Showing posts with label مسائل و فضائل. Show all posts
Showing posts with label مسائل و فضائل. Show all posts
تدبروایا اولی الالباب

تدبروایا اولی الالباب




تدبروایا اولی الالباب


( از حضرت مولیٰنا مولوی سید مقبول احمد شاہ قادری کشمیری مدظلہ تعالیٰ )


عقل سلیم اور ذہن مستقیم رکھنے والے حضرات ذیل کے مضامین پر غور و غوض فرمائیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم چند وقت کی نمازیں چند اماموں کی اقتدا میں ادا فرمائی ہیں ، چنانچہ کتب اصول و فروع کے واقفوں پر پوشیدہ نہیں ، اگر کوئی جاہل مرفوع القلم اس کو انکار کرے گا وہ قابل گرفت نہ کریگا ، بحالت اقتدا سینے پر ہاتھ باندھنا اور آمین پکارنا ، رکوع جاتے وقت رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا کہیں ثابت نہیں ، نہ ان اماموں سے بحالتِ امامت افعالِ مذکور کا کرنا ثابت ہے ، اگر افعال مذکور جزو ایمان ہوتے جیسے یہ فرقے سمجھ رہے ہیں ،
حضور ان اپنے اماموں سے افعال مذکور کرنے کے لئے نہ اللہ عزوجل کا حکم ہے نہ اللہ کے رسول کاحکم ہے نہ رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے حالت اقتدا میں ان افعال کو کیا ہے ، نہ کسی صحابہ نے مقتدی ہو کر افعال مذکور کیا ہو ، اور حضور نے دیکھ کر خاموشی فرمائی ہو ، نی رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے ان افعال مذکور سنت کرکے نام رکھا ہے اگر آپ لوگ افعال مذکور کو سنت کہتے ہو نام رکھنے میں سنیوں کی تقلید کرتے ہو ،
یہ تمہارے ہاں کفر و شرک ہے ، پس تم لوگ افعالِ مذکور کسی کے حکم سے کرتے ہو ؟ پتہ چلتا ہے کہ شاید محمد بن عبد الوہاب صاحب نجدی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب شیخ محی الدین لاہوری سابق نام ہری چند بن دویوان چند کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ، یا نو مسلم صاحب ابو سعید بنارسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہو ؟
اغلب یہ ہے کہ مدیر معزز محمد صاحب جوناگڈھی کی اتباع و تقلید واقتدار کرتے ہو ، اس لئے تم لوگ محمدی بھی کہلاتے ہو ، جس میں نسبت محمد صاحب جو نا گذگی کی طرف ہے ، اس نے بھی تم کو محمدی بھائیو یعنی میرے بھائیو کر کے خطاب کیاہے ، یا محمد بن عبدالوہاب کی طرف نسبت ہوگی ، بنگلور اور لشکر میں ایک انجمن احمدی غلام احمد قادیانی کے پیروؤں کی تھی ، دوسری انجمن محمدی محمد صاحب جو ناگڈھی کے پیروؤں کی تھی ، ا ب معلوم نہیں ہے یا نہیں ، اللہ عزوجل نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم نے علماء مجتہدین و محققین کی اتباع اور تقلیدہ اقتدا کا حکم دیا ہے ، سب وہ صحابہ رضی اللہ عنہ ، سب وہ تابعین اور سب وہ تبع تابعین اور بے شمار فقہاء اور

محدثین جو درجۂ اجتہاد کو نہ پہنچے تھے اور کروڑوں عوام اس حکم کی تعمیل کرچکے ہیں ، اللہ عزوجل نے تقلید کا اطلاق اپنے نبی علیہ السلام کے اوپر کہیں نہیں فرمایا ، نہ علماء کی اصطلاع میں مجتہدین کے واسطے اس لفظ کا اطلاق کہیں آیا ہو ،
ہم اس لفظ کا اطلاق پر نہیں کرتے ، اور ہم ہر ایک کے مرتبے کا لحاظ کرتے ہیں ، گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی ست اور ہزاروں علماء و فقہا ومحدثین و بے حساب عوام الناس اس حکم کی تعمیل کر رہے ہیں ، اور کرتے رہیں گے ، تم تو اس کو کفر و شرک کہتے ہو ، جو لوگ کم درجہ کے طالب علموں کی صف میں ہیں ،
جیسے ہم نے تمہارے چند بزرگوں کے نام اوپر گنوائے ہیں ، ان کی اتباع تقلید واقتدا تمہارے نزدیک بطریق اولیٰ کفر و شرک ہوگی خیر تم تو آزاد ، خود مختار و خود روہو ، جدھر جانا چاہتے ہو چلے جا سکتے ہو ، جس کوئیں میں کودنا چاہتے ہو کود سکتے ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم سے ان چند نمازوں میںجو بحالتِ اقتدا ادا فرمائی ہیں ، سورئہ فاتحہ کا پڑھنا خلف امام ہرگز کہیں ثابت نہیں ، تم تو کہتے ہو جس نے امام کے پیچھے سورئہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز صحیح نہیں ، یہ بتلاؤ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی یہ نمازیں تمہارے نزدیک صحیح ہوگئے یانہیں ؟ ذرا غور کرو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ اٰلہ وسلم کی نمازیں میں، تم تو دلبر و جرأت والے ہو، کوئی جرأت نہ کر بیٹھو ۔






سوال وجواب

سوال وجواب


سوال :۔  حضرت امام اعظم رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا ، اُتر کو اقولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو آپ مانتے ہیں یا نہیں ؟

جواب :۔  یہ قول امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے کس کتاب میں ہے ؟ اس قول کے مخاطب کون تھے ؟ آیا کہ وہ اس زمانے کے بے علم اہلِ حدیث یعنی وہابیہ کی طرح تھے یامجتہد فی المذہب تھے ، آپ جیسے بے علم اس قول کے مخاطب نہیں اس مقولے سے ثابت ہوتا ہے کہ امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے سب مسائل کے ماخذ حدیث صحیح تھے ، اسی واسطے آپ نے اپنے شاگردوں کو فرمایا ،اگر صرف میرا ہی قول رہے اس کو حدیث رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے مقابلہ میں چھوڑ دو میرے اقوال کی اصل حدیث صحیح ہیں پھر اس کو چھوڑنے کا کیا معنیٰ؟

آپ قرآن و حدیث سے ثابت کر دیجئے ، غیر مجتہد کو مجتہد کے فتویٰ کو رد کرنا جائز ہے ۔

سوال :۔  مذہب اہل حدیث ( وہابیہ ) غیر ناجی ہونے پر حضرت امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کا حکم یا مستند فتویٰ پیش کریں ۔

جواب :۔  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا بڑی جماعت کی اتباع و تقلید کرو ، جس نے بڑی جماعت کو چھوڑ دیا وہ جہنم میں گر گیا ، بڑی جماعت سے مراد جس میں بڑے بڑے علماء ، بڑے بڑے فقہاء اور بڑے بڑے محدثین گذرے ہیں وہ سب انہی چار یعنی حنفی یا مالکی یا شافعی یا حنبلی مذہب کے مقلد اور پیروتھے ، اس بڑی جماعت کو اللہ پاک نے سبیل المومنین نام رکھا ہے ، نواب حسن بھوپالی کا جب مولیٰنا عبد الحی صاحب لکھنوی نے ناطقہ بند کردیا تو مجبور ہوکر ان کو

اقرار کرنا پڑا کہ اصحاب صحاح


ستہ انہی چار مذہب میںسے کسی نہ کسی مذہب کے مقلد و پیرو ضرور تھے ، اب اس زمانے کے اہل حدیث یعنی وہابیہ بڑی جماعت یعنی سنت جماعت سے خارج جہنمی ہیں ، ہم باربار سمجھا چکے ، غور سے پڑھو ، ضد کرنا چھوڑ دو کیونکہ یہ خصلت یہودیوں کی ہے ، ہم نے وہابیہ کو جہنمی نہیں بنایا بلکہ اللہ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو جہنمی بنایا ہے ۔




ترمذی شریف :۔


  فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کہ سچا اور امانت دار سوداگر انبیا اور صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوں گے ۔

احیاء العلوم :۔  فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے تجارت ضرور کرو کیونکہ اس میں رزق کا 9/10حصہ ہے ۔


مزاروں پر میلے عرس رچانے اور گانے بجانے ، نذریں چڑھانے اور نیازیں کرنے
کے متعلق

مزاروں پر میلے عرس رچانے اور گانے بجانے ، نذریں چڑھانے اور نیازیں کرنے کے متعلق



سوال :۔  مزاروں پر میلے عرس رچانے اور گانے بجانے ، نذریں چڑھانے اور نیازیں کرنے کے متعلق ائمہ اربعہ میں سے کم از کم کسی ایک امام کا بھی مستند قول ہے تو تحریر فرمایئے ؟


جواب :۔  تفسیر در منشور ، تفسیر کبیر میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہر سال کے بعد شہداء احد کے قبروں کی زیارت کے لئے جاتے تھے اور آپ کے بعد خلفاء اربعہ بھی جاتے تھے ، اسی کا نام ہے عرس ، عرس بھی ہر سال کے بعد کسی بزرگ یا ولی کے قبر کی زیارت کے لئے ہوتاہے ، یا صرف ایصال ثواب کے لئے ہوتا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے : قبروں کی زیارت کرو تاکہ تم کو موت یاد آجائے ، تم عمل صالحہ کرو عرس میں بھی قبروں کی زیارت ہوتی ہے اور ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تعمیل بھی قبروں کی زیارت کرنا سنت ہے ۔

نذر بفتح نؔ اس کے چار معنیٰ ہے ، نیاز بروزن حجاز ، بکسرنؔ اس کے تین معنیٰ ہے ، لغت میں دیکھو ، ان دونوں کا ایک معنیٰ تحفہ اور ہدیہ ہے ، یہ سلف سے خلف تک قبول کرتے آئے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ

واٰلہ وسلم خود اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بھی قبول کرتے آئے ، بزرگان دین اور حاکم وقت بھی اس کو قبول کرتے آئے گذرے ہوئے بزرگوں کے ایصال ثواب اور فاتحہ اس کو بھی نذر و نیاز کہتے ہیں ایصال ثواب سنت جماعت کے نزدیک ثابت ہے ، چنانچہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم میری ماں کا انتقال ہواہے ، ان کے لئے کیا صدقہ نیک کروں ؟ فرمایا: الماء ، یعنی پانی پھر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے ایک کنواں کھدوایا ، فرمایا : ھذا بیوالام ، یہ سعد رضی اللہ عنہ کے ماں کے لئے ، مدینہ میں یہ کنواں زمانے تک مشہور تھا دیکھو اس پانی پر نام ہوا غیر اللہ کا ، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں جن لوگوں نے اس کنویں کا پانی پیا کیا تمہارے نزدیک مسلمان ہیں یا نہیں ؟ تمہارے نزدیک جو غیراللہ کھائے وہ حرام کھانے والا کافر ہے ، العیاذ باللہ تمہارے نزدیک یہ سب صحابی کافر ٹھہرے ۔

جب یہاں نص موجود ہے تو دوسروں کے قول کی کیا ضرورت ہے ؟ چنانچہ ہم نے اوپر لکھا ہے کہ آپ پر لازم اور واجب ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت کریں ، عرس کرنا جائز ہے ، اپنی طرف سے کسی چیز کو ناجائز کہنا ہرگز جائز نہیں اور ناجائز کرنا کسی چیز کو یہ کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ہے ، جس نے اپنی طرف سے کسی چیز کو ناجائز کیا اس نے الوہیت اور نبوت میں اپنے آپ کو شریک کیا ، گویا وہ العیاذ باللہ خداجیسا یا نبی جیسا ہوا ، لہٰذا ہر مسلمان کو لازم اور واجب ہے کہ اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام ناجائز نہ کہے ، حرام کرنے کے لئے دلیل قطعی کی ضرورت ہے ، مباح اور جائز کے لئے دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ اصل شئے میں اباحت جواز ہے ۔

فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آخری زمانے میں دجال و کذاب تمہارے پاس ایسی حدیثیں لے کر آئیں گے جونہ تم نے سنی ہوگی نہ تمہارے باپ دادا نے سنی ہوگی ، بچاؤ تم اپنے آپ کو ان سے اور ان کو بچاؤ اپنے آپ سے تاکہ تم کو گمراہ نہ کریں گے اور فتنہ و فساد میں نہ ڈالیںگے یعنی ان کو تم اپنے پاس آنے نہ دو نہ تم ان کے پاس جاؤ اسی واسطے وہابیہ کو مسجد سے نکالا جاتا ہے ، اجماع ہوا امت کا انہی چار مذہبوں پر ، اس کے واسطے جتنے فرقے ہیں خراہ و اہلِ قرآن یعنی چکڑالوی یا اہل حدیث یعنی

وہابیہ یہ سب فرقے جہنمی اور ناری ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ترہتّر (73) فرقے ہوجائیں گے اس میں سے ایک ہی فرقہ جنتی ہوگا ، باقی تمام جہنمی ، یہ جنتی فرقہ ہے جس کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں جو ان چار مذہبوں پر منحصر ہیں باقی سب کے سب ناری ہیں ، جس کے اندر وہابیہ تمام بھی آگئے اگر وہابیہ بہتر سمجھیں تو اپنے عقائد فاسدہ سے تائب ہوکر ناریوں سے نکل کر جنتیوں کے ساتھ مدغم ہوجائیں وہابیہ کے لئے بہتر ہوگا ، آئندہ وہابیہ کو اختیار ہے

سوال جواب

سوال جواب


( نوٹ ، دس سوال سرسی کے وہابیہ کی طرف سے کئے گئے تھے ، 3کے جوابات شمارہ نمبر 1، 3کے شمارہ نمبر 5 باقی شمارہ نمبر 6 کے ذریعہ سنی حنفیوں کے طرف سے دئے گئے )




تہمید جواب

ائمہ اربعہ کے نزدیک چار اصول ہیں ، جو مسئلہ صریح نص سے ثابت ہو اس میں نہ اجتہاد کی ضرورت ہے نہ فتویٰ کی حاجت اس کو آپ اچھی طرح ذہن میں رکھیں جو حکم نص صریح سے ثابت ہیں اس میں یہ نہ دریافت کریں کہ اس میں ائمہ اربعہ کا کیا فتویٰ ہے ۔

سوال :۔  چار مذہب میں سے کسی ایک کی تقلید کرنے اور تین کو چھوڑنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا حکم یا کسی امام کا قول پیش کریں ؟

جواب :۔  اس کاجواب شمارہ رنمبر 5 صفحہ 7، سوال ، چار مذہب قائم ۔۔۔۔ تحریر فرمایئے ؟ کے جواب میں بھی درج ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے ، میں جانتا نہیں میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، تم میرے بعد ان دونوں یعنی ابوبکر صدیق ، اور عمر فارو ق رضی اللہ عنہما کی اتباع اور تقلید کرو یعنی جب تک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کرے اور ان کے ہرامر میں ان کی اتباع اور تقلید کرو، یہی تقلید شخصی ہے ، حالانکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ موجود تھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید کرنا ضروری تھا،یہ تعین خود حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے، یہی تقلید شخصی بھی ہے ، ان کا مذہب مدون نہ تھا ، اس لئے ان کی طرف کسی آدمی کی نسبت نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلمکا ارشاد ہے کہ اگر کوئی مجتہد اپنے اجتہاد سے حکم دے پھر اس میں ثواب کو پہنچے تو اس کو دو ثواب ملتے ہیں ، اگر اس میں خطا کرے پھر بھی اس میں ایک ثواب ملتاہے ، اگر آپ جیسے بت علم اجتہاد کریں پھر اس میں کو پہنچیں تو اللہ پاک آپ جیسے لوگوں کو ثواب نہیں لکھتا ، اگر اس میں غلطی کریں ، تو آپ جیسے لوگوں کے لئے ٹھکانہ جہنم ہے ، یہ حدیث شریف مستدرک حاکم اور مسند ابن حبان میں موجود ہے ۔

جولوگ ان طار مذہب کی تقلید کرتے ہیں یہ سب کے سب حق پر ہیں ، ثواب ہی پاتے ہیں ،


جب کہ ایک حق پر چلنے سے تمام دین و دنیا ان کو اسی میں حاصل ہیں تو دوسرے حق کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر اس حق کو چھوڑ کر اُدھر گیا یہ تحصیل حاصل جو محال ہے پھر بھی ہم پوچھتے ہیں اس پہلے حق کو کیا سمجھا ؟ اگر اس پہلے حق کو العیاذ باللہ باطل سمجھا تو اسلام سے خارج ہوا ، اگر اس کو بھی حق سمجھتا ہے تو ادھر جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ کبھی یہ کرتا ، کبھی وہ کرتا ، یہ مذہب میں کھیل اور مذہب کی توہین اور ازتہزا ہے جو حرام اور کفر ہے ، تلفیق فی المذہب بھی حرام ہے ، لہٰذا جو کوئی ان چار مذہب میں سے کسی ایک پر چلتا ہو اس کو اس میں نجات ہے ، ورنہ گمراہ ہوجائے ، جیسے آج کل کے جاہل اہل حدیثوں یعنی وہابیہ نے تلقید ائمہ اربعہ کو کفر شرک کہکر چھوڑ دیا ، یہ تقلید چھوڑنے سے ان کو آزادی ملی کوئی ان میں سے چکڑالوی اہل قرآن ہوا ، اس نے جب حدیثوں میں اختلاف دیکھا تو سب حدیثوں کا منکر ہوا ، وہ بھی اجتہاد کرنے لگا ، پانچ وقت کی نمازوں کو تین ہی وقت قرار دیا مہینے بھر روزوں کو تین روزہ یا دس روزہ قرار دیا ، جنازہ کی نماز کو انکار کر دیا ، اس نے اہل حدیث یعنی وہابیہ کو کافر مشرک فی لالوھیت کہا ، انہی اہل حدیثوں میں سے اور ایک جماعت بنی جن کو نیچری کہتے ہیں ، انہوں نے فرشتوں اور جنوں کو انکار کیا ، یہاں تک کہ جنت دوزخ کو بھی انکار کیا ، کیونکہ ان کے نزدیک یہ قاعدہ ہے کہ جو چیز نظر آئے اس کا وجود نہیں ، انہی اہل حدیثوں میں اور ایک جماعت پیدا ہوگئی جس کا پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ، جب اس نے دیکھا اس زمانے کے اہل حدیث ، اہل قرآن اور نیچری ایک دوسرے پر کفر شرک کا فتویٰ دے رہے ہیں تو وہ نبی بن کر بیٹھا ، اس نے ان تینوں کو اپنی امت قرار دیا اس پر ٹیجا پنجا فرشتہ وحی نازل کرتا رہا ۔

اس زمانے کے اہل حدیثوں نے ائمہ اربعہ کے اوپر افترا باندھا کہ انہوں نے اجتہاد میں غلطی کی ، ہم ان سے اچھا اجتہاد کرتے ہیں ، چنانچہ ان کے مجتہد اجتہاد کرنے لگے ، اللہ پاک لحم خنزیر یعنی سور کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے اس زمانے کے مجتہد اہل حدیثوں نے سور کی چربی ، سور کی اوجڑی ، سور کے گردے اور سور کے گوشت کے سوا باقی سب اہل حدیثوں کے لئے حلال و پاک قرار دیا ، اللہ پاک ماں اور بیٹی کی حرمت بیان فرمائی یعنی ان کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ، اس زمانے کے اہل حدیثوں



نے اجتہاد کیا ، نانی ، دادی ، نواسی ، پوتی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے ، کیونکہ ان کی حرمت قرآن مجید میں مذکور نہیں ، دیکھو تصنیفاب نواب حسین بھوپالی ، تفسیر ثنائی اور ان کے مجتہدوں نے سب جانوروں کا براز ، کتے، بلی ، گدھے ، گھوڑے کا گوہ اپنے اہل حدیثوں کے لئے پاک کر دیا،کیونکہ ان کی نجاست قرآن میں ثابت نہیں ۔

قرآن و حدیث سے ثابت کر کے بتاؤ، سور کی چربی وغیرہ نانی، دادی کا نکاح ، سب جانوروں کا گوہ وغیرہ پاک ہے، آپ لوگوں نے اور اپنے مجتہدوں نے دنیامیں فساد قائم کرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں کیا، اللہ پاک فرماتا ہے ، اصلاہونے کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اور اللہ پاک فرماتاہے زمین میں فساد پھیلانے والے کے لئے لعنت جہنم اور برا ٹھکانا ہے ، تم لوگ دھوکے دے کر بے علموں کو بہکا کر ان سے کہتے ہو ہم تمہاری اصلاح کرتے ہیں ، در حقیقت تم ان کو گمراہ کرتے ہو ۔

صلاح کار کجا ایں مضد دین کجا

ببیں تفاوت راہ زکجاست تا بکجا


(بقیہ آئندہ(


عقائد

عقائد



عقائد



ازاعلیٰ حضرت شمس العلما سید مقبول احمدشاہ قادری کشمیری رضی اللہ عنہ




سب
اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے خصوصاً نماز،روزہ وغیر کااگر ایمان نہیں تو
نمازرزہ بیکارہے۔  اسے کہتے ہیں کہ اگرسچے دل سے ان باتوں کی تصدیق کرے
جوضروریات دین میں سے ہیں۔اوراگرکسی ایک ضروریات دین کے انکار کرنے
کوکفرکہتے ہیں۔


اگرچہ
باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتاہو ضروریات دین ومسائل ہیں جن کو ہرخاص
وعام جانتاہو۔جیساکہ اللہ عزوجل کی وحدانیت ،انبیاکی نبوت، جنت
ونار،حشرونشروغیرہ مثلاًیہ اعتقاد کہ حضورﷺخاتم النبین ہیں۔ عوام سے مراد
وہ مسلمان ہیں۔جوطبقہ علمامیں نہ شریک کئے جاتے ہوں۔مگرعلماکی صحبت سے
شرفیاب ہوں۔مسائل علمی سے ذوق رکھتے ہوں۔نہ وہ جنگل اورپہاڑوں کے رہنے والے
ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے ایسے  مسلمانوں کے لئے یہ بات ضروری
ہے کہ ضروریات دین کے منکرنہ ہوں اوریہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں
جوکچھ ہے حق ہے۔ان پراعمالِ بدن اصلاً جزوایمان نہیں ہے۔مسلمان ہونے کے لئے
یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیزکاانکارنہ کرے جوضروریات دین ہے



اگرچہ باقی باتوں کواقرارکرتاہو۔اگرچہ وہ یہ کہے کہ یہ صرف زبان سے انکارہے
دل سے نہیں۔کہ بلااکراح شرعی مسلمان کلمۂ کفرصادرنہیں کرسکتا۔وہی شخص
ایسی بات منہ پرلائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وقعت ہے کہ جب چاہاانکارکردیا
۔ ایمان توایسی تصدیق ہے جس کے خلاف اصلاً گنجائش نہیں۔
اعتقاد
کے متعلق چندمسائل مختصراً لکھ دینا مناسب معلوم ہوتاہے۔وہ مندرجہ ذیل
ہیں۔ہرسنی مسلمان کولام ہے ان کوحفظ کرے خواہ مردہو یاعورت۔

عقیدہ1۔اللہ
ایک ہے کوئی اس کاشریک نہیں۔ نہ ذات میں نہ صفات میں،۔نہ افعال میں نہ
احکا م میں نہ اسماع میں۔عدم محال، قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے ازلی کےبھی
یہی معنی ہیں۔ہمیشہ رہے گا ابدی بھی کہتے ہیں۔وہی اس کامستحق ہے کہ اس کی
عبادت اورپرستش کی جائے۔عقیدہ۔ وہ بے پردہ ہے کسی کامحتاج نہیں۔تمام عالم
اس کامحتاج ہے۔عقیدہ۔اس کی صفتیں نہ عین ہیں نہ غیر۔یعنی صفات اسی ذات
کانام ہو۔ایسانہیں اورنہ اس سے کسی طرح وجود میں جدا ہوسکیں۔کہ نفس ذات
کامقتضیٰ ہواورعین ذات کولازم ہے۔عقیدہ۔جس طرح سے اس کی ذت قدیم  ازلی،ابدی
ہے۔صفات بھی قدیم ،ازلی ابدی ہیں۔عقیدہ۔اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا
ساراجہاں حادث ہے یعنی پلے نہ تھا پھرموجودہوا۔عقیدہ۔صفاتِ الٰہی کوجومخلوق
کہے یاحادث بتائے وہ گمراہ اوربددین ہے۔عقیدہ جوعالم میں کسی شئے کوقدیم
مانے یااس کی حدوث میں شک کرے کافرہے۔عقیدہ۔وہ ہرکمال وخوبی کاجامع ہے
اورہراس چیزسے جس میں عیب ونقصان ہے پاک ہے۔عقیدہ۔جس بات میں کمال نہ ہووہ
بھی اس کے لئے محال ہے۔مثلاًجھوٹ،دغا،خیانت،ظلم،جہل وغیرہ عیوب سے منزہ
ہے۔مثلاً یہ کہناکہ جھوٹ پرقدرت ہے بایں معنیٰ کہ وہ جھوٹ بول سکتاہے محال
کوممکن ٹھہرانا اورخداکوعیبی بنانابلکہ خداسےانکارکرناہے اور سمجھنا ہ محال
پرقادر نہ ہوگاتوقدرت ناقص ہوجائے گی۔باطل محض کہ اس میںقدرت کاکیا
نقصان؟  نقصان تو  اس محال کاہے کہ تعلق قدرت کی اس میں صلاحیت نہیں۔عقیدہ۔
حیات،قدرت،سننا،دیکھنا،کلام،علم،ارادہ اس کے صفات ذاتیہ ہیں۔مگرکان
،آنکھ، زبان سے اس کاسننا دیکھنا کلام کرنانہیں کہ یہ اجسام ہیں۔اجسام سے
وہ پاک ہے۔عقیدہ ۔مثل صفات کے کلام بھی قدیم ہے۔حادث مخلوق نہیں۔جوقرآن
عظیم کومخلوق بتائے۔ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ اوردیگرائمہ رضی اللہ
عنہم نے انہیں کافرکہابلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی اس کی تکفیرثابت
ہے۔عقیدہ۔ اس کاکلام آوازسے پاک ہے۔یہ قرآن عظیم جس کی 





تلاوت
کرتے ہیں،جومصاحف میں لکھتے ہیں۔اس کاکلام قدیم بلاصوت ہے۔یہ ہمارا
پڑھنالکھنا اوریہ آوازحادث یعنی ہماراپڑھناحادث اورجوہم نےپڑھا قدیم،
اورہمارالکھنا حادث اورجو لکھاقدیم اورہماراسننا حدث اورسنا قدیم،
عقیدہ۔غیب الشہادت سب کوجانتاہے علم ذاتی اس کاخاصہ ہے۔جوشخص علم ذاتی ،غیب
خواہ شہادت کاغیرخدا کے لئے ثابت کرے کافرہے ۔علم ذاتی یہ ہے کہ بے دیئے
خودحاصل ہو۔

عقیدہ۔ہربھلائی
اوربرئی اس نے اپنے علم ازلی کے موافق مقدرفرمادی ہے ۔جیساہونے والاتھا
اورجیسا کرنے والے تھے اپنے علم سے جانا اوروہی لکھ لیاتویہ نہیں کہ جیسااس
نے لکھ دیا


ویساہم کوکرناپڑتابلکہ جیساہم کرنے والے تھے۔ویسااس نے لکھ دیا۔زیدکے ذمہ
برائی لکھی۔اس لئے زیدبرائی کرنے والاتھا۔گرزیدبھلائی کرنے والا ہوتاتووہ
اس کے لئے بھلائی لکھتا۔اس کے علم یااس کے لکھ دینے سے کسی کومجبور نہیں
کردیا۔تقدیرکاانکارکرنے والوں کونبی کریمﷺ نے اس امت کامجوس
بتلایا۔عقیدہ۔قضاتین قسم پرہے۔مبرم حقیقی، علم الہٰی میں کسی شئے پر معلق
نہیں۔اورمعلق محض صحف ملائکہ میں کسی شئے پراس کا معلق ہونا
ظاہرفرمادیاگیااورمعلق شبیہ بمبرم صحف ملائکہ میں اس کی تعلیق مذکور نہیں
وہ علم الہٰی میں تعلیق ہے۔وہ جو مبرم حقیقی ہے اس کی تبدیلی ناممکن
ہے۔باقی دوقسموں کی تبدیلی ممکن ہے۔اس مبرم حقیقی کے متعلق نبی کریم ﷺ نے
ارشادفرمایا’’ان الدعا یردالقضا وباہ ماابرم ۔بیشک دعاقضامبرم کوٹال دیتی
ہے۔‘‘
 اسی
قضامبرم غیرحقیقی کے متعلق حضرت سیدناغوث الاعظم فرماتے ہیں۔’’میں قضائے
مبرم کورد کردیتاہوں‘‘اورجوقضامعلق ہے اس تک اکثراولیا کرام کی رسائی ہوتی
ہے۔ان کی دعا سے ان کی ہمت سے ٹل جاتی ہے۔






عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular