِ عادل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی تفسير ميں فرمايا:ياد رکھو ! وصيت ميں نقصان پہنچانے کی چند صورتيں ہيں: (۱)ثلث مال سے زائد کی وصيت کرنا(۲)اجنبی کے لئے تمام يا بعض مال کا اقرار کرنا(۳)ورثاء کو وراثت سے محروم کرنے کے لئے ايسے قرض کا اقرار کرنا جس کی کوئی حقيقت نہ ہو(۴)يہ اقرارکرنا کہ فلاں پر ميرا جو قرض تھا وہ ميں نے وصول کر ليا ہے (۵)ورثاء کومال سے محروم کرنے کے لئے کوئی چيز نہايت کم قيمت ميں بيچ دينا يا بھاری قيمت ادا کرکے کوئی چيز خريدنا اور (۶)ثلث مال کی وصيت اللہ عزوجل کی رضا کے لئے نہيں بلکہ ورثاء کو وراثت سے محروم کرنے کے لئے کرنا۔'' يہ تمام صورتيں وصيت ميں نقصان پہنچانے ميں داخل ہيں۔
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''اگر کوئی شخص 70برس تک جنتيوں جسے اعمال کرتارہے ، پھر اپنی وصيت ميں جانبداری سے کام لے تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہو گا اور وہ جہنم ميں داخل ہو گا اور کوئی شخص 70سال تک جہنميوں جسے اعمال کرتارہے پھر اپنی وصيت ميں عدل سے کام لے تو اس کا خاتمہ اچھے عمل پر ہو گا اور وہ جنت ميں داخل ہو گا۔''

 ( المسند للاما م احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ ،الحدیث: ۷۷۴۶، ج۳، ص ۱۱۵)

 (3)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس نے اللہ عزوجل کی فرض کردہ ميراث کاٹی اللہ عزوجل جنت سے اس کی ميراث کاٹ دے گا۔''

 (کنزالعمال،کتاب الفرائض،قسم الاقوال،الفصل الاول فی فضلہ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: ۳۰۳۹۷، ج ۱ ۱،ص۵)



    اس آيت مبارکہ کے بعد اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان:''تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ ''اس پر دلالت کرتا ہے، اور فرمانِ باری تعالیٰ ''وَمَنْ يعصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ'' حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے مطابق وراثت کے بارے میں ہے، نيزموت کے وقت اللہ عزوجل کے حکم کی مخالفت سخت خسارے پر دلالت کرتی ہے جوکہ کبيرہ گناہوں ميں سے ہے۔
    علامہ زرکشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے يہی مسلک اپنايا کيونکہ متاخرين علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے کسی کا فرمان ہے کہ''ميں نے علامہ زرکشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا لکھا ہوا مجموعہ ديکھا، انہوں نے تقریبًاعلامہ ابنِ عادل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا ہی مذکورہ کلام ذکر کيا اور علامہ زرکشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا اسے ذکر کرنا بھی عجيب ہے کيونکہ علامہ ابنِ عادل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے وصيت کی ایک تہائی سے زائد جو صورتيں مطلق بيان کی ہيں وہ ہمارے مسلم قواعد کے مطابق نہيں کيونکہ وہ ہمارے نزديک فقط مکروہ ہيں حرام نہيں چہ جائیکہ وہ کبیرہ ہوں، البتہ اگر ورثاء کو محروم کرنے کی نيت ہو تو اس کا حرام ہونا بالکل ظاہر ہے اور اس سے يہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی ظلم اور عداوت کی بناء پر تہائی مال سے زيادہ ميں وصيت کرے تو ايسی صورت ميں اس وصيت کو کبيرہ قرار دينا بعيد نہيں کيونکہ اس ميں ورثاء کو نقصان پہنچانا پايا جا رہا ہے خصوصاً ايسے وقت ميں جب جھوٹا شخص بھی سچ بولتا ہے اور بدکا ر توبہ کر ليتا ہے، لہذا اس کا يہ عمل اس کی قساوتِ قلبی، فسادِ عقل اور انتہائی جرأت پر واضح دليل ہے، اسی لئے اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنم ميں داخل ہو جاتا ہے۔

وصيت کے ذريعے نقصا ن پہنچانے کی ايک صورت:


    وصيت کے ذريعے نقصا ن پہنچانے کی ايک صورت يہ بھی ہے کہ اپنے بچوں وغيرہ پر ايسے شخص کو پرورش کے لئے مقرر کرنے کی وصيت کرے جس کے بارے ميں وہ جانتا ہو کہ يہ شخص ان کا مال کھا لے گا يا صحيح طريقے سے تصرف نہ کرنے کی وجہ سے ان کے مال کو ضائع کر بيٹھے گا۔ ميری بيان کردہ يہ باتيں ان دو احادیثِ مبارکہ سے لی گئی ہيں:


(4)۔۔۔۔۔۔پہلی حديثِ مبارکہ کو امام ابن ماجہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اس طرح روايت کيا ہے :''آدمی 70برس تک جنتيوں جیسے عمل کرتا رہتاہے پھر اپنی وصيت ميں خيانت کر بيٹھتا ہے تو اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنم ميں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی آدمی 70برس تک جہنميوں جيسے عمل کرتارہتا ہے پھر اپنی وصيت ميں انصاف سے کام ليتا ہے تو اس کا خاتمہ اچھے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جنت ميں داخل ہو جاتاہے۔''

( سنن ابن ماجۃ،ابواب الوصایا ، باب الحیف فی الوصیۃ ، الحدیث: ۲۷۰۴، ص۲۶۳۹)

 (5)۔۔۔۔۔۔دوسری حدیث پاک کو امام ابن ماجہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ان الفاظ ميں روايت کيا ہے :''جو اپنے وارث کی ميراث سے بھاگے گا اللہ عزوجل بروزِقیامت جنت سے اس کی ميراث کاٹ دے گا۔''

 (سنن ابن ماجۃ،ابواب الوصایا ، باب الحیف فی الوصیۃ ، الحدیث: ۲۷۰۳ ، ص۲۶۳۹)

    پہلی حديثِ پاک کی تائيد حضرت سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی يہ حديثِ پاک بھی کرتی ہے جسے امام ابوداؤد اور امام ترمذی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما نے روایت کیا ہے کہ،
(6)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''مرد يا عورت 70برس تک اللہ عزوجل کی فرمانبرداری کرتے ہيں، پھر جب ان کی موت کا وقت آتا ہے تو وصيت ميں نقصان پہنچاتے ہيں تو ان کے لئے جہنم واجب ہو جاتی ہے۔'' پھر حضرت سيدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے يہ آيت مبارکہ تلاوت فرمائی:

مِّنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ رَجُلٌ یُّوۡرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَ ۃٌ وَّلَہٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنۡ کَانُوۡۤا اَکْثَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَہُمْ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ12﴾تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیۡمُ ﴿13﴾



ترجمۂ کنز الايمان: ميت کی وصيت اور دين نکال کر جس ميں اس نے نقصان نہ پہنچايا ہو يہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔يہ اللہ کی حديں ہيں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں ميں لے جائے گا جن کے نيچے نہريں رواں ہميشہ ان ميں رہيں گے اور يہی ہے بڑی کاميابی۔(پ4، النساء:12۔13)

(جامع الترمذی،ابواب الوصایا،باب ماجاء فی الضرار فی الوصیۃ، الحدیث:۲۱۱۷، ص۱۸۶۳''سبعین'' بدلہ''ستین'')

وصیت کابیان

وصیت کابیان

باب الوصيۃ
وصیت کابیان
کبيرہ نمبر237:    وصيت ميں ورثاء کو نقصان پہنچانا

 (۱)اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:

مِّنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ رَجُلٌ یُّوۡرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَ ۃٌ وَّلَہٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنۡ کَانُوۡۤا اَکْثَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَہُمْ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ12﴾تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیۡمُ ﴿13﴾وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪ وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪14﴾

ترجمۂ کنز الايمان:ميت کی وصيت اور دين نکال کر جس ميں اس نے نقصان نہ پہنچايا ہو يہ اللہ کا ارشاد ہے، اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔يہ اللہ کی حديں ہيں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں ميں لے جائے گا جن کے نيچے نہريں رواں، ہميشہ ان ميں رہيں گے اور يہی ہے بڑی کاميابی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ ميں داخل کریگا جس ميں ہميشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے۔
    حضرت سيدنا عبداللہ بن عباس اور مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قول کے مطابق اس سے مراد وراثت ہے اور خُلُوْد فِی النَّار سے مراد يہ ہے کہ''اگر وہ اسے حلال سمجھ کر کريں تو ہميشہ جہنم ميں رہيں گے ورنہ طويل مدت تک جہنم کا ايندھن بنيں گے۔''(پ4، النساء:12تا14)

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے اس آيت مبارکہ سے يہ استدلال کيا ہے :''وصيت ميں نقصان پہنچانا کبيرہ گناہ ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے اس شدید وعید کو وراثت کے بعد ذکر کیا ہے۔''جيسا کہ،
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''وصيت ميں ورثاء کو نقصان پہنچانا کبيرہ گناہوں ميں سے ہے۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے يہی آيت مبارکہ تلاوت فرمائی:''تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ يعنی يہ اللہ عزوجل کی حديں ہيں۔''

( سنن دارقطنی ،کتاب الوصایا ، الحدیث: ۴۲۴۹ ، ج۴ ، ص ۱۷۸)

    پس دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے يہ صراحت فرما دی کہ وصيت ميں نقصان پہنچانا کبيرہ گناہ ہے اور مذکورہ آيت مبارکہ کا لانا اس پر گواہ ہے، اسی لئے ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ايک جماعت اور ديگر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کے کبيرہ گناہ ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular