Showing posts with label نعتیہ ادبی مضامین. Show all posts
Showing posts with label نعتیہ ادبی مضامین. Show all posts
اسلامی اقدار کا شاعر        عزیزبلگامی

اسلامی اقدار کا شاعر عزیزبلگامی


اسلامی اقدار کا شاعر 
     عزیزبلگامی

غلام ربانی فدا
جن کو تم شعر و سخن کی کہکشاں کہتے رہے
اصل میں قرطاس پر تھے، خامہ فرسائی کے داغ
مذکورہ بالا شعرعزیز بلگامی کاہے مگرعزیز بلگامی کے خیال سے میں متفق نہیںہوں، کیونکہ داغ تو ان کے لیے ہوسکتے ہیں مگر ان کا لکھاہواہرہرلفظ مجھ کوروشن اجالوںسے عبارت نظرآتاہے۔عزیزبلگامی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔مشاعرے،اخبارات ورسائل سے لے کر انٹرنیٹ تک ان کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔عزیزبلگامی کے یہاں اسلامی اقدار کی پاسداری مقصداولیں ہے۔گو کہ عزیزبلگامی نے خال خال عاشقانہ شاعری بھی کی ہے۔ اس کی خصوصیت اول تو یہ ہے کہ شاعر کااحساس جمال نہایت تیزاورشدیدہے۔ انگریزی رومانی شاعرکیٹس(KEATS) نے اپنے ایک خط میں لکھاہے کہ’’ایک ادنیٰ مخفی اورہلکاسا بھی احساس جمال میرے جسم کی رگ رگ میں ہیجان پیداکردیتاہے‘‘۔عزیزبلگامی کا معاملہ بھی کچھ ایساہی ہے مگر اس ہیجان میں سنبھلی ہوئی کیفیت نظر آتی ہے اوراس کے اظہارمیں رکھ رکھاؤ موجود ہے۔قدوگیسوکی قیامت خیزیوں، لب ورخسارکی حلاوت اور چشم وابرو کی فتنہ انگیزیوںکا ذکر اوّل توہے نہیں اور اگر ہے بھی تو اِس میں عامیانہ پن نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ ان کے عشقیہ  اشعارمیں مریضانہ کیفیت بھی نہیں ہے۔ ہمارے اکثرشعرا غزلوںمیں اس امر کااعادہ کرتے رہتے ہیں کہ عاشق مجبور محض، ناکام اور غم آلام میں محصورہوتا ہے۔ محبوب کو ستم پیشہ،کج رو،بددماغ اورتغافل شعارکہا جاتا ہے۔لیکن عزیز کے کلام میں عاشق کی دوری ومہجوری اس کی حیات کا تقاضہ ہے، محبوب کی ستم نوازشوں کا نتیجہ نہیں۔ اس عالم جدائی میں عزیزؔمحبوب کی تغافل شعارطبیعت کارونانہیں روتے ،بلکہ جذب وکیف، سروروانبساط میںڈوب 
جاتے ہیں۔اس طرح قاری کی طبیعت پربجائے افسردگی کے شگفتگی طاری ہوجاتی ہے۔تیسرے یہ کہ ان شعروں میںعاشق کارول ایک غیرت مند اورخوددارانسان کاکردارہے۔ وہ درمحبوب پرناصیہ فرسائی نہیں کرتا اور محبوب ستم شعار ہوتے ہوئے بھی باوقارہے، بے وفا اور ہرجائی نہیں۔ اِن کی تمام تر عشقیہ شاعری میں ضمناًبھی کہیں کسی ’’رقیب‘‘ کاذکر نہیں ملتا اور ہوبھی نہیں سکتا ،ظاہر ہے یہ ایک اسلامی اقدار کے پاسدار شاعرکی عشقیہ شاعری ہے۔ اس سلسلہ میںآخری نکتہ یہ ہے کہ اِن کے اس نوع کے شعروں پر مشتمل غزلوں کامحبوب ایک تصوراتی یامثالی محبوب ہے جس کے حسن وجمال کوآب ورنگ، عشق نے بخشاہے،اس کی تائید عزیز کے اس شعرسے ہوتی ہے:
مرے اشعار میں کچھ زخم مہکتے ہیں عزیزؔ
یہ سبب ہے کہ مرے فن پہ بہار آئی ہے
معدودے چندعشقیہ اشعارکے اِس تذکرے کے بعد عزیزکی اُن غزلیات کی طرف توجہ کرتے ہیں جواصلاً اُن کی فکر و نظر کا محور رہی ہیں، جن کوخالص سماجی وسیاسی صورت حال سے سروکار ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عزیز جیسے طبعاًحساس شاعراپنے اردگردکے ماحول سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہتے۔عزیزؔکے ان اشعار میںجن کاتعلق اخلاقی وسماجی اقدار کی پامالی سے یاسیاسی زبوںحالی سے ہے،لہجے کی تندی،احتجاج،چیخ وپکار،گھن گرج،یانعرہ بازی یا سوقیانہ بلندآہنگی نہیںہے،بلکہ ان میں جرأتِ اظہار کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ سلگنے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان اشعارمیںاپنے موقف یاردعمل کااظہا رشاعرنے سلیقہ مندی سے کیاہے، جس طرح ایک نہایت ہلکاسارنگ کسی تصویرمیںچمک پیداکردیتا ہے، اسی طرح چند علامات کے استعمال سے شاعرنے معنی آفرینی کاکام کیاہے اورچند اشارے صورت حال کی افراتفری،زمانے کے پیچ وخم اوروقت کے نشیب وفرازکی تصویرواضح طورپرنمایاںکردیتے ہیں۔ یہ علامات ہیں: باغباں،گلشن،آشیاں،صیاد،گل تر،شمع ،محفل ،قفس وغیرہ۔مادروطن کی ترقی اور اس کی مادی،تہذیبی اورمعاشی خوشحالی کے فروغ میںہندوستان کی مختلف قوموںاورنسلوں کی جو قربانیاں شامل ہیں ان میںمسلمانوںکی قربانیوں کو جس طرح یکسرنظراندازکیاجاتارہاہے،اس حقیقت کے اظہار میں شاعر کالہجہ کرب انگیز بن جاتا ہے اور اُن کاتیورطنزیہ چاشنی سے بھرپورنظر آتا ہے:
کیوں کر مزاج صبح کو سب کے بدل گیے
اطوار محسنوں کے تو کل رات ٹھیک تھے
معاشرے میں موجودنفاق وافتراق کے درمیان فرد کی بے بسی،انحطاط پذیر سوسائیٹی کی ابتری وبدحالی اورآئے دن برپا ہونے والے فرقہ وارنہ فسادات کی ہلاکت خیزی کاعکس اس شعرمیں دیکھئے:
ایک حسینہ ہے ، تشدّد جسے کہتے ہیں عزیزؔ
گرم رکھتی ہے بہت اہلِ وطن کا پہلو
جہاںطاقتور کی برتری وبالادستی کی اساس محض کسی دوسرے کی کمزوری اورخستہ حالی پر استوار ہوتی ہو،اخلاقی اقدار کے زوال کے ایسے ایک نمونے کا 
عکس اس شعرمیںملاحظہ ہو:
’’قوم زندہ ہے‘‘ یہ کہتے نہیں تھکتے تم لوگ
کیوں یہ تصویر بنی پھرتی ہے مجبوری کی!
 اسی زوال پذیر معاشرے کی پیداوار ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ذمہ دارانہ مناصب پر فائز رہتے ہوئے بھی ریاکاری اورمنافقت کا پیکر بن جاتے ہیں:
متولیوں کو کس کی نظر لگ گئی عزیزؔ
اب تک تومسجدوں کے حسابات ٹھیک تھے
اشتراکیت کی یلغار نے دنیاکے سیاسی استحکام اورمعاشی نظام کو تہہ وبالاکر کے رکھ دیا ہے۔آج یہی اشتراکیت پارہ پارہ ہے۔اس کے برعکس المیہ یہ ہے کہ خالص روحانی نظام بھی ملک ،معاشرے اورافرادکی ترقی کاضامن نہیں بن سکا ہے۔ایک اِلٰہی نظام کویکسر نظرانداز کرکے شخصیت کی نشونماہوسکتی ہے نہ معاشرے کی۔انسان کے متنوع مسائل کا واحدحل صرف اسلامی نظام میں ہے جو…مادہ اور روح…دونوں کے امتزاج میںتوازن واعتدال کو ترجیح دیتاہے۔ اور نمونہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے۔ اس خیال کے اظہار کے لئے درج ذیل شعر غیرمعمولی بصیرت اوردروں بینی کا ذریعہ بن گیا ہے:  
اپنے خاموش سمندر میں بھنور پیدا کر
سیپیاں خالی نہ رہ جائیں گُہر پیدا کر
کائنات کے ذرّے ذرّے میں چونکہ عشق سرایت کئے ہوئے ہے چنانچہ انسانی نفوس کی اکملیت کا انحصار اِسی فطری عشق میں مضمر ہے،یہ عشق روحانی کی صورت میں متجلی رہتاہے۔لیکن درمیان میں جب ہوس کی منزل آجاتی ہے ، جو حسن کا ایک تجسیمی تصور ہے تو یہی مقام ہوتا ہے جہاں عاشق کی نظر صرف قدوگیسو اورلب ورخسار تک محدود ہوکررہ جاتی ہے۔ پھر یہی ہوس جل کرعشقِ روحانی میں تبدیل ہوجاتی ہے اور اس کاپہلا زینہ ہوتا ہے:
تلاش کُو چۂ جاناں کی چھوڑ دی میں نے
دماغ و دِل میں چمکنے لگی ہے حق کی کِرن
ذہن تھا سوچ میں جذبات ہوں پیدا کیسے
دفعتاً آئی صدا ، دِل میں اُتر ، پیدا کر
ابھی چشمِ کرم کی آرزو ہے سیر چشموں کو
ہو ممکن تو ہوس کے داغ دھولو ، کیا تماشہ ہے
 تمام اشعار میں مذہبی عقیدے کی سختی ہے، نہ بوجھل صوفیانہ مصطلحات کی فراوانی۔یہ اشعارایک اسلامی مبلغ کی سادگی ،انسان دوستی اور حقیقت سناشی کے پرتوہیں۔غزلوںمیںبدیع وبیان کاتصنع ہے، نہ ملمع کاری۔نمودونمائش اورالفاظ وتراکیب کے طمطراق سے دوردرورکاواسطہ نہیں۔ایک قلب بے ریا کی طرح یہ اشعار بھی سادہ وسلیس الفاظ مگرلطیف احساسات سے مملوہیں۔تلمیحات کااستعمال کم سے کم ہے۔مفرس معرب الفاظ کے استعمال سے حتی الامکان گریزکیاگیاہے۔ مشکل اورپیچیدہ تراکیب کی ترکیب سازی سے شاعر کی قوت ایجاد اورذہنی اختراع کاپتہ چلتاہے۔مگران کے استعمال کی 
کثرت سے شعر کی لطافت مجروح ہوتی ہے۔اس حقیقت سے عزیز صاحب خوب واقف ہیں۔ ترکیب سازی کلام عزیزؔمیں ایک وسیلہ ہے ترسیل وابلاغ کا،کلام میں گل بوٹے بنانے کا نہیں ۔اسی لئے کلام میں سہل ممتنع کے اشعار بیش ازبیش ہیں اوریہ شاعر کی فنکارانہ ہنرمندیوں پردال ہیں۔اسی طرح تشبیہات واستعارات سے بھی کلام کونہیں سجایاگیاہے۔زیادہ سے زیادہ صنعت تضاد سے کام لیاگیاہے۔تمام اشعارمیں آرائش اظہار کے لئے کوئی شعوری کوشش نظرنہیں آتی۔
ان تمام غزلوںکے مطالعہ کے بعد یہ بات پورے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ شاعری خشک ہے نہ محض قافیہ پیمائی۔اس کی وجہ صاف ہے ۔عزیزپروجد اورسرخوشی کاعالم طاری ہوتارہتا ہے ۔پایان کارکسی اسلامی شاعرکاکلام سپاٹ اور بے رنگ نہیں ہوسکتا۔ان غزلوںمیں جمالیاتی احساس کی شدت کے ساتھ عصری حسیت بھی بدرجہ اتم موجودہے۔یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ غزلیہ شاعری ہے یالطافت احساس، غنائیت اورموسیقیت کاایک سیل رواں۔!!شعری اظہارمیں غیرمعمولی سرمستی اوروالہانہ پن ہے۔بعض غزلوںمیں قافیے کی تکرار اوراس کے پھیلاؤ نے غزل کے حسن کودوبالاکردیاہے۔مجموعی طور پرکلام کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ اپنے احساسات ومشاہدات وتجربات کی ادائیگی میںعزیزؔتغزل کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔بعض اشعار ملاحظہ ہو ں جہاں جذبہ وفکر کی آمیزش کوتغزل کے رنگ وآہنگ نے چمکادیاہے۔یہ اشعار نہایت مترنم بحرمیں ہیں:
زمیں بنجر ہے پھر بھی بیج بولو ، کیا تماشہ ہے
ترازو پر خرد کی دِل کو تولو ، کیا تماشہ ہے 
ابھی تک گیسوئوں کے پیچ و خم کی بات ہوتی ہے
بھگولو ، اب تو پلکوں کو بھگولو ، کیاتماشہ ہے
ہم نے ہر شرط دُعائوں کی کہاں پوری کی!
پھر بھی اُمید دُعائوں کی ہے منظوری کی
معاملے میں تُو کردار کے نکھر تو سہی
تُو کارزار کے میدان میں اُتر تو سہی




لپٹ کے چومے گی تجھ سے،ترے قدم جنّت
اے نوجوان! کبھی راہِ حق میں مر تو سہی
فکر کی آنکھ سے اوجھل تھا سُخن کا پہلو
بس اِسی واسطے تشنہ رہا فن کا پہلو
نظروں سے ہے اوجھل تو، تعجب ہے تجھے کیوں
اِنصاف کا خوگر ہے تو محشر کو پرکھ مت
میں تو بس، دولتِ اخلاص کا شیدائی ہوں
اس لئے پیشِ نظر ہی نہیں دھن کا پہلو
غزلوں کے مطالعہ سے عزیزؔکی شاعرانہ مہارت وعظمت میں کسی کمی کا احساس پیدانہیں ہوتا۔مگر سچی بات یہ ہے کہ شاعر کے محسوسات،مشاہدات وتجربات کی اصل جولاںگاہ غزل ہے۔ یہ غزلیں چاہے عشقیہ ہوں یاصوفیانہ یا چاہے ان کاسروکارعصری حسیت سے ہو،ان کی سادگی میں گل پیرہنی، حزنیہ لہجے 
میں سر خوشی ،نشاطیہ آہنگ میں رومانی غم انگیزی اورلفظوںکے پیچ وخم میں طنزیہ کاٹ کی آمیزش موجود ہے۔عزیزؔکے صاف وشفاف اور بے داغ کتاب  ’’ دل کے دامن پر ‘‘کی طرح کلام میں بھی ابہام ہے نہ پیچیدگی نہ ژولیدہ خیالی۔
یہ اشعارملاحظہ کیجئے اورانصاف کے ساتھ کہئے کہ عزیز کی شاعری آپ کے ’’دل کے دامن پر‘‘کیا کھلبلی مچائی ہے:
کون کہتا ہے کہ مُردوں کو کفن دیتی ہے
اِن کی تہذیب مجھے ننگے بدن دیتی ہے
آزمائش کے لیے شرط  ہے عالی ظرفی
زندگی سب کو کہاں دارو رسن دیتی ہے
ایسانہیں کہ آپ کے جذبات ٹھیک تھے
سب کچھ تھا ٹھیک ،جب مرے حالات ٹھیک تھے
زمانے سے چھپا رکھا ہے ہم نے سارے زخموں کو
ستم کے داغِ داماں تم بھی دھولو ، کیا تماشہ ہے
کچھ نظر آتا نہیں ، کچھ بھی نظر آتا نہیں
ان کے چہروں پر اُبھر آئے ہیں بینائی کے داغ
اگرکوئی شخص یہ سوچتاہے کہ عزیزبلگامی ہندوستان کے ہزاروں شعرا میں سے ایک اورشاعر کی اضافت ہے تو میرے خیال میں وہ سخت اندھیرے میں ہے۔دراصل عزیزبلگامی ایک تحریک کا نام ہے، جس کامقصدادب میں اسلامی اقداروروایات کی امانتداری وپاسداری ہے۔ جس میںوہ یقینااطمینان بخش حدتک کامیاب ہے۔عزیزبلگامی اپنے شاعرانہ جنون میں حرف کولفظ،لفظ کومعنی،معنی کوکہانی بنانے کاہنر خوب جانتے ہیں۔ان کے ہی شعرمیں کچھ  تصرف کے ساتھ قلم روکتاہوں:
تم نے بخشاہے تغزل کو تقدس کا جمال
ہر غزل تیری، ضمیروں کو چبھن دیتی ہے

٭٭٭

تنقیدنعت وقت کی اہم ضرورت​

تنقیدنعت وقت کی اہم ضرورت​



تنقیدنعت وقت کی اہم ضرورت
غلام ربانی فداؔ 
مدیراعلیٰ جہان نعت ہیرور 
جب نعت نے ’’ورفعنالک ذکرک‘‘ کا تاج اپنے سر کی زینت بنایا تو اس کے عظمت و انفرادیت و شعریت کے چرچے ہر سُو پھیل گئے۔ لفظوں نے جب نعت کالباس زیب تن کیاتو اس کے حسن کے چرچے چہارسو پھیل گئے جیسے جیسے شوق تحقیق و جستجونے ہردور کوکھنگالا تو ایک ہی حقیقت سامنے آئی کہ سیّدنا حسان بن ثابت ص سے لے کر آج تک ہردوردورِ نعت تھا۔ بحمداللہ حضرت سیّدنا حسان، سیدنا کعب، سیّدنا عبداللہ بن رواحہ ث، قدسی، جامیؔ ، عرفیؔ ، رومیؔ ، احمد رضاؔ خان،حفیظ تائب ،ماہرالقادری،الطاف حسین حالی کے سفرنعت تاریخ ادب نعت فراموش نہیں کرسکتی۔ ​
جب نعت کہنے والوں تعداد زیادہ ہوئی تو تنقیدِ نعت کا مسئلہ وقت کا تقاضا بن کر اُبھرا۔ اگرتنقید اپنے بانہیں نہ پھیلائی ہوتی تونعت میں عقیدت کے نام پر افراط وتفریط کاشکارہوکررہ جاتی جوکسی بھی صاحب ایمان یاعاشق رسول ،عالم دین کوگوارہ نہ ہوتیں۔ تنقید نعت کامطلب یہ نہیں کسی کی تنقیص کی جائے بلکہ سفیران نعت کی رہنامئی اور رہبری ہے۔ فروعِ ادب نعت کے لیے ماہ نامہ ’’نوائے وقت‘‘، ماہ نامہ ’’شام و سحر‘‘، ماہ نامہ ’’نعت‘‘، ماہ نامہ ’’حمد و نعت‘‘ ’’نعت رنگ‘‘ اور ہندوستان میں’’جہان نعت‘‘راقم الحروف کی ادارت میں آسمان نعت میں روشن ستارے بن کر ابھرے۔​
اللہ کریم نے ذکررسول کوبلندفرماکر ہمارے دلوں اوردماغوں میں یہ نقش فرمادیا کہ ہر دور دورِ نعت ہے پہلی صدی ہجری ہو یا چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری ہو یہ اوربات ہے کہ یہ صدی نعت کے حوالے سے کافی بیداری کے ساتھ جلوہ افروزہے کچھ محققین کا خیال ہے کہ ادبی طورپر یہ صدی نعت کی صدی ہے اگر مقصد یہ ہے کہ اس صدی میں لاتعداد مجموعہائے نعوت اورنعتیہ ادبی رسالے اورمقالہ جات منظرعام پرآئے توٹھیک ۔اگر ماضی وحال سے مقابلہ کرناہے تو پھر قول خدا’’ورفعنالک ذکرک‘‘ کامطلب ہوگا ؟کیا منشائے خداوندی اپنے طریقہ کار بدل دے گی؟میراخیال ہے کہ ہرصدی کے اختتام پر محققین نعت یہ کہہ اٹھے کہ ہماری صدی نعت کی صدی ہے اور یہ سچ بھی اس صدی میں نعت کے حوالے سے جوبیداری جنم لی شائد ہی کسی اور صدی کو یہ امتیاز حاصل ہوگانیز ہم یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتے یہی اس صدی میں ہم نے نعت کے حوالے سے مطمئن ہیں بلکہ ابھی تک بے شمار موضوعات ہماری دسترس سے بہت دورہیں اور ہمارے نامعلومات کے پردوں میں ہیں اس صدی کے محققین اور تحقیق کے حوالے سے آنے والے صدی مورخین ومحقیقن نعت ہی فیصلہ فرمائیں گے۔​

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:​
حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا آپ کا ربّ کریم پوچھتا ہے کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کے ذکر کو کیسے سر بلند کیا؟ میں نے جواب دیا اس بات کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کے رفعِ ذکر کی کیفیت یہ ہے کہ جہاں میرا ذکر کیا جائے گاوہاں آپ کا ذکر بھی میرے ساتھ کیا جائے گا۔​
عہدحاضر کویہ فخرحاصل ہے اس عہدمیں بے شمارنعتیہ دیوان اور ادب نعت پر کتابیں منظرعام پر آئیں لاکھ کوشش کے باوجود ہم ان کا شما ر نہیں کرسکتے۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کتب کی کثرت سے معیار متاثرہوتاہے یہ کوچۂ ہوس نہیں گلستان نعت ہے جہاں معمولی لغزش بھی شاعر کو جہنم کا مستحق بناسکتی ہے۔​
جیسے کہ ایک مشہور صوفی صاحب کا یہ​
جوکبھی مستئ عرش تھا خدا بن کر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی بن کر​
(اس کی تشریح علمائے دین اور ناقدین نعت ہی کریں تو بہتر ۔مجھ سا طالب علم اس خامہ فرسائی کرنے سے رہا۔)​
یاجدیدیت کی رومیں بہہ کر​
اگر بادحوادث ریزہ ریزہ کرکے بکھرادے​
توبن کر خاک میں جم جاؤں ترے روضے کی جالی پر​
(ناقدین نعت ہی بتائیں یہ خیال کہاں تک درست ہے جبکہ علمائے دین فرماتے ہیں دررسول پر باادب رہناچاہئے۔یہ بات عیاں ؔ صاحبہ کی واضح کردیں تو بہتر)​
میں عرض کررہاتھا کہ جب نعتیہ کتب کی اشاعت کثرت سے ہونے لگی توپھر نقدنعت نے بھی اپنی ضرورت محسوس کرائی اور ہوشمند ناقدین اس سفرکے راہی بن گئے۔ایک سوال یہ یداہوتاہے کہ جب ماضی میں نعیہ دیوان شائع ہوتے تھے جس کی مثال ہمیں آسانی سے مل سکتی ہے تو پھر اس وقت نقدنعت کی ضرورت کیوں نہ محسوس ہوئی؟۔میرے خیال میں اس کا جواب یہ ہوگا ماضی کے شعراء علم عروض و ادب کے ساتھ ساتھ علم دین سے بھی واقف ہوتے تھے اور آج کے نئی نسل کی علم دین سے ناآشنائی اورشعرا نعت کو عبادت کے بجائے فن کے طورپر بتنے لگے جیساکہ کچھ شعرا کی فطرت بن گئی کے نعتیہ مشاعرے میں ایک نعت پڑھتے اور بہاریہ مشاعرے میں اسی نعت کو الفاظ کی ہیراپھیری کے بعد اپنے مجازی محبوب کی نذر کردیتے۔(اللہ ہمیں محفوظ رکھے) شعراکی علم دین سے دوری اور نعتیہ مجموعہائے کلام کی تیزی سے اشاعت دوسری اصنافِ شعر و ادب کی طرح میدانِ نعت میں بھی تنقید وقت کا اہم تقاضہ بن کر سامنے آئی۔ فرق صرف اتناہے دوسرے اصناف سخن ادب کاقصاب جس طرح چاہے تنقیدی چاقو چلاسکتاتھا مگر نعت کا تقدس نقادوں پرپاندیاں عائدکرتاہے بیجا کسی کی تنقیص نہیں کرسکتے اور نیز کمال ہوش مندی کے ساتھ تنقید کی اجازت ملتی ہے گویا جس طرح نعت گوئی ہرکس وناکس کی بس کی بات نہیں ایسے ہی نقدنعت بھی۔​
بہرحال تنقیدِ نعت وقت کا تقاضا اہم ہے۔پاکستان میں اس تقاضے کو سنجیدگی کے ساتھ اپنایاگیامگر ہندوستان میں ابھی تک اطمینان بخش پیش رفت نہیں ہوئی۔​
آپ ہندوستان میں نعت اور نقدنعت کی فضاؤں کی کیفیت ایک ناقد نعت کے جملے میں دیکھیں تو انکارنہیں کریں گے​
ڈاکٹر صابر سنبھلی رقمطراز ہیں​
نعت پر پاکستان میں بہت کام ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ میرا اپنا خیال یہ ہے (جو بعض شعراے ہند کو ناگوار بھی ہوسکتا ہے) کہ پاکستان کی نعتیہ شاعری بھارت سے موضوعات اور طرزِاظہار دونوں حیثیتوں سے کم سے کم پچاس برس آگے ہے۔ پاکستان میں ہی نعت کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ’’نعت رنگ‘‘ اور ’’سفیرِنعت‘‘ جیسے مجلے بھی جاری ہوئے۔ (نعت رنگ شمارہ ۲۰)​
ایک سوال یہ پیداہوتا ہے کیا نعت جیسا مقدس و محترم موضوع تنقید کامتحمل ہوسکتا ہے۔ تنقید نگار نعت کے شایانِ شان تنقید کرسکتا۔تنقیدنعت کے لئے ماضی اور حال، مستقبل کے تمام نعتیہ دیون کو پیش نظر رکھ کراور فرامین خداواحادیث رسول کی روشنی میں اوردل سے بغض وعناد نکال کر تنقید کرناہرناقد کاحق ہے اس میدان میں بڑے ناموں سے نہیں بلکہ صلاحیت سے آزمائی جاتے ہیں۔​

میدان نعت میں گروہی بندی نہیں ہونی چاہئے۔ جیسے ماضی میں غزل، مرثیہ اور دوسری اصناف میں گروہ بندی کا میدان گرم ہونے کی بنا پر ہوتاآیا ہے ویساکچھ معاملہ نعت کے حوالے سے مشاعروں کے بارے میں ہونے لگا۔ اپنے گروہ کے مبتدی شعرا کے لیے بھی ضرورت سے زیادہ داد اور دوسرے گروہ کے بہترین نعتیہ کلام پرصرف خاموشی پراکتفا۔ بڑی معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ نعتیہ محافل ومشاعروں کے نام پر اپنے اپنے پسندیدہ نعت خواں یا نعت گو کوبڑے بڑے خطابات کے ساتھ نمائش کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نعت نقدنعت کا مطالبہ کررہی ہے​
ہمیں تنقیدنعت کا بہت ہی صبروضبط کے ساتھ استقبال کرناچاہئے اور اس معاملے کوئی کوتاہی نہیں ثابت کرنی چاہئے۔ اور اوریہ خوف بھی دامن گیر نہ رہے کہ تنقید نعت کے نام پرتنقیص نعت ہوگی ۔ کام نیاہے یہ ضروری بھی ہے نئے کام کے ساتھ خوف وخدشات بھی دامن دل کو اپنی طرف کھینچتے ہیں مگر رضائے خدا اور خدمت نعت کے لئے کمربستہ ہوناہی ہر محقق کا فریضہ ہے۔ اوراس امید کے ساتھ نقدنعت سے نئے اسالیب وموضوعات کی کہکشاں سجے گی اور ادب نعت کو تازگی ملے گی اور ہرمحقق کا دینی واخلاقی فریضہ ہوگاکہ وہ تنقیدنعت کے نام پر کسی کی تنقیص نہ کرے۔​
ہاں یہ بھی ایک فطری عمل ہے کہ اچھا کام کرنے والے کی بے انتہا تعریف کرنے کے بعد اُس کی ایک چھوٹی سی لغزش پر بھی ہاتھ رکھ وتو وہ تمام تعریفیں بھول کر مرنے مارنے پہ آجائے ۔ جب تعریف وتوصیف گوارہ ہے تو کوتاہی بیان کرنے پر یہ غصہ کیوں؟ ہوناتویہ چاہئے کہ اس ناقد کا احسان مان لیں کیوں کہ وہ بروز حشرآپ کو رب کی پکڑسے بچارہاہے ​
خیرمیراایک سوال ہے آپ نعت کیوں کہتے ہیں؟تو ہرشاعر کا یہی جواب ہوگا کہ رسول کریم ﷺ کے مداحوں کی صف میں آخرمیں سہی کہیں ایک پیر پر بھی کھڑنے کے لئے جگہ مل جائے۔اپنی عاقبت سنور جائے۔جب آپ اپنی عاقبت سنوارناچاہتے ہیں تو پھر اتنا چراغ پا کیوں ہو رہے ہیں؟​
اورناقدین سے بھی کہناچاہوں گا کہ یہاں کوئی شمالی اور جنوبی،دکنی ،مراٹھی اور فاروقی اور نارنگی نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ مدح خواں ہیں یہاں صرف خالص تنقید چاہئے اور وہ تنقیص نہیں جو کسی خلاف قلم اٹھاؤتو میدان ادب سے بھاگنے پر مجبور کردو۔اپنی مختصر ادبی حیات سہی مگر میں نے ہمیشہ سے یہ پایاہے کہ ناقد کی بات غورسے سنو!اگردرست کہہ رہاہے تو اس کا مشورہ قبول کرلو کیوں ملک الموت کسی کو وقت نہیں دیتے۔یہاں تک احتیاط ہونی چاہئے اگر آپ کا نعتیہ شعر بہت خوبصورت ہے اور کوئی مشورہ دے یا آپ کو لگے کہ اس کے دومطلب نکلتے ہیں ایک رسول کریم ﷺ کی تعریف اور دوسرا کچھ اور مطلب بیان کرتاہے تو اس سے آپ فوراًعوام الناس کی دادودہش سے بے نیاز ہوکر اس مطلب کو اجاگر کرو مدحِ رسول کی نمائندگی کر رہاہے اوراگر شعر بدل سکتے ہوتو فوراً بدل لو۔اگرشعری صلاحیت اس قابل نہیں تو فوراً شعرہی سے رجوع کرلو۔یہ حضرت غالب ؔ کا دیوان نہیں ہے جس کے ایک شعر سولہ سترہ مطالب ہوںیہاں بس ایک مطلب ہوناچاہئے کہ آپ اس شخصیت کی مدحت کہہ رہے ہیں جس کی مدحت خود رب کریم فرماتاہے​
حضرت کعب بن زہیر عرب مشہورشاعر تھے۔حضرت کعب کے والد زہیر بن ابی سلمیٰ کا شمار خود نامور شاعروں میں ہوتا تھا۔نعت گوصحابی رسولﷺ حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کااسلام لانے سے پہلے اسلام کے خلاف منظومات لکھتے اوردشمنان اسلام سے خوب داد پاتے۔ نبی کریمﷺ نے کعب کے ایمان لانے سے قبل ان کے خون کو مباح قرار دے دیاتھا۔جب دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے توحضرت کعب نے مدینہ منورہ آکر معافی اور امان طلب کی تورسول کریم ﷺنے معاف فرما دیا۔ اسی موقعہ پر جب کعب بن زہیر نے ’’قصیدہ بانت سعاد‘‘ سنایا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بڑے ذوق اور محویت کے ساتھ قیصدہ سماعت فرمارہے تھے ؂​

ان الرسول لسیف لسیضا بہ​
مھند من سیوف الہند مسلول​
ن کے اس شعر کا ترجمہ یوں تھا:​
’’رسول اللہﷺ وہ نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور وہ بے نیام ہندی تلواروں کی طرح تیز اور فیصلہ کن ہیں۔‘‘ ​
۔ جب وہ مذکورہ بالا شعر تک پہنچے تو آپ نے اس شعر کے دوسرے مصرعے کی یوں اصلاح فرمائی کہ ’’سیوف الہند‘‘ کی جگہ ’’سیوف اللہ‘‘ لگانے کو کہا۔ اس ایک لفظی اصلاح سے شعر کے معانی ومفاہیم ہی بدل گئے۔ شاعر و شعر دونوں کو ہی اونچا مقام مل گیا۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشارہ پاتے ہی اس شعر کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اصلاح کے ساتھ دہرایا۔​
یعنی ’’رسول اللہﷺ وہ نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ آپ اللہ کی تلواروں میں سے ایک کھینچی ہوئی تلوار ہیں۔‘‘اس قصیدہ کے ۵۸؍ اشعار ہیں ۔ رسول کریم ﷺ نے خوش ہوکر اپنے دوشِ مبارک سے اپنی نوری چادر اُتاری اور جناب کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انعام میں عطا کردی اس طو ر اس قصیدہ کا دوسرا نام قصیدہ بردہ شریف مشہور ہوا ​
چھوٹے چھوٹے شعرا تنقیدکواپنے لئے توہین تصور کرتے ہیں جب کہ بڑے بڑے لوگ تنقید کے ہرہرلفظ ہیرے موتی سمجھ کر دامن میں سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک اورماضی قریب کاواقعہ ہے مولانا احمد رضا خاں کے زمانے میں اطہرہاپوڑی معروف شاعر تھے جو کبھی کبھی اپنا کلام سنانے کے لیے خود آجاتے اور کبھی ڈاک سے بھیج دیتے۔ انھوں نے ایک مرتبہ ایک نعت لکھ کر آپ کی خدمت میں بھیجی جس کا مطلع تھا ؂​
کب ہیں درخت حضرتِ والا کے سامنے​
مجنوں کھڑے ہیں خیمۂ لیلیٰ کے سامنے​
مولانا احمد رضا خان نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ دوسرا مصرعہ مقامِ نبوت کے لائق نہیں ہے۔ آپ نے قلم برداشتہ اصلاح فرمائی ؂​
کب ہیں درخت حضرتِ والا کے سامنے​
قدسی کھڑے ہیں عرشِ معلیٰ کے سامنے​
فاضلِ بریلوی کی اس اصلاح سے اطہر ہاپوڑی کی نعت کی مضمون آفرینی اور حقیقت تخیل کو چار چاند لگ گئے۔(شمائم النعت)​
موجودہ زمانے کے نعت نگاروں کے لئے ایک اور مثال پیشِ نظر ہے۔ ایک صاحب نے مولانا احمدرضا خاں کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنے اشعار سنانے کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا میں اپنے چھوٹے بھائی حسن میاں (حسن رضا خان شاگرد داغؔ ) یا حضرت کافیؔ مرادآبادی کا کلام سنتا ہوں۔ اس لیے کہ اُن کا کلام میزانِ شریعت پر تلا ہوتا ہے۔ پھر ان صاحب کے اصرار پر آپ نے نعت سنانے کی اجازت عطا کردی۔ ان کا ایک مصرع یوں تھا:​
شانِ یوسف جو گھٹی ہے تو اسی در سے گھٹی​
آپ نے فوراً اس شاعر کو ٹوک دیا اور فرمایا:​
حضور اکرمﷺ کسی نبی کی شان کو گھٹا نے کے لیے نہیں بلکہ انبیائے کرام علیہم السلام کی شان و شوکت کو سربلند سے سر بلند کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ مصرع یوں بدل دیا جائے:​
شانِ یوسف جو بڑھی ہے تو اسی در سے بڑھی(امام احمدرضاکی نعتیہ شاعری)​
ایک وہ دورتھا جب کوئی کسی کی اصلاح کردیتا توخوش دلی کے ساتھ قبول کرلیتے اورنعت نگاربھی خوش اورتنقیدنگاربھی خوش۔مگر آج کاحال ملاحظہ کیجئے اگر کسی رسالے یا اخبار کے مدیرنے کسی پرتنقیدی مضمون شائع کردے تو وہ مجلس ادارت کے لائق نہیں بلکہ اسے نائی کادکان کھول لینا چاہئے اورایک شاعر کے درجنوں شعری مجموعے شائع ہورہے ہیں اور نہ کسی استاد کو سنانے کی خواہش نہ تنقیدکاخوف۔اور اگر کوئی خامی رہ جائے تو اپنی شان میں ایک تقریب منقعد کر کے خوشامدیوں کی جھرمٹ میں پوری کرلی جائیں گی۔اس دور خود پسندی میں وہ ناقدین لائق تعریف ہیں جو صلے اورستائش سے بے پرواہ اصلاح ادب کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔​
آج وقت کاتقاضہ ہے کہ محققین اورناقدین نعت کی جانب متوجہ ہوجائی
علامہ اخترؔکچھوچھوی بحیثیت شاعر

علامہ اخترؔکچھوچھوی بحیثیت شاعر

علامہ اخترؔکچھوچھوی بحیثیت شاعر

مولاناڈاکٹرغلام ربانی فداؔ
مدیرجہان نعت ہیرور

عہد حاضر میں دیگر علوم کے ساتھ ساتھ تنقید نعتیہ ادب میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔تنقیدات نعت کےلئے کئی رسائل وکتابی سلسلے نمایاں خدمت انجام دے رہے ہیں۔ان میں نعت رنگ،ماہنامہ نعت، مدحت،اور ہندوستان کا واحدحمدونعت کاادبی رسالہ جہان نعت یہ وہ رسالہ ہیں جونعت کے عمرانیاتی،لسانی پہلوؤں کواجاگرکیا۔
حضورشیخ الاسلام والمسلمین رئیس المفسرین سندالمحققین،سیدالمتکلمین غوثِ زماں علامہ سیدمحمدمدنی میاں اختر ؔ کچھوچھوی کی شخصیت میں بڑی دلکشی، وسعت اور مقناطیسی قوت پائی جاتی ہے۔ آپ مذہبی اور ادبی دونوں دنیا میں عزت و احترام اور اعتبار کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ ختر ؔ کچھوچھوی مذہب اور ادب دونوں کی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف کی زرخیز زمین پر اعلیٰ منصب پرفائزہو کردیگرصوفیانِ کرام کی طرح شعری و نثری تخلیقات سے ہمارے ذخیرۂ ادب ومذہب میں اضافہ کر رہے ہیں۔حضرت اخترؔ کچھوچھوی کی شخصیت کے کئے گوشے ہیں ،جیسے مفسرقرآن، محدث، مفتی،سنجیدہ مقرر،کامیاب مدرس،قابل فخرمرید،لائق مرشد،باصلاحیت منتظم، باکمال صوفی ،اور ایک خوبصورت شاعراس کے علاوہ اوربھی جنہیں میری بصارت نہیں دیکھ سکتی اور قوت احساس اتنی پختہ بھی نہیں کہ اسے محسو س کرسکے۔یہ سوتے ہیں جہاں پیاسے لوگ آکرسیراب ہوتے ہیں۔ان تمام لبادوں میں ملبوس ہونے کے باوجود اُن کا مذہبی و لسانی واخلاقی قدروں سے رشتہ کسی طرح کمزور نہیں ہوا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے۔میں حضرت اختر کے شاعری کے حوالے سے چندلکیریں 
کھینچتے ہوئے فخرمحسوس کرتاہوں۔
اختر ؔ کچھوچھوی کی شاعری کی کئی پرتیں ہیں۔ ان کی شاعری کے کئی دھنک رنگ ہیں اور اُن کے طرز اظہار میں کئی تیور ہیں جو معاصرشعرا سے مختلف ہی نہیں منفرد ہیں۔ اُن کی شاعری کے تمام رنگوں سے اخذ کر کے صرف تین اہم اور خاص  خوبصور ترنگ میں آپ کو دکھا رہا ہوں جو ان کی تمام صفحاتِ شاعری پر بکھرے ہوئے ہیں۔
پہلا رنگ : علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  بنیادی طور پر نعت کے شاعر ہیں۔اخترؔکچھوچھوی کی  جوجذبہ نعت میں صداقت، آہنگ اور تاثیر کی قوت پیدا کرتا ہے، وہ ہے عشقِ رسول جس سے جناب علامہ اخترکا سینہ منور ہے۔ عشق رسول کے نشہ نے اُن کی شاعری کوگلستانِ عقیدت سے مالا مال کر دیا ہے۔ ان کے والہانہ عشق رسول کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کے ان کی زندگی کاایک بھی لمحہ طریقۂ رسول ﷺ سے جدانہیں ملتا ہے۔ اُن کے مجموعہائےکلام میں  باران رحمت(نعتیہ)پارۂ دل(غزل ونظم)ہیں  جو کئی بار طبع ہوکرصاحبانِ ذوق اوراربابِ نقدونظر سے خراج تحسین حاصل کرچکی ہیں  بلکہ علامہ اخترکے جذبات عشق، وارفتگیِ شوق، فکری بصیرت اور فنی مہارت کا اثبات بھی کرا چکی ہیں۔
باران رحمت کو ایک خوب صورت گلدستہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ جن میں مختلف اصناف کے گل بوٹےہیں، نعتیہ غزلیں، نعتیہ قطعات، نعتیہ نظمیں، منقبتیں وغیرہ۔تعجب کی بات یہ  ہے کہ اتنی زبردست وحدت معنوی و ذوقی کے باوجود، طبیعت میں کہیں تکدّر پیدا نہیں ہوتا اور نہ لطافت میں ذراسی کمی آتی ہے۔ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ حضرت علامہ اخترکا خصوصی موضوع نعت ہے۔ اور یہ حضرت علامہ اخترکا کمال نہیں بلکہ نعت رسول کا معجزہ ہے۔
نعت موضوعی صنف سخن ہے جس کے عنوان شہنشاہ کو نین صل اﷲ علیہ و سلم ہیں۔ یہی اس کی اصل شناخت ہے۔ اسی لئے نعت کے لئے کوئی خاص فارم متعین نہیں۔ مسدس، مثنوی، غزل، رباعی،  جس شکل میں چاہے نیاز مند اپنے دل کا نذرانہ بارگاہ مصطفےٰ میں پیش کر سکتا ہے شرط یہ ہے کہ اس کی اصل پہچان قائم رہے۔ یوں توعلامہ اخترکی ساری شاعری کی اس معاشرتی منشور کی ترسیل و تفہیم کا ذریعہ ہے جو ہادئ برحق، محسنِ انسانیت حضرت محمد خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بنی نوع انسان کے لئے لے کر آئے تھے، لیکن علامہ اخترنے حضرت رسالت مآب سے اپنی محبت اور عقیدت کے واضح اظہار کے لئے اپنی عمرِ مختصر میںبے شمارعقییدتوں سے مالامال نعتیں بھی کہیں ۔ یہ نعتیں علامہ اختر کے نظریۂ حیات کی ترجمان ہیں ۔ ان کی والہانہ وابستگی ہر اس شخصیت سے تھی، جو بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کا علم بردار ہو۔ ایسا وسیع القلب فنکار دنیا کی اس عظیم ترین ہستی، اس محسنِ اعظم کے محبت کیونکر نہ کرتا ہو جو کسی خاص گروہ، قوم، یا ملک کے لئے نہیں بلکہ پوری کائنات کے لئے باعثِ راحت و رحمت بن کر آئی ۔
وَ مَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَۃَ لِّلعٰلَمِینَ
(اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے : القرآن)
علامہ اختراپنی امیدوں کا دامن اسی رحمۃللعالمین سے وابستہ کرتے ہیں ، جو سب جہانوں کے لئے وجہِ تسکین و راحت ہے۔ اور جس کے در سے تشنہ لبوں کے لئے فیضِ عام کے چشمے جاری ہیں۔علامہ اختر کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ اسلامی تعلیمات سے بیگانہ ہو کر مسائل کو جتنا سلجھانے کی کوشش کی جائے وہ مزید الجھ جاتے ہیں ۔
دنیا ترے گلشن  میںان کے قدم آتے ہیں
رشک چمن و گل جو خاروں کو بناتے ہیں
جب حسن حقیقی کے جلوے نظرآتے ہیں
پھر نقش خیالی کے نقشے کہیں بھاتے ہیں 
دنیا کی غیر مسلم ترقی یافتہ قوموں نے اسلامی اصولوں دیانت داری، سچائی، ایفائے عہد اور رواداری کو اپنا کر ہی منزلِ مقصود پائی ہے۔ لیکن اگر کسی خطے کے باشندے مسلمان ہونے کے باوجود اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا نہیں ہو سکے تو سوائے ذلت کے انہیں کچھ حاصل نہ ہوا۔ لہٰذا علامہ اخترمسائل 
کے حل کے لئے حضور کی ذاتِ گرامی کی طرف رجوع کا درس دیتے ہیں :
آنسؤں کو مرے دامن کا کنارہ دے دو
اس مضمر مری پردرد کہانی ہے حضور
آپ سے شرح تمنا کی ضرورت کیا ہے؟
سامنے آہ کے ہر سرِّ نہانی ہے حضور
اس شعر کے بارے میں علی مطہر اشعر کہتے ہیں : ’’یہ اس عظیم شاعر کا نعتیہ شعر ہے جس کی تمام زندگی نو بہ نو مسائل کا شکار رہی ہے۔ اور وہ ان مسائل کے سد باب کے لئے طویل عرصے تک کوشاں رہا ہے۔ پہلے مصرعے کی ساخت اس امر کی غماز ہے کہ اس نے مشکلات اور درپیش مصائب کے حل کے لئے دنیائے بے ثبات کے دانش وروں کے استفادہ کیا، مگر بالآخر اس پر یہ راز منکشف ہوا کہ ان کے مشورے اور زندگی گزارنے کے تمام فارمولے نہ صرف غلط ہیں بلکہ اغراض و مفادات پر مبنی ہیں ۔ زندگی کے کسی بھی شعبے میں اگر رہنمائی درکار ہے تو انسان کو حضور سرورِ کائنات کی سیرتِ طیبہ سے کسبِ فیض کرنا چاہئے۔ یہ سیرتِ طیبہ سے کنارہ کشی کا ہی نتیجو ہے کہ آج ہماری قوم ذلت و رسوائی کے گہرے کنوئیں میں گر چکی ہے۔‘‘علامہ اختر علم و حکمت کے گہر ہائے گراں مایہ کے حصول کے لئے بھی درِ رسول کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ 
سلام سے پہلے پوری دینا جہالت اور گمرہی کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ خاص طور پر عربوں کے سیاسی و سماجی حالات ایسے تھے کہ کسی بھی شخص کو جانی، مالی یا معاشی تحفظ حاصل نہ تھا۔ کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی۔ نہ ہی کوئی قانون تھا۔ جو جب چاہتا دوسرے کی املاک پر قبضہ کر لیتا۔ طاقت ور کا راج تھا اور کمزور کی زندگی اجیرن تھی۔ سرداروں کا انتخاب دولت کے بل بوتے پر ہوتا تھا۔ عوامی حقوق کی کوئی وضاحت نہ تھی، جس کی وجہ سے آئے دن خون کی ندیاں بہتی تھیں ۔ بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا۔ غلاموں کے ساتھ ظلم روا رکھا جاتا۔ غرضیکہ پورا سماجی نظام بغیر کسی قاعدہ کے چل رہا تھا۔ جہالت اور گمراہی کی دبیز چادر اوڑھے سوئی ہوئی انسانیت کے لئے خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے حضور کی ذاتِ گرامی کا ظہور اس روشنی کی طرح تھا جس کے دم سے یک دم تمام خوابیدہ مناظر جگمگا اٹھے:
سنتے ہیں کہ وہ جان چمن آئے ہوئے ہیں
پھر غنچے بتا کس لئے کملائے ہوئے ہیں
روشن نظر آتے ہیں درو بام تمنا
تھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں
پرواہ نہیں اپنا بنائیں نہ بنائیں
ہم تو انھیں اپنائے تھے اپنائے ہوئے ہیں
حضور کا فرمان ہے: مَنصَلَّی عَلَیَّ مَرَّۃ فَتَحَ اللّٰہُ لَہ بَابًاِمّنَ العَافِیۃ (جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے، اللہ تعالیٰ اس پر عافیت کا ایک دروازہ کھول دیتا ہے)۔ علامہ اختر کی عقیدت بھری آواز مذکورہ بالا شعر کے علاوہ ذیل کے شعر میں بھی بابِ عافیت پر دستک دے رہی ہے:
السلام اے رحمت العالمیں
السلام اے مظہر دین مبیں
السلام اے رونق کون ومکاں
السلام اے راز حق کے راز داں
السلام اے صاحب کوثر سلام
السلام اے حق کے پیغمبر سلام
علامہ اختر حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کے معتقد اور مداح تھے۔ اسلامی کی تاریخی شخصیات میں سے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا آئیڈیل منتخب کرنا، علامہ اختر کی قلندرانہ اور ترقی پسندانہ سوچ کی غمازی کرتا ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جہاں تقسیم دولت کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف جد و جہد کے لئے اپنی عمر کا لمحہ لمحہ وقف کر رکھا تھا، وہاں ان کی ذاتی زندگی فقر و غنا سے عبارت تھی۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ حضور کے خاص صحابی اور سچے محب تھے، اور حضور کی حدیث ہے: ’’مجھ سے محبت 
کرنے والوں کی طرف فقر ایسے دوڑتا ہے، جیسے پانی نچان کی طرف دوڑتا ہے۔‘‘[4] 
اپنے حقوق کے شعور اور ان کے حصول کے لئے جد و جہد کے ساتھ قناعت اور تقویٰ کے زریں اصول اور دیگر آدابِ زندگی انسانیت نے حضور کی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ سے حاصل کئے ہیں ۔ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی زندگی حضور کے ان اصولوں اور تعلیمات کا عملی نمونہ تھی۔ حقوق کے لئے جد و جہد اور اس کے ساتھ ساتھ فقر و غنا علامہ اختر کی شخصیت کی بھی نمائندہ خصوصیات تھیں ۔ جو انہوں نے حضور کی سیرتِ طیبہ سے بالواسطہ اور بلاواسطہ حاصل کی تھیں ۔ الغرض  علامہ اختر کا فکری نظام مصطفوی منشور سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ ان کی فکر کسی بھی پہلو سے دیکھیں ، اسلام سے متصادم نظر نہیں آئے گی۔ طبقاتی معاشرے کی ستم ظریفیوں کے شکار اس بلند کردار اور سچے مسلمان فنکار کی یہ عظمت ہے کہ وہ اپنی متاعِ فکر کو منبعِ فکر و عرفاں حضرتِ محمد کا فیض سمجھتا ہے اور اس کا عقیدت مندانہ اور قطعی اعتراف بھی کرتا ہے:
اللہ اللہ رفعت اشک غم ہجر نبی
جونہی ٹپکا آنکھ سے تسبیح کا دانہ بنا
آج بھی سورج پلٹ سکتا ہے تیرے واسطے
اپنے دل کو الفت احمد کا کاشانہ بنا
چاند کی رفعت  کو چھو لینا کہاں کی عقل ہے
عقل یہ ہے چاند کو خود اپنا دیوانہ بنا
جانے کتنی ٹھوکریں کھاتا ہوا آیاہوں میں
مجھ کو محروم تمنا میرے مولیٰ نہ بنا
دھو کے اپنے نطق  کو مدح نبی کے آب سے
اپنی ہر ہر بات اے اخترؔ حکیمانہ بنا
یہ شاعری نہیں بلکہ حقیقت حال کا بیان ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ جان جہاں صل اﷲ علیہ و سلم کی ملکیت میں ہے اور قیامت کے دن اُن کی شفاعت ہی ہماری نجات کا سبب بنے گی کہ یہ جان جہاں عین حق ہیں، سارے نبیوں سے اعلیٰ، افضل اور ایک بے مثال شخص جن پر اپنے تو اپنے دشمنوں کو بھی اعتماد ہے۔ ایسے سرکار دو جہاں کی تعریف کرنا نعت کی شناخت کا جزو اعظم ہے۔
  اس دیار قدس میں لازم ہے اے دل احتیاط
بے ادب ہیں کر نہیں پاتے جو غافل احتیاط
جی میں آتا ہے لپٹ جاؤں مزار پاک سے
کیا کروں ہے میرے ارمانوں کی قاتل احتیاط
اضطران عشق کا اظہارر ہو بے حرف و صوت
اے غم دل احتیاط اے وحشت دل احتیاط
عشق کی خود ورفگی بھی حسن سے کچھ کم نہیں
ہے مگر اس حسن کے رخسار کا تل احتیاط
ان کے دامن تک پہونچ جائیں نہ چھینٹیں خون  کے
ہے تڑپنے میں بھی  لازم مرغ بسمل احتیاط
آ بتاؤں تجھ کو میں ارشاد او ادنیٰ کا راز
ان کے ذکر قرب میں لازم ہے کا مل احتیاط
صرف سدرہ تک رفاقت اور پھر عذر لطیف
عقل والو ہے ادائے عقل کامل احتیاط
بس اسی کو ہے ثنائے مصطفی لکھنے کا حق
جس قلم کی روشنائی میں ہو شامل احتیاط
نام پر توحید کے انکارتعظیم رسول
کیا غضب ہے کفر کو کہتے ہیں جاہل احتیاط
اس ادب نا آشنا ماحول میں اخترؔ کہیں
رہ نہ جائے ہو کے مثل حرف باطل احتیاط
یہ وہ محبوب نورانی ہے جو کائنات کی زندگی ہے، یہی اصل ایمان ہے اور یہی روحِ قرآن ہے۔ مراد یہ ہے کہ نعت گوئی میں محض عقیدت سے کام نہیں چلے گا۔ یہاں عقیدہ چاہئے وہ بھی جتنا شدید تر ہوتا جائے 
گا نعت کی قدر بڑھتی جائے گی علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے یہاں محض عقیدت نہیں وہ ’’عقیدہ‘‘ بھی ہے جو ایمان کی دولت بخشتا ہے۔ ایسا ایمان جس کی روح محبت رسول ہے۔ سچے ناعتِ رسول کا دل کوچۂ محبوب صل اﷲ علیہ و سلم کا طواف کرتا ہے، زبان ذکر محبوب سے ہر لمحہ تر رہتی ہے اور آنکھ ہجر محبوب میں اشکوں سے وضو کرتی ہے۔علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی ایسے ہی عاشق رسول ہیں۔
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی حیات کا ہر ورق ہمارے سامنے ہے ہم نے ان کی صبح دیکھی ہے اور شام بھی۔ ہم نے ان کی خلوت دیکھی ہے اور جلوت بھی۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں ذاکر رسول صل اﷲ علیہ و سلم ہی نظر آئے ہیں۔ یاد محبوب میں اُن کی محویت قابل دید اور لائق تقلید ہے۔ ہجر رسول میں ہر وقت بے قرار رہتے ہیں۔ اُن کے جذبات عشق میں بڑی متانت اور سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ ‘‘ 
عشقِ رسول میں ڈوبے چند اشعار ملاحظہ کیجئے اور دیکھیئے کہ سچا عشق جذبات خیالات اور الفاظ میں کیسی صداقت، شدت اور تاثیر بخش دیتا ہے۔
بجھ گئی عشق کی آگ اندھیر ہے وہ حرارت گئی وہ شرارہ گیا
دعوت حسن کردار بے سود ہے تھا جو حسن عمل کا سہارا گیا
جس میں پاس شریعت نہ خوف خدا وہ رہا کیا رہا وہ گیا کیا گیا
ایک تصویر تھی جو مٹادی گئی یہ غلط ہے مسلمان مارا گیا
مر کے طیبہ میں اخترؔ یہ ظاہر ہوا کچھ نہیں فرش سے عرش کا فاصلہ
گود میں لے لیا رفعت عرش نے قبر میں جس گھڑی میں اتار گیا
بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں 
میرے حضور میری چشم تر میں رہتے ہیں 
یہ واقعہ ہے لباس بشر بھی دھوکا ہے
یہ معجزہ ہے لباس بشر میں رہتے ہیں
خداکے نور کو اپنی طرح سمجھتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں کس کے اثرمیں رہتے ہیں

 علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی نعتیہ فکر ستھرا اسلوب بیان رکھتی ہے۔ اُن کے ذخیرۂ علم میں دین اور ادب، اردو اور فارسی و عربی دونوں کی رونقیں یکجا ہیں اس لئے اُن کے اسلوب و اظہار میں دونوں کے انعکاسات ملتے ہیں۔ وہ جہاں عربی و فارسی کے الفاظ اور ترکیبیں استعمال کرتے ہیں وہیں اودھ اور دہلی کی شستگی سے بھی اُن کا لسانی انسلاک نظر آتا ہے۔ ثقیل اور بھاری بھرکم الفاظ کے ساتھ عام فہم، رواں اور بول چال کے آسان الفاظ بھی اُن سے مانوس نظر آتے ہیں۔ اُن کے اظہار و اسلوب میں جہاں تنوع اور رنگارنگی ہے وہین فنی اظہار میں شفافیت اور جذبے کی تپش بھی ہے۔ انہوں نے اپنی نعتوں کا خمیر عشق رسول صل اﷲ علیہ و سلم کی آنچ میں تیار کیا ہے۔ اس لئے اُن کا ہر شعر عشق رسول کے تاروں سے لپٹا نظر آتا ہے۔ اُن کے یہاں محض الفاظ کی بازی گری نہیں بلکہ جذبۂ عقیدت کا پر خلوص اظہار ہوتا ہے۔ ذیل کے اشعار پڑھئے اور علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی نعت گوئی کے محاسن پر سر دھنئے ؂
حسن خورشید نہ مہتاب کا جلوہ دیکھو
آؤ احمد کے کفِ پا کا تماشہ دیکھو
دیکھنے والو دیارِ شہِ بطحا دیکھو
فرش کی گود میں ہے عرش معلی دیکھو
ٔٔ٭٭٭
سوچتاہوں کیا کہوں میں، کیا نظر آنے لگا
وہ ریاض برزخ کبریٰ نظر آنے لگا
آنکھ جب تک بند تھی اک آدمی سمجھا تجھے
اور جب وا ہو گئی کیا کیا نظر آنے لگا
ان کی یادوں میں جو ٹپکا اشک اخترؔ آنکھ سے
منزلت میں عرش کا تارہ نظر آنے لگا
٭٭٭٭
اے حسین بن علی تیری شہادت کو سلام
دین حق اب نہ کسی دور میں تنہا ہوگا
رب نے چاہا تو قیامت میں سبھی دیکھیں گے
ان کے قدموں میں پڑا اخترؔ خستہ ہوگا
وہ  مری  جان بھی جان کی جان بھی میرا ایمان بھی روح ایمان بھی
مہبط آیات قرآن بھی اور قرآن بھی روح قرآن بھی
نوروبشریٰ کا یہ امتزاج حسیں جیسے انگشتری میں چمکتا نگیں
عالم نور میں نور رحمٰن بھی عالم انس میں پیک انسان بھی
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی نعتیہ شاعری جہاں عشق رسول کی روح سے مملو ہے وہیں قرآن و حدیث سے ماخوذ مضامین، معجزات نبوی، تاریخی واقعات اور اصلاحی و تبلیغی خیالات بھی اسے تنوع اور رنگارنگی کی کیفیت عطا کرتے ہیں۔ اس پر مستزادیہ کہ فنی طور پر اُن کی نعتیہ شاعری ایسی بے شمار خوبیوں کی حامل ہے جن کی تلاش ایک کہنہ مشق اور بڑے شاعر سے کی جا سکتی ہے۔ تشبیہ، استعارہ تمثیل اور پیکر تراشی کی مثالیں تو بڑی آسانی سے مل سکتی ہیں، اُن کی شاعری میں وہ تکنیکیں بھی ملتی ہیں جو شعری مہارت کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ چھوٹی بحروں کی کاٹ، طویل بحروں کا ترنم، مشکل ردیفوں کا استعمال،  نادر مگر خوش رنگ ترکیبیں گڑھنا اور محاوروں سے برجستگی اور روانی پیدا کرنا وغیرہ، ایسے حربے ہیں جن سے اشعار میں ادب کا بانکپن اور فکر و فن کی بہار اپنے جلوے بکھیرتی ہے اس قسم کے بیشتر اشعار قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں کیونکہ نعتیہ شاعری میں یہ نیا لب و لہجہ اُنہیں متحیر کرتا ہے اور علامہ اخترکو معاصر نعتیہ ادب کے سب سے منفرد ممتاز اور نمایاں شاعر کی حیثیت سے متعارف کراتا ہے۔
دوسرا رنگ : علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی بنیادی طور پر نعت کے شاعر ہیں مگر اُنہوں نے غزلوں نظموں اور رباعیات وغیرہ میں بھی اپنے پاکیزہ اور اعلیٰ افکار کی روشنی بکھیری ہے۔ اُن کی غزلوں میں ایک خاص رکھ رکھاؤ کی کیفیت موجود ہے۔بقول ڈاکٹرامین اشرف :یہ سوال اہم نہیں ہے کہ حضرت اخترؔ نے شاعری کی شروعات غزل سے کی ہے ،نظم سے یانعت سے’’باران رحمت‘‘(نعتیہ شاعری)اور پارۂ دل (غزلیہ شاعری)کامطالعہ کیاجائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اول الذکرکلام میں رچاؤ،پختگی اورالفاظ ومحاورات پرحاکمانہ قدرت زیادہ بھرپور ہے  اوراس کے مقابلہ میں فنی ہنرمندی سے بھرپور غزلوں کے علاوہ ایسی غزلیں بھی ہیںجن کا مطالعہ اس امر کاغماز ہے کہ یہی ابتدائی نقوش ہیں۔:
 انہوں نے اُن سوقیانہ جذبات، مریضانہ موضوعات اور غیر مہذب افکار سے غزل کو یکسر پاک رکھا ہے جو غزل کے لئے معیوب اور باعثِ عار ہیں۔ اُن کی غزلوں میں پاکیزگی بھی ہے اور فکر کی گہرائی بھی اورذوق ونظر کی طہارت بھی۔ اُن کی غزلیں پڑھتے ہوئے جہاں ذوق جمال کی تسکین ہوتی ہے وہاں فکر کی نئی پہنائیوں سے آشنائی بھی۔ یہ خصوصیت نہ صرف انہیں دوسرے ہم عصر شعر اسے ممتاز کرتی ہے بلکہ ۱۹۸۰ کے بعد آسمانِ ادب پر روشن ہونے والے شعرا میں ایک اہم مقام بھی عطا کرتی ہے۔
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی غزل میں ان کی سنجیدہ روی اور مزاج کی روحانی تاب قاری کو فی الفور اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ تقریباً تین دہائیوں پر پھیلا ہوا ان کا کلام انہیں اِس عہد کا ایک معتبر ذہین اور اچھا شاعرثابت کرتا ہے۔ اب وہ شاعری کی اُس منزل پر پہنچ چکے ہیں جہاں شاعری خود شاعر کی ذات میں گم ہو جاتی ہے اور شاعر کی ذات مکمل شاعری ہو جاتی ہے۔ تبھی تو ایسے اشعار وجود میں آتے ہیں :
عشق کی اصطلاح میں ہمدم
موت کہتے ہیں مسکرنے کو
پھر اس میں آیا کہاں سے کمال رعنائی
اگر یہ کہکشاں ان کی راہ گزار نہیں
عظمت انسانیت سمجھے کوئی ممکن نہیں
خاک کا ذرہ سہی لیکن فلک آغوش ہے
علامہ اختر جذبات کی پیکر تراشی کرنے والے شاعر ہیں ۔ ان کے اسلوب میں روایتی شاعری کی مٹھاس اور لہجے میں تر و تازگی اور فکر و خیال کی بے شمار نیرنگیاں موجود ہیں ۔ چاہے وہ حمد ہو ، نعت ہو ، غزل ہو یا نظم۔ 
علامہ اخترؔ نے ہر صنف میں ندرت بیاں کے جوہر دکھائے ہیں ۔ بنیادی طور پر وہ نعت کےشاعر ہیں ۔ معزز علمی و ادبی گھرانے سے تعلق ہونے کی بنا پر فن شعر و ادب انھیں وراثت میں مل گیا لیکن ان کا طبعی میلان خود آفریدہ ہے۔ کسی شاعر کے گھر جنم لینے والا بچہ خود بھی شاعر ہو قطعی ضروری نہیں ۔ یہ تو بس خدا کی شان کریمی ہے کہ جسے چاہتا ہے اور جو چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔ علامہ اختر نے جو شاعری کی ہے وہ وِجدان کے بل بوتے پر کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں اثر آفرینی موجود ہے۔ انداز بیاں یکسر سادہ و سلیس ہے۔ مگر فکر کی اڑان اپنی آغوش میں آفاقیت کو سمیٹے ہوئے ہے۔ انھوں نے خوب سے خوب تر کی تلاش کی ہے۔ **
علامہ اختر کے اشعار کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر علامہ اختر کی شاعری میں فنی رچاؤ کے بالمقابل جذباتیت کا عنصر بدرجۂ اتم موجود ہے۔ لفظیات کے برتاؤ میں بھی وہ طاق نہیں ۔ ان کی شاعری شعوری و ارادی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک طرح کا بے ساختہ پن لیے ہوئے ہے جس میں احساسات کی اتھاہ گہرائیاں نظر آتی ہیں ۔ موضوعاتی نظموں میں بھی انھوں نے تغزل کی چاشنی برقرار رکھی ہے۔ بہت سلیقے اور خوبصورتی کے ساتھ دلنشیں انداز میں پابند اور نظمیں کہی ہیں ۔ یہ ان کی فنکاریت کی نظیر ہے۔ 
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی غزلیہ شاعری میں مجھے سب سے زیادہ وہ فضا پسند آئی جو اُن کی زندگی کے واقعات، ان کے ذاتی محسوسات اور ان کی شخصیت کے طبعی افتاد سے ابھرتی ہے۔ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، جذبے کی صداقت کے ساتھ لکھا ہے۔ ان کے احساسات کسی عالمِ بالا کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ ان کی اپنی زندگی کی سطح پر کھیلنے والی لہریں ہیں۔ انہیں نازک چنچل، بے تاب، دھڑکتی ہوئی لہروں کو انہوں نے شعر وں کی سطروں میں ڈھال دیا ہے، اور اس کوشش میں انہوں نے انسانی جذبے کے ایسے گریز پا پہلوؤں کو بھی اپنے شعر کے جادو سے اجاگر کر دیا ہے جو اس سے پہلے اس طرح ادا نہیں ہوئے تھے :
یہ بھی ہیں چہرۂ پرنور کے پروانے دو
دوش پر کاکل خمدار کو بل کھانے دو
کہہ رہی ہے  رخ پہ بکھری ہوئی زلف حسیں
ابر کے پیچھے کوئی برق تپاں روپوش ہے
بدمست گھٹاؤ یہ تو کہو اس وقت ہمیں کیا لازم ہے
جب ساغر عارض موج میں ہو جب زلف پریشاں ہوجائے
 ا ان کی شاعری سوچ، طرز احساس اور فنی برتاؤ ہر لحاظ سے اردو شاعری کے روایتی مزاج سے یکسر مختلف ہے۔ اور اپنے اندر انفرادی رنگ و روپ رکھتی ہے۔علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے اسلوب، لہجے اور موضوعات کی انفرادیت کا یہ عالم ہے کہ اُن کی شاعری سب سے الگ پہچانی جاتی ہے۔ نعتوں کے مجموعوں سے قطع نظرصرف ’’پارۂ دل‘‘ پڑھ جائیے، یہ حقیقت پہلی نظر میں سامنے آئے گی ۔
یہ بھی ہیں چہرۂ پرنور کے پروانے دو
دوش پر کاکل خمدار کو بل کھانے دو
کہہ رہی ہے  رخ پہ بکھری ہوئی زلف حسیں
ابر کے پیچھے کوئی برق تپاں روپوش ہے
بدمست گھٹاؤ یہ تو کہو اس وقت ہمیں کیا لازم ہے
جب ساغر عارض موج میں ہو جب زلف پریشاں ہوجائے
اپنی شاعری کو زندگی کی معنویت سے آشنا کرنے میں علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے براہ راست حسی تجربوں کا بڑا دخل رہا ہے۔ یہ حسی تجربے بھی محض سرسری نہیں ہیں بلکہ ماضی کے خوابوں کی صورت میں شاعر کے لاشعور کا جزو بن گئے ہیں کہ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی ان کے بغیر اپنے حال اور مستقبل کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔ زندگی کی بدلی ہوئی قدروں کے بارے میں ہر شاعر اظہار خیال کر تا ہے اور رنج و غم کا اظہار بھی کرتا ہے مگر علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  ماضی کو حال سے اور حال کو مستقبل سے ہم آہنگ کر کے زندگی کے اس جشن بے چارگی کو متحرک تجسیم میں بدل دیتے ہیں :
مجھے معلوم ہے اے اشتراکیت کے فرزندو
حصار عافیت کے دعویٰ ہائے بے نشاں کب تک
ہے میری زندگی ویرانیوں کا منظر خستہ
مرے دم سے قفس صیاد کا آباد ہوتا ہے
گلہ کوئی بھی چیرہ دستیٔ صیاد سے کیا ہو
جہاں پر خود گل تر تیشۂ صیاد ہوتاہے
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی ایسی سوچ کا مابعد الطبیعاتی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کی سوچ براہ راست جیسا کہ میں نے اوپر کہا اُن کے حسی اور ذہنی تجربوں کی دین ہے۔ اپنے گرد و پیش کے عمل اور رد عمل کے نتیجے میں انہوں نے اس طرح سوچا اور اس طرح محسوس کیا ہے۔ تنہائی، عدم تحفظ زندگی کی بے معنویت، اخلاقی خلا، ذات کا کرائسس، فرد کی گمشدگی، فنا کا خوف، حالات کی یکسانیت، مشینی زندگی کی جبریت، اقدار کی شکست و ریخت، آج کی زندگی کے ایسے محرکات و مسائل ہیں جو ہر با شعور آدمی کے دل و دماغ کو ایک طرح کی الجھن میں ڈالے ہوئے ہیں۔ شاعروں اور ادیبوں کی حساس طبیعتوں نے اِن باتوں کا کچھ زیادہ ہی اثر قبول کیا ہے۔ چنانچہ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے یہاں بھی اس قسم کے محسوسات کا اظہار ملتا ہے اور بعض جگہ بڑی شدومد کے ساتھ ملتا ہے۔ مگر خوبی یہ ہے کہ اُن کے یہاں یہ احساسات منفی نقطۂ نظر یا نا اُمیدی کے تصورات پیدا نہیں کرتے۔ جدید شعرا کے یہاں یہ محسوسات نا اُمیدی اور مایوسی کا پیش خیمہ ثابت ہوتے تھے اور زندگی اُن کے یہاں اپنی معنویت ہمیشہ کے لئے کھو چکی تھی۔ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی شاعری جدیدیت سے اسی لئے برسر پیکار نظر آتی ہے کہ ان کی شاعری زندگی کے منفی رویوں کی شاعری نہیں ہے۔ کہیں کہیں اس طرح کا لمحاتی احساس ان کے یہاں ضرور ابھرتا ہے۔ لیکن یہ احساس جب فکر و تامل کی منزلوں سے گزرتا ہوا کیف جذبی اور عاطفہ بن کر شعر میں نمودار ہوتا ہے تو مثبت رویے میں بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ اُن کے پاس ایسی قوت کا عقیدہ ہے جو مصائب کے بعد انسان کو بشارت کی ضمانت دیتا ہے۔ یاس کے اندھیرے میں امید کی چاندنی چٹکاتا ہے اور زندگی کی بے معنویت کو تازہ معنویت عطا کرتا ہے ؂
آدمی کیا ہے آدمیت کیا
حسن سیرت نہیں تو صورت کیا
فرشتہ ہو  گیا اخترؔ تو کیا ہے
کہو فرزند آدم بن کے آئے
مثبت افکار اور امید کی کرنوں سے معمور یہ وہ ذہن اور عقیدہ ہے جس نے بھیانک سے بھیانک حالات میں بھی زندگی کو علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی نظر میں مہمل، لغو اور عذاب نہیں بننے دیا۔ اس عقیدے اور یقین نے ان کی شاعری میں جس طرح جگہ بنائی ہے اور اپنے فکر و فن میں انہوں
نے اسے جس طرح برتا ہے وہ ثبوت ہے کہ شاعر ایک صالح اور نورانی طرز زندگی کا حامل ہے۔ اور ثبوت اس کا بھی ہے کہ علم و فضل، قرآن و سنت اور الہیات کی قوت نے اُن کی عام فکر کے ساتھ زندگی کے متعلق محسوسات کو بھی مثبت، روشن اور صحیح راہ دکھانے میں پورا تعاون پہنچایا ہے۔علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی شاعری وجدانی اور فکری گہرائیوں کی شاعری ہے۔
 ایسا لگتا ہے علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی نے دنیاوی بدیوں اور شیطنتوں کو صوفیا کی داخلی آنکھوں سے دیکھنے کا جتن کیا ہے۔ وہ تخلیق ادب کے عصری تقاضوں سے باخبر ہیں۔ اس لئے ان کی شاعری نئے اخلاقی اور انسانی اسباق کا خزینہ سمیٹے ہوئے ہے ؂
رنگینیٔ مجاز حقیقت نما ہوئی
منزل پہ پہونچے سلسلہ عاشقی سے ہم
عشق کی اصطلاح میں ہمدم
موت کہتے ہیں مسکرنے کو
آنکھ ہے اشک باریوں کے لئے
دل ہے چوٹوں پہ چوٹ کھانے کے لئے

تیسرا رنگ : اردو نظم کی ابتدائی اشکال وہ مثنویاں ہیں جو عادل شاہی اور قطب شاہی ادوار حکومت میں کہی جاتی رہیں ۔ بعد ازاں جب مغل فرماں روائی کا آغاز ہوا تو ہند میں ایرانی اثرات کے تحت غزل کو پھولنے پھلنے کا موقع ملا، لہٰذا نظم نہ پنپ سکی۔ انگریزوں کے ہاتھوں مغلیہ سلطنت کے زوال نے ہند کے معاشرے میں کچھ داخلی انقلاب پیدا کئے۔ صدیوں پرانی اخلاقی، سماجی اور مذہبی اقدار کی شکست و ریخت کا عمل شروع ہوا۔ نئے معاشی اور نفسیاتی مسائل نے سر اٹھایا۔ فرقہ واریت اور طبقاتی نظامِ معیشت نے ’’گھر‘‘ کی اکائی کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ شکست اور محکومی کی ذلت کا احساس عام ہوا۔ اور ان سب مسائل کی عکاسی کے لئے نظیر اکبر آبادی نے نظم کی ضرورت کو سب سے پہلے محسوس کیا۔ بعد ازاں جدید عہد کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اور مغربی ادب کے زیرِ اثر آزاد اور حالی نے بھی جدید شاعری کا علم بلند کیا۔ لہٰذا انجمنِ پنجاب کا قیام عمل میں آیا اور وطن اور فطرت کے مناظر کے علاوہ دوسرے عوامی موضوعات پر بھی نظمیں لکھی جانے لگیں ۔ حالی نے محسوس کیا کہ قافیہ اور ردیف کا التزام جدید مسائل کے اظہار و ابلاغ میں مانع ہو رہا ہے۔ لہٰذا انہوں نے ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ میں قافیہ، ردیف کے خلاف آواز اٹھائی: ’’اگرچہ وزن بھی قافیہ کی طرح شعر کا حسن بڑھا دیتا ہے، جس سے اس کا سننا کانوں کو نہایت خوشگوار معلوم ہوا ہے، اور اس کے پڑھنے سے زبان زیادہ لذت پاتی ہے۔ مگر قافیہ، خاص کر ایسا، جیسا کہ شعرائے عجم نے اس کو نہایت سخت قیدوں سے جکڑ بند کر دیا ہے اور پھر اس پر ردیف اضافہ فرمائی ہے، شاعروں کو بلا شبہ ان کے فرائض ادا کرنے سے باز رکھتا ہے۔‘‘
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی ؔ کی شعری کائنات کا تیسرا آسمان ان کی نظموں سے منور ہے۔ اور اپنی متنوع خوبیوں سے مجھے حیرت زدہ کر رہا ہے۔ عہد حاضر میں ’’نظم گوئی‘‘ کس قدر اہمیت کی حامل ہے اسے بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ حالیؔ نے مقدمہ شعر و شاعری میں شاعری کے جس رنگ روپ کی وکالت کی تھی آج اس کی اہمیت نسبتاً زیادہ محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ بگڑتے معاشرے اور دم توڑتی ہوئی قدروں کی اصلاح اور زندگی کا ذریعہ موضوعی نظمیں ہی ہو سکتی ہیں۔ جس تسلسل اور تاثراتی وحدت کے ساتھ نظم میں کسی موضوع کو پیش کیا جا سکتا ہے غزلوں میں نہیں۔ اس لئے علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی نے جب نظموں کی طرف توجہ کیا اُنہیں اپنے افکار اور پیغامات کی ترسیل کا زیادہ بہتر موقع میسر آیا۔ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  خطیب ہیں اور اسلامی و تاریخی شعور سے پوری طرح بہرہ ور، اسلئے اُن کی نظموں میں ’’بیانیہ‘‘ اسلوب حاوی ہے۔ یہ نظمیں اُن کی غزلوں کی طرح علامتی استعاراتی یا تمثالی نہیں ہیں، ان میں تفصیل، سنجیدگی اور درد مندی کے ساتھ ترسیلی اسلوب میں بات کرنے کا انداز 
پایا جاتا ہے۔ الفاظ، تراکیب، تشبیہات اور استعارے بھی غزلوں کے مقابلے میں زیادہ سلیس وسادہ اور رواں دواں استعمال کئے گئے ہیں۔ یعنی نظموں میں عصری حوالہ زیادہ واضح، روشن اور صاف ہے اور زبان بول چال کی زبان سے زیادہ قریب ہے۔
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کے یہاں عام طور سے دو قسم کی نظمیں ملتی ہیں۔ ایک وہ جو موضوع یا معنی کو سامنے رکھ کر وضاحتی انداز میں لکھی گئی ہیں یعنی جو ایک مخصوص معنی تک ذہن کی فوری رسائی کروا دیتی ہیں۔ اور دوسری وہ جن سے معانی برآمد ہوتے ہیں یعنی اُس کی تہہ داری قارئین کے فرق کے ساتھ معانی میں فرق بھی پیدا کر سکتی ہے۔  صرف ایک نظم ’’تجزیہ’’ ملاحظہ کیجئے۔
لوگ کہتے ہیں بصد فخر و مباہات اخترؔ
اک حسینہ سربازار بنی ہے رانی
دودھ سے چہرہ دھوتی ہے بجائے پانی
اس کی دنیا میں اندھیرے کا کوئی نام نہیں
اس کے ہاتھوں میں مصیبت کا کوئی جام نہیں
اس کی تقدیر کا تابندہ ہوا سیارہ
اژدھے رنج و الم کے ہوئے نو دو گیارہ
اس کے حق میں شب تیرہ بھی ہے صبح رخشاں
مہر درد بام پہ ہیں مہر و قمر آویزاں
اس کی دنیا میں ترنم کے سوا کچھ بھی نہیں
اس کے ہونٹوںپہ تبسم کے سواکچھ بھی نہیں
میں یہ کہتا ہوں شرافت کا جنازہ نکلا
نظم گوئی کا یہ انداز ایک طرف ذاتی تجربے اور مشاہدے کا عکس ہے تو دوسری طرف مختلف زبانوں کے اعلیٰ ادب سے مکالمے کا نتیجہ ہے۔ جذبے کی سادگی سیدھے سادے مگر لطیف الفاظ کی مدد سے برجستہ ادا ہوئے ہیں۔ قاری ایسے لفظوں سے مسحور ہو کر معنی کو گرفت میں لیتے ہوئے ایک انبساط والی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی ایسی نظم غزل کے ایک شعر کی طرح ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کو نظموں کے مقابلے میں غزلوں سے زیادہ لگاؤ ہے۔ اور غزلوں میں ان کی شناخت کے امکانات قدرے روشن نظر آتے ہیں۔ مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ اُن کی نظموں کو نظرانداز کر دیا جائے۔ اُن کی نظموں سے رغبت کو سراہا جا سکتا ہے۔
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی نظمیں یوں تو اُن کی زندگی سے وابستہ مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں لیکن بالواسطہ طور پر انسانی رشتوں کی شکست و ریخت،سماجی زندگی کی ناقابل برداشت باتیں، روایت اور تہذیب کی شکستگی، مادیت اور مغربیت سے پیدا ہونے والے فکری فساد، فرقہ وارانہ منافرت اور روزمرہ کے تجربات کو فن کی شکل دیتی ہیں۔ اور بڑی فنکاری سے ہر تجربے کے پس پُشت ایک فکر، ایک درس اور ایک سبق پیش کر دیتی ہیں۔ گویا علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی معنی کی ترسیل کے بجائے پیغام  کی ترسیل پر یقین رکھتے ہیں۔ اور نظموں کے تعلق سے اُن کا یہی نظریۂ فن ہے۔ انہوں نے فکری و عملی پیغام ہو یا واردات و کیفیات قلبی اور درون انسانی میں چھپے ہنگامے، سب کو کنایاتی اور علامتی الفاظ کے بجائے واضح طور پر سلیس زبان میں پیش کرنا مقدم جانا ہے اور زندگی کے معاشرتی، اخلاقی اور اصلاحی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر میں یہاں ان کی ایک مشہور نظم ’’ہندوستان کے مسلمانوں سے خطاب‘‘ پیش کرنا چا ہوں گا۔
اے مسلماں صید دام خواب غفلت ہوشیار
وقت کہتا ہے کہ لے ہاتھوں میں اپنے ذوالفقار
اٹھ کہ تجھ کو ہے بدلنا گردش لیل و نہار
اے محمد کے سپاہی دین حق کے جاں نثار
تھا کبھی تو باعث نقش و نگار گلستاں
آج کیوں ہے تنگ گلشن اور عار گلستاں
تیری غفلت نے کیا ہے باطلوں کا سربلند
تیری گردن میں حمائل ہے غلامی کی کمند
تیری ہستی بن گئی ہے تختۂ مشق گزند
پھر رہا ہے آج تو بن کر سراپا درد مند
لرزہ بر اندام جو رہتے تھے تیرے نام سے
تھر تھراتا ہے آج تو ہے ان کے چاپ گام سے
ہاں تری یہ خانہ جنگی طاقت باطل ہے آج
اللہ اللہ بھائی کا خود بھائی ہی قاتل ہے آج
سنگ دل اپنوں کے حق میں کیوں مثال سل ہے آج
دشنوں کے درمیاں لیکن بہت بزدل ہے آج
الاماں صد الاماں تم اور خون اتحاد
پیکر رحم و کرم اور مائل بغض و عناد
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  نے اپنے وطن کے آشوب اور اپنی قوم کے مصائب کو سیاسی یا سائنسی فارمولوں کی روشنی میں دیکھتے ہوئے اپنے دکھی دل کی بے چینی کو آشکارا کیا ہے۔ اسی کرب کو ’’صبح آزادی‘‘ میں یوں دیکھا جا سکتا ہے

غم کے مارو مسرت کا پیام آ ہی گیا
آفتاب حریت بالام بام آ ہی گیا
ہو مبارک یہ سرور و انبساط زندگی
میکشو! ہونٹوں تک آزادی کا جام آ ہی گیا
برق نے تو لاکھ چاہا تھا کہ رستہ روک دیں
آسمان حریت پر میرا گام آ ہی گیا
اب شبستان وطن کی ظلمتیں کافور ہیں
آسماں پر نیر گردوں خرام آ ہی گیا
آج اپنے ہاتھ میں اپنے وطن کی ہے زمام 
نالۂ مظلوم آخر کار کام آ ہی گیا
ذلت محکومیت سے ہم کو چھٹکارا ملا
اپنے ہاتھ اپنے گلستاں کا نظام آ ہی گیا
لو نسیم صبح گاہی لائی پیغام نشید
مرحبا وقت وداع وقت شام آ ہی گیا
منھ کی کھانا پڑ گیا افرنگیوں کی چال کو
خود شکاری آج اخترؔ زیردام آ ہی گیا
قدرت کے خارجی مناظر پر ار دو میں بے شمار نظمیں لکھی گئی ہیں علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  نے بھی ایسی نظمیں لکھی ہیں۔ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی شاعری محض مشاہدے کی شاعری نہیں ہے۔ مشاہدات اُن کے محسوسات کا صرف پس منظر فراہم کرتے ہیں۔ احساس کا یہ منقش اظہار علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کا منفرد اسلوب ہے۔ یہ محض شاعری نہیں صداقت بیانی ہے جو آخری سچائی کی سمت جانے والوں کے سفر کو آسان اور آسودہ بنا دیتی ہے۔
ساحل کا تصور آتے ہی دوڑا ہوا ساحل آ جائے
لب آشنا حرکت سے بھی نہ ہوں اور زیست کا حاصل آ جائے
خاموش زباں بھی خشک رہے اور ساقی محفل آ جائے
اتنی تو کشش دل میں میرے اے جذبہ کامل آ جائے
جب خواہش منزل پیدا ہو خود سامنے منزل آ جائے
تسلیم کہ شیوہ حسن کا ہے خوشیوں میں بھی رنگ غم بھرنا
مانا کی حسینوں کی عادت ہے زخم پہ بھی نشتر دھرنا
دربار حسیناں میں پھر بھی کہتا ہے یہ آنکھوں کا جھرنا
اے شمع قسم پروانوں کی اتنا تو مری خاطر کرنا
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے دل و دماغ میں بیشتر ماضی کی یاد یں تحریک پیدا کرتی ہیں۔ مگر یہ یادیں اتنی تابندہ اور پاکیزہ ہیں کہ ان کی بازیافت میں نہ حال کو کسی گزند کا احتمال ہے اور نہ مستقبل کو کسی نقصان کا خطرہ ہے۔ جو چیز خیالات و احساسات کو روشن کرتی ہو اور انسان کے دوامی جذبوں پر آفتاب طلوع کرتی ہو اس کی ضرورت حال اور مستقبل دونوں کو ہے۔ علامہ اخترانہیں مثبت، روشن اور منور باز یافتوں کے شاعر ہیں۔ ثبوت کے لئے آپ ان کی ڈھیر ساری نظمیں  مطالعہ کر سکتے ہیں۔ یہاں صرف چند اشعار دیکھئے :
کرم ہے میرے کریم تیرا اسیر مختار ہو گیا ہوں
ہزاروں آزاد رشک میں ہیں میں وہ گرفتار ہو گیا ہوں
تیری انا میں فنا سے پہلے میری انا کی بساط کیا تھی
مگر اب اپنے کو دیکھتاہوں تو ایک سنسارہوگیاہوں
حضور ایسی فنا عطا ہو ملے بقائے دوام جس سے
زمانہ دیکھے تو بول اٹھے تمہارا اظہارہوگیاہوں
جہاں میں جاؤں گا تیری نسبت کی روشنی میرے ساتھ ہوگی
ملی ہے جب سے تیری غلامی امینِ انوارہوگیاہوں
رہین احسان جام و ساغر یہ میری سرمستیاں نہیں ہیں
شہید کیفِ شراب ناب نگاہ سرکارہوگیاہوں
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کا تاریخی شعور بہت پختہ ہے۔ اسلامی تاریخ اور انسانی اقدار کی خوشبو اُن کی نظموں کو نئی روشنی اور نئے رنگ آہنگ سے معطر کرتی ہے۔ اُنہوں نے تلمیحاتی انداز میں تاریخی واقعات کی طرف اشارہ ہی نہیں کیا، بلکہ تاریخ کے کسی واقعے یا واردات کو قصے کے پیرائے میں نقل کر دیا ہے تاکہ وہ واقعہ نہ صرف قاری کو مطلع کرے بلکہ اُس کے ذہن و دل پر اپنے اثرات بھی قائم کرے۔ مورخ اور شاعر کے طریق بازیافت میں یہی تو فرق ہے کہ مورخ کی بازیافت محض بازیافت ہے۔ شاعر کی بازیافت فن میں ڈھل کر پیش رفت کا کردار ادا کرتی ہے۔ جذبے، خیال اور فکر کے لئے آخری حقیقت کی سمت نمائی صرف اسی طرح ممکن ہے اور علامہ اختراس طریقہ کار سے مکمل طور پر واقف نظر آتے ہیں۔ بہار اسلام، حُسن خلق، پرکشش شخص، قدیم رشتہ، نرالی آرزو، اور پہلا مسلماں، وغیرہ نظمیں اس کی عمدہ مثال ہیں۔ نظم ’’مجاہددوراں سید مظفر‘‘ کے محض چند ابتدائی مصرعوں پر ایک نظر ڈالئے، تاریخ کو کس خوب صورتی اور شاعرانہ رنگ وآہنگ کے ساتھ فن کے قالب میں ڈھالا گیا ہے اس کا اندازہ ہو جائے گا۔
ہمارا نالۂ شب گیر مستجاب آیا
بڑا حسین زمانے میں انقلاب آیا
مری امید کی موجیں یم تمنا سے
نہ کیوں تڑپ کے انھیں وقت اضطراب آیا
تھی جس کے فکر وتدبر سے بے خبر دنیا
عروج چرخ سیاست سے کامیاب آیا
علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  شاعر کے ساتھ عالمِ دین، صوفی اور متشرع شخصیت کے حامل ہیں اس لئے اصلاحی مذہبی اور اخلاقی ذہن و فکر رکھتے ہیں۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ وہ صرف عالمِ دین 
نہیں بلکہ عاشق رسول ہیں ۔
اس لئے بنیادی طور پر وہ نعت گوئی کو سب سے زیادہ محبوب رکھتے ہیں اور نعت گو کہلانا ہی پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف نعتوں میں بلکہ غزلوں، نظموں  وغیرہ، میں بھی اُنہوں نے مدحت رسول کے گل بوٹے بکھیرے ہیں۔ اِس لحاظ سے علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کا ایک اور امتیاز سامنے آتا ہے کہ انہوں نے نعت کے لئے فارم کی قید نہیں رکھی ہے، جس صنف میں بھی قلم اُٹھایا اُس میں نعت گوئی سے وسعت پیدا کر دی ہے۔ اُن کی نظموں پر بھی اِس کا گہرا اثر ہے۔
آخر میں علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کی ایک خوب صورت نظم کا ذکر کر کے اپنی گفتگو ختم کروں گا جو مجھے بہت پسند آئی اور وہ ہے اُن کا ’’سلام‘‘۔ سلام برحضور خیرالانام صلی اﷲ علیہ و سلم لکھنے والے شعرا کی تعداد کثیر ہے، مگر اردو میں چند ہی سلام ایسے ہیں جنہیں مقبولیت دوام حاصل ہوئی۔ اُن میں امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کا سلام ’’مصطفے ٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘ اور حفیظ جالندھری کا سلام ’’سلام اُئے آمنہ کے لال ائے محبوب سبحانی‘‘ معرکۃ الآرا ہیں۔علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کا سلام ایسی زمین میں ہے ایسی ہی روانی لطافت اور کشش رکھتا ہے کہ بس!!!!۔ چند اشعار ملاحظہ فرما لیں : 
السلام اے رحمت العالمیں
السلام اے مظہر دین مبیں
السلام اے رونق کون ومکاں
السلام اے راز حق کے راز داں
السلام اے صاحب کوثر سلام
السلام اے حق کے پیغمبر سلام
السلام اے خاتم پیغمبراں
السلام اے رہنمائے رہبراں
السلام اے راحت و آرام جاں
السلام اے دستگیر بیکساں
السلام اے پیکرحسن و جمال
السلام اے صاحب فضل و کمال
السلام اے رہبر دین خدا
حامی و ناصر مددگار ومعیں
مدعائے مژدہ عیسیٰ سلام
منتہائے مقصد موسیٰ سلام 
کیجئے مقبول اخترؔ کا سلام
شاہ ولیں کے نبیوں کے امام
’’پارۂ دل‘‘ کا مطالعہ آپ کو بتائے گا کہ علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی نظم کہنے کا ہنر تو جانتے ہی ہیں مستزادیہ کہ ان کے یہاں اپنی روایت، اردگرد، پس منظر، پیش منظر اور اپنے اسلاف سے جڑے رہنے کا جو تسلسل ہے وہ ان کی ارفع فنکاری کا سبب ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ جزئیات پر جتنی گہری نظر ڈالتے ہیں اور خارجی کائنات کو داخلی کائنات سے جس طرح ہم آہنگ کرتے ہیں یہ اُن کے معاصر نظم نگاروں کے یہاں مفقود ہے، یعنی ’پارۂ دل‘‘ ہر اعتبار سے علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی کی نظم گوئی کی صلاحیت اجاگر کرتا ہے۔ سہل اور سادہ اسلوبِ بیان کا یہ نظم نگار اپنے فکر و نظر کے اعتبار سے توجہ طلب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر تخلیقی عمل اسی طرح صیقل ہوتا رہا اور توضیحی انداز بیان پر تھوڑا سا قابو پا لیا گیا تو بحیثیت نظم گو بھی اردو ادب میں علامہ ا ختر ؔ کچھوچھوی  کے امتیازات کی شناخت قائم ہو جائے گی۔
٭٭٭

ایک باوقار فنکار ،خوبصورت شاعر.....صابرفخرالدین ​

ایک باوقار فنکار ،خوبصورت شاعر.....صابرفخرالدین ​

ایک باوقار فنکار ،خوبصورت شاعر.....صابرفخرالدین 
غلام ربانی فداؔ
مدیراعلیٰ جہان نعت ہیرور

یادگیر ایک پتھروں کے درمیان آباد شہر ہے اور آج اس مقام کی انفرا دیت یہ بھی ہے کہ یہ شعر و ادب کا ایک اچھا مرکز ہے یہاں نہ صر ف اچھے لکھنے والے موجود ہیں بلکہ یہاں کے عوام میں ایک صحت مند ادبی ذوق بیدار ہے ۔ 

ادب کی سزرخیز سر زمین سے ایک کہنہ مشق شاعر صابرفخرالدین
اپنے پہلے شعر ی مجموعہ’’ ۔۔۔ ستارے ڈوب جاتے ہیں ‘‘(مختصرنظمیں)
کے ساتھ ادبی منظرنامے پر نمو دار ہو گئےتھے ۔اب یہ نہایت ہی حوصلہ افزاء بات ہے کہ وہ پھر سے اپنے دوسرے 
مجموعہ کلا م ’’ بیاضِ شعر‘‘ کو لیکر ایوان ادب میں دستک دےچکےہیں۔اورمقبولیت کے آسماں کوچھوچکا ہے۔
صابرفخرالدین کےدونوں مجموعہ’ ۔۔۔ ستارے ڈوب جاتے ہیں ‘کے مطالعہ سے
یہ بخوبی اند ازہ لگا یاجاسکتاہے کہ یہ چشمہ ایک دن ضرور ایک دریامیںتبدیل ہوجائے گا ۔دونوں مجموعۂ کلام میرے پیش نظرہیں۔علاوہ ازیںصابرفخرالدین کی گا ہے ماہے رسائل و اخبارات میں تخلیقات نظر سے گذرتی ہیں اور توجہ طلب ہوتی ہیں ۔ 

اُردو کے بیشتر شعر اء کی طرح صابرنے اپنی شاعر ی کا آغاز غزل ہی سے کیا ہے ۔ غزل ان کی محبوب صنف ِ سخن ہے۔صابرفخرالدین ؔکی شاعری کو پڑ ھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے ان کی شاعری میں ایک سچا اور حقیقی شاعر نشو نما پارہا ہے ۔ صابرفخرالدین کو اُردو زبان پر اہلِ زبان کی سی قدرت ضرور حاصل ہے ہلکی پھلکی بحروں میں ان کا نرم لب و لہجہ بڑا ہی دلکش معلوم ہوتا ہے 
صابرفخرالدین کے چند اشعار نے تو بیک نظر میری توجہ کو جذب کر لیاہے اور ان کے کلام میں وہ خوبیا ں ضرور موجود ہیں جو اُردو غزل کی بہترین روایات کی مظہر ہیں اور سنجیدہ ترین اوصاف کی حامل ہیں ۔ اُن کے تازہ غزلیہ کلام میں چند ایسے اشعار قابلِ توجہ ہیںجن کو مُشتے از خر وارے کے طور پر پیش کر رہا ہوں ۔ جن سے اُن کے مزاج و آہنگ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
یہ شعر واقعی بڑے خوبصورت ہیں ملاحظہ فرمایئے
طئے کوئی نرحلہ ابھی نہ ہوا
وقت کا فیصلہ ابھی نہ ہوا
سانس آتی ہے اور جاتی ہے
ختم ابھی یہ سلسلہ نہ ہوا
قرض سانسوں کا اترنا مشکل
جاتے لمحوں کا ٹھہرنا مشکل
ساری دنیا کو جو کھونا تھا مجھے
اپنے ہی آپ میں ہونا تھا مجھے
یہی تو سوچ کے میں نے اٹھا لیا پتھر
رہوں گا تو پھر آئے گا دوسرا پتھر
میں جانتا ہوں زمین و زماں کی کیفیت

بتاؤ پوچھ رہے ہو کہاں کی کیفیت
انتظار کی کیفیت کو بڑ ے سلیقہ سے پیش کیا ہے ۔ 
چلے بھی آؤ کہ صدیوں سے انتظار میں ہوں
تمہیں دکھاؤں ذرا قلب و جاں کی کیفیت
ترے ملن کی خوشی ہو کہ ترے ہجر کا غم
رہی ہے ایک سی کب جسم و جاں کی کیفیت
زندگی کے حقائق کو ہلکے پھلکے انداز میں چھو ٹی چھوٹی بحروں میں سمونا صابرؔ کا کمال ہے ۔
میں اپنے کام سے آیا ہوا تھا
مگر شہر آکے گھبرایا ہوا تھا
چھوٹی چھوٹی دیواریں تھیں
سستے کرایہ کی چالیں تھیں
میں جب چھوٹا بچہ تھا
سب کچھ اچھا لستا تھا
کمروں سے آزادی تھی
گودیوں میں رہتا تھا
نگاہوں پر اگر پہرا لگے گا
تو ہر اک شخص بے چہرہ لگے گا
ہر غزل میں زندگی کے اقدارکی عکاسی اور تجر بوں کا نچوڑ ملتا ہے ۔ ایک اچھے شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ روایت کا پاسدار بھی ہو اور جدید تقاضوں کا شعور بھی رکھتا ہو۔صابرفخرالدین کے کلام میں ایسے بے شمار اشعار ملتے ہیں ۔
ہر لمحہ تمہاری فکر صابرؔ
اڑانوں کے جہاں کیوں ڈھونڈتی ہے
زمانہ مجھ کو ڈراتا بھی کیا کہ میں صابرؔ
قدم قدم پہ سزا ساتھ ساتھ رکھتا تھا 
یہ جُرّ اتِ گفتا ر کا اقرار اور عزم شاعرکی ذہنی سطح کی بلندی کا پتہ دیتی ہے ۔
ستارے ڈوب جاتے ہیں کی مختصر نظموں میں کہیں کہیں ایک مصرعہ یا فقرہ کا گمان ہوتاہے۔کہیں مختصرنظم اقوال زرین کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے یا کسی محاورہ کی نئی شکل میں قاری کے دل فرحت عطا کرتی ہے اور کچھنظمیںتو عام قاری کے سمجھ سے بالاتر یاسرکے اوپرسے گزرجاتی ہیں۔
صابرفخرالدین کی مختصر نظموں میں مشاہدہ بھی ہے زندگی کاتلخ تجربہ بھی۔الفاظ کا رکھ رکھاؤ اور خطیبانہ انداز ان کی نظموں کے شناخت ہے۔صابرفخرالدین کی نظموں کا اختتام ڈرامائی اور حیران کن ہوتا ہے جس میں کبھی کبھی تشنگی باقی رہ جاتی ہے۔المختصر مختصر نظمیں قابل مطالعہ اورصابرفخرالدین کی غزلیات قاری کی تنہائی کی ساتھی ہیں۔میری تمنائیں صابرفخرالدین کے ساتھ ہیں۔
صابرفخرالدین کے چند مختصرنظمیں پیش ہیں۔دیکھنا ہے قاری کے دامن دل کواپنے کس طرح متوجہ کرتی ہیں۔ اوریہی کشش صابرفخرالدین کی کامیابی کی سندہے۔
زندگی 
شطرنج کا
اک کھیل ہے
جس میں اجل ہی 
اصل مہرہ ہے
جیالو
چاند نگر کے
رہنے والو
دھوپ نگر میں
کیا ہوتاہے
تم کیاجانو
جب بھی 

غروب ہوتاہے
چاندنی کو
حیات
ملتی ہے

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular