Showing posts with label مذہب اورفدؔا. Show all posts
Showing posts with label مذہب اورفدؔا. Show all posts
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانام برہ تھاحضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانام تبدیل کرکے میمونہ رکھا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۳)

    آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی والدہ کا نام ہند بنت عوف ہے جن کے ایسے داماد تھے جو کسی اور کو میسر نہیں، ایک داماد حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تھے، دوسرے داماد حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیونکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن ام الفضل رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں، ہند بنت عوف کی پہلے شوہر عمیس خثعمی
رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دو صاحبزادیاں تھیں، ایک اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں آئیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں آئیں، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی دوسری بہن حضرت زینب بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں جوحضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۴)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ ماہ ذیقعدہ    ۷ ھ؁ میں عمرۃ القضاء میں ہوا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۴)

    جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف سے انہیں نکاح کا پیام ملا وہ اونٹ پر سوار تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا: اونٹ اورجواس پرہے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے ہے۔

 (التفسیر القرطبی،الجزء الرابع عشر، الاحزاب:۵۰،ج۷،ص۱۵۴)

    یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح، زفاف اور وصال ایک ہی مقام پر واقع ہوا جسے سرف کہتے ہیں اور یہ مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲، ص۴۸۴)
    حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھہتر حدیثیں مروی ہیں۔ سات متفق علیہ باقی دیگر کتابوں میں ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲، ص۴۸۴)

وصال

    سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال مشہور تر قول کے مطابق  ۵۱ھ ؁میں ہوا اور باقوال مختلفہ        ۶۱ ھ ؁یا  ۶۳ ھ؁ یا  ۶۶ھ؁ بھی بتایا گیا ہے۔ بقول بعض حضرات میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال  ۳۸ھ؁ میں امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آخری زوجہ مطہرہ ہیں ان کے بعد حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی سے نکاح نہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھانجے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی اور دیگر بھانجوں نے انکوقبر میں اتارا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲، ص۴۸۴)

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب بنی اسرائیل سے حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔

 (المواہب اللدنیۃ،المقصد الثانی،الفصل الثالث،ذکر ازواجہ الطاہرات...الخ،ج۱، ص۴۱۲)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی خیبر کے قیدیوں میں تھيں۔ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو اپنے لئے منتخب کرلیا۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئیں لوگوں نے کہا وہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔حسینہ جمیلہ ہونے کے علاوہ قبیلہ کے سردار کی بیٹی بھی ہیں لہٰذا مناسب یہی ہے، کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ مخصوص کی جائیں۔ مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ان قیدی باندیوں میں سے کوئی اور لے لو۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سیدہ صفیہ کے چچا کی لڑکی ان کے بدلہ میں مرحمت فرمائی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت دحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سات باندیوں کے بدلہ میں خریدا۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے انہیں آزاد فرمادیا اور نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر بنایا۔

 (مدارج النبوت،قسم سوم،باب ششم،وصل ذکر غزوہ خیبر...الخ،ج۲،ص۲۴۹)

سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خواب

    سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ چاند ان کی آغوش میں
آگیا ہے جسے اپنے پہلے شوہر کنانہ سے بیان کیا۔ اس نے کہا کہ تو اس بات کی خواہش رکھتی ہے کہ اس بادشاہ کی بیوی بنے جو مدینہ میں ہے اور ایک طمانچہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مارا جس سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی آنکھ نیلی پڑ گئی،اس طمانچہ کا اثر ظاہر تھا، سرور دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے استفسار پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ساری حقیقت حال بیان کردی۔

 (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج۸،ص۹۶)

سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ادب

    غزوہ خیبرسے واپسی پر حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے پائے مبارک سواری پر رکھے تاکہ سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قدموں کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ران پر رکھ کر سوار ہوجائیں۔ سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قدم کے بجائے اپنے زانو کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی ران پر رکھ کر سوار ہوگئیں۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو اپنا ردیف بنایا اور پردہ باندھا۔

 (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج۸،ص۹۶)

    حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی باری کے دن ان کے پاس تشریف لائے، سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو روتا پا کر سبب گریہ وزاری پوچھا عرض کیا: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آکر مجھے ایذا دیتی ہیں، کہتی ہیں کہ ہم صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بہترہیں کیونکہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے نسب مبارک کی شرافت حاصل ہے، حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :تم نے کیوں نہیں کہا کہ تم کیوں کر مجھ سے بہتر ہو، حالانکہ میرے باپ
ہارون علیہ السلام ہیں اور میرے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۳)

    سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کتب معتبرہ میں دس حدیثیں مروی ہیں۔ ایک متفق علیہ اور باقی نو دیگر کتابوں میں ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۳)

وصال

    ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال مختلف اقوال کے مطابق  ۳۶ھ؁یا  ۵۲ھ ؁میں ہوا،یہ قول بھی ہے کہ خلافت فاروقی میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہوا، اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۳)
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

سلسلہ نسب

    ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابو سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن مناف۔ ان کا نام رملہ یا بقول دیگر ہند تھا، ان کی والدہ صفیہ بنتِ ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس تھیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)

    سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اوائل اسلام میں ایمان لے آئیں اور حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ کی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پہلے عبید اللہ بن جحش کی زوجیت میں تھیں
جس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی،اس کانام حبیبہ تھا، اسی سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کنیت ام حبیبہ ہوئی عبید اللہ بعد میں دین اسلام سے پھر گیا اور مرتد ہو کر مرا۔

     (الطبقات الکبری لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ،ج۸،ص۷۶)

سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خواب

    ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں :میں نے خواب میں دیکھاکہ ایک شخص مجھے ''یاام المؤمنین'' کہہ کر مخاطب کررہا ہے، میں نے خواب کی تعبیر یہ لی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم مجھے نکاح میں لائیں گے۔

     (الطبقات الکبریٰ لابن سعد،ذکر ازواج رسول اللہ،ج۸،ص۷۷)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت عمروبن امیہ ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نجاشی کے پاس بھیجا کہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے پیام دیں اور نکاح کریں، پھر سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا وکیل بنایا، نجاشی نے خطبہ پڑھا، حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور وہ تمام مسلمان جو حبشہ میں موجود تھے شریک محفل ہوئے، پھر نجاشی نے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دینار سپرد کئے لوگ جب روانہ ہونے کے لئے تیار ہوئے تونجاشی نے کہا: بیٹھ جاؤ کہ مجلس نکاح میں کھانا کھلانا انبیا علیہم السلام کی سنت ہے، نجاشی نے کھانے کاانتظام کیا،سب نے کھانا کھایا پھر رخصت ہوگئے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)
سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ادب

صلح حدیبیہ کے دوران ابو سفیان مدینہ منورہ آیاسیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پہنچ کر چاہا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے بستر پربیٹھے سیدہ نے اپنے باپ کو بستر پر بیٹھنے سے منع کردیا اور فرمایا: یہ بستر طاہر و مطہر ہے اور تم نجاست شرک سے آلودہ ہو۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)

    سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کتب معتبرہ میں پینسٹھ احادیث مروی ہیں ان میں سے دو متفق علیہ ہیں ایک تنہا مسلم میں ہے باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۲)

وصال

    سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پاکیزہ ذات ، حمیدہ صفات، جواد اور عالی ہمت تھیں، قرب و صال سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ مجھے ان امور میں معاف کردو جو ایک شوہر کی بیویوں کے درمیان ہوجاتے ہیں اور اس نوع سے جو کچھ میری جانب سے تمہارے متعلق واقع ہوا ہو اسے معاف کردو۔ انہوں نے کہا حق تعالیٰ آپ کو بخشے اور معاف کرے ہم بھی معاف کرتے ہیں۔ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں خوش رکھے تم نے مجھے خوش کردیا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)

    ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال مدینہ طیبہ میں  ۴۰ ھ؁ یا  ۴۴ھ؁ میں ہوا۔ ایک قول کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال شام میں ہوا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۲)

ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ جویریہ بنت الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کانام بھی برہ تھا، حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام تبدیل کرکے جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رکھ دیا تھا۔
    حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ گویا حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس کو مکروہ جانتے تھے کہ کوئی یہ کہے ''برہ کے پاس سے نکل آئے ''۔ (برہ کے معنی نیکی و احسان کے ہیں۔)

 (المرجع السابق،ص۴۷۹)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بڑی شیریں ، ملیح اورصاحبِ حسن و جمال عورت تھیں۔ جب سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں، تو انہوں نے سب سے پہلی بات یہ کہی کہ یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں مسلمان ہو کر حاضر ہوئی ہوں، اشھدان لاالہ الا اللہ وانک رسولہ اور میں حارث بن ابی ضرار کی بیٹی ہوں جو اس قبیلہ کا سردار اور پیشوا تھا، اب لشکر اسلام کے ہاتھوں میں قید ہوں، اور حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آگئی ہوں، اور انہوں نے مجھے اتنے مال پر مکاتب  ( مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے اپنے آقا سے مال کی ادائیگی کے بدلے آزادی کا معاہدہ کیاہواہو۔ مختصر القدوری، کتاب المکاتب،ص۳۷۶) بنایا ہے کہ میں اسے ادا نہیں کرسکتی،میں امید رکھتی
ہوں کہ میری اعانت فرمائی جائے تاکہ کتابت (یعنی آزادی کی قیمت)کی رقم ادا کرسکوں، فرمایا: میں ادا کردوں گا اور اس سے بھی بہتر تمہارے ساتھ سلوک کروں گا۔ عرض کیا: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس سے بہتر کیا ہوگا؟ فرمایا: کتابت کی رقم دے کر تمہیں حِبالۂ عقد میں لا کر زوجیت کا شرف بخشوں گا۔ اس کے بعد کسی کو ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا کہ وہ کتابت کی رقم ادا کرے ،پھرآزادی کے بعدان سے نکاح کیااوران کا مہرچار سو درہم مقرر فرمایا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا مہر بنی المصطلق کے قیدیوں کی آزادی کو بنایا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی، ج۲،ص۴۸۰)

قیدیوں کی رہائی

    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جب اس حقیقت حال سے باخبرہوئے تو باہم کہنے لگے :ہمیں یہ زیب نہیں دیتاکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے حرم کے اقربا کوجوکہ ان کے اصہارہیں قید و غلامی میں رکھیں اس کے بعد سب کو آزاد کردیا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۰)

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ ازواج مطہرات میں سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے زیادہ خیروبرکت والی کوئی اور ہو۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۰)

سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکاخواب

    ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہونے سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ مدینہ طیبہ سے چاند چلتا ہوا میری
آغوش میں اتر آیا، یہ خواب کسی سے بھی بیان نہ کیا جب میں خواب سے بیدار ہوئی تو اس کی تعبیر خود ہی کرلی جو الحمدللہ پوری ہوئی ۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی، ج۲،ص۴۸۰)

    کتب معتبرہ میں سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سات حدیثیں مروی ہیں، بخاری میں دو مسلم میں دو اور باقی دیگر کتابوں میں مروی ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۸۱)

وصال

    ام المؤمنین سیدہ جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ۵۰  ھ؁ یا  ۵۶ ھ؁ میں مدینہ طیبہ میں ہوا۔ ان کی نماز جنازہ مروان نے پڑھائی جوکہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے مدینہ میں حاکم تھا ۔

 (الطبقات الکبریٰ،ذکر ازواج رسول اللہ،جویریۃ بنت الحارث،ج۷،ص۹۵)
ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

    ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام برہ تھا۔ سرکار دوعالم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نام تبدیل فرما کر زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا رکھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت ام الحکم تھی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی والدہ امیمہ بنتِ عبدالمطلب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو طلاق دے دی۔ اس

کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا نکاح حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ ہوا۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۵)

نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
    حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو سرور دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا :جاؤ اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو میرے لئے پیام دو۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پہنچا اور کہا کہ تمہیں خوشی ہو کہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ میں سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے پیام دوں۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:میں اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکتی جب تک کہ میں اپنے رب عزوجل سے مشورہ نہ کرلوں ۔ پھر وہ اٹھیں اور مصلّے پر پہنچیں اور سر بسجود ہو کر بارگاہِ الہٰی میں عرض کیا: اے خدا! تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھے چاہا ہے اگر میں ان کی زوجیت کے لائق ہوں تو مجھے ان کی زوجیت میں دے دے۔ اسی وقت ان کی دعا قبول ہوئی اور یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی۔

فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِہِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْہُنَّ وَطَرًا ؕ وَکَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوۡلًا ﴿۳۷﴾

ترجمۂ کنزالایمان :پھرجب زید کی غرض اس سے نکل گئی توہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہو کر رہنا۔(پ22،الاحزاب:37)
   آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پر آثار وحی ظاہرہوئے چند لمحے بعد مسکراتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا :کون ہے جو زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جائے اور انہیں بشارت دے کہ حق تعالیٰ نے ان کو میری زوجیت میں دے دیا ہے اور نازل شدہ آیت تلاوت فرمائی۔

    حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خادمہ حضرت سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہا دوڑیں اور سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بشارت دی اور انہوں نے یہ خوشخبری سنانے پر اپنے زیورات اتار کر حضرت سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عطا کردیئے اور سجدہ شکر بجا لائیں اور دو ماہ روزہ سے رہنے کی نذر مانی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۷)

انفاق فی سبیل اللہ

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:میں نے کوئی عورت حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ نیک اعمال کرنے والی،صدقہ و خیرات کرنے والی، صلہ رحمی کرنے والی،اور اپنے نفس کوہرعبادت وتقرب کے کام میں مشغول رکھنے والی نہیں دیکھی۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم درذکر ازواج مطہرات وی،،ج۲،ص۴۷۸)

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحت کے ساتھ مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے فرمایا: '' تم میں سے جس کے ہاتھ دراز ہیں وہ مجھ سے ملنے میں تم سب پرسبقت کرنے والی ہے۔'' اس کے بعد ازواج مطہرات نے اپنے اپنے ہاتھوں کو بانس کا ٹکڑالے کر ناپنا شروع کردیا
تاکہ جانیں کہ کس کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں۔

    انہوں نے جانا کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاتھ زیادہ دراز ہیں، جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے وصال فرمانے کے بعد سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دار فانی سے رخصت ہوئیں تو انہیں معلوم ہوا کہ درازی سے مراد صدقہ و خیرات کی کثرت تھی، اس لئے کہ سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے ہاتھ سے دستکاری کرتیں اور صدقہ دیتی تھیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

    سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے عرض کیا:مجھے چند فضیلتیں ایسی حاصل ہیں جوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی کسی اور زوجہ کوحاصل نہیں ایک یہ ہے کہ میرے جد اورآپ کے جد ایک ہیں ،دوسرے یہ کہ میرا نکاح آسمان میں ہوا تیسرے یہ کہ اس قصہ میں جبرائیل علیہ السلام سفیر و گواہ تھے۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

    ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے گیارہ حدیثیں مروی ہیں دو متفق علیہ یعنی بخاری ومسلم میں ہیں اور باقی نو دیگر کتابوں میں ہیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

وصال

ان کے وصال کی خبر جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پہنچی توفرمایا: ''پسندیدہ خصلت والی،فائدہ پہنچانے والی،یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرنے والی دنیا سے چلی گئی۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نمازجنازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال تریپن سال کی عمر میں  ۲۰ھ؁ یا   ۲۱ھ؁ مدینہ شریف میں ہوا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت البقیع میں مدفون ہوئیں۔

 (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،درذکر ازواج مطہرات وی،ج۲،ص۴۷۸)

عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Popular Tags

Islam Khawab Ki Tabeer خواب کی تعبیر Masail-Fazail waqiyat جہنم میں لے جانے والے اعمال AboutShaikhul Naatiya Shayeri Manqabati Shayeri عجائب القرآن مع غرائب القرآن آداب حج و عمرہ islami Shadi gharelu Ilaj Quranic Wonders Nisabunnahaw نصاب النحو al rashaad Aala Hazrat Imama Ahmed Raza ki Naatiya Shayeri نِصَابُ الصرف fikremaqbool مُرقعِ انوار Maqbooliyat حدائق بخشش بہشت کی کنجیاں (Bihisht ki Kunjiyan) Taqdeesi Mazameen Hamdiya Adbi Mazameen Media Zakat Zakawat اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت اِسلامی زندگی تالیف : حكیم الامت مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ القوی Mazameen mazameenealahazrat گھریلو علاج شیخ الاسلام حیات و خدمات (سیریز۲) نثرپارے(فداکے بکھرے اوراق)۔ Libarary BooksOfShaikhulislam Khasiyat e abwab us sarf fatawa مقبولیات کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) کتابُ الخیر خیروبرکت (منتخب سُورتیں، معمَسنون اَذکارواَدعیہ) محمد افروز قادری چریاکوٹی News مذہب اورفدؔا صَحابیات اور عِشْقِ رَسول about نصاب التجوید مؤلف : مولانا محمد ہاشم خان العطاری المدنی manaqib Du’aas& Adhkaar Kitab-ul-Khair Some Key Surahs naatiya adab نعتیہ ادبی Shayeri آیاتِ قرآنی کے انوار نصاب اصول حدیث مع افادات رضویّۃ (Nisab e Usool e Hadees Ma Ifadaat e Razawiya) نعتیہ ادبی مضامین غلام ربانی فدا شخص وشاعر مضامین Tabsare تقدیسی شاعری مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روشن فیصلے مسائل و فضائل app books تبصرہ تحقیقی مضامین شیخ الاسلام حیات وخدمات (سیریز1) علامہ محمد افروز قادری چریاکوٹی Hamd-Naat-Manaqib tahreereAlaHazrat hayatwokhidmat اپنے لختِ جگر کے لیے نقدونظر ویڈیو hamdiya Shayeri photos FamilyOfShaikhulislam WrittenStuff نثر یادرفتگاں Tafseer Ashrafi Introduction Family Ghazal Organization ابدی زندگی اور اخروی حیات عقائد مرتضی مطہری Gallery صحرالہولہو Beauty_and_Health_Tips Naatiya Books Sadqah-Fitr_Ke_Masail نظم Naat Shaikh-Ul-Islam Trust library شاعری Madani-Foundation-Hubli audio contact mohaddise-azam-mission video افسانہ حمدونعت غزل فوٹو مناقب میری کتابیں کتابیں Jamiya Nizamiya Hyderabad Naatiya Adabi Mazameen Qasaid dars nizami interview انوَار سَاطعَہ-در بیان مولود و فاتحہ غیرمسلم شعرا نعت Abu Sufyan ibn Harb - Warrior Hazrat Syed Hamza Ashraf Hegira Jung-e-Badar Men Fateh Ka Elan Khutbat-Bartaniae Naatiya Magizine Nazam Shura Victory khutbat e bartania نصاب المنطق

اِسلامی زندگی




عجائب القرآن مع غرائب القرآن




Khawab ki Tabeer




Most Popular