Showing posts with label علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی. Show all posts
Showing posts with label علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی. Show all posts
خاطرمدارات اور واعظ نافع کی صفات

خاطرمدارات اور واعظ نافع کی صفات


خاطرمدارات اور واعظ نافع کی صفات


پسرعزیز!  لوگوں کی بہترین خاطر و مدارات کرنا،مگر ان سے دور رہنے کی پوری پوری کوشش کرنا،کیوں کہ عزلت نشینی برے دوستوں کی صحبت کے مقابلے میں راحت رساں ہوتی ہے اور اس سے تمہارا وقار لوگوں کی نگاہوں میں بحال رہتا ہے۔
ایک واعظ کے لیے بطورِ خاص یہ ضروری ہے کہ وہ فضول گو نہ ہو،لوگوں کے سامنے نازیبا حرکت نہ کرے، بازاروں کے چکر نہ لگائے،اور زیادہ نہ ہنسا کرے۔ تاکہ اس کے ساتھ حسن ظن قائم رہے اور لوگ اس کی بابت اچھا گمان رکھیں،  اس طرح اس کا وعظ و بیان اُن کے قلب و باطن کی گہرائی میں اُترسکے گا۔
ہاں اگر کسی خاص ضرورت کے پیش نظر لوگوں میں جانا پڑ جائے تو حلم کو اپنا امام بناؤ اور بردباری کے ساتھ ان سے پیش آؤ،کیوں کہ اگر تمہیں ان کا اخلاق و کردار معلوم ہو جائے تو تم ان کی خاطرخواہ آؤ بھگت نہ کرسکوگے۔
حقوق کی اَدائیگی اور معاملات کی رعایت
عزیز از جان!  بیوی و بچے اور اہل قرابت میں جس کے جو حقوق بنتے ہوں ان کی اَدائیگی میں کسی تساہلی سے کام نہ لینا۔اور اپنے لمحات اور گھڑیوں کامحاسبہ کرتے رہنا کہ وہ کس کام میں صرف ہو رہی ہیں۔بھرپور کوشش کرنا کہ وہ اچھے اور قابل تعریف کاموں میں گزریں۔ اپنے نفس کو آزاد نہ چھوڑ دو،بلکہ اسے کارِ خیر اور نیکیوں پراُکساتے رہو،اور اپنی قبر کی کوٹھری میں آسودہ حال رہنے کے لیے جوبن پڑے آگے بھیج دو،تاکہ وہاں پہنچ کر آرام وسکون پاؤ۔بزبانِ شاعر  :
                        يا من بدنياه  انشَغَل
                        يا من غَرَّه طُول الامَل
                                                                                                المَوتُ يَاتي بَغتَةً
                                                                                                وَالقبرُ صُندوقُ العمَل
            یعنی اے وہ شخص! جو دنیا میں پورے طور پر مشغول و منہمک ہے اور لمبی لمبی اُمیدوں نے دھوکے کے جال میں پھنسارکھاہے۔
یاد رہے کہ موت ہمیشہ اچانک آتی ہے، اور قبر عمل کا صندوق ہے،(لہٰذا دیکھ لو کہ اپنے صندوق میں کیا کچھ بھیج رہے ہو)۔
ہمیشہ معاملات کے انجام کو دیکھو، ایسی صورت میں پسند وناپسند چیز پر صبر کرنا تمہیں آسان ہو گا۔جب نفس غفلت کیشی شروع کر دے اور نیکیوں میں دلچسپی لینا چھوڑ دے تو گورِ گریباں کی سیرکوچلے جایا کرو، اور اسے اپنے سانحہ موت کی یاد دہانی کراتے رہو۔
اصل مدبر حقیقی تو پروردگار ہے تاہم جب کوئی معاملہ درپیش ہو تو تدبیر کر کیا کرو کہ کہیں تمہارے اِنفاق میں اِسراف کی آمیزش تو نہیں ہے، تاکہ لوگوں کا محتاج نہ بننا پڑے،کیوں کہ ہمارا دین‘ مال کی حفاظت کاسبق بھی دیتا ہے۔ اپنے وارثوں کو محتاج بنانے سے بہتر ہے کہ اپنے بعد ان کے لیے کچھ چھوڑ جاؤ۔


(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
حفظ و صدق کی اہمیت

حفظ و صدق کی اہمیت


حفظ و صدق کی اہمیت


راحت دل و جاں ! تجھے پتا ہو گا کہ میں نے کوئی سوکتابیں تصنیف کی ہیں،  ان میں سے کچھ تو بہت ضخیم ہیں جیسے بیس جلدوں پر مشتمل ’’تفسیرکبیر‘‘۔بیس جلدوں میں ’’تاریخ‘‘ یوں ہی بیس جلدوں میں پھیلی ’’تہذیب المسند‘‘ اور کچھ کتابیں پانچ جلدوں کی ہیں،  کچھ چار کی،  کچھ تین کی اور کچھ دو کی یوں ہی کم و بیش۔
تمہارے باپ کا یہ ورثۂ  تصنیف تمہیں از خود کتابیں لکھنے یا کتابیں خریدنے اور  دوسروں سے عاریۃً لینے سے بے نیاز کر دے گا،لہٰذا اِن کتابوں کی حفاظت کے ساتھ انھیں اپنے قلب و باطن میں جگہ دو،کیوں کہ جو بچ جاتا ہے وہی اصل مال ہوتا ہے، اور خرچ کرنے سے نفع ہوتا ہے۔اور اللہ کے کرم پر اعتماد کر کے ان دونوں حالتوں میں صدق کا دامن ہاتھ میں تھامے رہنااوراس کے حدود و حقوق کا خیال رکھنا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  :
إنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ(سورۂ  محمد: ۴۷؍۷)
اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا۔
فَاذْکُرُونِي أذْکُرْکُمْ (سورۂ  بقرہ:۲؍ ۱۵۲)
سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔
وَ أوفُوا بِعَہْدِيْ أُوفِ بِعَہْدِکُمْ (سورۂ  بقرہ: ۲؍۱۴۰)
اور تم میرے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کرو میں تمہارے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کروں گا۔



(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
علم و عمل کا باہمی رشتہ

علم و عمل کا باہمی رشتہ


علم و عمل کا باہمی رشتہ


بیٹے!  اپنے حوصلہ و ہمت کو بال و پر دے کر فضل و کمال کی فضاؤں میں مائل پرواز ہو جا۔دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جو زہد کے دروازے سے آگے نہیں بڑھنا چاہتے،اور کچھ لوگ تو( عمل سے بے پروا ہو کر)محض علم کے پیچھے پڑ گئے،مگر اس سے آگے کچھ عالی بخت وہ ہیں جنھوں نے علم کامل کے ساتھ عمل صالح کو بھی پروان چڑھایا۔
تیری معلومات کے لیے بتائے دیتا ہوں کہ مجھے تابعین اور اُن کے بعد کے لوگوں کی سیرت وسوانح پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے،لیکن چارنفوسِ قدسیہ سے بڑھ کر فضل و کمال کا حامل میں نے کسی کو نہ دیکھا : سعید بن مسیب (م۹۴ھ)، سفیان ثوری(م۲۶۱ھ)، حسن بصری(م۱۱۰ھ) اور احمد بن حنبل(م۲۴۱ھ)-علیہم الرحمۃ والرضوان- اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے عزم و اِرادے فولاد کی مانند تھے اور وہ صحیح معنوں میں مردِ میداں تھے،مگر وہ حوصلے اور ہمتیں اب ہم میں جواب دے گئیں۔
اسلافِ کرام میں ایسے بہت ہوئے ہیں جو عزم و ایقان کے دھنی تھے۔اگر تمہیں ان کے احوال و کوائف کی سچی جستجو ہو تو میری کتاب ’’صفۃ الصفوۃ‘‘ میں تلاش کر کو،ورنہ میں نے ’’اخبارِ سعید‘‘،اخبارِ سفیان‘‘ اور ’’اخبارِ احمد بن حنبل‘‘ کے نام سے الگ الگ کتابیں بھی مرتب کی ہیں وہاں سے شہدِ معلومات کشید کر کو۔




(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
خلوت نشینی اور علم

خلوت نشینی اور علم


خلوت نشینی اور علم


تنہائی و عزلت نشینی کو اپنے اوپر لازم کر کو،کیوں کہ اس سے خیر کے چشمے پھوٹتے  ہیں۔ برے اور بے فیض دوستوں کی صحبت سے کلیۃً اجتناب کرو،بہتر تو یہی ہے کہ کتابوں کواپنادوست،  اور اَسلافِ کرام کی سیرتوں کو اپنا آئیڈیل بناؤ۔ ایسے علم و فن کو اپنے گرد نہ بھٹکنے دو جس سے پہلوں کی عظمتوں پر آنچ آتی ہو، اور علم و عمل کو کارآمد بنانے میں اَرباب فضل و کمال کی سیرت و سوانح سے روشنی حاصل کرو،اس سے کم پر کبھی راضی نہ ہونا۔دیکھو کسی شاعر نے کیسے پتے کی بات کہی ہے  :
وَ لم ارَ في عُيوب الناس شيئًا
كنقص القادرين علَی التَّمَام
یعنی کام کو بحسن و خوبی انجام دینے پر قدرت رکھنے والوں کی کوتاہی کے مثل میں نے لوگوں میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔
پسر ارجمند!  اس بات کو دِل کی تختی پر  بٹھا لے کہ نورِ علم نے نہ معلوم کتنے بے نشانوں کے گھر روشن کر دیے ہیں۔ دنیائے تاریخ میں ایسے اَرباب علم کی ایک لمبی فہرست ہے جن کے حسب و نسب کا کوئی اَتاپتا نہیں اور حسن و جمال کی انھیں ہوا تک نہیں لگی،لیکن وہ قوم کے اِمام ہوئے۔ شاید تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عطا بن ابی رباح (م۱۱۴ھ) کتنے سیاہ فام اور مکروہ خلقت تھے!۔
ایک مرتبہ خلیفہ وقت سلیمان بن عبد الملک (م۹۹ھ) اپنے دو صاحبزادوں کے ساتھ ان کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو وہ ان سے دین کے مسائل پوچھنے لگے تو انھوں نے ان سے بات چیت توکی مگر اخیر وقت تک اپنا چہرہ اُن سے چھپائے رکھا۔ چنانچہ خلیفہ سلیمان کو اپنے بچوں سے کہنا پڑا: چلوا َب چلتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے طلب علم کا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ جائے۔ میں اس سیاہ فام غلام کے سامنے اپنی ذلت بھول نہیں سکتا۔
اور وقت کی عظیم و جلیل ہستی حضرت حسن بصری  ۱۱۰ھ)کون تھے؟ ایک غلام ہی تو۔ یوں ہی ابن سیرین (م۱۱۰ھ)،شیخ مکحول (م۱۱۲ھ) اور بہت سے دیگر اکابر،مگر انھیں جو عزت و وقار ملا اور لوگوں کے دل میں اُن کی عظمت  و محبت کی جو شمع فروزاں ہوئی تواس میں بس اُن کے علم و عمل اور تقویٰ و طہارت کا دخل تھا۔




(اپنے لختِ جگر کے لیے
مصنف ابن جوزی
مترجم علامہ محمدافروز القادری چریاکوٹی 
شب و روز کا تربیتی انداز

شب و روز کا تربیتی انداز

شب و روز کا تربیتی انداز


پیارے بیٹے ! طلوعِ فجر کے وقت جاگ جانے کی عادت ڈالو،وہ وقت بڑا گراں مایہ ہوتا ہے، لہٰذا اس وقت بطورِ خاص دنیا کی کوئی بات نہ کرنا،کیوں کہ سلف صالحین -رحمہم اللہ- کا یہ معمول تھا کہ وہ اُس وقت (اُمورِ دینیہ کے علاوہ) دنیا کے کسی معاملے کو زیر بحث نہیں لاتے تھے۔جب نیند سے بیدار ہو تو یہ دعا پڑھنا نہ بھولو :
الحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي أحْیَانَا بَعْدَ مَا أمَاتَنَا وَ إلَیْہِ النُّشُورُ(۱)،  الحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ یُمْسِکُ السَّمَا   َٔ أنْ تَقَعَ عَلَی الأرْضِ إلاَّ بِإذْنِہٖ إنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَؤوفٌ رَّحِیْمٌ  (۲)
یعنی تمام تعریفیں اللہ جل مجدہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں وادیِ موت میں اُتر جانے کے بعد دوبارہ زندگی بخشی اور انجام کاراسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ ہرقسم کی حمدوثنااس مالک الملک کے لیے زیبا ہے جو آسمان (یعنی خلائی و فضائی کروں ) کو زمین پر گرنے سے (ایک آفاقی نظام کے ذریعہ) تھامے ہوئے ہے مگراسی کے حکم سے (جب وہ چاہے گا آپس میں ٹکرا جائیں گے) بے شک اللہ تمام انسانوں کے ساتھ نہایت شفقت فرمانے والا بڑا مہربان ہے۔
پھر فطری ضرورتوں کی تکمیل کے بعد با طہارت ہو کر قلب و باطن کے پورے جھکاؤ کے ساتھ سنت فجر اَدا کرو پھر ادائے فرض کے لیے سراپااَدب بن کرمسجدپہنچو۔ ہوسکے توسرراہ یہ دعا پڑھ لو  :
اللهُمَّ إنِّي أسْئَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِيْنَ عَلَيْکَ وَبِحَقِّ مَمْشَايَ هٰذَا إنِّي لَمْ أَخْرُجْ أشَراً وَلاَ بَطَراً ولاَرِياءً وَلاَ سُمْعَةً خَرَجْتُ اِتِّقَاءَ سَخَطِکَ وَابْتِغَاءَ مَرَضَاتِکَ أسْئَلُکَ أنْ تُجِيْرَنِي مِنَ النَّارِ وَاَنْ تَغْفِرَلِي ذُنُوبِي إنَّه لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ اَنتَ. (۳)
_________________
(۱)       صحیح بخاری:۲۱؍۹۴حدیث:۶۳۱۲…صحیح مسلم:۱۷؍۳۵۰حدیث:۷۰۶۲…سنن ابوداؤد: ۱۴؍ ۴۰۳ حدیث:۵۰۵۱…سنن ترمذی:۱۲؍۳۳۵حدیث:۳۷۴۵…سنن ابن ماجہ:۱۱؍ ۴۹۳ حدیث:۴۰۱۳ …صحیح ابن حبان:۲۳؍ ۸۸حدیث:۵۶۲۳… سنن کبریٰ نسائی: ۶؍۱۹۲حدیث:۱۰۶۰۸…شعب الایمان بیہقی:۹؍۴۱۳ حدیث: ۴۲۱۳۔
(۲)      صحیح ابن حبان:۱۲؍۳۴۳ حدیث: ۵۵۳۳…مستدرک حاکم:۵؍۶۷حدیث:۱۹۶۹… جمع الجوامع سیوطی:۱؍۱۸۹۰حدیث:۱۵۵۳… سنن کبریٰ نسائی:۶؍۲۱۳ حدیث:۱۰۶۹۰۔
(۳)     سنن ابن ماجہ:۳؍۵۱حدیث: ۸۲۷… مسند احمدبن حنبل:۲۳؍۴۸۷حدیث: ۱۱۴۵۵۔
_________________
یعنی اے اللہ! تیری بارگاہ میں اُٹھے ہوئے منگتوں کے ہاتھوں اور تیرے گھر کی طرف اُٹھتے ہوئے قدموں کے تصدق میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرا یہ نکلنا تساہلی،  برائی اور دکھاوے کا نکلنا ثابت نہ ہو۔تیرے غضب سے ڈرتے ہوئے تیری رضا کی تلاش میں نکل آیا ہوں۔تجھ سے بس یہی التجا ہے کہ مجھے آتش جہنم سے آزاد فرما،میرے گناہوں کو غلط کر دے،کیوں کہ بلا شبہ وہ تو ہی ہے جو گناہوں کو معاف کر دیا کرتا ہے۔
مقدور بھر کوشش کیا کرو کہ امام کے دائیں طرف نماز پڑھنے کی سعادت نصیب ہو۔ نماز سے فارغ ہو کردس مرتبہ ’لاَ إلٰهَ إلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَشَرِيکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ هُوَ عَلٰی کُلِّ شَيئٍ قَدِيرٌ(۱)‘پڑھا کرو۔پھر دس مرتبہ ’’سبحان اللہ‘‘دس مرتبہ ’’الحمد للہ‘‘ اور دس مرتبہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، اور پھر اللہ تعالیٰ سے قبولیت نماز کی دعا مانگو۔ اگر دل جمے تو وہیں بیٹھ کر طلوعِ آفتاب بلکہ اس کے بلند ہونے تک ذِکر الٰہی میں مشغول رہو پھر(نمازِ اشراق کی) جتنی رکعتیں ہوسکیں اَدا کرو، آٹھ ہوں تو بہتر ہے۔
____________________
(۱)       صحیح بخاری:۲۱؍۲۴۵حدیث:۶۴۰۴… معجم کبیر طبرانی:۴؍۲۲۳حدیث:۳۹۱۶…جمع الجوامع سیوطی:۱؍۲۳۸۱۶حدیث: ۵۹۱۴۔
____________________

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular