عالم برزخ


 عالم برزخ


    اگر دو چیزوں  کے درمیان کوئی چیز حائل ہو جائے، تو اسے برزخ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے موت اور قیامت کے درمیان کی زندگی کو عالم برزخ سے تعبیر کیا ہے۔
    حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمل صالحا فی ماترکت کلا انھا کلمة ھو قآئلھا و من و رائھم برزخ الی یوم یبعثون    (سورۂ مومنون، آیت ۱۰۰)
    "جب ان میں  سے کسی ایک کے پاس موت آئے گی، تو وہ عرض کرے گا بار الہا! مجھے پلٹا دے تاکہ جو اعمال صالح ترک کئے ہیں، ان کو بجا لاؤں  ہرگز نہیں  یہ تو وہ زبانی گفتگو ہے، جس کا قائل وہ ہے اور اس کے پیچھے برزخ اور فاصلہ ہے، اس دن تک جب یہ اٹھائے جائیں  گے۔ "
    قرآن کریم میں  یہی ایک آیت ہے، جس میں  موت اور قیامت کے درمیانی فاصلہ کو برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے، اسی آیت سے استفادہ کرتے ہوئے علماء اسلام نے دنیا اور قیامت کبریٰ کے درمیانی عالم کا نام برزخ رکھا ہے۔ اس آیت میں  موت کے بعد زندگی کے دوام کا ذکر بس اتنا ہی ہے کہ کچھ انسان مرنے کے بعد اظہار پشیمانی کرتے ہوئے درخواست کریں  گے کہ ایک دفعہ دنیا میں  پھر لوٹائے جائیں، لیکن انکار کر دیا جائے گا۔
    یہ آیت صراحتاً بتا رہی ہے کہ موت کے بعد انسان کی ایک خاص قسم کی زندگی ہوتی ہے، جس میں  رہتے ہوئے وہ واپسی کی خواہش کرتا ہے، لیکن اسے رد کر دیا جاتا ہے۔
    قرآن کریم میں  ایسی آیتیں  زیادہ ہیں، جو دلالت کرتی ہیں  کہ موت اور قیامت کے درمیانی فاصلے میں  انسان ایک خاص قسم کی زندگی رکھتا ہے، جس میں  اس کے محسوس کرنے کی قوت میں  شدت آ جاتی ہے، وہ گفت و شنید کرتا ہے، اسے لذت، رنج، سرور اور غم بھی ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اسے ایسی زندگی نصیب ہوتی ہے، جس میں  سعادت کی آمیزش ہوتی ہے، قرآن کریم میں  مجموعی طور پر تقریباً ۱۵ آیتیں  ایسی ہیں، جو زندگی کی کسی نہ کسی صورت کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں  کہ انسان قیامت اور موت کے درمیانی عرصے میں  ایک مکمل زندگی رکھتا ہے۔
    ان آیتوں  کی کئی اقسام ہیں :
    ۱۔ وہ آیات جن میں  صالح اور نیک انسانوں  یا بدکار اور فاسد انسانوں  کی اللہ کے فرشتوں  سے بات چیت کا ذکر ہے، جو مرنے کے فوراً بعد ہو گی، اس قسم کی آیات کی تعداد کافی ہے، سورۂ نساء کی آیہ نمبر ۹۷ اور سورۂ مومنون کی آیت نمبر ۱۰۰ جن کا ذکر مع ترجمہ پہلے ہو چکا ہے، اسی قسم میں  سے ہیں۔
    ۲۔ ایسی آیات جو مندرجہ بالا مفہوم کے علاوہ کہتی ہیں  کہ فرشتے نیک اور صالح انسانوں  سے اس گفتگو کے بعد کہیں  گے کہ بعد ازیں  الٰہی نعمتوں  سے فائدہ اٹھاؤ یعنی انہیں  قیامت کبریٰ کی آمد تک منتظر نہیں  رکھا جاتا، ذیل کی دو آیات اسی مطلب پر مشتمل ہیں :
    (الف) الذین تتوفا ھم الملائکة طیبین یقولون سلام علیکم ادخلوا الجنة بما کنتم تعملون    (سورۂ نحل، آیت ۳۲)
    "وہ لوگ جنہیں  پاکیزگی کی حالت میں  فرشتے اپنی تحویل میں  لیتے ہیں، فرشتے ان سے کہیں  گے آپ پر سلام ہو، بے شک اپنے اچھے کردار کی وجہ سے جنت میں  داخل ہو جایئے۔ "
    (ب) قیل ادخل الجنہ قال یالیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمین    (سورۂ یس، آیات ۲۶۔ ۲۷)
    "(مرنے کے بعد) اس سے کہا جائے گا، بہشت میں  داخل ہو جاؤ وہ کہے گا، اے کاش! جن لوگوں  نے میری بات نہیں  سنی، اب جان لیتے کہ میرے پروردگار نے مجھے کیسے بخش دیا اور اپنے معزز بندوں  میں  سے قرار دیا ہے۔ "
    اس سے پہلے کی آیات میں  مومن آل یسن کی اپنی قوم کے ساتھ گفتگو کا ذکر ہے۔
    جس میں  وہ لوگوں  کو شہر انطاکیہ میں  ان انبیاء کا کہہ رہا ہے، جو عوام الناس کو غیر خدا کی عبادت سے منع کرتے اور خدا کی مخلصانہ عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے، اس کے بعد یہ مومن اپنے ایمان و اعتقاد کا اظہار کر کے کہہ رہا ہے کہ میری بات سنو اور میرے راستے پر عمل کرو۔ ان آیات میں  ارشاد ہوتا ہے کہ لوگوں  نے اس کی بات کو نہ سنا، حتیٰ کہ وہ اگلے جہان میں  چلا گیا۔ اگلے جہاں  میں  اپنے بارے میں  مغفرت و کرامات الٰہی کے مشاہدہ کے بعد اس نے آرزو کی کہ
    "اے کاش! میری قوم جو اس وقت دار دنیا میں  ہے، میری یہاں  کی سعادت مند کیفیت کا مشاہدہ کر سکتی۔ "
    واضح رہے کہ یہ تمام حالات قیامت کبریٰ سے قبل کے ہیں  کیونکہ قیامت کبریٰ میں  اولین و آخرین سب جمع ہوں  گے اور روئے زمین پر کوئی بھی باقی نہیں  ہو گا۔
    ضمناً اس نکتہ کو سمجھ لیں  کہ مرنے کے بعد نیک اور باسعادت لوگوں  کے لئے بہشتیں  مہیا ہیں  نہ ایک بہشت، یعنی مختلف اقسام کی بہشتیں۔
    عالم آخرت میں  بہشت کے مدارج قرب الٰہی کے مدارج و مراتب کے لحاظ سے مختلف ہوں  گے، جیسا کہ اہل بیت اطہارکی احادیث و روایات سے استفادہ ہوتا ہے۔ ان بہشتوں  میں  سے بعض عالم برزخ سے مربوط ہیں  نہ کہ عالم قیامت سے، بنابرایں  اوپر والی دو آیات میں  بہشت کے ذکر سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ عالم قیامت سے مربوط ہیں۔
    ۳۔ تیسری قسم ان آیات کی ہے، جن میں  فرشتوں  کی انسانوں  کے ساتھ گفتگو کا کوئی ذکر نہیں  بلکہ سعادت مند اور نیک انسانوں  یا بے سعادت اور بدکار انسانوں  کی زندگی کا ذکر ہے، پہلی قسم کے لئے موت کے فوراً بعد نعمات الٰہی اور دوسری صنف کے لئے عذاب و رنج ہو گا۔
    ذیل کی دو آیتیں  اسی قسم سے متعلق ہیں :
     ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون فرحین بما اتھم اللہ من فضلہ و یستبشرون بالذین لم یلحقو ابھم من خلفھم الا خوف علیھم ولا ھم یحزنون    (سورۂ آل عمران، آیات ۱۲۹۔ ۱۷۰)
    "آپ یہ گمان نہ کریں  کہ راہ خدا میں  مقتول مردہ ہیں، بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں  اور روزی دیئے جا رہے ہیں۔ اپنے فضل و رحمت سے خدا نے جو کچھ انہیں  دیا ہے، اس پر وہ خوش ہیں، ان کی آرزو ہے کہ ان کے دنیا والے دوستوں  کی شہادت کی بشارت ان تک پہنچے تاکہ انہیں  بھی اپنے ساتھ اس شہادت میں  شریک دیکھیں۔ "
    (۲) (وحاق بال فرعون سوء العذاب النار یعرضون علیھا غدواً و عشیا و یوم تقوم الساعة ادخلوا آل فرعون اشد العذاب(سورۂ مومن، آیات ۴۵۔ ۴۶)
    "آگ کے تکلیف دہ عذاب نے آل فرعون کا احاطہ کر رکھا ہے، ہر صبح و شام آگ ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے، جب قیامت ہو گی (کہا جائے گا) آل فرعون کو اب شدید ترین عذاب میں  داخل کر دو۔ "
    اس آیت میں  آل فرعون کے لئے دو قسم کے عذاب کا ذکر ہے۔ ایک قیامت سے پہلے جس کو سوء العذاب سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ہر روز دو بار آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، بغیر اس کے کہ اس میں  ڈال دیئے جائیں۔ دوسرا بعد از قیامت جس کو اشدالعذاب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حکم ہو گا انہیں  جہنم میں  داخل کیا جائے۔ پہلے عذاب کے بارے میں  صبح و شام کا تذکرہ ہے، دوسرے عذاب میں  نہیں۔
    جیسا کہ اس آیت کی توضیح اور تفسیر میں  امیرالمومنین علیہ السلام کا فرمان ہے کہ پہلا عذاب چونکہ عالم برزخ سے مربوط ہے، اسی لئے صبح و شام کا ذکر ہے کیونکہ عالم برزخ میں  عالم دنیا کی طرح صبح و شام، ہفتہ، ماہ اور سال ہیں۔ اس کے برعکس دوسرا عذاب عالم قیامت سے متعلق ہے اور وہاں  صبح و شام اور ہفتہ وغیرہ کا وجود نہیں۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمومنین علی علیہ السلام اور باقی آئمہ اطہار علیہم السلام کی احادیث روایات میں  عالم برزخ کا ذکر ہے، نیز اہل ایمان و اہل معصیت کی حیات کا بھی بہت تذکرہ ہے، جنگ بدر میں  جب مسلمانوں  کو فتح ہوئی اور سرداران قریش کو ہلاکت کے بعد ایک کنویں  میں  ڈال دیا گیا، تو رسول اللہ نے اپنا روئے مبارک کنویں  میں  کر کے فرمایا:
yle="font-family: "alvi nastaleeq"; mso-ascii-font-family: Arial; mso-hansi-font-family: Arial;">    "خدا نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، اسے ہم نے سچا پایا، تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا گیا تھا، کیا وہ تم نے پا لیا؟"
    بعض اصحاب نے کہا یا رسول اللہ آپ مردوں  سے باتیں  کر رہے ہیں، کیا یہ آپ کی بات سمجھ رہے ہیں ؟ فرمایا:
    "اس وقت یہ تم سے بھی زیادہ سنتے ہیں۔ "
    اس حدیث میں  اس جیسی دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ جسم و جان کا رشتہ موت کی وجہ سے منقطع ہو جاتا ہے، لیکن روح جو سالہا سال تک جسم کے ساتھ متحد رہی اور وقت گذارا، کلی طور پر بدن سے اپنا تعلق منقطع نہیں  کرتی۔
    امام حسین علیہ السلام روز عاشور نماز صبح باجماعت پڑھنے کے بعد اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک مختصر سے خطبہ میں  ارشاد فرمایا:
    "تھوڑا سا صبر و استقامت سے کام لو، موت ایک پل کے سوا کچھ نہیں، جو آپ۱ کو درد و رنج کے ساحل سے سعادت و خوش بختی اور وسیع جنتوں  کے ساحل پر پہنچا دے گی۔ "
    حدیث میں  آیا ہے کہ لوگ سوئے ہوئے ہیں، جب مریں  گے، تب بیدار ہو جائیں  گے، مراد یہ ہے کہ موت کے بعد کی زندگی کا درجہ اور رتبہ دنیوی زندگی سے زیادہ کامل اور بلند ہے۔ جس طرح سے انسان نیند کی حالت میں  احساس کے ایک ضعیف درجہ کا حامل ہوتا ہے، یعنی اس کی حالت نیم مردہ اور نیم زندہ ہوتی ہے۔
    بیداری کے بعد اس کی حیات کامل ہو جاتی ہے، اسی طرح عالم دنیا میں  عالم برزخ کی نسبت زندگی ضعیف تر اور زیادہ کمزور ہوتی ہے، جو عالم برزخ میں  منتقل ہونے کے بعد کامل تر ہو جاتی ہے، یہاں  پر دو نکات کی طرف توجہ ضروری ہے :
    (الف)رہبران دین کی روایات و احادیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ عالم برزخ میں  فقط ان مسائل کے متعلق سوال ہو گا، جن کا تعلق اعتقاد و ایمان سے ہے۔ باقی مسائل کا سوال قیامت کبریٰ میں  ہو گا۔
    (ب) ثواب و اجر کی نیت سے مرحومین کے لواحقین کی طرف سے جو نیک کام کئے جاتے ہیں، وہ مردہ کے لئے آسانی، خیر اور سعادت کا باعث ہوں  گے، مثلاً صدقات، خواہ صدقات جاریہ ہوں، جیسے ان اداروں  کی تشکیل جن کا نفع خلق خدا کو حاصل ہو، یا صدقات غیر جاریہ جو ایسا عمل ہے کہ جلد ختم ہو جاتا ہے، یہ عمل اگر اس نیت سے ہو کہ اس کا اجر و ثواب، ماں، باپ، دوست، معلم و استاد یا کسی اور مردہ کو نصیب ہو، تو یہ مرنے والے کے لئے تحفہ شمار کیا جائے گا اور اس کے لئے خوشی اور سرور کا باعث ہو گا۔ اسی طرح سے ان مرحومین کی نیابت میں  دعا، طلب مغفرت، حج، طواف اور زیارات یہی فائدہ رکھتی ہیں، ممکن ہے اولاد نے والدین کو اپنی زندگی میں  خدانخواستہ ناراض کیا ہو اور مرنے کے بعد اس طرح کے کام کر لے کہ والدین کی رضامندی کا مستحق ہو جائے، اسی طرح اس کے برعکس بھی ممکن ہے۔
مرتضی مھطری ​

SHARE THIS

Author:

Etiam at libero iaculis, mollis justo non, blandit augue. Vestibulum sit amet sodales est, a lacinia ex. Suspendisse vel enim sagittis, volutpat sem eget, condimentum sem.

0 Comments:

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




  • غرائب القرآن کے ماخذو مراجع
    غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

         کتاب کانام مصنف کے نام مطبوعہ تفسیر معالم التنزیل للبغوی علامہ ابومحمد حسین بن مسعود دار الکتب العلمیۃ بیروت  تفسیر ابن کثیر علامہ ابو الفداء اسماعیل بن...

  • عجائب القرآن کے ماخذو مراجع
    عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

       کتاب کا نام مصنف کا نام     مطبوعہ قرآن مجید کلام باری تعالیٰ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور       کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ا علیٰ حضرت...

  • علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ
    علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات...

  • اللہ تعالٰی کی چند صفتیں
    اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

    کفارِ عرب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے کوئی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نسب اور خاندا ن کیا ہے؟ اس نے ربوبیت کس سے میراث میں پائی ہے؟ اور اس کا وارث...

  • کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن
    کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

    کفار قریش میں سے ایک جماعت دربارِ رسالت میں آئی اور یہ کہا کہ آپ ہمارے دین کی پیروی کریں تو ہم بھی آپ کے دین کا اتباع کریں گے۔ ایک سال آپ ہمارے معبودوں (بتوں)کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبود...

Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




  •    ماخذ مراجع
    ماخذ مراجع

    (۱)     رو ح البیان          کانسی رو ڈ کوئٹہ (۲)    تفسیر نعیمی              مکتبہ اسلامیہ...

  • مال کے لئے الٹ پلٹ:
    مال کے لئے الٹ پلٹ:

        تا جر کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا مال بلا وجہ رکانہ رہے جو لوگ گرانی کے انتظار میں مال قید کر دیتے ہیں۔ وہ سخت غلطی کرتے ہیں کہ کبھی بجائے مہنگائی کے مال سستا ہوجاتا ہے اور اگر...

  • مسلمان خریدارو ں کی غلطی:
    مسلمان خریدارو ں کی غلطی:

        ہندو مسلمان تاجر کو دیکھنا چاہتے ہی نہیں ۔ انہیں مسلمان کی دکان کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں کسی مسلمان نے دکان نکالی تو  آس پاس کے ہندودکانداروں نے چیز...

  • ایک سخت غلطی:
    ایک سخت غلطی:

    اولاً تو مسلمان تجارت کرتے ہی نہیں اور کرتے بھی ہیں تو اصولی غلطیوں کی وجہ سے بہت جلد فیل ہوجاتے ہیں ، مسلمانوں کی غلطیاں حسب ذیل ہیں۔ (۱) مسلم دکانداروں کی بد خلقی: کہ جو گا ہک ان کے پاس ایک...

  • تجارت کے اصول:
    تجارت کے اصول:

        تجارت کے چند اصول ہیں جس کی پابند ی ہر تا جر پر لازم ہے یعنی پہلے ہی بڑی تجارت شروع نہ کردو بلکہ معمولی کام کو ہاتھ لگاؤ ۔ آپ حدیث شریف سن چکے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک...

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




  • غرائب القرآن کے ماخذو مراجع
    غرائب القرآن کے ماخذو مراجع

         کتاب کانام مصنف کے نام مطبوعہ تفسیر معالم التنزیل للبغوی علامہ ابومحمد حسین بن مسعود دار الکتب العلمیۃ بیروت  تفسیر ابن کثیر علامہ ابو الفداء اسماعیل بن...

  • عجائب القرآن کے ماخذو مراجع
    عجائب القرآن کے ماخذو مراجع

       کتاب کا نام مصنف کا نام     مطبوعہ قرآن مجید کلام باری تعالیٰ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور       کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ا علیٰ حضرت...

  • علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ
    علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات...

  • اللہ تعالٰی کی چند صفتیں
    اللہ تعالٰی کی چند صفتیں

    کفارِ عرب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں طرح طرح کے سوال کئے کوئی کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نسب اور خاندا ن کیا ہے؟ اس نے ربوبیت کس سے میراث میں پائی ہے؟ اور اس کا وارث...

  • کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن
    کفر و اسلام میں مفاہمت غیر ممکن

    کفار قریش میں سے ایک جماعت دربارِ رسالت میں آئی اور یہ کہا کہ آپ ہمارے دین کی پیروی کریں تو ہم بھی آپ کے دین کا اتباع کریں گے۔ ایک سال آپ ہمارے معبودوں (بتوں)کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبود...

Khawab ki Tabeer




  • khwab mein Jhanda  dekhna
    khwab mein Jhanda dekhna Jhanda safaid dekhnatwangar sahibe izzat hone ki dalil hai. Jhanda jard beemar ho kar sehat hasil ho. Jhanda siyahkisi tataf  jaye jafaryaab ho log izzat kare.
  • khwab mein Rogan  dekhna
    khwab mein Rogan dekhna

    Rogan sar par malnasare kam thik taur par ho. Rogani rozi dekhnamaal halaal milne ki dalil hai. Rogan jard dekhnaranz va gam ki nishani. Rogan siyah dekhnasafar se salamat gar wapas aane ki...

  • khwab mein Zameen dekhna
    khwab mein Zameen dekhna

    Zeene par chadnatarkki ki nishani. Zamin ko hilte dekhnahamal aurat dekhe. iskate amal ho aur mard dekhe to hakim ke itaab mai girftar ho. Zamin ko bote dekhnatamaam maksade deen milne ki dalil...

  • khwab mein Zewar  dekhna
    khwab mein Zewar dekhna izzat va aabru pane pane ki dalil hai.
  • khwab mein Sirhanah dekhna
    khwab mein Sirhanah dekhna Khwab main sirhanah zawaj, mahfooz maal, raazdaar aurat aur taabo takaan se raahat haasil hone ki daleel hai.

Most Popular