Showing posts with label نِصَابُ الصرف. Show all posts
Showing posts with label نِصَابُ الصرف. Show all posts
تنبیہ جلیل

تنبیہ جلیل

 خیال رہے کہ ابوابِ مُلحَقہ میں بھی وہی خواص ومعانی پائے جائیں گے جوان کے ابوابِ مُلحَق بِھا میں پائے جاتے ہیں ،نیزابوابِ مُلحَقہ میں ان معانی کے علاوہ مبالغہ بھی پایا جا تا ہے۔ مثلاً تَدَحْرَجَ۔ (لڑھکنا)میں ایک خاصہ لزوم ہے، تو تَجَلْبَبَ۔(بہت چادر اوڑھنا )(مُلْحَق بَتَدَحْرَجَ)میں بھی لزوم پایاجارہاہے ،نیزاس میں مبالغہ بھی ہے ۔ وَعَلٰی ھٰذَاالْقِیَاسُ۔

باب افتعال

باب افتعال

(۱)۔۔۔۔۔۔اتخاذ :
    جیسے: اِجْتَحَرَ۔ ( اس نے سوراخ بنایا ) اِجْتَنَبَ۔ (اس نے کونہ پکڑا) اِغْتَذٰی الشَّاۃَ۔ (اس نے بکری کو غذا بنایا) اِعْتَضَدَہٗ۔ (اس نے اسے بازو میں لیا) ۔
    پہلی مثال میں ماخذ جُحْرٌ(سوراخ) دوسری مثال میں جَنْبٌ(گوشہ، طرف تیسری مثال میں غِذَا (خوراک)اور چوتھی مثال میں عَضُدٌ(بازو)ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔مطاوعت:
    اس کے معنی بیان ہوچکے۔ جیسے: غَمَّمْتُہ، فَاغْتَمَّ۔ ( میں نے اسے غمگین کیا تووہ غمگین ہوگیا)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔موافقت:
    ( ا لف) موافقت مجرد:
    جیسے: بَلَجَ ۔ کے معنی ہیں (وہ کشادہ ابرو ہوا )اوراِبْتَلَجَ کے معنی بھی یہی ہیں۔
    (ب) موافقت اِفْعَالٌ :
    جیسے:اَحْجَزَ۔کے معنی ہیں (وہ حجاز مقدس میں داخل ہوا )اور اِحْتَجَزَکے بھی یہی معنی ہیں ۔
(۴)۔۔۔۔۔۔ابتداء:
     اِسْتَلَمَ۔ (اس نے پتھر کو بوسہ دیا) مجرد سَلِمَ ہے جس کے معنی:(سلامت رہنا ) ہے۔
(۷)باب استفعال 
(۱)۔۔۔۔۔۔قصر :
    جیسے: اِسْتَرْجَعَ۔(اس نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا ) یہ '' قَالَ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ '' کا اختصارہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔تحول :
    جیسے: اِسْتَحْجَرَ الطِّیْنُ۔  ( گارا پتھر بن گیا )( ماخذ حَجَرٌ(پتھر)ہے)۔   (۳)۔۔۔۔۔۔مطاوعت:
    جیسے: اَقَمْتُہ، فَاسْتَقَامَ۔  ( میں نے اسے کھڑا کیاتو وہ کھڑا ہوگیا ) ۔
(۴)۔۔۔۔۔۔موافقت :
    ( ا لف) موافقت مجرد:
     جیسے:قَرَّ۔کے معنی ہیں( وہ ٹھہر گیا )اور اِسْتَقَرَّکے بھی یہی معنی ہیں۔
    (ب) موافقت اِفْعَالٌ: 
    جیسے:اَجاَبَ۔ کے معنی ہیں (اس نے جواب دیا، قبول کیا )اور اِسْتَجَابَ کے بھی یہی معنی ہیں۔
(۵)۔۔۔۔۔۔ابتداء:
    جیسے: اِسْتَعَانَ۔ (اس نے موئے زیر ناف مونڈے )مجرد عَانَۃٌ(موئے زیر ناف)ہے۔
(۶)۔۔۔۔۔۔طلب ماخذ:
    اس کا ایک مشہور خاصہ طلب ماخذہے یعنی فاعل کا ماخذکو طلب کرنا۔جیسے:اِسْتَعَانَ۔ (اس نے مدد طلب کی ) (ماخذ ''عَوْنٌ''(مدد)ہے)۔
                 (۸،۹) باب افعلال وافعیلال
    ان دونوں کے چارچار خواص ہیں :
(۱، ۲)۔۔۔۔۔۔لزوم، مبالغہ:
    یہ دونوں باب ہمیشہ لازم استعمال ہوتے ہیں اور ان میں ہمیشہ مبالغہ بھی پایا جاتا ہے۔ جیسے: اِحْمَرَّ، اِحْمَارَّ۔ دونوں کے معنی ہیں (بہت سرخ ہوا وہ )  (۳)۔۔۔۔۔۔ لون:
    یعنی ان میں عموما ًرنگ کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ۔جیسے:مذکورہ مثالیں۔
(۴)۔۔۔۔۔۔عیب:
    یعنی ان کی دلالت عموماً عیب پربھی ہوتی ہے ۔جیسے: اِحْوَلَّ، اِحْوَالَّ۔ دونوں کے معنی ہیں (بھینگا ہوا وہ)
(۱۰) باب انفعال
(۱)۔۔۔۔۔۔مطاوعت :
    جیسے: کَسَّرْتُہ، فَانْکَسَرَ۔ ( میں نے اسے توڑا تو و ہ ٹوٹ گیا )۔
(۲)۔۔۔۔۔۔لزوم :
    جیسے:اِنْصَرَفَ۔ (پھرنا)(لازم)اس کامجرد فعل صَرَفَ(پھیرنا)ہے (متعدی) 
(۳)۔۔۔۔۔۔موافقت :
    موافقت اِفْعَالٌ۔جیسے: اَحْجَزَ کے معنی ہیں (وہ حجاز مقدس میں پہنچا )اور اِنْحَجَزَکے بھی یہی معنی ہیں۔
(۴)۔۔۔۔۔۔ابتداء :
    جیسے:اِنْطَلَقَ ۔ (وہ چلا )مجرد طَلَقَ ہے بمعنی اس نے دیا۔
(۱۱) باب افعیعال
(۱)۔۔۔۔۔۔مطاوعت :
    جیسے: ثَنَیْتُہ، فَاثْنَوْنٰی۔ (میں نے اسے لپیٹا تو وہ لپٹ گیا )
 (۲)۔۔۔۔۔۔لزوم :
    جیسے: اِعْرَوْرَیْتُ،۔ (میں ننگی پشت گھوڑے پر سوار ہوا ) 
(۳)۔۔۔۔۔۔مبالغہ :
    جیسے: اِعْشَوْشَبَتِ الْاَرْضُ۔  (زمین بہت گھاس والی ہوگئی )ماخذ عُشْبٌ (گھاس ) ہے۔
(۴)۔۔۔۔۔۔موافقت استفعال:
    باب اِسْتِفْعَالٌ کے ہم معنی ہونا۔جیسے: اِسْتَحْلَیْتُہ،۔ کے معنی ہیں(میں نے اسے میٹھا محسوس کیا )اور اِحْلَوْلَیْتُہ،کے بھی یہی معنی ہیں۔
                    (۱۲) باب افعوال
(۱)۔۔۔۔۔۔مبالغہ :
    جیسے: اِجْلَوَّذَ۔ (بہت تیزدوڑنا ) ۔
                   رباعی مجرد (۱) باب فعلل
(۱)۔۔۔۔۔۔مطاوعت:
    مطاوعتِ نفس:
     یعنی فَعْلَلَ کا خود اپنا مطاوِع ہونا۔جیسے: غَطْرَشَ اللَّیْلُ بَصَرَہ، فَغَطْرَشَ۔  (رات نے اس کی نگاہ کو پوشیدہ کیاتو وہ پوشیدہ ہوگئی ) 
(۲)۔۔۔۔۔۔قصر :
    جیسے:بَسْمَلَ۔ (اس نے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھا )یہ ''قَرَءَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ '' کا اختصار ہے ۔
 (۳)۔۔۔۔۔۔الباس ماخذ : 
     جیسے: بَرْقَعْتُہ، ۔ (میں نے اسے برقعہ پہنایا )
رباعی مزید فیہ (۱)باب تفعلل
(۱)۔۔۔۔۔۔مطاوعت :
    مطاوعت فَعْلَلَ :
     جیسے: دَحْرَجْتُہ، فَتَدَحْرَجَ۔ (میں نے اسے لڑھکایا تو وہ لڑھک گیا  )۔
(۲، ۳) باب افعنلال، افعلال
(۱)۔۔۔۔۔۔لزوم :
    جیسے: اِتْعَنْجَرَ۔ (خون ریختہ ہونا )، اِشْمَعَلَّ(جلدی کرنا)۔
(۲)۔۔۔۔۔۔مطاوعت:
     جیسے: تَعْجَرْتُہ، فَاتْعَنْجَرَ۔  ( میں نے اس کا خون گرایا تو وہ خون رِیختہ ہوگیا(اس کا خون گرگیا))، طَمْئَنْتُہ، فَاطْمَئَنَّ۔  (میں نے اسے مطمئن کیا تو وہ مطمئن ہو گیا)
ثلاثی مزید فیہ (۱) باب افعال

ثلاثی مزید فیہ (۱) باب افعال

 (۱)۔۔۔۔۔۔تعدیہ:
    فعل لازم کو متعدی کردینا۔جیسے: بَصَرَ زَیْدٌ۔  (زیددیکھنے والاہوا)(لازم)سے اَبْصَرْتُہ، (میں نے اسے دیکھا)(متعدی)۔ 
(۲)۔۔۔۔۔۔تصییر:
     فاعل کا مفعول کو صاحب ماخذ کر دینا۔ جیسے:اَشْرَکَ النَّعْلَ۔ (اس نے جوتے کوتسمہ والا کردیا ،یعنی: جوتے میں تسمہ لگادیا) (ماخذلفظ شِرَاکٌ((جوتے کا تسمہ))ہے)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔مبالغہ:
    فاعل میں ماخذکی کیفیت ومقدارمیں زیادتی وکثرت ہوجانا۔ جیسے: اَسْفَرَ الصُّبْحُ۔  (صبح خوب کھل گئی )اَثْمَرَالنَّخْلُ(درخت بہت پھلدارہوگیا)ان میں ماخذلفظ سَفْرٌ(کھولنا)اور ثَمَرٌ(پھل)ہیں۔
(۴)۔۔۔۔۔۔لزوم یا الزام : (عکسِ تعدیہ )
    فعل متعدی کو لازم بنانا۔جیسے:حَمِدَ اللَّہَ۔ (اس نے اللہ عزوجل کی حمد کی )سے اَحْمَدَ (وہ حمدوالا ہوا)۔
(۵)۔۔۔۔۔۔ابتداء :
    باب اِفْعَالٌ سے ابتداء ً کسی فعل کا اس معنی میں استعمال ہونا جو معنئ مجرد سے بالکل جدا ہویا اس کا مجرد فعل آتاہی نہ ہو۔ جیسے:اَشْفَقَ۔(ڈرنا)اس کامجردشَفَقَ ہے بمعنی (مہربا ن ہونا)اَرْقَلَ(دوڑنا)اس کا مجردفعل نہیں آتا۔ 
(۶)۔۔۔۔۔۔موافقت:
    یعنی باب اِفْعَالٌ کا کسی اور باب کے ہم معنی ہونا۔جیسے: 
    ( ا لف) موافقتِ مجرد :
    یعنی باب اِفْعَالٌ کامجرد کے ہم معنی ہونا۔ جیسے:دَجٰی اللَّیْلُ۔ کے معنی ہیں (رات تاریک ہوگئی) اور اَدْجٰی کے بھی یہی معنی ہیں ۔
    (ب)موافقت تَفْعِیْلٌ :
    باب اِفْعَالٌ کاتَفْعِیْلٌ کے ہم معنی ہونا۔ جیسے:کَفَّرَہ،۔ کے معنی ہیں(اس نے اسے کافر ٹھہرایا) اوراَکْفَرَہ، کے بھی یہی معنی ہیں۔
    (ج) موافقت تَفَعُّلٌ :
    اِفْعَال ٌکا تَفَعُّلٌ کے ہم معنی ہونا جیسے:تَغَلَّفَہ،۔ کے معنی ہیں (اس نے اسے غلاف میں ڈالا )اوراَغْلَفَہ، کے بھی یہی معنی ہیں ۔
    (د)موافقت اِسْتِفْعَالٌ : 
    باب اِفْعَالٌ کا اِسْتِفْعَالٌ کے ہم معنی ہونا ۔جیسے: اِسْتَعْظَمْتُ زَیْداً۔ کے معنی ہیں (میں نے زید کو عظیم سمجھا)اور اَعْظَمْتُ زَیْداً کے بھی یہی معنی ہیں۔
(۲) باب تفعیل
(۱)۔۔۔۔۔۔تعدیہ:
    اس کے معنی بیان ہو چکے۔ جیسے: فَرِحَ زَیْدٌ۔ کے معنی ہیں (زید خوش ہوا ) (لازم)اور فَرَّحْتُہ،کے معنی ہیں (میں نے اس کو خوش کیا ) (متعدی)۔
(۲)۔۔۔۔۔۔تصییر:
    اس کے معنی بھی گذرچکے۔ جیسے:وَتَّرْتُ الْقَوْسَ۔ (میں نے قوس کو تَانْت والی بنایا)(ماخذ اَلْوَتَرَۃُ((تَانْت یعنی کمان کاتار))ہے)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔الباس ماخذ:
    اس کے معنی بیان ہوچکے۔ جیسے:جَلَّلْتُ الْفَرَسَ۔ (میں نے گھوڑے کو جھول پہنائی )ماخذ اَلْجَلُّ(جُھوْل یعنی جانور پر ڈالاجانے والاکپڑا)ہے۔
 (۴)۔۔۔۔۔۔قصر :
    کلامِ طویل کو مختصر کرنا۔جیسے:ہَلَّلَ۔ (اس نے کلمہ پڑھا )یہ ''قَرَءَ لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ'' کا اختصارہے۔
(۵)۔۔۔۔۔۔مبالغہ :
    اس کے معنی بھی پہلے بیان ہوچکے ۔جیسے:مَوَّتَ الْاِبِلُ۔ (اونٹوں میں موت بہت زیادہ ہوگئی ) (ماخذ مَوْتٌ((موت))ہے)۔
(۶)۔۔۔۔۔۔موافقت:
    باب تَفْعِیْلٌ کاکسی اور باب کے ہم معنی ہونامثلاً :
    (ا لف) موافقت مجرد :
    یعنی تَفْعِیْلٌ کاہم معنئ مجرد ہوناجیسے:تَمَرْتُہ،۔ کے معنی ہیں (میں نے اس کو کھجور دی )اور تَمَّرْتُہ، کے بھی یہی معنی ہیں۔
    (ب) موفقت تَفَعُّلٌ :
    یعنی تَفْعِیْلٌ کا ہم معنئ تَفَعُّلٌ ہونا جیسے:تَتَرَّسَ۔ کے معنی ہیں (اس نے ڈھال کو استعمال کیا)اور تَرَّسَ کے بھی یہی معنی ہیں ۔
(۷)۔۔۔۔۔۔ابتداء:
    اس کے معنی بھی بیان کیے جاچکے ہیں۔جیسے:کَلَّمْتُہ،۔ (میں نے اس سے کلام کیا )مجرد میں یہ مادہ'' کَلَمَ''زخمی کر نے کے معنی میں آتاہے ۔
             (۳) باب تفاعل
(۱)۔۔۔۔۔۔تشارک :
    فعل میں دو شخصوں کا باہم اس طرح شریک ہونا کہ ان میں سے ہر ایک فاعل بھی ہو اور مفعول بھی۔ جیسے: تَشَاتَمَ زَیْدٌ وَخَالِدٌ۔ (زید اور خالد باہم گالی گلوچ ہوئے )۔
(۲)۔۔۔۔۔۔مطاوعت :
    فعل متعدی کے بعد اُسی فعل کے مادہ سے ایک فعل اِس باب سے لانایہ ظاہر کرنے کے لیے کہ مفعول نے فاعل کا اثر قبول کر لیا ہے ۔جیسے: بَاعَدْتُہ، فَتَبَاعَدَ۔ (میں نے اسے دور کیا تو وہ دور ہوگیا )۔
    اس میں بَاعَدْتُ فعل متعدی ہے اور اس کے بعد اسی فعل کے مادہ (بُعْدٌ)سے ایک فعل تَبَاعَدَ باب تَفَاعُلٌ سے لایا گیا اس نے یہ ظاہرکیا کہ مفعول نے فاعل کا اثر قبول کر لیا ہے۔ 
(۳)۔۔۔۔۔۔موافقت:
    باب تَفَاعُلٌ کا کسی اور باب کے ہم معنی ہونا۔ جیسے :
    ( ا لف) موافقت مجرد:
    باب تَفَاعُلٌ کا مجرد کے ہم معنی ہونا۔ جیسے:عَلَا۔(مجرد)کے معنی ہیں(بلند ہونا)اور تَعَالٰی (تَفَاعُلٌ)کے بھی یہی معنی ہیں۔
    (ب)موافقت اِفْعَالٌ: 
    باب تَفَاعُلٌ کاباب اِفْعَالٌ کے ہم معنی ہونا ۔جیسے:اَیْمَنَ۔(اِفْعَالٌ)کے معنی ہیں (یمن میں داخل ہونا)اور تَیَامَنَ (تَفَاعُلٌ)کے بھی یہی معنی ہیں ۔
 (۴)۔۔۔۔۔۔ابتداء:
    اس کے معنی گذرچکے۔ جیسے:تَبَارَکَ اللہُ۔ (اللہ کی شان بلندہے )مجرد (بَرَکَ یَبْرُکُ)اونٹ کے بیٹھنے کے معنی میں آتاہے۔

                 (۴) باب تفعل
(۱)۔۔۔۔۔۔تحول :
    فاعل کا ماخذ بن جانا ۔جیسے: تَنَصَّرَ۔( معاذ اللہ ، وہ نصرانی ہوگیا ) ماخذنصرانی ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اتخاذ :
    فاعل کا ماخذ بنا نا، یاماخذاختیارکرلینا، یامفعول کو ماخذبنانا، یامفعول کوماخذمیں لینا۔جیسے: تَبَوَّبَ ( اس نے دروازہ بنایا )تَجَنَّبَ(اس نے کونہ پکڑلیا) تَوَسَّدَ الْحَجَرَ(اس نے پتھر کو تکیہ بنایا) تَئَبَّطَ الصَّبِیَّ (اس نے بچہ کو بغل میں لیا)
    پہلی مثال میں ماخذ ''بَابٌ'' (دروازہ) دوسری میں ''جَنْبٌ''(کونہ، کنارہ) تیسری میں ''وِسَادَۃٌ''(تکیہ)اور چوتھی میں ''اِبْطٌ'' (بغل) ہے ۔
(۳)۔۔۔۔۔۔مطاوعت :
    اس کے معنی بیان ہوچکے۔ جیسے: عَلَّمْتُہ، فَتَعَلَّمَ ( میں نے اس کو سکھایا تووہ سیکھ گیا) 
(۴)۔۔۔۔۔۔موافقت :
    باب تَفَعُّلٌ کا مجرد کے ہم معنی ہونا۔ جیسے: قَبِلَ کے معنی ہیں ( اس نے قبول کیا ) اور تَقَبَّل َکے بھی یہی معنی ہیں۔
(۵)۔۔۔۔۔۔ابتداء :
    اس کے معنی بھی بیان کردیے گئے ۔جیسے: تَشَمَّسَ۔ (وہ دھوپ میں بیٹھا )اس
کا مجرد فعل استعمال ہی نہیں ہوتا ۔
(۵) باب مفاعلہ 
(۱)۔۔۔۔۔۔تصییر :
    فاعل کا مفعول کو صاحب ماخذ بنانا ۔جیسے: عَافَاکَ اللَّہُ۔  (اللہ تعالی تجھے عافیت عطا فرمائے ) ماخذ مُعَافَاۃٌ(محفوظ رکھنا، صحت دینا)ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔مشارکت : 
    جیسے: قَاتَلَ زَیْدٌ وَبَکْرٌ۔ (زید اور بکر نے آپس میں لڑائی کی ) ۔
(۳)موافقت : 
    مجرد کے ہم معنی ہونا۔جیسے: سَفَرْتُ۔کے معنی ہیں(سفر کرنا )اور سَافَرْتُ کے بھی یہی معنی ہیں۔
(۴)۔۔۔۔۔۔ابتداء :
    جیسے: قَاسٰی زَیْدٌ ہٰذِہٖ الْمُصِیْبَۃَ۔ (زید نے اس مصیبت کو برداشت کیا )اس کا مجرد فعل قَسَا یَقْسُوْ قَسْواً ہے جس کے معنی سخت ہونے کے ہیں ۔ 

خاصیات ابواب کا بیان

خاصیات ابواب کا بیان

    خاصیات خاصیۃ کی جمع ہے اس سے مراد کسی فعل کے وہ زائد معنی ہیں جو اس کے مادے کے معنی کے علاوہ ہوں مثلا: لَبَنٌ کے معنی صرف''دودھ''کے ہیں اور اَلْبَنَتِ النَّاقَۃُ۔ کے معنی ہیں:(اونٹنی دودھ والی ہوگئی)اس میں ''دودھ والی ہونے''کے معنی زائد ہیں۔
تنبیہ:
    (۱)۔۔۔۔۔۔خیال رہے اس باب میں خاصیت یا خاصہ کے وہ معنی مراد نہیں جو مناطقہ کے یہاں مشہورہیں یعنی: ''خَاصَّۃُ الشَّيْءِ مَایُوجَدُ فِیْہِ وَلَایُوْجَدُ فِيْ غَیْرِہٖ''۔ بلکہ یہاں اس کے وہی معنی ہیں جو اوپر ذکر کیے گئے اس لیے کہ بہت سے خواص متعدد ابواب میں مشترک ہیں۔
    (۲)۔۔۔۔۔۔اس باب میں''ماخذ''سے مراد فعل کا مادہ اشتقاق (جس سے فعل بنایا گیاخواہ وہ مصدر ہو یا اسم جامد )ہوگا۔
    (۳)۔۔۔۔۔۔'' مدلول ماخذ''سے مراد وہ معنی ہیں جس پرماخذ دلالت کرے مثلاً : اَلْبَنَتِ النَّاقَۃُ۔ میں فعل''اَلْبَنَتْ ''کا ماخذ''لَبَنٌ''ہے اور مدلول ماخذوہ ہے جس پر لفظ''لَبَنٌ ''دلالت کررہاہے یعنی(دودھ)
    (۴)۔۔۔۔۔۔اس باب میں ذکر، ماخذ کاکیا جائے گا اور مراد ہر جگہ مدلول ماخذ ہی ہوگا۔ مثلاً :فاعل کے صاحب ماخذہونے کی مثال میں کہا جائے: ''اَلْبَنَتِ النَّاقَۃُ'' تو اس کا مطلب ہوگا: ''اونٹنی دودھ والی ہوگئی '' نہ یہ کہ ''اونٹنی لفظ لبن والی ہوگئی''۔ وَھُوَظَاہِرٌجَلِيٌّ غَیْرُخَفِيٍّ۔
    بیان امثلہ میں ہرفعل کے ساتھ اس کاماخذاورماخذکے ساتھ قوسین میں مدلول ماخذبھی ذکر کر دیا جائے گا۔ اِنْ شَاءَ اللَّہُ عَزَّوَجَلَّ۔

    (۵)۔۔۔۔۔۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ خاصیات میں بیان کیے جانے والے تمام معانی، سماعی ہیں ،قیاس کواس میں دخل نہیں ۔
    (۶)۔۔۔۔۔۔یہ بھی دھیان رہے کہ ضروری نہیں کہ کسی فعل میں ایک وقت میں ایک ہی خاصہ پایاجائے بلکہ ایک وقت میں ایک سے زائدخواص بھی پائے جاسکتے ہیں جیسے: اَخْرَجْتُ زَیْداً۔  (میں نے زید کونکالا)اس میں تعدیہ اورتصییر دونوں خواص پائے جارہے ہیں۔
    تعد یہ اس طرح کہ خَرَجَ (مجرد)لازم تھا اور باب اِفْعَالٌ میں آکر متعدی ہوگیا، اور تصییر اس طرح کہ اس میں مفعول کو صاحب ماخذکرنے کامعنی بھی پایا جار ہا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں: جَعَلْتُ زَیْداً ذَاخُرُوْجٍ۔  (میں نے زید کوخروج والاکردیا)۔
(۱) باب ضرب یضرب
(۱)۔۔۔۔۔۔قطع ماخذ:
    فاعل کا ما خذ کوکا ٹنا۔ جیسے : خَلَیْتُ۔( میں نے تر گھاس کاٹی ) (اس مثال میں ''تُ'' ضمیرفاعل اور ماخذلفظ اَلْخَلَی اورمدلول ماخذ((ترگھاس)) ہے )۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اعطاء ماخذ:
    فاعل کا مفعول کو ماخذدینا۔ جیسے: اَجَرْتُ الْمَرْءَ۔ (میں نے مرد کو اجرت دی ) (اس مثال میں''تُ'' ضمیر فاعل ، الْمَرْءَ مفعول اورماخذ لفظاَلْاُجْرَۃُ ((بدلہ)) ہے )۔
(۳) ۔۔۔۔۔۔ اطعام ماخذ :
    فاعل کا مفعول کو ماخذکھلانا ۔جیسے: تَمَرْتُہُمْ۔ ( میں نے ان کو کھجور کھلائی ) (اس مثال میں''تُ'' ضمیر فاعل ، لفظ ھُمْ مفعول ،اورماخذ لفظ تَمْرٌ((کھجور)) ہے)۔ 
(۴)۔۔۔۔۔۔سلب ماخذ:
    فاعل کا مفعول سے ماخذ کو دور کر دینا۔ جیسے:مَرَضَ الطَّبِیْبُ الْمَرْءَ

۔(طبیب نے مر دسے بیماری کو دور کردیا ) (ماخذلفظ مَرَضٌ((بیماری))ہے)۔
(۵)۔۔۔۔۔۔اتخاذ ماخذ:
    فاعل کا مفعول سے ماخذ لینا ۔جیسے:عَشَرَالْمَالَ ۔(اس نے ما ل کا دسواں حصہ لیا) (ماخذ لفظ عُشْرٌ((دسواں حصہ)) ہے)۔
(۲) باب سمع یسمع
(۱)۔۔۔۔۔۔صیرورت :
    فاعل کا صاحب ماخذ ہوجانا۔ جیسے:مَرِضَ الْمَرْءُ۔ (مردصاحبِ مرض(بیمار)ہوگیا) (ماخذ لفظ مَرَضٌ((بیماری)) ہے)۔
(۲)۔۔۔۔۔۔تألم ماخذ :
    فاعل کا ماخذ میں اَ لَمٌ ((درد))والاہونا۔ جیسے:ظَہِرَ الْمَرْءُ ۔(مرد پیٹھ میں درد والا ہوگیا) (ماخذ لفظ ظَھْرٌ((پیٹھ)) ہے)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔تحول :
    فاعل کا ماخذ بن جانا(حقیقۃً یا وصفاً)۔ جیسے:اَسِدَ زَیْدٌ۔ (زید اوصاف میں شیر کی طرح ہوگیا)حَجِرَالطِّیْنُ۔ (مٹی پتھر بن گئی)(ماخذ لفظ اَسَد((ششیر))اورحَجَرٌ((پتھر)) ہیں)۔
 (۴)۔۔۔۔۔۔تعمل ماخذ :
    فاعل کا ماخذ کو کسی کام میں لانا ۔جیسے: کَلِئَتِ النَّاقَۃُ۔  (اوٹنی گھاس کو کام میں لائی یعنی :اس نے اسے کھایا )(ماخذ لفظ اَلْکَلَأُ((خشک یاترگھاس))ہے) ۔ 
(۵)۔۔۔۔۔۔اتخاذ ماخذ:
    فاعل کاماخذ لینا۔ جیسے:غَنِمْتُ (میں نے غنیمت حاصل کی )(ماخذ لفظ اَلْغُنْمُ ((مال غنیمت))ہے) ۔ 
                (۳) باب نصر ینصر 
(۱)۔۔۔۔۔۔صیرورت :
    فاعل کا صاحب ماخذ ہو جانا۔ جیسے:بَابَ زَیْدٌ۔ ( زیدصاحب دروازہ (دربان)بن گیا)(اس میں ماخذلفظ بَابٌ((دروازہ))ہے)۔ 
(۲)۔۔۔۔۔۔قطع ماخذ:
    فاعل کا ماخذ کو کاٹنا۔ جیسے :حَشَشْتُ۔ (میں نے خشک گھاس کاٹی )(ماخذلفظ حَشِیْشٌ ((خشک گھاس))ہے)۔
(۳)۔۔۔۔۔۔تعمل ماخذ:
    فاعل کا ماخذ کو کام میں لانا۔جیسے:قَلاَ زَیْدٌ۔ (زید گلی ڈنڈے کو کام میں لایا یعنی:وہ اس سے کھیلا )(ماخذلفظ اَلْقُلَۃُ ((گلی ))ہے)۔
(۴)۔۔۔۔۔۔سلب ماخذ:
    فاعل کا مفعول سے ماخذ کو دور کرنا ۔جیسے:قَشَرْتُہ،۔ (میں نے اس سے چھلکا دور کردیا یعنی:ا تاردیا)(ماخذلفظ قِشْرٌ((چھلکا))ہے)۔
 (۵)۔۔۔۔۔۔اتخاذ ماخذ:
    فاعل کا ماخذ بنانا۔ جیسے:مَرَقَتِ الْمَرْأَ ۃُ ۔(عورت نے شوربہ بنایا ) (ماخذلفظ اَلْمَرَقُ((شوربہ))ہے )۔
(۴) باب فتح یفتح 
(۱)۔۔۔۔۔۔صیرورت :
    فاعل کا صاحب ماخذ ہو جانا۔ جیسے: لَعَبَ الصَّبِیُّ۔ ( بچہ صاحب لعاب ہوگیا ) (ماخذ لفظ لُعَابٌ((رال))ہے)۔ 
(۲)۔۔۔۔۔۔اعطاء ماخذ :
    فاعل کا مفعول کو ماخذ دینا ۔جیسے:نَحَلَ الزَّوْجُ الْمَرْأَۃَ ۔(خاوند نے اپنی زوجہ کو مہردیا ) (ماخذلفظ نِحْلَۃٌ((مہر))ہے)۔ 
(۳) ۔۔۔۔۔۔اطعام ماخذ :
    فاعل کا مفعول کو ماخذ کھلانا۔ جیسے:لَحَمْتُ الضِّیْفَانَ۔(میں نے مہمانوں کو گوشت کھلایا )(ماخذلفظ ''لَحْمٌ''((گوشت))ہے)۔ 
(۴)۔۔۔۔۔۔سلب ماخذ:
    فاعل کا مفعول سے ماخذ کو دور کرنا۔ جیسے:حَمَأْتُ الْبِئْرَ۔(میں نے کنویں سے کیچڑکو دور کردیا یعنی نکال دیا)(ماخذلفظ اَلْحَمَأُیااَلْحَمْأَۃُ((کیچڑ))ہے)۔ 
(۵)۔۔۔۔۔۔اتخاذ ماخذ:
    فاعل کا ماخذ بنانا۔ جیسے:جَدَرَالْمِعْمَارُ۔ (مزدورنے دیوار بنائی )(ماخذلفظ جِدَارٌ((دیوار))ہے)۔
(۵) باب کرم یکرم 
(۱)۔۔۔۔۔۔صیرورت:
    فاعل کا صاحب ماخذ ہونا۔جیسے: مَحُضَ نَسْبُ الرَّجُلِ۔  ( مردکانسب خالص ہے ) (ماخذلفظ مَحْضٌ((خالص ہونا))ہے)۔ 
(۲)۔۔۔۔۔۔تالم ماخذ:
    فاعل کا ماخذ میں اَلَمٌ ((درد ،تکلیف))پانا۔جیسے: رَحُمَتِ النَّاقَۃُ۔  (اونٹنی کو رحم میں تکلیف ہوئی)(ماخذلفظ رَحِمٌ یا رِحْمٌ((بچہ دانی))ہے)۔ 
(۳)۔۔۔۔۔۔لزوم:
    فعل کا لازم ہونا ( یہ اس باب کا خاصہ لازمہ ہے یعنی: یہ باب ہمیشہ لازم آتا ہے) جیسے: کَرُمَ (بزرگ ہوا وہ)(ماخذلفظ کَرَامَۃٌ((بزرگ ہونا))ہے)۔
(۴)۔۔۔۔۔۔تحول:
    فاعل کا ماخذکی طرف پھر جانا ۔جیسے: جَنُبَتِ الرِّیْحُ ۔(ہوا جَنوب کی طرف پھر گئی یعنی:جَنوب کی طرف سے چلنے والی ہوگئی )(ماخذلفظ جَنُوْبٌ((مخصوص سمت)) ہے)۔
(۵)۔۔۔۔۔۔بلوغ:
    فاعل کا ماخذ تک پہنچنا ۔جیسے: صَلُبَ الرَّجُلُ ۔ (مرد سختی کرنے تک آ پہنچا ) (ماخذ لفظ صَلَابَۃٌ((سختی))ہے)۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular