Showing posts with label hayatwokhidmat. Show all posts
Showing posts with label hayatwokhidmat. Show all posts

ضروری تنبیہ
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام حضرات انبیاء علیہم السلام کے مقدس اجسام انکی مبارک قبروں میں سلامت رہتے ہیں اور زمین پر حضرت حق جل جلالہ نے حرام فرما دیا ہے کہ ان کے مقدس جسموں پر کسی قسم کا تغیر و تبدل پیدا کرے۔ جب تمام انبیاء علیہم السلام کی یہ شان ہے تو پھر بھلا حضور سید الانبیاء و سید المرسلین اور امام الانبیاء و خاتم النبییّن صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس جسم انور کو زمین کیونکر کھا سکتی ہے؟ اس لئے تمام علماء امت و اولیاء امت کا یہی عقیدہ ہے کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی قبر اطہر میں زندہ ہیں اور خداعزوجل کے حکم سے بڑے بڑے تصرفات فرماتے رہتے ہیں اور اپنی خداداد پیغمبرانہ قوتوں اور معجزانہ طاقتوں سے اپنی امت کی مشکل کشائی اور ان کی فریاد رسی فرماتے رہتے ہیں۔
خوب یاد رکھئے کہ جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ یقینا بارگاہِ اقدس کا گستاخ بد عقیدہ، گمراہ اور اہل سنت کے مذہب سے خارج ہے۔

سیرت پاک کے اجلاس
ان جلسوں میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے فضائل اور آپ کی مقدس سیرت اور اتباع سنت و شریعت اور محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا بیان ہوا کرتا ہے میلاد شریف کی طرح یہ جلسے بھی بہت مبارک اور خیر و برکت والے ہیں اور اہل جلسہ حاضرین سب ثواب پاتے ہیں۔

کنوئیں کے مسائل
کنوئیں میں کسی آدمی یا جانور کا پاخانہ' پیشاب' یا مرغی یا بطخ کی بیٹ یا خون یا تاڑی شراب وغیرہ کسی نجاست کا ایک قطرہ بھی گر پڑے یا کوئی بھی ناپاک چیز کنوئیں میں پڑ جائے تو کنواں ناپاک ہو جائے گا اس کا کل پانی نکالا جائے گا۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۷۔۴۰۹)
مسئلہ:۔اگر کنوئیں میں آدمی' گائے' بھینس' بکری یا اتنا ہی بڑا کوئی جانور گر کر مر جائے یا چھوٹے سے چھوٹا بہنے والے خون والا جانور کنوئیں میں مر کر پھول پھٹ جائے یا ایسا جانور جس کا جھوٹا ناپاک ہے کنوئیں میں گر پڑے اگرچہ زندہ نکل آئے جیسے سور' کتا تو ان سب صورتوں میں کنواں ناپاک ہو جائے گا اور کل پانی نکالا جائے گا۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۷۔۴۱۰/
الفتاوی القاضی خان ، کتاب الطہارۃ ، فصل فی مایقع فی البئر،ج۱،ص۵)
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الثالث،الفصل الاول،النوع الثالث ماء لآبار،ج۱،ص۱۹)
مسئلہ:۔اگر چوہا' چھپکلی' گرگٹ یا ان کے برابریا ان سے چھوٹا جانور کنوئیں میں گر کر مرجائے۔ا ور پھولنے پھٹنے سے پہلے نکال لیا جائے تو بیس ڈول پانی نکالنا واجب اور تیس ڈول پانی نکال دینا مستحب ہے اس کے بعد کنواں پاک ہو جائے گا۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۱۱)
مسئلہ:۔جن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے جیسے بکری' گائے' بھینس وغیرہ ان میں سے اگر کوئی کنوئیں میں گر پڑے اور زندہ نکل آئے اور ان کے جسم پر کسی نجاست کا لگا ہونا معلوم نہ ہو تو کنواں پاک ہے لیکن احتیاطاً بیس ڈول پانی نکال ڈالیں۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۱۰)
مسئلہ:۔حلال پرندے جیسے کبوتر اور گوریا' مینا' مرغابی وغیرہ اونچے اڑنے والے پرندوں کی بیٹ کنویں میں گر جائے تو کنواں ناپاک نہیں ہوگا یوں ہی چمگادڑ کے پیشاب سے بھی کنواں ناپاک نہ ہوگا۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،مطلب مھمٌّ: فی تعریف الاستحسان، ج۱، ص۴۲۱/ الفتاوی القاضی خان، کتاب الطہارۃ، فصل فی ما یقع فی البئر،ج۱،ص۶)
مسئلہ:۔یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ فلاں فلاں صورت میں اتنا اتنا پانی نکالا جائے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جو چیز کنوئیں میں گری ہے پہلے اس کو کنوئیں میں سے نکال لیں پھر اتنا پانی نکا لیں۔ اگر وہ چیز کنوئیں ہی میں پڑی رہی تو کتنا ہی پانی نکالیں بے کار ہے۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۹)
مسئلہ:۔جہاں اتنے اتنے ڈول پانی نکالنے کا ذکر آیا ہے وہاں ڈول کی گنتی اس ڈول سے کی جائے گی جو ڈول اس کنوئیں پر استعمال ہوتا رہا ہے اور اگر اس کنوئیں کا کوئی خاص ڈول نہ ہو تو اتنا بڑا ڈول ہونا چاہے کہ جس میں سوا پانچ کیلو پانی آجائے۔ (الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۱۶)
مسئلہ:۔سالن یا پانی شربت میں اگر مکھی گر پڑے تو اس کو غوطہ دے کر باہر پھینک دیں اور سالن' پانی' شربت' کو کھا پی لیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کھانے میں مکھی گر پڑے تو اس کو کھانے میں غوطہ دے کر مکھی کو پھینک دیں پھر اس کھانے کو کھائیں کیونکہ مکھی
کے دو پروں میں سے ایک میں بیماری اور دوسرے میں اس کی شفا ہے اور مکھی اس پر کو کھانے میں پہلے ڈالتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے اس لئے غوطہ دے کر دوسرا شفاء والا پر بھی کھانے میں پہنچادیں۔
(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الصید والذبائح، باب مایحل اکلہ وما یحرم، الفصل الثانی، رقم ۴۱۴۳۔۴۱۴۴،ج۲،ص۴۳۸)
مسئلہ:۔ناپاک کنوئیں میں جس صورت میں جتنے پانی نکالنے کا حکم ہے جب اتنا پانی نکال لیا گیا تو اب وہ ڈول اور رسی اور کنوئیں کی دیواریں سب خود بخود پاک ہو گئیں۔ کسی کو دھو کر پاک کرنے کی ضرورت نہیں۔ (الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،ج۱،ص۴۰۹)

شب برات کا حلوا
شب برات کا حلوا پکانا نہ تو فرض و سنت ہے نہ حرام و ناجائز بلکہ حق بات یہ ہے کہ شب برات میں دوسرے تمام کھانوں کی طرح حلوا پکانا بھی ایک مباح اور جائز کام ہے اور اگر اس نیک نیتی کے ساتھ ہو کہ ایک عمدہ اور لذیذ کھانا فقراء ومساکین اور اپنے اہل و عیال کو کھلا کر ثواب حاصل کرے تو یہ ثواب کا کام بھی ہے۔
درحقیقت اس رات میں حلوے کا دستوریوں نکل پڑا کہ یہ مبارک رات صدقہ وخیرات اور ایصال ثواب و صلہ رحمی کی خاص رات ہے۔ لہٰذا انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس رات میں کوئی مرغوب اور لذیذ کھانا پکایا جائے۔ بعض عالموں کی نظر بخاری شریف کی اس حدیث پر پڑی کہ۔
کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحب الحلواء والعسل۔
(صحیح البخاری، کتاب الاطعمۃ، باب الحلواء والعسل، رقم ۵۴۳۱،ج۳،ص۵۳۶)
یعنی'' رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حلوا (شیرینی) اور شہد کو پسند فرماتے تھے۔'
ہٰذا ان علمائے کرام نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس رات میں حلوا پکایا۔ پھر رفتہ رفتہ عوام میں بھی اس کا چرچا اور رواج ہوگیا۔ چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب قبلہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کے ملفوظات میں ہے کہ ہندوستان میں شب برات کو روٹی اور حلوا پر فاتحہ دلانے کا دستور ہے۔ اور سمر قند و بخارا میں ''قتلما'' پر جو ایک میٹھا کھانا ہے۔
الغرض شب برات کا حلوا ہو یا عید کی سویاں' محرم کا کھچڑا ہو یا ملیدہ' محض ایک رسم و رواج کے طریقہ پر لوگ پکاتے کھاتے اورکھلاتے ہیں۔ کوئی بھی یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ یہ فرض یا سنت ہیں۔ اس لئے اس کو ناجائز کہنا درست نہیں۔ یاد رکھو کسی حلال کو حرام ٹھہرانااﷲ پر جھوٹی تہمت لگانا ہے جو ایک بدترین گناہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔
قُلْ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللہُ لَكُمۡ مِّنۡ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمۡ مِّنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا ؕ قُلْ آٰللہُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرُوۡنَ ﴿59﴾
یعنی کہہ دو بھلا بتاؤ تو وہ جو اﷲ نے تمہارے لئے رزق اتارا۔ اس میں تم نے اپنی طرف سے کچھ حرام کچھ حلال ٹھہرالیا۔ (اے پیغمبر) فرمادو کیا اﷲ نے اس کا تمہیں حکم دیا ہے' یا اﷲ پر تم لوگ تہمت لگاتے ہو؟(پ 11 ،یونس:59)
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
Popular Tags
Islam
Khawab Ki Tabeer
خواب کی تعبیر
Masail-Fazail
waqiyat
جہنم میں لے جانے والے اعمال
AboutShaikhul
Naatiya Shayeri
Manqabati Shayeri
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
آداب حج و عمرہ
islami Shadi
gharelu Ilaj
Quranic Wonders
Nisabunnahaw نصاب النحو
al rashaad
Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri
نِصَابُ الصرف
fikremaqbool
مُرقعِ انوار
Maqbooliyat
حدائق بخشش
بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan)
Taqdeesi Mazameen
Hamdiya Adbi Mazameen
Media
Zakat Zakawat
اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت
اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت
مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی
Mazameen
mazameenealahazrat
گھریلو علاج
شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲)
نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔
Libarary
BooksOfShaikhulislam
Khasiyat e abwab us sarf
fatawa
مقبولیات
کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ)
کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی
News
مذہب اورفدؔا
صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
about
نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی
manaqib
Du’aas& Adhkaar
Kitab-ul-Khair
Some Key Surahs
naatiya adab
نعتیہ ادبی
Shayeri
آیاتِ قرآنی کے انوار
نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya)
نعتیہ ادبی مضامین
غلام ربانی فدا شخص وشاعر
مضامین
Tabsare
تقدیسی شاعری
مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے
مسائل و فضائل
app
books
تبصرہ
تحقیقی مضامین
شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1)
علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی
Hamd-Naat-Manaqib
tahreereAlaHazrat
hayatwokhidmat
اپنے لختِ جگر کے لیے
نقدونظر
ویڈیو
hamdiya Shayeri
photos
FamilyOfShaikhulislam
WrittenStuff
نثر
یادرفتگاں
Tafseer Ashrafi
Introduction
Family
Ghazal
Organization
ابدی زندگی اور اخروی حیات
عقائد
مرتضی مطہری
Gallery
صحرالہولہو
Beauty_and_Health_Tips
Naatiya Books
Sadqah-Fitr_Ke_Masail
نظم
Naat
Shaikh-Ul-Islam Trust
library
شاعری
Madani-Foundation-Hubli
audio
contact
mohaddise-azam-mission
video
افسانہ
حمدونعت
غزل
فوٹو
مناقب
میری کتابیں
کتابیں
Jamiya Nizamiya Hyderabad
Naatiya Adabi Mazameen
Qasaid
dars nizami
interview
انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ
غیرمسلم شعرا
نعت
Abu Sufyan ibn Harb - Warrior
Hazrat Syed Hamza Ashraf
Hegira
Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan
Khutbat-Bartaniae
Naatiya Magizine
Nazam
Shura
Victory
khutbat e bartania
نصاب المنطق
اِسلامی زندگی
عجائب القرآن مع غرائب القرآن
Khawab ki Tabeer
Most Popular
-
بسم الرحمن الرحیم السلام علیکم الحمد للہ !ناظرین محترم تمام تعریفیں رب کائنات کے لئے جس نے لفظ کن سے کائنات عالم کی تخلیق کی۔ اور ...
-
(۱)۔۔۔۔۔۔ اِفْتِعَالٌ: باب اِفْتِعَالٌ میں فاء کلمہ کے بعد تاء زائدہ ہوتی ہے۔جیسےاِجْتَنَبَ۔ بنانے کا طریقہ: ثلاثی مجرد کے ف...
-
بسم الرحمن الرحیم آپ کے ہر ممکن تعاون کی ہمیں ضرورت ہے۔ Tanzeem-ur-Rashad C/o Karnatak Hardware Usmaniya Complex, (hollati Buildi...
-
تمام ابواب کو چھ حصوں پر تقسیم کیا جاسکتاہے: (۱)ثلاثی مجرد کے ابواب (۲)ثلاثی مزید فیہ کے ابواب (۳)رباعی مجرد کے ابواب (۴)رباعی مزید...
-
سبق نمبر: (10) (۔۔۔۔۔۔باب تَفَعُّل کی خاصیات۔۔۔۔۔۔) اس باب کی خاصیات درج ذیل ہیں: (۱)تعمل(۲)موافقت(۳)ابتداء(۴)اتخا ذ(۵)سلب مأخذ (۶) تدریج ...
-
حروف اصلیہ اور حروف زائدہ کے ا عتبار سے کلمہ کی چھ اقسا م ہیں: (۱)ثلاثی مجرد (۲)ثلاثی مزیدفیہ (۳) ربا عی مجرد (۴)رباعی مزیدفیہ ...
-
سورہ یوسف کا خلاصہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو ''احسن القصص'' یعنی تمام قصوں میں سب سے اچھا قصہ ف...
-
نقشہ برائے ثلاثی مجرد ابواب ۱۔ضَرَبَ یَضْرِبُ تعمل۔۔۔۔۔۔۔۔موافقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتخاذ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تدریج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کثرت مأخذ اطعام مأخذ۔۔۔۔۔۔ البا ...
-
مشق برائے ثلاثی مجرد ابواب سوال نمبر1: درج ذیل خاصیات کی تعریف کریں اور مثال سے واضح کریں۔ تعمل،موافقت ،اتخاذ،تدریج،کثرت مأخذ،اطعام مأخذ،ا...
-
(۱)۔۔۔۔۔۔اتخاذ : جیسے: اِجْتَحَرَ۔ ( اس نے سوراخ بنایا ) اِجْتَنَبَ۔ (اس نے کونہ پکڑا) اِغْتَذٰی الشَّاۃَ۔ (اس نے بکری کو غذا بنایا)...
