Showing posts with label مقبولیات. Show all posts
Showing posts with label مقبولیات. Show all posts
محبت رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم

محبت رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم





محبت رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم

احد کی لڑائی میں جو کافر مارے گئے تھے ان کے عزیزوں میں انتقام کا جوش زوروں پر تھا ، صلافہ نے جس کے دو بیٹے لڑائی میں مارے گئے تھے منت مانی تھی کہ اگر عاصم کا ( جنہوں نے اس کے بیٹوں کو قتل کیا تھا) سر ہاتھ آجائے تو اس کی کھوپڑی میں شراب پیوں گی ، اس لئے اس نے اعلان کیا تھا کہ جو عاصم کا سر لائے گا اس کو سو اونٹ انعام دوں گی ، سفیان بن خالدکو اس لالچ نے آمادہ کیا کہ وہ ان کا سرلانے کی کوشش کرے ،

 چنانچہ اس نے عضل و قارہ کے چند آدمیوں کے مدینہ منّورہ بھیجا ، ان لوگوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم سے تعلیم و تبلیغٖ کے لئے اپنے ساتھ چند حضرات کو بھیجنے کی درخواست کی اور حضرت عاصم کے بھی بھیجنے کی درخواست کی کہ ان کا وعظ پسندیدہ بتلایا ، چنانچہ حضور نے دس آدمیوں کے بعض روایات میں چھ آدمیوں کو ان کے ساتھ کر دیا جن میں حضرت عاصم بھی تھے ، راستہ میں جاکر ان لے جانے والے آدمیوں نے بد عہدی کی اور دشمنوں کو مقابلہ کے لئے بلایا ،

 جو دوسو آدمی تھے ان میں سے سو آدمی بہت مشہور تیر انداز تھے اور بعض روایات میں ہے کہ حضور نے ان حضرات کو مکہ کی خبر لانے کے لئے بھیجا تھا راستہ میں بنو لحیان کے دوسو آدمیوں سے مقابلہ ہوا ، یہ مختصر جماعت دس آدمیوں کی یا چھ آدمیوں کی یہ حالت دیکھ کر ایک پہاڑ جس کا نام فدفذ تھا





چڑھ گئی ، کفار نے کہا کہ ہم تمہارے خون سے اپنی زمین رنگنا نہیں چاہتے ، صرف اہل مکہ سے تمہارے بدلہ میں کچھ مال لینا چاہتے ہیں ، تم ہمارے ساتھ آجاؤ ہم تم کو قتل نہ کریں گے ،
مگر انہوں نے کہا کہ ہم کافر کے عہد میں آنا نہیں چاہتے اور ترکش سے تیر نکال کر مقابلہ کیا جب تیر ختم ہوگئے تو نیزوں سے مقابلہ کیا ، حضرت عاصم نے ساتھیوں سے جو ش میں آکر کہا کہ تم سے دھوکہ کیا گیا ہے مگر گھبرانے کی بات نہیں شہادت کو غنیمت سمجھو تمہارا محبوب تمہارے ساتھ ہے اور جنت کی حوریں تمہاری منتظر ہیں ، یہ کہہ کر جوش سے مقابلہ کیا اور جب نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار سے مقابلہ کیا ، مقابلوں کا مجموعہ کثیر تھا ، آخر شہید ہوگئے اور دعا کی کہ یا اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کو ہمارے قصہ کی خبر کر دے ،
چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور اسی وقت اس واقعہ کا علم حضور کو ہوگیا اور چونکہ عاصم یہ بھی سن چکے تھے کہ سلافہ نے میرے سر کی کھوپڑی میں شراب پینے کی منت مانگی ہے ، اس لئے مرتے وقت دعا کی کہ یا اللہ میرا سر تیرے راستے میں کاٹا جارہا ہے تو ہی اس کا محافظ ہے وہ بھی دعا قبول ہوئی ، اور شہادت کے بعد جب کافروں نے سرکاٹنے کا ارادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا اور بعض روایات بھڑوں کا ایک غول بھیج دیا جنہوں نے ان کے بدن کو چاروں طرف سے گھیر لیا ،
کافروں کو خیال تھا کہ رات وقت جب یہ اڑجائیں گے تو سر کاٹ لیں گے ، مگر رات کو بارش کی ایک رو آئی اور ان کی
نعش کو بہا لے گئی ، اس طرح سات آدمی یا تین آدمی شہید ہوگئے، غرض تین آدمی باقی رہ گئے ۔



حضرت خبیب اور زید بن ۔۔۔ اور عبداللہ بن طارق ان تینوں حضرات سے بھر انہوں نے عہد و پیمان کیا کہ تم نیچے اتر آجاؤ ہم تم سے بد عہدی نہ کریں گے ، یہ تینوں حضرات نیچے اتر آئے ، اور نیچے اترنے پر کفار نے ان کی کمانوں کی تانت مار کر ان کی مشکیں باندھ دیں ، حضرت عبداللہ بن طارق نے فرمایا یہ پہلی بد عہدی ہے ، میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گا ، ان شہید ہونے والوں کا اقتدا ہی مجھے پسند ہے ، انہوں نے زبردستی ان کو کھینچنا چاہا مگر یہ نہ ٹلے تو ان لوگوں نے ان کو شہید کردیا ، صرف دو حضرات ان کے ساتھ رہے ، جن کو لے جا کر لوگوں نے مکہ والوں کے ہاتھ فروخت کر دیا ، ایک حضرت زید بن دثنہ جن کو صفوان بن امیہ نے پچاس اونٹ کے بدلہ میں خریدا تاکہ اپنے باپ امیہ کے بدلہ میں

قتل کرے دوسرے حضرت خبیب رضی اللہ عنہما جن کو حجیر بن ابی اہاب نے سو اونٹ کے بدلہ میں خریدا تاکہ اپنے باپ کے بدلہ میں ان کو قتل کرے ، بخاری شریف کی روایت ہے کہ حارث بن عامر کی اولاد نے خریدا کہ انہوں نے بدر میں حارث کو قتل کیا تھا ، صفوان نے تو اپنے قیدی حضرت زید رضی اللہ علیہ کو فوراً ہی حرام سے اپنے غلام کے ہاتھ بھیجدیا کہ قتل کر دئے جائیں ، اس کا تماشہ دیکھنے کے واسطے اور بھی بہت سے لوگ جمع ہوئے ،جس میں ابو سفیان بھی تھا ، اس نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے زید تجھ کو خدا کی قسم سچ کہنا کہ تجھ کو یہ پسند ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ) کی گردن تیرے بدلہ میں ماردی جائے اور تجھ کو چھوڑ دیا جائے کہ اپنے اہل و عیال میں خوش و خرم رہے ، حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا خدا کی قسم مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم جہاں ہیں وہیں ان کے ایک کانٹا بھی چبھے ، اور ہم اپنے گھر آرام سے رہیں ، یہ جواب سن کر قریش حیران رہ گئے ، ابو سفیان نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ) کے ساتھیوں کی جتنی اس سے محبت ہے اس کی نظیر کہیں نہیں دیکھی ، اس کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ شہید کر دئے گئے ۔
حضرت خبیث رضی اللہ عنہ ایک عرصہ تک قید رہے ،جحیر کی باندی جو بعد میں مسلمان ہوگئیں کہتی ہیں کہ جب خبیب رضی اللہ عنہ ہم لوگوں کی قید میں تھے تو ہم نے دیکھا کہ خبیب رضی اللہ عنہ ایک دن انگور کا بہت بڑا خوشہ آدمی کے سر کے برابر لئے ہوئے کھا رہے تھے اور مکہ میں اس وقت انگور بالکل نہیں تھا ، وہی کہتی ہیں کہ جب ان کے قتل کا وقت قریب آیا تو انہوں نے صفائی کے لئے استرہ مانگا ، وہ دیدیا گیا اتفاق سے ایک کمسن بچہ اس وقت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا ، ان لوگوں نے دیکھا کہ استرہ ان کے ہاتھ میں ہے اور بچہ ان کے پاس ، یہ دیکھ گھبرائے ، خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ میں بچے کو قتل کروں گا ، نہیں کرسکتا اس کے بعد ان کو حرم سے باہر لاگیا ، اور سولی پر لٹکانے کے وقت آخری خواہش کے طور پر پوچھا گیا کہ کوئی تمنا ہوتو بتاؤ، انہوں نے فرمایا کہ مجھے اتنی مہلت دی جائے کہ دو رکعت نماز پڑھ لوں کہ دنیا سے جانے کا وقت ہے ، اور اللہ جل شانہٗ کی ملاقات قریب ہے چنانچہ مہلت دی گئی ، انہوں نے دو رکعت نہایت اطمینان سے پڑھے اور فرمایا کہ مجھے خیال نہ ہوتا کہ تم
لوگ یہ سمجھو گے کہ میں موت کے ڈر کی وجہ سے دیر کررہا تو دورکعت اور پڑھتا ، اس کے بعد سولی پر لٹکائے گئے ، تو انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو تیرے رسول پاک صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم تک میرا آخری سلام پہنچادے چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کو بذریعہ وحی اسی وقت سلام پہنچایا ، حضور نے فرمایا و علیکم السلام یا خبیب رضی اللہ عنہ ، اور ساتھیوں کو اطلاع دی کہ خبیب کو قریش نے قتل کردیا ، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو جب سولی پر چڑھا یا گیا تو چالیس کافروں نے نیزے لے کر چاروں طرف سے ان پر حملہ کیا ، اور بدن کی چھلنی کردیا ، اس وقت کسی نے قسم دے کریہ بھی پوچھا کہ تم یہ پسند کرتے ہوکہ تمہاری جگہ محمد ( صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ) کو قتل کردیں اور تم کو چھوڑیں ، انہوں نے فرمایا واللہ تعظیم مجھے یہ بھی پسند نہیں نہیں کہ میری جان کے فدیہ میں ایک کانٹا بھی حضور کو چھبے ۔





تدبروایا اولی الالباب

تدبروایا اولی الالباب




تدبروایا اولی الالباب



حصہ دوم


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )




ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون ،

کا مصداق بن جاؤگے ، اگر تمام کے مسلمانوں کی نمازیں اکھٹے کئے جائیں کے اور ان تمام نمازوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی نمازیں صحیح تر کل تر اور مکمل تر ہیں ، جولوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان نمازوں طرح نمازیں پڑھنے ہیں یعنی سینے پر ہاتھ ہو نہ آمین پکار نی ہو نہ خلف امام سورئہ فاتحہ کا پڑھنا ہو نہ رکوع جاتے نہ رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین ہو ، ان لوگوں کی نمازیں صحیح ہیں یا ان لوگوں کی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان نمازوں کے خلاف نمازیں پڑھتے ہیں ، یعنی سر پر ہاتھ باندھ کر آمین پکارتے خلف امام سورئہ فاتحہ پڑھتے اور رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے رفیع الیدین کرتے یہ صاف اور ظاہر ہے ، ہر ذی عقل یہی کہے گا جو مقتدی ہوکر نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی ان نمازوں کی طرح نمازیں پڑھتے میں اور جو امام نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان اماموں کے


نمازوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں ، انہیں لوگوں کی نمازیں صحیح ہیں ، کامل ہیں مکمل ہیں ، یہ نمازیں سنّی حنفیوں کے ہیں ، فللہ الحمد ، اور ان سنیوں کے بھی نمازیں صحیح کامل ہیں جو اپنے اماموں کے فتواؤں پر عمل کرتے ہیں ۔

جن مقتدیوں کی نمازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان نمازوں کے خلاف ہو اور جن اماموں کی نمازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کے ان اماموں کے خلاف ہو وہ بھی ناقص ، ناصحیح ، نامکمل اور ناکامل ہیں ، یہ نمازیں تمہارے لوگوں کے ہیں ۔






فلیزم ویتب المشتاھر ونادیہ واذنابہ ومقلدہٗ بفتح لام ۔
سردار دوجہاں کا ارشاد ہے ، جب امام ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہے تم بھی اللہ اکبر کہو اور جب امام قرآن پڑھنا شروع کر دے تم خاموش رہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم پانچ وقت کے فرضوں میں بحالتِ امامت کم سے کم فی رکعت چار پانچ مرتبہ آواز سے اللہ اکبر فرماتے تھے ، آمین بحالت امامت ایک دو مرتبہ بلند آواز سے کرنے میں بھی اختلاف ہے ، اور تم آمین بلند آواز سے کہنے میں مقتدی ہوکر ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہو ، مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ تشبیہ کرتے ہو، بعض جگہ لڑکوں کو دو پیسے تین پیسے دے کر آمین بلند آواز سے کراتے ہو، جس کی کوئی اصل شرع میں نہیں ہے ، اللہ اکبر نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے بحالتِ امامت ہمیشہ بلند آواز سے فرماتے رہے ہیں ، اس میں کسی بھی(طرح کا) اختلاف نہیں ، یہی سنت اب تک پیش اماموں میں جاری ہے ۔ تم ایک وقت بھی مقتدی ہو کر بلند آواز سے اللہ اکبر نہیں پکارتے اور تقسیم تمہاری خیزی ہے ، (تیڑھی ) کیا تمہارے نزدیک آمین کی آواز اللہ اکبر سے بھی افضل ہے ؟ امید ہے کہ آپ لوگ پانچ وقت کی نمازوں میں ہر ایک رکعت میں چار پانچ مرتبہ مقتدی ہوکر اللہ اکبر کی آوازیں کستے رہوگے ، تمہاری مسجدیں گونجتے رہیں گے ، مردہ سنت کو زندگی بھی عطا ہوجائے اور تم کو سو شہیدوں کا درجہ بھی مل جائے گا ، ورنہ یہ دعوی تمہارا اور تمہارے مدیر کا ہم مردہ سنتوں کے زندہ کرنے کے در پے ہیں چھوٹ سمجھا جائے گا مجھے صرف تمہاری اصلاح مدنظر ہے کیونکہ تم بھی انسان اور مسلمان کہلواتے ہو ، تم تو مجبور ہو تمہارا کوئی قصور نہیں ، اس لئے کہ تم کو علم نہیں ، قصور تو اس کا
ہے جس نے تم کو گمراہ بنا دیا ہو ، اس وقت تمہاری ٹکڑی قلق اور اضطراب میں ہے ، نہ اس تمہارے طریقہ کو چھوڑ سکی ، اگر اس کو چھوڑ دیتے تو لو گ ان پر ہنستے ہیں ، اگر اس طریقہ پر رہیں گے تو بے اصل اور بے سند ہیں ، کوئی ایک بات اپنے دعویٰ کے مطابق ثابت نہیں کرسکتی چنانچہ ناظرین ہمارے اشتہاروں کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہوں گے کہ تین ہی سوالوں سے حدیث کی منڈی کا دیوالہ نکل گیا ، باقی دس ان پر قرض رہ گئے ، سنیوں کو لازم ہے اس قرض کا تقاضا ان سے ہمیشہ کرتے رہیں غرض
:
دوگونہ آفت ست جان مجنوں را
بلائے صحبت لیلیٰ و فرقت لیلیٰ



ایک شیعہ کو نماز پڑھتے دیکھا رکوع کے رفع الیدین کے علاوہ سجدے کو جاتے وقت اور سجدے سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے یہی ان کا مذہب ہے ، ان سے پوچھا یہ کس کی حکم ہے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھ کو دیکھتے ہو نماز پڑھتے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم رکوع جاتے وقت ، رکوع کرتے وقت ، رکوع سے اٹھتے وقت ، سجدے میں جاتے وقت ، سجدے سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے ، صحابہ رضی اللہ عنہ دیکھتے تھے لہٰذا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم ثابت ہوگا ، میں نے کہا اس حدیث میں وہ کونسا لفظ ہے جو رکوع کے رفع الیدین اور سجدے کے رفع الیدین پر دلالت کرتا ہو ، یایہ ثابت کرو جس وقت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم رکوع اور سجدے کی رفع الیدین کی اسی وقت حدیث مذکور فرمائی ہیں ،یا یہ ثابت کرو کہ اس حدیث مذکور کو رفع الیدین کرنے سے پہلے فرمائی تھی ، یہ سن کر وہ حیران و ششد رہ گئے ، میں نے کہا وہابی بھی اس حدیث کو پیش کرتے ہیں جب ان سے سوال کرتے ہیں سینے پر ہاتھ باندھنا ، آمین پکارنا ، رفع الیدین کرنا کس کا حکم ہے ؟ وہابی تو کہتے ہیں سجدے کی رفع الیدین منسوخ ہوگئی ، اب تم شیعہ سچے ہو یا وہابی ؟ حقیقت یہ ہے کہ حدیث مذکور کو ان افعال کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ، نہ اس حدیث میں کوئی لفظ ایسا ہے جو افعال مذکور پر دلالت کرتا ہو بلکہ حدیث مذکور کا مطلب یہ ہے کہ ارکان نماز کو پوری طرح اطمینان سے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا کرو جس طرح مجھے ادا کرتے دیکھتے ہو ، اسی پر دلالت کرتا ہے ۔
ارشاد عزوجل ہے : ھم فی صلواتھم خاشعون ۔ اس لئے ارکان داخل ماہیت نماز ہیں افعال مذکور ، زاتد عن الارکان خارج عن الماھیت ، نماز میں حدیث مذکور ان افعال کے ثبوت میں پیش کرنا پیش کرنے والے کی بے علمی اور جہالت پر دلالت کرتا ہے ، باقی رہا وہابی کا کہنا سجدہ کی رفع الیدین منسوخ ہوگئی ، اصل میں یہ ہے ، رفع الیدین منسوخ ہوگئی ، خواہ وہ رکوع کی ہو یا سجدہ کی یا قعدہ میں بیٹھ کر سلام کرتے وقت ہاتھ اٹھانا ہو ، یہ مختصر ہے ، اس وقت مسئلہ کی تفصیل کی گنجائش نہیں ، ان شاء اللہ اگر موقع مل جائے یہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ ہدیہ ناظرین کردیا جائے گا ۔



تدبروایا اولی الالباب

تدبروایا اولی الالباب




تدبروایا اولی الالباب


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )


عقل سلیم اور ذہن مستقیم رکھنے والے حضرات ذیل کے مضامین پر غور و غوض فرمائیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم چند وقت کی نمازیں چند اماموں کی اقتدا میں ادا فرمائی ہیں ، چنانچہ کتب اصول و فروع کے واقفوں پر پوشیدہ نہیں ، اگر کوئی جاہل مرفوع القلم اس کو انکار کرے گا وہ قابل گرفت نہ کریگا ، بحالت اقتدا سینے پر ہاتھ باندھنا اور آمین پکارنا ، رکوع جاتے وقت رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا کہیں ثابت نہیں ، نہ ان اماموں سے بحالتِ امامت افعالِ مذکور کا کرنا ثابت ہے ، اگر افعال مذکور جزو ایمان ہوتے جیسے یہ فرقے سمجھ رہے ہیں ،
حضور ان اپنے اماموں سے افعال مذکور کرنے کے لئے نہ اللہ عزوجل کا حکم ہے نہ اللہ کے رسول کاحکم ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے حالت اقتدا میں ان افعال کو کیا ہے ، نہ کسی صحابہ نے مقتدی ہو کر افعال مذکور کیا ہو ، اور حضور نے دیکھ کر خاموشی فرمائی ہو ، نی رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے ان افعال مذکور سنت کرکے نام رکھا ہے اگر آپ لوگ افعال مذکور کو سنت کہتے ہو نام رکھنے میں سنیوں کی تقلید کرتے ہو ،
یہ تمہارے ہاں کفر و شرک ہے ، پس تم لوگ افعالِ مذکور کسی کے حکم سے کرتے ہو ؟ پتہ چلتا ہے کہ شاید محمد بن عبد الوہاب صاحب نجدی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب شیخ محی الدین لاہوری سابق نام ہری چند بن دویوان چند کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب ابو سعید بنارسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ؟
اغلب یہ ہے کہ مدیر معزز محمد صاحب جوناگڈھی کی اتباع و تقلید واقتدار کرتے ہو ، اس لئے تم لوگ محمدی بھی کہلاتے ہو ، جس میں نسبت محمد صاحب جو نا گذگی کی طرف ہے ، اس نے بھی تم کو محمدی بھائیو یعنی میرے بھائیو کر کے خطاب کیاہے ، یا محمد بن عبدالوہاب کی طرف نسبت ہوگی ، بنگلور اور لشکر میں ایک انجمن احمدی غلام احمد قادیانی کے پیروؤں کی تھی ، دوسری انجمن محمدی محمد صاحب جو ناگڈھی کے پیروؤں کی تھی ، ا ب معلوم نہیں ہے یا نہیں ، اللہ عزوجل نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے علماء مجتہدین و محققین کی اتباع اور تقلیدہ اقتدا کا حکم دیا ہے ، سب وہ صحابہ رضی اللہ عنہ ، سب وہ تابعین اور سب وہ تبع تابعین اور بے شمار فقہاء اور

محدثین جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچے تھے اور کروڑوں عوام اس حکم کی تعمیل کرچکے ہیں ، اللہ عزوجل نے تقلید کا اطلاق اپنے نبی علیہ السلام کے اوپر کہیں نہیں فرمایا ، نہ علماء کی اصطلاع میں مجتہدین کے واسطے اس لفظ کا اطلاق کہیں آیا ہو ،
ہم اس لفظ کا اطلاق پر نہیں کرتے ، اور ہم ہر ایک کے مرتبے کا لحاظ کرتے ہیں ، گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی ست اور ہزاروں علماء و فقہا ومحدثین و بے حساب عوام الناس اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں ، اور کرتے رہیں گے ، تم تو اس کو کفر و شرک کہتے ہو ، جو لوگ کم درجہ کے طالب علموں کی صف میں ہیں ،
جیسے ہم نے تمہارے چند بزرگوں کے نام اوپر گنوائے ہیں ، ان کی اتباع تقلید واقتدا تمہارے نزدیک بطریق اولیٰ کفر و شرک ہوگی خیر تم تو آزاد ، خود مختار و خود روہو ، جدھر جانا چاہتے ہو چلے جا سکتے ہو ، جس کوئیں میں کودنا چاہتے ہو کود سکتے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم سے ان چند نمازوں میںجو بحالتِ اقتدا ادا فرمائی ہیں ، سورئہ فاتحہ کا پڑھنا خلف امام ہرگز کہیں ثابت نہیں ، تم تو کہتے ہو جس نے امام کے پیچھے سورئہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز صحیح نہیں ، یہ بتلاؤ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی یہ نمازیں تمہارے نزدیک صحیح ہوگئے یانہیں ؟ ذرا غور کرو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی نمازیں میں، تم تو دلبر و جرأت والے ہو، کوئی جرأت نہ کر بیٹھو ۔






تاریخ کا زرّین ورق

تاریخ کا زرّین ورق


تاریخ کا زرّین ورق




 حضرت خنساء رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور شاعرہ ہیں ، اپنی قوم کے چند آدمیوں کے ساتھ مدینہ آکر مسلمان ہوئیں ، ابن اثیر کہتے ہیں کہ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی عورت نے ان سے شعر نہیں کہا نہ ان سے پہلے نہ ان کے بعد ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں 16؁ھ میں قادسیہ کی لڑائی ہوئی
جس میں حضرت خنساء اپنے چاروں بیٹوں سمیت شریک ہوئیں ، لڑکوں ایک دن پہلے بہت نصیحت کی اور لڑائی کی شرکت پر بہت ابھارا کہنے لگیں کہ میرے بیٹو ! تم اپنی خوشی سے مسلمان ہوئے ہو اور اپنی ہی خوشی سے تم نے ہجرت کی ،
اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ جس طرح تم ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہو اسی طرح ایک باپ کی اولاد ہو، میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی نہ تمہارے ماموں کو رسوا کیا نہ میں نے تمہاری شرافت میں دھبہ لگایا
نہ تمہارے نسب کو خراب کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کے لئے کافروں سے لڑائی میں کیا کیا ثواب رکھا ہے ؟ تمہیں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے
کہ آخرت کی باقی رہنے والی زندگی دنیا کی فنا ہونے والی زندگی سے کہیں بہتر ہے ، اللہ جل شانہٗ کا پاک ارشاد ہے :


یا ایھا الذین آمنوا صبروا و رابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون ۔



اے ایمان والو تکالیف پر صبر کرو ( اور کفار کے مقابلہ میں ) صبر کرو اور مقابلہ کے لئے تیار رہو تاکہ تم پورے کامیاب رہو ( بیان القرآن ) لہٰذا کل صبح کو جب تم صحیح و سالم اٹھو تو بہت ہوشیاری سے لڑائی میں شریک ہونا اور اللہ تعالیٰ سے دشمنوں کے مقابلے میں مدد مانگتے ہوئے بڑھو اور جب تم دیکھو کہ لڑائی زور پر آگئی اور اس کے شعلے بھڑکنے لگے تو اس کی گرم آگ میں گھس جانا اور کافروں کے سردار کا مقابلہ کرنا ان شاء اللہ جنت میں اکرام کے ساتھ کامیاب ہوکر رہو گے ، چنانچہ جب صبح کو لڑائی زوروں پر ہوئی لڑکوں میں سے ایک ایک نمبروار آگے بڑھتا تھا ، اور اپنی ماں کی نصحیت کو اشعار میں پڑھ کر اُمنگ پیدا کرتا تھا اور جب شہید ہوجاتا تھا تو دوسرا بڑھتا تھا ، اور شہید ہونے تک لڑتا رہتا تھا بالآخر چاروں شہید ہوئے اور جب ماں کو چاروں کے مرنے کی خبر ہوئی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ جس نے ان کی شہادت سے مجھے شرف بخشا مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کی رحمت کے سایہ میں ان چاروں کے ساتھ میں بھی رہوں گی ۔ ( اسد الغابہ )۔

ایسی بھی اللہ کی بندی مائیں ہوتی ہیں جو چاروں جوان بیٹوں کو لڑائی کی تیزی اور زور میں گھس جانے کی ترغیب دیں اور جب چاروں شہید ہوجائیں اور ایک ہی وقت میں سب کام آجائیں تو اللہ کا شکر ادا کریں ؟ ہمارے ماں بہنوں کی طرف دیکھئے کبھی بھی گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتے ، ہر وقت ان کی دعا یہی رہتی ہے کہ یا اللہ میرے بچہ کو زندہ رکھ ، فقیر ہی بنا کر سہی ، ماں کی دعا کبھی خالی جاتی نہیں اسی لئے آج کل کے مسلمان سب فقیر بن کر دربدر پھر رہے ہیں ، ہمارے ماں بہنوں کو چاہئے کہ بھولے ہوئے سبق یاد کریں اور تعلیمات اسلام پر خود بھی باقاعدہ عمل کریں اور اپنے بچوں اور بھائیوں کو بھی عمل کرنے کی ترغیب دلائیں ، حضرت امام بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو درجہ آج حاصل ہے وہ ان کو ان کے مہربان ماں اور بہن کے طفیل ہی سے نصیب ہوا ، کیا آپ بھول گئے کہ صرف بچہ ( چودہ ) سال کی عمر میں حضرت امام بخاری رضی اللہ عنہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے جب گھر چھوڑتے ہیں تو ان کے ساتھ کون تھے ؟ ان کے مفلس الحال ماں اور بہن ، کیونکہ راستے میں سوائے پتوں اور کچھ کھانے کو نہ تھا ، آخر حضرت غوث پاک رضی اللہ عنہ کو جو درجہ آج حاصل ہے کیااس کا سبب ان کے مہربان ماں نہیں ہیں؟ آپ کے بیوہ ماں ہی تو تھے جنہوں نے چالیس دینار بغل کے نیچے سی کر سچ بولنے کی ہدایت کی تھی ۔

کاش ہمارے بھی ماں بہنیں اپنا کام انجام دیتے ۔



حسام اسد اللہ لحسوم من علیٰ قلبہ ختم اللہ

حسام اسد اللہ لحسوم من علیٰ قلبہ ختم اللہ

حسام اسد اللہ لحسوم من علیٰ قلبہ ختم اللہ


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )






قارئین کرام کی توجہ ایک دعویٰ اور چند سوالوں کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ، اس  زمانے میں جب لوگ مذہب سے دور ہو رہے ہیں اور مذہبی معلومات سے تو کوئی دور کا بھی واسط نہیں رکھتے ، ہر ایک اہل رائے اپنے رائے اور سمجھ پر نازاں ہے خصوصاً فرقہ حدثی ، انکا دعویٰ ہے ، جو چیز حدیث صحیح سے ثابت نہیں ہے وہ سب حرام ناجائز اور بدعت شنیع ہے ، یہ دعویٰ کر کے بہت سے مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹا کر گمراہ بنا رہے ہیں ، ان کے اس دعویٰ پر بہت سے سوال وارد ہوسکتے ہیں ، یہاں گنجائش نہ ہونے کے سبب سے تین سوالوں کے اوپر اکتفا کرتا ہوں ۔


سوال (1) مقتدی ہو کر سینے پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا


( 2)


مقتدی ہو کر نماز میں آمین پکار کر کہنا


(3)


 مقتدی ہو کر رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا نہ حدیث قولی سے ثابت ہے نہ حدیث سے فعلی سے نہ حدیث تقریری سے ثابت ۔




سید عالم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم چند وقت کی نمازیں مقتدی ہوکر پڑھی ہیں حالت اقتدا میں ان
افعال کا کرنا ہرگز کہیں ثابت نہیں ہے ، لہٰذا افعال مذکور اس فرقہ کے نزدیک حرام ناجائز بدعت شنیع ہے ، ان افعال کا کرنے والا بدعتی ہے ، اللہ عزوجل کے نزدیک بدعتی کی نماز مقبول نہ روزہ ، نہ زکوٰۃ ، نہ حج نہ نفل نہ فرض ، حدیث شریف میں آیا ہے ، ’’ بدعتی دوزخیوں کے کتے ہیں ‘‘ مسلمانوں کو لازم ہے کتّوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں ، اور کتوں کو اپنے مسجدوں سے باہر نکال کر پھینکیں ، اس زمانے کے جاہل کہتے ہیں کہ بد مذہبوں کو کتے وغیرہ برے الفاظ سے یاد کرنا نہیں ، جب اللہ پاک نے ان کو جہنمی بنایا اور اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو دوزخیوں کے کتے بنایا اور ہم کو اللہ و رسول کی پیروی کرنا ضروری ہے ، ہم کو بھی وہی کہنا لازم ہے ، جو اللہ اور رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ان کے متعلق فرمایا ، لہٰذا کوئی نادان جاہل ہمارے اوپر اعتراض نہ کرے ، ہاں افعال مذکور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے حالت امامت میں ایک دو مرتبہ کرنا ثابت ہیں اس میں بھی اختلاف ہے اس حالت کے متعلق سوال بھی نہیں ، سوال مذکور کسی مقلد پروار نہیں ہوتے ، اس لئے کہ مقلد کو صرف اللہ و رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے اپنے امام اور مجتہد کے فتویٰ کی دلیل اور سند مجتہد کے پاس موجود ہے ، چنانچہ کتب اصول فروع میں شرح موجود ہے اور دلیل طلب کرنا مقلد سے جہالت اور بدعت پر بدعت ہے ، یہ شرذمۂ قلیل پانچ وقت کی نمازوں میں ان افعال کو کرتے ہیں ، اپنی نمازوں کو اکارت اور ضائع کرتے ہیں ، ان افعال کو اپنے دعویٰ میں حرام کہتے ہیں ، کرنے میں افعال کو جزوی نماز سمجھتے ہیں ۔
گر فرق مراتب نکنی زندیقیست 
اللہ اس فرقہ کو سمجھ دے ، ہم ازروئے اسلام ان کو اطلاع دیتے ہیں ، تم لوگ اس اعتقاد فاسد سے توبہ کرو ، باز آجاؤ ، تمہارے واسطے بہتر ہوگا ورنہ ندامت کرنی پڑے گی وہ ندامت تم کو کچھ فائدہ نہ دے گی ۔
وسعلم الذین طلمویٰ منقلب ینقلبون 
( انتباہ )
دعویٰ مذکور کے مطابق اگر کوئی جواب دے تو دوبارہ اس کی طرف توجہ کی جائے گی ، مگر یاد رہے کہ اس فرقہ کے اکابر و اصاغر مجتمع ہوکر ایک دوسرے کی مدد کریں پھر بھی جواب دینے سے عاجز ہیں اور عاجز ہی رہیں گے ۔نہ خنجر اٹھے گی نہ تلوار ان سے 
میرے بازواں آزمائے ہوئے ہیں 
اگر سب شتم کریں اس کا جواب ہماری طرف سے نہ ہوگا اس فرقہ کی عادت ہے جب جواب دینے سے عاجز آتے ہیں تو کچھ بُرا بھلا کہتے ہیں حال ہی میں ایک خبر آئی ، حدثی کمیٹی کے متبعین سب شتم ، دلال ، قوال نقال و بقال بہت کچھ اگل دیئے ہیں ، جس کی تعفن اور بدبو سے کمیٹی کے ممبروں کو ناک میں دم آیا اور شاتم کو اختلاج قلب لاحق ہونے کا اندیشہ تھا ، ہمیں منکر حدثی ذہنیت پر افسوس بھی نہ آیا کیونکہ وہ اس کے خوگر ہیں ، شاتم کو اس کا نفع اور نقصان خود ہی معلوم ہوجائے گا شاتم کے واسطے کافی ہے۔

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular