Showing posts with label Tabsare. Show all posts
Showing posts with label Tabsare. Show all posts
رومانی امانتوں کے امین۔۔۔۔۔۔۔۔سورج کرناٹکی

رومانی امانتوں کے امین۔۔۔۔۔۔۔۔سورج کرناٹکی

رومانی امانتوں کے امین۔۔۔۔۔۔۔۔سورج کرناٹکی

ہری ہر  ضلع  داونگیرہ  کا ایک چھوٹا سا  سر سبز و شاداب مقام ہے اور آج اس مقام کی انفرا دیت یہ بھی ہے کہ یہ شعر و ادب کا ایک اچھا مرکز بن گیا ہے یہاں نہ صر ف اچھے لکھنے والے موجود ہیں بلکہ یہاں کے عوام میں ایک صحت مند ادبی ذوق  بیدار ہو چکا ہے ۔ 
ادب کی اس سر زمین سے ایک جو اں سال شاعر سورجؔ کر نا ٹکی اپنے پہلے شعر ی مجموعہ ’’ صبح اُمید‘‘کے ساتھ ادبی اُفق پر نمو دار ہو ا تھا ۔اب یہ نہایت ہی حوصلہ افزاء بات ہے کہ وہ پھر سے اپنے دوسرے مجموعہ کلا م ’’ ـــ کرشئمہ حیا ت ‘‘کو لیکر ایوان ادب میں داخل ہورہا ہے 
  نقاش نقش اول بہتر کشد زِ اوّل کے مصداق یہ مجموعہ اپنی معنوی اور صوری خوبیوں کے ساتھ منصہ شہود پر جلوہ گر ہونے والا ہے۔
 سورجؔ کے پہلے مجموعہ صبح اُمید کے مطالعہ سے میں نے یہ بخوبی اند ازہ لگا لیاہے کہ یہ چشمہ ایک دن ضرور ایک دریامیںتبدیل ہوجائے گا ۔دوسرے مجموعہ کا پورا کلام تو میرے پیشِ نظر نہیں ہے صرف چند غزلیں میرے مطالعہ میں ہیں اور گا ہے ماہے ریاستی اخبارات میں ان کی تخلیقات نظر سے گذرتی ہیں اور توجہ طلب ہوتی ہیں ۔  
 اُردو کے بیشتر شعر اء کی طرح سورج ؔنے اپنی شاعر ی کا آغاز غزل ہی سے کیا ہے ۔ جیسا کہ انہوں نے اپنے مجموعہ میں اس بات کا اظہا ر کیا ہے کہ غزل ان کی محبوب صنف ِ سخن ہے۔
سورج ؔکی شاعری کو پڑ ھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے ان کی شاعری میں ایک سچا اور حقیقی شاعر نشو نما پارہا ہے ۔ سورجؔ کر ناٹکی کو اُردو زبان پر اہلِ زبان کی سی قدرت ضرور حاصل ہے 
ہلکی پھلکی بحروں میں ان کا نرم لب و لہجہ بڑا ہی دلکش معلوم ہوتا ہے ۔ ان کی عمر اورمشق کے لحاظ سے ان کے کلام کو عروضی اور لسانی اعتبار سے جانچنامیرے خیال میں قبل از  بات ہوگی ۔
 جبکہ ہمارے یہاں دھڑا دھڑ جو مجموعے منظر عام پر آرہے ہیں اُن کے آئینے میں مشاق شعر اء 
کا کلا م بھی عیوب و اسقام سے ہر گزر پاک نہیں ہے ۔ 
سورجؔ کے چند اشعار نے تو بیک نظر میری توجہ کو جذب کر لیاہے اور ان کے کلام میں وہ خوبیا ں ضرور موجود ہیں جو اُردو غزل کی بہترین روایات 
کی مظہر ہیں اور سنجیدہ ترین اوصاف کی حامل ہیں ۔ اُن کے تازہ غزلیہ کلام میں چند ایسے اشعار قابلِ توجہ ہیںجن کو مُشتے از خر وارے کے طور پر پیش کر رہا ہوں ۔ جن سے اُن کے مزاج و آہنگ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
حوصلہ دِل کا ہر ایک گام بڑ ھانا ہو گا 
اِک  نیا  شہر  محبت  کا بسا نا ہو گا 
چاہتے  ہو یہا ں  پیغام ِمسّرت گونجے 
نفرت و یا س کی دیوار کو ڈھانا ہو گا
فلسفہ زندگی کا  اتنا  ہے
کام اوروں کے آنا مر جانا
کر کے وعدہ وفا ئوں کا سورجؔ
ہم کو آتا نہیں مکر جانا
زندگی کو سمجھ  لیا  ہم  نے 
شام کے ساتھ سائے ڈھلتے ہیں
یہ شعر واقعی بڑے خوبصورت ہیں ملاحظہ فرمایئے
حاد ثے ہر حسین چہروں کو 
اک پل میں بگاڑ دیتے ہیں
شر پرستی کے تیز تر  طوفاں 
بستیاں سب اُجاڑدیتے ہیں
میرے سینے میں بھی دل ہے مجھے احساس ہے اسکا 
محبت میں  مجھے  اوروں کو تڑپا نانہیںآتا
میں صابر ہوں ہمیشہ صبر سے ہی کام لیتا ہوں 
مجھے جذبا ت میں آکر بہک جانا نہیں آتا
 انتظار کی کیفیت کو بڑ ے سلیقہ سے پیش کیا ہے ۔ 
 ایک قیامت سی دل پے ڈھاتا ہے
وہ تیرے انتظار کا عالم 
خط کو ئی اُن کا آ گیا ہوتا      سانس راحت کی پاگئے ہوتے 
آپسی نفرتو ں سے شعلوں سے 
جل نہ جائے کہیں یہ گھر اپنا
  شعور کی نا پختگی کو صَرف ِ نظر کر کے دیکھا جا ئے تو سورجؔ کے یہ اشعار اُن کے خوش آئیند مستقبل کے ضامن ہیں ۔ زندگی کے حقائق کو ہلکے پھلکے انداز میں چھو ٹی چھوٹی بحروں میں سمونا سورجؔ کا کمال ہے ۔
ہر غزل میں زندگی کے اقدارکی عکاسی اور تجر بوں کا نچوڑ ملتا ہے ۔ ایک اچھے شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ روایت کا پاسدار بھی ہو اور جدید تقاضوں کا شعور بھی رکھتا ہو۔سورجؔ کے کلام میں ایسے بے شمار اشعار ملتے ہیں ۔
رہو ںگا کامیا ب اک دن وفاکی راہ میں سورجؔ       
مجھے ناکامیوں پر اشک بر سانا نہیںآتا
 ہم  سخن  کے  نا خدا  کہلا ئیں  گے
دیکھنا ، ایک  ایسا  دن  بھی  آئے گا
  یہ جُرّ اتِ گفتا ر کا اقرار اور عزم شاعرکی ذہنی سطح کی بلندی کا پتہ دیتی ہے  ۔
’’کرشئمہ حیا ت ‘‘میں شامل بیشتر کلا م سورج ؔ کرناٹکی کے تازہ رنگ ِ سخن کا آئینہ دار ہے۔میری رائے میں سورج ؔ کی شاعری میںایک نئے ارتقائی قدم کی چاپ سنائی دیتی ہے ۔یہ تازہ رنگ و نکھار آگے چل کر کس حد تک بار آور اور خود سورج ؔ کیلئے کتنا مبارک و مسعود ثابت ہوگا ۔ اسکے بارے میں کہنا مستقبل کے ادبی مورخ یا نقادکے ہاتھ سے قلم چھین لینے کے مترادف ہوگا ۔ میں سورجؔ کے روشن مستقبل کے لئے بدرگاہِ رب العزّت دُعا گوہوں اور اُمید کرتا ہوں کے قارئین ان گُہر ہا ئے بیش بہا سے ضرورفیضیاب ہوسکیں گے ۔   
دردمندراست گوشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظہیر رانی بنوری

دردمندراست گوشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظہیر رانی بنوری

دردمندراست گوشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظہیر رانی بنوری



جوبدزباں ہے کبھی خوش بیاں نہیں ہوتا
کہ اہل ظرف کبھی بدزباں نہیں ہوتا
                                                             (ظہیررانی بنوری)                                                  
شعرگوئی جزوقت مشغلہ نہیں اور جس نے اسے جزوقتی سمجھ کراپنایاہو۔اسے ترقی کے مدارج طئے کرنے میں بے حدوقت لگتاہے۔شعرگوئی قدرت کی جانب سے ایک تحفہ اور عطیہ ہے جوہرکس ناکس کومیسر نہیں آتا۔اس عطی? قدرت کومزید سیقل کرنے کے لئے کوشش پیہم اورمشق کی ضرورت ہوتی۔دراصل مشق و مسلسل مشق ایک ایسی ریاضت ہے جودنیاکے دوسرے مسائل سے بے نیاز رہنے پرمجبورکرتی ہے۔شعرگوئی بڑے حوصلہ اور عزم و ہمت کی خواہاں ہے۔اپنے ضروری مشاغل سے پہلوتہی کرکے لیلائے غزل کے گیسوئے خمدار سنوارنا قیس ہی کا مشغلہ ہے۔جذبات اوراحساسات کوخوبصرت اورموزوں ومناسب الفاظ کے لڑیوں میں پروناجوئے شیر کے مماثل ہے۔شاعرحقیقی معنوں میں اپنے قاری اورسامع سے یہ توقع کرتاہے کہ وہ تخلیق کی گہرا محسوس کیااسے بجاطور پر پیش کر کے اپنے قاری وسامع کوبھی اپنا شریکِ خیال بنانا چاہتاہے۔ 
ظہیررانی بنوری دوستوں کے دوست اوریاروں کے یارقسم کے انسان ہیں۔دوستوں پرجان چھڑکتے ہیں۔اوردامے درمے ان کی مدد کرنے کو ہمہ وقت تیاررہتے ہیں۔دنیامیں ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جودوسروں کی خاطر اپنانقصان تک کرلیتے ہیں۔دراصل یہ ان کی طبیعت کاخاصہ ہے۔پھرگھریلوترتیب کابھی اثرہے کہ جس سے ایک بار مل لئے پھر اس سے اسی خلوص سے ن کا وطیرہ ہے۔ان کی اس عادت وخصلت کااظہار ان کی شاعری میں بھی پایاجاتاہے۔مزاج کی سنجیدگی ،متانت اور بربادی ان کی رگ وپے میں رچی بسی ہوئی ہے۔خلوص ان کااوڑھنابچھونا ہے۔اس عہدمیں ایسے لوگ کم بلکہ عنقاہوتے جارہے ہیں۔بغیر کسی منفعت اور فائدہ کی امید کے وہ اپنے ہرملنے والے سے بڑی محبت سے ملتے ہیں۔اور ان کی عزت وتکریم کاخیال رکھتے ہیں۔
وطن کی محبت ان کے جسم میں خون کی مانند دوڑتی پھرتی ہیں۔یہ سرزمینِ 

ہند کوجنت ارضی دیکھناچاہتے ہیں۔اوریہی سبب ہے کہ مجموعہ قطعات میں ہندوستان کے حوالے سے اور موجودہ دورِ ظلم و فرقہ پرستی پر پیشتر قطعات قلمبند فرمائے ہیں۔جس کاایک قطعہ ان کے شاعر ہونے کی سند فراہم کرتاہے۔
بگڑاہوامالی کا چلن دیکھ رہاہوں
ہونے کوہے برباد چمن دیکھ رہاہوں
ہرسمت تشدد ہے فسادات مچے ہیں
خطروں سے گھرامیراوطن دیکھ رہاہوں
ظہیررانی بنوری بڑے حوصلے اور عزم وہمت کے انساں ہیں۔اپنی گوناگوں مشغلیات اور موجودہ خرابء صحت کے باوجود شعروغزل سے رشتہ استوارکئے ہوئے ہیں۔حمد،نعت قطعہ۔نظم ،ہائیکوماہیے،آزاد نظم،قومی وملی نظمیں سبھی اصناف سخن میں طبع آزمائی کرتے اور اپنے ادبی وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ 
اور ظہیررانی بنوری بڑے زودگوشاعرہیں۔کبھی شعرکہنے سے ہمت نہیں ہاری اوریہ ہوبھی نہیں سکتا۔عجزوانکساری سے مزین یہ شخص محفلوں میں اپنے آپ کو نمایاں کرنے کاہنرجانتاہے۔ان کے اشعاروافکار اورخیالات ونغمات ان کی شناخت کے ضامن ہیں۔قطعات ظہیر? میں شامل ماہئے تجربے کی حدتک تو ٹھیک ہیں مگرقبولیتِ حلقۂ احباب ادب میں گنجائش نظرنہیں آتی۔
ظہیرؔ رانی بنوری جزمیں کل دیکھتے ہیں۔اور اپنے قاری کوخیالات وافکارسے مالامال کرجاتے ہیں۔ایمائیت واشارت میں وہ بہت کچھ کہہ جانے کے ہنرسے بخوبی واقف ہیں۔ 
اپنی صحبت میں دل نہ بہلے گا
صاف کہتے ہیں روٹھ جاؤگے
ہم ہیں کڑوی حقیقتیں یارو
ہم جوبولے توسہہ نہ پاؤگے
ظہیرصاحب کی ایک غزل توایسی ہے کہ جب بھی مشاعرے میں شریک توسامعین اس غزل کی فرمائش کرتے ہیں اس کے چند اشعاریہاں پیش کررہاہوں۔جوداد لئے بغیرآپ کی سماعت سے محونہیں ہوں گے۔ 
ظلم جبر و جفا تمہارے پاس
ضبط صبر و رضا ہمارے پاس
منزلوں کا پتہ تمہارے پاس
گمشدہ راستہ ہمارے پاس
سیم وزر اور طلا تمہارے پاس
صرف ماں کی دعاہمارے پاس
اورقارئین کے ذوق کے لئے چندمنتخب قطعات پیش کرتاہوں۔اورفیصلہ آپ چھوڑتاہوں۔مجھے یقینِ کامل ہے کہ ظہیرؔ رانی بنوری کے افکاروخیالات آپ کے دل کی۹ ترجمانی کر رہے ہوں گے۔
کیوں کہ؟
جب فکر کی آتش میں پہروں کوئی جلتاہے
تب ذہن کے پردے سے ایک 
شعرنکلتاہے
(غلام ربانی فداؔ)
قطعات ملاحظہ ہوں۔
اتحاد ہے اگرتو سب کچھ ہے
سربلندی ہے اورشہرت ہے
اور اسی میں ہے عظمت ملت
اتحاد ایک عظیم طاقت ہے
*
دوستو پھوٹ اور نفرت سے
ہاتھ ہمارے نہ کچھ بھی آئے گا
پھوٹ اور اختلاف آپس کا
ہم کو اک دن تباہ کردے گا

جاؤ یادیں حسیں چھوڑ کر
ہے یہی مقصد زندگی
زیست فانی کا کیا اعتبار
آج ہے کل رہی نہ رہی

*
زندگانی کا یہ تقاضہ ہے
چھوڑجاؤ حسین یادوں کو
آنے والا زمانہ دہرائے
اپنی عظمت کو اپنی باتوں کو
*
ایک ہم ہیں غم کے ماروں میں 
غم الفت کے بے شماروں میں
اب تو یادیں ہیں اور تنہائی
ہم ہیں تنہا بھری بہاروں میں
*
چراغِ فن کو لہوسے کروں گا میں روشن
جہانِ فن رہے روشن انہیں اجالوں سے
ہرایک دورمیں قربانیاں دیاہوں ظہیرؔ
میںیادآؤں گا ہردورمیں حوالوں سے
مجھے امید ہے فن کولہو لہوسے روشن کرنے والے ظہیرؔ جہانِ فن میں اسی روشن اجالوں اور بے لوث قربانیوں سے ہمیشہ یادرہیں گے۔ 




جدتِ اظہار کا شاعر ولی کرناٹکی

جدتِ اظہار کا شاعر ولی کرناٹکی

جدتِ اظہارکاشاعر ولی کرناٹکی

جب بھی میرے سامنے ولیوںکاتذکرہ ہوتاہے تو دو ولیوںکے تصاویرمیرے حاشیۂ خیال میں ابھرتے ہیں۔ ایک وہ جس سے میراتعلق ادبی اورتصوراتی ہے جسے اردو دنیاولی دکنی کہتی ہے۔دوسراوہ  ہے جب ملتاہے قلندرانہ شان وشوکت سے ملتاہے جس کی ادبی خدمات کادور نصف صدی سے بھی زیادہ پر محیط ہے جسے ارباب ذوق ولی کرناٹکی کہتے ہیں
یہ نصف صدی کاقصہ ہے یہ دو چار برس کی بات نہیں
شاعری سچائی ،کشف،جستجواورخوشبوبھراجادہ ہے جس پرصدق،خلوص اور محبت یہ ایسے جذبے ہیں جن کے بغیرشعرکاجادونہیں چلتا۔شعر سے عطرآویزخوشبوپھوٹتی ہے رنک جھلملاتے ہیں۔یہ جادویہ رنگ یہ خوشبو تخلیق کا کرشمہ ہوتے ہیں۔ولی کرناٹکی کی شاعری میں یہ سب کچھ شامل ہے اس کی وجہ شاید ان کا اندازتفکر اورفنی جہات سے  عبارت ہے جو ان کی شعری حیات میں ساتھ ساتھ رہتاہے اورانہیں کہیں ڈگمگانے نہیں دیتانہ ہی ان کے فن پر تشکیک کاسایہ پڑنے دیتاہے۔
ولی کرناٹکی ایک حساس دل ،فطرت سناش اور خوبصورت یادوںکاشاعرہے۔یہ محبوب کی یادوں سے میکدہ بناتاہے۔اس کی شاعری میں یادوں کی شبستاںمیں سحرکاپیام ہے۔ولی ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہاہے۔جس کی شاہراہیں طویل اور استحصال کے سنگ میل چارسوپھیلے ہوئے ہیں۔مصلحت ،جبر اورہوس کے اس دورمیں انسان اپنی انااورتشخص کے لئے کٹھن مراحل سے گزرناپڑتاہے۔
جب اٹھانا قلم کسی پہ ولیؔ
اپنے آگے اک آئینہ رکھنا
آپ تزئین گلشن سے پہلے ولیؔ
دل کو آمادۂ رنگ وبو کیجئے
ولی کرناٹکی کی شاعری میں حزن وملال کی دھیمی دھیمی آنچ بھی محسوس ہوتی ہے۔یہی اس کی  صداقت ہے ۔ولی نے نظروں سے اوجھل چیزوں کوبھی شاعری میں شامل کر کے اپنی شاعری کومزیدنکھاردیاہے۔
شام کو صبح بنانا ہمیں آتاہے ولیؔ
ہم کو قطرہ بھی جو ملتا اسے دریا کرتے
ہم نے سورج کی طرف داری نہ کی
ہم مجسم ہو کے بے سایہ ہوئے
ولی کی شاعری میرے لئے ہمیشہ ایک سوال ابھارتی ہے اور وہ کہ گہری سیاہی استعمال کرنے کے باوجودبھی اتناروشن کیسے لکھ پاتا ہے۔وہ دیکھتابھی سیاہ ہے سوچتابھی سیاہ ہے لیکن اس کالکھاحرف حرف سوچالفظ لفظ آفتاب کی طرح روشن ہے۔وہ اوروں کی طرح نہیں لکھتا ۔وہ شاعروں کی طرح بھی نہیں لکھتاہے وہ تو اپنافرض ادا کررہاہے پوریسچائی اورایمانداری کے ساتھ۔محبت ،وقت،تنہائی،آئینہ،اور سورج اس کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔بقول شخصے محبت جدائی کے بغیرمکمل ہے۔ محبت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے وہ 
ہرفلسفہ کا رد کردیتاہے۔
محبتوں کا وہ موسم ابھی کہاں آیا
الجھ رہی ہے ابھی دھوپ سائبانوں سے
محبت ہی تو بصارت کو بصیرت میں وحشت کو عبادت میںعداوت کوریاضت میں ایسے تبدیل کرتی ہے کہ عمر کے شبستاں میں نئے رنگ ونکہت کے  گلاب لہلہانے لگتے ہیں۔جسم کی مٹی میں محبت کی شاخ گل جب جڑپکڑتی ہے تودرویش کا جبہ کتناہی میلاکیوں نہ ہو اس کا وجدان خوشبو کے معجزے تخلیق کرتاہے ۔اجالوںکی آیات تحریرکرتاہے ۔کبھی سیاہ رات کی پیشانی پر کبھی بادصبح کی حیرانی پر۔۔۔اک کیفیت حال ہے جواندرکاآتشکدہ سرد ہونے نہیں دیتی۔آہوں بھری  سسکیوںسے سانسوں کی تسبیح  ٹوٹنے لگتی ہے۔ہڈیاں پگھلنے لگتی ہیںمگرہستی میں مستی ،فقیری میں بادشاہی نیازمندی میں بے نیازی کا راز نہاں ہوجاتاہے۔صدیوں سے محبت پر بہت کہاگیاہے اورکہاجارہاہے۔مگرولی کایہ شعردیکھیں۔
محبتوں کے وہ پیکر  نظر نہیں آتے
یہ کیا ہوا کہ فرشتے ادھر نہیں آتے
ولی بے تحاشہ لکھتاہے ۔پرانے الفاظ کو نئے معنی میں باندھ کر قاری کے دماغ میںپکنے کے لئے چھوڑدیتاہے ،استعارات دماغ کے کاغذ سے بہتے ہوئے اوراق پراترتے ہیںاورتب ایک روشنی انگڑائی لیتی ہے اورپھروہی روشنی ولی کے دماغ کی تاریکیوں پردلیل ٹھہرتی ہے۔۔وہ سیاسی شاعر نہیں ہے اس کے کلام میں ایک بھی ایسا شعر نہیں ہے جو نعرہ بن سکے۔
لیکن اس نے  انسان کے اندر ونی حالات اس خوبی سے برتے ہیں کہ باہرکاآدمی صرف باہر ہی سے اندازہ نہیں لگاسکتا۔وہ لاشعور کے نہاں خانے میں بیٹھ گیاہے۔گویایہ جہنم اس کا اپنادہکایاہواہے۔
نہ رکھنا کوئی رشتہ پتھروں سے
ولی رہتے ہو تم شیشہ کے گھرمیں
رنج و غم ہم کو وراثت میں ملے
اس اثاثے کو سنبھالا جائے گا
محبت شاعری کاعمومی اور غزل کا خصوصی موضوع ہے  ولی کی شاعری میں بھی محبت اہم موضوع ہے۔یہ اور بات ہے کہ ان کا محبوب ہرجائی ہے، ستمگرہے،بیوفاہے۔
تم آج جس کی رفاقت پہ ناز کرتے ہو
ہمارے ساتھ بھی یارو یہی زمانہ تھا
اس کے احسانات کی فہرست لمبی ہے مگر
اب کے وہ کیا گل  کھلاتا ہے ستمگر! دیکھنا
صدمے تری فرقت کے اٹھائے نہیں جاتے
زخم اور دل زار پہ کھائے نہیں جاتے
سانحہ ہے زندگی کا یہ ولیؔ
چھٹ گیا ہے ان کا دامن ہاتھ سے
سر ہتھیلی پر لیے ہم آگ پر چلتے رہے!
یوں پڑی مہنگی ہمیں تیری سناشائی بہت
مؤخرالذکر شعر میں دومحاروں کابرملا استعمال قابل غور ہے ۔وہ بات سے بات پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔شاعر خواب دیکھتے ہیں دراصل خواب ہی اس  کی زندگی  کا سرمایہ ہے۔کیونکہ یہ خواب مثالی زندگی سے تعلق رکھتے ہیںاس لئے تو وہ زمین بانجھ ہوتی ہے جہاں خوابوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ولی نے جوزندگی گزاری ہے ۔اس زندگی نے کچھ حقائق بھی ان پرمنکشف کئے ہیںاس نے اپنے مشاہدے سے کچھ نتائج بھی اخذکئے ہیںاوران کوخوبصورت شعری پیکرمیںپیش کیا ہے۔
تشنگی لے آئی صحراؤں سے دریا کی طرف
موج کی صورت لب ساحل سے ٹکراتا ہوں میں
جوبھی مجھے ملا وہ فرشتہ صفت ملا
میں ڈھونڈتا ہوں اپنے برابر کا آدمی
سوچوں تو کئی تیر ہیں پیوست بدن میں
دیکھوں تو کہیں زخم دکھائی نہیں دیتا
ولی کرناٹکی چوں کہ ایک سچااورکھرا انسان ہے ۔اس نے شاعری بھی انہیں خالص پیمانوں پرکی ہے اس کاایک چہرہ ہے لہذاوہ سب دیکھنے والوں کوہمیشہ ایک جیسا ہی نظرآتا ہے ۔اس کے ہاں تصنع یابناوٹ نام کی کوئی منافقت اس سارے وجود میں کہیں نہیںہے ہاں البتہ چہرے کی رنگوںمیں تبدیلی ضرورہوتی رہتی ہے اگرکبھی محبوب سے دوری اور ملک کے نامساعد حالات کے اذیت ناک احساس سے اس کے چہرے کے رنگ مدھم ہوجاتے ہیں،جس سے ولی کی شخصیت میں بلا نکھارہے اور فن میںبرسوں پختگی کہیں بھی قاری کے ذہن کوایک پل کے لئے بھی ادھرادھرہونے نہیںدیتی۔
فرصت ملی تو ڈھونڈ ہی لیں گے خدا کو ہم
اب تو تلاش ہے کہ کوئی آدمی ملے
ہر اک دہلیز پر آہ و بکا ہر آنکھ میں آنسو
دلیل بربریت ہے درو دیوار کی سرخی
اس طرح اب فسون غم زیست کو توڑدو
غم تم کو چھوڑتا نہیں  تم غم کو چھوڑدو

ولی کرناٹکی کو مختصر بحریں مرغوب ہیں۔مختصربحرمیںسہولت اورابلاغ کے ساتھ شعر کہنابہت مشکل ہے مختصربحروںمیںشاعری بھی ریاضت کی متقاضی ہے۔
ولی بات جلدی سے۔اورکم لفظوںمیں کہناجانتاہے اورعام زندگی میں بھی اسکی گفتگوکایہی اندازہے۔اورشاعری میں بھی وہ کم سے کم الفاظ استعمال کرتاہے۔شاعری ایمائیت اورکفایت لفظی کاتقاضہ کرتی ہے اوریہی اظہار کی خوبی ہے اوریہ خوبی اس کے یہاںموجودہے
پیڑ سے  خالی جو بستی ہو گی
سایے سے سایے کو ترستی ہو گی
سال بھر موسموں کی چوکھٹ پر
پھرتی  رہتی ہے  دربدر دنیا
اشکوں سے ہیں سیراب بہت دل کی زمینیں
یہ سارا علاقہ تمہیں بنجر نہ ملے گا
یہاں سب یوسفِ ثانی بنے ہیں
کسی کے پاس آئینہ نہیں ہے
غم کی شمشیر کو میان میں رکھ
اپنے سورج کو سائبان میں رکھ
ہم کو انجام وفا معلوم ہے
ہم کہاں  ڈرتے ہیں نقصانات سے
پلٹ جاتے ہیں رحمت کے فرشتے
کوئی دیوار جب اٹھتی ہے گھر میں
اس میں آتی ہے وفا کی خوشبو
یہ مرے دیس کی مٹی ہوگی
میں کہاں آیا ستاروں کو لیے پلکوں پر
سب ہیں سورج کے پرستار خدا خیر کرے
آندھیاں کر رہی ہیں گھر کا طواف
کیا غضب ہوگیا دیا رکھنا
مطربۂ نغمۂ حیات نہ چھیڑ
زندگانی سسک رہی ہے ابھی
حرف آئے نہ کہیں آپ کی فیاضی پر
بھیک دیتے ہیں تو چہرے نہیں دیکھا کرتے
یہ کیسی مصلحت ہے کہاں کا جواز ہے
شیشے کی بستیوں میں ہے پتھر کا آدمی
اس کے یہاں اظہار کی جدت ہے لیکن روایت کے ساتھ مربوط۔یہی خوبی قارئین کو متاثر کرتی ہے۔ولی کرناٹکی نے شعبدہ بازی نہیں کی شاعری کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے اس نے بڑی محنت  وریاضت کی ہے اس نے روایت سے رشتہ جوڑکر اپنااسلوب نیا بنانے کی کامیاب سعی کی ہے۔اور 
ہر کسی سے یہ دادِ سخن کی طلب
خود کو اتنا نہ بے آبرو کیجئے
خودارولی کسی سے صلے خواہش رکھتا ہے نہ داد کی امید ۔ولی کے یہاں داد کی طلب فن کو بے آبرو کرنے کے مانند ہے۔

سراپازخم زخمـــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبین احمدزخم

سراپازخم زخمـــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبین احمدزخم

سراپازخم زخمـــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مبین احمدزخم



ریاست کرناٹک میں اردوادب وصحافت کے میدان میں حیدرآباد کرناٹک کاعلاقہ ہمیشہ ہی سے سرسبزوشاداب رہاہے۔بیدر،گلبرگہ،بیجاپور۔رائچور اوریادگیرتک اردو زبان وادب کادربارعام ہے۔جہاںکنڑا زبان کی حکومت ہوتے ہوئے بھی اردوکی بادشاہی مسلم ہے۔اس علاقے کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اردوزبان کی ابتدائی نش ونما یہیں ہوئی۔یہ علاقہ اس لئے بھی سبزوشاداب ہے کہ اس  علاقے نے اردو کے لئے جیالے سپاہی اورنامورہستیوںکو جنم دیاہے جوتاریخ اردو کے زریں باب ہیں جن کے بغیرتاریخ اردووادب مکمل ہوہی نہیں سکتی۔انہیں چاندتاروںمیں سے ایک کانام مبین احمدزخم بھی ہے ۔مبین احمدزخم ایک سچے اردوکے خادم،مخلص،بے غرض انسان ہیں۔ جن کو کسی اخبار ورسالے میں شائع ہونے کی خواہش نہ مشاعروں میں شرکت کی تمنارکھتے ہیں۔
۱۹۹۵ میں الصمد ایجوکیشنل چارٹیبل اینڈویلفرٹرسٹ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیاجس کے زیراہتمام مدرسہ وحیدہ نسوان کا آغاز کیاگیا۔اگرزخم کے خدمات کاجائزہ لیاجائے تومعلوم ہوگاکہ قوم مسلم واردوکایہ جیالہ سپاہی زخموں سے چورچورسے ہے۔جسے آرام کی ضرورت ہے مگر سپاہی کی قسمت میں آرام کہاں؟ زخموںکی پرواہ کئے بغیرزخمؔ اپنی نادیدہ منزل کی جانب رواںدواں ہے۔
شعبۂ صحافت میں ٹاپ نیوز(ہفت روزہ) اورسہ ماہی چراغ نور کے روح رواںبھی ہیں۔کئی اصلاحی ،سیاسی۔ورفاہی وعوام بہبودی تحریکوں سے وابستہ ہیں کسی  کے رکن توکسی کے صدرکے حیثیت سے۔
زخم سیاست دان ہوتے ہوئے اپنی شاعری میں نظرنہیں آتے زخم کی شاعری ایک زخم خوردۂ وفاکی شاعر ی ہے ۔وہ اپنی شاعری میں اتنی کثرت سے محبت کی باتیں کرتاہے جس سے وہ مبلغ محبت نظرآتاہے۔میرے سامنے زخم کے کئی بکھرے ہوئے اشعارہیں۔میںحیرت ومسرت کے ملے جلے جذبات سے سرشار زخم کے فن اورشخصیت کے مطالعے میں مصروف زندگی کی تمام پرتوں کومحسوس کرتاہواکبھی غم ذات کی محرومیوںمیں ڈوب کر ہجروفراق کے تلخ لمحات میں محبوب کی بے رخی سے محظوظ ہوتاہوں اورکبھی غم دوراں کی اذیت میں گم ہوکر 
ایک عجیب راحت محسوس کرتاہوں۔اُردو کے بیشتر شعر اء کی طرح زخم ؔنے اپنی شاعر ی کا آغاز غزل ہی سے کیا ہے ۔ غزل ان کی محبوب صنف ِ سخن ہے۔
زخم کی شاعری کو پڑ ھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے ان کی شاعری میں ایک سچا اور حقیقی شاعر نشو نما پارہا ہے ۔ زخمؔکو اُردو زبان پر اہلِ زبان کی سی قدرت ضرور حاصل ہے ۔ہلکی پھلکی بحروں میں ان کا نرم لب و لہجہ بڑا ہی دلکش معلوم ہوتا ہے ۔ ان کی عمر اورمشق کے لحاظ سے ان کے کلام کو عروضی اور لسانی اعتبار سے جانچنامیرے خیال میں قبل از  بات ہوگی ۔جبکہ ہمارے یہاں دھڑا دھڑ جو مجموعے منظر عام پر آرہے ہیں اُن کے آئینے میں مشاق شعر اء کا کلا م بھی عیوب و اسقام سے ہر گزر پاک نہیں ہے ۔ 
وہ میرا ہو کے جب مرانہ رہا
اورجینے کاحوصلہ نہ رہا
تم سے ہوئے جدا تو محبت بری لگی
کیاپوچھتے ہو کیوں یہ عبادت بری لگے
جب زخم ہرا ہوتا ہے
اک شعر نیا ہوتا ہیٖ
کالی رات اور اجلا چاند
تنہا میں اور تنہا چاند
زخم کے چند اشعار نے تو بیک نظر میری توجہ کو جذب کر لیاہے اور ان کے کلام میں وہ خوبیا ں ضرور موجود ہیں جو اُردو غزل کی بہترین روایات کی مظہر ہیں اور سنجیدہ ترین اوصاف کی حامل ہیں ۔ اُن کے تازہ غزلیہ کلام میں چند ایسے اشعار قابلِ توجہ ہیںجن کو مُشتے از خر وارے کے طور پر پیش کر رہا ہوں ۔ جن سے اُن کے مزاج و آہنگ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔
بس مجھے ایک کام کرنا ہے
زندگی تیرے نام کرناہے
چاہتوں میں کمی نہیں ہوتی
خود سے یوں دشمنی نہیں ہوتی
لباس گل جو وہ تارتار کرتا ہے
عجیب شخص ہے کیا کاروبار کرتا ہے
عشق کو ہم خطا نہیں کہتے
آپ کو بیوفا نہیں کہتے
زمیں تم ہو آسماں تم ہو
غرض کہ سارا جہاں تم ہو
انتظار کی کیفیت کو بڑ ے سلیقہ سے پیش کیا ہے ۔ 
رسم الفت ذرا یوں نبھایا کرو
بھول سے ہی سہی آیا جایا کرو
شعور کی نا پختگی کو صَرف ِ نظر کر کے دیکھا جا ئے تو زخم کے یہ اشعار اُن کے خوش آئیند مستقبل کے ضامن ہیں ۔ زندگی کے حقائق کو ہلکے پھلکے انداز میں چھو ٹی چھوٹی بحروں میں سمونا زخمؔ کا کمال  ہے۔
ہر غزل میں زندگی کے اقدارکی عکاسی اور تجر بوں کا نچوڑ ملتا ہے ۔ ایک اچھے شاعر کے لئے ضروری ہے کہ وہ روایت کا پاسدار بھی ہو اور جدید تقاضوں کا شعور بھی رکھتا ہو۔زخمؔ کے کلام میں ایسے بے شمار اشعار ملتے ہیں ۔
شعر وہ بے مثال ہوتا ہے
جس میں تیرا خیال ہوتا ہے
زخم ایک خوددار انسان ہیں غریبی ومفلسی میں بھی ان سے ہاتھ پھیلایانہیں جاتااورمحنت کوعبادت سمجھتے ہیں
اپنی تقدیر کو بنانے دو
مجھ کومحنت سے زر کمانے دو
 یہ جُرّ اتِ گفتا ر کا اقرار اور عزم شاعرکی ذہنی سطح کی بلندی کا پتہ دیتی ہے  ۔
آج اردو جن نا مساعد حالات سے گزررہی ہے وہاں ایک ایسے نوجوان کی اُردو دوستی اور حالات کے پیش نظر اردوزبان وادب کی خدمات قابل تحسین عمل ہے۔ زخم ؔ صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اپنی مادری زبان نہ ہوتے ہوئے بھی اردو زبان سے بے پناہ محبت کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے پیشتر جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے۔  زخم اپنی ادارت میں ایک سہ ماہی مجلہ’’چراغ نور‘‘شائع کرتے ہیں۔ زخم اپنے اشعار میں اچھے مضامین لاتے ہیں۔ بیشتر کلا م زخم کے تازہ رنگ ِ سخن کا آئینہ دار ہے۔میری رائے میں زخم ؔ کی شاعری میںایک نئے ارتقائی قدم کی چاپ سنائی دیتی ہے ۔یہ تازہ رنگ و نکھار آگے چل کر کس حد تک بار آور اور خودزخم ؔ کیلئے کتنا مبارک و مسعود ثابت ہوگا ۔ اسکے بارے میں کہنا مستقبل کے ادبی مورخ یا نقادکے ہاتھ سے قلم چھین لینے کے مترادف ہوگا ۔ میں زخمؔ کے روشن مستقبل کے لئے بدرگاہِ رب العزّت دُعا گوہوں ۔

حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

حسن ادا کاشاعر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیدرؔمظہری

ارض دکن کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ اردو کاابتدائی مولدومسکن ہے اور اردو کی جنم بھومی میں شعراء وادبا کاایک لشکرِ جرار ہے جو شعری وادبی کاوشوں میں مصروف ومنہمک ہے۔کچھ لوگ نامور ہیں اور کچھ جادۂ ناموری پر مصروف سفر ہیں۔ایسے اصحاب تگ وتازمیں حیدرمظہری کا اسم گرامی ہے  ۔حیدرمظہری  ایکایسا شخص ہے جو کہنہ مشق اور پختہ کارشاعر ہونے کے علاوہ ایک دردمند اوس احساس مزاج کاحامل ہے۔اسے شعر کہنے کاسلیقہ ودیعت کیاگیاہے۔اس لیے شعر میں کہیں تکلف وسجاوٹ نہیں بلکہ ایک بے ساختہ پن ہے۔ان کی نگارشات کا مطالعہ کرنے والوں کومحسوس ہوگا کہ ان کا سخن سادگی کے رنگ کا حامل ہے مگر اس میں جذبے کی تاثیر کی فراوانی ہے۔جگہ جگہ شاعر کا شعری شعور رنگ جماتا ہوا نظرآتاہے وہ قدم بہ قدم اپنے تجربات کی عکاسی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںایک حدتک وضع دار بھی ہیں مگربے تکلفی انہیں بہت پسند ہے۔ان کی لفظیات میں ایک ارتقا کا عمل صاف دکھائی دیتاہے۔ان کی ترکیبات اپنے اندر ایک شان دلآویزی لیے ہوئے ہیں ان کی مستقل اور شعروادب کی عرق ریزی انہیں اپنے ہم عصروں سے کافی آگے لے گئی ہے۔ 
جوچیز اس کے کلام کو پڑھتے وقت قاری کو متوجہ کرتی ہے وہ اس کا فطری حسنِ ادا ہے۔وہ شعر کچھ اس انداز سے کہہ جاتاہے کہ داد دیے ہی بنتی ہے۔
کوئی بتلائے چراغوں کو ہوا کی نیت
جل اٹھے ہیں یہ سرِ شام خیر خدا کرے
٭
اسے ہی ان دنوں ویرانیاں  بھی راس نہیں
جو شخص شہر میں بھی خال خال رہتاہے
٭
راس آئے نہ راس آئے گلشن کی فضا دائم
بے وجہ سہی لیکن  زنداں پہ نظر رکھنا
٭
بال آئے تو آئینہ دل کا
پھر کسی کام کا نہیں ہے کیا

یہی حسن ادا بعض اوقات اس سے ایسے چونکادینے والا شعرکہلواتی ہے ہے جنہیں پڑھ کر آپ خود وجد کی کیفیت میں آجاتے ہیں اور خوشگوار حیرت ذہن ودماغ پر طاری ہوجاتی ہے۔یہ اشعار دیکھئے
پتھروں کا ہے شہر چپ ہو جا
زندگی کو پکارنے والے

پاسداری مل نہ پائے گی ترے فن کو یونہی
غم کی اس تصویر میں رنگِ حنا رہنے بھی دے

زمیں پر ہے متاعِ زندگانی
ستاروں میں جہاں کوئی نہیں ہے
جبرزیست شائد مڈل کلاس کا مقدر ہے۔حیدرمظہری اسی جبرِ زیست کا شاعر ہے
زندگی ہے تو حادثے کتنے
ناگہاں ناگہاں نہیں ہوں گے 

کرایہ دار نہیں تھا کسی محل میں کبھی
غریب تھا بھی تو اپنے مکان میں میں تھا

مگرزندگی کے اس جبر نے اسے جین اسکھایا ہے وہ خود بیں اورخود آگاہ ہے اور یہی احساس ذات زندگی کے اس خرابے میں اسے قوت حیات عطاکرتا ہے
ابھی ڈھلتے نہیں آنکھوں سے آنسو
ابھی سینے میں پتھر جاگتا ہے
حقیقت جھیلتے آگے بڑھے ہیں
فقط خوابوں کے بہلائے نہیں تھے 

حیدرمظہری کی شاعری غیرروایتی شاعری ہے مگراس نے اپنا رشتہ روایت سے توڑانہیںاور سچی بات یہ ہے کہ احساس روایت کے بغیر اچھی شاعری جنم ہی نہیں لیتی۔ان کے جواشعارمیںنقل کرتاآیا ہوںوہ روایتی ہرگزنہیںمگرروایت سے وابستگی کی دین ہیں۔یہ بات تجربے کی نہیں احساس کی ہے۔
 حیدر مظہری ایک سوچتے ذہن کا ذہن کا شاعر ہے اسے اپنے معاشرے کے تضادات ،سیاہ دھبے،بونے قد،بلندبانگ نعرے سبھی کچھ سنائی دیتے ہیں اور دکھائی بھی۔وہ ان پہ کڑھتابھی ہے اور ہمیں آئینہ بھی دکھاتا ہے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پرجوناانصافیاں،حق تلفیاں بلکہ انسانیت کی جو تذلیل ہو رہی ہے اسے اس نے محسوس بھی کیاہے اور اس طرف متوجہ بھی کیاہے اور اس پر طنز بھی کیا ہے۔
کبھی تو قوت کی بے پنا ہی اتارتی ہے زمیں پہ دوزخ
فرشتگی کے لباس ہی میں یہ آدمی بدخصال بھی ہے
ہر ستم گر کا نام لیتا ہے
پر زمانے کو بھول جاتا ہے
اور روتا ہے اپنی حالت پر
مسکرانے کو بھول جاتا ہے
لیکن اس صورت حال نے اسے انسان سے مایوس نہیں کیا۔وہ احترام ِ 
آدمیت کا شاعر ہے۔انسانی عظمتوںکا معترف اور اس کے ا مکانات کامبلغَ
پیغامِ محبت ہی ہر دل کا اثاثہ ہے
ہر لمحہ محبت کے ساماں پہ نظر رکھنا

تمام عمر مسلسل اڑان میں میں تھا
بہت تھکا تھا مگر آسمان میں میں تھا

اڑانوں میں وہ شہپر لے گیا تھا
فرشتوں کا مقدر لے گیا تھا

زمیں پر کھینچ لے آئے مسائل
وہ خود کو آسماں پر لے گیا تھا
 آدمیت کایہی احترام ہے جس نے اسے محبت کامغنی بنادیاہے۔وہ محبت مانگتا اور محبت بانٹتا ہے۔محبت کی تکرار اس کے کلام میں اس قدر ہے کہ بعض اوقات وہ مبلغ محبت نظرآنے لگتا ہے۔
ساری دنیا قحط زدہ سی لگے
کون خوشیوں کی بھیک ڈالے گا

مخالفت تھی تصادم تھا شور تھا حیدرؔ
کہاں سکون تھا اک امتحان میں میں تھا

لیکن بات صرف موضوعات کی نہیں ہے بلکہ طرزادا کی ہے شعر میںجان حسن  ادا سے پڑتی ہے وہ حیدر مظہری کوخوب عطاہواہے۔جوایسے شعرکہہ جاتے ہیں
کبھی نہ ترک محبت کی سوچئے حیدرؔ
کہ زندگی ہے تو جی کا وبال رہتاہے
اوروں کی طرح تیری قسم جی نہیں پائے
شامل نہ رہا درد تو ہم جی نہیں  پائے
اک جہنم میں بھی تروتازہ
دل ہے ایسا کہ پھول لگتا ہے
دفترِ اعمال میں لفظِ خطا رہنے بھی دے
آدمی ہوں تو مجھے  تھوڑا بُرا رہنے بھی دے

تعلق اجنبیت کا تماشہ
محبت۔۔۔۔۔شاعری کی آبرو تھی
اس کی فنکارانہ بصیرت اور شعری قامت سے انکار ممکن نہیں۔حیدر مظہری کو شعر کہناآتاہے۔اور وہ اس آسانی سے شعر کہتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے


عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular