شیخ الاسلام علامہ سید محمدمدنی میاں بالائے سرش زہوشمندی


ڈاکٹر فضل الرحمٰن شرر مصباحی دہلی

شیخ الاسلام علامہ سید محمدمدنی میاں

بالائے سرش زہوشمندی


جولائی ۲۰۱۰ کو تقریباً اڑتالیس برس کے بعد فون پرمیری گفتگو ایک ایسے المعی ولوذعی بزرگ سے ہوئی جو شیخ الاسلام ، مفسر قرآن اور رئیس المحققین جیسے القاب و خطابات سے یاد کیے جاتے ہیں،جن کو ہم دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور کے زمانہ طالب علمی میں’مدنی میاں‘ کہتے تھے۔ آج بھی میری زبان اسی مختصر سے نام سے شاد کام ہے اور میں اپنی یادوں کی پرتیں اسی نام سے کھولنا پسند کروںگا جن لوگوں نے شیخ الاسلام اور مفسرقرآن والا زمانہ پایاہے وہ مجھے یہ جان کر معذور سمجھیں کہ میں اس دور کی بات کر رہاہوں جب یہ خطابات ہنوزآں موصوف کی پیشانی علم و فضل کے نہاں خانے میں محفوظ تھے۔
خدا بھلا کرے محترم مولانا قمراحمداشرفی کا، ۴جولائی کو وہ دہلی میں موجود تھے ،فون پر گفتگو ہوئی اثناء گفتگو سیدالتفاسیر کاذکر آگیا، میں نے کہا اس کے دو حصوں کی زیارت عزیزگرامی مولانا خوشتر نورانی کے دفتر میں ہوئی ہے،حاصل کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ مولانا قمر نے کہا کہ آپ اپنا پوسٹل ایڈریس ایس ایم ایس کر دیجیے حیدرآبادپہنچ کر دونوں حصے بھیجوانے کی صورت نکالوں گا معاً انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ان دنوں اپنے وطن مالوف کچھوچھہ مقدسہ میں ہیں اگران سے رابطہ ہوجائے تو اس کی حصولیابی جلد سے جلد ممکن ہو جائے گی ، پھر انہوں نے کہا کہ آپ میرے فون کا انتظار کیجیے۔ تھوڑی دیر کے بعد مولانا نے کہا کہ شیخ الاسلام کا موبائل  نمبر ایس ایم ایس کررہاہوں آپ ان سے بات کر لیجیے وہ آپ کے فون کا انتظار کر رہے ہیں۔ میں نے مرسلہ نمبر ڈائل کیا، گھنٹی ہوئی اور پھروہی آواز وہی طرز تخاطب وہی لہجہ جو میرے حافظہ میں محفوظ تھا، فردوس گوش بن گیا، مجھے بالکل ہوش نہیں رہا کہ میں ایسی شخصیت سے ہم کلام ہوں، جس کے آگے بالاؤں کی بالائی اور داراؤں کی دارائی سر بخم ہے، علما و مشائخ اور فضلائے وقت جس کے آگے زانوئے ادب تہ کرتے ہیں ،مگر میرے لیے زمانہ طالب علمی کی اس فضا سے باہر نکلنے کاکوئی جواز نہیں تھا جو میری علمی و ادبی زندگی سے عبارت تھی۔ میں نے واضح طورپر محسوس کیا کہ شیخ الاسلام نے بھی اپنے عہد رفتہ کو آواز دے لی تھی اب وہ عالم خیال میں ۶۵ سے زائد کے نہیں بلکہ ۲۲سے کم عمر کے تھے اب کیا کہوں میرا کیا حال تھا:
لب گزیدی و من از ذوق فتا دم مدہوش
باتو ایں کیفیت بادہ ندانم کہ چہ کرد
ورنہ حال دیگراں تو یہ ہے کہ جب منازل ترقی طے کر کے بام عروج پرپہنچ جاتے ہیں توزمین کی شئی مرئی بہت چھوٹی نظرآنے لگتی ہے۔ میرا برسوں کا ساتھ ایک ایسے قائد ملت سے رہا ہے جو پارلیمنٹ کے رکن کیا ہوئے، انہیں ہرکس وناکس بونا نظرآنے لگا، ایک دن انہیں کے حسب حال یہ دو شعر ارتجالاً کہہ کر میں ان کی میز پر رکھ آیا:
ہم بہت چھوٹے نظر آنے لگے
اتنا اونچا آپ کا سر ہوگیا
بڑھتے بڑھتے اک طلسم معصیت
قدآدم کے برابر ہوگیا
سنا تھا کہ مولانا نے ان اشعار کا مخاطب کسی اور کو سمجھ کر خوب داد دی تھی۔
ہاں تو میں نے مدنی میاں سے کہا کہ جامِ نور میں میری تحریریں چھپتی رہتی ہیں ، ممکن ہے کبھی کبھی آپ کی نظر سے۔۔۔ابھی جملہ پورا نہیں ہواتھا کہ ارشاد ہوا ’’ممکن نہیں واقع ہے اور کبھی کبھی نہیں یہی ایک رسالہ ہے جسے میں اول سے آخرتک پڑھتاہوں ‘‘۔پہلے جملے میں میرے لفظ’’ممکن‘‘ کو انہوں نے واقع سے بدل کر جو معنویت پیدا کردی اس کی بلاغت کو کچھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے ذہنوں میں ممکن ممتنع اور واجب کی اصطلاح محفوظ ہوگی،ممکن کے دونوں برابر کے پہلوؤں میں لفظ ’واقع‘ نے جو ایک طرف کا پلہ جھکا دیا ہے اور چار حرفی لفظ (واقع)نے شرر مصباحی کی جو حوصلہ افزائی فرمائی ہے اس کے لیے اس بندۂ آثم کے پاس تشکر کے الفاظ نہیں ہیں اوردوسرے جملے نے توماہنامہ جام نور کی مقبولیت اور معتبریت پر گویا مہرلگا دی ہے، شیخ الاسلام والمسلمین کے اس دوسرے جملے کو کل الصید فی جوف القراء کی روشنی میں ملاحظہ کیا جانا چاہیے۔
آگے ارشاد ہوا ’’ماشاء اللہ آپ نے بہت ترقی کی ہے‘‘۔ یہ جملہ سن کر میری آنکھ بھرآئی کاش اس کی جگہ حضرت نے دعائیہ جملہ استعمال کیا ہوتا جو میری ترقی کا ضامن ہوتا۔کہاں مدنی میاں، حضور محدث اعظم کی تربیت، حضور حافظ ملت کی خصوصی توجہ اور اپنی سعی مشکورسے شیخ الاسلام والمسلمین کے عرش پرمتمکن اورکہاں شررمصباحی، خاک افتادہ علائق دنیا میں گرفتار کبھی دم بھر جست لگانے کی جرات بھی کی تو نتیجہ معلوم: 
دی سروبقد تو تحشم می کرد
تقلید قد تو پیش مردم می کرد
شد تند نسیم، لالہ سر جنبا نید
خندید گل ، غنچہ تبسم می کرد
سید التفاسیر کا ذکر آیا تو ارشاد ہوا’’ مبارک پور سے کوئی کچھوچھہ آئے تو ہاتھ کے ہاتھ لے جائے اور لکھنؤ سے حاصل کرنے میں سہولت ہوتو عربی میاں یہاں بھجوادوں‘‘۔ ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی ملی کہ سید التفاسیر کے تین حصے شائع ہو چکے ہیں۔
ہاں تو میں طالب علمی کے دور کی بات کر رہا تھا ، مدنی میاں ہم سے ایک جماعت اوپر کے طالب علم تھے ،ان کی جماعت کے دیگر ذہین طلبہ میں(مولانا) مشہود رضا خان ابن شیر بیشئہ اہل سنت اور (مولانا)محمد نعمان خاں وغیرہ تھے اور میں (مولانا )ثناء المصطفٰی امجدی ابن صدر الشریعہ اور (مولانا) عبد القدوس مصباحی وغیرہ کا ہم سبق تھا، مدنی میاں اپنی جماعت کے طلبہ میں کئی اعتبار سے منفرد تھے ، کم گو تھے ، کام سے کام رکھتے تھے ، طلبہ کی باہمی مناقشا ت سے دور رہتے تھے ، اپنے کمرے میں دیوار پر اپنے مشاغل کا نظام الاوقات چسپاں  کر رکھا تھا ، جس پر وہ سختی سے عامل تھے ، اس کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ دوسرے طلبہ ان اوقات میں تضیع اوقات نہیں کرتے تھے ، بلکہ گمان غالب ہے کہ اسی مصیبت سے چھٹکا را پانے کے لیے یہ حکمت عملی اختیار کی گئی تھی ،مدرسہ کے اوقات درس سے فارغ ہوکر ہم بالعموم مولانا شمس الحق صاحب (استاذ فارسی)کی درسگاہ میں جمع ہوتے ، مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی ، طبعی مناسبت کی وجہ سے میں انہیں حضرا ت کے ساتھ زیادہ وقت گذارتا۔ مشہود رضا خان اور نعمان خاں کے مزاج میںحدت تھی ،ایک دن نعمان خاں نے کہا کہ علامہ شبلی نعمانی کی تحریروں میں جو فصاحت ، سلاست اور روانی ہے وہ  اعلٰی حضرت کی تحریروں میں نہیں ہے، یہ سننا تھا کہ مشہود رضا خان آپے سے باہر ہوگئے ،آسمان سر پر اٹھا لیا ،بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا ، انہیں کے ساتھیوں میں صبیحہ ضلع بارہ بنکی کے قاری شبیر احمد تھے ،بالکل گائے تھے ، مدنی میاں وغیرہ جب مزاحیہ موڈمیں ہوتے تو یہی حضرت تختئہ مشق بنتے ، مگر کبھی خفگی کے آثار ان کے چہرے سے ظاہر نہیں ہوتے۔
ایک دن نعمان خاں نے کہا ،علامہ اقبال سہیل کا کلام ہر اعتبار سے اصغر گونڈوی کے اشعار سے فصیح و بلیغ ہے ۔میں نعمان خاں کی بات سے متفق نہیں تھا ، بحث ہوتی رہی معاملہ علامہ نیاز فتحپوری کے کورٹ میں پہنچا، یہ خط میری تحریر میں نعمان خاں کا ڈکٹیٹ کرایا ہوا تھا ، ہفتہ عشرہ کے بعد نیاز صاحب نے اسی خط کو اس ریمارک کے ساتھ واپس کردیا کہ اقبال سہیل اصغر گونڈوی سے زیادہ پڑھے لکھے تھے لیکن اصغر گونڈوی کے کلام میں سہیل سے زیادہ تغزل پا یا جاتا ہے ، یہ خط میرے پا س محفوظ ہے ۔ نعمان خاںزمانئہ طالب علمی میں بڑے گرم جوش تھے ،اپنے گروپ کے لیڈر تھے ۔وقت گذرتا گیا ،ان میں تبدیلیاںآتی گئیں ، سیئات حسنات میں تبدیل ہوتے رہے اور آخر عمر میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ مرتبئہ ولایت پر فائز ہوگئے تھے ، رحمۃ اللہ علیہ ۔یہی حال میر ے ہم سبق (مولانا) ثناء المصطفی کا بھی تھا وقت کے ساتھ ساتھ نیک سے نیک تر ہوتے گئے۔تقوی شعار دنیا بیزار ، رحمۃ اللہ علیہ۔
ہمارے دور طالب علمی میں ہر جمعرات کو نماز عشاء کے بعد مشقی جلسہ ہوا کرتا تھا تا کہ طلبہ کی جھجھک دور ہو اور خطابت میں ملکہ پیدا ہو، یہ پروگرام اشرفیہ کے کسی نہ کسی استاد کی نگرانی میں ہوتا تھا ۔جہاں تک مجھے یاد ہے مدنی میاں نے کسی ایک پروگرام میں بھی حصہ نہیں لیا۔کبھی شرکت کی بھی تو شدت سعال وغیرہ کاعذر کرکے بیٹھ رہے،قاری محمد یحیٰ صاحب کو اس کی خبر ہوئی تو انہیں بڑا دکھ ہوا، حضور محدث اعظم سالانہ جلسہ میں تشریف لائے تو قاری صاحب نے ان سے عرض کیا کہ حضور ایک بات کہنا چاہتا ہوں اسے شکایت پہ محمول نہ فرمائیں ، محدث اعظم نے فرمایا کہیے ، شکایت بھی ہوگی تو سنی جائے گی، قاری صاحب نے عرض کیا کہ شہزادے مشقی جلسہ میں شرکت نہیں کرتے جس کا مجھے دکھ ہے ۔محدث اعظم نے فرمایا ’’میاں مچھلی کے بچے کو تیرنا نہیں سکھاتے ‘‘
آج جب میں اس جملے کو یاد کرتا ہوں تو محدث اعظم کا یہ قول پیش گوئی کی صورت میں نظر آتا ہے ۔دنیا جانتی ہے کہ اشرفیہ سے فراغت کے بعد مدنی میاںنے اپنی خطابت کا لوہا بڑے بڑے سحبان وقت سے منوالیا ۔ 
مدنی میاں زمانئہ طالب علمی میں بھی شعر و سخن کا بڑا ستھرا ذوق رکھتے تھے۔مبارک پور کے مشاعروں میں بالخصوص بکھری کی بزم مقاصدہ میں اکثر اپنا کلام پڑھواتے تھے ، یہ مقاصدہ طرحی ہوتا تھا، حضرت مولیٰ علی کے یوم پیدائش ۱۳رجب کے موقع پر یہ بزم حکیم عبد المجید کی نگرانی میں منعقد ہوتی تھی ، مدنی میاں کا کلام سید احمد حسین کوثر (برادر خورد اشرف العلماء ) اور میرا کلام سید رئیس احمد (جو ان دنوں رائے پور میں ہیں)یا نذیر احمدقوال مبارکپوری پڑھتے تھے ، احیاء العلوم مکتب فکر کےمولانا محمد عثمان ساحر مبار ک پوری کا کلام امتیاز احمد اعظمی (جو ساغر اعظمی کے نام سے شہرت کے حامل ہوے)پڑھتے تھے ، ایک سال کا مصرع طرح تھا:
دل مرا شمع رخ حیدر کا پروانہ بنا 
اس بزم مقاصدہ کا سہرا مدنی میاں کے سر رہا، ان دنوں سب سے زیادہ توجہ تضمین پر دی جاتی تھی ، مجھے مدنی میاں کی تضمین یاد نہیں رہی ، اتنا  یاد ہے کہ موضع املو کے میر صاحب جو غالب کے نوحہ گر (مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں )کی طرح داد گر تھے ، وہ شعر سن کر ہاتھ اٹھااٹھا کر گلا پھاڑ کر داد دیتے ہوے اسٹیج کی طرف کھسکتے جاتے ،حاضرین ان سے اچھی طرح واقف تھے،ا ن کے لیے طوعاًیا کرہاً گنجائش پیدا کرتے جاتے اور تھوڑی دیر میں وہ اسٹیج کے قریب پہنچ جاتے ،اس دن بھی ایسا ہی ہوا ،مدنی میاں کاکلام پڑھا جا رہا تھا ،وہ املو سے آگئے ،ایک کنارے بیٹھے رہے اور اچک اچک کر داد دیتے دیتے ابھی کلام ختم نہیں ہوا تھا کہ آپ اسٹیج کے قریب پہونچ گئے۔
غالباً ۱۹۵۹ء کی بات ہے میرے خوش عقیدہ پڑوسی جناب محمد احمد صاحب کےایک رشتہ دارتا زہ تازہ دار العلوم دیو بند کی ہواکھا کر آئے تھے ،طبیعت باڑھ پرتھی ،یہ جہانا گنج کے رہنے والے تھے رسمی تعارف کے بعد انہوں نے علم غیب رسول کی بحث چھیڑ دی آیات و احادیث سے نفی علم غیب کے دلائل پیش کرنے لگے ، میں نے جواب دینا شروع کیا ،محمد احمد صاحب نے کہا کہ اس طرح کی بحث سے تلخی بڑھنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ،سوال جواب تحریری ہونا چاہیے ، صاحب خانہ کی اس با ت سے ہم دونوں نے اتفاق کیا ،میںنے کہا کہ میں چند سوالات حفظ الایمان کے تعلق سے مرتب کرتا ہوں ،آپ جواب لکھ کر محمد احمد صاحب کے یہاں بھجوادیں ،انہوں نے کہا کہ سوال کی ابتدا میری طرف سے ہوی ہے ، اس لیے سوالات میں مرتب کروں گا ۔میں نے کہا چلئے یوں ہی سہی ، پھر انہوں نے پانچ چھ سوالات کی فہرست مرتب کر کے مجھ سے کہا کہ اس کا جواب تحریر کرکے محمد احمد صاحب کودے دیجئے۔یہ مجھ تک پہنچادیں گے۔میں نے وہ رقعہ مدنی میاں کو دکھایا ،انہوں نے سوالات کے مدلل جوابات تحریر کیے ، میں نے محمد احمد صاحب کے ذریعے یہ تحریر جہانا گنج بھجوادی ، دس پندرہ دنوں کے بعد جواب آگیا ، میں نے وہ جواب مدنی میاں کی خدمت میںپیش کیا ،اب کے جواب الجواب کے ساتھ کچھ سوالا ت قائم کر کے حریف کو دفاعی پالے میں لا کھڑا کیا گیا پھر ادھر سے کوئی جواب نہیں آیا، مدنی میاںنے کہا کہ مناظرے میں دفاعی پوزیشن میں نہیں رہنا چاہیے ، اب جو انہیں اپنا دفاع کرنے پر مجبور کردیا گیا تو وہی ہوا جس کی امید تھی۔
انہیں دنوں فارسی کی درس گاہ میں ہم بیٹھے ہوے تھے کسی نے کہا کہ ملا حسن کو کتنی طرح سے پڑھا جا سکتاہے ، ایک نے کہا ملا حسن(مِلا حُسن) دوسرے نے کہا ہمزہ کا شمار اعداد میں نہیں ہوتا ، اس کو ملاء حسن بھی پڑھا جاسکتا ہے(ملئاِحُسن ) مدنی میاں نے اپنے ایک ساتھی کو مخاطب کر کے کہا ملاحسن(مَلاّح سُن)
 مدنی میاں کا خط تحریر زمانہ طالب علمی میں بھی بڑا ستھرا تھا ، انار دانہ کی طرح ہرلفظ علاحدہ علاحدہ صاف صاف نظر آتا تھا۔ایک دن فارسی کی درسگاہ میں بیٹھے بیٹھے انہوں نے کئی طرح سے اپنا نام لکھا ، ان میں سے ایک دستخط ایسا تھا جس سے چڑیا کی مبہم شکل بن گئی تھی یہ ’’سید محمد مدنی اشرفی‘‘ سے بنی تھی ، چڑیا کے پر ،بازو، سر ،آنکھیں ، ٹانگیں غور کرنے پر سب کی جھلک محسوس ہوتی تھی ،میں نے کہا میرے نام کا بھی ایسا ہی خاکہ بنا دیجیے ، انہوں نے بادنی تامل اسی سے ملتا جلتا خاکہ بنا دیا ، جن لوگوں نے مدنی میاں کے دستخط دیکھے ہوں گے وہ آج بھی انکے دستخط میں ’’دَھڑ‘‘دیکھ سکتے ہیں ، سر آنکھیں اور ٹانگیں جو پہلے خاکے میں محسوس کی جاسکتی تھیں ، یہ سب کچھ بطور تفنن تھا،جو عادی دستخط میں باقی نہیں رہا۔
حضور محد ث اعظم ہند جب دار العلوم اشرفیہ کے سالانہ جلسے میں تشریف لاتے جو سالانہ امتحانات کے بعد ہوا کرتا تھا تو بالعموم خانوادے کے طلبہ کو بلا کر ان کا حال معلوم کرتے، ایک بار جلسہ کے موقع پر تشریف لائے، امتحان ختم ہو چکا تھا ،مدنی میاںسےپوچھا، امتحان کیسا رہا؟عرض کیا اچھا رہا ، ارشاد ہوا امتحان کس نے لیا ؟عرض کیا قاضی شمس الدین صاحب نے ، یہ سن کر محدث اعظم ایک دم سنجیدہ ہوگئے ، فرمایا میاں قاضی شمس الدین صاحب نے امتحان لیا اور آپ کہتے ہیں اچھا رہا؟ قاضی صاحب اگر اپنی سطح سے امتحان لینے پر آجائیں تو سید محمد کو فیل کردیں ۔اگر چہ یہ محدث اعظم کا قاضی صاحب کے لیے نثر میں قصیدہ تھا لیکن پھر بھی اس جملے کے ہربن مو سے قاضی صاحب کی عظمت علم کا اعتراف ٹپکتا ہے۔
ایک سالانہ جلسہ میں محدث اعظم تشریف لائے فارسی کی درسگاہ میں تشریف فرما تھے ،خدمت والا میں مدنی میاں ،احمد میاں ،سعید احمد، ملیح اشرف اور فہیم اشرف کے ساتھ میں بھی حاضر تھا ۔حضرت اقدس نے فرمایا ایک پہیلی بوجھو تو جانیں ’’وہ کون سا چار حرفی لفظ ہے کہ ایک حرف کم کرنے پر چار باقی رہے‘‘؟اپنے پلے تو پڑ انہیں ، مدنی میاں بھی غور و فکر کی منزل سے آگے نہیں بڑھ سکے کہ احمد میاں نے کہا حضور یہ لفظ ’’چادر ‘‘ ہو سکتا ہے ، یہ جواب سن کر محدث اعظم کا چہرہ کھل اٹھا اور ڈھیر سی دعائیں دیں۔
یادش بخیر! آ ج لگ بھگ اڑتالیس بر س ہوگئے سوچتا ہوں مدنی میاں نے زمانئہ طالب علمی میں جس توجہ اور انہماک سے تحصیل علم کی اور بزرگوں کی دعائیں ان کے شامل حال رہیں اسی کا ثمرہ  ہےکہ آج وہ شیخ الاسلام و المسلمین کی حیثیت سے علمی دنیا میں پہچانے جاتے ہیں ، وہی علم و فضل کانور جو عہد طفلی سے جبین سعادت میں پنہاں تھا ،ظاہر ہوکر پوری دنیا کو اجالا بانٹ رہا ہے۔
می تافت ستارئہ بلندی 


SHARE THIS

Author:

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Comments:

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




  • غرائب القرآن کے ماخذو مراجع
    غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

         کتاب کانام مصنف کے نام مطبوعہ تفسیر معالم التنزیل للبغوی علامہ ابومحمد حسین بن مسعود دار الکتب العلمیۃ بیروت  تفسیر ابن کثیر علامہ ابو الفداء اسماعیل بن...

  • عجائب القرآن کے ماخذو مراجع
    عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

       کتاب کا نام مصنف کا نام     مطبوعہ قرآن مجید کلام باری تعالیٰ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور       کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ا علیٰ حضرت...

  • علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ
    علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات...

  • اللہ تعالٰی کی چند صفتیں
    اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

    کفارِ عرب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے کوئی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نسب اور خاندا ن کیا ہے؟ اس نے ربوبیت کس سے میراث میں پائی ہے؟ اور اس کا وارث...

  • کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن
    کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

    کفار قریش میں سے ایک جماعت دربارِ رسالت میں آئی اور یہ کہا کہ آپ ہمارے دین کی پیروی کریں تو ہم بھی آپ کے دین کا اتباع کریں گے۔ ایک سال آپ ہمارے معبودوں (بتوں)کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبود...

Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




  •    ماخذ مراجع
    ماخذ مراجع

    (۱)     رو ح البیان          کانسی رو ڈ کوئٹہ (۲)    تفسیر نعیمی              مکتبہ اسلامیہ...

  • مال کے لئے الٹ پلٹ:
    مال کے لئے الٹ پلٹ:

        تا جر کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا مال بلا وجہ رکانہ رہے جو لوگ گرانی کے انتظار میں مال قید کر دیتے ہیں۔ وہ سخت غلطی کرتے ہیں کہ کبھی بجائے مہنگائی کے مال سستا ہوجاتا ہے اور اگر...

  • مسلمان خریدارو ں کی غلطی:
    مسلمان خریدارو ں کی غلطی:

        ہندو مسلمان تاجر کو دیکھنا چاہتے ہی نہیں ۔ انہیں مسلمان کی دکان کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں کسی مسلمان نے دکان نکالی تو  آس پاس کے ہندودکانداروں نے چیز...

  • ایک سخت غلطی:
    ایک سخت غلطی:

    اولاً تو مسلمان تجارت کرتے ہی نہیں اور کرتے بھی ہیں تو اصولی غلطیوں کی وجہ سے بہت جلد فیل ہوجاتے ہیں ، مسلمانوں کی غلطیاں حسب ذیل ہیں۔ (۱) مسلم دکانداروں کی بد خلقی: کہ جو گا ہک ان کے پاس ایک...

  • تجارت کے اصول:
    تجارت کے اصول:

        تجارت کے چند اصول ہیں جس کی پابند ی ہر تا جر پر لازم ہے یعنی پہلے ہی بڑی تجارت شروع نہ کردو بلکہ معمولی کام کو ہاتھ لگاؤ ۔ آپ حدیث شریف سن چکے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک...

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




  • غرائب القرآن کے ماخذو مراجع
    غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

         کتاب کانام مصنف کے نام مطبوعہ تفسیر معالم التنزیل للبغوی علامہ ابومحمد حسین بن مسعود دار الکتب العلمیۃ بیروت  تفسیر ابن کثیر علامہ ابو الفداء اسماعیل بن...

  • عجائب القرآن کے ماخذو مراجع
    عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

       کتاب کا نام مصنف کا نام     مطبوعہ قرآن مجید کلام باری تعالیٰ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور       کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ا علیٰ حضرت...

  • علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ
    علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات...

  • اللہ تعالٰی کی چند صفتیں
    اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

    کفارِ عرب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے کوئی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نسب اور خاندا ن کیا ہے؟ اس نے ربوبیت کس سے میراث میں پائی ہے؟ اور اس کا وارث...

  • کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن
    کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

    کفار قریش میں سے ایک جماعت دربارِ رسالت میں آئی اور یہ کہا کہ آپ ہمارے دین کی پیروی کریں تو ہم بھی آپ کے دین کا اتباع کریں گے۔ ایک سال آپ ہمارے معبودوں (بتوں)کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبود...

Khawab ki Tabeer




  • khwab mein Jhanda  dekhna
    khwab mein Jhanda dekhna Jhanda safaid dekhnatwangar sahibe izzat hone ki dalil hai. Jhanda jard beemar ho kar sehat hasil ho. Jhanda siyahkisi tataf  jaye jafaryaab ho log izzat kare.
  • khwab mein Rogan  dekhna
    khwab mein Rogan dekhna

    Rogan sar par malnasare kam thik taur par ho. Rogani rozi dekhnamaal halaal milne ki dalil hai. Rogan jard dekhnaranz va gam ki nishani. Rogan siyah dekhnasafar se salamat gar wapas aane ki...

  • khwab mein Zameen dekhna
    khwab mein Zameen dekhna

    Zeene par chadnatarkki ki nishani. Zamin ko hilte dekhnahamal aurat dekhe. iskate amal ho aur mard dekhe to hakim ke itaab mai girftar ho. Zamin ko bote dekhnatamaam maksade deen milne ki dalil...

  • khwab mein Zewar  dekhna
    khwab mein Zewar dekhna izzat va aabru pane pane ki dalil hai.
  • khwab mein Sirhanah dekhna
    khwab mein Sirhanah dekhna Khwab main sirhanah zawaj, mahfooz maal, raazdaar aurat aur taabo takaan se raahat haasil hone ki daleel hai.

Most Popular