Showing posts with label عجائب القرآن مع غرائب القرآن. Show all posts
Showing posts with label عجائب القرآن مع غرائب القرآن. Show all posts
غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

     کتاب کانام مصنف کے نام مطبوعہ
تفسیر معالم التنزیل للبغوی علامہ ابومحمد حسین بن مسعود دار الکتب العلمیۃ بیروت 
تفسیر ابن کثیر علامہ ابو الفداء اسماعیل بن کثیر الدمشقی دار الکتب العلمیۃ بیروت 
تفسیر جلالین علامہ جلال الدین السیوطی وجلال الدین المحلی قدیمی کتب خانہ کراچی
موضح القرآن شاہ عبدالقادر صاحب تاج کمپنی لمیٹیڈ لاہور کراچی
صحیح مسلم ابو الحسن امام مسلم بن الحجاج بن مسلم دار ابن حزم بیرو ت 
فتح الباری امام احمد بن علی العسقلانی قدیمی کتب خانہ کراچی
تذکرۃ الانبیاء قاضی عبدالرزاق چشتی بھترالوی مکتبہ ضیائیہ راو لپنڈی 
البدایہ والنہا یہ ابو الفداء اسماعیل بن کثیر الدمشقی لدار احیاء التراث العر بی بیروت ۔
الدولۃ المکیۃ اعلی حضرت امام احمد رضا خان موسسۃ رضا لاہور 
فضائل الشہور والا یام

عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

   کتاب کا نام مصنف کا نام     مطبوعہ
قرآن مجید کلام باری تعالیٰ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور 
     کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ا علیٰ حضرت احمد رضا خان ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور 
تفسیر صاوی علامہ احمد بن محمد الصاوی مطبوعہ دار الفکر بیرو ت
تفسیر مدارک امام عبداللہ بن احمد النسفی صدیقیہ کتب خانہ اکوڑہ خٹک
تفسیر روح البیان الشیخ اسماعیل حقی البر وسوی کتبہ عثمانیہ کوئٹہ
تفسیر جمل الشیخ سلیمان الجمل قدمی کتب خانہ کراچی
تفسیر خازن علامہ علاء الدین علی بن محمد صدیقیہ کتب خانہ اکوڑہ خٹک
تفسیر خزائن العرفان محمد نعیم الدین مطبوعہ پاک کمپنی اردو بازار لاہور
بخاری شریف ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری درالکتب العلمیۃ بیروت 
مشکوۃ المصابیح ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الخطیب دار الفکر بیروت 
     کنزالعمال علامہ علاء الدین علی المتقی دار الکتب العلمیۃ بیروت 
شرح الزرقانی علامہ قسطلانی دار الکتب العلمیۃ بیروت 
     کشف الخفاء الشیخ اسماعیل بن محمد د ار الکتب العلمیۃ بیروت 
مرقاۃ المفا تیح نور الدین علی بن سلطان (ملا علی قاری) دار الفکر بیروت 
بہار شریعت مولانا امجد علی اعظمی مکتبہ رضویہ کراچی
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ابو محمد عبد الملک بن ہشام دار لمعرفہ بیروت
مدارج النبوۃ مولانا عبد الحق محدث دہلوی نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور
الخیرات الحسان شیخ شہاب الحمد بن حجر مدینہ پبلشنگ کمپنی لاہور
حدائق بخشش اعلیٰ حضرت احمد رضا خان مکتبۃ المدینہ کراچی
کلیات اقبال ڈاکٹر اقبال مطبوعہ شمع بک ایجنسی لاہور
المستدرک علی الصحیحین ابو عبد اللہ محمد بن عبداللہ الحاکم مطبوعہ دار لمعرفہ بیروت
سنن ابن ماجہ ابو عبداللہ محمد بن یزید دار لمعرفہ بیروت
علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات مذکور ہیں اور دوسری طرف اس کے باطن کی گہرائیوں میں علوم و معارف کے خزانوں کے بے شمار ایسے سمندر موجیں ماررہے ہیں جو قیامت تک کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی اس عظیم الشان جامعیت کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

لاَ یَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَآءُ وَلاَ یَخْلَقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ وَلاَ یَنْقَضِیْ عَجَائِبُہٗ

قرآنی مضامین کا احاطہ کر کے کبھی علماء آسودہ نہیں ہوں گے اور بار بار پڑھنے سے قرآن پرانا نہیں ہو گا اور قرآن کے عجیب و غریب مضامین کبھی ختم نہیں ہوں گے۔

        (مشکوٰۃ شریف، کتاب فضائل القرآن، الفصل الثانی، ص ۱۸۶)

چنانچہ حضرت سیدنا علی خواص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:

اِنَّ اللہَ تَعَالٰی اِطَّلَعَنِی عَلٰی مَعَانِیْ سُوْرَۃِ الْفَاتِحَۃِ فَظَھَرَلِیْ مِنْھَا مِائَۃَ أَلْفِ عِلْمٍ وَّاَرْبَعُوْنَ اَلْفِ عِلْمٍ وَتِسْعَمِائَۃٍ وَّ تِسْعُوْنَ عِلْمًا ط

بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے سورۃ فاتحہ کے معانی پر آگاہ فرمایا تو ان میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار نو سو ننانوے علوم مجھ پر منکشف ہوئے۔

 (الدولۃ المکیۃ، النظر الخامس فی دلائل المدعی من الاحادیث والاقوال والایات، ص ۷۹)

اسی طرح امام شعرانی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب میزان میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

قَدِ اسْتَخْرَجَ اَخِیْ اَفْضَلُ الدِّیْنِ مِنْ سُوْرَۃِ الْفَاتِحَۃِ مَائَتَیْ اَلْفِ عِلْمٍ وَّ سَبْعَۃً وَّاَرْبَعِیْنَ اَلْفِ عِلْمٍ وَّتِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَّ تِسْعُوْنَ عِلْمًا

میرے بھائی افضل الدین نے سورۃ فاتحہ سے دو لاکھ سینتالیس ہزار نو سو ننانوے علوم نکالے ہیں۔

 (الدولۃ المکیۃ، النظر الخامس فی دلائل المدعی من الاحادیث والاقوال والایات، ص ۷۹)

ان روایتوں سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید اگرچہ ظاہر میں تیس پاروں کا مجموعہ ہے لیکن اس کا باطن کروڑوں بلکہ اربوں علوم و معارف کا ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا کسی عارف باللہ کا مشہور شعر ہے کہ!

جَمِیْعُ الْعِلْمِ فِی الْقُرْاٰنِ لٰکِنْ  
تَقَاصَرَ عَنْہُ اَفْہَامُ الرِّجَالِ

یعنی تمام علوم قرآن میں موجود ہیں لیکن لوگوں کی عقلیں ان کے سمجھنے سے قاصر و کوتاہ ہیں۔ الحاصل قرآن مجید میں صرف علوم و معارف ہی کا بیان نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں پوری کائنات اور سارے عالم کی ہر ہر چیز کا واضح اور روشن تفصیلی بیان ہے یعنی آسمان کے ایک  ایک تارے، سمندر کے ایک ایک قطرے ،سبزہ ہائے زمین کے ایک ایک تنکے، ریگستان کے ایک ایک ذرے، درختوں کے ایک ایک پتے، عرش و کرسی کے ایک ایک گوشے، عالم کائنات کے ایک ایک کونے، ماضی کا ہر ہر واقعہ، حال کا ہر ہر معاملہ ،مستقبل کا ہر ہر حادثہ قرآن مجید میں نہایت وضاحت کے ساتھ تفصیلی بیان کیا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ!

فَرَّطْنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ

    ترجمہ کنزالایمان:۔ ہم نے اس کتاب میں کچھ اُٹھا نہ رکھا۔(پ7،الانعام:38)
لیکن واضح رہے کہ قرآن کی یہ اعجازی شان ہمارے تمہارے اور عام لوگوں کے لئے نہیں ہے بلکہ قرآن کی اس اعجازی شان کا کامل ظہور تو صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور صرف آپ ہی کا یہ معجزہ ہے کہ آپ نے قرآن مجید کے تمام مضامین و معانی کو تفصیلی طور پر جان لیا اور پورا قرآن نازل ہوجانے کے بعد کائنات عالم کی کوئی شے، ماضی و حال اور مستقبل کا کوئی واقعہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پوشیدہ نہیں رہا اور آپ نے ہر غیب و شہادت کو تفصیلی طور پر جان لیا کیونکہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ:۔

 وَ نَزَّلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ۔

ترجمہ کنزالایمان:۔ اور ہم نے تم پر یہ قرآن اُتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔(پ14،النحل:89)
پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صدقے میں بعض اولیاء کرام اور علماء عظام کو بھی بقدر ظرف ان کے باطنی علوم و معارف سے حصہ ملا ہے جن میں سے کچھ کتابوں کے لاکھوں صفحات پر ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں اور کچھ سینوں کے صندوق اور دلوں کی تجوریوں میں اب تک مقفل ہی رہ گئے ہیں جو آئندہ ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک صفحات قرطاس پر جلوہ ریز ہوتے رہیں گے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس غیبی خبر وَلاَ تَنْقَضِیْ عَجَآئِبُہٗ کا وقتاً فوقتاً ظہور ہوتا رہے گا اور امت مسلمہ ان کے فیوض و برکات سے مستفیض و مالا مال ہوتی ہی رہے گی۔ بہرحال یہ یقین و ایمان رکھنا چاہے کہ ہم نے ''عجائب القرآن'' اور ''غرائب القرآن'' میں جو قرآن کے چند عجیب و غریب مضامین کا ایک مختصر مجموعہ تحریر کیا ہے اور ہم سے پہلے بہت سے علماء کرام نے مضامینِ قرآن پر ہزاروں کتابیں اور لاکھوں صفحات تحریر فرمائے ہیں، قرآن مجید کے علوم و معارف کے سامنے ان سب تحریروں کو وہ نسبت بھی حاصل نہیں جو ایک قطرہ کو دنیا بھر کے سمندروں سے اور ایک ذرہ کو تمام روئے زمین سے حاصل ہو، کیونکہ قرآن مجید تو علوم و معارف کا وہ خزانہ ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتا بلکہ قیامت تک علماء کرام اس بحر ناپیدا کنار سے ہمیشہ عجیب و غریب مضامین کے موتی نکالتے ہی رہیں گے اور ہزاروں لاکھوں کتابوں کے دفتر تیار ہوتے ہی رہیں گے۔
میں اگرچہ اس پر بہت خوش ہوں کہ قرآن کریم کے چند مضامین پر دو مختصر مجموعے لکھ کر میں ان علماء کرام کی جوتیوں کی صف میں جگہ پاگیا جنہوں نے اپنے نوکِ قلم سے قرآنی آیات کے ایسے ایسے در شہوار اور گوہر آبدار صفحات قرطاس پر بکھیر دیئے جن کی چمک دمک سے مومنین کے ایمان و عرفان میں ایسی تابانی و تابندگی پیدا ہو گئی جو قیامت تک روشن رہے گی مگر میں انتہائی متاسف اور شرمندہ ہوں کہ اپنی علمی کوتاہی اور کم فہمی کی وجہ سے اور پھر اپنی علالت کے باعث کچھ زیادہ نہ لکھ سکا اور نہ کوئی ایسی نادر بات لکھ سکا جو اہل علم کے لئے باعث ِ کشش و قابل مسرت ہو۔
بہرحال دعاگو ہوں کہ خداوند کریم بطفیل نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم میری اس حقیر خدمت کو قبول فرما کر اس کو مقبولیت دارین کی کرامتوں سے سرفراز فرمائے۔ (آمین)

تمت

وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی خَیرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن 
برحمۃٖ وھو ارحم الراحمین

               ابتدائے تصنیف :یکم جمادی الاخری  ۱۴۰۳؁ھ 
               ختمِ تصنیف :۲۳/رمضان  ۱۴۰۴؁
                  عبدالمصطفیٰ الاعظمی عفی عنہ
اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

کفارِ عرب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے کوئی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نسب اور خاندا ن کیا ہے؟ اس نے ربوبیت کس سے میراث میں پائی ہے؟ اور اس کا وارث کون ہو گا؟ کسی نے یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ سونے کا ہے یا چاندی کا؟ لوہے کا ہے یا لکڑی کا؟ کسی نے یہ پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کیا کھاتا پیتا ہے؟
ان سوالوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ قُلْ ھُوَا للہُ نازل فرمائی اور اپنی ذات و صفات کا واضح بیان فرما کر اپنی معرفت کی راہ روشن کردی اور کفار کے جاہلانہ خیالات و اوہام کی تاریکیوں کو جن میں وہ لوگ گرفتار تھے اپنی ذات و صفات کے نورانی بیان سے دور فرما دیا۔  (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۶،پ۳۰، اخلاص: ۱)

    ارشاد فرمایا کہ:

قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۚ﴿1﴾اَللہُ الصَّمَدُ ۚ﴿2﴾لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوۡلَدْ ۙ﴿3﴾وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿4﴾ 

                (پ30،الاخلاص:1۔4)

ترجمہ کنزالایمان:۔تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔
درسِ ہدایت:۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ قل ھو اللہ کی چند آیتوں میں ''علم الہیات'' کے وہ نفیس اور اعلیٰ مطالب بیان فرما دیئے ہیں کہ جن کی تفصیلات اگر بیان کی جائیں تو کتب خانے کے کتب خانے پُر ہوجائیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت اور الوہیت میں صفت عظمت و کمال کے ساتھ موصوف ہے۔ مثل و نظیر و شبیہ سے پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔
وہ کچھ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، نہ کسی کا محتاج ہے بلکہ سب اس کے محتاج ہیں وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وہ قدیم ہے اور پیدا ہونا حادث کی شان ہے اس لئے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ کسی کا باپ ہے نہ اس کا کوئی مجانس ہے اور نہ اس کا عدیل و مثیل ہے۔
اس سورۃ مبارکہ کی فضیلتوں کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اسکو تہائی قرآن کے برابر بتایا گیا ہے یعنی اگر تین مرتبہ اس سورۃ کو پڑھا جائے تو پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملے گا۔
ایک شخص نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے اس سورۃ سے محبت ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کر دے گی۔

    (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۶، پ۳۰، اخلاص:۱)
کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

کفار قریش میں سے ایک جماعت دربارِ رسالت میں آئی اور یہ کہا کہ آپ ہمارے دین کی پیروی کریں تو ہم بھی آپ کے دین کا اتباع کریں گے۔ ایک سال آپ ہمارے معبودوں (بتوں)کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبود اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ کہ میں غیر اللہ کو اس کا شریک ٹھہراؤں۔ یہ سن کر کفارِ قریش نے کہا کہ اگر آپ بتوں کی عبادت نہیں کرسکتے تو کم سے کم آپ ہمارے کسی بت کو ہاتھ ہی لگا دیجئے تو ہم آپ کی تصدیق کرلیں گے اور آپ کے معبود کی عبادت کرنے لگیں گے اس موقع پر سورۃ قُلْ یٰآیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ نازل ہوئی اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کعبہ میں تشریف لے گئے اور کفار قریش کو یہ سورۃ پڑھ کر سنائی تو کفار قریش مایوس ہو گئے اور پھر غصہ میں جل بھن کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو طرح طرح کی ایذائیں دینے پر تل گئے۔

 (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۵، پ۳۰، الکفرون :۱)

قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿1﴾لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوۡنَ ۙ﴿2﴾وَ لَاۤ اَنۡتُمْ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعْبُدُ ۚ﴿3﴾وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمْ ۙ﴿4﴾وَ لَاۤ اَنۡتُمْ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعْبُدُ ؕ﴿5﴾لَکُمْ دِیۡنُکُمْ وَلِیَ دِیۡنِ ٪﴿6﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔تم فرماؤ اے کافرو نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو اور نہ تم پوجتے ہو جو میں پوجتا ہوں اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے پوجا اور نہ تم پوجو گے جو میں پوجتا ہوں تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دین۔(پ30،الکافرون :1۔6)
درسِ ہدایت:۔اس سورۃ پاک کے مضمون اور حضور سید لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کفر و اسلام میں کبھی مفاہمت اور موافقت نہیں ہو سکتی جو مسلمان کفار کی خوشنودی اور ان کی خوشامد کے لئے ان کی مذہبی تقریبات میں حصہ لیتے ہیں اور بت
پرستی کی مشرکانہ رسموں میں چندہ دے کر شرکت کرتے ہیں ان کو اس سورۃ سے ہدایت کا نورانی سبق حاصل کرنا چاہے اور ایمان رکھنا چاہے کہ توحید اور شرک کبھی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے جو موحد ہو گا وہ کبھی مشرک نہیں ہو سکتا اور جو مشرک ہو گا وہ کبھی موحد نہیں ہو گا۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular