Showing posts with label ابدی زندگی اور اخروی حیات. Show all posts
Showing posts with label ابدی زندگی اور اخروی حیات. Show all posts
 دنیوی اور اخروی زندگی کی مختلف اور مشترک صورتیں

دنیوی اور اخروی زندگی کی مختلف اور مشترک صورتیں


 دنیوی اور اخروی زندگی کی مختلف اور مشترک صورتیں


    دنیوی اور اخروی زندگی کی مشترکہ چیزیں  یہ ہیں  کہ دونوں  زندگیاں  حقیقی اور واقعی ہیں  اور دونوں  زندگیوں  میں  انسان خود سے اور اپنی متعلقہ چیزوں  سے آگاہ ہے، دونوں  زندگیوں  میں  لذت و تکلیف، خوشی و غمی اور سعادت و شقاوت ہے۔
    جبلت و سرشت خواہ حیوانی ہو یا انسانی، دونوں  جگہ کارفرما ہے، دونوں  زندگیوں  میں  انسان اپنے بدن قد و قامت اور اعضاء و جوارح کے ساتھ زندگی گذارے گا۔ دونوں  زندگیوں  میں  فضا اور اجرام ہوں  گے، لیکن ان میں  بنیادی فرق بھی موجود ہے، یہاں  سلسلہ توالد، تناسل، بچپنا، جوانی، بڑھاپا اور موت ہے وہاں  نہیں، یہاں  ضروری ہے کہ کام کرے، بیج ڈالے اور مناسب اسباب مہیا کرے، وہاں  بیج کا پھل کاٹے اور دنیوی اسباب کا نفع حاصل کرے۔ یہ جگہ عمل اور کام کی جگہ ہے اور وہ عالم حساب و کتاب کرنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی جگہ۔
    دنیا میں  انسان کے لئے عمل اور حرکت کی سمت بدل کر مقدر کو تبدیل کر سکنے کا امکان ہے لیکن آخرت میں  نہیں، یہاں  پر موت و حیات کی آمیزش ہے، ہر حیات ایسے مادہ کے ہمراہ ہے، جس میں  حیات فاقد ہے۔ علاوہ ازیں  مردہ سے زندہ پیدا ہوتا ہے اور زندہ سے مردہ، جیسا کہ بے جان مادہ خاص شرائط کے ساتھ جاندار اور جاندار بے جان میں  تبدیل ہو جاتا ہے۔ مگر آخرت میں  محض زندگی کارفرما ہے، وہاں  مادی جسم بھی جاندار ہے، زمین و آسمان بھی جاندار ہیں، وہاں  کا باغ اور میوہ انسان کے مجسم اعمال کی طرح سے جاندار ہیں، وہاں  کی آگ اور عذاب بھی ذی شعور اور آگاہ ہیں۔
    دنیا میں  اسباب و علل اور خاص زمانی شرائط کی حکمرانی ہے۔ حرکت اور کمال کی طرف سے سفر (تکامل) کا وجود ہے۔ مگر عالم آخرت میں  صرف ملکوت الٰہی اور ارادہ الٰہی کا ظہور ہے۔ اس دنیا میں  انسان کا ادراک، اس کا شعور اور آگاہی اور بطور مطلق دیکھنا اور سننا دنیا سے زیادہ طاقتور ہے، دوسرے لفظوں  میں  پردے اور حجاب عالم آخرت میں  انسان کے سامنے سے اٹھا دیئے جائیں  گے اور انسان اپنی باطن بین نگاہوں  سے حقائق کا ادراک کرے گا، جیسا کہ قرآن کریم میں  آیا ہے :
    فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید(سورۂ ق، آیت ۲۲)
    "ہم نے اب پردے تجھ سے اٹھا لئے ہیں، پس آج تیری نظر خوب تیز ہے۔ "
    اس دنیا میں  خستگی و ملال خصوصاً یکسانیت کی وجہ سے کارفرما ہے، انسان کی حالت کسی شے کو گم کرنے والے کی طرح ہوتی ہے، جو ہمیشہ اپنی گم کردہ شے کی تلاش میں  سرگرداں  رہتا ہے۔ جب کوئی چیز مل جائے، تو خیال کرتا ہے، مقصود مل گیا ہے اور اسی پر خوش ہو جاتا ہے، مگر کچھ دیر بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ وہ نہیں  جو "مطلوب" تھا تو دل گیر ہو جاتا ہے اور پھر کسی نئی شے کی طلب میں  لگ جاتا ہے۔ اسی لئے دنیا میں  انسان ہر اس چیز کا طالب ہے، جو اس کے پاس نہیں  اور اس چیز سے بیزار ہونے لگتا ہے، جو اس کے پاس موجود ہے۔
    مگر اخروی دنیا میں  دل کی گہرائیوں  اور فطرت و شعور کی عمق سے جس چیز کو چاہتا تھا اور جسے اپنی گم شدہ متاع حقیقی سمجھتا تھا، یعنی "دربار رب العالمین" میں  "جاوداں  اور ابدی" جانتا تھا، اس کو پا لیتا ہے، لہٰذا اسے کسی قسم کا ملال و خستگی و پریشانی نہیں  ہوتی۔ قرآن کریم اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور کہتا ہے :
    لا یبغون عنھا خولا(سورۂ کہف، آیت ۱۰۸)
    "یعنی (دنیا کے برعکس) آخرت میں  انسان تبدیلیوں  اور جدید ماحول کے طالب نہیں  ہوں  گے اسی لئے اگرچہ اہل بہشت ہمیشہ بہشت ہی میں  رہیں  گے، لیکن کبھی سیر نہیں  ہوں  گے۔
    علاوہ ازیں  وہاں  جو چیز چاہیں  گے، ارادہ الٰہی سے اسی وقت ان کے لئے پیدا ہو جائے گی، لہٰذا ایسی چیز کی آرزو انہیں  پریشان نہیں  کرتی، جو ان کے پاس نہیں۔ "

  انسان کے اعمال کا تجسم اور جاودانگی

انسان کے اعمال کا تجسم اور جاودانگی


  انسان کے اعمال کا تجسم اور جاودانگی


    قرآن کریم اور رہبران دین کے فرامین اور احادیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ نہ فقط انسان ہمیشہ رہنے والا اور جاوید ہے، بلکہ اس کے اعمال و آثار بھی محفوظ ہوتے ہیں  اور ختم نہیں  ہوتے، انسان عالم قیامت میں  اپنے تمام اعمال و آثار کو مصور اور مجسم شکل میں  دیکھے گا اور مشاہدہ کرے گا۔
    اچھے اعمال و آثار نہایت حسین، خوبصورت اور لذت بخش شکل میں  مجسم ہوں  گے اور سرور و لذت کا باعث بنیں  گے، مگر انسان کے برے اعمال نہایت بدصورت، وحشت ناک، مہیب و اذیت ناک شکل میں  مجسم ہوں  گے اور درد و رنج اور عذاب کا باعث بنیں  گے۔
    (اس سلسلے میں  مزید تفصیل کے لئے عدل الٰہی، بحث معاد کی طرف رجوع کیجئے گا)
    اس سلسلے میں  ہم قرآن کریم کی تین آیات اور رسول اکرم ۱کی احادیث کے بیان پر اکتفا کرتے ہیں :
     یوم تجد کل نفس ماعملت من خیر محضرا و ما عملت من سوء تو دلو ان بینھا و بینہ امدا بعیداً     (آل عمران، آیت ۳۰)
    "وہ دن جب انسان اپنے ہر نیک کام کو اپنے سامنے حاضر دیکھے گا، اسی طرح برے کام کو بھی، وہ چاہے گا کہ کاش اس کے اور برے کام کے درمیان زیادہ فاصلہ ہوتا۔ "
    اس آیت میں  تصریح ہے کہ انسان عیناً اپنے نیک کام ہی کو مطلوب اور محبوب صورت میں  دیکھے گا اور اپنے برے کام کو بعینہ ایسی صورتوں  میں  دیکھے گا، جن سے اس کو نفرت و وحشت ہو گی، چاہے گا کہ اس سے فرار کر جائے یا اس صورت کو اس سے دور کیا جائے، لیکن وہ جگہ فرار کر سکنے کی جگہ نہ ہو گی اور نہ ہی انسان کے عمل کو انسان سے جدا کیا جا سکے گا۔
    اس عالم میں  مجسم شکل میں  حاضر ہو جانے والا انسانی عمل اس کے وجود کے ایک حصے اور جزو کی طرح ہو گا، جو اس سے جدا نہیں  کیا جا سکتا۔
    (۲) ووجدو اما عملوا حاضرا    (سورۂ کہف، آیت ۴۹)
    "دنیا میں  انجام دیئے ہوئے ہر عمل کو اپنے سامنے حاضر پائیں  گے۔ "
    اس آیت کا مفہوم اور معنی بالکل پہلی آیت والا ہے۔
    (۳) یومئذ یصدر الناس اشتاتا لیرو اعمالھم فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ، ومن یعمل مثقال ذرة شرا یرہ(سورۂ زلزال، آیات ۶ یا ۸)
    "اس دن انسان باہر آئیں  گے تاکہ (اعمال کی نمائش گاہ عمل میں) ان کے اعمال انہیں  دکھائے جائیں۔ جس نے ذرہ برابر بھی نیک کام انجام دیا ہے، اسے قیامت میں  دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برا کام انجام دیا ہو گا، اس کو بھی اس جگہ دیکھے گا۔ انسان باقی و دائمی ہے، انسان کے اعمال و آثار بھی محفوظ، باقی اور جاوداں  ہیں، عالم آخرت میں  انسان دنیوی زندگی میں  کمائی ہوئی چیزوں، اخلاق اور اعمال کے ساتھ زندگی گذارے گا۔ یہ کمائی، اعمال اور اخلاق، حیات اخروی میں  ہمیشہ کے لئے اس کا اچھا یا برا سرمایہ اور نیک یا برے ساتھی ہوں  گے۔
احادیث مبارکہ
    مسلمانوں  کا ایک گروہ کافی دور سے رسول اللہ ۱کی خدمت میں  شرف یاب ہوا اور دیگر باتوں  کے ضمن میں  آپ سے نصیحت کی خواہش کی۔ رسول اکرم نے چند جملات ارشاد فرمائے، جن میں  سے ایک جملہ یہ ہے کہ
    "ابھی سے آخرت کے لئے اچھے رفقاء اور ساتھیوں  کا انتخاب کریں، اس لئے کہ عالم آخرت میں  انسان کا کردار و اعمال ہی بصورت جسم اس کے زندہ ساتھی ہوں  گے۔ "
    حیات جاوید کا قائل مومن انسان اپنے خیالات، اخلاق و عادات اور اعمال، چال چلن میں  ہمیشہ پوری توجہ دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ زود گذر دنیوی امور میں  سے نہیں  بلکہ یہ تمام چیزیں  انسان کی اپنی اگلی دنیا میں  بھیجی ہوئی چیزیں  ہیں  اور اسے اسی سرمایہ کے ساتھ عالم آخرت میں  زندگی گذارنا ہو گی۔

موت کے بعد کی زندگی

موت کے بعد کی زندگی

موت کے بعد کی زندگی


    کیا انسان موت کے بعد ایک دم عالم قیامت میں  داخل ہو گا اور معاملہ ختم ہو جائے گا یا موت اور قیامت کے مابین ایک خاص عالم کو طے کرے گا اور جب قیامت کبریٰ برپا ہو گی، تو عالم قیامت میں  داخل ہو گا؟
    اس کا علم صرف خدا کو ہے کہ قیامت کبریٰ کب برپا ہو گی؟ انبیاء اور رسل نے بھی اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
    قرآن کریم کے نصوص، حضرت رسول اعظم اور آئمہ اطہار علیہم السلام سے منقول متواتر اور ناقابل انکار احادیث و روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی موت کے فوراً بعد قیامت کبریٰ میں  داخل نہیں  ہو گا، کیونکہ قیامت کبریٰ تمام ذہنی، زمینی اور آسمانی موجودات جیسے پہاڑ، دریا، چاند، سورج، ستارے اور کہکشاں  میں  ایک کلی انقلاب اور مکمل تبدیلی کے ہمراہ ہو گی، یعنی قیامت کبریٰ کے موقع پر کوئی چیز بھی اپنی موجودہ حالت پر برقرار نہیں  رہے گی۔ علاوہ ازیں  قیامت کبریٰ میں  اولین و آخرین سب جمع ہوں  گے، جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں، ابھی نظام عالم برقرار ہے اور شاید لاکھوں  بلکہ کروڑوں  سال قائم رہے اور اربوں  انسان ایک دوسرے کے بعد اس دنیا میں  آئیں۔ اسی طرح قرآن کریم کی رو سے (جیسے بعض آیات سے معلوم ہوا، جن کا ذکر بعد میں  ہو گا) کوئی بھی شخص ایسا نہیں، جس کی عمر قیامت کبریٰ اور موت کے درمیانی فاصلے میں  سکوت اور بے حسی میں  گذر جائے۔ یعنی ایسا نہیں  کہ مرنے کے بعد انسان نیم بے ہوشی کی حالت میں  ہو، کسی چیز کو محسوس کرے اور نہ لذت ہو نہ الم نہ اسے سرور حاصل ہو سکے، نہ ہی غم و اندوہ بلکہ مرنے کے بعد انسان فوراً حیات کے ایسے مرحلہ میں  داخل ہوتا ہے کہ کچھ چیزوں  سے اسے لذت حاصل ہوتی ہے اور کچھ سے تکلیف، البتہ اس لذت و الم کا ربط اس کے دنیوی افکار، اعمال اور اخلاق سے ہے۔ قیامت کبریٰ تک یہ مرحلہ جاری رہتا ہے، لیکن جب آن واحد میں  ایک کلی انقلاب اور تبدیلی تمام عالم کو اپنی لپیٹ میں  لے لے گی اور دور ترین ستاروں  سے لے کر ہماری زمین تک ہر چیز اس انقلاب اور تبدیلی کی زد میں  ہو گی، تب یہ مرحلہ یا یہ عالم جو سب کے لئے دنیا و قیامت کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتا تھا، اختتام پذیر ہو گا، لہٰذا قرآن کریم کی نظر میں  موت کے بعد کے عالم میں  دو مرحلے ہوں  گے۔ دوسرے لفظوں  میں  مرنے کے بعد انسان دو مراحل طے کرے گا۔
    ایک عالم برزخ جو عالم دنیا کی طرح ختم ہو جائے گا اور دوسرا عالم قیامت کبریٰ جو کبھی بھی ختم نہیں  ہو گا۔

موت کی ماہیت

موت کی ماہیت


موت کی ماہیت


موت کیا ہے؟ کیا موت نیستی‘ نابودی‘ فنا اور انہدام کا نام ہے یا تحول و تغیر اور ایک جگہ سے دوسری جگہ انتقال اور ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقلی کو موت کہتے ہیں؟
یہ سوال شروع سے بشر کے سامنے تھا اور ہے‘ ہر شخص اس کا براہ راست جواب جاننا چاہتا ہے یا دیئے گئے جوابات پر ایمان اور اعتقاد پیدا کرنا چاہتا ہے۔
ہم مسلمان قرآن پر ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں‘ اس لئے اس سوال کا جواب بھی قرآن ہی سے حاصل کرتے ہیں اور جو کچھ اس نے اس بارے میں کہا ہے‘ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔
قرآن کریم نے موت کی ماہیت سے متعلق ایک خاص عبارت میں خصوصی جواب دیا ہے۔
قرآن کریم نے موت کے بارے میں لفظ توفیٰ استعمال کیا ہے اور موت کو ”توفیٰ“ قرار دیا ہے۔
توفیٰ اور استیفاء دونوں کا مادہ ”وفاء“ ہے۔
جب کوئی کسی چیز کو پورا پورا اور کامل طور پر بغیر کم و کاست کے حاصل کر لے‘ تو عربی میں اس کے لئے لفظ توفیٰ استعمال کیا جاتا ہے۔
عربی میں ”توفیت المال“ کا مطلب ہے کہ میں نے تمام مال بغیر کمی بیشی کے پا لیا۔
قرآن کریم کی چودہ آیات میں موت کے لئے لفظ توفیٰ استعمال ہوا ہے‘ ان تمام آیات سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ موت قرآن کی نظر میں قبضے میں لینا ہے‘ یعنی انسان موت کے وقت اپنی تمام شخصیت اور حقیقت سمیت اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں کی تحویل میں چلا جاتا ہے اور وہ انسان کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔
قرآن کے اس بیان سے ذیل کے مطالب اخذ ہوتے ہیں:
(الف) مرگ‘ نیستی‘ نابودی اور فنا نہیں بلکہ ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف انتقال ہے اور ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف منتقلی ہے‘ جس سے حیات انسانی ایک اور شکل میں جاری رہتی ہے۔
(ب) وہ چیز جو انسان کی حقیقی شخصیت کو تشکیل دیتی ہے اور اس کی حقیقی ”میں“ (خودی) شمار ہوتی ہے‘ وہ بدن اور اس کے مختلف حصے وغیرہ نہیں کیونکہ بدن اور اس کے اعضاء کسی اور جگہ منتقل نہیں ہوتے بلکہ رفتہ رفتہ اسی دنیا میں گل سڑ جاتے ہیں۔ جو چیز ہماری حقیقی شخصیت کو بناتی ہے اور ہماری حقیقی ”میں“ سمجھی جاتی ہے‘ وہی ہے جسے قرآن میں کبھی نفس اور کبھی روح سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(ج) روح یا نفس انسانی جسے انسان کی شخصیت کا حقیقی معیار قرار دیا گیا ہے اور جس کی جاودانی ہی سے انسان جاوداں ہے۔ مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے مادہ اور مادیات کے افق سے بہت بالا ہے۔ روح یا نفس اگرچہ طبیعت کے کمال جوہری کا ماحصل ہے‘ لیکن چونکہ طبیعت‘ جوہری تکامل کے نتیجے میں روح یا نفس میں تبدیل ہوتی ہے‘ لہٰذا اس کا مرتبہ اور حقیقی مقام تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ ایک اعلیٰ سطح پر قرار پاتی ہے‘ یعنی اس کی جنس کو ماوراء طبیعت عالم سے شمار کیا جاتا ہے‘ موت کی وجہ سے روح یا نفس عالم مادی سے عالم روح کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں موت کے وقت اس ماوراء مادہ حقیقت کو واپس اپنی تحویل میں لے لیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی بعض ایسی آیتیں جن میں انسانی خلقت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور وہ معاد اور اخروی زندگی سے متعلق نہیں‘ اس چیز کی نشاندہی کی ہے کہ انسان میں آب و گل کی جنس سے ماوراء ایک اور حقیقت موجود ہے۔ آدم اول کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
ونفخت فیہ من روحی(سورئہ حجر‘ آیت ۲۹)
”ہم نے اپنی روح سے اس میں پھونکا۔“
روح‘ نفس اور موت کے بعد روح کی بقاء کا مسئلہ معارف اسلامی کے بنیادی مسائل سے ہے۔
ناقابل انکار معارف اسلامی کا تقریباً نصف حصہ‘ روح کی اصالت‘ بدن سے اس کا استقلال اور موت کے بعد روح کی بقاء پر ہے‘ جس طرح سے انسانیت اور حقیقی انسانی قدریں بھی اسی حقیقت پر استوار ہیں اور اس کے بغیر یہ سب چیزیں وہم محض ہی ہیں۔ تمام ایسی قرآنی آیات جو موت کے فوراً بعد زندگی پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں‘ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ قرآن روح کو بدن سے مستقل اور فناء بدن کے بعد اسے باقی تصور کرتا ہے۔ ان میں سے بعض آیات کا تذکرہ بعد میں کیا جائے گا۔ بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ قرآن کی رو سے روح یا نفس کچھ بھی نہیں‘ انسان مرنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے‘ یعنی موت کے بعد شعور‘ ادراک‘ خوشی و تکلیف نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی‘ البتہ جب قیامت کبریٰ کا وقوع ہو گا اور انسان کو نئی زندگی ملے گی‘ تب انسان اپنا اور دنیا کا شعور پائے گا۔
لیکن وہ آیات جو صراحتاً موت کے فوراً بعد کی زندگی کو بیان کرتی ہیں۔ اس نظریے کے باطل ہونے پر قطعی دلیل ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ روح کے قائلین کی دلیل صرف ”قل الروح من امر ربی“ والی آیت ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن میں کئی جگہ لفظ روح استعمال ہوا ہے‘ اس سے مراد کچھ اور ہے۔ یہ آیت بھی اسی معنی پر دلالت کر رہی ہے۔
یہ لوگ نہیں جانتے کہ قائلین روح کی دلیل یہ آیت نہیں بلکہ تقریباً ۲۰ دوسری آیات ہیں‘ البتہ یہ آیت دوسری آیات کی مدد سے جن میں روح کا ذکر مطلق آیا ہے یا روح کے ساتھ اور کوئی قید جیسے ”روحنا“، ”روح القدس“، ”روحی“، ”روح من امرنا“ وغیرہ‘ لیکن اسی طرح سے انسان کے بارے میں نازل شدہ آیات ”ونفخت فیہ من روحی“ بھی نشاندہی کر رہی ہے کہ قرآن کی نظر میں ایک حقیقت ایسی موجود ہے جو ملائکہ اور انسان سے اعلیٰ و ارفع ہے‘ جسے روح کہتے ہیں۔ ملائکہ اور انسان کی واقفیت امری یعنی روح اسی کے فیض اور اذن کا نتیجہ ہے۔
روح سے متعلق تمام آیات اور آیت ”و نفخت فیہ من روحی“ جو انسان کے بارے میں نازل ہوئی ہیں‘ نشان دہی کر رہی ہیں کہ انسانی روح ایک غیر معمولی حقیقت ہے۔(تفسیرالمیزان‘ جلد ۱۳‘ ص ۱۹۵‘ آیت: وقل الروح من امر ربی اور جلد ۳‘ ص ۲۷۵‘ آیت: یوم یقوم الروح و الملائکة صفا کی تفسیر دیکھئے)
فقط قرآن ہی متعدد آیات میں اصالت روح پر دلالت نہیں کرتا بلکہ کتب حدیث‘ دعا اور نہج البلاغہ میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہار علیہم السلام نے بھی متواتراً اس بات کی تائید کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ روح کا انکار مغرب کا ایک متعفن اور کثیف خیال ہے‘ جس کا سرچشمہ ان کی مادیت اور محسوسات کی طرف میلان ہے۔
افسوس ہے کہ قرآن کریم کے بعض حسن نیت رکھنے والے پیروکاروں کو بھی یہ خیال دامن گیر ہو چکا ہے۔
اب ہم نمونہ کے طور پر ان چند آیات کا ذکر کریں گے‘ جن میں موت کو توفیٰ سے تعبیر کیا گیا ہے‘ ان میں سے بعض آیات میں بلافاصلہ موت کے بعد کچھ بنیادی اعمال کو انساں سے نسبت دی گئی ہے (جیسے مکالمہ‘ تمنا اور تقاضے) ان چار آیات میں سے تین کا ہم ذکر کریں گے‘ جن میں ”توفیٰ“ استعمال کیا گیا ہے:
(۱) ان الذین توفھم الملائکة ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض‘ قالو الم تکن ارض اللہ واسعة فتھا جروا فیھا فا اولئک ماوا ھم جھنم وساء ت مصیراً(سورئہ نساء‘ آیت ۹۸)
”بیشک ان لوگوں کو جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے‘ فرشتوں (خدا کے بھیجے ہوئے مامورین) نے کامل طور پر اپنے قبضے میں لیا۔ فرشتوں نے ان سے پوچھا: یہ تم کس حال میں مبتلا تھے‘ وہ کہیں گے کہ ہم زبوں حال لوگ محیط اور معاشرے کے زیردست اور محکوم تھے‘ فرشتوں نے ان سے پوچھا: کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم اور ان کا انجام برا ہے۔“
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو کہ نامساعد حالات میں زندگی گذار رہے تھے۔ جب کہ کچھ لوگ ان حالات اور معاشرے کو اپنی مرضی سے چلا رہے تھے اور یہ کمزور لوگ اپنے محیط اور معاشرے کے محکوم تھے۔ اب اسی بات کو بطور عذر پیش کر رہے ہیں کہ حالات نامساعد تھے‘ معاشرہ فاسد تھا اور ہم کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ یہ لوگ بجائے اس کے کہ اپنے معاشرے اور محیط کو تبدیل کریں اور اگر تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے‘ تو خود کو ایسے فاسد معاشرے کی دلدل سے بچانے کی کوشش کریں اور کسی بہتر اور اچھے محیط و معاشرہ میں چلے جائیں‘ جبکہ وہ اسی معاشرے میں رہے اور اپنے آپ کو اسی معاشرے کے حالات کے سپرد کر دیا اور معاشرے کی برائیوں میں غرق ہو گئے۔ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ان کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد ان سے گفتگو کر رہے ہیں اور ان کے عذر کو ناقابل قبول قرار دے رہے ہیں‘ کیونکہ انہوں نے کم از کم وہ کام بھی انجام نہ دیا‘ جو ان کے بس میں تھا‘ یعنی کسی بہتر معاشرے کی طرف ہجرت نہیں کی‘ فرشتے انہیں سمجھا رہے ہیں کہ جو ظلم تم پر ہوا اس کے ذمہ دار خود تمہی ہو‘ یعنی اپنے گناہوں کے مسئول تم خود ہو۔
قرآن کریم اس آیت میں ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ (کسی معاشرے میں) بیچارگی اور ناتوانی قابل قبول عذر نہیں بن سکتی‘ مگر یہ کہ ہجرت اور کسی اور علاقے میں چلے جانے کے دروازے بھی بند ہوں‘ جیسا کہ نظر آ رہا ہے‘ اس آیت کریمہ میں موت کو کہ جو ظاہر میں نیستی‘ نابودی اور ختم ہونا ہے۔
توفیٰ یعنی تحویل میں لینے اور مکمل طور پر پا لینے سے تعبیر کیا گیا ہے اور نہ صرف یہ تعبیر بلکہ باقاعدہ طور پر موت کے فرشتوں اور انسان کے درمیان مکالمہ‘ گفتگو اور احتجاج کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ واضح ہے کہ اگر انسان کی حقیقت باقی نہ ہو اور انسان کی تمام تر حقیقت لاشہ بے حس و شعور سے عبارت ہو‘ تو مکالمہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔
یہ آیت ہمیں سمجھا رہی ہے کہ انسان جب اس جہان اور اس عالم سے چلا جاتا ہے‘ تو ایک اور طرح کی آنکھ‘ کان اور زبان کے ذریعے سے ایک نامرئی مخلوق یعنی فرشتوں سے گفت و شنید کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔
(۲) وقالوا اذا ضللنا فی الارض ائنالفی خلق جدید بل ھم بلقاء ربھم کافرون‘ قل یتوفا کم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون(سورئہ سجدہ‘ آیت ۱۱)
”انہوں نے کہا کہ جب ہم مٹی میں مل چکے ہوں گے‘ تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے؟ (یہ باتیں بہانہ ہیں) حقیقت یہ ہے یہ (ازروئے عناد) اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ کہہ دو موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے‘ تم کو پورے کا پورا اپنے قبضے میں لے لے گا‘ پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹا دیئے جاؤ گے۔“
اس آیت میں قرآن کریم‘ معاد اور حیات اخروی کے منکرین کے ایک اعتراض اور اشکال کو ذکر کر کے اس کا جواب دے رہا ہے۔

اشکال یہ ہے کہ ”موت کے بعد ہمارا ہر ذرہ نابود ہو گا اور ہمارا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا“ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں۔
قرآن ان اعتراضات کو از روئے عناد اور انکار‘ بہانہ بازی قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ تمہارے مدعا کے برعکس تمہاری حقیقت اور واقعیت وہ نہیں‘ جسے تم سمجھتے ہو کہ مٹ جاتا ہے‘ بلکہ تم تو اپنی تمام تر حقیقت اور واقعیت کے ساتھ اللہ کے فرشتے کی تحویل میں چلے جاتے ہو۔
معترضین کے ”فنا اور نابود“ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ہمارے بدن کا ہر ذرہ اس طرح بکھر جاتا ہے کہ اس کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا‘ پھر ایسے بدن کو دوبارہ کیسے زندہ کیا جا سکتا ہے؟
عیناً یہی اعتراض یعنی اجزائے بدن کا متفرق اور گم ہو جانا قرآن کریم کی دوسری آیات میں بھی مذکور ہے اور اس کا دوسرا جواب بھی دیا گیا ہے‘ وہ یہ کہ اس طرح کا گم ہونا آپ کی نظر میں گم ہونا ہے‘ بشر کے لئے مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ ان ذرات کو جمع کر لے‘ مگر خدا کے لئے مشکل نہیں‘ جس کا علم قدرت لامتناہی ہے۔
مذکورہ آیات میں منکرین کی گفتگو براہ راست اجزائے بدن کے بارے میں ہے کہ کیسے اور کہاں سے جمع ہو سکیں گے؟ لیکن یہاں اور جواب دیا ہے کیونکہ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ اجزائے بدن نابود ہوں گے اور ان کا کوئی نام و نشان نہیں ملے گا‘ بلکہ یہ بھی ہے کہ اجزائے بدن کے گم ہو جانے سے ”ہم“ گم ہو جائیں گے اور پھر ”میں“ اور ”ہم“ کا وجود کہیں نہیں رہے گا۔ دوسرے لفظوں میں معترضین کا اشکال یہ ہے کہ اجزائے بدن کے نابود ہونے سے ہماری حقیقت واقعیہ معدوم ہو جائے گی۔
قرآن جواب میں یوں فرما رہا ہے ”تمہارے گمان کے برخلاف“ تمہاری حقیقی اور واقعی شخصیت کبھی گم ہی نہیں ہوتی‘ جو تلاش کی ضرورت پڑے‘ وہ تو پہلے ہی سے اللہ کے فرشتوں کے قبضے میں ہوتی ہے۔
اس آیت میں بھی کمال صراحت کے ساتھ انسان کے اجزائے بدن کے فنا ہونے کے باوجود اس کی حقیقت واقعیہ یعنی روح کی موت کے بعد بقاء کا تذکرہ ہے۔
(۳) اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منا مہا فیمسک التی قضیٰ علیھا الموت و یرسل الاخری الیٰ اجل مسمیٰ ان فی ذالک لآیات لقوم یتفکرون
(سورئہ زمر‘ آیت ۴۲) 
”خداوند عالم نفسوں کو موت کے وقت اور جو ابھی نہیں مرا‘ اسے نیند کے موقع پر مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیتا ہے‘ پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے‘ اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کو ایک معین وقت تک کے لئے واپس بھیج دیتا ہے۔ اس میں فکر کرنے والی قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔“
یہ آیت نیند اور موت میں مشابہت کو بیان کر رہی ہے۔ ضمنی طور پر بیداری اور اخروی حیات میں مشابہت کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔
نیند‘ خفیف اور چھوٹی موت ہے اور موت‘ شدید اور بڑی موت ہے‘ دونوں مراحل میں انسانی روح اور نفس کا ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف انتقال ہے۔
اس فرق کے ساتھ کہ نیند کی حالت میں انسان غالباً غفلت میں ہوتا ہے اور بیداری کے بعد اسے نہیں معلوم ہوتا کہ حقیقتاً وہ ایک سفر سے لوٹا ہے‘ موت کی حالت کے برعکس کہ جس میں ہر چیز اس پر واضح ہوتی ہے۔
تینوں آیات میں سے کاملاً سمجھا جا سکتا ہے کہ موت کی حقیقت قرآن کی رو سے نیستی‘ نابودی اور فنا ہونا نہیں بلکہ ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف انتقال ہے۔ ضمنی طور پر نیند کی ماہیت اور حقیقت بھی قرآنی نکتہ نگاہ سے واضح ہو گئی ہے کہ نیند اگرچہ جسمی و ظاہری لحاظ سے طبیعت کی قوتوں کی تعطیل کا نام ہے‘ لیکن روحانی اور نفس کے لحاظ سے باطن و ملکوت کی طرف ایک طرح کا رجوع اور گریز ہے۔
سائنس کی نظر میں نیند کا مسئلہ بھی موت کے مسئلہ کی طرح مجہول الحقیقت ہے‘ اس سلسلے میں سائنس صرف یہ کہتی ہے کہ نیند جسمانی انفعالات کا نام ہے‘ جو بدن کے قلمرو میں متشکل ہوتے ہیں۔

مرتضی مطہری
ابدی زندگی اور اخروی حیات

ابدی زندگی اور اخروی حیات


معاد


اسلامی تصور کائنات کے اصولوں میں سے ایک اصول جو دین اسلام کے ایمانی و اعتقادی ارکان میں سے ایک رکن بھی ہے‘ جاوداں زندگی اور اخروی حیات پر ایمان ہے۔ عالم آخرت پر ایمان مسلمان کی شرط ہے‘ جو شخص اس ایمان سے محروم ہو جائے یا اس کا انکار کر دے‘ تو وہ مسلمانوں کی صف سے خارج ہے۔
اصول توحید کے بعد جس اہم ترین اصول کی طرف اللہ کے نبیوں نے (بلااستثناء) متوجہ کیا ہے اور اس پر ایمان لانے کا کہا ہے‘ یہی اصول ہے‘ جو مسلمان متکلمین کے نزدیک ”اصول معاد“ کے نام سے مشہور ہے۔
قرآن کریم میں سینکڑوں آیات ایسی ہیں‘ جن میں کسی نہ کسی طرح سے موت کے بعد والے عالم اور روز قیامت‘ حشر و نشر کی کیفیت‘ میزان‘ حساب‘ ضبط اعمال‘ بہشت‘ جہنم اخروی‘ حیات کی جاودانی اور بعد از موت کے باقی مسائل کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔
لیکن ۱۲ آیات میں صراحتاً خدا پر ایمان لانے کے بعد روز قیامت پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے۔
قیامت کے بارے میں قرآن میں مختلف عبارتیں ہیں اور ہر عبارت معرفت کا ایک باب ہے۔ ایک عبارت ”الیوم الاخر“ ہے‘ اس عبارت سے قرآن ہمیں دو نکات کی یاددہانی کرا رہا ہے:
(الف) اول یہ کہ حیات انسان بلکہ دنیا کی زندگی دو ادوار میں تقسیم ہوتی ہے‘ ہر دور کو ایک روز کہا جا سکتا ہے۔ ایک وہ دن اور دور ہے‘ جو اول اور ابتداء ہے۔ جس نے ختم ہو جانا ہے‘ یعنی دنیا کا دور‘ دوسرا وہ دن اور دور ہے‘ جو آخر ہے‘ جس کی کوئی انتہا نہیں یعنی آخرت کا دور۔
(ب) دوم یہ کہ چونکہ اس وقت ہم حیات کے پہلے دور کو طے کر رہے ہیں اور دوسرے دور اور دوسرے دن تک نہیں پہنچے اور وہ ہم سے پوشیدہ ہے‘ لہٰذا اس دن اور اس دن میں ہماری سعادت و خوش بختی اسی میں ہے کہ آج ہم اس آنے والے دن پر ایمان لے آئیں۔
اس دور اور اس دن میں ہماری سعادت اس لئے ایمان پر منحصر ہے کہ ایمان ہمیں اعمال کے نتیجے کی طرف متوجہ کرتا ہے اور ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے خیالات‘ اعمال‘ اقوال‘ رفتار و کردار‘ اخلاق اور عادات بلکہ تمام صفات کا اور خود ہمارا بھی ایک روز اول ہے اور ایک روز آخر‘ ایسا نہیں کہ روز اول میں یہ سب ختم ہو جائیں اور معدم ہوں‘ بلکہ باقی رہیں گے اور روز آخر میں ان کا حساب ہو گا۔
لہٰذا ہمیں اپنے آپ اور اپنے اعمال اور نیتوں کو نیک کرنا چاہئے اور برے کاموں اور غلط خیالات سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس طرح ہمیشہ ہمیں نیکی‘ نیک خوئی و نیک چال چلن کی راہوں پر گامزن رہنا چاہئے۔
ہماری سعادت روز آخر میں اس لئے ایمان پر منحصر ہے کہ عالم آخر میں انسان کی نیک اور سعادت مند زندگی یا بری اور شقاوت آلود زندگی کا باعث اس دنیا میں اس کے انجام دیئے ہوئے اعمال اور کردار ہیں۔
اسی لئے قرآن کریم روز آخر یا آخرت پر ایمان کو سعادت بشر کے لئے لازم و حتمی قرار دیتا ہے۔
حیات اخروی پر ایمان کی بنیاد
جاوداں زندگی اور اخروی حیات پر ایمان کا مآخذ دوسری ہر چیز سے پہلے اللہ کی طرف سے وحی ہے جو انبیاء کے توسط سے انسان تک پہنچی ہے۔ جب انسان نے معرفت خدا کے بعد پیغمبران خدا کی سچائی کا یقین کر لیا اور یہ جان لیا کہ پیغمبر جو کچھ قطعی کے طور پر کہتے ہیں‘ وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے‘ اس کا خلاف واقع ہونا ممکن نہیں‘ تو وہ قیامت اور اخروی جاوداں حیات پر ایمان لے آتا ہے‘ کیونکہ تمام انبیاء و رسل کے نزدیک اس پر ایمان لانا توحید کے بعد اسلام کا اہم ترین اصول ہے‘ لہٰذا حیات اخروی پر ہر فرد کے ایمان کے درجہ کا تعلق ایک طرف تو اس بات سے ہے کہ اس کا ایمان نبوت کے اصول پر کس قدر ہے اور وہ کس قدر نبی کی سچائی اور صدق گفتار کا قائل ہے۔ دوسری طرف اس کا تعلق اس امر سے ہے کہ اس کی معرفت کی سطح کس قدر بلند ہے۔ معاد اور آخرت کے متعلق اس کا تصور کس قدر صحیح‘ معقول اور عقل کے نزدیک پسندیدہ ہے اور کہیں جاہلانہ تصورات اور عامیانہ خیالات نے اسے متاثر تو نہیں کیا؟ البتہ وحی الٰہی کے علاوہ بھی جس کی خبر انسان کو انبیاء کے ذریعے سے ہوئی ہے‘ کچھ راہیں قرائن اور علامات کی ہیں‘ جن کی وجہ سے معاد کے وجود کا اعتقاد اور اس پر ایمان پیدا کیا جا سکتا ہے۔ یہ راہیں اور قرائن انسان کی فکری‘ عقلی اور عملی کاوشوں کا نتیجہ ہیں اور ان راہوں اور قرائن کو کم از کم انبیاءکے فرامین کا موید قرار دیا جا سکتا ہے‘ جو یہ ہیں:
۱۔ خدا شناسی کا طریقہ
۲۔ انسانی روح اور نفس کی شناخت کا راستہ
فی الحال ہم ان قرائن سے معترض نہیں ہونا چاہتے کیونکہ اس کا لازمہ یہ ہو گا کہ کچھ خاص قسم کی علمی و فلسفی بحثیں سامنے آئیں گی‘ لہٰذا ہم صرف وحی اور نبوت کے ذریعے معاد کے بارے میں گفتگو کریں گے‘ لیکن چونکہ خود قرآن میں ان راہوں کے بارے میں صراحت یا اشارے پائے جاتے ہیں‘ لہٰذا ہم ان کا ذکر بعد میں ”اخروی دنیا کے متعلق قرآن کا استدلال“ کے عنوان کے تحت کریں گے۔ وہ مسائل جن کے بارے میں بحث ضروری ہے تاکہ معاد اور جاوداں زندگی کا مسئلہ اسلامی نقطہ گاہ سے واضح ہو جائے‘ درج ذیل ہیں:
۱۔ موت کی ماہیت
۲۔ موت کے بعد کی زندگی
۳۔ عالم برزخ
۴۔ قیامت کبریٰ
۵۔ دنیوی زندگی کا اخروی زندگی سے رابطہ
۶۔ انسانی اعمال کا مجسم اور جاوداں ہونا
۷۔ دنیوی زندگی اور اخروی زندگی میں مشترکہ اور مختلفہ امور
۸۔ اخروی دنیا کے متعلق قرآنی استدلات


مرتضی مطہری

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular